9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 9:42

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

اگر مال غنیمت سہل اور سفر بھی ہلکا سا ہوتا تو تمہارے ساتھ (شوق سے) چل دیتے لیکن مسافت ان کو دور (دراز) نظر آئی (تو عذر کرنیگے) اور خدا کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو آپ کے ساتھ ضرور نکل کھڑے ہوتے۔ یہ (ایسے عذروں سے) اپنے تئیں ہلاک کر رہے ہیں۔ اور خدا جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔

جب حضور نبی مکرم ﷺ غزوئہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو اللہ تعالیٰ نے قوم کا نفاق ظاہر کردیا۔ العرض سے مراد وہ جو منافع دنیا میں سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اور اس کا معنی ہے : اگر مال غنیمت قریب ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے خبر دی ہے کہ اگر انہیں مال غنیمت کی طرف بلایا جاتا تو وہ ضرور اس کی اتباع کرتے۔ عرضا یہ کان کی خبر ہے۔ قریباً یہ اس کی صفت ہے۔ وسفرا قاصدا یہ اس پر معطوف ہے۔ اور کان کا اہم محذوف ہے کیونکہ کلام اس پر دلالت کررہی ہے۔ اور تقدیر کلام یہ ہے : لوکان المدعوالیہ عرضأ قریباً وسفرا قاصدالاتبعوک (اگر وہ جس کی طرف دعوت دی گئی ہے وہ قریب ترین مال غنیمت ہوتا اور سفر آسان ہوتا جس کے راستے معلوم ہوتے تو وہ ضرور آپ کے پیچھے چلتے) یہ اشارہ منافقین کے لیے ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کردیا ہے ‘ کیونکہ وہ فی الجملہ ان لوگوں میں داخل ہیں جنہیں جہاد کے لیے نکلنے کا خطاب کیا گیا اور یہ کلام عرب میں موجود ہے ‘ وہ جملہ کا ذکر رکتے ہیں پھر وہ ضمیر لاتے ہیں جو ان میں سے بعض کی طرف لوٹ رہی ہوتی ہے ‘ جیسا کہ اس قول باری تعالیٰ میں کہا گیا : و ان منکم الا واردھا (مریم :71) اور تم سے کوئی ایسا نہیں مگر اس کا گزر دوزخ پر ہوگا) کہ اس ہاء سے مراد قیامت ہے۔ پھر اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا : ثم ننجی الذین اتقوا ونذرالظلمین فیھا جثیا۔ (مریم) (پھر ہم نجات دیں گے پرہیز گاروں کو اور رہنے دیں گے ظالموں کو دوزخ میں کہ وہ گھٹنوں کے بل گرے ہوں گے) اس میں اللہ تعالیٰ نے ھا ضمیر سے مراد جہنم لی ہے۔ منی کے اعتبار سے اس آیت کی نظیر سنت میں بھی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : لو یعلم أحدھم انہ یجد عظما سبینا أو مرما تین حسنتین لشھد العشائ ( اگر ان میں سے کوئی جان لے کہ وہ موٹی ہڈی یا دو نرم گوشت والی بوٹیاں پالے گا تو وہ ضرور عشاء کی نماز میں حاضر ہو) آپ فرما رہے ہیں : اگر ان میں سے کوئی جانتا کہ وہ کسی شے کو موجود اور جلدی پالے گا تو وہ یقینا اس کی وجہ سے مسجد میں آئے۔ ولکن بعدت علیھم الشقۃ ابوعبیدہ وغیرہ نے بیان کیا ہے : الشہ سے مراد دور دراز زمین کی طرف سفر کرنا ہے۔ کہا جاتا ہے : منہ شقہ شاقۃ (یہاں سے سفر مشقت آمیز ہے) اور اس سے مراد غزوئہ تبوک ہے۔ اور کسائی نے بیان کیا ہے کہ شقہ اور شقہ کہا جاتا ہے۔ جو ہری نے کہا ہے : الشقہ ضمہ کے ساتھہو تو مراد ہے کپڑوں کی پھٹن۔ اور الشقہ کا معنی دور دراز کا سفر بھی ہے اور بسا اوقات انہوں نے اسے اکسرہ کے ساتھ الشقہ بھی کہا ہے۔ اور الشقۃ وہ پھٹن ہے جو تختی یا لکڑی میں پائی جاتی ہے۔ اور غصے والے آدمی کے لیے کہا جاتا ہے : احتد فطارت منہ شقۃ (وہ غضبناک ہوا پس اس سے مشقت دور ہوگئی۔ ) وسیحلفون با للہ لواستطعنا یعنی اگر ہمارے لیے سواری اور مال کی وسعت ہوتی۔ لخرجنا معکم تو ہم ضرور تمہارے ساتھ نکلتے۔ اس کی نظیر یہ ارشاد ہے وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا (آل عمران :97) (اور اللہ کے لیے فرض ہے لوگوں پر حج اس گھر کا جو طاقت رکھتا ہو وہاں تک پہنچنے کی) حضور نبی مکرم ﷺ نے اس کی تفسیر میں ارشاد فرمایا : مراد ” زادراہ اور سواری ہے “ اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ یھلکون انسھم یعنی وہ جھوٹ اور نفاق کے ساتھ اپنے آپ کو ہلاک کررہے ہیں۔ واللہ یعلم انھم لکذبون اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ اس علت اور سبب کے بیان میں قطعا جھوٹے ہیں۔
Ayah 9:43

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

خدا تمہیں معاف کرے۔ تم نے پیشتر اس کے کہ تم پر وہ لوگ بھی ظاہر ہوجاتے جو سچے ہیں اور وہ بھی تمہیں معلوم ہوجاتے جو جھوٹے ہیں انکو اجازت کیوں دی ؟

قولہ تعالیٰ : عفا اللہ عنک لم اذنت لھم کہا گیا ہے کہ یہ افتتاح کلام ہے ‘ جیسے آپ کہتے ہیں : أصلحک اللہ وأعزک ورحمک (اللہ تعالیٰ نے تیری اصلاح فرمادی ‘ تجھے عطا فرمادی اور تجھ پر رحم فرمایا) یہ بھی اسی طرح کا جملہ ہے۔ اس تاویل کی بنا پر اس قول عفا اللہ عنک پر وقف کرنا اچھا ہے۔ اسے مکی ‘ مہدوی اور نحاس نے بیان کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ذنب سے قبل عفو کو خبر دی ہے تاکہ آپ کا قلب اطہر کسی خوف و اضطراب میں واقع نہ ہو۔ اور یہ کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے آپ سے در گزر فرمایا ہے آپ کے اس ذنب کے بارے میں جو آپ کے انہیں اجازت دینے کی صدور میں صادر ہوا۔ تو اس تقدیر پر وقف کرنا اچھا نہیں (عفا اللہ عنک ماکان من ذنبک فی أن أذنت لھم) اسے مہدوی نے بیان کیا ہے اور اسے نحاس نے اختیار کیا ہے۔ پھر کہا گیا ہے کہ اذن (اجازت دینے) کے بارے دو قول ہیں (1) آپ نے انہیں اپنے ساتھ نکلنے کی کیوں اجازت دے دی تھی ‘ حالانکہ بغیر تیاری اور سچی نیت کے بغیر ان کے نکلنے میں فساد ہے (2) آپ نے انہیں بیٹھے رہنے کی اجازت کیوں دے دی تھی جب انہوں نے طرح طرح کے عذر پیش کیے ‘ ان دونوں کو علامہ قشیری نے بیان کیا ہے ‘ فرمایا : یہ لطف بھر اعتاب ہے۔ کیونکہ پہلے فرما دیا : عفا اللہ عنک اور حضور نبی مکرم ﷺ نے اس بارے میں وحی نازل ہوئے بغیر ہی اجازت عطا فرما دی تھی۔ حضرت قتادہ اور عمرو بن میمون (رح) نے کہا ہے : دو کام ہیں جو حضور نبی مکرم ﷺ نے کیے در آنحا لی کہ آپ کو ان کے بارے حکم نہیں دیا گیا تھا۔ ایک آپ ﷺ کا منافقین کی جماعت کو اپنے سے پیچھے رہنے کے بارے میں اجازت دینا ‘ حالانکہ اس کے بارے وحی کے ذریعہ کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا اور دوسرا آپ ﷺ کا قیدیوں کا فدیہ لینا۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو عتاب فرمایا جیسا کہ تم سن رہے ہو۔ بعض علماء نے کہا ہے : آپ ﷺ سے ترک اولیٰ صادر ہوا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے عفو و در گزر کا ذکر اس خطاب سے مقدم کیا جو عتاب کی صورت میں فرمایا : قولہ تعالیٰ : حتی یتبین لک الذین صدقوا و تعلم الکذبین تاکہ آپ کے لیے ظاہر ہوجاتے وہ جنہوں نے سچ بولا ان سے جنہوں نے نفاق اختیار کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ اس وقت منافقین کو نہ پہچانتے تھے ‘ بلاشبہ آپ ﷺ نے انہیں مورۃ التوبہ نازل ہونے کے بعد پہچانا۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : یہ وہ قوم ہے جنہوں نے کہا : ہم (پیچھے) بیٹھے رہنے کی اجازت طلب کریں ‘ پس اگر آپ نے ہمیں اجازت عطا فرمادی تو ہم بیٹھ رہیں گے اور اگر آپ نے ہمیں اجازت نہ دی تو بھی ہم بیٹھ رہیں گے۔ اور حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : یہ آیت سورة النور کی اس آیت کے ساتھ منسوخ ہے۔ فاذا استاذنوک لبعض شانھم فاذن لمن شئت منھم (النور :62)
Ayahs 9:44–45

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تم سے اجازت نہیں مانگتے (کہ پیچھے رہ جائیں بلکہ چاہتے ہیں کہ) اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور خدا پرہیزگاروں سے واقف ہے۔

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

اجازت وہی لوگ مانگتے ہیں جو خدا پر اور پچھلے دن پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ سو وہ اپنے شک میں ڈانواڈول ہو رہے ہیں۔

قولہ تعالیٰ : لایستاذنک الذین یؤمنون با للہ والیوم الا خر یعنی وہ بیٹھنے کے بارے میں اجازت نہیں مانگیں گے اور نہ خروج کے بارے میں ‘ بلکہ جب آپ انہیں کسی شے کے بارے حکم دیں گے تو وہ فوراً اسے بجا لائیں گے ‘ تو گویا اس وقت بغیر عذر کے اجازت مانگنا نفاق کی علامات میں سے تھا۔ اسی لیے فرمایا : انما یستاذنک الذین لا یؤمنون باللہ والیوم الاخر وارتابت قلوبھم فھم فی ریبھم یترددون۔ ابو دائود نے حضر ابن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : لایستا ذنک الذین یؤمنون باللہ اسے اس آیت نے منسوخ کیا ہے جو سورة النور میں ہے : انما المؤمنون الذین امنوا با للہ ورسولہ۔۔۔۔۔ تا قولہ۔۔۔۔۔ غفورر حیم۔ (النور) ان یجاھدوا یہ فی کو مضمر کرنے کے سب محل نصب میں ہے۔ یہ زجاج سے مروی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : تقدیر عبارت یہ ہے کراھیۃ ان یجاھدوا (جہاد کرنے کو ناپسند کرتے ہوئے) جیسا کہ یہ ارشاد ہے : یبین اللہ لکم ان تضلوا (النسائ :176) صاف صاف بیان کرتا ہے اللہ تمہارے لیے (اپنے) احکام تاکہ گمراہ نہ ہو جائو) وارتابت قلوبھم اور ان کے دلوں میں شک کیا ہے۔ فھم فی ریبھم یترددون یعنی وہ اپنے شک میں ہی جارہے ہیں اور لوٹ رہے ہیں (یعنی ڈانواں ڈول ہیں)
Ayah 9:46

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لئے سامان تیار کرتے لیکن خدا نے انکا اٹھنا (اور نکلنا) پسند ہی نہ کیا تو ان کو ہلنے جلنے نہ دیا اور (ان سے) کہہ دیا گیا کہ جہاں (معذور) بیٹھے ہیں تم بھی ان کے ساتھ بیٹھے رہو۔

قولہ تعالیٰ : ولو ارادوا الخروج لاعدوا لہ عدۃ یعنی اگر انہوں نے جہاد کا ارادہ کیا ہوتا تو وہ سامان سفر ضرور تیار کرتے۔ پس ان کا تیاری کو ترک کرنا ہی ان کے پیچھے رہنے کے ارادہ پر دلیل ہے۔ ولکن کرہ اللہ انبعا ثھم لیکن ان کے آپ کے ساتھ نکلنے کو اللہ تعالیٰ نے ناپسند کیا۔ فثبطھم اس لیے اس نے انہیں آپ سے روک دیا اور انہیں رسوا کردیا ‘ کیونکہ انہوں نے یہ کہا تھا : اگر آپ نے ہمیں بیٹھے رہنے کی اجازت نہ دی تو ہم فساد برپا کریں گے اور ہم مومنین کے خلاف (لوگوں کو) اکسائیں گے ‘ برانگیخۃ کریں گے۔ اور یہ اس پر دلیل ہے کہ اس کے بعد اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو بجز فساد کے تم میں کچھ اضافہ نہ کرتے۔ وقیل اقعدو امع القعدین کہا گیا ہے یہ اس قول میں سے ہے جو ان میں سے بعض نے بعض کو کہا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حضور نبی مکرم مکرم ﷺ کے قول میں سے ہے۔ اور یہی وہ اجازت ہے جو آپ نے انہیں دی جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ کہا گیا ہے : حضور نبی مکرم ﷺ نے غضب کی حالت میں انہیں یہ فرمایا اور انہوں نے اس کے ظاہر الفاظ کو پکڑ لیا اور کہنے لگے : تحقیق آپ نے ہمیں اجازت عطا فرمادی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ خذ لان اور رسوائی سے عبارت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں بیٹھے رہنے کا تصور ڈال دیا۔ اور مع القعدین کا معنی ہے یعنی ان لوگوں کے ساتھ جو تکلیف زدہ ‘ اندھے ‘ پاہج ‘ عورتیں اور بچے ہیں تم بیٹھے رہو۔
Ayah 9:47

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر وہ تم میں (شامل ہو کر) نکل بھی کھڑے ہوتے تو تمہارے حق میں شرارت کرتے اور تم میں فساد ڈلوانے کی غرض سے دوڑے دوڑے پھرتے۔ اور تم میں انکے جاسوس بھی ہیں۔ اور خدا ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

قولہ تعالیٰ : لو خرجوا فیکم ما زادو کم الا خبالا یہ مومنوں کو تسلی دی جارہی ہے اس بارے میں کہ منافق ان سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ اور الخبال سے مراد فساد برپا کرنا ‘ چغل خوری کرنا ‘ اختلاف پیدا کرنا اور جھوٹی خبریں اڑانا ہے۔ اور یہ استثنا منقطع ہے ‘ ای مازادوکم قوۃ ولکن طلبوا الخبال (یعنی وہ تمہاری قوت اور طاقت میں اضافہ نہ کرتے بلکہ وہ فساد اور اختلاف پیدا کرتے) اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے وہ تمہارے لیے اس میں اضافہ نہ کرتے سوائے فساد کے جس بارے میں وہ رائے کے اعتبار سے ڈانوال ڈول ہیں۔ تو اس صورت میں یہ استثنا منقطع نہ ہوگا۔ لایزیدوئکم فیما یترددون (فیہ) من الرأی الا خبالا۔ قولہ تعالیٰ ولا اوضعوا خللکم اس کا معنی ہے کہ وہ بڑی تگ و دو اور محنت کے ساتھ تمہارے درمیان فساد برپا کرنے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے۔ راجز نے کہا ہے : یا لیتنی فیھا جذع أغب فیھا وأضع کہا جاتا ہے : وضع البعیہ ‘ جب اونٹ دوڑ نے لگے یضع وضعا ووضوعاجب چال زیادہ تیزہو۔ اور أوضعتہ اس کا معنی ہے میں نے اسے دوڑنے پر ابھارا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : الایضاع سے مراد ایسی چال ہے جو دوڑ کی چال کی مثل ہو۔ اور الخلل کا معنی ہے دوچیزوں کے درمیان شگاف کا ہونا ‘ اس کی جمع الخلال ہے ‘ مراد وہ شگاف ہیں جو صفوں کے درمیان ہوتے ہیں ‘ یعنی وہ فساد برپا کرکے اور چغل خوری کے ذریعے تمہارے درمیان خلل اور دراڑیں ڈالنے کی کوشش کرتے۔ یبغو نکم الفتنۃ یہ مفعول ثانی ہے۔ اور اس کا معنی ہے وہ تمہارے لیے فتنہ تلاش کرتے ‘ یعنی فساد برپا کرکے اور (فساد پر) اکسا کر۔ اور کہا جاتا ہے : ابغیتہ کذا میں نے اس کی طلب اور تلاش میں اس کی مدد کی اور بغیتہ کذا میں نے اسے اس کے لیے تلاش کیا۔ اور کہا گیا ہے کہ یہاں فتنہ سے مراد شرک ہے۔ وفیکم سمعون لھم اور تم میں ان کے جاسوس ہیں جو ان کی طرف تمہاری خبریں پہنچاتے ہیں۔ حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : اور تم میں وہ لوگ ہیں جو ان کی بات قبول کرتے ہیں اور ان کی اطاعت و پیروی کرتے ہیں۔ نحاس نے کہا ہے : پہلا قول زیادہ اولیٰ ہے ‘ کیونکہ دونوں معنوں میں سے غالب معنی یہ ہے کہ سماع کا معنی ہے وہ کلام کو سنتا ہے۔ اور اسی کی مثل سماعون للکذب بھی ہے اور دوسرا قول اس میں فقط سامع کہا جاسکتا ہے ‘ جیسا کہ قائل۔
Ayah 9:48

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

یہ پہلے بھی طالب فساد رہے ہیں اور بہت سی باتوں میں تمہارے لئے الٹ پھیر کرتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ حق آپہنچا اور خدا کا حکم غالب ہوا اور وہ برا مانتے ہی رہ گئے۔

قولہ تعالیٰ : لقد ابتغوا الفتنۃ من قبل یعنی انہوں نے فساد برپا کرنے اور اختلاف پیدا کرنے کی کوشش اور تگ و دو کی اس سے پہلے کہ ان کا معاملہ ظاہر ہو اور اس کے بارے وحی نازل ہو جسے انہوں نے مخفی اور پوشیدہ رکھا اور اس کے بارے جو وہ عنقریب کریں گے۔ ابن جریج نے کہا ہے : مراد منافقین کے بارہ آدمی ہیں ‘ وہ عقبہ کی رات ثنیۃ الوداع پر ٹھہرے تاکہ (نعوذ باللہ) وہ حضور نبی مکرم ﷺ کو قتل کردیں۔ وقلبو الک الامور یعنی جو دین آپ لے کر آئے ہیں اس کو باطل کرنے کے بارے میں اپنی آراء اور تجاویز کو بدلتے رہتے تھے اور گھماتے رہتے تھے۔ حتی جآء الحق وظھرا امر اللہ یعنی حق آگیا اور اللہ تعالیٰ کا دین غالب ہوگیا۔ وھم کرھون ( اور وہ ناخوش تھے)
Ayahs 9:49–50

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے تو اجازت ہی دیجئے۔ اور آفت میں نہ ڈالئے۔ دیکھو یہ آفت میں پڑگئے ہیں اور دوزخ سب کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ اگر تم کو آسائش حاصل ہوتی ہے تو انکو بری لگتی ہے۔ اور اگر کوئی مشکل پڑتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنا کام پہلے ہی (درست) کرلیا تھا۔ اور خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں۔

قولہ تعالیٰ : ومنھم من یقول ائذن لی یہ أذن یأ ذن سے ہے۔ اور جب امر بنایا گیا تو اس میں ہمزہ مسکور زائد کیا گیا اور اس کے بعد ایک ہمزہ ہے جو فعل کا فاکلمہ ہے اور دو ہمزے جمع نہیں ہو سکتے۔ پس دوسرے کو ماقبل مکسور ہونے کی وجہ سے یا سے بدل دیا گیا تو تو نے ایذن کہا۔ اور جب یہ وصل کلام میں ہو تودو ہمزوں کے جمع ہونے کی علت ساقط اور زائل ہوجاتی ہے چناچہ وہ یا پھر ہمزہ ہوئی۔ اور تو نے یہ پڑھا : ومنھم من یقول ائذن لی۔ ورش نے حضرت نافع سے روایت کیا ہے : ومنھم من یقول أوذن لی انہوں نے ہمزہ کو مخفف کیا ہے ( یعنی اس کا ماقبل لام مضموم ہونے کی وجہ سے اسے وائو سے بدل دیا ہے) نحاس نے کہا ہے : کہا جاتا ہے ایذن لفلان ثم ایذن لہ پہلے اور دوسرے کے ہجے لکھنے میں ذل سے پہلے الف اور یا کے ساتھ ایک ہیں۔ اور اگر تو کہے : ایذن لفلان و ائذن لغیرہ اس میں دوسرا بغیر یا کے ہے اور اسی طرح فاکلمہ بھی ہے۔ اور ثم اور وائو کے درمیان فرق یہ ہے کہ ثم پر وقف کیا جاتا ہے اور کلام منفصل ہوجاتی ہے اور وائو اور فا ان دونوں پر وقف نہیں کیا جاتا اور نہ یہ دونوں جدا ہوسکتے ہیں۔ محمد بن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب غزوئہ تبوک کے لیے نکلنے کا ارادہ فرمایا تو بنی مسلمہ کے بھائی جدبن قیس کو فرمایا :” اے جد ! کیا تیرے لیے بنی الا صفر کی اونٹنیوں میں رغبت ہے تو ان سے لونڈیاں اور خدمت گار غلام بھی پالے گا “۔ تو جدنے کہا : میری قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کا دلدادہ ہوں اور بلاشبہ مجھے یہ خوف ہے کہ اگر میں نے بنی الاصفر کو دیکھ لیا تو پھر میں ان سے صبر نہیں کرسکوں گا ‘ اس لیے آپ مجھے آزمائش اور فتنہ میں نہ ڈالیے اور مجھے گھر پر ہی بیٹھے رہنے کی اجازت عطا فرما دیجئے اور میں آپ کے ساتھ مالی تعاون کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے اعراض فرمالیا اور فرمایا : تیرے لیے اجازت ہے “ تب یہ آیت نازل ہوئی ‘ یعنی آپ مجھے ان کے چہروں کی چمک اور خوبصورتی کے ساتھ فتنہ میں نہ ڈالیے۔ اور اس کا سبب نفاق کے سوا اور کچھ نہیں۔ مہدوی نے کہا ہے : اصفر حبشہ میں رہنے والا ایک آدمی تھا اس کی بیٹیاں تھیں ان کے وقت میں ان سے زیادہ خوبصورت کوئی نہ تھا اور اس کی رہائش بلادروم میں تھی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : انہیں یہ نام اس لیے دیا گیا کیونکہ حبشہ والے روم پر غالب آگئے اور ان کے ہاں بیٹیاں پیدا ہوئیں پس انہوں نے روم کی سفیدی اور حبشہ کی سیاہی اپنے سمولی نتیجۃ وہ سیاہی مائل سرخ رنگ کی ہوگئیں۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : ابن اسحاق کے قول میں فتور اور کمزوری ہے۔ طبری نے اپنی سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” تم جہاد کرو تم بنات اصفر کو غنیمت میں پائو گے “۔ تو جد نے آپ کو کہا : آپ ہمیں اجازت عطا فرمادیجئے اور عورتوں کے ساتھ ہمیں فتنہ میں مبتلانہ کیجئے۔ یہ قول پہلے کے سوا اور سے نکالا گیا ہے اور یہ نفاق اور عداوت کے زیادہ مشابہ ہے۔ اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور نبی مکرم ﷺ نے بنی سلمہ کو کہا۔۔۔۔۔ اور جد بن قبس ان میں تھا :” اے بنی سلمہ ! تمہارا سردار کون ہے ؟ “ انہوں نے کہا : جد بن قیس ‘ مگر وہ بخیل اور بزدل ہے۔ تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :” کون سا عیب ہے جو بخل سے بڑھ کر قبیح ہو بلکہ تمہارا سردار خود برونوجوان بشر بن براء بن معرور ہے “۔ پس حضرت حسان بن ثابت انصاری ؓ نے اس کے بارے میں فرمایا : وسود بشر بن البراء الجودہ وحق لبشر بن البراء أن یسودا اذا ما أتاہ الوفد ٹذھب مالہ وقال خدوہ اننی عائد غدا الا فی الفتنۃ سقطوا یعنی وہ گناہ اور معصیت میں واقع ہوچکے۔ اور وہ نفاق اور حضور نبی مکرم ﷺ سے پیچھے رہنا ہے۔ وان جھنم لمحیطۃ بالکفرین یعنی بلاشبہ ان کا سفر جہنم کی آگ کی طرف ہے اور وہ انہیں چاروں طرف سے گھیرلے گی۔ قولہ تعالیٰ : ان تصبک حسنۃ تسؤھم یہ شرط و جزا ہے اور اسی طرح وان تصبک مصیبۃ یقولوا قد اخذنآ امرنا من قبل ویتولوا اس پر معطوف ہے۔ اور الحسنۃ سے مراد غنیمت اور کامیابی ہے۔ اور املصیبۃ سے مراد شکست اور پسپائی ہے۔ اور ان کے اس قول : اخذنآ امرنا من قبل کا معنی ہے ہم نے اپنے نفسوں کے بارے احتیاط برتی ہے اور ہم نے انتہائی حزم و احتیاط کو لازم پکڑا ہے ہم قتال کی طرف نہیں نکلے۔ ویتولو اور وہ ایمان سے پیٹھ پھر لیتے ہیں۔ وھم فرحون درآنحا لی کہ وہ اس پر اتراتے اور اظہار فخر کرتے ہیں۔
Ayah 9:51

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہم کو کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی بجز اسکے کہ جو خدا نے ہمارے لئے لکھ دی ہو۔ وہی ہمارا کارساز ہے اور مومنوں کو خدا ہی کا بھروسہ رکھنا چاہئے۔

قولہ تعالیٰ : قل لن یصیبنآ الا ما کتب اللہ لنا کہا گیا ہے : اس سے مراد وہ ہے جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : جس کے بارے اس نے ہمیں اپنی کتاب میں خبر دی ہے کہ میں کون ہوں یا تو ہم کامیاب ہوں گے پس کامیابی و کامرانی ہمارے لیے اچھی ہوگی اور یا ہم شہید کردیئے جائیں گے تو شہادت ہمارے لیے بہت عظیم نیکی اور سعادت ہوگی ‘ چناچہ معنی یہ ہے ہر شے قضا و قدر کے مطابق ہے۔ سورة اعراف میں پہلے یہ گزرچاک ہے کہ علم ‘ قدر اور کتاب سب سرابر اور یکساں ہیں۔ ھومولنا یعنی وہ ہمارا حامی اور ناصر ہے۔ اور توکل سے مراد اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا ہے۔ اور جمہور کی قراءت میں یصیبنا ‘ لن کے سبب منصوب ہے۔ ابوعبیدہ نے بیان کیا ہے کہ بعض عرب اس کے ساتھ جزم دیتے ہیں۔ اور طلحہ بن مصرف نے ھل یصیبنا پڑھا ہے۔ اور رے کے قاضی اعین کے بارے بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے قل لن یصیبنآ نون مشدہ کے ساتھ قرائت کی ہے اور ہی غلطی ہے ‘ کیونکہ نون کے ساتھ اسے مؤکد نہیں کیا جاتا جو خبر ہو اور اگر یہ طلحہ کی قرائت میں ہوتا تو جائز ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ھل یذھبن کیدہ مایغیظ۔ (الحج) (آیا دور کردیا ہے اس کی (خود کشی کی) تدبیر نے اس کے غم و غصہ کو) (1)
Ayah 9:52

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ایک کے منتظر ہو۔ اور ہم تمہارے حق میں اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا (یا تو) اپنے پاس سے تم پر کوئی عذاب نازل کرے یا ہمارے ہاتھوں سے (عذاب دلوائے) تو تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں۔

قولہ تعالیٰ : قل ھل تربصون بنآ کو فی لام کو تا میں ادغام کرتے ہیں ‘ پس جہاں تک لام المعرفہ کا تعلق ہے تو اس میں ادغام کے سوا کچھ جائز نہیں ‘ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : التائبون کیونکہ ان (عربوں) کے کلام میں لام معرفۃ کا استعمال کثیر ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : قل تعالوا میں ادغام جائز نہیں ‘ کیونکہ اس میں قل معتل ہے ‘ لہذا اس میں دو تعلیلیں جمع نہیں ہو سکتیں اور التربص کا معنی انتظار کرنا ہے۔ کہا جاتا ہے : تربص بالطعام یعنی تواناج کا انتظار کر اس کے مہنگا ہونے کے وقت تک۔ اور الحسنی ‘ الا حسن کی تانیث ہے۔ اور حسنیین کا واحد حسنی ہے اور جمع الحسن ہے۔ اور اسے فقط معرف با للام بولنا جائز ہے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا : رأیت امرأۃ حسنی ‘ اور الحسنیین سے مراد غنیمت اور شہادت ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس اور حضرت مجاہد ؓ وغیرہ سے منقول ہے۔ اس میں لفظ استفہام موجود ہے اور وہ زجرو تو بیخ کے معنی کے لیے ہے۔ ونحن نتربص بکم ان یصیبکم اللہ بعذاب من عندہ یعنی اللہ تمہیں اپنے پاس سے ایسی سزا اور عذاب دے تمہیں ہلاک و تباہ کردے ‘ جیسا کہ اس نے تم سے پہلے امم ماضیہ کو پہنچایا۔ او بایدینا یعنی وہ ہمیں تمہارے قتال کے بارے میں اجازت عطا فرما دے۔ فتربصوا یہ تہدید (جھڑک) اور وعید ہے یعنی تم شیطان کے وعدوں کا انتظار کرو بیشک ہم تو اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے منتظر ہیں۔
Ayah 9:53

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم (مال) خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائیگا۔ تم نافرمان لوگ ہو۔

اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ آیت جد بن قیس کے بارے میں نازل ہوئی جب اس نے یہ کہا : مجھے گھر بیٹھے رہنے کی اجازت عطا فرمادیجئے اور یہ میرا مال ہے میں اس کے ساتھ آپ کی اعانت کروں گا۔ اور انفقوا کا لفظ امر ہے اور اس کا معنی شرط اور جزا ہے۔ عرب اسی طرح اس معنی میں استعمال کرتے ہیں ‘ وہ او کے ساتھ لاتے ہیں ‘ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : أسیٔ بنا أو أحسنی لا ملومۃ لدینا ولا مقلیۃ ان تقلت اور اس کا معنی ہے ان أسات أو أحسنت فنحن علی ما تععر فین ( اگر تو نے گناہ کیا یا نیکی کی پس ہم اسی حال پر ہیں جس پر تو جانتی ہیں) اور آیت کا معنی ہے : ان أنفقتم طائعین أومکرھین فلن یقبل منکم ( اگر تم خرچ کرو گے خوشی سے یا نا خوشی سے وہ ہر گز تم سے قبول نہیں کیا جائے گا) پھر اللہ تعالیٰ نے وضاحت بیان فرمائی کہ ان سے کیوں نہیں قبول کیا جائے گا ؟ تو ارشاد فرمایا : ومامنعھم انتقبل منھم نفقتھم الا انھم کفروا با للہ و برسولہ (اور نہیں منع کیا ہے انہیں کہ قبول کیے جائیں ان سے ان کے اخراجات سوائے اس کے کہ انہوں نے کفر کیا اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ) پس اس بارے میں واضح ترین دلیل یہ ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ یہ اس بنا پر ہے کہ کافر کے افعال جب نیکی اور خیر کے ہوں مثلا رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا ‘ ٹوٹے ہوئے کو جوڑنا اور مظلموم کی مدد کرنا وغیرہ ان پر ثواب نہیں دیا جائے گا اور نہ آخرت میں اسے ان سے کوئی نفع حاصل ہوگا ‘ مگر یہ کہ دنیا میں ان کے عوض اسے رزق اور نعمتوں سے نوازا جاتا ہے ‘ اس کی دلیل وہ روایت ہے جسے امام مسلم (رح) نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کیا ہے آپ فرماتی ہیں : میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ﷺ ابن جدعان دور جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا ‘ تو کیا وہ اسے کوئی نفع دے گا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” وہ اسے نفع نہیں دے گا ‘ بیشک اس نے ایک دن بھی نہیں کہا : اے میرے رب ! قیامت کے دن میرے گناہوں کی مغفرت فرما دے “۔ اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” بیشک اللہ تعالیٰ کسی مومن ظلم نہیں کرے گا اس کی نیکی کا اجر اسے دنیا میں بھی عطا فرمایا جائے گا اور آخرت میں بھی اس کے بدلے اسے جزادی جائے گی۔ اور رہا کافر تو دنیا میں اس نے جو نیک اعمال کیے ان کے بدلے دنیا میں اسے اجر عطا کیا جاتا ہے مگر جب وہ آخرت میں جا پہنچے گا تو اس کے لیے کوئی ایسی نیکی نہ ہوگی جس کی اسے جزا دی جائے “ اور یہ نص ہے۔ پھر کہا گیا ہے : کیا اس سچے وعدہ کے حکم کے مطابق ضروری ہے کہ وہ کافر کو عطا کرے اور دنیا میں اس کی نیکیوں کا بدلہ اسے دے یا یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ساتھ مقید ہے جس کا ذکر اس ارشاد میں کیا گیا ہے : عجلنا لہ فیھا ما نشآء لمن نرید (الاسرائ :18) (ہم جلدی دے دیتے ہیں اس دنیا میں جتنا چاہتے ہیں ( ان میں سے) جسے چاہتے ہیں) ۔ دونوں قولوں میں سے یہی صحیح ہے ‘ واللہ اعلم کافر سے صادر ہونے والے عمل کو نیکی کا نام دینا بلاشبہ یہ کافر کے ظن اور گمان کے مطابق ہے ورنہ اس سے قربت کا حاصل ہونا صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ وہ شرط جو اسے صحیح قرار دیتی ہے وہ موجود نہیں ہے اور وہ ایمان ہے۔ یا پھر اسے حسنہ (نیکی) کا نام دیا گیا ہے ‘ کیونکہ وہ صورئۃ اور ظاہراً مومن کی نیکی کے مشابہ ہوتی ہے اس میں بھی دو قول ہیں۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ پس اگر کہا جائے : امام مسلم نے حضرت حکیم بن حزام ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ آپ کا ان امور کے بارے کیا خیال ہے جو عبادت ‘ صدقہ ‘ غلام کو آزاد کرنے یا صلہ رحمی وغیرہ میں زمانہ جاہلیت میں کرتا تھا کیا ان کا اجرہو گا ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” تو ان پر ہی اسلام لایا ہے جو تو نے ماضی میں خیر کے اعمال کیے “۔ ہم کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کا ارشاد : أسلمت علی ما أسلفتَ من خیر اس کا ظاہر اصول کے خلاف ہے ‘ کیونکہ کافر کو اس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہونا صحیح نہیں ہے کہ وہ اس کی طاعت و عبادت پر ثواب ہوجائے ‘ کیونکہ قرب حاصل کرنے والے کے لیے شرط ہے کہ وہ اسے پہچانتا ہو جس کے وہ قریب ہو رہا ہے ‘ پس جب شرط معدوم ہوگئی تو مشروط کے صحیح ہونے کی بھی نفی ہوگئی۔ پس حدیث میں معنی یہ ہے : بیشک تو نے جاہلیت میں حسین و جمیل مزاج اور طبیعت بنائی تو اسی اچھی اور خوبصورت عادت نے تجھے اسلام میں پہنچا دیا۔ اور وہ یہ ہے کہ حضرت حکیم ؓ ایک سو بیس برس تک زندہ رہے ‘ ساٹھ سال اسلام میں اور ساٹھ سال جاہلیت کی حالت میں رہے۔ پس آپ نے جاہلیت میں ایک سو غلام آزاد کیے اور سو اونٹوں پر سوار کیا ؟ اور اسی طرح آپ نے اسلام میں بھی کیا اور یہ بالکل واضح ہے۔ تحقیق کہ کا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بعید نہیں ہے کہ وہ اسے اس کے اس فعل پر ثواب عطا فرمائے جو اس نے اسلام کے سبب کیا ‘ جیسا کہ وہ اس سے ان گناہوں کو ساقط کردیتا ہے جن کا ارتکاب اس نے حلت کفر میں کیا۔ اور بلاشبہ اسے اجرو ثواب نہیں دیا جائے گا جو نہاسلام لیوا ہو نہ اس نے توبہ کی اور حالت کفر میں ہی مرگیا۔ اور یہ حدیث کا ظاہراً معنی ہے اور یہی صحیح ہے انشاء اللہ تعالیٰ ۔ نیکی اور خیر کا جو عمل وہ کرتا ہے اس پر ثواب نہ ہونے کا سبب ایمان کی شرط کا نہ پایا جانا نہیں ہے ‘ پھر وہ اسلام لایا اور مسلمان ہونے کی حالت میں ہی فوت ہوا شرط عقلی کے مطابق وہ تبدیل نہ ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ کرمی ہے کہ وہ اس کا عمل ضائع کردے جب کہ اس کا اسلام حسین ہو۔ (یعنی اللہ تعالیٰ کی وجو دو عطا اور کرم کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس کا عمل ضائع نہ کرے جب کہ اس کا اسلام حسین اور خوبصورت ہو) حربی نے حدیث کی اس معنی پر تاویل کی ہے اور کہا ہے : أسلمت علی ما اسلفت یعنی تو نے جو پہلے نیکی اور خیر کے اعمال کیے ہیں پس وہ تیرے لیے ہی ہیں جیسا کہ آپ کہتے ہیں : أسلمت علی ألف درھم تو اسلام لایا ہزار درہم کی شرط پر یعنی اس شرط پر کہ اس نے اپنے لیے انہیں محفوظ کرلیا۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ پس اگر کہا جائے کہ امام مسلم (رح) نے حضرت عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے انہوں نے فرمایا : میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ﷺ ۔ بیشک ابو طالب آپ کی حفاظت کرتے تھے اور آپ کی مدد و نصرت کرتے تھے ‘ تو کیا اس کا انہیں کوئی نفع اور فائدہ ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :” ہاں ‘ میں نے انہیں آگ کی شدت اور سختی میں پایا تو میں نے انہیں تھوڑی آگ کی طرف نکال دیا “۔ آپ کو عرض کی گئی : بعید نہیں ہے کہ وہ کافر سے اس کے عمل خیر کے بدلے عذاب میں تخفیف کردے ‘ لیکن شفاعت ملنے اور حاصل ہونے کے ساتھ جیسا کہ ابو طالب کے بارے میں آیا ہے ‘ لیکن رہا اس کے بغیر تو قرآن کریم نے اپنے اس قول کے ساتھ خبردی ہے : فما تنفھم شفعاعۃ الشفعین۔ (المدثر) (پس انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچائے گی شفاعت کرنے والوں کی شفاعت) اور کافروں کے بارے خبر دیتے ہوئے فرمایا : فما لنا من شافعین۔ ولاصدیق حمیم۔ (الشعرائ) تو (آجض نہیں ہے ہمارا کوئی سفارشی اور نہ کوئی غم خوار دوست) امام مسلم (رح) نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ان کے چچا حضرت ابو طالب کا ذکر کیا گیا۔ تو آپ نے فرمایا : ” شاید قیامت کے دن میری شفاعت انہیں فائدہ اور نفع دے گی پس انہیں تھوڑی سی آگ میں رکھا جائے گا جو ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس سے ان کا دماغ کھول جائے گا “۔ اور حضرت عباس ؓ کی حدیث میں ہے :” اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے درک اسفل میں ہوتے “۔ قولہ تعالیٰ : انکم کنتم قوما فسقین اس میں فاسقین سے مراد کافرین ہیں۔
Ayah 9:54

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور ان کے خرچ (اموال) کے قبول ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوا اس کے کہ انہوں نے خدا سے اور اس کے رسول ﷺ سے کفر کیا اور نماز کو آتے ہیں تو سست و کاہل ہو کر اور خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے۔

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : وما منعھم ان تقبل منھم نفقتھم الا انھم اس میں پہلا أن محل نصب میں ہے اور دوسرا محل رفع میں ہے۔ اور اس کا معنی یہ ہے : اور انہیں نہیں منع کیا ہے کہ ان کے اخراجات ان سے قبول کیے جائیں سوائے انکے کفر کے۔ اور کو فیوں نے أن یقبل منھم یا کے ساتھ پڑھا ہے ‘ کیونکہ نفقات اور انفاق دونوں ایک ہی ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : ولایاتون الصلوۃ الا وھم کسالی حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : اگر وہ جماعت کے ساتھ ہو تو نماز پڑھے اور اگر منفرد ہو تو نماز نہ پڑھے اور یہی وہ ہے جو نماز پر کسی اجرو ثواب کی امید نہیں رکھتا اور وہ اسے ترک کرنے میں اللہ تعالیٰ کی سزا سے ڈرتا نہیں ہے ‘ پس نفاق با لیقین عبادت میں سستی کا وارث بنا دیتا ہے۔ اس بارے میں تفصیلی گفتگو سورة النساء میں گزر چکی ہے اور وہاں ہم نے حضرت علاء کی حدیث مکمل طور ذکر کردی ہے۔ والحمد للہ مسئلہ نمبر 3 ۔ قولہ تعالیٰ : ولا ینفقون الا وھم کرھون کیونکہ وہ اسے ایک جرمانہ اور چٹی شمار کرتے ہیں۔ اور اسے غنیمت جان کر روک رکھتے ہیں۔ اور جب معاملہ اس طرح ہے تو وہ قبول نہیں اور نہ ہی کوئی اس پر اجرو ثواب ہے جیسا کہ پہلے گزرچکا ہے۔
Ayahs 9:55–56

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

تم ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ خدا چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں انکو عذاب دے۔ اور (جب) ان کی جان نکلے تو ( اس وقت بھی) وہ کافر ہی ہوں۔

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تمہیں میں سے ہیں۔ حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں اصل یہ ہے کہ یہ ڈرپوک لوگ ہیں۔

یعنی آپ اسے اچھانہ سمجھیں جو ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اور نہ آپ اس کی طرف مائل ہوں کیونکہ وہ استدراج ہے۔ انما یریداللہ لیعذبھم حسن نے کہا ہے : اس کا معنی ہے زکوۃ نکالنے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے ساتھ اور یہ علامہ طبری کی پسند ہے۔ اور حضرت ابن عباس اور حضرت قتادہ ؓ نے فرمایا : کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اور معنی یہ ہے پس دنیوی زندگی میں ان کے مال اور ان کی اولاد تمہیں تعجب میں ڈال دیں۔ یہی چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کہ وہ انہیں آخرت میں ان کے ساتھ عذاب دے۔ اور یہ اکثر اہل اعلربیہ کا قول ہے۔ اسے نحاس نے ذکر کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ انہیں ان تمام میں تگ و دو اور مشقت کرنے کے سبب عذاب دے۔ اور اس تاویل اور حضرت حسن کے قول کی بنا پر اس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہے۔ اور یہ حسن ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے پس ان کے مال تمہیں تعجب میں نہ ڈال دیں اور نہ ان کی اولاد یہی چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کہ وہ انہیں ان کے ساتھ دنیا میں عذاب دے کیونکہ وہ منافق ہیں۔ چونکہ وہ ناخوش ہو کر خرچ کرتے ہیں پس وہ ان کے سبب عذاب دیئے جائیں گے جو وہ خرچ کرتے ہیں (1) ۔ وتزھق انفسھم وھم کفرون یہ اس بارے میں نص ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ مریں اس حال میں کہ وہ کافر ہوں۔ اسکے بارے پہلے ہی فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ ویحلفون باللہ انھم لمنکم بیان فرمایا کہ منافقین کے اخلاف میں سے یہ قسم اٹھانا ہے کہ وہ مومن ہیں اس کی نظیر یہ آیت ہے : اذا جآءک المنفقون قالوا لشھد انک لرسول اللہ الا یہ (المنافقون : 1) ( اے نبی مکرم ! ) جب منافق آپ کی خدمت میں حاضرہوتے ہیں تو کہتے ہیں : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقیناً اللہ کے رسول ہیں) الفرق کا معنی خوف ہے ‘ یعنی وہ ڈرتے ہیں وہ نظر یہ ظاہر کرنے سے جس پر وہ ہیں کہ وہ قتل کردیئے جائیں گے۔
Ayah 9:57

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر ان کو کوئی بچاؤ کی جگہ (جیسے قلعہ) یا غار ومغار یا (زمین کے اندر) گھُسنے کی جگہ مل جائے تو اسی طرف رسیاں تڑاتے ہوئے بھاگ جائیں

قولہ تعالیٰ : لو یجدون ملجاً اسی طرح اس پر وقف ہے۔ اور لکھنے میں دو الف ہیں : پہلا ہمزہ ہے اور دوسرا تنوین کے عوض ہے۔ اور اسی طرح رایت جزا ہے۔ اور ملجا کا معنی قلعہ ہے۔ یہ حضرت قتادہ وغیرہ سے منقول ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا معنی پناہ گاہ ہے۔ اور یہ دونوں معنی برابر ہیں۔ کہا جاتا ہے : لجات الیہ لجاء وملجا اور التجات الیہ (میں نے اسی کی طرف پناہ لی) یہ دونوں ہم معنی ہیں۔ اور وہ جگہ بھی لجاو ملجا کہلاتی ہے۔ اور التجئۃ کا معنی اکراہ ‘ مجبور کرنا ہے۔ اور الجاتہ الی الشق کا معنی ہے ( میں نے اسے اس کی طرف مجبور کردیا) اور ألجات أمری الی اللہ میں نے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا۔ اور عمر و بن لجا تمیمی شاعر ہے اور یہ جوہری سے منقول ہے۔ او مغرت یہ مغارۃ کی جمع ہے اور یہ غار یغیر سے ماخوذ ہے۔ اخفش نے کہا ہے : یہ بھی جائز ہے کہ یہ أغار یغیں ہو۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : الحمد لل ممسانا و مصبحنا حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : المغارات سے مراد غاریں اور تہہ خانے ہیں اور یہ وہ جگہیں ہیں جن میں چھپا جاسکتا ہے۔ اور اسی سے غار الماء اور غارت العین (پانی نیچے اتر گیا) ہے۔ او مدخلا یہ مفتعل کے وزن پر ہے اور دخول سے بنایا گیا ہے ‘ مراد ایساراستہ ہے جس میں داخل ہونے کے ساتھ ہم چھپ جاتے ہیں۔ اور لفظ مختلف ہونے کی وجہ سے اس کا اعادہ کیا (کیونکہ مفہوم تو دونوں لفظوں کا ایک ہے) نحاس نے کہا ہے : اس میں اصل مدتخل ہے ‘ تاکو دال سے بدلا گیا ہے۔ کیونکہ دال حروف مجہورہ میں سے ہے اور تامہموسہ میں سے اور یہ دونوں ایک مخرج سے ادا ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس میں اصل متدخل بروزن متفعل ہے ‘ جیسا کہ حضرت ابی کی قراءت میں ہے : أو متدخلا اور اس کا معنی ہے دخول بعد دخول ( یکے بعد دیگرے داخل ہوناض یعنی وہ قوم جو ان کے ساتھ داخل ہوتی ہیں۔ مہدوی نے کہا ہے : متدخلا یہ تدخل سے ہے جیسے تفعل جب کوئی دخول میں تکلف کرے۔ اور حضرت ابی سے یہ بھی مروی ہے : مندخلا یہ اندخل سے ہے اور یہ شاذ ہے ‘ کیونکہ یہ سیبویہ اور اس کے اصحاب کے نزدیک ثلاثی غیر متعدی ہے۔ اور حسن ‘ ابن ابی اسحاق اور ابن محیصن نے أ و مدخلا میم کے فتحہ اور دال کے سکون کے ساتھ قرأت کی ہے۔ زجاج نے کہا ہے : اومدخلا میم کے ضمہ اور دال کے سکون کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ پہلا دخل یدخل سے ہے اور دوسرا ادخل یدخل سے۔ اسی طرح مصدر ‘ ظرف مکان اور ظرف زمان بھی ہیں جیسا کہ سیبویہ نے کہا ہے : مغارابن ھمام علی حی خشعما اور حضرت قتادہ عیسیٰ اور اعمش رحمۃ اللہ علیہم سے او مدخلا دال اور خاکی تشدید کے ساتھ مروی ہے (1) ۔ اور جمہور نے صرف دال کو تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ‘ یعنی وہ مکان جس میں وہ اپنے نفسوں کو داخل کرلیتے ہیں۔ پس یہ چھ قراءتیں ہیں۔ لولوالیہ یعنی وہ اس کی طرف لوٹ جائیں۔ وھم یجمحون یعنی وہ تیزی کرتے ہیں کوئی شے ان کے چہروں کو واپس نہیں لوٹا سکتی۔ یہ جمع الفرس سے ہے جب لگام گھوڑ کے کو نہ لوٹا سکے۔ شاعر نے کہا ہے : سبوحا جمعوحا واحضارھا کمعیعۃ السعف الموقد اور اس کا معنی ہے : اگر وہ ان مذکورہ چیزوں میں سے کسی کو پالیں تو وہ مسلمانوں سے بھاگتے ہوئے تیزی کے ساتھ اس کی طرف پھرجائیں۔
Ayah 9:58

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں کہ (تقسیم) صدقات میں تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ اگر انکو اس میں سے (خاطر خواہ) مل جائے تو خوش رہیں اور اگر (اس قدر) نہ ملے تو جھٹ خفا ہوجائیں۔

قولہ تعالیٰ : ومنھم من یلمزک فی الصد قت یعنی ان میں سے بعض آپ پر طعن کرتے ہیں ‘ یہ حضرت قتادہ ؓ سے مروی ہے۔ حسن نے کہا ہے : وہ آپ پر عیب لگاتے ہیں۔ حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا : وہ آپ کا امتحان لیتے ہیں اور آپ سے سوال کرتے ہیں۔ نحاس نے کہا ہے : اہل لغت کے نزدیک وہی قول ہے جو حضرت قتادہ اور حسن رحمۃ اللہ علیہما کا قول ہے۔ کہا جاتا ہے : لمزہ یلمزہ جب وہ اس کو عیب لگائے۔ اور اللمزلغت میں وہ عیب ہے کو سراً اور خفیہ طور پر لگایا جائے (1) ۔ جوہری نے کہا ہے : اللمز کا معنی عیب ہے اور اس کا اصل معنی تو آنکھ وغیرہ کے ساتھ اشارہ کرنا ہے۔ اور لمزہ یلمزہ اور یلمزہ دونوں طرح (یعنی باب ضرب یضرب اور باب نصر ینصر) آتا ہے۔ اور ان دونوں کے ساتھ اسے پڑھا گیا ہے : ومنھم من یلمزک فی الصدقت ( اور بعض ان میں سے طعن کرتے ہیں آپ پر صدقات (کی تقسیم کے بارے میں) اور رجل لماز و لمزۃ یعنی بہت زیادہ عیب لگانے والا آدمی۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے : لمزہ یلمزہ جب کوئی کسی کو دور ہٹائے اور اسے مارے۔ اور الھمز بھی اللمز کی طرح ہی ہے۔ اور الھا مز اور الھماز بھی کثرت سے عیب لگانے والے کو کہا جاتا ہے اور الھمزہ بھی اسی کی مثل ہے۔ کہا جاتا ہے : رجل ھمزۃ اور امرأۃ ھمزۃ بھی ہے۔ اور ھمزہ کا معنی ہے اس نے اسے دور کیا اور اسے مارا۔ پھر یہ کہا گیا ہے کہ اللمزوہ عیب ہے جو چہرے پر اور سامنے لگایا جائے ‘ اور الھمز جو پیٹھ کے پیچھے لگایا جائے اللہ تعالیٰ نے منافقین کی ایک قوم کے بارے بیان کیا ہے کہ انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ پر صدقات کی تقسیم کے بارے طعنہ زنی کی۔ اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ وہ فقراء ہیں تاکہ آپ انہیں عطا فرمائیں۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے بیان فرمایا : اس اثنا میں کہ رسول اللہ ﷺ مال تقسیم فرما رہے تھے کہ اچانک خوارج کا سردار بلکہ اصل حرقوص بن زہیر آپ کے پاس آگیا اور اس کو ذواخو یصرۃ تمیمی کہا جاتا ہے ‘ تو اس نے کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ انصاف اور عدل کیجئے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” تیری ہلاکت ہو اور کون عدل کرے گا جب میں عدل نہ کروں “۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اسی معنی کے مطابق ایک صحیح حدیث ہے جسے امام مسلم (رح) نے نقل کیا ہے۔ اور اس وقت حضرت عمر بن خطاب ؓ نے عرض کی : یارسول اللہ ! ﷺ مجھے اجازت عطا فرمائیے کہ میں اس منافق کو قتل کردوں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” معاذ اللہ لوگ باتیں کریں گے کہ میں اپنے اصحاب کو قتل کرتا ہوں بیشک یہ اور اس کے ساتھی قرآن کریم پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے تجاوز نہیں کرے گا وہ اس سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر اپنے نشانہ سے پار نکل جاتا ہے
Ayah 9:59

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور اگر وہ اس پر خوش رہتے جو خدا اور اسکے رسول ﷺ نے ان کو دیا تھا۔ اور کہتے کہ ہمیں خدا کافی ہے اور خدا اپنے فضل سے اور اسکے پیغمبر ﷺ (اپنی مہربانی سے) ہمیں (پھر) دیدینگے (اور) ہمیں تو خدا ہی کی خواہش ہے (تو انکے حق میں بہتر ہوتا)

قولہ تعالیٰ : ولو انھم رضوا ما اتھم اللہ ‘ لوکا جواب مخدوف ہے ‘ تقدیر کلام یہ ہے لکان خیرالھم تو وہ یقیناً ان کے لیے اچھا ہوتا۔