Ayah 3:103واعتصموا بحبل اللہ اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اللہ کی رسّی سے مراد ہے دین اسلام کیونکہ اللہ نے فرمایا : ومن یکفر بالطاغوت و یومن باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقی لاانفصام لھا (اس آیت میں ایمان باللہ کو عروۂ وثقیٰ فرمایا ہے) یا کتاب اللہ مراد ہے کیونکہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ کی کتاب ایک ایسی رسّی ہے جو آسمان سے زمین تک تنی ہوئی ہو (اس کو پکڑ کر آدمی اللہ تک پہنچ سکتا ہے) ۔
جمیعا سب کے سب یعنی جو تفسیر کلام اللہ باجماع امت ہو اس کو مضبوطی سے پکڑ لو اجماع کے خلاف متفرق آراء کی طرف نہ جاؤ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : تمہاری تین باتیں اللہ کو پسند ہیں اور تین ناپسند۔ تم اللہ کی عبادت کرو۔ کسی کو اس کا ساجھی نہ جانو اور سب کے سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور اللہ جس کو تمہارا حاکم بنا دے اس کی خیر خواہی کرو۔ یہ باتیں اللہ کو پسند ہیں اور وہ ناپسند کرتا ہے فضول قیل و قال کو اور مال کو برباد کرنے کو اور کثرت سوال کو۔ (رواہ مسلم واحمد)
حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ میری امت کو گمراہی پر مجتمع نہیں کرے گا۔ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے جو بچھڑا وہ (جماعت سے) بچھڑ کر دوزخ میں گیا۔ (رواہ الترمذی) یہ بھی حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : سب سے زیادہ عظمت والے فرقہ کا اتباع کرو اس لیے کہ جو اس سے بچھڑا وہ بچھڑ کر دوزخ میں گیا۔ (رواہ ابن ماجہ) 1
حضرت معاذ بن جبل ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس طرح بکریوں کو شکار کرنے والا بھیڑیا گلے سے بچھڑ نے والی گلے سے دور رہ جانے والی اور گلے سے الگ ہونے والی بکری کو شکار کرلیتا ہے اسی طرح انسان کے لیے شیطان بھیڑیا ہے (جماعت سے ہٹ کر ادھر ادھر کی) گھاٹیوں (میں بھٹکتے پھرنے) سے بچو اور جماعت و جمہور کے ساتھ رہو۔ (رواہ احمد)
حضرت ابوذر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو جماعت سے بالشت بھر الگ ہو اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے نکال دی۔ (رواہ احمد و ابوداؤد) یہ تفسیر اس صورت میں ہوگی جب جمیعاً کو اعتصموا کی فاعلی ضمیر سے حال مانا جائے لیکنحبل اللہ سے اگر حال قرار دیا جائے تو یہ مطلب ہوگا کہ اللہ کی پوری کتاب کو پکڑے رہو ایسا نہ ہو کہ کتاب کے کچھ حصہ کو تو مانو اور کچھ کو نہ مانو کیونکہ رسی کے بل الگ الگ ہونے کی صورت میں طاقتور نہیں ہوتے۔
و لا تفرقوا اور آپس میں پھوٹ نہ پیدا کرو۔ یہ جملہ اوّل صورت میں تاکیدی اور دوسری صورت میں تاسیسی ہے
(دوسری صورت پر اس جملہ کا مطلب یہ ہوگا کہ پورے قرآن کو مانو اور آپس میں بھی تفرقہ نہ کرو کہ کوئی مانے کوئی نہ مانے بلکہ سب مل کر پوری کتاب کو پکڑے رہو) مطلب یہ ہے کہ دوسرے اہل کتاب کی طرح آپس میں اختلاف کرکے حق سے متفرق نہ ہوجاؤ۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : جو حالت بنی اسرائیل کی ہوئی وہی حالت میری امت پر آئے گی یہ ان کے نقش قدم پر چلے گی یہاں تک کہ بنی اسرائیل میں سے اگر کسی نے اپنی ماں سے علانیہ زنا کیا ہوگا تو میری امت میں بھی کوئی ایسا کرے گا۔ بنی اسرائیل پھٹ کر بہتر فرقہ بن گئے تھے اور میری امت پھٹ کر تہتر گروہ ہوجائے گی جن میں سے سوائے ایک فرقہ کے سب دوزخی ہوں گے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ (نجات پانے والا فرقہ) کونسا ہوگا ؟ فرمایا : وہ (نجات یافتہ) ہوگا جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقہ پر ہوگا۔ (رواہ الترمذی)
معاویہ ؓ کی روایت 2 کے یہ الفاظ ہیں کہ بہتر (فرقے) دوزخ میں اور ایک جنت میں ہوگا اور وہ 3 جماعت ہے اور میری امت میں سے عنقریب کچھ جماعتیں ایسی نکلیں گی کہ خواہشات (ان کے رگ و پے میں گھس جائیں گی اور) ان کو ہلاکت میں گرادیں گی جیسے داء الکلب اپنے مریض کے اندر گھس جاتا ہے کوئی رگ اور کوئی جوڑ ایسا نہیں رہتا کہ یہ بیماری اس میں گھس نہ جائے۔ میں کہتا ہوں صحابہ میں یہ تفرقہ نہ تو رسول اللہ کے زمانہ میں ہوا نہ حضرت ابوبکر و حضرت عمر و حضرت عثمان رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خلافتوں میں امام برحق کے خلاف اوّل ترین بغاوت اہل مصر نے کی جنہوں نے حضرت عثمان کے خلاف خروج کیا اور خلافت کے معاملہ میں معاویہ کی طرف سے اوّل ترین اختلاف پیدا ہوا اور دین میں اوّل ترین اختلاف فرقہ حروریہ (خوارج و نواصب) نے کیا جنہوں نے حضرت علی ؓ کے خلاف بغاوت کی پھر عبد اللہ بن سبا نے مخالفت ڈالی اور حق کو چھوڑا یہی شخص رافضیوں کا سرچشمہ ہے پھر تابعین کے دور میں معتزلہ کا مسلک پیدا ہوا جنہوں نے فلاسفہ کا دامن جا پکڑا قیل و قال میں پھنس گئے۔ مناظرہ بازی میں پڑگئے۔ کتاب اللہ کی کھلی آیات اور رسول اللہ کی سنت اور سلف کے طریقہ کو انہوں نے چھوڑ دیا اور اپنے ناقص گمراہ خیالات کے پیرو ہوگئے۔
واذکروا نعمۃ اللہ علیکم اور اے گروہ انصار ! یاد رکھو اپنے اوپر اللہ کے احسان کو منجملہ اس کے احسان کے ایک بات یہ ہے کہ اس نے تم کو اسلام کی ہدایت کی جس وجہ سے تمہارے اندر اتفاق پیدا ہوگیا۔
اذ کنتم اعداء جب کہ اسلام سے پہلے تم باہم دشمن تھے۔
و الف بین قلوبکم پھر اسلام کے ذریعہ سے اللہ نے تمہارے دلوں میں باہمی الفت پیدا کردی۔
فاصبحتم بنعمتہ اخوانا اور تم اس کی رحمت و ہدایت سے بھائی بھائی ہو۔ یعنی دین، دوستی، ہمدردی اور محبت کے اعتبار سے بھائی بھائی بن گئے (اگرچہ نسبی برادری نہیں تھی)
محمد بن اسحاق اور دوسرے اہل تاریخ نے لکھا ہے کہ قبائل اوس و خزرج ایک ماں باپ کی نسل سے تھے لیکن ایک مقتول کی وجہ سے دونوں میں دشمنی ہوگئی اور اتنی بڑھی کہ ایک سو بیس برس تک باہم جنگ ہوتی رہی آخر کار اسلام کی وجہ سے اللہ نے ان کی باہمی عدات کی آگ بجھا دی اور رسول اللہ کی وجہ سے سب میں اتفاق ہوگیا ان کے اسلام اور باہمی الفت کا آغاز اس طرح ہوا کہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں ایک شخص تھا جس کا نام سوید بن صامت تھا اور قوم والے اس کو طاقتور اور اصیل ہونے کی وجہ سے کامل کہتے تھے۔ سوید حج یا عمرہ کرنے کے لیے مکہ کو گیا اس وقت رسول اللہ کی بعثت ہوچکی تھی اور آپ ﷺ کو اسلام کی دعوت دینے کا حکم مل چکا تھا۔ آپ ﷺ نے سوید کی آمد کی خبر سنی تو اس کے پیچھے گئے اور اللہ اور اسلام کی اس کو دعوت دی سوید نے کہا شاید تمہارے پاس ویسی ہی کوئی چیز ہے جیسی میرے پاس ہے ؟ حضور نے پوچھا تمہارے پاس کیا ہے۔ سوید نے کہا لقمان کا رسالہ یعنی لقمان کا پر حکمت کلام حضور ﷺ نے فرمایا : میرے سامنے لاؤ سوید نے پیش کیا (یعنی پڑھ کر سنایا) حضور نے فرمایا : یہ اچھا ہے مگر میرے پاس جو چیز ہے وہ اس سے افضل ہے میرے پاس قرآن ہے جس کو اللہ نے نور اور ہدایت بنا کر اتارا ہے پھر آپ نے اس کو قرآن سنایا اور اسلام کی دعوت دی سوید نے نفرت نہیں کی اور کہنے لگا یہ اچھی چیز ہے پھر واپس مدینہ چلا گیا اور کچھ ہی مدت کے بعد جنگ بعاث میں قبیلہ خزرج نے اس کو قتل کردیا اوس کی قوم والوں کا بیان کہ مسلمان ہونے کی حالت میں اس کو قتل کیا گیا۔
اس کے بعد ابو الحیسرانس بن رافع بن اشہل کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر جس میں ایاس بن معاذ بھی شامل تھا۔ قریش سے معاہدہ تعاون کرنے کے لیے آیا۔ رسول اللہ ﷺ کو اطلاع ملی تو آپ ﷺ تشریف لے گئے اور ان کے پاس بیٹھ کر فرمایا : جس کام کے لیے تم آئے ہو کیا اس سے بہتر چیز کی تم کو خواہش ہے ؟ لوگوں نے کہا وہ کیا چیز ہے فرمایا : میں اللہ کا پیغامبر ہوں۔ اللہ نے مجھے اپنے بندوں کے پاس بھیجا ہے میں ان کو دعوت دیتا ہوں کہ کسی چیز کوا اللہ کا ساجھی نہ قرار دو ، اللہ نے مجھ پر کتاب بھی نازل فرمائی ہے اس کے بعد آپ ﷺ نے ان کے سامنے اسلام کا تذکرہ کیا اور قرآن پڑھ کر سنایا ایاس بن معاذ جو نوجوان لڑکا تھا کہنے لگا قوم والو جس کام کے لیے تم آئے ہو خدا کی قسم یہ اس سے بہتر ہے ابو الحیسرنے ایک لپ بھر کر کنکریاں ایاس کے منہ پر ماریں اور بولا یہ اپنی بات رہنے دے ہم دوسری غرض سے آئے ہیں ایاس خاموش ہوگیا اور رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے اور وہ لوگ بھی مدینہ کو لوٹ گئے مدینہ پہنچنے کے بعد اوس و خزرج کے درمیان جنگ بعاث ہوئی اور کچھ ہی عرصہ کے بعد ایاس کا انتقال ہوگیا پھر جب اللہ نے چاہا کہ اس کا دین ظاہر اور رسول غالب ہوجائے تو ایک حج کے زمانہ میں ہر سال کے معمول کے موافق رسول اللہ ﷺ انصار کی ایک جماعت سے ملے اور عقبہ کے پاس ایک خزرجی گروہ سے ملاقات ہوئی اس گروہ میں چھ اشخاص تھے اسعد بن زرارہ، عوف بن حارث یعنی عوف بن عفراء نافع بن مالک عجلانی عطیہ بن عامر، عقبہ بن عامر اور جابربن عبد اللہ۔ اللہ کو مقصود تھا کہ ان کو خیر نصیب ہو۔
حضور ﷺ نے دریافت کیا تم کون لوگ ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : خزرجی گروہ۔ فرمایا : کیا یہودیوں کے دوستوں میں سے ہو ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں۔ فرمایا : کیا تم بیٹھ کر میری بات نہیں سنو گے انہوں نے کہا کیوں نہیں سنیں گے۔ اس کے بعد سب بیٹھ گئے رسول اللہ نے ان کو اللہ کی دعوت دی اسلام پیش کیا اور قرآن پڑھ کر سنایا (وہ مسلمان ہوگئے) ان کے اسلام کی خدا کی طرف سے ایک وجہ یہ بھی ہوئی کہ مدینہ میں وہ یہودیوں کے ساتھ رہتے تھے یہودی اہل کتاب اور اہل علم تھے اور یہ لوگ بت پرست اور مشرک، یہودیوں سے ان کا کچھ جھگڑا ہوجاتا تھا تو یہودی کہتے تھے اب ایک نبی آنے والا ہے جس کی بعثت کا زمانہ قریب آگیا ہے ہم اس کا اتباع کریں گے اور اس کے ساتھ ہو کر تم کو قوم عاد کی طرح قتل کریں گے پس اس گروہ نے جب رسول اللہ کا کلام اور اسلام کی دعوت سنی تو آپس میں کہنے لگے لوگو ! جانتے ہو کہ یہ وہی پیغمبر ہیں جن کا نام لے کر یہودی تم کو دھمکیاں دیتے ہیں اب یہودی تم سے اس کی مددحاصل کرنے میں سبقت نہ کرنے پائیں چناچہ سب نے حضور ﷺ کی تصدیق کی اور مسلمان ہوگئے اور عرض کیا ہم ایسی قوم کو چھوڑ کر آئے ہیں جن میں آپس کی جنگ اور دشمنی اتنی ہے کہ کسی قوم میں نہیں ہے۔ اب امید ہے کہ اللہ آپ ﷺ کے ذریعہ سے ان میں اتفاق کرادے گا۔ عنقریب ہم ان کے پاس جائیں گے اور ان کو اس بات کی دعوت دیں گے اگر اللہ نے ان سب کو آپ کے معاملہ میں متفق کردیا تو آپ سے بڑھ کر پھر کوئی عزت یافتہ نہ ہوگا پھر یہ لوگ رسول اللہ کے پاس سے اپنے شہرکو لوٹ گئے اور مدینہ پہنچ کر رسول اللہ کا تذکرہ کیا اور مدینہ والوں کو اسلام کی دعوت دی۔ حضور ﷺ کا ذکر مدینہ میں اتنا پھیل گیا کہ انصار کے ہر گھر میں آپ ﷺ ہی کا چرچا ہونے لگا۔
پھر آئندہ سال ایام حج میں بارہ انصاری آئے۔ اسعد بن زرارہ، عوف بن عفرا، معاذ بن عفراء، رافع بن مالک عجلانی، ذکوان بن عبد القیس، عبادہ بن صامت، زید بن ثعلبہ، عباس بن عبادہ، عقبہ بن عامر، عطیہ بن عامر، یہ سب خزرجی تھے اور قبیلہ اوس کے دو شخص تھے ابوالہیثم بن تیہان اور عویمر بن ساعدہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) عقبہ اولیٰ میں حضور ﷺ سے ان کی ملاقات ہوئی اور عورتوں کی بیعت کی کہ شرطوں پر انہوں نے رسول اللہ کی بیعت کی کہ شرک نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے۔۔ (حضور ﷺ نے فرمایا :) اگر تم ان شرطوں کو پورا کرو گے تو تمہارے لیے جنت ہے اگر ان میں کچھ کھوٹ کرو گے اور دنیوی سزا میں گرفتار ہوجاؤ گے تو گناہ کا کفارہ ہوجائے گا۔ لیکن اگر تمہارے جرم پر پردہ پڑا رہا تو تمہارا معاملہ اللہ کے سپرد رہے گا وہ چاہے تم کو عذاب دے چاہے معاف کردے۔
راوی کا بیان ہے کہ یہ واقعہ جنگ پیش آنے سے پہلے کا ہے۔ ان لوگوں کی واپسی کے وقت رسول اللہ نے مصعب بن عمیر بن ہاشم بن عبد مناف کو ان کے ساتھ کردیا اور حکم دیدیا کہ ان کو قرآن پڑھانا، اسلام کی تعلیم دینا اور احکام سمجھانا۔ مدینہ میں مصعب کا لقب مقری (قرآن پڑھانے والا) ہوگیا اور اسعد بن زرارہ کے مکان پر آپ کا قیام ہوا۔
کچھ مدت کے بعد اسعد بن زرارہ مصعب کو ساتھ لے کر بنی ظفر کے ایک باغ میں گئے اور اندر جا کر بیٹھ گئے وہاں دوسرے مسلمان بھی جمع ہوگئے۔ دوسری طرف سعد بن معاذ نے اسید بن حضیر سے کہا یہ دو نوں آدمی ہمارے گھر میں آکر ہمارے کمزور سمجھ کے آدمیوں کو بہکا نا چاہتے ہیں تم جا کر ان دونوں کو جھڑک کر نکال دو ۔ سعد میرے ماموں کا بیٹا ہے اگر یہ رشتہ نہ ہوتا تو میں خود ہی یہ کام کرلیتا تمہاری ضرورت بھی نہ ہوتی سعد اور اسید بن اشہل کے سردار تھے اور اس وقت تک مشرک تھے حسب مشورہ اسیداپنا چھوٹا نیزہ لے کر مصعب اور اسعد کے پاس گیا دونوں باغ کے اندر بیٹھے ہوئے تھے اسید کو دیکھ کر اسعد نے مصعب سے کہا یہ آنے والا اپنی قوم کا سردار ہے، اس کو مسلمان بناؤ مصعب نے جواب دیا اگر یہ بیٹھ جائے گا تو میں اس سے بات کروں گا۔ اسید پہنچ کر دونوں کے سامنے کھڑا ہوگیا اور گالیاں دینے لگا کہنے لگا تم ہمارے ہاں کیوں آئے ہو ؟ کیا ہمارے کمزور سمجھ والوں کو بیوقوف بنا رہے ہو اگر تم کو اپنی جان سے کچھ محبت ہے تو یہاں نے ہٹ کر چلے جاؤ۔ مصعب نے کہا آپ بیٹھ کر ذرا ہماری بات تو سن لیجئے اگر ہماری بات آپ کو پسند آجائے تو مان لینا ناپسند ہو تو آپ کے ناگوار خاطر بات نہیں کی جائے گی۔ اسید نے کہا یہ بات تم نے ٹھیک کہی یہ کہہ کر نیزہ زمین میں گاڑ کر دونوں کی طرف رخ کرکے بیٹھ گیا۔
مصعب نے اسلام کے متعلق اس سے گفتگو کی اور قرآن پڑھ کر سنایا۔ مصعب کا بیان ہے ابھی وہ کچھ بولا بھی نہ تھا مگر ہم کو اس کے چہرہ کی چمک اور بشاشت سے اسلام کے آثار دکھنے لگے تھے قرآن سننے کے بعد کہنے لگا یہ تو بڑی اچھی اور خوبصورت چیز ہے اچھا بتاؤ کہ اس مذہب میں داخل ہونے کے وقت تم کیا کرتے ہو ؟ مصعب اور اسعد نے جواب دیا غسل کرلو کپڑے پاک کرو پھر شہادت حق دو پھر دور کعت نما زپڑھو۔ اسید نے فوراً اٹھ کر جا کر غسل کیا کپڑے پاک کئے اور کلمہ شہادت پڑھ کر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز ادا کی پھر کہنے لگا میرے پیچھے ایک آدمی اور ہے اگر اس نے تمہاری بات مان لی تو اس کی قوم کا کوئی شخص تامل نہیں کرے گا وہ سعد بن معاذ ہے میں اس کو تمہارے پاس بھیجتا ہوں پھر نیزہ لے کر چل دیا اور اپنی چوپال پر جا کر ٹھہر گیا سعد نے پوچھا پیچھے کیا چھوڑ کر آئے ؟ اسید نے کہا خدا کی قسم میں نے تو ان میں کوئی جرأت نہیں پائی میں نے ان کو روک دیا انہوں نے کہا جیسا آپ کو پسند ہے ہم ویسا ہی کریں گے۔ لیکن مجھے ایک خبر یہ ملی ہے کہ بنی حارثہ اسعد کو قتل کرنے کے لیے نکلے ہیں کیونکہ اسعد تمہارا ماموں کا بیٹا ہے وہ اس کو قتل کرکے تم سے عہد شکنی کرنا چاہتے ہیں یہ سن کر سعد غضب ناک ہو کر فوراً اٹھ کھڑا ہوا نیزہ ہاتھ میں لیا اور بولا خدا کی قسم میرے خیال میں تم نے کچھ کام نہیں کیا باغ میں پہنچ کر دیکھا تو مصعب اور اسعد دونوں کو مطمئن پا کر سمجھ گیا کہ اسید نے مجھ اس لیے بھیجا ہے کہ میں خود پہنچ کر ان کی بات سنوں جب سامنے جاکر کھڑا ہوا تو گالیاں دینے لگا اور اسعد بن زرارہ سے بولا اگر مجھ سے تیرا رشتہ نہ ہوتا تو پھر میرے متعلق تیری یہ جرأت نہ ہوتی تو ہمارے گھر کے اندر ایسی باتیں لے کر آتا ہے جو ہم کو ناگوار ہیں۔ سعد کو دیکھتے ہی اسعد نے مصعب سے کہہ دیا تھا کہ یہ آنے ولا اپنی قوم کا سردار ہے اگر اس نے تمہاری بات مان لی تو پھر اسکی قوم میں کوئی تمہاری مخالفت نہیں کرے گا۔ مصعب نے سعد سے کہا ذرا بیٹھ کر ہماری بات سن لیجئے اگر آپ کو دل پسند اور مرغوب ہو تو مان لیں ورنہ آپ کے ناگوار خاطر کام ہم آپ سے الگ رکھیں گے۔ سعد نے کہا تیری یہ بات ٹھیک ہے پھر نیزہ زمین میں گاڑ کر بیٹھ گیا مصعب نے اسلام پیش کیا اور قرآن پڑھ کر سنایا۔ مصعب اور اسعد کا بیان ہے کہ سعد کے چہرہ کی چمک اور بشاشت دیکھ کر ہی ہم پہچان گئے تھے کہ اسلام اس کو پسند آگیا۔ چناچہ قرآن سن کر سعد نے کہا جب تم مسلمان ہوتے اور اس دین میں داخل ہوتے ہو تو کیا کرتے ہو ؟ مصعب نے کہا غسل کرلو دونوں کپڑے پاک کرلو پھر شہادتِ حق ادا کرو اور دو رکعت نماز پڑھو۔
سعد نے اٹھ کر غسل کیا، کپڑے پاک کئے، شہادت حق ادا کی اور دو رکعت نماز پڑھی اور نیزہ لے کر قصداً اپنی قوم کی چوپال کی طرف گئے ساتھ میں اسید بن حضیر بھی تھے قوم والوں نے آتا دیکھ کر کہا خدا کی قسم اب سعد کا وہ چہرہ نہیں جو جاتے وقت تھا۔ سعد نے قوم سے کہا اے بنی عبدالاشہل تم مجھے اپنے اندر کیسا جانتے ہو ؟ قوم والوں نے کہا آپ ہمارے سردار ہیں سب سے زیادہ آپ کی رائے فضیلت رکھتی ہے آپ کا قول و عمل نہایت مبارک ہے سعد نے کہا تو (سن لو کہ) تمہارے مردوں اور عورتوں سے بات کرنا مجھ پر حرام ہے جب تک تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لے آؤ۔ سعد کے اس قول کے بعد بنی عبد الاشہل کے احاطہ میں کوئی مرد عورت بغیر اسلام لائے نہیں رہا۔
اسعد اور مصعب دونوں لوٹ کر اسعد کے گھر آگئے مصعب یہیں مقیم رہے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے رہے یہاں تک کہ انصار کے احاطوں میں کوئی احاطہ ایسا نہیں رہا جس میں کچھ مرد اور عورتیں مسلمان نہ ہوں ہاں بنی امیہ بن زید اور حطمہ اور وائل اور واقف کے احاطہ میں مسلمان نہ ہوئے کیونکہ ابو قیس بن اسلت شاعر ان میں موجود تھا اور یہ خاندان والے اسی کی بات سنتے اور کہا مانتے تھے۔ اس نے سب کو اسلام سے روک دیا تھا یہاں تک کہ رسول اللہ ہجرت کرکے مدینہ میں تشریف لے آئے اور بدر، احد اور خندق کی لڑائیاں بھی گذر گئیں (اس کے بعد یہ لوگ مسلمان ہوگئے) ۔
اہل تاریخ نے لکھا ہے کہ اس کے بعد مصعب بن عمیر مکہ کو واپس چلے گئے اس وقت آپ کے ساتھ سترّ مسلمان انصاری اور کچھ مشرک تھے جو حج کے لیے گئے تھے مکہ پہنچ کر وسط ایام تشریق میں عقبہ ثانیہ پر رسول اللہ سے ملاقات ہونے کا وعدہ ہو ایہ ہی بیعت عقبہ ثانیہ کہلاتی ہے۔ کعب بن مالک کا بیان ہے کہ میں موجود تھا ہم حج سے فارغ ہوئے اور وعدہ ملاقات والی رات آئی یوں تو ہم اپنے ساتھ والے مشرکوں سے اپنی باتیں چھپا رکھتے تھے مگر ابو جابر عبد اللہ بن عمرو بن حرام کو ہم نے بتادیا تھا اور اس سے گفتگو کرلی تھی اور کہہ دیا تھا کہ آپ ہمارے سرداروں میں سے ایک سردار ہیں اور ہمارے بزرگ ہیں ہم نہیں چاہتے کہ آپ کل کو آگ کا ایندھن بنیں اس لیے جس حالت میں آپ ہیں اس حالت میں آپ کو چھوڑ دینا ہم کو پسند نہیں۔ غرض ہم نے اس کو اسلام کی دعوت دی اور وہ مسلمان ہوگیا اور ہم نے رسول اللہ کے وعدۂ ملاقات کو اس کو اطلاع دیدی اور عقبہ میں ہمارے ساتھ آگیا اور نقیب ہوگیا۔ وعدۂ والی رات کا کچھ حصہ ہم نے اپنی فرو گاہوں میں ہی گذارا جب ایک تہائی رات گذر گئی تو ہم چپکے چپکے چھپتے چھپاتے قطا (چکور) کی چال سے نکلے اور عقبہ کے پاس گھاٹی میں پہنچ کر جمع ہوئے اس وقت ہم سترّ مرد اور دو عورتیں تھے ایک بنی نجار کی ام عمارہ نسبیہ بنت کعب اور دوسری بنی سلمہ کی ام منیع اسماء بنت عمرو بن عدی۔ گھاٹی کے اندر ہم رسول اللہ کا انتظار کرتے رہے۔ آخر رسول اللہ حضرت عباس بن عبد المطلب کے ساتھ تشریف لے آئے۔
حضرت عباس نے فرمایا : اے گروہ خزرج (خزرج کا اطلاق انصاریوں کے پورے گروہ پر ہوتا تھا خزرجی ہوں یا اوسی تم واقف ہو کہ محمد ﷺ ہم میں سے ہیں جو لوگ ہماری قوم میں ہمارے خیالات کے ہیں ان سے ہم نے ان کی حفاظت کی ہے۔ یہ اپنی قوم میں باعزت اور اپنے شہر میں حفاظت سے ہیں لیکن یہ سب سے کٹ کر تم سے جڑنا چاہتے ہیں اور تم سے کٹنے پر راضی نہیں ہیں پس سوچ لو اگر اس بات کو تم پورا کرسکو جس کے لیے ان کو بلا رہے ہو اور مخالفوں سے ان کی حفاظت کرسکو تو تمہاری ذمہ داری تم پر ہے اور اگر تم یہ خیال کرتے ہو کہ جب یہ تمہارے پاس پہنچ جائیں گے (اور ان کو مدد کی ضرورت ہوگی) تو تم ان کو بےمدد، بےسہارا چھوڑ دوگے تو ابھی سے ان کو چھوڑ دو ۔ یہ عزت و حفاظت کے ساتھ ہیں (کعب کا بیان ہے) ہم نے جواب دیا جو کچھ آپ نے فرمایا : ہم نے سن لیا۔ لیکن اے رسول خدا ﷺ آپ خود کچھ فرمائیے اور اپنے لیے اور اپنے رب کے لیے ہم سے جو عہد لینا چاہیں لے لیجئے۔
راوی کا بیان ہے اس پر رسول اللہ بولے، قرآن مجید کی تلاوت کی اور اللہ کی طرف بلایا اور اسلام کی طرف راغب کیا پھر فرمایا : میں تم سے ان شرطوں پر بیعت لیتا ہوں کہ اپنی بیوی بچوں کی جس چیز سے حفاظت کرو گے اس سے میری بھی حفاظت کرنا۔ یہ سن کر براء بن معرور نے دست مبارک پکڑ لیا اور عرض کیا قسم ہے اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہم جس چیز سے اپنی اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہیں اس سے آپ کی بھی حفاظت کریں گے۔ یا رسول اللہ ہماری بیعت قبول کیجئے ہم خود بھی جنگجو ہیں اور دوسرے سے بھی تعاون کا ہمارا معاہدہ ہے جو بزرگوں سے موروثی چلا آتا ہے براء رسول اللہ ﷺ سے بات کر ہی رہے تھے کہ ابو الہثم بن تیہان بیچ میں بول اٹھے اور کہنے لگے یا رسول اللہ کچھ لوگوں سے ہمارے معاہدے ہیں اب ان کو ختم کرنا پڑے گا کہیں ایسا تو نہ ہوگا کہ ہم سب سے معاہدہ ختم کردیں اور اللہ آپ کو غلبہ عنایت فرما دے تو آپ ﷺ ہم کو چھوڑ کر اپنی قوم کی طرف آجائیں یہ کلام سن کر رسول اللہ مسکرا دیئے اور فرمایا : تمہارا خون میرا خون ہے۔ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے۔ جس سے تم لڑو گے میں بھی لڑوں گا جس سے تم صلح کرو گے میں بھی صلح کروں گا پھر حضور نے فرمایا : اپنے میں سے بارہ نمائندے چھانٹ کر نکال لو جو حضرت عیسیٰ کے حواریوں کی طرح اپنی اپنی قوم کے ذمہ دار ہوں حسب الحکم بارہ نمائندے چھانٹے گئے نو خزرج میں سے اور تین اوس میں سے۔
عاصم بن عمرو بن قتادہ کا بیان ہے کہ جب بیعت کے لیے لوگ جمع ہوگئے تو عباس بن عبادہ بن نفلہ انصاری نے کہا : اے گروہ خزرج کیا تم جانتے ہو کہ کس شرط پر تم اس شخص کی بیعت کر رہے ہو ‘ ہر گورے کالے سے لڑنے کی بیعت کر رہے ہو اگر تمہارا خیال ہو کہ جب تمہارے مالوں پر کوئی مصیبت پڑے گی اور تمہارے سردار مارے جائیں گے تو تم اس کو بےمدد چھوڑ جاؤ گے تو ابھی بیعت نہ کرو ورنہ اس وقت خدا کی قسم دنیا و آخرت کی رسوائی نصیب ہوگی اور اگر مالوں کی تباہی اور سرداروں کی ہلاکت کے باوجود تم اپنے اس وعدہ کو پورا کرسکتے ہو جس پر تم اس شخص کو دعوت دے رہے ہو تو اس کو لے لو۔ خدا کی قسم یہ دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔
انصار نے جواب دیا ہم مالوں کی تباہی اور سرداروں کے قتل ہوجانے کے بعد بھی ان کو نہیں چھوڑیں گے اور اسی شرط پر ان کو قبول کر رہے ہو لیکن اے اللہ کے رسول اگر ہم نے یہ شرط پوری کردی تو ہم کو اس کے عوض کیا ملے گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : جنت۔ انصار نے عرض کیا تو دست مبارک پھیلائیے حضور ﷺ نے ہاتھ پھیلایا۔ سب نے بیعت کرلی اوّل براء بن معرور نے ہاتھ پر ہاتھ مارا پھر یکے بعد دیگرے دوسرے لوگوں نے۔
جب ہم بیعت کرچکے تو عقبہ کی چوٹی سے انتہائی بلند آواز سے شیطان نے چیخ کر کہا اے اہل حباحب کیا تم کو مُذَمَّم (محمد ﷺ کی بھی اطلاع ہے بےدین اس کے ساتھ مل کر تم سے جنگ کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : یہ اللہ کا دشمن ہے۔ یہ عقبہ کا ازب ہے۔ 1 اے دشمن خدا سن لے خدا کی قسم میں تیرے (مقابلہ کے) لیے بالکل فارغ ہوجاؤں گا پھر فرمایا : اب تم اپنے اپنے پڑاؤ پر چلے جاؤ عباس بن عبادہ بن نضلہ نے عرض کیا قسم ہے اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر آپ چاہیں تو ہم کل صبح ہی اہل منا پر تلواریں لیکر ٹوٹ پڑیں گے فرمایا : مجھے اس کا حکم نہیں دیا گیا ہے تم اپنی فرد گاہوں پر چلے جاؤ حسب الحکم ہم اپنی خوابگاہوں پر آگئے اور سو گئے صبح ہوئی تو قریش کے بڑے بڑے لوگ ہمارے پڑاؤ پر آئے اور کہنے لگے اے گروہ خزرج ہم کو اطلاع ملی ہے کہ تم ہمارے اس ساتھی کے پاس سے آئے ہو اسکو ہمارے پاس سے نکال کرلے جانا چاہتے ہو اور ہمارے خلاف جنگ کرنے کیلئے اس سے بیعت کر رہے ہو خدا کی قسم عرب کے کسی قبیلہ سے جنگ چھڑ جانا ہمارے نزدیک اتنی قابل نفرت نہیں جتنی تم سے ہے یہ سن کر ہمارے (یعنی خزرج اور اسکے) مشرک کھڑے ہوگئے اور اللہ کی قسم کھا کر انہوں نے کہا ایسی کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہمیں اسکا علم ہے حقیقت میں انہوں نے سچ کہا تھا انکو بیعت کا علم ہی نہ تھا۔ انکی باتوں کے وقت ہم آپس میں ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے غرض سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے۔
قریش میں ایک شخص حارث بن مغیرہ مخزومی نئی جوتیاں پہنے ہوئے تھا میں نے ابو جابر سے ایک بات کہی گویا میں (دوسرے قریش کو یہ دکھانا چاہتا تھا کہ میں) مشرکین انصار کے کلام کی تائید کر رہا ہوں اور بات یہ تھی کہ میں نے اس سے کہا ابو جابر تم ہمارے سرداروں میں سے ہو لیکن اتنی بھی تم میں استطاعت نہیں کہ اس قریشی جوان کی جوتیوں کی طرح جوتیاں ہی بنوا لو حارث نے یہ بات سنی تو فوراً جوتیاں پاؤں سے نکال کر میری طرف پھینک دیں اور بولا خدا کی قسم اب ان کو تو پہنے گا ابو جابر نے کہا ہائیں تو نے جوان کو غصہ دلا دیا جوتیاں واپس کردے میں نے کہا میں تو واپس نہیں کروں گا۔ یہ شگون اچھا ہے اگر فال سچی ہوئی تو خدا کی قسم میں اس کے کپڑے اتار لوں گا۔ غرض مضبوط معاہدہ کے بعد انصار مدینہ کو لوٹ گئے اور مدینہ میں اسلام کا ظہور ہوگیا۔
قریش کو اس کی اطلاع ملی تو وہ رسول اللہ کے صحابہ کو دکھ دینے لگے حضور ﷺ نے ساتھیوں سے فرمایا : اللہ نے تمہارے کچھ بھائی بنا دیئے ہیں اور امن کی ایک جگہ بھی دیدی ہے تم ہجرت کرکے مدینہ چلے جاؤ اور اپنے انصاری بھائیوں میں مل کر رہو۔ اس حکم پر سب سے پہلے سلمہ بن عبد اللہ مخزومی کے بھائی نے مدینہ کو ہجرت کی پھر عامر بن ربیعہ نے پھر عبد اللہ بن جحش نے پھر پے در پے جتھے جانے لگے اس طرح اسلام کی وجہ سے اللہ نے مدینہ والے اوس اور خزرج کے قبیلوں کو متفق بنا دیا اور رسول اللہ کے ذریعہ ان میں باہم صلح کرادی۔
و کنت علی شفا حفرۃ من النار اور تم دوزخ کے گڑھے کے کنارہ پر تھے یعنی قریب ہی تھا کہ اس میں گر پڑو سوائے موت علی الکفر کے کوئی چیز اس میں گرنے سے مانع نہیں رہی تھی۔
فاقذکم منہا پس اللہ نے اسلام کی وجہ سے تم کو اس آگ یا گڑھے یا گڑھے کے کنارے سے بچا لیا۔ شفا کا لفظ اگرچہ مذکر ہے لیکن اسکا مضاف الیہ یعنی حفرۃ کا لفظ مؤنث ہے اسلئے مونث کی ضمیر اسکی طرف راجع ہوسکتی ہے اسکے علاوہ شفا اور شَفَۃٌ ہم معنی ہیں۔ شفاء البر اور شفۃ البر کنوئیں کا کنارہ جیسے جانبٌ اور جانِبَۃٌ ہم معنی ہیں۔ دونوں کی اصل شفو تھی مذکر میں واؤ کو الف سے اور مؤنث میں تاء سے بدل دیا اسلئے شفاء کی جانب مؤنث کی ضمیر لوٹانا بھی درست ہے۔
کذالک یبین اللہ لکم آیاتہ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی دلیلیں بیان فرماتا ہے۔
لعلکم تھتدون تاکہ تم ہدایت پر جمے رہو تمہاری ہدایت میں اضافہ ہو۔
Ayah 3:104و لتکن منکم امۃ اور تم میں سے بعض لوگوں کی ایک جماعت ہونی چاہئے من تبعیضیہ ہے کیونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض کفایہ ہے ہر شخص پر فرض نہیں ہے وجہ یہ ہے کہ امر ونہی کیلئے علم شریعت اور احتساب کی قدرت ضروری ہے (اور یہ بات سب لوگوں میں نہیں ہوسکتی بعض میں ہوتی ہے) آیت میں خطاب اہل اسلام کی پوری جماعت کو ہے مگر مکلف بعض کو کیا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی اس فرض کو انجام نہ دے گا تو فرض جماعت ادا نہ ہوگا اور سب گناہگار ہونگے (کیونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جماعت کا فرض ہے) اور اگر بعض نے کرلیا تو سب کے سر سے قرض ادا ہوجائے گا من بیانیہ بھی ہوسکتا ہے اس وقت ہر شخص پر ممنوع امر سے باز داشت کرنی لازم ہوگی (خواہ ہاتھ سے ہو یا زبان سے اور یہ بھی ممکن نہ ہو تو) کم سے کم دل سے ہی اس فعل سے نفرت ہو۔
یدعون الی الخیر جو لوگوں کو بھلائی کی طرف بلائیں یعنی ان عقائد ‘ اخلاق اور اعمال کی دعوت دیں جن کے اندردین و دنیا کی بہتری ہو۔ ابن مردویہ نے حضرت امام باقر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : قرآن اور میری سنت پر چلنا ہی خیر ہے۔ سیوطی نے اس حدیث کو معضل کہا ہے۔
حضرت عثمان کے متعلق روایت میں آیا کہ آپ نے اس آیت کو (اتنی ترمیم اور اضاف کے ساتھ) اس طرح پڑھا تھا۔ و لتکن منکم امۃ یدعون الخیر و یامرون بالمعروف و ینھون عن المنکر۔ وَیَسْتَغِیْثُوْن علٰی ما اصابھم۔ و اولٓئک ھم المفلحون یعنی خیر مانگیں کہ لوگوں سے مصیبت دور ہو۔
و یامرون بالمعروف اور ایسے کام کا حکم دیتے ہیں جس کی خوبی وجوبی طور پر یا استحبابی طور سے شریعت کی طرف سے جان لی گئی ہے۔
و ینھون عن المنکر اور بری باتوں سے روکیں یعنی جن محرمات اور مکروہات کو شرع نے برا قرار دیا ہے ان سے روکیں (خیر کا لفظ عام تھا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو شامل تھا لیکن) امر و نہی کی فضیلت خاص طور پر ظاہر کرنے کے لیے عطف کردیا گیا۔
و اولءِک ھم المفلحون یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے ہی کامیاب ہوں گے جو ایسا نہ کرے گا ناکام ہوگا اور گھاٹا اٹھائے گے۔
حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : تم میں سے جس کو بری بات دکھائی دے اور وہ اپنے ہاتھ سے اس کو بدل دے ہاتھ سے نہ کرسکے تو زبان ہی سے (اس سے روک تھام کرے) اگر ایسا بھی نہ کرسکے تو دل سے ہی (اس کو بر اجانے) اور یہ کمزور ترین ایمان (کا درجہ) ہے۔ (رواہ مسلم)
حضرت نعمان بن بشیر کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : ضوابط الہٰیہ میں سستی کرنے والے اور ان میں پڑجانے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کچھ لوگوں نے قرعہ اندازی کی ہو اور قرعہ ڈالنے کے بعد کوئی کشتی کے بالائی درجہ میں سوار ہوگیا اور کوئی نچلے درجہ میں۔ نچلے درجہ والا پانی لے کر بالائی درجہ والوں کی طرف سے گذرتا تھا تو ان کو تکلیف پہنچتی تھی اس لیے نچلے درجہ والے نے کلہاڑی لے کر کشتی کے نچلے حصہ میں سوراخ کرنا شروع کیا بالائی درجہ والوں نے جاکر کہا تو یہ کیا کر رہا ہے اس نے جواب دیا آپ لوگوں کو میری وجہ سے تکلیف ہوتی تھی اور مجھے پانی کی بہر حال ضرورت ہے (اس لیے کشتی میں سوراخ کر رہا ہوں) اب اگر وہ لوگ اس کے ہاتھ پکڑ لیں گے تو اس کو بھی ڈوبنے سے بچالیں گے اور خود بھی محفوظ رہیں گے اور اگر (سوراخ کرتے) چھوڑ دیں گے تو اس کو بھی ہلاک کریں گے اور خود بھی ہلاک ہوں گے۔ (رواہ البخاری)
حضرت حذیفہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم ضرور ضرور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو گے ورنہ قریب ہے کہ اللہ تم پر اپنا عذاب بھیج دے گا پھر تم اس کے دور ہونے کی دعا کرو گے مگر تمہاری دعا قبول نہ ہوگی۔ (رواہ الترمذی)
حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا : لوگو ! تم آیت : یٰٓایُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ پڑھتے ہو (ور خیال کرتے ہو کہ اگر کوئی برے کام کرے گا تو تم کو اس کا نقصان نہیں پہنچے گا خواہ ہم اس کی روک تھام کریں یا نہ کریں) حالانکہ میں نے رسول اللہ سے سنا ہے آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ اگر لوگ بدکاریاں دیکھ کر ان کو بدلنے کی کوشش (ہاتھ یا زبان یا دل سے) نہیں کریں گے تو ممکن ہے کہ اللہ ان سب پر اپنا عمومی عذاب بھیج دے 1 ۔
عدی بن عدی کندی کے ایک آزاد کردہ غلام کے دادا کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا رسول اللہ فرما رہے تھے کہ مخصوص لوگوں کے (برے) اعمال سے اللہ تعالیٰ عام لوگوں کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ عام لوگ اپنے سامنے بدکاریاں دیکھ کر باوجود تردید کی قدرت کے انکار نہ کرتے ہوں جب وہ ایسا کرتے ہیں تو اللہ عام و خاص سب کو عذاب میں گرفتار کردیتا ہے۔ (رواہ البغوی فی شرح السنہ)
حضرت ابن مسعود کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑگئے تو ان کے علماء نے منع کیا مگر وہ نہ مانے مگر علماء ان کی مجلسوں میں ان کے ساتھ بیٹھتے اور کھاتے پیتے رہے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان سب کے دل ایک جیسے کردیئے اور داؤد و عیسیٰ کی زبانی ان پر لعنت کرائی : ذٰلِکَ بِمَاعَصوا وَّ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ اس وقت تکیہ لگائے ہوئے تھے یہ فرمانے کے بعد بیٹھ گئے اور فرمایا : نہیں خدا کی قسم یہاں تک کہ تم بھی ان کی طرف جھک جاؤ گے پورے طور پر۔ (رواہ الترمذی و ابو داؤد)
ایک سوال اگر کوئی خیر نہ کرتا ہو اور شر سے باز نہ رہتا ہو (یعنی بدکار ہو) تو کیا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس پر بھی واجب ہے۔
جواب ہاں آیت کی عبارت سے ثابت ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس پر بھی واجب ہے لیکن اس سے بطور اقتضاء خود بھی پابندی کا وجوب نکل رہا ہے۔ تاکہ آیت : اَتَامُرُوْنَ النَّاس بالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ اور لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ۔ کَبُرَ مقْتًا عِنْدَ اللہ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ کا مصداق نہ بن جائے۔
حضرت اسامہ بن زید کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : قیامت کے دن ایک آدمی کو لا کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اور وہ اپنی انتڑیاں گھسیٹتا ہوا دوزخ میں اس طرح چکر کاٹے گا جیسے گدھا چکی کو لے کر گھومتا ہے دوزخی اس کے پاس جمع ہو کر کہیں گے اے شخص یہ تیرا کیا حال ہے کیا تو ہم کو اچھے کام کرنے کا حکم اور برے کاموں سے باز داشت نہیں کرتا تھا وہ جواب دے گا میں تم کو نیکی کرنے کا حکم دیتا تھا مگر خود نہیں کرتا تھا اور برے کاموں سے روکتا تھا مگر خود کرتا تھا۔ (متفق علیہ)
حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : معراج کی رات میں نے کچھ آدمی دیکھے جن کے لب آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے میں نے پوچھا جبرائیل یہ کون لوگ ہیں ؟ جبرائیل نے جواب دیا یہ آپ کی امت کے وہ خطیب ہیں جو لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیں گے اور خود اپنے کو بھول جائیں گے۔ (رواہ البغوی فی شرح السنہ والبیہقی فی شعب الایمان)
Ayah 3:105و لا تکونوا کالذین تفرقوا اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو پھٹ کر بٹ گئے یعنی یہودیوں کی طرح نہ ہوجانا جو پھٹ کر بہتر فرقوں میں بٹ گئے۔
واختلفوا من بعد ما جاء ھم البینات اور کھلے ہوئے قطعی دلائل آنے کے بعد اہم اختلاف کرنے لگے۔
البینات سے مراد ہیں اللہ کی آیات محکمہ اور انبیاء کی احادیث متواترہ اور انہی جیسی دوسری دلیلیں جیسے اجماع امت اسلامیہ۔
اختلاف عام ہے خواہ اصول دین میں ہو جیسے اہل سنت سے اہل بدعت (معتزلہ، خوارج وغیرہ) کا اختلاف یا ان فروعی مسائل میں ہو جن کا ثبوت اجماعی ہے جیسے وضوء میں پاؤں دھونا اور خفین پر مسح کرنا اور خلفاء اربعہ کی خلافت۔ قطعیت کی شرط لگانے سے اس امتناعی حکم سے وہ اختلاف خارج ہوگیا جو ظنی دلائل میں اجتہادی اختلاف کی صورت میں ہوتا ہے کیونکہ ظنی دلائل کا اجتہادی اختلاف ضروری ہے اس اختلاف میں بعض مجتہدوں کی اجتہادی غلطی تو لامحالہ ہوتی ہے لیکن اگر ضد اور تعصب کے بغیر اجتہادی طاقت صرف کرنے کے بعد غلطی ہوجائے تو معاف ہے بلکہ لوگوں کے لیے رحمت (اور مجتہد کے لیے موجب ثواب) ہے۔ عبدین حمید نے مسند میں اور دارمی اور ابن ماجہ نے اور عبدری نے الجمع بین الصحیحین میں اور ابن عساکر نے اور حاکم نے حضرت عمر بن خطاب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : میں نے اپنے رب سے اپنے ساتھیوں کے اس اختلاف کے متعلق دریافت کیا جو میرے بعد ہوگا (کہ ان لوگوں کا کیا ہوگا ؟ ) اللہ نے وحی بھیجی کہ محمد تیرے ساتھی میرے نزدیک ستاروں کی طرح ہیں بعض بعض سے زیادہ قوی (روشنی والے) ہیں۔
دوسری روایت میں آیا ہے کہ بعض نے بعض سے زیادہ روشن ہیں اور روشنی ہر ایک میں ہے۔ اب اختلافی مسائل میں جو بھی جس مسلک کو لے گا وہ میرے نزدیک ہدایت پر ہوگا۔ (رواہ الدارقطنی فی فضائل الصحابہ و ابن عبد البر عن جابر والبیہقی فی المدخل عن ابن عباس)
بیہقی نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے یہ بھی بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : تم کو جو کچھ (حکم) اللہ کی کتاب سے دیا گیا ہے اس پر عمل کرو کسی کے لیے کتاب اللہ کو ترک کرنے کا عذر نہیں ہوسکتا۔ اگر اللہ کی کتاب میں نہ ہو تو نبی کی سنت فیصلہ کن ہے اگر نبی کی سنت (میں) بھی نہ ہو تو جو کچھ میرے صحابہ کہیں (اس پر عمل کرو) میرے اصحاب آسمان کے ستاروں کی طرح ہیں جس کو پکڑ لو گے (اور پیچھے لگ جاؤ گے) ہدایت پاؤ گے۔ میرے صحابہ کا اختلاف تمہارے لیے رحمت ہے۔
بیہقی نے مدخل میں اور ابن سعد نے طبقات میں قاسم بن محمد کا قول نقل کیا ہے کہ محمد ﷺ کے صحابیوں کا اختلاف اللہ کے بندوں کے لیے رحمت ہے۔ بیہقی نے عمر بن عبد العزیز کا قول بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔
و اولءِکَ لھم عذاب عظیم یعنی قطعی دلائل کے بعد جن لوگوں نے تفرقہ کیا انہی کے لیے عذاب عظیم ہے۔
Ayah 3:106یوم تبیض وجوہ و تسود وجوہ وجوہ میں دونوں جگہ تنوین مضاف الیہ کے عوض میں آئی ہے یعنی جس روز مؤمنوں کے چہرے روشن اور کافروں کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ تنوین تکثیر کے لیے بھی ہوسکتی ہے یعنی بہت سے چہرے روشن اور بہت چہرے سیاہ ہوں گے۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اہل سنت کے چہرے روشن اور اہل بدعت کے چہرے کالے ہوں گے۔ دیلمی نے مسند الفردوس میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عمر کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : کہ اہل سنت کے چہرے روشن اور اہل بدعت کے چہرے سیاہ ہوں گے۔
فاما الذین اسودت وجوھھم اکفرتم بعد ایمانکم پس جن کے چہرے سیاہ پڑگئے ہوں گے ان سے کہا جائے گا کہ نبی اور کتاب پر ایمان لانے کے بعد پھر تم نے قطعی دلائل کا انکار کیا اور دین میں تفرقہ کیا اور متشابہات کی تفسیر کے پیچھے پڑگئے۔ استفہام زجر اور تعجب کے اظہار کے لیے ہے۔
فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون پس اپنے کفر کرنے کی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھو۔ یہ آیت اس امت اور گذشتہ امتوں کے بدعتیوں کے حق میں نازل ہوئی۔ حضرت ابو امامہ اور قتادہ کا یہی قول ہے۔ امام احمد وغیرہ نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا : وہ خارجی ہیں لیکن حضرت اسماء کی روایت کردہ حدیث بتارہی ہے کہ اس آیت میں اہل رائے مراد ہیں کیونکہ رسول اللہ نے فرمایا : میں حوض پر دیکھتا رہوں گا کہ کون کون میرے پاس آتا ہے کچھ لوگ مجھ سے پرے ہی پکڑ لیئے جائیں گے (یعنی ان کو حوض پر نہیں آنے دیا جائے گا) میں کہوں گا۔ اے رب یہ تو میرے ہیں میری امت کے (افراد) ہیں جواب دیا جائے گا کیا تم کو معلوم ہے کہ تمہارے بعد انہوں نے کیا کیا ‘ خدا کی قسم یہ برابر اپنی ایڑیوں کے بل (تمہاری ہدایت سے) لوٹتے رہے۔
(رواہ البخاری)
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان فتنوں سے پہلے عمل کرلو جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح آئندہ چھا جائیں گے ‘ صبح کو آدمی مؤمن ہوگا اور شام کو کافر، شام کو کافر ہوگا اور صبح کو مؤمن۔ دین کو دنیا کے حقیر سامان کے عوض بیچ ڈالے گا۔ (رواہ احمد و مسلم والترمذی)
بعض اقوال میں آیا ہے کہ اس آیت کا نزول مرتدوں کے حق میں ہو اتھا بعض علماء نے مورد نزول ان اہل کتاب کو قرار دیا ہے جنہوں نے حضرت موسیٰ اور تورات پر ایمان لانے کے بعد رسول اللہ کا انکار کردیا یا بعثت سے پہلے تو رسول اللہ پر (غائبانہ) ایمان رکھتے تھے مگر بعثت کے بعد انکار کردیا۔ بعض نے کہا تمام کفار کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی کیونکہ اللہ نے سب کو (ازل میں) اپنی ربوبیت کا شاہد بنا لیا تھا اور دنیا میں آنے کے بعد لوگ کافر ہوگئے یا یوں کہا جائے کہ دلائل پر غور کرنے کے بعد ایمان لانے پر قادر تھے مگر ایمان نہ لائے۔
Ayah 3:107و اما الزین ابیضت وجوھم اور جن لوگوں کے چہرے گورے ہوں گے یعنی اہل سنت۔
ففی رحمۃ اللہ پس وہ اللہ کی رحمت یعنی جنت اور لازوال ثواب میں ہوں گے۔ جنت کی تعبیر بلفظ رحمت کرنے سے اس امر پر تنبیہ کی گئی ہے کہ مؤمن کی چاہے پوری عمر اللہ کی اطاعت میں صرف ہوئی ہو مگر جنت میں اس کا داخلہ اللہ کی رحمت اور فضل کے بغیر ممکن نہیں۔
حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : راستی اختیار کرو اور درمیانی رفتار سے چلو اور خوش رہو کیونکہ جنت کے اندر کسی کو اس کے اعمال نہیں لے جائیں گے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ کو بھی (آپ کے اعمال جنت میں نہیں لے جائیں گے ؟ ) فرمایا : نہ مجھ کو ‘ ہاں اللہ اپنی مغفرت اور رحمت سے مجھ کو ڈھانک لے (تو جنت میں داخلہ مل جائے گا) (رواہ الشیخان فی الصحیحین و احمد) شیخین نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ایسی ہی حدیث بیان کی ہے اور مسلم نے حضرت جابر کی روایت سے ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے کہ تم میں سے کسی کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا اور نہ دوزخ سے بچائے گا اور نہ مجھے سوائے اللہ کی رحمت کے۔
یہ حدیث حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے امام احمد نے اور حضرت ابو موسیٰ اور حضرت شریک بن طارق کی روایت سے بزار نے نیز مؤخر الذکر راوی اور حضرت اسامہ بن شریک اور حضرت اسد بن کرز کی روایت سے طبرانی نے نقل کی ہے لیکن ان تمام احادیث کا تعارض آیت : اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ سے ہوتا ہے (کیونکہ آیت میں اعمال کو داخلۂ جنت کا سبب بتایا گیا ہے) اس کا جواب صرف یہ ہوسکتا ہے کہ جنت کے اندر مختلف مدارج و مراتب ہیں جن کا حصول اعمال پر موقوف ہے آیت کا یہی مطلب ہے باقی ابتدائی داخلہ اور دوامی سکونت یہ اللہ کے فضل ورحمت کی ممنون ہے احادیث کا یہی مقصد ہے۔ حضرت ابن مسعود کے اس قول کا بھی اسی طرف اشارہ ہے کہ تم پل صراط سے گذرو گے اللہ کی معافی کی وجہ سے اور جنت میں داخل ہو گے اللہ کی رحمت سے اور (جنت کے اندر) تمہارے حصے میں (مختلف) منازل آئیں گے تمہارے اعمال کے موافق۔ (رواہ ہناد فی الزہد) ابو نعیم نے عون بن عبد اللہ کی سند سے بھی ایسا ہی نقل کیا ہے
ھم فیھا خالدون وہ رحمت یا جنت میں ہمیشہ رہیں گے یہ مستقل جملہ ما قبل کی تاکید بھی کر رہا ہے اور اس امر کی طرف اشارہ بھی کہ رحمت (یعنی ابتدائی داخلہ) مستقل نعمت ہے اور جنت کے اندر ہمیشہ کا قیام یہ الگ مستقل نعمت ہے۔
Ayah 3:108تلک آیٰت اللہ۔ یہ اللہ کی آیات ہیں جن کے اندر (جنت و رحمت کا) وعدہ اور (دوزخ و عذاب سے) وعید ہے۔
نتلوھا علیک بالحق ہم آپ کو پڑھ کر سنا رہے ہیں اور یہ آیات برحق ہیں کسی شبہ کی گنجائش نہیں۔
و ما اللہ یرید ظلما للعلمین اور اللہ اہل جہان پر ظلم کرنا نہیں چاہتا کیونکہ اس کی طرف سے ظلم ہونے کا تصور ہی نہیں ہوسکتا۔ وہ مالک مطلق ہے اپنی ملکیت میں جیسا چاہتا ہے کرتا ہے اس پر نہ کچھ کرنا لازم ہے نہ کچھ کرنا واجب اور جب کوئی چیز اس پر واجب ہی نہیں ہے تو ظلم کیسا ؟ (ظلم تو ترک واجب کو کہتے ہیں) ۔
میں کہتا ہوں آیت کی مراد بظاہر یہ ہے کہ اللہ بندوں کے معاملات میں ظلم کرنا نہیں چاہتا کہ نیکی کرنے والے کے ثواب کو گھٹا دے یا جرم کرنے والے کی سزا کو جرم کی مقدار سے بڑھا دے اور کفر چونکہ سب سے بڑا گناہ ہے اس لیے اس کا عذاب بھی سب گناہوں کے عذاب سے زیادہ اور دائمی ہوگا۔
Ayah 3:109واللہ ما فی السموات و ما فی الارض اور آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے اسی کی مخلوق ہے اور اسی کی ملک۔
و الی اللہ ترجع الامور اور اللہ ہی کی طرف تمام امور کی آخری واپسی ہوگی پس وہی وعدہ اور وعید کے موافق جزا و سزا دے گا۔
Ayah 3:110کنتم خیر امۃ بغوی نے عکرمہ کا بیان نقل کیا ہے کہ مالک بن الضیف اور وہب بن یہود یہودی تھے ان دونوں نے حضرت ابن مسعود اور حضرت معاذ بن جبل اور حضرت سالم مولی ابی حذیفہ سے کہا ہم تم سے افضل ہیں اور ہمارا مذہب اس دین سے بہتر ہے جس کی دعوت تم ہم کو دیتے ہو۔ اس پر مندرجہ آیت نازل ہوئی خیر کی اضافت امت کی جانب اضافت صفت الی الموصوف ہے (یعنی واقع میں معنی کے لحاظ سے خیر صفت اور امت موصوف ہے) ۔
ایک شبہ کنتم ماضی کا صیغہ ہے یعنی ماضی میں تم بہترین امت تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب بہترین نہیں رہے نہ آئندہ بہترین رہنے کی کوئی صراحت ہے۔
جواب بیشک کان ماضی ہے جو زمانہ ماضی میں کسی چیز کے ثبوت پر دلالت کررہا ہے لیکن اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ثبوت ماضی منقطع ہوگیا یا آئندہ منقطع ہوجائے گا اس کی تعیین تو خارجی قرینہ سے ہی ہوتی ہے (جیسے زید نے اگر سیر ہو کر کھانا کھالیا ہو اور کوئی کہے کہ زید دو گھنٹے پہلے بھوکا تھا یہاں قرینہ موجود ہے کہ زید اس وقت بھوکا نہیں ہے بھوک کا زمانہ ختم ہوگیا اگر انقطاع ماضی یا انقطاع مستقبل کا خارجی قرینہ موجود نہ ہو تو استمرار ہی سمجھا جائے گا جیسے) اللہ نے فرمایا ہے : وَ کَان اللہ غفورًا رَحیما (یعنی اللہ کا غفور و رحیم ہونا کسی خاص زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں۔ اگرچہ اس جگہ یہی کان صیغہ ماضی موجود ہے) پس کنتم خیر امۃ کی آیت دلالت کر رہی ہے کہ وہ ماضی میں بھی بہترین تھے اور وقت خطاب میں بہترین ہیں اور آئندہ بھی بہترین ہوں گے۔
جس طرح آیت : تامرون بالمعروف۔۔ میں (مضارع کے صیغے استعمال کئے ہیں جو حال اور مستقبل دونوں پر دلالت کرتے ہیں) یہ بھی احتمال ہے کہ امت اسلامیہ کے خیرالامم ہونے سے مراد یہ ہو کہ تم علم الٰہی میں خیر الا مم تھے یا ذکر کے وقت گذشتہ اقوام میں خیر الامم تھے۔
اخرجت وہ بہترین امت جو ظاہر کی گئی (عدم سے وجود میں لائی گئی) اور پیدا کی گئی ہے کنتم کے مخاطب یا تو صحابہ ہیں بروایت ضحاک جویبر نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا : کہکنتم خیر امۃ ہمارے اولین کے لیے ہے پچھلوں کے لیے نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے رسول اللہ کے ساتھ مدینہ کو ہجرت کی۔ حضرت عمر نے فرمایا : اگر اللہ چاہتا تو بجائے کنتم کے انتم فرماتا لیکن اس نے کنتم صرف صحابہ کے لیے اور ان لوگوں کے لیے جنہوں نے صحابیوں کی طرح کام کئے فرمایا، یا مخاطب عام امت محمدیہ ہے دونوں مضمون نصوص سے ثابت ہیں اور یہی اجماع امت کا فیصلہ ہے کیونکہ امت اسلامیہ تمام امتوں سے افضل ہے اور امت اسلامیہ میں قرن صحابہ افضل ہے۔ 5 5 1
ا اللہ نے فرمایا ہے : وَ لَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصَّالِحُوْنَ ۔ دوسری آیت ہے : ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا۔۔ اور رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ہے : جب تک میں داخل نہ ہوجاؤ جنت میں داخلہ انبیاء کے لیے حرام کردیا گیا ہے اور جب تک میری امت داخل نہ ہوجائے دوسری امتوں کے لیے جنت میں داخلہ حرام کردیا گیا ہے 2 ۔
طبرانی کی مرفوع روایت حضرت ابن عباس ؓ سے ہے کہ جنت تمام امتوں کے لیے حرام کردی گئی ہے تاوقتیکہ میں اور میری امت یکے بعد دیگرے اس میں داخل نہ ہوجائیں۔ امام احمد اور بزار اور طبرانی نے سند صحیح کے ساتھ حضرت جابر کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : مجھے یقینی امید ہے کہ جنہوں نے میری پیروی کی وہ (کل) جنت والوں کے ایک چوتھائی ہوں گے پھر فرمایا : مجھے امید ہے کہ وہ (میرے پیرو) اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہوں گے اور پھر فرمایا : مجھے امید ہے کہ وہ آدھے ہوں گے۔
ترمذی نے بسند حسن اور حاکم نے بسند صحیح بیان کیا ہے کہ اہل جنت کی 20 1 قطاریں ہوں گی جن میں اسّی امت کی اور باقی دوسری امتوں کی ہوں گی۔ طبرانی نے بھی ایسا ہی نقل کیا ہے اس حدیث کے راوی حضرت ابو موسیٰ ، حضرت ابن عباس، حضرت معاویہ بن جندہ اور حضرت ابن مسعود (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) ہیں۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : تم سترّ امتوں کا تتمہ ہو اور سب سے بہتر ہو اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والے ہو۔ یہ حدیث بہز بن حکیم کے دادا کی روایت سے ابن ماجہ اور دارمی نے بیان کی ہے اور ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے اور بغوی نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بھی اس کو بیان کیا ہے۔
رسول اللہ نے فرمایا : میری امت کی مثال ایسی ہے جیسے بارش کہ معلوم نہیں اس کا ابتدائی حصہ بہتر ہے یا آخری حصہ۔ یہ حدیث ترمذی نے حضرت انس اور حضرت جعفر بن محمد کے دادا کی روایت سے بیان کی ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ نے معاف فرما دی میری امت کے لیے بھول چوک اور وہ گناہ جس پر اس کو مجبور کیا گیا ہو۔ یہ حدیث بیہقی اور ابن ماجہ نے بیان کی ہے۔
رسول اللہ نے فرمایا : بہترین لوگ میرے دور کے ہیں پھر وہ لوگ ہیں جو ان سے متصل ہوں گے اس کے بعد وہ لوگ ہیں جو ان کے بعد ہوں گے پھر ایسے لوگ آئیں گے جن میں سے بعض کی شہادت قسم سے پہلے اور قسم شہادت سے پہلے ہوگی 1 ۔ یہ حدیث حضرت ابن مسعود کی روایت سے شیخین اور ترمذی اور احمد اور طبرانی نے بیان کی ہے اور ایسی ہی حدیث مسلم نے حضرت عائشہ کی روایت سے اور ترمذی و حاکم نے حضرت عمران بن حصین کی روایت سے بیان کی ہے۔
رسول اللہ نے فرمایا : میرے اصحاب کو گالی نہ دو کیونکہ تم میں سے اگر کوئی (کوہ) احد کے برابر سونا راہ خدا میں خرچ کرے گا تو ان کے سیر بھر بلکہ آدھے سیر (خرچ کرنے کے درجہ) کو بھی نہیں پہنچے گا یہ حدیث شیخین نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کی ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا : میرے صحابہ میں سے جو کوئی کسی زمین میں مرے گا قیامت کے دن وہ ان لوگوں کے (یعنی اس زمین والوں کے) لیے قائد اور نور راہ بنا کر اٹھایا جائے گا۔
للناس لوگوں کے لیے اس لفظ کا تعلق خیر سے ہے یعنی تم لوگوں کے لیے خیر ہو حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا لوگوں کے لیے سب لوگوں سے زیادہ بہتر ہو کہ وہ زنجیروں میں بندھے آتے ہیں اور تم ان کو اسلام میں داخل کرلیتے ہو۔
میں کہتا ہوں کہ گذشتہ اقوام سے زیادہ اس امت کے مبلغین و مرشدین کی ہدایت میں اثر ہے کہ لوگوں کو کھینچ کر اللہ کی طرف لے جاتے ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ قطب الارشاد اور شاہ ولایت تھے گذشتہ امتوں میں سے کوئی بھی آپ کی روحانی وساطت کے بغیر درجہ ولایت تک نہیں پہنچ سکا پھر آپ کی اولاد میں سے ائمہ کرام اس منصب پر فائز ہوئے جن کا سلسلہ امام حسن عسکری اور حضرت شیخ عبد القادر جیلانی تک مسلسل پہنچا اسی لیے حضرت شیخ جیلانی نے فرمایا : و وقتی قبل قلبی قد صفالی آپ اس منصب پر قیامت تک فائز رہیں گے اسی لیے آپ (رح) نے فرمایا تھا : افلت شموس الاولین و شمسنا۔ ابدًا علی افق العلی لا تغرب پہلے لوگوں کے سورج چھپ گئے اور ہمارا سورج ہمیشہ بلندی پر رہے گا کبھی غروب نہ ہوگا بعض لوگوں کے نزدیک للناس کا تعلق اخرجت سے ہے یعنی لوگوں کے لیے تم کو پیدا کیا گیا ہے۔
تامرون بالمعروف و نتھون عن المنکر یہ مستقل جملہ امت کی فضیلت کے بیان کے لیے لایا گیا ہے یا پور اجملہ امۃٍ کی صفت ہے یعنی جو امتیں ان صفات کی حامل تھیں ان سب سے تم افضل ہو۔
و تو منون باللہ یعنی تم نیکی کا حکم دیتے ہو بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو ایمان باللہ سے مراد بعض علماء کے نزدیک ہر اس چیز پر ایمان لانا ہے جس پر ایمان لانا ضروری 1 ہے کیونکہ ایسا ہی ایمان قابل اعتبار ہے 2 باوجودیکہ اہل کتاب 3 اللہ پر ایمان رکھتے تھے پھر بھی اللہ نے ان کے متعلق فرمایا : وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الکِتَابِ ۔۔.
حضرت طلحہ بن عبید اللہ کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : کیا تم واقف ہو کہ اللہ واحد پر ایمان لانا کیا (معنی رکھتا) ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بخوبی واقف ہے فرمایا : (ایمان باللہ ہے) لا الٰہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی شہادت دینا اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ دینا۔ (شیخین فی الصحیحین)
سوال ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ایمان باللہ کا ذکر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے پہلے کیا جاتا کیونکہ ایمان کا درجہ مقدم ہے اعمال خیر ایمان پر مبنی ہیں لیکن آیت میں ایمان کا ذکر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے بعد کیا گیا۔
جواب اس تقدیم تاخیر سے اس امر پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ایمان باللہ اور تصدیق قلبی کے ساتھ کرتے ہیں دکھاوے کے لیے نہیں کرتے گویا تو منون باللہ امر بالمعروف کی خصوصی شرط ہے یا مؤخر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آئندہ جملہ کے ساتھ ارتباط ہوجائے۔
وَلَو امن اھل الکتاب یعنی تمہاری طرح تمام اہل کتاب ایمان لے آتے۔
لکان خیرا لھم تو ان کے لیے بہتر ہوتا کیونکہ اس وقت ان کا شمول بھی خیر الامم میں ہوجاتا ہے۔
میں کہتا ہوں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایمان باللہ سے مراد ہو حقیقی ایمان یعنی دل کو ماسوا کے خیال سے پاک اور نفس کو بری خصلتوں سے صاف کرنا اور اسی خاص محبت کو دل میں جمانا جس میں کسی ذاتی غرض کی آمیزش نہ ہو نہ دنیوی لالچ ہو نہ دینی۔
منھم المومنون اہل کتاب میں سے کچھ لوگ قابل اعتبار ایمان رکھتے ہیں جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ وغیرہ
و اکثرھم الفاسقون اور ان میں اکثر ایمان سے خارج ہیں۔ یہ جملہ سابق (وَلَو اٰمَنَ اھل الکتاب) کا بیان ہے کیونکہ جملہ سابقہ میں تمام اہل کتاب کا ایمان لانا مراد ہے اور موجود بعض کا ایمان ہے اکثر کافر ہیں۔ و لو امن اھل الکتاب سے ان اہل کتاب کو بد گمانی پیدا ہوسکتی تھی جو سچے دل سے مسلمان ہوگئے تھے 4 اس بد گمانی کو دفع کرنے کے لیے منھم المؤمنون فرمادیا۔
Ayah 3:111لن یضروکم الا اذی وہ تم کو ہرگز ضرر نہ پہنچا سکیں گے سوائے معمولی تکلیف 5 کے۔ یعنی زبان وغیرہ سے تکلیف کے علاوہ (کوئی جانی مالی دکھ نہیں پہنچا سکیں گے) مقاتل کا بیان ہے کہ جب سرداران یہود نے مسلمان اہل کتاب (جیسے عبد اللہ بن سلام وغیرہ) کو ضرر پہنچانے کا ارادہ کیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تاکہ مسلمان اہل کتاب کو تسلی ہو۔
و ان یقاتلوکم یولوکم الادبار اور اے مسلمانو ! اگر وہ یہودی تم سے لڑیں گے تو پیٹھ دے کر شکست کھا کر بھاگیں گے اور قتل و غارت یا قیدکادکھ تم کو نہ پہنچا سکیں گے۔
ثم لا ینصرون پھر ان کو فتح نہیں مل سکتی فتح تمہاری ہی ہوگی یہ آیت گذشتہ لا یضروکم کا بیان ہے اور ایک (سچی) پیشین گوئی ہے کیونکہ بنی قریظہ، بنی نظیر، اہل خیبر و فدک کا یہی حال ہوا۔