9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 9:29

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

جو لوگ اہل کتاب میں سے خدا پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر (یقین رکھتے ہیں) اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو خدا اور اس کے رسول ﷺ نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان سے جنگ کرو۔ یہاں تک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔

اس میں پندرہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : قاتلو الذین لا یومنون باللہ ولا بالیومر الاخر جب اللہ تعالیٰ نے کفار پر مسجد حرام کے قریب آنا حرام قرار دیا، تو مسلمانوں نے اپنے دلوں میں اس تجار کے بارے خوف سا محسوس کیا جو ان سے ختم کردی گئی (کیونکہ) مشرکین سے اپنائے ہوئے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : وان خفتم عیلۃ، الآیہ، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ پھر اس آیت میں جزیہ کو حلال قرار دیا اور یہ اس سے پہلے نہیں لیا جاتا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کا عوض بنا دیا جو انہیں مشرکین کے ساتھ تجارت میں شریک ہونے سے منع کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : قاتلو الذین لا یومنوں باللہ والا بالیوم الاخر الآ یہ اس میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے تمام کفار کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم ارشاد فرمایا کیونکہ اس وصف پر وہ تمام متفق ہیں اور اہل کتاب کا ذکر ان کی کتاب کی تکریم کے لیے خا ص طور پر علیحدہ کیا، کیونکہ وہ توحید و رسالت، شرائع اور ادیان کو جانتے تھے اور خصوصاً حضور نبی رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ، آپ کی ملت اور آپ کی امت کے بارے میں علم رکھتے تھے۔ تو جب انہوں نے اس کا انکار کیا تو ان پر حجت موکد ہوگئی اور ان کا جرم بڑھ گیا۔ پس پہلے ان کے مقام و محل پر آگاہ فرمایا پھر قتال کے لیے غایت کو ذکر کیا اور وہ قتل کے بدلے جزیہ ادا کرنا ہے۔ اور یہی صحیح ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : میں نے ایک مجلس نظر و فکر میں ابو الوفاء علی بن عقیل کو سنا ہے وہ یہ آیت پڑھتے تھے اور اس سے استدلال کرتے تھے۔ پس فرمایا : قاتلو یہ سزا کے بارے امر ہے۔ پھر فرمایا : الذین لایومنون یہ اس گناہ کا بیان ہے جس نے عقوبت ( سزا) کو واجب کیا ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : ولا بالیوم الاخر یہ جانب اعتقاد میں گناہ کی تاکید ہے۔ پھر فرمایا : من الذین او و الکتب یہ حجت کے لیے تاکید ہے، کیونکہ وہ اپنے پاس تو رات و انجیل میں اسے لکھا ہوا پاتے تھے۔ پھر فرمایا : حتی یعطو الجزبۃ عن ید پس اس غایت کو بیان کردیا جس تک سزا ممتد ہو سکتی ہے اور اس بدل اور عوض کو معین کردیا جس کے سبب وہ سزا اٹھ سکتی ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ جن لوگوں سے جزیہ لیا جاتا ہے ان کے بارے علماء کا اختلاف ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) نے کہا ہے : جزیہ قبول نہیں کیا جائے گا مگر صرف اہل کتاب سے چاہے وہ عربی ہوں یا عجمی۔ دلیل یہی آیت ہے، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں خاص طور پر علیحدہ ذکر کیا گیا ہے پس حکم صرف انہیں کی طرف متوجہ ہوگا ان کے سوا دوسروں کی طرف نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا رشاد گرامی ہے : فاقتلو المشرکین حیث وجد تموھم ( التوبہ :5) ( تو قل کرو مشرکین کو جہاں بھی تم پائو انہیں ( اور آگے یہ نہیں فرمایا : حتی یعطو الجزیۃ یہاں تک کہ وہ جزیہ ادا کریں جیسا کہ اہل کتاب کے بارے میں فرمایا ہے اور (امام شافعی (رح)) نے مزید یہ کہا ہے : جزیہ مجوسیون سے قبول کیا جائے اور یہ سنت سے ثابت ہے۔ اسی طرح امام احمد اور ابو ثور نے کہا ہے۔ اور یہی ثوری، امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب (رح) کا مذہب ہے۔ امام اوزاعی (رح) نے کہا ہے : بتوں کی عبادت کرنے والے، آتش پرست، منکر اور جھٹلانے والے سبھی سے ہی جزیہ لیا جائے گا اور اسی طرح امام مالک (رح) کا مذہب ہے ‘ کیونکہ ان کی رائے یہ ہے کہ شرک اور انکار کی تمام اجناس سے جزیہ لیا جائے گا چاہے وہ عربی ہو یا عجمی ‘ تغلبی ہو یا قریشی ‘ جو بھی ہو سوائے مرتد کے (سبھی سے جزیہ لیا جائے گا) ابن القاسم ‘ اشہب اور سخنون نے کہا ہے : جزیہ عرب کے مجوسیوں اور تمام امتوں سے لیا جائے گا۔ اور رہے عرب بت پرست تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں جزیہ کا تذکرہ نہیں کیا ‘ ان میں سے کوئی بھی زمین پر باقی نہیں رہے گا ‘ بلاشبہ ان کے لیے یا قتال ہے یا اسلام۔ اور ابن القاسم کا نظریہ بھی موجود ہے کہ ان سے جزیہ وصول کیا جائے گا ‘ جیسا کہ امام مالک (رح) فرماتے ہیں۔ اور یہ ابن جلاب کی تفریع میں ہے اور یہ احتمال نص نہیں۔ اور ابن وہب نے کہا ہے : عرب کے مجوسیوں سے جزیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کے سوا سے قبول کرلیا جائے گا۔ فرمایا : کیونکہ عرب میں مجوسی کوئی نہیں ہے مگر یہ کہ ان تمام نے اسلام قبول کرلیا۔ پس ان میں سے کوئی خلاف اسلام پایا گیا تو وہ مرتد ہوگا ‘ ہر حال میں اسے قتل کیا جائے گا اگر وہ اسلامنہ لایا اور ان سے جزیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور ابن الجہم نے کہا ہے : جزیہ ہر اس سے قبول کیا جائے گا جو اسلام کے سوا کسی بھی دین پر ہو سوائے ایسی شی کے جس پر کفار قریش کا اجتماع ہو اور اس کی علت بیان کرتے ہوئے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ یہ ذلت اور حقارت کے بدلے ان کی تکریم کے لیے ہے ‘ کیونکہ ان کا تعلق رسول اللہ ﷺ سے ہے۔ اور کسی اور۔ یہ کہا ہے کہ یہ اس لیے ہے کہ وہ تمام کے تمام فتح مکہ کے دن اسلام لائے۔ واللہ اعلم مسئلہ نمبر 3: اور رہے مجوس ! تو ابن منذر نے کہا ہے : میں اس بارے کوئی اختلاف نہیں جانتا کہ ان سے جزیہ لیا جائے گا۔ اور مؤطا میں میں ہے : امام مالک (رح) نے جعفربن محمد سے انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے مجوس کا معاملہ ذکر کیا اور فرمایا : میں نہیں جانتا میں ان کے بارے کیا کروں ؟ تو حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے فرمایا : میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : سنو بھم سنۃ اھل الکتاب (تم ان سے اہل کتاب جیسا برتائو کرو) ابو عمر نے کہا ہے : یعنی خاص طور پر جزیہ میں۔ اور رسول اللہ ﷺ کے ارشاد ‘ سنو ابھم سنۃ اھل الکتاب میں اس پر دلیل کہ وہ اہل کتاب نہیں ہیں۔ اور یہی مذہب جمہور فقہاء کا ہے۔ امام شافعی (رح) سے یہ مروی ہے کہ وہ اہل کتاب تھے پھر بدل دیئے گئے۔ اور میرا گمانیہ ہے کہ وہ اس بارے میں اس کی طرف گئے ہیں جو حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے ایک سند سے مروی ہے اور اس میں ضعف ہے ‘ اس کا دارو مدار ابو سعید البقال پر ہے۔ اسے عبدالرزاق وغیرہ نے ذکر کیا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : روایت ہے کہ مجوس کی طرف ایک نبی مبعوث کیے گئے جن کا نام زرادشت تھا۔ واللہ اعلم مسئلہ نمبر 4: اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جزیہ کی وہ مقدار ذکر نہیں کی جو ان سے لی جائے گی۔ تحقیق علماء نے جزیہ کی اس مقدار میں اختلاف کیا ہے جو ان سے لی جائے گی۔ پس حضرت عطا بن ابی رباح ؓ نے کہا ہے : اس میں کوئی مقرر مقدار نہیں ‘ بلکہ یہ اتناہی ہوگا جس پر ان سے صلح کی گئی۔ اسی طرح یحییٰ بن آدم ‘ ابو عبید اور علامہ طبری رحمۃ اللہ علیہم نے کہا ہے ‘ مگر علامہ طبری (رح) نے یہ بھی کہا ہے : اس کی کم سے کم مقدار ایک دینار ہے اور زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ اور انہوں نے استدلال اس روایت سے کیا ہے جسے اہل الصحیح نے حضرت عمرو بن عوف ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل بحرین سے جزیہ پر صلح کی۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ نے فرمایا : غنی اور آزاد بالغ فقیر پر ایک دینار ہوگا اس سے کوئی شے کم نہیں کی جائے گی۔ اور انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے جسے ابو دائود وغیرہ نے حضرت معاذ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن کی طرف بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ وہ ہر بالغ سے جزیہ میں ایک دینار وصول کریں (1) ۔ امام شافعی (رح) نے کہا ہے کہ یہی ارشاد اللہ تعالیٰ کے مراد بہ کے لیے مبین اور اس کی وضاحت کرنے والا ہے اور یہی ابو ثور کا قول ہے۔ امام شافعی (رح) نے کہا : اور اگر ایک دینار سے زیادہ پر ان سے صلح کرلی گئی تو یہ بھی جائز ہے۔ اور اگر انہوں نے زیادہ دیا اور اس پر ان کے دل مطمئن اور خوش ہوں تو وہ ان قبول کرلیا جائے گا۔ اور اگر ان سے صلح تین دنوں کی ضیافت پر کی گئی تو یہ بھی جائز ہے ‘ بشرطیکہ ضیافت معلوم ہو مثلاً روٹی ‘ جو ‘ پنیر اور سالن وغیرہ۔ اور اس کا ذکر کرے جو ان میں سے متوسط پر ہوگا اور جو ان میں سے خوشحال اور دولت مند پر ہوگا اور سردی ‘ گرمی اترنے اور واپس لوٹنے کی جگہ کا بھی ذکر ہو۔ اور امام مالک (رح) نے اس روایت میں کہا ہے جو آپ سے ابن قاسم ‘ اشہب اور محمد بن حارث بن زنجویہ نے روایت کی ہے کہ جزیہ سونے والوں پر چاردینار ہوگا اور چاندی والوں پر چالیس درہم ‘ اس میں غنی اور فقیر برابر ہیں اگرچہ وہ مجوسی ہو۔ جو مقدار حضرت عمر ؓ نے مقرر کی دی ہے نہ اس پر اضافہ کیا جائے گا اور نہ اس میں کمی کی جائے گی ‘ ان سے اس کے سوا کچھ نہیں لیا جائے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمزور اور ضعیف کو اتنی مقدار تخفیف کردی جائے گی جتنی امام وقت مناسب سمجھے۔ اور ابن القاسم نے کہا ہے : تنگی کی وجہ سے حضرت عمرؓ کی مقرر کردہ مقدار میں کمی نہیں جی جائے گی اور خوشحالی اور دولت کی وجہ سے اس پر اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ ابو عمر نے کہا ہے : ان کے فقراء سے اتنی مقدار میں لیا جائے گا جسے وہ برداشت کرسکتے ہوں اگرچہ وہ ایک درہم ہی ہو۔ اور اسی کی طرف امام مالک (رح) نے رجوع کیا ہے۔ امام اعظم ابو حنفیہ اور آپ کے اصحاب ‘ امام محمد بن حسن اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہم نے کہا ہے : جزیہ کی مقدار بارہ ‘ چوبیس اور چالیس ہے۔ امام ثوری (رح) نے کہا ہے : حضرت عمر بن خطاب ؓ سے اس بارے میں مختلف مقداروں کا ذکر مروی ہے ‘ پس والی کو اختیار ہے کہ وہ چو چاہے لے لے ‘ جب کہ وہ اہل ذمہ ہوں۔ اور رہے اہل صلح تو ان پر اس کے سوا کچھ نہیں ہوگا جس پر صلح کی گئی ہو۔ مسئلہ نمبر 5: ہمارے علماء رحمۃ اللہ علیہم نے کہا ہے : وہ جس پر قرآن کرمی دلالت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ جزیہ جنگ لڑنے والے مردوں سے لیا جائے گا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : قاتلو الذین لا یؤمنون باللہ ولا بالیوم الاخر ولا یحرمون ماحرم اللہ ورسولہ ولا یدینون دین الحق من الذیناوتوالکتب حتی یعطوا الجزیۃ پس یہ ارشاد ان پر جزیہ کے واجب ہونے کا تقاضا کرتا ہے جو قتال کرتے ہیں۔ اور یہ اس پر بھی دلیل ہے کہ غلام پر جزیہ نہیں ہے اگرچہ وہ جنگ لڑنے والا ہو ‘ کیونکہ اس کے پاس کوئی مال نہیں ہے اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : حتی یعطوا اور جو کسی شے کا مالک نہ ہو اس کے لیے حتی یعطی نہیں کہا جاسکتا۔ اور یہ کہ علماء کا اس پر اجماع ہے کہ جزیہ آزاد ‘ بالغ مردوں کے سروں پر لگا یا جائے گا اور وہ وہی ہیں جو قتال کرتے ہیں نہ کہ عورتیں ‘ بچے ‘ غلام ‘ ایسے مجنون افراد جن کی عقلیں مغلوب ہوں اور بوڑھے ‘ پیر فرتوت وغیرہ۔ اور راہبوں کے بارے میں اختلاف ہے۔ پس ابن وہب نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ ان سے جزیہ نہیں لیا جائے گا۔ مطرف اور ابن ماجشون نے کہا ہے : یہ تب ہے جب وہ جزیہ لگ جانے کے بعد راہب نہ بنا ہو اور اگر جزیہ پہلے لگا دیا گیا پھر وہ راہب بنا تو اس کی رہبا نیت جزیہ کو ساقط نہیں کرسکتی۔ مسئلہ نمبر 6: جب اہل جزیہ جزیہ ادا کردیں تو پھر ان کے پھلوں ‘ سامان تجارت اور ان کی فصلوں کی پیداوار میں سے کوئی شے ان سے نہ لی جائے ‘ مگر یہ کہ وہ ان شہروں کی علاوہ دوسرے شہروں میں تجارت اور ان کی فصلوں کی پیداوار میں سے کوئی شے ان سے نہ لی جائے ‘ مگر یہ کہ وہ ان شہروں کے علاوہ دوسرے شہروں میں تجارت کریں جن میں انہیں ٹھہرایا گیا اور جن پر ان سے صلح کی گئی پس اگر وہ تجارت کی غرض سے اپنے مقیمی شہروں سے دوسرے شہروں کی طرف نکلے تو ان سے (محصول ‘ عشر ‘ ٹیکس) لیا جائے گا جس وہ سامان پیچیس اور اس کے ثمن نقد ان کے پاس موجود ہوں ‘ اگرچہ سال میں ان کا گزر کئی بارہو ‘ مگر یہ کہ وہ طعام گندم اور زیتون وغیرہ لے کر مدینہ طیبہ اور مکہ مکرمہ کی طرف خاص طور پر لے جائیں ‘ تو اس صورت میں ان سے نصف العشر لیا جائے گا حضرت عمر فاروق ؓ نے اسی طرح کیا ہے۔ اور اہل مدینہ میں سے بعض کی رائے یہ ہے کہ اہل ذمہ سے ان کے سامان تجارت کا محصول ٹیکس سال میں صرف ایک بار لیا جائے گا ‘ جس طرح مسلمانوں سے لیا جاتا ہے۔ یہی حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) اور ائمہ فقہاء کی جماعت کا مذہب ہے۔ پہلا قول امام مالک (رح) اور ان کے اصحاب کا ہے۔ مسئلہ نمبر 7: جب اہل جزیہ نے اپنا وہ جزیہ ادا کردیا جو ان پر لگایا گیا یا جس پر ان سے صلح کی گئی تو پھر انہیں ان کے تمام مالوں ‘ ان کی انور کی بیلوں اور ان کے اس عصیر (نچوڑ) کو جس کی شرابوں کو انہوں نے چھپا رکھا ہو اور وہ انہیں کسی مسلمان کو بیچنے کا اعلان نہ کریں تو ان سب کو چھوڑ دیا جائے (اور درمیان میں کوئی رکاوٹ کھڑ نہ کی جائے) اور انہیں شراب (خمر) اور خنز یر کو مسلمانوں کے بازاروں اور ظاہراً لا نے سے منع کیا جائے ‘ پس اگر وہ ان سے کوئی شے ظاہراً لائیں تو شراب کو ان پر انڈیل دی جائے اور جو خنزیر کو لے کر آئے اسے تادیب سزا دی جائے۔ اور اگر کسی مسلمان نے شراب کے اظہار کے بغیر اسے بہاد یا تو یہ تعدی اور زیادتی ہے ‘ لہٰذا اس پر ضمان واجب ہوگی۔ اور یہ قول بھی ہے کہ ضمان نہیں ہوگی۔ اور اگر کسی نے شراب غصب کرلی تو اس پر اسے واپس لوٹانا واجب ہے۔ ان کے احکام میں اور ان کے آپ میں سودی کا روبار میں ان سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا۔ پس اگر وہ اپنا کوئی مقدمہ ہمارے پاس فیصلہ کے لیے پیش کریں تو پھر حاکم کو اختیار ہے ‘ اگر چاہے تو ان کے درمیان اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ کردے اور اگر چاہے تو اعراض کرلے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے باہمی مظالم کے بارے میں ہر چال میں ان کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا او ان کے طاقتوروں سے ان کے کمزروں کا حق لیا جائے گا ‘ کیونکہ یہ ان سے دفع مضرت کے باب سے ہے۔ اور امام وقت پر لازم ہے کہ وہ ان کی طرف سے ان کے دشمنوں کے خلاف جنگ لڑے اور دشمنوں سے جنگ لڑنے میں ان سے مدد بھی طلب کرے۔ مال فے (غنیمت) میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا اور عبادت گاہوں میں جن پر صلح کی گئی ہے وہ ان پر اضافہ نہیں کرسکتے ( یعنی مزید ان کی تعمیر کو بڑھا نہیں سکتے) البتہ ان میں ان سے جو بوسیدہ ہو جاء اس کی اصلاح اور مرمت سے انہیں نہ روکا جائے۔ اور ان کے لیے ان کے علاوہ نئی تعمیر کرنا قطعاً جائز نہیں۔ اور وہ ایسا لباس اور ہیئت اختیار کریں گے جس کے ساتھ وہ خود مسلمانوں سے الگ اور جدا ہوجائیں اور اہل اسلام کے ساتھ مشاہبت کو اختیار کرنے سے انہیں روکا جائے گا۔ اور ان سے دشمن کے بچوں کو خریدنے میں کوئی حرج نہیں۔ بشرطیکہ ان کے لیے ذمہ نہ ہو۔ اور جزیہ ادا کرنے میں جس کسی نے جھگڑا کیا تو اسے اس جھگڑے نے پر تادیبی سزادی جائے گی۔ اور اس سے جزیہ لیا جائے گا اس حال میں کہ وہ مغلوب ہو۔ مسئلہ نمبر 8: جس کے سبب جزیہ واجب ہے اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے ‘ پس علماء مالکیہ نے کہا ہے : یہ اس قتل کے بدل کے طور پر واجب ہے ‘ جو کفر کے سبب لازم ہے۔ اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے : یہ جان کی حفاظت اور دار کی سکونت کے بدل کے طور پر واجب ہے ‘ جو کفر کے سبب لازم ہے۔ اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے : یہ جان کی حفاظت اور دار کی سکونت کے بدل کے طور پر واجب ہوتا ہے۔ اس اختلاف کا فائدہ یہ ہے کہ جب ہم نے یہ کہا کہ یہ قتل کے بدلے واجب ہے پھر وہ اسلام لے آیا تو اس سے گزری ہوئی مدت کا جزیہ ساقط ہوجائے گا ‘ اگرچہ اس نے سال مکمل ہونے سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد اسلام قبول کیا۔ یہ امام مالک (رح) کے نزدیک ہے۔ اور امام شافعی (رح) کے نزدیک یہ ہے کہ یہ جزیہ ایک دین (قرض) ہے جو اس کے ذمہ پختہ ہوچکا ہے پس اسلام اسے ساقط نہیں کرسکتا جیسا کہ دار کی اجرت (ساقط نہیں ہوتی) اور بعض حنفیہ نے ہمارے قول کی مثل ہی کہا ہے۔ اور بعض نے یہ کہا ہے کہ جزیہ مدد و نصرت اور جہاد کے بدل کے طور پر واجب ہے۔ اور قاضی ابو زید نے اسے ہی اختیار کیا ہے اور ان کا گمان یہ ہے کہ یہ اس مسئلہ میں اللہ تعالیٰ کا سر اور راز ہے۔ اور امام مالک (رح) کا قول واضح ہے ‘ کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے :” کسی مسلمان پر کوئی جزیہ نہیں ہے “ (1) ۔ حضرت سفیان (رح) نے کہا : اس کا معنی ہے ذمی اپنے اوپر جزیہ واجب ہونے کے بعد جب اسلام لے آئے تو اس سے جزیہ باطل ہوجائے گا۔ اسے ترمذی اور ابودائود نے نقل کیا ہے۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے : حتی یعطوالجزیۃ عن یدوھم صغرون کیونکہ اسلام کے سبب یہ معنی زائل ہوجاتا ہے۔ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جب وہ اسلام قبول کرلیں تو وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا نہیں کریں گے اس حال میں کہ وہ مغلوب ہوں۔ اور امام شافعی (رح) اسلام کے بعداس وجہ اور سبب کی بنا پر نہیں لیتے جسے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ بیشک وہ یہ فرماتے ہیں کہ جزیہ ایک دین ہے ‘ جو اس پر سبب سابق کے ساتھ واجب ہوا ہے اور وہ سبب سکنیٰ (رہائش) یا قتل کے شر سے بچنا اور حفاظت ہے ‘ پس یہ تمام قرضوں کی مثل ہوگیا۔ مسئلہ نمبر 9: اگر امام وقت کسی شہر یا قلعہ کے باسیوں کے ساتھ معاہدہ کرے پھر وہ اپنا عہد توڑ دیں اور جزیہ وغیرہ میں سے جوان کے ذمہ لازم ہوتا ہے اسے ادا کرنے سے رک جائیں (انکار کردیں) اور وہ اسلام کے حکم سے بھی انکار کردیں بغیر اس کے کہ ان پر کوئی ظلم و زیادتی کی جائے اور امام وقت بھی ان پر جبر اور زیادتی کرنے والا نہ ہو تو مسلمانوں پر اپنے امام کی معیت میں ان کے ساتھ جنگ اور قتال کرنا واجب ہے ‘ پس اگر وہ قتال کریں اور مغلوب ہوجائیں تو ان کی بارے میں بال کی اسی طرح حکم ہوگا جو دار الحرب والوں کے بارے حکم ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اور ان کی عورتیں مال فے ‘ ہوگا اور ان میں خمس نہیں ہوگا۔ اور یہ ایک مذہب ہے۔ مسئلہ نمبر 10: اور اوہ چوریاں کرتے ہوئے اور ڈاکے ڈالتے ہوئے خروج کریں تو وہ لوٹ مار کرنے والے مسلمانوں کے قائم مقام ہوں گے جب کہ وہ جزیہ دینے سے انکار نہ کریں اور اگر وہ ظلم زیادتی کی شکایت کرتے ہوئے نکلیں تو ان کے معاملہ میں غور و کفر کیا جائے گا اور انہیں اصل ذمہ اور معاہدہ کی طرف لوٹا دیا جائے اور انہیں انکے ساتھ ظلم کرنے والوں سے انصاف دلایا جائے اور ان میں سے کسی کو غلام نہیں بنایا جائے گا اور روہ آزاد ہوں گے۔ اور اگر ان میں سے بعض نے معاہدہ توڑدیا تو جنہوں نے نہیں توڑ اوہ اپنے معاہد پر باقی رہیں گے اور انہیں کسی دوسرے کے توڑ نے کے سبب نہیں پکڑا جائے گا اور انہیں معاہدہ پر قائم رہنے کو اسی طرح پہچانا چائے گا کہ وہ توڑ نے والوں کے خلاف ہوں اور ان کا انکار کرتے ہوں۔ مسئلہ نمبر 11: الجزیۃ یہ فلعۃ کے وزن پر ہے۔ اور جزی یجذی سے ہے جس کوئی بدلہ دے اس احسان کا جو اس پر کیا گیا ہو (تو اس کو جزی یجزی بدلہ دینا کہا جاتا ہے) تو گویا انہوں نے جزیہ اس جزا اور بدلے کے طور پر دیا جو انہیں امن و سلامتی عطا گئی اور یہ لفظ القعدہ اور الجلسۃ کی طرح ہے۔ اور اس معنی میں شاعر کا قول بھی ہے : یزک اوثنی علیک وان من اثنی علیک بما فعلت کمن جزی مسئلہ نمبر 12: مسلم نے ہشام بن حکیم بن حزام سے روایت نقل کی ہے کہ وہ شام کے کسانوں میں سے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ انہیں دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا۔ اور ایک روایت میں ہے : اور ان کے سروں پر تیل انڈیلا گیا تھا۔ تو انہوں نے پوچھا : ان کا کیا معاملہ ہے ؟ تو بتانے والے نے کہا : انہیں جزیہ میں گرفتار کیا جارہا ہے۔ تو ہشام نے کہا : میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے :” بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں “۔ اور ایک روایت میں ہے ان دنوں ان کا امیر عمیز بن سعد فلسطین میں تھا ‘ پس وہ اس کے پاس گیا اور اس سے بات کی تو اس نے ان کے بارے حکم دیا اور انہیں چھوڑ دیا گیا۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : رہی ان کی سزا ! تو جب وہ جزیہ دذینے کی قدرت رکھنے کے باوجود جزیہ ادا کرنے سے انکار کردیں تو انہیں سزادینا جائز ہے ‘ لیکن جب ان کا عجز ظاہر ہو تو پھر انہیں سزا دینا حلال نہیں ‘ کیونکہ جو جزیہ دینے سے عاجز آجائیان سے جزیہ ساقط ہوجاتا ہے۔ اور امیر لوگوں کو فقراء کی طرف سے جزیہ ادا کرنے کا پابند نہیں بنایا جاسکتا۔ اور ابودائود نے صفوان بن سلیم سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے متعدد بیٹوں سے اور انہوں نے اپنے آباء سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جس نے کسی معاہدہ کرنے والے کے ساتھ ظلم کیا یا اسے نقصان پہنچایا یا اس کی طاقت سے بڑھ کر اسے کام کا مکلف بنایا یا اس کی رضا مندی کے بغیر اس سے کوئی چیز لے لی تو میں قیامت کے دن اس کا حجیج ہوں گا “ (1) ۔ (یعنی دلیل سے اس پر غالب آئوں گا) مسئلہ نمبر 13: قولہ تعالیٰ : عن ید حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ بذات خود جزیہ دے گا اس میں کسی کو نائب نہیں بنائے گا۔ الوالبختری نے سلمان سے روایت کیا ہے کہ اس نے کہا : اس کا معنی ہے انتہائی مذموم حالت میں دے گا۔ اور معمر نے حضرت قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : اس سے مراد ہے عن قھر ( مغلوب اور مجبور ہو کر دے گا) اور بعض نے کہا ہے : عن ید یعنی تمہاری طرف سے ان پر جو انعام سے اس کے عوض دے گا ‘ کیونکہ جب ان سے جزیہ لیا گیا تو تحقیق ان پر اس سے انعام کیا گیا۔ حضرت عکرمہ نے کہا ہے : وہ جزیہ دے گا اس حال میں کہ وہ کھڑا ہوگا اور لینے والا بیٹھا ہوا ہوگا۔ اور یہ حضرت سعید بن جبیر ؓ نے کہا ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : یہ قول باری تعالیٰ عن ید سے ثابت نہیں ہوتا بلکہ وھم صغرون سے ثابت ہوتا ہے۔ مسئلہ نمبر 14: ائمہ نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ علیہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا مانگنے والا ہے “۔ اور یہ بھی روایت ہے ‘ ” اور اوپر والا ہاتھ ہی عطا کرنے والا ہے “۔ پس آپ نے صدقہ میں دینے والے ہاتھ کو علیا (اوپر والا ہاتھض قرار دیا ہے اور جزیہ میں دینے والے ہاتھ کو سفلیٰ ( نیچے والا ہاتھ) قرار دیا ہے۔ اور لینے والے ہاتھ کو علیا قرار دیا ہے۔ اور یہ اس لیے ہے کیونکہ وہی بلند کرنے والا اور پست کرنے والا ہے ‘ جسے چاہتا ہے بلند کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے پست کردیتا ہے ‘ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ مسئلہ نمبر 15: حبیب بن ابی ثابت نے کہا ہے : ایک آدمی حضرت ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور عرض کی : بیشک خراج والی زمین سے اس کے باسی عاجز آرہے ہیں کیا میں اسے آباد کرسکتا ہوں اور اسے کاشت کر کے اس کا خراج ادا کرسکتا ہوں ؟ تو آپ نے فرمایا : نہیں۔ اور پھر ایک دوسرا آیا تو اس نے بھی آپ کو اسی طرح کہا ‘ تو آپ نے فرمایا : نہیں اور آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : قاتلوا الذین لایؤمنون باللہ ولا بالیوم الاخر ولا یحرمون ما حرم اللہ ورسولہ ولا یدینون دین الحق من الذین اوتوا الکتب حتی یعطوا الجزیۃ عن ید و ھم صغرون۔ کیا تم میں سے کوئی اس ذلت و حقارت کا قصد کرتا ہے جو ان میں سے کسی کی گردن میں ہے کہ وہ اسے اتار لے اور اسے اپنی گردن میں ڈال لے۔ اور کلیب بن وائل نے کہا ہے : میں نے حضرت ابن عمر ؓ کو کہا : میں نے زمین خریدی ہے۔ انہوں نے فرمایا : خرید نا اچھی شے ہے۔ میں نے کہا : پس میں زمین کی ہر جریب کے بدلے ایک درہم اور ایک قفیز اناج دوں گا۔ تو آپ نے فرمایا : تو اپنی گردن میں ذلت اور حقارت کو نہ ڈال۔ اور میمون بن مہران نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : میرے لیے یہ باعث مسرت نہیں کہ میرے لیے ساری زمین پانچ درہم جزیہ کے بدلے ہو میں اس میں اپنے نفس کے لیے ذلت و رسوائی کا اقرار کرتا ہوں۔
Ayah 9:30

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور یہود کہتے ہیں کہ عزیر خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح (علیہ السلام) خدا کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں۔ پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے تھے۔ یہ بھی انہیں کی ریس کرنے لگے ہیں۔ خدا انکو ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں ؟

وقالت الیھود عزیر ن ابن اللہ وقالت النصری المسیح ابن اللہ ط ذلک قولھم بافواھھم ج یضاھئون قول الذین کفروا من قبل ط قتلھم اللہ ج انی یؤ فکون۔ ” اور کہا یہود نے کہ عزیر اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہے اور کہا نصرانیوں نے کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ ان کی (بےسروپا) بات ہے ان کے مونہوں نے سے نکلی ہوئی ‘ نقل اتار رہے ہیں ان لوگوں کے قول کی جنہوں نے کفر کیا پہلے ‘ ہلاک کرے انہیں اللہ تعالیٰ ‘ کدھر بھٹکے چلے جارہے ہیں “۔ اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: عاصم اور کسائی نے عزیر ابن اللہ عزیر کو تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اس کا معنی ہے کہ اس بنا پر ابن ‘ عزیر مبتدا کی خبر ہے اور عزیر منصرف ہے چاہے عجمی ہو یاعربی ہو۔ ابن کثیر ‘ نافع ‘ ابو عمر و اور ابن عامر نے عزیز ابن اجتماع ساکنین کی وجہ سے تنوین کو ترک کرکے پڑھا ہے۔ اور اسی سے ان کی قرأت ہے جنہوں نے قل ھواللہ احمد۔ اللہ الصمد۔ (الاخلاص) پڑھا ہے (1) ۔ ابو علی نے کہا ہے : شعر میں ترک تنوین کا استعمال زیادہ ہے۔ اور علامہ طبری (رح) نے اس بارے میں یہ شعر بیان کیے ہیں : لتجدنی بلامیر برا و بالتقناۃ مدعا مکرا اذا غطیف السلی فرا (2) مسئلہ نمبر 2: قولہ تعالیٰ : وقالت الیھود یہ لفظ بظاہر عام ہے لیکن اس کا معنی خاص ہے ‘ کیونکہ تمام یہودیوں نے اس طرح نہیں کہا۔ اور کہا گیا ہے کہ جو بیان کیا گیا ہے یہودیوں میں سے اس کے قائل سلام بن مشکم ‘ نعمان بن ابی أوفی ‘ شاس بن قیس اور مالک بن صیف تھے۔ انہوں نے یہ قول حضور نبی مکرم ﷺ کو کہا تھا۔ نقاش نے بیان کیا ہے : کوئی یہودی باقی نہیں رہتا جو یہ کہتا ہو ‘ بلکہ وہ سب ہلاک ہوگئے۔ پس جب ایک نے یہ کہا پھر وہ اس طرف متوجہ ہوا کہ قول کی برائی اور نقصان پوری جماعت کو لازم ہوگی۔ اس لیے کہ ان میں کہنے والے کی شہرت ہے۔ اور شریف اور بیدار مغز لوگوں کے اقوال ہمیشہ لوگوں میں مشہور ہوتے ہیں اور ان سے استدلال کیا جاتا ہے۔ پس یہاں یہ صحیح ہے کہ جماعت اپنے قائد اور شریف فرد کا قول کرنے لگے۔ واللہ اعلم روایت کیا گیا ہے کہ اس قول کا سبب یہ ہے کہ یہودیوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کو قتل کردیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان سے تورات کو اٹھا لیا اور ان کے دلوں سے اسے محو کردیا ‘ پھر حضرت عزیر (علیہ السلام) زمین میں تسبیح بیان کرتے ہوئے نکلے ‘ تو ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور پوچھا :” تم کہاں جارہے ہو ؟ “۔ انہوں نے کہا : میں علم کی طلب میں ہوں ‘ تو آپ نے انہیں پوری تورات سکھا دی پس حضرت عزیز (علیہ السلام) تورات لے کر بنی اسرائیل کی طرف آئے اور انہیں اس کی تعلیم دی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو تورات حفظ کرادی اور یہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے عزت افزائی ہے ‘ تو انہوں نے بنی اسرائیل کو کہا : اللہ تعالیٰ نے مجھے تورات حفظ کرادی ہے ‘ پس انہوں نے اپنی طرف سے اس کی تدریس شروع کردی ‘ حالانکہ تورات دفن کی جا چکی تھی ‘ ان کے علماء نے اس وقت اسے دفن کردیا تھا جب انہیں طرح طرح کے فتنے ‘ جلاوطنی اور بیماری جیسی چیزیں پہنچی جن میں وہ مبتلا ہوئے اور بخت نصر نے انہیں قتل کیا۔ پھر دفن شدہ تو رات پالی گئی وہ بالکل اس کی مثل تھی جو عزیر (علیہ السلام) پڑھا رہے تھے ‘ تو اس وقت وہ گمراہ ہوگئے اور وہ کہنے لگے : بیشک یہ حضرت عزیر (علیہ السلام) کے لیے تیار نہیں کی گئی مگر تبھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں ‘ اسے علامہ طبری نے بیان کیا ہے۔ اور عیسائیوں کے اس قول ” کہ مسیح ابن اللہ ہیں “ کا ظاہر یہ ہے کہ انہوں نے اس سے بنوت النسل کا ارادہ کیا ہے ‘ جیسا کہ عربوں نے ملائل کہ کے بارے میں کہا۔ اسی طرح حضرت ضحاک اور طبری وغیرہ کا قول تقاضا کرتا ہے۔ اور یہ انتہائی شنیع اور براکفر ہے۔ ابو المعالی نے کہا ہے : اور کہا جاتا ہے بیشک ان میں سے بعض نبوت شفقت و رحمت کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ اور یہ معنی بھی درست نہیں ہے کہ اس پر بنوۃ (بیٹا ہونے) کا اطلاق کیا جائے اور یہ کفر ہے۔ (1) مسئلہ نمبر 3: علامہ ابن عربی نے کہا ہے : اس میں ہمارے رب تبارک و تعالیٰ کے قول سے اس پر دلیل موجود ہے کہ جو کوئی کسی دوسرے کے ایسے کفر کے بارے خبردے جس سے ابتدا کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ‘ اس پر کوئی حرج نہیں ‘ کیونکہ وہ اس کا انکار کرتے ہوئے اور اس کا رد کرنے کے لیے اس کے بارے گفتگو کررہا ہے۔ اور اگر ہمارا رب چاہے تو کوئی اس کی بارے کلام نہ کرے۔ تو جب اس کے بارے زبانیں کھولنے کی قدرت دے دی ہے تو پھر اس کے بارے خبر دینے کی بھی اجازت ہے ‘ اس معنی میں کہ دل اور زبان اس کا انکار کرتے ہوں۔ اور دلیل وبرہان کے ساتھ اس کا رد مقصود ہو۔ (2) مسئلہ نمبر 4: قولہ تعالیٰ : ذلک قولھم بافواھھم کہا گیا ہے : اس کا معنی تاکید ہے ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات میں ہے : یکتبون الکتب بایدیھم (البقرہ :79) ولا طئر یطیر بجناحیہ (الانعام :38) فاذا نفخ فی الصورنفخۃ واحدۃ۔ (الحاقۃ) اور اس کی امثلہ کثیر ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے کہ جب یہ قول ہی جھوٹا ہے نہ اس میں کوئی بیان ہے اور نہ کوئی دلیل ‘ تو یقینا یہ فقط ” منہ “ کی بات ہے ‘ ایسا دعویٰ ہے جس کے تحت کوئی صحیح معنی نہیں ہے ‘ کیونکہ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتاتعالیٰ نے کسی کو بیوی نہیں بنایا تو پھر وہ کیونکر گمان کرسکتے ہیں کہ اس کا کوئی بیٹا ہے ‘ تو یہ کذب ہے اور فقط زبان کا قول ہے ‘ بخلاف ان اقوال صحیحہ کے جنہیں دلائل مضبوط اور پختہ کرتے ہیں اور ان پر دلائل قائم ہوتے ہیں۔ اہل معانی نے کہا ہے بیشک اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے جہاں بھی قول کو اطواہ (مونہوں) اور السن (زبان) کے ذکر کے ساتھ ملا کر ذکر کیا ہے تو وہاں یقیناً مراد قول زور (جھوٹا قول) ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : یقولون بافواھھم مالیس فی قلوبھم (آل عمران :167) (کہتے ہیں اپنے منہ سے (ایسی باتیں) جو نہیں ہیں ان کے دلوں میں) اور (الکہف) (کتنی بڑی ہے وہ بات جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے وہ نہیں کہتے مگر (سرتاسر) جھوٹ) اور (الفتح :11) (اے حبیب ! ) یہ اپنی زبانوں سے ایسی باتیں کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں) مسئلہ نمبر 5: قولہ تعالیٰ : یضاھئون قول الذین کفروا من قبول ‘ یضاھئون وہ مشابہت اختیار کرتے ہیں وہ مشابہت اختیار کرتے ہیں (نقل اتارتے ہیں) اور اسی معنی میں عربوں کا قول ہے : امرأ ۃ ضھیا یہ اس عورت کو کہتے ہیں جسے حیض نہ آتا ہو یا جس کے پستان نہ ہوں ‘ گویا کہ وہ مردوں کے مشابہ ہے۔ اور قول الذین کفروا کے بارے میں علماء کے تین اقوال ہیں : پہلا بت پرستوں کا قول ہے : اللات والعزی وئاۃ الثالثہ الاخری (لات و چزی کے بارے میں اور منات کے بارے میں جو تیسری ہے) اور دوسرا قول ‘ کافروں کا قول ہے : ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں (الملائلکۃ بنات اللہ) اور تیسرا ان کے اسلاف کا قول ہے ‘ پس تم انہوں نے باطل میں ان کی تقلید کی اور کفر میں ان کی اتباع اور پیروی کی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے اپنے اس قول کے ساتھ خبردی ہے : انا وجدنآ ابآء نا علی امۃ (الزخرف :23) ( کہ ہم نے پایا اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر) (1) مسئلہ نمبر 6: علماء کا ضھیا کے بارے اختلاف ہے کہ کیا اس میں مد ہوگی یا نہیں ؟ پس انب ولاء نے کہا ہے : امرأ ۃ ضھیا اور یہ وہ عورت ہے جسے حیض نہ آئے۔ یہ مہموز ہے اور بغیر مد کے ہے۔ اور بعض اسے مد کے ساتھ پڑھتے ہیں اور وہ سیبو یہ ہیں پس وہ اسے فعلاء کے وزن پر مد کے ساتھ بناتے ہیں۔ اور اس میں ہمزہ زائد ہے ‘ کیونکہ وہ کہتے ہیں : نساء ضھی پس وہ ہمزہ کو حذف کردیتے ہیں۔ ابوالحسن نے بیان کیا ہے کہ نجیرمی نے مجھے کہا : ضھیأ ۃ یعنی مد اور ہاء کے ساتھ۔ اس نے تانیث کی دو علامتیں جمع کردیں۔ اس نے اسے ابو عمرو شیبانی سے نو اور میں بیان کیا ہے۔ اور شعر کہا ہے : ضھیأۃ او عاقر جماد ابن عطیہ نے کہا ہے : جنہوں نے کہا ہے کہ یضاھئون عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے : امرأۃ ضھیاء تو ان کا قول غلط ہے (2) ۔ یہ ابو علی نے کہا ہے ‘ کیونکہ ضاھأ میں ہمزہ اصلی ہے اور ضھیاء میں ہمزہ زائدہ ہے جیسا کہ حمرآء میں زائد ہے۔ مسئلہ 7: قولہ تعالیٰ : قتلھم اللہ ج انی یؤفکون یعنی اللہ تعالیٰ ان پر لعنت بھیجے ‘ مراد یہود و نصاریٰ ہیں ‘ کیونکہ ملعون مقتول کی مثل ہی ہوتا ہے۔ ان جریج نے کہا ہے : قتلھم اللہ یہ تعجب کے معنی میں ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : قرآن کریم میں قتل سے مراد لعن (لعنت کرنا) ہی ہے۔ اور اسی معنی میں ابان بن تغلب کا قول ہے : قاتلھا اللہ تلحانی وقد علمت انی لنفس اء فسادی و اء صلاحی نقاش نے بیان کیا ہے کہ قاتل اللہ کی اصل تو دعا ہے ‘ پھر ان کا استعمال کثیر ہوگیا یہاں تک کہ انہوں نے اسے خیرو شر میں اظہار تعجب کے لیے کہنے لگے اور اب وہ اس سے دعا کا ارادہ نہیں کرتے۔ اور اصمعی نے شعر کہا ہے : یاقاتل اللہ لیلی کیف تعجبنی وأخبر الناس أنی لا أ بالیھا اس میں مراد تعجب کا معنی ہی ہے۔
Ayah 9:31

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ اور مسیح ابن مریم کو اللہ کے سوا خدا بنا لیا حالانکہ ان کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اس کے سواء کوئی معبود نہیں اور وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے۔

قولہ تعالیٰ : اتخذوٓا احبار ھم ور ھبا نھم اربابا من دون اللہ والمسیح ابن مریم احبار ‘ حبر کی جمع ہے اور اس سے مراد وہ ہے جو اچھا قول کرتا ہو ‘ اسے منظم کرسکتا ہو اور اپنے حسن بیان کے ساتھ اسے انتہائی مضبوط اور پختہ بنا سکتا ہو۔ اور اسی سے ثوب محبر ہے یعنی ایسا کپڑا جو حسین خو بصورتی کو جامع ہو (1) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الاحبار کی واح حبر حاء کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ اور مفسرین حا پر فتحہ اور اس پر دلیل یہ ہے کہ انہوں نے کہا ہے (مداد) حبر مراد عالم کی سیاہی ہے ‘ پھر استعمال کثیر ہوگیا یہاں تک کہ انہوں نے مدد (سیاہی) کو ہی حبر (سیاہی) کہہ دیا۔ فراء نے کہا ہے : اس میں کسرہ اور فتحہ کی دونوں نعتیں ہیں۔ اور ابن السکیت نے کہا ہے : حبر کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی سیاہی ہے اور حبر فتحہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی عالم ہے۔ اور الرھبان ‘ راھب کی مع ہے۔ یہ رھبۃ سے ماخوذ ہے ‘ مراد وہ آدمی ہے جسے اللہ تعالیٰ کا خوف اس پر برانگیخۃ کرے کہ وہ نبی کو اس کے لیے خالص کردے نہ کہ لوگوں کے لیے۔ اور اپنا وقت اسی کے لیے ‘ اپنا عمل اس کی معیت میں اور اپنا انس اسی کے ساتھ بنائے۔ بولہ تعالیٰ : اربابامن دون اللہ اہل معانی نے کہا ہے : انہوں نے اپنے پادریوں اور راہبوں کو پروردگار کی طرح بنا لیا تھا اس طرح کہ انہوں نے ہر شے میں ان کی اطاعت و پیروی کی۔ اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : قال انفخوا ط حتی اذا جعلہ نارا (الکہف :96) یعنی آگ کی طرح بنا دیا۔ حضرت عبد اللہ بن مبارک (رح) نے کہا ہے : وھل أفسد الدین الا الملوک وأحبار سوء بدھہا نھا کیا بادشاہوں ‘ علماء سوء اور راہبوں کے سوا کسی نے دین کو فاسد کیا ؟ ( یعنی دین میں فساد انہوں نے ہی برپا کیا) اعمش اور سفیان نے حبیب بن ابی ثابت سے اور انہوں نے ابو الخبری سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : حضرت حذیفہ ؓ سے ارشاد باری تعالیٰ : اتخذوٓا احبار ھم ورھبا نھم اربابا من دون اللہ کے بارے پوچھا گیا کیا انہوں نے ان کی عبادت اور پرستش کی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : نہیں ‘ لیکن انہوں نے ان کے لیے حرام کو حلال قرار دیا تو انہوں نے اسے حلال سمجھ لیا اور انہوں نے ان پر حلال کو حرام قرار دیا تو انہوں نے اسے حرام ہی قرار دیا۔ اور ترمذی میں حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے فرمایا : میں حضور نبی مکرم ﷺ کی بار گاہ میں حاضر ہوا اور میرے گلے میں سونے صلیب تھی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” اے عدی ! یہ کیا ہے ؟ اس بت کو اپنے سے پھینک دے “ اور میں نے آپ کو سورت براءت میں یہ پڑھتے ہوئے سنا : اتخذوٓا احبار ھم ورھبا نھم اربابا من دون اللہ والمسیح ابن مریم پھر فرمایا :” خبر دار سنو بیشک انہوں نے ان کی عباد تتو نہیں کی لیکن وہ جب کسی شے کو ان کے لیے حلال قرار دیتے تھے تو وہ اسے حلال سمجھتے تھے اور جب وہ ان پر کوئی شے حرام قراردیتے تھے تو وہ اسے حرام سمجھتے تھے “۔ فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ‘ عبدالسلام بن حرب کی حدیث کے سوا اس کی کوئی پہچان نہیں۔ اور غطیف بن اعین حدیث میں معروف نہیں ہے۔ (1) قولہ تعالیٰ : والمسیح ابن مریم اس کے اشتقاق کے بارے میں کلام سورة آل عمران میں گزر چکی ہے۔ اور مسیح سے مراد وہ پسینہ ہے جو پیشانی سے بہتا ہے ‘ بعض متاخرین نے بہت خوب کہا ہے : افرح فسوف تأ لف الأ حزانا اذا شھدت الحشر والمیزانا توخ وش رہ پھر تو غموں سے مرکب ہوگا جب تو میدان حشر اور میزان کے پاس حاضر ہوگا۔ وسال من جبینک المسیح کأئنہ جداول تسیح اور تیری پیشانی سے پسینہ بہے گا گو یا کہ نالیاں بہہ رہی ہیں۔ اور مسیح کی نسبت اپنی ماں مریم کی طرف ‘ اس کا معنی و مفہوم سورة النساء میں گزر چکا ہے۔
Ayah 9:32

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو پورا کئے بغیر رہنے کا نہیں اگرچہ کافروں کو برا ہی لگے۔

قولہ تعالیٰ : یریدون ان یطفئوا نور اللہ مراد اللہ تعالیٰ کی توحید پر اس کے دلائل اور حجتیں ہیں۔ تو اس میں براہین و دلائل کو نور کے قائم ومقام رکھا ہے ‘ کیونکہ ان میں بیان اور وضاحت ہوتی ہے۔ اور یہ بھی کہا ہے کہ اس کا معنی نور اسلام ہے ‘ یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو اپنی تکذیب کے ساتھ بجھا دیں (ختم کردیں) با فواھھم یہ اصل کی بنا پر فوہ کی جمع ہے ‘ کیونکہ فم میں اصل فوہ ہے ‘ جیسے حوض اور احواض ہے۔ ویابی اللہ الا ان یتم نورہ کہا جاتا ہے : الا کیسے داخل کردیا گیا حالانکہ کلام میں حرف نفی نہیں ہے اور ضربت الا زیدا کہنا جائز نہیں ہے۔ تو فراء کا خیال یہ ہے کہ الا اس لیے داخل ہوا ہے کیونکہ کلام میں انکار کی ایک طرف (قسم) موجود ہے۔ زجاج نے کہا : انکار اور اثبات دونون ذوی اطراف نہیں ہیں۔ اور ادوات نفی : ما ‘ لا ‘ ان اور لیس ہیں۔ ان کی کوئی اطراف نہیں ہیں جن کے ساتھ کلام کی جاتی ہو اور اگر معاملہ اس طرح ہے جیسے انہوں نے ارادہ کیا ہے تو پھر کرھت الازیدا کہنا جائز ہے ‘ لیکن جواب یہ ہے کہ عرب اسے ابی کے ساتھ حذف کردیتے ہیں۔ اور تقدیر کلام ہے : ویأ بی اللہ کل شیٔ الا أن یتم نورہ ( اور اللہ تعالیٰ ہر شے کا انکار فرماتا ہے مگر یہ کہ وہ اپنے نور کو کمال تک پہنچا دے) اور علی بن سلیمان نے کہا ہے : بلاشبہ ابی میں ایسا جائز ہے کیونکہ اس کا معنی روکنا یا رکنا ہے ‘ پس یہ نفی کے مشابہ ہی ہے۔ اور یہ قول اچھا ہے ‘ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : وھل لی ام غیرھا ان ترکتھا أبی اللہ الا ان اکون لھا ابنما کیا میرے لیے اس کے سوا کوئی مال ہے اگر میں اسے چھوڑدوں ‘ اللہ انکار فرماتا ہے مگر یہ کہ میں اس کا بیٹا ہوں۔
Ayah 9:33

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر ﷺ کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس (دین) کو (دنیا کے) تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں۔

قولہ تعالیٰ : ھوالذی ارسل رسولہ مراد حضور نبی رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات گرای ہے۔ بالھدی یعنی فرقان (قرآن مجیدض کے ساتھ۔ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ یعنی دلائل اور براہین کے ساتھ ( تمام دینوں پر اس دین حق کو غالب کردے) تحقیق اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین کے شرائع (اور احکامض پر غالب کردیا یہاں تک کہ آپ پر ان میں سے کوئی شے مخفی نہ رہی یہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : لیظھرہ یعنی تاکہ وہ دین اسلام کو تمام دینوں پر غالب کردے۔ حضرت ابوہریرہ اور حضرت ضحاک ؓ نے فرمایا : یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول کے وقت ہوگا۔ اور سدی (رح) نے کہا ہے : یہ امام مہدی کے خروج کے وقت ہوگا ‘ اس وقت کوئی باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ وہ اسلام میں داخل ہوجائے گا یا پھر جزیہ ادا کرے گا (1) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مہدی فقط حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہی ہیں ‘ لیکن یہ صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ اس بارے میں اخبار صحیحہ حد تو اترتک پہنچی ہوئی ہیں کہ امام مہدی (علیہ السلام) حضور نبی رحمت ﷺ کی عترت میں سے ہوں گے (2) لہٰذا انہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر محمول کرنا جائز نہیں ہے۔ اور وہ حدیث جو اس بارے میں وارد ہے کہ ” مہدی نہیں ہیں مگر عیسیٰ (علیہ السلام) “ وہ صحیح نہیں ہے۔ امام بیہقی (رح) نے ” کتاب البعث و النشور “ میں کہا ہے : کیونکہ اس کے راوی محمد بن خالد جندی ہیں اور وہ مجہول ہیں ‘ وہ ابان بن ابی عیاش سے روایت کرتے ہیں اور وہ متروک راوی ہیں اور وہ حسن اور وہ حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں اور وہ منقطع ہے۔ اور وہ احادیث جو اس سے قبل حضرت امام مہدی (علیہ السلام) کے ظہور کے بارے بیان ہوئی ہیں او ان میں یہ بیان ہے کہ امام مہدی (علیہ السلام) رسول اللہ کی عترت میں سے ہوں گے وہ اسناد کے اعتبار سے اصح ہیں۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : تحقیق ہم نے اسے اپنی کتاب ” کتاب التذکرہ “ میں خوب تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اور ہم نے امام مہدی (علیہ السلام) کے بارے میں روایات مکمل طور پر ذکر کی ہیں۔ والحمد للہ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لیظھرہ علی الدین کلہ سے جزیرہ عرب میں غلبہ مراد لیا ہے۔ تحقیق اس نے ایسا کردیا۔