Ayah 9:103آیت نمبر : 103۔
اس آیت میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” خذمن اموالھم صدقۃ “۔ یہ صدقہ جس کے بارے میں حکم دیا گیا ہے اس میں اختلاف ہے پس کیا گیا ہے کہ یہ فرض صدقہ ہے، یہ جویبر نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے اور یہ عکرمہ کا قول ہے جس کو قشیری نے ذکر کیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ان کے ساتھ مخصوص ہے جن کے بارے میں آیت نازل ہوئی، کیونکہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے ان سے ان کے مالوں کا تیسرا حصہ لیا، اور فرض زکوۃ میں سے یہ کسی میں نہیں ہے، اسی لیے امام مالک (رح) نے کہا ہے : جب کوئی آدمی اپنا تمام مال صدقہ کر دے تو ثلث نکالنا اس کے لیے جائز ہے، اور استدلال حضرت ابولبابہ ؓ کی حدیث سے ہے۔ پہلے قول کی بنا پر یہ خطاب حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کو ہے جو اپنے ظاہر کے اعتبار سے آپ پر ہی محصور ہونے کا تقاضا کرتا ہے، پس آپ ﷺ کے سوا کوئی یہ صدقہ نہیں لے سکتا اور اس بنا پر آپ کے ساقط کرنے کے ساتھ صدقہ کا ساقط ہونا اور آپ کے وصال کے ساتھ اس کا زائل ہونا لازم آتا ہے، اور حضرت ابوبکرصدیق ؓ کے دور خلافت میں منکرین زکوۃ نے اسی کے ساتھ تعلق قائم کیا اور انہوں نے کہا : بیشک آپ ﷺ اس کے عوض ہمیں پاکیزگی اور برکت عطا فرماتے تھے اور آپ ہمارے لیے دعا فرماتے تھے، حالانکہ آپ کے سوا کسی اور سے ہم نے اسے معدوم پایا ہے اور اس بارے میں ان کے شاعر نے یہ کہا ہے :
اطعنا رسول اللہ ما کان بیننا فیا عجیا مابال ملک ابی بکر (1) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1006)
ہم نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی ہے آپ ہمارے درمیان نہیں ہیں پس تعجب ہے ابوبکر کی بادشاہی کو کیا ہوا۔
وان الذی سألوکم فمنعتم لکالتمرا واحلی لدیھم من التمر (2) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1006)
اور بیشک وہ جو انہوں نے تم سے مانگا اور تم نے انکار کیا وہ کھجور کی مثل یا ان کے نزدیک کھجور سے زیادہ میٹھا ہے۔
سنمتعھم مادام فینا بقیۃ کرام علی الضراء فی العسر والیسر (1) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1006)
ہم ان کا انکار کرتے رہیں گے جب تک ہم میں تنگی اور خوشحالی کی حالت میں مصیبت زدہ لوگوں پر سخت اور مہربانی کرنے والے باقی ہیں۔
یہ قسم ان لوگوں کی ہے جو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے خلاف مضبوط اور پختہ طریقہ سے کھڑے تھے اور ان کے حق میں حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے فرمایا : قسم بخدا ! میں ضرور ان کے ساتھ جنگ کروں گا جنہوں نے نماز اور زکوۃ کے درمیان فرق کیا (2) (صحیح بخاری، کتاب الزکوۃ جلد 1، صفحہ 188)
علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : رہا ان کا یہ قول کہ خطاب حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے لیے ہے لہذا آپ کے سوا کوئی اس کے ساتھ ملحق نہیں، تو یہ قرآن سے جاہل، ماخذ شریعت سے غافل اور دین کے ساتھ مذاق کرنے والوں کا کلام ہے، کیونکہ قرآن کریم میں خطاب کوئی ایک طرز پر وارد نہیں بلکہ مختلف وجوہ پروارد ہے، پس ان میں سے ایک خطاب تمام امت کی طرف متوجہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” یایھا الذین امنوا اذا قمتم الی الصلوۃ “۔ (المائدہ : 6)
ترجمہ : اے ایمان والو ! جب تم اٹھو نماز ادا کرنے لیے۔
اور (آیت) ” یایھا الذین امنوا کتب علیکم الصیام “۔ (البقرہ : 183)
ترجمہ : اے ایمان والو ! فرض کیے گئے تم پر روزے۔
اور اسی طرح کی اور آیات :
اور ان میں سے ایک خطاب آپ ﷺ کے ساتھ خاص ہے اور کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں نہ لفظوں میں نہ معنی میں۔ مثلا ارشاد گرامی ہے :
(آیت) ” ومن الیل فتھجد بہ نافلۃ لک “۔ (الاسرائ : 79)
ترجمہ : اور رات کے بعض حصہ میں (اٹھو) اور نماز تہجد ادا کرو۔
(تلاوت قرآن کے ساتھ) (یہ نماز زائد ہے) اور قول باری تعالیٰ : (آیت) ” خالصۃ لک “۔ (النور : 50) یہ (اجازت) صرف آپ کے لیے ہے) اور ان میں سے ایک خطاب آپ ﷺ کے ساتھ خاص ہے لفظی طور پر لیکن معنی اور فعلا تمام امت اس میں شریک ہے، جیسا کہ فرمان ہے : (آیت) ” اقم الصلوۃ لدلوک الشمس “۔ الآیہ (الاسراء : 78)
ترجمہ : نماز ادا کیا کریں سورج ڈھلنے کے بعد رات کے تاریک ہونے تک الخ۔
اور قول باری تعالیٰ : (آیت) ” فاذا قرات القران فاستعذ باللہ “۔ (النحل : 98)
ترجمہ : سو جب تم قرآن کی تلاوت کرنے لگو تو پناہ مانگو اللہ تعالیٰ کی الخ۔ اور یہ ارشاد گرامی :
(آیت) ” واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوۃ “۔ (النسائ : 102)
ترجمہ ؛ اور (اے حبیب) جب آپ ان میں موجود ہوں اور قائم کریں آپ ان کے لیے نماز۔
پس ہر وہ جس پر سورج غروب ہوا وہ نماز کا مخاطب ہے، اور اسی طرح ہر وہ جس نے قرآن کریم پڑھا وہ ” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “۔ پڑھنے کا مخاطب ہے، اور اسی طرح ہر وہ جو ڈرا وہ اس صفت کے ساتھ نماز قائم کرے گا، پس اسی قبیلے سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے :
(آیت) ” خذ من اموالھم صدقۃ تطھرھم وتزکیھم بھا “۔
اور اس معنی میں یہ ارشاد گرامی بھی ہیں :
(آیت) ” یایھا النبی اتق اللہ “۔ (الاحزاب : 1)
ترجمہ : (اے نبی مکرم ! ) (حسب سابق ڈرتے رہیے اللہ تعالیٰ سے)
اور (آیت) ” یایھا النبی اذا طلقتم النسائ، (الطلاق : 1)
ترجمہ : (اے نبی (مکرم) (مسلمانوں سے فرماؤ) جب تم (اپنی) عورتوں کو طلاق دینے کا ارادہ کرو) (3) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1008)
مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” من اموالھم “۔ بعض عرب اور وہ قبیلہ دوس کے آدمی تھے نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ بیشک مال سے مراد کپڑے، سازوسامان تجارت ہے، عین (یعنی سونا، چاندی) کو مال کا نام نہیں دیا جاسکتا اور یہ معنی اس سنت میں آیا ہے جو مالک عن بن زید الدیلی عن ابی الغیث سالم مولی ابن مطیع عن ابی ہریرہ ؓ کی روایت سے ثابت ہے حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : ہم فتح خیبر کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہم نے سونے اور چاندی میں سے کوئی مال غنیمت نہ پایا مگر اموال، کپڑے اور سازوسامان (پایا) (1) (صحیح مسلم، کتاب الزہد، جلد 2 صفحہ 407) الحدیث :
اور ان کے سوا دوسروں نے کہا ہے کہ مال صامت سے مراد سونا اور چاندی ہے اور بعض نے کہا ہے : صرف اونٹ ہیں اور اسی سے ان کا قول ہے : المال الابل (مال تو اونٹ ہیں) اور بعض نے کہا ہے : اس سے مراد تمام جانور ہیں، ابن الانباری نے احمد بن یحٰی (ثعلب) النحوی سے ذکر کیا ہے، انہوں نے کہا : سونے اور چاندی میں سے اتنا جو اس مقدار تک پہنچنے سے کم ہو جس میں زکوۃ واجب ہوتی ہے وہ مال نہیں ہے، اور یہ شعر بیان کیا ہے :
واللہ ما بلغت لی قط ماشیۃ حد الزکاۃ ولا ابل ولا مال :
قسم بخدا ! میرے لیے کبھی کوئی جانور زکوۃ کی حد کو نہیں پہنچا نہ اونٹ اور نہ ہی مال۔
ابو عمر ؓ نے کہا ہے : کلام عرب سے معروف ومشہور یہ ہے کہ ہر وہ جس سے خوشحالی حاصل کی جائے اور امارت حاصل کی جائے وہ مال ہے، کیونکہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے فرمایا ابن آدم کہتا ہے میرا مال بلاشبہ مال میں سے اس کا وہ ہے جو اس نے کھایا اور فناہ کرو یا یا پہنا اور بوسیدہ کردیا یا صدقہ کردیا اور ختم کردیا “: یقول ابن آدم مالی مالی وانما لہ من مالہ ما اکل فافنی اولبس فابلی او تصدق فامضی (2) (صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 1 صفحہ 74)
اور حضرت ابوقتادہ (رح) نے کہا ہے : پس آپ نے مجھے ایک زرہ عطا فرمائی تو اس کے عوض میں نے بنی سلمہ میں کھجوروں کا چھوٹا سا قطعہ خریدا، وہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام میں حاصل کیا کمایا، پس جس کسی نے اپنا سارا مال صدقہ کرنے کے بارے قسم کھائی تو اس کا اطلاق اس کے مال کی ہر نوع اور ہر قسم پر ہوگا چاہے وہ اس میں سے ہو جس میں زکوۃ واجب ہوتی ہے یا نہ ہو، مگر یہ کہ وہ اس میں سے معین شے کی نیت کرے تو پھر قسم کا اطلاق اسی پر ہوگا جس کی اس نے نیت کی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا اطلاق اموال زکوۃ پر ہوگا، اور علم محیط ہے اور زبان شاہد ہے کہ ہر وہ شی جس کا وہ مالک بنا اسے مال کا نام دیا جائے گا واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” خذ من اموالھم صدقۃ “۔ یہ مطلق ہے ماخوذ اور ماخوذ منہ (وہ مال جو لیا جائے اور جس سے لیا جائے) کی مقدار کی وضاحت اور بیان ہے، بلاشبہ اس کا بیان سنت اور اجماع میں ہے، جیسا کہ ہم اس ذکر کریں گے، پس زکوۃ تمام مالوں سے لی جائے گی، تحقیق حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے جانوروں، اناج اور سونے چاندی میں زکوۃ کو واجب کیا ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں اور جو کچھ ان کے سوا ہے مثلا گھوڑے اور تمام سامان واسباب ان میں اختلاف ہے، عنقریب گھوڑوں اور شہد کا ذکر سورة النحل میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
ائمہ نے حضرت ابو سعید ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” کھجوروں کے پانچ وسقوں سے کم میں زکوۃ نہیں ہے اور چاندی کے پانچ اوقیہ سے کم میں صدقہ نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں بھی صدقہ نہیں ہے “ (1) (صحیح بخاری، کتاب الزکوۃ، جلد 1، صفحہ 196)
دانوں اور زمین سے اگنے والی ہر شے کی زکوۃ کے بارے گفتگو مکمل طور پر سورة الانعام میں گزر چکی ہے اور معاون کے بارے میں سورة البقرہ میں اور زیورات کے بارے اس سورت میں کلام گزر چکی ہے، اور علماء نے اس پر اجماع کیا ہے کہ ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہے، پس جب ایک آزاد مسلمان چاندی سے بنے ہوئے دو سو درہموں کا مالک ہو، تو یہی وہ پانچ اوقیہ ہیں جن کا بیان حدیث طیبہ میں ہوا ہے، اور ان پر پورا سال گزر گیا تو ان کی زکوۃ اس پر واجب ہے اور وہ ان کا چالیسواں حصہ یعنی پانچ درہم ہے، اور سال کی شرط لگائی گئی ہے، کیونکہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کا ارشاد ہے : ” مال میں زکوۃ نہیں ہوتی یہاں تک کہ اس پر سال گزر جائے “ (2) (جامع ترمذی، کتاب الزکوۃ، جلد 1 صفحہ 80)
اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور چاندی میں سے جو دو سو درہم سے زائد ہو تو اس کے حساب سے ہر شے میں چالیسواں حصہ ہے مقدار کم ہو یا زیادہ، یہ قول امام مالک (رح) امام لیث امام شافعی (رح)، امام ابوحنیفہ (رح) کے اکثر اصحاب، ابن ابی لیلیٰ ، ثوری، امام اوزاعی، امام احمد بن حنبل، ابو ثور اور اسحاق اور ابو عبیدرحمۃ اللہ علیہمکا ہے اور یہی حضرت علی اور حضرت ابن عمر رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے مروی ہے، اور ایک جماعت نے کہا ہے : دو سو درہم سے جو زائد ہوں گے ان میں کوئی شے لازم نہ ہوگی یہاں تک کہ زیادتی چالیس درہم تک پہنچ جائے، اور جب وہ مقدار چالیس ہوجائے تو ان میں ایک درہم واجب ہوگا اور وہی چالیسواں حصہ ہے (3) (کتاب الاثار، کتاب الزکوۃ، صفحہ 92)
یہ قول حضرت سعید بن مسیب، حسن، عطا، طاؤس، شعبی، زہری مکحول، اور عمروبن دینار، اور امام اعظم ابو حنیفہرحمۃ اللہ علیہمکا ہے۔
مسئلہ نمبر : (4) اور وہی سونے کی زکوۃ تو جمہور علماء کا نظریہ یہ ہے کہ جب وہ بیس دینار ہوجائے تو اس کی قیمت دو سو درہم ہوگی اور جو زیادہ ہوگا اس میں زکوۃ واجب ہے، یہ حضرت علی ؓ کی حدیث کی بنا پر ہے، اسے امام ترمذی (رح) نے ضمرہ سے اور حارث سے انہوں نے حضرت علی (علیہ السلام) سے روایت کیا ہے (4) (سنن ابی داؤد، باب فی زکوۃ السائمہ، حدیث نمبر 1342، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اور امام ترمذی (رح) نے کہا ہے : میں نے محمد بن اسماعیل (رح) سے اس حدیث کے بارے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا : میرے نزدیک دونوں ابو اسحاق سے صحیح ہیں۔ اور احتمال ہے کہ یہ حدیث دونوں سے اکٹھی مروی ہو (5) (جامع ترمذی، کتاب الزکوۃ، جلد 1 صفحہ 79)
اور الباجی نے ” المنتقی “ میں کہا ہے : یہ حدیث وہاں اس کی اسناد نہیں ہے، مگر علماء کا اس کے مطابق لینے پر اتفاق کرنا اس کے حکم کے صحیح ہونے پر دلیل ہے، واللہ۔
اور امام حسن اور ثوریرحمۃ اللہ علیہم سے مروی ہے اور اسی کی طرف داؤد بن علی کے بعض اصحاب بھی مائل ہوئے ہیں کہ سونے میں زکوۃ نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ چالیس دینار تک پہنچ جائے۔ اور اسے حضرت علی ؓ کی حدیث، حضرت ابن عمر ؓ اور حضرت عائشہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی حدیث رد کرتی ہے کہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ بیس دینار سے نصف لیتے تھے اور چالیس دینار میں سے ایک دینار لیتے تھے (1) (سنن ابن ماجہ، کتاب الزکوۃ، حدیث نمبر 1780، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
مسئلہ نمبر : (5) امت نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ پانچ سے کم اونٹوں میں کوئی زکوۃ نہیں، اور جب ان کی تعداد پانچ ہوجائے تو ان میں ایک بکری لازم ہوجاتی ہے اور ” شاۃ “ کا اطلاق غنم (ریوڑ) میں سے ایک پر ہوتا ہے اور غنم بکری اور بھیڑ دونوں کے لیے ہے اور اس پر بھی علماء کا اختلاف ہے کہ پانچ اونٹوں میں صرف ایک بکری لازم ہے اور یہ اس کا فریضہ ہے۔ اور جانوروں کی زکوۃ کو اس کتاب (تحریر) میں بیان کیا گیا ہے جو حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے حضرت انس ؓ کے لیے لکھی جب کہ آپ نے انہیں بحرین کی طرف بھیجا، اسے امام بخاری، ابو داؤد، دارقطنی، نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ نے روایت کیا ہے اور تمام اس پر متفق ہیں (2) (سنن ابی داؤد، کتاب الزکوۃ، حدیث نمبر 1339، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، سنن ابن ماجہ، کتاب الزکوۃ، حدیث نمبر 1789، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اور دو مقامات پر اس میں اختلاف ہے۔ ان میں ایک اونٹوں کی زکوۃ میں اور وہ یہ کہ جب ان کی تعداد ایک سو اکیس تک پہنچ جائے تو امام مالک (رح) نے کہا ہے کہ صدقہ وصول کرنے والے کا اختیار ہے اگر چاہے تو تین بنات لبون (یعنی ایسی اونٹنی جس کی عمر دو سال مکمل ہو اور تیسرے سال میں داخل ہوچکی ہو) لے اور اگر چاہے تو دو حقے (ایک حقہ جس کی عمر تین سال مکمل ہو اور وہ چوتھے سال میں داخل ہوچکا ہو) لے لے۔ اور ابن القاسم نے کہا ہے کہ ابن شہاب نے کہا ہے : اس میں تین بنات لبون ہیں یہاں تک کہ تعداد ایک سو تیس تک پہنچ جائے تو پھر اس میں ایک حقہ اور دو بنت لبون لازم ہوں گی۔ ابن قاسم نے کہا ہے : میرے رائے ابن شہاب کے قول کے مطابق ہے۔ اور ابن حبیب نے ذکر کیا ہے کہ عبدالعزیز بن ابی سلمہ اور عبدالعزیز بن ابی حازم اور ابن دینار امام مالک کے قول کے مطابق کہتے ہیں۔ اور رہا دوسرا مقام تو وہ غنم (ریوڑ) کے صدقہ کے بارے ہے۔ وہ یہ کہ جب ان کی تعداد تین سو ایک بکری سے زیادہ ہوجائے تو حسن بن صالح بن حیی نے کہا ہے : ان میں چار بکریاں لازم ہوں گی، اور جب تعداد چار سو ہوجائے تو ان میں پانچ بکریاں لازم ہوں گی، اسی طرح جب بھی تعداد زیادہ ہوگی، تو ہر سو میں ایک بکری بڑھ جائے گی، اور اسی طرح حضرت ابراہیم نخعی (رح) سے مروی ہے، اور جمہور نے کہا ہے : دو سو ایک بکریوں میں تین بکریاں ہیں، پھر ان میں چار سو تک کوئی شے نہیں ہے اور پھر چار سو میں چار بکریاں ہوجائیں گی، پھر جب بھی ان میں ایک سو زائد ہوں گی تو ان میں ایک بکری بڑھ جائے گی، اس پر اجماع اور اتفاق ہے، ابن عبدالبر نے کہا ہے : اس مسئلہ میں ابن المنذر کو وہم ہوا ہے اور اس میں علماء سے خطا ہوئی ہے، مسئلہ میں اختلاط اور اکثر غلط ہوگیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (6) امام بخاری اور مسلم رحمۃ اللہ علیہما نے گائے کی زکوۃ کی تفصیل صحیحین میں ذکر کی اور اسے ابو داؤد، ترمذمی، نسائی، دارقطنی اور امام مالکرحمۃ اللہ علیہمنے موطا میں روایت کیا ہے اور یہ روایت مرسل، مقطوع اور مقوقوف ہے (3) (سنن ابی داؤد، کتاب الزکوۃ، حدیث نمبر 1345، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
ابو عمر نے کہا ہے : اسے ایک نے طاؤس سے اور انہوں نے حضرت معاذ ؓ سے روایت کیا ہے، مگر وہ جنہوں نے اسے مرسل ذکر کیا ہے وہ ان سے زیادہ ثابت اور ثقہ ہیں جنہوں نے اسے مسند ذکر کیا ہے ہے، اور اسے مسند ذکر کرنے والوں میں سے بقیہ نے مسعودی سے انہوں نے حکم سے اور انہوں نے طائوس سے اسے مسند ذکر کیا ہے اور اس روایت میں علماء نے اختلاف کیا ہے جس کے ساتھ بقیہ ثقہ راویوں سے منفرد ہوتے ہیں اور اسے حسن بن عمارہ نے حکم سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے اسے بقیہ نے مسعودی سے اور انہوں نے حکم سے روایت کیا ہے اور حسن کے ضعف پر اجماع ہے۔ اور یہ خبر طاؤس کی روایت کے علاوہ سے سند متصل کے ساتھ صحیح ثابت ہے، اسے عبدالرزاق نے ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا : ہمیں معمر اور ثوری نے اعمش سے انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت معاذ بن جبل ؓ سے خبر دی ہے کہ انہوں نے فرمایا : مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا اور حکم ارشاد فرمایا کہ وہ ہر تیس گائیوں میں سے ایک تبیع یا تبیعہ (ایک سال کا بچھڑا یا بچھڑی) لے اور چالیس گائیوں میں سے ایک مسئنہ (دو سال کا بچھڑا، بچھڑی) لے اور ہر عاقل بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر معافر کا کپڑا (1) (جامع ترمذی، کتاب الزکوۃ، جلد 1، صفحہ 80)
(معافر یمن کا ایک قبیلہ ہے اس کی طرف منسوب چادر کو معافر کہا جاتا ہے) اسے دارقطنی اور ابو عیسیٰ نے ذکر کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ (2) (جامع ترمذی، کتاب الزکوۃ، حدیث نمبر 566، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
ابو عمر ؓ نے کہا ہے : علماء کے درمیان اس بارے کوئی اختلاف نہیں ہے کہ گائیوں کی زکوۃ کے بارے میں حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ اور آپ کے اصحاب سے جو زکوۃ مروی ہے وہ وہ ہے جو حضرت معاذ بن جبل ؓ نے بیان کی ہے کہ تیس گائیوں میں ایک تبیع اور چالیس میں ایک مسنہ ہے، مگر وہ جو حضرت سعید بن مسیب، ابوقلابہ، زہری اور قتادہ سے مروی ہے، کیونکہ وہ ہر پانچ گائیوں میں تیس تک ایک بکری واجب کرتے ہیں، زکوۃ سے متعلقہ یہ تمام تفصیل اپنے اصول و فروع کے ساتھ کتب فقہ میں موجود ہے اور شرکت کا ذکر سورة ” ص “ میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر : (7) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” صدقۃ “ یہ الصدق سے ماخوذ ہے، کیونکہ ان کے ایمان کے صحیح ہونے اور اس کے ظاہر کے ساتھ ساتھ اس کے باطن کے سچا ہونے پر دلیل ہے اور یہ کہ یہ ان منافقین میں سے نہیں ہیں جو اطاعت وپیروی کرنے والے مومنین کو صدقات کے بارے میں الزام دیتے ہیں۔
(آیت) ” تطھرھم وتزکیھم بھا “۔ یہ دونوں مخاطب کے لیے حال ہیں، تقدیر کلام یہ ہے : خذھا مطھرالھم ومز کیا لھم بھا (تم صدقہ وصول کرو ان کو پاک کرتے ہوئے اور ان کے ساتھ ان کو بابرکت بناتے ہوئے) اور یہ بھی جائز ہے کہ ان دونوں کو صدقہ کی صفت بنا دیا جائے، ای صدقۃ مطھرۃ لھم مزکیۃ (ان کو پاک کردینے والا صدقہ اور بابرکت بنانے والا) اور (آیت) ” تزکیھم “ کا فاعل مخاطب ہوگا اور وہ ضمیر جو بھا میں ہے وہ موصوف نکرہ کی طرف لوٹے گی، اور نحاس اور مکی نے بیان کیا ہے کہ (آیت) ” تطھرھم “۔ صدقہ کی صفت ہے اور (آیت) ” وتزکیھم بھا “ ، خذ کی ضمیر سے حال ہے اور وہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ ہیں اور یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ الصدقہ سے حال ہو۔ اور یہ ضعیف ہے، کیونکہ یہ نکرہ سے حال ہے۔ اور زجاج نے کہا ہے : عمدہ یہ ہے کہ یہ خطاب حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے لیے ہو یعنی بیشک آپ انہیں پاک کردیں اور اس کے سبب انہیں بابرکت بنا دیں، یہ قطع (ماقبل سے تعلق کا منقطع ہونا) اور استناف کی بنا پر ہے، اور جواب امر کی بنا پر جزم بھی جائز ہے اور اس کا معنی یہ ہے : اگر آپ ان کے مالوں سے صدقہ لیں گے تو وہ انہیں پاک کر دے گا اور بابرکت بنا دے گا اور اسی سے امرء القیس کا قول ہے :
فقانبک من ذکری حبیب ومنزل :
(تم دونوں ٹھہرو تاکہ ہم اپنے محبوب اور اس کی گھر کی یاد میں رو لیں)
اور حسن نے طا کے سکون کے ساتھ تطھرھم پڑھا ہے اور یہ ہمزہ کے ساتھ طھرواطھرتہ سے منقول ہے، مثلاظھرواظھرتہ۔
مسئلہ نمبر : (8) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وصل وعلیھم “۔ ہر وہ امام جو وصول کرتا ہے اس کے فعل میں اصل یہ ہے کہ وہ صدقہ دینے والے کے لیے برکت کی دعا کرے، امام مسلم (رح) نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب کوئی قوم صدقہ لے کر آتی تو آپ فرماتے : اللھم صل علیھم اے اللہ ! ان پر رحمتیں نازل فرما، پس حضرت ابن ابی اوفی ؓ اپنا صدقہ لے کر حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” اے اللہ ! آل ابی اوفی ؓ پر رحمتیں نازل فرما “ (1) (صحیح مسلم، کتاب الزکوۃ، جلد 1، صفحہ 346)
ایک قوم اسی طرف گئی ہے۔ اور دوسروں نے کہا ہے کہ یہ منسوخ ہوچکی ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے ساتھ : (آیت) ” ولا تصل علی احد منھم مات ابدا “۔ (التوبہ : 84) (اور نہ پڑھیے نماز جنازہ کسی پر ان میں سے جو مر جائے کبھی) انہوں نے کہا ہے : پس یہ جائز نہیں ہے کہ کسی پر صلوۃ بھیجی جائے مگر یہ کہ یہ صرف حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے لیے خاص ہے، کیونکہ آپ کو اس کے ساتھ خاص کیا گیا ہے اور انہوں نے اس ارشاد سے استدلال کیا ہے : (آیت) ” لا تجعلوا دعآء الرسول بینکم کدعآء بعضکم بعضا “۔ الآیہ (النور : 63) (نہ بنالو رسول کے پکارنے کو آپس میں جیسے تم پکارتے ہو ایک دوسرے کو)
اور اس وجہ سے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں : حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے سوا کسی پر صلوۃ نہیں بھیجی جائے گی۔ اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ یہ خطاب آپ ﷺ کی ذات کے ساتھ محصور نہیں ہے۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے اور آیت میں اس کے بعد اس کا بیان آئے گا۔ پس رسول اللہ ﷺ کی اقتدا کرنا اور اس کے ساتھ تسلی دینا اور دلجوئی کرنا واجب ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی مثل بنتا ہے : (آیت) ” وصل علیھم، ان صلوتک سکن لھم “۔ یعنی جب آپ ان کے لیے دعا کریں گے جس وقت وہ اپنے صدقات لے کر آئیں گے تو اس سے ان کے دلوں کو سکون حاصل ہوگا اور وہ اس سے خوش ہوجائیں گے، اور حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے بیان کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ میرے پاس آئے تو میں نے اپنی بیوی کو کہا : رسول اللہ ﷺ سے کسی کے بارے سوال نہ کرنا، تو اس نے کہا : رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سے نکل جائیں گے اور ہم آپ سے کسی شی کے بارے سوال نہیں کریں گے، پھر اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ آپ میرے خاوند کے لیے دعا فرمائیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ تجھ پر اور تیرے خاوند پر رحمت فرمائے “۔ یہاں پر صلوۃ کا لفظ رحمت اور ترحم (رحم کرنے) کے معنی میں ہے۔ صلی اللہ علیک وعلی زوجک، نحاس نے کہا ہے : تمام اہل لغت نے اس بارے میں بیان کیا ہے کہ ہم اسے جانتے ہیں کہ کلام عرب میں لفظ صلوۃ دعا کے معنی میں ہے۔ اور اسی سے الصلوۃ علی الجنائز بھی ہے (یعنی میعوں کے لیے دعا مانگنا) حفص، حمزہ اور کسائی نے (آیت) ” ان صلوتک “ صیغہ واحد کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور باقیوں نے جمع کے ساتھ قرات کی ہے اور اسی طرح اختلاف اصلاتک تامرک میں ہے۔ اور سکن کاف کو سکون کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔
حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : اس کا معنی ہے یہ ان کے لیے وقار ہے اور السکن سے مراد وہ شے ہے جس کے ساتھ نفسوں کو سکون حاصل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔
Ayah 9:104آیت نمبر : 104۔
اس آیت میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) کہا گیا ہے : پیچھے بیٹھے رہنے والوں میں سے جنہوں نے توبہ نہیں کی انہوں نے کہا : یہ لوگ گزشتہ کل تو ہمارے ساتھ تھے، نہ وہ کلام کرتے ہیں اور نہ وہ (ہمارے ساتھ) بیٹھتے ہیں، تو اب انہیں کیا ہوگیا ہے ؟ اور یہ کون سی خصوصیت ہے جس کے ساتھ ہمارے سوا وہ خاص کردیئے گئے ہیں ؟ تب یہ آیت نازل ہوئی : الم یعلموا “ ، پس یعلموا “ میں ضمیر ان کی طرف لوٹ رہی ہے جنہوں نے توبہ نہیں کی پیچھے رہنے والوں میں سے، ابن زید نے یہ معنی بیان کیا ہے اور یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ضمیر ان لوگوں کی طرف لوٹ رہی ہو جنہوں نے توبہ کی اور اپنے آپ کو باندھ دیا، اور قول باری تعالیٰ : ھو، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ان امور کے ساتھ منفرد اور یکتا ہونے کی تاکید کے لیے ہے۔ اور اس کی تحقیق یہ ہے کہ اگر اس نے کہا ہوتا : ان اللہ یقبل التوبۃ “ تو اس میں یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ اس کے رسول کا قبول کرنا اس کی طرف سے ہی قبول کرنا ہو۔ پس آیت نے یہ واضح کردیا کہ یہ ان امور میں سے ہے جس تک نہ کوئی نبی پہنچ سکتا ہے اور نہ کوئی فرشتہ (1) (المحرر الوجیز، جلد 3، صفحہ 79)
مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ویاخذالصدقت “۔ یہ اس بارے میں صریح نص ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی صدقات لینے والا ہے اور ان پر ثواب وجزا عطا فرمانے والا ہے اور یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ جل وعز کا حق ہے، اور حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ واسطہ ہیں اور اگر آپ کا وصال ہوگیا تو آپ کے بعد آپ کا نائب اور خلیفہ ہی واسطہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ زندہ ہے وہ کبھی نہیں مرے گا۔ اور یہ اس کی وضاحت کر رہا ہے کہ قول باری تعالیٰ : (آیت) ” خذمن اموالھم صدقۃ “۔ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کی ذات گرامی پر محصور نہیں ہے۔ اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” بیشک اللہ تعالیٰ صدقہ قبول فرماتا ہے اور اسے اپنے دائیں دست قدرت کے ساتھ لیتا ہے، پھر وہ اسے تم میں سے کسی کے لیے بڑھاتا رہتا ہے جیسا کہ تم میں سے کوئی اپنے بچھیرے کی تربیت اور پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ ایک لقمہ احد پہاڑ کی مثل ہوجاتا ہے اور اس کی تصدیق کتاب میں موجود ہے اور وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ ربا (سود) کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے “ (1) (جامع ترمذی، کتاب الزکوۃ، جلد 1 صفحہ 84، ایضا حدیث نمبر 598، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
امام ترمذی (رح) نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے اور صحیح مسلم میں ہے : ” کوئی بھی حلال اور طیب کمائی سے ایک کھجور صدقہ نہیں کرتا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں دست قدرت سے لیتا ہے “۔ اور ایک بھی روایت ہے :” پھر وہ رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتی رہتی ہے یہاں تک کہ وہ پہاڑ سے بڑھ جاتی ہے۔ “ (2) (صحیح مسلم، کتاب الزکوۃ، جلد 1، صفحہ 326 ) ۔ الحدیث :
اور ایک روایت میں ہے : ” بیشک صدقہ رحمن کی ہتھیلی میں واقع ہوتا ہے اس سے پہلے کہ سائل کے ہاتھ میں جائے پس وہ اسے بڑھتاتا ہے جیسا کہ تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچے یا اونٹنی کے بچے کی تربیت کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے اسے کئی گنا کردیتا ہے “۔ (3) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ، 1011)
ہمارے علماء نے احادیث کی تاویل میں کہا ہے : بلاشبہ یہ صدقہ کے قبول ہونے اور اس پر جز واقع ہونے سے کنایہ ہے، جیسا کہ اس نے مریض پر انتہائی رحم اور مہربانی فرماتے ہوئے مریض سے اپنی ذات کریمہ ومقدسہ کنایۃ مراد لی ہے اور فرمایا : ” اے ابن آدم میں بیمار ہوا تو تو نے میری عیادت اور بیمار پرسی نہیں کی “ (4) (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، جلد 2، صفحہ 318) ۔ الحدیث
یہ معنی سورة البقرۃ میں پہلے گزر چکا ہے، اور یمین اور کف کے الفاظ کو ذکر کے ساتھ خاص کیا گیا ہے کیونکہ کسی شی کو قبول کرنے والا ہر کوئی بلاشبہ اسے اپنی ہتھیلی اور دائیں ہاتھ کے ساتھ ہی اسے پکڑتا ہے یا اسے اس میں رکھا جاتا ہے، تو اسی بنا پر اسے ہی ذکر کیا جسے وہ جانتے اور پہچانتے تھے ورنہ اللہ تعالیٰ کی ذات تو ہر عضو سے پاک اور منزہ ہے اور یمین کا لفظ عضو خاص (دایاں ہاتھ) کے بغیر بھی کلام عرب میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
اذا ما رایۃ رفع لمجد تلقا ھا عرابۃ بالیمین :
یعنی اسے ہی مجد وشرف کا اہل بنایا گیا ہے۔ اور یہاں اس سے مراد دایاں ہاتھ نہیں ہے، کیونکہ یہ معنوی طور پر بزرگی وشرف ہے پس وہ بزرگی اور شرف جو اس کے ساتھ حاصل ہوتا ہے میں نے اسے معنی دیکھ لیا ہے، اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کے حق میں بھی لفظ یمین ہے۔ تحقیق کہا گیا ہے کہ ” وہ رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتی رہتی ہے “۔ (5) (جامع ترمذی، کتاب الزکوۃ، جلد 1، صفحہ 84)
کا معنی ہے کہ یہ اس میزان عدل کے پلڑے سے عبارت ہے جس میں اعمال کا وزن کیا جائے گا، پس یہ حذف مضاف کے باب سے ہوگا، گویا کہ فرمایا : فتربوکفہ میزان الرحمن “۔ (پس وہ رحمن کے میزان کے پلڑے میں بڑھ جائے گی) اور امام مالک، ثوری اور ابن مبار کر حمۃ اللہ علیہم سے روایت ہے کہ انہوں نے ان احادیث اور جو ان کے مشابہ ہیں ان کی تاویل میں کہا ہے : تم اسے بلاکیف پر ہی محمول کرو، یہ ترمذی وغیرہ نے کہا ہے اور اسی طرح اہلسنت والجماعت کے اہل علم کا قول ہے۔ :
Ayah 9:105آیت نمبر : 105۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وقل اعملوا “۔ یہ خطاب تمام کو ہے (کہ تم عمل کرتے رہو) (آیت) ” فسیری اللہ عملکم ورسولہ والمؤمنون “۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے انہیں تمہارے اعمال پر اطلاع دینے کے سبب (وہ تمہارے اعمال کو دیکھیں گے) اور حدیث میں ہے اگر کوئی آدمی ایسی چٹان میں عمل کرلے جس کا کوئی دروازہ نہ ہو اور نہ اسے کوئی سوراخ ہو تو پھر بھی اس کا عمل لوگوں کی طرف نکل جائے گا جیسے بھی وہ ہوا “۔
Ayah 9:106آیت نمبر : 106۔
یہ آیت ان تین کے بارے میں نازل ہوئی جن کی توبہ قبول کرلی گئی : وہ کعب بن مالک، ہلال بن امیہ یہ بنی واقف سے تھے اور مرارہ بن ربیع تھے (1) (معالم التنزیل، جلد 3، صفحہ 105)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ابن ربعی العمری تھا، اسے مہدوی نے ذکر کیا ہے یہ لوگ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے، حالانکہ یہ خوشحال تھے، جیسا کہ ان کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ اور تقدیر کلام ہے، ومنھم آخرون مرجون “ یہ ارجاتہ سے ہے یعنی میں نے اسے مؤخر کردیا اور اسی سے مرجئۃ کہا گیا ہے، کیونکہ ان کا معاملہ ملتوی اور مؤخر کردیا (اخرتہ) اور مبرد نے کہا ہے : ارجیتہ بمعنی اخرتہ نہیں کہا جاسکتا، البتہ یہ الرجاء سے ہوگا۔ (آیت) ” اما یعذبھم واما یتوب علیھم “۔ اما عربی میں دو امروں میں سے ایک کے لیے ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ چیزوں کے انجام کو جاننے والا ہے، البتہ بندوں کو خطاب اس بنا پر کیا جاتا ہے جسے وہ جانتے ہیں، یعنی چاہیے کہ ان کا معاملہ تمہارے نزدیک امید افزا ہوجائے کیونکہ بندوں کے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
Ayah 9:107آیت نمبر : 107۔
اس آیت میں دس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” والذین اتخذوا مسجدا “۔ یہ کلام معطوف ہے، یعنی ومنھم الذین اتخذوا مسجدا “۔ (اور ان میں سے وہ ہیں جنہوں نے مسجد بنائی) اس میں جملہ کا عطف جملہ پر کیا گیا ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ مبتدا ہونے کے سبب مرفوع ہو اور خبر محذوف ہو مثلا انھم یعذبون “۔ (بےشک وہ عذاب دئیے جائیں گے) یا اسی کی مثل کوئی اور۔ اور جنہوں نے بغیر واؤ کے (آیت) ” الذین “ پڑھا ہے اور یہ اہل مدینہ کی قراءت ہے تو یہ ان کے نزدیک مبتدا ہونے کے سبب مرفوع ہے۔ اور خبر لا تقم ہے تقدیر کلام ہے : ” الذین اتخذوا مسجد لا تقم فیہ ابدا، ای لا تقم فی مسجدھم (جنہوں نے مسجد بنائی آپ ان کی مسجد میں (نماز کے لیے) کبھی کھڑے نہ ہوں) یہ کسائی نے کہا ہے۔ اور نحاس نے کہا ہے : مبتدا کی خبر یہ ہوگی۔ (آیت) ” لا یزال بنیانھم الذی بنوا ریبۃ فی قلوبھم “۔ (التوبہ : 110) (ہمیشہ ان کی یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے کھٹکتی رہے گی ان کے دلوں میں)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ خبر (آیت) ” یعذبون “ ہے جیسا کہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ روایت کیا گیا ہے یہ آیت ابو عامر راہب کے بارے میں نازل ہوئی، کیونکہ وہ قیصر کے پاس گیا اور عیسائی ہوگیا اور قیصر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ عنقریب انکے پاس آئے گا، پس انہوں نے مل کر مسجد ضرار بنائی اور وہ اس میں اس کے آنے کا انتظار کرنے لگے۔ یہ حضرت ابن عباس، مجاہدرحمۃ اللہ علیہم اور قتادہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین وغیرہ نے کہا ہے اور اس کا واقعہ سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔
اور اہل تفسیر نے کہا ہے : بیشک عمروبن عوف ؓ نے مسجد قبا بنائی اور انہوں نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ ان کے پاس تشریف لائیں چناچہ آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور اس میں نماز ادا فرمائی، پس ان کے بھائیوں بنو غنم بن عوف نے ان کے ساتھ حسد کیا اور یہ کہا : ہم مسجد بنائیں گے اور ہم حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کو بلا بھیجیں گے اور آپ ہمارے پاس تشریف لائیں گے تاکہ آپ ہمیں اس طرح نماز پڑھائیں جیسا کہ آپ ﷺ نے ہمارے بھائیوں کی مسجد میں نماز پڑھائی اور اس میں ابو عامر نماز پڑھے گا جب وہ شام سے آئے گا، چناچہ وہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے پاس اس وقت حاضر ہوئے جب کہ آپ تبوک کی طرف جانے کی تیاری فرما رہے تھے، اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ تحقیق ہم نے صاحب حاجت، بیمار سخت آندھی والی رات وغیرہ کے لیے ایک مسجد تعمیر کی ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس میں ہمیں نماز پڑھائیں اور برکت کے لیے دعا فرمائیں۔ تو حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے فرمایا : ” بلاشبہ اب میں سفر پر جانے لگا ہوں اور انتہائی مشغول حالت میں ہوں پس اگر ہم واپس آئے تو ہم تمہارے پاس آئیں گے اور تمہیں اس میں نماز پڑھائیں گے “ (1)
جب حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ تبوک سے واپس تشریف لائے تو وہ آپ کے پاس آئے درآنحالیکہ وہ اس کے کام سے فارغ ہوچکے تھے اور انہوں نے اس میں جمعہ، ہفتہ اور اتوار کی نمازیں پڑھ لی تھیں، تو حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے اپنی قمیص منگائی تاکہ آپ اسے پہنیں اور آپ ان کے پاس جائیں تو اتنے میں آپ پر مسجد ضرار کے خبر کے بارے قرآن کریم نازل ہوا پھر حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے مالک بن دخشم، معن بن عدی، عامر بن سکن اور حضرت حمزہ ؓ کے قاتل وحشی کو بلایا، اور انہیں فرمایا ” جاؤ اس مسجد کی طرف اس کے بنانے والے ظالم ہیں اور تم اسے گرا دو اور اسے جلا کر راکھ کر دو “ (1) (اسباب النزول، صفحہ 136)
پس وہ بڑی تیز رفتاری کے ساتھ نکلے اور مالک بن دخشم نے اپنے گھر سے آگ کا انگارہ لیا اور اٹھے پھر مسجد کو جلا دیا اور اسے گرا دیا اور جنہوں نے اسے بنایا تھا وہ بارہ آدمی تھے : خذام بن خالد یہ بنی عبید بن زید سے تھا اور یہ بنی عمرو بن عوف میں سے ایک تھا اور اس کے گھر سے مسجد ضرار (کی جگہ) نکالی گئی، معتب بن قشیر، ابو حبیبہ بن الازعر، عبادا بن حنیف یہ سہل بن حنیف کا بھائی تھا جو بنی عمرو بن عوف میں سے تھا، جاریہ بن عامر اور اس کے دو بیٹے مجمع اور زید ابنا جاریہ، نبتل بن حارث، بحزج، بجاد بن عثمان، ودیعہ بن ثابت اور ثعلبہ بن حاطب کا ذکر بھی بن میں کیا گیا ہے۔ (2) (تفسیر طبری، جلد 11، صفحہ 29)
ابو عمر بن عبدالبر نے کہا ہے : یہ محل نظر ہے، کیونکہ یہ بدر میں حاضر تھا، اور عکرمہ نے کہا ہے : حضرت عمر بن خطاب ؓ نے ان میں سے ایک آدمی سے پوچھا تو نے اس مسجد میں کیا مدد کی تھی ؟ تو اس نے کہا : میں نے اس میں ایک ستون کی ساتھ مدد کی۔ تو آپ نے فرمایا : اس کے بارے تجھے بشارت ہو ! جہنم کی آگ کا ایک ستون تیری گردن میں ہوگا۔
مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ضرارا “۔ یہ مصدر مفعول من اجلہ ہے۔ (آیت) ” وکفرا وتفریقا بین المؤمنین وارصادا “۔ یہ سارا معطوف ہے۔ اور اہل تاویل نے کہا ہے : ضرار بالمسجد (مسجد کے ساتھ نقصان پہنچانے کے لیے) نہ کہ للمسجدضرار) (مسجد کو نقصان پہنچانے کے لیے) بلاشبہ یہ نقصان مسجد بنانے والوں کو ہوا (3) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1012)
اور دارقطنی نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” کوئی نقصان نہیں اور کوئی نقصان پہنچانے والا نہیں جس نے کسی کو نقصان اور ضرر پہنچایا اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اسے ضرر اور نقصان پہنچائے گا اور جس نے کسی کو تنگ کیا اللہ تعالیٰ اسے اس پر شاق پہنچائے گا “۔ (4) (سنن دارقطنی، کتاب الحدود، جلد 4، صفحہ 228)
بعض علماء نے کہا ہے۔ ضرر وہ ہے جس کے سبب تجھے منفعت حاصل ہو اور اس میں تیرے پڑوسی کے لیے نقصان ہو، اور ضرار وہ ہے جس میں تیرے لیے منفعت نہ ہو اور تیرے پڑوسی کے لیے اس میں نقصان ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : دونوں ایک معنی میں ہیں، تاکید کی بنا پر دونوں کے ساتھ اکٹھی کلام کی گئی ہے۔
مسئلہ نمبر : (3) ہمارے علماء نے کہا ہے : یہ جائز نہیں ہے کہ ایک مسجد کے پہلو میں دوسری مسجد بنائی جائے اور اسے گرا دینا واجب ہے اور اس کو بنانے سے روکنا لازم ہے تاکہ پہلی مسجد والے پھر نہ جائیں کہ وہ اس حال میں باقی رہ جائے کہ دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہو، مگر یہ کہ محلہ بڑا ہو اور اس کے باسیوں کے لیے ایک مسجد کافی نہ ہو تو اس وقت دوسری مسجد، بنائی جاسکتی ہے۔ اور اسی طرح انہوں نے کہا ہے : یہ مناسب نہیں کہ ایک شہر میں دو یا تین جامع مساجد بنائی جائیں، دوسری کو روکنا واجب ہے اور جس نے اس میں جمعہ کی نماز پڑھی تو وہ جائز نہ ہوگی۔ تحقیق : حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے مسجد ضرار کو جلانے کا حکم ارشاد فرمایا تھا اور اسے گرا دیا تھا۔ علامہ طبری نے شقیق سے بیان کیا ہے کہ وہ آئے تاکہ مسجد بنی غاضرہ میں نماز پڑھیں تو انہوں نے نماز کو پایا کہ وہ فوت ہوچکی ہے (یعنی اس کا وقت گزر چکا ہے) تو آپ کو کہا گیا کہ بنی فلان کی مسجد میں اس کے بعد نماز نہ پڑھیں۔ تو آپ نے فرمایا : میں اس میں نماز پڑھنا پسند نہیں کرتا، کیونکہ ضرر پہنچانے کی نیت سے بنائی گئی ہے۔ (1) (تفسیر طبری، جلد 11، صفحہ 33)
ہمارے علماء نے کہا ہے : ہر وہ مسجد جو ضرر پہنچانے یا ریاکاری اور شہرت کی خاطر بنائی جائے تو وہ مسجد ضرار کے حکم میں ہے اس میں نماز جائز نہ ہوگی۔ اور نقاش نے کہا ہے : اس سے یہ لازم آتا ہے کہ آدمی کینسہ (عیسائیوں کی عبادت گاہ) اور اس طرح کے دیگر مقامات میں نماز نہ پڑھے کیونکہ اسے شر کے ارادہ پر بنایا گیا ہے۔
میں مفسر کہتا ہوں : اس سے یہ لازم نہیں آتا، کیونکہ گرجا گھر کی تعمیر سے کسی دوسرے کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں ہوتا، اگرچہ اس کی اصل بنیاد شر پر ہے، عیسائیوں نے کینسہ اور یہودیوں نے بیعہ (یہودیوں کا عبادت خانہ) بنایا وہ جگہ ہے جس میں وہ اپنے زعم کے مطابق عبادت کرتے ہیں جیسا کہ ہمارے لیے مسجد ہے، پس یہ دونوں الگ الگ ہیں۔ تحقیق علماء نے اس پر اجماع کیا ہے کہ کسی نے کنیسہ یا بیعہ میں پاک جگہ پر نماز پڑھی اس کی نماز جائز گی اور ادا ہوجائے گی، اور امام بخاری (رح) نے ذکر کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ بیعہ میں نماز پڑھ لیتے تھے، جب اس میں بت اور تصاویر وغیرہ نہ ہوتیں۔ (2) (صحیح بخاری، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 62)
اور ابو داؤد نے حضرت عثمان بن ابی العاص ؓ سے ذکر کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے انہیں حکم ارشاد فرمایا کہ وہ طابف میں مسجد بنائیں جہاں ان کے بت تھے۔ (3) (سنن ابی داؤد، باب فی بناء المساجد، حدیث نمبر 380، ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔ سنن ابن ماجہ، باب این یجوز بناء المساجد، حدیث نمبر 734، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
مسئلہ نمبر : (4) علماء نے کہا ہے : بیشک جو کوئی ظالم کا امام ہو اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جائے گی، مگر یہ کہ اس کا عذر ظاہر ہوجائے یا وہ توبہ کرلے، کیونکہ وہ بنی عمرو بن عوف جنہوں نے مسجد قبا بنائی انہوں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے ان کے زمانہ خلافت میں پوچھا کہ آپ مجمع بن جاریہ کو اجازت عطا فرمائیں کہ وہ انہیں ان کی مسجد میں نماز پڑھائیں، تو آپ نے فرمایا : نہیں اور نہ یہ کوئی معین اور خاص انعام ہے ! کیا یہ مسجد ضرار کا امام نہیں رہا۔ تو مجمع نے آپ کو عرض کی : اے امیرالمؤمنین ! آپ میرے بارے میں جلدی نہ کیجئے، قسم بخدا ! میں نے اس میں نماز پڑھی اور میں اسے نہیں جانتا تھا جو انہوں نے اس بارے میں (اپنے ذہنوں میں) چھپا رکھا تھا، اگر میں جانتا ہوتا تو میں انہیں اس میں نماز نہ پڑھاتا، میں ایک قرآن پڑھنے والا بچہ تھا اور وہ شیوخ تھے، تحقیق انہوں نے اپنی جاہلیت پر ہی زندگی گزاری اور وہ قرآن میں سے کوئی شے نہ پڑھتے تھے، سو میں نے انہیں نماز پڑھائی اور میں یہ گمان نہیں کرتا کہ میں نے کوئی گناہ کیا ہے اور نہ میں اس کے بارے جانتا ہوں جو ان کے دلوں میں تھا، تب حضرت عمر ؓ نے انہیں معذور قرار دیا اور اسے تسلیم کیا اور انہیں مسجد قبا میں نماز کے بارے حکم ارشاد فرمایا۔ (1) (تفسیر بغوی، جلد 2، صفحہ 327)
مسئلہ نمبر : (5) ہمارے علمائرحمۃ اللہ علیہمنے کہا ہے : جب وہ مسجد جو عبادت کے لیے بنائی جاتی ہے اور شریعت نے اس کے بنانے پر برانگیختہ کیا ہے اور کہا ہے :” جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی اگرچہ وہ اس گڑھے کی مانند ہو جو کو نج نے انڈے دینے کے لیے بنایا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا “۔ اسے گرا دیا جائے گا اور اکھیڑ دیا جائے گا جب کہ اس میں دوسروں کے لیے ضرر اور نقصان ہو، تو پھر اس کے سوا کے لیے تیرا کیا خیال ہے، بلکہ وہ زیادہ اس لائق ہے کہ اسے زائل کیا جائے اور گرا دیا جائے یہاں تک کہ پرانی کسی چیز کے لیے ضرر اور نقصان نہ ہو، اور یہ اس کی طرح ہے جس نے تنور کے علاوہ روٹیاں پکانے کی جگہ یا چکی بنائی یا کنواں کھودا یا اس کے علاوہ کوئی ایسی شے بنائی جس کے سبب ضرر اور نقصان کسی دوسری شے کو پہنچ سکتا ہے، تو اس بارے ضابطہ یہ ہے کہ جس کسی نے اپنے بھائی کو ضرر اور نقصان میں ڈال دیا تو اسے منع کیا جائے گا، اور اگر اس نے اپنے بھائی کو نقصان میں ڈالا ایسے فعل کے ساتھ جو فعل اس نے اپنے مال میں کیا تھا اور اس نے اپنے پڑوسی کو نقصان پہنچایا تو پھر اس کے کام کی طرف دیکھا جائے گا، پس اگر اسے چھوڑنا فاعل کے لیے زیادہ نقصان دہ ہو اس ضرر سے جو اسے کرنے سے ہے تو پھر دونوں نقصانوں اور ضرروں میں سے بڑے اور اعظم کو ختم کردیا جائے گا اور ان دونوں میں سے اعظم اصول میں حرمت ہے، اس کی مثال یہ ہے کہ کسی آدمی نے اپنے گھر میں روشن دان کھولا وہ اس سے اپنے بھائی کے گھر جھانکتا ہو اور اس میں اس کے اہل و عیال ہوں اور عورتوں کی حالت اپنے گھروں میں یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے بعض کپڑے اپنے کام کاج کے وقت اتار دیتی ہیں، اور انہیں کھول دیتی ہیں اور یہ بھی معلوم ہے کہ شرمگاہوں (عورتوں) پر جھانکنا حرام ہے اور اس بارے میں نہی وارد ہے، پس شرمگاہوں (یعنی عورتوں) پر جھانکنے کی حرمت کی وجہ سے علماء نے یہ رائے دی ہے کہ وہ کھلے دروازہ کو بند کردیں اور اس روشن دان کو جو اس نے کھولا بلاشبہ اس کے کھولنے میں اس کے لیے منفعت اور راحت ہے اور اسے بند کرنے میں اس کا ضرر اور نقصان ہے لیکن انہوں (علمائ) نے دو ضرروں میں سے بڑے کو ختم کرنے کا قصد کیا ہے، کیونکہ ان دو میں سے ایک کو ختم کرنے سے کوئی چارہ کار نہیں اور اس باب میں حکم اسی طرح ہے، بخلاف امام شافعی (رح) اور ان کے جنہوں نے یہ قول کیا ہے۔ اصحاب شافعی (رح) نے کہا ہے : اگر کسی آدمی نے اپنی مملوکہ زمین میں کنواں کھودا اور دوسرے نے اپنی ملکیتی زمین میں کنواں کھودا کہ وہ اس میں پہلے کنوئیں کا پانی چرالے تو یہ جائز ہے، کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک نے اپنی ملکیت میں کنواں کھودا کہ وہ اس میں پہلے کنوئیں کا پانی چرا لے تو یہ جائز ہے، کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک نے اپنی ملکیت میں کنواں کھودا ہے لہذا اسے منع نہیں کیا جائے گا، اور اس کی مثال ان کے نزدیک یہ ہے : اگر کسی نے اپنے پڑوسی کے کنوئیں کے پہلو میں (بیت الخلاء کا) گڑا کھودا جو اس کے پانی کو خراب اور فاسد کر دے تو اس کے لیے اسے منع کرنا جائز نہیں، کیونکہ اس نے اپنی تصرف کیا ہے، حالانکہ قرآن وسنت دونوں اس قول کو رد کرتے ہیں۔ وباللہ التوفیق۔
اور اس باب میں ضرر کی دوسری وجہ یہ ہے جس سے علماء نے منع کیا ہے (وہ یہ ہے) مثلا تنور کا دھواں، حمام کا دھواں، گندم وغیرہ دانے گاہنے کا گردوغبار، وہ کیڑے جو کھلی زمین میں پھیلی ہوئی لید اور گوبر میں پیدا ہوتے ہیں اور جو بھی ضرر اس قسم کا ہو تو جونہی اس کا ضرر ظاہر ہو اور اس کے پھیلنے اور بڑھنے کا خدشہ ہو تو اسے ختم کردیا جائے گا۔ اور رہا وہ جو تھوڑے سے وقت کے لیے ہو مثلا کپڑے جھاڑنا اور دروازوں پر پڑا ہوا گردوغبار جھاڑنا، کیونکہ یہ ان میں سے ہے جس سے لوگوں کو کوئی چارہ کار نہیں۔ اور یہ ان میں سے بھی نہیں ہے جس کے ساتھ کوئی شے لازم ہوتی ہو، پس اس کی مثل سے روکنے میں ضرر کی نفی تھوڑی دیر اس پر صبر کرنے سے اعظم اور بڑی ہے، اور ایک پڑوسی کے لیے اپنے پڑوسی کے ساتھ آداب معاشرت میں سے یہ ہے کہ وہ اس کی اذیت رسانی پر اتنا صبر کرے جس پر وہ قدرت رکھتا ہے، جیسا کہ اس پر یہ لازم ہے کہ وہ اسے اذیت نہ دے اور اس کے ساتھ حسن سلوک کرے۔
مسئلہ نمبر : (6) اور اس باب میں داخل ہونے والے مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ ہے جسے اسماعیل بن ابی اویس نے امام مالک (رح) سے ذکر کیا ہے کہ ان سے ایک عورت کے بارے میں پوچھا گیا جسے جنوں میں سے کسی نے مس کیا ہو، پس جب اس کا خاوند اس کے پاس آتا ہے اور وہ جنبی ہوجائے یا وہ اس کے قریب ہو تو اس کے سبب وہ حملہ شدید ہوجاتا ہے (یعنی جن کی تکلیف اور اذیت بڑھ جاتی ہے) تو امام مالک (رح) نے فرمایا : میں یہ رائے نہیں رکھتا کہ وہ اس کے قریب جائے، بلکہ تو حاکم وقت کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس آدمی اور اس کی عورت کے درمیان حائل ہوجائے۔
مسئلہ نمبر : (7) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وکفرا “۔ جب ان کا اعتقاد یہ تھا کہ نہ مسجد قبا کی کوئی حرمت ہے اور نہ ہی حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کی مسجد کی (کوئی تکریم ہے) تو کیا وہ اس اعتقاد کے ساتھ کافر نہیں ہوئے ؟ (1) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1012)
یہ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) ” وکفرا “۔ یعنی حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے ساتھ اور اس دین کے ساتھ جو آپ لے کر آئے (کفر کرتے ہوئے انہوں نے مسجد بنائی) یہ علامہ قشیری وغیرہ نے کہا ہے۔
مسئلہ نمبر : (8) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وتفریقا بین المؤمنین “۔ ان کی جماعت اس کے ساتھ تفرقہ ڈال رہی ہے تاکہ لوگ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے پیچھے رہ جائیں۔ اور یہ اس بات پر تیری راہنمائی کرتی ہے کہ جماعت قائم کرنے سے سب سے بڑا مقصد اور واضح اور ظاہر غرض تالیف قلوب ہے اور اطاعت پر کلام کرنا ہے اور ایک دینی فعل کے ساتھ عزت و حرمت کو لانا ہے۔ تاکہ باہم ملنے سے انس و محبت واقع ہوجائے اور دل حسد اور کینے کی میل سے صاف ہوجائیں (2) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1013)
مسئلہ نمبر : (9) امام مالک (رح) نے اس آیت سے یہ مسئلہ سمجھا اور کہا : ایک مسجد میں دو اماموں کے ساتھ دو جماعتیں نہیں ہو سکتیں، یہ نظریہ تمام علماء کے خلاف ہے۔ امام شافعی (رح) سے بھی منع کا حکم مروی ہے کیونکہ یہ ایک کلمہ کو متفرق کرنا ہے اور جماعت کی حکمت کو باطل کرنا ہے اور یہ اس قول کا ذریعہ اور سبب ہے جو جماعت سے الگ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس کے لیے عذر ہو پس تو وہ اپنی جماعت کا اہتمام کرلے اور اپنا امام آگے کرلے نتیجۃ اختلاف پیدا ہوجائے گا اور نظام باطل ہوجائے گا اور یہ چیز ان پر مخفی ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : یہی نظریہ ہے جس کی یہ شان ان کے ساتھ ہے اور یہ حکمت میں ان سے زیادہ ثابت قدم رکھنے والا ہے اور شریعت کی قطعیت کے بارے زیادہ آگاہ کرنے والا ہے (3) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1013)
مسئلہ نمبر : (10) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وارصادا لمن حارب اللہ ورسولہ “۔ اس میں مراد ابو عامر راہب ہے (1)
اسے راہب کا نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ وہ عبادت گزار تھا اور علم کی تلاش میں لگا رہتا تھا پھر وہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کی دعوت کا انکار کرتے ہوئے قنسرین میں حالت کفر میں مرگیا۔ اس نے حضور حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کو کہا تھا : میں جو قوم بھی تمہارے ساتھ قتال کرتے ہوئے پاؤں گا تو میں ان کے ساتھ مل کر تمہارے ساتھ قتال کروں گا، پس وہ غزوہ حنین تک لگا تار آپ کے خلاف جنگ لڑتا رہا، اور جب بنو ہوازن شکست سے دو چار ہوئے تو وہ روم کی طرف نکل گیا اور عیسائی ہوگیا اور اس نے منافقوں کی طرف پیغام بھیجا تو طاقت اور ہتھیاروں میں سے جتنی استطاعت رکھتے ہو اس کے مطابق تیاری کرو اور ایک مسجد بناؤ کیونکہ میں قیصر کی طرف جا رہا ہوں اور میں رومیوں کے ایک لشکر کے ساتھ آؤں گا اور میں یقینا حضرت محمد ﷺ کو مدینہ طیبہ سے نکال دوں گا، چناچہ انہوں نے مسجد ضرار بنائی (2) ۔ اور یہ ابو عامر حضرت حنظلہ غسیل الملائکہ ؓ کا والد ہے۔ اور الارصاد کا معنی ہے انتظار کرنا، آپ کہتے ہیں : ارصدت کذا جب تو کام کے بارے اسے تیار کرے اس کا انتظار کرتے ہوئے، ابو زید نے کہا ہے : کہا جاتا ہے : رصدتہ وارصدتہ فی الخیر (یعنی یہ دونوں فعل مجرد اور مزید فیہ، خیر اور بھلائی کے کاموں کے لیے بولے جاتے ہیں) اور شر کے بارے میں ارصدت لہ بولا جاتا ہے۔ اور ابن اعرابی نے کہا ہے : صرف ارصدت کہا جاتا ہے اور اس کا معنی ارتقبت (میں نے انتظار کیا) ہے (3)
اور قول باری تعالیٰ : (آیت) ” من قبل “ کا معنی ہے مسجد ضرار بنانے سے پہلے۔ (آیت) ” ولیحلفن ان اردنا الا الحسنی “۔ یعنی ہم نے اسے بنانے سے سوائے نیکی اور خیر کے کوئی ارادہ نہیں کیا۔ اور وہ مسلمانوں کے ساتھ نرمی اور دوستی کرتا ہے جیسا کہ انہوں نے بیماروں اور حاجت مندوں کا ذکر کیا اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ افعال مقصود اور ارادوں کے ساتھ مختلف ہوجاتے ہیں، اسی لیے فرمایا : (آیت) ” ولیحلفن ان اردنا الا الحسنی، وہ اللہ یشھد انھم لکذبون “۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے خبث باطن کو جانتا ہے اور جس پر وہ قسم کھا رہے ہیں اس میں ان کے جھوٹا ہونے کو بھی جانتا ہے۔