Ayah 9:119آیت نمبر : 119۔
اس آیت میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وکونوا مع الصدقین “۔ یہ اہل صدق کے ساتھ ہونے کے بارے امر ہے اور تین کے قصے کے بعد بہت اچھا ہے جنہیں سچ نے نفع پہنچایا اور انہیں منافقوں کے مراتب سے دور ہٹا دیا گیا، مطرف نے کہا ہے : میں نے حضرت مالک بن انس ؓ کو کہتے ہوئے سنا ہے : جب کبھی کوئی آدمی سچ بولتا ہے اور وہ جھوٹ نہیں بولتا تو اس کی عقل سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور یہ بڑھاپے سے فساد عقل میں سے اس حد تک نہیں پہنچتا جہاں تک کوئی دوسرا پہنچ جاتا ہے (یعنی بڑھاپے اور فساد کے سبب اس کی عقل مختل اور ماؤف نہیں ہوتی)
یہاں مومنین اور صادقین سے جو مراد ہیں ان کے بارے مختلف اقوال ہیں، پس کہا گیا ہے کہ یہ خطاب ان کو ہے جو اہل کتاب میں سے ایمان لائے اور بعض نے کہا ہے : یہ خطاب تمام مومنین کو ہے، یعنی تم اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت سے بچو (آیت) ” وکونوا مع الصدقین “۔ یعنی تم ان کے ساتھ ہوجاؤ جو حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کی معیت میں نکلے نہ کہ منافقین کے ساتھ، یعنی تم سچ بولنے والوں کے مذہب اور ان کے راستے پر ہوجاؤ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات ہیں، یعنی تم اعمال صالحہ کرکے جنت میں ان کے ساتھ ہوجاؤ۔ اور یہ قول بھی ہے کہ ان سے مراد وہ ہیں جن کا ذکر اس قول میں ہے : (آیت) ” لیس البر ان تولوا وجوھکم۔۔۔۔۔ الآیہ تا قولہ۔۔۔۔۔ اولئک الذین صدقوا “۔ (البقرہ : 177) (نیکی (بس یہ) نہیں کہ (نماز میں) تم پھیر لو اپنے رخ۔۔۔۔۔ یہی لوگ ہیں جو راست باز ہیں)
اور یہ قول بھی ہے کہ مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے وعدہ کو پورا کرنے والے ہیں، اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی وجہ سے ہے : (آیت) ” رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ “۔ (الاحزاب : 23) (ایسے جوانمرد ہیں جنہوں نے سچا کر دکھایا جو وعدہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا) اور یہ بھی کہا گیا ہے : مراد مہاجرین ہیں، کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے سقیفہ کے دن کہا تھا : بیشک اللہ تعالیٰ نے ہمیں صادقین کا نام دیا ہے پس فرمایا : (آیت) ” للفقرآء المھجرین “۔ الآیہ (الحشر : 8) (نیز وہ مال) نادار مہاجرین کے لیے ہے) پھر اس نے تمہیں متفلحین کا نام ہے اور فرمایا ہے : (آیت) ” والذین تبوؤ الدار والایمان “۔ الآیہ (الحشر : 9) اور (اس مال میں) ان کا بھی حکم ہے جو دار ہجرت میں مقیم ہیں اور ایمان میں (ثابت قدم) ہیں) اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ وہ لوگ ہیں جن کے ظاہر اور باطن برابر ہیں، ایک جیسے ہیں، علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : یہ قول ہی حقیقت ہے اور یہی وہ غایت ہے جس پر انتہا ہوتی ہے، کیونکہ یہی صفت ہے جس کے ساتھ عقیدے سے نفاق اور فعل اور عمل سے مخالفت اٹھ جاتی ہے، ختم ہوجاتی ہے اور اس صفت والے کو صدیق کہا جاتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر ؓ اور حضرت عثمان ؓ اور جو مراتب اور زمانے میں ان سے کم اور ادنی ہیں (1) (احکام القرآن لابن العربی، سورة توبہ، جلد 2، صفحہ 1027)
اور رہے وہ جنہوں نے کہا : بیشک یہ وہ لوگ ہیں جو آیۃ البقرہ سے مراد ہیں تو وہ انتہائی اعلی اور عظیم صدق ہے اور بہت کم لوگ اس کی اتباع اور پیروی کرتے ہیں اور یہی آیت احزاب کا معنی ہے، اور رہی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی تفسیر تو وہ وہی ہے جو تمام اقوال کو شامل ہے، کیونکہ ان میں یہ تمام صفات موجود ہیں۔
مسئلہ نمبر : (2) اس کا حق ہے جس نے اللہ تعالیٰ سے عقل وفہم حاصل کی کہ وہ اقوال میں سچ، اعمال میں اخلاص اور احوال میں صفا اور درستی کو لازم پکڑے، پس جو اس طرح ہوا وہ ابرار (نیکوکار لوگوں) کے ساتھ مل گیا اور غفار (بہت زیادہ مغفرت والا فرمانے) کی رضا اور خوشنودی تک پہنچ گیا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” تم پر سچ کو اختیار کرنا لازم ہے کیونکہ سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور بیشک نیکی جنت کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور آدمی مسلسل سچ بولتا رہتا ہے اور سچ تلاش کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں صدیق لکھ دیا جاتا ہے “۔ (2) (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ جلد 2، صفحہ 326)
اور جھوٹ اس کی ضد ہے آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ فجور کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور فجور جہنم کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور آدمی مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ تلاش کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کذاب لکھ دیا جاتا ہے “۔ (3) (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ جلد 2، صفحہ 326)
اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔
پس کذب (جھوٹ) عار اور شرم ہے اور جھوٹ بولنے والوں سے شہادت (گواہی) کا حق چھین لیا گیا ہے، تحقیق رسول اللہ ﷺ نے ایک جھوٹ میں آدمی کی شہادت رد کردی جو اس نے بولا تھا، معمر نے بیان کیا ہے : میں نہیں جانتا کیا اس نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹ بولا یا رسول اللہ ﷺ کے بارے میں جھوٹ بولا یا لوگوں میں سے کسی کے بارے میں جھوٹ بولا ؟
اور شریک بن عبداللہ سے پوچھا گیا : اے ابو عبداللہ ! ایسا آدمی جس کے بارے میں نے سنا ہو کہ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے کیا میں اس کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں اور حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا : بیشک جھوٹ کے بارے کوئی صلح نہیں ہو سکتی نہ سنجیدگی کے ساتھ اور نہ استہزا اور تمسخر کے ساتھ، اور نہ اس کی کہ تم میں سے کوئی کسی شے کا وعدہ کرے پھر اسے پورا نہ کرے، اگر چاہو تو یہ پڑھ لو : (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین “۔ کیا تم کذب میں کوئی رخصت دیکھتے ہو ؟ اور امام مالک (رح) نے کہا ہے : لوگوں کی بات میں جھوٹ بولنے کی خبر قبول نہیں کی جائے گی اگرچہ وہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں سچ بولے، اور کسی اور نے کہا ہے : اس کی حدیث قبول کی جائے گی، اور صحیح یہ ہے کہ جھوٹ بولنے والے کی شہادت اور اس کی خبر قبول نہیں کی جائے گی جیسا کہ ہم نے ذکر کردیا ہے، کیونکہ قبول عظیم مرتبہ ہے اور ولایت شریفہ ہے لہذا یہ حاصل نہیں ہو سکتی مگر اس کو جس کی خصلتیں کامل ہوں اور جھوٹ سے بڑھ کر بری خصلت کوئی نہیں پس یہ ولایت سے معزول کردیتی ہے اور شہادتوں کو باطل کردیتی ہے۔ (1)
Ayahs 9:120–121آیت نمبر : 120 تا 121۔
اس آیت میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ماکان لاھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ “۔ یہ کلام ظاہر کے اعتبار سے خبر ہے لیکن اس کا معنی ہے، جیسا کہ یہ ارشاد گرامی ہے : (آیت) ” وما کان لکم ان تؤذوا رسول اللہ “۔ (الاحزاب : 53) (اور تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اذیت پہنچاؤ اللہ کے رسول کو) اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔
(آیت) ” ان یتخلفوا “۔ یہ محل رفع میں کان کا اسم ہے، اور یہ عتاب اور جھڑک ہے ان مومنین کے لیے جو اہل یثرب میں سے تھے اور اس کے پڑوس میں رہنے والے عرب قبائل سے تھے، جیسا کہ مزینہ، جہینہ، اشجع، غفار اور اسلم جو غزوئہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے بیٹھے رہے تھے، اور اس کا معنی ہے : ان مذکورہ لوگوں کے لیے مناسب نہیں تھا کہ وہ پیچھے بیٹھے رہتے، کیونکہ جنگ کے لیے کوچ ان میں ہوا، بخلاف ان کے علاوہ کے کیونکہ انہیں جنگ کے لیے جمع کیا ہی نہیں گیا، یہ ان میں سے بعض کے قول کے مطابق ہے، اور یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ جنگ کے لیے کوچ کرنے کا مطالبہ ہر مسلم کے لیے ہو اور ان کے قرب و جوار میں ہونے کی وجہ سے انہیں عتاب کے ساتھ خاص کیا گیا اور یہ کہ وہ دوسروں کے مقابلے میں اس کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔
مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولا یرغبوا بانفسھم عن نفسہ “۔ یعنی نہ یہ کہ وہ راضی ہوئے اپنے نفسوں کے لیے آسودگی اور راحت کے ساتھ اس حال میں کہ رسول اللہ ﷺ مشقت میں ہوں، کہا جاتا ہے : رغبت عن کذا یعنی میں نے اسے اپنی برتری جتائی۔
مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ذلک بانھم لا یصیبھم ظلما “۔ یہ اس لیے کہ نہیں پہنچتی انہیں کوئی پیاس (اس میں ظماکا معنی پیاس ہے) عبید ابن عمیر نے ظماء مد کے ساتھ قرات کی ہے اور یہ دونوں لغتیں ہیں مثلا خطا وخطاء ولا نصب یہ ماقبل پر معطوف ہے، یعنی تکلیف، تھکاوٹ اور اس میں لاتاکید کے لیے زائدہ ہے، اور اسی طرح ولا مخمصۃ اور نہ بھوک، اس کا اصل معنی بطن کی کمزوری ہے۔ اور اسی سے رجل خمیص اور امراۃ خمصانۃ (نحیف مرد اور نحیف عورت) ہے اور پہلے گزر چکا ہے۔ (آیت) ” فی سبیل اللہ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں (آیت) ” ولا یطؤن موطئا “۔ یعنی وہ کسی زمین کو طے نہیں کرتے) (آیت) ” یغیظ الکفار “ یعنی ان کے اسے طے کرنے کے ساتھ کافروں کو غصہ آئے، اور یہ محل نصب میں ہے، کیونکہ یہ موطئا کی صفت ہے بمعنی غائظا، (آیت) ” ولا ینالون من عدو نیلا “۔ اور نہیں حاصل کرتے وہ دشمن سے کچھ یعنی قتل یا ہزیمت۔ اس کی اصل نلت الشیء انال سے ہے یعنی میں نے اسے پالیا۔ کسائی نے کہا ہے : یہ ان کے اس قول سے ہے امر منیل منہ (وہ امر جو اس سے پایا گیا) یہ التناول سے نہیں ہے، کیونکہ التناول نلتہ العطیہ (میں نے اسے عطیہ دیا) سے ہے، کسی دوسرے نے کہا ہے : نلت انول من العطیۃ (میں نے عطیہ پایا) یہ وادی ہے اور النیل یہ یائی ہے، تو کہتا ہے : نلتہ فانا نائل : یعنی میں نے اسے پالیا (ای ادرکتہ) (آیت) ” ولا یقطعون وادیا “۔ عرب کہتے ہیں : واد وادیۃ یہ خطاب قیاس ہے ،۔ نحاس نے کہا ہے : جو میں جانتا ہوں اس میں اس کے سوا فاعل اور افعلۃ معروف نہیں، اور قیاس یہ ہے کہ جمع ودادی بنائی جاتی، پس انہوں نے دو داوؤں کے اجتماع کو ثقیل سمجھا حالانکہ وہ کبھی ایک واؤ کو بھی ثقیل جانتے ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے وقتت میں اقتت کہا ہے، اور خلیل اور سیبویہ نے واصل جو کہ آدمی کا نام ہے کی تصغیر میں اویصل بیان کیا ہے اور وہ اس کے سوا میں یہ نہیں کہتے اور فراء نے واد کی جمع اوداء بیان کی ہے۔
میں مفسر کہتا ہوں : کبھی جمع اوداہ بنائی جاتی ہے جیسا کہ جریر نے کہا ہے :
عرفت ببرقۃ الاوداہ رسما محیلا طال عھدک من رسوم :
(آیت) ” الا کتب لھم بہ عمل صالح “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہر خوف اور ڈر کے عوض ستر ہزار نیکیاں حاصل ہوتی ہیں۔ اور صحیح روایت میں ہے : ” گھوڑے تین قسم کے ہیں۔۔۔۔۔۔ اس روایت میں ہے :۔۔۔۔۔۔ رہا وہ گھوڑا جو اس کے لیے اجر ہے کہ آدمی نے اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اہل اسلام کے لیے چراگاہ یا باغ میں باندھ رکھا ہو پس اس نے اس چراگاہ یا باغ میں سے جو بھی کھایا اس کی تعداد کے مطابق اس کی نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کی لید اور بول کی تعداد کے بدلے بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جائیں گی “۔ الحدیث۔ یہ تو وہ ہے جو ان کے لیے اپنی جگہوں میں ہے تو پھر کیا حالت ہوگی جب وہ اس کے دشمن کی زمین میں داخل ہوگا۔
مسئلہ نمبر : (4) بعض علماء نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ مال غنیمت میں استحقاق دشمن کی زمین میں داخل ہونے اور ان کے شہروں میں پہنچنے سے ثابت ہوجاتا ہے، پس اگر وہ اس کے بعد فوت بھی ہوجائے تب بھی اس کے لیے مال غنیمت میں سے حصہ ہوگا، یہ قول اشہب اور عبدالملک کا ہے، اور امام شافعی (رح) کے دو قولوں میں سے ایک یہی ہے، اور امام مالک (رح) اور ابن القاسم (رح) نے کہا ہے : اس کے لیے کوئی شے نہ ہوگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اجر کا ذکر کیا ہے اور سہم (مال غنیمت کا حصہ) کا ذکر نہیں کیا۔
میں مفسر کہتا ہوں : پہلا قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے علاقوں کو روندنے، ان کے اموال پانے اور انہیں ان کے گھروں سے نکالنے کے لیے اس کو اجروثواب قرار دیا ہے اور یہی چیز انہیں غصہ دلاتی ہے اور ان پر ذلت ورسوائی داخل کرتی ہے، پس یہی مال غنیمت پانے اور قتل کرنے اور قیدی بنانے کے قائم مقام ہوا، اور جب معاملہ اس طرح ہے تو پھر غنیمت کا استحقاق ان کی زمین میں داخل ہونے سے ثابت ہوجاتا ہے نہ کہ فقط اونٹ ہانکنے سے، اسی لیے حضرت علی ؓ نے فرمایا : جو قوم بھی اپنے گھروں کے درمیان روند دی گئی وہ ذلیل ورسوا ہوگئے۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر : (5) یہ آیت اس قول باری تعالیٰ کے ساتھ منسوخ ہے : (آیت) ” وما کان المؤمنون لینفروا کافۃ “۔ (اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن نکل کھڑے ہوں سارے کے سارے) اور یہ کہ اس کا حکم اس وقت تھا جب مسلمان قلیل تھے، جب زیادہ ہوگئے تو یہ حکم منسوخ ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے جو پیچھے رہنا چاہے اس کے لیے اسے مباح قرار دیا، یہ ابن زید نے کہا ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے ایک جماعت دیہاتیوں کی طرف بھجی تاکہ وہ لوگوں کو تعلیم دیں پس جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ ڈر گئے اور واپس لوٹ آئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” وما کان المؤمنون لینفروا کافۃ “۔ اور حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : یہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے ساتھ خاص ہے، جب آپ بذات خود جنگ کے لیے تشریف لے جائیں تو پھر کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ بغیر عذر کے آپ سے پیچھے بیٹھا رہے۔ اور رہے آپ کے سوا دیگر ائمہ اور حکمران ! تو جو چاہے مسلمانوں میں سے اس سے پیچھے رہ جائے بشرطیکہ اسے لوگوں کی اشد حاجت اور ضرورت نہ ہو۔
اور تیسرا قول یہ ہے کہ یہ آیت محکم ہے۔ ولید بن مسلم نے کہا ہے : میں نے اوزاعی، ابن مبارک، فزاری، سبیعی اور سعید بن عبدالعزیز کو اس آیت کے بارے یہ کہتے ہوئے سنا ہے : بیشک یہ آیت اس امت کے پہلوں کے لیے بھی ہے اور آخر کے لیے بھی۔
میں مفسر کہتا ہوں : قتادہ کا قول اچھا ہے اور اس کی دلیل تبوک کے غزاۃ ہیں۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر : (6) ابو داؤد نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تحقیق تم نے مدینہ طیبہ میں ایسی اقوام چھوڑی ہیں جو کہ تم کچھ بھی نہیں چلے اور نہ تم نے کچھ خرچ کیا ہے اور نہ تم نے کوئی وادی طے کی ہے مگر وہ اس میں تمہارے ساتھ رہے “۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ وہ کیسے ہمارے ساتھ ہو سکتے ہیں حالانکہ وہ مدینہ طیبہ میں ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” انہیں عذر نے روک لیا ہے “ (1) (سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد، جلد 1، صفحہ 340)
مسلم نے حضرت جابر ؓ کی حدیث ذکر کی ہے کہ انہوں نے کہا : ہم غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ نے فرمایا : ” بیشک مدینہ طیبہ میں ایسے لوگ ہیں کہ تم کچھ بھی نہیں چلے اور نہ تم نے کسی وادی کو طے کیا مگر وہ تمہارے ساتھ تھے (کیونکہ) انہیں مرض نے روک لیا ہے “ (2) (صحیح مسلم، کتاب الجہاد، جلد 2، صفحہ 141)
پس رسول اللہ ﷺ نے معذور کو اسی کی مثل اجر عطا کیا جتنا آپ نے طاقتور عمل کرنے والے کو اجر عطا فرمایا۔ اور بعض لوگوں نے کہا : بیشک معذور کے لیے اجر دوگنا کیے بغیر ہوتا ہے اور بذات خود کام کرنے والے کے لیے اجر دوگنا کردیا جاتا ہے۔
علامہ ابن عربی (رح) نے کہا : یہ تو اللہ تعالیٰ پر اپنی مرضی اور رائے کو ٹھونسنا ہے اور اس کی رحمت کی وسعت کو تنگ کرنا ہے اور بعض لوگوں نے اسے عیب قرار دیا ہے اور کہا ہے : بیشک انہیں قطعی طور پر دوگنا ثواب دیا جائے گا اور ہم کسی بھی جگہ دوگنا ہونے کے بارے قطعیت کا قول نہیں کرتے، کیونکہ اس کا دارمدار نیتوں کی مقدار پر ہے اور یہ ایک مخفی اور پوشیدہ امر ہے اور وہ جس کے ساتھ یقین کیا جاسکتا ہے وہ یہ کہ وہاں تضعیف ہے اور تیرا رب اس کے بارے خوب جانتا ہے جو اس کا مستحق ہوتا ہے۔ (3) (احکام القرآن لابن العربی، صفحہ 1029)
میں مفسر کہتا ہوں : احادیث اور آیات میں سے ظاہر یہ ہے کہ اجر میں مساوات اور یکسانیت ہے۔ ان میں سے حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے :” جس نے خیر اور نیکی پر راہنمائی کی تو اس کے لیے نیکی کرنے والے کے اجر کی مثل اجر ہوگا “۔ (4) (صحیح مسلم، کتاب الامارہ، جلد 2، صفحہ 137)
اور آپ ﷺ کا ارشاد ہے : ” جس نے وضو کیا اور نماز کی طرف نکلا پھر اس نے لوگوں کو پایا کہ وہ نماز پڑھ چکے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مثل اجر عطا فرمائے گا جس نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھی اور اس میں حاضر ہوا “۔ (5) (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوۃ جلد 1، صفحہ 83، ایضا حدیث نمبر 447، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اور یہی اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا ظاہر ہے : (آیت) ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ ثم یدرکہ الموت فقد وقع اجرہ علی اللہ “۔ (النسا : 100) (اور جو شخص نکلے اپنے گھر سے ہجرت کرکے اللہ کی طرف اور اس کے رسول کی طرف پھر آلے اس کو (راہ میں) موت تو ثابت ہوگیا اس کا اجر اللہ کے ذمہ)
اور اس کی دلیل یہ ہے کہ سچی نیت ہی اصل اعمال ہے، پس جب فعل طاعت میں نیت صحیح ہوئی اور پھر کسی مانع کے سبب اسے کرنے والا اس سے عاجز آگیا تو اس عاجز کے اجر اور قدرت رکھنے والے فاعل کے اجر کے مساوی اور برابر ہونے میں کوئی بعد اور دوری نہیں ہے، کیونکہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے “ واللہ اعلم۔
Ayah 9:122آیت نمبر : 122۔
اس آیت میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وما کان المؤمنون “۔ بات یہ ہے کہ جہاد فرض عین نہیں ہے بلکہ فرض کفایہ ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے (لہذا یہ نہیں ہو سکتا کہ سارے کے سارے مومن نکل کھڑے ہوں) کیونکہ اگر تمام نکل پڑیں تو ان کے پیچھے اہل و عیال ضائع ہوجائیں، ہلاک ہوجائیں، پس چاہیے کہ ان میں سے ایک فریق جہاد کے لیے نکلے اور ایک فریق مقیم رہے تاکہ وہ دین میں تفقہ حاصل کریں اور وہ حرام کی ہوئی اشیاء کو خوب یاد کریں، یہاں تک کہ جب جہاد پر جانے والے لوٹ کو آئیں تو مقیم رہنے والے انہیں وہ بتائیں جو احکام شرع میں سے انہوں نے سیکھیں ہیں اور وہ جن کا نزول حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ پر تازہ ہوا ہے، اور یہ آیت اللہ تعالیٰ کے قول الا تنفروا اور اس سے پہلی آیت کے لیے ناسخ ہے، یہ حضرت مجاہد (رح) اور ابن زید (رح) کے قول کی بناء پر ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) یہ آیت طلب علم کے واجب ہونے میں اصل ہے، کیونکہ اس کا معنی ہے اور یہ تو نہیں ہو سکتا کہ سارے کے سارے مومن نکل کھڑے ہوں اور حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ مقیم رہیں اور آپ نہ نکلیں پس وہ آپ ﷺ کو اکیلا چھوڑ دیں۔ (آیت) ” فلولا نفر “۔ یہ جاننے کے بعد کہ تمام کے نکلنے کی وسعت نہیں ہے پھر کیوں نہ نکلے۔ (آیت) ” من کل فرقۃ منھم طآئفۃ “۔ ہر قبیلہ سے چند آدمی، اور ان کے باقی ماندہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے ساتھ باقی رہیں تاکہ وہ آپ سے دین کا علم حاصل کریں اور اس میں تفقہ حاصل کریں، پھر جب جہاد پر جانے والے ان کی طرف لوٹ کر آئیں تو یہ انہیں وہ سب بتائیں جو انہوں نے سنا اور جس کا علم حاصل کیا، اس میں کتاب وسنت میں تفقہ کے واجب ہونے کا ذکر ہے، اور یہ کہ یہ کفایہ ہے عین نہیں ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی دلالت کرتا ہے : (آیت) ” فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون “۔ (النحل) (پس دریافت کرلو اہل علم سے اگر تم خود نہیں جانتے) پس اس میں ہر وہ داخل ہے جو کتاب وسنت کو نہیں جانتا۔
مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فلولا نفرا “۔ اخفش نے کہا ہے : یہ فھلا نفر کے معنی میں ہے پس کیوں نہ نکلے۔ (آیت) ” من کل فرقۃ منھم طآئفۃ “۔ لغت میں طائفہ سے مراد جماعت ہے اور کبھی اس کا اطلاق اس سے کم پر ہوتا ہے یہاں تک کہ یہ آدمیوں تک پہنچ جاتا ہے اور ایک کے لیے اس کا اطلاق نفس طائفۃ کے معنی میں ہوتا ہے اور یہ پہلے گزر چکا ہے کہ قول باری تعالیٰ : (آیت) ” ان نعف عن طآئفۃ منکم نعذب طآئفۃ “۔ (التوبہ : 66) میں طائفہ سے مراد ایک آدمی ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں مراد جماعت ہے اور اس کی دو وجہیں ہیں، ان میں سے ایک عقلی وجہ ہے اور دوسری لغوی، عقلی یہ ہے کہ امر غالب یہ ہے کہ فرد واحد کے ساتھ علم حاصل نہیں ہوتا، اور رہی لغوی وجہ تو قول باری تعالیٰ : (آیت) ” لیتفقوا فی الدین ولینذروا قومھم “۔ جمع کی ضمیر کے ساتھ مذکور ہے۔
علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : قاضی ابوبکر (رح) اور ان سے پہلے شیخ ابو الحسن کی رائے ہے کہ یہاں طائفہ سے مراد واحد (ایک) ہے اور اس میں وہ اس دلیل سے قوت حاصل کرتے ہیں کہ خبر واحد پر عمل کرنا واجب ہے، اور یہ صحیح ہے اس جہت سے نہیں کہ طائفہ کا اطلاق واحد پر ہوتا ہے بلکہ اس جہت سے کہ ایک شخص یا کئی اشخاص کی خبر خبر واحد ہے (1) احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ : 1031)
اور یہ کہ خبر واحد کے مقابل خبر متواتر ہے جو غیر محصور ہوتی ہے۔
میں مفسر کہتا ہوں : کیا ایسی نص ہے جس سے اس پر استدلال کیا جاسکتا ہو کہ واحد کو طائفہ کہا جاسکتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” وان طآئفتن من المؤمنین اقتتلوا “۔ (الحجرات : 9) یعنی نفسین (دو نفس) اگر مومنین میں سے دو آدمی لڑ پڑیں۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ یہ ارشاد ہے : (آیت) ” فاصلحوا بین اخویکم “۔ (الحجرات : 10) (پس صلح کرا دو اپنے دو بھائیوں کے درمیان) پس یہ لفظ تثنیہ کے ساتھ مذکو رہ ہے، اور اقتتلوا میں ضمیر اگرچہ جمع کی ہے، پس اور جمع کا اقل فرد دو ہے یہ علماء کے دو قولوں میں سے ایک کے مطابق ہے۔
مسئلہ نمبر : (4) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لیتفقھوا “۔ ” لیتفقھوا “۔ اور لینذروا میں ضمیر حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے ساتھ مقیم رہنے والوں کے لیے ہے۔ یہ حضرت قتادہ (رح) اور حضرت مجاہد ؓ کا قول ہے، اور حسن نے کہا ہے : یہ دونوں ضمیریں جہاد پر نکلنے والے گروہ کے لیے ہیں، علامہ طبری نے اسے ہی اختیار کیا ہے۔ اور (آیت) ” لیتفقھوا فی الدین “۔ کا معنی ہے تاکہ وہ بصیرت اور یقین حاصل کریں اس کے ساتھ جو اللہ کریم انہیں مشرکوں پر غلبے اور نصرت دین میں سے دکھائے۔ (آیت) ” ولینذروا قومھم “۔ اور تاکہ وہ کفار میں سے اپنی قوم کو ڈرائیں۔ (آیت) ” اذا رجعوا الیھم “۔ جب وہ ان کی طرف جہاد سے لوٹ کر آئیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی اس مددونصرت کے بارے انہیں مطلع کریں جو اللہ تعالیٰ نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ اور مومنین کی فرمائی، اور یہ کہ ان کے لیے ان کے ساتھ قتال کرنے اور حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے ساتھ قتال کرنے کی طاقت نہیں ہے، پس وہ ان پر وہ کچھ نازل کرتا ہے جو اس نے ان کافر ساتھیون پر نازل نہیں کیا۔
میں مفسر کہتا ہوں : حضرت مجاہد (رح) اور حضرت قتادہ (رح) کا قول زیادہ بین اور واضح ہے یعنی تاکہ وہ طائفہ تفقہ حاصل کرے تو سرایا میں کوچ کرنے سے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے ساتھ پیچھے رہا۔ اور یہ علم کی طلب پر ابھارنے اور اس کے مندوب ہونے کا (متقاضی ہے) نہ کہ وجوب اور لازم ہونے کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ یہ کلام کی قوت میں نہیں ہے، بلاشبہ علم کو اس کے ادلہ کے ساتھ طلب کرنا لازم ہے، یہ ابوبکر بن عربی نے کہا ہے۔
مسئلہ نمبر : (5) علم کی طلب، دو قسموں میں منقسم ہوتی ہے : فرض عین، مثلا نماز روزہ اور زکوۃ۔
میں مفسر کہتا ہوں : اس معنی میں حدیث طیبہ موجود ہے : ” بیشک علم طلب کرنا فرض ہے “۔ عبدالقدوس بن حبیب نے روایت کیا ہے۔ ابو سعید الوحاظی نے حمادبن ابی سلیمان سے اور انہوں نے حضرت ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا میں نے حضرت انس بن مالک ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” علم طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے “۔ (1) (سنن ابن ماجہ للمقدم باب فضل العلماء جلد 1، صفحہ 20)
ابراہیم نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے سوائے اس حدیث کے اور کوئی نہیں سنی۔
علم طلب کرنا فرض کفایہ ہے، جیسے حقوق حاصل کرنا، حدود قائم کرنا اور جھگڑا کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کرنا وغیرہ جب یہ ممکن نہیں ہے کہ تمام لوگ اسے سیکھیں کیونکہ اس سے ان کے احوال اور ان کے سرایا کہ احوال فاسد اور ضائع ہوجائیں گے اور ان کے معاملات معاش میں نقصان ہوگا یا وہ باطل ہوجائیں گے پس دونوں حالوں کے درمیان متعین یہ ہوا کہ بغیر کسی تعیین کے بعض اس فریضہ کو ادا کریں اور یہ اس اعتبار سے ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے بندوں کے لیے آسمان فرما دے اور اسے ان کے درمیان اپنی رحمت اور حکمت سے سابقہ قدرت اور کلام کے ساتھ تقسیم فرما دے۔
مسئلہ نمبر : (6) علم کی طلب عظیم فضیلت ہے اور ایک شریف اور عالی شان مرتبہ ہے کوئی عمل اس کے مساوی نہیں ہے، ترمذی (رح) نے حضرت ابوالدرداء ؓ کی حدیث روایت کی ہے، انہوں نے بیان کیا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو بندہ کسی راستے پر چلا وہ اس میں علم تلاش کرنے لگا تو اس کے سبب اللہ تعالیٰ نے اسے جنت کے راستے پر گامزن کردیا اور بلاشبہ ملائکہ طالب علم کی خوشنودی اور رضا کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور بیشک عالم کے لیے زمین و آسمان میں رہنے والے استغفار کرتے ہیں اور پانی میں رہنے والی مچھلیاں بھی اور بیشک عالم کی فضیلت عابد پر اسی طرح ہے جیسے چودہویں رات کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر ہے، اور بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور بیشک انبیاء (علیہم السلام) نے بطور میراث دینار و درہم نہیں چھوڑے بلکہ انہوں نے علم کو میراث قرار دیا ہے پس جس نے اسے حاصل کیا تو اس نے حظ وافر حاصل کرلیا “۔ (2) (جامع ترمذی، کتاب العلم، جلد 2، صفحہ 93)
اور دارمی ابو محمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے کہ ہمیں ابو المغیرہ نے بیان کیا (انہوں نے کہا) ہمیں امام اوزاعی (رح) نے حسن سے بیان کیا ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے دو آدمیوں کے بارے میں پوچھا گیا وہ دونوں بنی اسرائیل میں سے تھے، ان میں سے ایک عالم تھا وہ فرض نماز پڑھتا پھر بیٹھ جاتا اور لوگوں کو خیر اور نیکی کی تعلیم دیتا، اور دوسرا دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا، ان دونوں میں سے کون افضل ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اس عالم کی فضیلت جو فرض نماز پڑھتا ہے پھر بیٹھ جاتا ہے اور لوگوں کو خیر اور نیکی کی تعلیم دیتا ہے اس عابد پر جو دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے اس طرح ہے جیسے تم میں سے ادنی پر مجھے فضیلت حاصل ہے “ (3) (سنن دارمی، کتاب العلم جلد 1، صفحہ 82۔ جامع ترمذی، کتاب العلم، حدیث نمبر 2609، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اسے ابو عمر نے کتاب (بیان العلم) میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مسند ذکر کیا ہے انہوں نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” عالم کی فضیلت عابد پر اسی طرح ہے جیسے میری فضیلت میری امت پر ہے “ (4) (جامع ترمذی، کتاب العلم، جلد 2، صفحہ 93)
اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا : افضل جہاد اس کا ہے جس نے مسجد بنائی اور اس میں قرآن، فقہ اور سنت کی تعلیم دیتا ہو، (افضل الجھاد من بنی مسجد یعلم فیہ القرآن والفقہ والسنۃ) اسے شریک نے لیث بن ابی سلیم سے، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اور انہوں نے علی ازدی سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا : میں نے جہاد کا ارادہ کیا تو حضرت ابن عباس ؓ نے مجھے فرمایا : کیا میں تیری اس پر رہنمائی نہ کروں جو تیرے لیے جہاد سے بہتر ہے ؟ تو مسجد میں آ اور اس میں قرآن کریم پڑھا اور اس میں فقہ کی تعلیم دے۔ اور ربیع نے کہا ہے میں نے حضرت امام شافعی (رح) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : علم حاصل کرنا نفلی نماز پڑھنے سے زیادہ واجب اور بہتر ہے۔ اور آپ ﷺ کا ارشاد ہے : ” بیشک فرشتے اپنے پر بچھاتے ہیں “ (1) (جامع ترمذی، کتاب العلم، جلد 2، صفحہ 93)
یہ حدیث دو وجہوں کا احتمال رکھتی ہے، ایک یہ ہے کہ وہ اس پر مہربان اور شفیق ہوتے ہیں اور اس پر رحم فرماتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر فرمایا ہے جہاں اس نے اولاد کو والدین کے ساتھ احسان کرنے کی نصیحت کی ہے فرمایا : (آیت) ” واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ “۔ (الاسراء : 24) (اور جھکادو ان کے لیے تواضع اور انکسار کے پر رحمت (و محبت) سے) یعنی ان دونوں کے ساتھ تواضع سے پیش آ۔
اور دوسری وجہ یہ ہے کہ پر رکھنے سے مراد انہیں بچھانا ہو، کیونکہ بعض روایات میں الفاظ یہ ہیں : وان الملائکۃ تفرش اجنحتھا یعنی بیشک ملائکہ جب کسی طالب علم کو دیکھیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنے کے لیے اسے حاصل کر رہا ہے اور اس کے تمام احوال طلب علم کے موافق ہوں تو وہ اس کے لیے اس کے سفر میں اپنے بچھا دیتے ہیں اور اسے ان پر اٹھا لیتے ہیں۔ پس جو وہاں محفوظ ہوجاتا ہے تو وہ ننگے پاؤں نہیں رہتا اگر وہ چلتا ہے اور نہ وہ تھکتا ہے اور اس کے لیے دور کا راستہ قریب ہوجاتا ہے اور مختلف انواع کا ضرر اور تکلیف جو کسی اور مسافر کو پہنچتی ہے وہ اسے نہیں پہنچتی جیسا کہ مرض، مال کا ضائع ہوجانا اور راستے سے بھٹک جانا، اور ان میں سے کچھ چیزیں سورة آل عمران میں قول باری تعالیٰ : (آیت) ” شھد اللہ “۔ الآیہ (آل عمران : 18) کے تحت گزر چکی ہیں۔
عمران بن حصین نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” میری امت سے ایک گروہ مسلسل حق پر قائم اور ثابت رہے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی “ (2) (صحیح مسلم، کتاب الامارہ جلد 2، صفحہ 143)
یزید بن ہارون نے کہا ہے : اگر وہ اصحاب الحدیث ہیں تو پھر میں نہیں جانتا وہ کون ہیں ؟
میں مفسر کہتا ہوں : آیت کی تاویل میں یہ عبدالرزاق کا قول ہے، بیشک وہ اصحاب حدیث ہی ہیں، اسے ثعلبی نے ذکر کیا ہے، میں نے سنا ہے کہ ہمارے شیخ الاستاذ المقری النحوی المحدث ابو جعفر احمد بن محمد بن محمد القیسی القرطبی المعروف بابن ابی حجۃ (رح) حضور ﷺ کے اس ارشاد کی تاویل میں کہتے ہیں : لا یزال اھل الغرب ظاھرین علی الحق حتی تقوم الساعۃ (3) (صحیح مسلم، کتاب الامارہ جلد 2، صفحہ 144)
(اہل غرب حق پر غالب رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے) کہ بلاشبہ وہ علماء ہیں، انہوں نے کہا : وہ اس لیے کہ الغرب لفظ مشترک ہے اس کا اطلاق بڑے ڈول پر بھی کیا جاتا ہے اور سورج کے غروب ہونے کی سمت پر بھی اور اس کا اطلاق آنسو بہنے پر بھی کیا جاتا ہے، پس لایزال اھل الغرب کا معنی یہ ہے اللہ تعالیٰ کے خوف سے آنسو بہانے والے اس کا اور اس کے احکام کا علم رکھنے کے سبب ہمیشہ غالب رہیں گے، الحدیث اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا “۔ (فاطر : 28) (اللہ کے بندوں میں سے صرف علماء ہی (پوری طرح) اس سے ڈرتے ہیں)
میں مفسر کہتا ہوں : اس تاویل کو حضور ﷺ کا وہ ارشاد جو صحیح مسلم میں ہے تقویت دیتا ہے : ” جس کے بارے اللہ تعالیٰ خیر اور بہتری کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین میں فقاہت عطا فرماتا ہے اور مسلمانوں کی ایک جماعت حق پر قتال کرتی رہے گی یوم قیامت تک ان پر غالب آتے ہوئے جو ان سے لڑئے “ (1) (صحیح مسلم، کتاب الامارہ جلد 2، صفحہ 144)
اس بیان کا ظاہر یہ ہے کہ اس کا اول اس کے آخر کے ساتھ مربوط ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 9:123آیت نمبر : 123۔
اس آیت میں ایک مسئلہ ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) وہ یہ کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انہیں جہاد کی کیفیت سے آگاہ فرمایا اور یہ کہ ابتداء قریبی دشمن سے ہو پھر جو اس کے بعد قریبی ہو، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے آغاز عرب سے کیا اور جب ان سے فارغ ہوئے تو روم کا قصد کیا اور وہ شام میں تھے، اور حسن نے کہا ہے : یہ آیت حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کو مشرکین کے قتل کا حکم دیئے جانے سے پہلے نازل ہوئی پس یہ اس تدریج میں سے ہے جو قبل از اسلام تھی۔
اور ابن زید نے کہا ہے : اس آیت سے اس کے نازل ہونے کے وقت مراد عرب تھے، پس جب آپ ان سے فارغ ہوئے تو پھر روم وغیرہم کے بارے میں (آیت) ” قاتلوا الذین لایؤمنون باللہ “۔ (التوبہ : 29) (جنگ کرو ان لوگوں سے جو نہیں ایمان لاتے اللہ پر) اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ اس سے دیلم مراد لیے گئے ہیں، اور مروی ہے کہ ان سے پوچھا گیا : کس سے ابتدا کی جائے گی روم یا ویلم سے ؟ تو انہوں نے فرمایا : روم سے۔ اور حسن نے کہا ہے : وہ ویلم، ترک اور روم سے جنگ کرنا ہے (2) (تفسیر طبری، سورة توبہ جلد 11 صفحہ 84 مفہوم)
اور حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے کہ اقرب فالاقرب ‘ اور ادنی فالادنی (قریب تر پھر اس کے بعد قریب الخ) کے قتال میں آیت اپنے عموم پر ہے۔
میں مفسر کہتا ہوں : حضرت قتادہ (رح) کا قول ہی آیت کا ظاہر ہے، اور ابن عربی نے یہ اختیار کیا ہے کہ ویلم سے پہلے روم سے ابتدا کی جائے گی، جیسا کہ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا ہے : اس کی تین وجہیں ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اہل کتاب ہیں، پس ان پر حجت زیادہ اور پختہ کرنے والی ہے۔ دوسری یہ ہے کہ وہ ہمارے یعنی اہل مدینہ کے زیادہ قریب ہیں، اور تیسری وجہ یہ کہ انبیاء (علیہم السلام) کے شہر ان کے شہروں میں زیادہ ہیں پس ان کو ان سے بچانا زیادہ واجب اور ضروری ہے (1) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 1032) واللہ اعلم۔
(آیت) ” ولیجدوا فیکم غلظۃ “۔ اور چاہیے کہ وہ تم میں شدت، قوت اور حمیت پائیں، اور فضل نے اعمش سے اور انہوں نے عاصم سے غلظۃ غین کے فتحہ اور لام کے سکون کے ساتھ روایت کیا ہے، اور فراء نے کہا ہے : اہل حجاز اور بنی حجاز اور بنی اسد کی لغت غین کے کسرہ کے ساتھ ہے اور بنی تمیم کی لغت غین کے ضمہ کے ساتھ ہے۔
Ayah 9:124آیت نمبر : 124۔
اس میں ماصلہ ہے اور مراد منافقین ہیں۔ (آیت) ” ایکم زادتہ ھذہ ایمانا “۔ ایمان کے زیادہ اور کم ہونے کے بارے میں بحث سورة آل عمران میں گزر چکی ہے، اور سورت کا معنی بھی مقدمۃ الکتاب میں گزر چکا ہے، پس اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ اور حسن نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کی طرف لکھا : ” بیشک ایمان کے فرائض اور سنتیں ہیں جس نے انہیں مکمل کیا تحقیق اس نے ایمان کو مکمل کرلیا، اور جس نے انہیں مکمل نہ کیا اس نے ایمان کو مکمل نہ کیا “۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے فرمایا :” اگر میں زندہ رہا تو میں تمہارے لیے انکی وضاحت کر دوں گا اور اگر میں فوت ہوگیا تو پھر میں تمہاری صحبت پر حریص نہیں ہوں “ (2) (صحیح بخاری، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 6)
اسے امام بخاری (رح) نے ذکر کیا ہے اور ابن المبارک نے کہا ہے : میں نے اس سے کوئی چارہ نہ پایا کہ میں ایمان کی زیادتی کے بارے قول کروں، ورنہ میں قرآن کو رد کردیتا۔
Ayah 9:125آیت نمبر : 125۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واما الذین فی قلوبھم مرض “۔ یعنی جن کے دلوں میں شک، ریب اور نفاق ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے، (آیت) ” فزادتھم رجسا الی رجسھم “۔ یعنی اس سورت نے ان کے سابقہ شک پر شک کا اور سابقہ کفر پر کفر کا اضافہ کردیا، اور مقاتل نے کہا ہے : ان کے سابقہ گناہ پر گناہ کو بڑھا دیا۔ تمام معنی باہم ایک دوسرے کے قریب ہیں۔
Ayah 9:126آیت نمبر : 126۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” اولایرون انھم یفتنون فی کل عام مرۃ او مرتین “۔ عام قرات یا کے ساتھ ہے اور یہ منافقین کے بارے خبر ہے، اور یہ حمزہ اور یعقوب نے تا کے ساتھ پڑھا ہے، یہ ان کے بارے خبر ہے اور خطاب مومنین کو ہے، اور اعمش نے اولم یروا پڑھا ہے، اور طلحہ بن مصرف نے اولا تری قرات کی ہے اور یہ حضرت ابن مسعود ؓ کی قرات ہے اور یہ خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے۔
اور (آیت) ” یفتنون “۔ علامہ طبری نے کہا : اس کا معنی ہے وہ آزمائے جاتے ہیں۔ (1) (تفسیر طبری، سورة توبہ جلد 11 صفحہ 87)
حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : وہ قحط اور شدت کے ساتھ آزمائے جاتے ہیں۔ اور عطیہ نے کہا ہے : وہ آزمائے جاتے ہیں بیماریوں اور بھوک کے ساتھ (2) (معالم التنزیل، سورة توبہ جلد 3، صفحہ 132)
اور یہ موت کی علامات اور جاسوس ہیں۔ اور حضرت قتادہ (رح)، حسن (رح) اور مجاہد (رح) نے کہا ہے : وہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے ساتھ مل کر جہاد اور جنگ کرنے کے ساتھ آزمائے جاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے مدد ونصرت کا جو وعدہ فرما رکھا ہے وہ اسے دیکھتے ہیں۔ (آیت) ” ثم لا یتوبون “۔ پھر بھی وہ اس کے لیے توبہ نہیں کرتے۔ (آیت) ” ولا ھم یذکرون “۔ اور نہ وہ نصیحت قبول کرتے ہیں۔
Ayah 9:127آیت نمبر : 127۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واذا انزلت سورة نظر بعضھم الی بعض “۔ اس میں ماصلہ ہے اور مراد منافقین ہیں، یعنی جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوں، اس حال میں کہ آپ قرآن کریم پڑھ رہے ہوں جس میں ان کی فضیحت ورسوائی یا ان میں سے کسی ایک کی فضیحت ورسوائی نازل کی گئی ہو تو وہ ایک دوسرے کی طرف علی جہۃ التقریر خوف کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں، وہ کہتا ہے : کیا کوئی تمہیں دیکھتا ہے جب تم اس بارے گفتگو کرتے ہو کہ وہ اسے حضرت محمد ﷺ کے پاس پہنچا دیتا ہے۔ اور یہ آپ ﷺ کی نبوت کے بارے ان کی جہالت ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے غیب میں سے جس پر چاہتا ہے آپ کو مطلع کردیتا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک اس آیت میں نظر بمعنی انبا (خبر دینا) ہے اور علامہ طبری، نے بعض سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا : اس آیت میں نظر، قال کے محل میں ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ثم انصرفوا “۔ یعنی ہدایت کے راستے سے پھرجاتے ہیں۔ وہ اس لیے کہ جس وقت ان کے لیے ان کے اسرار و رموز کھول کر بیان کردیئے اور ان کے مخفی اور غیبی امور پر انہیں آگاہ کردیا تو لامحالہ انہیں تعجب، توقف اور نظر وفکر لاحق ہوئی پس اگر وہ ہدایت پالیتے تو یقینا وہی وقت ان کے ایمان پائے جانے کا محل تھا، لیکن وہ جب کفر پر مصمم ارادہ رکھتے تھے اور اسی کا ارتکاب کرتے تھے تو گویا وہ اس حالت سے پھرگئے جو نظر صحیح اور ہدایت کے پائے جانے کی حالت تھی۔ اور انہوں نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کی قرات کو اس کے سماع کی طرح نہیں سنا جو اس کی آیات میں تدبر اور غور وفکر کرتا ہے۔ (آیت) ” ان شرا الدوآب عنداللہ الصم البکم الذین لا یعقلون “۔ (الانفال) (بےشک سب جانوروں سے بدتر اللہ کے نزدیک، وہ بہرے گونگے (انسان) ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے)
(آیت) ” افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالھا “۔ (محمد) (کیا یہ لوگ غور نہیں کرتے قرآن میں یا (ان کے) دلوں پر فقل لگادیئے گئے ہیں)
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” صرف اللہ قلوبھم اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” صرف اللہ قلوبھم “۔ یہ ان کے لیے بددعا ہے، یعنی تم ان کے لیے یہ کہو، اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ دلوں کو خیر اور نیکی سے پھرنے کے بارے خبر ہے، ان کے عمل پر یہ جزا دی گئی ہے اور یہ ایسا کلمہ ہے جس کے ساتھ دعا کی جاتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے : (آیت) ” قتلھم اللہ “۔ (التوبہ : 30) (اللہ انہیں قتل کرے) اور بانھم میں باصرف کا صلہ ہے،
مسئلہ نمبر : (2) حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : یہ مکروہ ہے کہ اس طرح کہا جائے : انصرفنا من الصلوۃ (ہم نماز سے پھرگئے) کیونکہ قوم جب پھرجائے تو اللہ تعالیٰ ان کے دل پھیر دیتا ہے البتہ تم یہ کہو : قضینا الصلوۃ (1) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2 صفحہ 1033) (ہم نے نماز پوری کرلی) علامہ طبری نے آپ سے اسے مسند ذکر کیا ہے، علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : یہ محل نظر ہے اور میں اسے صحیح گمان نہیں کرتا، کیونکہ نظم کلام کا تقاضا یہ ہے کہ یہ کہا جاتا : کوئی یہ نہ کہے ہم نماز سے پھرگئے (لایقل احدا نصرفنا من الصلواۃ) کیونکہ ایک قوم کے بارے میں یہ کہا گیا ہے : (آیت) ” ثم انصرفوا، صرف اللہ قلوبھم “۔ (التوبہ : 127) (2) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2 صفحہ 1033) ،
(پھر وہ پھرگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل پھیر دیئے)
محمد بن عبد الملک القیسی الواعظ نے ہمیں خبردی ہے (انہوں نے کہا) ابو الفضل جوہری نے اس سے یہ سنتے ہوئے ہمیں بتایا جو کہتا ہے : ہم ایک جنازہ میں تھے تو اس سے ڈرانے والے نے کہا : انصرفوا رحمکم اللہ (پھر جاؤ اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے) تو اس نے کہا : کوئی یہ نہ کہے : انصرفوا “۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی مذمت میں کہا ہے : (آیت) ” ثم انصرفوا، صرف اللہ قلوبھم “۔ بلکہ تم یہ کہو : انقلبوا رحمکم اللہ (تم پلٹ جاؤ اللہ تم پر رحم فرمائے) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی مدح میں یہ کہا ہے : (آیت) ” فانقلبوا بنعمۃ من اللہ وفضل لم یمسسھم سوٓئ “۔ (آل عمران : 174) (کہ واپس آئے یہ لوگ اللہ کے انعام اور فضل کے ساتھ نہ چھوڑا ان کو کسی برائی نے)
مسئلہ نمبر : (3) اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس آیت میں یہ خبر دی ہے کہ وہی دلوں کو پھیرنے اور تبدیل کرنے والا ہے اور وہی انہیں پلٹنے اور الٹنے والا ہے، یہ قدریہ کا رد ہے، ان کے اعتقاد میں یہ ہے کہ مخلوق کے دل ان کے اپنے ہاتھوں میں ہیں اور ان کے اعضاء ان کے حکم تابع ہیں۔ وہ اپنی مشیت کے مطابق تصرف کرتے ہیں اور اپنے ارادے اور اختیار کے مطابق فیصلے کرتے ہیں، اسی لیے امام مالک (رح) نے اس میں کہا ہے جسے ان سے اشہب نے روایت کیا ہے : قدریہ کے رد میں یہ کتنا واضح اور بین ارشاد ہے : (آیت) ” لایزال بنیانھم الذی بنواریبۃ فی قلوبھم الا ان تقطع قلوبھم “۔ (التوبہ : 110) (ان کی وہ عمارت جو انہوں نے اپنے دلوں میں شک کی بنا پر بنائی وہ مسلسل رہے گی مگر یہ کہ ان کے دل کٹ جائیں) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے لیے ہے : (آیت) ” انہ لن یؤمن من قومک الا من قدم امن “۔ (ہود : 36) (کہ نہیں ایمان لائیں گے آپ کی قوم سے بجز ان کے جو ایمان لا چکے) پس یہ نہ ہمیشہ ہوسکتا ہے اور نہ اس سے رجوع ہو سکتا ہے اور نہ یہ زائل ہو سکتا ہے (1) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 1033)
Ayahs 9:128–129آیت نمبر : 128 تا 129۔
حضرت ابی ؓ کے قول کے مطابق یہ دونوں آیتیں از روئے عہد کے آسمان سے زیادہ قریب ہیں۔ اور حضرت سعید بن جبیر ؓ کے قول کے مطابق یہ دونوں آیتیں از روئے عہد کے آسمان سے زیادہ قریب ہیں۔ اور حضرت سعید بن جبیر کے قول میں ہے : قرآن کریم میں سے جو آیت آخر میں نازل ہوئی وہ (آیت) ” واتقوا یوما ترجعون فیہ الی اللہ “ (البقرہ : 281) ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، پس حضرت ابی ؓ کے قول میں یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ اس ارشاد : (آیت) ” واتقوا یوما ترجعون فیہ الی اللہ “ کے بعد یہ دونوں آیتیں عہد کے اعتبار سے آسمان سے زیادہ قریب ہیں۔ واللہ اعلم۔
جمہور کے نزدیک یہ خطاب عربوں کو ہے اور یہ ان پر احسانات اور نعمتیں شمار کرنے کی جہت پر ہے، کیونکہ آپ ان کی زبان میں وہ لے کر آئے جسے وہ سمجھ سکتے ہیں اور آپ کے ساتھ بقیہ ایام میں شرف و عظمت عطا کی گئی، اور زجاج نے کہا ہے : یہ خطاب تمام عالم کو ہے اور معنی یہ ہے : لقد جاء کم رسول من البشر “۔ (تحقیق تمہارے پاس انسانوں میں سے ایک بزرگزیدہ رسول تشریف لایا) پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : عرب کا کوئی قبیلہ نہیں ہے مگر اس نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کو جنم دیا ہے تو گویا یہ فرمایا : اے گروہ عرب تحقیق تمہارے پاس بنی اسماعیل میں سے ایک برگزیدہ رسول تشریف لایا، اور دوسرا قول حجت کو پختہ اور مؤکد کرنے کے لیے ہے یعنی وہ تمہاری مثل بشر ہیں تاکہ تم ان سے (احکام) سمجھ سکو اور آپ کی اقتدا اور پیروی کرسکو۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” من انفسکم “ یہ ارشاد حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے نسب کی مدح کا تقاضا کرتا ہے اور یہ کہ آپ خالص اور پکے عرب تھے، اور صحیح مسلم میں حضرت واثلہ بن اسقع ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا میں نے رسول اللہ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” بیشک اللہ تعالیٰ نے اولاد اسماعیل میں سے کنانہ کو چنا ہے اور کنانہ میں سے قریش کو چنا ہے اور قریش میں سے بنی ہاشم کو منتخب کیا ہے اور بنی ہاشم میں سے مجھے منتخب فرمایا ہے ‘ (1) (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، جلد 2، صفحہ 245)
اور آپ ﷺ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : ” بلاشبہ میں نکاح سے (پیدا ہوا) ہوں اور میں زنا سے نہیں ہوں “۔ اس کا معنی ہے کہ آپ ﷺ کا سلسلہ نسب حضرت آدم (علیہ السلام) تک اس میں ولادت نکاح سے ہوئی ہے، اس میں زنا نہیں ہوا۔
اور عبداللہ بن قسیط المکی نے (آیت) ” من انفسکم “ فا کے فتحہ کے ساتھ قرات کی ہے اور یہ نفاسۃ سے ماخوذ ہے اور حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے اور حضرت فاطمہ ؓ سے یہ روایت کی گئی ہے (2) (المحرر الوجیز، سورة توبہ، جلد 3، صفحہ 100)
یعنی جاء کم رسول من اشرفکم وافضلکم “ (تم میں سے زیادہ شرف وفضل والا رسول تمہارے پاس تشریف لایا) یہ تیرے اس قول سے ہے : شی نفیس جب وہ شی مرغوب فیہ ہو، اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) ” من انفسکم “ یعنی تم میں سے بہت زیادہ اطاعت کرنے والا (رسول تمہارے پاس تشریف لایا)
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” عزیز علیہ ما عنتم “۔ یعنی تمہاری مشقت آپ پر گراں گزرتی ہے۔ اور العنت کا معنی مشقت ہے، یہ ان کے اس قول سے ہے : اکمۃ عنوت جب ٹیلہ مشقت آمیز اور مہلک ہو، اور ابن انباری نے کہا ہے : تعنت میں اصل معنی تشدد کرنا، تکلیف پہنچانا ہے پس جب عرب کہیں : فلان یتعنت فلانا ویعنتہ تو ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ فلاں اس پر تشدد کررہا ہے اور اسے ایسی شے کے ساتھ لازم کر رہا ہے جس کی ادائیگی اس پر مشکل اور تکلیف دہ ہے۔ اس کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔
اور (آیت) ” ماعنتم “ میں ما مصدریہ ہے، اور یہ مبتدا ہے اور عزیز خبر مقدم ہے، اور یہ بھی جائز ہے کہ (آیت) ” ماعنتم “۔ عزیز کے ساتھ فاعل ہو اور عزیر، رسول کی صفت ہو، اور زیادہ صحیح ہے۔ اور اسی طرح (آیت) ” حریص علیکم “۔ اور (آیت) ” رء وف رحیم “۔ صفت ہونے کی وجہ سے مرفوع ہیں، فراء نے کہا ہے : اور اگر عزیرا علیہ ماعنتم حریصا رؤفا رحیما پڑھا جائے تو یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہوں گے اور یہ جائز ہے۔
ابوجعفر نحاس نے کہا ہے : اس کے معنی میں جو کچھ کہا گیا ہے اس میں سے احسن جو کلام عرب سے موافقت رکھتا ہے وہ ہے کہ احمد بن محمد الازدی نے ہمیں بیان کیا اس نے کہا عبداللہ بن محمد خزاعی نے ہمیں بیان کیا اس نے کہا میں نے عمرو بن علی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن داود خریبی کو رب کریم کے اس ارشاد میں یہ کہتے ہوئے سنا : (آیت) ” لقد جآء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم “ فرمایا (ان پر گراں گزرتا ہے) کہ تم جہنم میں داخل ہو (آیت) ” حریص علیکم “ فرمایا (وہ تمہارے بارے میں بہت خواہشمند ہیں) کہ تم جنت میں داخل ہو، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمہارے بارے میں بہت خواہش مند ہیں کہ تم ایمان لاؤ اور فراء نے کہا ہے : وہ بخیل ہیں اس بارے کہ تم جہنم میں داخل ہو۔ اور الحرص علی الشی کا معنی ہے الشح علیہ ان یضیع ویتلف (اس پر بخل کرنا کہ وہ اسے ضائع کرے اور تلف کرے)
(آیت) ” بالمؤمنین رء وف رحیم “۔ الرء وف کا معنی ہے، بہت زیادہ نرمی اور شفقت کرنے والا (آیت) ” رء وف رحیم “۔ کا مکمل معنی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے، اور حسین بن فضل نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے اپنے اسماء میں سے دو اسم انبیاء (علیہم السلام) میں سے کسی کے لیے بھی سوائے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے جمع نہیں فرمائے پس اس نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” بالمؤمنین رء وف رحیم “۔ اور فرمایا (آیت) ” ان اللہ بالناس رء وف رحیم “۔ (بقرہ) اور عبدالعزیز بن یحی نے کہا ہے : نظم آیت (آیت) ” لقد جآء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم بالمؤمنین رء وف رحیم “۔ سے مقصود تمہاری شان اور حالت ہے اور وہ تمہارے لیے شفاعت قائم کرنے والا ہے، پس تم (آیت) ” ما عنتم “ سے ان کا قصد نہ کرو جو تمہیں ان کی سنت پر قائم رکھیں، کیونکہ تمہارا جنت میں داخل ہونا ہی انہیں راضی اور خوش کرسکتا ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فان تولوا فقل حسبی اللہ “۔ اے محمد ﷺ اگر کفار اعراض کریں ان نعمتوں کے بعد بھی جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان فرمایا ہے تو پھر کہو (آیت) ” حسبی اللہ “۔ اللہ تعالیٰ مجھے کافی ہے۔
(آیت) ” لا الہ الا ھو علیہ توکلت “۔ نہیں کوئی معبود بجز اس کے میں نے اسی پر اعتماد اور بھروسہ کیا، اور اپنے تمام امور میں نے اسی کے سپرد کردیئے۔ (آیت) ” وھو رب العرش العظیم “۔ عرش کو خاص کیا، کیونکہ وہ اعظم المخلوقات ہے جب اس کا ذکر کردیا تو اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا ہر شے اس میں داخل ہوجائے گی، اور قرات عامہ کے مطابق العظیم مجرور ہے کیونکہ وہ عرش کی صفت ہے اور رب کی صفت بناتے ہوئے اسے رفع کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔
یہ قرات ابن کثیر سے مروی ہے اور یہی قرات ابن محیصن کی ہے۔ اور ابو داؤد کی کتاب میں حضرت ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : جس نے صبح وشام سات مرتبہ پڑھا (آیت) ” حسبی اللہ لا الہ الا ھو، علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم “۔ تو اللہ تعالیٰ اسے کافی ہے اس کام میں جس کا اس نے ارادہ اور قصد کیا چاہے وہ اس میں سچا ہو یا جھوٹا اور ” نوادرالاصول “ (1) ( نوادرالاصول، الکلمات العشر بعد الصلوۃ جلد 1، صفحہ 217)
میں حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جس نے ہر نماز کے بعد دس کلمات کہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو ان کے پاس کافی اور جزا دینے والا پائے گا، ان میں سے پانچ دنیا کے لیے ہے اور پانچ آخرت کے لیے حسبی اللہ لدینی (اللہ تعالیٰ میرے دین کے لیے مجھے کافی ہے) حسبی اللہ لدیناہ (اللہ تعالیٰ میری دنیا کے لیے مجھے کافی ہے) حسبی اللہ لما اھمنی (اللہ مجھے کافی ہے اس شے کے لیے جو مجھے غم میں ڈال دے) حسبی اللہ لمن بغی علی (اللہ تعالیٰ مجھے کافی ہے اس کے لیے جو مجھ پر زیادتی کرے) حسبی اللہ لمن حسدنی (اللہ تعالیٰ مجھے کافی ہے اس کے لیے جو میرے ساتھ حسد کرے) حسبی اللہ عند الموت (اللہ تعالیٰ مجھے کافی ہے اس کے لیے موت کے وقت) حسبی اللہ عند المسالۃ فی القبر (اللہ تعالیٰ قبر میں سوال کے وقت مجھے کافی ہے) حسبی اللہ عند المیزان (اللہ تعالیٰ مجھے کافی ہے میزان کے پاس) حسبی اللہ عند الصراط (اللہ تعالیٰ مجھے کافی ہے پل صراط کے پاس) حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت والیہ انیب (اللہ تعالیٰ مجھے کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی پر میں نے اعتماد کیا ہے اور اسی کی طرف لوٹایا جانا ہے)
نقاش نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا : عہد کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے قریب ترین قرآن کی یہ دو آیتیں ہیں : (آیت) ” لقد جآء کم رسول من انفسکم “ سے آخر سورت تک ہم اسے بیان کرچکے ہیں۔ اور یوسف بن مہران نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے قرآن کریم میں سے جو آخر میں نازل ہوئی : (آیت) ” لقد جآء کم رسول من انفسکم “ اور یہ آیت ہے۔ اسے ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ (1) (تفسیر ماوردی، سورة توبہ، جلد 2، صفحہ 419) اور ہم نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کے خلاف ذکر کیا ہے جیسا کہ ہم نے اسے سورة البقرہ میں ذکر کیا ہے، اور یہی زیادہ صحیح ہے، اور مقاتل نے کہا ہے : اس کا پہلے نزدیک مکہ مکرمہ میں ہوا تھا، اس میں بعد ہے، کیونکہ یہ سورة مدنی ہے۔ واللہ اعلم۔
اور یحی بن جعدہ نے کہا ہے : حضرت عمر بن خطاب ؓ مصحف میں کوئی آیت ثبت نہ فرماتے تھے یہاں کہ اس پر دو آدمی شہادت دے دیں، پس انصار میں سے ایک آدمی سورت براءت کی آخری دو آیتیں لے کر آیا، (آیت) ” لقد جآء کم رسول من انفسکم “ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا : قسم بخدا ! میں تجھ سے ان پر کوئی بینہ (گواہ) طلب نہیں کروں گا، حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ اسی طرح تھے، پس آپ نے ان دونوں کو لکھوا دیا، ہمارے علماء نے کہا ہے : وہ آدمی حضرت خزیمہ بن ثابت ؓ تھے، بلاشبہ حضرت عمر ؓ نے ان دونوں کو اکیلے آپ کی شہادت کے ساتھ لکھوا دیا، کیونکہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کی صفت میں اس کے صحیح ہونے پر دلیل قائم تھی، پس یہی قرینہ ہے جس نے دوسرے گواہ کی طلب سے مستغنی کردیا، بخلاف سورة احزاب کی آیت کے (آیت) ” رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ “۔ (الاحزاب : 23)
کیونکہ یہ آیت حضرت زید اور حضرت خزیمہ ؓ کی شہادت کے ساتھ ثابت ہوئی کہ ان دونوں نے اسے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے سنا ہے، یہ بحث مقدمۃ الکتاب میں گزر چکی ہے، والحمد للہ۔
تمت بالخیر :
سورۃ توبہ کی تفسیر کا ترجمہ اختتام پذیر ہوا :
الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین وعلی آلہ وصحبہ اجمعین “۔