Ayah 4:118شیطان ہی وہ جنس ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کیا جاچکا ہے :
193: اللہ کی رحمت سے دور جہ جانے کا نام اللہ کی لعنت کا مستحق قرار پانا ہے۔ شیطان کیا ہے ؟ اس کے متعلق تفصیل عروۃ الوثقی جلد اول سورة بقرہ کی آیت 30 سے 39 گیارہ آیات میں ذکر ہوچکی ہے آدم فرشتہ اور ابلیس کی حقیقت تم پر واضح ہو ہوجائے گی وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔
شیطان لینت کیوں ہوا ؟ رب کریم کی نافرمانی کے باعث۔ نافرمانی کی اور پھر ڈٹ گیا کہ میں نے جو کچھ کیا وہ بالکل صحیح کیا۔ گویا نافرمانی کو اس نے حق سمجھا یہی وجہ تھی کہ وہ لعنت کا مستحق ٹھہراجس سے اس با کا ظاہر کرنا مقصود ہے کہ غلطی کا ہوجانا اتنا جرم نہیں جتنا کہ غلطی کو غلطی تسلیم نہ کرنے کا جرم ہے اور پھر جب وہ غلطی اللہ کریم کے متعلق ہو تو اس غلطی کو غلطی تسلیم نہ کرنا شرک کا مرتکب ہونا ہے اور مشرک کا شرک پر قائم رہنا اللہ کی رحمت سے دوری کا باعث ہے اور یہی کچھ شیطان نے کیا کہ وہ مستحق لعنت قرار پا گیا۔ چناچہ ایک جگہ ارشا الٰہی ہوا ” اور تیرے اوپر یوم الجزاء تک میری لعنت ہے۔ وہ بولا اے میرے رب ! یہ بات ہے تو پھر مجھے اس وقت تک مہلت دے دے جب یہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ فرمایا اچھا تجھے اس روز تک کی مہلت ہے جس کا وقت مجھے معلوم ہے۔ “ (ص 38 : 78 ‘ 79) معلوم ہوا کہ اللہ وہ بےنیاز طاقت ہے جو اپنے مخالفین کی صدائیں بھی اسی طرح سنتا ہے جس طرح اپنے فرمانبردار بندوں کی۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اس دنیوی زندگی میں یہ اس کا وعدہ ہے اور وہ کبھی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ آپ خود غور فرمائیں کہ شیطان سے بڑھ۔ کر اللہ تعالیٰ کا کوئی نافرمان ؟ پھر اس نافرمانی نے اللہ سے مہلت طلب کی اور مہلت اس کو دے دیگئی لیکن مشروط۔ وہ شرط کیا تھی ؟ فرمایا ” تجھے اس روز تک مہلت ہے جس کا وقت مجھ معلوم ہے۔ “ یعنی اس دنیا کے قائم رہنے تک۔ اللہ کو چھوڑ کر غیروں کو پکارنے والوں کو اس سے درس عبرت حاصل کرنا چاہئے ۔ کیا وہ شاطنن سے بھی گئے گزرے ہیں ؟
194: مہلت مل جانے کے بعد وہ اللہ کے مقابلے میں اتر آیا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اس کو یقین تھا کہ اللہ ایسا نہیں جو اپنا کیا ہوا وعدہ منسوخ کر دے اس لئے اس نے اللہ کی مخالفت کا اعلان کردیا اور بڑے دھڑلے سے کہا کہ ” تیرے بندوں سے ایک مقررہ حصہ لے کر رہوں گا۔ اس ایک فقرہ سے شیطان کے بندوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ شیطان شیطان ہونے کے باوجودجو سارے بندوں کو اللہ ہی کے بندے قرار دیتا ہے۔ لیکن کچھ بندے ایسے ہیں جو باوجود اللہ کے بندہ ہونے پھر غیروں کے بندے بننے کا شوق رکھتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو صرف غیروں کا بندہ ہی نہیں بلکہ غیروں کے ” کتے “ بننا پسند کرتے ہیں اور اس طرح وہ شیطان سے بھی بہت آگے نکل چکے ہی یعنی گر وایک ” چھیل ہے تو چیلے ڈھائی چھیل ہیں “
غور کرو کہ شیطان کا عزم و ارادہ کیا تھا ؟ یہی کہ ” میں تیرے بندوں سے ایک مقررہ حصہ لے کر رہوں گا۔ “ قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے اس نے اس بات کی تصدیق فرمائی کہ کتنے لوگ ہیں کہ ان کے مقابلے میں ابلیس نے اپنا گمان صحیح پایا اور انہوں نے اس کی یعنی شیطان کی پیروی کی ، بجز ایک تھو ڑے سے گروہ کے جو مومن تھا۔ “ (سبا 34 : 20)
شیطان کے مقررہ حصہ کے بندوں کے اوصاف ، تاکہ تم پہچان کرسکو :
پھر شیطان کے اس مقررہ حصے کے لوگوں کے اوصاف بھی قرآن کریم نے جگہ جگہ بیان فرمادیئے تاکہ رحمن کے بندوں اور شیطان کے حصہ کے بندوں کا سب کو پتہ چل جائے اور وہ دور سے پہچان لئے جائیں کہ یہ رحمن کے بندے ہیں اور یہ شیطان کے حصے کے بندے۔ چناچہ ارشادالٰہی ہوا :
” اور دیکھو جو کچھ اللہ نے کھیتی اور مویشی میں پیدا کیا ہے اس میں سے ایک حصہ یہ اپنے زعم باطل کے مطابق اللہ کے لئے ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے لئے ہے اور ایک حصہ ان کے لئے ٹھہراتے ہیں جنہیں انہوں نے اللہ کا ساجھی بنارکھا ہے۔ پس جو کچھ ان کے ٹھہرائے ہوئے ساجھیوں کے لئے ہے وہ تو کسی صورت میں بھی اللہ کی طرف نہیں جاسکتا لیکن جو کچھ اللہ کے لئے ہے وہ ان کے ٹھہرائے ہوئے ساجھیوں کی طرف جاسکتا ہے ۔ کیا ہی برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں ؟ اور دیکھواسی طرح بہت سے مشرک ہیں کہ ان کے ٹھہرائے ہوئے ساجھیوں نے ان کی نظروں میں قتل اور لاد جیسے وحشیانہ فعل کو بھی خوشنما کر دکھایا ہے تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈالیں اور ان کے دین کی راہ ان پر مشتبہ کردیں۔ اے پیغمبر السلام ! اگر اللہ چاہتا تو یہ کام وہ نہ کرتے یعنی ان کی طاقت وہ سلب کرلیتا لیکن اس کی حکمت کا فیصلہ ان کو مجبور کر کردینا نہ تھا اس لئے اس نے ایسانہ کیا۔ پس آپ ﷺ بھی نہیں اور انکی افترا پر دازیوں کو ان کے حال پر چھوڑدو ، اس لئے کہ وہ آپ ﷺ کا کہا ماننے ولاے نہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کھیت اور چارپائے ممنوع ہیں انہیں اس آدمی کے سوا کوئی نہیں کھا سکتا جسے ہم اپنے خیال کے مطابق کھلانا چاہیں یعنی جس خانقاہ اور بزرگ کی وہ منت ہے وہ وہیں جائے گی ، دوسرے کے لئے جائز نہیں اور اس طرح کچھ جانور ایسے بھی ہیں کہ ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے بلکہ وہ کسی خاص بزرگ و پیر کے نام سے منسوب ہیں حالانکہ اس طرح اللہ پر افترا کر کے انہوں نے یہ طریقہ نکال لیا ہے سو جیسی کچھ یہ افتراء پردازیاں کرتے ہیں ، قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس کی سزادے۔ “ (الانعام 6 : ی 136 ‘ 138)
اپنے زمانہ کے لوگوں کی اکثریت کے راہ ورسم کا مطالعہ کرتے جائو اور قرآن کریم کی اس دی ہوئی ہدایت پر رکھ کر دیکھتے چلے جائو تمہیں ایک ایک بات کی سمجھ آجائے گی کہ یہ بندے خالصۃ اللہ کے ہیں اور وہ اللہ ہی کا رہنا پسند کرتے ہیں لیکن یہ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے بندے ہونے کے باوجود غیر اللہ کے بندے بن کر رہ گئے ہیں اور یہ وہی جو شیطان کے ” حصے کے لئے مقرر ہیں ۔ “ اور ان کو اللہ کے بندے بن کر رہنا کسی حال میں بھی گوارا نہیں۔
قرآن کریم نے ان کے اوصاف کی بڑی وضاحت فرمائی اور جگہ جگہ ان کا ذکر کر کے پوری وضاحت کے ساتھ ان کے اوصاف کو بیان کردیا فرمایا ” یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے انعامات سے فائدہ حاصل کرنے کے باوجود حلال و حرام میں تمیز نہیں کرتے بلکہ یہ جانوروں کی طرح کھاتے ہیں جن کو اپنے اور پر ائے کی کوئی تمیز نہیں ہوتی۔ “ (محمد 47 : 12) ” یہ انسان کا ہے کے ہیں بلکہ وہ تو چارپائے نہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔ “ (الفرقان 25 : 44) یہ تو چارپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ بالکل غافل ہوچکے ہیں۔ “ (الاعراف : 179) ” دنیا میں ہو چلنے پھرنے والوں میں برے ہیں اللہ کے نزدیک۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ بہرے اور گونگے ہو کر رہ گئے ہیں اور عقل سے کم نہیں لیتے۔ “ (الانفال 8 : 55) ان لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے گدھا کہ اس پر کتابیں لادی جائیں تو سوائے ایک بوجھ کے وہ کیا محسوس کرے گا اور کیا فرق ہوگا اس کے لئے کتابوں اور پتھر میں یہ مثال ہے ان لوگوں کی جو اللہ کی آیات پر صحیح معنوں میں ایمان نہیں لاتے حالانکہ وہ ان آیات کو پڑھتے بھی ہیں۔ “ (الجمعہ 26 : 5) اس بحیرہ ، سائبہ وصیلہ اور حام کو اللہ نے نہیں ٹھہرایا اور نہ ہی کوئی اس طرح کا حکم دیا کہ تم ان کی نام اس طرح رکھ لو بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے اور پھر اس جھوٹ سے باز آنے والے بھی نہیں۔ کیوں ؟ اس لئے وہ اس جھوٹ جھوٹ نہیں سمجھتے بلکہ اللہ کے ذمہ لگاتے ہیں کہ انہیں اللہ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ ان کی بےوقوفی کی کھلی نشانی ہے۔ “ (المائدہ 5 : 103)
Ayah 4:119شیطان کا اعلان عام اور اس کے نتائج :
195: شیطان نے ڈگڈگی بجائی اور اعلان عام کردیا کہ ” میں انہیں بہکائوں گا اور ضرور ایسا کروں گا کہ آرزوئوں میں انہیں مشغول رکھوں گا اور ضرور حکم دوں گا ‘ پس وہ جانوروں کے کان چیریں گے۔ “ گمراہیاں دو طریقوں ہی سے آسکتی ہیں اور انسان شیطانی اثر دو ہی شکلوں میں قبول کرسکتا ہے ایک عقل و فکر کی راہ سے دوسرے جزبات و احساسات کی راہ سے۔ یعنی وہ یہ کہہ رہا ہے کہ ان کے عقائد اور بنیادی خیالات کو بھی ڈگمگا دوں گا اور ان کے نفسانی جزبات اور خواہشات کو بھی ابھار دوں گا اس طرح ” ضلال “ کے تحت ہو قسم کی عقلی ‘ فکری اور نظری گمراہیاں آگئیں اور تمنی کے تحت میں معاصی و خواہش کی جانب میلان اور نظر سے ان کی مضرتوں کا غائب ہوجانا آگیا اور قرآن کریم نے اس کی بڑی وضاحت فرمادی تاکہ بات کی پوری وضاحت ہوجائے۔ چناچہ فرمایا : ” اچھا تو جا ! ان میں سے جو بھی تیری پیروی کریں ، تجھ سمیت ان سب کے لئے جہنم ہی بھر پور جزا ہے۔ تو جس جس کو اپنی دعوت سے پھسلا سکتا ہے پھسلا لے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا اور مال اور اولاد میں ان کے ساتھ ساجھا لگا اور ان کو اپنے وعدوں کے جال میں پھانس رکھ کہ شیطان کے وعدے ایک دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ یقینا میرے بندوں پر تجھے کوئی اقتدار حاصل نہ ہوگا اور توکل کے لئے تیرا رب کافی ہے۔ “ (بنی اسرائیل 17 : 23 ، 65)
بات کس قدر واضح کردی کہ اس کو حکم دیا گیا کہ میرے بندوں یعنی انسانوں پر تجھے یہ اقتدار حاصل نہ ہوگا کہ تو انہیں زبردستی اپنی راہ پر کھینچ لے جائیتو فقط بہکانے اور پھسلانے اور غلط مشورے دینے اور جھوٹے وعدے کرنے کا مجاز کیا جاتا ہے مگر تیری بات کو قبول کرنا یا نہ کرنا ان بندوں کا اپنا کام ہوگا تیرا ایسا تسلط ان پر نہ ہوگا کہ وہ تیری راہ پر جانا چاہیں یا نہ چاہیں بہر حال تو ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کو گھسیٹ لے جائے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ جو لوگ اللہ پر اعتماد کریں اور جن کا بھروسہ اس کی راہنمائی اور توفیق اور مدد پر ہو ان کا بھروسہ ہرگز غلط ثابت نہیں ہوگا۔ انہیں کسی اور سہارے کی ضرورت نہ ہوگی۔ اللہ ان کی ہدایت کے لئے بھی کافی ہوگا اور ان کی دستگیری واعانت کے لئے بھی۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” شیطان کو ان لوگوں پر تسلط حاصل نہیں ہوتا جو ایمان لاتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس کا زور تو صرف انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو اپنا سرپرست بناتے اور اس کے بہانے سے شرک کرتے ہیں۔ “ (النحل 16 : 19 ، 100) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” شیطان ان پر مسلط ہوچکا ہے اور اس نے اللہ کی یاد ان کے دلوں سے بھلا دی ہے۔ وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں خبردار ہو جائو ؟ ! شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں (المجادلہ 58 : 19) تفصیل کے لئے دیکھو عروۃ الوثقی جلد اول سورة بقرہ آیت 80 اور آیت 111 کی تفسیر۔
وہ جانوروں کے کان کیوں چیرتے تھے ؟ اس لئی کہ ان کو کوئی نقصان نہ پہنچائے اور دیکھتے ہی پتہ چل جائے کہ یہ کسی بزرگ کی منت کا ہے جیسا ایام جاہلیت میں یہ رسم تھی کہ جو جادہ پانچ بچے جن لیتی اور پانچوں نر ہوتے تو اس کے کان چیر کر اس کو کھلا چھوڑ دیتے۔ اس پر سوار ہونا اور اس سے کام لینا منع جانتے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ اس نے فلاں بزرگ کی دعا سے مسلسل پانچ بچے جنے ہیں اس لئے اب اوہ جانور اس بزرگ کے نام کا ہوگیا ہے اور اس قسم کی رسومات اب ابھی موجود ہیں اور یہ پیر جی کا بکرا اور گیارہویں شریف کی نیاز قسم کے سارے کام اسی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں۔
Ayah 4:120خلقت الٰہی میں ردوبدل کردینے کی شیطانی چال :
196: شیطان کی یہ حکم کہ وہ اللہ کی خلقت میں ضرور ردوبدل کریں گے کہ اللہ کی ساخت کو بدل کر رکھ گے۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کے بدلنے سے اصلا مراد اس فطرت اللہ کو بدلنا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو پیدا کیا جس طرح توحید دین فطرت ہے لیکن شیطان اور اس کے چیلوں نے اس کو شرک سے بدل دیا سورة الروم میں ارشاد الٰہی ہوا کہ ” اللہ کی دی ہوئی فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی پیدائش میں کوئی تبدیلی نہیں یہ مضبوط دین ہے۔ “ (الروم 30 : 30) اس طرح خلق اللہ کی تبدیلی سے مراد دین الٰہی کی تبدیلی ہے اور یہی معنی حسن ضحاک ارور مجاہد وغیرہ آئمہ تفسیر سے اس کے نقل کئے گئے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام اور حرام کی گئی چیزوں کو حلال کرنا بھی مخلوق کی تبدیلی کے مرادف ہے۔ یہ دونوں کام پہلے ہی ہوتے آئے ہیں اور آج بھی ہو رہے ہیں۔ کسی کا سر چھوٹا ہے تو یہ شاہ دولہ ولی نے دیا ہے اور کسی کا کان ڈوڈا ہے تو وہ ڈوڈے شاہ نے دیا ہوگا اور اس طرح کی ساری چیزیں علاقائی شرک سے تعلق رکھتی ہیں۔ ہر علاقہ میں کوئی نہ کوئی جگہ ایسی ضرور بنا رکھی ہے جس کے ذمہ اس طرح کی باتیں لگائی گئی ہیں حالانکہ ان کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا یہ سارے وہمی مفروضے ہیں جو ایک جیسی ذہنیت کے تراشیدہ ہیں۔
اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا مدد گار بنانے والا ایسے گڑھے میں جا گرا جہاں سے نکلنا ممکن نہیں :
ایک طرف اللہ کی خداوندی کا اقرار کرنا اور دوسری طرف اللہ سے پھرے ہوئے لوگوں کے احکام پر چلنا اور ان کے مقرر کئے ہوئے طریقوں کی پابندی کرنا شیطان کو اپنا رفیق و مدد گار بنانا ہے اور یہی اصلاً شرک بھی ہے۔ توحید تو یہ ہے کہ زندگی سراسر اللہ کی اطاعت میں بسر ہو اللہ کے ساتھ اگر دوسروں کو اعتقاداً مستقل بالذات مطاع مان لیا جائے تو یہ اعتقادی شرک ہے اور اگر عملاً ایسے لوگوں کی اطاعت کی جائے جو اللہ کی ہدایت سے بےنیاز ہو کر خود امرو نہی کے مختار بن گئے ہیں تو یہ یقینا عملی شرک ہے اور پھر جو شخص اس گڑھے میں جا گرا اس کے نکلنے کو کوئی صورت اور کیسے ؟ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس گڑھے میں گرنے والوں کو زندہ نہیں کہا بلکہ فرمایا کہ وہ مردہ ہیں اور ان کی اس موت سے مراد جہالت اور بےشعوری کی حالت ہے اور زندگی سے مراد علم و ادراک اور حقیقت شناسی کی حالت ہے۔ جس شخص کو صحیح اور غلط کی تمیز نہیں اور جسے معلوم نہیں کہ راہ راست کیا ہے ؟ وہ طبیعات کے نقطہ نظر سے چاہے ذی حیات ہو مگر حقیقت کے اعتبار سے اس کو انسانیت کی زندگی میسر نہیں ہے۔ ہاں ! وہ زندہ حیوان تو ضرور ہے شکل و صورت سے بھی وہ انسان نظر آتا ہے مگر وہ انسان نہیں۔ ایک زندہ انسان تو صرف وہی شخص ہے جسے حق اور باطل ، نیکی اور بدی ، راستی اور ناراستی کا شعور حاصل ہے۔
شیطان کا وعدہ ایک فریب ہے اس کے سوا کچھ نہیں اور اس کو بھی اس کا اقرار ہے :
شیطان مکار ضرور ہے لیکن کوئی بات سچ بھی کہہ جاتا ہے اس قبیل سے اس کی یہ بات ہوگی کہ وہ کہے گا کہ تمہارے سارے گلے شکوے اس حد تک تو صحیح ہیں کہ اللہ سچا ہے اور میں جھوٹا۔ اس واقعہ سے مجھے ہرگز انکار نہیں ہے۔ اللہ کے وعدہ اور اس کی وعیدیں تم دیکھ ہی رہے ہو کہ ان میں سے ہر ایک بات جوں کی توں سچی نکلی اور میں خود مانتا ہوں کہ جو بھروسے میں نے تمہیں دلائے ، جن فائدوں کے لالچ تم کو دیئے جن خوشنما توقعات کے جال میں میں نے تم کو پھانسا اور سب سے بڑھ کر یہ یقین جو تمہیں دلایا کہ اول تو آخرت کچھ ہے ہی نہین بلکہ صرف ایک ڈھکوسلہ ہے اور اگر ہوئی بھی تو فلاں صاحب کے تصدق سے تم صاف بچ نکلو گے۔ بس ان کی خدمت اقدس میں نزر و نیاز کی رشوت پیش کرتے رہو اور پھر جو چاہو کرتے پھرو ، بس نجات کا ذمہ ان کا ہوگیا۔ یہ ساری باتیں مع شے زائد جو میں تم سے کہتا رہا اور اپنے چیلوں چانٹوں کے ذریعہ سے کہلواتا رہا یہ سب کا سب محض دھوکا تھا۔
وہ ضرور کہے کہ میرے دوستو ! ایسا کوئی ثبوت رکھتے ہو کہ آپ کود راہ راست پر چلنا چاہتے تھے اور میں زبردستی آپ کا ہاتھ پکڑ کر غلط راستے پر کھینچ لایا تھا تو ضرور اس کو پیش کرو جو چور کی سزا سو میری۔ لیکن آپ خود مانیں گے کہ واقعہ یہ نہیں ہے۔ میں نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا کہ دعوت حق کے مقابلہ میں اپنی دعوت باطل آپ کے سامنے پیش کی۔ سچائی کے مقابلہ میں جھوٹ کی طرف آپ کو بلایا۔ نیکی کے مقابلہ میں بدی کی طرف آپ کو پکارا ، ماننے اور نہ ماننے کے جملہ اختیارات آپ ہی حضرات کو حاصل تھے۔ میرے پاس آپ کو مجبور کرنے کی کوئی طاقت نہ تھی۔ اب اپنی اس دعوت کا ذمہ دار تو بلاشبہ میں خود ہوں اور اس کی سزا بھی پا رہا ہون اور پائوں گا مگر آپ نے خود اس پر لبیک کہا اس کی ذمہ داری آپ مجھ پر ڈالنے چلے ہیں ، اپنے غلط انتخاب اور اپنے اختیار کے غلط استعمال کی ذمہ داری تو آپ کو خود ہی اٹھائی چاہئے۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ ” اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پورانہ کیا۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں۔ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کہا کہ اپنے راستے کی طرف تمہیں دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا ، اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہون اور نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا ، میں اس سے بری الذمہ ہوں ایسے ظالموں کے لئے تو دردناک سزا یقینی ہے۔ “ (ابراہیم :22:14) مزید دیکھنا ہو تو عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ 248:2: ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 4:121شیطان کے یاروں کا ٹھکانہ دوزخ ہے وہ اس سے بھاگ نہیں سکیں گے :
199: قرآن کریم میں جگہ جگہ مومن کی دومتقابل اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں۔ مومن سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنا رب اور معبود واحد مان کر اس قانون کی اطاعت اختیار کرلے جو اللہ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سے بندوں تک بھیجا ہے۔ اس کے برعکس فاسق وہ ہے جو خراج ازطاعت الٰہی بالفاظ دیگر بغاوت خود مختاری اور اطاعت غیر اللہ کا رویہ کرے اور یہی لوگ وہ ہیں جو شیطان کے یار کہلاتے ہیں اور یقینا ان سب کا ٹھکانا دوزخ ہے جب کبھی وہ اس نکلنا چاہیں گے اس میں دھکیل دئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب اسی آگ کے عذاب کا مزہ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ “ (حم السجدہ 32 : 20) اور یہ کہ وہ اس عذاب سے نکلنے کی سر توڑکوشش کریں گے لیکن یہ وہ وقت نہیں کہ جب کوئی اپنی کوشش سے اس چیز کو حاصل کرلے جس کو وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔
Ayah 4:122ایمان لانے والے اور ایمان کے بعد اچھے اعمال کرنے والے جنت کے باغات میں داخل ہوں گے :
200: مطلب یہ ہے کہ شیطان کے وعدے اور اس کی پیدا کردہ آرزوئیں تو محض جھوٹ کا پلندہ ہیں جن کی حقیقت کچھ بھی نہیں اور فریب کا ری کی حقیقت ہوتی ہی کیا ہے ؟ رہے وہ لوگ جو صحیح معنوں میں ایمان لانے والے ہیں اور اللہ کی رضا کے لئے اچھے اعمال کمانے والے ہیں ان کے لئے یقینا جنت کے دروازے کھلنے والے ہیں اور وہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے کیونکہ ان کو وہاں سے نکلنے کی ضرورت نہیں ہوگی اور ان کو اب نکالا بھی نہیں جائے گا۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” البتہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے ان کی میزبانی کے لئے فردوس کے باغ ہوں گے جن میں وہ ہمیشہ رہیں گیا اور کبھی اس جگہ سے نکل کر کہیں جانے کا ان کا جی نہیں چاہے گا۔ “ (الکھف 18 : 107 ، 108) اس لئے کہ اس حالت سے بہتر اور کوئی حالت ہوگی ہی نہیں کہ جنت کی زندگی کو اس سے بدل لینے کے لئیان کے دلوں میں کوئی خواہش پیدا ہو۔ کیونکہ یہ فطری چیز ہے کہ خواہش ہمیشہ اس کی پیدا ہوتی ہے جس سے لطف ومزہ بڑھے۔ جنت کے انعامات اور آسائشیں اتنی ہیں کہ اگر ان کو گنایا جائے تو ممکن نہی ہے کہ ان کو گنایا جاسکے۔ لیکن جنت کی بڑی نعمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کے کان وہاں بیہودگی ، یا وہ گوئی ، جھوٹ ، غیبت ، چغلی ، بہتان ، گالی گلوچ ، لاف و گزاف ، طنزوتمسخر اور طعن وتشنیع کی باتیں سننے سے محفوظ ہوں گے۔ وہ بد تمیز اور بد زبان لوگوں کی سوسائٹی نہ ہوگی جس میں لوگ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالیں وہ شریف اور مہذب لوگوں کا معاشرہ لوگا جس کے اندر یہ لغویات ناپید ہوں گی۔ اگر کسی شخص کو کچھ بھی اللہ نے شائستگی اور مذاق سلیم سے نوازا ہے تو وہ اچھی طرح محسوس کرسکتا ہے کہ دنیوی زندگی کا یہ کتنا بڑا عذاب ہے جس سے انسان کو جنت میں نجات پانے کی امید دلائی گئی ہے۔ چناچہ ارشادالٰہی ہے :
” وہاں وہ کوئی بیہودہ کلام یا گناہ کی بت نہ سنیں گے ، جو بات بھی ہوگی ٹھیک ٹھیک ہوگی ۔ “ (الوقعہ 56 : 25 ، 26) اس میں یہدرس بھی مخفی ہے کہ دنیا میں ان چیزوں سے پرہیز کرکے ان سے بیزار رہ کر زندگی بسرکروتا کہ ان چیزوں وہاں میسر نہیں ہوں گی جس کے نتیجہ میں تم کو جنت میں داخل ہی نہ کیا جائے گا کیونکہ جنت تو لطف ومزہ کی جگہ ہے پھر جہاں لطف ومزو ہی نہ ہوا تو وہ جنت کا ہے کی ہوگی ؟
جنت کیا ہے ؟ انعام خداوندی کا ایک وعدہ اور اللہ کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا :ـ
201: کچھ لوگوں کو اس بات سے بڑی ضد ہے اور وہ پریشان سے ہوجاتے ہیں جب ان کو یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ اپنے وعدے کا خلاف نہیں کرتا۔ ان کی سوچا ایسی منفی اور اتنی پست ہے کہ فورا اس انداز سے سوچنے لگتے ہیں کہ جو اللہ وعدے کا اتناپابند ہو وہ قادر مطلق کیسے ہوا ؟ وہ خیال کرتے ہیں کہ جو وعدے کا پکا ہو وہ تو مطلق العنان نہیں ہوتا۔ مطلق العنان تو وہ ہے کہ جو کہے کچھ اور کرے کچھ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اس کو کون پوچھ سکتا ہے کہ تم نے کہا کیا تھا اور کر کیا رہے ہو ؟ حالانکہ یہ مطلق العنانی کا نتیجہ نہیں بلکہ ڈھٹائی اور بےحیائی کا نتہج ہے۔ یہ وہی کرسکتا ہے جو زور آور ہونے کے ساتھ ساتھ بےغیرت بھی ہو۔ ہاں ! اللہ یقینا زور آور تو ہے لیکن اس سے بڑھ کر کوئی غیور بھی نہیں۔ اس لئے اس نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا کہ میرا وعدہ کبھی غلط نہیں ہوتا اور مجھ سے بڑے وعدے کا پکا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ یہاں بھی یہی ارشاد فرمایا کہ ” اللہ کا کا وعدہ حق ہے اور اللہ سے بڑھ کر بات کہنے میں سچا اور کون ہو سکتا ہے ؟ “ اس کی مزید تشریح دیکھنا درکارہو تو سورة النساء کی آیت 87 ملاحظہ فرمائیں یعنی حاشیہ 174 جنت اور انعامات جنت کا جہاں ذکر فرمایا وہیں یہ بات بھی ارشاد فرمائی کہ اللہ کی بات بڑی پکی اور سچی ہوتی ہے یہ نہیں ؟ جو اس نے کہہ دیا ہے وہ پتھر پر لکیر ہے۔
Ayah 4:123جنت ایک حقیقت ہے وہ خالی آرزوئوں کانا م نہیں :
202: مذاہب عالم کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھیں آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ من حیث القوم دنیا میں ایک قوم بھی ایسی نہیں پائی گئی جو جنت کو نہ مانتی ہو وہ چاہے جو نام اس کا رکھے۔ پھر تعجب یہ ہے کہ ہر قوم نے وہ اپنی ہی ملکیت سمجھ رکھی ہے اس لئے وہ دوسری ساری قوموں کو اس کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیتی۔ قرآن کریم انہی مفروضوں کو وہمی اور بناوٹی قرار دیتا ہے اور زور دے کر کہتا ہے کہ اللہ کے ٹھہرائے ہوئے دین کی حقیقت تو یہ تھی کہ وہ نوع انسانی پر خدا پرستی اور نیک عملی کی راہ کھولتا تھا یعنی اللہ کے اسی قانون کا اعلان کرتا تھا کہ دنیا کی ہرچیز کی طرح انسانی افکارو اعمال کے بھی خواص و نتائج ہیں۔ اچھے فکروعمل کا نتیجہ اچھا ہے اور برے فکروعمل کا نتیجہ برا ہے لیکن لوگوں نے یہ حقیقت فراموش کردی اور دین و مذہب کو نسلوں ، قوموں ، ملکوں اور طرح طرح کی رسموں اور رواجوں کا ایک جتھا بنا لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب انسان کی نجات وسعادت کی راہ یہ نہیں سمجھی جاتی کہ کسی کا اعتقاد وعمل کیسا ہے ؟ ملکہ سارا دارومدار اس پر آکر ٹھہر گیا ہے کہ کون کس جتھے اور گروہ بندی میں داخل ہے ؟ اگر ایک آدمی کسی خاص گروہ بندی میں داخل ہے تو یقین کیا جاتا ہے کہ وہ نجات یافتہ ہے اور دین کی سچائی اسے مل گئی ہے۔ اگر داخل نہیں ہے تو یقین کیا جاسکتا ہے کہ نجات کا دروازہ اس پر بند ہوگیا اور دین کی سچائی میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ گویا دین کی سچائی آخرت کی نجات اور حق باطل کا معیار تمام تر گروہ بندی اور گروہ پرستیہو گئی گویا اعتقاد اور عمل کوئی چیز نہیں ہے۔ پھر باوجودیکہ تمام مذاہب کا مقصود اصل ایک ہی ہے اور سب ایک ہی پروردگار عالم کی پرستش کرنے کے مدعی ہیں ۔ لیکن ہر گروہ یقین کرتا ہے دین کی سچائی صرف اس کے حصے میں آئی ہے باقی تمام نوع انسانی اس سے محروم ہے چناچہ ہر مذہب کے پیرو دوسرے مذہب کے خلاف نفرت و تعصب کی تعلیم دیتے ہیں اور دنیا میں خدا پرستی کی راہ سرتاسر بغض و عداوت ، نفرت اور دشمنی پر سمجھ لی گئی ہے۔ حالانکہ یہ بات غلط ہے پھر بوالعجبی یہ دیکھو کہ ایک ہی دین کے ماننے والے لوگوں نے دین کے اندر گروہ بندیاں قائم کرلیں اور اس طرح دین و مذہب ایک بکھیڑا بن کر رہ گیا۔ اس سلسلہ میں قرآن کریم نے جن اصولوں پر زور دیا ان میں تین اصولی باتیں سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں۔
وہ کہتا ہے کہ انسان کی نجات وسعادت کا دارومدار اعتقاد وعمل پر ہے نہ کہ کسی خاص گروہ بندی پر ، پھر صرف اتنا ہی نہیں بلکہ وہ اس سے آگے بڑھ کر گروہ بندی کو شرک قرار دیتا ہے اور صاف صاف اعلان کرتا ہے کہ دین اسلام کے اندر رہ کر گروہ بندی اللہ کی رحمت سے دوری کا نتیجہ ہے۔
وہ کہتا ہے تمام نوع انسانی کے لئے دین الٰہی ایک ہی ہے اور یکساں طور پر سب کو اس کی تعلیم دی گئی ہے پس یہ جو پیروان مذاہب نے دین کی وحدت اور عالمگیر حقیقت ضائع کر کے بہت متخالف اور متخاصم جھتے باندھ لئے ہیں یہ صریح گمراہی ہے اللہ نے سب کو “ دین ہی کی ہدایت دی ہے۔
وہ کہتا ہے اصل دین توحید ہے یعنی ایک پروردگار عالم کی براہ راست پر ستش کرنا اور تمام بانیان مذاہب نے اس اصول پر انسانوں کو اکٹھا ہونے کی دعوت دی ہے اور یہ کہ وہ بانیان مذاہب کون تھے ؟ انبیائے کرام جو اللہ کے رسول یا نبی کہلائے اس کے خلاف جس قد رعقائدو اعمال اختیار کر لئے گئے وہ سب کے سب اس اصلیت سے انحراف کا نتیجہ ہیں اور پھر یہ کہ اس کا حل بھی صرف ایک ہے دوسرا کوئی نہیں وہ یہ کہ اس اصلیتکو تسلیم کرلیا جائے اور اس اصول کے ماتقدم اٹھیں جو اٹھیں۔
Ayah 4:124اچھے عمل کا بدلہ اچھا ہوتا ہے اور اچھا عمل وہی ہے جو ایمان کے ساتھ ہو :
203: یہاں اس بات کو واضح کردیا کہ اعمال صالحہ کی قبولیت کے لئے ایمان کا ہونا شرط اولین ہے۔ آپ خود دیکھئے کہ ایک آدمی ایک قطعہ زمین کو ہموار کرتا ہے۔ اس سے جڑی بوٹی اکھاڑکر باہر پھینکتا ہے ، پھر اس کی آبپاشی کرتا ہے اور پھر عین وقت پر اس میں ہل چلا دیتا ہے اور رات دن اس کی نگرانی میں مصروف رہتا ہے لیکن اس میں وقت پر بیج نہیں ڈالتا تو کیا اس کی طویل محنت ومشقت کا کوئی نتیجہ برامد ہوگا ؟ جب بیج ہی نہیں تو ساری محنت رائیگاں جائے گی اس طرح اگر ایمان کا تخم نہیں تو دنیا جہان کی ساری نیکیاں برباد ہوجائیں گی اس لئے کہ ان میں با آورہونے والی چیز موجود نہیں اور اگر ذرادقت نظر سے کام لیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ عمل صالح ہو ہی نہیں سکتا جب تک عامل میں صفت ایمان موجود نہ ہو کیونکہ ایمان کے بغیر ہر عمل کے پیچھے کوئی پست جذبہ کار فرما ہو گا مثلا دنیاوی منفعت ، شہرت اور ذکر دوام وغیرو وغیرو تو پھر جس عمل کا محرک ایسی پست چیز ہو وہ عمل صالح کہلا ہی نہیں سکتا صرف ایمان ہی وہ قوت ہے جو ہر عمل کا رخ صرف اللہ وحدئہ لا شریک لہ ‘ کی طرف موڑ دیتی ہے اور اسی نسبت کی برکت سے انسان کا ہر عمل سے صالح بن جاتا ہے اور اس پر جو نتائج مرتب ہوتے ہیں ان سے عامل کی زندگی کو بھی چارچاند لگ جاتے ہیں اور اس کی قوم اور ملک کو بھی عزت و ناموری حاصل ہے۔ غور کرو کہ مومن کون ہوا ؟ وہی جس کے دل میں ایمان کا بیج موجود ہے۔ وہ ایمان کا بیج کیا ہے ؟ رضائے الٰہی اور اس کے متعلقات خاص۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ ایمان کسی قوم ، ملت اور گروہ کی میراث نہیں کہ اس قوم ملت یا گروہ میں داخل ہوگئے تو ایمان مل گیا اور یہی بات آج تسلیم کرنا مشکل ہوگیا ہے اس لئے کہ نجات کا سارا دارومدار قوم وملت اور گروہ بندی پر آکر ٹھہر گیا۔ گویا وہ چیز جو ایمان کے منافی تھی وہی عین ایمان قرار پائی۔ وہی جو زہر تھا تریاق مان لیا گیا۔ آپ کیا کریں ؟ وہی جو اللہ نے کرنے کا حکم دیا فرمایا ” جو کوئی اچھے کام کرے گا خواہ مرد ہو خواہ عورت اور وہ ایمان بھی رکھتا ہوگا تو ایسے ہی لوگ جو جنت میں داخل ہوں گے اور رائی برابر بھی ان کے ساتھ بےانصافیہونے والی نہیں۔ “ چناچہ قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
جو شخص بھی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہوہ مومن بھی ہو اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور آخرت میں ایسے لوگوں کو ان کا اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔ “ (النحل 16 : 90)
اس آیت سے سارے گروہوں کے ان تمام کم نظر اور بےصبر لوگوں کی غلط فہمی دور ہوجانی چاہئے جو یہ سمجھتے ہیں کہ سچائی ، دیانت اور پرہیزگاری کی روش اختیار کرنے سے آدمی کی آخرت چاہے بن جاتی ہو مگر اس کی دنیا ضرور بگڑجاتی ہے ۔ جو لوگ حقیقت میں ایماندار اور پاکباز اور معاملہ کے کھرے ہوتے ہیں ان کی دنیوی زندگی بھی بےایمان ، بد عمل لوگوں کے مقابلہ میں صریحا بہتر رہتی ہے جو ساکھ اور سچی عزت اپنی بےداغ سیرت کی وجہ سے انہیں نصیب ہوتی ہے۔ جو ستھری اور پاکیزہ کامیابیاں ان کے حصے میں آتی وہ ان لوگوں کو میسر نہیں آتیں جن کی ہر کامیابی گندے اور گنھائونے طریقوں کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ وہ بوریا نشین ہو کر بھی قلب کے جس اطمینان اور ضمیر کی جس ٹھنڈک سے بہرہ مند ہوتے ہیں اس کا کوئی ادنیٰ سا حصہ بھی محلوں میں رہنے والے فساق وفجار نہیں پاسکتے دنیا کی ریل پیل ان کو خواہ کتنی ہی میسرآچ کی ہو لیکن بد اطمینانی کا شکار رہنا ان کا مقدر بن جاتا ہے جو ان کی ساری فراوانیوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔ مزید تشریح کے لئے سورة آل عمران 195 کی تفسیر دیکھیں جو اس جلد کی پچھلی سورت ہے۔
204 نیک عمل کی دو صورتیں گئی ہیں ایک یہ انسان خود نیک عمل کرے اور دوسری یہ کہ نیک عمل کی دوسروں کو دعوت دے۔ یہ وہی کام ہے جو انبیاء (علیہم السلام) سر انجام دیتے رہے اور آج یہی وہ کام ہے جو خصوصا محمد رسول اللہ ﷺ کی امت کے ذمہ لگایا گیا ۔ کیوں ؟ اس لئے نبوت کا وہ عہدہ خاص بند کردیا گیا ہے جس کے ذمہ یہ کام لگایا گیا تھا اور وہی زمہ داری اس امت وسطیٰ کے ذمہ ڈال دی گئی ۔ اس لئے ان کو اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ آگے کا درجہ جس سے زیادہ بلند کوئی درجہ انسان کے لئے نہیں ہے یہ ہے کہ تم خود نیک عمل کرو اور دوسروں کو اللہ کی بندگی کی طرف بلائو اور شدید مخالفت کے ماحول میں بھی جہاں اسلام کا اعلان و اظہار کرنا اپنے اوپر مصائب کو دعوت دینا ہے ڈٹ کر کہو کہ میں مسلمان ہوں اس ارشاد کی پوری اہمیت سمجھنے کے لئے اس ماحول کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے جس میں یہ بات فرمائی گئی تھی۔ وہ وتا وہ تھا کہ جو شخص بھی مسلمان ہونے کا اظہار کرتا تھا اسے یکا یک یہ محسوس ہوتا تھا کہ گویا اس نے درندوں کے جنگل میں قدم رکھ دیا ہے جہا ہو ایک اس کو پھاڑکھانے کو دوڑرہا ہے اور اس سے آگے بڑھ رکر جس نے اسلام کی تبلیغ کے لئے زبان کھو لی اس نے تو گویا درندوں کو پکار دیا کہ آئو اور مجھے پھاڑ کھائو اس لئے فرمایا گیا کہ بتائو اس سے بہتر کون ہے جس نے اپنے آپ کو صرف اللہ کا مطیع اور فرمانبردار ثابت کرنے کے لئے احسان کا درجہ کرلیا کہ خود بھی نیک عمل ہوا اور دوسروں کو بھی نیک عمل کی دعوت دی اور اس طرح اس نے وہی کچھ کیا جو اس کے پیغمبر محمد رسول اللہ ﷺ کا اسوئہ حسنہ تھا اور اس نے اسی ملت کے ساتھ وابستگی کا ثبوت دیا جو ملت ابراہیمی کہلاتی ہے اور ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہوا :
” اور اس شخص کی بات سے اچھی بات کس شخص کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور اعلان کیا کہ میں مسلمان ہوں۔ “ (حم السجدہ 14:33)
Ayah 4:125ابراہیم (علیہ السلام) وہ شخصیت جو سب سے کٹ کر صرف اللہ کے ہو رہے تھے :
205: فرمایا یہ ملت ابراہیمی کی دعوت کسی گروہ بندی کی دعوت نہیں بلکہ یہ ساری گروہ بندیوں کو رخصت کردینے کی دعوت ہے۔ اس لئے گروہ بندیاں اس وقت بھی موجود تھیں لیکن تاریخ کو ورق گردانی کر کے دیکھو کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے کسی گروہ کا ساتھ دیا تھا ؟ تم پر روشن ہوجائے گا کہ وہ تو ہر طرف سے منہ موڑکر صرف ایک کا ہو کر رہ گیا تھا اس لئے اس کو ” حنیف “ کہا گیا۔ اس کا نتیجہ کیا رہا ؟ فرمایا اللہ نے ابراہیم کو خلیل بنا لیا۔ سبحان اللہ کیا لطف ہے اس فقرئہ قرآنی میں کہ واتخذاللہ ابراہیم خلیلا ” اللہ نے ابراہیم کو اپنا دوست بنا لیا۔ “ یہ نہیں فرمایا کہ ابراہیم نے اللہ کو دوست بنا لیا بلکہ فرمایا کہ اللہ نے ابراہیم کو اپنا دوست بنا لیا۔ خلیل کیا ہے ؟ خلیل کا لفظ اس حبیب اور محب پر بولا جاتا ہے جس کے دل میں اپنے محبوب کی محبت یوں بس جائے کہ کسی غیر کی محبت کی گنجائش تک باقی نہ رہے اس لئے ” خل “ سرکہ کو کہا جاتا ہے اس لئے کہ وہ زبان پر رکھنے والے کے روں روں میں اثر کرجاتا ہے اور یہی وہ حالت ہے کہ انسان کے ہاتھ وہی کرتے جو اللہ کی رضا ہو۔ انسان کی آنکھ وہی دیکھتی ہے جس کو دیکھ لینے کا حکم ہو۔ انسان کا قدم اسی طرف اٹھتا ہے جس طرح اللہ اٹھواناچاہتا ہے اور اس سے کوئی فعل ایسا سرزد نہیں ہوتا جو مطلوب الٰہی نہ ہو لیکن اس سارے قرب کے باوجود اللہ اللہ ہوتا ہے اور بندہ بندہ نہ اللہ بندہ میں حلول کرتا ہے اور نہ بندہ للہ میں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جبریل علیہ اسلام کے پر جلتے ہیں اور بڑوں بڑوں کی عقل جواب دے جاتی ہے اور اللہ کا خاص فضل شامل نہ ہو تو قدم ایسا پھسلتا ہے کہ نہ دین باقی رہتا ہے نہ دنیا۔ جو سنبھل گیا وہ ابراہیم (علیہ السلام) کا متبع قرار پایا اور جس کے قدم ڈگمگائے وہ شیطان کا ساتھی ہو کر رہ گیا۔ زیادہ بلندی سے گرنے والا ہمیشہ زیادہ ہی چکنا چور ہوتا ہے۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھو عروۃ الوثقی جلد اول کی تفسیر سورة البقرہ آیت 112 ‘ 122 ‘ 124 ‘ 131 ‘ 135 ‘ 256 ۔
Ayah 4:126آسمان و زمین کی ہور شے ک اصل مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہ ہرچیز کو گھیرے ہوئے ہے :
206: قرآن کریم کا قاری جو قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھتا ہے وہ اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ مشرکین کو ہمیشہ دو صفات باری یعنی علم وصفت ملک وقدرت میں سب سے زیادہ ٹھوکر لگی ہے اس لئے قرآن کریم انہی دو صفات کا اثبات باربار کرتا ہے یہاں بھی للہ مافی السموات ومافی الارض میں اللہ تعالیٰ کی صفت کمال قدرت و وسعت سلطنت کا بیان ہے اور کا ناللہ بکل شیء محیطا میں کمال علم کا بیان ہے اور مطلب یہ ہے کہ کوئی چھوٹی بڑی چیز اس پوری کائنات میں سے نہ اس کی ملک و سلطنت سے باہر ہے اور نہ اس کے احاطہ علم سے۔
اور اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ ہو وقت اس کارگاہ علم میں اس کی کارفرمائی کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے ، کسی کو ماررہا ہے اور کسی کو جلا رہا ہے ، کسی کو اٹھا رہا ہے اور کسی کو گرا رہا ہے۔ کسی کو شفا دے رہا ہے اور کسی کو بیماری میں مبتلا کر رہا ہے۔ کسی ڈوبتے کو بچا رہا ہے اور کسی تیرتے کو ڈبورہا ہے۔ بیشمار مخلوقات کو طرح طرح سے رزق دے رہا ہے۔ بےحدو حسات چیزیں نئی سے نئی اور شکل و صورت اور اوصاف کے ساتھ پیدا کر رہا ہے۔ اس کی دنیا کبھی ایک حال پر نہیں رہتی۔ ہر لمحہ اس کے حالات بدلتے رہتے ہیں اور اس کا خالق ہر بار اسے ایک نئی صورت سے تر تیب دیتا ہے جو پچھلی تمام صورتوں سے مختلف ہوتی ہے اور یہ سارا معاملہ اس کے قانون کے مطابق ہورہا ہے اس کا بیان دوسری جگہ قرآن کریم میں اس طرح کیا گیا ہے کہ : (الرحمن 55:69)
Ayah 4:127لوگ آپ ﷺ سے عورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں تو آپ ﷺ ان کو جواب دے دیں
207: اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ سے عورتوں متعلق پوچھتے ہیں۔ کیا پوچھتے ہیں ؟ ان کے لئے کیا حصہ مقرر ہو ا ہے۔ کیوں پوچھتے ہیں ؟ اس لئے کہ عربوں میں یتیم بچوں اور عورتوں کو میراث میں سے کوئی حصہ نہیں دیا جاتا تھا جیسا کہ اس سورت کی آیت 7 ‘ 8 میں آپ پڑھ چکے ہیں اس لئے جب قرآن کریم میں عورتوں اور بچوں کے ورثہ پانے کے متعلق حکم آیا تو بعض لوگوں کو یقینا ناگوار ہوگا ، کیوں ؟ اس لئے کہ لوگ ہمیشہ رواج کے خلاف جب کوئی بات پاتے ہیں تو اس پر ناک بھول چڑھاتے ہیں اور کبھی اس پر ٹھنڈے دل سے غورو فکر نہیں کرتے ہاں ! آہستہ آہستہ اگر وہی بات رواج پاجائے جس سے وہ جز بز تھے تو کل رواج پا جانے کے بعد وہ ان کو بھلی لگے گی کیوں ؟ محض اس لئے کہ اس وقت اس کا رواج نہیں تھا اور اب اس کا رواج ہوگیا اور ہر کوئی اس کو کرنے لگا تو اس طرح دیکھا دیکھی اس کا کرنا آسان ہوگیا۔
آگے چل کر ان عورتوں کو یتیم عورتوں کے خطاب سے بھی ان کے ساتھ بات کی گئی ہے اس لئے سمجھ لینا چاہئے کہ یتیم عورتیں کو ن ہیں ؟ وہی عورتیں جن کے خاوند وفات پاچکے ہوں ان کو یتیم عورتیں کہا جائے گا اس لئے کہ جو لوگ ان کے لئے نان ونفقہ اور لباس و رہائش کے ذمہ دار ٹھہرے تھے وہ نہ رہے اس لئے ان عورتوں کو یتیم عورتوں کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ فرمایا کہ وہ آپ سے اے پیغمبر السلام ان یتیم عورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں تو آپ ﷺ ان سے کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ تم کو ان عورتوں کے متعلق فتویٰ دیتا ہے کہ ان کی میراث ان کے حوالے کرو یعنی خاوند کی وفات کے بعد اگر خاوند کی کوئی اولاد موجود ہے خواہ اس بیوی سے یا کسی دوسری بیوی سے تو عورت کو آٹھواں حصہ ملے گا اور اگر اس کی اولاد نہ ہوئی تو چوتھے حصہ کی وہ مالک قرار پائے گی۔ بس یہ حصہ اس کا اداکردو کہ قانون الٰہی کی حفاظت ہو۔
یتیم عورتوں کو کسی کی سرپرستی میں دیئے جانے کا مطلب کیا ہے ؟
208: یتیم عورتوں کو خواہ وہ والدین کی وفات کی وجہ سے یتیم ہوئی ہوں اور خواہ اپنے خاوندوں کی وفات کی وجہ سے وہ یتیم کہلاتی ہوں بہرحال ان کے سرپرستوں کو یہ حق نہیں کہ وہ ان کے بارے میں جو چاہیں کریں یہ اس لئے فرمایا کہ عربوں میں رواج طے پا گیا تھا کہ اگر یتیم لر کی خوبصورت ہوتی اور مالدار بھی تو ان کے نگران و سرپرست مقرر ہونے والے اگر چاہتے تو ان کے مال پر قبضہ کرنے کے لئے ان سے نکاح کرلیتے اس طرح گویا وہ ہمخرما وہم صواب کے کے مستحق قرار پاتی کہ خوبصورت عورت بھی مل گئی اور مال بھای اور پھر جس طرح چاہتے وہ ان سے سلوک کرتے اور اگر وہ لڑکی خوبصورت نہ ہوتی اور وہ نکاح کرنا اس سے پسند نہ کرتے تو پھر کسی دوسرے سے نکاح کردیتے اس شرط پر کہ وہ اس کے حق مہر کی رقم خود کھا جائیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ وہ ان کے نگران حال قرار پائے تھے۔ قرآن کریم نے اس رسم بد کو مٹانے کی کوشش کی اور ان کو اس زیادتی سے منع فرمایا اور ان کو شرم دلائی کہ تم کوئلوں کی دلالی میں اپنا منہ کیوں کالا کرتے ہو۔ نکاح کا حق تم کو اس صورت حاصل ہے کہ ان کے مہر ادا کرو اور ان کا جو کچھ مال تمہارے قبضے میں دیا گیا تھا ان کو واپس کرو۔ ہاں ! ان کی ملکیت میں رہتے ہوئے تم ان کی مرضی سے فائدہ حاصل کرو یہ دوسری بات ہے لیکن ان کی سرپرستی کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم ان کے اور ان کے مال کے مالک ہوگئے۔
یتیموں کی نسبت جو حکم تم کو قبل ازیں سنایا گیا تھا اس میں کوئی ترمیم نہیں کی جاسکتی :
209: قرآن کریم نے اس ظلم صریح سے اس سورة النساء کے ابتداء ہی میں روک دیا تھا لیکن جو بات رواج کے خلاف ہو وہ نظروں میں ضرور کھٹکتی ہے اور اس پر تعجب ہوتا ہے۔ یہ بات چونکہ عربوں کے رواج کے خلاف تھی کہ عورتیں اور یتیم بچے میراث میں برابر کے شریک ؟ اس لئے اب دوبارہ ان کو تاکیدی حکم سنا یا جارہا ہے کہ جو کچھ تم کو قبل ازیں سنایا گیا تھا وہ من اللہ ہے اگر ان کمزوروں کے ساتھ تم نیک سلوک نہیں کرسکتے تو ظلم بھی تو نہ کرو جو ان کا حق مقرر کردیا گیا ہے اس میں اب کوئی ترمیم نہیں کی جاسکتی۔ بس تم ان کا حق ادا کرو اور ان کا حق مارنے کے لئے طرح طرح کے بہانے مت تراشا کرو یہ دنیا کا مال کیا ہے ؟ چاردن کی چاندنی پھر اندھیری رات ہے۔ “ تم کو جس بات سے روکا گیا ہے وہ ظلم و زیادتی کی بات ہے اس لئے تم کو منع کیا گیا ورنہ حق و انصاف کے ساتھ تم اس یتیم لڑکی سے نکاح کرنا چاہو جو تمہاری نگرانی میں دی گئی ہے تو اس کی رضا مندی سے کرسکتے ہو اور اس طرح اس کا مال بھی اس کو واپس لوٹانا ہوگا اس لئے کہ اس کے ساتھ نکاح کرلینے کا مطلب یہ مت سمجھو کہ اس کی ملکیت میں اب کوئی چیز نہیں رہی بلکہ تم یہ اس کی ہرچیز کے مالک ہوگئے ہو۔ تعجب ہے کہ آج زمانہ کتنی ترقی کر گیا ہے تاہم اس معاملہ میں آج بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔ عورت کو نہ میراث میں شریک کیا جاتا ہے یعنیاسکا جو حق ہے نہ وہ ادا کیا جاتا ہے اور اگر نکاح کے باعث خاوند کی طرف سے جو حصہ اس کو ملنا چاہئے تھا نہ وہ اس کو ادا کیا جاتا ہے اور جہاں قانونی مجبوریاں حائل ہوں وہاں ان مجبوریوں کا کوئی حل تلاش کیا جاتا ہے۔ سیدھے راستے پر قدم اٹھانے کے لئے کوئی تیار نہیں پھر لطف کی بات یہ ہے کہ معاشرہ میں اس برائی کو کوئی برائی نہیں سمجھتا بلکہ عین حق سمجھتا ہے۔ اگر کوئی عورت ہی نہیں رہتی بلکہ ایک ” چڑیل “ بن جاتی ہے۔ بڑے سمجھدار اور عقل و فکر کے مالک ، حاجی ، نمازی ، علامے ، فلامے اور کٹر قسم کے مزہبی لوگ سب دریا میں غوطہ زن نظر آتے ہیں کیونکہ اس برائی کو کوئی برائی نہیں سمجھتابل کہ عین نیکی تصور کرتا ہے۔ اگر برائی ہے تو اسلامی قانون پر عمل درآمد برائی تصور ہوتی ہے۔
مزید تفصیل کے لئے اس سورة النساء کی آیت 2 ‘ 3 ‘ 4 ‘ کا مطالعہ کریں مختصر یہ کہ یتیم بچیوں ، بچوں اور عورتوں کے حقوق کی ادائیگی اسلامی اصولوں کے مطابق اسلامی قانون کا وہ حصہ ہے جس کی پابندی ہر انسان پر لازم و ضرور اور حکومت اسلامی حق ہے وہ اس سلسلہ میں جو بد اعتدالیاں کی جاتی ہیں ان کا سختی سے نوٹس لے کر ایسا قانون بنائے کہ اس کا نفاذ ہر حال میں لازم و ضروری ہو اور خلاف ورزی کرنے والوں اور رخنہ اندازیاں پیدا کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے
Ayah 4:128میاں بیوی میں ایک دوسرے سے کنارہ کشی کا اندیشہ ہو تو اس میں اصلاح کا پہلو تلاش کرو :
210: نشوز کیا ہے ؟ زیادتی ہے یا بےرغبتی کو کہا جاتا ہے اور یہ میاں کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے اور بیوی کی طرف سے بھی۔ اگر خاوند کی طرف سے وہ تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ طلاق دینا چاہتا ہے اور بیوی کی طرف سے ہو تو اس کا مطلب یہ کہ وہ خاوند کی قوامیت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں یا وہ جدائی کی خا اہش مند ہے۔ اس کی پوری تفصیل اس سورة النساء کی آیت 48 میں جا چکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرمالیں۔
اس جگہ اس صورت کا ذکر ہے جب عورت کو خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا خوف وہ تو ظاہر ہے کہ یہ تعداد ازدواج کا کسی مالی صورت کے پیش نظر ہی ہونا ممکن ہے۔ یعنی خاونددوسری شادی کرنا چاہے یا عورت کے پاس مال ہے اور مرد کسی طریقہ سے اس کو حا صل کرنا چاہتا ہے دونوں صورتوں میں یہ جھگڑا کھڑا ہو سکتا ہے۔ بہر حال جس طرح کا جھگڑا پیدا ہو اس کے ختم کرنے اور فریقین میں صلح و صفائی ہوجا نے کی بڑی ضرورت ہے اس میں فریقین کو آپس میں جلد کسی فیصلہ پر پہنچنا چاہئے اگر فریقین کے لواحقین کو شامل کرنے کی ضرورت ہو تو کیا جاسکتا ہے لیکن اصلاح ہر حال میں ضروری ہے اس لئے کہ یہ آگ اندر ہی اندر سلگتی رہی تو اس کے اثرات دور تک پہنچیں گے۔ اسی سورت النساء کی آیت 34 کی تفسیر بھی دیکھ لیں۔
مال کے لالچ سے بھی اس طرح کی صورت پیدا ہو سکتی ہے اس معاملہ میں بھی غور و فکر کرو :
211: ” الشح “ مال ہی کے لالچ سے انسان اس بخل کا شکار ہوجاتا ہے پھر اندر حالات کچھ ہوتے ہیں اور باہر اظہار کا طریقہ کچھ اختیار کیا جاتا ہے اس لئے یہ صورت حال بھی بڑی نازک ہوتی ہے فرمایا اس کی طرف بھی دھیان دے لو کہ کہیں ایسی صورت نہ لاحق ہوچکی ہو کیونکہ مال کا لالچ چیز ہی ایسی ہے کہ انسان اس کو بعض اوقات ظاہر بھی نہیں کرتا اور ساری بیماری کی جڑ بھی وہی ہوتا ہے۔ تعجب ہے کہ ایک ہی گھر کے اندر رہنے والے میاں بیوی اور اولاد جن کی سوچ ایک نفع و نقصان ایک لیکن سارے الگ الگ اس مرض کے شکار۔ کوئی پوچھے کے مال میاں کے پاس ہوا تو وہ کہاں لے جائے گا۔ بیوی کے پاس ہوگا تو وہ کیا کرے گی ؟ لیکن سب کی اپنی اپنی گرہ اور اپنا بنک بیلنس ، کیوں اس لئے کہ کا لالچ سب میں ہے پھر جائز حد تک تو برداشت لیکن کبھی کبھی یہ حدود سے تجاوز کرجاتا ہے اور اس سے حالات کی نزاکت بھی ظاہر ہے کہ بدل جاتی ہے۔ فرمایا اس حالت سے بچو اور یاد رکھو کہ جس چیز کو تم چھپا رہے ہو ایک دوسرے سے تو چھپالو گے لیکن اللہ تعالیٰ تو وہ ذات ہے کہ اس کو ہرچیز کی خبر ہے اور اس سے کچھ بھی چھپایا نہیں جاسکتا ۔ تفصیل کے لئے عروۃ الوثقی جلد اول تفسیر سورة البقرہ کی آیت 275 اور جلد تفسیر سورة النساء آیت 35 تا 43 کا مطالعہ کریں۔
Ayah 4:129دو یا زیادہ بیویوں کے درمیان عدل اتنا آسان بھی نہیں کہ تم اس کو معمولی بات سمجھ لو :
212: وہ عدل جو استطاعت انسانی سے باہر ہے اس کے متعلق کہنا کہ عدل کرو یہ قرین قیاس بھی نہیں۔ ظاہر ہے کہ عدل جس کے متعلق اتنا زور دیا گیا ہے ظاہری حالات میں ممکن کہ ایک سے زائد بیویاں ہونے کی سورت مین ان کے مکان ، لباس اور خوراک میں اور معاشرت کے طور طریقوں میں انصاف سے کام لیا جائے۔ دلی لگائو اور اس طرح کی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن میں کوئی انسان بھی عدل نہیں کرسکتا۔ ایک بیوی کے ہاں اولاد زیادہ ہے ، دوسری کے ہاں کم۔ ایک بیمار ہے اور دوسری صحت مند اور اس طرح کی اور بہت سی چیزیں ایسی ممکن ہیں کی اگر ہو معاملہ میں تم کو تکلیف مالایطاق دی گئی ہے۔ ہاں تم کو کہا یہ گیا تھا کہ ایک بیوی کی طرف جھک نہ جائو ” فلا تمیلو “ مال یمیل کے معنی ہیں جھک جانا ایسا کہ ایک جگہ ٹھہرئو ممکن ہی نہ ہو۔ مال کو مال اس لئے کہتے ہیں کہ یہ ایک جگہ رک نہیں سکتا بلکہ دوسرے کی طرف بڑھنے کی رغبت اور قوت رکھتا ہے۔ وہ روپیہ جو آج آپ کو ملا ہے کب تک اس کو سنبھال رکھو گے اور اس کو کون کون سنبھالتا آیا لیکن کسی کے پاس یہ رکا ؟ نہیں بلکہ اس کو قرار ہے نہیں۔ فرمایا تم کو جس بات سے منع کیا گیا وہ یہ ہے کہ تم ایک طرف اتنا جھک جائو کہ دوسری کی پرواہ ہی نہ کرو علق کسی چیز کے لٹکجانے پر بولا جاتا ہے کہ عورت سے نکاح کر کے اس کو پابند کر دو اور خود آزادیاں لیتے پھرو اس بات سے تم کو روکا گیا ہے کہ ایسا کام مت کرو۔ سب سے پہلے انسانی حقوق ہیں تم انسان ہو تو تمہاری بیوی ظاہر ہے کہ وہ بھی انسان ہے۔ پھر آخر تم نے اس سے نکاح کیا ہے اور اس کی ذمہ داریاں تم پر عائد ہوتی ہیں ان کو ادا کرو۔ نفرت نہ رکھو اور اس بات کو ذہن نشین رکھو کہ تعداد ازدواج ایک مشکل کا حل ہے اور ضرورت کا معاملہ ہے اگر ایسی ضرورت پیش آجائے کسی مشکل میں اس طرح پھنس جائو کہ اس کے سوا تم کو چارہ نہ ہو تو نکاح کی اجازت دی گئی ہے اور اس اجازت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم عیاشی شروع کر دو اور کسی انسان کو انسان نہیں بلکہ ایک جانور سمجھنا شروع کردو اگر پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم رکھا گیا ہے تو وہ تمہاری سہولت کے لئے پوری نماز کی بجائے قصر کی اجازت دی ہے تو اس کا سبب سفر ہے روزہ کی بجائے فدیہ ہے تو اس کی وجہ بیماری یا بڑھاپا ہے اس طرح غور کرو کہ جو سہولت تم کو دی گئی ہے محض اس لئے دی گئی ہے کہ تم کسی مشکل میں پھنس کر نہ رہ جائو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سہولت سے ناجائز فائدہ حا صل کرنا شروع کردو۔ تفصیل کے لئے سورة النساء کی آیت 3 ، 4 ‘ اور 35 ملاحظہ فرمائیں۔
اختیاری باتوں میں درستگی سے عمل پیرا رہو اور اللہ کو غفور رحیم سمجھو :
:213 مطلب یہ ہے کہ اگر تم اصلاح پسند ہو تو کوئی قدم ایسا نہ اٹھائو جو اصلاح کا نہ ہو کیونکہ ایسا کرنا تمہارے دعویٰ کے بھی خلاف ہوگا۔ ازدواجی رشتہ قائم ہونے کے بعد کوشش تو یہی ہونی چاہئے کہ وہ ٹوٹنے نہ پائے اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ فریقین بھی چاہیں۔ کسی ایک فریق کی رضا نہ ہو تو اس تعلق کے بجال رہنے کی صورت ممکن نہیں ہے۔ تم کو جہاں تک اختیار ہے تمہارا قدم اصلاح کا ہونا چاہئے۔ لیکن ساری کوششوں کے بعد نتیجہ بہر حال اللہ کے سپرد ہونا چاہئے وہ غفور رحیم ہے اگر اصلاح کے باوجود کوئی فروگزاشت ہوگئی تو یقیناوہ اپنے بندوں کو معاف کردینے والا ہے۔
Ayah 4:130اگر اصلاح کی کوئی صورت پیدا نہ ہو تو انجا م کیا ہوگا ؟ جدائی ہوجائے گی :
214: اصلاح کا مطلب کیا تھا ؟ یہی کہ جدائی نہ ہو لیکن اصلاح ممکن نہ رہی تو کیا ہوگا ؟ جدائی فریقین نے اپنی طرف سے کوشش کی لیکن اس کے باوجود جدائی ہوگئی تو اب یہی ہو سکتا ہے کہ دونوں اپنے اندر کسی قسم کا کینہ و بغض کو جگہ نہ دیں اور اپنا گناہ دوسرے پر تھو پنے کی کوشش نہ کریں۔ اللہ سے دعا کریں کہ اللہ دونوں کے حالات کو علیحدگی اختیار کرلینے کے بعد درست فرمادے اور فریقین کو جو تکلیف پہنچ گئی اس ک ازالہ ہوجائے۔ اگر میاں کی طرف سے اصلاح ممکن نہیں ہوئی تو ظاہر ہے کہ نتیجہ طلاق کی صورت میں ظاہر ہوگا اگر عورت کی طرف سے وقت نہ گزرنے کی پہل ہوتی ہے تو نتیجہ خلع ہوگا اور پھر دونوں کا اصل مدعاتو فریقین کی جدائی ہے وہ ہوگئی۔ اب دوسرے معاملات میں جو یقینا مال ہی کے متعلق ہوں گے ان میں بھی ایک دوسرے پر زیادتی کی کوشش نہیں ہونی چاہئے اگر طلاق میاں کی طرف سے ہوئی ہے تو اس کو کوئی حق نہیں کہ جو کچھ اس نے بیوی کو حق مہر کی صورت میں یا تحفہ و تحا ئف کی صورت میں دیا ہے اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرے اور اگر ابتداء عورت کی طرف سے ہوئی ہے تو میاں کو حق ہے کہ وہ اپنا دیا ہوا مال واپس لینا چاہے تو لے لے لیکن بہتر پھر بھی یہی ہے کہ اپنا حق یعنی دیا ہوا مہر واپس نہ لے بلکہ اس کو چھوڑ دے۔ اصل چیز تو تعلقات تھے جب وہ کسی سبب بحال نہ رہ سکے تو مال دنیا کی کوئی حقیقت نہیں ہے ؟
اللہ نہ کرے اگر ایسے حالات پیدا ہو ہی جائیں تو فریقین اور فریقین کے لواحقین ایک دوسرے پر الزام دھرنے کی بجائے ایک دوسرے کے لئے ممد و معاون ہوں اور جو کچھ ہوا ہے اس کو ” من اللہ “ سمجھیں اور یقین جان لیں کہ اگر ان کا تعلق کسی سبب سے قائم نہیں رہ سکا تو اس میں یقینا کوئی بہتری ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور ایسا نہیں جو اصل حقیقت سے آگاہ ہو اگر آج ان کا تعلق قائم نہیں رہا تو پیچھے سے ایسا ہوتا آیا ہے۔ پھر جب بھی ایسا ہوا اور جہاں بھی ہوا اس کا نتیجہ فریقین کے لئے اچھا ہی رہا اس لئے جو تکلیف دونوں فریقوں کے مقدر میں تھی پہنچ گئی۔ اب اس کا ازالہ کرنے والی بھی واحد ذات رب کریم کی ہے ہم دعا کرسکتے ہیں کہ فریقین کی اس تکلیف کا بھی وہ ازالہ فرمادے۔