4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 4:86

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب کبھی تمہیں دعا دے کر سلام کیا جائے تو چاہیے کہ جو کچھ سلام و دعا میں کہا گیا ہے اس سے زیادہ اچھی بات جواب میں کہو یا جو کچھ کہا گیا ہے اس کو لوٹا دو ، بلاشبہ اللہ ہرچیز کا حساب لینے والا ہے

السلام علیکم کا جواب وعلیکم السلام ویسا ہی جواب ہے جیسا کہ اس نے دیا : 148: اس آیت میں سلام و دعا کے آداب سکھائے گئے ہیں۔ اسلام سے قبل عربوں میں ملاقات کے وقت ” حَیَّاکَ اللّٰہ “ کہنے کا رواج تھا جس کے معنی ہیں کہ ” اللہ تم کو زندہ رکھے “ اس طرح ” اَنْعَمَ اللّٰہُ بِکَ عَیْنًا “ یا ” اَنْعَمَ صَبَاحًا “ کے الفاظ سے بھی ایک دوسرے سے سلام و دعا کرتے تھے اسلام نے طرز تحیہ کی بجائے ” اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ “ کہنے کا طریقہ جاری کیا اور اس کے جواب میں ” وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ “ کہنا شروع کیا یعنی ملاقات کے وقت ایک دوسرے کو ” السلام علیکم “ کہے اور دوسرا پہلے کو ” وعلیکم السلام “ سے جواب دے اور اگر وعلیکم السلام وحرمۃ اللہ کہہ دے تو گویا اس نے پہلے کو اچھا جواب دیا۔ زیرنظر آیت میں اس بات کا حکم ہے اور السلام علیکم کے معنی ” اَللّٰہُ رَقِیْبٌ عَلَیْکُمْ “ کے ہیں یعنی ” اللہ تعالیٰ تمہارا محافظ و نگہبان ہو۔ “ دنیا کی ہر مہذب قوم میں اس کا رواج ہے کہ جب آپس میں ملاقات کریں تو کوئی کلمہ آپس کی موانست اور اظہار محبت کے لیے کہیں۔ لیکن موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسلامی سلام جتنا جامع ہے کوئی دوسرا ایسا جامع نہیں ، کیونکہ اس میں صرف اظہار محبت ہی نہیں ، بلکہ ساتھ ساتھ ادائے حق محبت بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ آپ کو تمام آفات اور آلام سے سلامت رکھے پھر دعا بھی عرب کے طرز پر صرف زندہ رہنے کی نہیں بلکہ حیات طیبہ کی دعا ہے ، تمام آفات اور آلام سے محفوظ رہنے کی ، اسی کے ساتھ اس کا بھی اظہار ہے کہ ہم اور تم سب اللہ تعالیٰ کے متحاج ہیں ، ایک دوسرے کو کوئی نفع بغیر اس کے اذن کے نہیں پہنچا سکتا ، اس معنی کے اعتبار سے یہ کلمہ ایک عبادت بھی ہے اور اپنے بھائی مسلمان کو اللہ تعالیٰ یاد دلانے کا ذریعہ بھی۔ اسی کے ساتھ اگر یہ دیکھا جائے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگ رہا ہے کہ ہمارے ساتھی کو تمام آفات اور تکالیف سے محفوظ فرما دے تو اس کے ضمن میں وہ گویا یہ وعدہ بھی کر رہا ہے کہ تم میرے ہاتھ اور زبان سے مامون ہو ، تمہاری جان ، مال ، آبرو کا محافظ ہوں۔ ابن عربی نے احکام القرآن میں امام ابن عینیہ کا یہ قول نقل کیا ہے : اتدری ما السلام ؟ یقول انت آمن منی۔ ” یعنی تم جانتے ہو کہ کیا چیز ہے ؟ سلام کرنے والا یہ کہتا ہے کہ تم مجھ سے مامون رہو۔ “ خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی تحیہ ایک عالمگیر جامعیت رکھتا ہے۔ (1) اس میں اللہ تعالیٰ کا بھی ذکر ہے۔ (2) تذکیر بھی (3) اپنے بھائی مسلمان سے اظہار تعلق و محبت بھی (4) اس کے لیے بہترین دعا بھی (5) اور اس سے یہ معاہدہ بھی کہ میرے ہاتھ اور زبان سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے گی ، جیسا کہ حدیث صحیح میں رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد وارد ہے : اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَیَدِہٖ ۔ (الحدیث) ” یعنی مسلمان تو وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے سب مسلمان محفوظ رہیں ، کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ “ کاش ! مسلمان اس کلمہ کو عام لوگوں کی رسم کی طرح ادا نہ کرے ، بلکہ اس کی حقیقت کو سمجھ کر اختیار کرے ، تو شاید پوری قوم کی اصلاح کے لیے یہی کافی ہوجائے ، یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے مسلمانوں کے باہم سلام کو رواج دینے کی بڑی تاکید فرمائی اور اس کو افضل الاعمال قرار دیا اور اس کے فضائل و برکات اور اجر وثواب بیان فرمائے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک حدیث ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ : ” تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتے جب تک مومن نہ ہو اور تمہارا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا جب تک آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو ، میں تم کو ایسی چیز بتاتا ہوں کہ اگر تم اس پر عمل کرو تو تمہاری آپس میں محبت قائم ہوجائے گی ، وہ یہ کہ آپس میں سلام کو عام کرو ، یعنی ہر مسلمان کے لیے خواہ اس سے جان پہچان ہو یا نہ ہو۔ “ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں : ” ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اسلام کے اعمال میں سب سے افضل کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگوں کو کھانا کھلا دو اور سلام کو عام کرو خواہ تم اس کو پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو۔ “ (صحیحین) مسند احمد ، ترمذی ، ابوداؤد نے حضرت ابوامامہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں ابتداء کرے۔ مسند بزار اور معجم کبیر طبرانی میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سلام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ہے ، جس کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر اتارا ہے ، اس لیے تم آپس میں سلام کو عام کرو ، کیونکہ مسلمان آدمی جب کسی مجلس میں جاتا ہے اور ان کو سلام کرتا ہے تو اس شخص کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک فضیلت کا ایک بلند مقام حاصل ہوتا ہے ، کیونکہ اس نے سب کو سلام ، یعنی اللہ تعالیٰ کی یاد دلائی ، اگر مجلس والوں نے اس کے سلام کا جواب نہ دیا تو ایسے لوگ اس کو جواب دیں گے جو اس مجلس والوں سے بہتر ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے فرشتے۔ اور ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ بڑا بخیل وہ آدمی ہے جو سلام میں بخل کرے۔ (طبرانی ، معجم کبیر عن ابی ہریرہ ؓ رسول کریم ﷺ کے ان ارشادات کا صحابہ کرام ؓ پر جو اثر ہوا اس کا اندازہ اس روایت سے ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اکثر بازار میں صرف اس لیے جایا کرتے تھے کہ جو مسلمان ملے اس کو سلام کر کے عبادت کا ثواب حاصل کریں ، کچھ خریدنا یا فروخت کرنا مقصود نہ ہوتا تھا ، یہ روایت مؤطا امام مالک میں طفیل بن ابی بن کعب ؓ سے نقل کی ہے۔ قرآن مجید کی جو آیت اوپر ذکر کی گئی ہے اس میں ارشاد یہ ہے کہ جب تمہیں سلام کیا جائے تو اس کا جواب اس سے بہتر الفاظ میں دو ، یا کم از کم ویسے ہی الفاظ کہہ دو اس کی تشریح رسول کریم ﷺ نے اپنے عمل سے اس طرح فرمائی ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کے پاس ایک صاحب آئے اور کہا ” السلام علیک یا رسول اللہ “ آپ ﷺ نے جواب میں کلمہ بڑھا کر فرمایا : ” وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ “۔ پھر ایک صاحب آئے اور انہوں نے سلام میں یہ الفاظ کہے : ” السلام علیک یا رسول اللہ ورحمتہ اللہ “ آپ نے جواب میں ایک اور کلمہ بڑھا کر فرمایا : ” وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ “ پھر ایک صاحب آئے انہوں نے اپنے سلام میں تینوں ہی کلمے کر کہا : ” السلام علیک رسول اللہ ورحمتہ اللہ وبرکاتہ “ آپ نے جواب میں صرف ایک کلمہ ” وعلیک “ پر اکتفا فرمایا۔ فرمایا کہ تم نے ہمارے لیے کوئی کلمہ چھوڑا ہی نہیں کہ ہم جواب میں اضافہ کرتے ، تم نے سارے کلمات اپنے سلام ہی میں جمع کردیے ، اس لیے ہم نے قرآنی تعلیم کے مطابق تمہارے سلام کا جواب بالمثل دینے پر اکتفاء کرلیا۔ اس روایت کو ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کیا ہے۔ حدیث مذکور سے ایک بات تو معلوم ہوئی کہ سلام کا جواب اس سے اچھے الفاظ میں دینے کا جو حکم آیت مذکورہ میں آیا ہے اس کی صورت یہ ہے کہ سلام کرنے والے کے الفاظ سے بڑھا کر جواب دیا جائے ، مثلاً اس نے کہا : ” السلام علیکم “ تو آپ جواب دیں ” وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ “ اور اس نے کہا ” السلام علیکم ورحمتہ اللہ “ تو آپ جواب میں کہیں ” وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ “۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ یہ کلمات کی زیادتی صرف تین کلمات تک مسنون ہے اس سے زیادہ مسنون نہیں اور حکمت اس کی ظاہر ہے کہ سلام کا موقع مختصر کلام کرنے کا مقتضی ہے ، اس میں اتنی زیادتی مناسب نہیں ہے جو کسی کام میں منحل یا سننے والے پر بھاری ہوجائے اس لیے جب ایک صاحب نے اپنے ابتدائی اسلام ہی میں تینوں کلمے جمع کردیے تو رسول اللہ ﷺ نے آگے اور زیادتی سے احتراز فرمایا۔ اس کی مزید توضیح حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس طرح فرمائی کہ مذکورہ تینوں سے زیادہ کرنے والے کو یہ کہہ کر روک دیا کہ : ان السلام قد انتھی الی البرکۃ۔ (مظہری عن البغوی) یعنی سلام لفظ برکت پر ختم ہوجاتا ہے ، اس سے زیادہ کرنا مسنون نہیں ہے۔ (لو مثلہ عن ابن کثیر) تیسری بات حدیث مذکور سے یہ معلوم ہوئی کہ سلام میں تین کلمے کہنے والے کے جواب میں اگر صرف ایک کلمہ ہی کہہ دیا جائے تو وہ بھی اداء بالمثل کے حکم میں حکم قرآنی اَوْرُدُّوْھَا کی تعمیل کے لیے کافی ہے ، جیسا کہ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے صرف ایک کلمہ پر اکتفاء فرمایا ہے۔ (تفسیر مظہری) مضمون آیت کا خلاصہ یہ ہوا کہ جب کسی مسلمان کو سلام کیا جائے تو اس کے ذمہ جواب دینا تو واجب ہے ، اگر بغیر کسی عذر شرعی کے جواب نہ دیا تو گناہ گار ہوگا ، البتہ جواب دینے میں دو باتوں کا اختیار ہے ، ایک یہ ہے کہ جن الفاظ سے سلام کیا گیا ہے ان سے بہتر الفاظ میں جواب دیا جائے ، دوسرے یہ کہ بعینہٖ انہی الفاظ سے جواب دے دیا جائے۔ اس آیت میں سلام کا جواب دینے کو تو لازم واجب صراحتاً بتلا دیا گیا ہے ، لیکن ابتداء سلام کرنے کا کیا درجہ ہے ؟ اس کا بیان صراحتاً نہیں مگر ” اِذَا حُیِّیْتُمْ “ میں اس کے حکم کی طرف بھی اشارہ موجود ہے ، کیونکہ اس لفظ کو بصیغہ مجہول بغیر تعین فاعل ذکر کرنے میں اشارہ ہو سکتا ہے کہ سلام ایسی چیز ہے جو عادۃً سب ہی مسلمان کرتے ہیں۔ مسند احمد ، ترمذی ، ابوداؤد میں رسول اکرم ﷺ کا ارشاد منقول ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مقرب وہ شخص ہے جو سلام کی ابتداء کرے۔ اور سلام کی تاکید اور فضائل آنحضرت ﷺ کے ارشادات سے بھی آپ سن چکے ہیں ، ان سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء سلام کرنا بھی سنت مؤکدہ سے کم نہیں تفسیر بحر محیط میں ہے کہ ابتدائی سلام تو اکثر علماء کے نزدیک سنت مؤکدہ ہے اور حضرت حسن بصری (رح) نے فرمایا السلام تطوع والرد فریضۃ یعنی ابتداء سلام کرنے میں تو اختیار ہے ، لیکن سلام کا جواب دینا فرض ہے۔ رسول کریم ﷺ نے اس حکم قرآنی کی مزید تشریح کے طور پر سلام اور جواب سلام کے متعلق اور بھی کچھ تفصیلات بیان فرمائی ہیں ، وہ بھی مختصر طور پر سن لیجئے۔ صحیحین کی حدیث میں ہے کہ جو شخص سواری پر ہو اس کو چاہئے کہ پیادہ چلنے والے کو خود سلام کرے اور جو چل رہا ہو وہ بیٹھے ہوئے سلام کرے اور جو لوگ تعداد میں قلیل ہوں اور وہ کسی بڑی جماعت پر گزریں تو ان کو چاہئے کہ سلام کی ابتداء کریں۔ ترمذی کی ایک حدیث میں ہے کہ جب آدمی اپنے گھر میں جائے تو اپنے گھر والوں کو سلام کرنا چاہئے کہ اس سے اس کے لیے بھی برکت ہوگی اور اس کے گھر والوں کے لیے بھی۔ ابوداؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ ایک مسلمان سے بار بار ملاقات ہو تو ہر مرتبہ سلام کرنا چاہئے اور جس طرح اول ملاقات کے وقت سلام کرنا مسنون ہے اسی طرح رخصت کے وقت بھی سلام کرنا مسنون اور ثواب ہے۔ ترمذی ابوداؤد میں یہ حکم بروایت قتادہ ؓ و ابوہریرہ ؓ نقل کیا ہے۔ اور یہ حکم جو ابھی بیان کیا گیا ہے کہ سلام کا جواب دینا واجب ہے ، اس سے چند حالات مستثنیٰ ہیں ، جو شخص نماز پڑھ رہا ہے اگر کوئی اس کو سلام کرے تو جواب دینا واجب نہیں بلکہ مفسد نماز ہے ، اسی طرح جو شخص خطبہ دے رہا ہے یا قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہے یا اذان یا اقامت کہہ رہا ہے یا درس دے رہا ہے یا انسانی ضروریات و حوائج جیسے پیشاب ، پاخانہ میں ہے اس کو اس حالت میں سلام کرنا بھی جائز نہیں اور اس کے ذمہ جواب دینا بھی واجب نہیں۔ اختتام مضمون پر فرمایا : اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَْئیٍ حَسِیْبًا ” اللہ تعالیٰ ہرچیز کا حساب لینے والا ہے جن میں انسانی اور اسلامی حقوق مثل سلام اور جواب سلام کے سارے امور داخل ہیں ان کا بھی اللہ تعالیٰ حساب لے گا۔ اس لیے کہ سلام اور جواب سلام انسانی حقوق میں داخل ہے اور اسلامی حقوق میں بھی۔ کتنی بدبختی کی بات ہے کہ آج ہم عملی طور پر اسے نہ انسانی حقوق میں داخل کرنے کے لیے تیار ہیں نہ اسلامی حقوق میں۔ اللہ سمجھ کی توفیق سلب کرلے تو عطاء کرنے والا آخر کون ہے ؟
Ayah 4:87

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

اللہ ہی کی ایک ذات ہے کہ کوئی معبود نہیں ہے مگر صرف وہی ، وہ ضرور تمہیں قیامت کے دن اکٹھا کرے گا ، اس میں کوئی شبہ نہیں اور اللہ سے بڑھ کر بات کہنے میں کون سچا ہوسکتا ہے

اللہ کے سوا کوئی ” الٰہ “ نہیں وہ تم سب کو ” اکٹھا “ کرے گا اور اللہ سے زیادہ کون ” سچا “ ہے : 149: اس چھوٹی سی آیت میں تین باتوں کا ذکر کیا گیا ہے ، تینوں باتوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے ، تینوں ہی ایک دوسرے سے زیادہ اہم ہیں ، تینوں ہی اللہ کا بیان بہت لمبا ہے اور تینوں ہی مختلف مقامات میں بیان کی جا چکی ہیں۔ (1) ” اللہ کے سوا کوئی ” الٰہ “ نہیں ہے۔ “ الٰہ کا لفظ قرآن کریم میں ایک سو گیارہ بار استعمال ہوا ہے اور ہر مقام پر اس کا ترجمہ ” الٰہ “ یا ” معبود “ ہی سے کیا گیا ہے اور ” الٰہ “ اور ” معبود “ دونوں ہی عربی زبان کے الفاظ ہیں جن کا ترجمہ اکثر یہی سمجھا جاتا ہے کہ ” عبادت کے لائق “ اس لیے پورا کلمہ لا الٰہ الا اللہ کا ترجمہ کیا نہیں “ اور ان مختلف مقامات کا اگر مطالعہ کیا جائے جہاں جہاں ” الٰہ “ کا لفظ استعمال ہوا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً ہر جگہ ” الٰہ “ کے معنی مختلف ہیں ایک نہیں۔ کسی آیت میں ” الٰہ “ کے دو مختلف معنی ہیں اور اگر کسی میں دو سے بھی زیادہ اور سارے آپس میں مختلف ہیں اس طرح اگر ان سارے مختلف معنوں کو اکٹھا کیا جائے تو تقریباً اسی معنوں سے بھی متجاوز ہوتے ہیں اس لیے بلامبالغہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سارے صفاتی ناموں پر ” الٰہ “ کا لفظ محیط ہے۔ مثلاً قرآن کریم میں ہے : ” بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے وہ خوشنما باغ اُگائے جن کے درختوں کو اگانا تمہارے بس میں نہ تھا ؟ کیا اللہ کے سوا کوئی دوسرا ” الٰہ “ بھی ہے ؟ “ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی تین صفتوں کا بیان ہوا۔ (1) آسمانوں زمین کو پیدا کرنے والا۔ (2) آسمان سے پانی برسانے والا۔ (3) خوش نما باغ اگانے والا اور ان تینوں پر ” الٰہ “ کا لفظ ایک ہی بار استعمال فرما کر وضاحت فرما دی کہ ” الٰہ “ کے تین مختلف معنی اس آیت میں بیان ہیں یعنی ” کوئی اللہ کے ساتھ آسمان سے پانی برسانے والا ہے ؟ “ تیسرے معنی ہیں ” کوئی اللہ کے ساتھ خوش نما باغ اگانے والا ہے۔ “ غور کرو کہ کیا ” کوئی اللہ کے ساتھ ” عبادت “ کے لائق ہے ؟ “ یا ” کوئی اللہ کے ساتھ ” الٰہ “ ہے “ یا ” کوئی اللہ کے ساتھ ” معبود “ ہے ؟ “ معنی کی کوئی مناسبت ہوتی ہے ؟ اس سے ہر جگہ ” الٰہ “ کا وہی مفہوم و مطلب بیان کرنا جس کا مضمون مطالبہ کرتا ہے زیادہ صحیح نہیں ہوگا ؟ اس طرح قرآن کریم ان آیات میں غور و فکر کرتے جاؤ جہاں ” الٰہ “ کا لفظ استعمال ہوا ہے تو تم پر ” الٰہ “ کے سارے معانی خودبخود واضح ہوتے جائیں گے اور اس طرح ہر مقام پر ” الٰہ “ کے وہ معنی جو مضمون مطالبہ کرے گا لینے سے مطلب و مفہوم میں وہ شیرینی پیدا ہوگی جس کا بیان قلم کے احاطہ سے باہر ہے اور اس بےپایاں دریا میں غوطہ زن ہونے کو بار بار دل چاہے گا۔ کیوں ؟ اس لے ‘ کہ ہر غوطہ میں ایک نیا لعل نکال لاؤ گے جس کی قیمت دنیا ومافیہا سے بہت زیادہ ہے۔ اب غوطہ پر غولہ لگاؤ اور لعل پر لعل نکالتے جاؤ یہ خزانہ ختم ہونے والا نہیں۔ (2) اللہ تم سب کو اکٹھا کرے گا یہ اس آیت کا دوسرا حصہ ہے یعنی وہ جو تمہارا الہ وہ تم سب کو قیامت کے روز اکٹھا کرے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ اکٹھا ہونا کیوں ہے ؟ تاکہ تمہارے رزلٹ کا اعلان کی اجائے۔ تمہارے اعمال کو تمہارے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے ۔ تم میں سے انعامات حاصل کرنے والوں میں انعامات تقسیم کیے جائیں۔ تم میں سے مجرموں کو سزا سنائی جائے۔ تم میں سے رعایتی پاس ہونے والوں کو بھی اپنا کیا معلوم ہو۔ یہ مضمون قرآن کریم نے بہت جگہ بیان کیا ہے اور ہر جگہ اس کی افادیت بھی سمجھائی گئی ہے کہ تم کو اکٹھا کیوں کیا جائے گا۔ مثلا قرآن کریم میں ارشاد ہے : یوم یجمعکم لیوم الجمع ذلک یوم التغابن۔ (التغابن : 9) جب جمع ہونے کے دن وہ تم سب کو اکٹھا کرے گا وہ دن ہوگا ایک دوسرے کے مقابلے میں لوگوں کی ہار جیت کا۔ جمع ہونے کا دن کونسا دن ہے ؟ قیامت کا روز قرآن کریم میں جس دن کی سب دنوں سے زیادہ وضاحت کی گئی ہے اور سب کو اکٹھا کرنے سے مراد ہے ۔ تمام ان انسانوں کو بیک وقت زندہ کر کے جمع کرنا جو ابتدائے آفرینش سے قیامت تک دنیا میں پیدا ہوئے ہیں۔ اس دن کو قرآن کریم میں کہیں یوم مجموع اور کہیں یوم مشھود ، فرمایا گیا اور کسی جگہ یوم معلوم اور اس جگہ فرمایا یوم التغابن ، تغابن غبن سے ہے اور اس کے معنی میں بہت وسعت ہے ۔ اس وسعت کے پیش نظر اس کے معنی ہار جیت کے کیے گئے ہیں۔ کیونکہ ہار جیت میں بھی بڑی وسعت ہے اس لیے کہ یہ ہر طرح فتح و شکت پر بولا جاسکتا ہے۔ جیسے دوڑ میں دوڑانے میں ، لڑنے میں لڑانے میں ، کھیلنے میں کھلوانے میں ، چلنے میں چلانے میں ، یعنی جس جگہ چاہو اس کو فٹ کرسکتے ہو پھر دنیا میں تغابن ہوتا ہی رہتا ہے ، لیکن یہ تغابن اس روز کے تغابن سے بالکل مختلف ہے ، اسل تغابن تو روز قیامت ہوگا وہاں جاکر پتہ چلے گا کہ اصل میں خسارہ کس نے اٹھایا اور کون نفع کما لے گیا۔ اصل میں کس کا حصہ کس کو مل گیا اور کون اپنے حصہ سے محروم رہ گیا۔ اصل میں دھوکا کس نے کھایا اور ہوشیار کون نکلا۔ اصل میں کس نے اپنا تمام سرمایہ حیات ایک غلط کاروبار میں کھپا کر دیوالیہ ہوگیا اور کس نے اپنی قوتوں اور قابلیتوں اور مساعی اور اموال اور اوقات کو نفع کے سودے پر لگا کر وہ سارے فائدے حاصل کرلیے جو پہلے شخص کو بھی حاصل ہوسکتے تھے اگر وہ دنیا کی حقیقت کو سمجھنے میں دھوکا نہ کھاتا۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اس روز اہل جنت اہل دوزخ کا وہ حصہ حاصل کرلے جائیں گے جو ان کو جنت میں ملتا اگر وہ جنتیوں کے سے کام کر کے آئے ہوتے اور اہل دوزخ جنتیوں کا وہ حصہ لے جائیں گے جو انہیں دوزخ میں ملتا اگر انہوں نے دنیا میں دوزخیوں کے سے کام کیے ہوتے۔ اس مضمون کی تائید بخاری شریف کی اس حدیث سے ہوتی ہے جو امام صاحب کے کتاب الرقاق میں حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم نے فرمایا جو شخص بھی جنت میں جائے گا اسے وہ مقام دکھایا جائے گا جو اسے دوزخ میں ملتا اگر وہ برے عمل کرتا تاکہ وہ مزید شکر گزار ہو اور جو شخص بھی دوزخ میں جائے گا اسے وہ مقام دکھا دیا جائے گا جو اسے جنت میں ملتا اگر اس نے نیک عمل کیے ہوتے تاکہ اسے اور زیادہ حسرت ہو۔ (بخاری کتاب الرقاق) اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دن ایسا ہے کہ اس میں کسی کے پاس مال و زر تو نہیں ہوگا لیکن اس نے کسی پر جو ظلم کیا ہوگا اس کا حق ادا کرنے کے لیے زرمبادلہ اس آدمی کے اعمال ہی ہوں گے لہذا وہ اس مظلوم کا حق تو اس طرح ادا کرے گا کہ اپنے پلے میں جو کچھ بھی نیکیاں رکھتا ہوگا ان میں سے اس کا تاوان ادا کرے یا مظلوم کے گناہوں میں سے کچھ اپنے اوپر لے لے اور اس طرح اس کا جرمانہ ادا کرے اور یہ مضمون متعدد احادیث میں رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے ذمہ اپنے کسی بھائی کا کسی قسم کا ظلم کا بار ہو اسے چاہیے کہ پہلے اس سے سبکدوش ہو لے کیونکہ آخرت میں دینار و درہم تو ہوں گے نہیں وہاں اس کی نیکیوں میں سے کچھ لے کر مظلوم کو دلوائی جائیں گی یا اگر اس کے پاس نیکیاں کافی نہ ہوں گی تو مظلوم کے کچھ گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے ۔ (بخاری کتاب الرقاق) اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دن ایسا ہے کہ اس میں کسی کے پاس مال و زر تو نیں ہوگا لیکن اس نے کسی پر جو ظلم کیا ہوگا اس کا حق ادا کرنے کے لیے زر مبادلہ اس آدمی کے اعمال ہی ہوں گے لہذا وہ اس مظلوم کا حق تو اس طرح ادا کرے گا کہ اپنے پلے میں جو کچھ بھی نیکیاں رکھتا ہوگا ان میں سے اس کا تاوان ادا کرے یا مظلوم کے گناہوں میں سے کچھ اپنے اوپر لے لے اور اس طرح اس کا جرمانہ ادا کرے اور یہ مضمون متعدد احادیث میں رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ہے ۔ ٍحضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے ذمہ اپنے کسی بھائی کا کسی قسم کے ظلم کا بار ہو اسے چاہیے کہ پہلے اس سے سبکدوش ہولے کیونکہ آخرت میں دینار و درہم تو ہوں گے نہیں وہاں اس کی نیکیوں میں سے کچھ لے کر مظلوم کو دلوائی جائیں گی یا اگر اس کے پاس نیکیاں کافی نہ ہوں گی تو مظلوم کے کچھ گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے۔ (بخاری کتاب الرقاق) اس طرح مسند احمد میں حضرت جابر بن عبداللہ بن انیس سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فمرایا کوئی جنتی جنت میں اور کوئی دوزخی دوزخ میں اس وقت تک نہ جاسکے گا جب تک کہ اس ظلم کا بدلہ چکا دیا جائے جو اس نے کسی پر کیا ہو حتی کہ ایک تھپڑ کا بدلہ بھی دینا ہوگا۔ ہم نے عرض کیا کہ یہ بدلہ کیسے دیا جائے گا جبکہ قیامت میں ہم ننگے دھڑ ن کے ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا اپنے اعمال کی نیکیوں اور بدیوں سے بدلہ چکانا ہوگا۔ (مسند احمد) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے ایک مرتبہ اپنی مجلس میں لوگوں سے پوچھا جانتے ہو مفلس کون ہوتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ ہوتا ہے جس کے پاس مال ومتاع کچھ نہ ہو۔ آپ نے فرمایا میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے روز نماز اور روزہ اور زکوۃ ادا کر کے حاضر ہوا ہو مگر اس حال میں آیا ہو کہ کسی کو اس نے گالی دی تھی اور کسی پر بہتان لگایا تھا اور کسی کا مال کھایا تھا اور کسی کا خون بہایا تھا اور کسی کو مارا پیٹا تھا پھر ان سب مظلوموں میں سے ہر ایک پر اس کی نیکیاں لے لے کر بانٹ دی گئیں اور جب نیکیوں میں سے کچھ نہ بچا جس سے ان کا بدلہ چکایا جاسکے تو ان میں سے ہر ایک کے کچھ کچھ گناہ لے کر اس پر ڈال دیے گئے اور وہ شخص دوزخ میں پھینک دیا گیا۔ (مسلم) اسی طرح کی بہت سی احادیث کتب احادیث میں موجود ہیں جن سب کا ما حصل یہ ہے کہ حقوق العباد کی کوتاہیاں اتنی بڑی کوتاہیاں ہیں جن کی معافی کی صورت صرف اور صرف یہ ہے کہ جن کے متعلق کوئی کوتاہی ہے اس سے یہ معاف کرانا یا اس کو بدلہ دینا ضروری ہے اور اگر اس کو مان لیا جائے تو یہ سارے معاشرے کے بگاڑ کا ایک ہی بہترین حال ہے جس سے بگاڑ ہوچکا ختم ہوگا اور پھر کبھی بھی بگاڑ پیدا نہیں ہوگا۔ کاش کہ ہمارے علماء مذہبی رہنما اور سیاسی رہنما بھی اس پر ایمان لے آئیں اور ایمان پڑھ کر سر دھننے کا کا نام نہیں بلکہ پڑھے ہوئے کے مطابق عمل کرنے کا نام ہے ۔ اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ ایک اور مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا میں لوگ کفر و فسق اور ظلم و عصیان پر بڑے اطمینان سے آپس میں تعاون کرتے رہتے ہیں اور یہ اعتماد رکھتے ہیں کہ ہمارے درمیان بڑی گہری محبت اور دوستی ہے۔ بدکردار خاندانوں کے افراد ضلالت پھیلانے والے پیشوا اور ان کے پیرو ، چوروں اور ڈاکؤوں کے جتھے ، رشوت خور اور ظالم افسروں اور ملازمین میں گٹھ جوڑ ، بےایمان تاجروں ، صنعت کاروں اور زمینداروں کے گروہ ، شرارت اور خباثت برپا کرنے والی پارٹیاں اور بڑے پیمانے پر ساری دنیا میں ظلم و فساد کری علمبردار حکومتیں اور قومیں سب کا باہمی ساز باز اس اعتماد پر قائم ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ تعلق رکھنے والے افراد اس گمان میں ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے بڑے اچھے رفیق ہیں اور ہمارے درمیان بڑا کامیاب تعاون چل رہا ہے۔ مگر جب یہ لوگ آخرت میں پہنچیں گے تو ان پر یکایک یہ بات کھلے گی کہ ہم سب نے بہت بڑا دھوکا کھایا ہے ۔ ہر ایک یہ محسوس کرے گا کہ جسے میں اپنا بہترین باپ ، بھائی ، بیوی ، شوہر ، اولاد ، دوست ، رفیق ، لیڈر ، پیر ، مرید اور حامی و مددگار سمجھ رہا تھا وہ دراصل میرا دشمن تھا۔ ہر رشتہ داری اور دوستی اور عقیدت و محبت عداوت میں تبدیل ہوجائے گی۔ سب ایک دوسرے کو برا بھلا کہیں گے۔ ایک دوسرے پر لعنت کریں گے اور ہر ایک یہ چاہے گا کہ اپنے جرائم کی زیادہ سے زیادہ ذمہ داری دوسرے پر ڈال کر اسے سخت سے سخت سزا دلوائے۔ قرآن کریم میں یہ مضمون بھی جگہ جگہ پھیلا ہوا ہے مزید تفصیل کے لیے دیکھیں عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ : 167 3۔ اللہ سے بڑھ کر کوئی سچا نہیں۔ زیر نظر آیت جس کی یہاں تفسیر ہورہی ہے اس کا یہ آخری حصہ ہے۔ ہر نبی و رسول اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا اور ہر نبی رسول کی مدد اللہ نے فرمائی گویا یہ اللہ کے وعدوں میں داخل تھا اور اللہ سے بڑھ کر وعدے کو سچا اور کون ہوسکتا ہے ۔ رسول اللہ کو اس طرح تسلی دی جارہی ہے کہ آپ سے پہلے جو رسول بھیجے گئے تھے وہ بھی انسان تھے اور ان کی نصرت و تائید کے اور ان کی مخالفت کرنے والوں کو ہلاک کردینے کے جتنے وعدے اللہ نے ان سے کیے تھے وہ اب پورے ہوئے اور ہر وہ قوم برباد ہوئی جس نے ان کو نیچا دکھانے کی کوشش کی اس لیے آپ کو بھی تسلی رکھنی چاہیے کہ اگر یہ لوگ جو آپ کی مخالفت کر رہے ہیں باز نہ آئے تو یقینا ان کا بھی وہی حشر ہوگا جو ان سے پہلوں کا ہوچکا ہے اس لیے کہ تم اللہ کے رسول ہو اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ اپنے رسول کی مدد کرتا ہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا : ان رسولوں کو ہم نے کوئی ایسا جسم نہیں دیا تھا کہ وہ کھاتے نہ ہوں اور نہ وہ سدا جینے والے تھے۔ پھر دیکھ کو کہ آخر کار ہم نے ان کے ساتھ اپنے وعدے پورے کیے اور انہیں اور جس جس کو ہم نے چاہا بچالیا اور حد سے گزر جانے ولوں کو ہلاک کر کے رکھ دیا۔ (الانبیا : 8۔ 9) ایک جگہ ارشاد فرمایا : اور یاد رکھو تمہارے رب کی بات سچائی اور انصاف کے ساتھ پوری ہوگئی۔ اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں ، وہ سب کچھ سننے والا ، سب کچھ جاننے والا ہے ۔ (الانعام : 115) ایک جگہ ارشاد فرمایا : اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام انجام دیے تو ہم انہیں باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، وہ ہمیشہ انہی باغوں میں رہیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ حق ہے اور اللہ سے بڑھ کر بات کہنے میں سچا اور کون ہوسکتا ہے ۔ (النسا : 122) ایک جگہ ارشاد فرمایا : اور وہ کہیں گے شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور ہم کو جنت کی زمین کا وارث بنا دیا۔ اب ہم جنت میں جہاں چاہیں آجاسکتے ہیں پس کتنا بہترین اجر ہے اچھے عمل کرنے والوں کا ۔ (الزمر : 74) غور کیجیے کہ شیطانی کاروبار بھی سارے کا سارا اس کے وعدوں پر ہی چل رہا ہے پھر افسوس ہے کہ شیطان کے وعدوں پر تو یقین کیا جائے اور رحمن کے وعدوں کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھاجائے۔ شیطان کے وعدوں پر انسان کا یقین کیا کہہ دیا ہے ؟ کہہ وہی دیا ہے جو قرآن کریم نے کہا ہے اگر یقین نہیں آتا تو میں آپ کی انگلی رکھتا ہوں آپ اس آیت کو پڑھیں ، ہاں یہی فرمایا ہے۔ یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطن الا غرورا۔ (النسا : 120) اور ان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں۔ اس طرح کی بیسوں آیات قرآن کریم میں موجود ہیں لیکن آپ اس پر ذرا غور کرلیں کیا شیطان کا سارا کاروباری وعدوں اور امیدوں کے بل پر نہیں چل رہا ؟ وہ جب انسان کو انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر کسی غلط راستے کی طرف لیجانا چاہتا ہے تو اس کے آگے ایک سبز باغ پیش کردیتا ہے ۔ کسی کو انفرادی لطف و لذت اور کامیابیوں کی امید ، کسی کو قوی سربلندیوں کی توقع ، کسی کو نوع انسان کی فلاح و بہبود کا یقین کسی کو صداقت تک پہنچ جانے کا اطمینان ، کسی کو یہ بھروسہ کہ نہ خدا ہے نہ آخرت ، بس مرکر مٹی ہوجاتا ہے۔ کسی کو یہ تسلی کہ آخرت ہے بھی تو وہاں کی گرفت سے فلاں کے طفیل اور فلاں کے صدقے میں بچ نکلیں گے۔ غرض جو جس وعدے اور جس توقع سے فریب کھا سکتا ہے اس کے سامنے وہی پیش کرتا ہے اور پھانس لیتا ہے۔ آپ کو تعجب کیوں ہوا ؟ کیا آپ اور میں اس میں شامل نہیں ؟ رہی یہ بات کہ شیطان کے زیادہ وعدے نقد بہ نقد اور دھوکا و فریب ہیں اور اللہ کے زیادہ وعدے ادھار لیکن سچے اور صحیح ہیں۔ یہ جملہ یاد رکھیں کہ اس پر بات انشاء اللہ پھر ہوگی۔
Ayah 4:88

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو فریق بن گئے ہو حالانکہ اللہ نے ان بدعملیوں کی وجہ سے جو انہوں نے کمائی ہیں انہیں الٹا دیا ہے ، کیا تم چاہتے ہو کہ ان کو راہ دکھا دو جن پر اللہ نے راہ گم کردی ؟ اور یاد رکھو جس پر اللہ راہ گم کر دے تو پھر تم اس کیلئے کوئی راہ نہیں نکال سکتے

قانون الہی جس کو فیل کردے تم اس کو پاس کرنے والے کون ہو ؟ بےفائدہ جھگڑا چھوڑ دو : 150: بلاشبہ اسلام نرمی کو پسند کر ات ہے لیکن ساتھ ہی وہ ہر معاملہ میں اعتدال پسند بھی ہے اس لحاظ سے ایسی نرمی جو جماعت و قوم کے لیے نقصان دہ ہو وہ نرمی نرمی نہیں رہتی بلکہ کچھ اور ہی بن جاتی ہے۔ لوگ جب اسلام میں داخل ہونا شروع ہوگئے اور رسول اللہ کی ہجرت کے بعد انہوں نے بھی ہجرت شروع کردی تو ایسے بھی واقعات رونما ہوئے کہ کچھ سچے مسلمانوں کے ساتھ کچے لوگ بھی شامل ہوگئے اور یہ فطری بات تھی مثلا ایک آدمی نے سچے دل سے ایمان قبول کیا ہے وہ رسول اللہ کی ہجرت کے بعد مکہ میں ایک پل رہنا بھی گوارا نہیں کرتا وہ سب کچھ چھوڑ کر نکلنا چاہتا ہے لیکن اس گھر اور خاندان کے کچھ لوگ ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو ایمان میں تو پکے نہیں لیکن اس اپنے آدمی کا ساتھ چھوڑنا بھی ان کو پسند نہیں ہے اس لیے وہ اس پکے مسلمان کے ساتھ ہجرت کر کے آجاتے ہیں تو صورت حال کیا پیدا ہوئی ؟ وہ ایمان میں تو پکے نہیں تھے لیکن اپنے ایمان میں پکے آدمی کے ساتھ ہجرت کر کے آگئے اس طرح وہ مزاج کے لحاظ سے تو اسلام کے مزاج شناس نہیں لیکن ان میں کا ایک جو اسلام کا مزاج شناس ہے اس کو بھی ان سے فطری محبت ہے کیوں ؟ اس لیے کہ انہوں نے اس کے ساتھ مل کر اپنا سب کچھ چھوڑ دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے دل میں بھی ان کے لیے نرم گوشہ ہوگا۔ بس اس طرح کے کئی لوگ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آگئے لیکن ان کی پوزیشن دوہری رہی ایسے لوگوں نے کافی حد تک بدمزگی پیدا کی کیونکہ وہ مدینہ ہجرت تو کر آئے لیکن وہاں کا نظام حیات ، اخلاقی پابندیوں اور ساتھ ہی ساتھ دشمنوں کے حملہ کا خطرہ انہیں وہاں قیام نہ کرنے دیتا اور وہ آب و ہوا کی ناموافقت کا عذر کر کے واپس لوٹ جاتے۔ پھر اس طرح کے لوگوں کے متعلق مسلمانوں کی آرا مختلف تھیں بعض ان کو مسلمان سمجھتے اور بعض ان کو خارج اسلام سمجھتے اور اس طرح مسلمانوں کی گویا دو جماعتیں بن گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم ان کے متعلق دو جماعتوں میں تقسیم کیوں ہوتے ہو وہ تو اپنی بداعمالیوں کے باعث جدھر سے آئے تھے تو ادھر واپس چلے گئے اور تم نے خواہ مخواہ اس معاملہ میں جھگڑنا شروع کردیا۔ مفسرین نے ایسے بہت سے لوگوں کے نام بھی اور ان کے کام بھی اور ان کا انجام بھی ذکر کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ ان دو جماعتوں سے مسلمانوں کے مقابلہ میں منافقوں کی اس جماعت کا ذکر ہے جو عبداللہ بن ابی منافقین کے سردار کی پارٹی تھے جو احد کی جنگ میں مدینہ سے نکل کر اپنے ساتھیوں سمیت واپس آگیا تھا۔ بہرحال اس جگہ اس تفصیل میں گئے بغیر مسلمانوں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ وہ جو کچھ ہیں ان کو چھوڑو تم آپس میں اختلاف مت کرو۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اختلاف کسی حال میں بھی اچھا نہیں ہوتا یا یہ کہ اختلاف ہونے کے باوجود جماعت ہی میں رہنا بہتر ہوتا ہے اور جماعتی کاموں کی دلچسپی کو ذاتی اختلافات کی بنا پر نہ ترک کیا جاسکتا ہے اور نہ ان میں بددلی کا اظہار کیا جاسکتا ہے بلکہ وسعت سے کام لے کر اس اختلاف کو برداشت کرنا مناسب ہوتا ہے۔ اور اس جگہ یہی ہدایت دی جارہی ہے ۔ قانون الہی میں ہدایت حاصل کرنے کے دو ہی راستے ہیں غور و فکر اور مشاہدہ و نظر : 151: فرمایا جارہا ہے کہ غور کرو کہ جو لوگ نہ تو فکر سے کام لیتے ہوں اور نہ مشاہدہ و نظر سے ان کی ہدایت کی کوئی اور راہ بھی ہوسکتی ہے ؟ اگر وہ فکر سے کام لیتے تو پیغمبر اسلام کی پوری زندگی ان کے سامنے تھی کیونکہ وہ ان میں پیدا ہوا انہی میں رہ کر جوان ہوا اور انہی میں سے ہے جو بذاتہ سچائی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اگر نظر و مشاہدہ سے کام لیتے تو آسمان و زمین کا ایک ایک ذرہ اس کی الوہیت ، اس کی ہستی اور اس کے مقررہ قوانین خلقت کی شہادت دے رہا ہے اس لیے جب یہ دونوں باتیں ان کی ہدایت کا باعث نہ بن سکیں تو پھر تم ان کو ہدایت کس طرح دے لوگے ؟ اور یہ مضمون قرآن کریم میں بار بار بیان فرمایا گیا ہے چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا : من یضلل اللہ فلا ھادی لہ ویذرھم فی طغیانھم یعمھون۔ (الاعراف : 186) جس پر کامیابی کی راہ اللہ گم کردے یعنی اللہ کے ٹھہرائے ہوئے قانون نتائج کے مطابق کھویا جائے تو پھر اس کے لیے کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔ اللہ نے انہیں چھوڑ دیا ہے کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا : من یھدی اللہ فھو المھتدی ومن یضلل فاولئک ھم الخاسرون ۔ (الاعراف : 178) جس پر اللہ کامیابی کی راہ کھول دے تو وہی راہ ہے اور جس پر کامیابی کی راہ گم کردے تو ایسے ہی لوگ ہیں جو گھاٹے میں پڑے ہیں۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا : جس کسی کو اللہ سعادت و کامیابی کی راہ پر لگا دے فی الحقیقت وہی راہ پر ہے اور جس کسی پر اس نے راہ گم کردی تو تم اللہ کے سوا اس کا کوئی مددگار نہیں پاؤ گے ۔ (بنی اسرائیل : 97) ایک جگہ فرمایا : جس کسی پر وہ کامیابی کی راہ کھول دے تو وہی راہ پر ہے ۔ جس پر وہ راہ گم کردے تو تم کسی کو اس کا کارساز اس کا رادہ دکھانے والا نہ پاؤ گے۔ (الکہف : 18۔ 17) اس لیے تم یاد رکھو کہ جس کو قانون الہی فیل کردے اس کو تم پاس نہیں کرسکتے اور تمہارا یہ جھگڑا تمہارے لیے نقصان دہ ہے اس سے تمہاری ہوا اکھڑے گی اور تم پریشان ہوگے اور اسلام لانے کے بعد یہ راہ چہ معنی دارد ؟ یہ وہ وقت تھا جبکہ منافقوں کے چار گروہ بن چکے تھے گویا نفاق چار درجوں میں تقسیم ہوچکا تھا۔ 1۔ نام کے مسلم اور باطن کے کافر لیکن مسلمانوں میں شامل ۔ 2۔ مسلمانوں سے نکل کر اسلام کے دشمنوں میں شریک۔ 3۔ اسلام لانے کے بعد کھلے کھلے مرتد ہوجانے والے جو معاہدین اسلام میں شامل ہوگئے۔ 4۔ ظاہر و باطن میں نہ مسلمانوں کے ساتھ نہ کافروں کے ساتھ۔
Ayah 4:89

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

ان کی دلی تمنا تو یہ ہے کہ جس طرح انہوں نے کفر کی راہ اختیار کرلی ہے تم بھی کرلو اور تم سب ایک ہی طرح کے ہوجاؤ ، پس دیکھو جب تک یہ لوگ اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں ، تمہیں چاہیے کہ ان میں سے کسی کو اپنا دوست اور مددگار نہ بناؤ ، پھر اگر یہ ہجرت کرنا قبول نہ کریں تو انہیں گرفتار کرو ، جہاں کہیں پاؤ قتل کرو اور نہ تو کسی کو اپنا دوست بناؤ نہ کسی کو اپنا مددگار

جو کچھ وہ ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی وہی ہوجاؤ ۔ یہ دوست بنانے کے قابل نہیں ہیں : 152: منافقین کا یہ پہلا گروہ ہے جو بظاہر مسلمان ہیں لیکن ان کے دل اسلام سے دور ہیں۔ ایسے لوگوں کی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں جو ان کو مجبور کرتی ہیں اور اسلام کا نام لیتے ہیں لیکن اسلام پر ان کا دل نہیں جمتا کیوں ؟ اس لیے کہ اسلام عمل چاہتا ہے وہ اس سے دور بھاگتے بھاگتے بھاگ ہی جاتے ہیں۔ ان کی خواہش تو یہ ہوتی ہے کہ ہماری طرح سارے ہی بدعمل ہوجائیں تاکہ ہمیں اعمال پر مجبور نہ ہونا پڑے اس لیے مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ ان بدعملوں کے ساتھ زیادہ راہ و رسم مت رکھو کیونکہ خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے اور بروں کی صحبت سے برائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتاْ لوہار کے پاس بیٹھ گئے تو کپڑوں کی حفاظت مشکل ہوجائے گی کچھ نہ کچھ جلا لو گے۔ اونٹوں والوں سے دوستی لگاؤ گے تو دروازے اونچے کرنے پڑیں گے۔ اچھی بات یہی ہے کہ ان سے دور رہو اس میں سلامتی ہوگی۔ ہاں وہ اگر دار الکفر میں ہیں تو وہاں سے خود تمہارے قریب آجائیں بد عملیوں سے ہجرت کر کے نیک عملیوں کی طرف آجائیں تو دوسری بات ہے کیونکہ نفرت دراصل ان سے نہیں بلکہ ان کے اعمال سے ہے اگر وہ بدعمل نہ رہیں تو تم ان سے نفرت کیوں کرو گے ؟ اگر وہ دل و جان سے اسلام میں داخل ہوجائیں تو سو بار قبول ہیں لیکن اگر وہ نفرت کر کے تم کو چھوڑ دیں تو تم کو بھی اپنی حالت پر غور کرنا ہوگا۔ اگر وہ تم کو چھوڑ کر تمہارے دشمنوں سے مل گئے ہوں تو تم بھی ان کو دین کا دشمن سمجھو : 153: یہ ان منافقین کی دوسری حالت کا ذکر ہے جب وہ صرف منافق ہی نہیں رہے بلکہ وہ تم کو چھوڑ کر تمہارے دشمنوں کے ساتھ مل گئے ہیں اب تم کو ان سے پیار کرنا ہے ؟ نہیں بلکہ تم کو بھی ان سے وہی کچھ کرنا جو کچھ تم دشمنوں کے ساتھ کر رہے ہو اس لیے کہ وہ تمہارے دشمن ہیں اور ان کا دعوی اسلام بالکل غلط ہے ۔ اس طرح کے لوگ مدینہ کے اردگرد موجود تھے جو مسلمانوں کا غلبہ دیکھ کر اسلام کا اظہار کرتے لیکن دشمنوں کا پلہ بھاری دیکھتے تو ان کے ساتھ مل جاتے۔ جب اسلام میں داخل ہوتے تو اسلام سے مستفید ہونے کی کوشش کرتے اور جب اسلام سے نکلتے تو اکثر اسلام کا بہت کچھ نقصان کرجاتے جیسے عرینہ نے کیا آئے تو مریض کی صورت میں ان کو باقاعدہ طور پر علاج کی غرض سے اونٹوں کے باڑے میں رکھا گیا ان کی خوب خاطر مدارت کی گئی جب رو بصحت ہوئے تو نہ صرف یہ کہ خود بھاگ گئے بلکہ وہ اونٹ بھی ساتھ ہی بھگا کرلے گئے اور محافظوں کو قتل کردیا۔ (بخاری) فرمایا ایسے منافق جو اعلانیہ ایسے جرائم کے مرتکب ہوئے ان کو پکڑو اور مارو جہاں کہیں بھی مل سکیں ان کے ساتھ قطعا نرمی کا کوئی سلوک مت کرو جو کام انہوں نے کیا ہے وہ انسانیت سے بہت دور ہے وہ صرف منافق ہی نہیں رہے بلکہ قتل کے مرتکب بھی ہوچکے ہیں اس لیے وہ قابل احترام نہیں ہیں کہ ان کو اس طرح پھرنے دیا جائے۔ اس کی وضاحت پیچھے آیت 45 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کرلیں۔ ( سورة النساء : 45)
Ayah 4:90

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

مگر ہاں ! جو لوگ ، کسی ایسی قوم سے جا ملیں کہ تم میں اور اس میں عہد و پیمان ہوچکا ہو یا ایسے لوگ ہوں کہ لڑائی سے دلبرداشتہ ہو کر تمہارے پاس چلے آئیں ، نہ تم سے لڑیں اور نہ اپنی قوم کے ساتھ لڑیں اگر اللہ چاہتا تو ان لوگوں کو بھی تم پر مسلط کردیتا کہ تم سے لڑے بغیر نہ رہتے ، پس اگر وہ تم سے کنارہ کش ہوگئے اور جنگ نہیں کرتے نیز صلح کا پیغام بھی بھیج رہے ہیں تو پھر اللہ نے تمہارے لیے کوئی راہ نہیں رکھی کہ ایسے لوگوں کے خلاف جنگ کرو

ہاں ! جو لوگ تمہارے معاہدین کی پناہ میں ہوں ان کا حکم الگ ہے : 154: یہ گویا منافقین کا تیسرا گروہ ہے جو اسلام لانے کے بعد اسلام سے حقیقتا نکل چکا ہے لیکن ان کا رخ ان لوگوں کی طرف ہوگیا جو مسلمانوں کے معاہدین میں سے ہیں۔ یعنی ان کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ امن ہے۔ اس لیے کہ ایسے معاہدین سے یہ معاہدہ بھی شامل ہوتا تھا کہ معاہدین میں سے کوئی فریق جس کو امن کے معاہدہ میں شامل کرے وہ بھی گویا ضمنا اس معاہدہ میں شامل ہوگیا ۔ مثلا : (ا ) کا (ب ) سے معاہدہ ہے کہ ہم تم سے جنگ نہیں لڑیں گے۔ اب (ا ) نے کسی کو اپنے ساتھ شامل کرلیا یا (ب ) نے اپنے ساتھ کسی کو شامل کرلیا تو اس طرح (ا) کے ضمنی معاہدہ بھی (ا) اور (ب) کے پہلے معاہدہ میں شامل تصور ہوں گے اس طرح (ب) نے جن سے ضمنی معاہدہ کرلیا وہ (ا) اور (ب) کے اصل معاہدہ میں شامل ہوگئے۔ اس طرح جن اہل کتاب یا کفار میں سے کسی گروہ کے ساتھ معاہدہ امن تھا یہ منافقین اس گروہ میں شامل ہوگئے تو ان سے جنگ نہیں ہوگی اور نہ ہی ان کو قتل کیا جائے گا کیونکہ اس شرکت سے ان کو وہ حق مل گیا جو معاہدہ میں کفار سے طے پایا تھا ۔ ہاں ! ان سے کوئی مطالبہ ہو تو وہ اس معاہد قوم سے بذریعہ بات چیت طے کیا جاسکتا ہے جس کی کئی ایک صورتیں ہوسکتیں ہیں۔ کچھ لوگ ہیں جو جنگ سے بھاگتے ہیں ، اگر وہ سلامتی کے طالب ہیں تو ان سے درگزر کرو : 155: یہ وہ چوتھا فریق ہے جو اسلام سے نکل چکا ہے لیکن وہ کسی معاہد قوم کی طرف بھی نہیں گیا اور لڑائی کے لیے بھی تیار نہیں یعنی ان کی خواہش صرف یہ ہے کہ وہ شریک جنگ نہیں ہونا چاہتے نہ تم سے اور نہ اپنی اسل قوم یعنی کفار و مشرکین سے۔ یعنی ہیں تو وہ بزدل یا بخلہ کیونکہ جنگ جب لڑی جائے گی تو ظاہر ہے کہ مال بھی خرچ ہوگا اور جان کا خطرہ بھی ۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ بزدلی کی وجہ سے جنگ میں شریک ہونے سے بھاگتے ہیں اور بخیل ہونے کی وجہ سے اس میں کچھ خرچ بھی نہیں کرنا چاہتے تو پھر تم بھی ان کو سلامتی کی ضمانت فراہم کردو کیا ضروری ہے کہ مرے کو مارے شاہ مدار ؟ یہ لوگ گویا مرنے سے پہلے ہی مرچکے ہیں۔ اگر وہ تمہارا ساتھ نہیں دے رہے تو تمہارا نقصان بھی تو نہیں کر رہے بہتر ہے کہ تم بھی ان کا راستہ چھوڑ دو ۔ اسلام جو صلح و آشتی کا داعی ہے وہ کسی کو تنگ کرنے کے لیے کسی حال میں بھی ت اور نہیں جو اس کو نہ چھیڑنے کی سوگند کھاتا ہے وہ اس کو بھی کھلے دل سے قبول کرتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ مرتدین کو صرف اس صورت قتل کیا جاسکتا ہے جب وہ مرتد ہونے کے ساتھ کوئی ایسا جرم بھی کریں جس کی بنا پر ان کا قتل واجب ہوجائے اگر وہ مرتد ہوجائے تو اس ارتداد کی سزا ان کو وہی دے گا جس کے دین سے وہ پھرے۔ جن لوگوں نے اس حکم کو منسوخ تسلیم کیا ہے انہوں نے کوئی معقول وجہ پیش نہیں کی جس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہو۔
Ayah 4:91

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

ان کے علاوہ کچھ لوگ تمہیں ایسے بھی ملیں گے جو تمہاری طرف سے بھی امن میں رہنا چاہتے ہیں اور اپنی قوم کی طرف سے بھی لیکن جب کبھی فتنہ و فساد کی طرف لوٹا دیئے جائیں تو اوندھے منہ اس میں گر پڑیں سو اگر ایسے لوگ کنارہ کش نہ ہوجائیں اور تمہاری طرف پیغام صلح نہ بھیجیں اور نہ لڑائی سے ہاتھ روکیں تو انہیں بھی گرفتار کرو اور جہاں کہیں پاؤ قتل کرو ، یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے برخلاف ہم نے تمہیں کھلی حجت جنگ دے دی ہے

کچھ لوگ ہیں جو اسلام کے قریب تو نہیں آئے لیکن مسلمانوں سے امن کے طالب ہیں : 156: حالات وقت کی نزاکتیں بھی بڑی عجیب ہوتی ہیں۔ یہاں ایک ایسی ہی نزاکت کا دراصل بیان ہے یہ وہ وقت تھا کہ کفار جس پر ان کو مسلمان ہونے یا مسلمانوں کا ہمدرد ہونے کا شبہ ہوتا وہ اس کو پکڑ لیتے اور وہ مار دیتے کہ بڑوں بڑوں کے دل دہل جاتے۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جو صرف اس بات سے خائف ہیں کہ ہم پر کہیں اسلام دوستی کا الزام نہ آجائے اور اس طرح ناکردہ گناہ میں ہماری کھلڑی ادھیڑ دی جائے۔ یعنی بالکل وہی پوزیشن جو کچھ لوگوں کی آج ہے کہ کہیں امریکہ سرکار کو یہ نہ پتہ چل جائے کہ فلاں ملک بھی اسلحہ کے معاملہ میں خود کلیہ ہے یا ہونے والا ہے۔ اگر ان کو پتہ چل گیا تو نہ ہمارا ملک رہے گا اور نہ ہم ۔ مکہ والوں کا رعب اتنا تھا کہ ان کے ڈرے سے کوئی شخص پسند نہ کرتا تھا کہ ہم اس طرح ظاہر ہوجائیں کہ مسلمانوں کے بدخواہ نہیں کیونکہ جواب طلبی ہوجائے گی کہ کیوں ؟ اس لیے وہ مسلمانوں سے امن کا معاہدہ تو کرتے تھے لیکن جب پیچھے قریش کے سرداروں کو دیکھتے تو یہ بھول جاتے کہ ہمارا معاہدہ ہے کیونکہ ان پر وہ یہ بات ظاہر کرنا بھی پسند نہ کرتے تھے لہذا چار و ناچار حالات کی نزاکت کے ساتھ وہ ان کا ساتھ دے جاتے اور ان کے ساتھ شریک ہوجاتے اور اس طرح وہ بھی دفع الوقتی کو پسند کرتے اور جو معاہدہ مسلمانوں سے کیا تھا اس کو ایسے وقت پس پشت ڈال دیتے اور وقت نکل جاتا تو وہ پھر عذر و بہانے لے کر پیغمبر اسلام کی طرف رجوع کرتے۔ اپنی مجبوریاں پیش کر کے ان کو بھی اسلام دوستی کی یقین دہانی کراتے اور ایسے لوگوں کی آج بھی کمی نہیں ہے اور اس طرح یہ کفر و اسلام کی جنگ ماشاء اللہ اسلام کے اندر لڑی جارہی ہے۔ ہماری مذہبی اور سیاسی پارٹیاں اور پاکستان کے عوام بالکل یہی کچھ کر رہے ہیں جس کو لوٹا کہتے ہیں۔ سمجھتے ہیح پھر اس لوٹا سے پانی پیتے اور اس لوٹا سے استنجا کرتے ہیں اور مولوی خود یہ مسئلہ جانتے ہیں کہ وضو کا بقیہ پانی کھڑے ہو کر پی لینا جائز ہے ۔ پھر سمجھتے ہیں کہ لوٹا آخر ہوتا ہی کیوں ہے ؟ پھر اس جواز کی خبر وہ دوسروں تک پہنچا کر اپنا حصہ ان سے وصول کرلیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو محاورہ میں غریب ظالم کے لفظ سے یاد کیا جاتا ہے : 157: یہ آیت درس دے رہی ہے کہ ایسے کمزور بہادروں کو بالکل مہلت نہ دو وہ امن خواہاں نہیں بلکہ ترازو کے پلڑے پر ان کی نظر ہے جس پلڑے کو وہ بھاری سمجھتے ہیں اس کو وہ حق سمجھتے ہیں۔ جبھی کوئی ان کی گردن پر ہاتھ رکھتا ہے تو رام رام کرنے لگتے ہیں۔ یہ لوگ بظاہر تو غیر جانبداری کے مدعی ہوتی ہیں لیکن یہ غیر جانبداری محض نمائش ہوتی ہے جب کوئی شرارتی ان پر دباؤ ڈالتا ہے یا مٹھی بند کر کے دکھاتا ہے تو یہ اس کی ساری شرارتوں میں شریک ہوجاتے ہیں۔ فرمایا یہ لوگ اس رعایت کے مستحق نہیں بلکہ ان کو کھلے دشمنوں کے ساتھ رکھو اگر یہ بدعہدی سے باز نہ آئیں ، صلح جو یا نہ رویہ اختیار نہ کریں تو تم جہاں کہیں ان کو پاؤ ان کو گرفتار کرو اور قتل کرنے کا بھی تم کو اختیار ہے کیونکہ اس رویہ سے وہ تمہارے قتل کے مرتکب ہوچکے ہیں اور عام ظالموں سے یہ غریب ظالم زیادہ ظالم ہوتے ہیں کہ دیکھنے میں گریب اور عمل میں ظالم۔ چونکہ ایسے لوگ وہ ہیں کہ ان دیکھنے والوں کی ہمدردیاں حاصل ہوجاتی ہیں اور ان کا ظلم بعض اوقات ان ہمدردیوں میں چھپ جاتا ہے اس لیے نہایت سخت الفاظ میں احکام صادر فرمائے۔ چناچہ فرمایا : جب کبھی فتنہ و فساد کی طرف لوٹا دیئے جائیں تو اوندھے منہ اس میں گر پڑیں سو اگر ایسے لوگ کنارہ کش نہ ہوں اور تمہاری طرف پیغام صلح نہ بھیجیں اور نہ لڑائیں سے ہاتھ روکی تو انہیں بھی گرفتار کرو اور جہاں کہیں پاؤ ان کو قتل کرو یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے برخلاف ہم نے تمہیں کھلی حجت جنگ دے دی ہے۔