Ayah 9:37قولہ تعالیٰ : انما النسیء زیادۃ فی الکفر اسی طرح اکثر ائمہ پڑھتے ہیں۔ نحاس نے کہا ہے : جہاں تک ہم جانتے ہیں حضرت نافع (رح) سے سوائے اکیلے ورش کے کسی نے بھی انما النسی بغیر ہمزہ کے روایت نہیں کیا۔ اور یہ نساھ اور انساہ سے مشتق ہے ( اس کا معنی ہے) اس نے اسے موخر کردیا۔ یہ دونوں لغتیں کسائی نے بیان کی ہیں۔ جو ہری نے کہا ہے کہ النسئی فعیل کے وزن پر بمعنی مفعول ہے اور یہ تیرے اس قول سے موخوذ ہے : نسأت الشق فھو منسؤ جب تو اسے موحر کر دے۔ پھر منسؤ کو نسئی کی طرف پھر دیا گیا ہے جیسے مقتول کو قتیل کی طرف پھیرا جاتا ہے۔ اور رجل ناسی اور قوم نساۃ یہ فاسق اور فسقۃ کی مثل ہے۔ علامہ طبری نے کہا ہے : النسق ہمزہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہے زیادتی کرنا۔ کہا جاتا ہے : نسا ینسأ جب وہ زیادہ ہوجائے۔ فرمایا : اگر ہمزہ کے بغیر ہو تو وہ فقط نسیان سے ہوگا ‘ جیسے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : نسوا اللہ فنسیھم (التوبہ :67) اور یہ حضرت نافع کی قرائت کا رد ہے۔ اور استدلال اس طرح کیا ہے کہ یہ حرف جر کے ساتھ متعدی ہوتا ہے : کہا جاتا ہے : نسأ اللہ فی أ جلک (اللہ تعالیٰ تیری موت کو مؤخر کردے) جسیے نو کہتا ہے : زاد اللہ فی أجلک (اللہ تعالیٰ تیری عمر میں اضافہ کرے) اور اسی سے حضور نبی مکرم ﷺ کا یہ ارشاد بھی ہے : من سرہ أن یبسط لہ فی رزقہ وینسأ لہ فی أثرہ فلیصل رحمہ ( جس کے لیے یہ باعث مسرت ہو کہ اس کے لیے اس کا رزق وسیع کردیا جائے اور اس کے لیے اس کی موت مؤخر کردی جائے تو اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے)
ازہری نے کہا ہے : أنسأت الشیٔ انساء و نسیئا یہ اہم ہے جو مصدر حقیقی کی جگہ رکھا گیا ہے۔ وہ محرم میں جنگ وجدال کو حرام قراردیتے تھے اور جب انہیں اس کی ضرورت پیش آتی تو وہ اس کے بدلے صفر کو حرمم کردیتے اور محرم میں جنگ شروع کردیتے۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ عرب جنگ اور غارت گری کے دلدادہ تھے اور ان پر یہ شاق اور گراں گزرتا تھا کہ وہ لگاتار تین مہینے رکے رہیں جن میں وہ کوئی جنگ وجدال نہ کریں۔ تو انہوں نے کہا : اگر ہم پر مسلسل تین مہینے آجائیں جن میں ہم کوئی شے حاصل نہ کریں تو ہم ہلاک ہوجائیں گے۔ پس جب وہ منیٰ سے واپس لوٹتے تو بنی کنانہ میں ٹھہرتے تھے پھر بنی فقیم میں ایک آدمی تھا جسے قلمس کہا جاتا تھا ‘ تو وہ کہنے لگا : میں وہ ہوں کہ میرا کوئی فیصلہ رد نہیں کیا جائے گا۔ تو وہ کہنے لگے : تو ہم سیمحرم کی حرمت کو مؤ خر کردے اور اسے صفر میں رکھ دے۔ پس وہ ان کے لیے محرم کو حلال کردیتا۔ تو وہ یکے بعد دیگرے ایک مہینہ اسی طرح کرتے رہے یہاں تک کہ تحریم پورے سال میں گھوم گئی۔ پھر اسلام آیا اور محرم اپنی اسی جگہ کی طرف لوٹ گیا جس میں اللہ تعالیٰ نے اسے رکھا ہوا تھا (1) ۔ اور حضور ﷺ کے اس ارشاد کا یہی معنی ہے : ان الزمان حمد استدار کھیئتہ یوم خلق اللہ السموات والارض اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : مشرک ہر مہینے میں دو سال حج کرتے رہے ‘ پس انہوں نے دو سال ذوالحجہ میں حج کیا ‘ پھر دو سال محرم میں حج کیا ‘ پھر دو سال صفر میں حج کیا ‘ اسی طرح تمام مہینوں میں وہ کرتے تھے یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا وہ حج جو آپ نے حجۃ الوداع سے پہلے کیا تھا وہ 9 ہجری میں ذوالقعدہ کے موافق آیا ‘ پھر آئندہ سال حضور نبی مکرم ﷺ نے حجۃ الواداع ادا فرمایا اور وہ ذوالحجہ کے موافق آیا ‘ اسی لے آپ ﷺ کے خطہ کا یہ ارشاد ہے : ان الزمان قد استدار (1) الحدیث۔ آپ ﷺ نے اس سے ارادہ یہ کیا ہے کہ حج کے مہینے اپنے اصل محل کی طرف لوٹ آئے ہیں اور حج ذوالحجہ کی طرف لوٹ آیا ہے اور نسئی باطل ہے۔
اور تیسرا قول یہ ہے کہ ایاس بن معاویہ نے کہا کہ مشرک سال کا بارہ مہینے اور پندرہ دنوں کے ساتھ حساب لگاتے تھے ‘ پس حج رمضان المبارک میں اور ذوالقعدہ میں اور سال کے ہر مہینے میں ہوتا رہتا پندرہ دنوں کی زیادتی کے سبب مہینے کی گردش کرنے کے حکم سے۔ پس حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اسی گردش کے حکم کے تحت 9 ھ میں ذی القعدہ میں حج ادا کیا اور حضور نبی مکرم ﷺ نے حج ادا نہ فرمایا ‘ پھر جب آئندہ سال 10 ھ میں جب ذوالحجہ کے موافق ہوگیا اور وہ چاندوں کے موافق بھی ہوگیا۔ اور یہ قول حضور نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کے ساتھ زیادہ مشابہت رکھتا ہے : ان الزمان قد استدار یعنی حج کا زمانہ اپنے اس اصلی وقت کی طرف لوٹ آیا جسے اللہ تعالیٰ نے معین فرمایا تھا جس روز اس نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق فرمایا اس اصل مشروعیت کے ساتھ جس کے بارے اسے پہلے علم تھا اور اس کے بارے اس کا حکم نافذ ہے۔ پھر فرمایا : سال بارہ مہینے کا ہے۔ اس کے ساتھ اس زیادتی کی نفی ہورہی ہے جو انہوں نے اپنے فیصلے کے ساتھ سال میں اضافہ کررکھا تھا۔ اور وہ پندرہ دن ہیں ‘ پس وقت اصلی متعین ہوگیا اور تحکم جہلی باطل ہوگیا۔ امام مازری نے خوارزمی سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے سورج کو تخلیق فرمایا اور اسے برج حمل میں رکھا اور وہ زمانہ جس کے بارے حضور نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے وہ سورج کے برج حمل میں اترنے کے موافق ہے۔ اور یہ توقیف کا محتاج ہے ‘ کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) سے نقل کیے بغیر اس تک نہیں پہنچا جاسکتا اور اس بارے ان سے کوئی صحیح قول منقول نہیں۔ اور جو اس کا دعویٰ کرے اسے چاہیے کہ وہ اس کی سند بیان کرے۔ اور اس کے خلاف جو قول ہے عقل اسے جائز قرار دیتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بروج سے پہلے سورج کو تخلیق فرمایا ہے اور عقل اسے بھی جائز قراردیتی ہے کہ اس نے ان تمام کو ایک ہی بار تخلیق فرمایا ہے۔ پھر علماء تعدیل نے اس بارے تحقیق کی تو انہوں نے حضور ﷺ کے اس اریاد : ان الزمان قد استدار کے وقت سورج کو برج الحوت میں پایا اور اس کے اور برج حمل کے درمیان بیس درجے ہیں۔ اور ان میں سے بعض نے کہا : ہے دس درجات ہیں۔ واللہ اعلم
اہل تاویل نے اس کے بارے اختلاف کیا ہے جس نے پہلی بار (شہر حرام کو مؤخر کیا۔ پس حضرت ابن عباس ‘ حضرت قتادہ اور ضحاک ؓ نے کہا ہے : وہ مالک بن کنانہ کے بیٹے تھے اور وہ تین تھے (2) اور جویبر نے حضرت ضحاک سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جس نے پہلی بار یہ عمل کیا وہ عمر و بن لحی بن قمعہ بن خندف تھا۔ اور کلبی (رح) نے کہا ہے : جس نے پہلی بار یہ فعل کیا وہ بنی کنانہ کا ایک آدمی تھا اسے نعیم بن ثعلبہ کہا جاتا تھا۔ پھر اس کے بعد آدمی تھا اس کو جنادہ بن عوف کہا جاتا تھا اور یہ وہی ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے پایا ہے۔ اور زہری (رح) نے کہا ہے : پہلے بنی کنانہ کا ایک قبیلہ پھر بنی فقیم کا ان میں سے ایک آدمی تھا جسے القلمس کہا جاتا تھا اور اس کا نام حذیفہ بن عبید تھا۔ اور ایک روایت میں ہے : وہ مالک بن کنانہ تھا۔ اور وہ جو نسئی اور مختار تھا وہ ریاست اور حکومت کے ساتھ کامیاب تھا ‘ کیونکہ عرب اس کی ریاست کو قبول کرتے تھے اور اسی بارے میں ان سے شاعر کہتا ہے :
ومنا نا سیء الشھر القملس
اور ہم میں سے مہینے کو مؤخر کرنے والا القلمس ہے
اور کمیت نے کہا ہے :
ألسنا الناسئین علی معد شھور الجل نجعلھا حرامآ
کیا ہم معد پر حلال مہینوں کو مؤخر کرنے والے نہیں ہیں کہ ہم انہیں حرام بنادیتے ہیں۔
قولہ تعالیٰ : زیادۃ فی الکفر یہ اس کا بیان ہے جو عربوں نے انواع کفر میں سے مجموعی طور پر کیا ‘ کیونکہ انہوں نے وجود تعالیٰ کا انکار کیا اور کہا : وما الرحمن (الفرقان :60) اصح وجوہ میں یہی ہے۔ اور انہوں نے بعث بعد الموت کا انکار کیا اور کہا : من یحی العظام وھی رمیم۔ (یسین) (جی ! کون زندہ کرسکتا ہے ہڈیوں کو جب وہ بوسیدہ ہوچکی ہوں) اور انہوں نے رسل (علیہم السلام) کی بعثت کا انکار کیا اور انہوں نے کہا : ابشر امنا واحد انتمعہ (القمر :24) (کیا ایک انسان جو ہم میں سے ہے ( اور) اکیلا ہے ہم اس کی پیروی کریں)
اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ حلال و حرام کرنا ان کے اختیار میں ہے ‘ پس انہوں نے اپنی طرف سے اپنی شہوات کو پورا کرنے کے لیے اس بدعت کا ارتکاب کیا اور اسے حلال قرار دیا جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا۔ اور کوئی اس کے کلمات کو تبدیل کرنے والا نہیں اگرچہ مشرک ناپسند بھی کریں۔
قولہ تعالیٰ : یضل بہ الذین کفروا یحلونہ عاما ویحرمونہ عاما لیواطئوا عدۃ ما حرم اللہ فیحلوا ماحرم اللہ ط زین لھم سوء اعمالھم ط واللہ لا یھدی القوم الکفرین۔ اس میں تین پر اء تیں ہیں : اہلحرمین اور ابو عمرو نے یضل پڑھا ہے اور کو فیوں نے یضل فعل مجہول پڑھا ہے۔ حسن اور ابور جانے یضل پڑھا ہے۔ تینوں قراءتوں میں سے ہر ایک ایک معنی کو ادا کرتی ہے مگر تیسری قرائت کے مطابق اس سے مفعول محذوف ہے۔ اور تقدیر کلام یہ ہے : ویُضِل بہ الذین کفروا من یقبل منھم ( اور اس کے ساتھ وہ کفر کرنے والے اسے گمراہ کرتے ہیں جو ان سے اسے قبول کرتا ہے) اور الذین محل رفع میں ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ ضمیر اللہ عزوجل کی طرف لوٹ رہی ہو۔ اور تقدیر عبارت یہ ہو : یُضِل اللہ بہ الذین کفروا ( اور اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ انہیں گمراہ کرتا ہے جنہوں نے کفر اختیار کیا) جیسا کہ یہ ارشاد گرامی ہے : یضل من یشآ ئ۔ (وہ گمراہ کردیتا ہے جسے چاہتا ہے) اور جیسا کہ آیت کے آخر میں اس کا قول ہے : واللہ لا یھدی القوم الکفرین ( اور اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا اس قوم کو جو کفر اختیار کیے ہوئے ہیض۔ اور دوسری قراءت یُضَلُّ بہ الذین کفروا یعنی اسے ان کے لیے شمار کیا گیا ہے۔ اس قراءت کو ابو عبید نے اختیار کیا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : زین لھم سوء اعمالھم ( ان کے لیے ان کے برے اعمال آراستہ کردیئے گئے) اور پہلی قرائت کو ابو حاتم نے اختیار کیا ہے ‘ کیونکہ وہ اس یعنی لسی کے سبب گمراہ ہوئے ‘ کیونکہ وہ اسے شمار کرتے تھے اور اس کے سبب گمراہ ہوجاتے تھے اور یحلونہ میں ہاضمیر نسئی کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اور ابور جا سے یغل یا اور ضاد کے فتحہ کے ساتھ مرودی ہے۔ اور یہ ایک لغت ہے : کہا جاتا ہے : ضللت أضل اور ضللت أضل (یہ باب سمع یسمع اور باب ضرب یضرب دونوں ہے) لیوا طئوالام کی کے ساتھ اسے نصب دی گئی ہے ‘ تاکہ وہ برابر اور پورے ہوجائیں۔ تو أ طأ القوم علی کذا ای اجتمعوا علیہ (یعنی وہ اس پر جمع اور متفق ہوگئے) یعنی انہوں نے ایک مہینے کو حلال نہیں کیا مگر ایک مہینے کو حرام بھی قراردیا تاکہ حرام مہینے چار ہی باقی رہیں۔ اور یہی صحیح ہے ‘ نہ کہ وہ جو ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے پانچواں مہینہ بنادیا۔ حضرت قتادہ نے کہا : بیشک انہوں نے صفر کا قصد کیا اور اس کا حرام مہینوں میں اضافہ کردیا اور اسے تحریم میں محرم کے ساتھ ملا دیا۔ قطرب اور طبری نے ان سے یہ قول نقل کیا ہے (1) ۔ اور اسی کی بنا پر النسئی بمعنی زیادتی (اضافہ کرنا) ہوتا ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 9:38اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : مالکم اس میں ماحرف استفہام برائے تقریر و توبیخ ہے ‘ تقدیر عبارت ہے : أی شیٔ یمنعم عن کذا (کون سی شی تمہیں اس طرح کرنے سے منع کرتی ہے) جیسا کہ آپ کہتے ہیں : کیا ہے تجھے کہ تو فلاں سے اعراض کررہا ہے ؟ مالک عن فلان معرضا ؟ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ آیت غزوئہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہنے والوں کے لیے ان کے پیچھے رہنے پر بطور عتاب نازل ہوئی اور یہ فتح مکہ کے ایک سال بعد 9 ھ کا واقعہ ہے ‘ عنقریب اس کا ذکر سورة کے آخر میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
اور النفر کا معنی ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ کسی نئے ہونے والے کام کی وجہ سے سرعت اور تیزی کے ساتھ منتقل ہونا۔ ابن آدم کے بارے میں کہا جاتا ہے : نفر الی الأ مرینفر نفورا (وہ بڑی تیزی کے ساتھ کام کی طرف گیا) اور اسی سے رب کریم کا یہ ارشاد بھی ہے : ولوا علی ادبار ھم نفورا۔ (الاسرائ) (تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں نفرت کرتے ہوئے) اور دابۃ (جانور) کے بارے کہا کہ جاتا ہے : نفرت تنفر (فا کے ضمہ اور کسرہ کے ساتھ ہے) نفارا و نفورا۔ اور کہا جاتا ہے : فی الدابۃ نفار (جانور کا بد کنا وغیرہ) اور یہ الحران کی مثل اسم ہے۔ اور نفر الحاج من منی نفرا (اور حاجی منیٰ سے تیزی کے ساتھ چل پڑے)
مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : اثاقلتم الی الارض مفسرین نے کہا ہے : اس کا معنی ہے تو زمین کی نعمتوں کی طرف یا زمین پر اقامتاختیار کرنے کی طرف بوجھل ہو کر جاتے ہو۔ اور یہ جہاد ترک کرنے پر زجرو تو بیخ ہے اور نکلنے میں جلدی نہ کرنے پر عتاب ہے اور یہ اس کی طرح ہے جو زمین پر دوام اور ہمیشگی اختیار کرلے۔ اثاقلتم اصل میں تثاقلتم اصل میں تثاقلتم ہے۔ تاکو ثا میں کدغم کیا گیا ہے ‘ کیونکہ اس کے قریب المخرج ہے اور پھر ہمزہ وصل کی ضرورت پیش آئی تاکہ ساکن کو بولنا ممکن ہو سکے ‘ اور اسی کی مثل اذارکوا اور ادارأتم اور ازینت ہیں۔ اور کسائی نے شعر بیان کیا ہے :
تولی الضجیع اذا ما استافھا خصرا عذب المداق اذا ما اتابع القبل
اعمش نے تثاقلتم اصل کے مطابق قرأت کی ہے۔ اسے مہدوی نے بیان کیا ہے۔ (1) ۔ غزوئہ تبوک کی طرف شدید گرمی ‘ پھل پکنے اور ٹھنڈے سایوں کے موسم میں آپ نے لوگوں کو دعوت دی ‘ جیسا کہ حدیث طیبہ میں آیا ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ پس لوگوں پر سستی اور کاہلی غالب آگئی ‘ تو وہ بیٹھ گئے اور بوجھ سامحسوس کرنے لگے۔ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے اس قول کے ساتھ زجرو توبیخ فرمائی اور ان پر دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے کی وجہ سے عتاب کیا۔ اور ارضیتم بالحیوۃ الدنیا من الاخرۃ کا معنی ہے کیا تم نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی پسند کرلی ہے ؟ ) اس میں من بدل کے معنی کو متضمن ہے ‘ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولو نشآء لجعلنا منکم ملئکۃ فی الارض یخلفون۔ (الزخرف) ای بدلا منکم (اور اگر ہم چاہتے تو ہم بسادیتے تمہارے بدلے فرشتے زمین میں جو تمہارے جانشین ہوتے)
اور شاعر نے کہا ہے :
فلیث لنا من ماء زمزم شربۃ مبردۃ باتت علی طھیان
اے کاش ! ہمارے لیے ماء زمزم کے بدلے پینے کے لیے ٹھنڈا پانی ہوتا جو رات کے وقت لکڑی پر پڑا ہوتا اس میں ماء حمنان (مکہ کا پانی) روایت کیا جاتا ہے۔ مراد یہ ہے : لیت لنا بدلا من ماء زمزم شربۃ مبردۃ اور الطھیان سے مراد وہ لکڑی ہے جو گھر کی ایک طرف میں ہوا کے لیے نصب کی جاتی ہے ‘ اس پر پانی لٹکا دیا جاتا ہے تاکہ وہ ٹھنڈا ہوجائے (2) ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا کی راحت اور سکون کو آخرت کی راحت پر ترجیح دینے کی وجہ سے عتاب فرمایا ہے ‘ جب کہ آخرت کی راحت دنیا کی مشقت اور تکلیف کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ حضور نبی مکرم ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو فرمایا اور آنحا لی کہ انہوں نے سوار ہو کر طواف کیا : أجرک علی قدرنصبک (تیرا اجر تیری مشقت کی مقدار کے مطابق ہوگا) اسے بخاری نے نقل کیا ہے۔
Ayah 9:39اس میں ایک مسئلہ ہے۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد الا تنفروا شرط ہے ‘ اسی لیے اس کے آخر سے نون حذف ہے۔ اور اس کا جواب یعذبکم اور ویستبدل قوم غیر کم ہے اور یہ شدید جھڑک ہے اور (جہاد پر) نکلنے کو ترک کرنے میں وعید موکد ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : پختہ اور مسلمہ اصولوں میں سے ہے کہ امر جب وارد ہو تو اس کے ورد میں فعل کے اقتضا سے زیادہ کچھ مقصود نہیں ہوتا ‘ پس رہا ترک امر کے وقت عقاب اور سزا تو وہ نفس امر سے اخذ نہیں کی جاتی اور نہ اقتضا اس کا تضاضا کرتی ہے ‘ بلکہ عقاب اور سزا اس کے بارے خبر سے ثابت ہوتی ہے ‘ جیسے کسی کا یہ قول : ان لم تفعل کذا عذبتک بکذا (اگر تو نے اس طرح نہ کیا تو میں تجھے اس طرح سزا دوں گا) اسی طرح اس آیت میں وارد ہے ‘ پس اس کے مقتضی کی مطابق جہاد کے لیے نکلنا اور کفار کے ساتھ قتال کرنے کے لیے ان کی طرف جانا اس بنا پر واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہی بلند ہو۔ ابودائود نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے انہوں نے فرمایا : الا تنفرو یعذبکم عذابا الیما اور ما کا نا لاھل المدینۃ۔۔۔۔ تا قولہ۔۔۔ یعملون۔ (التوبہ) اسے اس کے پیچھے آنے والی اس آیت نے منسوخ کردیا ہے : وماکان المؤمنون لینفروا کآفۃ (التوبہ :122) اور یہی حضرت ضحاک ‘ حسن اور عکرمہ (رح) نے فرمایا : اگر یہ ان سے صحیح ہے تو وہی زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ انہوں نے یہ کہا کہا ہے ‘ ورنہ دنیا میں عذاب الیم دشمن کے غلبہ کے ساتھ ہے اور آخرت میں آگ کے ساتھ۔
میں (مفسر) کہتا ہوں کہ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کو امام ابو دائودنے اپنی سنن میں ابن نضیع سے نقل کیا ہے انہوں نے بیان کیا : میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے پوچھا الاتنفروا یعذبکم عذابا الیما تو انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ان سے بارش کو روک لیا اور یہی ان کے لیے عذاب تھا (1) ۔ اور اسے امام ابو محمد بن عطیہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے مرفوعا ذکر کیا ہے ‘ انہوں نے بیان کیا : رسول اللہ ﷺ نے قبائل میں سے ایک قبیلہ والوں کو نکلنے کے لیے فرمایا تو وہ بیٹھ گئے (یعنی وہ نہ نکلیض تو اللہ تعالیٰ نے ان سے بارش کو روک لیا اور اس کے ساتھ انہیں عذاب دیا اور الیم کا معنی ہوتا ہے ورد پہنچانے والا ‘ یعنی انتہائی تکلیف دہ۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔
ویستبدل قوما غیرکم یہ ایک وعید ہے کہ وہ اپنے رسول مکرم ﷺ کے لیے ایک قوم کو بدل دے گا جو آپ کے انہیں نکلنے کا حکم دینے کے وقت پیچھے نہیں بیٹھے رہیں گے۔ کہا گیا ہے : مراد ابناء فارس ہیں۔ اور یہ قول بھی ہے کہ مراد اہل یمن ہیں۔ ولا تضروہ شیا یہ معطوف ہے۔ اور اس میں ہاضمیر کے بارے کہا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حضور نبی مکرم ﷺ کے لیے ہے۔ اور جہاد سے بوجھل ہو کر بیٹھ جانا ناپسند یدگی کا اظہار کرتے ہوئے ہر ایک پر حرام ہے۔ اور رہہا وہ جس میں کراہت اور ناپسندیدگی کا اظہار نہ ہو تو جسے حضور نبی مکرم ﷺ نے معین فرمادیا تو اس پر کاہلی اور سستی کا اظہار کرنا اور بوجھل ہو کر بیٹھ جانا حرام ہے اور اگر وہ ان دونوں سے مامون و محفوظ ہو تو پھر یہ فرض کفا یہ ہے۔ اسے علامہ قشیری نیذکر کیا ہے۔ اور تحقیق کہا گیا ہے : اس آیت سے مراد یہ ہے کہ حاجت کے وقت ‘ کافروں کے غلبے کے وقت اور ان کی قوت و شوکت کے زیادہ ہونیکے وقت نکلنا واجب ہے ‘ کیونکہ اس کا وجوب دعوت دینے کے ساتھ مختص نہیں ‘ کیونکہ وہ متعین ہے۔ اور جب یہ ثابت ہوجائے تو دعوت دینا اور نکلنے کا مطالبہ کرنا بعید ہے کہ وہ کسی ایسی شے کا موجب ہو جو اس سے پہلے واجب نہیں ‘ مگر یہ کہ امام جب کسی قوم کو معین کردے اور انہیں جہاد کی طرف بلائے تو ان کے لیے اس تعیین کے وقت بوجھل ہونا جائز نہیں اور اس تعیین کے سبب یہ ان کے لیے فرض عین ہوجائے گا ‘ محل جہاد کی وجہ سے نہیں بلکہ امام کی اطاعت کی وجہ سے۔ واللہ اعلم
Ayah 9:40اس میں گیارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : الا تنصروہ اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے : اگر تم غزوئہ تبوک میں آپ ﷺ کی معیت میں نکل کر آپ کی مدد نہ کرو گے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی مکرم ﷺ کے غزوہ تبوک سے واپس لوٹنے کے بعد ان کو عتاب کیا۔ نقاش نے کہا ہے : پہلی آیت ہے جو سورة براءت میں میں سے نازل ہوئی۔ اور اس کا معنی یہ ہے : اگر تم نے آپ ﷺ کی مدد کرنا چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ آپ کا ضامن اور کفیل ہے ‘ جب کہ اللہ تعالیٰ نے قلت کے مواقع میں آپ کی مدد و نصرت فرمائی اور آپ کو اپنے دشمن پر عزت و غلبہ کے ساتھ واضح غلبہ عطا فرمایا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : تحقیق اللہ تعالیٰ نے غار میں آپ کے صاحب اور رفیق کے ساتھ آپ کی مدد فرمائی اس طرح کہ وہ آپ کیساتھ مانوس تھے ‘ انہوں نے آپ کو کندھوں پر اٹھایا ‘ آپ کے ساتھ وفا کی اور اپنی جان کے ساتھ آپ کی حفاظت کی اور اپنے مال کے ساتھ آپ کے لیے اظہار ہمدردی کیا (1) ۔ لیث بن سعد (رح) نے کہا : ہے ‘ انبیاء (علیہم السلام) کے اصحاب حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی مثل تھے۔ اور سفیان بن عیینہ نے کہا ہے : حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس آیت کے ساتھ اس عتاب سینکل گئے جس کا ذکر الا تنصروہ کے ارشاد میں ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : اذا اخرجہ الذین کفروا حالانکہ آپ ﷺ بذات خود ان سے دور ہو کر نکلے تھے ‘ لیکن انہوں نے آپ ﷺ کو اس پر مجبور کردیا تھا یہاں تک کہ آپ نے ایسا کیا ‘ پس رب کریم نے فعل کی نسبت ان کی طرف کی اور اس میں حکم ان پر مرتب کیا۔ پس اسی وجہ سے قتل پر مجبور کرنے والے کو قتل کیا جاتا ہے اور بالا کراہ ضائع ہونے والے مال کا ضامن بکرہ کو بنایا جاتا ہے ‘ کیونکہ وہی قاتل کو قتل پر اور مال ضائع کرنے والوں کو مال ضائع کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ قولہ تعالیٰ : ثانی اثنین یعنی دو میں سے ایک۔ اور یہ اسی طرح ہے ثالث ثلاثۃ (تین میں سے ایک) اور رابع اربعۃ (چار میں سے ایک) اور جب لفظ مختلف ہوں تو یہ کہے : رابع ثلاثۃ و خامس اربعۃ تو اس کا معنی ہے تین کو اپنی ذات کے ساتھ چار بنانے والا اور چار کو پانچ بنانے والا۔ اور ترکیب کلام میں یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے یعنی انہوں نے آپ ﷺ کو نکالا اس حال میں کہ آپ تمام لوگوں سے منفر داور الگ تھے سوائے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے (یعنی وہ آپ کے ساتھ تھے) ۔ اس میں عامل نصرہ اللہ ہے نصرہ منفرد اونصرہ أحد اثنین (اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدد کی اس حال میں کہ آپ منفرد تھے اور اس حال میں کہ آپ دو میں سے ایک تھے ) ۔ حضرت علی بن سلیمان نے کہا ہے : تقدیر عباررت ہے فخرج ثانی اثنین (پس دو میں سے دوسرا نکلا) جیسا کہ واللہ انبتکم من الارض نباتا۔ (نوح) (اور اللہ نے تم کو زمین سے عجب طرح اگایا ہے) اور جمہور لوگوں نے ثانی یا کی نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو حاتم نے کہا ہے : اس کے سوا کوئی معروف نہیں۔ اور ایک جماعت نے ثانی یا کو سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن جنی نے کہا ہے : ابو عمر و بن علاء نے اسے بیان کیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے یا کو الف کے مشابہ قرار دیتے ہوئے ساکن پڑھا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : پس یہ حسن کی قرأت کی طرح ہے مابقی من الریا اور اسی طرح جریر کا قول ہے :
ھوالخلیفۃ فارضوا مارضی لکم ماضی العزبیۃ مافی حکمہ جنف
مسئلہ نمبر 4 ۔ قولہ تعالیٰ : اذھما فی الغار ‘ الغار سے مراد پہاڑی کی کھوہ ہے ‘ مراد غار ثو رہے۔ جب قریش نے دیکھا کہ مسلمان مدینہ طیبہ کی طرف چلے گئے ہیں تو انہوں نے کہا : یہ ایسا مضبوط شر ہے جس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ پس انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے پر اتفاق کرلیا ‘ پس انہوں نے آپ کے لیے رات مرقر کردی اور طویل رات آپ ﷺ کے کاشانہ اقدس کے دروازے پر آپ کی تاک میں رہے تاکہ جب آپ باہر نکلیں تو وہ آپ کو قتل کردیں۔ پس حضور نبی مکرم ﷺ نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کو اپنے بستر پر سونے کا حکم ارشاد فرمایا اور اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ وہ ان پر اپنا اثر ڈال دے ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ‘ پس آپ ﷺ نکلے اس حال میں کہ ان پر نیند چھائی ہوئی تھی ‘ پس آپ ﷺ نے ان کے سروں پر مٹی ڈال دی اور چلے گئے ‘ جب صبح ہوئی تو حضرت علی ؓ ان کے پاس باہر تشریف لائے اور انہیں بتایا کہ گھر میں کوئی نہیں ہے ‘ تب انہیں معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ تو نکل گئے اور نجات پا گئے۔ اور حضور نبی مکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ ہجرت کا وعدہ فرمارکھا تھا۔ اور ان دونوں نے اپنی سواریاں عبد اللہ بن ارقط کے حوالے کی ہوئی تھیں۔ اسے ابن اریقط بھی کہا جاتا ہے ‘ وہ کافر تھا لیکن ان دونوں کو اس پر اعتماد اور یقین تھا اور یہ راستہ دکھھانے کے لیے راہبر تھا۔ پس ان دونوں نے اسے اجرت پر لیا تاکہ وہ مدینہ طیبہ کی طرف ان کی رہنمائی کرے۔ رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے اس گھر کے پچھلے دروازے سے نکلے جو بنی جمح میں تھا اور دونوں جبل ثور میں غار کی طرف چلے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے صاجزادے عبد اللہ کو حکم ارشاد فرمایا کہ وہ وہ باتیں سنے جو لوگ کریں اور اپنے غلام عامر بن فہیرہ کو حکم دیا کہ وہ اپنا ریوڑ چرائے اور رات کے وقت وہ اسے ان کے پاس لے آئے پس وہ اس طرح ان کی حاجت اور ضرورت کو وپرا کرتا رہا۔ پھر وہ دونوں چلے اور غار میں داخل ہوگئے۔ حضرت اسماء بن ابی بکر صدیق ؓ ان کے پاس کھانا لاتی تھیں اور حضرت عبد اللہ بن ابی بکر ؓ خبریں لے کر آتے تھے ‘ پھر ان کے پیچھے عامر بن فہیرہ ریوڑ لے آتا اور وہ ان کے نشانات کو مٹا دیتا تھا۔ پس جب قریش نے آپ ﷺ کو مفقود اور گم پایا تو وہ آپ بن فہیرہ ریوڑ لے کر آتا اور وہ ان کے نشانات کو مٹا دیتا تھا۔ پس جب قریش نے آپ ﷺ کو مفقود اور گم پایا تو وہ آپ ﷺ کو قیافہ شناسوں کے ساتھ تلاش کرنے لگے ایسے قیافہ شناس جو نشانات قدم کی پہچان میں بڑے معروف اور مہارت رکھتے تھے ‘ یہاں تک کہ وہ (چلتے چلتے) غار پر جا ٹھہرے اور کہا : یہاں نشان ختم ہوگیا ہے پھر انہوں نے دیکھا تو مکڑی نے غار کے منہ پر اس وقت جالا سا بن رکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے اسے مارنے سے منع فرمایا ہے۔ پس جب انہوں نے مکڑی کا جالادیکھا تو انہوں نے یقین کرلیا کہ اس میں کوئی نہیں ہے ‘ چناچہ وہ واپس لوٹ گئے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کے بارے میں اس آدمی کے لیے سو اونٹوں کا انعام مقرر کردیا جو آپ کو ان کے پاس لوٹا کر لائے گا۔ یہ خبر مشہور ہے۔ اور سراقہ بن مالک بن جعشم کا قصہ اس میں مذکور ہے۔ اور حضرت ابو الدرداء اور حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کبوتری کو حکم ارشاد فرمایا تو اس نے مکڑی کے جالے پر انڈے دے دیئے اور وہ اپنے انڈوں پر بیٹھنے لگی ‘ پس جب کفار نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے انہیں غار سے واپس لوٹا دیا (1) ۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ بخاری نے حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے بنی دیل کے ایک آدمی کو اجرت پر لیا اور وہ ماہر راہبر تھا اور وہ کفار قریش کے دین پر تھا ‘ پس دونوں نے اپنی سواریاں اس کے حوالے کردیں اور اس سے تین راتوں کے بعد غار ثور آنے کا معاہدہ کیا ‘ پس وہ تیسری صبح کو دونوں کی سواریاں لے کر آگیا اور دونوں نے وہاں سے رخت سفر باندھا اور آپ کی معیت میں عامر بن فہیرہ اور دیلی راہبر بھی چلا اور وہ انہیں لے کر ساحل (ایک جگہ کا نام ہے) کے راستہ پر چلا۔
مہلب نے کہا ہے : اس میں فقۃ کا مسئلہ یہ ہے کہ اہل شرک کو راز اور مال پر امین بنانا جائز ہے ‘ بشرطیکہ ان کے بارے وفا اور مروت کا یقین ہو جیسا کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے اس مشرک کو مکہ مکرمہ سے اپنے نکلنے کے بارے اور اونٹنیوں پر امین بنایا۔ ابن منذر نے کہا ہے : اس میں یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کو راستے کی رہنمائی کے لیے کفار کو اجرت پر لینا جائز ہے۔ اور امام بخاری (رح) نے اپنے عنوان میں کہا ہے :” باب استئجار المشرکین عند الضرورۃ أواذالم یوجد اھل الاسلام ابن بطال نے کہا ہے : امام بخاری (رح) نے اپنے عنوان میں کہا ہے اواذالم یوجد اھل الاسلام یا جب اہل اسلام میں سے کوئی نہ پایا جائے۔ اس وجہ سے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے بلاشبہ اہل خیبر کے ساتھ معاملہ کیا کہ وہ وہاں کی زمین پر کام کریں گے جب مسلمانوں میں سے ایسے نہ پائے گئے جو زمین پر کام کرنے میں ان کے نائب بن سکتے ہوں ‘ یہاں تک کہ اسلام قوی ہوگیا اور ان کی ضرورت باقی نہ رہی ‘ تو حضرت عمر ؓ نے انہیں جلاوطن کردیا۔ اور عام فقہاء ضرورت کے وقت اور اس کے بعد بھی انہیں اجرت پر لینا جائز قرار دیتے ہیں۔ اور اس میں یہ بھی ہے کہ دو آدمیوں کا ایک آدمی کو اس شرط پر اجرت پر لینا کہ وہ ان دونوں کے لیے کام کرے گا ( یہ بھی جائز ہے) اور اس میں دشمن کی خوف سے دین کے ساتھ فرار اختیار کرنے کے جواز پر بھی دلیل ہے۔ اور غیرت وغیرہ کے معاملہ میں حقیر جاننے کے خوف سے فرار اختیار کرنا بھی جائز ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اور اس کے لیے صلح اور سلامتی چاہتے ہوئے بذات خود دشمن کے حوالے نہ ہوجائے۔ اور اگر تمہارے رب نے چاہا تو وہ اسے ان کے ساتھ ہونے کے باوجود اس سے محفوظ رکھے گا ‘ یہ انبیاء اور دیگر لوگوں کے لی اللہ کا طریقہ ہے (1) اور تو اللہ کے طریقہ کو ہر گز بد لا ہوا نہ پائے گا۔ اور جس نے اس سے منع کیا ہے اس کے نظریہ کے فاسد ہونے پر یہ بہت بڑی دلیل ہے اور کہا ہے : جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے غیر سے بھی ڈرے تو یہ اس کے توکل میں نقص ہے اور اس کا تقدیر پر ایمان نہیں۔ اور یہ سب کا سب آیت کے معنی میں ہے ‘۔ وللہ الحمد والہدا یۃ۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ قولہ تعالیٰ : اذ یقول لصاحبہ لا تحزن ان اللہ معنا یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے فضائل کو متضمن ہے۔ اصبغ اور ابزید نے ابن القاسم سے اور انہوں نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ ثانی اثنین اذ ھما فی الغار اذیقول لصاحبہ لا تحزن ان اللہ معنا میں صاحب سے مراد حضر تابو بکر صدیق ؓ ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے لیے آپ ﷺ کے قول کو اپنے کلام کے ساتھ ثابت کردیا ہے اور اپنی کتاب میں آپ کے وصف صحابیت کو بیان کیا ہے۔
بعض علماء نے کہا ہے : جو کوئی حضرت عمر ‘ حضرت عثمان یا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک کے رسول اللہ ﷺ کا صاحب ہونے کا انکار کرے تو وہ کذاب اور بدعتی ہوگا۔ اور جس نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے رسول اللہ ﷺ کا صاحب ہونے کا انکار کردیا تو وہ کافر ہے ‘ کیونکہ اس نے قرآن کریم کی نص کا رد کیا ہے۔ اور ان اللہ معنا کا معنی ہے یعنی مدد و نصرت کرنے ‘ لحاظ رکھنے اور حفاظت و نگہبانی کرنے کے اعتبار سے بیشک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ ترمذی اور حارث بن ابی اسامہ دونوں نے بیان کیا ہے کہ ہمیں عفان نے بیان کیا ‘ اس نے کہا ہمیں ہمام نے بیان کیا اس نے کہا ہمیں ثابت نے حضرت انس ؓ سے خبردی کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے انہیں بیان کیا کہ میں نے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی اس حال میں کہ ہم غار میں تھے ‘ اگر ان میں سے کس ینے اپنے قدموں کی طرف دیکھا تو وہ یقینا ہمیں اپنے قدموں کے نیچے دیکھ لے گا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : یا ابا بکر ماظنک با ثنین اللہ ثالثھم ( اے ابوبکر تیرا ان دو کے باے کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہے) (1) ۔ محاسبی نے کہا ہے : یعنی اللہ تعالیٰ مدد و نصرت اور دفاع کے اعتبار سے ان دو کے ساتھ ہے نہ کہ اس معنی کی بنا پر جس کے ساتھوہ ساری مخلوق کو شامل ہے۔ پس فرمایا : مایکون من نجوی ثلثۃ الا ھورابعھم (المجادلہ :7) (نہیں ہوتی کوئی سرگوشی تین آدمیوں میں مگر وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے) تو اس کا معنی عام ہے کہ وہ کفار اور مومنین میں سے سبھی کی سنتا ہے اور انہیں دیکھتا ہے۔
مسئلہ نمبر 7 ۔ علامہ ابن عربی نے کہا ہے : امامیہ نے کہا ہے : غار میں حضرت ابوبکرصدیق ؓ کا غمزدہ اور پریشان ہونا ان کے جہل ‘ نقص اور دل اور رائے کی کمزوری پر دلیل ہے۔ تو ہمارے علماء نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ آپ کی طرف جزن اور پریشانی کی نسبت کرنا یہ نقص نہیں ہے ‘ جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) میں کوئی نقص نہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ فرمایا ہے : نکرھم واو جس منھم خیفۃ ط قالوا لاتخف (ہود :70) ( تو اجنبی خیال کیا انہیں اور دل ہی دل میں ان سے اندیشہ کرنے لگے ‘ فرشتوں نے کہا : ڈریئے نہیں) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں اس قول سے کوئی نقص نہیں : فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسیٰ ۔ قلنا لا تخف (طہ) (موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دل میں کچھ خوف محسوس کیا ہم نے فرمایا (اے کلیمض مت ڈروض اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے بارے میں ہے : لاتحزن انا منجوک واھلک (العنکبوت :33) ( اور نہ رنجیدہ خاطر ہم نجات دینے والے ہیں تمہیں اور تیرے کنبہ کو)
پس یہ وہ عظیم انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات ہیں جن میں (خوف تقیہ) نصاپایا گیا ہے۔ اور یہ نہ ان پر طعن ہے اور نہ ان کے لیے ایسا وصف ہے جو باعث نقص ہو۔ تو اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی ذات میں بھی ہے۔ پھر یہ بھی یکہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے اس اظہار میں احتمال ہے ‘ کیونکہ انہوں نے یہ کہا تھا : اگر ان میں سے کسی نے اپنے قدموں کے نیچے (جھک کر) دیکھا تو یقیناً وہ ہمیں دیکھ لے گا۔ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ بلاشبہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا یہ حزن و ملال حضور نبی مکرم ﷺ کے بار یاس خوف کی وجہ سے تھا کہ آپ کو کوئی ضرر اور تکلیف پہنچے اور اس وقت حضور ﷺ معصوم اور محفوظ نہ تھے ‘ بلاشبہ یہ ارشاد گرامی واللہ یعصمک من الناس (المائدہ : 67) (اور اللہ تعالیٰ بچائے گا آپ کو لوگوں (کے شر) مدینہ طیبہ میں نازل ہوا۔
مسئلہ نمبر 8 ۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : ابو الفضائل العدل نے ہمیں کہا ہے کہ جمال الاسلام ابو القاسم نے ہمیں کہا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : کلا ان معی ربی سیھدین۔ (الشعرائ) ( ہرگز نہیں ‘ بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے ‘ وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا) اور حضور نبی مکرم محمد مصطفیٰ ﷺ نے : لاتحزن ان اللہ معنا ‘ تو یقیناً جب اللہ تعالیٰ اکیلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہے تو ان کے اصحاب ان کے بعد مرتد ہوگئے پس جب وہ اپنے رب کے پاس سے واپس لوٹ کر آئے تو انہیں پایا کہ وہ بچھڑے کی عبادت کررہے ہیں۔ اور جب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا : لاتحزن ان اللہ معنا تو پھر حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہدایت یافتہ ‘ موحد ‘ عالم اور امر کے ساتھ یقیناً قائم رہنے والے باقی رہے اور کوئی خلل و فساد آپ تک راہ نہ پاسکا۔ (1)
ٓمسئلہ نمبر 9 ۔ ترمذی نے عبیط بن شریط کی حدیث نقل کی ہے انہوں نے حضرت سالم بن عبید ؓ سے (انہیں شرف صحبت بھی حاصل ہے) بیان کی انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ پر غشی طاری کردی گئی۔۔۔۔۔ الحدیث۔ اور اس میں ہے : مہاجرین مشورہ کرنے کے لیے جمع ہوئے اور کہنے لگے : چلو ہمارے ساتھ ہماے انصار بھائیوں کی طرف ہم انہیں اس معاملہ میں اپنے ساتھ شامل کرتے ہیں پھر انصار نے کہا : ایک ایمر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر تم میں سے ہوگا۔ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا : کون ہے ج سکے لیے اس کی مثل تین وصف ہوں ؟ ثانی اثنین اذھما فی الغار اذیقول لصاحبہ لاتحزن ان اللہ معنا کو ن ہے جو ان دو کی مثل ہو ؟ راوی کا بیان ہے : پھر آپ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر لوگوں نے بھی انتہائی حسین و جمیل انداز میں آپ کی بیعت کرلی۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : اسی لیے بعض علماء نے کہا ہے کہ قول باری تعالیٰ : ثانی اثنین اذھما فی الغار اس پر دلالت کرتا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ کے بعد خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں ‘ کیونکہ خلیفہ ہمیشہ ثانی (دوسرا) ہیہوتا ہے۔ اور میں نے ہمارے شیخ امام ابو العباس احمد بن عمر (رح) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے ثانی اثنین کہا جائے کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ کا جب وصال ہوا تو سارا عرب مرتد ہوگیا اور مکہ مکرمہ ‘ مدینہ طیبہ اور جعواث (بحرین میں ایک جگہ ہے) کے بغیر کہیں اسلام باقی نہ رہا۔ پس حضرت ابوبکر صدیق ؓ اٹھے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دی اور آپ نے انہیں دین میں داخل کرنے کے لیے ان کے ساتھ قتال کیا جیسا کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے کیا تھا۔
پس اس اعتبار سے آپ اس کے مستحق ہیں کہ آپ کے حق میں ثانی اثنین (دو میں سے دوسرے) کہا جائے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : احادیث صحیحہ موجود ہیں ‘ جن کا ظاہر اس پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ حضور ﷺ کے بعد خلیفہ ہیں اور اس پر اجماع منعقد ہوچکا ہے اور کوئی مخالف باقی نہیں رہا۔ اور آپ کی خلافت میں شک اور جرح ‘ قدح کرنے والا بالیقین خطا کار اور فاسق ہے۔ کیا وہ کافر ہے یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے۔ اس کا مزید بیان سورة الفتح میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
کتاب و سنت اور اقوال علماء سے جو بات قطعی ہے اور واجب ہے کہ دل اس کے ساتھ ایمان لائیں وہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ تمام صحابہ کرام سے افضل و اعلیٰ ہے اور اہل تشیع اور اہل بدعت کے اقوال کی کوئی پرواہ نہیں ہے ‘ کیونکہ وہ ان کفر کرنے والوں جن کی گردنیں ماردی جاتی ہے اور بدعت و فسق کا ارتکابکرنیوالوں کے درمیان ہیں ان کی کوئی بات قبول نہ کی جائے گی۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بعد حضرت عمر فاورق ؓ اور پھر ان کے بعد حضرت عثمان ؓ افضل ہیں۔ امام بخاری (رح) نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت بیان کی ہے انہوں نے فرمایا : ہمیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مقدس میں لوگوں کے درمیان چنائو اور انتخاب کا اختیار دیا جاتا تھا تو ہم حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو پہلے پھر حضرت عمر فاروق ؓ کو اور پھر حضرت عثمان ؓ کو چنتے تھے۔ انئمہ اہل سلف نے حضرت عثمان اور حضرت علی ؓ کے بارے میں اختلاف کیا ہے ؟ ان میں سے جمہور حضرت عثمان ؓ کو مقدم جانتے ہیں۔ اور امام مالک کے بارے روایت بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے اس بارے میں توقف کیا ہے۔ اور ان کے بارے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے جمہور کے موقف کی طرف رجوع کرلیا ہے اور یہی وصح ہے انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر 10 ۔ قولہ تعالیٰ : فا نزل اللہ سکینتہ علیہ اس میں دو قول ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ پر اپنی تسکین نازل فرمائی۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ پر۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : ہمارے علماء نے کہا ہے : یہی زیادہ قوی ہے ‘ کیونکہ آپ کو حضور نبی کریم ﷺ کے بارے قوم سے خوف لاحق ہوا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے نبی مکرم ﷺ کو امن عطا فرماکر آپ پر تسکین اور راحت کو نازل فرمایا اور آپ کا اضطراب پر سکون ہوگیا ‘ آپ کا ڈر اور خوف ختم ہوگیا اور امن و سکون حاصل ہوگیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ثمانہ (ایک بوٹی کا نام ہے) کو آگا دیا اور اس میں کبوتری کے گھونسلا بنانے کا الہام کیا۔ اور مکڑی کو بھیجا پس اس نے اس پر جالابن دیا۔ تو ظاہر دکھائی دینے میں یہ لشکر کتنا کمزور ہے اوباطنی معنی کے اعتبار سکے یہ کتنا قوی ہے۔ اسی معنی کے اعتبار سے حضور نبی مکرم ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو اس وقت فرمایا جب انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ جھگڑا کیا :” کیا تم میرے لیے میرے صاحب (رفیق) کو چھوڑ دو گے ‘ بیشک تمام لوگوں نے کہا : آپ جھوٹے ہیں اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ ‘ نے کہا آپ سچے ہیں “۔ اسے ابو درداء ؓ نے روایت کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 11 ۔ قولہ تعالیٰ : وایدہ بجنودلم ترو ھا یعنی ملائکہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی۔ أیدہ میں ضمیر حضور نبی مکرم ﷺ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اور دونوں ضمیریں مختلف ہیں۔ اور قرآن کریم اور کلاب عرب میں یہ کثیر الاستعمال ہے۔ وجعل کلمۃ الذین کفروا السفلی اس سیمراد کلمہ شرک ہے۔ وکلمۃ اللہ ھی العلیا کہا گیا ہے کہ مراد لآ الہ الا اللہ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مدد و نصرت کا وعدہ ہے۔ اعمش اور یعقوب نے کلمۃ اللہ کو جعل پر محمول کرتے ہوئے منصوب پڑھا ہے۔ اور باقیوں نے استئنناف کی بنا پر مرفوع پڑھا ہے۔ اور فراء نے یہگمان کیا ہے کہ نصب کی قرأت بعید ہے۔ انہوں نے کہا : کیونکہ تیرا قول یہ ہوتا ہے أعتق فلان غلام أہیہ (فلاں نے اپنے باپ کا غلام آزاد کیا) اور تہ یہ نہیں کہتا : غلام ابی لان اور ابو حاتم نے جو کہا ہے وہ اس کے قریب قریب ہے۔ انہوں نے کہا : واجب ہے کہ کہا جائے : وکلمتہ ھی العلیا۔ نحاس نے کہا ہے : جو کچھ فراء نے کہا ہے وہ آیت سے مشابہت نہیں رکھتا ‘ لیکن سیبویہ نے جو شعر بیان کیا ہے وہ اس سے مشابہت رکھتا ہے :
لاأری الموت یسسمق الموت شویٔ نغص الموت ذا الغنی والفقیرا
پس یہ بہت اچھا ہے اس میں کوئی اشکال نہیں ‘ بلکہ ماہر نحوی کہتے ہیں : اس طرح کے محل میں دوبارہ ذکر کرنا فائدہ مند ہے اور وہ یہ ہے کہ اس میں تعظیم کا معنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (الزلزلۃ) پس اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ اور کلمہ کی جمع کلم ہے۔ اور تمیم کہتے ہیں : ھی کلمۃ یعنی کاف کے کسرہ کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ اور فراء نے اس میں تین لغات بیان کی ہیں : کلمۃ و کلمۃ جیسا کہ کبد ‘ کبد اور کبذ اور ورق ‘ ورق اور ورق ہے۔ اور الکلمہ ایک طویل قصیدہ بھی ہے ‘ اسے جوہری نے کہا ہے۔
Ayah 9:41اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ حضرت سفیان نے حصین بن عبدالرحمن سے انہوں نے ابو مالک غفاری سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا : سورة برائت میں سے جو آیت سب سے اول نازل ہوئی وہ انفرو اخفا فا وثقالا ہے۔ اور ابو الضحاء نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے : اس کے بعد اس کا اول اور اس کا آخر نازل ہوا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : انفروا خفافاوثقالا یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور اس میں دس اقوال ہیں : (1) حضرت ابن عسا ؓ سے انفرواثبات کا معنی ذکر کیا گیا ہے ‘ متفرق جماعتوں اور دستوں کی صورت میں نکلو (2) حضرت ابن عباس ؓ سے بھی اور حضرت قتادہ ؓ سے مروی ہے : نکلو اس حال میں کہ چست ہو اور غیر چست ہو (3) حفیف سے مراد غنی اور امیر ہے اور ثقیل سے مراد فقیر اور مفلس ہے۔ یہ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے (4) خفیف سے مراد جو ان ہے اور ثقیل سے مراد بوڑھا ہے۔ یہ حسن (رح) کا قول ہے۔ (5) خفیف سے مراد وہ ہے جو کاروبار میں لگا ہوا ہو اور ثقیل سے مراد وہ جس کا کوئی کاروبار نہ ہو۔ یہ زید بن علی اور حکم بن عثیبہ نے کہا ہے (6) ثقیل سے مراد وہ ہے جس کے اہل و عیال ہوں اور خفیف سے مراد وہ ہے جو عیال دارنہ ہو ‘ یہ زید بن اسلم نے کہا ہے (7) ثقیل وہ ہے جس کی جائید اد اور زمین ہو جسے چھوڑنا وہ ناپسند کرتا ہو اور خفیف وہ ہے جس کی جائید اد اور زمین نہ ہو۔ یہ ابن زید نے کہا ہے (8) خفاف سے مراد پیدل ہیں اور ثقال سے مراد گھڑ سوار ہیں۔ یہ امام اوزاعی نے کہا ہے (9) خفاف سے مراد وہ لوگ ہیں جو جنگ کی طرف آگے بڑھ جاتے ہیں جیسا کہ مقدمۃ الجیش ویغرہ اور ثقال سے مراد سارے کا سارا لشکر ہے (01) خفیف سے مراد شجاع اور بہادر ہے اور ثقیل سے مراد بزدل ہے۔ اسے نقاش نے بیان کیا ہے۔ آیت کے معنی میں صحیح یہ ہے کہ تمام لوگوں کو حکم دیا گیا ہے ‘ یعنی نکلو تم پر حرکت کرنا سہل اور آسان ہو یا مشکل۔ روایت ہے کہ حضرت ابن مکتوم ؓ رسول اللہ ﷺ کی بار گاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی : کیا مجھ پر بھی نکلنا لازم ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” ہاں “ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : لیس علی الا عمی حرج (النور :61) (نہ اندھے پر کوئی حرج ہے)
اور یہ اقوال بلاشبہ ثقل و حفت میں مثال کے معنی کی بنا پر ہیں۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ اس آیت کے بارے میں اختلاف ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ آیت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے منسوخ ہے : لیس علی الضعفآء ولا علی المرضی (التوبۃ :91) (نہیں ہے کمزوروں پر اور نہ بیماروں پر )
بعض نے کہا ہے : اس کے لیے ناسخ یہ ارشاد گرامی ہے : فلو لا نفر من کل فرقۃ منھم طآئفۃ (التوبہ : 122) (تو کیوں نہ نکلے ہر قبیلے سے چند آدمی۔
اور صحیح یہ ہے کہ یہ منسوخ نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے حضرت ابو طلحہ ؓ سے اس قول باری تعالیٰ : انفروا خفافا و ثقالا کے بارے میں روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : مراد جو ان اور بوڑھے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے کسی عذر نہیں سنا ‘ پس وہ شام کی طرف نکلے اور جہاد کیا یہاں تک کہ فوت ہوگئے ؓ ۔
حماد نے ثابت اور علی بن زید سے اور انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ ابو طلحہ ؓ نے سورت برائت پڑھی پس وہ اس آیت پر پہنچے انفروا خفافا و ثقالا تو فرمایا : اے میرے بچو ! میرے لیے تیاری کرو میرے لیے سامان جہاد تیار کرو۔ تو آپ کے بیٹوں نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ‘ تحقیق آپ حضور نبی مکرم ﷺ کی معیت میں جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کا وصال ہوگیا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی معیت میں یہاں تک کہ ان کا بھی وصال ہوگیا اور آپ حضرت عمر ؓ کی معیت میں مصروف جہاد رہے یہاں تک کہ وہ بھی وصال فرما گئے پس اب ہم آپ کی طرف سے جہا کریں گے۔ تو انہوں نے فرمایا : نہیں ‘ بلکہ تم میرے لیے سامان جہاد تیار کرو۔ چناچہ انہوں نے سمندر میں جہاد کیا اور سمندر میں ہف فوت ہوئے۔ تو مسلمانوں نے ان کے لیے کوئی جزیرہ نہ پایا جس میں انہیں دفن کرتے مگر سات دن گزرنے کے بعد۔ اور پھر انہوں نے آپ کو اس میں دفن کیا اور آپ میں کوئی تغیر اور تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ ؓ ۔ (1)
علامہ طبری نے اس آدمی کی سند سے بیان کیا ہے جس نے حضرت مقداد بن اسود ؓ کو حمص میں صراف کے تابوت پر دیکھا اور وہ اپنے موٹا ہونے کے سبب تابوت پر بھاری تھے اور وہ جہاد کی تیاری کررہے تھے۔ تو آ پکو عرض کی : تحقیق اللہ تعالیٰ نے آ پکو معذور قرار دیا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا : ہمارے پاس سورة البعوث انفروا خفافا و ثقالا آچکی ہے۔ اور زہری نے کہا ہے : حضرت سعید بن میب ؓ غزوے کی طرف نکلے در آنحا لی کہ آپ کی ایک آنکھ کی بینائی ختم ہوچکی تھی۔ آپ کو کہا گیا : بلاشبہ آپ بیمار ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہر خفیف (صحت مند) اور ثقیل (بیمار) کو نکلنے کے لیے فرمایا ہے۔ پس اگر اس نے مجھے جنگ لڑنے کی قدرت نہ دی تو میں تعداد میں اضافہ کروں گا اور سامان کی حفاظت کروں گا۔ اور یہ روایت بھی ہے کہ بعض لوگوں نے شام کے غزوات میں ایک آدمی کو دیکھا بڑھاپے کی وجہ سے اس کے دونوں ابرو اس کی آنکھوں پر ڈھلکے ہوئے تھے ‘ تو اس آدمی نے اسے کہا : اے چچا ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تجھے معذور قرار دیا ہے۔ تو اس نے جواب دیا : اے میرے بھتیجے ! تحقیق ہمیں جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیا گیا ہے اس حال میں کہ ہم خفیف (جوانض ہوں یا ثقیل (بوڑھے) ہوں۔ حضرت ابن ام مکتوم ؓ نے غزوہ احد کے دن کہا۔ ان کا اسم گرامی عمرو تھا : میں نابینا آدمی ہوں ‘ تو انہوں نے جھنڈا میرے سپرد کردیا ‘ کیونکہ جب علمبر دار شکست کھا جائے تو پورا لشکر شکست سے دو چار ہوجاتا ہے اور میں نہیں جانتا تھا کہ کون اپنی تلوار کے ساتھ میرا قصد کرے گا پس میں کھڑا رہا۔ اس دن علم حضرت مصعب بن عمیر ؓ نے پکڑا تھا اس کا بیان سورة آل عمران میں پہلے گزر چکا ہے۔ پس اس وجہ سے اور جو کچھ اس کی مثل صحابہ کرام اور تابعین علیہم الرضوان سے مروی ہے ہم نے کہا ہے کہ نسخ کا بیان صحیح نہیں ہے۔ اور کبھی ایسی حالت پیدا ہوجاتی ہے کہ اس میں تمام کا نکلنا واجب ہوجاتا ہے اور وہ یہ ہے :
مسئلہ نمبر 4 ۔ جب جہاد ملک کے حصص میں سے کسی حصہ میں دشمن کے غلبہ پا لینے کے سبب یا اس کے اپنا لشکر اتار لینے کے سبب متعین ہوجائے (یعنی فرض عین ہوجائے) تو ایسے حالات میں اس ملک کے جملہ باسیوں پر واجب ہے کہ وہ اس کی طرف نکلیں ‘ کوچ کریں ہلکے ہوں یا بوجھل ‘ جو ان ہوں یا بوڑھے ‘ ہر کوئی اپنی طاقت کے مطابق شریک ہوگا ‘ جس کا باپ ہو وہ اس کی اجازت کے بغیر نکلے اور وہ بھی جس کا باپ (زندہ) نہ ہو ‘ جو بھی خروج کی قدرت رکھتا ہے وہ پیچھے نہیں رہے گا ‘ چاہے وہ جنگجو ہو یا تعداد میں اضافہ کرنے والا۔ اور اگر اس ملک کے باسی اپنے دشمن کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہوں تو پھر جو ان کے قریب رہ ہے ہیں اور ان کے پڑوس اور جوار میں واقع ہیں ان پر اسی طرح خرچ لازم ہے جس طرح اس ملک کے اپنے باسیوں پر یہاں تک کہ وہ جان لیں کہ ان میں دشمن کے سامنے کھڑا ہونے اور ان کا دفاع کرنے کی طاقت آگئی ہے۔ اور اسی طرح ہر اس پر خروج لازم ہے جسے دشمن کے مقابلے میں ان کی کمزوری کا علم ہو اور وہ یہ جانتا ہو کہ وہ انہیں پالے گا اور ان کے لیے ان کی مدد کرنا ممکن ہوگا تو اس پر بھی ان کی طرف نکلنا لازم ہے۔ پس مسلمان تمام کے تمام ان کے خلاف ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہیں جو ان کے سوا ہیں ‘ یہاں تک کہ جب اس علاقے کے لوگ دشمن کو روکنے پر قادر ہوگئے جہاں دشمن اترا ہوا تھا تو پھر دوسروں سے وہ فرض ساقط ہوجائے گا۔ اگر دشمن دار الاسلام کے قریب آگیا اور وہ اس میں داخل نہ ہوا تو پھر بھی اس کی طرف خروج کرنا ان پر لازم ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا دین غالب آجائے ‘ ملک بچا لیا جائے ‘ سرحدیں محفوظ ہوجائیں اور دشمن کو ذلیل و رسوا کرلیا جائے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (1)
واجب جہاد میں دوسری قسم یہ ہے کہ امام وقت پر یہ بھی فرض ہے کہ وہ ہر سال ایک بار ایک طائفہ دشمن کی طرف بھیجے اور بذات خود ان کے ساتھ نکلے یا اسے بھیجے جس پر اسے مکمل یقین اور وثوق ہو تاکہ وہ انہیں اسلام کی طرف دعوت دے اور انہیں رحبت دلائے اور ان کی اذیتوں کو روکے اور اللہ تعالیٰ کے دین کو ان پر کھول کر بیان کرے ‘ یہاں تک کہ وہ اسلام میں داخل ہوجائیں یا وہ (احسان کے بدلیض جزیہ دینے کے لیے تیار ہوجائیں۔
اور جہاد میں ایک قسم یہ بھی ہے کہ وہ نفل ہے۔ اور وہ امام وقت کا یکے بعد دیگرے مختلف دستے روانہ کرنا اور غفلت و بیخبر ی کے اوقات میں اور فرصت کے لمحات میں سرایا بھیجنا ہے ‘ ایسی جگہوں میں چھائونیاں بنا کر ان کی تاک میں رہنا ہے جہاں سے دشمن کے حملے کا خطرہ ہو اور اپنی قوت و طاقت کا اظہار کرنا ہے۔ پس اگر کہا جائے : ایک آدمی کیسے کرسکتا ہے جب بقیہ تمام کوتاہی اور غفلت برت رہے ہوں۔ تو وہ یہ ہے۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ اس کے بارے کہا گیا ہے : وہ ایک قیدی کا قصد کرسکتا ہے اور وہ اس کا فدیہ دے سکتا ہے ‘ کیونکہ جب اس نے ایک کا فدیہ دے دیا تو اس نے ایک کے بارے میں اس سے زیادہ ذمہداری ادا کردی جو پوری جماعت پر لازم تھی ‘ کیونکہ اگر اغنیاء قیدیوں کا فدیہ تقسیم کرلیں تو ان میں سے ہر ایک فقط درہم سے کم ہی ادا کرے گا۔ اور وہ آدمی بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوگا اگر وہ اس پر قادر ہو ورنہ وہ لڑنے کے لیے ایک آدمی تیار کرے۔ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :” جس نے کسی لڑنے والے کو سازوسامان کے ساتھ تیار کیا تحقیق اس نے خود جنگ میں حصہ لیا اور جس نے خیر اور بھلائی کے ساتھ اس کے گھر والوں کی خبر گیری اور دیک بھال کی تحقیق وہ بھی جنگ میں شریک ہوا “ (1) اسے الصحیح نے نقل کیا ہے۔ اور یہ اس لیے ہے ‘ کیونکہ اس کا مکان اسے مستغنی نہیں کرسکتا اور اس کا مال اس کے لیے کافی نہیں ہوسکتا۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ روایت ہے کہ کسی بادشاہ نے کافروں کے ساتھ معاہدہ کیا اس شرط پر کہ وہ کسی کو قیدی بنا کر محبوس نہیں کریں گے ‘ پھر مسلمانوں میں سے کوئی آدمی ان کے کسی شہر میں گیا اور اس کا گزر ایک بند گھر کے پاس سے ہوا ‘ تو اسے ایک عورت نے آواز دی : میں قیدی ہوں ‘ تو اپنے امیر تک میری خبر پہنچا دینا۔ پس وہ اس (امیر) سے ملا اور اسے اپنے پاس کھانے کی دعوت دی اور دونوں باتوں کے ضمن میں کش مکش کرنے لگے ‘ تو اس نے بالآخر اس قیدی عورت کی خبر اس تک پہنچائی ‘ ابھی اس کی بات مکمل نہ ہوئی تھی کہ امیر اپنے پائوں پر کھڑا ہوا اور بالفور لڑنے کے لیے نکل پڑا اور سرحد کی طرف پیدل چل کر گیا یہاں تک کہ اس قیدی عورت کو نکال لایا اور اس جگہ کو اپنی ولایت میں لے لیا۔ ؓ ۔
اسے علامہ ابن عربی (رح) عنہ نے ذکر کیا ہے اور کہا ہے : تحقیق 527 ھ میں دشمن ہماری طرف آنکلا (اللہ اسے ہلاک و برباد کرے) اور لوٹ مار کے لیے ہمارے گھروں میں آگھسا ‘ اس نے ہمارے شرفاء کو قیدی بنا لیا اور وہ ہمارے شہروں میں اتنی تعداد میں داخل ہوا جس نے لوگوں کو خوفزدہ کردیا اور وہ تعداد بہت زیادہ اور کثیر تھی اگرچہ وہ اس حد کو نہ پہنچے جو انہوں نے بیان کی۔ تو میں نے والی اور مولی علیہ کو کہا : یہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے تحقیق یہ جال اور پھندے میں آچکا ہے ‘ پس چاہیے کہ تمہارے پاس برکت ہو اور چاہیے کہ تم سے دین کی مدد و نصرت کا اظہار ہو تم پر حرکت کرنا (نکلنا) فرض عین ہوچکا ہے ‘ پس چاہیے کہ اس کی طرف مقابلے کے لیے تمام لوگ نکلیں یہاں تک کہ تمام اطراف میں لوگوں میں سے کوئی بھی باقی نہ رہے اور اس کا گھیرائو کرلیا جائے ‘ کیونکہ یہ لامحالہ ہلاک ہوگا اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کے سبب خوش کرنا ہے۔ پس گناہ غالب آگئے اور دل گناہوں کے سبب کا نپ گئے اور لوگوں میں سے ہر کوئی لومڑ کی مثل ہوگیا جو اپنی بل میں پناہ لیتا ہے اگرچہ وہ اپنے پڑوس میں فریب اور جال دیکھ بھی لے۔ انا للہ وانآ الیہ رجعون ‘ وحسنا اللہ و نعم الوکیل۔ (2)
مسئلہ نمبر 7 ۔ قولہ تعالیٰ : وجاھدوا یہ جہاد کے بارے حکم ہے اور یہ امر الجھد سے مشتق ہے۔ باموالکم و نفسکم ابو دائود نے حضرت انس ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” تم مشرکوں کے ساتھ اپنے مالوں ‘ اپنی جانوں اور اپنی زبانوں کے ساتھ جہاد کرو “۔ اور یہ وصف ہے جو جہاد کو کامل بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسے نفع بخش بناتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے کمال اوصاف پر برانگیختہ کیا اور ذکر میں مال کو اس لیے مقدم کیا ‘ کیونکہ یہ جہاد کی تیاری میں پہلے خرچ ہونے والا ہے ‘ لہٰذا امر کو اسی طرح مرتب کیا جیسے وہ فی نسہ ہے۔