Ayah 9:74آیت نمبر : 74۔
اس آیت میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یحلفون باللہ ماقالوا “۔ روایت ہے کہ یہ آیت جلاس بن سوید بن صامت اور ودیعہ بن ثابت کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے ساتھ ملے اور انہوں نے کہا : قسم بخدا ! اگر محمد (مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ان بھائیوں کے خلاف سچے ہیں جو ہمارے سردار اور ہمارے اشراف ہیں تو ہم یقینا گدھوں سے برے ہیں، تو عامر بن قیس نے اسے کہا : ہاں ! قسم بخدا بلاشبہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سچے ہیں اور آپ کی تصدیق کی گئی ہے۔ اور بلاشبہ تو گدھے سے زیادہ برا اور شریر ہے، اور عامر نے اس کے بارے حضور نبی مکرم ﷺ کو اطلاع دی ہے۔ اور پھر جلاس آیا اور اس نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے منبر کے پاس اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہا کہ عامر نے جھوٹ بولا ہے، اور عامر نے قسم کھائی یقینا اس نے یہ کہا ہے، اور پھر کہا : اے اللہ ! اپنے سچے نبی پر اس بارے کوئی شے نازل فرما، پس یہ آیت نازل ہوئی (1) (معالم التنزیل، جلد 3، صفحہ 82) اور کہا گیا ہے : بیشک وہ جس نے یہ سنا وہ عاصم بن عدی تھا، بعض نے کہا ہے : وہ حذیفہ تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے : بلکہ اسے اس کی بیوی کے بیٹے نے سنا تھا اور اس کا نام عمیر بن سعد تھا، اس بارے میں یہ ابن اسحاق نے کہا ہے، اور ان کے سوا کسی اور نے کہا ہے : اس کا نام مصعب تھا، پس جلاس نے اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ اس کی خبر کے بارے خبر نہ دے تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” وھمو بمالم ینالوا “۔ (اور انہوں نے ارادہ بھی کیا ایسی چیز کا جسے وہ نہ پا سکے) حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : جلاس کو جب اس کے ساتھی نے کہا تھا : بلاشبہ میں تیرے قول کے بارے رسول اللہ ﷺ کو اطلاع کروں گا، تو اس نے اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا، پھر وہ ایسا نہ کرسکا، بلکہ اس سے عاجز آگیا، فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (آیت) ” وھمو بمالم ینالوا “۔ کے ساتھ اسی طرح اشارہ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی کے بارے نازل ہوئی، اس نے بنی غفار کے ایک آدمی کو دیکھا جو جہینہ قبیلے کے ایک آدمی کے ساتھ لڑ رہا تھا اور جہینہ انصار کے حلیف تھے پاس غفاری جہینی پر غالب آگیا تو ابن ابی نے پکار کر کہا : اے بنی اوس اور خزرج، اپنے بھائی کی مدد کرو، ! قسم بخدا ہماری اور محمد ﷺ کی مثال تو اس طرح ہے جیسے کی کہنے والے نے کہا : ” اپنے کتے کو موٹا کر تاکہ وہ تجھے کھائے “۔ اگر ہم مدینہ طیبہ لوٹ کر گئے تو وہاں سے عزت والا ذلت والے کو نکال دے گا (1) (اسباب النزول، صفحہ 131)
حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کو اس بارے خبر دی گئی تو عبداللہ بن ابی آپ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے قسم اٹھا دی کہ اس نے یہ بات نہیں کی، یہ حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے، اور تیسرا قول یہ ہے کہ یہ تمام منافقین کا قول ہے، یہ حسن نے کہا ہے۔ علابہ ابن عربی نے کہا ہے : یہ صحیح ہے، کیونکہ قول میں عموم ہے اور اس میں اور ان میں معنی موجود ہے اور اس میں ان تمام کا اعتقاد یہ تھا کہ آپ نبی نہیں ہیں۔ (2) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 979)
مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولقد قالوا کلمۃ الکفر “۔ نقاش نے کہا ہے : اس سے مراد ان کا اس وعدے کو جھٹلانا ہے جو اللہ تعالیٰ نے فتح کے بارے فرمایا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ (آیت) ” کلمۃ الکفر “۔ سے مراد جلاس کا قول ہے : بیشک حضرت محمد ﷺ جو لے کر آئے اگر وہ حق ہے تو ہم یقینا گدھوں سے زیادہ شریر ہیں، اور عبداللہ بن ابی کا یہ قول ہے : اگر ہم مدینہ لوٹ کر گئے تو یقینا وہاں سے عزت والا ذلت والے کو نکال دے گا، علامہ قشیری نے کہا ہے : (آیت) ” کلمۃ الکفر “۔ سے مراد حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کو گالیاں دینا اور اسلام میں طعن وتشنیع کرنا ہے۔ (3) (معالم التنزیل، جلد 3، صفحہ 83)
(آیت) وکفروا بعد اسلامھم “۔ اور انہوں نے کفر اختیار کیا اس کے بعد کہ ان کے لیے اسلام کا حکم لگ چکا تھا، تو یہ اس پر دلیل ہے کہ منافقین کافر ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد (آیت) ” ذلک بانھم امنوا ثم کفروا “۔ (المنافقون) (ان کا) یہ (طریق کار) اس لیے ہے کہ وہ (پہلے) ایمان لائے پھر وہ کافر بن گئے) میں قطعی دلیل ہے۔
اور یہ آیت اس پر بھی دلیل ہے کہ کفر ہر اس (قول) کے ساتھ ثابت ہوجاتا ہے جو تصدیق اور معرفت کی نقیض اور ضد ہو، اگرچہ ایمان ثابت نہیں ہوتا مگر ” لا الہ الا اللہ “ کے ساتھ اس کے ہوا اقوال وافعال میں سے کسی سے ثابت نہیں ہوتا مگر نماز میں (ثابت ہوجاتا ہے) اسحاق بن راہویہ نے کہا ہے : تحقیق علماء نے نماز میں ایسی شے پر اجماع کیا ہے جس پر باقی ساری شریعت میں انہوں نے اجماع کیا، کیونکہ انہوں نے بالا اجماع کہا ہے : جس کا کفر پہچان لیا جائے پھر لوگوں نے اسے نماز اپنے وقت میں پڑھتے ہوئے دیکھا یہاں تک کہ اس نے کثیر نمازیں پڑھیں اور انہوں نے اس کے اقرار بالسان کا علم نہ ہوا تو اس کے لیے ایمان کا حکم لگایا جائے گا اور انہوں (علمائ) نے اس کے لیے روزے اور زکوۃ میں اس قسم کا حکم نہیں لگایا۔
مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وھموا بالم ینالوا “۔ یعنی منافقین نے غزوہ تبوک کے دوران لیلۃ العقبہ میں حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کو شہید کرنے کا ارادہ کیا اور وہ بارہ آدمی تھی حضرت حذیفہ ؓ نے کہا ہے : رسول اللہ ﷺ نے ان کے نام بیان کیے حتی کہ آپ نے ان تمام کو شمار کیا، تو میں نے عرض کی : کیا آپ ان کی طرف (پیغام) نہیں بھیجیں گے کہ آپ انہیں قتل کردیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” میں یہ ناپسند کرتا ہوں کہ عرب کہیں کہ جب اپنے اصحاب کے ساتھ کامیاب ہوگیا تو وہ انہیں قتل کرنے لگا بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں دبیلہ کے ساتھ کافی ہوگا “ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ﷺ یہ دبیلہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” جہنم کا شعلہ ہے جو ان میں سے ہر ایک کی رگ دل پر پڑے گا یہاں تک کہ اس کی روح نکل جائے گی “۔ (4) (صحیح مسلم، کتاب التوبہ، جلد 2، صفحہ 389)
(اور وہ ہلاک ہوجائے گا) پھر اسی طرح ہوا، اسی کے ہم معنی مسلم نے اسے روایت کیا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے ابن ابی کے سر پر تاج رکھنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ اس پر جمع ہوجائیں اس بارے میں حضرت مجاہد (رح) کا قول پہلے گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر : (4) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وما نقموا الا ان اغنھم اللہ ورسولہ من فضلہ “۔ یعنی وہ کسی شے کو ناپسند نہیں کرتے یہ اسی طرح ہے جیسے نابغہ نے کہا ہے :
ولا عیب فیھم غیر ان سیوفھم فھم فلول من قراع الکتائب (1) (المحرر الوجیز، جلد 3، صفحہ 60 دارالکتب العلمیہ)
ان میں کوئی عیب نہیں سوائے اس کے کہ ان کی تلواریں لشکروں کو کاٹنے کے سبب کند ہوچکی ہیں۔
اور کہا جاتا ہے : نقم ینقم اور نقم ینقم شاعر نے عین کے کسرہ کی صورت میں کہا ہے :
ما نقموا من بنی امیۃ لا انھم یحلمون ان غضبواـ:
اور زہیر نے کہا ہے :
یؤخر فیوضع فی کتاب فیدخر لیوم الحساب او یعجل فینقم :
یہ قاف کے کسرہ اور فتحہ دونوں کے ساتھ شعر میں کہا جاتا ہے۔
حضرت شعبی (رح) نے کہا ہے : وہ دیت طلب کرتے تھے، پس رسول اللہ ﷺ اس کے بارے ان کے لیے فیصلہ فرما دیتے تو وہ غنی (دولت مند) ہوگئے، حضرت عکرمہ (رح) نے ذکر کیا ہے کہ وہ بارہ ہزار تھے اور کہا جاتا تھا کہ بیشک مقتول جلاس کا غلام تھا، اور کلبی (رح) نے کہا ہے : حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے وہ انتہائی تنگ زندگی گزارتے تھے، نہ وہ گھوڑے پر سوار ہوتے تھے اور نہ غنیمت تقسیم کرتے تھے، پس جب حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو وہ غنائم کے سبب غنی ہوگئے (2) (معالم التنزیل، جلد 3 صفحہ : 83)
اور یہ مثل مشہور ہے (اتق شر من احسنت الیہ) تو اس کے شر سے بچ جس پر تو نے احسان کی کیا ہے۔
علامہ ابو نصر قشیری نے کہا ہے : بجلی کو کہا گیا کیا آپ قرآن کریم میں یہ پاتے ہیں تو اس کے شر سے بچ جس پر تو نے احسان کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں، (آیت) ” وما نقموا الا ان اغنھم اللہ ورسولہ من فضلہ “۔ (اور نہیں خشمناک ہوئے وہ مگر اس پر کہ غنی کردیا انہیں اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے اپنے فضل وکرم سے)
مسئلہ نمبر : (5) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فان یتوبوا یک خیرالھم “۔ روایت ہے کہ جلاس اس وقت کھڑا ہو اجب یہ آیت نازل ہوئی اور اس نے استغفار اور توبہ کی، تو یہ ایسے کافر کی توبہ پر دلیل ہے جو کفر کو چھپاتا ہے اور ایمان کو ظاہر کرتا ہے، اور یہی وہ ہے جسے فقہاء زندیق کا نام دیتے ہیں۔ تحقیق اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ امام شافعی (رح) نے کہا ہے : اس کی توبہ قبول کی جائے گی، امام مالک (رح) نے کہا ہے : زندیق کی توبہ معروف نہیں ہے، کیونکہ وہ ایمان کو ظاہر کرتا ہے اور کفر کو چھپاتا ہے اور اس کا ایمان معلوم نہیں ہو سکتا مگر اس کے قول کے ساتھ، اور اسی طرح اب وہ کرتا ہے اور ہر وہ کہتا ہے : میں مومن ہوں حالانکہ جو کچھ وہ ظاہر کر رہا ہے اس کا خلاف وہ چھپا رہا ہے، پس جب وہ اس پر مطلع ہوا اور اس نے کہا : میں نے توبہ کی، تو اس کی حالت اس سے تبدیل نہ ہوئی جس پر وہ پہلے تھا، پس جب وہ ہمارے پاس اپنی طرف سے توبہ کرتے ہوئے آیا اس سے پہلے کہ وہ اس ہو اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی (1) (احکام القرآن جلد 2، صفحہ 979)
اور آیت سے یہی مراد ہے۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر : (6) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وان یتولوا “۔ یعنی اگر وہ روگردانی کریں ایمان اور توبہ سے (آیت) ” یعذبھم اللہ عذابا الیما “۔ تو اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں قتل کے ساتھ اور آخرت میں آگ کے ساتھ عذاب دے گا۔ (آیت) ” وما لھم فی الارض من ولی “۔ یعنی ان کے لیے روئے زمین پر کوئی بچانے والا نہ ہوگا جو انہیں بچائے گا۔ (آیت) ” ولا نصیر “ اور نہ کوئی معاون و مددگار ہوگا، اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔
Ayahs 9:75–78آیت نمبر : 75۔ 78۔
اس آیت میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ومنھم من عھد اللہ “۔ حضرت قتادہ (رح) نے بیان کیا ہے کہ یہ انصار میں سے ایک آدمی تھا اس نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے کوئی شے عطا فرمائی تو میں ضرور اس میں اس کا حق ادا کروں گا اور یقینا خیرات دوں گا، پس جب اللہ تعالیٰ نے اسے وہ عطا فرمایا تو اس نے وہ کیا جو تم پر بیان کیا گیا ہے، پس تم جھوٹ سے بچو، کیونکہ وہ فجور تک پہنچا دیتا ہے، علی بن یزید نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت ابو امامہ باہلی سے روایت کیا ہے کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی : اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے مال عطا فرمائے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تجھ پر افسوس ہے اے ثعلبہ ! وہ قلیل جس کا شکر ادا کیا جائے اس کثیر سے بہتر ہے جس کی تو طاقت نہ رکھے “۔ پھر وہ دوبارہ حاضر ہوا تو پھر حضور ﷺ نے فرمایا : ” کیا تو اس پر راضی نہیں ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے نبی کی مثل ہو اگر میں چاہوں کہ پہاڑ سونا بن کر میرے ساتھ چلیں تو وہ یقینا چل پڑیں “۔ (اما ان تکون مثل نبی اللہ لوشئت ان تیسرمعی الجبال ذھبالسارت) تو اس نے پھر عرض کی : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا اگر آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے مال عطا فرمائے تو میں ضرور ہر حق دار کو اس کا حق دوں گا، چناچہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی، پس اس نے بکریاں لیں تو وہ اس طرح بڑھیں جیسے کیڑے بڑھتے ہیں تو اس پر مدینہ طیبہ تنگ ہوگیا پس وہ اس سے دور چلا گیا اور اس کی وادیوں میں سے ایک وادی میں جا کر رہنے لگا یہاں تک کہ ظہر اور عصر کی نمازیں جماعت کے ساتھ پڑھنے لگا اور ان کے سوا اس نے جماعت چھوڑ دی، پھر وہ اور بڑھیں اور اتنی زیادہ ہوگئیں کہ اس نے سوائے جمعہ کے ساری نمازیں چھوڑ دیں اور وہ بڑھتی رہیں یہاں تک کہ اس نے جمعہ بھی چھوڑ دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یا ویح ثعلبہ (ثعلبہ ہلاک ہوگیا) آپ نے یہ جملہ تین بار کہا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” خذ من اموالھم صدقۃ “۔ (التوبہ 103) ان کے مالوں سے زکوۃ لو، تو آپ ﷺ نے زکوۃ وصول کرنے کے لیے دو آدمی بھیجے اور آپ نے دونوں کو فرمایا : تم دونوں ثعلبہ اور فلاں کے پاس جاؤ۔ یہ فلاں بنی سلیم کا ایک آدمی تھا۔ اور تم ان سے زکوۃ لے آؤ“۔ چناچہ وہ دونوں ثعلبہ کے پاس آئے اور اسے رسول اللہ ﷺ کا خط پڑھ کر سنایا تو اس نے کہا : یہ تو اخت جزیہ ہی ہے (یعنی زکوۃ جزیہ کی مثل ہی ہے) تم دونوں آگے جاؤ یہاں تک کہ جب فارغ ہوجاؤ تو پھر آنا۔ الحدیث اور یہ حدیث مشہور ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ثعلبہ کے غنا کا سبب یہ بنا کہ وہ اپنے چچا کے بیٹے کا وارث بنا، ابن عبدالبر نے کہا ہے : کہا گیا کہ ثعلبہ بن حاطب وہ ہے جس کے بارے میں (آیت) ” ومنھم من عھد اللہ “۔ الآیہ والی آیت نازل ہوئی (1)
جب اس نے زکوۃ کو روکا، فاللہ اعلم۔ اور جو اس کے بارے میں آیا ہے جو بدر میں حاضر ہوا تو اس کا معارض آیت میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” فاعقبھم نفاقا فی قلوبھم “۔ الآیہ۔
میں مفسر کہتا ہوں : کہ آیت نزول کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ سے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ سے اس کا مال شام میں پیچھے رہ گیا، تو اس نے انصار کی ایک مجلس میں قسم کھائی، اگر وہ محفوظ رہا تو میں ضرور اس سے خیرات کروں گا اور اس سے صلہ رحمی کروں گا پس جب اسے صحیح سالم مل گیا تو اس نے اس کے ساتھ بخل کیا تب یہ آیت نازل ہوئی۔
میں مفسر کہتا ہوں : ثعلبہ بدری انصاری اور ان میں سے ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ایمان کی شہادت دی ہے، جیسا کہ اس کا بیان سورة ممتحنہ کے شروع میں آئے گا، پس اس کے بارے روایت کیا گیا ہے وہ صحیح نہیں ہے، ابو عمر نے کہا ہے : شاید اس کا قول جس نے ثعلبہ کے بارے یہ کہا ہے کہ اس نے اس زکوۃ کا انکار کیا جس کے بارے آیت نازل ہوئی وہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ اور حضرت ضحاک (رح) نے کہا ہے : بیشک یہ آیت منافقین میں سے نبتل بن حارث، جد بن قیس اور معتب بن قشیر کے بارے میں نازل ہوئی (1) (زاد المسیر، جلد 3، صفحہ 358)
میں مفسر کہتا ہوں : یہ نزول کے اعتبار سے ان کے ساتھ زیادہ موافق ہے، مگر یہ کہ قول باری تعالیٰ : (آیت) ” فاعقبھم نفاقا “۔ اس پر دلالت کرتا ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ وعدہ کیا وہ اس سے پہلے منافق نہ تھا، مگر یہ کہ معنی یہ ہو : اللہ تعالیٰ نے ان کے نفاق میں اضافہ کردیا پس وہ موت تک اس پر ثابت رہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” الی یوم یلقونہ “۔ جیسا کہ اس کا بیان آگے آرہا ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) ہمارے علماء نے کہا ہے : جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ومنھم من عھد اللہ “۔ تو یہ اس کا احتمال رکھتا ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ وعدہ اپنی زبان کے ساتھ کیا ہو اور اپنے دل سے اس کا اعتقاد نہ رکھا ہو، اور یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ وعدہ دونوں (زبان اور دل) کے ساتھ ہو پھر اسے سوء خاتمہ نے آلیا ہو، کیونکہ اعمال اپنے خاتمہ کے ساتھ ہوتے ہیں اور دل اپنے انجام اور اواخر کے ساتھ ہے۔
اور من مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور خبر مجرور میں ہے، اور قسم کا لفظ حدیث میں وارد ہے اور قرآن کریم کے ظاہر الفاظ میں یمین نہیں ہے مگر صرف ارتباط والتزام کے ساتھ، البتہ یہ معنوی اعتبار سے صیغہ قسم میں ہے کیونکہ لام اس پر دلالت کرتا ہے، یہ لفظ دو لاموں کے ساتھ مذکور ہے پہلا لام قسم کے لیے اور دوسرا لام الجواب ہے، اور یہ دونوں تاکید کے لیے ہیں، اور ان میں سے بعض نے کہا ہے : بیشک یہ دونوں لام برائے قسم ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ واضح اور اظہر ہے، والا اعلم۔
مسئلہ نمبر : (3) وعدہ اور طلاق اور ہر وہ حکم جس کے آدمی منفرد ہو سکتا ہے اور کسی غیر کا اس میں محتاج نہیں ہوتا بیشک وہ اسے لازم ہوجاتا ہے، جب وہ اپنے قصد و ارادہ سے اس کا الزام کرتا ہے اگرچہ وہ اس کے الفاظ نہ بھی کہے، یہ ہمارے علماء نے کہا ہے۔ امام شافعی اور اما اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے کسی پر کوئی حکم لازم نہیں ہوتا مگر اس کے بعد کہ وہ اس کے الفاظ ادا کرے، اور یہی ہمارے علماء کا دوسرا قول ہے۔
علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : جو موقف ان دنوں ائمہ نے اپنایا ہے اس کے صحیح ہونے پر دلیل وہ روایت ہے جسے اشہب نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے، تحقیق آپ سے پوچھا گیا، جب آدمی اپنے دل سے طلاق کی نیت کرلے اور زبان کے ساتھ اس کا تلفظ نہ کرے ؟ تو آپ نے فرمایا : وہ اسے لازم ہوجائے گی، جیسا کہ آدمی اپنے دل کے ساتھ مومن ہوجاتا ہے اور اپنے دل کے ساتھ ہی کافر ہوجاتا ہے، ابن عربی (رح) نے کہا ہے : یہ ایک عمدہ اصل ہے اور اس کی وضاحت یہ ہے کہ کہا جائے : ایسا عقد جس میں آدمی اس کے التزام کے لیے کسی دوسرے کا محتاج نہ ہو تو فقد نیت کے ساتھ وہ اس پر منعقد ہوجائے گا اس کی اصل ایمان اور کفر ہے (2) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 982)
میں مفسر کہتا ہوں : دوسرے قول کی حجت اور دلیل وہ روایت ہے جسے مسلم (رح) نے حضرت ابوہریرہ (رح) سے روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے تجاوز اور درگزر کی ہے ہر اس شے سے جو ان کے نفوس اس پر القا کرتے ہیں کہ وہ اس پر عمل نہ کریں یا اس کے بارے کلام نہ کریں “۔ (1) (صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 78)
اور اسے ترمذی نے بھی روایت کیا ہے اور کہا ہے : یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس پر اہل علم کے نزدیک عمل بھی ہے کہ جب آدمی کا نفس طلاق کے بارے اس کے ذہن میں وسوسہ ڈالے تو کوئی شے واقع نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ اس بارے کلام کرے (2) (جامع ترمذی، کتاب الطلاق جلد 1، صفحہ 142)
ابو عمر ؓ نے کہا ہے : جس کسی نے دل کے ساتھ طلاق کا اعتقاد رکھا اور اپنی زبان کے ساتھ اس بارے کچھ نہ بولا تو اس سے کوئی شے واقع نہ ہوگی۔ امام مالک (رح) سے یہی زیادہ مشہور ہے، اور آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ اسے طلاق لازم ہوجائے گی جب اس نے اپنے دل سے اس کی نیت کرلی جیسا کہ وہ اپنے دل کے ساتھ کافر ہوجاتا ہے اگر وہ اپنی زبان سے اس بارے کچھ نہ بولے نظر وفکر اور ترجیح کے اعتبار سے پہلا قول اصح ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے ہر اس شے سے تجاوز فرمای ہے جس کے بارے ان کے نفوس نے ان میں وسوسہ اندازی کی جب تک زبان اس کے بارے گفتگو نہ کرے یا ہاتھ اس کے مطابق عمل نہ کرے “ (3) (سنن نسائی، کتاب الطلاق، جلد 2، صفحہ 104)
مسئلہ نمبر : (4) اگر یہ نذر ہے تو بلا اختلاف نذر کو پورا کرنا واجب ہے اور اسے ترک کرنا معصیت ہے اور اگر یہ قسم ہے تو بالاتفاق قسم کا پورا کرنا واجب نہیں، مگر اس میں معنی یہ ہے اگر آدمی فقیر ہو تو اس پر فرض زکوۃ متعین نہیں ہوتی پس اس نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسے مال کی التجا کی جس میں زکوۃ اس کے ذمہ لازم ہوگی اور وہ اسے ادا کرے گا جو اس پر فرض زکوۃ میں سے متعین ہوگی، پس جب اللہ تعالیٰ نے اسے وہ عطا فرما دیا جو اس میں سے چاہا تو اس نے اسے چھوڑ دیا جس کا اس نے التزام کیا تھا، اس میں سے جو اصل دین میں اسے لازم تھا اگر وہ اس کا التزام نہ کرتا، لیکن مال کی طلب کے ساتھ مال لینا حقوق کو ادا کرنے کے لیے ہے یہ وہ ہے جسے اس نے چھپا رکھا ہے جب اس نے اللہ تعالیٰ سے بغیر خالص نیت کے مال کا مطالبہ کیا یا خالص نیت کے ساتھ کیا لیکن اس میں اس کے بارے شروع سے لکھی ہوئی تقدیر سبقت لے گئی اس میں شقاوت تھی (4) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 983) ۔ نعوذ باللہ من ذالک۔
میں مفسر کہتا ہوں : اس معنی کے بارے میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے : ” جب تم میں سے کوئی تمنا اور آرزو کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اس میں غور و فکر کرے جس کی تمنا کر رہا ہے، کیونکہ وہ اسے نہیں جانتا جو اس کے لیے اس کی امیدوں میں سے اللہ تعالیٰ کے غیب میں لکھا ہوا ہے “۔ (5) (مسندامام احمد بن حنبل، جلد 2، صفحہ 357)
یعنی ان نے انجام میں سے پس کتنی امیدیں ہیں جن کے ساتھ وہ فتنے میں پڑ جتا ہے یا سرکش ہوجاتا ہے پس یہی دنیا وآخرت میں ہلاک ہونے کا سبب بن جاتا ہے کیونکہ امور دنیا کے نتائج اور انجام مبہم ہیں اور ان کے فاسد ہونے کا خطرہ ہے۔ اور رہی دین اور آخرت کی آرزو تو بلاشبہ ان کی تمنا کرنا اس کا نتیجہ قابل ستائش ہے ان پر برانگیختہ کیا گیا اور ان کی طرف بلایا گیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (5) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لئن اتنا من فضلہ لنصدقن “۔ یہ اس پر دلیل ہے کہ جس نے کہا : اگر میں فلاں فلاں چیز کا مالک بن گیا تو وہ صدقہ ہے (ان ملکت کذا وکذا فھوصدقۃ) کیونکہ یہ اس کے ذمہ لازم ہوجاتی ہے، یہی امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے : اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے : یہ اس کے لازم نہ ہوگی۔ اور طلاق میں اسی کی مثل اختلاف ہے اور اسی طرح عتق میں بھی ہے، اور امام احمد بن حنبل (رح) نے کہا ہے : وہ عتق میں اس پر لازم ہوجائے گا اور طلاق کی صورت میں لازم نہ ہوگا (1) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 988) کیونکہ آزاد کرنا قربت ہے اور یہ نذر کے ساتھ ذمی ثابت ہوجاتی ہے۔ بخلاف طلاق کے کیونکہ وہ محل میں تصرف کرنا ہے اور وہ ذمہ میں ثابت نہیں ہوتی، امام شافعی (رح) نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جسے ابو داؤد اور ترمذی وغیرہ نے عمر بن شعیب سے اور انہوں نے اپنے باپ کے واسطہ سے اپنے داد سے روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ابن آدم کے لیے ان چیزوں میں کوئی نذر نہیں ہے جن کا وہ مالک نہیں ہوتا اور ان میں اس کے لیے کوئی عتق نہیں جن کا وہ مالک نہیں اور نہ ہی ان میں اس کے لیے طلاق کا کوئی حق ہے جن کا وہ مالک نہیں ہوتا “ (2) (جامع ترمذی، کتاب الطلاق، جلد 1، صفحہ 141، ایضا حدیث نمبر 1101، ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔ سنن ابی داؤد، باب فی الطلاق قبل النکاح، حدیث نمبر 1873، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
یہ الفاظ ترمذی کے ہیں، انہوں نے کہا ہے : اس باب میں حضرت علی، حضرت معاذ، حضرت جابر، حضرت ابن عباس، رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث مروی ہے اور وہ حدیث حسن ہے اور وہی بہترین شے ہے جو اس باب میں مروی ہے اور حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے اصحاب اور دیگر اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : اصحاب شافعی (رح) نے اس باب میں بہت سی احادیث بیان کی ہیں ان میں سے کوئی شے نہیں اور اسے ان پر محمول کیا جاسکتا ہے، لہذا ظاہر آیت کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا (3) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 988)
مسئلہ نمبر : (6) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فلما اتھم من فضلہ “۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کردیا۔ (آیت) ” فخلوا بہ “ تو وہ بطور صدقہ مال دینے، خیر کے کاموں میں مال خرچ کرنے اور ان (نذروں) کو پورا کرنے میں جن کے وہ ضامن بنے تھے اور انہوں نے جن کا التزام کیا تھا، وہ کنجوسی کرنے لگے، بخل کا معنی سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” وتولوا “ اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روگردانی کرلی (آیت) ” وھم معرضون “ اور وہ اسلام سے منہ پھیرنے والے ہیں یعنی اس سے اعرض کو ظاہر کرنے والے ہیں۔
مسئلہ نمبر : (7) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فاعقبھم نفاقا “۔ دو مفعول ہیں، ای اعقبھم اللہ تعالیٰ نفاقا فی قلوبھم “۔ (یعنی بطور نتیجہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں نفاق راسخ کردیا) اسی لیے کہا : (آیت) ” بخلوابہ “ (وہ اس کے ساتھ بخیل ہوگئے) (آیت) ” الی یوم یلقونہ “ یہ محل خفض (جر) میں ہے : ای یلقون بخلھم، اس دن تک جب وہ اپنے بخل کو جاملیں گے یعنی اپنے بخل کی جزا کو جاملیں گے جیسے کہا جاتا ہے : انت تلقی غدا عملک (توکل اپنے عمل کو جاملے گا) اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) ” الی یوم یلقونہ “۔ ای یلقون اللہ “ (اس دن تک جب وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملیں گے) اور اس میں اس پر دلیل موجود ہے کہ وہ نفاق کی حالت میں ہی مرا، اور یہ بعید ہے کہ اس میں جو حکم نازل کیا گیا ہے وہ ثعلبہ یا حاطب کے بارے ہو، کیونکہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو فرمایا : ” تجھے کون بتائے کہ اللہ تعالیٰ اہل بدر پر مطلع ہوا اور اس نے فرمایا تم جو چاہو کرو تحقیق میں نے تمہیں بخش دیا ہے “ (1) (صحیح بخاری، باب لاتتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء جلد 2، صفحہ 726)
اور ثعلبہ اور حاطب ان میں سے ہیں جو بدر میں حاضر ہوئے اور اس کا مشاہدہ کیا۔ (آیت) ” بما اخلفوا اللہ ما وعدوہ وبما کانوا یکذبون “۔ ان کے کذب سے مراد ان کا وعدہ کو توڑنا اور ان کا اسے پورا کرنے کا ترک کرنا ہے جسے انہوں نے اپنے ذمے لازم کیا تھا۔
مسئلہ نمبر : (8) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” نفاقا “ نفاق جب دل میں ہو تو وہ کفر ہے لیکن جب وہ اعمال میں ہو تو وہ معصیت ہے، حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے فرمایا ” چار خصلتیں جس میں ہوں گی وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے ایک خصلت ہوگی اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے : جب اسے امین بنایا جائے تو وہ خیانت کرے اور جب وہ گفتگو کرے تو جھوٹ بولے اور جب وہ وعدہ کرے تو اسے توڑ دے اور جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ دے “۔ اربع من کن فیہ کان منافقاخالصا ومنکانت فیہ خلصۃ منھن کا نت فیہ خصلۃ من النفاق حتی یدعھا : اذا ائتمن خان واذا حدث کذب واذا عاھد غدر واذا خاصم فجر (2) (صحیح بخاری، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 10)
اسے بخاری (رح) نے نقل کیا ہے۔ اس کلمہ کے مادہ اشتقاق پر بحث سورة بقرہ میں گزر چکی ہے، اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
اس حدیث کی تاویل میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے، پس ایک گروہ نے کہا ہے یہ اس کے لیے ہے جو ایسی بات کرتا ہے جس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے اور وہ ایسا وعدہ کرتا ہے جسے پورا کرنے کا وہ اعتقاد نہیں رکھتا اور وہ امانت میں خیانت کرنے کے لیے اس کا منتظر رہتا ہے، اور انہوں نے اسے ضعیف الاسناد حدیث کے ساتھ جوڑ دیا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ سے ملے اس حال میں کہ وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے باہر آ رہے تھے اور وہ دونوں بوجھل تھے (یعنی رو رہے تھے) تو حضرت علی ؓ نے پوچھا : مجھے کیا ہے میں تم دونوں کو روتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ؟ تو دونوں نے جواب دیا : ایک حدیث ہے جسے ہم نے رسول اللہ ﷺ سے منافق کی خصلتوں کے بارے میں سنا ہے ” جب وہ گفتگو کرے تو جھوٹ بولے اور جب معادہ کرے تو اسے توڑ دے اور جب اسے امین بنایا جائے تو وہ خیانت کرے اور جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے “ ، تو حضرت علی ؓ نے کہا : کیا تم دونوں نے آپ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا نہیں ؟ تو دونوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و توقیر کی۔ تو آپ نے کہا : لیکن میں اس کے بارے میں پوچھوں گا، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ابوبکر وعمر ؓ اس حال میں نکلے ہیں کہ وہ دونوں رو رہے تھے پھر آپ نے وہ ذکر کیا جو ان دونوں نے کہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تحقیق میں نے ان دونوں کو حدیث بیان کی اور میں نے اسے اس معنی میں نہیں بیان کیا جس میں ان دونوں نے اسے رکھا ہے کیونکہ منافق جب بات کرتا ہے درآنحالیکہ وہ اپنے دل میں کہہ رہا ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے اور جب وہ وعدہ کرتا ہے اس حال میں کہ وہ اپنے دل میں کہہ رہا ہوتا ہے کہ وہ اس کے خلاف کرے گا اور جب اسے امین بنایا جاتا ہے درآنحالیکہ وہ دل میں کہہ رہا ہوتا ہے کہ وہ خیانت کرے گا “۔ علامہ ابن عربی نے کہا ہے : تحقیق اس پر واضح دلیل قائم ہوگئی کہ ان خصائل پر اعتماد کرنے والا کافر نہیں ہوگا، بلکہ وہ کافر ایسے اعتقاد کے ساتھ ہوگا جس کے سبب وہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے بارے میں جہالت اور اس کی تکذیب کی طرف لوٹ جائے۔ (تعالی اللہ و تقدس عن اعتقاد الجاھلین وعن زیغ الزائغین) اور ایک گروہ نے کہا ہے : یہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے منافقین کے ساتھ مخصوص ہے۔ (1) (احکام القرآن جلد 2، صفحہ 984)
اور انہوں نے اس روایت کے ساتھ تعلق قائم کیا ہے جسے مقاتل بن حیان نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ان دونوں نے بیان کیا ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کے ہمراہ حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ بلاشبہ آپ نے فرمایا ہے : ” تین خصلتیں ہیں جس میں موجود ہوں گی تو وہ منافق ہوگا اگرچہ اس نے روزہ بھی رکھا ہو اور نماز بھی پڑھتا ہو اور اس کا یہ گمان ہو کہ وہ مومن ہے، جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو اس کا خلاف کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ خیانت کرے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی تو اس میں نفاق کا تہائی حصہ موجود ہے “ (2) (احکام القرآن جلد 2، صفحہ 984)
تو ہم نے یہ گمان کیا ہے کہ ہم ان سے یا ان میں سے بعض سے محفوظ اور سلامت نہیں اور لوگوں میں سے اکثر ان سے محفوظ ومامون نہیں راوی نے بیان کیا : پس رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا : ” تم کو اور ان کو کیا ہے بلاشبہ میں نے انہیں منافقین کے ساتھ خاص کیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی کتاب میں خاص کیا ہے پس میرا قول اذا حدث کذب (جب وہ بات کرے تو وہ جھوٹ بولے) تو اس کے مطابق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” اذا جآءک المنفقون۔۔۔۔۔ الآیہ۔
” کیا تم اس طرح ہو “ ؟ ہم نے عرض کی : نہیں، تو آپ نے فرمایا : ” تم پر کچھ لازم نہیں تم اس سے بری ہو “۔ اور میرا قول اذا وعدا خلف (کہ جب وہ وعدہ کرے تو اس کا خلاف کرے) تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ آیت نازل فرمائی ہے : (آیت) ” ومنھم من عھد اللہ لئن اتنا من فضلہ “۔ الآیات الثلاث “۔ ” کیا تم اس طرح ہو ؟ “ ہم نے عرض کی نہیں۔ قسم بخدا ! اگر ہم نے کسی شی کے بارے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تو ہم اسے ضرور پورا کریں گے۔ آپ نے فرمایا : ” تم پر کچھ نہیں تم اس سے بری ہو۔ اور رہا میرا قول واذا ائتمن خان (اور جب اسے امین بنایا جائے گا تو وہ خیانت کرے) تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ آیت نازل فرمائی ہے : (آیت) ” انا اعرضنا الامانۃ علی السموت والارض والجبال “۔ الآیہ (الاحزاب : 72) پر ہر انسان کو اپنے دین پر امین بنایا گیا ہے پس مومن غسل جنابت کرتا ہے سرا بھی اور علانیۃ بھی (اور منافق صرف علانیۃ ایسا کرتا ہے) کیا تم اس طرح ہو ؟ “ ہم نے عرض کی نہیں آپ ﷺ نے فرمایا ” تم پر کچھ لازم نہیں تم اس سے بری ہو “۔ (3) (احکام القرآن جلد 2، صفحہ 985)
بہ سے تبعین اور ائمہ نے یہی موقف اختیار کیا ہے، اور ایک جماعت نے یہ کہا ہے : یہ اس کے بارے میں ہے جس پر یہ خصلتیں غالب ہوں۔
امام بخاری (رح) اور دیگراہل علم کے مذہب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بری خصلتیں اسے منافق بنانے والی ہیں جو ان کے ساتھ یوم قیامت تک متصف رہے، علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : میرے نزدیک یہ ہے کہ اگر اس پر معاصی اور گناہ غالب آجائیں تو ان کے ساتھ وہ کافر نہیں ہوگا جب تک وہ اعتقاد میں موثر نہ ہوں (1) (احکام القرآن جلد 2، صفحہ 987)
ہمارے علماء نے کہا ہے : بےحضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے اپنے باپ کے ساتھ وعدہ کیا تھا پھر انہوں نے اس کا خلاف کیا اور انہوں نے ان سے گفتگو کی تو انہوں نے آپ سے جھوٹ بولا اور آپ نے انہیں یوسف (علیہ السلام) پر امین بنایا تو انہوں نے اس میں خیانت کی اور وہ منافق نہیں ہوئے، حضرت عطابن ابی رباح نے کہا ہے : ان خصلتوں کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے اپنایا اور وہ منافق نہیں ہوئے بلکہ وہ انبیاء ہوئے (1) (صحیح یہ ہے کہ وہ انبیاء نہیں ہوئے کیونکہ ان کا عمل عصمت کے منافی ہے، حاشیہ 214) اور حسن بن ابی الحسن بصری (رح) نے کہا ہے : نفاق دو قسم کا ہے، ایک نفاق الکذب اور دوسرا نفاق العمل، جہاں تک نفاق الکذب کا تعلق ہے تو وہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں تھا اور رہا نفاق العمل تو وہ یوم قیامت تک ختم نہیں ہوگا (2) (احکام القرآن جلد 2، صفحہ 987)
اور امام بخاری (رح) نے حضرت حذیفہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ نفاق رسول اللہ ﷺ کے عہد میں تھا اور رہا آج (کا زمانہ) تو اس میں ایمان کے بعد فقط کفر ہے۔ (3) ۔ (صحیح بخاری، کتاب الفتن، جلد 2، صفحہ 1054)
قولہ تعالیٰ : الم یعلموان اللہ یعلم سرھم ونجوھم “ یہ زجر وتوبیخ ہے اور جب وہ جاننے والا ہے تو وہ عنقریب انہیں جزا اور بدلہ بھی دے گا۔
Ayah 9:79آیت نمبر 79۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) الذین یلمذون المطوعین من الموء منین فی الصدقات یہ بھی منافقین کی صفات میں سے ہے۔
حضرت قتادہرحمۃ اللہ علیہرحمۃ اللہ علیہرحمۃ اللہ علیہرحمۃ اللہ علیہرحمۃ اللہ علیہرحمۃ اللہ علیہرحمۃ اللہ علیہرحمۃ اللہ علیہ۔ نے کہا ہے : یلمذون کا معنی ہے وہ عیب اور الزام لگاتے ہیں (4) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 88) ۔
فرمایا : وہ یہ ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے اپنانصف مال صدقہ کردیا اور ان کا مال آٹھ ہزار تھا پس انہوں نے اس میں سے چار ہزار صدقہ کردیئے، تو ایک قوم نے کہا : اس کا احسان کتنازیادہ ہے ؟ توا للہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) الذین یلمذون المطوعین من الموء منین فی الصدقات اور انصار میں سے ایک آدمی کھجوروں کا نصف ڈھیر لے کر آیا توا نہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ اس سے کتنا غنی ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل فرمایا : (آیت) والذین لایجدون الا جھدھم الآیہ امام مسلم۔ نے ابو مسعود سے روایت نقل کی ہے انہوں نے بیان کیا : ہمیں صدقہ کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے بیان کیا : ہم بوجھ اٹھاتے تھے۔ ایک روایت میں ہے اپنی پشتوں پر۔ فرمایا : پس ابو عقیل نے نصف صاع صدقہ کیا اور ایک آدمی اس سے کچھ زیادہ چیز لے کر آیا تو منافقوں نے کہا : بیشک اللہ تعالیٰ تو اس صدقہ سے غنی ہے (اسے اس کی حاجت نہیں ہے) اور اس دوسرے نے محض ریا کا ری کے لیے کیا ہے، تب یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) الذین یلمذون المطوعین من الموء منین فی الصدقات وارحمۃ اللہ علیہلذین لایجدون الا جھدھم مراد ابو عقیل ہیں اور ان کا نام حجاب تھا (1) (صحیح مسلم، کتاب الزکوۃ، جلد 1، صفحہ 327 ) ۔ اور الجھد سے مراد وہ تھوڑی شے ہے جس کے ساتھ ایک تنگ دست زندگی گزارتا ہے اور الجھد اور الجھد دونوں کا معنی ایک ہے۔ اور یہ پہلے گزرچکا ہے۔ اور یلمذون کا معنی ہے وہ عیب لگاتے ہیں۔ اور یہ بھی پہلے گزرچکا ہے۔ اور المطوعین اصل میں المتطوعین تھا اس میں تا کو طا میں ادغام کردیا گیا ہے۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو کوئی کام اپنی مرضی اور خوشی سے کرتے ہیں اس کے بغیر کہ وہ ان پر واجب ہو۔ والذین یہ محل جر میں ہے اور اس کا عطف الموء منین پر ہے۔ (آیت) سخر اللہ منھم یہ مبتدا کی خبر ہے اور یہ ان کے لیے بدعا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ـ ؓ نے فرمایا : یہ خبر ہے یعنی سخر منھم حیث صاروا الی النار (اللہ تعالیٰ نے انہیں اس مذاق کی سزا اس طرح دی کہ وہ جہنمی ہوگئے) اور سخر اللہ کا معنی ان کے مذاق پر انہیں جزا اور بدلہ دینا ہے۔ اور یہ سورة بقرہ میں گزرچکا ہے۔
Ayah 9:80آیت نمبر 80
قولہ تعالیٰ : (آیت) استغفر لھم اس کا بیان اس ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ولا تصل علی احد منھم مات ابدا (توبہ : 84) کے تحت آرہا ہے۔
Ayah 9:81آیت نمبر 81۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) فرح المخلفون بمقعدھم یعنی اپنے بیٹھے رہنے کے سبب پیچھے چھوڑے جانے والے خوش ہوگئے۔ قعد قعودا ومقعدا اس کا معنی ہے وہ بیٹھا۔ واقعدہ غیرہ اور اسے کسی دوسرے نے بٹھا دیا۔ یہ جوہری سے مروی ہے اور المخلف کا معنی متروک (چھوڑا گیا) ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں پیچھے چھوڑدیا اور انہیں کمزور کردیا یارسول اللہ ﷺ اور مومنین نے پیچھے چھوڑ دیا جب انہوں نے ان کے جہاد پر نکلنے میں اور دیر اور سستی کا جان لیا۔ یہ دو قول ہیں : اور یہ غزوئہ تبوک کے وقت ہوا (1) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 88) ۔ (آیت) خلف رسول اللہ یہ مفعول من اجلہ ہے۔ اور اگر چاہیں تو مصدر بنا لیں۔ اور خلاف بمعنی مخالفت ہے۔ اور جنہوں نے خلف رسول اللہ پڑھا ہے انہوں نے جہاد سے پیچھے رہنے کا ارادہ کیا ہے۔ (آیت) وقالو لاتنفروا فی الحر یعنی ان میں سے بعض نے بعض کو یہ کہا : (مت نکلو اس سخت گرمی میں) (آیت) قل نار جہنم آپ انہیں کہیے اے محمد ! ﷺ جہنم کی آگ۔ (آیت) اشد حرا لوکانوایفقھون یہ مبتدا اور خبر ہے۔ حرا بیان ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کا امر چھوڑ دیا تو اس نے اس آگ کو طلب کرلیا۔
Ayah 9:82آیت نمبر 82
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) فلیضحکو قلیلا یہ امر ہے اور یہ تہدید کے معنی کے لیے ہے اور یہ ہنسنے کے بارے امر نہیں ہے۔ اور اصل یہ ہے کہ اس میں لام مکسور ہوتا ہے پھر کسرہ کے ثقیل ہونے کی وجہ سے اسے حذف کردیا گیا۔ حسن۔ نے کہا : (آیت) فلیضحکو قلیلا انہیں چاہیے کہ وہ دنیا میں تھوڑا ہنسیں۔ (آیت) ولیبکو کثیرا اور زیادہ روئیں جہنم میں (2) (تفسیر طبری، جلد 10، صفحہ 228 ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ امر بمعنی خبر ہے۔ ای انھم سیضحکون قلیلا ویبکون کثیرا (بےشک وہ عنقریب تھوڑا ہنسیں گے اور زیادہ روئیں گے) جزاء یہ مفعول من اجلہ ہے، ای الجزائ (سزا کے لیے )
مسئلہ نمبر 2۔ لوگوں میں سے بعض شدید خوف کی وجہ سے اپنے نفس کو بچانے کی خاطر اور اپنے اعتقاد میں اپنی حالت کے فساد سے بچنے کی خاطر ہنستے ہیں اگرچہ وہ آدمی نیک اور صالح ہو۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” قسم بخدا ! اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو یقینا تم تھوڑا ہنسو اور روئو زیادہ اور تم کھلے راستوں کی طرف نکل جائو اور تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑگڑانے لگو کہ میں پسند کرتا ہوں کہ میں ایک درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا “ (3) (جامع ترمذی، کتاب الزہد، جلد 2، صفحہ 55 ) ۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ اور حضرت حسن بصری ان میں سے تھے کہ کبھی آپ پر حزن وملال غالب ہوتا تو آپ نہ ہنستے تھے۔ اور ابن سیرین ہنستے تھے اور حسن کے خلاف حجت بیان کرتے ہوئے کہتے تھے : اللہ تعالیٰ نے ہنسایا بھی ہے اور رلایا بھی۔ اور صحابہ کرام ہنستے تھے، مگر یہ کہ اس میں کثرت کرنا اور اسے لازم پکڑنا یہاں تک کہ وہ اپنے صاحب پر غالب آجائے مذموم ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے۔ اور یہ بیوقوف اور بیکار لوگوں کا فعل ہے اور حدیث میں ہے :” بیشک زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کردیتا ہے “۔
اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کے خوف، اس کے عذاب اور اس کی سزا کی شدت سے رونے کا تعلق ہے تو وہ قابل تعریف ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا :” تم رو اور اگر رونہ سکو تورونے کی شکل بنالو کیونکہ اہل جہنم روئیں گے یہاں تک کہ ان کے آنسو ان کے چہروں پر بہیں گے گویا کہ وہ نالیاں ہیں یہاں تک کہ آنسو ختم ہوجائیں گے پھر خون بہنے لگے گا اور آنکھیں زخمی ہوجائیں گی پس اگر ان میں کشتیاں چلائی جائیں تو وہ چل پڑیں “ (1) (معالم التنزیل، جلد 3، صفحہ 89۔ سنن ابن ماجہ، باب صفۃ النار، حدیث نمبر 4314، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ اسے ابن المبارک نے حضرت انس ؓ کی حدیث سے اور ابن ماجہ نے بھی نقل کیا ہے۔
Ayah 9:83آیت نمبر 83۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) فان رجعک اللہ الی طائفۃ منھم یعنی پھر اگر لے جائے آپ کو اللہ تعالیٰ منافقین کے کسی گروہ کے پاس۔ بیشک فرمایا : (آیت) الی طائفۃ کیونکہ وہ تمام جو مدینہ طیبہ میں مقیم رہے وہ منافقین نہیں تھے، بلکہ ان میں معذور بھی تھے اور وہ بھی جن کا کوئی عذر نہ تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کردیا اور ان کی توبہ قبول فرمالی، جیسا کہ وہ تین جو پیچھے چھوڑ دیئے گئے۔ ان کا ذکرعنقریب آئے گا۔ (آیت) فاستاذنوک للخروج فقل لن تخرجوا معی ابدا یعنی ان کا انجام اور نتیجہ یہ ہے کہ آپ کبھی بھی انہیں ساتھ نہ ملائیں۔ اور یہ اسی طرح ہے جیسے سورة الفتح میں فرمایا : (آیت) قل لن تتبعونا (الفتح : 15) (فرمائیے تم قطعا ہمارے پیچھے نہیں آسکتے) اور الخالفین یہ خالف کی جمع ہے، گویا کہ وہ نکلنے والوں سے پیچھے رہ گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : (آیت) الخالفین سے مراد وہ لوگ ہیں جو منافقین میں سے پیچھے رہ گئے۔ اور حسن نے کہا : وہ عورتوں اور مردوں میں سے ضعیفوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے (2) (زادالمیسر، جلد 3، صفحہ 362) پس مذکر کو غلبہ دیا (اور جمع مذکر ذکر کی) اور یہ بھی کہا ہے : اس کا معنی ہے پس تم بیٹھے رہے فساد برپا کرنے والوں کے ساتھ۔ یہ ان کے اس قول سے ہے فلان خانفۃ اھل بیتہ جب وہ ان میں فساد برپا کرنے والا ہو (اور یہ) خلوف فی الصائم سے ہے (روزے دار کی منہ کی بو) اور تیرے اس قول سے : خلف اللبن یعنی جب دودھ زیادہ دیر مشکیزے میں پڑے رہنے کے سبب خراب ہوجائے۔ پس اسی بنا پر فاقعدوا مع الفاسدین مراد لی گئی ہے۔ اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ جنگوں میں مدد چھوڑنے والوں کو ساتھ لینا جائز نہیں ہے۔