Ayah 9:114آیت نمبر : 114۔
اس آیت میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) نسائی نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں نے ایک آدمی کو اپنے والدین کے لیے استغفار کرتے ہوئے سنا حالانکہ وہ دونوں مشرک تھے، تو میں نے کہا : کیا تو ان دونوں کے لیے مغفرت طلب کر رہا ہے حالانکہ وہ دونوں مشکر ہیں ؟ تو اس نے کہا : کیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لیے مغفرت کی دعا نہیں کی ؟ چناچہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور اس کا ذکر کیا تب یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ’ وما کان استغفار ابرھیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ (1) (سنن نسائی، کتاب الجنائز، جلد 1، صفحہ 286، جامع ترمذی، باب فی سورة التوبۃ، حدیث نمبر 3026، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اس کا معنی یہ ہے : اے مومنو ! تمہارے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اپنے باپ کے لیے استغفار کرنے میں کوئی حجت نہیں ہے، کیونکہ وہ فقط ایک وعدہ کو پورا کرنے کی وجہ سے تھی، اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ نے آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان لانے اور شرکاء کو چھوڑنے کا وعدہ کیا تھا، پھر جب وہ کفر پر مرگیا تو آپ کو معلوم ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے، تو آپ نے اس کے لیے دعا چھوڑ دی، کلام میں ایاہ کی ضمیر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف لوٹ رہی ہے اور وعدہ کرنے والا آپ کا باپ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وعدہ کرنے والے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں یعنی آپ نے اپنے باپ سے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنے کا وعدہ کیا تھا، پھر جب وہ حالت شرک میں ہی فوت ہوگیا تو آپ اس سے بیزار ہوگئے اور اس وعدے پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” ساستغفرلک ربی “۔ (مریم : 47) (میں مغفرت طلب کروں گا تیرے لیے اپنے رب سے)
قاضی ابوبکربن العربی نے کہا ہے : حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے ابو طالب کے لیے استغفار کرنے کے بارے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے ساتھ ہی تعلق قائم کیا : (آیت) ” ساستغفرلک ربی “۔ (مریم : 47) تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ کے لیے استغفار کرنے کی وجہ اس کا کفر ظاہر ہونے سے پہلے ایک وعدہ تھا، پس جب آپ کے لیے اس کی طرف سے کفر ظاہر ہوگیا تو آپ اس سے بیزار ہوگئے تو اے محمد ﷺ آپ اپنے چچا کے لیے کیسے استغفار کرسکتے ہیں حالانکہ اس کی موت حالت کفر میں واقع ہوچکی ہے (2) (احکام القرآن لابن العربی سورة توبہ، جلد 2، صفحہ 1023)
مسئلہ نمبر : (2) موت کے وقت آدمی کی ظاہر حالت کے مطابق اس پر حکم لگایا جائے گا، پس اگر کوئی حالت ایمان پر فوت ہوا تو اس کے لیے اس (ایمان) کا حکم لگایا جائے گا اور اگر حالت کفر پر فوت ہوا تو اس کے لیے اس کے مطابق حکم لگایا جائے گا، اور اس کے باطن کی حالت تیرا رب بہتر جانتا ہے، گر یہ کہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کو حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ نے اپنے چچا کو کسی شے کا نفع دیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” ہاں “ اور وہ عذاب کی تخفیف کے بارے شفاعت اور سفارش ہے نہ کہ جہنم سے نکلنے کے بارے میں، جیسا کہ ہم نے اسے کتاب ” التذکرہ “ میں بیان کیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان ابرھیم لاواہ حلیم “۔ الاواہ کے بارے میں علماء کے پندرہ مختلف اقوال ہیں۔
(1) کہ وہ ایسی دعا کرنے والے ہیں جو کثرت اور اصرار کے ساتھ ہو، یہ حضرت ابن مسعود (رح) اور عبید بن عمیر ؓ نے کہا ہے۔
(2) کہ وہ اللہ تاعلیٰ کے بندوں کے ساتھ انتہائی رحم کرنے والے ہیں، یہ حسن (رح) اور قتادہ (رح) نے کہا ہے۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ سے بھی مروی ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے پہلا قول اسناد کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے، یہ نحاس نے کہا ہے :
(3) کہ وہ یقین کرنے والے ہیں۔ یہ حضرت عطا (رح) اور عکرمہ (رح) نے کہا ہے اور اسے ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔
(104) کہ وہ مومن ہیں، یہ لغت حبشہ کے مطابق ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بھی یہ کہا ہے (1) (تفسیر طبری، سورة توبہ، 11، صفحہ 61)
(5) کہ وہ ایسی تسبیح کرنے والا ہے جو چٹیل اور وحشت ناک زمین میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے، یہ کلبی اور حضرت سعید بن مسیب (رح) نے کہا ہے۔
(6) کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرنے والا ہے۔ یہ عقبہ بن عامر نے کہا ہے، حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے پاس ایک آدمی کا ذکر کیا گیا جو کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح بیان کرتا ہے تو آپ نے فرمایا : انہ لاواہ۔
(7) کہ وہ وہ ہے جو کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے، اور یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔
میں مفسر کہتا ہوں : یہ اقوال ایک دوسرے میں داخل ہیں اور تلاوت قرآن ان تمام کو جامع ہے۔
(8) کہ وہ آہ نکالنے والے ہیں۔ یہ حضرت ابو ذر ؓ نے کہا ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہتے تھے : ” آتش جہنم سے آہ اس سے پہلے کہ آہ تجھے کوئی فائدہ نہ دے “۔ اور حضرت ابو ذر ؓ نے کہا ہے : ایک آدمی بیت اللہ شریف کا طواف کثرت سے کرتا تھا اور اپنی دعا میں کہتا تھا ” اوہ اوہ “ تو حضرت ابو ذر ؓ نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کی بارگاہ میں اس کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا : تو اسے چھوڑ کیونکہ وہ آہیں بھرنے والا ہے “۔ پس میں ایک رات نکلا تو اچانک دیکھ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ اس آدمی کو رات کے وقت دفن کر رہے ہیں اور آپ کے پاس چراغ بھی تھا۔ (ایضا جلد 11، صفحہ 62)
(9) کہ وہ فقیہ ہیں۔ یہ حضرت مجاہد (رح) اور نخعی (رح) نے کہا ہے۔
(10) کہ آپ بڑی عاجزی و انکساری اور خشوع کرنے والے ہیں۔ یہ حضرت عبداللہ بن شداد بن الہاد نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے روایت کیا ہے اور حضرت انس ؓ نے کہا ہے : ایک عورت نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے پاس کسی شے کیب ارے گفتگو کی، آپ نے اسے ناپسند کیا تو حضرت عمر ؓ نے اسے روک دیا تو حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے فرمایا ” تم اسے چھوڑ دو ، کیونکہ یہ اواھۃ ہے “۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ﷺ الا واھۃ کیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : الخاشعۃ (خشوع کرنے والی، ڈرنے والی)
(11) کہ یہ وہ ہے جب اس کے گناہوں کا ذکر کیا جائے تو یہ ان سے استغفار کرے یہ حضرت ابوایوب نے کہا ہے۔
(12) کہ یہ گناہوں سے کثرت سے آئیں نکالنے والا ہے، یہ فراء نے کہا ہے۔
(13) کہ یہ خیر کی علامت اور نشانی ہے، یہ حضرت سعید بن جبیر ؓ نے کہا ہے۔
(14) کہ یہ شفیق ہے، عبدالعزیز بن یحی نے کہا ہے۔ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو ان کی شفقت اور نرمی کی وجہ سے الا واہ کا نام دیا جاتا تھا
(15) کہ یہ ہر اس شے سے رجوع کرنے والا ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، یہ حضرت عطا (رح) نے کہا ہے، اور اس کی اصل التاوہ سے ہے اور اس سے مراد سینے سے سنائی دینے والی وہ آواز ہے جو سانس اوپر چڑھنے کے سبب ہوتی ہے، حضرت کعب (رح) نے کہا ہے : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب جہنم کا ذکر کرتے تو آہ نکالتے تھے، جوہری نے کہا ہے : شکایت اور تکلیف کے وقت ان کا قول اوہ من کذا، (واؤ ساکنہ کے ساتھ) بلاشبہ وہ درد کا اظہار کرنا ہی ہے۔ شاعر کا قول ہے :
فاؤہ لذکراھا اذا ما ذکر تھا ومن بعدارض بیننا وسماء
اور بسا اوقات وہ واؤ کو الف سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں : آہ من کذا اور بسا اوقات واؤ کو شد اور کسرہ دیتے ہیں اور ہا کو ساکن کردیتے ہیں اور کہتے ہیں : اوہ من کذا اور بسا اوقات انہوں نے تشدید کے ساتھ ہا کو حذف کردیا ہے اور کہا ہے : اومن کذا اسے بغیر مد کے پڑھا ہے، اور ان میں سے بعض کہتے ہیں : اوہ یعنی مد اور تشدید کے ساتھ اس میں واؤ پر فتحہ اور باساکن ہے یعنی یہ لمبی آہ بھرنے کے لیے ہے، اور بسا اوقات وہ اس میں تا کو بھی داخل کردیتے ہیں اور کہتے ہیں : اوتاہ وہ اسے مد کے ساتھ بھی اور بغیر مد کے بھی پڑھتے ہیں، تحقیق کہا جاتا ہے، اوہ الرجل تاویھا وتاوہ تاوھا جب کوئی اوہ (آ) کہے اور اس سے اسم الاھۃ مد کے ساتھ ہے، مثقب عبدی نے کہا ہے :
اذا ما قمت ارحلھا بلیل تاوہ اھۃ الرجل الحزین :
اور الحلیم کا معنی بہت زیادہ حلم والا، برباد ہے۔ اور یہ وہ ہوتا ہے جو گناہوں اور غلطیوں سے درگزر کرتا ہے اور تکلیفون اور اذیتوں پر صبر کرتا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ وہ ہے جس نے کبھی بھی کسی کو سزا نہیں دی مگر اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی میں اور کسی کی مدد نہیں کی مگر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اسی طرح تھے اور جب آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہوتے تو دو میل تک آپ کے دل کا اضطراب اور دھڑکن سنائی دیتی۔
Ayahs 9:115–116آیت نمبر : 115۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وما کان اللہ لیضل قوما بعد اذ ھدھم “۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا دستور نہیں ہے کہ وہ ان کے دلوں میں ہدایت کے بعد گمراہی اور ضلالت واقع کردے یہاں تک کہ ان کے لیے وہ چیزیں بیان کردے جن سے انہیں بچنا چاہیے اور وہ ان سے نہ بچیں تو اس وقت وہ گمراہ کرنے کے مستحق ہوجاتے ہیں۔
میں مفسر کہتا ہوں : اس میں اس بات پر بہت واضح دلیل ہے کہ گناہوں کا جب ارتکاب ہو اور ان کے پردے پھٹ جائیں تو یہ گمراہ اور ردی ہونے کا سبب بن جاتے ہیں اور رشد وہدایت کو ترک کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے احسان سے ثابت، توفیق اور ہدایت کی التجا کرتے ہیں۔
ابو عمرو بن علاء نے قول باری تعالیٰ : (آیت) ” حتی یبین لھم “۔ میں کہا ہے : یعنی یہاں تک کہ وہ اپنے امر کے ساتھ ان پر حجت قائم کر دے، جیسا کہ فرمایا : (آیت) ” واذا اردنا ان نھلک قریۃ امرنا مترفیھا ففسقوا فیھا “۔ (الاسراء : 16) (اور جب ہم ارادہ کرتے ہیں کہ ہلاک کردیں کسی بستی کو (اس کے گناہوں کے باعث) تو (پہلے) ہم (نبیوں کے ذریعہ) وہاں کے رائیسوں کو (نیکی کا حکم دیتے ہیں مگر وہ (الٹا) نافرمانی کرنے لگتے ہیں)
اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : (آیت) ” حتی یبین لھم “۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ خاص کر مشرکین کے لیے استغفار نہ کریں اور وہ ان کے لیے طاعت اور معصیت عام طور پر ظاہر اور واضح کریں، اور یہ روایت بھی ہے کہ جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا اور اس میں سختی کی گئی تو انہوں نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا جو اس حال میں فوت ہوئے کہ وہ شراب پیتے تھے تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” وماکان اللہ لیضل قوما بعد اذا حتی یبین لھم ما یتقون “۔ اور یہ آیت معتزلہ اور ان کے علاوہ ان کا رد ہے جو اپنی ہدایت اور اپنے ایمان کے خلق کے بارے قول کرتے ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان اللہ بکل شیء علیم “۔ ان اللہ لہ ملک السموت والارض، یحی ویمیت ومالکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر، کئی مقام پر اس کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 9:117آیت نمبر : 117۔
ترمذی نے روایت بیان کی ہے کہ عبد بن حمید نے ہمیں بیان کیا (اس نے کہا) ہمیں عبدالرزاق نے بیان کیا (اس نے کہا) ہمیں معمر نے زہری سے، انہوں نے عبدالرحمن بن کعب بن مالک سے اور انہوں نے اپنے باپ سے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے بیان کیا کہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے غزوہ تبوک تک جتنے غزوات لڑے ہیں میں سوائے بدر کے کسی غزوہ میں آپ ﷺ سے پیچھے نہیں رہا اور غزوہ بدر سے جو پیچھے رہا حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے ان میں سے کسی کو عتاب نہیں فرمایا : بیشک آپ ﷺ ایک قافلے کے ارادہ سے نکلے تھے اور قریش اپنے قافلے کی مدد کے لیے نکلے تھے، پس بغیر کسی معین پروگرام کے فریقین کا آمنا سامنا ہوگیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ مجھے میری عمر کی قسم ! بلاشبہ لوگوں میں رسول اللہ ﷺ کی جنگوں میں سب سے اشرف اور بلند مرتبہ جنگ بدر کا ہے اور میں یہ پسند کرتا ہوں اے کاش ! میں لیلۃ العقبہ کی بیعت کی جگہ میں اس میں حاضر ہوتا اس وقت ہم نے اسلام پر اعتماد اور یقین کیا تھا، پھر اس کے بعد میں کبھی بھی حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے پیچھے نہیں رہا یہاں تک کہ غزوہ تبوک ہوگیا اور یہی آپ ﷺ کے غزوات میں سے آخری غزوہ تھا، اور حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے کوچ کا اعلان فرمایا، پھر آگے طویل حدیث ذکر کی، بیان کیا : پس میں حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کی بارگارہ میں چل کر حاضر ہوا، آپ مسجد میں تشریف فرما تھے اور مسلمان آپ کے اردگرد حلقہ بنائے بیٹھے تھے، اور آپ ﷺ (کاچہرہ مقدس) چاند کے چمکنے کی طرح چمک رہا تھا (اور روشن تھا) اور آپ ﷺ جب کسی کام سے خوش اور مسرور ہوتے تو آپ کا رخ زیبا چمک اٹھتا، پس میں آیا اور میں آپ ﷺ کے سام نے بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا : ” اے کعب بن مالک تجھے بشارت اور مبارک ہو اس خیر و برکت والے دن کی جو تجھ پر آیا (اور وہ ان تمام دنوں سے بہتر اور اعلی ہے) جب سے تیری ماں نے تجھے جنم دیا ہے “۔ تو میں نے عرض کی : یا نبی اللہ ﷺ کیا اللہ تعالیٰ کی جانب سے یا آپ کی جانب سے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے “۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : لقد تاب اللہ علی النبی والمھجرین والانصار الذین اتبعوہ فی ساعۃ العسرۃ “۔ حتی کہ اس مقام تک پہنچ گئے۔ ان اللہ ھو التواب الرحیم “۔ انہوں نے بیان کیا : اور ہمارے بارے میں یہ آیت بھی نازل کی گئی۔ (آیت) ” اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین “۔ (ڈرتے رہا کرو اللہ سے اور ہوجاؤ سچے لوگوں کے ساتھ) اور آگے حدیث ذکر کی (1) (جامع ترمذی کتاب التفسیر جلد 2، صفحہ 137۔ 136)
عنقریب صحیح مسلم کے حوالہ سے مکمل حدیث تین آدمیوں کے قصہ میں آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ ۔
اور علماء نے اس توبہ اور توجہ کے بارے میں اختلاف کیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ اور مہاجرین وانصار پر فرمائی اس کے بارے کئی اقوال ہیں۔ پس حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا : وہ توبہ جس کے سبب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ پر رحمت کی توجہ فرمائی وہ آپ ﷺ کا منافقوں کو بیٹھے رہنے کی اجازت دینے کی وجہ سے تھی اور اس کی دلیل یہ قول باری تعالیٰ ہے : (آیت) ” عفا اللہ عنک، لم اذنت لھم “۔ (التوبہ : 43) (درگزر فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے آپ سے (لیکن) کیوں آپ نے اجازت دے دی تھی انہیں) اور مومنین پر ان میں سے بعض کے دلوں میں آپ ﷺ سے پیچھے رہنے کی طرف میلان اور رغبت آنے کی وجہ سے تھی۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمت کی توجہ یہ تھی کہ انہیں تنگی کی شدت اور سختی سے بچا لیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد دشمن کی اذیت اور تکلیف سے خلاصی اور نجات دلانا ہے، اور اسے توبہ سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ اس میں توبہ کا معنی موجود ہے اگرچہ یہ اس کی تعریف سے خارج ہے اور وہ پہلے حالت کی طرف لوٹنا اور رجوع کرنا ہے اور اہل معانی نے کہا ہے : بیشک حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کا ذکر توبہ میں کیا گیا ہے کیونکہ جب آپ ہی ان کی توبہ کا سبب ہیں تو پھر آپ ﷺ کا ذکر ان کے ساتھ کیا گیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” فان للہ خمسہ وللرسول “۔ (الانفال : 41) (تو اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اس کا پانچواں حصہ اور رسول کے لیے)
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الذین اتبعوہ فی ساعۃ العسرۃ “ یعنی جنہوں نے تنگی کے وقت میں آپ کی اتباع کی، اور مراد اس غزوہ کے تمام اوقات ہیں، اور اس سے اس کی معین ساعت مراد نہیں لی، اور یہ بھی کہا گیا ہے ؛ (آیت) ” ساعۃ العسرۃ “ سے مراد وہ شدید ترین ساعت ہے جو اس غزوہ کے دوران ان پر گزری، اور العسرۃ سے مراد معاملے کی صعوبت اور شدت ہے حضرت جابر ؓ نے بیان کیا ہے کہ ان پر سواریوں کی تنگی، زاد راہ کی تنگی اور پانی کی تنگی یہ سب ان پر جمع ہوگئی تھیں (1) (تفسیر طبری، سورة توبہ جلد 11 صفحہ 67) حسن نے کہا ہے : مسلمانوں کی تنگی کی حالت یہ تھی کہ وہ ایک اونٹ پر نکل رہے تھے جسے وہ اپنے درمیان روکے ہوئے تھے، اور ان کا زاد راہ گھن لگی کھجوریں، متغیر جو اور بدبودار چربی تھی اور کوئی گروہ نکل رہا ہے کہ ان کے پاس سوائے کھجوروں کے اور کچھ نہیں تھا اور جب ان میں سے کسی کو بھوک لگتی تو وہ کھجور کا ایک ٹکڑا لیتا یہاں تک کہ اس کا ذائقہ پالیتا۔ پھر وہ اسے اپنے ساتھی کو دے دیتا یہاں تک کہ وہ اس پر پانی کا گھونٹ پی لیتا اسی طرح وہ کرتے رہتے یہاں تک کہ وہ کھجور ان کے آخری ساتھی تک پہنچ جاتی اور کھجور میں سوائے گٹھلی کے کچھ باقی نہ بچتا پس وہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے ساتھ پورے صدق ویقین کے ساتھ چلتے رہے۔ اور حضرت عمر ؓ سے (آیت) ” ساعۃ العسرۃ “۔ کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ہم شدید گرمی میں نکلے اور ایک منزل پر جا اترے وہاں شدید پیاس نے ہمیں آ لیا یہاں تک کہ ہمیں گمان ہونے لگا کہ ہماری گردنیں پیاس سے کٹ جائیں گی، یہاں تک کہ ایک آدمی اپنا اونٹ ذبح کرتا اور اس کے گوبر کو نچوڑتا اسے پیتا اور مابقی اپنے جگر پر رکھ لیتا، تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ بیشک اللہ تعالیٰ آپ کو خیر و برکت کی دعا کا عادی بنایا ہے سو آپ ہمارے لیے دعا فرمائیں، آپ ﷺ نے فرمایا : ” کیا تم اسے پسند کرتے ہو ؟ “ عرض کی : ہاں۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک اٹھائے اور انہیں واپس نہ لوٹایا یہاں تک کہ آسمان نے سایہ کردیا اور پھر برسنے لگا، پس انہوں نے وہ سب برتن بھر لیے جو ان کے پاس تھے پھر ہم اسے دیکھنے کے لیے گئے اور ہم نے اسے نہ پایا اور لشکر آگے گزر گیا۔ (2) (تفسیر طبری، زیر آیت ہذہ)
حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابو سعید ؓ دونوں نے بیان کیا ہے : ہم غزوہ تبوک میں حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے ساتھ تھے پس لوگوں کو بھوک نے آلیا اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ ہمیں اجازت عطا فرمائیں تو ہم اپنے اونٹوں کو ذبح کرلیں اور ہم انہیں کھائیں اور چکنائی حاصل کریں۔ (تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم کرو “ ) اتنے میں حضرت عمر ؓ آگئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ اگر انہوں نے ایسا کی تو سواریاں کم ہوجائیں گی، البتہ آپ انہیں ان کے فالتوں زاد راہ لانے کا کہیے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں برکت کی دعا فرمائیے شاید اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈال دے، آپ نے فرمایا : ” ہاں “ پھر چمڑے کا ایک ٹکڑا منگایا اور اسے بچھا دیا گیا، پھر آپ نے بچا ہوا زاد راہ لانے کی دعوت دی پس ایک آدمی ایک مشت مکئی لا رہا ہے اور دوسرا ایک مشت کھجور لے کر آتا ہے اور ایک اور گوشت کا ٹکڑا لے کر آتا ہے یہاں تک کہ اس چمڑے کے ٹکڑے پر تھوڑی سی شی جمع ہوگئی۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا ہے : پس میں نے اسے پھیلایا تو وہ بکریوں کے باڑے کی مقدار تھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے برکت کی دعا فرمائی، پھر فرمایا : ” تم اپنے برتنوں میں ڈال لو “۔ پس انہوں نے اسے اپنے برتنوں میں ڈال لیا، قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی الہ نہیں ہے ! یہاں تک کہ لشکر میں کوئی برتن باقی نہ رہا مگر انہوں نے اسے بھر لیا اور قوم نے اسے کھایا یہاں تک کہ وہ سیر ہوگئے اور کچھ فالتوں بھی بچ گیا تو حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے فرمایا : ” میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جو بندہ بھی اللہ تعالیٰ سے ان دونوں کے ساتھ ان میں شک کرتے ہوئے ملاقات کرے گا تو اسے جنت سے روک دیا جائے گا “ (1) (صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 42 ) ۔
اسے مسلم نے اپنی صحیح میں انہی الفاظ اور معنی کے ساتھ نقل کیا ہے۔ واللہ للہ۔
اور ابن عرفہ نے کہا ہے : جیش تبوک کو جیش عسرہ کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے شدید گرمی میں لوگوں کو غزوہ کی دعوت دی۔ پس یہ ان پر انتہائی سخت اور تنگی کا باعث بنا اور پھلوں کا پکنا بھی ظاہر ہوچکا تھا۔ فرمایا : جیش عسرہ کے ساتھ مثال بیان کی گئی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ اس سے قبل اتنی تعداد کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک نہیں ہوئے، کیونکہ آپ ﷺ کے اصحاب کی تعداد غزوہ بدر میں تین سو، اس سے کچھ زائد تھی اور احد کے دن سات سو اور خبیر کے دن ایک ہزار پانچ سو فتح مکہ کے دن دس ہزار اور غزوہ حنین میں تعداد بارہ ہزار تھی، اور غزوہ تبوک میں آپ کا لشکر تیس ہزار سے زائد تھا اور یہ آپ ﷺ کا آخری غزوہ تھا، رسول اللہ ﷺ رجب میں نکلے اور تبوک میں شعبان اور رمضان کے کچھ دن قیام کیا اور اپنے دستے بھیجے اور کئی اقوام کے ساتھ جزیہ پر صلح کی۔ اور اس غزوہ میں آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو پیچھے نکلے اور آپ کو اس کی اطلاع دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اما ترضی ان تکون فی بمنزلۃ ھ اورن من موسیٰ (2) (صحیح بخاری کتاب الجہاد جلد 2، صفحہ 633)
(کیا تو اس پر راضی نہیں ہے کہ تو میرے پیچھے اس طرح ہو جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کے پیچھے ہارون (علیہ السلام) تھے)
اور بیان فرمایا کہ آپ ﷺ کے حکم سے آپ کا بیٹھنا اجر میں آپ کے ساتھ نکلنے والے کے برابر ہے، کیونکہ اس کا دارومدار شارع کے حکم پر ہے۔ بیشک اس کو غزوہ تبوک کہا گیا ہے کیونکہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے اپنے اصحاب کی ایک جماعت کو دیکھا کہ وہ تبوک کی دلدلی زمین میں لے لے کر داخل ہو رہے ہیں اور اسے حرکت دے رہے ہیں تاکہ پانی نکل آئے تو آپ نے فرمایا : مازلتم تبوکونھا بوکا ‘ پس اسی وجہ سے اس غزوہ کا نام غزوہ تبوک رکھ دیا گیا۔ الحسی (کسرہ کے ساتھ) وہ دلدل (پانی) جسے ریتلی زمین جذب کرلیتی ہے۔ پس وہ صلابت (سخت زمین) تک پہنچ جائے تو وہ اسے روک لیتی ہے پس تو اس سے ریت کو کھود کر اسے نکال سکتا ہے اور یہی احتساء (کھودنا) ہے۔ یہ جوہری نے کہا ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” من بعد ما کا دیزیغ قلوب فریق منھم “۔ قلوب سیبویہ کے نزدیک تزیغ کے ساتھ مرفوع ہے اور کا د میں کان کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے الحدیث مضمر ہوگا۔ کیونکہ خبر اسے اسی طرح لازم ہوتی ہے جیسے کان کو لازم ہوتی ہے۔ اور اگر تو چاہے تو کا د کے ساتھ اسے رفع دے، اور تقدیر عبارت ہوگی : من بعد ما کا د قلوب فریق منھم تزیغ اور اعمش حمزہ اور حفص نے یا کے ساتھ یزیغ پڑھا ہے۔ اور ابو حاتم نے یہ گمان کیا ہے کہ جس نے یا کے ساتھ یزیغ پڑھا ہے تو ایہ اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ قلوب کو کا د کے ساتھ رفع دے۔
نحاس نے کہا ہے : وہ جسے انہوں نے جائز نہیں کہا وہ دوسرے کے نزدیک تمام کو مذکر قرار دینے کی بنا پر جائز ہے۔ فراء نے بیان کیا ہے : رجب البلاد وارحبت (یعنی اس میں مذکر ومونث دونوں جائز ہیں) اور رحبت اہل حجاز کی لغت ہے اور تزیغ کے معنی میں اختلاف ہے، پس کہا گیا ہے کہ تھکاوٹ، مشقت اور شدت کے ساتھ وہ (دل) ضائع ہوجائیں، اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ وہ ممانعت اور نصرت میں حق سے پھرجائیں اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کے بعد کہ ان میں سے ایک فریق نے پیچھے بیٹھے رہنے اور نافرمانی کا قصد کیا پھر وہ آپ کے ساتھ مل گئے اور یہ بھی کہا گیا ہے : انہوں نے واپس پلٹنے کا قصد کیا پس اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت کی توجہ فرمائی اور انہوں اس کے بارے حکم دیا۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ثم تاب علیھم “۔ کہا گیا ہے : اللہ تعالیٰ کا ان پر توجہ فرمانا یہ ہے کہ اس نے ان کے دلوں کا تدارک کیا یہاں تک کہ وہ ٹیڑھے نہ ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے اولیاء اور دوستوں کے ساتھ یہی سنت ہے جب وہ کسی ہلاکت پر جھانکنے لگیں اور وہ اپنے آپ کو ہلاکت پر ٹھہرالیں تو وہ ان پر سخاوت کا بادل برساتا ہے اور ان کے دلوں ان کو زندہ کردیتا ہے، شاعر کہتا ہے :
منک ارجو ولست اعرف ربا یرتجی منہ بعض مامنک ارجو :
واذا اشتدت الشدائد فی الارض علی الخلق فاستغاثوا وعجوا :
وابتلیت العباد بالخوف والجوع وصروا علی الذنوب ولجوا :
لم یکن لی سواک ربی ملاذ فتیقنت اننی بک ان جو :
اور اللہ تعالیٰ نے ثلاثہ (تین) کے حق میں فرمایا : (آیت) ” ثم تاب علیھم لیتوبوا “۔ (تب اللہ تعالیٰ ان پر مائل بکرم ہوا تاکہ وہ بھی رجوع کریں) پھر کہا گیا ہے : (آیت) ” ثم تاب علیھم “ کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں توبہ کی توفیق دی تاکہ وہ توبہ کرلیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) ” تاب علیھم “ کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں وسعت دے دی اور انہیں سزا دینے میں جلدی نہ کی تاکہ توبہ کرلیں، اور یہ قول بھی ہے : ان پر رحمت کی توجہ فرمائی تاکہ وہ توبہ پر ثابت قدم رہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت کی توبہ فرمائی تاکہ وہ ان سے حالت رضا کی طرف لوٹ آئیں۔ المختصر یہ کہ اگر ان کے بارے میں پہلے اس کے علم میں نہ ہوتا کہ اس نے ان کے لیے توبہ کا فیصلہ کیا ہے تو وہ توبہ نہ کرتے، اس کی دلیل حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے : تم عمل کرو پس ہر وہ کام آسان بنا دیا گیا ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ (اعملوا فکل میسرلما خلق لہ) (صحیح مسلم، کتاب القدر، جلد 2، صفحہ 334)
Ayah 9:118آیت نمبر : 118۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “۔ کہا گیا ہے : اور ان تینوں پر بھی نظر رحمت فرمائی جنہیں توبہ سے پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ یہ حضرت مجاہد (رح) اور ابو مالک (رح) سے مروی ہے، اور حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے : جو غزوہ تبوک سے پیچھے چھوڑ دیئے گئے، اور محمد بن زید سے بیان کیا گیا ہے کہ خلفوا کا معنی ترکوا (چھوڑ دیئے گئے) ہے، کیونکہ خلفت فلانا کا معنی ہے ترکتہ (میں نے اسے چھوڑ دیا) وفا رقتہ قاعدا عما نھضت فیہ (اور میں نے اسے بیٹھے ہوئے چھوڑا اس وقت جب میں اس سے اٹھا) اور عکرمہ بن خالد نے ” خلفوا “ پڑھا ہے، یعنی وہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے مقیم رہے۔ اور جعفر بن محمد سے روایت ہے کہ انہوں نے خالفوا ‘ پڑھا ہے (انہوں نے آپ کی مخالفت کی) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : خلفوا “ کا معنی ہے انہیں منافقین سے مؤخر کردیا گیا اور ان کے بارے میں کسی قسم کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اور وہ یہ کہ منافقین کی توبہ قبول نہیں کی گئی۔ اور کئی اقوام نے عذر پیش کیے تو آپ نے انکے عذر قبول کرلیے اور حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے ان تینوں کا معاملہ موخر کردیا یہاں تک کہ ان کے بارے میں قرآن کریم نازل ہوا۔ یہی صحیح ہے جسے بخاری ومسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں کہ حضرت کعب ؓ نے بیان کیا : ان لوگوں کے معاملے سے ہم تینوں کا فیصلہ ملتوی اور مؤخر کردیا گیا ہے جس سے رسول اللہ ﷺ نے عذر قبول کرلیے جب انہوں نے آپ کو حلف دے دیا تو آپ ﷺ نے ان کی بیعت لے لی اور ان کے لیے دعائے مغفرت فرما دی اور رسول اللہ ﷺ نے ہمارا معاملہ موخر کردیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے بارے فیصلہ فرما دے۔ پس اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ اور جو اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے وہ اس میں سے نہیں ہے خلفنا تخلفنا عن الغزو (ہمارے غزوہ سے پیچھے رہنے کو مؤخر کردیا گیا) بیشک یہ اس کا ہمیں پیچھے چھوڑنا اور اس کا ہمارے معاملہ کو موخر کرنا ہے ان سے جنہوں نے آپ کے سام نے قسم کھائی اور عذر پیش کیے پس آپ نے ان سے وہ عذر قبول کرلیے (1) (صحیح مسلم، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 360)
اس بارے میں یہ حدیث طویل ہے، یہ اس کا آخر ہے۔
اور وہ تین جن کا فیصلہ ملتوی کردیا گیا وہ حضرت کعب بن مالک مرارہ بن ربیع عامری، اور ہلال ابن امیہ الواقفی رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہیں اور یہ تمام انصار میں سے تھے۔ بخاری اور مسلم نے ان کی حدیث بیان کی ہے، پس مسلم نے حضرت کعب بن مالک ؓ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ جتنے غزوات میں تشریف لے گئے میں کبھی بھی کسی غزوہ میں آپ سے پیچھے نہیں رہا سوائے غزوہ تبوک کے اور یہ کہ میں غزوہ بدر میں پیچھے رہ گیا اور آپ ﷺ نے کسی پیچھے رہنے والے کو عتاب نہیں فرمایا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمان قریش کے قافلے کے ارادہ سے نکلے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے دشمنوں کو بغیر کسی مقررہ وعدہ کے اکٹھا کردیا، اور تحقیق میں عقبہ کی رات رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر تھا جس وقت ہم نے اسلام پر اعتماد اور وثوق کا اظہار کیا اور میرے لیے اس کے بدلے بدر کی حاضری زیادہ محبوب اور پسندیدہ نہ تھی، اگرچہ لوگوں میں بدر کا تذکرہ اس سے کہیں زیادہ ہے، اور میرا امتحان اور آزمائش اس وقت تھی جب میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہا، کیونکہ میں کبھی اتنا طاقتور نہیں ہوا اور اس وقت کوئی مجھ سے زیادہ خوشحال تھا جس وقت میں غزوہ میں آپ ﷺ سے پیچھے رہ گیا، قسم بخدا ! اس سے پہلے کبھی میں نے دو سواریاں جمع نہیں کیں حتی کہ میں نے اس غزوہ میں دو جمع کیں، پس رسول اللہ ﷺ شدید گرمی میں اس غزوہ پر تشریف لے گئے اور آپ نے انتہائی دور اور جنگل کا سفر اختیار کیا اور آپ کا مقابلہ کثیر التعداد و دشمن کے ساتھ تھا، پس آپ ﷺ نے مسلمانوں کے لیے ان کا معاملہ واضح کیا تاکہ وہ اپنے غزوے (جنگ) کی تیاری خوب اچھی طرح کریں اور آپ نے انہیں اس وجہ اور سبب کے بارے بتایا جو آپ ارادہ رکھتے تھے، اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسلمان بھی کثیر تعداد میں تھے اور انہوں نے حافظ کی کتاب جامع نہیں اس سے مراد دیوان ہے حضرت کعب بن مالک ؓ نے کہا : بہت ہی کم آدمی تھا جو غائب ہونے کا ارادہ رکھتا ہو، اس کا یہ گمان تھا کہ وہ اس وقت تک مخفی اور چھپا رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس بارے میں وحی نازل نہ ہوئی اور رسول اللہ ﷺ اس غزوہ پر اس وقت تشریف لے گئے جب پھل پکے ہوئے تھے اور سائے گھنے تھے۔ اور میں ان کی طرف زیادہ مائل تھا، پس رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھ مسلمان اس کے لیے تیار ہوگئے اور میں صبح کے وقت نکلتا تاکہ میں ان کے ساتھ تیار ہوجاؤں پھر لوٹ آتا اور کوئی فیصلہ نہ کرسکتا اور اپنے دل میں کہتا : جب میں نے ارادہ کرلیا تو میں اس کی طاقت اور قدرت رکھتا ہوں، پس اسی طرح مسلسل مجھ سے دیر ہوتی رہی اور لوگوں نے تیاری جاری رکھی پس ایک صبح رسول اللہ ﷺ اور آپ کی معیت میں مسلمان غزوہ کے لیے چل پڑے اور میں نے اپنی تیاری کے بارے کوئی فیصلہ نہ کیا، پھر میں صبح کے وقت گیا اور لوٹ آیا اور کوئی فیصلہ نہ کیا، پس اسی طرح مجھ سے دیر ہوتی رہی یہاں تک کہ وہ تیز رفتاری کے ساتھ غزوہ کی طرف آگے بڑھ گئے، پس میں نے کوچ کرنے کا ارادہ کیا میں میں انہیں پالوں گا، اے کاش میں ایسا کرتا، پھر مجھے وہ قدرت نہ دی گئی، پھر رسول اللہ ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد جب بھی میں لوگوں میں باہر نکلتا تو مجھے غم اور پریشانی لاحق ہوجاتی کہ میں اپنے لیے کوئی اسوہ اور نمونہ نہیں دیکھتا مگر ایسا آدمی جس پر نفاق کا طعن کیا گیا ہے یا ایسا آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے ضعفاء میں سے معذور قرار دیا ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے یاد نہیں فرمایا یہاں تک کہ آپ ﷺ تبوک میں ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے فرمایا :” حضرت کعب بن مالک کیا کیا ہے ہے “ ؟ تو بنی سلمہ کے ایک آدمی نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ اسے اس کی خوشحالی اور اپنی ذات میں اترانے نے روک لیا ہے۔ تو حضرت معاذ بن جبل ؓ نے اسے کہا : کتنا برا ہے جو تو نے کہا ہے ! قسم بخدا یا رسول اللہ ﷺ اس کے بارے میں سوائے خیر کے کچھ نہیں جانتے، پس رسول اللہ ﷺ خاموش رہے۔
پس اس اثنا میں کہ آپ اسی حال پر تھے کہ آپ نے سفید لباس میں ایک آدمی کو دیکھا جس کے ساتھ سراب چل رہا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ابوخیثمہ ہو “ تو وہ حضرت ابو خثیمہ انصاری ؓ ہی نکلے۔ اور یہ وہ ہیں جنہوں نے ایک صاع کھجوریں صدقہ کیں یہاں تک کہ منافقوں نے آپ پر عیب لگایا اور طعنہ دیا۔ پس حضرت کعب بن مالک ؓ نے کہا : جب مجھے یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ تبوک سے واپس چل پڑے ہیں تو مجھے غم اور پریشانی لاحق ہوگئی، تو میں جھوٹ گھڑنا شروع کردیا اور یہ کہنے لگا : میں کس کے سبب کل آپ کی ناراضگی سے بچ سکتا ہوں اور میں اپنے گھر والوں میں سے ہر صاحب رائے سے اس پر (مشاورت کے ذریعہ) مدد لینے لگا۔ پس جب مجھے بتایا گیا کہ بیشک رسول اللہ ﷺ تشریف لانے والے ہیں تو مجھ سے باطل زائل ہوگیا یہاں تک کہ میں نے جان لیا کہ میں ہر گز کبھی بھی آپ سے کسی شے کے سبب نہیں بچ سکوں گا، چناچہ میں نے سچائی اور صدق کو جمع کیا اور رسول اللہ ﷺ صبح کے وقت قدم رنجہ فرما ہوئے اور جب آپ سفر سے واپس تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلے مسجد میں تشریف لاتے اور اس میں دو رکعت نماز ادا فرماتے تھے پھر لوگوں کے لیے تشریف رکھتے، پس جب آپ ﷺ نے ایسا کیا تو پیچھے رہنے والے آپ کے پاس حاضر ہوئے اور وہ آپ کے پاس عذر پیش کرنے لگے اور آپ کو حلف دینے لگے اور وہ اسی سے کچھ زائد لوگ تھے، پس رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف سے ان کے ظاہر اعلان (عذر) کو قبول فرمایا اور ان سے بیعت لی اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی اور ان کے باطن (یعنی مخفی امر اور راز) کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا، یہاں تک کہ میں حاضر ہوا پس جب میں نے سلام عرض کیا تو آپ نے اسی طرح تبسم فرمایا جیسے اس پر تبسم کیا جاتا ہے جس پر غصہ اور ناراضگی ہو۔ پھر فرمایا : ” آؤ“ پس میں آگے چلتا آیا یہاں تک کہ آپ کے سام نے بیٹھ گیا، تو آپ ﷺ نے مجھے فرمایا : ” تجھے کس چیز نے پیچھے چھوڑ دیا، کیا تو نے اپنی سواری نہیں خریدی تھی ؟ “ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ بلاشبہ قسم بخدا ! اگر میں آپ کے سوا اہل دنیا میں سے کسی اور کے پاس بیٹھا ہوتا تو مجھے یقین ہوتا کہ میں عذر کے سبب اس کی ناراضگی سے نکل جاؤں گا۔ تحقیق مجھے فصاحت اور قوت کلام عطا کی گئی ہے، لیکن قسم بخدا ! میں یہ جانتا ہوں کہ اگر میں نے آج آپ کے ساتھ جھوٹی بات کر بھی دی اور اس کے ساتھ آپ مجھ سے راضی ہو بھی جائیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ پر ناراض کر دے گا۔ اور اگر میں نے سچی بات آپ سے کردی تو آپ اس میں مجھ پر ناراض ہوں گے تو بلاشبہ میں اس میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے اچھے انجام کی امید رکھتا ہوں۔ قسم بخدا ! میرے لیے کوئی عذر نہ تھا، قسم بخدا ! میں کبھی بھی اتنا طاقتور نہیں ہوا اور نہ اس وقت کوئی مجھ سے زیادہ خوشحال تھا جس وقت میں آپ سے پیچھے رہ گیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جہاں تک اس کی بات کا تعلق ہے تو اس نے بالکل سچ کہا ہے پس تو اٹھ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تیرے بارے میں کوئی فیصلہ فرما دے “۔
میں اٹھ کھڑا ہوا اور بنی سلمہ کے لوگ جھپٹ پڑے اور میرے پیچھے ہوگئے انہوں نے مجھے کہا : قسم بخدا ! ہمیں تیرے بارے میں یقین ہے کہ تو نے اس سے پہلے کوئی گناہ اور غلطی نہیں کی ! تحقیق تو اس بارے میں عاجز آگیا کہ تو نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں اس طرح کا کوئی عذر پیش نہیں کیا جس طرح پیچھے رہنے والوں نے آپ کے پاس عذر پیش کیے، پس تیرے گناہ کے لیے رسول اللہ ﷺ کا تیرے لیے استغفار کرنا ہی کافی تھا، وہ کہتے ہیں : قسم بخدا ! وہ مجھے لگا تار اور مسلسل تنبیہ کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے ارادہ کرلیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹ جاؤں اور اپنے آپ کو جھٹلادوں، پھر میں نے ان کو کہا : کیا اس میں میرے ساتھ کوئی اور بھی ملا ہے ؟ انہوں نے بتایا : ہاں تیرے ساتھ دو اور آدمی بھی اس میں شامل ہیں ان دونوں نے بھی اسی طرح کہا ہے جیسے تو نے کہا ہے۔ تو انہیں بھی اسی طرح کہا گیا ہے جیسے تجھے کہا گیا، میں نے پوچھا : وہ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا : مرارہ بن ربیعہ عامری اور ہلال بن امیہ واقفی، کعب کہتے ہیں : پس انہوں نے میرے سام نے دو نیک اور صالح آدمیوں کا ذکر کیا، تحقیق یہ دونوں غزوہ بدر میں حاضر تھے اور یہ دونوں قابل تقلید اور اسوہ تھے پس میں بھی ڈٹ گیا جس وقت انہوں نے میرے سام نے ان دونوں کا ذکر کیا، اور رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو ہم تینوں سے کلام کرنے سے منع کردیا، ان میں سے جو آپ ﷺ سے پیچھے رہے، پس لوگوں نے ہم سے اجتناب کرلیا اور وہ ہمارے لیے بدل گئے یہاں تک کہ زمین بھی میرے لیے اجنبی ہوگئی اور اس زمین میں کوئی شے نہ تھے جسے میں پہچانتا، پس ہم پچاس راتیں اسی حالت پر رہے، پس رہے میرے دونوں ساتھی تو انہوں نے عاجزی اور اطاعت اختیار کی اور اپنے گھروں میں بیٹھے رونے لگے اور میں قوم کا جوان اور مضبوط آدمی تھا، لہذا میں باہر نکلتا رہا پس میں نماز میں حاضر ہوتا اور بازاروں میں چکر لگاتا لیکن کوئی آدمی مجھ سے کلام نہ کرتا اور میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوتا اور آپ کو سلام عرض کرتا درآنحالیکہ آپ نماز کے بعد اپنی مجلس میں تشریف فرما ہوتے، تو میں دل میں کہتا : کیا آپ ﷺ نے سلام کے جواب کے ساتھ اپنے ہونٹوں کو حرکت دی ہے یا نہیں ؟ پھر میں آپ کے قریب ہی نماز پڑھنے لگتا اور نظر بچا کر آپ کی طرف دیکھتا، پس جب میں اپنی نماز کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ ﷺ میری طرف دیکھتے اور جب میں آپ کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ ﷺ مجھ سے اعراض فرما لیتے، یہاں تک کہ جب مجھ پر مسلمانوں کی زیادتی طویل ہوگئی، بڑھ گئی تو میں چل پڑا یہاں تک کہ میں ابو قتادہ (رح) نے باغ کی دیوار پھلانگ کر اندر گیا اور وہ میرے چچا کا بیٹا تھا اور مجھے تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب تھا میں نے اسے سلام کیا، بخدا اس نے مجھے سلام کا جواب نہ دیا، تو میں نے اسے کہا : اے ابو قتادہ (رح) میں تجھے اللہ تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں ! کیا تو جانتا ہے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے محبت کرتا ہوں ؟ کعب کہتے ہیں : پس وہ خاموش رہا تو میں نے دوبارہ اسے کہا اور میں نے اسے قسم دی لیکن وہ خاموش رہا، میں نے پھر کہا اور اسے پکارا تو اس نے کہا : اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول معظم ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں تو میری آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے اور میں پیٹھ پھیر کر چل پڑا یہاں تک میں دیوار کو پھلانگ آیا، پس اس اثنا میں کہ میں مدینہ طیبہ کے بازار میں چل رہا تھا تو اہل شام کے ان نبطیوں میں سے ایک نبطی سام نے آیا جو اناج لاتے تھے اور مدینہ طیبہ میں بیچتے تھے۔
وہ کہہ رہا تھا : کون کعب بن مالک پر میری رہنمائی کرے گا ؟ آپ کہتے ہیں : پس لوگ اس کے لیے میری طرف اشارہ کرنے لگے حتی کہ وہ میرے پاس آگیا اور اس نے شاہ غسان کا ایک خط مجھے دیا، میں خود کاتب تھا پس میں نے اسے پڑھا تو اس میں یہ لکھا تھا : اما بعد ! چونکہ میرے پاس یہ خبر پہنچی ہے کہ تیرے صاحب نے تیرے ساتھ زیادتی کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے کوئی کھلا یا تنگ گھر تیرے لیے نہیں بنایا، پس تو ہمارے ساتھ مل جا ہم تیری غمگساری کریں گے، پس جونہی میں نے اسے پڑھا تو کہا : یہ بھی ایک آزمائش ہے۔ پس میں اسے لے کر تنور پر آیا اور اسے اس میں جلا دیا، یہاں تک کہ جب پچاس میں سے چالیس دن گزر گئے اور وحی رکی رہی تب رسول اللہ ﷺ کا قاصد میرے پاس آتا ہے : بیشک رسول اللہ ﷺ تجھے حکم دے رہے ہیں کہ اپنی بیوی سے علیحدہ ہوجا، تو میں نے پوچھا : کیا میں اس کو طلاق دے دوں یا کیا کروں ؟ اس نے کہا : نہیں، بلکہ اس سے علیحدگی اختیار کرلے اور اس کے قریب نہ جا، کعب کہتے ہیں : پس آپ ﷺ نے میرے دونوں ساتھیوں کی جانب بھی اسی طرح کا پیغام بھیجا، چناچہ میں نے اپنی بیوی کو کہا : تو اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا اور انہیں کے پاس رہ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس بارے میں کوئی فیصلہ فرما دے۔
آپ کہتے ہیں : ہلال بن امیہ کی بیوی رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ بیشک ہلال بن امیہ بوڑھا اور ناکارہ آدمی ہے اس کے پاس کوئی خادم نہیں ہے، تو کیا آپ ناپسند کرتے ہیں کہ میں اس کی خدمت کروں ؟ آپ نے فرمایا ” نہیں لیکن وہ تیرے قریب نہ آئے “۔ تو اس نے کہا : قسم بخدا ! اس میں کوئی حرکت نہیں ہے ! اور قسم بخدا ! جب سے اس کا معاملہ ہوا ہے وہ اس دن سے آج دن تک مسلسل رو رہا ہے، کعب کہتے ہیں : تو میرے بعض گھر والوں نے کہا : اگر تو بھی رسول اللہ ﷺ سے اپنی بیوی کے بارے میں اجازت مانگ لے، تحقیق آپ نے ہلال بن امیہ کو اجازت عطا فرما دی ہے کہ وہ اس کی خدمت کرے، تو میں نے کہا : میں اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب نہیں کروں گا اور مجھے کیا معلوم کہ رسول اللہ ﷺ کیا فرمائیں گے جب میں اس بارے اجازت طلب کروں اور میں جوان آدمی ہوں ؟ کعب کہتے ہیں : پس اسی طرح دس راتیں گزر گئیں، اور ہمارے لیے اس وقت سے پچاس راتیں مکمل ہوگئیں جب سے ہمارے ساتھ کلام کرنے سے منع کیا گیا تھا، فرمایا : پھر میں نے پچاسویں رات کی صبح کو اپنے گھروں میں سے ایک مکان کی چھت پر فجر کی نماز پڑھی، پس اس اثنا میں کہ میں اسی حالت میں بیٹھا ہوا تھا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ہمارے بارے میں کیا ہے کہ میری جان مجھ پر بوجھ ہے اور زمین وسعت کے باوجود مجھ پر تنگ ہے میں نے ایک آواز دینے والے کی آواز سنی جو سلع پہاڑ پر چڑھا ہوا تھا وہ اپنی بلند آواز سے کہہ رہا تھا : اے کعب بن مالک ! تجھے بشارت اور مبارک ہو، آپ فرماتے ہیں : پس میں سجدے میں گرگیا اور میں نے جان لیا کہ وسعت آگئی ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے ہماری توبہ قبول کرنے کے بارے لوگوں میں اعلان کیا، جس وقت آپ نماز فجر پڑھ چکے، تو لوگ ہمیں مبارکباد دینے چل پڑے اور میرے ساتھیوں کی جانب بھی بشارت اور خوشخبری دین کے لیے گئے، اور ایک آدمی گھوڑا دوڑاتے ہوئے میری طرف آیا اور ایک دوڑنے والا بنی اسلم میں سے میری جانب دوڑا اور پہاڑ پر چڑھ گیا۔ پس آواز گھوڑے سے زیادہ تیز تھی، جب وہ میرے پاس آیا جس کی آواز میں نے سنی تھی وہ مجھے خوشخبری سنا رہا تھا تو میں نے اس کے لیے اپنے کپڑے اتار دیئے اور میں نے اس کی بشارت کے عوض وہ اسے پہنا دیئے، قسم بخدا ! میں اس دن ان کے سوا کسی شی کا مالک نہ تھا اور میں نے دو کپڑے عاریۃ لیے اور انہیں خود پہنا پھر میں رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ کا قصد کرتے ہوئے چل پڑا، اور لوگ گروہ در گروہ مجھے ملے اور وہ مجھے توبہ کی قبولیت پر مبارک باد دینے لگے، وہ کہتے : تجھے مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے رحمت کی توجہ تجھ پر فرمائی ہے، یہاں تک کہ میں مسجد میں داخل ہوگیا اور رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے اور آپ کے اردگرد لوگ جمع تھے، پس طلحہ بن عبید اللہ ؓ اٹھے، دوڑتے ہوئے آئے یہاں تک کہ مجھ سے مصافحہ کی اور مجھے مبارک باد دی، قسم بخدا ! ان کے سوا مہاجرین میں سے کوئی آدمی کھڑا نہیں ہوا، فرمایا : پس کعب ہے کہ وہ طلحہ کے اس عمل کو نہیں بھولے گا، حضرت کعب ؓ نے بیان کیا : جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو سلام عرض کیا اس وقت آپ ﷺ کا چہرہ مقدس فرحت و سرور سے چمک رہا تھا اور آپ نے فرمایا : ” تجھے وہ خیر و برکت والا دن مبارک ہو جو تجھ پر گزرا ہے اس وقت سے جب سے تیری ماں نے تجھے جنم دیا ہے “۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ کیا اللہ تعالیٰ کی جانب سے یا آپ کی جانب سے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے “۔ اور رسول اللہ ﷺ جب خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ چمک اٹھتا ایسے لگتا گویا آپ کا چہرہ چاند کا ٹکڑا ہے۔ آپ کہتے ہیں : اور ہم یہ جانتے تھے، پس جب میں آپ کے سام نے بیٹھ گیا عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ بیشک مجھ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کی توجہ میں سے یہ ہے کہ میں اپنے مال سے علیحدہ ہوجاؤں اور اسے اللہ تعالیٰ اور اس کے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کی بارگاہ میں صدقہ کر دوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تو اپنے لیے اپنا بعض مال روک لے یہ تیرے لیے بہتر ہے “۔ تو میں نے عرض کی : میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے، پھر میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے سچ کے ساتھ نجات عطا فرمائی ہے، اور بلاشبہ میری توبہ میں سے یہ ہے کہ میں جب تک باقی رہا سچ کے سوا کوئی بات نہیں کروں گا۔ فرماتے ہیں : قسم بخدا ! میں مسلمانوں میں سے کسی کو نہیں جانتا جیسے اللہ تعالیٰ نے بات کی سچائی میں آزمایا ہوا اس وقت سے لے کر میرے آج تک جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کے سام نے اس کا ذکر کیا وہ احسن (اور عمدہ) ہو اس سے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے آزمایا، قسم بخدا ! میں نے آج تک جھوٹ کا قصد نہیں کیا، جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ عرض کیا، اور بلاشبہ میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ مابقی عمر میں بھی میری حفاظت فرمائے گا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل فرمایا : (آیت) ” لقد تاب اللہ علی النبی والمھجرین والانصار الذین اتبعوہ فی ساعۃ العسرۃ من بعد ماکاد یزیغ قلوب فریق منھم ثم تاب علیھم، انہ بھم رء وف رحیم، ولی الثلثۃ الذین خلفوا حتی اذا ضاقت علیھم الارض بما رحبت وضاقت علیھم انفسھم وظنوا ان لا ملجا من اللہ الا الیہ ثم تاب علیھم لیتوبوا ‘، ان اللہ ھو التواب الرحیم، یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین “۔
حضرت کعب ؓ نے بیان کیا : قسم بخدا ! جب اللہ تعالیٰ مجھے دین اسلام کی ہدایت عطا فرمائی اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کبھی کوئی احسان اور انعام نہیں فرمایا جو میرے خیال کے مطابق میرے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سچ بولنے سے بڑا اور عظیم ہو، کیونکہ اگر میں آپ کے پاس جھوٹ بولتا تو ہلاک کردیا جاتا جیسا کہ وہ ہلاک ہوئے جنہوں نے جھوٹ بولا، بیشک اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے کہا، جنہوں نے جھوٹ بولا جس وقت اس نے وحی نازل فرمائی، جو اس کی نسبت شر اور برا ہے۔ جو کچھ اس نے کسی کو کہا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” سیحلفون باللہ لکم اذا انقلبتم الیھم لتعرضوا عنھم فاعرضوا عنھم انھم رجس وماوھم جھنم جزآء بما کانوا یکسبون، یحلفون لکم لترضوا عنھم فان ترضوا عنھم فان اللہ لا یرضی عن القوم الفسقین “۔ (التوبہ) (قسمیں کھائیں گے اللہ کی تمہارے سام نے جب تم لوٹوگے ان کی طرف تاکہ تم معاف کردو انہیں سو منہ پھیر لو ان سے یقینا وہ ناپاک ہیں، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے بدلہ اس کا جو وہ کمایا کرتے تھے، وہ قسمیں کھاتے ہیں تمہارے لیے تاکہ تم خوش ہوجاؤ ان سے، سو (یاد رکھو) اگر تم خوش ہو بھی گئے ان سے تو پھر بھی اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوگا نافرمانوں کی قوم سے)
حضرت کعب ؓ نے بیان کیا : ہم تینوں کا معاملہ ان کے معاملے سے مؤخر کیا گیا جن سے رسول اللہ ﷺ نے عذر قبول فرما لیے جس وقت انہوں نے قسمیں کھالیں تو آپ ﷺ نے ان سے بیعت لے لی اور ان کے لیے دعائے مغفرت فرما دی، اور آپ ﷺ نے ہمارا معاملہ مؤخر کردیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس بارے فیصلہ فرما دے، پس اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (آیت) ” وعلی الثلثۃ “ اور جو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا وہ اس میں سے نہیں ہے کہ غزوے سے ہمارے پیچھے رہنے کے سبب ہم چھوڑ دیئے گئے، بیشک وہ اس کا ہمیں پیچھے چھوڑنا اور اس کا ہمارے معاملے کو مؤخر کرنا ہے ان سے جنہوں نے آپ ﷺ کے پاس قسم کھائی اور آپ کے پاس عذر پیش کیا اور آپ نے اسے قبول فرما لیا (1) (صحیح مسلم، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 63۔ 360)
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ضاقت علیھم الارض بما رحبت “۔ یعنی ان پر زمین تنگ ہوگئی وسیع ہونے کے باوجود، کہا جاتا ہے : منزل رجب ورحیب ورحاب (وسیع منزل) اور ما مصدریہ ہے ای ضاقت علیھم الارض یرحبھا کیونکہ وہ چھوڑ دیئے گئے تھے نہ ان کے ساتھ معاملات کیے جاتے تھے اور نہ کلام کی جاتی تھی، اور اس میں گناہوں اور معصیت کا ارتکاب کرنے والوں کو چھوڑ دینے پر دلیل موجود ہے یہاں تک کہ وہ توبہ کرلیں۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وضاقت علیھم انفسھم “۔ یعنی ان کے سینے غم اور وحشت کے ساتھ تنگ ہوگئے اور اس بدسلوکی کے سبب (ان کے سینے بوجھل ہوگئے) جسے انہوں نے صحابہ کرام سے پایا۔ (آیت) ” وظنوا ان لا ملجا من اللہ الا الیہ “۔ یعنی انہیں یقین ہوگیا کہ کوئی جائے پناہ نہیں جہاں وہ پناہ گاہ نہیں) ابوبکر الوراق نے کہا ہے : التوبۃ النصوح (خالص توبہ) یہ ہے کہ توبہ کرنے والے پر زمین وسیع ہونے کے باوجود تنگ ہوجائے اور اس پر اس کی جان بوجھل ہوجائے، جیسا کہ حضرت کعب ؓ اور ان کے ساتھیوں کی توبہ ؓ ۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ثم تاب علیھم لیتوبوا، ان اللہ ھو التواب الرحیم “۔ پس اللہ تعالیٰ کی جانب سے توبہ کا آغاز ہوا، ابو زید نے کہا ہے : میں نے چار چیزوں میں غلطی کی ہے (اور وہ) اللہ تعالیٰ سے ابتداء ہونے کے بارے میں ہیں، میں نے گمان کیا کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تب وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔ (لیکن) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” یحبھم ویحبونہ “۔ (المائدہ : 54) (محبت کرتا ہے اللہ ان سے اور وہ محبت کرتے ہیں اس سے) اور میرا گمان تھا کہ میں اس سے راضی ہوتا ہوں تب وہ مجھ سے راضی ہوتا ہے، (لیکن) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ “۔ (المائدہ : 119) (راضی ہوگیا اللہ تعالیٰ ان سے اور راضی ہوگئے وہ اللہ تعالیٰ سے) اور میں نے گمان کیا کہ میں اس کا ذکر کرتا ہوں تب وہ میرا ذکر کرتا ہے، (لیکن) اللہ تعالیٰ کا ارشاد فرمایا : (آیت) ” ولذکر اللہ اکبر “۔ (العنکبوت : 45) (اور واقعی اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت بڑا ہے) اور میں نے گمان یہ کیا کہ میں توبہ کروں گا تب وہ میری طرف رحمت کی توجہ فرمائے گا (لیکن) اللہ تعالیٰ کا ارشاد فرمایا : (آیت) ” ثم تاب علیھم لیتوبوا “۔ اور کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے پھر ان پر رحمت کی توجہ فرمائی تاکہ وہ توبہ پر ثابت قدم رہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد فرمایا : (آیت) ” یایھا الذین امنوا امنوا “۔ (النساء : 136)
اور یہ بھی کہا گیا ہے : یعنی ان کو وسعت دے دی اور ان کی سزا میں جلدی نہ کی جیسا کہ اس نے ان کے سوا کے ساتھ کیا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد فرمایا : (آیت) ” فبظلم من الذین ھادوا حرمنا علیھم طیبت احلت لھم (النسائ : 160) (سوبوجہ ظلم ڈھانے یہود کے ہم نے حرام کردیں ان پر وہ پاکیزہ چیزیں جو حلال کی گئی تھیں ان کے لیے)