Ayah 9:11قولہ تعالیٰ : فان تابوا یعنی اگر وہ شرک سے توبہ کرلیں اور احکام اسلام کو لازم پکڑ لیں۔ فاخوانکم توہ تہارے بھائی ہیں۔ فی الدین (دین میں) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس آیت نے اہل قبلہ کے خون حرام کردیئے ہیں۔ اور یہ معنہ پلے گزر چکا ہے۔ اور ابن زید نے کہا ہے :ـ اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکوٰۃ دونوں فرض کی ہیں اور اس سے منع کیا ہے کہ کوئی ان دونوں کے درمیان فرق کرے اور اس کا بھی انکار کیا ہے کہ وہ زکوٰۃ کے بغیر نماز کو قبول کرے۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ نے بیان کیا ہے : تمہیں نماز اور زکوٰۃ کے بارے میں حکم دیا گیا ہے پس جس نے زکوٰۃ نہ کی تو اس کی نماز بھی نہیں۔ اور حدیث میں ہے کہ حضور بنی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” جس نے تین چیزون کے درمیان فرق کیا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے اور اپنی رحمت رکے درمیان فرق کردے گا، جس نے کہا : میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت نہیں کرتا “۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اطیعو اللہ وا طیعو الرسول (المائد 92) اور جس نے کہا : میں نماز قائم کروں گا اور زکوٰ ۃ نہیں دوں گا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : واقموا الصلوۃ وا توا الزکوۃ (البقرہ :43) اور جس نے اللہ تعالیٰ کے شکر اور اپنے والدین کے شکر کے درمیان فرق کیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ان اشکرنی ولرالدیک (لقمان :14) (اس لیے ہم نے حکم دیا) کہ شکر ادا کرو میرا اور اپنے ماں باپ کا)
قولہ تعالیٰ : ونفصل الایت یعنی ہم اپنی آیات کھلول کر بیان کرتے ہیں۔ لقوم یعلمون اللہ تعالیٰ نے ذکر میں اہل علم کو خاص کیا ہے کیونکہ وہ ان سے نفع حاصل کرسکتے ہیں۔ واللہ اعلم
Ayah 9:12اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ وان نکثوا، النکث کا معنی توڑنا ہے اور اصل میں یہ ہر اس شے کے لیے ہے جسے پہلے بٹاجائے اور پھر کھول دیا جائے ل اور یہ قسم اور معاہدوں میں مجاز استعمال ہوتا ہے۔ شاعر کا قول ہے :
وان حلفت لا ینقض النای عھد ھا فلیس لمخضوب البنان یمین
اس میں یمین بمعنی عھد (معاہدہ) ہے اور قولہ : وطعنو افی دینکم اور تمہارے دین میں طعن کریں معاہدے توڑ کر، جنگ کے ساتھ اور دیگر ایسے امور کے ساتھ جو مشرک کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : طعنہ بالرمح (اس نیز کے ساتھ کچوکا لگایا) اور طعن بالقول اسیء فیہ، یطعن ( اس نے برے قول کے ساتھ طعنہ دیا) اس میں وہ طعنہ زنی کرتا ہے، دونوں مثالوں میں یہ لفظ عین کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یطعن بالرمح (عین کے ضمہ کے ساتھ ہے) اور یطعن بالقول (یہ عین کے فتحہ کے ساتھ ہے) اور یہ یہاں استعارۃ استعمال ہوا ہے۔ اور اسی سے حضور علیہ الصلوٰۃ السلام کا یہ قول ہے جس وقت آپ ﷺ نے حضرت اسامہ ؓ کو امیر لشکر بنایا۔ ” اگر تم ان کی امارت پر طعن کرو گے تو تحقیق اس سے پہلے تم نے ان کے باپ امارت پر طعن کیا اور اللہ کی قسم بلا شبہ وہ امارت کے لیے انتہائی موزوں اور اہل تھے “ (1) اسے صحیح نے نقل کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اس آیات سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ دین میں طعن کرنے والے ہر آدمی کو قتل کرنا ہے واجب ہے، کیونکہ وہ کافر ہے۔ اور طعن کا معنی یہ ہے کہ اس طرف ایسی شے کی نسبت کرنا جو اس کے لائق اور مناسب نہ ہو یا کسی امر دینی کو حقیر سمجھتے ہوئے اس پر اعتراض کرنا، جب کہ اس کے اصول کا صحیح ہونا اور اس کے فروع کا درست ہونا دلیل قطعی سے ثابت ہو۔ ابن منذر نے کہا ہے : عام اہل علم نے اس پر اجماع کیا ہے کہ جس نے حضور نبی مکرم ﷺ کو سب شتم کی اس کی سزا قتل ہے۔ اور جنہوں نے کہ کہا ہے ان میں اسے امام مالک، لیث، احمد اور اسحاق ہیں اور یہی امام شافعی (رح) کا مذہب اور حضرت نعمان (امام ابوحنیفہ (رح)) سے بیان ہوا ہے ہے کہ انہوں نے کہا : اہل ذمہ میں سے جس نے حضور نبی مکرم ﷺ کو گالی گلوچ دی اسے قتل نہیں کیا جائے گا، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
اور روایت ہے کہ حضرت علی ؓ کی مجلس میں کسی آدمی نے کہا : کعب بن اشرف کو قتل نہیں کیا گیا مگر دھوکے کے ساتھ۔ تو حضرت علی ؓ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ اور ایک دوسرے آدمی نے حضرت امیر معاویہ ؓ کی مجلس میں کیا تو حضرت محمد بن مسلمہ اٹھے اور کہا : کیا آپ کی مجلس میں یہ کہا جارہا ہے اور آپ خاموش ہیں ؟ قسم بخدا ! میں آپ کو اس چھت کے نیچے ہمیشہ نہیں رہنے دوں گا۔ اور اگر مجھے اس کے ساتھ علیحدہ موقع ملا تو میں اسے ضرور قتل کروں گا۔ ہمارے علماء نے کہا : اسے قتل کیا جائے گا اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا اگر اس نے حضور نبی مکرم ﷺ کی طرف غدر کی نسبت کی۔ اور یہی وہ مفہوم ہے جو حضرت علی اور حضرت محمد بن مسلمہ ؓ اس کہنے والے کے قول سے سمجھے کیونکہ یہ زندقہ ہے۔ اور اگر اس نے اس کے قتل کی نسبت مباشرین (عملاً قتل کرنے والے) کی طرف کی ہے اس حیثیت سے کہ وہ کہتا ہے : بیشک انہوں نے اسے امن اور اعتماد یا پھر اسے توڑ دیا تو یقینا یہ نسبت کذب محض ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ان کی گفتگو میں کوئی ایسی شے نہیں ہے جو اس پر حضور نبی اکرم ﷺ کی طرف کرنا لازم آتا ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے ان کے فعل کو درست قرار دیا اور اس کے ساتھ راضی ہوئے تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ آپ غدر کے ساتھ راضٰ ہوئے اور جس نے صراحتہ ایسا کیا وہ قتل کردیا جائے گا ان کی طرف غدر کی نسبت کرنے سے اس کی نسبت حضور علیہ الصلوٰۃ السلام کی طرف لازم نہیں آتی پس وہ قتل نہیں کیا جائے گا۔۔ اور جب ہم کہتے ہیں : اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ تو وہاں اس قاتل کو قابل عبرت سزا دینا، اسے جیل میں قید کرنے کی سزا دینا، شدید مارنا اور بہت زیادہ ذلیل و رسوا کرنا ضروری ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ اور ہاذی تو جب وہ دین کے بارے میں طعن کرے تو اس کا عہد توڑ دیا جائے گا یہی امام مالک (رح) کا مشہور مذہب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان نکتمو ایمانھم الآ یہ پس اللہ تعالیٰ نے انہیں قتل کرنے اور ان کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا ہے (1) ۔ اور یہی امام شافعی (رح) کا مذہب ہے۔ اور امام ابوحنیفہ (رح) نے اس بارے میں کہا ہے : بیشک اس سے توبہ کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا اور بیشک صرف طعن کے ساتھ معاہدہ نہیں ٹوٹتا مگر جب عملاً ٹوٹنے کا وجود پایا جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دو شرطوں کے ساتھ انہیں قتل کرنے کا حکم دیا ہے، ان میں سے ایک ہے ان کا معاہدہ کو توڑنا اور دوسری ہے ان کا دین مع طعن کرنا۔ ہم نے کہا ہے : اگر انہوں نے ایسا عمل کیا جو معاہدہ کے خلاف ہو تو ان کا عہد ٹوت جائے گا اور دو امروں کا ذکر اس کا تقاضا نہیں کرتا کہ اس کا قتل ان دونون کے پائے جانے پر موقوف ہے، کیونکہ معاہدہ توڑنا ہی انفرادی طور پر ان کے لیے قتل کو عقلاً و شرعاً کردے گا۔ اور رہمارے نزدیک تقدیر آیت اس طرح ہے : فان نکثوا عھد ھم ھل قتالھم وان لم ینکثوا بل طعنوا فی الدین مع الوفاء بالعھد ھل قتالھم (پس اگر وہ اپنا معاہدہ توڑیں بلکہ عہد کو پورا کرنے کے باوجود دین میں طعن کریں (تب بھی) ان کے ساتھ جنگ کرنا حلال ہے) تحقیق روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ کے سامنے ایک ذمی کو پیش کیا گیا جس نے ایک جانور کو کیل (یا نوک دار لکڑی) چبھویا اس پر ایک مسلمان عورت سوار تھی پس سوارمی اچھلی اور اس نے اسے گراویا اور اس کی کچھ شرمگاہ ننگی ہوگئی۔ تو آپ نے اسی جگہ اسے سولی دینے کا حکم دیا (2) ۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ جب ذمی نے جنگ میں حصہ لیا تو اس کا معاہدہ توڑ دیا جائے گا اور اس کا مال اور اس کی اولاد کے ساتھ مال فے بن جائیں گے۔ اور محمد بن مسلمہ ؓ نے کہا ہے ـ:ـ اس کے سبب اس کی اولاد کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اس اکیلے نیے عہد توڑا ہے۔ اور فرمایا : جہاں تک اس کے مال کا تعلق ہے وہ تو لے لیا جائے گا۔ اور یہ ایسا تعارض ہے جو حضرت محمد بن مسلمہ ؓ کے منصب کے ساتھ مشابہت نہیں رکھتا، کیونکہ اس کا معاہدہ تو وہی ہے جس نے اس کے مال اور اس کی اولاد کو محفوظ کیا ہے۔ تو جب اس سے مال نکل گیا تو پھر اس سے اس کی اولاد بھی نکل جائے گی (یعنی دونوں میں سے کوئی شے بھی محفوظ نہ ہوگی)
اور اشہب نے کہا ہے : جب ذمی نے اپنا عہد توڑ دیا تو وہ اپنے عہد پر ہی رہے گا اور کبھی بھی غلامی کی طرف نہیں لوٹے گا۔ اور یہ تعجب خیز ہے کہ، گویا کہ اس نے عہد کو معنی اور محسوساً دیکھ لیا۔ بلا شبہ اقتصاء عہد کا حکم برائے نظرو فکر ہے اور مسلمانوں نے اس کے لیے التزام کیا ہے تو جب اس نے عہد توڑ دیا تو وہ دیگر تمام عقوہ کی طرح ٹوٹ گیا۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ اکژ علماء اس پر متفق ہیں کہ اہل ذمہ میں سے جس نے حضور نبی مکرم ﷺ کا گالیاں دیں آپ سے تعرض کیا یا آپ ﷺ کی قدرو منزلت یا آپ کے وصف کی کسی ایسی وجہ کے بغیر حقیر سمجھا جس سے وہ کافر ہوجائے تو اسے قتل کردیا جائے گا، کیونکہ ہم نے اس پر اس سے عقد ذمہ یا معاہدہ نہیں کیا۔ مگر امام اعظم ابو حنیفہ، ثوری اور اہل کوفہ میں سے ان دونوں کے متبعین رحمتہ اللہ علیہم نے کہا ہے کہ وہ قتل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ وہ جس نظریہ پر ہے وہ شرک سے بڑھ کر نہیں ہے لیکن اسے ادب ضرور سکھایا جائے گا اور اسے تعزیز لگائی جائے گی۔ اور اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : وان نکمو (اور اگر وہ توڑدیں) الآیہ اور بعض نے اس پر اس سے استدلال کیا ہے کہ آپ ﷺ نے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے بارے میں حکم ارشاد فرمایا حالانکہ اس کے ساتھ معاہدہ کیا گیا تھا۔ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ اپنے اصحاب میں سے ایک آدمی پر غصے اور ناراض ہوئے تو حضرت ابوہریرہ ؓ نے عرض کی : کیا میں اس کی گردن نہ ماردوں ؟ تو آپ ؓ نے فرمایاــ: رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کے لیے اس کی اجازت نہیں (1) ۔ اور دار قطنی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک اندھا آدمی تھا اس کی ایک ام دلد (لونڈی) تھی، اس کے موتیوں کی مثل اس سے دوبیٹے تھے۔ پس وہ حضور نبی مکرم ﷺ کو گالیاں دیتی تھی اور وہ اس طرح کا فعل کرتی رہتی تھی وہ اسے منع کرتا تھا لیکن وہ باز نہ آئی اور وہ اسے چھڑکتا اور ڈانٹتا تھا لیکن وہ اس کا اثر قبول نہ کرتی تھی۔ پس ایک رات جب نبی مکرم ﷺ کا ذکر کیا تو اس کا آقا صبر نہ کرسکا پس وہ کلہاڑے کی طرف اٹھ گیا اور اس کے پیٹ پر رکھ دیا یا پھر اس پر زور لگایا یہاں تک کہ اسے آر پار کردیا۔ پس حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : خبردار گواہ رہو بیشک اس کا خون رائگاں ہے۔ (2)
اور ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہیـ: پس اس نے اسے قتل کردیا، جب صبح ہوئی تو حضور نبی مکرم ﷺ کو اس بارے بتایا گیا۔ پس وہ نابینا شخص اٹھا اور عرض کی : یارسول اللہ ﷺ میں اس کا مالک ہوں، وہ آپ ﷺ کو گالیاں دیتی تھیں اور آپ کے بارے میں الزام تراشی کرتی تھی، میں اسے منع کرتا لیکن وہ نہ رکتی اور میں اسے جھڑکتا اور وہ اس سے باز نہ آتی اور میرے اس سے موتیوں کی مثل دو بیٹے ہیں۔ اور وہ میرا ساتھی تھی، پس جب گزشتہ رات آئی تو وہ آپ کو گالیاں دینا شروع ہوگئی اور آپ کے بارے میں الزام تراشیاں کرنے لگی تو میں نے اسے قتل کردیا۔ تب حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” خبر دار سنو ! تم گواہ رہو بلا شبہ اس کا خون رائیگاں ہے “۔
مسئلہ نمبر 6 علماء نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے کہ جب کوئی گالیاں دے تو پھر قتل سے بچنے کے لیے اسلام قبول کرے، تو بعض نے کہا ہے : اس کا اسلام لانا اس کے قتل کو ساقط کردے گا اور یہی مشہور مذہب ہے، کیونکہ اسلام اپنے ما قبل ہر شے کو مٹا دیتا ہے۔ بخلاف مسلمانوں کے کہ جب اس نے سب وشتم کیا اور پھر توبہ کرلی۔ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا : قل للذین کفرو ان ینتھو یعفرلھم ماقد سلف (الانفال :38) (فرما دیجئے کافروں کو کہ اگر وہ اب بھی باز آجائیں تو بخش دیا جائے گا انہیں جو کچھ ہوچکا)
اور بعض نے کہا ہے : اسلام کے قتل کو ساقط نہیں کرے گا۔ یہ قول عنبیہ میں ہے، کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ کا حق آپ ﷺ کی انتہاء حرمت اور اس نقص اور عیب کو آپ ﷺ کی ذات کے ساتھ ملانے کے قصد کی وجہ سے واجب اور ثابت ہے۔ لہذا اس کا اسلام کی طرف رجوع کرنا ایسا نہیں ہے جو اسے ساقط کرسکے۔ اور نہ ہی وہ کسی مسلمان سے احسن اور بہتر حالت میں ہے۔
مسئلہ نمبر 7 قولہ تعالیٰ : فقاتلو اء مۃ الکفر اس میں ائمۃ امام کی جمع ہے۔ بعض علماء کے قول کے مطابق مراد صنا دید قریش ہیں مثلاً ابو جہل، عتبہ، شیبہ، اور امیہ بن خلف۔ اور یہ قول بعیداز حقیقت ہے، کیونکہ یہ آیت سورت براءۃ میں ہے اور جس وقت یہ سورت نازل ہوئی اور لوگوں پر پڑھی گئی تو اللہ تعالیٰ قریش کی قوت و طاقت کو پامال کرچکا تھا پس اب سوائے اسلام لانے یا صلح کرنے کے کچھ باقی نہ تھا۔ پس یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ فقاتلو اء مۃ الکفر سے مرادہو، جو معاہدہ توڑنے اور دین میں طعن کرنے کا اقدام کرے وہی کفر میں اصل اور سردار ہوگا۔ پس اس بنا پر وہ ائمہ کفر میں سے ہوگا۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس مراد ان کے متقدمین اور رئوساء ہوں اور یہ کہ انہیں قتل کرنا انکے مبتعین کو قتل کرنا ہے اور یہ کہ ان کے لیے کوئی حرمت (اور عزت) نہیں ہے۔ اور ایمۃ اصل میںء اءاممۃ ہے جیسے مثال اور امثلۃ ہے، پھر میم کو میم میں مد کیا گیا اور حرکت کو ہمز کی طرف منتقل کردیا گیا اب دو ہمزے جمع ہوگئے اور پھر دوسرے ہمزہ کو یا سے بدل دیا گیا۔ اور اخفش کا خیال ہے کہ تو کہتا ہے : ھذاء ایم من ھذ یعنی یہ یا کے ساتھ ہے۔ اور مازنی (رح) نے کہا ہے : ء ادم من ھذ یعنی وائو کے ساتھ۔ اور حمزہ نے ائمۃ پڑھا ہے۔ اور اکثر نحوی اس طرف گئے ہیں کہ یہ غلطی ہے، کیونکہ انہوں نے دو ہمزہ ایک کلمہ میں جمع کردیئے ہیں۔ انھم لا ایمان لھم بیشک ان کا کوئی معاہدہ نہیں، یعنی ان کے معاہدے سچے نہیں ہیں وہ پورا کریں گے۔ ابن عامر نے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ لا ایمان لھم پڑھا ہے یہ ایمان سے ہے، یعنی ان کا کوئی اسلام (اور دین) نہیں۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ آمنتہ ایماناً کا مصدر ہو اور یہ اس امن سے ہو جس کی ضد خوف ہے، یعنی وہ امن میں نہیں ہوں گے۔ یہ آمنتہ ایماناً سے ہے یعنی میں نے اسے پناہ دی۔ پس اسی لیے فرمایا : فقاتلوا ائمۃ الکفر۔
لعلھم ینتھون تاکہ وہ شرک سے باز آجائیں۔ کلبی (رح) نے کہا ہے : حضور نبی مکرم ﷺ نے اہل مکہ سے ایک سال معاہدہ کیا اور آپ ﷺ حدیبیہ میں تھے اور انہوں نے آپ ﷺ کو بیت اللہ شریف سے روک لیا، پھر انہوں نے اس شرط پر آپ ﷺ سے صلح کی کہ آپ واپس جائیں اس شرط پر آپ ﷺ سے صلح کی کہ آپ واپس لوت جائیں، پس وہ اپنے معاہدہ پر قائم رہے جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے حلیف خزاعہ کی بنی امیہ کی حلفاء جو کنانہ سے تھے، کے ساتھ جنگ ہوگئی اور بنو امیہ نے ہتھیاروں اور خوراک کے ساتھ اپنے حلیفوں کی امداد کی، تو خزاعہ نے رسول اللہ ﷺ سے مدد طلب کی پس یہ آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ اپنے حلفاء کی امداد کریں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
اور بخاری میں حضرت زید بن وہب سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا : ہم حضرت حذیفہ ؓ کے پاس تھے تو انہوں نے فرمایا : اس فقا تلوا ائمۃ الکفر انھم لا ایمان لھم کے مصداق سے سوائے تین کے کوئی باقی نہیں۔ اور منافقین میں سے سوائے چار کے کوئی باقی نہیں۔ تو ایک اعرابی نے کہا : بیشک تم اصحاب محمد ﷺ ہو تم ایسی خبریں دیتے ہو کہ ہم نہیں جانتے وہ کیا ہیں ؟ تم گمان کرتے ہو کہ سوائے چار کے کوئی منافق نہیں، تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ہمارے گھروں میں گھس آتے ہیں اور ہمارا قیمتی اور عمدہ سامان چوری کرلیتے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا : وہ فاسق لوگ ہیں، ہاں ان میں سے سوائے چار کے کوئی باقی نہیں۔ ان میں سے ایک شیخ کبیر ہے کہ اگر وہ ٹھنڈا پانی پیے تو اس کی ٹھنڈک کو نہیں پاتا۔ قولہ تعالیٰ : لعلھم ینتھون تاکہ وہ اپنے کفر سے اپنے باطل (عقائد) سے اور مسلمانوں کو اذیت پہنچانے سے باز آجائیں۔ اور یہ اس کا تقاضا کرتا ہے کہ ان کے ساتھ قتال اور جنگ کرنے سے غرض اور مقصود ان کو دور کرنا ہوتا کہ وہ ہمارے ساتھ جنگ کرنے سے رک جائیں۔
Ayah 9:13قولہ تعالیٰٰ : الا تقاتلون قوما نکثمو ایمانھم یہ زجر وتویخ ہے اور اس میں تحضیض کا معنی ہے۔ یہ آیت کفار مکہ کہ بارے میں نازل ہوئی جیسا کہ ابھی ہم نے ذکر کیا ہے۔ وھموا باخراج الرسول یعنی نکلنے کا سبب ان کی طرف سے تھا۔ پس بارے میں نازل ہوئی جیسا کہ ابھی ہم نے ذکر کیا ہے۔ وھموا باخراج الرسول پس نکالنے کی نسبت ان کی طرف کی گئی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ طیبہ سے اہل مکہ کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے نکالا اس معاہدہ کو توڑنے کی وجہ سے جسے انہوں نے توڑا۔ یہ حسن سے مروی ہے۔ وھم بدء و کم اور انہوں نے ہی تم سے لڑنے کا آغاز کیا۔ اول مرۃ یعنی انہوں نے معاہدہ توڑا اور بنو بکر نے چراعہ پر حملہ کردیا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر کے دن انہوں نے تمہارے ساتھ جنگ کرنے کا آغاز کیا، کیونکہ حضور نبی کریم ﷺ تو قافلے کے لیے نکلے تھے اور جب انہوں نے اپنا قافلہ بچالیا تو ان کے لیے واپس لوٹنا ممکن تھا، لیکن انہوں نے بدر تک پہچنے اور وہاں شراب پینے کے بغیر واپس جانے سے انکار کردیا، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
فا اللہ احق ان تخشوہ یعنی اللہ تعالیٰ زیادہ حق دار ہے کہ تم ان کے ساتھ قتال ترک کرنے کی صورت میں اس کی سزا ڈرو، اسے سے کہ تم اس کے تم ان کے ساتھ لڑنے کی صورت میں کسی تکلیف اور ضرر کے پہنچے سے ڈرو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے رسول اللہ ﷺ کو نکالنے سے مراد ان کا آپ ﷺ کو حج، عمرہ اور طواف سے روکنا ہے اور یہی ان کی طرف سے ابتدا تھی۔ واللہ اعلم
Ayahs 9:14–15قولہ تعالیٰ : قاتلوھم یہ امر ہے ( یعنی تم ان سے جنگ کرو) یعذ بھم اللہ یہ جواب امر ہے۔ اور اس کی جزم بمعنی مجازات ہے۔ اور تقدیرعبادت ہے : ان تقاتلوھم یعذبھم اللہ۔۔۔۔۔ الآیہ ( اگر تم ان سے جنگ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں سے انہیں عذاب دے گا اور انہیں رسوا کرے گا اور کے مقابلے میں تمہاری مدد کرے گا اور یوں صحت مند کردے گا اس جماعت کے سینوں کو جو اہل ایمان ہے۔ و یذ ھب غیظ قلوبھم یہ اس پر دلیل ہے کہ ان کا غصہ انتہائی شدید تھا۔ اور حضرت مجاہد رحمتہ اللہ نے کہا ہے : مراد خزاعہ قبیلے والے ہیں جو کہ رسول اللہ ﷺ کے حلیف تھے اور یہ سب معطوف ہے۔ اور اس میں یہ بھی جائز ہے کہ پہلی کلام سے منقطع ہونے کی وجہ سے یہ سب فرفوع ہوں۔ اور اس میں ان کو مضمر ماننے کی وجہ سے نصب بھی جائز ہے کو فیوں کا موقف یہی ہے، جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے :
اس میں اگر آپ چاہے تو و ناخذ کو رفع دیں اور اگر چاہیں تو اس نصب دیں۔ (1)
اور قول باری تعالیٰ : ویشف صدور قوم مومنین میں مراد بنو خزاعہ ہیں، جیسا کہ ہم نے اسے حضرت مجاہد (رح) سے ذکر کیا ہے، کیونکہ قریش نے ان کے خلاف بنی بکر کی مدد کی اور بنی خزاعہ حضور نبی کریم ﷺ کے حلیف تھے۔ بنی بکر کے کسی آدمی نے رسول اللہ ﷺ کی ہجو بیان کی، تو خزاعہ میں سے کسی نے اسے کہا : اگر تو نے دوبارہ ایسا کیا تو میں تیرا منہ توڑدوں گا۔ چناچہ اس نے اس کا اعادہ کیا اور اس نے اس کا منہ توڑ دیا اور ان کے درمیان جنگ بھڑک اٹھی۔ اور انہوں نے خزاعہ اقبیلے کے کئی افراد قتل کردیئے۔ پس عمرو بن سالم خزاعی ایک جماعت کے ہمراہ حضور نبی مکرم ﷺ کی برگاہ میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ غسل کرتے رہے اور یہ کہنے لگے : میری مدد نہیں کی جائے گی اگر میں نے بنی کعب کی مدد نہ کہ۔ بعد ازاں رسول اللہ ﷺ نے جنگ کی تیاری کی اور مکہ مکرمہ کی طرف خروج کا حکم ارشاد فرمایا نتیجہ مکہ مکرمہ فتح ہوگیا۔
قولہ تعالیٰ : و یتوب اللہ علی من یشاء رفع کے ساتھ قراءت استیناف کی بنا پر ہے، کیونکہ یہ پہلی کلام کی جنس میں سے نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جزم کے ساتھ ویتب نہیں کہا۔ کیونکہ جنگ اللہ تعالیٰ کی جانب سے توبہ کو ان کے لیے ثابت نہیں کرتی، بلکہ یہ تو ان کے لیے عذاب اور رسوائی ہے اور مومنین کے سینوں کے لیے شفا اور ان کے دلوں سے غصے کو نکالنے اور دور کرنے کا حکم موجب ہے۔ اور اس کی نظیر یہ ہے۔ فان یشا اللہ یختم علی قلبک (السوریٰ :24) کلام مکمل ہوگیا۔ پھر فرمایا و یمح اللہ الباطل (الشوریٰ :24) (اور مٹاتا ہے اللہ تعالیٰ باطل کو)
اور وہ جن پر اللہ تعالیٰ نے توجہ فرمائی مثلاً ابو سفیان، عکرمہ بن ابی جہل اور سلیم بن ابی عمرو کیونکہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ اور ابن ابی اسحاق نے ویتوب نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اس طرح عیسیٰ الثقفی اور اعرک سے مروی ہے۔ اور اس بنا پر توبہ جواب شرط میں داخل ہوگی، کیونکہ معنی یہ ہے : ان تقاتلوھم یعذبھم اللہ اور اسی طرح وہ ہیں جو اس پر معطوف ہیں۔
پھر فرمایا : ویتوب اللہ ایء ان تقاتلوھم (اگر تم ان سے جنگ کرو گے تو اللہ تعالیٰ پر توجہ فرمائے گا) پس اللہ تعالیٰ نے تمہارے ہاتھوں کے ساتھ انہیں عذاب دینے، تمہارے سینوں کو شفادینے، تمہارے دلوں سے غصہ دور کرنے اور تم پر توجہ دینے کو جمع کردیا۔ اور رفع پڑھنا احسن ہے، کیونکہ توبہ کا سبب قتال ہے، کیونکہ کبھی یہ بغیر قتال کے بھی پایا جاتا ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ اس پر ہر حال میں توجہ دے۔
Ayah 9:16قولہ تعالیٰ : ام حسبتم ایک شے سے دوسری شے کی طرف خروج ہے۔ ان تترکوا یہ سیبویہ کے قول کے مطابق دو مفعلوں کے محل میں ہے۔ اور مبرد کے نزدیک دوسرامفعول حذف کردیا گیا ہے (1) اور کلام کا معنی ہے : ام حسبتم ان تترکو امن غیرء ان تبتلو بما یظھر بما یظھر الموء من و المنافق الظھور الذی یستحق بہ الثواب و العقاب (کیا تم یہ خیال کر رہے ہو کہ تمہیں اس کے بغیر ہی چھوڑ دیا جائے گا کہ تم ایسی شے کے ساتھ آزمائے جائو جس کے ساتھ مومن اور منافق اس طرح ظاہر ہوجاتے ہیں جس کے سبب وہ ثواب و عقاب کے مستحق بنتے ہیں) یہ معنی کئی مقامات پر پہلے گزر چکا ہے۔
ولم یعلم اس کی جزم لما کے سبب ہے اگرچہ ماز ائدہ ہے، کیونکہ سیبویہ کے نزدیک یہ تیرے اس قول کا جواب ہوتا ہے : قد فعل، جیسا کہ پہل گزر چاک ہے۔ اور التقاء ساکنین کی وجہ سے میم کو کسرہ دیا گیا ہے۔ ولیجۃ ہمراز، اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے والا۔ یہ دلوج سے ہے اور اس کا معنی داخل ہونا ہے۔ اسی وجہ سے کچھار جس میں وحشی جانور داخل ہوتے ہیں اس کا نام تولج رکھا گیا۔ ولج یلج دلوجا جب وہ داخل ہو۔ اور معنی : اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے بغیر کسی کی محبت و مودت میں داخل ہونے والا ہ۔
ابو عبیدہ نے کہا ہے : ہر وہ شے جسے تو ایسی شے میں داخل کرے جو اس میں سے نہ ہو تو وہی ولیجہ ہے۔ اور آدمی کسی قوم میں شامل ہو حالانکہ وہ ان سے نہ ہو تو وہ دلیجۃ ہوتا ہے۔ ابن زید نے کہا ہے : ولیجہ کا معنی دخیلہ (اندرونی معاملات میں داخل ہونے والا ہے) اور الولجاء کا معنی الدخلاء ہے پس دلیجۃ الرجل وہ ہوتا ہے جو عام لوگوں کے سوا کسی کے اندرونی معاملات کے لیے مختص ہو یعنی محرم راز۔ تو کہتا ہے : ھو دلیجتی (وہ میرا محرم راز ہے) اور ھم دلیجتی اس میں واحد اور جمع دونوں برابر ہیں۔ ابان بن تغلب (رح) نے کہا ہے :
فبئس الولیجۃ للھاربین والمعتدین واھل الرتب
پس بھاگنے والوں اور ظلم و زیادتی کرنے والوں اور شک کرنے والوں کی نیت اور ان کا اندر کتنا برا ہے۔
اور کہا گیا ہے کہ ولیجۃ کا معنی بطانۃ ہ۔ اور دونوں لفظ ہم معنی ہیں۔ اس کی نظیر لا تتخذو بطانۃ من دونکم (آل عمران :118) ہے (نہ بنائو اپنا راز دار غیروں کو) اور فراء نے کہا ہے : ولیجُۃ سے مراد مشرکین میں سے محروم راز جنہیں وہ بناتے ہیں اور وہ ان کے اسرار ور مواز ان کے پاس افشاء کردیتے ہیں اور ان کے معاملات کے بارے انہیں آگاہ کردیتے ہیں۔
Ayah 9:17قولہ تعالیٰ : ما کان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ ان یعمرو سے جملہ رفع کان کا اہم ہے۔ شھدین حال ہے۔ اس آیت کا تاویل میں علماء کا اختلاف ہے پس کہا گیا ہے : اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے بعد ان کے لیے کوئی حج نہیں جب اسن میں مسجد حرام سے روکنے کے بارے اعلان کردیا گیا۔ اور بیت اللہ شریف کے امور مثلاً خدمت کرنا، پانی پلانا اور نیابت کی ذمہ داری ادا کرنا مشرکین کے سپرد تھے، تو یہ بیان کردیا گیا کہ وہ اس کے اہل نہیں، بلکہ اس کے اہل مومن ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ حضرت عباس ؓ نے فرمایا : کیا تمہارے محاسن بھی رہیں ؟ انہوں نے کہا : ہاں بیشک ہم مسجد حرام کو آباد کرتے ہیں، کعبہ معظمہ کی خدمت اور دربانی کرتے ہیں، حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں۔ اور مشقت میں پھنسے ہوئے اور تکلیف زدہ کو رہائی دلاتے ہیں۔ تو یہ آیت اس کے رد میں نازل ہوئی۔
پس تب مسلمانوں پر مساجد کے احکام کی تولیت واجب ہوگئی اور مشرکوں کو ان میں داخل ہونے سے منع کردیا گیا۔ اس میں عام قراءت یعمریا کے فتحہ اور میم کے ضمہ ساتھ ہے یہ عمر یعمر سے ماخوذ ہے۔ ابن السمبقع نے یا کو ضمہ اور میم کو کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی ( مشرکین کے لیے نہیں کہ) وہ اسے آباد کرنے والے یا اس کی آبادی اور تعمیر پر معاونت کے والے ہوں۔ اور مسجد اللہ واحد کی صورت میں بھی قرائت کی گئی ہے مراد مسجد حرام ہے۔ اور یہ قراءت حضرت ابن عباس، سعید بن جبیر، عطاء بن ابی رباح، مجاہد، ابن کثیر، ابو عمر و، ابن محیص اور یعقوب ؓ کی ہے۔ اور باقیوں نے مسجد تعمیم کی صورت میں قراءت کی ہے۔ اور یہی ابو عبیدہ کی پسند ہے، کیونکہ اعم اور اخس عام کے تحت داخل ہوتے ہیں۔ اور یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ جمع کی قراءت سے بھی صرف مسجد حرام مراد ہو۔ اور یہ ان میں جائز ہے جو اسماء جنس میں سے ہو، جیسے کہا جاتا ہے ـ: فلاں یرکب الخیل اگرچہ وہ سوار تو صرف ایک گھوڑے پر ہوا۔ اور مساجد پڑھنا زیادہ درست ہے، کیونکہ دونوں معنوں کا احتمال رکھتا ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : ان یعمرو مسجد اللہ میں جمع کی قراءت پر قراء نے اجماع کیا ہے۔ یہ نحاس نے کہا ہے۔ اور حسن نے کہا ہے۔ اور قول باری تعالیٰ ان یعمروا مسجد اللہ میں جمع کی قراءت پر قراء نے اجماع کیا ہے۔ یہ نحاس نے کہا ہے۔ اور حسن نے کہا ہے : بیشک مساجد کہا ہے اور مراد مسجد حرام ہے، کیونکہ وہ تمام مساجد کا قبلہ اور ان کی امام ہے۔ (1)
قولہ تعالیٰ : شھدین کہا گیا ہے کہ مراد ھم شاھدون بہ (در آ نحا لی کہ وہ شہادت دیتے ہیں) اور جب ھم کو گرادیا گیا تو اسے (یعنی شاھدین) کو منصوب پڑھا گیا حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان کی اپنے نفسوں پر کفر کی گواہی ان کے اپنے بتوں کو سجدہ کرنا ہے اور ان کا یہ اقرار کرنا ہے کہ وہ پیدا کئے گئے ہیں۔ اور سدی (رح) نے کہا ہے : ان کی کفر کے بارے شہادت یہ ہے کہ نصرانی کو کہتا ہے ہے تیرا دین کیا ہے ؟ تو وہ کہتا ہے : نصرانی اور یہودی سے پوچھا جائے تو وہ کہتا ہے : یہودی اور صابی سے پوچھا جائے تو وہ کہتا ہے : صابی۔ اور کسی مشرک کو کہا جائے : تیرا دین کیا ہے ؟ تو وہ کہتا ہے : مشرک۔ اولئک حبطت اعمالھم وفی النار ھم خلدون اس کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 9:18مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : انما یعمر مسجد اللہ یہ اس پر دلیل ہے کہ مساجد کو آباد کرنے والوں کے لیے ایمان کی شہادت دینا صحیح ہے، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اسے اس کے ساتھ ہی مربوط کیا ہے اور اسی کے بارے مساجد کو لازم پکڑنے کی خبر دی ہے۔ اور بعض سلف نے کہا ہے ــ: جب تم کسی آدمی کو دیکھو وہ مسجد آباد کررہا ہے تو تم اس کے ساتھ حسن ظن رکھو۔ ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم کسی آدمی کو دیکھو وہ مسجد کے اہتمام کا عادی ہے تو تم اس کے لیے ایمان کی شہادت دو ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ انما یعمر مسجد اللہ من امن باللہ والیوم الاخر اور ایک روایت میں ہے ” وہ مسجد کی حفاظت اور دیکھ بھال کرتا ہے “ فرمایا : ٰیہ حدیث حسن غریب ہے۔ علامہ ابن عربی رحمتہ اللہ عرعلیہ نے کہا ہے : یہ ظاہرا درست اور صحیح ہونے کے بارے میں ہے شہادت کے قطعی مقام کے بارے میں نہیں ہے، کیونکہ عارفین کے نزدیک شہادت کے مختلف احوال ہیں، کیونکہ ان میں کوئی انتہائی ذہین و فطین ہوتا ہے وہ ایسی شے کے حاصل کرلیتا ہے جس سے اسے کسی چیز کے اعتقاد اور خبر کا علم ہوجاتا ہے۔ اور ان میں سے بعض اس سے عاری ہوتے ہیں اور ہر ایک اپنے مقام اور مرتبہ پر ہوتا ہے اور اپنے وصف پر قائم ہوتا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : ولم یخژ الا اللہ اگر کہا جائے : کوئی مومن نہیں ہے مگر وہ غیر اللہ سے ڈرتا ہے۔ اور مومنین اور انبیاء (علیہم السلام) ہمیشہ اپنے سوا ان میں سے کسی سے نہ ڈرتا جن کی عبادت کی جاتی ہے، کیونکہ مشرکین بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور ان سے ڈرتے بھی ہیں اور ان سے امیدیں بھی وابستہ رکھتے ہیں۔ اور دوسرا جواب یہ کہ وہ دین کے باب میں سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی سے نہ ڈرناہو۔ (1)
مسئل نمبر 3 ۔ اور کہا جائے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے آیت میں ان کے لیے ایمان ثابت کیا ہے جنہوں نے مساج کو نماز کے ساتھ، ان کی صفائی اور ان کی کسی بوسیدہ چیز کی مرمت اور اصلاح کرکے آباد کیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان لایا۔ اور اس میں ایمان بالرسول کا ذکر نہیں کیا حالانکہ اس کا کوئی ایمان نہیں جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایمان نہیں لایا۔ تو اسے یہ کہا جائے گا۔ آیت میں جو اقامت صلوٰۃ وغیرہ کا ذکر کیا گیا ہے وہی ایمان بالرسول پر دلیل ہے، کیونکہ یہ ان میں سے ہے جسے رسول اللہ ﷺ لے کر آئے۔ پس نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا بلا شبہ اس کی طرف سے صحیح ہوتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھتاہو۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے (2) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عسیٰ بمعنی خلیق ہے ای فخلیق۔ ان یکو نو من المھتدین (پس لائق اور مناسب ہے کہ وہ لوگ ہدایت پانے والوں میں سے ہوجائیں)
Ayah 9:19مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : اجعلتم سقایۃ احآ ج عربی میں تقدیر یہ ہے : اجعلتم اصحاب سقایۃ الحاج و اھل سقایۃ الحاج، مثل من باللہ و جاھد فی سبیلہ (کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے والوں کو ان کی مثل بنا لیا ہے جو اللہ کے ساتھ ایمان لے آیا اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا) اور صحیح یہ کہ من امن میں حذف کو مقدر مانا جائے یعنی اجعلتم عمل سقی الحجاج کعمل من امن (کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے کے عمل کو ایمان کی مثل جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان لیا ہے ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ تقدیر کلام ہے کل ایمان من آمن (یعنی اس کے ایمان کی مثل جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان لایا) السقایۃ یہ مصدر ہے جیسا کہ السعایۃ اور الحمایۃ مصدر ہیں۔ اور اسم کو مصدر کے محل میں رکھا گیا ہے، کیونکہ اس کا معنی معلوم ہے، جیسے کہا جاتا ہے : انما السخاء حاتم، وانما الشعر زھیر (بلا شبہ سخاوت تو حاتم کی ہے اور شعر زہیر کا ہے)
مسئلہ نمبر۔ عمارہ المسجد احرام، واء ساء ل القریۃ کی مثل ہے۔ ابو جزہ نے اجعلتم سقاۃ الحجاج و عمرۃ المسجد الحرام پڑھا ہے۔
سقاۃ، ساق کی جمع ہے۔ اور اصل میں یہ سقیۃ ہے یہ فعلتہ کے وزن پر، اس سے معتل کی جمع اسی طرح بنائی جاتی ہے، جیسے قاج کی جمع قضاۃ اور ناس کی جمع نساۃ ہے۔ اور اگر یہ متعل نہ ہو تو فعلۃ کے وزن پر جمع بنائی جائے گی جیسے اسی کی جمع نساۃ ہے، یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو مہینوں میں نسی کا عمل کرتے ہیں۔ اسی طرح ابن زبیر اور سعید بن جبیر ؓ نے سقاۃ و عمرۃ پڑھا ہے، مگر ابن جبیر نے عمرۃ میں تنوین کے ارادہ پر المسجد کو نصب دی ہے۔ اور حضرت ضحاک (رح) نے کہا ہے : سقایۃ سین کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ اور یہ بھی ایک لغت ہے۔ اور الحجاج، الحجاج کی اسم جنس ہے۔ اور عمارۃ المسجد الحرام سے مراد اس کی حفاظت، دیکھ بھال اور اس کے مصالح کا التمام کرنا ہے۔ اس آیت کا ظاہر بلاشبہ اس کے قول کو باطل کرتا ہے مشرکین میں سے جس نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد کو آباد کرنے پر فخر کیا اور حضرت علی ؓ نے اسلام اور جہاد کے ساتھ اظہار فخر کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت علی ؓ کی تصدیق کردی اور ان دونوں کو جھٹلادیا اور یہ خبر دے دی کہ مسجد کی آبادی کفر کے ساتھ نہیں ہوسکتی، بلکہ وہ ایمان، عبادت اور طاعت و فرمانبرداری کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور یہ اتنا بین اور واضح ہے جس پر کوئی غبار نہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ مشرکوں نے یہودیوں سے سوال کیا اور کہا : ہم حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور مسجد حرام کو آباد کرتے ہیں کیا ہم افضل ہیں یا محمد ﷺ اور نے اصحاب ؟ تو یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے عناد رکھنے کی وجہ سے انہیں کہا : تم افضل ہو۔ اور یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے اور وہ ہے جو صحیح مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا : تم افضل ہو۔ اور یہاں ایک اشکال پیدا ہوا ہی اور وہ وہ ہے جو صحیح مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا : میں رسول اللہ ﷺ کے منبر شریف کے پاس تھا تو ایک آدمی نے کہا : مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ میں اسلام کے بعد کوئی عمل نہ کروں مگر یہ کہ میں حاجیوں کو پانی پلائوں۔ اور دوسرے نے کہا : مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ میں اسلام کے بعد کوئی عمل نہ کروں مگر یہ کہ میں مسجد حرام کو آباد کرتا رہوں۔ اور ایک تیسرے نے کہا : اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا اس سے افضل ہے جو تم نے کہا ہے۔ پس حضرت عمر ؓ نے انہیں جھڑکا اور فرمایا : تم رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس اپنی آوازوں کو بلند نہ کرو۔ اور وہ جمعہ کا دن تھا۔ لیکن جب جمعہ کی نماز پڑھ لی گئی تو میں آپ کے پاس داخل ہو اور آپ سے اس بارے میں فتوی طلب کیا جس میں تم نے اختلاف کیا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : اجعلتم سقایۃ الحآج و عما رۃ المسجد الحرام کمن امن باللہ والیوم الاخر۔ الی آخر الایہ
اور یہ سیاق تقاضا کرتا ہے کہ بیشک یہ آیت مسلمانوں کے ان اعمال میں سے افضل کے بارے اختلاف کے وقت نازل ہوئی۔ اور اس وقت یہ مناسب نہیں کہ ان کے لیے آیت کے آخر میں یہ کہا جائے : واللہ لا یھدی القوم الظلمین
پس اشکال متعین ہوگیا۔ اور اس کا ازالہ کرتے ہوئے یہ کہا جائے گا : بیشک بعض راویوں سے اپنے اس قول فانزل اللہ الآیۃ ( اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی) میں تسامح ہوا ہے۔ بلا شبہ حضور نبی مکرم ﷺ نے حضرت عمر ؓ پر اس وقت یہ آیت پڑھی جس وقت انہوں نے آپ کے سامنے عرضداشت پیش کی تو اس سے راوی کو یہ گمان ہوا کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی۔ اور حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ التسلیم نے اس سے اس پر استدلال کیا ہے کہ جہاد اس سے افضل ہے جو ان لوگوں نے کہا جنہیں حضرت عمر ؓ نے سنا اور ان کے لیے فتویٰ طلب کیا اور آپ ﷺ نے آپ پر وہ آیت تلاوت فرمائی جو آپ پر نازل کی گئی تھی، نہ یہ کہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی۔ واللہ اعلم
پھر اگر یہ کہا جائے کہ اس بنا پر تو مسلمانوں پر استدلال کرنا اس سے جائز ہوا جو کافروں کے بارے نازل کیا گیا اور یہ بات معلوم شدہ ہے کہ اس کے احکام مختلف ہیں۔ تو کہا جائے گا : یہ بعید نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مشرکوں کے بارے میں نازل کیا ہے اس سے وہ احکام نکال لیے جائیں جو مسلمان کے لائق اور مناسب ہوں۔ تحقیق حضرت عمر ؓ نے کہا : بیشک اگر ہم چاہیں تو ہم بھنا ہو گوشت لے لیں اور اسے بڑے پیالے میں رکھ دیا جائے اور دوسرے کو پیش کردیا جائے، لیکن ہم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد سن رکھا ہے : اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا و استمتعتم بھا (الا حقاف :20) (تم نے ختم کردیا تھا اپنی نعمتوں کا حصہ اپنی دنیوی زندگی میں خوب لطف اٹھایا تھا تم نے ان سے) اور اس کے باوجود حضرت عمرؓ نے اس سے اس زجر وتو بیخ کے حکم کو سمجھ لیا جو من وجہ ان کے احوال سے مناسبت رکھتا تھا اور صحابہ کرام میں سے کسی نے آپ پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ پس ممکن ہے کہ آیت اسی نوع سے ہو اور یہ انتہائی عمدہ اور نفیس ہے اور اس سے اشکال زائل ہوجاتا ہے اور ابہام اٹھ جاتا ہے، واللہ اعلم۔
Ayah 9:20قولہ تعالیٰ : الذین امنوا یہ مبتدا ہونے کے سبب محل رفع میں ہے اور اس کی خبر اعظم درجۃ عنداللہ ہے۔ اور درجۃ بیان (اور تمیز) کو پانی پلانے کے سبب ایک درجہ اور رتبہ کا اندازہ لگایا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس پر خطاب کیا جو انہوں نے اپنے نفسوں کے بارے میں اندازہ لگایا اگرچہ وہ انداز مقرر کرنا غلطی اور خطا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اصحب اجنۃ یو مئذ خیر مستقرا (الفرقان :24) (اہل جنت کا اس دن بہت اچھا ٹھکانہ ہوگا) اور یہ بھی کہا گیا ہے : اعظم درجۃ، من کل ذی ررجۃ یعنی ان کا درجہ ہر صاحب درجہ سے زیادہ اور بلند رتبہ ہے۔ واولئک ھم الفآء زون اور یہی ہیں جس کے سبب کا میاب ہونے والے ہیں۔
Ayah 9:21قولہ تعالیٰ : یبشر ھم ربھم یعنی اللہ تعالیٰ انہیں دنیا بتا رہا ہے اس بہت بڑے ثواب اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے بارے جو آخرت میں ان کے لیے ہوگی۔ اور نعیم سے مراد زندگی کا پرسکون اور خوشحال ہونا ہے۔ خلدین یہ حال کی بنا پر منصوب ہے۔ اور الخلود کا معنی مقیم رہنا ہے۔ ان اللہ عندہ اجر عظیم یعنی بیشک اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اپنے دار کرامت میں وہ ثواب تیار کر رکھا ہے۔
Ayahs 9:22–23اس آیت کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ خطاب تمام مومنوں کے لیے ہے اور مومنوں اور کافروں کے مابین ولایت کو مقطع کرنے والا یہ حکم یوم قیامت تک باقی رہے والا ہے۔ اور ایک جماعت نے یہ روایت کیا ہے کہ یہ آیت بلا شبہ ہجرت پر ابھارنے کے لیے اور کافروں کے شہروں کو چھوڑنے کے بارت میں نازل ہوئی۔ پس اس با پر یہ خطاب ان مومنوں کے لیے جو مکہ مکرمہ اور اس کے علاوہ بلاد عرب میں سے دیگر شہروں میں رہتے تھے۔ انہیں خطاب کیا گیا کہ وہ باپوں اور بھائیوں کو والی اور دوست بنالیں کہ وہ بلاد کفر میں رہائش کے دوران ان کے تابع ہوجائیں۔ (1)
ان استجبوا یعنی اگر وہ پسند کریں : ( اس میں استجبوا بمعنی احبوا ہے) جیسے کہا جاتا ہے : کہ استجاب بمعنی اجاب ہے۔ یعنی تم ان کی اطاعت نہ کرو اور نہ تم انہیں خاص کرو۔ اللہ تعالیٰ نے آباء اور بھائیوں کا خاص طور پر ذکر کیا ہے کیونکہ ان سے بڑھ کر کوئی قریب تر قرابت نہیں۔ پس ان کے درمیان موالات اور دوستی کی نفی ایسی ہی ہے جیسے لوگوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کے اس قول کے ساتھ اس کی نفی ہے یا ایھا الذین امعنو لا تتخذو الیھود و النصری اولیاء (المائد : 51)
یقولون لی دار الاء حبۃ قددنت واء نت کئیب ان ذا لعحیب
وہ مجھے کہتے ہیں محبوبون کی بستی قریب ہے اور تو غمگین ہے بیشک یہ عجیب بات ہے۔
قلت وما ئبغی دیار قریبۃء اذالم یکن بین القلوب قریب
تو میں نے کہا : گھروں کا قریب ہونا کیا فائدہ دے سکتا ہے جب دلوں کے درمیان قرب اور نزدیکی نہ ہو۔
فکم من بعید الدار نال مرادہ و آخر جار الجنب مات کئیب
پس کتنے دور رہنے والے ہیں کہ اس کو اپنا مقصد پا لیا ہے اور دوسرا پہلو میں رہنے والا پڑوسی غمزدہ حالت میں مایوس ہو کر مرگیا۔
اس آیات میں بیٹوں کا ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ انسانوں میں اغلب یہی ہے کہ بیٹے باپوں کے تابع ہوتے ہیں (1) ۔ اور احسان اور ہبہ دلایت سے مستشنیٰ ہیں۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ نے عرض کی : یارسول اللہ ! ﷺ بیشک میری ماں انتہائی رغبت رکھتے ہوئے پاس آئی اور وہ مشرک ہے کیا میں اس سے مل سکتی ہوں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : صلیء امک تو اپنی ماں سے مل (حسن سلوک سے پیش آ) اسے بخاری (رح) نے نقل کیا ہے۔ قولہ تعالیٰ : ومن یتو لھم منکم فاء ول ئک ھم الظلمون حضرت ابن عباس رضٰ اللہ عنہ نے فرمایا : (اور جو تم میں سے انہیں دوست بنا تا ہے) وہ انہی کے مثل مشرک ہے، کیونکہ جو شرک کے ساتھ راضی ہو تو وہ مشرک ہی ہے۔
Ayah 9:24جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا تو ایک آدمی بیوی کو کہنے لگا : بیشک ہمیں ہجرت کا حکم دیا گیا ہے۔ تو ان میں سے بعض نے اس کے لیے تیزی اور جلدی کی۔ اور بعض نے ہجرت سے انکار کرد کیا : تو وہ کہتا : قسم بخدا ! اگر تم دار الحجرت کی طرف نہ نکلے میں تمہیں کوئی فائدہ نہیں دوں گا اور نہ تم پر کبھی کوئی شی خرچ کروں گا۔ اور ان میں سے وہ بھی تھے جس کے ساتھ اس کی بیوی اور اولاد چمٹ گئی اور وہ اسے کہنے لگے : میں تجھے اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتی ہون کہ تو نہ نکل پس تیرے بعد ہم ضائع ہوجائیں گے۔ پھر ان میں سے بعض تھے جو نرم ہوگئے اور انہوں نے ہجرت کو چھوڑ دیا اور ان کے ساتھ مقیم ہوگئے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی یآیھا الذین امنو لا تتخذو اباء کم و اخوانکم اولیاء ان استحبو الکفر علی الایمان رب کریم فرما رہا ہے : اگر انہوں نے مکہ مکرمہ میں رہنے کو پسند کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان لانے اور مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنے پر ومن یتو لھم منکم اور تم میں سے جو انہیں دوست بنائے گا اس آیت کے نازل ہونے کے بعد فاء ولئک ھم الظلمون (تو وہی لوگ ظلم کرنے والے ہیں) پھر جو پیچھے رہ گئے اور انہوں نے ہجرت نہ کی ان کے بارے میں آیات نازل فرمائی : قل ان کان ابآء و کم اخوانکم ازوجکم و عشیر تکم اور یہ (عشیرہ) وہ جماعت ہے جو ایک عقد کی طرف راجع ہو جیسے دیں یا زیادہ افراد کا عقد کرنا اور اسی سے امعاشرہ ہے اور اس کا معنی کسی سے پر جمع ہونا ہے۔ و اموال اقتر فتمو ھا وہ فرما رہا ہے : اور وہ اموال جو تم نے مکہ مکرمہ میں کمائے۔ اور اقتراف کا اصل معنی کسی سے کا اپنی جگہ سے دوسری طرف کٹ جانا، منتقل ہوجانا ہے۔
وتجارۃ تخشنون کسادھا حضرت ابن المبارک (رح) نے کہا ہے : بیٹیاں اور بہنیں ہیں جب گھر میں ان کا مندا ہوجائے تو وہ پانے لیے کو دعوت نکاح دینے والا نہیں پاتیں۔ شاعر نے کہا ہے :
کسدن من الفقر فی قو مھن وقد زارھن مقامی کسودا
ومسکن تر ضونھا وہ فرما رہا ہے : اور وہ گھر جن میں اقامت اختیار کرنا تمہارے لیے پسند یدہ ہے۔
احب الیکم (یہ تمہارے نزدیک زیادہ محبوب ہوجائے) اس سے کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف مدینہ طیبہ ہجرت کرو۔ واحب یہ کان کی خبر ہے اور غیر قرآن میں مبتد اور خبر ہونے کی بنا پرء احب کو مر فوع پڑھنا بھی جائز، اور کان کا اسم میں مضمر ہے، جیسا کہ سیبویہ نے کہا ہے :
ء اذمث کان الناس صنفان شامت وآخر مثن بالذی کنت اصنع
ھی الشفاء لدانی لو ظفرت بھا ولیس منھا شفاء الداء منذول
اور آیت میں اس پر دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول معظم ﷺ کی محبت واجب ہے اور امت کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور یہ کہ ہر محبوب پر مقدم ہے۔ اور تعالیٰ کی محبت رسول اللہ ﷺ کی محبت کا معنی و مفہوم سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔
وجھادنی سبیلہ فتر بصو اس میں تربصو اصیغہ امر ہے اور اس کا معنی تہدید ہے۔ وہ فرمارہا ہے : پس تم انتظار کرو۔ حتی یاتی اللہ بامرہ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قتال اور فتح کے بارے حکم لے آئے، یہ حضرت مجاہد (رح) سے مروی ہے۔
حسن نے کہا : یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اخروی یا دنیوی سزا کا حکم لے آئے۔ اور قول باری تعالیٰ : وجھادنی سبیللہ میں فضیلت جہاد پر دلیل ہے اور اسے راحت نفس اور اسے اہل مال کے ساتھ چمٹائے رکھنے پر رجیح دینے کا حکم پر دلیل ہے۔ سورت کے آخر میں جہاد کی فضیلت کا ذکرآئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور ہجرت سے متعلقہ احکام سورة النساء میں گزر چکے ہیں اور وہ کا فی ہیں۔ والحمد اللہ۔ اور حدیث صحیح میں ہے ” بیشک ابن آدم کے لیے تین مقامات پر بیٹھا وہ اس کے لیے اسلام کی راہ میں بیٹھا اور کہا : تو اپنا دین اور اپنے آباو اجداد کا دین کیوں چھوڑتا ہے ؟ پس اس نے اس کی مخالفت کی اور ہجرت کی۔ پھر وہ جہاد کے راستے میں بیٹھا اور اسے کہا : تو جہاد کرے گا تو تو قتل کردیا جائے گا اور تیری بیوی (نیا) نکاح کرے گی اور تیرا مال تقسیم کردیا جائے گا، تو اس نے اس کی مخالفت کی اور جہاد کیا، پس اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے “۔ امام نسائی نے اسے سبرہ بن ابی فاکہ کی حدیث سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ان الشیطان۔۔۔۔۔ اور آگے مذکورہ حدیث ذکر کی ہے۔ بخاری نے کہا ہے : ان لفا کہ اور اس میں اختلاف ذکر نہیں کیا۔ اور ابن ابی عدی نے کہا ہے : ان الفاکہ اور ابن ابی الفاکہ کہا جاتا ہے۔ انتہی۔