9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 9:34

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

مومنو ! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور (ان کو) راہ خدا سے روکتے ہیں اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے راستے میں خرچ نہیں کرتے انکو اس دن کے عذاب الیم کی خبر سنا دو ۔

اس میں گیارہ مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : لیاکلون اموال الناس بالباطل اس میں فعل مضارع پر لام داخل ہوا ہے (فعل) فعل ماضی پر لام داخل نہیں ہوا۔ اس لیے کہ یفعل (فعل مضارع) اسماء کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے اور الا حبار سے مراد علماء یہود ہیں۔ اور الرھبان سے مراد وہ عیسائی ہیں جو عبادت میں مستغرق رہنے والے اور انتہائی کوشش کرنے والے ہیں۔ بالباطل کہا گیا ہے کہ بیشک وہ اپنے متبعین اور پیروکاروں کے اموال کئی شکلوں اور معین طریقوں سے کنیسوں ‘ عبادت گاہوں اور کئی دوسرے ناموں پر لیتے تھے۔ جس سے وہ انہیں یہ وہم دلاتے تھے کہ ان میں مال خرچ کرنا شرعی حکم ہے اور اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کا ذریعہ اور سبب ہے اور وہ اس دوران ان اموال کو روک لیتے تھے ‘ جی اس کہ اسے حضرت سلمان فارسی ؓ نے اس راہب سے ذکر کیا ہے جس نے اپنا جمع کیا ہوا مال نکالا۔ اسے ابن اسحاق نے سیر میں ذکر کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ دین کی حمایت اور شریعت کے قیام کے نام پر کئی طریقوں سے ان کے غلے (اناج) اور ان کے اموال کے لیتے تھے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ وہ احکام میں رشوت لیتے تھے ‘ جیسا کہ آج بہت سے والی اور حکمران کرتے ہیں۔ اور قولہ : بالباطل ان تمام صورتوں کو جامع ہے۔ ویصدون عن سبیل اللہ یعنی وہ اپنے دین والوں کو دین اسلام میں داخل ہونے اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اتباع کرنے سے روکتے ہیں۔ مسئلہ نمبر 2: قولہ تعالیٰ : والذین یکنزون الذھب والفضۃ لغت کنز کا اصلی معنی ملانا ‘ جوڑنا اور جمع کرنا ہے۔ اور یہ سونے اور چاندی کے ساتھ مختص نہیں ہے۔ کیا آپ حضور ﷺ کا یہ ارشاد نہیں جانتے : الاأخبرکم بخیر ما یکنزالمرء المراۃ الصالحۃ ( 1) (کیا میں تمہیں اس خیر اور بھلائی کے بارے خبر نہ دوں جسے ایک آدمی جمع کرتا ہے (اور وہ) نیک اور صالح عورت ہے ‘ یعنی وہ اسے پانے نفس کے لیے جوڑتا ہے اور اسے جمع کرتا ہے ‘ جیسا کہ شاعر نے کہا : ولم تزود من جمیع الکنز غیر حنوط و رثیث بز اور ایک دوسرے شاعر نے کہا ہے : لادردری ان أطعمت شائعھم قرف الحی و عندی البر مکنوز میری یہ خوبی خوبی نہیں ہے اگر میں ان کے بھوکوں کو گوگل کا پھل کھلائوں حالانکہ میرے پاس گندم جمع پڑی ہوئی ہو۔ تو اس میں قرف الحسی سے مراد گوگل کا پھل ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ ایک قوم کے پاس ٹھہرا ان کے نزدیک اس کی ضیافت گوگل کے پھل سے ہوئی اور وہی الحی ہے ‘ پھر جب وہ لوگ اس کے پاس آئے اس وقت اس نے کہا : لادردری۔۔۔۔۔ شعر۔ سونے اور چاندی کا خاص طور پر ذکر اس لیے کیا گیا ہے ‘ کیونکہ یہ ان میں سے ہیں جن پر مطلع نہیں ہوا جاسکتا ‘ بخلاف دیگر ساز و سامان اور اموال کے ص کہ ان پر اطلاع ہوسکتی ہے) علامہ طبری (رح) نے کہا ہے : کنز سے مراد ہر وہ شے ہے جو آپ میں ایک دوسرے کے ساتھ ملی ہوئی اور جمع شدہ ہو ‘ چاہے وہ زمین کے اندر ہو یا اس کے اوپر ہو۔ ذھب (سونے) کو ذھب اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ چلا جاتا ہے ‘ ختم ہوجاتا ہے اور الفضۃ ( چاندی) کو یہ نام اس لیے دیا جاتا ہے کیونکہ وہ ٹوٹ کر متفرق ہوجاتی ہے اور بکھر جاتی ہے۔ اور اسی سے رب کریم کا یہ ارشاد ہے : انفضوا الیھا (الجمعہ : 11) ۔۔۔۔۔ لانفضوا من حولک (آل عمران :159) ( تو یہ لوگ منتشر ہوجاتے آپ کے آس پاس سے) اس کا معنی سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس آیت کے مراد بہ میں اختلاف کیا ہے۔ پس حضرت معاویہ ؓ کا موقف یہ ہے کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں اور یہی نظریہ اصم کا ہے ‘ کیونکہ قول باری تعالیٰ والذین یکنزون اس قول کے بعد مذکور ہے : ان کثیر امن الاحبار والرھبان لیاکلون اموال الناس بالباطل اور حضرت ابو ذر ؓ نے کہا ہے کہ اس سے مراد اہل کتاب اور ان کے علاوہ مسلمان بھی ہیں۔ اور یہی صحیح ہے ‘ کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ صرف اہل کتاب کا ارادہ فرماتا تو پھر کلام اس طرح فرماتا : یکنزون یعنی اس کے ساتھ والذین مذکور نہ ہوتا۔ پس جب فرمایا : والذین تو یہ ایک دوسرا نیا معنی ہے جو اس کی وضاحت کررہا ہے کہ یہاں جملہ کا عطف جملہ پر ہے۔ پس الذین یکنزون نیا کلام ہے اور یہ مبتدا کی بنا پر ہر فوع ہے۔ حضرت سدی نے کہا ہے : مراد اہل قبلہ ہیں (2) پس یہ تین اقوال ہیں۔ اور صحابہ کرام کے قول کے مطابق اس میں اس پر دلیل موجود ہے کہ ان کے نزدیک کفار شریعت کے فروعی احکام کے مخا طب ہیں۔ امام بخاری (رح) نے حضرت زید بن وہب سے روایت نقل کی ہے انہوں نے بیان کیا : میں مقام ربذہ سے گزرا تو اچانک میری ملاقات حضرت ابو ذر ؓ سے ہوگئی تو میں نے ان سے کہا : تمہیں اس منزل پر کس نے اتارا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : میں شام میں تھا تو میرا حضرت معاویہ ؓ کے ساتھ اس آیت والذین یکنزون الذھب والفضۃ ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ کے بارے اختلاف ہوگیا۔ حضرت معاویہ ؓ نے کہا : یہ اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور میں نے کہا : یہ ہمارے اور ان کے بارے نازل ہوئی ہے ‘ میرے اور ان کے درمیان یہی اختلاف تھا۔ تو انہوں نے میرے بارے شکایت لکھ کر حضرت عثمان ؓ کی طرف بھیج دی۔ تو حضرت عثمان ؓ نے مجھے مدینہ طیبہ آنے کا لکھ بھیجا۔ پس میں وہاں حاضر ہوا تو بہت سے لوگ مجھ پر جمع ہوگئے یہاں تک کہ (یہ محسوس ہوا) گویا انہوں نے اس سے قبل مجھے نہیں دیکھا تھا۔ تو میں نے حضرت عثمان ؓ کے پاس اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا : اگر آپ چاہیں کہ کنارہ کش ہوجائیں تو بھی آپ ہمارے قریب ہی ہوں گے تو یہی وہ جمعلہ ہے جس نے مجھے اس مقام پر پہنچادیا ہے اور اگر آپ مجھ پر کسی حبشی کو امیر مقرر کردیں تو میں یقیناً بات سنوں گا اور اس کی اطاعت کروں گا۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ ابن خویز منداد نے کہا ہے : یہ آیت سونے چاندی کی زکوۃ کے حکم کو بھی متضمن ہے اور وہ چار شرظوں کے ساتھ واجب ہوتی ہے۔ : آزاد ہونا ‘ مسلمان ہونا ‘ سال کا گزرنا اور نصاب کا قرض سے محفوظ اور سلامت ہونا۔ نصاب دو سو درہم یا بیس دینار ہے یا دونوں میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ ملا کر نصاب مکمل کیا جائے گا اور چالیسواں حصہ اس سے اور چالیسواں حصہ اس سے نکالا جائے گا۔ ہم نے کہا ہے کہ آزاد ہونا شرط ہے۔ یہ اس لیے ہے کیونکہ غلام کی ملکیت ناقص ہوتی ہے۔ اور ہم نے یہ کہا ہے کہ اسلام شرط ہے ‘ کیونکہ زکوۃ پاکیزگی اور طہارت ہے اور کافر کو طہارت اور پاکیزگی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : واقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ (البقرہ :110) تو اس میں زکوۃ کا مخاطب انہیں کو بنایا گیا ہے جنہیں نماز کا مخاطب بنایا گیا ہے۔ اور ہم نے کہا ہے : بیشک سال گزرنا شرط ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :” مال میں زکوۃ نہیں ہے یہاں تک کہ اس پر سال گزراجائے “ اور پھر ہم نے یہ کہا ہے کہ نصاب شرط ہے۔ تو یہ اس لیے ہے ‘ کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :” دوسودرہم سے کم میں کوئی زکوۃ نہیں ہے اور بیس دینار سے کم میں کوئی زکوۃ نہیں “ سال کے شروع میں نصاب کے مکمل ہونے کا لحاظ نہیں رکھا جائے گا ‘ بلکہ سال کے آخر میں اس کے مکمل ہونے کا اعتبار کیا جائے گا ‘ کیونکہ اس پر تمام (ائمہ) کا اتفاق ہے کہ نفع اصل کے حکم میں ہے۔ اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ جس آدمی کے پاس دو سو درہم ہوں پھر وہ انہیں تجارت اور کاروبار میں لگائے اور وہ سال کے آخر میں ایک ہزار ہوگئے تو وہ ایک ہزار کی زکوۃ ادا کرے گا ‘ نفع کے لیے اسے ازسر نو پورا سال گزارنے کی ضرورت نہیں۔ تو جب صورت حال اس طرح ہے تو پھر نفع کا حکم مختلف نہیں ہوگا ‘ چاہے وہ نصاب سے حاصل ہو یا اس سے کم۔ اور اسی طرح اس پر بھی تمام نے اتفاق کیا ہے کہ اگر کسی کے پاس چالیس بکریاں ہوں ‘ پھر انہوں نے سال کے شروع میں بچوں کو جنم دیا پھر ان میں سے سوائے ایک کے ساری مائیں (یعنی بڑی بکریاں) مرگئیں اور ان کے بچے نصاب کو مکمل کررہے ہوں تو بلاشبہ ان سے زکوۃ ادا کی جائے گی۔ مسئلہ نمبر 5: وہ مال جس کی زکوۃ ادا کردی جائے اس کے بارے علماء کے مابین اختلاف ہے کہ آیا اسے کنز کا نام دیا سکتا ہے یا نہیں ؟ تو ایک جماعت نے کہا ہے : ہاں ( اسے کنز کا کہا جاسکتا ہے) اور اسے ابو الضحی نے جعدہ بن ہبیرہ سے اور انہوں نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : چار ہزار اور جو اس سے کم ہے وہ نفقہ اور خرچہ ہے۔ اور جو اس سے زیادہ ہے تو وہ کنز ہے اگرچہ تو نے اس کی زکوۃ ادا کردی اور یہ صحیح نہیں ہے۔ اور ایک قوم نے کہا ہے : وہ مال جس سے تو زکوۃ ادا کردے یا جس مال کی کسی دوسرے مال کے ساتھ زکوۃ ادا کردے تو وہ کنز نہیں ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : وہ مال جس کی زکوۃ ادا کردی گئی تو وہ کنز نہیں ہے اگرچہ وہ سات زمینوں کے نیچے ہو اور ہر وہ مال جس کی زکوۃ ادانہ کی جائے تو وہ کنز ہے اگرچہ وہ زمین کے اوپر ہو : ما أدی زکاتہ فلیس فکنزو ان کان تحت سبع أرضین ‘ وکل مالم تود زکاتہ فھو کنزوان کان فوق الأ رض اور اسی کی مثل حضرت جابر ؓ سے مروی ہے اور صحیح ہے۔ اور امام بخاری (رح) نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت بیان کی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا پھر اس نے اس کی زکوۃ ادانہ کی تو اس کے لیے اسے قیامت کے دن گنجے سانپ کی مثل بنادیا جائے گا جس پر دو سیاہ نشان ہوں گے اور وہ قیامت کے دن اس کے گلے میں لپٹ جائے گا پھر اس کی باچھوں کو پکڑ کر کہے گا : میں ترامال ہوں ‘ میں تریا خزانہ ہوں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ولا یحسبن الذین یبخلون الآ یہ (آل عمران :180) (اور ہرگز نہ گمان کریں جو بخل کرتے ہیں اس میں جو دے رکھا ہے انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے کہ یہ بخل بہتر ہے) اور اس میں بھی حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے ‘ انہوں نے فرمایا : میں حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا :” قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! یا قسم ہے اس کی جس کے بغیر کوئی الٰہ نہیں یا جیسے بھی آپ نے قسم کھائی۔ ہر وہ آدمی جس کے پاس اونٹ یا گائیں یا بکریاں ہوں اور وہ ان کا حق ادانہ کرتا ہو تو قیامت کے دن انہیں اس سے بڑا اور موٹا کر کے لایاجائے گا جتنا وہ ہوتے ہیں اور وہ اسے اپنے پائوں کے ساتھ روند ڈالیں گے اور اسے اپنے سینگوں کے ساتھ ماریں گے جب بھی ان میں سے آخری آگے گزرجائے گا تو ان میں سے پہلے کو پھر اس پر لوٹا دیا جائے گا یہاں تک کہ اسے لوگوں کے درمیان ڈال دیا جائے گا “۔ پس ان دونوں حدیثوں کے خطاب کی دلیل اس مفہوم کے صحیح ہونے پر دلیل ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے۔ تحقیق حضرت ابن عمر ؓ نے اس معنی کو صحیح بخاری میں بیان کیا ہے ‘ ایک اعرابی نے آپ کو کہا : مجھے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد گرای : والذین یکنزون الذھب والفضۃ کے بارئے بتائیے ؟ تو حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : جس نے انہیں جمع کیا اور ان کی زکوۃ ادانہ کی تو اس کے لیے ہلاکت ہے ‘ بلاشبہ یہ زکوۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے تھا ‘ پس جب زکوۃ کا حکم نازل کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے مالوں کے لیے طہارت اور پاکیزگی بنا دیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کنز سے مراد وہ مال ہے جو حاجت اور ضرورت سے زائد اور فالتوہو۔ حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے اور یہ جو نقل کیا گیا ہے یہ ان ہی کا مذہب ہے اور یہ ان کے ان شدائد اور سختیوں میں سے ہے جن کے ساتھ آپ ؓ منفرد ہیں۔ میں (مفسر) کہتا ہوں کہ وہ مجمل ہے جو اس بارے میں حضرت ابو ذر ؓ سے مروی ہے ‘ وہ جو روایت کیا گیا ہے کہ آیت انتہائی شدید حاجت کے وقت نازل ہوئی اور مہاجرین کی انتہائی کمزوری اور ضعف کے وقت اور ایسے وقت میں رسول اللہ ﷺ کا دست مبارک ان کی کفایت سے انتہائی تنگ تھا اور بیت المال میں بھی ان کے لیے کوئی وسعت اور خوشحالی نہ تھی۔ اور خشک سالی ان پر حملہ آور تھی ‘ تو اس حالت میں انہیں حاجت اور ضرورت کی مقدار سے زیادہ مال میں سے کوئی شے رکھنے سے منع کردیا گیا اور اس جیسے وقت میں سونا ‘ چاندی ذخیرہ کرنا جائز نہیں ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور انہیں وسعت و خوشحالی عطا فرمادی تو آپ ﷺ نے دو سو دراہم میں سے پانچ درہم اور بیس دینار میں سے نصف دینار واجب کردیا۔ اور کل واجب نہ کیے اور بڑھنے کی مدت کا اعتبار کیا ‘ تو یہ آپ ﷺ کی طرف سے بیان اور وضاحت ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کنزوہ مال ہے جس سے پیش آمدہ حقوق ادا نہ کیے جائیں ‘ جیسا کہ قیدی کی رہائی ‘ بھوکے کو کھانا کھلانا اور دیگر اسی طرح کے امور۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کنز لغوی طور پر سونے چاندی کے مجموعہ اور ان کے علاوہ اس مال کو کہا جاتا ہے جسے قیاس کے ساتھ ان دونوں پر محمول کیا جائے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ان دونوں کا مجموعہ ہے جب کہ وہ زیور نہ ہو ‘ کیونکہ ان سے زیور بنانے کی اجازت دی گئی ہے اور اس میں کوئی حق نہیں ہے۔ اور صحیح وہی ہے جس کے ذکر سے ہم نے آغاز کیا اور بلاشبہ وہ سب کا سب لغۃ اور شرعاً کنز ہے۔ واللہ اعلم مسئلہ نمبر 6: زیورات کی زکوۃ میں علماء کا اختلاف ہے۔ امام مالک (رح) اور آپ کے اصحاب ‘ امام احمد ‘ اسحاق ‘ ابو ثور اور ابو عبید رحمۃ اللہ علیہم کا نظریہ یہ ہے کہ ان میں کوئی زکوۃ نہیں ہے اور عراق میں امام شافعی (رح) کا قول بھی یہی تھا اور اسکے بعد مصر میں آپ نے اس میں توقف کیا ہے اور فرمایا ہے : میں اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے استخارہ کروں گا۔ امام ثوری ‘ امام اعظم ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب اور امام اوزعی رحمۃ اللہ علیہم نے کہا ہے : ان تمام میں زکوۃ ہے۔ پہلے گروہ نے حجت بیان کرتے ہوئے کہا ہے : نمو اور بڑھوتری کا پایا جانا سامان میں زکوۃ کو واجب کرتا ہے حالانکہ وہ زکوۃ واجب کرنے کا محل نہیں ہے اسی طرح سونے چاندی سے اپنی ذات کے لیے زیور بنانے کے سبب نمو کا ختم ہوجانا زکوۃ کو ساقط کردیتا ہے۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے سونے چاندی میں زکوۃ واجب ہونے کے بارے عموم الفاظ سے استدلال کیا ہے اور آپ نے زیورات اور ان کے غیر میں کوئی فرق نہیں کیا ہے۔ اور حضرت لیث بن سعد نے فرق کیا ہے پس انہوں نے ان زیورات میں زکوۃ واجب قرار دی ہے جو محض زکوۃ سے بچنے کے ارادہ سے بنائے جائیں اور ان میں زکوۃ کو ساقط کردیا ہے جو پہننے کے لیے اور عاریۃ دینے کے لیے بنوائے جائیں۔ زیورات کے بارے میں مذاہب میں تفصیل ہے ‘ اس کا بیان کتب فروع میں ہے۔ مسئلہ نمبر 7: ابو دائود نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی : والذین یکنزون الذھب والفضۃ فرمایا : مسلمانوں پر یہ گراں ثابت ہوئی۔ تو حضرت عمر ؓ نے کہا : میں تم سے اس مشقت کو دور کر دوں گا ‘ چناچہ آپ چلے اور حضور کی بار گاہ میں عرض کی : یا نبی اللہ ! ﷺ بلاشبہ آپ کے اصحاب پر یہ آیت بھاری اور گراں ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” بیشک اللہ تعالیٰ نے زکوۃ فرض نہیں کی مگر اس لیے تاکہ وہ تمہارے باقی مال کو پاک کردے اور بیشک اس نے میراث کا حق مقرر کیا ہے۔ اور ایک کلمہ ذکر کیا۔۔۔۔۔۔ تاکہ وہ تمہارے بعد آنے والوں کے لیے ہوجائے “۔ راوی کا قول ہے : پس حضرت عمر ؓ نے تکبیر بلند کی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا : ” کیا میں تمہیں اس بہترین خزانہ کے بارے خبر نہ دوں جسے آدمی جمع کرسکتا ہے وہ نیک اور صالح بیوی ہے جب آدمی اس کی طرف دیکھے تو وہ اسے خوش کردے اور جب اسے حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور جب وہ اس سے غائب ہو تو وہ اس کی حفاظت کرے۔ أ لاأخبرک بغیر مایکنزالمئرالمرأۃ الصالحۃ اذا نظر الیھا سرتہ واذا امرھا امطاعتہ واذا غاب عنھا حفظتہ (1) اور ترمذی وغیرہ نے حضرت ثوبان ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے بیان کیا : تحقیق اللہ تعالیٰ نے سونے اور چاندی کی مذمت بیان کی ہے ‘ پس اگر ہمیں علم ہو کون سو مال بہتر ہے تو ہم اسے ہی کمائیں۔ تو حضرت عمر ؓ ‘ نے کہا : میں تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی بار گاہ میں عرض کروں گا۔ پس آپ نے عرض کی تو آپ ﷺ نے فرمایا :” ذکر کرنے والی زبان ‘ شکر کرنے والا دل اور ایسی بیوی جو دین کے معاملے میں آدمی کی معاون اور مددگار ہو۔ لسان ذاکر وقلب شار وزوجۃ تعین المرء علی دینہ۔ (2) مسئلہ نمبر 8 ۔ قولہ تعالیٰ : ولا ینفقون نھا فی سبیل اللہ یہاں والا ینفقونھما نہیں فرمایا۔ تو اس کے چھ جواب ہیں (1) ابن الانباری نے کہا ہے : رب کریم نے اغلب اور اعم کا قصد کیا ہے اور وہ چاندی ہے۔ اور اسی کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : واستعینوا بالصبر والصلوۃ ط وانھا لکبیرۃ (البقرہ :45) اس میں ہاضمیر صلوۃ کی طرف لوٹ رہی ہے ‘ کیونکہ وہی اعم ہے۔ اور اسی کی مثل یہ ارشاد ہے : واذا راواتجارۃ اولھوا ننفضوا الیھا (الجمعہ : 11) تو اس میں بھی ہاء ضمیر تجارۃ کی طرف لوٹ رہی ہے کیونکہ وہ اعم ہے اور لھو کو چھوڑ دیا ہے ‘ بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے۔ اور بعض نے اس کا انکار بھی کیا ہے اور کہا ہے : یہ اس کے مشابہ نہیں ہے ‘ کیونکہ اونے تجارت کو لھو سے جدا کردیا ہے پس ضمیر کو ان دو میں سے ایک کی طرف لوٹا نا اچھا ہے۔ (2) اس کا برعکس ہے ‘ اور وہ یہ ہے کہ ینفقونھا سونے کے لیے ہو اور دوسرا اس پر معطوف ہو۔ اور الذھب (سونے) کو عرب مؤنث پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں : ھی الذھب الحمرائ (یہ سرخ سونا ہے) اور کبھی مذکر بھی پڑھا جاتا ہے لیکن ثانیت زیادہ مشہور ہے۔ (3) کہ یہ ضمیر کنوز کے لیے ہے۔ (4) ضمیر جمع کیے گئے مالوں کے لیے ہو۔ (5) ضمیر زکوۃ کے لیے ہو اور تقدیر کلام یہ ہو ولا ینفقون ذکاۃ الاموال المکنوزۃ ( وہ جمع کیے گئے اموال کی زکوۃ ادان نہیں کرتے) (6) صرف ایک ضمیر پر اکتفا کرنا جب کہ معنی سمجھا جاسکے اور یہ عرب کلام میں بہت زیادہ ہے۔ سیبو یہ نے شعر بیان کیا ہے : نحن بما عندنا وأنت بما عندک راض والرأی مختلف اس میں راضون جمع نہیں کہا ہے۔ اور دوسرے نے کہا ہے : رمائی بأمرکنت منہ ووالدی بریئا ومن أجل الطوی رمائی اس میں برئین نہیں کہا ہے۔ اور اسی طرح حضرت حسان بن ثابت ؓ کا قول ہے : ان شرخ الشباب والشعر الأ سود مالم یعاص کان جنونا اس میں آپ نے یعاصیا تثنیہ نہیں کہا ہے۔ مسئلہ نمبر 9: اگر کہا جائے : جس نے مال جمع نہیں کیا اور نہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا بلکہ اسے گناہوں میں خرچ کیا ‘ کیا وعید میں اس کا حکم اس کے حکم کی مثل ہی ہوگا جس نے مال جمع کیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کیا ؟ تو جواب یہ ہے : بلاشبہ یہ اس سے زیادہ شدید اور سخت ہے ‘ کیونکہ جس نے اپنا مال گناہوں اور معاصی میں خرچ کیا اس نے دو اعتبار سے نافرمانی اور معصیت کا ارتکاب کیا۔ خرچ کرنے کے اعتبار سے اور مال حاصل کرنے کے اعتبار سے ‘ جیسا کہ شراب کو خریدنا اور پھر اسے پینا ‘ بلکہ کئی جہتوں سے وہ معصیت ہے جب کہ معصیت متعدی گناہوں میں سے ہو ‘ جیسا کہ وہ آدمی جس نے کسی مسلم پر ظلم کرنے میں کسی کی مد کی مثلاً اسے قتل کرنے میں یا اس کا مال چھیننے میں وغیرہ وغیرہ۔ اور مال جمع کرنے والے نے دو اعتبار سے معصیت کی ہے۔ اور وہ زکوۃ نہ دینا اور مال کو روکنا ہے اس کے سوا کچجھ نہیں۔ اور کبھی مل کو روکنے کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ واللہ اعلم مسئلہ نمبر 10 ۔ قولہ تعالیٰ : فبشر ھم بعذاب الیم اس کا معنی پہلے گزرچکا ہے۔ تحقیق حضور نبی مکرم ﷺ نے اس عذاب کی اپنے اس ارشاد کے ساتھ تفسیر اور وضاحت بیان کی ہے :” ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو بشارت دے دو داغ دینے کی جو ان کی پشتوں میں لگیں گے ( اور) ان کے پہلوئوں میں ظاہر ہوجائیں گے اور ان کی گدی کی جانب سے لگائے جائیں گے اور ان کی پیشانیوں کی طرف سے نکل آئیں گے “۔ الحدیث اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ حضرت ابو ذر ؓ نے اسے ایک روایت میں بیان کیا ہے :” ذخیرہ اندوزوں کو بشارت اس پتھر کے بارے جسے جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور اسے ان میں سے ہر ایک کے سر پستان پر رکھا جائے گا یہاں تک کہ وہ اس کے کندھے کے اوپر کی جانب سے نکل جائے گا اور اسے اس کے کندھے کی اوپر کی جانب رکھا جائے گا یہاں تک کہ وہ اس کے سرپستان سے نکل جائے گا اور وہ لرزجائے گا “۔ الحدیث۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : پتھر کا سر پستان سے داخل ہو کر کندھے کے اوپر کی جانب سے نکلنا اس کے دل اور اس کے باطن کو عذاب دینے کے لیے ہے جب کہ دنیا میں وہ مال کی کثرت ‘ فرحت و سرور سے پھر ارہا ‘ تو اب آخرت میں غم و اندر وہ اور عذاب کے ساتھ اسے سزادی جائے گی (1) ۔ مسئلہ نمبر 11 ۔ ہمارے علمائے نے کہا ہے : آیت کا ظاہر وعید کو اس آدمی کے ساتھ معلق کیے ہوئے ہے جو مال جمع کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اسے خرچ نہیں کرتا اور وہ واجب وغیرہ کے لیے تعرض کرتا ہے ‘ مگر کنز کے خاص طریقہ کا اعتماد کرنا مناسب نہیں ‘ کیونکہ جس نے مال جمع نہ کیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے روکتا رہا ضروری ہے کہ وہ بھی اس طرح ہو ‘ مگر وہ آدمی جو زمین کے نیچے مال چھپا دیتا ہے وہ وہی ہے جو عرفاً اسے واجبات میں خرچ کرنے سے روکتا ہے ‘ پس اسی لیے وعید کو اس کے ساتھ خاص کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 9:35

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیا جائے گا پھر اس سے ان (بخیلوں) کی بیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا کہ) یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو۔

اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : یوم یحمی علیھا فی نارجھنم ‘ یوم ظرف ہے اور تقدیر عبارت ہے : یعذبون یوم یحمی (وہ عذاب دیئے جائیں گے اس دن جس دن سے تپایا جائے گا) اور یہ صحیح نہیں ہے کہ تقدیر کلام اس طرح ہو : فبشر ھم یوم یحمی علیھا کیونکہ اس دن بشارت نہیں ہوگی۔ کہا جاتا ہے : أحمیت الحدیدۃ فی النار ‘ ای أوقدت علیھا (یعنی لوہے کو آگ پر جلایا گیا) اور کہا جاتا ہے : أحمیتہ ( میں نے اسے گرم کیا اور یہ نہیں کہا جاتا : أحمیت علیہ ( میں نے اس پر گرم کیا) اور یہاں علیھا فرمایا ہے : کیونکہ یاں علی ‘ احماء کے معنی کا صلہ بنایا ہے اور احماء کا معنی ایقاد (بھڑکانا) ہے یعنی اسے آگ پر خوب گرم کیا جائے گا اور داغ دیئے جائیں گے۔ ال کی کا معنی ہے : گرم ہونے والے لوہے اور آگ کو عضو کے ساتھ چپکانا یہاں تک کہ جلد جل جائے۔ اور الجباہ جبھۃ کی جمع ہے اور اس سے مراد حاجب (ابرو) اور ناصیہ (پیانی کے بال) کے درمیان والی ہموار جگہ ہے یعنی پیشانی۔ اور جبھت فلانا بکذا اس کا معنی ہے میں نے اس کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور اس کی پیشانی پر ضرب لگائی اور جنبو جنب کی جمع ہے (یعنی پہلوض اور چہرے پر داغ دینا زیادہ واضح اور زیادہ عیب ناک ہے اور پہلو اور پشت میں زیادہ درد ناک اور زیادہ تکلیف دہ ہے ‘ پس اسی وجہ سے تمام اعضاء کے درمیان سے خاص طور پر ان کا ذکر کیا۔ اور علماء صوفیہ نے کہا ہے : جب انہوں نے مال وجاہ کو طلب کیا اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں کو عیب ناک بنا دیا اور جب انہوں نے فقیر سے اعراض کیا ‘ پہلو تہی اختیار کی جب وہ ان کے ساتھ آکر بیٹھا تو ان کے پہلوئوں میں داغ دیئے گئے۔ اور جب انہوں نے اپنی پشتوں کو اپنے اموال کے ساتھ لگایا ان سے وثوق حاصل کرتے ہوئے اور ان پر اعتماد کرتے ہوئے ان کی پشتوں کو داغا گیا۔ (1) اور علماء ظاہر نے کہا ہے : بلاشبہ ان اعضاء کو خاص اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ غنی اور دولت مند آدمی جب فقیر کو دیکھتا ہے تو اپنی آنکھوں کی درمیان جگہ کو اکٹھا کرلیتا اور وہ اپنا منہ چڑھا لیتا ہے ‘ جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے : یزید یغض الطرف عنی کأنما زوی بین عیئیہ علی المحا جم فلا ینبسط من بین عینیک ما انزوی ولا تلقنی الا وأنفک راغم اور جب اس سے وہ مانگے تو وہ اعراض برت لیتا ہے اور جب وہ سوال میں اضافہ کرے اور کثرت سے اسے کہے تو وہ اس سے اپنی پیٹھ پھیر لیتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے معصیت کی حالت پر ہی سزا کو مرتب کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اس کے ساتھ داغ دینے کی کیفیت میں روایات مختلف ہیں ‘ پس صحیح مسلم میں حضرت ابوذر ؓ کی وہ حدیث ہے جو ہم نے ذکر کی ہے اس میں پتھر کا ذکر ہے۔ اور اس بارے میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” کوئی بھی سونے اور چاندی کا مالک نہیں جو اس سے اس کا حق ادا نہیں کرتا مگر جب قیامت کا دن ہوگا سو اس کے لیے آگ پر چوڑی ساخیں بنائی جائیں گی پھر انہیں جہنم کی آگ پر گرم کیا جائے گا اور ان کے ساتھ اس کے پہلو ‘ چہرے اور اس کی پیٹھ پر داغ دیئے جائیں گے اور جب بھی وہ ٹھنڈی ہوجائیں گی تو اس کے لیے انہیں دوبارہ لوٹا یا جائے گا اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا اور وہ جنت یا جہنم کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے گا “ (1) ۔ الحدیث۔ اور بخاری میں ہے :” بیشک اس کے خزانے کو اس کے لیے گنجے سانپ کی مثل بنا دیا جائے گا “۔ اور غیر صحیح میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے پہلے یہ روایت گزرچکی ہے کہ آپ نے فرمایا : جس کا کوئی مال ہو اور اس نے اس کی زکوۃ ادان کی تو قیامت کے دن اسے گنجے سانپ کا طوق پہنایاجائے گا اور وہ اس کے سر میں ڈنگ لگائے گا (2) ۔ میں (مفسرض کہتا ہوں : شاید ایسا مختلف جگہوں میں ہوگا۔ ایک جگہ پر اس مال کو اژدہا کی مثل بنا دیا جائے گا۔ اور ایک جگہ وہ سلاخیں ہوجائے گا اور ایک جگہ وہ پھر ہوجائے گا پس صفات بدلتی رہیں گی لیکن جسمیت ایک ہوگی۔ پس سانپ بھی ایک جسم ہے اور مال بھی ایک جسم ہے۔ اور یہ تمثیل حقیقت ہے ‘ بخلاف اس قول کے :” موت کو لایا جائے گا گویا کہ وہ ایک چتکبرہ مینڈھا ہے “۔ کیونکہ یہ ایک دوسرا طریقہ ہے۔ (3) اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے اختیار ہے کہ وہ جو چاہے کرلے اور سانپ کو ذکر کے ساتھ خاص کیا گیا ہے کیونکہ وہ مخلوق کا دوسرا دشمن ہے اور الشجاع سانپوں میں سے وہ سانپ ہے جو شہسوار اور پیدل پر جھپٹ پڑتا ہے ‘ حملہ آور ہوجاتا ہے اور اپنی دم پڑ کھڑا ہوجاتا ہے۔ اور اس اوقات گھڑ سوار تک جا پہنچتا ہے اور یہ صحرائوں میں ہوتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد اژدھا ہے۔ اللحیانی نے کہا ہے : سانپ کو شجاع کہا جاتا ہے اور ثلاثہ اثجعہ ہیں اور پھر شجعان ہے۔ اور اقرع سانپوں میں سے وہ ہے جس کے سر کے بال گرجاتے ہیں (یعنی گنجا ہوتا ہے) اور زہر کے سبب سفید ہوتا ہے۔ اور موطا میں ہے : اس کی باچھوں میں دو نقطے (نشانض سے ابھرے ہوتے ہیں جیسا کہ جھاگ ہوتی اور وہ انسان کی باچھوں میں بھی بن جاتے ہیں جب وہ غصے میں ہو اور گفتگو بہت زیادہ کرے (ام) غیلان بنت جریر نے کہا ہے : بسا اوقات میں اپنے باپ کے شعر پڑھتی رہتی ہوں یہاں تک کہ میری باچھوں میں جھاگ بن آتی ہے۔ یہ اس سانپ کی مثال بیان کی گئی ہے جس کا زہر بہت زیادہ ہوتا ہے پس مال کو اس حیوان کی مثل بنادیا جائے گا جو اپنے مالک کو غصے میں گرا دیتا ہے۔ اور ابن دریدنے کہا ہے : اس کی آنکھوں کے اوپر دو سیاہ رنگ کے نقطے ہوتے ہیں۔ اور ایک روایت میں ہے : اس کو ایسے سانپ کی مثل بنا دیا جائے گا جو اس کا پیچھا کرے گا اور اسے مجبور کردے گا پس وہ اسے اپنا ہاتھ دے گا اور وہ اسے چبا ڈالے گا جیسے نر دانتوں کے ساتھ کاٹ ڈالتا ہے۔ اور حضرت مسعود ؓ نے بیان کیا ہے : بخدا ! اللہ تعالیٰ کسی کو جمع شدہ مال کے ساتھ عذاب نہیں دے گا پس نہ کوئی درہم درہم کو کس کرے گا اور نہ دینار دینا کو مس کرے گا ‘ مگر اس کی جلد کو وسیع کردیا جائے گا یہاں تک کہ ہر درہم اور دینار کو علیحدہ علیحدہ رکھا جائے گا۔ اور یہ کافر کے بارے میں بلاشبہ صحیح ہے ‘ جیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔ نہ کہ مومن کے بارے میں۔ واللہ اعلم مسئلہ نمبر 3 ۔ علامہ طبری نے حضرت ابوامامہ باہلی ؓ تک سند بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : اہل صفہ میں سے ایک آدمی فوت ہوا اس کی چادر میں ایک دینار پایا گیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” یہ ایک داغ ہے “ پھر دوسرا فوت ہوا اور اس کے پاس دو دینار پائے گئے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” یہ دو داغ ہیں “ (1) اور یہ یا تو اس لیے ہے کہ یہ دونوں مال صدقہ سے زندگی گزارتے تھے حالانکہ دونوں کے پاس سونا تھا اور یا اس لیے کہ یہ صدر اسلام کا دور تھا ‘ پھر شریعت نے مال جمع کرنے اور اس کے حق ادا کرنے کے احکام مضبوط اور پختہ کردیئے۔ اور اگر مال کو جمع کرنا ممنوع ہوتا تو پھر اس کا حق یہ ہوتا کہ وہ سارے کا سارا نکال دیا جائے اور امت میں ایسا کوئی نہیں جو یہ لازم کرتا ہو۔ اور تیرے لیے صحابہ کرام ؓ کے احوال اور ان کے اموال ہی کافی ہیں۔ اور وہ جو حضرت ابو ذر ؓ سے روایت کیا گیا ہے تو وہ انہی کا مذہب ہے۔ اور موسیٰ بنت عبیدہ نے عمر ان بن ابی انس سے ‘ انہوں نے مالک بن اوس بن الحدثان سے اور انہوں نے حضرت ابو ذر ؓ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت بیان کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :” جس نے دینار یا درہم یا سونا یا چاندی جمع کی اور اسے کسی قرض خواہ کو نہ دیا اور نہ اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا تو وہ کنز ہے قیامت کے دن اس کے ساتھ اسے داغا جائے گا “۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ حضرت ابو ذر ؓ کے لائق اور مناسب ہی ہے کہ وہ یہ کہیں اور یہ کہ جو حاجت اور ضرورت سے زائد ہے وہ کنز نہیں ہے بشرطیکہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ کے لیے تیار کیا جائے۔ اور حضرت ابو امامہ ؓ نے بیان کیا ہے : جس نے چاندی یا سونا پیچھے چھوڑا اس کے ساتھ اسے داغا جائے گا چاہے اس کی مغفرت گئی ہو یا مغفرت نہ کی گئی ہے۔ خبر دار سنو ! بلاشبہ تلوار پر لگا ہوا زیور بھی اسی میں سے ہے۔ اور حضرت ثوبان ؓ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جو آدمی اس حال میں فوت ہوتا ہے کہ اس کے پاس سونا یا چاندی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر قیراط کے ساتھ ایک سلاخ بنا دے گا اس کے ساتھ اسے سر کے بالوں سے لے کر پائوں تک داغا جائے گا اس کے بعد اس کی بخشش ہو یا اسے عذاب دیا جائے “۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اسے اس صورت پر محمول کیا جائے گا جب اس کی زکوۃ ادانہ کی جائے اور اس کی دلیل آیت کے ضمن میں ہم اس سے پہل ذکر کرچکے ہیں۔ پس تقدیر عبارت یہ ہوگی : وعندہ احمرأوأبیض لم یؤ د زکاتہ اور اسی طرح وہ روایت ہے جو حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے : جس نے دس ہزار چھوڑے اس کی سلاخیں بنائی جائیں گی اور اس کے ساتھ اس کے مالک کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا (2) ‘ یعنی اگر اس نے اس کی زکوۃ ادانہ کی ‘ تاکہ احادیث میں تناقص لازم نہ جائے۔ واللہ اعلم مسئلہ نمبر 4 ۔ قولہ تعالیٰ : ھذا ما کنزتم لا نفسکم یعنی ان کو کہا جائے گا : یہ ہے وہ جو تم نے جمع کیا۔ پس اس سے یقال لھم کے الفاظ محذوف ہیں۔ فذوقواماکنتم تکنزون یعنی چکھو اس کا عذاب جو تم جمع کرتے رہے۔
Ayah 9:36

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں (بارہ ہیں یعنی) اس روز (سے) کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا کتاب خدا میں (برس کے) بارہ مہینے (لکھے ہوئے) ہیں ان میں سے چار مہینے ادب کے ہیں۔ یہی دین (کا) سیدھا راستہ ہے۔ تو ان (مہینوں) میں (قتال ناحق سے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا اور اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو۔ جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

قولہ تعالیٰ : ان عدۃ الشھور عند اللہ اثنا عشر شھرا فی کتب اللہ یوم خلق السموت والارض منھآ اربعۃ حرم ط ذلک الدین القیم فلاتظلموا فیھن انفسکم اس میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : ان عدۃ الشھور ‘ شھور ‘ شھر کی کی جمع ہے۔ پس جب کوئی آدمی اپنے بھائی سے کہے : لا اکلمک الشھور ( میں تیرے ساتھ مہینے کلام کروں گا) اور وہ اس پر ہر قسم کھائے تو وہ ایک سال تک اس کے ساتھ کلام نہیں کرسکے گا۔ یہ بعض علماء نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے اس کے ساتھ کلام نہیں کرسکے گا۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : میرا خیال یہ ہے کہ اگر اس کی کوئی نیت نہ ہو تو یہ قول تین مہینوں کا تقاضا کرتا ہے ‘ کیونکہ یہ وہ کم سے کم جمع ہے جس کا تقاضا فعول کا صیغہ کرتا ہے اور یہ فعل کی جمع ہے (1) ۔ اور عند اللہ کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کے حکم میں اور اس میں جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ اثنا عشر شھرا ‘ اثنا عشر شھرا کو معرب پڑھا گیا ہے ‘ بخلاف اس کی نظائر کے ‘ کیونکہ اس میں اعراب کا حرف اور اس کی دلیل موجود ہے۔ عام قراء نے عشر عین اور شین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور ابو جعفر نے عشر شین کی جزم کے ساتھ پڑھا ہے۔ فی کتب اللہ اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ عند اللہ کہنے کے بعد اس کا اعادہ کیا کیونکہ بہت سی اشیا کا وصف اس کے ساتھ بیان کیا جاسکتا ہے (کہ وہ اللہ کے پاس ہیں) اور یہ نہیں کہا جاسکتا انہ مکتوب فی کتاب اللہ ( کہ وہ کتاب اللہ میں لکھی ہوئی ہے) جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : ان اللہ عندہ علم الساعۃ (لقمان :34) (بےشک اللہ کے پاس ہی ہے قیامت کا علم) مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : یوم خلق السموت والارض بیشک اس نے کہا ہے : یوم خلق السموت والارض تاکہ وہ یہ بیان کرے کہ اس کی قضا و قدر اس سے پہلے تھی۔ اور یہ کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ان مہینوں کو وضع کیا اور ان کے نام ان اسماء کے ساتھ رکھے جن پر انہیں مرتب فرمایا اس دن سے جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا۔ اور انہیں اپنے انبیاء (علیہم السلام) پر اپنی نازل کردہ کتابوں میں نازل فرمایا۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ان عدۃ الشھور عنداللہ اثنا عشر شھرا کا یہی معنی ہے۔ اور ان کا حکم اسی حال پر باقی ہے جس پر یہ تھے مشرکوں نے ان کے ناموں کو بدلنے کے ساتھ انہیں اپنی ترتیب سے زائل نہیں کیا اور ان سے اسم میں مقدم کو مؤخر کو مقدم کرنے (انہیں اپنی ترتیب سے زائل نہیں کیا) اور اس سے مقصود ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی اتباع کرنا ہے اور اس طریقہ کو چھوڑنا ہے جسے مہینوں کے ناموں کو مقدم و مؤخر کرنے اور احکام کو ان اسماء پر جن کو انہوں نے ان پر مرتب کیا تھا معلق کرنے میں سے اہل جاہلیت اپنائے ہوئے تھے۔ اس وجہ سے حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا تھا :” اے لوگو ! بیشک زمانہ اپنی اس حالت پر گردش کناں ہے جس روز سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق فرمایا ہے “۔ اس کا بیان آگے آئے گا۔ اور وہ جو اہل جاہلیت نے کیا کہ انہوں نے محرم کو صفر اور صفر کو محرم بنایا تو اس سے وہ وصف تبدیل نہیں ہوتا جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ یوم میں عامل وہ مصدر ہے جو فی کتب اللہ میں ہے اس سے مراد کتب کی واحد نہیں ‘ کیونکہ اعیان ظروف میں عمل نہیں کرسکتے۔ اور تقدیر عبارت یہ ہے : فیما کتب اللہ یوم خلق السموات والارض اور عند ‘ عدۃ مصدر کے متعلق ہے اور وہی اس میں عامل ہے اور فی کتب اللہ میں فی محذوف کے متعلق ہے ‘ وہ قول باری تعالیٰ : اثنا عشر کی صفت ہے۔ اور تقدیر کلام یہ ہے : اثنا عشر شھرا معدودۃ أ و مکتوبۃ فی کتاب اللہ اور یہ جائز نہیں کہ یہ عدۃ کے متعلق ہو ‘ کیونکہ اس میں صلہ اور موصول کے درمیان ان کی خبر کے ساتھ تفرقہ موجود ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ عبادات وغیرہ میں سے احکام کو معلق کرنا واجب ہے بلاشبہ وہ ان مہینوں اور سالوں کے ساتھ ادا ہوتے ہیں جنہیں عرب جانتے ہیں ‘ نہ کہ ان مہینوں کے ساتھ جو عجم ‘ روم اور قبط میں معتبر ہیں ‘ اگرچہ یہ بارہ مہینوں سے زائد نہیں ہیں ‘ کیونکہ ان کے دنوں کی تعداد مختلف ہے ‘ ان میں سے کچھ تیس دنوں سے زائد ہوتے ہیں اور کچھ تیس دنوں سے کم ہوتے ہیں اور عربوں کے مہینے تیس دنوں سے زائد نہیں ہوتے اگرچہ ان میں سے بعض ان سے کم ہوتے ہیں ل اور وہ جو کم ہوتا ہے وہ کوئی مہینہ متعین نہیں ‘ بلاشبہ ان میں کم ہونے اور مکمل ہونے کے درمیان تفاوت بروج میں چاند کی چال کے مختلف ہونے کی بناء پر ہوتا ہے۔ (1) مسئلہ نمبر 4 ۔ قولہ تعالیٰ : منھآ اربعۃ حرم وہ حرمت اور عزت والے مہینے جن کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے وہ ذوالقعدہ ‘ ذوالحجہ ‘ محرم اور وہ رجب ہے جو جمادی الآ خر اور شعبان کے درمیان ہے۔ اور وہی رجب مضر ہے اور اس کو رجب مضر کہا گیا ہے : کیونکہ ربیعہ بن نزار رمضان کے مہینے کو حرام اور عزت والا مہینہ قرار دیتے تھے اور وہ اسے رجب کا نام دیتے تھے۔ اور مضر نفس رجب کو بھی حرمت والا مہینہ کہتے تھے ‘ پس اس لیے حضور نبی مکرم ﷺ نے اس کے بارے کہا ہے : الذی بین جمادی و شعبان (یعنی وہ جمادی اور شعبان کے درمیان ہے) اور اس کے نام میں جو خلل تھا اسے اس بیان کے ساتھ ختم کردیا۔ عرب بھی اسے منصل الاسنہ کا نام دیتے تھے ( کیونکہ ان کا طریقہ تھا کہ جب رجب آتا تو وہ اپے تیر اور نیزوں کے بھالے اتار کر رکھ چھوڑتے تھے تاکہ اس مہینے میں کوئی ایسا فعل نہ صادر ہو جو اس کی حرمت کے خلاف ہو) امام بخاری (رح) نے ابور جا عطار دی سے روایت نقل کی ہے۔ اور ان کا نام عمران بن ملحان ہے اور یہ قول بھی ہے کہ نام عمران بن تیم ہے۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے بیان کیا : ہم پتھروں کی پوجا کرتے تھے ‘ پس جب ہم کسی پتھر کو پاتے کہ وہ اس (پہلے) سے بہتر اور اچھا ہے تو ہم اسے پھینک دیتے اور دوسرے کو اٹھا لیتے اور جب ہم کوئی پتھر نہ پاتے تو ہم کچھ مٹی جمع کرتے پھر ہم اس بکریوں کے پاس لے کر آتے اور اس پر انہیں دو ہتے پھر اسے لے کر گھومتے پھر تے رہتے اور جب رجب کا مہینہ آجاتا تو ہم کہتے منصل الا سنہ ‘ پس ہم کسی نیزے میں اس کا بھالہ اور نہ کسی تیر میں اس کا لوہا چھوڑ تے مگر ہم اسے اتار لیتے اور اسے پھینک دیتے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ قولہ تعالیٰ ۔ ذلک الدین القیم مراد صحیح حساب اور پورا عدد ہے۔ اور حضرت علی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے : ذلک الدین سے مراد ذلک القضاء (وہ فیصلہ) ہے۔ حضرت مقاتل نے کہا ہے : مراد حق ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : میرے نزدیک زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہاں دین سے مراد اس کی مشہور وجوہ ہوں ‘ مراد وہ شرع اور طاعت ہے۔ القیم یعنی سیدھا قائم ہونے والا ‘ یہ قام یقوم سے ہے۔ اور یہ سید کی مثل ہے جو کہ سادیسوں ہے۔ اور اس کی اصل قیوم ہے۔ (1) مسئلہ نمبر 6 ۔ قو لہ تعالیٰ : فلا تظلموا فیھن انفسکم حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق ھن ضمیر تمام مہینوں کی طرف راجع ہے۔ اور بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ صرف اشہر حرم کی طرف لوٹ رہی ہے ‘ کیونکہ یہ ان کے زیادہ قریب ہے اور ظلم بڑھنے کی صورت میں ان کی فضیلت کا اظہار ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلارفث ولافسوق لا ولا جدال فی الحج (البقرہ :197) ( تو اسے جائز نہیں بےحیائی کی بات اور نہ من مانی اور نہ جھگڑا حج کے دنوں میں) یہ مطلب نہیں کہ ان دنوں کے علاوہ میں ظلم جائز ہے جیسا کہ ہم اسے بیان کریں گے۔ پھر یہ کہا گیا ہے کہ ظلم میں دو قول ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے تم ان میں قتال کے ساتھ اپنے نفسوں پر ظلم نہ کرو ‘ پھر تمام مہینوں میں قتال کو مباح قرار دے کر اسے منسوخ کردیا گیا۔ یہ حضرت قتادہ عطا خراسانی ‘ زہری اور سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہم نے کہا ہے۔ اور ابن جریج نے کہا ہے کہ حضرت عطا بن ابی رباح (رح) نے اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی کہ لوگوں کے لیے حلال نہیں ہے کہ حرم پاک میں لڑیں اور نہ یہ حلال ہے کہ وہ اشہر حرام میں لڑیں مگر یہ کہ وہ ان میں باہم لڑیں اور یہ منسوخ نہیں ہے۔ صحیح پہلا قول ہے ‘ کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ نے ہوازن کے ساتھ حنین میں اور ثقیف کے ساتھ طائف میں جنگ لڑی اور آپ نے شوال اور ذوالعقدہ کے کچھدن ان کا محاصرہ کیے رکھا۔ اور یہ بیان سورة بقرہ میں پہلے گزرچکا ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ تم ان مہینوں میں گناہوں کا ارتکاب کرکے اپنے آپ پر ظلم نہ کرو ‘ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جب ایک جہت سے کسی شے کو عظیم بنا دیتا ہے تو اس کے لیے ایک حرمت ہوجاتی ہے اور جب وہ اسے دو جہتوں سے یا کئی جہتوں سے عظیم بنا دے تو پھر اس کی حرمت بھی متعدد ہوتی ہے پس اس میں برے عمل کے سبب سزا دوگنا کردی جاتی ہے اور اسی طرح عمل صالح کے سبب ثواب بھی دوگنا کردیا جاتا ہے ‘ کیونکہ جس نے حرمت والے مہینے میں بلد حرام میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی تو اس کا ثواب اس آدمی کے ثواب کی مثل نہیں ہوگا جس نے حلال مہینے میں بلد حرام میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ اور جس نے حلال مہینے میں شہر حرام میں اس کی اطاعت کی اس کا ثواب اس کے ثواب کی مثل نہیں ہوگا جس نے حلال مہینے میں بلد حلال میں اس کی اطاعت کی۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے اس قول سے اشارہ (الاحزاب :30) (اے نبی کریم بیبیو ! جس کسی نے تم میں سے کھلی بیہودگی کی تو اس کے لیے عذاب کو دو چند کردیا جائے گا) (1) مسئلہ نمبر 7 ۔ اس معنی کے اعتبار سے علماء نے اس آدمی کے بارے میں اختلاف کیا ہے جس نے شہر حرام میں کسی کو خطاء قتل کردیا کہ کیا اس پر دیت مغلظہ ہوگی یا نہیں ؟ امام اوزاعی (رح) نے کہا ہے : دیت کے بارے میں جو ہمیں معلوم ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اگر کسی نے شہر حرام میں اور حرم پاک میں کسی کو قتل کیا تو اس میں دیت مغلظہ لازم کی جائے گی ‘ لہٰذا وہ دیت اور ایک ثلث مقررہو گی اور شبہ عمد کی صورت میں اونٹوں کی عمروں میں اضافہ کیا جائے گا۔ امام شافعی (رح) نے کہا ہے : حرام مہینے اور بد حرام اور ذوی الرحم میں کسی کو قتل کرنے اور زخم لگانے کی صورت میں دیت مغلظہ لازم ہوگی۔ قاسم بن محمد ‘ سالم بن عبد اللہ ‘ ابن شہاب اور اباب بن عثمان رحمۃ اللہ علیہم نے کہا ہے : حل اور حرم پاک میں قتل کرنا برابر ہے۔ اسی طرح حرام مہینے میں اور دوسرے مہینے میں قتل کرنا برابر ہے اور یہی تابعین کی ایک جماعت کا قول ہے۔ اور یہی صحیح ہے ‘ کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ نے دیتوں کا ذکر کیا اور ان میں حرم پاک اور حرام مہینوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اور انہوں نے اس پر اجماع کیا ہے کہ جس نے حرام مہینے یا کسی دوسرے مہینے میں کسی کو خطاء قتل کیا اس پر ایک جیسا کفارہ ہوگا ‘ (یعنی کفارہ میں دونوں برابر ہوں گے) تو پھر قیاس یہ ہے کہ دیت بھی اسی طرح ہوگی۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر 8 ۔ اللہ تعالیٰ نے چار اشہر حرام کو ذکر کے ساتھ خاص کیا ہے اور ان میں ظلم سے منع کیا ہے : یہ ان کے شرف اور عظمت کو بیان کرنے کے لیے ہے ‘ اگرچہ زمانے میں ظلم ممنوع ہے ‘ جیسا کہ ارشاد فرمایا (البقرہ :197) اکثر اہل تاویل کا موقف یہی ہے ‘ یعنی تم چار مہینوں میں اپنے آپ پر ظلم نہ کرو۔ اور حماد بن مسلم نے علی بن زید سے ‘ انہوں نے یوسف بن مہران سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا : فلا تظلموا فیھن انفسکم کا معنی ہے تم بارہ مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو (2) اور قیس بن مسلم نے حسن سے اور انہوں نے محد بن حنفیہ سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا : فیھن کلھن (ان تمام مہینوں میں) پس اگر پہلے قول کی بنا پر کہا جائے : فیھن کیوں فرمایا اور فیھا نہیں فرمایا ؟ تو وہ اس لیے ہے کہ عرب لوگ تین سے لے کر دس تک کے لیے ھن اور ھولاء بولتے ہیں اور جب وہ دس سے تجاوز کرجائیں تو پھر ھی اور ھذہ بولتے ہیں ‘ یہ ارادہ کرتے ہوئے کہ قلیل کو کثیر کا نام دینا معروف ہے (یعنی جمع قلت کا جمع کثرت سے نام رکھنا معروف ہے) اور کسائی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : میں عربوں کے اس فعل سے بڑا متعجب ہوں۔ اسی طرح وہ دس سے کم راتوں کے لیے کہتے ہیں : خلون اور اس سے زیادہ کے لیے خلت بولتے ہیں۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ بعض زمانوں کو بعض سے حرمت کے اعتبار سے عظیم کیسے بنا دیا گیا ہے ؟ کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے فضیلت کے ساتھ خاص کردیتا ہے ‘ اس کے عمل کی نہ کوئی علت ہے اور نہ اس پر کوئی پابندی ‘ بلکہ جو وہ اپنی حکمت کے مطابق ارادہ فرماتا ہے وہ کردیتا ہے ‘ اور کبھی اس میں حکمت ظاہر ہوتی ہے اور کبھی مخفی ہوتی ہے۔ قولہ تعالیٰ : وقاتلوا المشرکین کآفۃ اس میں ایک مسئلہ ہے۔ قولہ تعالیٰ : قاتلوا یہ قتال کے بارے امر ہے۔ اور کافۃ کا معنی ہے جمیعا (سب کے سب) یہ مصدر ہے اور حال کے محل میں واقع ہے ایمحیطین بھم ومجتمعین (اور تم جنگ کرو مشرکوں سے اس حال میں کہ تم ان تمام کو گھیرے ہوء ہو اور وہ اکٹھے ہوں) زجاج نے کہا ہے : اس قسم کے مصادر عافاہ اللہ عافیۃ اور عاقبہ عاقبۃ بھی ہیں ان کی تثنیہ اور جمع نہیں بنائی جاتی اور اسی طرح عامۃ اور خاصۃ بھی ہیں۔ بعض علماء نے کہا ہے : یہ جو انہوں نے کہا ہے یہ حضور نبی مکرم ﷺ کی شریعت میں سے کبھی نہیں جانا گیا کہ انہوں نے ساری امت کو نفر (بھاگنے) کا الزام دیا ہے ‘ بلکہ اس آیت کا معنی مشرکوں کے قتال پر ابھارنا ‘ ان کے خلاف جماعت بندی کرنا اور کلمہ کو جمع کرنا ہے ‘ پھر اسے اپنے اس قول کے ساتھ مقید کردیا : کما یقاتلو نکم کآفۃ ان کے ہمارے ساتھ قتال کرنے اور ہمارے خلاف جمع ہونے کے اعتبار سے ہمارا بھی ان کے لیے جمع ہونا فرض ہے (1) ۔ واللہ اعلم