Ayah 9:84آیت نمبر 84۔
اس میں گیارہ مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ روایت ہے کہ یہ آیت عبد اللہ بن ابی سلول اور حضور حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے اس پر نماز جنازہ پڑھنے کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ صحیحین وغیرہ میں ثابت ہے۔ اور روایت بالکل ظاہر اور واضح ہیں کہ حضور حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے اس پر نماز جنازہ پڑھائی اور یہ آیت اس کے بعد نازل ہوئی۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت کی گئی ہے کہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ جب آگے بڑھے تاکہ آپ ﷺ اس پر نماز جنازہ پڑھائیں تو آپ ﷺ کے پاس حضرت جبریل امین (علیہ السلام) حاضر خدمت ہوئے اور انہوں نے آپ ﷺ کا کپڑا کھینچا اور آپ ﷺ پر یہ آیت تلاوت کی : (آیت) ولا تصل علی احد منھم مات ابدا الایہ تو حضور ﷺ واپس پھر آئے اور اس پر نماز جنازہ نہ پڑھائی۔ اور اس کے خلاف اور برعکس روایات بھی ثابت ہیں پس بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، آپ نے بیان کیا یہ رسول اللہ ﷺ نے اس پر نماز جنازہ پڑھائی پھر آپ ﷺ واپس لوٹ آئے اور آپ بالکل تھوڑی ہی دیر ٹھہرے یہاں تک کہ سورة براءت دو آیتیں نازل ہوئیں : (آیت) ولا تصل علی احد منھم مات ابد ا۔ (1) (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 674) اور اسی طرح حضرت ابن عمر ؓ سے بھی مروی ہے۔ اسے مسلم نے نقل کیا ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ نے بیان کیا ہے : جب عبداللہ بن ابی بن سلول فوت ہوا تو اس کا بیٹا عبداللہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے عرض کی کہ آپ ﷺ اسے اپنی قمیص عنایت فرمائیں وہ اس میں اپنے باپ کو کفن پہنائے گا تو آپ ﷺ نے وہ اسے عطا فرمادی پھر اس نے عرض کی کہ آپ ﷺ اس پر نماز جنازہ بھی پڑھائی، تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تاکہ اس پر نماز جنازہ پڑھائیں۔ تو حضرت عمر ؓ اٹھے اور رسول اللہ ﷺ کا کپڑا پکڑ لیا اور عرض کی : یارسول اللہ ﷺ کیا آپ ﷺ اس پر نماز جنازہ پڑھیں گے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر نماز جنازہ پڑھنے سے آپ ﷺ کو منع فرمایا ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار فرمایا ہے پس فرمایا : (آیت) استغفرلھم اولی تستغفرلھم ان تستغفرلھم سبعین مرۃ (التوبہ : 80) (آپ بخشش طلب کریں ان کے لیے یا نہ کریں اگر آپ بخشش طلب کریں ان کے لیے ستر بار) اور میں ستر سے زائد بار بخشش طلب کروں گا “۔ فرمایا : بلاشبہ وہ منافق ہے۔ پس رسول اللہ ﷺ نے اس پر نماز جنازہ پڑھائی تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ولا تصل علی احد منھم مات ابد اولاتقم علی قبرہ (2) (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، جلد 2، صفحہ 276) پھر آپ ﷺ نے ان پر نماز چھوڑدی۔ اور بعض علماء نے کہا ہے : بیشک حضور ﷺ نے عبداللہ بن ابی کے الفاظ اسلام کے ظاہر پر بنا کرتے ہوئے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ بعد ازاں آپ ﷺ نے ایسا نہیں کیا جب آپ ﷺ کو منع کردیا گیا۔
مسئلہ نمبر 2۔ اگر کوئی کہنے والا کہے : حضرت عمر ؓ نے کیسے کہہ دیا : کیا آپ اس پر نماز پڑھیں گے جس پر نماز جنازہ پڑھنے سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو منع فرمادیا ہے، حالانکہ پہلے ان پر نماز جنازہ پڑھنے سے نہی وارد نہ تھی تو جو ابایہ کہا جائے گا : اس میں یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ وہ بات آپ ﷺ کے دل میں واقع ہوئی ہو اور وہ اس الہام اور تحدث کے قبیلہ سے ہو جس کی شہادت حضور ﷺ نے دی ہے۔ اور کبھی قرآن کریم آپ (حضرت عمر فاروق ؓ کی مراد و مقصود پر نازل ہوتا تھا، جیسا کہ آپ نے فرمایا : میں نے اپنے رب سے تین امور میں موافقت کی ہے (1) (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، جلد 2، صفحہ 276) اور یہ روایت بھی ہے کہ چار میں (یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی رائے اور چاہت کے مطابق قرآن کریم کا حکم نازل کیا) اور یہ پہلے سورة بقرہ گزرچکا ہے۔ پس یہ بھی اس میں سے ہوسکتا ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اسے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے سمجھا ہو : (آیت) استغفرلھم اولی تستغفرلھم، الایہ (آپ ان کے لیے بخشش طلب کریں یا نہ کریں یہ نہیں کہ نہی ان پر مقدم ہو جس پر بخاری اور مسلم کی حدیث نے دلالت کی ہے۔ واللہ اعلم
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اسے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے سمجھا ہو : (آیت) ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفرواللمشرکین (التوبہ : 113) (درست نہیں ہے نبی کے لیے اور نہ ایمان والوں کے لیے کہ مغفرت طلب کریں مشرکوں کے واسطے) کیونکہ یہ آیت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس کا بیان آگے آئے گا۔
مسئلہ نمبر 3۔ قولہ تعالیٰ : استغفرلھم، الآیہ اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اگر آپ ان کے لیے بخشش طلب کریں تو ان کے لیے نفع بخش نہیں ہے اگرچہ استغفار کتنا زیادہ ہو۔ علامہ قشیری نے کہا ہے : وہ ثابت نہیں جو یہ روایت کیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” میں ضرور ستر سے زیادہ بار بخشش طلب کروں گا “ (2) (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 673) ۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ اس کے خلاف ہے جو حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث میں ثابت ہے : ” سازید علی سبعین (میں ستر سے زائد بار طلب کروں گا) اور حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث میں ہے :” اگر میں یہ جانتا کہ اگر میں ستر سے زائد بار بخشش طلب کروں تو انہیں بخش دیا جائے گا تو میں یقینا اس سے زیادہ بار بخشش طلب کرتا “۔ فرمایا : پس رسول اللہ ﷺ نے اس پر نماز جنازہ پڑھائی (3) (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 674) (۔ اسے بخاری۔ نے نقل کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 4۔ علماء نے قول باری تعالیٰ : (آیت) استغفرلھم کی تاویل میں اختلاف کیا ہے کیا یہ ناامید کرنا ہے یا اختیار دینا ہے ؟ تو ایک گروہ نے کہا ہے : اس سے مقصود ناامید کرنا ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) فلن یغفر اللہ لھم (4) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 990) (جب بھی اللہ تعالیٰ انہیں نہیں بخشے گا) اور ستر بار کا ذکر محض اتفاق ہے یا یہ ان کی عادت کے مطابق عبارت میں کثرت اور انتہا کا ذکر ہے پس جب ان میں سے کوئی کہنے والا کہتا : لا اکلمہ سبعین سنۃ (میں اس سے ستر برس تک کلام نہیں کروں گا) تو یہ ان کے نزدیک اس قول کے قائم مقام ہے : لا اکلمہ ابدا (میں اس سے ہمیشہ کلام نہیں کروں گا) اور انتہا اور غایت کے بیان میں اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) فی سلسلۃ ذرعھاسبعون ذراعا (الحاقۃ : 32) (پھر ستر گز لمبے زنجیر میں اس کو جکڑدو) اور آپ ﷺ کا ارشاد ہے : من صام یوما فی سبیل اللہ باعد اللہ وجھہ عن النار سبعین خریفا (1) (سنن نسائی، کتاب الصیام، جلد 1، صفحہ 314) (جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے چہرہ کو آتش جہنم سے ستر برس تک دور کردے گا )
اور ایک جماعت نے کہا : یہ تخییر ہے (2) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 991) ۔ ان میں سے حسن، قتادہ اور عروہ۔ ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو ان کے لیے بخشش طلب کیجئے اور اگر آپ چاہیں تو بخشش طلب نہ کریں یہی وجہ ہے کہ جب آپ ﷺ نے ابن ابی پر نماز پڑھنے کا ارادہ کیا تو حضرت عمر ؓ نے عرض کی : کیا آپ اللہ تعالیٰ کے دشمن پر نماز جنازہ پڑھیں گے جس نے فلاں فلاں دن ایسے ایسے کہا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” بلاشبہ مجھے اختیار دیا گیا ہے سو میں نے اختیار کرلیا ہے “ (3) (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 674) ۔ انہوں نے کہا ہے : پھر یہ اختیار منسوخ ہوگیا جب یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) سواء علیھم استغفرت لھم ام لم تستغفرلھم (المنافقون : 6) (آیت) ذلک بانھم کفروا (اس لیے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ ان کے کفر کی وجہ سے ان کی مغفرت نہیں فرمائے گا۔
مسئلہ نمبر 5۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین الایہ (التوبہ : 113) یہ آیت حضرت ابو طالب کی موت کے وقت مکہ مکرمہ نازل ہوئی، جیسا کہ ان کا بیان آئے گا اور اس سے اس کے بارے میں استغفار کرنے سے نہی سمجھی جاسکتی ہے جو حالت کفر میں فوت ہوا۔ اور اس آیت پر متقدم ہے جس سے تخییر سمجھی گئی ہے آپ کے اس قول کے ساتھ : ” بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے “ (4) (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 674) اور یہ مشکل ہے۔ پس کہا گیا ہے : بیشک آپ ﷺ کا اپنے چچا کے لیے استغفار کرنا بلاشبہ آپ ﷺ کا مقصود قبولیت کی امید پر استغفار تھا تاکہ انہیں مغفرت حاصل ہوجائے۔ اور اس استغفار میں آپ ﷺ نے اپنے رب سے اجازت طلب کی کہ وہ انہیں اپنی ماں کے لیے استغفار کرنے کی اجازت عطا فرمائے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں آپ ﷺ کو اجازت نہ دی (5) (صحیح مسلم، کتاب الجنائز جلد 1، صفحہ 314) (1) (اس بارے میں ضیاء النبی جلددوم میں ضیاء الامت پیر محمد کرم شاہ الازہری نے مفصل بحث کی ہے اس کا مطالعہ فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔ مترجم) ۔ اور رہامنافقین کے لیے استغفار کرنا تو یہ وہ ہے جس بارے میں آپ ﷺ کو اختیار دیا گیا ہے اور یہ ایسا زبانی استغفا رہے جو نفع نہیں دے سکتا۔ اور اس کی غایت اور مقصود یہ ہے کہ ان زندوں میں سے بعض کے دلوں کو پاک کرنا جن کا ان کے ساتھ قرابت کا تعلق ہے جس کے لیے بخشش طلب کی گئی۔ واللہ اعلم
مسئلہ نمبر 6۔ حضور ﷺ کے عبداللہ کو قمیص عطا کرنے کے بارے میں اختلاف ہے۔ کہا گیا ہے کہ : آپ ﷺ نے اسے اس لیے عطا فرمائی کیونکہ عبداللہ نے حضور ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ کو بدر کے دن اپنی قمیص دی تھی۔ اور وہ اس لیے کے بدر کے دن عباس کو قیدی بنا کر لایا گیا تو ان سے کپڑے چھین لیے گئے۔ حضور ﷺ نے انہیں اس حال میں دیکھا تو آپ ﷺ پر گراں گزرا، چناچہ آپ ﷺ نے ان کے لیے قمیص طلب کی تو عبداللہ کی قمیص کے سوا کوئی قمیص نہ پائی گئی جسے وہ پہن سکتے ہوں، کیونکہ طویل القامۃ ہونے میں دونوں قریب قریب تھے۔ پس حضور ﷺ نے قمیص دینے سے یہ ارادہ فرمایا کہ دنیا میں اس کا احسان اتار دیا جائے تاکہ وہ آخرت میں آپ ﷺ کو اس حال میں نہ ملے کہ اس کا آپ پر احسان ہو اور آپ ﷺ کو اس کا بدلہ دیناہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہ آپ ﷺ نے ان کے بیٹے کی تکریم، اس کی حاجت اور طلب کو پورا کرنے کے لیے اور اس کے دل کی پاکیزگی کے لیے اسے قمیص عطا فرمائی۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ اسے امام بخاری نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا : جب بدر کا دن تھا قیدیوں کو لایا گیا اور حضرت عباس ؓ بھی لائے گئے اس حال میں کہ ان پر کپڑ انہ تھا۔ پس حضور ﷺ ان کے لیے قمیص کا مطالبہ کیا تو انہوں نے عبداللہ بن ابی کی قمیص پائی جو وہ پہن سکتے تھے، چناچہ حضور ﷺ نے انہیں وہ قمیص پہنادی، پس اسی لیے حضور ﷺ نے اپنی قمیص اتاری جو آپ ﷺ نے انہیں پہنائی (1) (صحیح بخاری، کتاب الجہاد، جلد 1، صفحہ 442 ) ۔ اور حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ان قمیصی لایغنی عنہ من اللہ شیاوانی لارجوان یسلم بفعلی ھذا الف رجل من قومی (2) (معالم التنزیل، جلد 3، صفحہ 91) (بلاشبہ میری قمیص اللہ تعالیٰ کی جانب سے آنے والی کسی شی کو اس سے دور نہیں کرسکے گی اور بلاشبہ مجھے یہ توقع ہے کہ میرے اس عمل سے میری قوم کے ہزار افراد اسلام قبول کرلیں گے) اسی طرح بعض روایات میں ہے من قومی سے مراد عرب کے منافقین ہیں۔ اور صحیح یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : رجال من قومہ (3) (معالم التنزیل، جلد 3، صفحہ 91) (یعنی اس کی قوم کے ہزار افراد) اور مغازی ابن اسحاق اور بعض کتب تفسیر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اس فعل سے خزرج قبیلے کے ہزار آدمیوں نے توبہ کی اور مسلمان ہوگئے (فاسلم وتاب لھذہ الفعلۃ من رسول اللہ ﷺ الف رجل من الخزرج)
مسئلہ نمبر 7۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ولاتصل علی احدمنھم مات ابدا ہمارے علماء نے کہا ہے : یہ کفار پر نماز جنازہ پڑھنے سے رکنے کے بارے نص ہے اور اس میں مومنین پر نماز جنازہ پڑھنے پر دلیل نہیں ہے۔ اس بارے اختلاف ہے کہ کیا اس کے مفہوم مخالف سے مومنین پر نماز جنازہ واجب ہونے کے بارے حکم اخذ کیا جائے گا ؟ تو اس بارے میں دو قول ہیں : وہ حکم اخذ کیا جائے گا، کیونکہ کفار پر نماز جنازہ پڑھنے سے روکنے کی علت ان کے کفر کو قرار دیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) بانھم کفروا باللہ ورسولہ (بےشک انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا انکار کیا) تو جب کفر زائل ہوگیا تو نماز واجب ہوگئی۔ اور یہ اس قول باری تعالیٰ کی طرح ہوگا :) (آیت) کلا انھم عن ربھم یومئذ لمحجوبون (المطففین) (یقیناا نہیں اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن روک دیا جائے گا) یعنی اس دن کفار کو رب کریم کے دیدار سے روک دیا جائے گا۔ تو یہ اس پر دلیل ہے کہ غیر کفار اسے دیکھ سکیں گے اور وہ مومنین ہیں۔ پس یہ بھی اسی کی مثل ہے۔ واللہ اعلم۔ یا نماز کا حکم آیت کے علاوہ دلیل خارجی سے لیا جائے گا اور وہ اس باب میں وارد ہونے والی احادیث ہیں اور اجماع ہے۔
اختلاف کا منشاء دلیل خطاب کے ساتھ قول کرنا اور اسے چھوڑنا ہے۔ امام مسلم۔ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بیشک تمہارا بھائی فوت ہوچکا ہے پس تم اٹھو اور اس پر نماز جنازہ پڑھو “ (4) (صحیح مسلم، کتاب الجنائز، جلد 1، صفحہ 309) ۔ آپ نے بیان کیا : پس ہم اٹھے اور دو صفیں بنائیں۔ اس میں مراد نجاشی (شاہ حبش) ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو نجاشی کی موت کی خبر اس دن دی جس دن وہ فوت ہوا تھا، پس آپ ﷺ انہیں ساتھ لے کر جنازہ گاہ کی طرف نکلے اور آپ ﷺ نے چار تکبیریں کہہ کر نماز جنازہ پڑھائی (1) (صحیح مسلم، کتاب الجنائز، جلد 1، صفحہ 309) ۔ اور مسلمانوں نے اس پر اجماع کرلیا کہ مسلمانوں کی میتوں پر نماز جنازہ ترک کرنا جائز نہیں ہے، چاہے وہ کبیرہ گناہ کرنے والوں سے ہوں یا نیکوکاروں میں سے اور یہ قولا وعملا حضور ﷺ سے ثابت ہے۔ والحمد للہ۔ اور علماء نے اس پر اتفاق کیا ہے سوائے شہید کے اور سوائے اہل بدعت اور باغیوں کے (کہ ان کے بارے میں اختلاف ہے )
مسئلہ نمبر 8۔ جمہور علماء کا موقف یہ ہے کہ تکبیریں چار ہیں۔ ابن سیرین نے کہا : (نماز جنازہ میں) تکبیریں تین تھی پھر انہوں نے ایک کا اضافہ کردیا۔ اور ایک جماعت نے کہا ہے : پانچ تکبیریں کہی جائیں گی اور یہ حضرت ابن مسعود اور حضرت زید بن ارقم ؓ سے مروی ہے (2) (سنن نسائی، کتاب الجنائز، جلد 1، صفحہ 281) ۔ اور حضرت علی ؓ سے چھ تکبیریں مروی ہیں۔ حضرت ابن عباس، حضرت انس بن مالک اور حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ تکبیرات تین ہیں اور ان پر چوتھی کا اضافہ کیا گیا ہے۔ دارقطنی نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” بیشک ملائیکہ نے حضرت آدمعلیہ السلام پر نماز جنازہ پڑھی اور انہوں نے آپ پر چار تکبیریں کہیں اور انہوں نے کہا : اے بنی آدم ! یہی تمہارے لیے (طریقہ) اور سنت ہے “ (3) (سنن دارقطنی، کتاب الجنائز، جلد 2، صفحہ 70) ۔
مسئلہ نمبر 9۔ نماز جنازہ میں قراءت نہیں ہے امام مالک۔ کا مشہور مذہب یہی ہے۔ اور اسی طرح امام اعظم ابوحنیفہ اور امام ثوری۔ نے بھی یہی کہا ہے کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد : اذا صلیتم علی المیت فاخاصوالہ الدعا (4) (سنن ابی دائود، کتاب الجنائز، جلد 2، صفحہ 100) (جب تم میت پر نماز جنازہ پڑھو تو اخلاص کے ساتھ اس کے لیے دعا مانگو) اسے ابودائود نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے نقل کیا ہے۔ اور امام شافعی، امام احمد، اسحاق، محمد بن مسلمہ ہمارے علماء میں سے اشہب اور دائود نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ سورة فاتحہ پڑھی جائے، کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” سورة فاتحہ کے بغیر کوئی نماز نہیں ہے “ (5) (سنن ابی دائود، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 118) ۔ اور انہوں نے اسے اپنے عموم پر محمول کیا ہے۔ اور اس راویت کے سبب جسے امام بخاری۔ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ آپ نے جنازہ پر نماز پڑھی اور سورة فاتحہ کی قراءت کی اور فرمایا جان لو بلاشبہ یہ سنت ہے (6) (صحیح بخاری۔ کتاب الجنائز، جلد 1، صفحہ 178) ۔ اور امام نسائی نے حضرت ابوامامہ ؓ کی حدیث نقل کی ہے۔ آپ نے فرمایا : جنازوں پر نماز پڑھنے میں سنت یہ ہے کہ پہلی تکبیر میں سورة فاتحہ آہستہ آواز میں پڑھی جائے، پھر تین تکبیریں کہی جائیں اور آخر میں سلام پھیر اجائے (7) (سنن نسائی، کتاب الجنائز، جلد 1، صفحہ 281) ۔
اور محمد بن نصر مروزی نے حضرت ابومامہ ؓ سے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : نماز جنازہ میں سنت یہ ہے کہ توتکبیر کہے، پھر سورة فاتحہ پڑھے، پھر حضور ﷺ پر درود پاک پڑھے، پھر میت کے لیے اخلاص کے ساتھ دعا کرے اور قراءت صرف پہلی تکبیر میں کی جائے گی پھر سلام پھیرا دیا جائے گا۔ ہمارے شیخ ابوالعباس نے کہا ہے : یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں اور یہ دونوں علماء اصول کے نزدیک مسند کے ساتھ ملحق ہیں۔ اور حضرت ابو امامہ ؓ کی حدیث پر عمل کرنا اولی اور بہتر ہے، کیونکہ اس میں حضور ﷺ کا قول لاصلوۃ اور میت کے لیے ارحمۃ اللہ علیہخلاص کے ساتھ دعا دونوں جمع ہیں اور اس میں سورة فاتحہ کی قراءت یہ دعا کے آغاز کے لیے ہے۔ واللہ اعلم
مسئلہ نمبر 10۔ امام کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ مرد کے سر کی جانب تھوڑا ہٹ کر اور عورت کے سرین کی جانب ہو کر کھڑاہو، کیونکہ ابودائود نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایک جنازہ پر نماز پڑھائی تو حضرت علاء بن زیاد نے انہیں کہا : اے ابو حمزہ ! اسی طرح رسول اللہ ﷺ جنازوں پر نماز پڑھتے تھے جیسے تم نے پڑھی ہے، آپ چار تکبیریں کہتے تھے اور آدمی کے سر کے نزدیک اور عورت کے سرین کی جانب کھڑے ہوتے تھے ؟ (1) (سنن ابی دائود، کتاب الجنائز، جلد 2، صفحہ 99) انہوں نے فرمایا : ہاں۔ اور اسے مسلم نے حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا : میں نے حضور ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی اور آپ نے کعب کی ماں کی نماز جنازہ پڑھائی وہ فوت ہوئی اس حال میں کہ وہ حالت نفاس میں تھی تو رسول اللہ ﷺ اس پر نما زپڑھانے کے لیے اس کے وسط میں کھڑے ہوئے (2) (التذکرۃ فی احوال الموتی، الوقوف عندالقبر قلیلا بعد الدفن، جلد 1، صفحہ 157، دارابن زیدون بیروت) ۔
مسئلہ نمبر 11۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ولاتقم علی قبرہ جب میت کو دفن کردیا جاتا تو رسول اللہ ﷺ اس کی قبر پر ٹھہرتے اور اس کے لیے ثابت قدم رہنے کی دعا فرماتے (3) (صحیح مسلم، کتاب الجنائز، جلد 1، صفحہ 311) ، جیسا کہ ہم نے اسے (التذکرہ میں) بیان کیا ہے۔ والحمد للہ
Ayah 9:85آیت نمبر 85
اسے تاکید کے لیے مکرر ذکر کیا۔ اور اس بارے میں بحث پہلے گرزچ کی ہے۔
Ayah 9:86آیت نمبر 86
مومنوں نے دعوت قبول کرنے میں جلدی کی اور منافقوں نے عذر اور بہانے بنانے میں جلدی کی۔ پس مومنوں کے لیے یہ حکم ایمان پر قائم رہنے اور ثابت قدم رہنے کے بارے ہے اور منافقوں کے لیے یہ امر ابتدا ایمان لانے کے بارے میں ہے۔ اور ان محل نصب میں ہے۔ ای بان امنوا (یعنی اصل میں بان ہے) اور الطول کا معنی ہے غنی، دولت مند اور اس کا ذکر پہلے گزرچکا ہے۔
اور انہیں ذکر کے ساتھ خاص اس لیے کیا ہے، کیونکہ جو غنی اور طاقت ور نہ ہو اسے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ وہ تو معذور ہے۔ (آیت) وقالو اذرنا نکن مع القعدین ہمیں رہنے دیجئے تاکہ ہم نکلنے سے عاجز لوگوں کے ساتھ ہوں۔
Ayahs 9:87–89آیت نمبر 87 تا 89۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) رضوا بان یکونوا مع الخوالف اس میں الخوالف، خالفۃ کی جمع ہے یعنی وہ عورتوں، بچوں اور مردوں میں سے معذوروں کے ساتھ ہوجائیں۔ اور آدمی کے لیے خالف اور خالفۃ بھی کہا جاتا ہے جب وہ نجیب اور شریف نہ ہو، جیسا کہ پہلے گزرچکا ہے۔ کہا جاتا ہے : فلان خالفۃ اھلہ جب وہ ان سے گھٹیا ہو۔ نحاس نے کہا ہے : اس کی اصل خلف اللبن یخلف سے ہے جب دودھ طویل وقت تک پڑے رہنے کے سبب کھٹا اور خراب ہوجائے اور خلف فم الصائم روزے دار کے منہ کی بو بدل جائے اور اسی سے فلان خلف سوئ (فلاں برا پیچھے رہنے والا ہے) مگر یہ فاعلۃ کی جمع فواعل ہے اور فاعل صفت کی فواعل کے وزن پر جمع نہیں بنائی جاتی مگر شعر میں، مگر دو حرفوں میں۔ اور وہ دونوں فارس اور ہالک ہیں۔ اور مجاہدین کے وصف میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (آیت) واولئک لھم الخیرات کہا گیا ہے : مراد خوبصورت عورتیں ہیں۔ یہ حسن سے منقول ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) فیھن خیرات حسان (الرحمن) (ان میں اچھی سیرت والیاں اچھی صورت والیاں ہوں گی) اور کہا جاتا ہے : ھی خیرۃ النسائ (یہ عورتوں میں سے اچھی اور خوبصورت ہے) یہ اصل میں خیرۃ ہے پھر اس میں تخفیف کی گئی ہے، جیسے ھینہ اور ھینۃ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ خیر کی جمع ہے۔ پس معنی یہ ہے کہ ان کے لیے دونوں جہاں کے منافع ہیں۔ اور فلاح کا معنی پہلے گزرچکا ہے۔ اور جنات سے مراد بساتین (باغات) ہیں۔ یہ بھی پہلے گزرچکا ہے۔
Ayah 9:90آیت نمبر 90۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) وجاء المعذرون من الاعراب، اعرج اور ضحاک نے تخفیف کے ساتھ المعذرون پڑھا ہے۔ اور ابو کریب نے اسے ابوبکر سے اور انہوں نے عاصم سے روایت کیا ہے اور اسے اصحاب القراء ات نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ جوہری نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ وجاء المعذرون تخفیف کے ساتھ پڑھتے تھے (1) (تفسیرطبری، جلد 10، صفحہ 236) ، یہ اعذر سے ہے۔ اور کہتے : قسم بخدا ! یہ اسی طرح نازل کیا گیا ہے۔ نحاس نے کہا ہے : مگر یہ کہ اس (قراءت) کا مدار کلبی پر ہے۔ اور یہ اعذر سے ہے، اور اسی سے ہے قد اعذر من انذر یعنی جو آپ کے پاس آیا اس نے عذر میں اتنامبالغہ اور غلو کیا کہ اس نے آپ کو ڈرادیا۔ اور رہا المعذرون تشدید کے ساتھ تو اس میں دو قول ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ سچ بیان کرنے والا ہو۔ پس یہ المعتذر کے معنی میں ہے، کیونکہ اس کا عذر ہے پس المعذرون اس بنا پر اس کی اصل المعتذرون ہے، لیکن اس میں تا کو ذال سے بدل دیا گیا ہے اور پھر اس میں ادغام کردیا گیا ہے اور اس کی حرکت عین کو دے دی گئی ہے، جیسے یخصمون خا کے فتحہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اور المعذرون اجتماع ساکنین کی وجہ سے عین کے کسرہ کے ساتھ بھی جائز ہے۔ اور میم کی اتباع میں اس کا ضمہ بھی جائز ہے۔ اسے جوہری اور نحاس نے ذکر کیا ہے، مگر یہ کہ نحاس نے اسے اخفش، فراء، ابو حاتم اور ابو عبید سے بیان کیا ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ اصل المعتذرون ہو، پھر تاکو ذال میں ادغام کردیا گیا۔ اور یہ وہ لوگ ہوں گے جن کا عذر ہو۔ لبید نے کہا ہے : الی الحول ثم اسم السلام علیکما ومن یمک حولاکاملافقد اعتذر (2) (تفسیرطبری، جلد 10، صفحہ 236) اس میں اعتذر حقیقی عذروالے کے معنی میں ہی ہے۔
اور دوسرا قول یہ ہے کہ المعذر کبھی اپنے عذر میں سچا نہیں ہوتا اور یہ وہ ہوتا ہے جو بہانہ بناتا ہے اور اس کا عذر نہیں ہوتا۔ جوہری نے کہا ہے یہ معذر، مفعل کے وزن پر ہے، کیونکہ یہ بیماری کا بہانہ بنانے والا اور کوتاہی کرنے والا ہوتا ہے یہ بغیرعذر کے عذر پیش کرتا ہے۔ اور دوسروں نے کہا : کہا جاتا ہے عذر فلان فی امر کذا تعذیرا یعنی اس نے کوتاہی کی اور اس میں مبالغہ نہیں کیا۔ اور معنی یہ ہے کہ انہوں نے جھوٹے عذر پیش کیے۔ جوہری نے کہا ہے : حضرت ابن عباس ؓ کہا کرتے تھے : لعن اللہ المعذرین (اللہ تعالیٰ نے بہانے بنانے والوں پر لعنت کی ہے) گویا ان کے نزدیک امر یہ ہے کہ معذر تشدید کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہے عذر کو ظاہر کرنے والا، بہانہ بناتے ہوئے اس کے عذر میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔
نحاس نے کہا ہے : ابوالعباس محمد بن یزید نے کہا ہے : یہ جائز نہیں ہے کہ اس میں اصل المعتذرون ہو، اور نہ ادغام جائز ہے کہ اس سے التباس واقع ہوجاتا ہے۔ اسماعیل بن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ خلیل اور سیبویہ کے قول کے مطابق ادغام سے اجتناب کیا گیا ہے کیونکہ سیاق کلام اس پر دلالت کرتا ہے کہ ان کی مذمت کی گئی ہے ان کا کوئی عذر نہیں ہے، فرمایا : کیونکہ وہ آئے تاکہ انہیں اجازت دی جائے۔ اور وہ ضعیف اور مریض ہوتے اور وہ ہوتے جو خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں پاتے تو انہیں اجازت طلب کرنے کی حاجت اور ضرورت نہ تھی۔ نحاس نے کہا ہے : معذرۃ، اعذار اور تعذیر کی اصل ایک شی سے ہے اور وہ اس میں سے ہے جو مشکل اور متعذر ہوتی ہے۔ اور عربوں کا قول ہے : من عذیری من فلان اس کا معنی ہے تحقیق اس نے امر کو عظیم سر انجام دیا وہ یہ استحقاق رکھتا ہے کہ میں اسے اس پر اچھا بدلہ دوں اور لوگوں کو اس کے بارے علم نہ ہو (پس کون مجھے معذور جانے گا) اگر میں نے اسے اچھا بدلہ دیا۔ پس تخفیف کی قراءت کے مطابق حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : یہ وہ لوگ ہیں جو بہانے کے ساتھ پیچھے رہ گئے تو حضور ﷺ نے انہیں اجازت عطا فرمادی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ عامر بن طفیل کا گروہ تھا (1) (معالم التنزیل، جلد 3، صفحہ 93) انہوں نے کہا : یارسول اللہ ﷺ ! اگر ہم آپ کی معیت میں جنگ میں شریک ہوں تو طئی قبیلے کے بدو ہماری بیویوں، ہماری اولاد اور ہمارے مویشیوں پر حملہ کردیں گے تو حضور ﷺ نے ان کے عذر کو قبول کرلیا۔ اور تشدید کی قراءت کی بنا پر دوسرے قول میں کہا ہے : وہ غفار قبیلے کے لوگ تھے انہوں نے اپنے عذر پیش کیے تو حضور ﷺ نے ان کے عذروں کو قبول نہ کیا، کیونکہ آپ ﷺ کے علم تھا کہ وہ سچے نہیں ہیں۔ واللہ اعلم۔ اور ایک قوم بغیر عذر کے بیٹھ گئی انہوں نے رسول اللہ ﷺ پر جرأت کرتے ہوئے اس کا اظہار کیا اور یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے اور فرمایا : (آیت) وقعدالذین کذبوا اللہ ورسولہ ان کے جھوٹ سے مراد ان کا یہ قول ہے : بیشک ہم مومن ہیں اور لیوئذن کالام کی کے سبب نصب دی گئی ہے۔
Ayahs 9:91–92آیت نمبر 91 تا 92۔
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) لیس علی الضعفاء الآیہ، یہ اشارہ عاجز آدمی سے تکلیف اور پابندی کے ساقط ہونے میں اصل ہے۔ پس ہر وہ جو کسی شی سے عاجز ہو تو وہ اس سے ساقط ہوجاتی ہے، کبھی ایسے بدل کے ساتھ جو فعل ہوتا ہے اور کبھی ایسے بدل کے ساتھ جو کہ تاوان اور جرمانہ ہوتا ہے اور قوت و طاقت کے اعتبار سے عاجز ہونے یا مال کے اعتبار سے عاجز ہونے کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ اور اس آیت کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا (البقرہ : 286) (ذمہ داری نہیں ڈالتا اللہ تعالیٰ کسی شخص پر مگر جتنی طاقت ہو اس کی) اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : (آیت) لیس علی الاعمی حرج ولاعلی الاعرج حرج ولاعلی المریض حرج (النور : 61) (نہ اندھے پر کوئی حرج ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ بیمار پر کوئی حرج ہے) ابودائود نے حضرت انس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تحقیق تم نے مدینہ طیبہ میں ایسی اقوام کو چھوڑا ہے کہ تم نے کوئی سفر طے نہیں کیا اور نہ تم نے نفقہ میں سے کچھ خرچ کیا ہے اور نہ تم نے کوئی وادی عبور کی ہے مگر وہ اس میں تمہارے ساتھ ہیں ‘۔ صحابہ نے عرض کی : یارسول اللہ ! ﷺ وہ ہمارے ساتھ کیسے ہوسکتے ہیں حالانکہ وہ مدینہ طیبہ میں ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : انہیں عذر نے روک لیا ہے “ (1) (سنن ابی دائود، کتاب الجہاد، جلد 1، صفحہ 340 ) ۔ پس اس آیت نے اور اس کے ساتھ اس کی نظائر میں سے جو ہم نے ذکر کی ہیں یہ واضح کردیا ہے کہ معذوروں پر کوئی حرج نہیں اور یہ وہ قوم ہیں جن کا عذر معروف ہے مثلا اپاہج ہونا، بوڑھا ہونا۔ نابینا ہونا، لنگڑا ہونا اور وہ اقوام جو خرچ کرنے کے لیے کچھ نہ پائیں۔ تو فرمایا : ان تمام پر کوئی حرج نہیں ہے۔
(آیت) اذا نصحوا للہ ورسولہ جب وہ حق کو پہچان لیں اور اس کے اولیاء سے محبت کریں اور اس کے دشمنوں سے بغض رکھیں۔ علماء نے کہا ہے : پس حق سبحانہ وتعالی نے عذر والوں کو معذور قرار دیا ہے اور دلوں نے اسے برداشت نہ کیا، چناچہ حضرت ابن ام مکتوم ؓ احد کے لیے نکلے اور مطالبہ کیا کہ علم انہیں عطا کیا جائے لیکن اسے حضرت مصعب بن عمیر ؓ نے پکڑا ہوا تھا۔ پس کفار میں سے ایک آدمی آیا اور اس نے ان کے اسی ہاتھ پر تلوار ماری جس میں وہ علم پکڑے ہوئے تھے تو اس نے اسے کاٹ دیا، آپ نے دوسرے ہاتھ کے ساتھ اسے پکڑ لیا پھر اس نے دوسرے ہاتھ پر ضرب لگائی تو آپ نے اسے اپنے سینے سے تھام لیا اور یہ آیت پڑھی : (آیت) ومامحمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (آل عمران : 144) (اور نہیں محمد (مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مگر (اللہ کے) رسول گزرچکے ہیں آپ سے پہلے کئی رسول (یہ اس قوم کے عزائم تھے۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) لیس علی الاعمی حرج (النور : 61) اور یہ اول کے بارے میں ہے۔ (آیت) ولاعلی الاعرج حرج (النور : 61) اور حضرت عمر بن جموح ؓ انصار کے نقباء میں سے تھے آپ لنگڑے تھے اور آپ لشکر کے اگلے حصہ میں موجود تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں معذور قرار دیا ہے “۔ تو انہوں نے عرض کی : قسم بخدا ! میں یقینا اپنے اسی لنگڑے پن کے ساتھ جنت میں نشان زد کرتے ہوئے چلوں گا۔ اس سورت میں اس طرح کی مثالیں گزرچکی ہیں جن میں صحابہ کرام ؓ کا ذکر ہے۔ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے بیان فرمایا : کسی آدمی کو اس حال میں لایا جاتا تھا جیسے دوآدمیوں کے درمیان سہارادے کر چلایا جاتا تھا یہاں تک کہ اسے صف میں کھڑا کردیا جاتا۔
مسئلہ نمبر 2۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) اذا نصحوا، النصح کا معنی ہے اخلاص العمل من الغش عمل کا کسی کدورت کی آمیزش سے خالص ہونا اور اسی سے ہے التوبۃ النصوح (رحمۃ اللہ علیہخالص توبہ) ہے۔ نفطویہ نے کہا ہے : جب کوئی شے خالص ہو تو کہا جاتا ہے : نصح الشی اور نصح لہ القول کا معنی ہے اس نے بات کو اس کے لیے خالص کردیا۔ اور صحیح مسلم میں حضرت تمیم داری ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : الدین النصیحۃ (دین نصیحت (خالص) ہے) آپ ﷺ نے یہ تین بار فرمایا۔ ہم نے عرض کی : کس کے لیے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : للہ ولکتابہ ولرسولہ ولائمۃ المسلمین وعامھم (1) (صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 54) (اللہ تعالیٰ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، ائمہ مسلمین کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے) علماء نے بیان کیا ہے : اللہ تعالیٰ کے خالص ہونے کا معنی یہ ہے اس کی وحدانیت کا اعتقاد رکھنا، اسے صفات الوہیہ کے ساتھ متصف کرنا، اسے نقائص سے پاک اور منزہ تسلیم کرنا، اس کی پسندیدہ چیزوں میں رغبت رکھنا اور اس کی ناپسندیدہ چیزوں سے دور رہنا۔ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے خالص ہونے کا معنی یہ ہے کہ ان کی نبوت کی تصدیق کرنا، امر ونہی میں نبی کی اطاعت کو لازم پکڑنا، ان سے محبت کرنا جن سے وہ محبت کرے، ان سے عداوت رکھناجن سے وہ عداوت رکھے، اس کی عزت و توقیر کرنا، ان سے محبت کرنا اور ان کی آل سے محبت کرنا، ان کی تعظیم کرنا اور ان کی سنت کی تعظیم کرنا، نبی کے وصال کے بعد سنت سے بحث کرکے سنت کو زندہ کرنا، اس میں غور و فکر کرنا، ان کی حمایت اور دفاع کرنا، اس کی اطاعت کرنا، اس کی طرف دعوت دینا اور نبی ﷺ کے اخلاق کریمہ سے آراستہ اور مزین ہونا۔ اسی طرح کتاب اللہ کے لیے خالص ہونے کا معنی یہ ہے : اسے پڑھنا اور اس میں غوروفکر کرکے اسے سمجھنا، اس کی حمایت و دفاع کرنا، اس کی تعلیم دینا، اس کی تکریم کرنا اور اس کے مطابق عادات واخلاق سے آراستہ ہونا۔ اور مسلمانوں کے ائمہ کے لیے خالص ہونے کا معنی یہ ہے ان کے خلاف خروج نہ کرنا حق کی طرف ان کی راہنمائی کرنا، مسلمانوں کے امور میں سے جس امر سے وہ غافل ہو اس پر انہیں متنبہ کرنا، ان کی اطاعت کو لازم پکڑنا اور ان کے حق کے اثبات میں کوشش کرنا۔ اور عام مسلمانوں کے لیے خالص ہونے کا معنی ہے، ان کی عداوت اور دشمنی ترک کرنا، ان کی راہنمائی کرنا اور ان میں سے نیکوکاروں سے محبت کرنا، ان تمام کے لیے دعا کرنا اور ان تمام کے لیے خیر اور بھلائی کا ارادہ کرنا۔ اور حدیث صحیح میں ہے :” مومنوں کی باہم ایک دوسرے سے محبت کرنے، آپس میں رحم کرنے اور ایک دوسرے پر مہربان ہونے کی مثال ایک بدن اور جسم کی مثل ہے جب اس میں سے کوئی عضو شکایت کرے تو سارا بدن اس کے لیے جاگنے اور بخار میں مبتلاہوجاتا ہے “ (2) (صحیح مسلم، کتاب البروالصلہ، جلد 2، صفحی 321 ) ۔
مسئلہ نمبر 3۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ماعلی المحسنین من سبیل، من سبیل یہ ماکا اسم ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے یعنی من طریق الی لعقوبۃ (یعنی نیکوکاروں پر سزا کا کوئی راستہ نہیں ہے) یہ آیت ہر نیکوکار سے سزا کے اٹھ جانے (ختم ہوجانے) کے بارے میں اصل ہے۔ اسی لیے ہمارے علماء نے اس آدمی کے بارے میں کہا ہے جو اپنا ہاتھ کاٹنے والے سے قصاص (بدلہ) لیتا ہے پھر وہ اسے سرایت میں جان سے ہلاک کرنے تک پہنچا دیتا ہے تو بلاشبہ اس کے لیے کوئی دیت نہیں، کیونکہ وہ اپنے اوپر زیادتی کرنے والے سے قصاص لینے میں محسن ہے۔ اور امام اعظم ابو حنیفہ۔ نے کہا ہے : اس کے لیے دیت لازم ہوگی۔ اور اسی طرح جب کوئی نر کسی آدمی پر حملہ کردے اور وہ اپنی جان کی دفاع میں قتل کردے تو اس پر کوئی ضمان نہ ہوگی۔ امام شافعی۔ نے یہی کہا ہے۔ اور امام ابوحنیفہ۔ نے کہا ہے : اس کے مالک کے لیے قیمت اس پر لازم ہوگی۔ علامہ ابن عربی نے کہا ہے : اسی طرح تمام مسائل شرعیہ میں گفتگو ہے (1) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 995) ۔
مسئلہ نمبر 4۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ولاعلی الذین اذا ما اتوک لتحملھم روایت ہے کہ یہ آیت حضرت ابن عرباض بن ساریہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ قول بھی ہے کہ یہ عائذ بن عمروکے بارے میں نازل ہوئی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت بنی مقرن کے بارے میں نازل ہوئی (2) (تفسیرطبری، جلد 10، صفحہ 239) ۔ جمہور مفسرین کی رائے یہی ہے، وہ سات بھائی تھے تمام کے تمام حضور ﷺ کے صحابہ تھے، اور ان کے علاوہ کوئی بھی سات بھائی صحابہ میں شامل نہ تھے اور وہ نعمان، معقل، عقیل، سوید اور سنان تھے اور ساتویں کا نام ذکر نہیں کیا گیا (قاموس میں مذکورہ پانچ کے علاوہ عبداللہ اور عبدالرحمن کے دونام بھی ہیں) یہ مقرن کے بیٹے تھے مزینہ سے ان کا تعلق تھا۔ ساتوں بھائیوں نے ہجرت کی اور رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہوئے اور اس اعزاز میں ان کے سوا کوئی بھی ان کے ساتھ شریک نہیں ہوا، اسے ابن البر اور ایک جماعت نے ذکر کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ تمام کے تمام غزوئہ خندق میں حاضر تھے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ان ساتھ افراد کے بارے میں نازل ہوئی جو مختلف پیٹوں سے تھے اور وہ روتے ہوئے غزوئہ تبوک کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تاکہ آپ انہیں سوار کریں، لیکن آپ ﷺ نے ایسی کوئی شی نہ پائی جس پر آپ ﷺ انہیں سوار کرتے۔ ” پس وہ واپس لوٹے اس حال میں کہ ان کی آنکھیں آنسو بہارہی تھی اس غم میں کہ افسوس ان کے پاس وہ نہیں جو وہ خرچ کریں “۔ پس انہیں رونے والوں کا نام دیا گیا (یعنی بکائین) اور وہ سالم بن عمیر، بنی عمرو بن عوف میں سے اور علیہ بن زید، بنی حارثہ میں سے تھے۔ اور ابولیلی عبدالرحمن بن کعب بنی مازن بن نجار میں سے، عمروبن حمام بنی سلمہ میں سے اور عبداللہ بن مغفل مزنی تھے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بلکہ وہ عبداللہ بن عمرو مزنی تھے اور ہر می بن عبداللہ بنی واقف میں سے اور عرباض بن ساریہ فرازی تھے، اسی طرح ابوعمر نے ” کتاب الدرر “ میں ان کے نام ذکر کیے ہیں، اور ان میں اختلاف ہے۔
علامہ قشیری نے کہا ہے : معقل بن یسار اور صخر بن خنسا اور عبداللہ بن کعب انصاری، سالم بن عمیر، ثعلبہ بن غنمہ اور عبداللہ بن مغفل اور دوسرے تھے۔ انہوں نے کہا : یانبی اللہ ! ﷺ تحقیق آپ نے ہمیں اپنے ساتھ نکلنے کی دعوت دی ہے۔ پس آپ ہمیں ” تیز رفتار گھوڑوں اور چمڑے کے نعلوں پر سوار کیجئے ہم آپ کی معیت میں جنگ لڑیں گے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” میں کوئی چیز نہیں پاتا جس پر میں تمہیں سوار کروں “ پس وہ واپس چلے اس حال میں کہ وہ رو رہے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : انہوں نے آپ ﷺ سے درخواست کی تھی کہ آپ انہیں سواریوں پر سوار کریں (1) (معالم التنزیل، جلد 3، صفحہ 95) ، اس وقت ایک آدمی کو دواونٹوں کی ضرورت تھی، ایک جس پر وہ سوار ہوگا اور ایک اونٹ پر وہ اپنا پانی اور زاد راہ لادے گا کیونکہ سفر دور کا تھا۔ اور حسن نے کہا ہے : یہ آیت حضرت ابو موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی وہ حضور ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تاکہ آپ سے سواری کا مطالبہ کریں۔ اور آپ ﷺ نے ذرا غصے کی حالت میں موافقت کی اور فرمایا :” قسم بخدا ! میں تمہیں سوار نہیں کروں گا اور نہ میں کوئی ایسی شے پاتا ہوں جس پر میں تمہیں سوار کروں “ (2) (صحیح مسلم، کتاب الایمان والنذور، جلد 2، صفحہ 47 ) ۔ پس وہ روتے ہوئے واپس چلے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلایا اور انہیں اونٹ عطا فرمائے۔ تو حضرت ابو موسیٰ نے عرض کی : یارسول اللہ ! ﷺ کیا آپ نے قسم نہیں کھائی تھی ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” ان شائرحمۃ اللہ علیہرحمۃ اللہ علیہ اللہ میں جو بھی قسم کھاتا ہوں اور پھر اس کے غیر کو بہتر اور اچھادیکھتا ہوں تو میں وہ کرتا ہوں جو بہتر اور اچھا ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں “ (3) (صحیح بخاری، کتاب الایمان والنذور، جلد 2، صفحہ 980) ۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ حدیث صحیح ہے، اسے بخاری اور مسلم نے انہی الفاظ اور معنی کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور مسلم میں یہ بھی ہے : پس آپ ﷺ نے ہمیں بلایا اور ہمارے لیے پانچ سفید کوہانوں والے اونٹوں کا حکم دیا۔۔۔ الحدیث۔ اور اس کے آخر میں ہے : ” پس تم چلو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سوار کردیا ہے “ (4) (صحیح مسلم، کتاب الایمان والنذور، جلد 2، صفحہ 47 ) ۔ اور حسن نے بھی اور بکر بن عبد اللہ نے کہا ہے : یہ آیت حضرت عبد اللہ بن مغفل مزنی کے بارے میں نازل ہوئی کہ وہ سواری کا مطالبہ کے کر حضور ﷺ کے پاس حاضر ہوئے۔ جرجانی نے کہا ہے : تقدیرکلام یہ ہے ای ولاعلی الذین اذا ما اتوک لتحملھم وقلت لا اجد (اور ان لوگوں پر کوئی حرج نہیں جب وہ آپ کے پاس آئے تاکہ آپ انہیں سوار کریں اور آپ نے یہ کہا : میں نہیں پاتا) پس یہ مبتدا ہے اور یہ اپنے ماقبل پر بغیر وائو کے معطوف ہے اور جواب تولوا ہے۔
(آیت) واعینھم تفیض من الدمع یہ جملہ حال ہونے کی بنا پر محل نصب میں ہے۔ حزنا یہ مصدر ہے۔ الایجدوا یہ ان کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور نحاس نے کہا ہے : فراء نے کہا ہے ان لایجدون بھی جائز ہے۔ اور وہ لابمعنی لیس بناتے ہیں اور وہ بصریوں کے نزدیک انھم لایجدون کے معنی میں ہے۔
مسئلہ نمبر 5۔ جمہور علماء کا موقف یہ ہے کہ جو وہ چیزنہ پائے جسے وہ اپنے غزوہ میں خرچ کرسکے تو وہ اس پر واجب نہیں ہے۔ اور ہمارے علماء نے کہا ہے : جب آدمی کی عادت مانگنا اور سوال کرنا ہو تو پھر اس پر لازم ہوتا ہے جیسے کہ حج۔ اور وہ عادت کے مطابق نکلاکیون کہ اس کی حالت جب تبدیل نہیں ہوئی تو اس کی طرف فرض اسی طرف متوجہ ہوگا جیسا کہ فرض نفقہ پانے والے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر 6۔ اسی قول باری تعالیٰ : (آیت) واعینھم تفیض من الدمع میں وہ موجود ہے جس کے ساتھ احوال کے قرائن پر استدلال ہوتا ہے، پھر ان سے وہ بھی جو علم ضروری فائدہ دیتے ہیں اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو تردید کا احتمال رکھتے ہیں۔ پس پہلی قسم جیسا کہ جو آدمی گھر کے پاس سے گزرے تحقیق اس میں رونے کی آواز بلند ہو، رخسار نوچیں جا رہے ہوں، بال مونڈ دیئے گئے ہوں اور آوازیں انتہائی بلند ہوں، گریبان چاک کردیئے گئے ہوں اور وہ گھر کے مالک کے یاثبورا (ہائے ہلاکت) پکار رہے ہوں، تو اس سے یقینا جان لیاجائے گا کہ وہ مرگیا ہے۔ اور رہی دوسری قسم تو یہ حکام کے دروازوں پر یتیموں کے آنسو بہانے کی طرح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا : (آیت) وجاء واباھم عشاء یبکون (یوسف) (اور آئے اپنے باپ کے پاس عشاء کے وقت گریہ زاری کرتے ہوئے) اور وہ جھوٹے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا : (آیت) وجاء وعلی قمیصہ بدم کذب (یوسف : 18) (اور لے آئے اس کی قمیص پر جھوٹا خون لگاکر) اور اس کے ہاتھ چونکہ ایسے قرائن ہیں جن کے سبب غالب طور پر استدلال کیا جاسکتا ہے اور ظاہر اور غالب احوال کی بنا پر اس پر شہاوت کی بنا رکھی جاسکتی ہے (1) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 996) ۔ اور شاعر نے کہا ہے : اذا اشتبکت دموع فی خدود تبین من بکی ممن تبکی یہ معنی عنقریب سورة یوسف میں تفصیلا آئے گا۔ انشاء اللہ تعالی۔
Ayah 9:93آیت نمبر 93
قولہ تعالیٰ : (آیت) انما السبیل بیشک سزا اور گناہ ان پر ہے۔ (آیت) علی الذین یستاذنونک وھم اغنیاء مراد منافقین ہیں، ان کے افعال بد سے ڈرانے کے لیے برائے تاکید ان کا دوبارہ ذکر کیا۔
Ayah 9:94آیت نمبر 94
قولہ تعالیٰ : (آیت) یعتذرون الیکم یعنی منافقین بہانے پیش کریں گے۔ (آیت) لن نومن لکم یعنی ہم ہرگز تمہاری بات تسلیم نہیں کریں گے۔ (آیت) قد نبانا اللہ من اخبارکم تحقیق اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے رازوں اور خفیہ باتوں کے بارے میں خبر دے دی ہے۔ (آیت) وسیری اللہ عملکم اور اللہ تعالیٰ تمہارا عمل دیکھے گا اس بارے میں جو تم نیاکروگے۔ (آیت) ثم تردون الی علم الغیب والشھادۃ فینبئکم بناکنتم تعملون یعنی وہ تمہیں تمہارے عمل کے مطابق جزادے گا۔ یہ سب پہلے گزرچکا ہے
Ayah 9:95آیت نمبر 95
قولہ تعالیٰ : (آیت) سیحلفون باللہ لکم اذا انقلبتم الیھم وہ تمہارے سام نے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم تبوک سے ان کی طرف لوٹوگے۔ اس میں محلوف علیہ محذوف ہے، یعنی وہ قسمیں کھائیں گے کہ وہ نکلنے پر قادر نہ تھے۔ لتعرضو اعنھم تاکہ تم انہیں ملامت کرنے سے درگزر کرو۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یعنی تم ان سے کلام نہ کرو۔ اور حدیث میں ہے کہ جب حضور ﷺ تبوک سے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا :” نہ تم ان کے ساتھ بیٹھو اور نہ ان سے کلام کرو “ (1) (معالم التنزیل، جلد 3، صفحہ 96) ۔ (آیت) انھم رجس یعنی ان کا عمل ناپاک اور پلید ہے۔ اور تقدیر کلام یہ ہے : انھم ذورجس یعنی ان کا عمل قبیح اور برا ہے۔ (آیت) وماواھم جھنم یعنی ان کی منزل اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔
علامہ جوہری نے کہا ہے : ماوی سے مراد ہر وہ جگہ ہے جس میں رات یا دن کے وقت کوئی شے پناہ لیتی ہے۔ وقد اوی فلاں الی منزلہ یاوی اویا (تحقیق فلاں نے اپنے گھر میں پناہ لی) یہ فعول کے وزن پر ہے اور اواء بھی ہے۔ اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ساوی الی جبل یعصمنی من الماء (ہود : 43) (میں پناہ لے لوں گا پہاڑ کی وہ بچالے گا مجھے پانی سے) اور آوی تہ انا ایواء واوی تہ جب تو اسے اپنے ساتھ اتارے۔ یہ فعلت اور افعلت دونوں ایک معنی میں ہیں۔ یہ ابو زید نے کہا۔ اور ماوی الابل (وائو کے کسرہ کے ساتھ) ایک لغت ہے جاماوی الابل میں خاص ہے اور یہ شاذ ہے۔
Ayah 9:96آیت نمبر 96
عبداللہ بن ابی نے قسم کھائی کہ وہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے پیچھے نہیں رہے گا اور اس نے خواہش یہ کی کہ آپ ﷺ اس سے راضی اور خوش ہوجائیں۔
Ayah 9:97آیت نمبر 97۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) الاعراب اشد کفرا ونفاقا اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ جب اللہ تعالیٰ نے مدینہ طیبہ کے منافقین کے احوال ذکر کیے تو ان بدوئوں اور اعرابیوں کے احوال بھی ذکر کیے جو مدینہ طیبہ سے باہر اور دور تھے۔ پس فرمایا : ان کا کفر انتہائی شدید اور سخت ہے۔ حضرت قتادہ ؓ نے بیان کیا : کیونکہ یہ سنن کی معرفت سے بہت دور تھے (1) (تفسیرطبری، جلد 11، صفحہ 8 ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کیونکہ وہ دل کے اعتبار سے سخت، قول کے اعتبار سے انتہائی خشک، مزاج کے لہاظ سے انتہائی اکھڑ اور قرآن کے سماع سے بہت دور تھے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا : واجدر یعنی اور حق دار ہیں (موزوں اور مناسب ہے) الایعلموا اس میں ان با کے حذف کے سبب محل نصب میں ہے۔ تو کہتا ہے : جدیر بان تفعل وان تفعل (تیرے لیے مناسب ہے کہ تو اس طرح کرے) پس جب با کو حذف کردیا گیا تو یہ درست نہیں ہوا مگر ان کے ساتھ، اور اگر باکولے آئیں تو پھر یہ ان کے ساتھ بھی اور اس کے بغیر بھی درست ہے۔ تو کہتا ہے : انت جدیر ان تقوم وجدیر بالصیام اور اگر تو کہے : انت جدیر القیام تو یہ غلط ہے۔ اور بلاشبہ ان کے ساتھ درست ہے کیونکہ ان استقبال پر دلالت کرتا ہے تو گویا یہ محذوف کے عوض ہے۔ (آیت) حدود ماانزل اللہ مراد شریعت کے فرائض ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : مراد ربوبیت اور رسولوں کی بعثت میں اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہیں (یعنی) اپنی قلت نظروفکر کی وجہ سے (وہ انہیں نہ جانیں )
مسئلہ نمبر 2۔ جب صورت حال اس طرح ہے اور یہ دوسروں کے مقابلے میں ان کے ناقص ہونے اور مرتبہ کا ملہ سے ان کے گرے ہوئے ہونے پر دلیل ہے تو پھر اس پر تین احکام مرتب ہوتے ہیں۔
(1) ان کے لیے مال فے اور غنیمت میں کوئی حق نہیں، جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا : صحیح مسلم میں حضرت بریدہ کی حدیث ہے۔ اس میں ہے :” پھر تم انہیں دعوت دو اپنے گھروں سے مہاجرین کے گھروں کی طرف منتقل ہونے کی اور انہیں بتائو کہ انہوں نے اگر اس طرح کیا تو اس کے لیے وہ حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے لیے ہیں اور ان پر وہ فرائض ہوں گے جو مہاجرین پر ہیں پس اگر وہ وہاں سے منتقل ہونے اور پھر پھرنے سے انکار کردیں تو پھر انہیں بتادو کہ وہ مسلمان اعرابیوں کی طرح ہوں گے ان پر اللہ تعالیٰ کا وہ حکم جاری ہوگا جو مومنوں پر جاری ہوتا ہے اور ان کے لیے مال فے اور غنیمت میں سے کوئی شے نہ ہوگی مگر یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں “ (2) (صحیح مسلم، کتاب الجہاد والمیسر، جلد 2، صفحہ 82) ۔
(2) شہریوں کے بارے جنگل میں رہنے والوں کی شہادت کو ساقط کرنا اس لیے ہے کیونکہ اس میں تہمت متحقق اور ثابت ہے۔ اور امام ابوحنیفہ۔ نے اسے جائز قرار دیا ہے انہوں نے فرمایا : کیونکہ ہر تہمت کی رعایت اور لحاظ نہیں رکھا جاتا اور تمام کے تمام مسلمان آپ کے نزدیک صفت عدالت پر ہیں۔ اور امام شافعی۔ نے اسے جائز قرار دیا ہے بشرطیکہ وہ (شاہد) عادل اور پسندیدہ ہو اور یہ صحیح ہے جیسا کہ ہم نے اسے سورة بقرہ میں بیان کیا ہے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے یہاں اعرابیوں کو تین اوصاف سے متصف کیا ہے : ان میں سے ایک کفر اور نفاق کے ساتھ۔ دوسرا اس کے ساتھ کہ وہ ایسا مال لیتا ہے جسے وہ تاوان میں خرچ کرتا ہے اور تمہارے بارے میں مصائب وآفات کا انتظار کرتا ہے۔ اور تیسرا اس کے ساتھ کہ وہ اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت کے ساتھ ایمان لاتا ہے اور ایسا مال جمع کرتا ہے جسے وہ ایسے امور میں خرچ کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربت کا سبب ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی دعائوں اور خوشنودی کا ذریعہ ہیں۔ پس وہ جو اس صفت کے متصف ہے تو اس کے بارے میں تو بعید ہے کہ اس کی شہادت قبول نہ کی جائے کہ اسے دوسرے اور پہلے فریق کے ساتھ ملایا جائے۔ یہ باطل ہے۔ اور اس بارے میں گفتگو سورة النساء میں گزرچکی ہے۔
(3) کہ ان کا اہل شہر کی امامت کر اناممنوع ہے، کیونکہ یہ سنت سے جاہل اور جمعہ کو ترک کرنے والے ہیں۔ ابومجلز نے اعرابی کی امامت کو مکروہ قراردیا ہے۔ اور امام مالک۔ نے کہا : وہ امامت نہیں کرائے گا اگرچہ وہ ان سے بڑھ کر قاری ہو۔ اور حضرت سفیان ثوری، امام شافعی، اسحاق اور اصحاب الرائے نے کیا ہے : اعرابی کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے۔ اور ابن منذر نے اسے ہی اختیار کیا ہے جب وہ نماز کی حدود قائم کرے۔
قولہ تعالیٰ : اشد اس کی اصل اشداد ہے اور یہ پہلے گزرچکا ہے۔ کفرا یہ بیان (تمیز) ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ ونفاقا یہ اس پر معطوف ہے۔ واجدر اس کا عطف اشد پر ہے اور اس کا معنی ہے اخلق (زیادہ لائق اور مناسب ہونا) کہا جاتا ہے : فلان جدیر بکذا ای خلیق بہ (فلاں اس کے لائق اور مناسب ہے) اور انت جدیر ان تفعل کذا (تیرے لیے مناسب اور لائق ہے کہ تو اس طرح کرے) اس کی جمع جداراء اور جدیرون ہے۔ اور اس کی اصل جدار الحائط سے ہے اور اس سے مراد دیوار کو بنیاد سے اٹھانا ہے۔ پس اس کا قول : ھو اجدر بکذا کی معنی ہے وہ اس کے زیادہ قریب ہے اور وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ الا یعلموا یہ اصل میں بالایعلموا ہے۔ اور عرب : لوگوں کی نسل ہیں اور ان کی طرف عربی کی نسبت عروبہ کے درمیان ہے اور وہ اہل امصار (شہروں میں رہنے والے) ہیں اور ان میں اعراب صرف جنگل میں رہنے والے ہیں۔ اور شعر فصیح میں اعاریب آیا ہے۔ اور اعراب کی طرف نسبت سے اعرابی ہوا کیونکہ اس کی واحد کوئی نہیں اور اعراب عرب کی جمع نہیں ہے جیسا کہ انباط انبط کی جمع ہے، بلکہ عرب اسم جنس ہے۔ اور عرب عاربہ وہ ہیں جو ان میں سے خالص ہیں۔ اسے اپنے ہی لفظ سے لے کر اس کے ساتھ تاکید لگائی گئی ہے، جیسے تیرا قول : لیل لائل اور بسا اوقات انہوں نے کہا : العرب العرباء اور تعرب کا معنی ہے عرب کے ساتھ مشابہ ہونا۔ اور تعرب بعد ھجرتہ یعنی اپنی ہجرت کے بعد وہ اعرابی ہوگیا۔ اور العرب المستعربہ وہ ہیں جو خالص نہیں ہیں۔ اور اسی طرح متعربہ ہیں۔ اور العربیہ یہ بھی ایک لغت ہے۔ اور یعرب بن قحطان نے سب سے پہلے عربی میں گفتگو کی اور وہ سارے یمن کا باپ ہے۔ اور العرب اور العرب دونوں ایک ہیں، جیسے العجم اور العجم ہیں۔ اور العریب، العرب کی تصغیر ہے۔ شاعرکا قول ہے : ومکن الضباب طعام العریب ولا تشتھیہ نفوس العجم بلاشبہ تعظیما ان کی تصغیر بنائی، جیسا کہ کہا : انا جذیلھا المحکک وعذیقھا المرجب میں امور کا تجربہ کار اور ان کا پاسبان ہوں (اس لکڑی کی مثل جو اجرب اونٹ کی خارش کے لیے گاڑھی جاتی ہے اور اس کھجور کے درخت کی طرح جس کے ارد گرد حفاظت کے لیے پتھروں کی منڈیر بنادی جائے )
قشیری نے بیان کیا ہے کہ عربی کی جمع عرب ہے اور اعرابی کی جمع اعراب اور اعاریب ہے۔ اور اعرابی کو جب کہا جائے یاعربی تو وہ خوش ہوتا ہے اور عربی کو جب کہا جائے : یا اعرابی تو وہ ناراض ہوتا ہے۔ اور مہاجرین اور انصار عرب ہیں اعراب نہیں۔ اور عرب کا نام عرب رکھا گیا ہے کیونکہ وہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہیں جنہوں نے عربہ میں نشوونماپائی اور یہ تہامہ میں سے ہے پس وہ اس کی طرف منسوب ہوئے اور قریش عربہ میں مقیم ہوئے اور وہ مکہ مکرمہ ہے اور تمام عرب اس کے جزیرہ میں پھیل گئے۔