9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 9:108

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

تم اس (مسجد) میں کبھی (جا کر) کھڑے بھی نہ ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا (اور نماز پڑھایا) کرو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور خدا پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے۔

آیت نمبر : 108۔ اس آیت میں گیارہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لا تقم فیہ ابدا، فیہ “۔ کی ضمیر کا مرجع مسجد ضرار ہے، یعنی آپ اس میں نماز کے لیے کبھی کھڑے نہ ہوں۔ اور کبھی نماز کو قیام سے تعبیر کیا جاتا ہے، کہا جاتا ہے : فلان یقوم اللیل، یعنی فلاں رات کے وقت نماز پڑھتا ہے۔ اور اسی طرح صحیح حدیث بھی ہے : من قام رمضان ایمانا واحتسابا غفرلہ ما تقدم من ذنبہ (1) (صحیح بخاری، کتاب الصوم، جلد 1، صفحہ 269) (جس نے رمضان المبارک میں ایمان اور اخلاص نیت کے ساتھ نماز پڑھی تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے گئے) اسے امام بخاری (رح) نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے روایت کیا ہے، آپ نے فرمایا۔ پس اسے ذکر کیا، تحقیق یہ بھی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ اس راستے سے بھی نہ گزرتے تھے جس میں مسجد تھی اور اس کی جگہ کو کو ڑاکرکٹ ڈالنے کی جگہ بنانے کا حکم دے دیا کہ اس میں مردار، گندگیاں اور کوڑا پھینکا جائے گا۔ مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ابدا “۔ یہ ظرف زمان ہے اور ظرف زمان کی دو قسمیں ہیں : ایک وہ ظرف جو مقدر اور معین ہے مثلا الیوم، اور دوسری ظرف مبہم ہے جیسے الحین اور الوقت اور ابدا بھی اسی قسم سے ہے اور اسی طرح دھر بھی ہے (2) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1014) اور یہاں ایک اصولی مسئلہ بیان کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ ابدا اگرچہ ظرف مبہم ہے اس میں عموم نہیں ہے لیکن جب یہ لانافیہ کے ساتھ متصل ہوا تو اس نے عموم کا فائدہ دیا، پس اگر فرماتا : (آیت) ” لا تقم “۔ تو یہ مطلق رکھنے میں کافی ہوتا ہے۔ اور جب فرمایا : ابدا تو گویا یہ فرمایا : فی وقت من الاوقات ولافی حین من الاحیان “۔ (یعنی اوقات میں سے کسی بھی وقت میں اس میں کھڑے نہ ہوں) رہا وہ نکرہ جو مثبت کلام میں ہو تو جب وہ کسی واقعہ کے بارے خبر ہو تو وہ عام نہیں ہوتا، تحقیق اہل لسان نے یہی سمجھا ہے، اور فقہائے اسلام نے اسی کے بارے فیصلہ کیا ہے پس انہوں نے کہا ہے : اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی کو کہا : انت طالق ابداتو وہ ایک طلاق کے ساتھ مطلقہ ہوگی (3) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1014) مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لمسجد اسس علی التقوی “۔ یعنی اس کی دیواریں بنائی گئیں اور اس کی بنیادیں اٹھائیں گئیں تقوی پر۔ اور الاس کا معنی عمارت کی اصل اور بنیاد ہے اور اسی طرح اساس بھی ہے۔ اور الاسس اسی سے محصور ومقصور ہے۔ اور الاس کی جمع اساس ہے، جیسا کہ عس کی جمع اساس ہے، جیسا کہ عس کی جمع عساس ہے۔ اور الاساس کی جمع اسس ہے، مثلا قذال کی جمع قذل ہے۔ اور الاسس کی جمع اساس ہے، مثلا سبب کی جمع اسباب ہے، اور اسست الیناء تاسیسا (میں نے مضبوط عمارت بنائی) اور ان کا قول ہے : کان ذالک علی اس الدھر، و اس الدھر، و اس الدھر اس میں یہ تینوں لغات ہیں، یعنی وہ قدم الدھر اور وجہ الدہر پر ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : (آیت) ” لمسجد “۔ میں لام قسم ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ لام ابتدا ہے، جیسے آپ کہتے ہیں : لزید احسن الناس فعلا (یعنی زید کام کرنے کے اعتبار سے لوگوں میں انتہائی حسین ہے) اور یہ (لام) تاکید کا تقاضا کرتا ہے۔ (آیت) ” اسس علی التقوی “۔ یہ لمسجد “۔ کی صفت ہے۔ احق یہ اس امبتدا کی خبر ہے جو لمسجد ہے اور یہاں تقوی کا معنی وہ خصلتیں ہیں جن کے ساتھ سزا سے بچا جاتا ہے اور یہ فعلی کے وزن پر وقیت سے ہے اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر : (4) اور علماء کا اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہے جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ہے، پس ایک گروہ نے کہا ہے : وہ مسجد قبا ہے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ ، ضحاک، اور حسن رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے مروی ہے اور انہوں نے قول باری : (آیت) ” من اول یوم “۔ سے استدلال کیا ہے، اور مدینہ طیبہ میں پہلے دن مسجد قبا ہی بنائی گئی تھی، کیونکہ یہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کی مسجد سے پہلے بنائی گئی تھی، یہ حضرت ابن عمر اور ابن مسیب رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے کہا ہے (1) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 214 اور امام مالک (رح) نے اس میں بیان کیا ہے جسے آپ سے ابن وہب، اشہب اور ابن قاسم نے روایت کیا ہے، اور ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت نقل کی ہے : انہوں نے فرمایا : دو آدمی اس مسجد کے بارے جھگڑ پڑے جس کی بنیاد پہلے دن سے تقوی پر رکھی گئی، تو ایک آدمی نے کہا : وہ مسجد قبا ہے اور دوسرے نے کہا : وہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کی مسجد ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ھو مسجدی ھذی وہ میری یہ مسجد ہے (2) (جامع ترمذی، باب من سورة التوبۃ، حدیث نمبر 3024، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) امام ترمذی نے کہا ہے : یہ حدیث صحیح ہے۔ پہلا قول واقعہ کے زیادہ مناسب ہے، کیونکہ قول باری تعالیٰ : فیہ میں ظرف کی ضمیر رجال متطہرین کا تقاضا کرتی ہے پس وہ مسجد قبا ہے۔ اور اس پر دلیل حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے انہوں نے فرمایا : یہ آیت اہل قبا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا، واللہ یحب المطھرین “۔ فرمایا : وہ پانی کے ساتھ استنجا کرتے تھے پس ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ علامہ شعبی (رح) نے کہا ہے : وہ مسجد قباوالے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی (3) (جامع ترمذی، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 136) اور حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اہل قبا کو فرمایا : ” شک اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے تمہاری پاکیزگی کی تعریف کرتے ہوئے تم پر احسان فرمایا ہے، تم کیا کرتے ہو “ ؟ انہوں نے عرض کی : بےہم بول وبراز کے اثر کو پانی کے ساتھ دھوتے ہیں (4) تفسیر طبری، جلد 11، صفحہ 36) اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے، اور دارقطنی نے حضرت طلحہ بن نافع ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا : مجھے حضرت ابو ایوب، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ اور حضرت انس بن مالک انصاریوں رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ نے اس آیت (آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا، واللہ یحب المطھرین “۔ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : ” اے گروہ انصار ! بیشک اللہ تعالیٰ نے پاکیزگی اور طہارت کے بارے میں تمہاری بہت اچھی تعریف فرمائی ہے تمہاری یہ پاکیزگی کیسی ہے “ ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ہم نماز کے لیے وضو کرتے ہیں اور جنابت کی حالت میں غسل کرتے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی ہے ؟ “ تو انہوں نے عرض کی : اس کے سوا کوئی نہیں، بیشک ہم میں سے کوئی جب بول وبراز کے لیے نکلے تو وہ زیادہ پسند کرتا ہے کہ پانی کے ساتھ استنجا کرے، آپ ﷺ نے فرمایا ” وہ وہی ہے پس تم اسے لازم پکڑے رکھو “ (5) (سنن دارقطنی، کتاب الطھارۃ، جلد 1، صفحہ 62، سنن ابن ماجہ، باب الاستنجاء بالماء حدیث نمبر 348، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور یہ حدیث تقاضا کرتی ہے کہ آیت میں جس مسجد کا ذکر ہے وہ مسجد قبا ہے، مگر حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث میں حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے اس پر نص بیان کی ہے کہ وہ آپ کی مسجد ہے پس اس کے ساتھ کوئی نظر وفکر کا عمل نہیں ہے۔ اور ابو کریب نے بیان کیا ہے ہمیں ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا، ہمیں صالح بن حیان نے بیان کیا ہے انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن بریدہ نے قول باری تعالیٰ : (آیت) ” فی بیوت اذن اللہ ان ترفع ویذکر فیھا اسمہ “۔ (النور : 36) بارے میں بیان کیا ہے آپ نے فرمایا : بیشک یہ چار مساجد ہیں جنہیں انبیاء (علیہم السلام) نے بنایا ہے، کعبہ معظمہ کو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے اور بیت اریحا بیت المقدس کو حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) اور مدینہ طیبہ کی مسجد (مسجد نبوی) اور مسجد قباوہ ہیں جن کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ہے، ان دونوں کو رسول اللہ ﷺ نے بنایا ہے۔ مسئلہ نمبر : (5) (آیت) ” من اول یوم “۔ من نحویوں کے نزدیک یہ منذ کے مقابلے میں ہے، پس منذظرف زمان میں اور مکان میں من کے قائم مقام ہے، پس کہا گیا ہے : بیشک یہاں من کا معنی منذ کی مثل ہے اور تقدیر کلام ہے : منذ اول یوم ابتدی بنیانہ (پہلے دن سے اس کی بنیادوں کی ابتداء کی گئی) اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے من تاسیس اول الایام (پہلے دن کی بنیاد سے) پس یہ اس فعل کے مصدر پر داخل ہے جو اسس ہے، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : لمن الدیار بقنۃ الحجر اقوین من حجج ومن دھر (1) (زاد المسیر، جلد 3، صفحہ 378) یعنی من مرحجج ومن مردھر : اور جس نے اس طرف دعوت دی ہے وہ یہ ہے کہ علمائے نحو کا یہ اصول ہے کہ من کے ساتھ ازمان کو جر نہیں دی جائے گی، بلکہ ازمان کو منذ کے ساتھ جر دی جائے گی، آپ کہتے ہیں : مارایتہ منذ شھر اوسنۃ اویوم اور یہ نہیں کہہ سکتے : من شھر اور نہ من سنۃ اور نہ ہی من یوم کہہ سکتے ہیں پس جب کلام میں من واقع ہو اور اس کے پیچھے متصل زمانہ ہو تو وہاں کوئی مضمر لفظ مقدر مانا جائے گا جسے من کے ساتھ جر دی جاسکتی ہو، جیسا کہ ہم نے شعر کی تقدیر میں ذکر کیا ہے، ابن عطیہ نے کہا ہے : میرے نزدیک اچھا یہ ہے کہ یہ آیت تقدیر عبارت سے مستغنی ہو اور یہ کہ من لفظ اول کو جر دے رہا ہو، کیونکہ یہ البداء ۃ (ابتدائ) کے معنی میں ہے گویا کہ من مبتدا الایام کہا ہے۔ (2) (المحرر الوجیز، زیر آیت ہذہ) مسئلہ نمبر : (6) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” احق ان تقوم فیہ “۔ یعنی یہ بان تقوم ہے، پس یہ محل نصب میں ہے اور احق یہ حق سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے اور افعل دو مشترک چیزوں کے درمیان داخل ہوتا ہے، اور ان دونوں میں سے ایک میں وہ مشترک معنی دوسرے کے مقابلہ میں زیادہ ہوتا ہے، پس مسجد ضرار اگرچہ باطل ہے اس میں کوئی حق نہیں ہے، لیکن یہ دونوں حق میں مشترک ہیں یا تو اسے بنانے والے کے اعتقاد کی وجہ سے یا اس کے اعتقاد کی وجہ سے جو یہ گمان کرتا ہے کہ مسجد ہونے کی وجہ سے اس میں قیام جائز ہے، لیکن دونوں اعتقادوں میں سے ایک اللہ تعالیٰ کے نزدیک باطنا باطل ہے۔ اور دوسرا ظاہرا اور باطنا حق ہے۔ اور اسی کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” اصحب الجنۃ یومئذ خیر مستقرا واحسن مقیلا “۔ (الفرقان) (اہل جنت کا اس دن اچھا ٹھکانا ہوگا اور دوپہر گزارنے کی جگہ بڑی آرام دہ ہوگی) اور یہ بات معلوم ہے کہ خیر اور اچھائی کو جہنم سے دور کردیا گیا ہے، لیکن یہ ہر فرقہ کے اس اعتقاد کے مطابق ہے کہ وہ خیر پر ہے اور اس کی طرف اس کا لوٹنا خیر ہے، کیونکہ ہر گروہ اس کے ساتھ خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔ اور یہ العسل احلی من الخل (کہ شہد سرکے سے زیادہ شریں ہے) کے قبیل سے نہیں ہے، کیونکہ شہد اگرچہ میٹھا ہے پس ہر وہ شی جو ملائم ہو وہ میٹھی ہوتی ہے، کیا آپ جانتے نہیں ہیں کہ بعض لوگ سرکے کو شہد پر مقدم کرتے ہیں درآنحالیکہ مفرد کے مقابلے میں مفرد ہو اور کسی غیر کی طرف مضاف مضاف کے مقابلے میں ہو۔ مسئلہ نمبر : (7) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فیہ “۔ جنہوں نے کہا ہے کہ مسجد سے مسجد النبی ﷺ مراد لی جائے گی تو پھر (آیت) ” احق ان تقوم فیہ “۔ میں ہاضمیر اسی کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اور (آیت) ” فیہ رجال “ میں بھی ضمیر اسی کے لیے ہے، اور جنہوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد مسجد قبا ہے تو پھر فیہ میں ہا ضمیر اس کی طرف لوٹے گی۔ یہ اس اختلاف کی بنا پر ہے جو پہلے گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر : (8) اس آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کی تعریف بیان کی ہے جنہوں نے نظافت اور طہارت کو پسند کیا اور نظافت و پاکیزگی کو ترجیح دی اور یہ انسانی مروت ہے اور شرعی وظیفہ ہے۔ (1) (جامع ترمذی، کتاب الطہارۃ، جلد 1، صفحہ 5) ترمذی میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : تم اپنے خاوندوں کو کہو کہ وہ پانی کے ساتھ صفائی اور پاکیزگی حاصل کریں، کیونکہ میں ان سے شرم وحیا محسوس کرتی ہوں، فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے (2) (جامع ترمذی، باب ما جاء فی الاستنجاء بالماء حدیث نمبر 19، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور یہ ثابت ہے کہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ اپنے ساتھ استنجاء کے لیے پانی لے جاتے تھے، پس آپ تخفیف اور خشک کرنے کے لیے پتھر استعمال کرتے تھے اور پاکیزگی اور طہارت کے لیے پانی (3) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1015) علامہ ابن عربی نے کہا ہے : قیروان کے علماء اپنے وضو کی جگہوں میں مٹی کے ڈھیلے رکھتے تھے ان کے ساتھ صفائی کرتے تھے پھر پانی کے ساتھ صفائی کرتے تھے پھر پانی کے ساتھ استنجا کرتے تھے۔ مسئلہ نمبر : (9) مخرج سے نکلنے والی نجاست کو صاف کرنا لازم ہے اور تمام بدن اور کپڑے کی نجاست میں تطہیر (یعنی اسے پاک کرنا) لازم ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے بندوں کے لیے پانی کے موجود ہونے اور نہ ہونے کی دونوں حالتوں میں رخصت ہے۔ اور اسی کے مطابق عام علماء نے کہا ہے، اور ابن حبیب نے اختلاف کیا ہے اور کہا ہے : پتھروں کا استعمال نہیں کیا جائے گا مگر صرف پانی نہ ہونے کی حالت میں (4) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1015) اور وہ اخبار جو پانی کے موجود ہونے کے باوجود پتھروں کے استعمال کے بارے میں ثابت ہیں وہ اسے رد کرتی ہیں۔ مسئلہ نمبر : (10) بدنوں اور کپڑوں سے نجاست زائل کرنے کے بارے میں علماء نے مابین اختلاف ہے، حالانکہ ان کا پسوؤں کے خون کی معافی اور اس سے تجاوز پر اجماع ہے جب تک کہ وہ انتہائی فحش اور زیادہ نہ ہو، نجاست کے ازالہ میں علماء کے تین اقوال ہیں : پہلا قول یہ ہے کہ وہ واجب فرض ہے، اس کی نماز جائز نہیں ہوتی جس نے ناپاک کپڑے میں نماز پڑھی چاہے وہ اس کے بارے جاننے والا ہو یا بھولنے والا یہ حضرت ابن عباس ؓ حسن اور ابن سیرین رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے مروی ہے اور یہی امام شافعی، امام احمد اور ابو ثوررحمۃ اللہ علیہمکا قول ہے، اور اسے ابن وہب نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے اور یہی قول ابو الفرج المالکی اور علامہ طبری کا ہے، مگر علامہ طبری نے کہا ہے : اگر نجاست درہم کی مقدار ہو تو وہ نماز کا اعادہ کرے، امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اور امام ابو یوسفرحمۃ اللہ علیہمنے دبر کے حلقہ پر قیاس کرتے ہوئے درہم کی مقدار کی رعایت کرنے کا قول کیا ہے۔ اور ایک گروہ نے کہا ہے : کپڑوں اور بدنوں سے نجاست کو زائل کرنا سنت سے ثابت ہے، یعنی یہ وجوب سنت ہے فرض نہیں ہے، انہوں نے کہا ہے : جس نے نجس کپڑے کے ساتھ نماز پڑھی تو وہ وقت کے اندر نماز کا اعادہ کرے اور اگر وقت نکل گیا تو پھر اس پر کوئی شی نہیں ہے۔ یہ قول امام مالک اور ابو الفرج کے سوا آپ کے اصحاب کا ہے اور آپ سے ابن وہب کی ہدایت بھی ہے اور خون تھوڑا ہونے کی صورت میں امام مالک (رح) نے کہا ہے : اس سے نماز کا اعادہ نہیں کیا جائے گا نہ وقت میں اور نہ ہی وقت کے بعد اور بول وبراز میں سے تھوڑا بھی ہو تو نماز کا اعادہ کیا جائے گا۔ امام مالک (رح) کے مذہب میں سے یہ سب لیث کا قول ہے۔ اور ان سے ابن القاسم نے کہا ہے : یا دھونے کی حالت میں نجاست کو زائل کرنا واجب ہوتا ہے نہ کہ نسیان اور بھول کی حالت میں اور یہ ان کے مفردات میں سے ہے۔ اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے ان شاء اللہ، کیونکہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا : انھما لیعذبان وما یعذبان فی کبیر اما احدھما فکان یمشی بالنمیمۃ و امام الاخر فکان لا یستتر من بولہ الحدیث (1) (صحیح بخاری، کتاب الجنائر، جلد 1، صفحہ 182) (بےشک ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور انہیں کسی بڑے گناہ میں عذاب نہیں دیا جا رہا ان میں سے ایک چغلی کھاتا تھا اور دوسرا اپنے پیشاب سے نہ بچتا تھا) اسے بخاری اور مسلم دونوں نے روایت کیا ہے اور تیرے لیے یہی کافی ہے، اور عنقریب اس کا ذکر سورة سبحان میں آئے گا، انہوں نے کہا ہے : اور آدمی کو عذاب نہیں دیا جاتا مگر واجب ترک کرنے پر اور یہ بالکل ظاہر ہے۔ اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے روایت بیان کی ہے آپ نے فرمایا : ” اکثر عذاب قبر پیشاب کی وجہ سے ہے “ (2) (سنن ابن ماجہ، کتاب الطھارۃ، جلد 1، صفحہ 29، ایضا، حدیث نمبر 341، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) دوسروں نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے نماز میں اپنے نعلین مبارک اتارنے سے استدلال کیا ہے جب کہ حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) نے آپ کو مطلع کیا کہ ان میں قذر اور اذیت رساں شے لگی ہوئی ہے الحدیث۔ اسے ابو داؤد وغیرہ نے حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث سے روایت کیا ہے، اس کا ذکر عنقریب سورة طہ میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ، انہوں نے کہا : جب آپ ﷺ نے اس نماز کا اعادہ کیا جو آپ پڑھ چکے تھے تو یہ اس پر دلیل ہے اس کو زال کرنا سنت ہے اور آپ کی نماز صحیح ہے اور کامل نماز کے حصول کے لیے آدمی نماز کا اعادہ کرسکتا ہے جب تک وقت موجود ہے۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر : (11) قاضی ابوبکربن عربی (رح) نے کہا ہے : اور رہا قلیل وکثیر کے درمیان فرق تو یہ بغلی درہم کی مقدار کے برابر ہے (یعنی بڑے دراہم وہ ہیں جن کی دینار کی گولائی کی مقدار کے برابرہو) اور اسے دبر کے حلقہ پر قیاس کیا گیا ہے۔ یہ دو وجہوں سے فاسد ہے : ان میں سے ایک یہ ہے کہ مقداریں قیاس سے ثابت نہیں ہوتیں لہذا یہ مقدار قبول نہیں کی جائے گی اور دوسری وجہ یہ ہے کہ دبر کے بارے میں اس میں جو تخفیف کی گئی ہے وہ ضرورت اور حاجت کے سبب رخصت ہے اور حاجت اور رخصتوں پر کسی کو قیاس نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ قیاس سے خارج ہیں پس انہیں اس کی طرف لوٹایا جائے گا (3) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1016)
Ayah 9:109

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

بھلا جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضامندی پر رکھی وہ اچھا ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گر جانے والی کھائی کے کنارے پر رکھی کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ میں لے گری ؟ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

آیت نمبر : 109۔ اس آیت میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” افمن اسس “۔ یعنی کیا وہ جس نے بنیاد رکھی، یہ استفہام برائے تقریر ہے، اور من بمعنی الذی ہے اور یہ مبتدا ہونے کے سبب محل رفع میں ہے اور اس کی خبر خیر ہے، حضرت نافع، ابن عامر اور ایک جماعت نے اسس بنیانہ پڑھا ہے یعنی یہ صیغہ فعل مجہول ہے اور دونوں مقامات پر بنیان کو رفع دیا گیا ہے اور ابن کثیر، ابو عمرو، حمزہ، کسائی اور ایک جماعت نے اسس بنیانہ “ پڑھا ہے یعنی صیغہ فعل معروف ہے اور دونوں مقامات پر بنیان کو نصب دی گئی ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 3، صفحہ 84 دارالکتب العلمیہ) اور یہی ابو عبید کی پسند ہے، کیونکہ جنہوں نے اس طرح پڑھا ہے وہ کثیر ہیں اور فاعل کا اس میں ذکر کیا گیا ہے۔ اور نصر بن عاصم بن علی نے افمن اسس کو رفع کے ساتھ اور بنیانہ کو کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور ان سے اساس بنیانہ بھی مروی ہے، اور ان سے اسس بنیانہ جر کے ساتھ بھی مروی ہے۔ اور مراد عمارت کی بنیاد اور اصل ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور ابو حاتم نے چھٹی قرات بیان کی ہے اور وہ افمن آس اس بنیانہ ہے۔ نحاس نے کہا ہے : یہ اس کی جمع ہے جیسے کہا جاتا ہے : خف واخفاف اور کثیر استعمال اساس خفاف کی مثل ہے، شاعر نے کہا ہے : اصبح الملک ثابت الاساس فی البھالیل من بنی العباس : مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” علی تقوی من اللہ “۔ عیسیٰ ابن عمر کی قرات جس کے بارے سیبویہ نے بیان کیا ہے تنوین کے ساتھ ہے، اور آخر میں الف، الف، الحاق ہے جیسا کہ تتری کا الف جب کہ اسے تنوین دی جائے (2) (المحرر الوجیز، جلد 3، صفحہ 84 دارالکتب العلمیہ) اور شاعر نے کہا ہے : یستن فی علقی وفی مکور : اور سیبویہ نے تنوین کا انکار کیا ہے اور کہا ہے : میں نہیں جانتا اس کی وجہ کیا ہے ؟ علی شفا، الشفا کا معنی کنارہ اور حد ہے، سورة آل عمران میں پوری بحث گزر چکی ہے۔ اور جرف را کو رفع کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور ابوبکر اور حمزہ نے اسے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ مثلا الشغل اور الشغل، الرسل اور الرسل، یعنی ایسا کھوکھلا دھانہ جس کی کوئی بنیاد اور اصل نہ ہو، اور الجرف وہ کھوکھلے دہانے جو وادیوں میں سیلاب کے سبب بن جاتے ہیں اور یہ وہ کنارے ہیں جو پانی کے ساتھ کھد جاتے ہیں اور اس کی اصل الجرف اور الاجتراف سے ہے اور یہ کسی بھی شے کا اپنی اصل اور بنیاد سے پھٹ جانا ہے۔ ھار اس کا معنی ہے گرنے والا۔ کہا جاتا ہے۔ تھور البناء جب کوئی عمارت گر جائے اور اس کی اصل ھائر ہے اور یہ اسمائے مقلوب میں سے ہے اس میں قلب کیا جاتا ہے اور اس کی یا کو مؤخر کیا جاتا ہے، پس کہا جاتا ہے : ھاروھائر یہ زجاج نے کہا ہے : اور اسی کی مثل لاث الشی بہ ہے جب وہ شے کو اس کے ساتھ گھمائے۔ فھو لاث ای لائث اور اسی طرح انہوں نے کہا ہے : شاکی السلاح وشائک (السلاح) (ہتھیاروں سے مسلح) عجاج نے کہا ہے : لاث بہ الاشاء والعبری (1) اس میں الاشاء سے مراد کھجور کا درخت ہے اور العبری سے مراد وہ بیری کا درخت ہے جو نہروں کے کنارے پر ہوتا ہے۔ اور لاث بہ کا معنی مطیف بہ (گھمانے والا) ہے۔ اور ابو حاتم نے گمان کیا ہے کہ اس میں اصل ھ اور ہے، پھر کہا جاتا ہے : ھائر جیسا کہ صائم، پھر قلب کیا جاتا ہے اور ھار کہا جاتا ہے۔ اور کسائی کا خیال ہے کہ یہ وادی الفاظ میں سے بھی ہے اور یائی الفاظ میں سے بھی اور کہا جاتا ہے : تھور اور تھیر۔ میں مفسر کہتا ہوں : اسی وجہ سے اس میں امالہ کیا جاتا ہے اور فتحہ دیا جاتا ہے۔ مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فانھا ربہ فی نار جھنم “۔ اس انھار کا فاعل الجرف ہے ہے، گویا کہ یہ فرمایا : فانھار الجرف بالبنیان فی النار “ (پس عمارت کا کھوکھلا کنارہ جہنم میں گر پڑا) کیونکہ پڑا) کیونکہ کنارہ (حرف) مذکر ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ بہ کی ضمیر من کی طرف لوٹ رہی ہو اور وہ بنانے والا ہے اور تقدیر کلام ہے : فانھا من اسس بنیانہ علی غیر تقوی (پس وہ گر پڑا جس نے اپنی عمارت کی بنیاد غیر تقوی پر رکھی) اور یہ آیت ان کے لیے ضرب المثل ہے یعنی جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اسلام پر رکھی وہ بہتر ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد شرک اور نفاق پر رکھی۔ اور یہ بیان کیا کہ کافر کی بنیاد اس بنیاد کی طرح ہے جو جہنم کے کھوکھلے کنارے پر ہو وہ اپنے باسیوں سمیت اس میں گر پڑتا ہے۔ اور الشفاء کا معنی کنارہ ہے اور اشفی علی کذا کا معنی ہے وہ اس کے قریب ہوا۔ مسئلہ نمبر : (4) اس آیت میں اس پر دلیل موجود ہے کہ یہ شے جس کی ابتدا اللہ تعالیٰ کے تقوی کی نیت کے ساتھ اور اس کی ذات کریم کے ارادہ اور قصد کے ساتھ ہو تو وہی وہ ہے جو باقی رہتی ہے اور اس کا مالک اس کے ساتھ سعادت اندوز ہوتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف چڑھتی اور بلند ہوتی ہے، اور اس کے بارے وہ اپنے اس قول کے ساتھ خبر دیتا ہے۔ : (آیت) ” ویبقی وجہ ربک ذوالجلل والاکرام “۔ (الرحمن) (اور باقی رہے گی آپ کے رب کی ذات جو بڑی عظمت اور احسان والی ہے) یہ دونوں وجہوں میں سے ایک پر دلیل ہے، اور وہ اس کے بارے میں اپنے اس قول سے بھی خبر دیتا ہے : (آیت) ” والمقیت الصلحت “۔ (الکہف : 46) (اور (درحقیقت) باقی رہنے والی نیکیاں) جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ : مسئلہ نمبر : (5) اور علماء نے اس قول باری تعالیٰ کے بارے میں اختلاف کیا ہے : (آیت) ” فانھا ربہ فی نار جھنم “ کیا یہ حقیقت ہے یا مجاز ؟ اس کے بارے دو قول ہیں (1) (المحرر الوجیز، جلد 3، صفحہ 85 دارالکتب العلمیہ) کہ یہ حقیقت ہے اور یہ کہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ جب اس کی طرف بھیجے گئے تو اسے گرا دیا گیا اور اس سے نکلنے والا دھواں دکھائی دیا۔ یہ حضرت سعید بن جبیر ؓ کی روایت ہے (2) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1017) اور یہ بعض نے کہا ہے : آدمی کو اس میں داخل کیا جائے گا اس حال میں کہ اسے سر اور منہ پر پھنسیاں ہوں گی جیسا کہ کھجور کے درخت کے تنا کی حالت ہوتی ہے اور اسے اس سے نکالا جائے گا درآنحالیکہ وہ سیاہ جلی ہوں گی، اور اہل تفسیر نے ذکر کیا ہے کہ وہ جگہ کھودی جائے گی جو گر پڑی پس اس سے دھواں نکلے گا، اور عاصم بن ابی النجود نے زربن حبیش سے اور انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : جہنم زمین میں ہے، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : (آیت) ” فانھا ربہ فی نار جھنم “۔ اور حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے بیان فرمایا : بیشک میں نے وہ دھواں دیکھا ہے جو اس سے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں نکلتا رہا (1) اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ مجاز ہے اور اس کا معنی ہے : وہ عمارت جہنم کی آگ میں ہوگی تو گویا وہ اس میں گرپڑی اور اس میں جھک گئی، اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف ہے : (آیت) ” فامہ ھاویۃ “۔ (القارعۃ) (تو اس کا ٹھکانا ہاویہ ہوگا) اور ظاہر پہلا قول ہے کیونکہ اس میں کوئی تغیر اور تبدیلی نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 9:110

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (موجب) خلجان رہے گی (اور ان کو متردد رکھے گی) مگر یہ کہ انکے دل پاش پاش ہوجائیں اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔

آیت نمبر : 110۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لا یزال بنیانھم الذی بنوا “۔ اس میں عمارت سے مراد مسجد ضرار ہے۔ (آیت) ” ریبۃ “ یعنی ان کے دلوں میں شک اور نفاق رہے گا۔ (2) (تفسیر طبری، جلد 11، صفحہ 41) یہ حضرت ابن عباس ؓ حضرت قتادہ (رح) اور حضرت ضحاک رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے کہا ہے۔ اور نابغہ نے کہا ہے : حلفت فلم اترک لنفسک ریبۃ ولیس وراء اللہ للمرء مذھب : میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے تیری ذات کے لیے کوئی شک نہیں چھوڑا اور اللہ تعالیٰ کے سوا آدمی کے لیے کوئی اور مذہب نہیں۔ اور کلبی (رح) نے کہا ہے : اس سے مراد حسرت اور ندامت ہے، کیونکہ وہ اسے بنانے پر نادم ہوئے۔ اور سدی (رح) نے کہا ہے اور اسی طرح حبیب اور مبرد نے بھی کہ ریبۃ سے مراد شدید غیظ وغضب ہے۔ (آیت) ” الا ان تقطع قلوبھم “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا : یعنی ان کے دل پھٹ جائیں اور وہ مر جائیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے : (آیت) ” لقطعنا منہ الوتین “۔ (الحاقۃ) (پھر ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل) کیونکہ رگ دل کٹ جانے کے سبب زندگی ختم ہوجاتی ہے، اور یہ حضرت قتادہ (رح) ضحاک اور مجاہد رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے کہا ہے، اور حضرت سفیان نے کہا ہے : مگر یہ کہ وہ توبہ کرلیں۔ اور عکرمہ نے کہا ہے : مگر یہ کہ ان کے دل ان کے قبروں میں پارہ پارہ ہوجائیں اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے اصحاب یہ قرات کرتے تھے : ریبۃ فی قلوبھم ولو قطعت قلوبھم (3) (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 405) (ان کے دلوں میں کھٹکا رہے گا اگرچہ ان کے دل کٹ جائیں) حسن، یعقوب اور ابو حاتم نے غایت کی بنا پر الی ان تقطع پڑھا ہے۔ یعنی وہ اس کی وجہ سے مسلسل شک میں رہیں گے یہاں تک کہ وہ مرجائیں اور انہیں یقین حاصل ہوجائے اور سب واضح ہوجائے، قراء نے قول باری تعالیٰ : (آیت) ” تقطع “۔ میں اختلاف کیا ہے پس جمہور نے تقطع تا کے ضمہ، قاف کے فتحہ اور طا کے شد کے ساتھ فعل مجہول کی صورت میں پڑھا ہے۔ ابن عامر حمزہ، حفص اور یعقوب نے بھی اسی طرح پڑھا ہے مگر انہوں نے تا کو فتحہ دیا ہے، اور یعقوب اور ابو عبدالرحمن سے تقطع فعل مجہول قاف کی تخفیف کے ساتھ بھی مروی ہے، اور شہل اور ابن کثیر سے تقطع قاف کی تخفیف کے ساتھ مروی ہے : (آیت) ” قلوبھم “۔ یہ منصوب ہے، یعنی تم ان کے ساتھ ایسا کرو۔ تحقیق ہم نے حضرت عبداللہ ؓ کے اصحاب کی قرات ذکر کی ہے۔ (آیت) ” واللہ علیم حکیم “۔ (اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے) یہ پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 9:111

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لئے ہیں (اور اس کے) عوض میں ان کے لئے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے جاتے بھی ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے ؟ تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

آیت نمبر : 111۔ اس آیت میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسھم “۔ کہا گیا ہے یہ تمثیل ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” اولئک الذین اشتروا الضللۃ بالھدی “۔ (البقرہ : 16) ( یہ) وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی ہدایت کے بدلے) اور یہ آیت بیعت ثانیہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور وہ بیعت عقبہ کبری ہے اور یہ وہ ہے جس جس میں انصار کے مردوں کی تعداد ستر سے کچھ زائد تھی اور ان میں عمر کے اعتبار سے سب چھوٹے حضرت عقبہ بن عمرو ؓ تھے (1) (المحررالوجیز، زیر آیت ہذہ) اور وہ اس لیے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عقبہ (گھاٹی) کے نزدیک جمع ہوئے، تو حضرت بن رواحہ ؓ نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے عرض کی : آپ اپنے رب کے لیے اور اپنے لیے جو چاہیں شرط لگا لیں، تو حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے فرمایا ” میں اپنے رب کے لیے یہ شرط لگاتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور تم اس کے ساتھ کسی شے کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اپنے لیے یہ شرط لگاتا ہوں کہ تم میری ہر اس شے سے حفاظت کرو جس سے تم اپنی جانوں اور اپنے مالوں کی حفاظت کرتے ہو “۔ انہوں نے عرض کی : جب ہم ایسا کریں گے تو ہمیں کیا حاصل ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” جنت “ انہوں نے عرض کی : سودا نفع بخش ہے، ہم نہ اسے فسخ کریں گے اور نہ اس کے فسخ کا مطالبہ کریں گے۔ پس یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ “۔ الآیہ “ (1) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1018) پھر اس کے بعد یہ حکم حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کی امت میں سے یوم قیامت تک اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہر جہاد کرنے والے کے لیے عام ہوگیا۔ مسئلہ نمبر : (2) یہ آیت آقا کے اپنے غلام کے ساتھ معاملہ کرنے کے جواز پر دلیل ہے، اگرچہ سب آقا کا ہوتا ہے لیکن جب وہ اسے مالک بنا دے تو وہ اس کے ساتھ اس بارے میں معاملات کرے تو اس نے اس کے سپرد کیا ہے (2) (ایضا، جلد 2، صفحہ 1019) اور آقا اور اس کے غلام کے درمیان وہ جائز ہے جو اس کے اور کسی دوسرے کے درمیان وہ جائز ہے جو اس کے اور کسی دوسرے کے درمیان جائز نہیں ہوتا، کیونکہ اس (غلام) کا مال اسی (آقا) کا ہے اور اس کے لیے اسے چھین لینا بھی جائز ہے۔ مسئلہ نمبر : (3) مخلوق کے درمیان شراء (خریدوفروخت) کی اصل یہ ہے کہ جو چیز ان کے ہاتھوں سے نکلے وہ اس کے عوض اور بدلے میں ایسی چیز لیتے ہیں جو ان کے لیے ان کی نسبت زیادہ نفع بخش ہو یا نفع میں اس کی مثل اور برابر ہو جو ان کے ہاتھ سے نکلی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے اپنی اطاعت وفرمانبرداری میں جانوں اور اپنے مالوں کو ضائع کرنے اور اپنی رضا اور خوشی میں انہیں ہلاک کرنے کو خریدا اور انہیں اس کے عوض جنت عطا فرمائے گا جب وہ ایسا کریں گے۔ اور یہ اتنا عظیم عوض اور بدلہ ہے کہ معوض (جس کا بدلہ دیا گیا) نہ اس کے قریب پہنچ سکتا ہے اور نہ اس کے ساتھ اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے پس اسے مجازا ایسی شے میں جاری کردیا جسے بیع اور شراء میں لوگ جانتے ہیں۔ پس بندے کی طرف سے اپنی جان اور مال کو حوالے کرنا ہے اور اللہ کریم کی جانب سے اجروثواب اور بخشش وعطا ہے پس اسے شراء کا نام دیا گیا ہے۔ اور حسن (رح) نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک ہر نیکی کے اوپر ایک نیکی ہے یہاں تک کہ بندہ اپنا خون بھی قربان کردیتا ہے پس جب اس نے ایسا کرلیا تو پھر اس سے اوپر اور کوئی نیکی نہیں “۔ اور شاعر نے بر (نیکی) کے معنی میں کہا ہے : الجود بالماء جود فیہ مکرمۃ والجود بالنفس اقصی غایۃ الجود : پانی کے ساتھ سخاوت کرنا بھی سخاوت ہے اس میں عزت و تکریم ہے لیکن جان قربان کرنا سخاوت کی آخری حد ہے۔ اور اصمعی نے حضرت امام جعفر صادق ؓ کو کہا : اثامن بالنفس النفیسۃ ربھا ولیس لھا فی الخلق کلھم ثمن : میں اس اس عمدہ اور نفیس جان کا سودا اس کے رب سے کروں گا اور اس کی ساری مخلوق میں اور کوئی قیمت نہیں۔ بھا تشتری الجنات، ان انا بع تھا بشیء سواھا ان ذالکم غبن : اس کے ساتھ جنتیں خریدیں جاسکتی ہیں اگر میں اسے بیچوں اس کے سوا کسی شے کے عوض تمہیں خسارہ ہوگا۔ لئن ذھبت نفسی بدنیا اصبتھا لقد ذھبت نفسی وقد ذھب الثمن : اگر میری جان دنیا کے عوض چلی جائے اور میں اسے (دنیا کو) پالوں تو تحقیق میری جان بھی گئی اور ثمن یعنی قیمت بھی ضائع ہوگئی۔ حسن نے بیان کیا ہے : ایک اعرابی حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے پاس سے گزرا اور آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے : (آیت) ” ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسھم “۔ تو اس نے عرض کی : یہ کس کا کلام ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے “۔ اس نے کہا : قسم بخدا یہ بیع نفع بخش ہے ہم نہ اسے فسخ کریں گے اور نہ اسے توڑنے کا مطالبہ کریں گے۔ پس وہ ایک غزوہ کی طرف نکلا اور شہید کردیا گیا۔ مسئلہ نمبر : (4) علماء نے کہا ہے : جس طرح اللہ تعالیٰ نے بالغ اور مکلف مومنوں سے جانوں کو خرید لیا ہے اسی طرح اس نے بچوں سے بھی اسے خرید لیا ہے پس انہیں درد پہنچایا اور انہیں بیمار کردیا۔ کیونکہ اس میں بھی مصلحت ہے اور اس میں بالغوں کا اعتبار نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ کسی چیز کے لاحق ہونے کے وقت زیادہ فائدہ اور نفع حاصل نہیں کرتے اور بچوں کے دکھ درد کے وقت ان کی طرف سے فساد بہت کم ہوتا ہے اور وہ بھی ہے جو کفالت کرنے والے والدین کو اس بارے میں اجروثواب حاصل ہوتا ہے جو غم اور تکلیف میں سے انہیں پہنچتا ہے اور جو تربیت و کفالت میں سے ان کے متعلق ہوتا ہے۔ (1) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1019) پھر وہ رب کریم ان بچوں کو ایک عوض عطا فرماتا ہے جب وہ اس کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ اور ظاہر میں اس کی نظیر یہ ہے کہ تو ایک مزدور کرائے پر لیتا ہے تاکہ وہ عمارت بنائے اور مٹی منتقل کرے اور اس تمام کام میں اس کے لیے درد اور اذیت ہے، لیکن یہ جائز ہے کیونکہ اس کے عمل اور کام میں مصلحت اور فائدہ ہے اور اس لیے کہ اسے اس کی اجرت ملتی ہے۔ مسئلہ نمبر : (5) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یقاتلون فی سبیل اللہ “۔ یہ اس کا بیان ہے جس کے لیے اور جس کے خلاف وہ قتال کرتا ہے اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ (آیت) ” فیقتلون ویقتلون “ نخعی، اعمش، حمزہ اور خلف نے مفعول کو فاعل پر مقدم پڑھا ہے (2) (زادالمسیر جلد 3، صفحہ 381) اور اس سے امری القیس کا قول ہے۔ فان تقتلونا نقتلکم۔۔۔۔۔۔۔۔ (پس اگر تم ہمیں قتل کرو گے تو ہم تمہارے ساتھ قتال کریں گے یعنی اگر تم نے ہمارے بعض کو قتل کیا تو ہمارے بعض تمہیں قتل کریں گے (ان تقتلوا بعضنا یقتلکم بعضنا) اور باقیوں نے مفعول پر فاعل کو مقدم کرکے پڑھا ہے۔ مسئلہ نمبر : (6) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وعدا علیہ حق حقا فی التورۃ والانجیل والقران “۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے خبر دی جاری ہے کہ یہ ان کتب میں ہے اور جہاد اور دشمن کے ساتھ مقابلہ کرنا اصلا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد سے ہے، اور وعد اور حقا دونوں مصدر ہیں اور تاکید کے لیے ہیں۔ مسئلہ نمبر : (7) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ومن اوفی بعھدہ من اللہ “۔ یعنی کوئی بھی نہیں ہے جو اپنا وعدہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر پورا کرنے والا ہو اور وہ وعدے اور وعید دونوں کو پورا کرنے کا ضامن ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی وفا تمام کو متضمن نہیں ہوتی، پس جہاں تک اس کا وعدہ ہے تو وہ تمام کو شامل ہے (اور وہ اسے پورا کرتا ہے) اور رہی وعید تو وہ بعض گنہگاروں، بعض گناہوں اور بعض احوال کے ساتھ مخصوص ہے (1) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1020) اور اس کی مفصل بحث پہلے گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر : (8) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فاستبشروا ببیعکم الذی بایعتم بہ “۔ یعنی تم اس پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرو۔ اور البشارۃ کا معنی پیشانی میں خوشی اور سرور کا اظہار کرنا ہے، یہ پہلے گزر چکا ہے، اور حسن (رح) نے کہا ہے : قسم بخدا زمین پر کوئی مومن نہیں مگر وہ اس سودے میں داخل ہو سکتا ہے۔ (آیت) ” وذلک ھو الفوز العظیم “۔ یعنی جنت حاصل کرنا اور اس میں ہمیشہ رہنا ہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
Ayah 9:112

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

توبہ کرنے والے عبادت کرنے والے حمد کرنے والے روزہ رکھنے والے رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے نیک کاموں کا امر کرنے والے اور بری باتوں سے منع کرنے والے خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے (یہی مومن لوگ ہیں) اور (اے پیغمبر ﷺ مومنوں کو (بہشت کی) خوشخبری سنا دو ۔

آیت نمبر : 112۔ اس آیت میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” التآئبون العبدون، التآئبون “۔ سے مراد وہ ہیں (2) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1020) جو اللہ تعالیٰ کی معصیت اور نافرمانی میں حالت مذموم سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری میں حالت محمودہ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں اور التائب سے مراد رجوع کرنے والا (3) (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 408) اور لوٹنے والا ہے اور اطاعت کی طرف رجوع کرنے والا (فقط) معصیت سے رجوع کرنے والے سے فضل واعلیٰ ہے کیونکہ وہ دونوں امروں کو جمع کیے ہوتا ہے (یعنی معصیت سے پھر کر اطاعت کی طرف رجوع کرنا) (آیت) ” العبدون “ یعنی وہ اطاعت کرنے والے جنہوں نے اپنی اطاعت سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا قصد و ارادہ کیا۔ (آیت) ” الحمدون “۔ یعنی وہ جو اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے ساتھ راضی اور خوش ہونے والے ہیں اور اس کی نعمت و احسان کو اس کی اطاعت میں صرف اور خرچ کرنے والے ہیں (4) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1020) اور وہ جو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرتے ہیں۔ (آیت) ” السآئحون “۔ روزے رکھنے والے، یہ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن مسعود رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور دیگر سے مروی ہے، اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” عبدت سئحت “۔ (التحریم : 5) (عبادت کرنے والیاں، روزہ دار) اور سفیان بن عیینہ نے کہا ہے : بیشک صالح کو سائح کہا گیا ہے، کیونکہ وہ کھانے پینے اور نکاح کی تمام لذات کو چھوڑ دیتا ہے۔ اور حضرت ابو طالب نے کہا ہے : وبالسائحین لا یذوقون قطرۃ لربھم والذاکرات العوامل : اور قسم ہے ان روزے داروں کی جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے پانی کا ایک قطرہ تک نہیں چکھتے اور کام کے دوران اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والیوں کی۔ اور دوسرے شاعر نے کہا ہے : برا یصلی لیلہ ونھارہ یظلل کثیر الذکرللہ سائحا : نیکو کار اپنے دن رات نمازیں پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر روزے دار کرتا ہے۔ اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا : اس امت کی سیاحت روزہ رکھنا ہے۔ (1) (تفسیر طبری، جلد 11، صفحہ 48) اسے علامہ طبری نے بیان کیا ہے، اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے اسے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے مرفوع روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” میری امت کی سیاحت روزہ رکھنا ہے “ (2) (تفسیر ماوردی، جلد 1، صفحہ 407) زجاج نے کہا ہے : حسن کا مذہب یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو فرض روزہ رکھتے ہیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ روزے رکھتے رہتے ہیں، اور حضرت عطاء نے کہا ہے : (آیت) ” السآئحون “ سے مراد جہاد کرنے والے، مجاہدین ہیں، اور حضرت ابو امامہ ؓ نے بیان کیا ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سیاحت کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک میری امت کی سیاحت اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا ہے “ (3) (سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد، جلد 1، صفحہ 336۔ ایضا حدیث نمبر 2127، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اسے ابو محمد عبدا الحق نے صحیح قرار دیا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : سائحون سے مراد ہجرت کرنے والے، مہاجرین ہیں۔ یہ عبدالرحمن بن زید نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : مراد وہ لوگ ہیں جو حدیث اور علم کی طلب اور تلاش میں سفر کرتے ہیں، یہ عکرمہ ؓ نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے افکار کے ساتھ اپنے رب کی توحید اور اس کی بادشاہی میں غوروفکر کرتے ہیں اور ان چیزوں میں جو اس نے اپنی توحید اور تعظیم پر دلالت کرنے والی علامات اور فشانیاں تخلیق فرمائی ہیں، اسے نقاش نے بیان کیا ہے اور بیان کیا گیا ہے کہ بعض بندوں نے لوٹا پکڑا تاکہ وہ رات کی نماز کے لیے وضو کرے اور اپنی انگلی اس کے دستے میں داخل کی اور غور وفکر کرتے ہوئے بیٹھ گیا یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی تو اسے جب اس بارے میں کہا گیا تو اس نے جواب دیا : میں نے اپنی انگلی لوٹے کے دستے میں داخل کی تو مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد یاد آگیا : (آیت) ” اذالاغلل فی اعناقھم والسلسل “۔ (غافر : 71) (جب طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور زنجیریں) اور میں نے یہ یاد کیا میں کیسے اس طوق کو ملوں گا اور میری بقیہ ساری رات اسی میں گزر گئی۔ میں مفسر کہتا ہوں : کہ لفظ س ی ح “ ان اقوال کے صحیح ہونے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ سیاحت کا اصل معنی سطح زمین پر چلنا ہے جیسے پانی بہتا ہے، پس روزے دار ان چیزوں کو چھوڑنے میں اطاعت وفرمانبرداری پر مسلسل قائم رہتا ہے جنہیں وہ طعام وغیرہ میں سے چھوڑ دیتا ہے، پس وہ سائح (سیاحت کرنے والے) کے قائم مقام ہی ہوگا۔ اور غور وفکر کرنے والوں کے دل ان چیزوں میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں جن کے بارے انہوں نے ذکر کیا ہے اور حدیث میں ہے : ” بیشک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے کائنات میں سیاحت کرنے والے اور چلنے پھرنے والے ہیں وہ میری امت کا درود پاک مجھے پہنچاتے ہیں “ (1) (مجمع الزوائد، جلد 8، صفحہ 595) اور یہ لفظ صاد کے ساتھ صیاحین بھی روایت کیا جاتا ہے، اور یہ الصیاح سے ماخوذ ہے۔ (آیت) ” الرکعون السجدون “۔ یعنی وہ فرض اور دوسری نماز میں رکوع و سجود کرنے والے ہیں۔ (آیت) ” الامرون بالمعروف “۔ یعنی سنت کے بارے حکم دینے والے ہیں اور بعض نے کہا ہے : ایمان کے بارے حکم دینے والے۔ (آیت) ” والناھون عن المنکر “۔ بعض نے کہا ہے : وہ بدعت سے روکنے والے ہیں، اور بعض نے کہا ہے : وہ کفر سے روکنے والے ہیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ہر نیکی اور برائی کو شامل ہے۔ (آیت) ” والحفظون لحدود اللہ “۔ یعنی وہ اس پر قائم رہنے والے ہیں جس کے بارے اللہ کریم نے انہیں حکم دیا ہے اور اس سے باز رہتے ہیں جس سے اللہ کریم نے انہیں منع کیا ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) اہل تاویل نے اس آیت میں اختلاف کیا ہے، کیا یہ ماقبل آیت کے ساتھ متصل ہے یا منفصل ؟ تو ایک جماعت نے کہا ہے : پہلی آیت بذات خود ایک مستقل آیت ہے اور اس سودے کے تحت ہر ایک موحد آتا ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتال کیا تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو، اگرچہ وہ اس دوسری آیت میں مذکور صفات کے ساتھ یا ان سے زیادہ کے ساتھ متصف نہ ہو۔ اور ایک گروہ نے کہا ہے : یہ اوصاف شرط کی جہت پر مذکور ہیں اور دونوں آیتیں باہم مربوط ہیں، پس اس سودے کے تحت داخل نہیں ہوں گے مگر وہی مومنین جو ان اوصاف پر ہوں گے اور وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں قربان کرتے ہوں، یہ حضرت ضحاک (رح) نے کہا ہے اور ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ قول حرج میں مبتلا کرنے والا اور تنگی میں ڈالنے والا ہے اور آیت کا معنی اس بنا پر جس کا تقاضا علماء اور شریعت کے اقوال کرتے ہیں کہ یہ کامل مومنین کے اوصاف ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے تاکہ اہل توحید ان پر قائم اور برقرار رہیں یہاں تک کہ وہ اعلی مرتبہ پر فائز ہوجائیں، اور زجاج نے کہا ہے : میرے نزدیک یہ ہے کہ قول باری تعالیٰ : (آیت) ” التآئبون العبدون “۔ مبتدا ہونے کی وجہ سے حالت رفعی میں ہیں اور اس کی خبر مضمر ہے۔ یعنی (آیت) ” التآئبون العبدون “۔ الی اخر الآیہ۔ لھم الجنۃ ایضا یعنی ان تمام کے لیے بھی جنت ہے، اگرچہ انہوں نے جہاد نہ بھی کیا، بشرطیکہ ان کی طرف سے عناد اور جہاد ترک کرنے کا قصد اور ارادہ نہ ہو، کیونکہ جہاد میں بعض مسلمان بعض کی طرف سے کافی ہوتے ہیں، اس قول کو علامہ قشیری (رح) نے اختیار کیا ہے اور کہا ہے : یہ بہت اچھا ہے (ہذا حسن) کیونکہ اگر یہ صفت ان مومنوں کی وہ جن کا ذکر اس قول باری میں ہے : (آیت) ” اشتری من المؤمنین “۔ تو پھر یہ وعدہ مجاہدین کے لیے خاص ہوجائے گا اور حضرت عبداللہ کے مصحف میں ہے : التائبین العابدین الی آخر ہا اور اس کی دو وجہیں ہیں : ایک یہ ہے کہ اتباع کے طریقہ پر یہ مومنین کی صفت ہے (لہذا حالت جری میں ہیں) اور دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ مدح کی بنا پر حالت نصبی میں ہے۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 3، صفحہ 85 دارالکتب العلمیہ) مسئلہ نمبر : (3) قول باری تعالیٰ : (آیت) ” والناھون عن المنکر “۔ میں واؤ کے بارے علماء کا اختلاف ہے پس کہا گیا ہے کہ یہ ناھین (روکنے والوں کی) صفت میں داخل ہے (3) (زاد المسیر، جلد 3، صفحہ 382) جیسا کہ اس ارشاد میں داخل ہے : (آیت) ” حم، تنزیل الکتب من اللہ العزیز العلیم، غافر الذنب وقابل التوب “۔ (المومن) پس بعض کو واؤ کے ساتھ اور بعض کو بغیر واؤ کے ذکر کیا۔ اور یہ کلام میں جائز اور مروج ہے اور اس کی مثل کی نہ کوئی حکمت تلاش کی جائے گی اور نہ کوئی علت، اور بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ برائی سے روکنے والے اور نیکی کا حکم دینے والے کی مصاحبت کے لیے داخل ہوئی ہے پس قریب نہیں ہے کہ ان دونوں میں سے ایک کا مفرد ذکر کیا جائے، اور اسی طرح قول باری تعالیٰ ہے : (آیت) ” ثیبت وابکارا “۔ (التحریم : 5) ہے اور قول باری تعالیٰ ہے : (آیت) ” الحفطون “۔ میں یہ اس کے معطوف کے قریب ہونے کی وجہ سے داخل ہوئی ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ زائد ہے، اور یہ قول ضعیف ہے اس کا کوئی معنی نہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ واؤثمانیہ ہے کیونکہ عربوں کے نزدیک سات صحیح اور کامل عدد ہے۔ (1) (زاد المسیر، جلد 3، صفحہ 382) اور اسی طرح انہوں نے اس قول میں کہا ہے : (آیت) ” ثیبت وابکارا “۔ (التحریم : 5) اور اسی طرح جنت کے دروازوں کے بارے میں ارشاد ہے : (آیت) ” وفتحت ابوابھا “۔ (الزمر : 73) (اور جنت کے دروازے پہلے ہی کھول دیئے گئے) اور قول باری تعالیٰ ہے : (آیت) ” ویقولون سبعۃ وثامنھم کلبھم “۔ (الکہف : 22) (اور کچھ نہیں گے وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا) اسے ابن خالویہ نے ابو علی فارسی کے ساتھ مناظرہ میں (آیت) ” وفتحت ابوابھا “۔ (الزمر : 73) کے معنی میں ذکر کیا ہے اور ابو علی نے اس کا انکار کیا ہے، ابن عطیہ نے کہا ہے : میرے باپ ؓ نے استاذ النحو ابو عبداللہ الکفیف المالقی سے مجھے بیان کیا ہے اور یہ ان میں سے تھے جو غرناطہ میں سکونت پذیر رہے اور ایک مدت تک وہاں ابن حبوس کے زمانہ میں پڑھایا کہ انہوں نے کہا : بعض عربوں کے نزدیک یہ لغت فصیحہ ہے۔ ان کا طریقہ اور ان کی عادت یہ ہے کہ جب وہ عدد گنتے ہیں تو اس طرح کہتے ہیں : واحد اثنان ثلاثۃ اربعۃ خمسۃ ستۃ سبعۃ وثمانیۃ تسعۃ عشرۃ اسی طرح یہ ان کی لغت ہے۔ اور جب بھی ان کے کلام میں امر آٹھ تک پہنچتا ہے تو وہ واؤ داخل کردیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں : یہ قریش کی لغت ہے۔ اس کا بیان اور اس کا نقض عنقریب سورة الکہف میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ اور سورة زمر میں اللہ تعالیٰ کی توفیق ونصرت سے اس کا بیان آئے گا۔
Ayah 9:113

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

پیغمبر اور مسلمانوں کو شایاں نہیں کہ جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ مشرک اہل دوزخ ہیں۔ تو ان کے لئے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قرابت دار ہی ہوں۔

آیت نمبر : 113۔ اس آیت میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) امام مسلم (رح) نے حضرت سعید بن مسیب ؓ سے اور انہوں نے اپنے باب روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا : جب ابو طالب قریب المرگ ہوئے تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے (2) (المحرر الوجیز، جلد 3، صفحہ 90۔ 89 دارالکتب العلمیہ) اور آپ نے ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ ابن مغیرہ کو ان کے پاس پایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے چچا ! کہو ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “۔ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس بارے تیری شہادت پیش کروں گا “۔ تو ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا : اے ابو طالب ! کیا تو عبدالمطلب کے دین سے اعراض کرے گا ؟ رسول اللہ ﷺ مسلسل وہ کلمہ ان پر پیش کرتے رہے اور اس قول کا ان کے لیے اعادہ کرتے رہے یہاں تک کہ آخر میں ابو طالب نے ان کلام کرتے ہوئے کہا : وہ عبدالمطلب کے دین پر ہے۔ ” لا الہ الا اللہ “۔ کہنے سے انکار کردیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” قسم بخدا ! میں تمہارے لیے ضرور مغفرت طلب کرتا رہوں گا جب تک مجھے تم سے منع نہ کیا گیا “ تب اللہ تعالیٰ نازل فرمائی : (آیت) ” ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی من بعد ما تبین لھم انھم اصحب الجحیم “۔ اور اللہ تعالیٰ نے ابو طالب کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی اور رسول اللہ ﷺ کو فرمایا : (آیت) ” انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشآء، وھو اعلم بالمھتدین “۔ (القصص) (1) (صحیح مسلم، کتاب الا ایمان، جلد 1، صفحہ 40) (بےشک آپ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو آپ پسند کریں، البتہ اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت یافتہ لوگوں کو) پس اس بنا پر یہ آیت حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے اپنے چچا کے لیے استغفار کرنے کے لیے ناسخ ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے ان کی موت کے بعد ان کے لیے مغفرت طلب کی جیسا کہ صحیح کے علاوہ دیگر کتب میں روایت موجود ہے۔ اور حسین بن فضل نے کہا ہے : یہ انتہائی بعید ہے، کیونکہ یہ سورت قرآن کریم میں سے آخر میں نازل ہونے والی (سورتوں) میں سے ہے اور ابوطالب نے عنفوان اسلام کے وقت وصال فرمایا اور حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ ابھی مکہ مکرمہ میں تھے۔ مسئلہ نمبر : (2) یہ آیت کفار کے ساتھ دوستی ختم کرنے کو متضمن ہے چاہے وہ زندہ ہوں یا مردہ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کو اجازت نہیں دی کہ وہ مشرکوں کے لیے استغفار کریں، پس مشرک کے لیے مغفرت طلب کرنا ان امور میں سے ہے جو جائز نہیں۔ پھر اگر کہا جائے : تحقیق یہ بات صحیح ہے کہ غزوہ احد کے دن جب کفار نیحضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے سام نے والے دانت شہید کردیئے اور آپ کا چہرہ مقدس زخمی کردیا تو آپ ﷺ نے یہ فرمایا : ” اللہم اغفر لقومی فانھم لا یعلمون “۔ (2) (صحیح مسلم، غزوہ احد، جلد 2، صفحہ 108) (اے اللہ میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ مجھے نہیں جانتے) تو یہ اس کلمہ کے ساتھ جمع کیسے ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول معظم ﷺ اور مومنوں کو مشرکین کے لیے مغفرت طلب کرنے سے منع فرما دیا ہے ؟ تو یہ کہا جائے گا : بیشک حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے یہ قول سابقہ انبیاء (علیہم السلام) میں سے کسی نبی سے برسبیل حکایت بیان ہوا ہے۔ اور اس پر دلیل وہ آیت ہے جسے مسلم (رح) نے حضرت عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا : گویا میں حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے طرف دیکھ رہا ہوں کہ آپ سابقہ انبیاء (علیہم السلام) میں سے کسی نبی (علیہ السلام) کے بارے بیان فرما رہے ہیں کہ اس کی قوم نے اسے مارا اور وہ اپنے چہرے سے خون صاف کررہے تھے اور کہہ رہے تھے : رب اغفر لقومی فانھم لا یعلمون “۔ (3) (ایضا) (اے میرے پروردگار ! میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ مجھے نہیں جانتے) اور بخاری میں ہے کہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ اس کے بارے خبر دینے لگے کہ اس نے یہ کہا : رب اغفر لقومی فانھم لا یعلمون “۔ (4) (صحیح بخاری، کتاب الانبیاء، جلد 1، صفحہ 195) (اے میرے پروردگار ! میری قوم کو بخش دے، کیونکہ وہ مجھے نہیں جانتے) میں مفسر کہتا ہوں : یہ روایت اس بارے میں صریح ہے کہ یہ آپ سے قبل کسی اور نبی (علیہ السلام) کی جانب سے بطور حکایت ہے، نہ کہ آپ ﷺ نے اسے ابتداء اپنی طرف سے ارشاد فرمایا جیسا کہ بعض کا گمان ہے۔ واللہ اعلم۔ اور یہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ جن کی آپ نے حکایت بیان کی وہ حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں، جیسا کہ اس کا بیان سورت ہود میں آئے گا۔ ان شاء اللہ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آیت میں استغفار سے مراد نماز ہے، اور بعض نے کہا ہے : میں نہیں ہوں کہ میں اہل قبلہ میں سے کسی پر نماز (جنازہ) پڑھنا چھوڑ دوں اگرچہ وہ حبشہ کی رہنے والی زنا سے حاملہ ہو، کیونکہ میں نے اللہ تعالیٰ کو نہیں سنا کہ اس نے مشرکین کے سوا کسی کی نماز سے روکا ہو۔ کیونکہ اس نے مشرکین کے بارے میں فرمایا ہے : (آیت) ” ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین “۔ الآیہ (1) (المحرر الوجیز، جلد 3، صفحہ 90) حضرت عطا بن ابی رباح ؓ نے کہا ہے : یہ آیت مشرکوں پر نماز جنازہ پڑھنے سے روکنے کے بارے میں ہے۔ اور یہاں استغفار سے مراد صلوۃ (نماز جنازہ) ہی ہوگا۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ زندوں کے لیے استغفار کرنا جائز ہے کیونکہ ان کے ایمان کی امید اور توقع ہو سکتی ہے اور اچھے اور خوبصورت قول کے ساتھ ان کی تالیف قلوب کرنا اور دین کی طرف انہیں راغب کرنا ممکن ہوتا ہے، اور بہت سے علماء نے کہا ہے کہ آدمی اپنے کافر والدین کے لیے دعا مانگے اور ان کے لیے بخشش طلب کرے جب تک وہ زندہ ہوں، اور رہا وہ جو فوت ہوگیا تو اس سے امید منقطع ہوگئی لہذا اس کے لیے دعا نہیں کی جائے گی حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ اپنے مردوں کے لیے مغفرت طلب کرتے تھے پھر یہ آیت نازل ہوئی تو وہ استغفار کرنے سے رک گئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں زندوں کے لیے مغفرت طلب کرنے سے منع نہیں کیا یہاں تک کہ مرجائیں (2) (تفسیر طبری، سورة توبہ، جلد 1، صفحہ 52) (یعنی مرنے کے بعد ان کے لیے مغفرت کی دعا نہیں ہے) مسئلہ نمبر : (3) اہل معانی نے کہا ہے : ماکان قرآن کریم میں دو صورتوں میں آتا ہے، ایک نفی کے معنی میں جیسے ارشاد گرامی ہے : (آیت) ” ما کان لکم ان تنبتوا شجرھا “۔ (النمل : 60) (تمہاری طاقت نہ تھی کہ تم اگا سکتے ان کے درخت) اور (آیت) ” وما کان لنفس ان تموت الا باذن اللہ “۔ (آل عمران : 145) (اور نہیں ممکن کہ کوئی شخص مرے بغیر اللہ کی اجازت کے) اور دوسرا نہی کے معنی میں آتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وما کان لکم ان تؤذوا رسول اللہ “۔ (الاحزاب : 53) (اور تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اذیت پہنچاؤ اللہ کے رسول کو) اور (آیت) ” ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین “۔ الآیہ (درست نہیں ہے نبی کے لیے اور نہ ایمان والوں کے لیے کہ مغفرت طلب کریں مشرکوں کے واسطے)