4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 4:41

فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ Open ayah 4:41 in the Quran reader

اور پھر کیا حال ہوگا اس دن ، جب ہم ہر ایک امت سے ایک گواہ طلب کریں گے اور ہم تجھے بھی ان سب لوگوں پر گواہی دینے کیلئے طلب کریں گے

ہر امت سے گواہ طلب کرنے کے بعد ان گواہوں پر نبی اعظم و آخر ﷺ کی گواہی کا مطلب : 89: اعمال کے بدلہ سے آخرت کی طرف مضمون کو منتقل کیا تھا لیکن یہ اس طرف گویا ایک طرح کا اشارہ تھا۔ اب آخرت کی طرف مستقل طور پر مضمون کو لایا جا رہا ہے۔ زیرنظر آیت میں جو مضمون بیان کیا گیا اس کو تین طرح بیان کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ قیامت کے روز تمام انبیاء کرام کو ان کی اپنی اپنی امتوں پر شہادت کے لیے بلایا جائے گا اور رسول اللہ ﷺ کو دوسرے تمام انبیاء کرام کی شہادت کے درست ہونے کی گواہی کے لیے تشریف لانا ہوگا اور ظاہر ہے کہ یہ گواہی قرآن کریم کی شہادت کی بناء پر ہوگی جو کلام الٰہی کی وجہ سے حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی کی گواہی ہوگی۔ دوسر یہ کہ ھٰؤُلَآء کا مشار الیہ امت احمدیہ ﷺ ہوئی کہ احمد مجتبیٰ ﷺ اپنی امت کے احوال و اعمال پر گواہی دیں گے اور ظاہر ہے کہ یہ اس پہچان کی بناء پر ہوگی جس کا ذکر خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشادات میں اپنی امت کی پہچان کے متعلق پہلے ہی بیان فرما دیے ہوئے ہیں اور انہی کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ اپنی امت پر گواہی دیں گے۔ تیسرے یہ کہ سارے انبیاء کرام اپنی اپنی امتوں پر گواہی دیں گے اور احمد رسول اللہ ﷺ کی امت اجابت کو بھی بطور گواہ ان امتوں پر حاضر کیا جائے گا کیونکہ ان ساری امتوں کے احوال قرآن کریم میں بیان فرما دیے گئے ہیں اور ان سارے گواہوں کے بعد آخری گواہ خود احمد مجتبیٰ ﷺ ہوں گے۔ بخاری شریف میں یہ روایت ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے عبداللہ بن مسعود سے فرمایا کہ مجھے قرآن کریم سناؤ ۔ حضرت عبداللہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ مجھ سے قرآن سننا چاہتے ہیں حالانکہ قرآن کریم تو آپ ﷺ کے سینہ اقدس پر نازل ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں ! پڑھو ! حضرت عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے سورة النساء کی تلاوت شروع کی اور جب فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیْدًا پر پہنچا تو آپ ﷺ اشارہ فرمایا کہ بس کرو اور جب میں نے آپ ﷺ کی مبارک آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ مختصر یہ کہ اس سے معلوم ہوا کہ گزشتہ امتوں کے انبیاء کرام اپنی اپنی امت پر بطور گواہ پیش ہوں گے اور آپ ﷺ بھی اپنی امت پر یا ساری امتوں پر یا ساری امتوں کی انبیاء پر گواہی دیں گے اور قرآن کریم کے اس اسلوب بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے جو اپنی کسی امت کے متعلق گواہی دے ورنہ قرآن کریم میں اس کا اور اس کی شہادت کا بھی یقینا ذکر ہوتا۔ اس اعتبار سے یہ آیت ختم نبوت کے مضمون کی ایک دلیل ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوجاتی ہے احمد مجتبیٰ محمد ﷺ کی نبوت کے بعد ہر شخص جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کو قرآن کریم میں ” شاہداً “ بھی کہا گیا ہے اور ” شہیداً “ بھی ” شاھداً “ کا لفظ آپ ﷺ کے لیے سورة الاحزاب آیت 45 ، سورة الفتح آیت 8 اور سورة المزمل آیت 15 میں بیان ہوا اور شہیداً کا لفظ آپ ﷺ کے لیے سورة البقرہ آیت 143 ، سورة النساء آیت 41 ، سورة النحل آیت 89 ، سورة الحج آیت 78 اور سورة الاحزاب آیت 55 میں بیان ہوا۔ شہادت کیا ہے ؟ شہادت امر واقع کو بیان کرنا اور دوسرے شخص کو اپنے بیان کے ذریعے سے اس امر کا باور کرانا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی شہادت جسے آپ ﷺ نے ادا کیا اور جسے ادا فرما کر لوگوں کو یقین کے درجہ تک پہنچایا عموماً امور ذیل کے متعلق تھی۔ ذاتِ باری جل مجدہ ، تقدیس ذات و تنزیہہ صفات ، سلسلہ وحی الٰہی ، وجود نبوت ، عالم اروح ، علوم ما بعد الطبیعہ اور ان سارے امور کو جس وضاحت اور کمال علم اور روشن دلائل اور براہین قاطعہ سے نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا اور پھر اپنے گفتار و کردار سے اس صداقت کے یقین کو ملحدوں اور منکروں کے قلوب میں مستحکم فرمایا یہ آپ ﷺ ہی کا حصہ تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت الٰہیہ اور حکمت ربانیہ نے نبی کریم ﷺ کو دنیا کے سامنے بطور اپنی گواہی کے پیش کیا ہے اور یہ ایک قانونی حقیقت ہے کہ گواہوں کی قلت یا کثرت کسی معاملہ کے ثبوت و نفی پر ذرا مؤثر نہیں اور جہاں تعداد گواہ متعین کی ہے وہاں دراصل اس کی گہرائی میں کوئی خاص ضرورت مخفی ضرور ہے۔ بلکہ شہادت کو قوت دینے اور صداقت کے روح تک پہنچانے والی جو شے ہے وہ شاہد کی ثقاہت اعتبار اور راست بازی ہے اور نبی کریم ﷺ کی راست بازی اور اعتبار کی یہ حد تھی کہ جب کفار نے ابوبکر صدیق ؓ سے دریافت کیا کہ تم نے کیونکر محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا سچا رسول تسلیم کرلیا تو انہوں نے جواب دیا کہ لوگو ! یہ ہونٹ کبھی جھوٹ بولنے والے کے نہیں۔ ہرقل نے ابوسفیان کے جواب میں کہا تھا کہ جس شخص نے کبھی کسی مخلوق پر جھوٹ نہیں بولا ناممکن ہے کہ وہ اللہ رپ جھوٹ باندھنے لگے۔ ابوجہل جیسے جھگڑالو شخص نے کہا تھا کہ محمد (e) میں تجھے جھوٹا نہیں سمجھتا مگر تیری تعلیم پر میرا دل نہیں جمتا۔ صداقت اور اعتبار ہو تو ایسا کہ خواہ کوئی شہادت کو قبول کرتا ہے یا نہیں لیکن شہادت دہندہ کی ثقافت کے خلاف ایک حرف بھی زبان سے نہیں نکالتا۔ یا بقول ابوسفیان نہیں نکال سکتا۔ بلکہ ہر شخص دل میں سمجھ گیا ہے کہ اس کے خلاف لب کشائی کرنا اپنی ہنسی کرانا اور خود کو ذلیل کرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس شہادت کو دشت و جبل میں آشکارا کیا۔ بیابان اور شہروں کے سمع و قلب تک اس کو پہنچایا اور اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے نعرہ سے فضائے ارض و سماء کو بھر دیا اور سننے والوں کے دل و دماغ کو شک انکار اور تذبذب و گمان کی ہوائے فاسد سے خالی کردیا۔ سبحان اللہ ! یہ شاہد کی زبردست شہادت سے اٹھا ہے جس کے منہ سے نکلتے ہی وہی کلمہ شہدت ہر ایک زبان پر رواں ہے۔ کیا عجمی ، کیا عربی ، کیا شرقی ، کیا غربی ہر ایک اس شہادت کا کلمہ خوان ہے۔ یہ شاہد کیسا ہے ؟ خاموش نہیں ہوجاتا جب تک ہزاروں اور لاکھوں بندوں کو ” وَتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ “ کے فرض پر آمادہ نہیں کرلیتا اور اسود و احمر اور عبید و ملوک کر ” کُوْنُوْا قَوَّامِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآئَ بِالْقِسْطِ “ کے وجوب امری کا پابند نہیں ٹھہرا دیتا۔ یہ کیسا شاہد ہے ؟ جس کی صداقت پر لاکھوں شاہد عینی موجود ہیں۔ ملکوں ، قوموں ، جزیروں اور وادیوں نے اس کی شہادت سے ایقان حاصل کرلیا ہے تب شاہد اس وادی گاہ سے عزم رحلت فرماتا ہے اور چلتے وقت بھی ان سب کو یہ سنا دیتا ہے کہ : انتم تساء لون عنی فما انتم قائلون قالوا بلغت وادیت ونصحت فقال باصبعہ یرفعھا الی السمآء وینک تھا الی الناس اللھم اشھد۔ اللھم الشھد۔ اللھم اشہد۔ ” وہ پوچھتا ہے کہ لوگو ! وہ قاضی جہاں رب زمین و زمان جب دریافت فرمائے گا کہ میں نے اپنی شہادت کو کیونکہ ادا کیا ، تو آپ کیا بتائیں گے ؟ سب کے سب متفق آواز بول اٹھتے ہیں ، اجی آپ ﷺ نے تو جتنا کچھ فرمانا تھا خوب فرمایا۔ آپ ﷺ نے تبلیغ و تفہیم کا حق ادا کردیا۔ حضور ﷺ نے تو اپنی شہادت سے معاملہ کا کھوٹا کھرا الگ الگ کر کے دکھا دیا۔ شاہد ﷺ آسمان کی جانب انگشت شہادت اٹھاتا ہے ، پھر لوگوں کی طرف جھکاتا ہے اور اپنے بھیجنے والے سے مخاطب ہو کر عرض کرتا ہے۔ الٰہی ! میری شہادت کی شہادت کو سن لے میری گواہی کا تو گواہ رہنا اور ان لوگوں کے بیان کو محفوظ فرما لینا۔ “ ایسے شاہد پر دل وجان خودبخود قربان ہوتے ہیں جو وادی گاہ عالم میں شہادت کے لیے اکیلا آیا اور لاکھوں لوگوں کو گواہ بنا گیا۔ فی الحقیقت اللہ تعالیٰ نے نبی اعظم و آخر ﷺ کو ” شاہد “ اور ” شہید “ فرما کر آپ ﷺ کی بہترین خوبی سے دنیا کو آگاہ فرما دیا۔ لوگوں نے اس شہادت کو کیا سمجھا کہ ایک اکھاڑا بنا کر رکھ دیا۔ اس کو بنیاد بنا کر اپنے شرک کی عمارت تعمیر کرنا شروع کردی اور وہی چیز جس کو مٹانے کے لیے شاہد آیا تھا اس کے وجود پر اپنی سحرکاری سے کھڑی کردی۔ اللہ ایسے شاطروں سے بچائے اور حق کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ جی چاہتا ہے کہ اس شاہد کی بتائی ہوئی تعلیمات کی روشنی میں کچھ مزید عرض کردیا جائے تاکہ ایک ہی مقام پر اس کی پوری حیثیت واضح ہوجائے۔ کان لگا کر سنو اور آنکھوں سے پڑھ کر دیکھو اور سمجھنے کی توفیق اس احکم الحاکمین سے طلب کرو جس نے ایسا کمال اور ایسا بےمثال شاہد تم کو عطا کیا۔ اللھم صلی علی محمد وعلیٰ آل محمد۔ بلاشبہ نبی کو ” گواہ “ بنانے کا مفہوم اپنے اندر بڑی وسعت رکھتا ہے جس میں تین قسم کی شہادتیں شامل ہیں۔ ایک قولی شہادت یعنی کہ اللہ کا دین جن حقائق اور اصولوں پر مبنی ہے ، نبی ان کی صداقت کا گواہ بن کر کھڑا ہو اور دنیا سے صاف صاف کہہ دے کہ وہی اصول حق ہیں اور ان کے خلاف جو کچھ ہے وہ باطل ہے۔ اللہ کی ہستی اور اس کی توحید ، ملائکہ کا وجود ، وحی کا نزول ، حیات بعد الموت کا وقع اور جنت و دوزخ کا ظہور خواہ دنیا کو کیسا ہی عجیب معلوم ہو اور دنیا ان باتوں کے پیش کرنے کا مذاق اُڑائے یا اسے دیوانہ کہے ، مگر نبی کسی کی پرواہ کیے بیرن اٹھے اور ہانک پکار کر کہہ دے کہ یہ سب کچھ حقیقت ہے اور گمراہ ہے ہیں وہ لوگ جو اسے نہیں مانتے۔ اسی طرح اخلاق اور تہذیب اور تمدن کے جو تصورات ، اقدار ، اصول اور ضابطے خدا نے اس پر منکشف کیے ہیں ، انہیں اگر ساری دنیا غلط کہتی ہو اور ان کے خلاف چل رہی ہو تو تب بھی اس نبی کا کام یہ ہے کہ انہی کو علی الاعلان پیش کرے اور ان تمام خیالات اور طریقوں کو غلط قرار دے جو ان کے خلاف دنیا میں رائج ہوں۔ اسی طرح جو کچھ خدا کی شریعت میں حلال ہے نبی اس کو حلال ہی کہے خواہ وہ ساری دنیا اسے سمجھتی ہو اور جو کچھ خدا کی شریعت میں حرام ہے نبی اس کو حرام ہی کہے خواہ ساری دنیا اسے حلال و طیب قرار دے رہی ہو۔ دوسرے عملی شہادت ، یعنی یہ کہ نبی اپنی پوری زندگی میں اس مسلک کا عملاً مظاہرہ کرے جسے دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے وہ اٹھا ہے جس چیز کو وہ برائی کہتا ہے اس کے ہر شالبے سے اس کی زندگی پاک ہو۔ جس چیز کو وہ بھلائی کہتا ہے اس کی اپنی سیرت میں وہ پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہو۔ جس چیز کو وہ فرض کہتا ہے اسے ادا کرنے میں وہ سب سے بڑھ کر ہو۔ جس چیز کو وہ گناہ کہتا ہے اس سے بچنے میں کوئی اس کی برابری نہ کرسکے۔ جس قانون حیات کو وہ خدا کا قانون کہتا ہے اسے نافذ کرنے میں وہ کوئی کسر نہ اٹھا رکھے۔ اس اس کا اپنا اخلاق و کردار اس بات پر گواہ ہو کہ وہ اپنی دعوت میں کس قدر سچا اور کتنا مخلص ہے اور اس کی ذات اس کی تعلیم کا ایک ایسا مجسم نمونہ ہو جسے دیکھ کر ہر شخص معلوم کرلے جس دین کی طرف وہ دنیا کو بلا رہا ہے وہ کس معیار کا انسان چاہتا ہے ، کیا کردار اس میں پیدا کرنا چاہتا ہے اور کیا نظام زندگی اس سے برپا کرانا چاہتا ہے۔ تیسرے اخروی شہادت یعنی آخرت میں جب اللہ کی عدالت قائم ہو اس وقت نبی اس امر کی شہادت دے کہ جو پیغام اس کے سپرد کیا گیا تھا وہ اس نے بےکم وکاست لوگوں تک پہنچا دیا اور ان کے سامنے اپنے قول و عمل سے حق واضح کردینے میں اس نے کوئی کوتاہی نہیں کی۔ اسی شہادت پر یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ ماننے والے کس جزاء کے اور نہ ماننے والے کس سزا کے مستحق ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو شہادت کے مقام پر کھڑا کر کے اللہ تعالیٰ نے کتنی بڑی ذمہ داری آپ ﷺ پر ڈالی تھی اور وہ کیسی عظیم شخصیت ہونی چاہئے جو اس مقام بلند پر کھڑی ہو سکے۔ ظاہر بات ہے کہ نبی ﷺ سے دین حق کو قولی اور عملی شہادت پیش کرنے میں ذرہ برابر بھی کوئی کوتاہی نہیں ہوئی ہے ، تبھی تو آخرت میں آپ ﷺ یہ شہادت دے سکیں گے کہ میں نے لوگوں پر حق پوری طرح واضح کردیا تھا اور تبھی اللہ کی حجت لوگوں پر قائم ہوگی۔ ورنہ اگر معاذ اللہ آپ ہی سے یہاں شہادت ادا کرنے میں کوئی کسر رہ گئی ہو تو نہ آپ ﷺ آخرت میں ان پر گواہ ہو سکتے ہیں اور نہ منکرین حق کے خلاف مقدمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس شہادت کو یہ معنی پہنانے کی کوشش کی ہے کہ نبی ﷺ آخرت میں لوگوں کے اعمال پر شہادت دیں گے اور اس سے وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ حضور ﷺ تمام لوگوں کے اعمال کو دیکھ رہے ہیں ، ورنہ بےدیکھے شہادت کیسے دے سکیں گے ؟ لیکن قرآن کی رو سے یہ تاویل قطعاً غلط ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ لوگوں کے اعمال پر شبہات قائم کرنے کے لیے تو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرا ہی انتظام فرمایا ہے۔ اس غرض کے لیے اس کے فرشتے ہر شخص کا نامہ اعمال تیار کر رہے ہیں۔ (ملاحظہ ہو ق : 18 ۔ 17 اور الکہف : 149) اور اس کے لیے وہ لوگوں کے اپنے اعضاء سے بھی گواہی لے گا۔ (یاسین : 65 ، حم السجدہ : 21 ۔ 20) رہے انبیاء تو ان کا کام بندوں کے اعمال پر گواہی دینا نہیں بلکہ اس بات پر گواہی دینا ہے کہ بندوں تک حق پہنچا دیا گیا تھا۔ قرآن صاف فرماتا ہے : یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ (المائدہ : 109:5) ” جس روز اللہ تمام رسولوں کو جمع کرے گا ، پھر پوچھے گا کہ تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا گیا ، تو وہ کہیں گے کہ ہم کو کچھ خبر نہیں ، تمام غیب کی باتوں کو جاننے والے تو آپ ہی ہیں۔ “ اور اسی سلسلے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ جب ان عیسائیوں کی گمراہی کے متعلق سوال ہوگا تو وہ عرض کریں گے : وَ کُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًامَّا دُمْتُ فِیْھِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ (المائدہ : 117:5) ” میں جب تک ان کے درمیان تھا اسی وقت تک ان پر گواہ تھا۔ جب آپ نے مجھے اٹھا لیا تو آپ ہی ان پر نگراں تھے۔ “ یہ آیات اس باب میں بالکل صریح ہیں کہ انبیاء اعمال خلق کے گواہ نہیں ہوں گے۔ پھر وہ گواہ کس چیز کے ہوں گے ؟ اس کا جواب قرآن اتنی ہی صراحت کے ساتھ یہ دیتا ہے : وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ (البقرہ : 143:2) ” اور اے مسلمانو ! اسی طرح ہم نے تم کو ایک امت وسط بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہوں۔ “ وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَھِیْدًا عَلَیْھِمْ مِّنْ اَنْفُسِھِمْ وَ جِئْنَا بِکَ شَھِیْدًا عَلٰی ھٰٓؤُلَآئِ (النحل : 89:16) ” اور جس روز ہم ہر امت میں انہی کے اندر سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کریں گے جو ان پر گواہی دے گا اور (اے محمد ﷺ ! ) تمہیں ان لوگوں پر گواہ کی حیثیت سے لائیں گے۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز نبی ﷺ کی شہادت اپنی نوعیت میں اس شہادت سے مختلف نہ ہوگی جسے ادا کرنے کے لیے حضور ﷺ کی امت کو اور ہر امت پر گواہی دینے والے شہداء کو بلایا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ شہادت اعمال کی ہو تو ان سب کا بھی حاضر و ناظر ہونا لازم آتا ہے اور اگر یہ گواہ صرف اس امر کی شہادت دینے کے لیے بلائے جائیں گے کہ خلق تک اس کے خالق کا پیغام پہنچ گیا تھا تو لامحالہ حضور ﷺ بھی اسی غرض کے لیے پش ہوں گے۔ اسی مضمون کی تائید وہ احادیث بھی کرتی ہیں جس کو بخاری ، مسلم ، ترمذی ، ابن ماجہ اور امام احمد وغیرہم نے عبداللہ بن مسعود ، عبداللہ بن عباس ، ابودرداء ، انس بن مالک اور بہت سے دوسرے صحابہ ؓ سے نقل کیا ہے ، جن کا مشترک مضمون یہ ہے کہ نبی ﷺ قیامت کے روز اپنے بعض اصحاب کو دیکھیں گے کہ وہ لائے جا رہے ہیں ، مگر وہ آپ ﷺ کی طرف آنے کے بجائے دوسرے رخ پر جا رہے ہوں گے یا دھکیلے جا رہے ہوں گے۔ حضور ﷺ ان کو دیکھ کر عرض کریں گے کہ خدایا ! یہ تو میرے امتی ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم نہیں جانتے کہ تمہارے بعد انہوں نے کیا کرتوت کیے ہیں۔ یہ مضمون اتنے صحابہ سے اتنی کثیر سندوں کے ساتھ نقل ہوا ہے کہ اس کی صحت میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں اور اس سے یہ بات صریحاً ثابت ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی امت کے ایک ایک شخص اور اس کی ایک ایک حرکت کے شاہد قطعاً نہیں رہیں ہیں۔ رہی وہ حدیث جس میں یہ ذکر آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے آپ ﷺ کی امت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں تو وہ کسی طرح بھی اس مضمون سے متعارض نہیں ہے اس لیے کہ اس کا ماحصل صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو امت کے حالات سے باخبر رکھتا ہے۔ اس کے یہ معنی کیسے ہو سکتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ہر شخص کے اعمال نامہ کا عینی مشاہدہ فرما رہے ہیں ؟ اور کسی کو کسی بات سے باخبر رکھنا اور کسی انسان کا کسی چیز کو مشاہدہ کرنے میں جو فرق ہے وہ محتاج نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ ” ساون کے اندھے کو ہرا ہی ہرا سوجھتا ہے۔ “
Ayah 4:42

یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ١ؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:42 in the Quran reader

سو اس دن ایسا ہوگا کہ جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے اور رسول کے حکموں سے نافرمان ہوگئے ہیں وہ تمنا کریں گے کاش ! زمین ان کے اوپر برابر ہوجائے اور اس دن وہ اللہ سے کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں رکھ سکیں گے

رسول اللہ ﷺ کے احکام کی نافرمانی کرنے والوں کا انجام : 90: یہ غلطی بھی مدت سے قوموں کو لگتی آئی ہے کہ ہم بداعتدالیاں کرتے ہیں اور اللہ کے بھیجے ہوئے رسول کی ہر لحاظ سے ہم نے مخالفت کی لیکن ہمیں تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ فوراً کسی کو کبھی نہیں پکڑتا بلکہ وہ ایسے نافرمانوں کو جو رسول کی نافرمانی کرتے ہیں ایک وقت تک مہلت دیتا رہتا ہے۔ پھر یہ نادان لوگ کیوں اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ نبی کے ساتھ تکذیب و استہزاء کی جو روش انہوں نے اختیار کر رکھی ہے اس پر چونکہ ابھی تک انہیں سزا نہیں دی گئی اس لیے یہ نبی سرے سے نبی ہی نہیں ج۔ ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ ہم ہر قوم کے لیے پہلے سے طے کرلیتے ہیں کہ اس کو سننے سمجھنے اور سنبھلنے کے لیے اتنی مہلت دی جائے گی اور اسی حد تک اس کی شرارتوں اور خباثتوں کے باوجود پورے تحمل کے ساتھ اسے اپنی من مانی کرنے کا موقع دیا جاتا رہے گا۔ یہ مہلت جب تک باقی رہتی ہے اور ہماری مقرر کی ہوئی حد جس وقت تک آ نہیں جاتی ہم ڈھیل دیتے رہتے ہیں۔ قرآن کریم میں رسول کی مخالفت کرنے والوں کا حال دوسری جگہ اس طرح بیان ہوا ہے کہ : ” ہر ظالم انسان اپنا ہاتھ چبائے گا اور کہے گا کہ کاش ! میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی ! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس کے بہکانے میں آ کر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی اور شیطان انسان کے حق میں بڑا ہی بےوفا نکلا۔ “ (الفرقان : 29 ۔ 27:25) بلکہ یہ شیطان تو عین وقت پر انسان کو دھوکہ دے جانے والا ہے۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” جس روز ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش ! ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی اور کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہ راست سے بےراہ کردیا۔ اے رب ہمارے ان کو دوہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر۔ “ (الاحزاب : 28 ۔ 27:33) چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ : ” اس روز آدمی اپنے بھائی اور اپنی ماں اور اپنے باپ اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا اور ان میں سے ہر شخص اس پر اس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا۔ “ (عبس : 37 ۔ 34:80) ان عزیزوں سے بھاگنے کا مطلب کیا ؟ بھاگنے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے ہی عزیزوں کو جو دنیا میں اسے سب سے زیادہ پیارے تھے مصیبت میں مبتلا دیکھ کر بجائے اس کے کہ ان کی مدد کو دوڑے الٹا ان سے بھاگے گا کہ کہیں وہ اسے مدد کے لیے نہ پکار اٹھیں اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا میں خدا سے بےخوف اور آخرت سے غافل ہو کر جس طرح یہ سب ایک دوسرے کی خاطر گناہ اور ایک دوسرے کو گمراہ کرتے رہے اس کے برے نتائج سامنے آتے دیکھ کر ان میں سے ہر ایک دوسرے سے بھاگے گا کہ کہیں وہ اپنی گمراہیوں اور گناہگاریوں کی ذمہ داری اس پر نہ ڈالنے لگے۔ بھائی کو بھائی سے ، اولاد کو ماں باپ سے ، شوہر کو بیوی سے اور ماں باپ کو اولاد سے خطرہ ہوگا کہ یہ کم بخت اب ہمارے خلاف مقدمے کے گواہ بننے والے ہیں۔ “ اور یہی مضمون اس جگہ اس طرح ارشاد فرمایا کہ ” سو اس دن ایسا ہوگا کہ جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے اور رسول کے حکموں سے نافرمان ہوگئے ہیں وہ تمنا کریں گے کہ کاش ! زمین ان کے اوپر برابر ہوجائے اور اس دن وہ اللہ سے کوئی بات پوشیدہ نہیں رکھ سکیں گے۔ “
Ayah 4:43

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:43 in the Quran reader

اے مسلمانو ! ایسا نہ کرو کہ تم نشہ میں ہو اور نماز کا ارادہ کرو ، نماز کیلئے ضروری ہے کہ تم ایسی حالت میں ہو کہ جو کچھ زبان سے کہو اسے سمجھو اور جس کسی کو نہانے کی حاجت ہو تو وہ بھی جب تک نہا نہ لے نماز کا قصد نہ کرے ہاں ! راہ چلتا مسافر ہو (تو وہ تیمم کرسکتا ہے) اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی آدمی جائے ضرور سے فارغ ہو کر آئے یا ایسا ہو کہ تم نے عورت کو چھوا ہو اور پانی نہ ملے تو اس صورت میں چاہیے کہ پاک زمین سے کام لو ، چہرہ اور ہاتھوں کا مسح کرلو ، بلاشبہ اللہ درگزر کرنے والا اور بخش دینے والا ہے

حالت سکر میں نماز ادا کرنے کی ممانعت : 91: گزشتہ آیات کریمات میں معاشرتی زندگی کے جو حقوق و فرائض بیان کیے گئے ہیں اگر تم چاہتے ہو کہ ان کی اخلاقی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو تو چاہئے کہ خدا کے شکر و عبادت سے اپنی ایمانی قوت مضبوط کرتے رہو مطلب واضح ہے کہ جو جماعت نماز کی حقیقت سے محروم ہوگی یینا عبادت کے خشوع و خضوع کا اس میں ذوق نہ ہوگا وہ کبھی عملی زندگی کی اخلاقی مشکلوں پر قابو نہیں پا سکتی۔ اسلام کے ظہور سے پہلے عرب کے باشندے صدیوں سے شراب نوشی کے عادی چلے آ رہے تھے۔ اس لیے ان کا ایک دفعہ باز آجانا نہایت مشکل تھا اس لیے بتدریج ممانعت کے احکام نازل ہوتے رہے اور بالآخر قطعی طور پر اس کا استعمال حرام کردیا گیا۔ اس جگہ نماز کے وقت شراب نوشی سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے وہ ابتدائی دور کا ہے ابھی تک شراب کی حرمت کا آخری اعلان نہیں ہوا تھا۔ مطلب یہ نہیں کہ شراب تو اس طرح پیتے چلے جاؤ اور نشہ کی حالت میں نماز کو چھوڑے رہو۔ نمازی جو کچھ زبان سے کہے اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اس نے کیا کہا : 92: حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ جو کچھ زبان سے کہو اسے سمجھو۔ اس حکم کا تقاضا تو یہی ہے کہ نماز کے جو الفاظ منہ سے نکالے جائیں آدمی ان کو اچھی طرح سمجھتا ہو اور یہ اس وقت ممکن ہے جب ان اذکار اور درود ، وظیفہ اور دعاؤں کا ترجمہ آتا ہو اور یہ بات معلوم ہو کہ جو کچھ میں زبان سے ادا کر رہا ہوں وہ اصل میں کیا ہے ؟ جب یہ بات نہ امام صاحب کو معلوم ہو اور نہ دوسرے نمازیوں کو تو وہ نماز کیا نماز ہوئی اور قرآن کریم کا یہ حکم اس پر کس طرح وارد ہوا ؟ افسوس ! کہ ہمارے نمازیوں کا یہ تلفظ صحیح ہے نہ ترجمہ آتا ہے کہ کم از کم وہ دعائیں جو زبان سے ادا کی جا رہی ہیں ان کے متعلق اتنی سمجھ تو ہو کہ میں کیا مانگ رہا ہوں تاکہ اپنی حاجت اور ضرورت کی طلب تو پوری ہو سکے۔ پھر اس افسوس پر مزید افسوس یہ کہ علماء طبقہ اپنے نمازیوں کی توجہ بھی اس طرف مبذول نہیں کراتا بلکہ صرف اور صرف نیت کے لیے ایک مجموعہ الفاظ یاد کرایا جاتا ہے جو ہر نمازی کھڑے ہوتے وقت ان الفاظ کو زبان سے اپنی بولی میں ادا کرلیتا ہے اور یہی نماز ہے۔ اس طرح نماز کیا ہے ؟ صرف چند حرکات و سکنات کا ایک مجموعہ کھڑے ہونا ، جھکنا اور سجدے میں گرنا اور ایک طریقہ سے بیٹھ کر دائیں بائیں منہ پھیرنا فقط والسلام۔ غسل فرض ہو تو غسل کر کے مسجد میں آنا چاہئے ہاں عندالضرورت مسجد سے گزرا جاسکتا ہے : 93: شراب اور جنب دراصل دونوں ہی لذت نفسانی کے حصول کا ذریعہ ہیں اس لیے لذت ذکر الٰہی سے روک دیا گیا کہ لذت نفسانی کے حصول سے الگ ہونے کے لیے غسل ضروری ہے اس لیے نماز ادا کرنے سے پہلے جو درحقیقت تزکیہ نفس کا ایک بہترین ذریعہ ہے جب کہ اس کے متعلق سمجھ بھی ہو کہ وہ چیز کیا ہے ؟ اس لیے حالت سکر میں اور حالت جنب میں نماز سے الگ رکھا گیا و اور پھر تدریجاً حالت سکر کو بالل اٹھا دیا گیا کہ وہ عقل کو خراب کرنے والی ہے اور حالت جنب سے طہارت لازمی قرار دی گئی کہ نہا دھو کر غسل کر کے ہر طرح کی ناپاکی سے جسم کو پاک کرلو اور پھر نماز ادا کرنا۔ اس لیے کہ نماز روحانی سرور کا ذریعہ ہے جس کو جسمانی سرور سے ہر حال میں الگ رہنا چاہئے تاکہ اس سے روحانی غذا حاصل ہو سکے جو روح کی تقویت کا باعث ہو۔ عَابِرِیْ سَبِیْل عَبُوْرًا سے ہے یعنی مسجد سے گزر کر ہی پانی تک پہنچایا جاسکتا ہو تو یہ دوسری بات جس کی اس حد تک اجازت ہے کہ جنبی آدمی عندالضرورت مسجد میں داخل ہو سکتا ہے لیکن بیٹھ نہیں سکتا۔ چناچہ اس کو مستثنیٰ قرار دے کر ایک طرح کی سہولت پیدا کردی گئی اور واضح کردیا گیا کہ مجبوری کے احکام عام حالت سے الگ ہیں۔ دوسرا حکم اس میں یہ دیا گیا ہے کہ کوئی حالت جنب میں ہو یا قضائے حاجت سے فارغ ہوا ہو یا صرف وضو کی حاجت ہو لیکن پانی میسر نہ آئے تو کیا کرے ؟ فرمایا : ایسی حالت میں پانی کا بدل مٹی ہے اور پھر مٹی کو بھی ملنا مراد نہیں بلکہ صرف پاک مٹی سے تیمم لازم آتا ہے گویا آدمی بول و براز سے فارغ ہو جو انسانی ضروریات میں داخل ہے تو پانی نہ ملنے کی صورت میں صرف پاک مٹی سے مسح کافی ہے۔ اور پھر مسح کا طریقہ بھی ساتھ ہی بتا دیا گیا کہ مسح کیا ہے ؟ مسح یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کو پاک مٹی ، دیوار یا زمین پر لگا کر دونوں ہاتھوں کے گھٹنے تک مس کرتے ہوئے منہ پر پھیرلیا اور پھر اس طرح دوسری دفعہ زمین کو مس کر کے دونوں ہاتھوں کی کہنیوں تک پھیر لینے سے مسح ادا ہوجاتا ہے۔ اگرچہ ایک ہی بار زمین سے ہاتھ مس کرنے سے بھی مسح ہوجاتا ہے چناچہ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عمار ؓ فرماتے ہیں کہ ہم ایک سریہ میں تھے کہ مجھ پر غسل فرض ہوگیا اور پانی موجود نہیں تھا تو میں مٹی کے اندر لوٹ گیا تاکہ سارا جسم مٹی سے اٹ جائے۔ بعد میں میں نے یہ ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو وہ مسکرانے لگے اور فرمایا کہ تجھے صرف اتنا کافی تھا وضرب النبی ﷺ بیدہ الارض ثم نفخ فیھا ومسح بھا وجھہ وکفیہ یعنی نبی اعظم و آخر ﷺ نے زمین پر دونوں ہاتھ مارے پھر ان پر پھونک ماری تاکہ زائد مٹی اُڑ جائے پھر آپ ﷺ نے اپنے منہ اور کفوں پر مسح کیا۔ ہمارے مفسرین نے اس آیت کے ضمن میں جنبی کی حالتیں اور لَمَسْتُمُ النِّسَآء کی مختلف تعبیریں پھر مسجد میں داخلہ اور اسی طرح وضو اور مسح کا طریقہ بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے اور ان اختلافات کا ذکر بھی کیا ہے جو اس سلسلہ میں امت کے درمیان پائے جاتے ہیں اور عجب عجیب بحثیں بیان کی ہیں مثلاً اگر جنبی صرف وضو کرلے اور غسل کرنا واجب ہو تو صرف وضو کرنے سے مسجد میں داخل ہو سکتا ہے ، بیٹھ سکتا ہے ، وعظ و درس بیان کرسکتا ہے حتیٰ کہ جمعہ کا خطبہ بھی دے سکتا ہے۔ البتہ نماز نہیں پڑھ سکتا ہم ان ساری بحثوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔ بال کی کھال اتارنے کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے : 94: مجبوری کے تحت دیے گئے احکام مجبوری کا وقت ٹل جانے سے خودبخود زائل ہوجاتے ہیں اور ان کی جگہ اصل احکام نافذ ہوجاتے ہیں۔ مثلاً غسل فرض تھا لیکن کسی مجبوری کے تحت غسل نہیں کرسکتا خواہ وہ مرض کی وجہ سے تھا یا پانی نہ ملنے کی صورت سے اس لیے جب مجبوری نہ رہی بیمار صحت مند ہوگیا تو اب احکام غسل واجب ہوگئے اس طرح اگر مسیح کیا تھا لیکن پانی دستیاب ہوگیا تو مسح باقی نہ رہا۔ یہ جو رعایت دی گئی تھی یہ محض اس لیے تھی کہ اللہ کسی انسان پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا کہ وہ درگزر کرنے والا اور بخش دینے والا ہے۔
Ayah 4:44

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 4:44 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کی حالت نہیں دیکھی جنہیں کتاب اللہ سے کچھ حصہ دیا گیا ؟ کس طرح وہ گمراہی خرید رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ سے بہک جاؤ ؟

اہل کتاب خصوصاً یہود کی طرح نیکی سے محبت کرنے کی بجائے اس سے عداوت نہ بنا لو : 95: نماز کے ذکر کے بعد سلسلہ بیان اہل کتاب کی طرف منتقل کیا جاتا ہے اور پیروان دعوت حق پر یہ حقیقت واضح کی جاتی ہے کہ جس طرح اللہ نے تمہاری فلاح وسعادت کے لیے احکام شریعت نازل کیے ہیں اسی طرح تم سے پہلے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کے لیے بھی نازل کیے تھے لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ وہ راہ ہدایت سے منحرف ہوگئے۔ پس چاہئے کہ ان کی حالت سے عبرت پکڑو اور اخلاص و صداقت کے ساتھ احکام الٰہی پر کاربند ہو اور ساتھ ہی یاددہانی بھی کرا دی کہ جب انسان نیکی اور پاکیزگی کی راہوں کو چھوڑتا یہ تو اس کی حالت کہاں تک پہنچتی ہے۔ پھر ان کی حالت کا انجام بتایا ہے کہ وہ نیکی کی راہوں کو چھوڑ کر نیکی سے محبت کرنے کی بجائے نیکی سے اس قدر عداوت اور بدی سے اس قدر محبت کرنے لگے کہ اب ان کو برائی کے لیے مال خرچ کرنا بھی ذرا محسوس تک نہیں ہوتا اس طرح مسلمانوں کو گویا یہ بتا دیا کہ کل تمہاری بھی یہی پوزیشن نہ ہوجائے کہ تم بھی اہل کتاب کی طرح پاکیزگی کی راہوں کو چھوڑ کر برائی کی راہوں کو شروع کر دو ۔ ہوا کیا ؟ جس سے منع کیا گیا تھا۔
Ayah 4:45

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا Open ayah 4:45 in the Quran reader

اور اللہ تمہارے دشمنوں کو اچھی طرح جانتا ہے اللہ کی دوستی اور اس کی مددگاری کافی ہے

اللہ تمہارے دشمنوں کو اچھی طرح جانتا ہے لیکن تم نہیں جانتے : 96: اللہ کی دوستی کیا ہے ؟ مخالفین کی ریشہ دوانیوں کا اثر زائل کرتے رہنا ہی اللہ تعالیٰ کی روستی اور اس کی مہربانیوں کا نتیجہ ہے کہ وہ مومن بندوں کی مصلحتوں کی رعایت کرتا رہتا ہے اور اس کا مددگار ہونا یہ ہے کہ وہ انہیں دشمنوں کی چالوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ان دشمنوں سے بیخبر نہیں ہے ان سے اور ان کی چالوں اور شرارتوں سے خوب واقف ہے وہ ان کی ہر شرارت کو ناکام بنا دے گا جس کا حامی و ناصر اللہ ہو اس کے لیے اس کی حمایت و نصرت کافی ہے۔ تم اپنی راہ پر آگے بڑھے چلو اور اللہ کی کارسازی اور مدد پر پورا پورا بھروسہ رکھو وہ تم کو کبھی رسواء نہیں کرے گا۔
Ayah 4:46

مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:46 in the Quran reader

یہو دیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ لفظوں کو ان کی اصلی جگہ سے پھیر دیا کرتے ہیں اور اس خیال سے کہ دین حق کے خلاف طعن وتشنیع کریں زبان مروڑ مروڑ کر لفظوں کو بگاڑ دیتے ہیں ، کہتے ہیں { سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا } اور { اَسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ } اور { رَاعِنَا } اگر یہ لوگ { سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا } اور { اَسْمَعْ } اور { اُنْظُرْنَا } کہتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا اور درستگی کی بات ہوتی ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار پڑچکی ہے ، پس ایک چھوٹے گروہ کے سوا اور سب ایمان سے محروم ہیں

یہودیوں کی شرارتوں کا ذکر جو وہ وقتاً فوقتاً کرتے رہتے تھے : 97: یہودیوں کی شرارتوں کا ذکر سورة بقرہ اور آل عمران میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے اور اس آیت میں بھی ان کی انہی شرارتوں کا ذکر ہے۔ کبھی وہ کوئی شرارت کرتے کبھی کوئی متعدد روایات میں بھی یہ بات آئی ہے کہ کچھ یہودی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آتے تو السلام علمکا کی بجائے سام علیکم کہتے یعنی السلام کا تلفظ اس طرح کرتے کہ سننے والا سمجھے کہ سلام کہا ہے مگر دراصل وہ سام کہتے ہیں جس کے معنی موت کے ہیں۔ نبی اعظم و آخر ﷺ ان کو جواب دیتے تو صرف اتنا ارشاد فرماتے کہ ” وعلیکم “ یعنی انہوں نے کہا تمہیں موت آئے اور اللہ کی لعنت اور پھٹکار پڑے نبی کریم ﷺ نے جواباً صرف یہ ارشاد فرمایا کہ ” تم پر ہی۔ “ پھر جب اس سے زیادہ ان کو کچھ نہ کہا جاتا تو وہ اپنے دل میں یہ خیال کرتے کہ اگر یہ رسول ہوتا تو جس وقت ہم انہیں اس طرح سلام کرتے ہیں اس وقت ہم پر عذاب آجاتا۔ اب چونکہ عذاب نہیں آیا اس لیے بات یقینی ہے کہ وہ اللہ کے رسول نہیں ہیں۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ : ” یہ لوگ چھپ چھپ کر آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں کرتے ہیں اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں اس طریقے سے سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تم پر سلام نہیں کیا ہے اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہماری ان باتوں پر ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔ “ (المجادلہ : 8:85) ایک جگہ ارشاد ہوا : ” مسلمانو ! پیغمبر اسلام کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہو تو ان منکرین حق کی طرح یہ نہ کہو کہ ” رَاعِنَا “ بلکہ ” اُنْظُرْنَا “ کہو کہ ہماری طرف التفات کیجئے اور پھر وہ کچھ بھی کہیں اسے جی لگا کر سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ باقی رہے یہ منکرین حق تو یاد رکھو کہ انہیں ان کے اعمال کی پاداش میں دردناک عذاب ملنے والا ہے۔ “ (البقرہ : 2) اور اس جگہ ان کی اس حرکت کا ذکر فرمایا کہ جب پیغمبر اسلام اور دوسرے مسلمانوں سے ملتے ہیں تو ذو معنی اور مشتبہ الفاظ کہہ کر دل کا بخار نکالتے ہیں اور پھر ان کے اس بخار نکالنے کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا کہ : ” اے پیغمر سلام ! یہودیوں میں کچھ لوگ ی سے ہیں کہ وہ لفظوں کو ان کی اصلی جگہ سے پھیر دیا کرتے ہیں اور پھر جب تم سے ملتے ہیں تو اس خیال سے کہ دین حق کے خلاف طعن وتشنیع کریں زبان مروڑ مروڑ کر لفظوں کو بگاڑ دیتے ہیں چنانشہ کہتے ہیں ” سمعنا وعصینا “ اور اسمع غرن مسمع “ اور راعنا اگر یہ لوگ راست بازی سے محروم نہ ہوتے اور ان شرارت آمیز لفظوں کی جگہ ” سمعنا واطعنا “ اور اسمع اور انظرنا کہتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور ان کے لئے یہ درستگی کی بات تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار پڑچکی پس ایک چھوٹے گروہ کے سوا باقی سب کے سب ایمان سے محروم ہیں۔ اسمع غیر مسمع کے لفظی معنی ہیں سنو وہ بات جو پہلے سنائی نہیں گئی اور اس فقرے کا اچھا محل یہ ہے کہ مجلس میں متکلم یا خطیب کی کوئی حکیمانہ باس سن کر ایک سامع دوسرے مامع کو متوجہ کرے کہ یہ دانشمندانہ اور حکیمانہ بات سنئے۔ یہ بات پہلی بار ہمارے کانوان نے سنی ہے۔ اس سے پہلے کبھی یہ بات ہم نے نہیں سنی ، ظاہر ہے کہ یہ بات نہ صرف متکلم اور خطیب کی قدر دانی کی دلیل ہے بلکہ دوسروں کو اس کی قدر دانی کے لئے ترغیب بھی ہے لیکن کوئی شخص ہوٹنگ (Hooting) کے انداز میں بانداز تمسخر یہی بات کہے تو اس کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ ذرا اس کی ان ہونی بات بھی سنو یہ کیسی بےپر کی اڑاتا ہے۔ ایسی بات کا ہے کو کبھی کسی نے سنی ہوگی۔ اس طرح محض انداز اور لب و لہجہ کی تبدیلی نے اس نہایت عالی شان فقرے کو نہ صرف بےشان بنا ددیا بلکہ اس میں تحقیر بھی داخل کردی اور اس طرح اس کو طعن و طنز کا ایک زہر آلود نشتر بنا دیا لیکن اس پر بھی گرفت نہیں ہو سکتی اس لئے کہ گرفت ہو تو کہنے والا اپنی صفائی پیش کرسکتا ہے کہ میں نے طنز کے طور پر نہیں بلکہ تحسین کے طور پر کہا ہے چونکہ اس فقرے میں طنز کا پہلو ” غیر مسمع کے الفاظ سے پیدا ہوتا تھا اس لیے قرآن کریم نے اس کی یہ نوک توڑ دی اور ہدایت کی کہ صرف ” اسمع “ کہا جائے تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ اسی طرح ” رَاعِنَا “ کے لفظی معنی ہیں کہ ذرا ہماری رعایت فرمائیے۔ اس لفظ کا اچھا محل استعمال یہ ہے کہ اگر مخاطب نے متکلم کی بات اچھی طرح سنی یا سمجھی نہ ہو یا بات ایسی لطیف اور حکیمانہ ہو کہ خود متکلم کہ زبان سے اس کو مکرر سننا چاہے تو اس کو دوبارہ متوجہ کرنے لے لئے جس طرح ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ ” مکرر “ یعنی ایک بار پھر ارشاد ہو ، پھر فرما دیجئے اس طرح عربی زبان میں ” رَاعِنَا “ کہتے ہیں یہ لفظ سامع کے ذوق و شوق اور اس کی رغبت علم کی دلیل ہے لیکن یہودی اشرار ” لَیَّ لِّسَان “ یعنی زبان کے توڑ موڑ کے ذریعہ سھے اس کو بھی طنز کے قالب میں ڈھال لیتے تھے اس کی شکل یہ ہوتی کہ ” رَاعِنَا “ کے کسرہ کو ذرا دبا دیتے تو یہ لفظ ” رَاعِیْنَا “ ہوجاتا اور اس طرح اس کے معنی ہوں گے ” اے ہمارے چروا ہے “ قرآن کریم نے یہود کی اس شرارت کی وجہ سے اس لفظ کو سرے سے مسلمانوں کی مجلسوں کی زینت بننے سے روک دیا اور اس کی جگہ ؎ کے استعمال کی ہدایت فرمائی جس کے معنی ہیں کہ ذرا ہمیں مہلت عنایت ہو۔ ذرا پھر توجہ فرمایئے۔ یعنی مفہوم کے لحاظ سے یہ ٹھیک ٹھیک لفظ ” رَاعِنَا “ کا قائم مقام ہے اور اس میں لہجہ کے بگاڑ سے کسی بگاڑ کے پیدا کئے جانے کا کوئی امکان بھی باقی نہیں رہتا اس لئے کہ یہ لفظ ذو معنی نہیں ہے۔ اس طرح گویا مجلس آداب کی طرف سے بھی اسلام نے توجہ دلا دی کہ وہ کتنے ضروری ہیں اور ایسے الفاظ سے بھی روک دیا جو ذو معنی ہوں اور خصوصاً جب ایک معنی جتنے اچھے ہوں دوسرے معنی اتنے ہی برے اور یہ بھی بتا دیا کہ لفظ کے ادا کرنے اور لب و لہجہ کے بدل کر لفظوں کو ادا کرنے کا مطلب کیا سے کیا ہوجاتا ہے۔ ہمارے اس طرح کے الفاظ ذو معنی ہوتے ہیں کہ ” ہمارے ہاں آئو گے تو تمہاری وہ خاطر و مدارات کریں گے کہ تم یاد رکھو گے۔ “ آجائو تمہارے کھانے کا انتظام ہم نے کردیا ہے۔ “ ” آئو گے تم یاد رکھو گے کہ کس نے بلایا تھا۔ “ ” اچھا تم بھی کیا یاد کرو گے۔ “ وغیرہ وغیرہ پھر آیت کے آخر میں بتا دیا کہ تم بھی عجیب انسان ہو کہ حامل کتاب گر وہ ہو کر یہ جسارت اور بد تمیزی جو آخری پیغمبر اسلام کے ساتھ تم لوگ کر رہے ہو ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس کو کوئی نتیجہ ہی بر آمد نہ ہو یاد رکھو کہ اس استہزاء مذاق کا مزہ تم کو چکھنا ہوگا اور یہ کہہ کر گویا اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دروازے سے دھتکار دیا۔ اس آیت میں ایک اور نکتہ بھی قابل توجہ ہے وہ یہ کہ یہود کی یہ تمام شرارتیں تھیں تو نبی اعظم و آخر ﷺ پر طنز کی نوعیت کی لیکن قرآن کریم نے ان کو ” طَنْعًا فِی الدِّیْنِ “ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے جس سے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا کہ نبی کیا ہے ؟ در حقیقت مجسمہ دین ہے اور مظہر شریعت ہے اس وجہ سے اس پر طعن کرنا خود دین پر طعن کرنا ہے اگر یہ نکتہ یاد رہے تو بہت سے لوگوں کی دریدہ دہنیوں کا جواب خود بخود اس میں آجاتا ہے اور خصوصاً وہ لوگ جو احادیث پر اعتراض و طنز اور استہزاء مذاق کرتے ہیں ان کا جواب ہے کہ وہ رسول پر نہیں دراصل وہ اسلام کے بخیہ کو ادھیڑنا چاہتے ہیں۔
Ayah 4:47

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 4:47 in the Quran reader

اے وہ لوگو ! کہ تمہیں کتاب دی گئی تھی ! جو کتاب ہم نے نازل کی ہے اور اس کی تصدیق کرتی ہوئی آئی ہے جو تمہارے ہاتھوں میں موجود ہے اس پر ایمان لاؤ ، اس وقت سے پہلے کہ ہم لوگوں کے چہرے مسخ کر کے پیٹھ پیچھے الٹا دیں یا جس طرح سبت والوں پر ہماری پھٹکار پڑی تھی اسی طرح تم پر بھی پھٹکار پڑے اور اللہ نے جو کچھ فیصلہ کردیا ہے وہ ضرور ہو کر رہے گا

اپنی بنائی ہوئی ہدایت کو چھوڑ کر اللہ کی دی ہوئی ہدایت کی طرف آئو : 98ـ: ” کتاب اللہ “ سے مراد اس جگہ ” قرآن کریم “ بھی ہو سکتا ہے اور ” توراۃ “ بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کو دی گئی کتاب اللہ یعنی قرآن کریم کی طرف آئو اس لئے کہ اب یہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری ہدایت ہے جس کے بعد کوئی اور ہدایت اللہ کی طرف سے نہیں آئے گی اور اگر اس سے ” توراۃ “ مراد ہے تو بھی بات وہی ہے کہ اگر تم توراۃ کے احکام کو مان لو تو قرآن کریم کی تعلیمات سے انکار کر ہی نہیں سکتے اس لئے کہ قرآن کریم میں وہی بیان ہے جو توراۃ میں تھا کوئی نئی تعلیم نہیں ہے ہاں ! وہ چیزیں اور باتیں جو تم نے توراۃ میں داخل کرلی ہیں حالانکہ ان کا تعلق توراۃ سے نہیں ہے قرآن کریم ان کی نشاندہی کرتا ہے اور پھر وہ صرف تمہاری ہی اس طرح کی بداعتدالیوں کا ذکر نہیں کرتا وہ ہر ایک کی بداعتدالیوں کو درست کرنے کے لئے آیا ہے۔ اگر تم اپنی اپنی کتابوں کو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہیں ان کی تعلیمات کو صحیح صحیح مان لو تو قرآن کریم سے انکار کر ہی نہیں سکتے۔ کیونکہ تمہاری کتابوں میں نبی اعظم و آخر ﷺ کی آمد کی خبر محفوظ ہے اور تمہاری اپنی اپنی کتابوں کو مان لینا محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا رسول مان لینا لازم قرار پا جاتا ہے اور اس طرح تم نے گویا محمد رسول اللہ ﷺ انکار کر کے اپنے انبیاء کرام اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات سے بھی انحراف کیا ہے۔ دعوت پیش کرنے کے بعد منکرین دعوت کو ساتھ ہی سزا بھی سنائی جا رہی ہے : 99: ” اس وقت سے پہلے ایمان لے آئو جب ایسا ہو کہ ہم لوگوں کے چہرے مسخ کر کے پیٹھ پیچھے الٹا دیں۔ “ اس طرح چہروں کے مٹا دینے کے معنی یہ ہیں کہ یہ جو آنکھ ، کان ، ناک اور منہ کے نشانات ہیں یہ سب مٹا کر برابر کردیئے جائیں پھر غور کرو کہ وہ شکل کیا شکل ہوگی ؟ نہایت ہی بری اور بھونڈی ایسا کیوں ہوگا ؟ فرمایا یہ قوتیں جو تم کو ان اعضاء کی صورت میں دی گئی تھیں ان کا مقصد کی تھا ؟ کیا تم نے اس مقصد کو پورا کیا ؟ نہیں تو پھر جب ان سے وہ کام نہیں لیا گیا جس کام کے لئے ان کو بنایا گیا تھا بلکہ ان کو تم نے ٹھوکر کے گڑھے بنا دیا تو اب ضروری ہے کہ ان کی اصل صورتوں کو بھی اس مطابق کردیا جائے اور اس طرح کے یہ گڑھے آخر کیوں رکھے جائیں ؟ اور یہ بھر کیوں نہ دیئے جائیں ؟ ان کا جواب سورة البقرہ میں ” صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ “ کے الفاظ میں دیا جا چکا ہے اور وہاں ان کی تشریح بھی کردی گئی ہے مطلب یہ ہے کہ یہ سب کچھ رکھتے ہوئے جب بہرے ، گونگے اور اندھے ہو کر رہ گئے ہیں تو پھر یہ اس کے سزاوار ہیں کہ ان کے ظاہری نشانات بھی مٹا دیے جائیں اور جس طرح انہوں نے انسانیت کے اصل کو ضائع کیا ہے ان کی شکل و صورت کو ضائع کردیا جائے۔ گدی میں کوئی فرق ہی نہیں اور ان کا پچھلا اور اگلا حصہ دونوں ایک ہی طرح کے ہو کر رہ گئے ہیں تو پھر یہ بہتر ہے کہ ان کو ایک ہی جیسا کر یا جائے اور ان کے چہرے چہرے نہ رہیں بلکہ گدی ہی بنا دئیے جائیں اور یہ عبارت ہے اس بات سے کہ جب چہرہ چہرہ ہی نہ رہا تو اب اس کی چہرے جیسی حفاظت کیوں ہوگی ؟ گویا یہ مضمون ان کی اس شقاوت پر دال ہے کہ ان کے منہ سے نکلنے والی بات اور پاخانہ کی جگہ سے سرنے والی ہوا ایک ہی حیثیت رکھتی ہیں کہ جو منہ میں آیا بک دیا گویا ان کے منہ اور پیٹھ میں کوئی فرق باقی نہ رہا۔ یہ ان کی اس تغیر حالت کے لئے الفاظ بولے گئے ہیں۔ یہ تغیر کیا ہے کہ جس نے ان کو صحیح معنوں میں ذلیل و رسوا کردیا ہے ؟ ان کی وجاہت اور اقبال جب سلب ہوگیا تو ان کی ایسی ہی حالت ہوگئی یعنی یہ محاورہ ہے ان کی اس حالت کا جب وہ اوصاف انسانی سے عاری ہوگئے اور اس طرح کے محاورات قرآن کریم میں عام و تام بیان ہوئے ہیں۔ ” اصحب السبت “ وہی ہیں جن کا ذکر سورة بقرہ آیت 65 میں گزر چکا اور ہم نے اس کی تفصیل بھی اس جگہ بیان کردی ہے۔ ان سارے الفاظ اس مضمون میں یہود کو بتایا گیا ہے کہ وہ اگر اس طرح عداوت اور قساوت قلبی پر اڑے رہے تو ان کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور پھر برے انجام کے لئے دو سزائیں بیان کی گئی ہیں پہلی یہ کہ وہ ذلیل و خوار کر دئیے جائیں گے جیسے بندر اور سور ذلیل و خوار ہیں اور دوسری سزا یہ ہے کہ وہ اللہ کی لعنت کے مستحق قرار پائیں گے اور یہ اس وقت ہی ہوتا ہے جب کوئی قوم یا کوئی شخص اللہ کی رحمت سے دور کردیا جائے اور رحمت الٰہی سے دوری وہ عذاب ہے جس سے بڑا کوئی عذاب دنیا و آخرت میں نہیں ہوگا اور یہی کچھ یہود کے ساتھ ہوا۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہی یہود جو پوری دنیا میں عزات کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے وہ جن کو تمام جہانوں پر فضیلت عطا کی گئی تھی ان کا ایک حصہ سدینا عیسیٰ (علیہ السلام) کی آمد سے مستحق لعنت قرار پا گیا اور باقی ماندہ محمد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت ہمیں ذلیل و خوار کردیا گیا اور ان پر وہ وقت آیا کہ ساری دولت کے باوجود وہ دربدر دھکے کھاتے پھرے اور ان کے رہنے کی کوئی جگہ ان کو میسر نہ آسکی اور بد قسمتی ہے آج وہی صورت حال خود مسلمانوں کی ہوتی چلی جا رہی ہے کیوں ؟ اس لئے کہ آج وہ بھی انہی حرکات کے مرتکب ہوئے جن کے یہود مرتکب ہوچکے تھے اس لئے یقینا وہ بھی اس سزا کے مستحق تھے جو یہود کو دی جا چکی تھی اور یہی وہ سزا ہے جو اصحاب سبت کو سنائی گئی تھی کہ وہ اوصاف انسانی سے عاری ہوگئے تو ان کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو ان حیوانوں کے ساتھ کیا جاتا ہے جن کو بندر اور سور کہتے ہیں۔ اسی طرح ان پر بھی وہی پھٹکار پڑی جو ان کے آباو اجداد پر پڑچکی تھی اور ان پر اللہ کا ویسا ہی عذاب نازل ہوا جیسا کہ ان کے آباؤ و اجداد پر نازل ہوچکا تھا لیکن ان کے ساتھ ہوا جو اہوا اور آج ہم نے ان کے اس عذاب سے کیا سبق حاصل کیا کہ خود اس عذاب میں پھنس کر رہ گئے کیا آج ہماری حرکات وہی ہیں جو انسانوں کی ہیں ؟ یا ہم خود حیوانوں سے بھی بہت آگے نکل چکے ہیں۔
Ayah 4:48

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا Open ayah 4:48 in the Quran reader

اللہ یہ بات کبھی بخشنے والا نہیں کہ اس کے ساتھ کسی دوسری ہستی کو شریک ٹھہرایا جائے ، ہاں ! اس کے سوا جتنے گناہ ہیں وہ چاہے تو بخش دے اور دیکھو جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے تو یقینا وہ بڑا گناہ کرتا ہے ، افتراء پردازی کرتا ہے

شرک سے بڑا کوئی گناہ اور مشرک سے بڑا کوئی گنہگار نہیں ہوتا : 100: یہود و نصاریٰ بلاشبہ اہل کتاب ہیں اور اس رشتہ کی بناء پر اسلام نے ان کا اتنا احترام کیا کہ ان کے ساتھ کھانا پینا اور ان کی عورتوں کے ساتھ نکاح کرنا جائز قرار دیا گیا لیکن یہ اس وقت ہے جب کہ وہ مشرک نہ ہوں۔ جب وہ مشرک ہوئے یا جو جو ان میں شرک کا مرتکب ہوا وہ اس بنیادی قاعدہ سے بھی خود بخود نکلتا چلا گیا زیر نظر آیت اس بات پر مکمل اور واضح دلیل ہے کہ اہل کتاب کا بہت گروہ بڑا مشرک ہوگیا تھا۔ اور اس لحاظ سے وہ عرفاً اہل کتاب نہیں رہے تھے بلکہ مشرک ہو کر اہل کتاب سے خود بخود خارج ہوگئے تھے رہی یہ بات کہ یہود کا شرک کیا تھا ؟ ان کے اس شرک کی نشاندہی آنے والی آیات میں کرا دی گئی ہے اس زیر نظر آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس بات کو اچھی طرح یاد رکھو لو کہ شرک ساری برئیوں کی گویا جڑ ہے اور ساری برائیاں اس سے معرض وجود میں آتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے گویا یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ شرک کرنے والوں کو کبھیمعاف نہیں کرے گا جبکہ و اس شرک کی حالت میں مر گئے اور توبہ ان کو نصیب نہ ہوئی ۔ ہاں ! کوئی شخص گناہوں میں کتنا ہی لت پت کیوں نہ ہو جب اس نے شرک سے توبہ کرلی یا شرک کا مرتکب نہ ہوا تو اس کی نجات یقینی ہے چاہے سزا پانے کے بعد یا سزا بھی اس کی معاف کردی جائے ہر حال میں وہ اس سزا میں نہیں آتا جس کی عدم معافی کا اعلان کردیا گیا ہے اور وہ شرک ہی ہے۔ شرک پر کوئی مرنے والا ہو یعنی وہ یہودی ہو عیسائی ہو یا کوئی مسلمان کہلانے والا ہو اگر اس پر شرک کی سزا لازم ہوگئی تو سمجھ لو کہ وہ ابدی دوزخ کے عذاب میں مبتلا کردیا گیا جس سے خلاصی و نجات کی اب کوئی سبیل باقی نہ رہی۔ افسوس کہ آج مسلمانوں کو اس آیت کا حکم بہت کم ہی یاد رہا اور وہ اہل کتاب کو اہل کتاب ہی سمجھتے ہیں جبکہ وہ کھلے شرک کے مرتکب ہونے لگے اور یہ کہا گیا کہ کیا اللہ میاں اتنی بات بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ اہل کتاب اہل کتاب نہیں رہے بلکہ مشرک ہوگئے اور اس شرک کے سبب ان کے ساتھ کھانا پینا اور ان کی عورتوں سے نکاح کرنا ناجائز نہ رہا۔ ہاں ! یہ بات اب بھی اپنی جگہ قائم اور اس کا حکم باقی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اہل کتاب اہل کتاب رہیں مشرک نہ ہوجائیں کیونکہ شرک سے بڑا نہ کوئی اور ظلم ہے اور نہ اس سے بڑا کوئی گناہ ہے۔ اس آیت نے مسلمانوں کو سمجھا دیا کہ وہ اچھی طرح یہ اصول یاد کرلیں کہ شرک سب برائیوں کی جڑ ہے اور توحید سب نیکیوں کی جڑ ہے لہٰذا شرک سے پرہیز کریں۔ شرک کیا ہے ؟ یاد رہے کہ صرف بتوں ، چاند ، سورج ، ستاروں اور ہواؤں وغیرہ کو پوجنا ہی شرک نہیں بلکہ یہ شرک کی وہ موٹی قسم ہے جس میں بت پرست اور عناصر پرست قومیں گرفتار ہیں اور نہ صرف یہی شرک ہے کہ انسان کو فی الواقع خدا سمجھا جائے جیسے ہندو ، کرشن یا رام چندر کو سمجھتے ہیں یا عیسائی سیدنا (علیہ السلام) کو بلکہ ان سارے شرکوں سے بڑا وہ شرک ہتے جو احبارو راہبان پرستی سکھاتا ہے اور آج کی زبان میں پیر پرستی اور علماء پرستی سے اس کو موسوم کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ لوگ جس کو حلال کہہ دیتے ہیں لوگ اس کو حلال اور جس کو وہ حرام کہہ دیتے ہیں لوگ اس کو حرام کہتے ہیں اور ان کا اس طرح کہنا ان کی خواہشات اہوا کی وجہ سے ہے نہ کہ کسی دلیل کی بناء پر۔ کیونکہ دلیل تو کتاب وسنت ہے لوگوں کے قصے کہانیوں کا نام دلیل نہیں رکھا جاسکتا اور اس وقت سارے شرکوں سے بڑا شرک جو دنیا میں اور خصوصاً خود مسلمان کہلانے والوں میں پایا جاتا ہے وہ وہ ہے جس کو قرآن کریم کی زبان میں اَرَ اَیْتَ مَنِ اتَّخَذ اِلٰھَہ ھَوَاہُ سے موسوم کیا گیا ہے۔ چناچہ قرآن کریم میں ارشاد الٰہی اس طرح سے ہے کہ : ” کبھی تم نے اس سخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو ؟ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں بلکہ اس سے بھی گئے گزرے ہیں۔ “ (الفرقان : 44:43:25) خواہش نفس کو خدا بنا لینے سے مراد اس کی بندگی کرنا ہے اور یہ بھی حقیقت کے اعتبار سے ویسا ہی شرک ہے جیسا بت کو پوجنا یا کسی مخلوق کو معبود بنانا۔ حضرت ابو امامہ کی روایت ہے کہ نبی اعطم و آخر ﷺ نے فرمایا ماتحت ظل السما من الہ یعبد من دون اللہ تعالیٰ اعظم عند اللہ عزوجل من ھوی یتبع ” اس آسمان کے نیچے اللہ تعالیٰ کے سوا جتنے مع بعد بھی پوجے جا رہے ہیں ان میں اللہ کے نزدیک بد ترین وہ خواہش نفس ہے جس کی پیروی کی جا رہی ہو۔ “ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جو شخص اپنی خواہش کو عقل کے تابع رکھتا ہے اور عقل سے کام لے کر فیصلہ کرتا ہے کہ اس کے لئے صحیح راہ کونسی ہے اور غلط کونسی وہ اگر کسی قسم کے شرک یا کفر میں مبتلا ہو تو اس کو سمجھا کر سیدھی راہ پر لایا جاسکتا ہے اور یہ اعتماد بھی کیا جاسکتا ہے کہ جب وہ راہ راست اختیار کرنے کا فیصلہ کرلے گا تو اس پر ثابت قدم رہے گا لیکن نفس کا بندہ اور خواہشات کا غلام ایک شتر بےمہار ہے اسے اس تو اسکی خواہشات جدھر لے جائیں گی وہ ان کے ساتھ ساتھ بھٹکتا پھرے گا اس کو سرے سے یہ فکر ہی نہیں ہے کہ صحیح اور غلط اور حق و باطل میں تمیز کرے اور ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کرے اور ایسا مشرک قبر پرست اور پیر پرست یا بت پرست نہیں سکتا اس لئے اس کی سمجھ میں یہ بات بھی مشکل ہی سے آتی ہے کہ وہ بھی مشرک ہے وہ شرک کے خلاف و عظ کرے گا اور مشرک کو برا جانے گا اور شرک کی ساری اقسام سے بچے گا الا یہ کہ اس کی خواہش کی بات ہوگی تو پھر اس کی ساری مت ماری جائے گی اور وہ کچھ سمجھنے والا نہیں ہوگا اور بالفرض اگر وہ بات مان بھی جائے تو اسے کسی ضابطہ اخلاق کا پابند بنا دینا کسی انسان کے بس میں نہیں ہے۔ یہ شرک ایک طرح کے خاص مشرکین کا شرک تھا لیکن عوام کا شرک بھی بڑا عجیب شرک ہے۔ قرآن کریم نے ان کی مثال اس طرح بیان کی ہے کہ جس طرح بھیڑ بکریوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ ہانکنے والا انہیں چراگاہ کی طرف لے جا رہا ہے یا کمیلہ کی طرف بس وہ آنکھیں بند کر کے ہانکنے والے کے اشارے پر چلتی رہتی ہیں اس طرح یہ عوام الناس بھی اپنے مذہبی بےراہ روئوں اور اپنے گمراہ کن لیڈروں کے اشاروں پر آنکھیں بند کئے ہوئے چلے جا رہے ہیں کچھ نہیں جانتے کہ وہ انہیں فلاح کی طرف ہانک رہے ہیں یا تباہی و بربادی کی طرف۔ اس حد تک تو ان کی حالت بھیڑ بکریوں کے مشابہ ہے لیکن بھیڑ بکریوں کو اللہ نے عقل و شعور سے نہیں نوازا ہے وہ اگر چرواہا اور قصائی میں امتیاز نہیں کرتیں تو کچھ عیب نہیں البتہ حیف ہے ان انسانوں پر جو اللہ سے عقل و شعور کی نعمتیں پا کر بھی اپنے آپ کو بھیڑ بکریوں کی سی غفلت اور بےشعوری میں مبتلا کرلیں۔
Ayah 4:49

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:49 in the Quran reader

تم نے ان لوگوں کی حالت پر نظر نہیں کی جو اپنی پاکیزگی کا بڑا گھمنڈ رکھتے ہیں ، حالانکہ یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے کہ جسے چاہے پاک و صاف کرے اور رائی برابر بھی کسی پر ظلم نہیں ہو گا

شرک کی ایک اور راہ کہ ” ہم چوما دیگرے نیست “ جس میں یہود و نصاریٰ بھی مبتلا تھے : 101 : اقسام شرک میں سے ایک قسم شرک کی یہ بھی ہے کہ اپنے آپ کو ایک برتر اور برگزیدہ گر وہ یا انسان سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ بات واضح ہوگئی ہے یا راسخ کردی گئی ہے کہ وہ اللہ کے محبوبوں کی اولاد ہیں اس لئے وہ بھی اللہ کے محبوب اور چہیتے ہیں۔ ان کے لئے اللہ کے ہاں کوئی باز پرس یا سزا نہیں ہے۔ ان کے اعمال و اخلاق خواہ کچھ ہوں اول تو یہ دوزخ میں ڈالے ہی نہیں جائیں گے اگر ڈالے بھی گئے تو محض تھوڑی مدت کے لئے۔ اس گھمنڈ نے ان کو عمل اور اطاعت کی ذمہ داریوں سے بالکل فارغ کردیا ہے اور انہوں نے اپنے آپ کو بندگی کے دائرے سے نکال کر الوہیت کے زمرے میں داخل کرلیا ہے حالانکہ کہیں بھی اللہ نے ان کو برگزیدگی کی یہ سند عطا نہیں فرمائی ہے جس کو بزرگی عطا ہوتی ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور اللہ نے اس چیز کو ایمان و عمل اور نیکی وتقویٰ سے وابستہ کیا ہے نہ کہ نسل و نسب سے۔ ہر شخص جو کرے گا وہ بھرے گا۔ اللہ ان کے ساتھ ذرا بھی ناانصافی کرنے والا نہیں۔ اپنی برتری کا یہ عقیدہ جو انہوں نے گھڑا ہے یہ ان کا اپنا طبع زاد ہے اس کو اللہ سے جو وہ منسوب کرتے ہیں تو یہ اللہ پر بالکل ایک جھوٹا افتراء ہے ان کے مجرم ہونے کے لئے دوسرے جرائم سے قطع نظر یہی جرم کافی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس جرم میں بھی صرف یہود و نصاریٰ ہی مبتلا نہ تھے بلکہ آج مسلمان کہلانے والواں میں بھی ایک خاص طبقہ اس شرک میں مبتلا ہے اور اس طرح یہ سارے پیرزادے ، صاحبزادے اور سجادہ نشین اور گدی نشین اس شرک میں مبتلا پایا جائے گا۔ تب ہی اس کے نظریہ میں بات آئے گی اور اسلام کی نظر میں اس کی حیثیت ایک ڈنگر ڈھور سے زیادہ نہیں ہے خواہ وہ کوئی ہے اور لوگ اس کو کچھ سمجھیں۔
Ayah 4:50

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:50 in the Quran reader

دیکھو ! یہ لوگ اللہ پر کس طرح صریح بہتان باندھ رہے ہیں ؟ ان کی آشکارا گنہگاری کیلئے یہی ایک بات بس کرتی ہے

اپنی بڑائی کی ڈینگیں مارنے والے اس طرح اللہ پر گویا بہتان باندھ رہے ہیں : 102: اپنی پاکیزگی اور بڑائی کی بات دوسروں سے سن کر آدمی اس گناہ میں مبتلا ہو سکتا ہے جس کا ایک سرا شرک کے اندر پھنسا ہوتا ہے اور جو شخص اس حد سے تجاوز کر کے اپنے آپ کو پاک اور برگزیدہ کہنا شروع کر دے اس کے مرض میں جو اضافہ ہوا ہے اس سے کون انکار کرسکتا ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ لوگ اللہ پر کس طرح صریح بہتان باندھ رہے ہیں اسلام نے ایک دوسرے کی تعریف اس کے منہ پر کرنے کو اس لئے منع فرمایا تھا کہ اس کے غلط نتائج برآمد ہونے کا خطرہ تھا۔ چنانشہ صحیح مسلم میں مقداد بن الاسود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دوسرے کی بڑی تعریف کرتے ہوئے سنا تو آپ ﷺ نے فرمایا ویحک قطعت عنق صاحبک ” تجھ پر افسوس ہے تو نے اپنے دوست کی گردن کاٹ دی۔ “ پھر فرمایا اگر اپنے دوست کی تعریف کرنی ہو تو یوں کہا کرو کہ میں اسے ایسا سمجھتا ہوں۔ کسی شخص کے گناہگار ہونے کے لئے یہ بات ہی کافی ہے کہ وہ اپنے آپ کو پاک اور برگزیدہ سمجھے کیونکہ یہ بات بذاتہ اپنے اندر تکبر و غرور کے انبار رکھتی ہے اور اگر کوئی فی الواقعہ نیک یا برگزیدہ انسان ہے تو آخر وہ ایسا دعویٰ کیوں کرے گا جو خلاف تقویٰ و پرہیزگاری ہے۔ اس لئے ارشاد فرمایا کہ کَفٰی باِہِ اِثْماً مُّبِیْنا ! یہ اس بات کے لئے کافی ہے کہ یہ گناہ گار ہے جو اپنی پاکیزدگی کا خود ہی اعلان کرتا ہے۔