Ayah 9:25اس میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئل نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : لقد نصر کم اللہ فی مواطن کثیرۃ جب بنی ہوازن کو مکہ مکرمہ فتح ہونے کی خبر پہنچی تو مالک بن عوف انصری جو بنی نصر مالک میں سے تھا، نے انہیں جمع کیا اور تمام لشکر میں ریاست و حکومت اس کی تھی اور وہ کفار کو ان کے مالوں، مویشیوں، عورتوں اور ان کی اولاد سمیت ساتھ لے کر چلا۔ اور اس کا خیال یہ تھا کہ اس کے سبب ان کی جانیں محفوظ رہیں گی اور اس طرح جنگ میں ان کی قوت و طاقت انتہائی مضبوط ہوگی۔ حضرت حسن اور مجاہد ؓ کے قول کے مطابق ان کی تعاد آٹھ ہزار تھی۔ اور یہ کہا گیا ہے کہ ہوازن وثقیف میں سے چار ہزار تھے۔ اور ہوازن پر مالک بن عوف اور ثقیف پر کنانہ بن عبد سالار تھا۔ پس وہ اوطاس میں اترے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی ؓ کو حالات کا جائزہ لینے کے لیے ( یعنی جاسوسی کرنے کے لیے) بھیجا پس وہ اور جو کچھ ان کے بارے میں دیکھا تھا اس کی آپ ﷺ کو خبر دی۔ تب رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے پختہ عزم کیا۔ اور صفوان بن امیہ بن خلف سے کچھ زر ہیں عاریۃ لیں، کہا گیا کہ وہ سوز ہیں تھیں۔ اور یہ قول بھی ہے کہ چار سوز ہیں تھیں۔ اور ربیعہ مخزومی سے تین ہزار چالیس ہزار قرض لیے، پھر جب آپ آئے تو آپ نے اسے وہ ادا کردیئے۔ پھر حضور نبی رحمت ﷺ نے اسے ارشاد فرمایا۔ ” اللہ تعالیٰ تجھے تیرے گھر والوں میں اور تیرے مال میں برکت عطا فرمائے “۔ بیشک قرض کی جزا اور بدلہ اس پورا کرنا اور شکر ادا کرنا ہے۔ اسے ابن ماحبہ نے سنن میں نقل کیا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ بارہ ہزار مسلمانوں کے ہمراہ تشریف لے گئے۔ ان میں سے دس ہزار وہ صحابہ کرام تھے جو مدینہ طیبہ سے آپ ﷺ کے ساتھ آئے تھے اور دو ہزار فتح مکہ کے مسلمانوں میں سے تھے۔ اور آپ ﷺ نے حضرت عتاب بن اسید کو مکہ مکرمہ پر عامل مقرر کا۔ اور آپ کے اس سفر کے دوران جاہل اعرابیوں نے ایک سرسبز شاداب درخت دیکھا اور ان کے لیے زمانہ جاہلیت میں معروف درخت تھا اس کا نام ذات انواط تھا۔ کفار میں ایک معین دن میں اس کی طرف نکلتے تھے اور وہ اس کی تعظیم بجا لاتے تھے۔ تو انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ہمارے لیے بھی اسی طرح ایک ذات انواط بنادیجئے جیسے ان کے لیے ذات انواط ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ اکبر قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! تم نے اس طرح کہا جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے کہا تھا کہ ہمارے لیے الہٰ بنا دیجئے جیسے ان کے الہٰ ہیں تو فرمایا : بلا شبہ تم جاہل قوم ہو تو یقینا تم بھی برابر برابر اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر چلو گے یہاں تک کہ افر وہ گوہ کی بل میں داخل ہوئے تو تم بھی اس میں داخل ہو گے “۔ پھر رسول اللہ ﷺ اٹھے یہاں تک کہ آپ وادی حنین میں اگئے۔ اور یہ تہامہ کی وادیوں میں سے ہے ور ہوازن وادی کی دونوں طرفوں میں چھپے ہوئے تھے اور یہ صبح کے وقت آخر شب کی تاریکی میں تھے، پس انہوں نے ایک آدمی کی طرح یکبارگی مسلمانوں پر حملہ کردیا اور جمہور مسلمان پسا ہوگئے اور کسی نے کسی کی طرف مڑ کر نہ دیکھا اور رسول اللہ ﷺ ثابت قدم رہے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر و عمر ؓ اور آپ کی اہل بیت میں سے حضرت علی، حضرت عباس، ابو سفیان بن الحارث بن عبدالمطلط اور ان کے بیٹے حضرت جعف اور حضرت اسامہ بن زید، حضرت ایمن بن عبید اور وہ ایمن بن ام ایمن تھے جو اس دن حنین میں شہید ہوئے۔ اور حضرت ربیعہ ابن حارثٖ اور فضل بن عباس ؓ بھی ثابت قدم رہے۔ اور جعفر بی ابی سفیان کی جگہ میں قسم بن عباس بھی کہا گیا ہے۔ پس دس افراد تھے۔ سی لیے حضرت عباس ؓ نے کہا :
نصرنا رسول اللہ فی الحرب تسمۃ وقد فرمن قد فزعنہ اء اقشعوا
اور ہم میں سے دسویں کی ذات نے موت سے جا ملا قات کی اس تکلیف کے سبب جو اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں آئی اور اس نے کوئی درد محسوس نہیں کیا۔
ام سلیم بھی ان تمام کے ساتھ ثابت قدم رہی جو ثابت قدم ہے، در آنحا لی کہ وہ حضرت ابو طلحہ کے اونٹ کی رسی کو کمر سے باندہ کر مضبو طی و سے پکڑے ہوئے تھی اور اس کے ہاتھ میں خنجر تھا۔ اور رسول اللہ ﷺ پسپا نہیں ہوئے اور نہ ان میں کوئی پسپا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ اپنے شہباء خچر پر سوار تھے اور اسکا نام دلدل تھا۔ اور صحیح مسلم میں حضرت انس ؓ سے روایت پے کہ حضرت عباس ؓ نے فرمایا : میں نبی کریم ﷺ کے خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھا اور میں نے اس ارادے سے اسے روکتا تھا کہ وہ تیز نہ دلے اور ابو سفیان آپ ﷺ کی رکاب تھامے ہوئے تھے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے عباس ! ببول کے درخت والوں کو بلائو (مراد اصحاب شجرہ ہیں وہ بیت رضوان میں شریک تھے) تو حضرت عباس ؓ نے گہا : آپ بہت بلند آواز والے آدمی تھے۔ اور آپ کی آواز کی شدت کے بارے میں روایت ہے کہ ایک دن مکہ مکرمہ پر حملہ کیا گیا تو انہوں نے آواز لگائی وا صبا حاہ ! تو جس حاملہ عورت نے آپ کی آواز سنی اس نے اپنا جنین گرادیا۔ پس میں نے بلند آواز کے ساتھ کہا : اصحاب شجرہ کہا ہیں ؟ آپ فرماتے ہیں : قسم بخدا ! جس وات انہوں نے میری آواز سنی تو وہ اس کی طرف مائل ہوئے اور لپک کر آئے جیسے گائے اپنے بچوں پر مہربان توتی ہے۔ اور انہوں نے جو اب دیا : یا لبیک یا لبیک ہم حاضر ہیں ہم حاضر ہیں انہوں نے بیان کیا : پھر وہ کفار کے ساتھ لڑنے میں مشغول ہوگئے الحدیث (1.)
اور اس میں ہے : پھر رسول اللہ ﷺ نے سنگریز اٹھائے اور انہیں کفار کے چہروں پر پھینک دیا۔ پھر فرمایا : ” حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے رب کی قسم وہ شکست کھا گئے۔ “ فرمایا پس میں دیکھتا چلا گیا تو جنگ اپنی اسی ہیت پر تھی جس میں میں اسے دیکھتا رہا۔ فرمایا :ـ قسم بخدا ! وہ نہیں ہوا مگ ان سنگریزوں کے سبب جو آپ ْ ﷺ نے ان پر پھینکے۔ پس میں مسلسل ان کی تیز دھار تلواروں کو کند ہوتا اور ان کے معاملے کو پیٹھ پھیرتے ہوئے دیکھتا رہا۔ ابو عمرو نے کہا : ہم نے کئی اسناد سے ان بعض افراد سے روایت بیان کی ہے جو مشرکین میں سے اسلام لائے تھے اور غزوہ حنین میں حاضر تھے کہ انہوں نے بیان کیا درآنحالیکہ ان سے غزوئہ حنین کے بارے میں پوچھا گیا : ہم مسلمانوں سے ملے (مقابلہ کیا) زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ہم نے انہیں شکست سے دوچار کردیا اور ہم نے ان کا تعاقب کیا یہاں تک کہ ہم اس آدمی تک پہنچ گئے جو سفید خچر پر سوار تھا پس جب اس نے ہمیں دیکھا تو اس نے ہمیں سخت جھڑکا اور ہم سہم گئے، خوفزدہ ہوگئے اور اس نے اپنی ہتھیلی میں کنکریاں اور مٹی اٹھائی اور اسے پھینگ دیا اور زبان سے فرمایا : شاھتت الوجوہ (چپرے بد شکل ہو)
پس کوئی انکھ نہ بچی جس میں مٹی داخل نہ ہوئی ہو اور ہم اپنے نفسوں کے مالک نہ رہے کہ ہم ہم الٹے پائوں واپس لوٹ جائیں۔ اور حضرت سعید بن جبیر ؓ نے بیان کیا ہے : ہمیں مشرکون میں سے ایک آدمی نے حنین کے دن کے بارے میں بیان کیا کہ جب ہمارا رسول اللہ ﷺ کے اصحاب سے سامنا ہوا تو وہ بکری دوہنے کی مقدار بھی ہمارے سامنے نہ ٹھہرے یہاں تک کہ جب شہباء خچر والے۔۔۔۔۔ یعنی رسول اللہ ﷺ ۔۔۔۔ کے پاس پہنچے تو سفید چہروں والے خوبصورت آدمی ہمارے سامنے آگئے۔ اور انہوں نے ہمارے لیے کہا : شاھت لوجوہ واپس لوٹ جائو، ہم واپس لوٹ گئے اور وہ ہمارے کندھوں پر سوار ہوگئے اور وہ وہ تھے یعنی ملائکہ تھے۔
میں (مفسر کہتا ہوں :) کوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ شاھت الوجوہ رسول اللہ ﷺ کا قول بھی ہوا اور ملائکہ کا قول بھی ہو اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ ملائکہ نے حنین کے دن جنگل لڑی۔ فا اللہ اعلم۔ اور حضرت ع کی ؓ نے غزوہ حنین میں اپنے ہاتھ سے چالیس آدمیوں کو قتل کیا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے چارہزار افراد کو قیدی بنایا۔ اور یہ قول بھی ہے کہ قیدی چھ ہزار تھے اور بارہ ہزار اونٹ تھے یہ اس کے سوا ہے۔ جو مال غنیمت معلوم نہیں۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اس غزوہ کے بارے میں علماء نے بیان کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” جس نے کسی آدمی کو قتل کیا اور اس کے پاس اس پر بینہ موجود ہو تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کا ہوگا۔ “ اور اس کا بیان سورة الانفال میں گزر چکا ہے ہے۔ علامہ ابن عربی نے کہا ہے : اسی نکتہ اور دیگر قرائن کی وجہ سے احکام بیان کرنے والوں نے اس آیت کو احکام میں داخل کیا ہے۔
میں ( مفسر) کہتا ہوں : اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہتھیار لینا جائز ہے، عاریۃ لی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھانا جائز ہے، بشر طی کہ وہ اس معہود کی مثل ہو جس کے لیے عایۃ لیا جاسکتا ہو اور امام کا حاجت کے وقت مال کو خرچ کرنا جائز ہے اور پھر وہ اسے اس کے مالک تک واپس لوٹا دے۔ اس باب میں صفوان کی حدیث اصل ہے۔ اور اس غزوہ میں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کسی حاملہ سے وطی نہ کیا جائے یہاں تک کہ وہ ضع حمل کرلے اور غیر حاملہ سے بھی وطی نہ کیا جائے یہاں تک کہ وہ ایک کامل حیض گزار لے۔ اور یہ اس بات پر دلیل ہے کہ قید عصمت کو ختم کردیتی ہے۔ اور اس کا مکمل بیان سورة النساء میں گزر چکا ہے اور امام مالک کی حدیث میں ہے کہ صفوان اس حال میں رسول اللہ کے ساتھ نکلا کہ وہ کافر تھا، پس حنین اور طائف میں حاضر ہوا اور اس کی بیوی مسلمان تھی۔ الحدیث۔
امام مالک (رح) نے بیان کیا ہے کہ : یہ رسول اللہ ﷺ کے حکم سے نہیں ہوا اور میں یہ بھی نہیں دیکھتا کہ مشرکوں سے مشرکوں کے خلاف مدد طلب کی جائے مگر یہ کہ وہ خادم ہو یا ملاح ہو۔
امام ابو حنیفہ، امام شافعی، ثوری اور امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہم نے کہا ہے : اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اسلام کا حکم غالب ہوا اور ان سے مدد طلب کرنا مکروہ ہے جب کہ شرک کا حکم بھی ظاہر ہو۔ ان کے حصص کے بارے میں گفتگو سورة الانفال میں گزرچکی ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔
قولہ تعالیٰ ویوم حنین، حنین مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان ایک وادی ہے اور یہ لفظ منصرف ہے کیونکہ یہ مذکر کا اسم ہے اور یہ قرآن کی لغت ہے۔ اور عربوں میں سے جوا سے غیر منصرف بناتے ہیں، وہ اسے بقعہ کا اسم بناتے ہیں۔ اور انہوں نے یہ شعر بیان کیا ہے :
نصرو انبیھم و شدواء ازرہ بحنین یوم تقواکل الاء بطال
تو اس میں بحنین کو غیر منصرف پڑھا گیا ہے۔ اور یوم ظرف ہے اور اس معنی کی بنا پر یہاں منصوب ہے : ونصر کم یوم حنین اور فراء نے کہا ہے : مواطن منصرف نہیں ہے کیونکہ مفرد میں اس کی کوئی نظیر نہیں اور نہ اس کی جمع آتی ہے۔ مگر شاعر بسا اوقات مجبور ہوتے ہیں اور جمع لے آئے ہیں اور نثر کلام میں وہ جائز نہیں ہوتا ہر وہ شعر میں جائز ہوتا ہے اور شعر بیان کیا :
فھن یعلکن حدائداتھا
اور نحاس نے کہا ہے : میں نے ابو اسحاق کو اس پر تعجب کرتے ہوئے دیکھا ہے انہوں نے کہا : انہوں نے خلیل کا قول لیا اور اس میں خطا کی ہے، کیونکہ خلیل اس بارے میں کہتے ہیں : یہ منصرف نہیں ہے کیونکہ یہ جمع ہے جس کی واحد میں کوئی نظیر نہیں ہے اور نہ اس کی جمع مکسر بنائی جاسکتی ہے اور رہی الف اور تا کے ساتھ تو یہ ممتنع نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر 4
قولہ تعالیٰ : اذ عجبتکم کثرتکم کہا گیا ہے کہ لشکر کی تعداد بارہ ہزار تھی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ گیارہ ہزار پانچ سو تھے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ وہ سولہ ہزار تھے۔ تو ان میں سے بعض نے کہا : آج کے دن قلت کے سبب ہم ہر گز مغلوب نہیں ہوں گے۔ پس انہیں کلمہ کے سپرد کردیا گیا۔ تو پھر وہ ہوا جو ہم نے ذکر کردیا ہے کہ ابتدا میں ہزیمت کا سامنا ہوا یہاں تک کہ واپس لوٹ گئے، پس مسلمانوں کی مدد ونصرت اور کامیابی و کامرانی سید المرسلین ﷺ کی برکت سے تھی۔ تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کردیا کہ غلبہ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کے سبب ہوتا ہے نہ کہ کثرت کے ساتھ۔ تحقیق ارشاد فرمایا : وان یخذلکم فمن ذالذی ینصرکم من بعدہ (آل عمران :160) اور اگر وہ ساتھ چھوڑ دے تمہار تو کون ہے جو مدد کرے گا تمہاری اس کے بعد)
مسئلہ نمبر 5 ۔ و ضاقت علیکم الارض بما رحبت یعنی خوف کے سب زمین تم پر تنگ ہوگئی باوجود اپنی وسعت کے، جیسا شاعر نے کہا :
کان بلاد اللہ وھی عریضۃ علی الخائف المطلوب کفۃ حابل
اور الرحب ( را کے ضمہ کے سات) کا معنی وسعت ہے۔ تو اسی سے کہا لاتا ہے : فلان رحب الصدر (فلاں وسیع سینے والاہء) اور الرحب ( را کے فتحہ کے ساتھ) کا معنی الواسع ہے۔ اسی سے تو کہتا ہے : بلد رحب (کھلا شہر) اورء ارض رحمۃ کھلی زمین اور تحقیق رحبت رحب رحبا و حابۃ (وسیع ہونا) اور کہا گیا ہے کہ بما میں بامعنی مع ہے، ای مع رحمھا اور یہ بی کہا گیا ہے کہ بمعنی علی ہے، یعنی علی رحمھا۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ اس کا معنی بر حمھا اور ما مصدر یہ ہے۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ قولہ تعالیٰ : ثم و لیتم مد برین مسلم نے ابو اسحاق سے روایت کیا ہے انہوں نے بیان فرمایا : ایک آدمی حضرت براء ؓ کے پاس آیا اور اس نے کہا : اے ابا عمارہ ! کیا تم غزوہ حنین کے دن پیٹھ پھیر کر مڑے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کے بارے شہادت دیتا ہوں کہ آپ پیٹھ پھیر کر نہیں مڑے، بلکہ لوگوں میں جلد باز اور ہتھیاروں سے خالی لوگ بنی ہوازن کے اس قبیلے کی طرف چلے۔ اور وہ تیر انداز قوم بھی تھی انہوں نے یکبارگی ان پر تیروں کی بارش کردی گویا کہ وہ مکڑمی کا جتھہ ہے اور وہ ظاہر ہوگیا ہے۔ پس ایک گروہ رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ ہوا اور ابو سفیان آپ ﷺ کی خچر کو پکڑے ہوئے تھا۔ پس آپ ﷺ اتر پڑے۔ دعا کی اور مدد طلب کی اور آپ یہ فرما رہے تھے : انا النبی لا کذبء انا ابن عبد المطلب (میں یقینا نبی ہوں یہ کوئی جھوٹ نہیں اور میں عبدالمطلب کا پوتا ہوں) اللھم نزل نصرک ” اے اللہ ! اپنی مدد و نصرت نازل فرما۔ حضرت براء ؓ نے بیان فرمایا : قسم بخدا ! جب جنگ شدت سے بھڑک گئی تو ہم اس سے ڈر رہے تھے اور جو ہم میں سے شجاع اور بہادر تھا وہ اس کے مقابلہ میں تھا۔ شجاع سے مراد حضور نبی رحمت ﷺ کی ذات اقدس ہے۔
مسئلہ نمبر 7 ۔ قولہ تعالیٰ : ثم انزل اللہ سکینتہ علی رسولہ وعلی المومنین یعنی پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر انہیں سکون پہنچانے والی اور ان سے خوف دور کرنے والی چیز نازل فرمائی، یہاں تک کہ وہ پیٹھ پھیرنے کے بعد پھر مشرکین کے ساتھ جنگ لڑنے پر جری ہوگئے۔ وانزل جنود الم تروھا اور اللہ تعالیٰ نے لشکر اتارے جنہیں تم نہ دیکھ سکے اور ملائکہ ہیں، وہ مومنوں کو ان کی خواطر اور ثابت قدم رہنے کے جذبات کے ساتھ طاقتور اور قوی بناتے رہے جو وہ ان کے دلوں میں ڈال رہے تھے اور کافروں کو بزدلی کے جذبات کے ساتھ کمزور کرتے رہے اس حیثیت سے کہ نہ وہ انہیں دیکھ سکے اور نہ وہ جنگ میں عملاً شریک ہوئے، کیونکہ ملائکہ نے غزوہ بدر کے سوا کسی دن عملاً جنگ نہیں لڑی۔
اور روایت ہے کہ جنگ کے بعد بنی نصر کے ایک آدمی نے مومنوں کو کہا : وہ ابلق (چتکبرے) گھوڑے کہاں ہیں ؟ اوار وہ لوگ کہاں ہیں جو ان پر خود پہنے ہوئے تھے ؟ ہم ان کے سامنے نہیں تھے مگر ناک کے بال کی طرح اور ہم فقط انہیں کے ہاتھوں سے قتل کیے گئے ؟ حضور نبی رحمت ﷺ کو انہوں نے اس بارے خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” وہ ملائکہ تھے “۔
و عذب الذین کفروا یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہاری تلواروں کے ساتھ کافروں کو عذاب دیا۔
Ayahs 9:26–27مسئلہ نمبر . جب رسول اللہ ﷺ نے جعرانہ کے مقام پر حنین کے مال غنیمت تقسیم فرمائے، تو ہوازن کا ایک وفد اسلام کا اظہار کرتے ہوئے، اپنے اوپر عطف و مہربانی چاہتے ہوئے اور اپنے اوپر احسان کرنے کی خواہش اور طلب لے کر حاضر ہوا اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ بیشک آپ سارے لوگوں سے بہتر اور لوگوں سے بڑھ کر نیکو کار ہیں۔ تحقیق آپ نے ہماری اولاد ہماری عورتیں اور ہماری اموال لے لیے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے انہیں فرمایا : ” بلا شبہ میں تمہارے بارے میں غورو فکر کرتا رہاحالان کہ تقسیم واقع ہوچکی ہے اور میرے پاس وہ ہیں جنہیں تم دیکھ رہے ہو اور بیشک قول وہی ہے جو زیادہ سچا ہو پس تم اپنی اولاد یا اپنے مالوں میں سے ایک کو اختیار کرو “۔ تو انہوں نت عرض کی : ہم کسی شے کو بھی اولاد کے برابر قرار نہیں دیتے۔ پھر آپ ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا :” یہ لوگ مسلمان ہو کر ہمارے پاس آئے ہیں اور ہم نے انہیں اختیا ردے دیا ہے اور انہوں نے اولاد کے برابر کسی کو نہیں قرار دیا پس تم ان کی اولاد واپس لو ٹانے پر راضی ہو جائو پس جو میرے اور بنی عبدالمطلب اور بنی ہاشم کے حصہ میں ہیں تو وہ ان کے لیے ہیں “ (یعنی میں انہیں واپس لوٹا تا ہوں) تو یہ سن کر مہاجرین و انصار نے کہا : جو ہمارے حصہ میں ہیں وہ رسول اللہ ﷺ کے سپرد ہیں۔ اور اقرع بن حابس اور عینیہ بن حصن نے اپنی قوم کے ساتھ اس سے انکار کردیا کہ وہ انہیں اس میں سے کوئی شے واپس لو ٹائیں جوان کے حصہ میں ہے اور اسی طرح عباس بن مرداس سلمی نے بھی انکار کردیا وہ انہیں اس میں سے کوئی شے واپس لوٹائیں جو ان کے حصہ میں ہے اور اسی طرح عباس بن مراد سلمی نے بھی انکار کردیا اور اس کی خواہش بھی تھی کہ اس کی قوم اس کے ساتھ اسی طرح تعاون کرے گی جیسا کہ اقرع اور عینیہ کے ساتھ ان کی قوم نے تعاون کیا، لیکن بنوسلیم نے انکار کردیا اورر کہا : بلکہ جو کچھ ہمارے لیے ہے وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کسی نے تم میں سے اس کے بارے میں بخل کا اظہار کیا جو اس کے قبضے میں ہے تو ہم اس کا معاوضہ ادا کریں گے۔ پھر رسول اللہ نے انہیں ان کی عورتیں اور بچے واپس لوٹا دیئے۔ اور جو اپنا حصہ خوشی کے ساتھ چھورنے کو تیار نہ ہوئے انہیں اتنا عوض عطا فرمایا کہ وہ اس سے راضٰ ہوگئے (1) ۔
اور حضرت قتاوہ ؓ نے بیان فرمایا : ہمیں بتایا گیا کہ نبی مکرم ﷺ کی وہ دایہ جس نے آپ کو دودھ پلایا تھا وہ بنی اسد سے تھی، وہ جنین کے دن آپ کے پاس حاضر ہوئی اور حنین کے قیدیوں کے بارے آپ سے درخواست کی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” بیشک میں صرف اسی کا مالک ہوں جو حصہ مجھے ان سے مل ہے البتہ تم کل صبح میرے پاس آئو اور مجھ سے اور میرے پاس موجود لوگوں سے یہ درخواست کرو تو جب میں اپنا حصہ تمہیں عطا کردوں گا تو لوگ بھی آپ کو دے دیں گے “۔ پس وہ دوسرے دن صبح حاضر ہوئی تو آپ ﷺ نے اس کے لیے اپنا کپڑا بچھایا اور اس پر انہیں بٹھایا۔ پھر انہوں نے اسے درخواست کی تو آپ ﷺ نے اسے اپنا حصہ عطا فرمادیا۔ تو جب لوگوں نے یہ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے حصص دے دیئے۔ حضرت سیعد بن مسیب ؓ کے قول کے مطابق ہوازن کے قیدیوں کی تعداد پورے چھ ہزار تھی۔ اور بعض نے کہا ہے : وہ چار ہزار تھی۔
ابو عمر (رح) نے بیان کیا ہے : ان میں حضور نبی مکرم ﷺ کی رضاعی بہن شیماء بھی تھی اور یہ حارث بن عبدالعزی جو کہ بنی سعد بن بکر سے تھا اور حضرت حلیمہ سعدیہ کی بیٹی تھی، پس رسول اللہ ﷺ نے اسے عزت و تکریم دی اور اسے بہت نوازا اور اس کے ساتھ احسان اور حسن سلوک کیا اور وہ انتہائی خوشی خوشی اپنے دین کے ساتھ اور اس مال کے ساتھ جو اللہ نے اسے عطا فرمایا اپنے شہرواپس لوٹ گئی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے یوم اوطاس کو ایک عورت کو دیکھا وہ دوڑ رہی ہے اور چیخ و پکار کر رہی ہے اور اپنے اصحاب کو فرمایا : اطارحۃ ہذہ ولد ھا فی النار ؟ (کیا یہ اپنے بچوں کو آگ میں پھینک سکتی ہے ؟ ) صحابہ کرام نے عرض کی : نہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” کیوں ؟ “۔ انہوں نے عرض کی : اپنی شفقت (اور پیار و محبت) کی وجہ سے۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا : کیوں ؟ “ اللہ ارحم بکم منھا ( اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ اس سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے ) ۔ اسی معنی میں مسلم نے اسے روایت کیا ہے۔ والحمد للہ۔
Ayah 9:28اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : یایھا الذین امنو انما المشرکون نجس یہ مبتد اور خبر ہے۔ مشرک کے نجس ( ناپاک ہونے) کے ساتھ متصف ہونے کے معنی میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔ پس حضرت قتادہ اور معمر بن راشد وغیرہ ہما نے کہا ہے :
کیونکہ وہ جنبی ہوتا ہے (اس لیے ناپاک ہے) کیونکہ جب وہ غسل جنابت کرے تو وہ غسل نہیں ہوتا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے کہا ہے : بلک شرک ہی وہ شے ہے جس نے اسے نجس اور ناپاک بنادیا ہے۔ امام حسن بصری ؓ نے فرمایا : جس نے مشرک کے ساتھ مصافحہ کیا تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے۔ اور تمام مذاہب اس پر متفق ہیں کہ کافر جب اسلام قبول کرے تو اس پر غسل کرنا واجب ہوتا ہے، سوائے ابن عبدالحکم کے کیونکہ اس نے کہا ہے : یہ واجب نہیں ہے (1) ۔ کیونکہ اسلام سابقہ سارے گناہ مٹا دیتا ہے۔ اور اس پر غسل کے واجب ہونے کا قول ابو ثور ر اور احمد نے کیا ہے۔ اور امام شافعی (رح) نے اسے ساقط کردیا ہے اور کہا ہے : میرے نزدیک پسندیدہ یہ ہے کہ وہ غسل کرے اور اسی طرح ابن قاسم نے بیان کیا ہے۔ اور امام مالک (رح) کا ایک قول یہ ہے کہ وہ غسل کو نہیں پہچانتے۔ اسے ان سے ابن وہب اور ابن ابی اویس نے روایت کیا ہے اور حضرت ثمامہ اور قیس بن عاصم کی حدیث ان اقوال کا رد کرتی ہے ان دونوں کو ابو حاتم البستی نے اپنی صحیح مسند میں روایت کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ ایک دن ثمامہ کے پاس سے گزرے اور وہ اسلام لا چکا تھا، تو آپ ﷺ نے اسے حضرت ابو طلحہ ؓ کے باغ کی طرف بھیجا اور اسے غسل کرنے کا حکم دیا۔ پس اس نے غسل کیا اور دو رکعتیں نماز پڑھی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تحقیق تمہارے ساتھی کا اسلام حسین اور اچھا ہوگیا ہے “۔ اس معنی میں اسے مسلم (رح) نے روایت کیا ہے اور اس میں ہے ثمامہ پر جب حضور کریم ﷺ نے احسان فرمایا تو وہ مسجد کے قریب ایک نخلستان کی طرف چلا گیا اور غسل کیا۔ اور قیس بن عامر نے حکم دیا ہے کہ وہ پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل کرے۔ پھر اگر وہ بالغ ہونے سے پہلے اسلام لائے تو اس کا غسل کرنا محتسب ہے اور جب وہ اپنے بالغ ہونے کے بعد اسلام لائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے غسل جنابت کی نیت کرے۔ یہ ہمارے علماء کا قول ہے اور یہی مذہب کا ماحصل ہے۔
ابن قاسم نے کافر کے لیے جائز قرار دیا ہے کہ وہ اپن زبان سے اسلام کی شہادت کا اظہار کرنے سے پہلے غسل کرلے، بشر طی کہ اپنے دل کے ساتھ اسلام کا اعتقاد رکھتا ہو۔ یہ نظر و فکر کے اعتبار سے ضعیف قول ہے اور اثر کے مخالف ہے۔ اور وہ اس لیے کہ کوئی بھی قول کے بغیر صرف نیت کے ساتھ مسلمان نہیں ہو سکتا۔
اہل السنت وقا الجماعت کا ایمان کے بارے میں یہ قول ہے : بیشک یہ زبان کے ساتھ اقرار کرنے اور دل کے ساتھ تصدیق کرنے کا نام ہے اور عمل کے ساتھ یہ نمونہ پاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : الیہ یصعد الکلم اطیب والعمل الصا لح یرفعہ (فاطر : 10) (اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام اور نیک عمل پاکیزہ کلام کو بلند کرتا ہے) 1
مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : فلا یقربوا المسجد الحرام، فلا یقر بوا یہ نہی ہے۔ اسی وجہ سے اس سے نون حذف کردی گئی ہے۔ المسجد الحرام اس لفظ کا اطلاق پورے حرم پر کیا جاتا ہے، یہی حضرت عطا کا مذہب ہے۔ تب پورے حرم میں کسی مشرک کو داخل ہونے کی قدرت دینا حرام ہوگا پس جب کوئی ان کی طرف سے ہمارے پاس قاصد آئے امام مقام حل کی طرف نکلے تاکہ وہ (پیغام) سن سکے جو وہ کہتا ہے اور اگر کوئی مشرک چھپ کر حرم پاک میں داخل ہوا اور وہ مرگیا تو اس کی قبر اکھیڑ کر اس کی ہڈیاں نکال لی جائیں گی، نتیجہ اس کے لیے اس کے اندر داخل ہونا جائز نہیں اور نہ اس سے گزرنا جائز ہے۔ اور باجزیرۃ العرب اور کہ مکہ مکرمہ، مدینہ، یمامہ، یمن اور اس کی بستوں پر مشتمل ہے، پس امام مالک رحمتہ اللہ نے کہا ہے : جو بھی دینااسللام پر نہیں وہ ان مقامات سے نکل جائے اور اس کے بارے مترود مسافروں کو نہیں روکا جائے گا اسی طرح امام شافعی (رح) نے کہا ہے، مگر آپ نے اس سے یمن کو مستشنیٰ قرار دیا ہے۔ ان کے لیے تین دنوں کی مدت مقرر کی جائے گی جیسا کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے ان کے لیے اتنی مدت مقرر کی جس وقت آپ نے انہیں جلاد وطن کیا۔ انہیں نہ تو اس میں دفن کیا جائے گا۔ اور نہ انہیں حل کی طرف پناہ دی جائے گی۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ علماء کا کفار کے مساجد حرام میں داخل ہونے کے بارے میں اختلاف ہے اور اس کے بارے پانچ قول ہیں : پس اہل مدینہ نے کہا : یہ آیت تمام مشرکین اور تمام مساجد کے بارے میں عام ہے اور اسی وجہ سے حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے عمال کی طرف لکھا اور اپنے خط میں اس آیت کی طرف استدلال کیا۔ اور اس کی تائید یہ ارشاد گرامی بھی کرتا ہے : فی بیوت اذن اللہ ان تر فع و یذ کر فیھا اسمہ (النور : 36) (ان گھروں میں جن کے متعلق حکم دیا ہے اللہ نے کہ بلند کیے جائیں اور لیا جائے ان میں اللہ تعالیٰ کا نام) اور کفار ان میں داخل ہونا ان رفعت شان کے خلاف ہے۔ اور صحیح مسلم وغیرہ میں ہے : ” بیشک یہ مساج بول و قذر میں سے کسی شی کی صلاحیت رکھتیں “ (1) الحدیث (یعنی غلاظت سے انہیں پاک اور محفوظ رکھنا چاہیے) اور کافر ان سے خالی نہیں ہوتا۔ اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میں مسجد کو کسی حائضہ عورت اور جنبی کے لیے حلال نہیں کروں گا “۔ اور کافر جنبی ہے۔
اور ارشاد باری تعالیٰ : انما المشرکون نجس میں تو اللہ تعالیٰ نے اسے نجس کا نام دیا ہے۔ پس یہ اس سے خالی نہیں کہ یہ نجس العین ہوگا یا پھر بطریق حکم اسے دور رکھا ہوگا۔ اور جو صورتت بھی ہوا سے مسجد سے رکنا واجب ہے، کیونکہ ان میں علت جو کہ نجاست ہے وہ موجود ہے اور مسجد میں حرمت موجود ہے۔
کہا ہے جاتا ہے : رجل نجس، امراءۃ نجس، رجلان نجس، ء امراتان نجس، رجال نجس، اور رجال نجس و نساء نجس چونکہ یہ مصدر ہے اس لیے نہ اس کا تثنیہ بنایا جائے گا اور نہ ہی جمع بنائی جائے گی۔ اور النجس ( نون کے کسرہ اور جیم کی جزم کے ساتھ) تو یہ نہیں کہا جائے گا مگر تب جب اس کے ساتھ گندگی اور پلیدی رجس بھی ہو۔ پس جب مفرو ہو تو نجس نو کے فتحہ اور جیم کے کسرہ کے ساتھ اور نجس (جیم کے ضمہ کے ساتھ) کہا جائے گا۔
اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے : یہ آیت تمام مشرکین کے بارے میں عام ہے اور مسجد حرام کے بارے میں خاص ہے، لہذا کسی اور مسجد داخل ہونے سے انہیں نہیں روکا جائے گا۔ انہوں نے یہودیوں اور عیسائیوں کے تمام مساجد میں داخل ہونے کو مباح قرار دیا ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : یہ ان کی طرف سے ظاہر پر جمود ہے، کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ : انما المشرکون نجس یہ شرک اور نجاست کے ساتھ علت پر تنبیہ ہے۔ پس اگر کہا جائے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے ثمامہ کو مسجد میں باندھا اور مشرک تھا۔ تو اسے یہ کہا جائے گا : ہمارے علماء نے اس حدیث کے کئی جوابات دیئے ہیں اگر یہ صحیح ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ واقعہ نزول آیت سے پہلے تھا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ کو اس کے اسلام لانے کے بارے میں علم تھا اس لیے آپ نے اسے وہاں باندھا۔ اور تیسرا جواب یہ ایک معین فرد کا قضیہ ہے لہذا یہ مناسب نہیں کہ اس کے ساتھ ان اولہ کا دفاع کیا جائے جو ہم نے ذکر کی ہیں، کیونکہ وہ قاعدہ کلیہ کے حکم مقید کرتی ہیں اور یہ کہا جانا ممکن ہے کہ آپ ﷺ نے اسے مسجد میں باندھا ہو تاکہ وہ مسلمانوں کی نماز کے حسن اور ان کے اجتماع کو اور مسجد میں ان کے بیٹھنے کے آداب کے حسن و جمال کو دیکھتے، تو وہ اس سے مانوس ہوجائے اور اسلام قبول کرلے۔ اور اسی طرح ہوا۔ اور یہ کہا جانا بھی ممکن ہے کہ ان کے پاس مسجد کے سوا اور کوئی ایسی جگہ نہ تھی جہاں وہ اسے باندھ سکتے۔ واللہ اعلم
امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اور آپ کے اصحاب نے کہا ہے : یہود نصاریٰ کو مسجد حرام یا کسی اور مسجد میں داخل ہونے سے نہیں روکا جائیگا اور مشرکوں اور بت پرستوں کے سوا کسی کو مسجد حرام یا کسی اور مسجد داخل ہونے سے نہیں روکا جائے گا اور مشرکوں اور بت پرستوں کے سوا کسی کو مسجد میں داخل ہونے سے نہیں روکا جائے گا۔ اور یہ ایسا قول ہے جسے آیت وغیرہ میں سے جو ہم نے ذکر کیا ہے وہ سب رد کرتا ہے۔
ال کیا طبری (رح) نے کہا ہے : امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ذمی کے لیے بغیر حاجت کے تمام مساجد میں داخل ہونا جائز ہے۔ اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے : حاجت کا اعتبار کیا جائے گا اور حاجت کے ساتھ بھی مسجد حرام میں داخل ہونا جائز نہیں۔ اور حضرت عطابن ابی رباح (رح) نے کہا ہے : حرم پاک سارے کا سارا قلبہ اور مسجد ہے، پس چاہیے کہ انہیں حرم پاک میں داخل ہونے سے منع کیا جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : سبحن الذی اسری بعدہ لیلا من المسجد الحرام (الا سراء :1) (ہرعیب سے) پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندے کو رات کے قلیل حصہ میں مسجد حرام سے) اور بلا شبہ آپ ﷺ کو ام بانی کے گھر سے اٹھایا گیا۔ اور حضرت قتاوہ ؓ نے کہا ہے : کوئی مشرک مسجد حرام کے قریب نہ جائے، سوائے اس کے جو صاحب جزیہ (جزیہ دینے والا) ہو یا کسی مسلمان کا کاف غلام ہو۔ اسماعیل بن اسحاق نے روایت کیا ہے کہ یحییٰ بن عبدالحمید نے ہمیں بیان کیا اس نے کہا ہمیں شریک نے اشعت سے انہوں نے حسن سے انہوں نے حضرت جابر ؓ سے انہوں نے نبی حضور نبی رحمت ﷺ سے روایت بیان کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” کوئی مشرک مسجد کے قریب نہ جائے سوائے اس کے وہ کسی کا غلام یا کنیز ہو پس وہ کسی حاجت اور ضرورت کے لیے اس میں داخل ہو سکتا ہے “۔ (1) اور اسی طرح حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے کہا ہے، کیونکہ انہوں نے کہا ہے : عموم مشرک کو مسجد حرام کے قریب جانے سے روکتا ہے اور اسے غلام اور لونڈی کے حق میں خاص کردیا گیا ہے (2) ۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ قولہ تعالیٰ : بعد عامھم ھذا اس بارے میں دو قول ہیں : ایک قول ہے کہ اس سال سے مراد 9 ہجری کا سال ہے جس میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حج ادا کیا۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ مراد 10 ہجری ہے۔ یہ قتاوہ (رح) نے کہا ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) عنہ نے کہا ہے : اور یہی وہ سال ہے جس میں یہ اعلان کیا گیا (کہ آئندہ کوئی مشرک حرم پاک میں داخل نہیں ہوسکتا) اگر کسی آدمی کا غلام کسی دن اس کے گھر میں داخل ہوا اور اس کا آقا اسے یہ کہے : لاتد خل ھذہ الدار بعد یومک ( تو آج کے بعد اس گھر میت داخل ہو) تو اس سے مراد نہیں ہوسکتا جس میں وہ داخل ہوا ہے۔ (3) ۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ قولہ تعالیٰ : و ان خفتم عیلۃ عمرو بن فائد نے کہا ہے : اس کا معنی ہے واذ خفتم (اور جب تمہیں خوف ہو) اور یہ عجمہ ہے اور اس کا معنی عمدہ اور حسین ہے ان کے ساتھ۔ مسلمانوں نے جب مشرکوں کو حج سے روک دیا حالانکہ وہ اناج اور دیگر سامان تجارت لے کر آتے تھے، تو شیطان نے ان کے دلوں میں فقروافلاس کا خوف ڈال دیا اور کہنے لگے : ہم زندگی کہاں سے گزاریں گے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا کہ وہ اپنے فضل سے انہیں غنی فرمادے گا۔ حضرت ضحاک رحمتہ اللہ نے کہا ہے : پس اللہ تعالیٰ نے ان پر اہل ذمہ کی جانب سے جزیہ کا دروازہ کھول دیا اپنے اس ارشاد گرامی کہ ساتھ : قاتلوا الذین لا یومنون باللہ الا بالیوم الاخر (التوبہ :29) (جنگ کرو ان لوگوں سے جو نہیں ایمان لاتے اللہ پر اور روز قیامت پر)
اور حضرت عکرمہ (رح) نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں موسلا دھار بارش، نباتات اور زمین کی سر سبز و شادابی کے ساتھ غنی فرمادیا۔ پس یمن کے شہر اور نواحی بستیاں بھی سر و سبز شاداب ہوگئیں اور اناج، گوشت کی چربی اور تیل اور دیگر کثیر نفع بخش چیزیں مکہ مکرمہ لے آئے۔ اور عب اسلام لے آئے مراد نجد، صنعاء اور دوسرے علاقے کے لوگ ہیں۔ پس ان کا حج اور ان کی تجارت انتہاء تک پہنچ گئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جہاد اور دیگر امتوں پر غلبے کے سبب انہیں غنی کردیا۔ عیلہ کا معنی فقرہ و افلاس ہے۔ کہا جاتا ہے : عال الرجال یعیل جب کوئی آدمی محتاج اور فقیر ہوجائے (1) ( تو یہ جملہ کہا جاتا ہے) جیسا کہ شاعر کا قول ہے :
وما یدری الفقیر متی غناہ وما یدری الٖغنی متی یعیل
فقیر نہیں جانتا کہ کب (اللہ تعالیٰ ) اسے غنی کردے اور غنی (دولت مند) نہیں جانتا کہ وہ کب محتاج ہوجائے ؟
حضرت ابن مسعود ؓ کے اصحاب میں سے علقمہ وغیرہ نے اسے عائلۃ پڑھا ہے اور یہ مصدر ہے، جسیا کہ قال یتیل سے قائلق ہے۔ اسی طرح عافیۃ بھی ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ مخذوف موصوف کی نعت ہو اور تقدیر عبارت ہو : حالا عائلۃ اور اس کا معنی ہو مشکل اور تکلف دہ خصلت۔ اسی سے کہا جاتا ہے : عالنی الاء مریعو لنی یعنی معاملہ مجھ پر شاق اور سخت ہوگیا اور علامہ طبری نے بیان کیا ہے کہ کہا جاتا ہے : عال یعول جب کوئی محتاج اور فقیر ہوجائے (2) ۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ اس آیت میں اس پر دلیل موجود ہے کہ رزق کے بارے میں دل کا تعلق اسباب کے ساتھ قائم کرنا جائز ہے اور یہ توکل کے منافی نہیں ہے، اگرچہ رزق مقدر ہے، اللہ تعالیٰ کا امر ہے اور اس نے اسے تقسیم کیا ہوا ہے، لیکن اس نے اسے حکمت کے تحت اسباب کے ساتھ معلق کردیا ہے تاکہ ان دلوں کو جان لے جو اسباب کے ساتھ متعلق ہیں ان دلوں میں سے جو رب الارباب پر توکل رکھتے ہیں اور یہ پہلے گزر چکا ہے کہ سبب توکل کی نفی نہیں کرتا۔
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اگر تم نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا جیسے اس کے توکل کا حق ہے تو وہ تمہیں اس طرح رزق عطا فرمائے گا جیسے پرندوں کو رزق دیتا ہے وہ صبح بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں “۔ اسے بخاری رحمتہ اللہ نے روایت کیا ہے پس اس میں خبر دی ہے کہ رزق کی تلاش میں صبح و شام آنا جانا توکل حقیقی کے خلاف نہیں ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : لیکن مشائخ صوفیہ نے کہا ہے : بلا شبہ یہ صبح و شام آنا جانا توکل حقیقی کے خلاف نہیں ہے۔ اور یہی وہ سبب ہے جو رزق کو کھینچ لاتا ہے۔ انہوں نے کا ہ ہے : اس پر دلیل دو امر ہیں : ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے :
و امر اھلک بالصلوٰۃ واصطئر علیھا لانسئلک رزقاً (طہ :132) (اور حکم دیجئے اپنے گھر والوں کو نماز کا اور خود بھی پابند رہیے اس پر، نہیں سوال کرتے ہم آپ سے روزی کا بلکہ ہم ہی روزی دیتے ہیں آپ کو)
اور دوسرا قول باری تعالیٰ ہے : الیہ یصعد الکلم الطیب واعمل الصالح یر فعہ (فاطر : 10) پس وہ اپنے محل جو کہ آسمان ہے۔۔۔ سے رزق نازل نہیں کرتا مگر وہی جو اس کی طرف بلند ہوتا ہے اور پاکیزہ ذکر اور عمل صالح ہے اور وہ زمین میں سعی اور دوڑ دھوپ کرنا نہیں ہے، کیونکہ اس میں رزق نہیں ہے۔ اور صحیح وہ ہے جسے فقہاء ظاہر کے نزدیک سنت نے ثابت اور مستحکم کردیا ہے اور اسباب دنیوی کے ساتھ کام کرنا ہے، مثلاً زمین میں ہل چلانا (کاشتکاری کرنا) بازاروں میں تجارت کرنا،
اموال (کاروبار) کے لیے تعمیرات کرنا اور باغات لگانا وغیرہ۔ تحقیق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس طرح عمل کرتے تھے اور حضور نبی مکرم ﷺ ان کے درمیان موجود تھے۔ ابو الحسن بن بطال نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس پاکیزہ مال میں خرچ کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے جو انہوں نے کمایا، علاوہ ازیں دیگر آیات بھی ہیں۔ اور فرمایا : فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فلا اثم علیہ (البقرہ : 173) ( لیکن جو مجبور ہوجائے در آ نحا لی کہ وہ نہ سر کش ہوا اور نہ حد سے برھنے والاہو تو اس پر (بقدر ضرورت کھالینے میں) کوئی گناہ نہیں) پس اللہ تعالیٰ نے مضطر اور مجبور آدمی کے لیے وہ کھانا حلال قرار دیا ہے جو اس پر حرام ہے جب جب اس کے پاس کھانے کے لیے وہ موجود نہ ہو جسے کمانے اور غذا بنانے کا اس نے حکم دے رکھا ہے اور اس نے اسے آسمان سے کھانا نازل ہونے کے انتظار کا حکم نہیں دیا اور اگر وہ شے جسے عذاب بنایا جاسکتا ہے اسے چھوڑ کر اس نے سعی اور کوشش ترک کردی تو وہ اپنی جان کا قاتل ہوگا۔ اور رسول اللہ ﷺ بھوک سے بل کھاتے رہتے تھے جو آپ پاتے تھے وہ کھالیتے تھے اور آپ ﷺ پر آسمان سے کھانہ نازل نہیں ہوا اور آپ ﷺ نے اپنے اہل خانہ کے لیے سال کی خوراک جمع کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتو حات عطا فرمائیں۔ اور حضرت انس بن مالک ؓ نے بیان کیا ہے کہ ایک آدمی حضور نبی مکرم ﷺ کی بارگاہ میں اونٹ کے ساتھ حاضر ہوا اور عرض کی : یا رسو اللہ ! ﷺ کیا میں اسے ڈھنگا ڈال دوں اور توکل کروں یا اسے کھلا چھوڑ دوں اور توکل کروں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تو اسے رسی ڈال اور پھر توکل “۔ (1)
میں (مفسر) کہتا ہوں : ان کے لیے اہل صفہ میں کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے، کیونکہ وہ فقراء تھے مسجد میں بیٹھتے تھے نہ وہ ہل چلاتے تھے اور نہ تجارت کرتے تھے، ان کے لیے نہ کمائی تھی اور نہ کوئی مال، بلاشبہ وہ شہروں کی تنگی کے وقت اسلام کے مہمان تھے اور اس کے باوجود وہ دن کے وقت لکڑیاں چنتے تھے اور رسول اللہ ْ ﷺ کے پاس جب کوئی ہدیہ آتا تو آپ اسے ان کے ساتھ مل کر کھاتے تھے۔ اور اگر صدقہ آتا تو ہو انہیں کو عطا فرمادیتے تھے، پس جب فتو حات کثیر ہوگئیں اور اسلام پھیل گیا تو وہ بھی نکل گئے اور حکم کی تعمیل میں لگ گئے، جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ وغیرہ اور وہ بیٹھے نہ رہے۔ پھر کہا گیا ہے کہ وہ اسباب جن سے رزق حاصل کیا جاتا ہے ان کی چھ قسمیں ہیں :
(1) ان میں سے سب سے اعلیٰ ہمارے نبی مکرم ﷺ کی کمائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میرا رزق میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھا ہوا ہے اور حقارت کو اس پر ڈال دیا ہے ہے جس نے میرے حکم کے خلاف۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی مکرم ﷺ کا رزق اپنے فضل سے ان کی کمائی اور کسب میں رکھا ہے اور اسے کسب کی اضضل ترین نوع کے ساتھ خاص کردیا ہے۔ اور وہ آپ ﷺ کا پنے شرف عظمت کے سبب دشمن پر غلبہ حاصل کرتا ہے۔
(2) آدمی کا اپنے ہاتھ کے عمل سے کھانا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بیشک آدمی جو کچھ کھاتا ہے اس میں سے اطیب اور پاکیزہ وہ ہے جو اس کے ہاتھ کی کمائی سے ہو اور بیشک اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت دائود (علیہ السلام) اپنے ہاتھوں کے عمل اسے کھاتے تھے “۔ اسے امام بخاری رحمتہ اللہ نے نقل کیا ہے۔ اور قرآن کرم میں ہے وعلمنہ صنعۃ لبوس لکم (الانبیاء : 80) ( اور ہم نے سکھا دیا انہیں زرہ بنانے کا ہنر تمہارے فائدے کے لیے) اور روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی ماں کے ( سوت) کاتنے کی کمائی کھاتے تھے۔ (1)
(3) تیسری قسم تجارت ہے اور یہ بزرگ اور اجل صحابہ کرام ؓ کا عمل تھا بالخصوص مہاجرین صحابہ کرام کا اور قرآن کریم نے کئی مقامات پر اس کی رہنمائی کی ہے۔
(4) کاشتکاری کرنا اور باغات اور درخت لگانا۔ تحقیق ہم اسے سورة بقرہ میں بیان کرچکے ہیں۔
(5) قرآن کریم پڑھنا اور اس کی تعلیم دینا اور دم کرنا وغیرہ، اس کا ابیان سورة فاتحہ میں گزر چکا ہے۔
(6) کسی سے اس ارادہ اور نیت کے ساتھ لینا کہ پھر اسے ادا کر دے گا بشر طی کہ وہ محتاج اور ضرورت مندہو۔ حضور علیہ الصلوٰۃ السلام نے ارشاد فرمایا : ” جس نے لوگوں کے اموال اس ارادہ پر لیے کہ وہ انہیں ادا کردے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادا فرمادے گا اور جس نے انہیں ضائع کرنے کے ارادہ پر لیا تو اللہ تعالیٰ اسے ضائع کردے گا “۔ اسے امام بخاری (رح) نے نقل کیا ہے اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے روایت کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 7 ۔ قولہ تعالیٰ : ان شاء اس پر دلیل ہے کہ رزق اجتہاد اور کوشش کے ساتھ نہیں، بلکہ بلا شبہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل میں سے ہے وہی اسے اپنے بندوں کے درمیان تقسیم کرنے کا والی ہے۔ اور اس کی وضاحت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے : نحن قسمنا بینھم معیستھم فی الحیوۃ الدنیا الآ یہ (الز خرف :32) (ہم نے خود تقسیم کیا ہے ان کے درمیان سامان زیست کو اس دنیوی زندگی میں)