9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 9:98

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں مصیبتوں کے منتظر ہیں۔ انہی پر بری مصیبت (واقع) ہو اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

آیت نمبر 98۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ومن الاعراب من یتخذ اس میں من مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے۔ (آیت) ماینفق مغرمایہ دو مفعول ہیں : تقدیر کلام ینفقہ ہے۔ پھر طول اسم کی وجہ سے ہاکو حذف کردیا گیا ہے۔ مغرما اس کا معنی تاوان اور خسارہ ہے۔ اس کا اصل معنی کسی شی کا لازم ہونا ہے۔ اور اسی معنی میں ارشاد ہے : (آیت) ان عذابھا کان غراما (الفرقان) اس میں غراما بمعنی لازما ہے، یعنی جو وہ جہاد اور صدقہ میں خرچ کرتے ہیں اس تاوان سمجھتے ہیں اور اس پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتے۔ (آیت) یتربص بکم الدوآئر اس میں التربص کا معنی انتظار کرنا ہے اور یہ پہلے گذرچکا ہے۔ اور دوائر، دائرۃ کی جمع ہے، اس سے مراد وہ حالت ہے جو نعمت سے آزامائش اور مصیبت کی طرف بدلی ہوئی ہو، یعنی وہ جہالت کے سبب خرچ کرکے باطن کی برائی اور دل کے خبث کو جمع کرتے ہیں۔ (آیت) علیھم دائرۃ السوء اسے ابن کثیر اور ابوعمرو نے یہاں اور سورة الفتح میں سین کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقیوں نے اسے فتحہ دیا ہے (1) (المحررالوجیز، جلد 3، صفحہ 74) ۔ اور قول باری تعالیٰ : ماکان ابوک امراسوء (مریم : 28) میں سین کے فتحہ پر اجماع کیا ہے۔ اور دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ السوء ضمہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی مکروہ اور ناپسندیدہ ہے۔ اخفش نے کہا ہے : یعنی ان پر ہزیمت (شکست) اور شر کی گردش ہے۔ اور فراء نے کہا ہے : ان پر عذاب وبلاء کی گردش ہے۔ دونوں نے کہا ہے : امراسوء ضمہ کے ساتھ جائز نہیں ہے۔ جیسا کہ نہیں کہا جاتا : ھوامرء عذاب ولاشر۔ اور محمد ابن یزید سے بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا : السوء فتحہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی رداء ۃ ردی ہونا اور گھٹیا ہونا ہے۔ سیبویہ نے کہا ہے : مررت برجل صدق اس کا معنی ہے میں ایک صالح آدمی کے پاس سے گزرا۔ اور یہ صدق اللسان (زبان کا سچاہونا) میں سے نہیں ہے اگرچہ وہ زبان کا سچاہوکیون کہ تو یہ بھی کہتا ہے : مررت بثوب صدق (میں نے اچھا کپڑا دیکھا) اور مررت برجل سوء اس سے مراد اس کی ابتلاء اور عذاب نہیں، بلکہ اس کا معنی ہے میں ایک فسادی آدمی کے پاس سے گزرا۔ اور فراء نے کہا ہے : السوء فتحہ کے ساتھ مصدر ہے سوتہ سواء ومساء ۃ وسوائیۃ۔ دوسروں نے کہا ہے : اس سے فعل ساء یسوء ہے۔ اور السوء ضمہ کے ساتھ اسم ہے مصدر نہیں اور یہ تیرے اس قول کی طرح ہے : علیھم دائرۃ البلاء والمکروہ (ان پر ابتلاء اور مکروہ کی گردش ہے )
Ayah 9:99

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو خدا کی قربت اور پیغمبر کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں دیکھو وہ بےشبہہ ان کے لئے (موجب) قربت ہے۔ خدا ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت نمبر 99 قولہ تعالیٰ : (آیت) ومن الاعراب من یوء من باللہ اور کچھ دیہاتیوں میں سے وہ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو سچ تسلیم کیا ہے اور ان سے مراد مزینہ قبیلے کے بنو مقرن ہیں۔ اس کا ذکر مہدوی نے کہا ہے۔ قربات یہ قربۃ کی جمع ہے اور اس سے مراد وہ شی ہے جس کے سبب اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ اور جمع قرب، قربات، قربات، اور قربات ہے۔ اسے نحاس نے بیان کیا ہے۔ اور القربات ضمہ کے ساتھ ہو تو مراد وہ شے ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوا جاتا ہے۔ اسی سے آپ کہتے ہیں : قربت اللہ قربانا (میں اللہ تعالیٰ کے انتہائی قریب ہوا) اور القربۃ قاف کے کسرہ کے ساتھ ہو تو مراد وہ مشکیزہ ہے جس میں پانی بھر جاتا ہے۔ یہ تھوڑی تعداد میں ہوں تو جمع قربات، قربات، اور قربات آتی ہے، اور کثیر تعداد کے لیے قرب آتی ہے۔ اور اسی طرح ہر اس کی جمع آتی ہے جو فعلۃ کے وزن پر ہو، مثلاسدرۃ اور فقرۃ، تیرے لیے عین کلمہ کو فتحہ دینا، کسرہ دینا اور سکون دیناسب جائز ہے۔ اسے جوہری نے بیان کیا ہے۔ اور نافع نے ورش کی روایت میں قربۃ را کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ اصل ہے۔ اور باقیوں نے اسے تخفیفا سکون کے ساتھ پڑھا ہے، مثلاکتب اور رسل اور قربات میں کوئی اختلاف نہیں۔ ابن سعد نے بیان کیا ہے کہ یزید بن القعنقاع نے الاانھا قربۃ لھم پڑھا ہے۔ اور وصلوت الرسول کا معنی رسول کا استغفار کرنا اور دعا کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ھوالذی یصلی علیکم وملئکتہ (الاحزاب : 43) (اللہ وہ ہے جو رحمت نازل کرتا ہے تم پر اور اس کے فرشتے بھی (تم پر نزول رحمت کی دعا کرتے ہیں) اور ملائکہ کی طرف سے صلوۃ کا مطلب دعا کرنا ہے (1) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1002) ۔ اور اسی طرح یہ حضور ﷺ کی نسبت سے بھی ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : (آیت) وصل علیھم ان صلوتک سکن لھم (التوبہ : 103) (نیز دعا مانگیے ان کے لیے بیشک آپ کی دعا (ہزار) تسکین کا باعث ہے ان کے لیے) یعنی آپ کی دعا ان کے لیے ثابت قدمی اور طمانیت کا باعث ہے۔ (آیت) الا انھاقربۃ لھم یعنی ان کے اخراجات انہیں اللہ تعالیٰ کے رحمت کے قریب کرتے ہیں۔
Ayah 9:100

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی اور جنہوں نے نیکوکاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

آیت نمبر 100 اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ جب اللہ تعالیٰ نے اعرابیوں کی اقسم ذکر کیں تو پھر اس نے مہاجرین وانصار کا ذکر کیا اور بیان فرمایا کہ ان میں سے پہلے پہلے ہجرت کرنے والے بھی ہیں اور ان میں سے ان کی اتباع اور پیروی کرنے والے بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی۔ تحقیق ان کے طبقات اور ان کی اصناف کی تعداد میں اختلاف ہے۔ ہم اس میں سے کچھ ذکر کریں گے اور اس میں غرض اور مدعی بیان کریں گے انشاء اللہ تعالی۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے (آیت) والانصار کو (آیت) السابقون پر عطف کرتے ہوئے رفع کے ساتھ پڑھا ہے (2) (المحررالوجیز، جلد 3، صفحہ 74) ۔ اخفش نے کہا ہے : (آیت) الانصار میں جر اور کسرہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سابقون مہاجرین وانصار دونوں میں سے تھے۔ اور الانصار اسلامی نام ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے کہا گیا : تمہارے لیے لوگوں کے اس قول کے بارے تمہاری کیا رائے ہے۔ الانصار کیا یہ نام اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمایا ہے یا زمانہ جاہلیت میں تمہیں اس کے ساتھ پکارا جاتا تھا ؟ تو انہوں نے فرمایا : بلکہ یہ وہ اسم ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں یاد فرمایا ہے۔ اسے ابوعمر نے ” الاستذکار “ میں ذکر کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ مہاجرین وانصار میں سے (آیت) السابقون الاولون کو فضیلت دینے پر قرآن کریم کی نص موجود ہے۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی۔ یہ حضرت سعید بن مسیب ؓ اور ایک جماعت کا قول ہے۔ اور امام شافعی ـ۔ کے اصحاب کے قول کے مطابق یہ وہ لوگ ہیں جو بیعت رضوان میں حاضر ہوئے اور اس سے مراد بیعت حدیبیہ ہے۔ یہ حضرت شعبی۔ نے کہا ہے (1) (معالم التنزیل، جلد 3، صفحہ 98) ۔ اور محمد بن کعب اور عطابن یسار نے کہا ہے : وہ اہل بدر ہیں۔ اور تمام نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ جس نے تحویل قبلہ سے پہلے ہجرت کی تو وہ مہاجرین اولین میں سے ہے اس میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ اور رہے ان میں سے افضل تو وہ ترتیب یہ ہے : مسئلہ نمبر 3۔ ابومنصور بغدادی تمیمی نے کہا ہے : ہمارے اصحاب نے اس پر اجماع کیا ہوا ہے کہ ان میں افضل خلفائے اربعہ ہیں، پھر باقی چھ دس کی تکمیل تک، پھر اصحاب بدر، پھر اصحاب احد پھر بیعت رضوان یا حدیبیہ والے۔ مسئلہ نمبر 4۔ اور رہاوہ جوان میں سے سب سے اول اسلام لایاتومجاہد نے حضرت شعبی۔ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا : میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا، لوگوں میں اسلام لانے کے اعتبار سے اول کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ابوبکر ؓ ۔ کیا تو نے حضرت حسان ؓ کا قول نہیں سنا : اذا تذکرت شجوا من اخی ثقۃ فاذکر اخاک ابابکر بما فعلا جب تو قابل اعتماد اور ثقہ بھائی کے کارناموں اور جرأت کا تذکرہ کرے تو اپنے بھائی ابوبکر ؓ کے ان کارناموں کا ذکر کر جو انہوں نے کیے۔ خیر البریۃ اتقاھا واعدلھا بعد النبی واوفاھا بما حملا وہ حضور ﷺ کے بعد تقوی اور عدل کے اعتبار سے ساری مخلوق سے بہتر اور افضل ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں پورا کرنے والے ہیں۔ الثانی التالی المحمود مشھدہ واول الناس منھم صدق الرسلا (2) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1003) وہ دوسرے ہیں، پیچھے آنے والے ہیں ان کی شہادت قابل ستائش ہے اور لوگوں میں سے سب سے پہلے رسولوں کی تصدیق کرنے والے ہیں۔ اور ابو الفرج علامہ جوزی۔ نے یوسف بن یعقوب بن ماجثون۔ سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے اپنے باپ اور اپنے مشائخ محمد بن منکدر، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، صالح بن کیسان، سعد بن ابراہیم، عثمان بن محمد اخنسی کو اس حال میں پایا ہے کہ وہ اس بارے میں ذرا شک نہ کرتے تھے کہ قوم میں سے سب سے اول اسلام قبول کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں۔ اور یہی قول حضرت ابن عباس، حضرت حسان اور حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ کا ہے اور یہی حضرت ابراہیم نخعی نے بھی کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو سب سے اول اسلام لایاوہ حضرت علی ؓ ہیں (3) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 98) ۔ حضرت زید بن ارقم، حضرت ابو ذر اور حضرت مقداد وغیرہم ؓ سے یہی مروی ہے، حاکم ابو عبداللہ نے کہا ہے : میں اصحاب تواریخ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں جانتا کہ ان میں حضرت علی ؓ سب سے پہلے اسلام لانے والے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو سب سے پہلے اسلام لائے وہ حضرت زید بن حارثہ ؓ ہیں (1) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 99) ۔ معمر نے حضرت زہری سے اسی طرح ذکر کیا ہے۔ اور یہی قول حضرت سلیمان بن یسار، عروہ بن زبیر اور عمران بن ابی انس ؓ کا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سب سے پہلے ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ نے اسلام قبول کیا (2) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 99) ۔ یہ کئی اسناد سے حضرت زہری۔ سے مروی ہے اور یہی قول حضرت قتادہ، محمد بن اسحاق بن یسار اور ایک جماعت کا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے۔ اور ثعلبی مفسر نے اس پر علماء کے اتفاق کا دعوی کیا ہے کہ حضرت خدیجہ ؓ سب سبے پہلے اسلام لائیں اور ان کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ آپ کے بعد کون اسلام لایا ؟ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ حنظلی ان روایات کے در میں تطبیق کرتے ہیں، پس وہ فرماتے ہیں : مردوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق ؓ اسلام لائے، عورتوں میں سے حضرت خدیجۃ الکبری ؓ اور بچوں میں سے حضرت علی ؓ اور آزاد کیے ہوئے غلاموں میں سے حضرت زید بن حارثہ ؓ اور غلاموں میں سے حضرت بلال ؓ (3) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 99) (سب سے پہلے اسلام لائے ) ۔ واللہ اعلم اور محمد بن سعد نے ذکر کیا ہے کہ مجھے مصعب بن ثابت نے خبر دی ہے انہوں نے کہا مجھے ابو الاسود محمد بن عبدالرحمن بن نوفل نے بتایا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بعد حضرت زبیر ؓ اسلام لائے اور وہ چوتھے یا پانچویں اسلام قبول کرنے والے فرد ہیں۔ لیث بن سعد نے بیان کیا ہے اور ابو الاسود نے مجھے بیان کیا ہے انہوں نے کہا : حضرت زبیر ؓ اسلام لائے اس وقت ان کی عمر آٹھ برس تھی اور روایت ہے کہ حضرت علی ؓ نے سات سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ کی عمر دس برس تھی۔ مسئلہ نمبر 5۔ محدثین کے طریقہ میں سے معروف یہ ہے کہ ہر وہ مسلمان جس نے رسول اللہ ﷺ کا دیدار کیا ہے وہ آپ ﷺ کے اصحاب میں سے ہے۔ امام بخاری۔ نے اپنی صحیح میں بیان کیا ہے۔ جس مسلمان نے حضور ﷺ کی صحبت اختیار کی یا آپ ﷺ کا دیدار کیا تو وہ آپ ﷺ کے اصحاب میں سے ہے (4) (صحیح بخاری، کتاب المناقب، جلد 1، صفحہ 515) ۔ اور حضرت سعید بن مسیب ؓ سے روایت ہے کہ وہ کسی کو صحابی شمار نہ کرتے تھے مگر اسے جو ایک یا دو سال تک رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مقیم رہا اور آپ ﷺ کی معیت میں ایک یا دو غذوئوں میں شریک ہوا۔ اگر حضرت سعید بن مسیب ؓ سے یہ قول صحیح ہے تو پھر یہ لازم کرتا ہے کہ حضرت جریر بن عبداللہ بجلی ؓ کو یا جو کوئی اس ظاہری شرط کے نہ پائے جانے میں ان کے ساتھ شریک ہے انہیں صحابہ کرام میں شمار نہ کیا جائے حالانکہ یہ ان میں سے ہیں جنہیں صحابہ کرام میں سے شمار کرنے میں ہمیں کوئی اختلاف معلوم نہیں۔ مسئلہ نمبر 6۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ مہاجرین میں سے اول السابقین حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں۔ اور علامہ ابن عربی نے بیان کیا ہے : یہ سبقت تین چیزوں کے ساتھ ثابت ہوتی ہے۔ الصفۃ اور وہ ایمان ہے (5) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1002) اور زمان ومکان۔ ان وجوہ میں اصل صفات میں سبقت لینا ہے۔ اور اس پر دلیل حضور ﷺ کا ارشاد ہے جو صحیح میں موجود ہے۔ ” ہم بعد میں آنے والے اولون ہیں مگر یہ کہ انہیں کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہمیں کتاب ان کے بعد دی گئی پس یہ ان کا وہ دن ہے جس میں انہوں نے اختلاف کیا ہے پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کے لیے ہدایت اور رہنمائی فرمائی پس یہودیوں کے لیے آنے والا کل ہے اور عیسائیوں کے لیے آنے والے کل کے بعد آنے والا دن (یعنی پرسوں) ہے “ (1) (صحیح بخاری، کتاب الجمع، جلد 1، صفحہ 120 ) ۔ رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے کہ سابقہ امم میں سے جنہوں نے زمان کے اعتبار سے ہم سے سبقت لی ہے تو ہم ایمان، اللہ تعالیٰ کے امر کی پیروی، اس کی بارگاہ میں عجز و انکساری، اس کے امر کو تسلیم کرنے، اس کی تکلیف کے ساتھ رضامندی کا اظہار کرنے اور اس کے فرائض و ذمہ داریوں کو برداشت کرنے میں سبقت لے گئے ہیں، ہم اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتے اور نہ اس کے ساتھ کسی اور کو اختیار کرتے ہیں، نہ رائے سے اس کی شریعت کو بدلتے ہیں جیسا کہ اہل کتاب نے کہا اور یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہے جو وہ عطا فرمائے۔ اس کے آسانی پہچانے کے ساتھ ہے جس پر وہ راضی ہو۔ ہم ہدایت نہ پاسکتے اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت نہ عطا فرماتا۔ مسئلہ نمبر 7۔ ابن خویز منداد نے کہا ہے : یہ آیت شریعت کے مناقب میں سے ہر منقبت کی طرف (آیت) السابقون الاولون کو فضیلت دینے کو متضمن ہے چاہے وہ علم ہو یا دین، شجاعت یا اس کے سوا کوئی اور وصف، اس کا تعلق مال عطا کرنے سے ہو یا اعزازوکرام میں رتبہ سے ہو۔ اس مسئلہ میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ کے درمیان اختلاف ہے۔ دوسروں پر عطا کے سبب سابقین کو فضیلت دینے کے بارے میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔ پس حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے مروی ہے کہ آپ اس سے لوگوں کے درمیان کسی کو فضیلت نہ دیتے تھے کہ ان میں سے بعض بعض کو عطا کرنے میں سبقت لے گئے۔ اور حضرت عمر ؓ آپ کو کہتے تھے : کیا آپ سبقت لے جانے والے کو اس کی طرح قرار دیتے ہیں جس کے لیے سبقت نہیں ہے ؟ تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا : بلاشبہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کیا اور اس کا اجر بھی اسی پر ہے۔ اور حضرت عمر ؓ اپنی خلافت کے دور میں فضیلت دیتے تھے۔ پھر آپ ؓ نے اپنے وصال کے وقت کہا : اگر میں کل تک زندہ رہاتو میں ضرور ادنی لوگوں کو اعلی کے ساتھ ملادوں گا، پھر اسی رات آپ ؓ کا وصال ہوگیا اور خلافت ہمارے آج دن تک اس اختلاف پر قائم ہے۔ قولہ تعالیٰ : والذین اتبعوھم باحسان “۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) حضرت عمر ؓ نے (آیت) ” والانصار “ رفع کے ساتھ پڑھا ہے (آیت) ” الذین “ کو انصار کی صفت قرار دے کر اس سے واؤ کو ساقط کردیا ہے، اور حضرت زید بن ثابت ؓ نے انہیں رجوع کرا لیا، پس حضرت عمر ؓ نے ابی بن کعب ؓ سے پوچھا تو انہوں نے زید کی تصدیق کی تو حضرت عمر ؓ نے اس کی طرف رجوع کرلیا، اور کہا : ہم نہیں دیکھ رہے مگر یہ کہ ہم اتنے بلند مرتبہ پر فائز ہوئے کہ ہمارے ساتھ کوئی اور اسے نہیں پائے گا، تو حضرت ابی ؓ نے کہا : بلاشبہ میں کتاب اللہ میں سورة جمع کے شروع میں اس کا مصداق پاتا ہوں : (آیت) ” واخرین منھم لما یلحقوا بھم “۔ (الجمعہ : 3) (اور دوسرے لوگوں کا بھی اس میں سے (تزکیہ کرتا ہے تعلیم دیتا ہے) جو ابھی ان سے آکر نہیں ملے) اور سورة حشر میں ہے : (آیت) ” والذین جآء ؤ من بعدھم یقولون ربنا اغفرلناولاخواننا الذین سبقونا بالایمان “۔ (الحشر : 10) (اور اس مال میں) ان کا بھی حق ہے جو ان کے بعد آئے جو کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہمیں بھی بخش دے اور ہماے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لے آئے) اور سورة الانفال میں یہ قول ہے : (آیت) ” والذین امنوا من بعد و ھاجروا وجھدوا معکم فاولئک منکم “۔ (الانفال : 75) (اور جو لوگ ایمان لائے بعد میں اور ہجرت بھی کی اور جہاد بھی کیا تمہارے ساتھ مل کر تو وہ بھی تمہی میں سے ہیں) پس قرات واؤ کے ساتھ ثابت ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے قول باحسان کے بیان کیا ہے کہ وہ امور خیر جن میں وہ ان کے افعال واقوال کی اتباع کرتے ہیں، نہ کہ ان میں جو ہفوات وزلات ان سے صادر ہوئیں، کیونکہ وہ معصوم نہیں رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین مسئلہ نمبر : (2) علماء نے تابعین اور ان کے مراتب میں اختلاف کیا ہے، پس الخطیب الحافظ نے کہا ہے : تابعی وہ ہے جسے صحابی کی صحبت اور معیت حاصل ہو، ان میں سے ہر ایک کو تابع اور تابعی کہا جاتا ہے، اور حاکم ابو عبداللہ وغیرہ کا کلام یہ شعور دلاتا ہے کہ اس میں اتنا کافی ہے کہ اس نے صحابی سے سماع کیا ہو یا اس سے ملاقات کی ہو اگرچہ صحبت عرفہ نہ پائی جائے، تحقیق یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک اہم تابعین کا اطلاق ان پر ہوتا ہے جو صلح حدیبیہ کے بعد اسلام لائے جیسا کہ حضرت خالد بن ولید، حضرت عمرو بن عاص اور وہ جو فتح مکہ کے وقت اسلام لانے والوں میں سے ان کے قریب قریب ہیں، کیونکہ یہ ثابت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نیحضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کی بارگاہ میں حضرت خالد بن ولید ؓ کی شکایت کی، تو حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے حضرت خالد کو فرمایا :” میرے لیے میرے صحابہ کو بلاؤ، پس قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! اگر تم میں سے کوئی ہر روز احد پہاڑ کی مثل سونا خرچ کرے تو وہ ان کے ایک مد کو اور نہ اس کے نصف کو پہنچ سکتا ہے “۔ (1) (صحیح مسلم، کتاب الفضائل جلد 2، صفحہ 310) اور تعجب کی بات ہے کہ حاکم ابو عبداللہ ؓ نے مقرن مزنی کے دو بیٹوں نعمان اور سوید کو تابعین میں شمار کیا ہے جب انہوں نے تابعین میں سے بھائیوں کا ذکر کیا، حالانکہ وہ دونوں معروف صحابی ہیں اور ان کا ذکر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں کیا گیا ہے اور وہ دونوں غزوہ خندق میں حاضر تھے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، واللہ اعلم، اور اکبر التابعین اہل مدینہ میں سے فقہائے سبعہ ہیں اور وہ حضرت سعید بن مسیب، قاسم بن محمد، عروہ بن زبیر، خارجہ بن زید، ابو سلمہ بن عبدالرحمن، عبداللہ بن عتبہ بن مسعود اور سلیمان بن یسار رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہیں اور بعض بزرگوں نے انہین ایک شعر میں نظم کردیا ہے اور کہا ہے : فخذھم عبیداللہ عروۃ قاسم سعید ابوبکر سلیمان خارجہ : اور امام احمد بن حنبل (رح) نے کہا ہے : تابعین میں سے سب سے افضل حضرت سعید بن مسیب ہیں، تو آپ کو کہا گیا ان کے متصل بعد علقمہ اور اسود ہیں، تو آپ نے فرمایا : حضرت سعید بن مسیب اور علقمہ اور اسود۔ (یعنی یہ تینوں فضیلت کے ایک درجے میں ہیں) اور ان سے یہ بھی روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : تابعین میں سے افضل قیس، ابو عثمان، علقمہ اور مسروق ہیں، یہ تمام فاضل ہیں اور تابعین کے بلند رتبہ میں سے ہیں۔ اور یہ بھی فرمایا : حضرت عطا مکہ مکرمہ کے مفتی تھے اور حضرت حسن، بصرہ کے مفتی تھے، پس یہ دو ہیں جو دوسروں کی نسبت زیادہ مال دار اور عام میل جول سے بچنے والے تھے، اور ابوبکر بن ابی داؤد سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : عورتوں میں سے تابعین کی سردار حفصہ، بنت سیرین اور عمرہ بنت عبدالرحمن ہیں اور ان کے ساتھ تیسری ام الدرداء ہیں اور وہ ان دو کی طرح نہیں ہے، حاکم ابو عبداللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا : ایک طبقہ تابعین میں شمار کیا جاتا ہے اور ان میں سے کسی کا صحابہ کرام سے سماع صحیح نہیں، ان میں سے حضرت ابراہیم بن سوید نخعی ہیں اور یہ ابراہیم بن یزید نخعی فقیہ نہیں ہے، اور بکر بن ابی السمیط اور بکر بن عبداللہ الاشج ہیں، اور ان کے سوا کوئی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے : اور ایک طبقہ ہے جن کا شمار لوگوں کے نزدیک اتباع التابعین میں ہے، حالانکہ انہوں نے صحابہ کرام سے ملاقات کی ہے، ان میں سے ابو الزناد عبداللہ بن ذکوان ہیں، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت انس ؓ سے ملاقات کی ہے۔ اور ہشام بن عروہ ہیں انہیں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس لایا گیا اور حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت موسیٰ بن عقبہ ؓ کے پاس لایا گیا، تحقیق انہوں نے حضرت انس بن مالک ؓ کو بھی پایا ہے، اور ام خالد بنت خالد بن سعید بھی ہیں۔ اور تابعین میں ایک طبقہ ہے جنہیں مخضر میں کے نام سے پکارا جاتا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے عہد جاہلیت اور رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ کو پایا اور انہوں نے اسلام قبول کیا اور انہیں شرف صحبت حاصل نہ ہوا ان کی واحد مخضرم (راء کے فتحہ کے ساتھ) ہے کا نہ خضرم، یعنی گویا یہ اپنے ہم زمانہ ان لوگوں سے کٹ گیا جنہوں نے صحابیت وغیرہ کا رتبہ پالیا۔ امام مسلم (رح) نے ان کا ذکر کیا ہے اور ان کی تعداد بیس افراد تک پہنچی ہے، ان میں سے ابو عمر وشیبانی، سوید بن غفلہ کندی، عمرو بن میمون الاودی، ابو عثمان النہدی عبد بن خبر بن یزید الخیرانی (یہ خا کے فتحہ کے ساتھ ہے) اور یہ ہمدان خاندان سے ہے، عبدالرحمن بن ہل، ابو رحمۃ اللہ علیہھلال العتکی ربیعہ بن زرارہ ہیں، اور ان میں سے وہ جن کا مسلم نہیں کیا، ان میں سے ابو مسلم الخولانی عبداللہ بن ثوب اور اخنف بن قیس ہیں۔ یہ ان صحابہ کرام اور تابعین کی معرفت کے بارے مختصر تذکرہ ہے جن کی فضیلت کا ذکر قرآن کریم نے کیا، رضوان اللہ علیہم اجمعین، اور ہمیں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کافی ہے : (آیت) ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “۔ (آل عمران : 110) (ہو تم بہترین امت جو ظاہر کی گئی ہے (لوگوں) کی ہدایت وبھلائی کے لیے) جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے : (آیت) ” وکذلک جعلنکم امۃ وسطا “۔ الآیہ (البقرہ : 143) (اور اس طرح ہم نے بنا دیا تمہیں (اے مسلمانو ! ) بہترین امت) اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” میں نے پسند کیا کہ اگر ہم اپنے بھائیوں کو دیکھ لیں “ (1) (صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، جلد 1، صفحہ 127) الحدیث : پس آپ ﷺ نے ہمیں اپنا بھائی قرار دیا، اگر ہم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہے اور اس کے احکام کی ہم نے پیروی کی تو اللہ تعالیٰ اپنے گروہ میں اٹھائے گا اور حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ اور آپ کی آل کے وسیلہ سے وہ ہمیں اپنے راستے اور اپنے دین سے نہیں ہٹائے گا۔
Ayah 9:101

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

اور تمہارے گرد ونواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں۔ اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں۔ تم انہیں نہیں جانتے ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

آیت نمبر : 101۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وممن حولکم من الاعراب منفقون “۔ یہ مبتدا اور خبر ہے، یعنی قوم منافقون “۔ اور یہ مزینہ، جہینہ، اسلم غفار اور اشجع کے قبائل تھے (1) (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 396) (آیت) ” ومن اھل المدینہ مردوا علی النفاق “۔ رہی قوم (آیت) ” مردوا علی النفاق “۔ (یعنی اہل مدینہ میں سے ایک قوم ہے جو نفاق پر پکے ہوگئے ہیں) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مردوا منافقین کی نعمت میں سے ہے پس کلام میں تقدیم وتاخیر ہوگی، اس کا معنی ہوگا : ومن حولکم من الاعراب منافقون مردوا علی النفاق، ومن اھل المدینۃ مثل ذالک “۔ (تمہارے آس پاس بسنے والے دیوتیوں سے کچھ منافق ہیں جو نفاق پر پکے ہوگئے ہیں اور کچھ مدینہ کے رہنے والے بھی اس طرح ہیں) اور مردوا کا معنی ہے وہ قائم اور مضبوط ہوگئے ہیں اور انہوں نے توبہ نہیں کی، یہ ابن زید سے منقول ہے اور دوسروں نے کہا ہے : وہ اس سے ڈٹ گئے ہیں اور اس کے سوا کا انہوں نے انکار کردیا ہے۔ اور یہ دونوں معنی باہم ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں۔ اور کلمہ کا اصل معنی نرمی، ملائمت وملامست اور خالی ہونا ہے اور خالص ہونا ہے، تو گویا وہ نفاق کے لیے خالص ہوگئے ہیں، اور اسی سے رملۃ مرداء ہے یعنی ایسی خالص ریت (صحرائ) جس میں کوئی بوٹی نہ ہو، اور غصن امراد ایسی ٹہنی جس پر کوئی پتا نہ ہو اور فرس امردوہ گھوڑا جس پر لٹکنے والے بال نہ ہوں، اور غلام امرد ایسا بچہ جس کی جلد صاف ہو، بےریش ہو، اور یہ نہیں کہا جائے گا : جاریۃ مرداء اور تمرید البناء سے مراد بناء کا ملائم اور نازک ہونا ہے، اور اسی سے یہ ارشاد بھی ہے : (آیت) ” صرح ممرد “۔ (النمل : 44) (اور یہ پانی نہیں) یہ چمک دار محل ہے) اور تمرید الغصن سے مراد ٹہنی کو پتوں سے خالی کرنا ہے، کہا جاتا ہے : مرد یمرد مروداو مرادۃ۔ قولہ تعالیٰ : لا تعلمھم، نحن نعلمھم “۔ یہ اس اور ارشاد کی مثل ہے : (آیت) ” لاتعلمونھم، اللہ یعلمھم “۔ (الانفال : 60) جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اے محمد ﷺ آپ ان کے امور کے انجام کو نہیں جانتے بلاشبہ ہم نے ان کا علم اپنے لیے خاص کر رکھا ہے اور یہ معنی اس سے روک رہا ہے کہ کسی کے بارے جنت یا دوزخ کا دوزخ کا حکم لگایا جائے۔ قولہ تعالیٰ ؛ (آیت) ” سنعذبھم مرتین ثم یردون الی عذاب عظیم “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ایک بار (عذاب) دنیا میں بیماریوں کے ساتھ اور دوسرا عذاب آخرت (ہم انہیں دیں گے) پس مومن کی بیماری (گناہوں کا) کفارہ ہوتی ہے۔ اور کافر کی بیماری سزا ہوتی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : پہلا عذاب رسوائی کا ہے (کہ ان کے بارے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کو اطلاع دے کر (انہیں رسوا کیا) جیسا کہ اس کا بیان منافقین میں آئے گا۔ اور دوسرا عذاب قبر کا عذاب ہے۔ حضرت حسن اور قتادہرحمۃ اللہ علیہمنے کہا ہے : ایک دنیا کا عذاب ہے اور دوسرا قبر کا عذاب ہے۔ ابن زید نے کہا ہے : پہلا اموال واولاد کے بارے میں مصائب وآلام میں مبتلا کرنا ہے اور دوسرا قبر کا عذاب ہے۔ (1) (معالم التنزیل، جلد 3 صفحہ 101) حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : ایک بھوک اور دوسرا قتل کا عذاب ہے، فراء نے کہا ہے : ایک قتل اور دوسرا عذاب قبر ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک قید اور دوسرا قتل ہے۔ یہ قول بھی ہے : ایک ان کے مالوں سے زکوۃ لینا اور ان پر حدود جاری کرنا ہے اور دوسرا قبر ہے۔ (2) (تفسیر طبری، جلد 11، صفحہ 16) اور یہ بھی کہا گیا ہے : دو عذابوں میں سے ایک وہ ہے جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” فلا تعجبک اموالھم ولا اولادھم، انما یرید اللہ لیعذبھم بھا فی الحیوۃ الدنیا “۔ (التوبہ : 55) سو نہ تعجب میں ڈال دیں تمہیں ان کے مال اور نہ ان کی اولاد، یہی چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ کہ عذاب دے انہیں ان چیزوں سے دنیوی زندگی میں۔ اور آیت سے مقصود عذاب کی اتباع ہے یا ان پر عذاب کو دوگنا کرنا ہے۔
Ayah 9:102

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

اور کچھ اور لوگ ہیں کہ اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار کرتے ہیں۔ انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا دیا تھا۔ قریب ہے کہ خدا ان پر مہربانی سے توجہ فرمائے۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت نمبر : 102۔ یعنی اہل مدینہ میں سے اور تمہارے آس پاس رہنے والوں میں سے کچھ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اقرار واعتراف کرلیا ہے اور دوسروں کے لیے اللہ تعالیٰ کا امر مؤخر کردیا گیا ہے وہ ان کے بارے میں وہی فیصلہ فرمائے گا جو چاہے گا۔ پس پہلی قسم یہ احتمال رکھتی ہے کہ وہ منافق تھے اور نفاق پر پختہ نہ ہوئے تھے۔ اور یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ وہ مومن ہوں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : یہ آیت ان دس افراد کے بارے میں نازل ہوئی جو غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے اور ان میں سے سات آدمیوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں کے ساتھ باندھ دیا تھا۔ حضرت قتادہ (رح) نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا ہے : اور ان کے بارے میں (آیت) ” خذ من اموالھم صدقۃ “۔ نازل ہوئی۔ اسے مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ اور زید بن اسلم نے کہا ہے : وہ آٹھ افراد تھے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ چھ تھے، اور یہ قول بھی ہے کہ وہ پانچ تھے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : یہ آیت حضرت ابو لبابہ انصاری ؓ کے بارے میں خاص کر بنی قریضہ کے ساتھ ان کے معاملہ کے بارے میں نازل ہوئی (3) (تفسیر طبری، جلد 11، صفحہ 20) اور وہ یہ کہ انہوں نے ان سے اللہ تعالیٰ اور حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے حکم پر قلعے سے نیچے اترنے کے بارے میں گفتگو کی تو آپ نے ان کے لیے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا مراد یہ تھی کہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ انہیں ذبح کردیں گے اگر وہ نیچے اترے، پھر جب غلطی کا احساس ہوا تو توبہ کی، ندامت ہوئی اور اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا اور یہ قسم کھائی کہ وہ کوئی چیز نہ کھائے گا نہ پئے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے یا وہ مر جائے۔ پس وہ اسی حالت پر رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا اور یہ آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ تعالیٰ نے اسے کھولنے کا حکم فرما دیا۔ اسے علامہ طبری نے حضرت مجاہد (رح) سے ذکر کیا ہے۔ اور اشہب نے امام مالک (رح) سے سے روایت کیا ہے کہ وآخرون حضرت ابو لبابہ ؓ اور ان کے ساتھیوں کی شان میں نازل ہوئی اور اس وقت کہا جب ان سے گناہ صادر ہوا : یا رسول اللہ ﷺ کیا میں آپ کے پڑوس میں رہوں گا اور اپنے مال سے علیحدہ ہوجاؤں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” اس سے ثلث تیرے لیے کافی ہوگا۔ (1) (تفسیر طبری، جلد 11، صفحہ 20) تحقیق رب کریم نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” خذ من اموالھم صدقۃ تطھرھم وتزکیھم بھا “۔ ترجمہ : (اے حبیب ! ) وصول کیجئے ان کے مالوں سے صدقہ تاکہ آپ پاک کریں انہیں اور بابرکت فرمائیں انہیں) اسے ابن قاسم اور ابن وہب نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے۔ اور جمہور کا نظریہ یہ ہے کہ یہ آیت غزوہ تبوک کے پیچھے رہنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور انہوں نے اپنے آپ کو اسی طرح باندھ دیا تھا جیسے حضرت ابو لبابہ ؓ نے کہا تھا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ وہ اپنے آپ کو نہیں کھولیں گے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ ہی انہیں کھولیں گے اور آپ ان سے راضی ہوں گے، تو حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے فرمایا :” میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں میں انہیں نہیں کھولوں گا اور نہ میں انہیں معذور قرار دوں گا یہاں تک کہ انہیں کھولنے کا حکم دیا جائے۔ انہوں نے مجھ سے اعراض کیا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ مل کر جنگ میں جانے سے پیچھے رہے ہیں “ (2) (اسباب النزول، صفحہ 135) پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، پس جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ ان کی طرف تشریف لے گئے، اور آپ نے انہیں کھولا اور ان کا عذر قبول فرمالیا، جب وہ کھول دیئے گئے تو انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ یہ ہمارے وہ اموال ہیں جنہوں نے ہمیں آپ سے پیچھے رکھا، پس آپ ہماری طرف سے انہیں صدقہ کر دیجئے اور ہمیں پاک کیجئے اور ہمارے لیے مغفرت لیے طلب کیجئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” مجھے حکم نہیں دیا گیا ہے کہ میں تمہارے مالوں میں سے کوئی شے لوں “ (3) (اسباب النزول، صفحہ 135) تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” خذ من اموالھم صدقۃ “۔ الآیہ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ دس افراد تھے ان میں سے حضرت ابو لبابہ ؓ بھی تھے تو آپ ﷺ نے ان کے مالوں سے تیسرا حصہ لیا اور یہ ان کے ان گناہوں کا کفارہ تھا جن کا انہوں نے ارتکاب کیا، پس ان کا برا عمل پیچھے رہنا ہے اس پر اس بارے گفتگو کرنے کی اہلیت رکھنے والوں کا اجماع ہے۔ اور عمل صالح کے بارے میں انہوں نے اختلاف کیا ہے، پس علامہ طبری وغیرہ نے کہا ہے : (اپنے گناہ کا) اعتراف کرنا، توبہ کرنا اور اس (گناہ) پر نادم ہونا) (تفسیر طبری، جلد 11، صفحہ 17) اور کہا گیا ہے کہ ان کا وہ عمل صالح جو انہوں نے کیا وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ملے اور انہوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں کے ساتھ باندھ دیا اور انہوں نے کہا : ہم نہ اپنی بیویوں کے قریب جائیں گے اور نہ اپنی اولاد کے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے عذر کے بارے حکم نازل فرما دے، اور ایک جماعت نے کہا ہے : بلکہ عمل صالح ان کا ان عزوات میں شریک ہونا ہے جو حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے غزوات میں سے گزر چکے تھے، اور یہ آیت اگرچہ اعراب کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن یوم قیامت تک ہر اس آدمی کے حق میں عام ہے جس کے اعمال صالحہ بھی ہوں اور اعمال سیئہ بھی، پس یہ امید دلالتی ہے، علامہ طبری نے حجاج بن ابی زینب سے ذکر کیا ہے انہوں نے کہا میں نے ابو عثمان کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : میرے نزدیک اس امت کے لیے قرآن کریم میں اس آیت سے بڑھ کر زیادہ امید افزا کوئی آیت نہیں : (آیت) ” واخرون اعترافوا بذنوبھم خلطوا عملا صالحا واخرسیئا “۔ (التوبہ : 102) (1) (تفسیر طبری، جلد 11، صفحہ 21) اور بخاری میں حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا : ” آج کی رات میرے پاس دو آنے والے آئے اور وہ مجھے لے گئے پس ہم ایک ایسے شہر کے پاس رکے جس کے مکانات سونے چاندی کی اینٹوں کے ساتھ بنے ہوئے تھے ہمیں تھے کچھ لوگ ملے جن کی خلقت میں نصف اتنا زیادہ حسین تھا کہ تو نے اس کی مثل نہ دیکھا ہوگا اور نصف اتنا زیادہ قبیح تھا کہ تو نے اس کی مثل نہ دیکھا ہوگا ان دونوں نے انہیں کہا : تم جاؤ اور اس نہر میں کود جاؤ پس ہو اس میں داخل ہوگئے پھر ہماری طرف واپس لوٹ کر آئے تو ان سے وہ بدصورتی اور سیاہی دور ہوچکی تھی اور وہ انتہائی حسین و جمیل صورت میں بدل چکے تھے، تو ان دونوں نے مجھ بتایا : یہ جنت عدن ہے اور یہی آپ کی منزل اور مقام ہے، پھر ان دونوں نے کہا : رہی وہ قوم جن کا نصف حصہ حسین اور خوبصورت تھا اور ان کا نصف قبیح اور بدصورت تھا (تو اس کی وجہ یہ ہے) کہ انہوں نے عمل صالح اور برے عمل کو ملا جلا دیا اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر فرمالی ہے “ (2) (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 674) علامہ بہیقی (رح) نے ربیع بن انس (رح) کی حدیث سے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے حدیث اسراء ذکر کی ہے اور اس میں آپ نے فرمایا ہے : ” پھر مجھے آسمان کی طرف لے جایا گیا۔ پھر انہوں نے یہاں تک حدیث ذکر کی کہ آپ ﷺ نے ساتویں آسمان کی طرف اپنے بلند ہونے اور چڑھنے کا ذکر فرمایا تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھائی اور خلیفہ کے نام سے سلام فرمایا ہے پس کتنا اچھا بھائی اور کتنا اچھا خلیفہ ہے اور آنے والا کتنا اچھا ہے، پس اچانک دیکھا سام نے جنت کے دروازے کے پاس کرسی پر ایک آدمی بیٹھا ہوا ہے جس کے سر کے بال سیاہ وسفید ہیں اور اس کے پاس ایک قوم ہے ان کے چہرے سفید ہیں اور ایک قوم ہے ان کے چہرے سیاہ ہیں اور ان کے رنگوں میں کوئی شے ہے، پس وہ نہر کے پاس آئے اور اس میں غسل کیا، پس اس سے نکلے تو ان کے رنگوں کی مثل ہوچکے تھے پھر وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا : اے جبرئیل ! یہ سفید چہروں والے کون لوگ ہیں اور یہ لوگ جن کے رنگوں میں کوئی شے تھی پھر وہ نہر میں داخل ہوئے تو ان کے رنگ صاف ہوگئے ؟ تو انہوں نے بتایا : یہ آپ کے باپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں یہ پہلے آدمی ہیں سطح زمین پر جن کے بال سیاہ اور سفید ہے، اور سفید اور چمکتے چہروں وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا اور رہے وہ لوگ جن کے رنگوں میں کوئی شے تھی انہوں نے عمل صالح اور برے عمل کو ملا جلا دیا اور پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، اور رہی پہلی نہر تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اور رہی دوسری نہر تو وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔ اور رہی تیسری نہر تو ان کے رب نے انہیں شراب طہور کے ساتھ سیراب فرمایا “۔ اور آگے حدیث ذکر کی۔ اور قول باری تعالیٰ : (آیت) ” واخر سیئا “۔ میں واؤ کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بمعنی با ہے اور یہ بھی کیا گیا ہے کہ یہ بمعنی مع ہے، جیسے کہ تیرا قول ہے : استوی الماء والخشبۃ “۔ (پانی لکڑی کے ساتھ برابر ہوگیا) کو فیوں نے اس کا انکار کیا ہے اور انہوں نے کہا ہے : کیونکہ خثبہ کو الماء پر مقدم کرنا جائز نہیں ہے اور آیت میں آخر کو پہلے پر مقدم کرنا جائز ہے لہذا یہ خلطت الماء باللبن کے قائم مقام ہے