3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 3:112

ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْكَنَةُ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَۗ Open ayah 3:112 in the Quran reader

یہ جہاں نظر آئیں گے ذلت (کو دیکھو گے کہ) ان سے چمٹ رہی ہے بجز اس کے کہ یہ خدا اور (مسلمان) لوگوں کی پناہ میں آ جائیں اور یہ لوگ خدا کے غضب میں گرفتار ہیں اور ناداری ان سے لپٹ رہی ہے یہ اس لیے کہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتےتھے اور (اس کے) پیغمبروں کو ناحق قتل کر دیتے تھے یہ اس لیے کہ یہ نافرمانی کیے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے

ضربت علیھم الذلۃ ان یہودیوں پر ذلت کی مہر لگا دی گئی ہے یعنی انکی جان ‘ اہل و عیال اور مال کو مباح کردیا گیا ہے این ما ثقفوا جہاں بھی پائے جائیں۔ الا بحبل من اللہ مگر قرآن یا دین اسلام کی وجہ سے (ان کی حفاظت ہوسکتی ہے) جس نے امن طلب کافروں اور ذمیوں سے تعرض نہ کرنے کا حکم دیا ہے اللہ نے فرمایا ہے : وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمشرکین اسْتَجَارَکَ فَاجِرْہُ دوسری جگہ فرمایا : حتّٰی یُعْطُوُا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَدٍ وَّ ھُمْ صَاغِرُوْنَ ۔ و حبل من الناس اور مسلمانوں کے عہد سے یعنی امان طلبی کے۔ اگر مسلمان امان ہی کا عہد کرلیں یا قبول جزیہ کے بعد عقد ذمہ ہوجائے (تو یہودیوں کا جان و مال محفوظ ہوجائے گا) گویا حبل اللہ اور حبل من الناس سے ایک ہی مراد ہے (یعنی عقد ذمہ بعد قبول الجزیہ یا امان دہی اگر دونوں جدا جدا چیزیں ہوتیں تو دونوں کے درمیان واؤ عاطفہ نہ ہو بلکہ اَوْ ہوتا 1 ؂۔ و باء و بغضب من اللہ اور اللہ کے غضب کے سزا وار ہو کر اپنی اصلی حالت کی طرف لوٹیں گے یعنی مریں گے یا مرنے کے بعدزندہ ہوں گے۔ اللہ نے فرمایا ہے : کنتم امواتاً فاحیاکم ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ۔ وضربت علیم المسکنۃ اور مسکینی یعنی کنجوسی اور حرص کا احاطہ ان پر کردیا گیا جیسے نصب کردہ ڈیرہ خیمہ اپنے اندر رہنے والوں کو گھیرے ہوئے ہوتا ہے کنجوس آدمی مال خرچ نہیں کرتا ہمیشہ مسکینوں کے حلیہ سے رہتا ہے اور حریص ہمیشہ کمائی کی کوشش اور مشقت میں لگا رہتا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ یہودی بیشتر فقراء اور مساکین ہوتے ہیں 2 ؂۔ ذالک یہ ذلت مسکینی اور غضب خدا کی مہر اس لیے ہے بانھم کانوا یکفرون کہ وہ کفر کرتے رہے ہیں۔ بایٰت اللہ اللہ کی آیات کا۔ و یقاتلون الانبیاء اور انبیاء کو قتل کرتے رہیں ہیں۔ بغیر حق ناحق۔ یعنی وہ جانتے رہے ہیں کہ انبیاء کو قتل کرنا ظلم اور خلاف حق ہے۔ ذالک یہ کفر اور قتل انبیاء بما عصوا ضد اور عناد کے زیر اثر قصداً اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے ہوا۔ و کانوا یعتدون اور اس وجہ سے بھی کہ وہ اللہ کے ضوابط سے سرکشی کرتے رہے۔ بعض علماء کے نزدیک ذالکدوم کا مشار الیہ بھی وہی دنیوی ذلت اور اخروی استحقاق عذاب ہے اور ذلت و استحقاق عذاب کی دو علتیں ہیں ایک کفر و قتل انبیاء اور دوسری معصیت و تجاوز از ضوابط کیونکہ وہ فرعی احکام کے بھی مکلف تھے (پس اصول کی مخالفت اور فروعی احکام کی خلاف ورزی دونوں دنیوی ذلت اور اخروی استحقاق عذاب کی موجب ہیں) میں کہتا ہوں کہ اس تفسیر پر دوسرے ذالک پر حرف عاطف لانا چاہئے تھے۔ ابن مندہ نے الصحابہ میں اور ابن ابی حاتم اور طبرانی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب حضرت عبد اللہ بن سلام اور ثعلبہ بن شعبہ اور اسید بن تبیعہ اور اسد بن عبید اور ان کے ساتھ دوسرے یہودی مسلمان ہوگئے اور ایمان لے آئے اور اسلام کی انہوں نے تصدیق کی اور دل سے اسلام کی طرف راغب ہوئے تو علماء یہود نے کہا کہ محمد پر ایمان لانے والے اور ان کی پیروی کرنے والے صرف وہی لوگ ہیں جو ہم میں برے تھے اگر اچھے ہوتے تو اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر دوسرے کی طرف نہ جاتے اس پر اللہ نے نازل فرمایا : لَیسوا سواء الی قولہ من الصالحین۔ احمد اور نسائی اور ابن حبان نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا کہ (ایک روز) رسول اللہ نے عشاء کی نماز میں تاخیر کردی پھر دیر کے بعد (نبوت کدہ سے) برآمد ہو کر مسجد میں تشریف لائے لوگ نماز کے منتظر تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : خبردار ہوجاؤ کہ اس وقت کسی مذہب کا کوئی شخص تمہارے سوا اللہ کی یاد نہیں کرتا اور یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 3:113

لَیْسُوْا سَوَآءً١ؕ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآئِمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ Open ayah 3:113 in the Quran reader

یہ بھی سب ایک جیسے نہیں ہیں ان اہلِ کتاب میں کچھ لوگ (حکمِ خدا پر) قائم بھی ہیں جو رات کے وقت خدا کی آیتیں پڑھتے اور (اس کے آگے) سجدہ کرتے ہیں

لیسوا سواء یعنی تمام یہودی مذکورہ برائیوں میں برابر نہیں ان میں سے ہی بعض لوگ ان کے برعکس ہیں جس کی وضاحت یہ ہے کہ من اھل الکتاب امۃ قائمۃ اہل کتاب میں سے ہی ایک گروہ ہے جو نماز میں کھڑا رہتا ہے۔ قائمۃ سے مراد ہے نماز میں کھڑا رہنے والا لیکن حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کہ اس سے مراد ہے ہدایت یافتہ اللہ کے امر پر قائم رہنے والا۔ مجاہد نے کہا امت عادلہ مراد ہے یہ لفظ اس جگہاَقَمْتُ الْعُوْدَ سے ماخوذ ہے۔ میں نے لکڑی کو سیدھا کردیا۔ سدی نے کہا فرماں بردار اللہ کی کتاب اور ضوابط کا پابند گروہ مراد ہے۔ امۃ قائمۃ سے مراد ہیں حضرت عبد اللہ بن سلام اور آپ کے یہودی مسلمان۔ یتلون ایات اللہ جو اللہ کی آیات یعنی قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ اناء الیل اوقات شب میں یعنی کھڑے ہوتے ہیں اور پڑھتے ہیں اوقات شب میں اٰنَاء جمع ہے اس کا مفرداَنْیٌ ہے۔ و ھم یسجدون ایسی حالت میں وہ سجدے کرتے ہیں یعنی نماز پڑھتے ہیں حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : عشاء کی نماز مراد ہے کیونکہ اہل کتاب عشاء کی نماز نہیں پڑھتے ہیں (یعنی ان کے مذہب میں عشاء کی نماز فرض نہیں ہے) ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے فرمایا : ایک رات ہم عشاء کی نماز کا انتظار کرتے رہے ایک تہائی رات گذر جانے کے بعد رسول اللہ برآمد ہوئے ہم کو نہیں معلوم کہ تاخیر کا باعث کوئی کام تھا یا کوئی اور وجہ۔ تشریف لا کر فرمایا : تم نماز کے انتظار میں ہو (اس وقت) تمہارے علاوہ کسی اور مذہب والا نماز کا انتظار نہیں کرتا۔ اگر امت پر بار پڑنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ان کو اسی وقت نماز پڑھایا کرتا پھر آپ ﷺ نے حکم دیا مؤذن نے اقامت کہی اور آپ ﷺ نے (لوگوں کے ساتھ) نماز پڑھی 1 ؂۔ میں کہتا ہوں سیاق کلام سے ظاہر یہ ہے کہ تہجد کی نماز مراد ہے عشاء کی نہیں کیونکہ آیت کی رفتار کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی دوامی حالت یہ ہے کہ (کہ اوقات شب میں نماز پڑھتے اور قیام کرتے ہیں) رہا تاخیر عشاء کا قصہ وہ ضرور ایک واقعہ ہے (دوامی عادت نہیں) پھر اس قصہ کے سلسلہ میں اس آیت کا نازل ہونا صحیحین میں مذکور نہیں۔ اس کے علاوہ یَتْلُوْنَجمع کا صیغہ ہے اور عشاء کی نماز میں قراءت کرنے والا صرف امام ہوتا ہے۔ دوسرے لوگوں کو مجازاً ہی قراءت کرنے والا کہا جاسکتا ہے۔ عطاء نے کہا کہ امۃ قائمۃ سے مراد نجران کے چالیس ‘ حبش کے تیس اور روم کے آٹھ آدمی ہیں ‘ یہ سب عیسائی تھے جنہوں نے (بعثت سے پہلے ہی) رسول اللہ کی تصدیق کی تھی اور رسول اللہ کی ہجرت سے پہلے انصار کی ان سے دوستی تھی۔ انصاریوں میں سے اسعد بن زرارہ اور براء بن معرور اور محمد بن مسلمہ اور محمود بن مسلمہ اور ابو قیس صرمہ بن انس ان کے دوست تھے چونکہ شریعت حنیفہ (ملت ابراہیمی) سے یہ لوگ واقف تھے اس لیے غسل جنابت کرتے اور رات کو نماز پڑھتے تھے یہاں تک کہ رسول اللہ مبعوث ہوگئے تو سب نے آپ ﷺ کی تصدیق کی اور مدد کی۔
Ayah 3:114

یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:114 in the Quran reader

(اور) خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے اور اچھے کام کرنےکو کہتے اور بری باتوں سے منع کرتےاور نیکیوں پر لپکتے ہیں اور یہی لوگ نیکوکار ہیں

یومنون باللہ والیوم الاخر وہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ و یامرون بالمعروف و ینھون عن المنکر اور نیکی کا حکم دیتے اور بری باتوں سے روکتے ہیں۔ و یسارعون فی الخیرات اور نیک کاموں میں تیزی سے بڑھتے ہیں کیونکہ ان کو اللہ سے کامل خوف ہے اور ان کے ہوا و ہوس کا سلسلہ کوتاہ ہے رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : اس سے پہلے کہ ایسا بڑھاپا آجائے جس میں سر ہلنے لگے یا غفلت کی حالت میں موت آجائے یا (حرکت سے) روک دینے والے بیماری پیدا ہوجائے یا ناامید کردینے والی تاخیر آجائے نیک اعمال کرو 2 ؂۔ چونکہ یہودیوں کے اوصاف واطوار قبیحہ متعدد تھے حق سے منحرف تھے دن رات خواب غفلت میں سرشار تھے مشرک تھے اللہ کی صفات کے عقیدہ میں کج رو تھے آخرت کا عقیدہ رکھتے تھے مگر غلط طور پر۔ بری باتوں کا حکم دیتے اور اچھے کاموں سے روکتے اور خود تیزی سے برائیوں میں گھستے تھے۔ اسلئے آیات مذکورہ میں امۃ قائمۃ کے ایسے متعدد اوصاف بیان کئے جو یہودیوں کے اوصاف کی ضد تھے۔ و اولءِکَ من الصالحین اور اوصاف مذکورہ کے پورے پورے حامل صالحین میں سے ہیں یعنی ان لوگوں میں انکا شمول ہے جن کے دل درست اور نفوس پاکیزہ ہیں اور پاکیزہ قلب و نفس کی وجہ سے انکے جسم بھی حامل صلاح ہیں۔
Ayah 3:115

وَ مَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّكْفَرُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:115 in the Quran reader

اور یہ جس طرح کی نیکی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور خدا پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے

و ما یفعلوا من خیر فلن یکفروہ وہ جو نیکی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی یعنی ہم نہ اس نیکی کو گھٹائیں گے، نہ ثواب میں کمی کریں گے۔ جس طرح تکمیل ثواب کو شکر کہا گیا ہے اسی طرح ثواب سے محرومی یا ثواب کے نقصان کو ناشکری فرمایا۔ وا اللہ علیم بالمتقین اور اللہ تقویٰ والوں سے خوب واقف ہے یہ جملہ متقیوں کے لیے بشارت بھی ہے اور ناقدری نہ ہونے کی علت بھی کیونکہ کریم کا اپنے بندہ کی نیکیوں کو جان لینا ہی اچھا بدلہ عطا فرمانے کی علت ہے اس آیت میں تنبیہ ہے اس امر پر کہ اوصاف مذکورہ سے جو لوگ متصف ہیں وہ صالح بھی ہیں اور متقی بھی۔
Ayah 3:116

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:116 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں ان کے مال اور اولاد خدا کے غضب کو ہرگز نہیں ٹال سکیں گے اور یہ لوگ اہلِ دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے

ان الذین کفروا لن تغنی عنھم اموالھم و لا اولادھم من اللہ شیئا واولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدین جن لوگوں نے کفر کیا (اور کفر پر مرے) ان کے مال و اولاد اللہ کے عذاب کو ان سے بالکل دفع نہیں کرسکیں گے وہی دوزخی ہوں گے اور ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اس آیت کی تفسیر پہلے گذر چکی ہے۔ دیکھو آغاز سورت۔
Ayah 3:117

مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 3:117 in the Quran reader

یہ جو مال دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے چلے اور اسے تباہ کر دے اور خدا نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں

مثل ما ینفقون فی ھذہ الحیوۃ الدنیا ما مصدری ہے یعنی خرچ کرنا مراد یہ ہے کہ رسول اللہ کی دشمنی میں یا شیخی اور فخر کا مظاہرہ کرنے کے لیے خرچ کرنا جیسے کفار قریش لڑائیوں میں کرتے ہیں یا ثواب کی امید میں خرچ کرنا جیسے یہودی اپنے علماء کے لیے اور کفار قریش بتوں کے لیے کرتے تھے یا دکھاوٹ کے لیے خرچ کرنا جیسے منافق کرتے تھے اس کی حالت ایسی ہے۔ کمثل ریح فیھا صر جیسے وہ ہوا جس میں سخت سردی ہے۔ صِرٌّ سخت سردی۔ (قاموس) ایک روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہصرسخت گرم اور ہلاک کردینے والی لو کو کہتے ہیں۔ اصابت حرث قوم ظلموا انفسھم فاھلکتہ کسی ایسے گروہ کی کھیتی کو لگ جائے جس نے کفر و معصیت و بد کاری کی وجہ سے خود اپنے پر ظلم کیا ہو پھر اس کھیتی کو تباہ کردے۔ مطلب یہ کہ جس طرح سخت سرد ہوا یا جلا ڈالنے والی لو، ظالموں کی کھیتی کو تباہ کردیتی ہے اسی طرح کافروں کا مال خرچ کرنا بھی تباہی کا موجب ہے کیونکہ ایسا خرچ اللہ کے عذاب کو لاتا ہے یا مال کو بالکل برباد کردیتا ہے کہ نہ دنیا میں اس کا کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہے نہ آخرت کے لیے ذخیرہ ہوتا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما ینفقون میں ما موصولہ ہو اور تشبیہ مرکب ہو ایک قصہ کو دوسرے قصہ سے تشبیہ دی ہے اس لیے حرف تشبیہ کو حرف پر داخل کرنے کے بجائے ریح پر داخل کردیا (حالانکہ ریح مشبہ بہ نہیں ہے) یہ بھی جائز ہے کہ ضائع کردہ مال کو کھیتی سے تشبیہ دی گئی ہو لیکن اس طرح ریح سے پہلے لفظ مہلک محذوف قرار دیا جائے گا یعنی وہ کھیتی جو ریح کی وجہ سے تباہ ہوگئی ہو۔ و ما ظلمھم اللہ اور اس صرف کو ناکارہ یا کھیتی کو تباہ کرکے اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ و لکن انفسھم یظلمون بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے تھے کہ مال کو ایسے طریقہ پر صرف کرتے تھے جو اللہ کے ہاں فائدہ رساں نہیں تھا یا کھیتی والے ایسے کام کرتے تھے کہ سزا کے مستحق ہوگئے۔ ابن جریر اور ابن اسحاق نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ کچھ مسلمانوں کا میل ملاپ یہودیوں کے ساتھ تھا کیونکہ دونوں ہمسائے تھے اور جاہلیت کے زمانہ میں حلیف (ہم عہد) بھی تھے۔ اس سلسلہ میں ذیل کی آیت نازل ہوئی۔
Ayah 3:118

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا١ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ١ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ۖۚ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:118 in the Quran reader

مومنو! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازداں نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی اور (فتنہ انگیزی کرنے) میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہوہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دی ہیں

یایھا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم اے اہل ایمان اپنے لوگوں یعنی مسلمانوں کے علاوہ دوسروں کو اندرونی یارغار نہ بناؤ۔ بطانۃ راز دار اور وہ شخص جس پر اعتماد کرکے کوئی اس کو اپنے رازوں سے واقف بنا دے۔ دون بمعنی ادنیٰ یعنی ان لوگوں کو اپنا یارغار نہ بناؤ جو تم سے نچلے اور کم مرتبہ والے ہیں۔ اس میں مسلمانوں کی مدح ہے کہ تمہارا مرتبہ غیر مسلموں سے زیادہ ہے اور اس بات کی بھی آیت سے ہدایت (مستفاد) ہوتی ہے کہ اونچے مرتبہ والوں کے ساتھ رہو ادنیٰ لوگوں کی صحبت نہ اختیار کرو گوشہ نشینی برے ہم نشین سے بہتر ہے اور اچھا ہم نشین تنہائی سے بہتر ہے۔ من دونکم کا لفظ رافضیوں، خارجیوں اور دوسرے بدعتیوں کو بھی شامل ہے اس لیے کافروں کی طرح ان کو بھی اندرونی راز دار بنانا جائز نہیں۔ لا یالونکم خبالا یعنی جو لوگ دوسرے مذہب پر ہیں وہ تمہارے اندر شر اور بگاڑ پیدا کرنے میں کوتاہی نہیں کریں گے بلکہ تمہارے اندر شر فساد کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش خرچ کردیں گے۔ ودو ما عنتم ما مصدری ہے یعنی تمہارا سخت دکھ اور تکلیف میں پڑجانا وہ دل سے پسند کرتے ہیں بلکہ (کبھی) قد بدت البغضاء من افواھھم دشمنی ان کے منہ سے ظاہر ہوجاتی ہے انتہائی بغض کی وجہ سے وہ اپنے پر قابو بھی نہیں رکھتے اور ایسی باتیں کہہ گذرتے ہیں جن سے تم کو دکھ ہو۔ و ما تخفی صدورھم اکبر اور جو بغض ان کے دلوں کے اندرچھپا ہوا ہے وہ ظاہر شدہ بغض سے بہت بڑا ہے کیونکہ وہ دھوکہ اور فریب دینے کے لیے (عموماً ) دوستی کا اظہار کرتے ہیں۔ قد بینا لکم الاٰیٰت ہم نے تمہارے سامنے کھلی ہوئی نشانیاں کھول کر بیان کردیں جن سے ان کی عداوت معلوم ہوجاتی ہے یا جو دلالت کر رہی ہیں کہ اللہ کا مخلص ہونا اور مؤمنوں سے دوستی رکھنا اور کافروں سے دشمنی کرنا واجب ہے۔ مذکورہ بالا چاروں جملے علیحدہ علیحدہ مستقل ہیں اور عدم موالات کی علت ہیں یا پہلے تین جملے بطانۃ کے اوصاف ہیں بہر صورت کلام سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم مسلمان سے اس کے ایمان کی وجہ سے دشمنی نہ رکھتا ہو اور شرو فساد اس کا مقصود نہ ہو یا رشتہ داری اور قرابت کی وجہ سے مسلمان سے مودت رکھتا ہو اس سے موالات کرنے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ مسلمان ہونے سے پہلے حضرت عباس اور رسول اللہ کے درمیان معاملہ تھا یا ابو طالب اور رسول اللہ کا تعلق تھا۔ حضرت عباس راوی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ابو طالب کو آپ ﷺ نے کچھ فائدہ پہنچایا وہ تو آپ ﷺ کے اردگرد گھومتے رہتے تھے (یعنی آپ کی حفاظت کرتے تھے) اور آپ کی حمایت میں دوسروں پر غصہ کرتے تھے فرمایا : ہاں وہ ٹخنوں تک آگ میں ہے لیکن اگر میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے نچلے طبقہ میں ہوتا۔ (رواہ مسلم) اسی طرح بزارنے حضرت جابر کی روایت سے اور مسلم نے حضرت حذیفہ اور حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے۔ ان کنتم تعقلون یہ شرطیہ جملہ ہے جس کو جزاء کی ضرورت نہیں کیونکہ کلام سابق مفہوم جزاء پر دلالت کر رہا ہے یعنی اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو کافروں کی اندرونی دوستی سے باز رہو ان کو دشمن ہی سمجھو اللہ سے خلوص رکھو اور مسلمانوں سے موالات کرو۔
Ayah 3:119

هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ١ۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۗۚ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:119 in the Quran reader

دیکھو تم ایسے (صاف دل) لوگ ہو کہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اور وہ تمہاری کتاب کو نہیں مانتے) اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں (ان سے) کہہ دو کہ (بدبختو) غصے میں مر جاؤ خدا تمہارے دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

ھانتم اولاء تحبونھم و لا یحبونکم دیکھو تم تو قرابت یا دوستی کے پیش نظر ان سے محبت کرتے ہو حالانکہ وہ اختلاف مذہب کی وجہ سے تم سے محبت نہیں کرتے (یہ عجیب بات ہے) ۔ و تو منون بالکتب کلہ باوجودیکہ تم سب ہی کتابوں پر ایمان رکھتے ہو یا پوری تورات پر تمہارا ہی ایمان ہے اوّل مطلب پر الکتاب میں الف لام جنسی ہوگا اور دوسری صورت میں عہدی۔ اس جملہ میں واؤ حالیہ ہے اور مبتداء محذوف ہے اصل کلام : و انتم تو منون بالکتاب تھا انتم (مسند الیہ) کو تومنون (خبر فعلی) سے پہلے لانا مفید حصر ہے۔ یعنی تم ہی ایمان رکھتے ہو کافر تمام کتابوں پر یا پوری تورات پر ایمان نہیں رکھتے کیونکہ تورات کے اندر جو نبی ﷺ کے اوصاف کا بیان ہے اس کو نہیں مانتے۔ اس بیان میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ جتنے تم لوگ حق پر مضبوط ہو اس سے زیادہ وہ باطل پر سخت ہیں۔ و اذا لقوکم قالوا امنا جب وہ تم سے ملتے ہیں تو نفاق کے ساتھ کہتے ہیں ہم تمہاری طرح محمد اور قرآن کو مانتے ہیں و اذا خلوا عضوا علیکم الانامل من الغیظ اور جب تنہائی میں (اپنے ہم مشرب لوگوں کے ساتھ) ہوتے ہیں تو غصہ سے تم پر انگلیاں کاٹتے ہیں۔ صحاح میں ہے کہ غیظ کا معنی ہے شدت غضب یعنی وہ حرارت جو دل کے خون کے جوش میں آنے کی وجہ سے انسانمحسوس کرتا ہے مطلب یہ ہے کہ جب وہ تمہاری سلطنت دیکھتے ہیں اور تم کو ضرر پہنچانے کا کوئی راستہ ان کو نہیں ملتا تو شدت غضب کی وجہ سے نہایت حسرت و افسوس کے ساتھ اپنی انگلیاں چباتے ہیں یا اس سبب سے انگلیاں چباتے ہیں کہ اظہار ایمان کے سوا ان کے لیے کوئی چارہ نہیں ہوتا او وہ دل سے اس کو پسند نہیں کرتے انگلیاں کاٹنے سے مراد مجازاً شدت غضب بھی ہوسکتی ہے خواہ واقع میں انہوں نے انگلیاں نہ کاٹی ہوں۔ قل آپ کہہ دیں۔ یہ خطاب رسول اللہ کو ہے یا ہر مسلمان کو ہے آئندہ کلام میں مسلمانوں کو کافروں کی عداوت پر برانگیختہ کیا گیا ہے اور اس طرح خطاب کرنے پر ابھارا گیا ہے جیسے دشمنوں سے خطاب کیا جاتا ہے کیونکہ زخم شمشیر سے بھی زخم زبان تکلیف دہ ہوتا ہے۔ موتوا بغیظکم یعنی اے کافروں اور منافقو ! اپنے غصہ سے خود مرجاؤ۔ مطلب یہ کہ اسلام کی شان یونہی بڑھتی رہے گی اور تم اسلام کی شوکت دیکھ کر ہمیشہ جلتے اور مرتے رہو۔ اس کلام میں ایک خوبی یہ ہے کہ جس کے لیے بد دعا کی جا رہی ہے اس کی طرف کلام کا رخ نہیں ہے بلکہ دعا اللہ سے کی گئی ہے بظاہر کلام میں دو باتیں ہیں اوّل کافروں کو اس امر کی اطلاع کہ آئندہ کبھی تمہارے سامنے کوئی ایسی صورت نہیں آئے گی جو تمہارے لیے خوش کن ہو دوسرے اس بات پر آگاہی دینا ہے کہ جو عداوت تمہارے دلوں میں ہے ہم اس سے واقف ہیں۔ ان اللہ علیم بذات الصدور یہ حقیقت ہے کہ اللہ دلوں میں چھپی ہوئی باتوں سے خوب واقف ہے یعنی تمہارے دلوں کے اندر جو شدت غضب پوشیدہ ہے اللہ اس کو جانتا ہے۔ یہ جملہ یا تو موتوا بغیظکم کی طرحقل کے ذیل میں داخل ہے یعنی تم ان سے موتوا بغیظکم بھی کہہ دو اور ان اللہ علیم بذات الصدور بھی یا مستقل اور الگ جملہ ہے یعنی اے مسلمانو ! تم اگرچہ واقف نہیں کہ کافروں کو تم سے قلبی محبت نہیں ہے اور وہ غصہ سے تم پر اپنی انگلیاں چباتے ہیں مگر اللہ تو واقف ہے اس لیے تم پر لازم ہے کہ اللہ نے تم کو جو کافروں سے بغض رکھنے کا حکم دیا ہے اس پر چلو اور باہمی تعلقات کی وجہ سے ان سے محبت نہ کرو۔
Ayah 3:120

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١٘ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠ Open ayah 3:120 in the Quran reader

اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر رنج پہنچے تو خوش ہوتے ہیں اور اگر تم تکلیفوں کی برداشت اور (ان سے) کنارہ کشی کرتے رہو گے تو ان کا فریب تمھیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس پر احاطہ کیے ہوئے ہے

ان تمسسکم حسنۃ تسوھم (اے مسلمانو ! اگر تم کو کوئی بھلائی چھو بھی جاتی ہے مثلاً دشمن پر تم کو غلبہ حاصل ہوجاتا ہے، اسلام کی شوکت بڑھتی ہے، تم کو مال غنیمت یا زندگی کی فراغت نصیب ہوجاتی ہے تو ان کو دکھ پہنچتا ہے وہ اس سے جلتے ہیں۔ لفظ مس سے اس طرف اشارہ ہے کہ تمہاری ادنیٰ بہتری بھی ان کے لیے رنج آفریں ہوتی ہے۔ و ان تصبکم سیءۃ یفرحوا بھا اور اگر تم پر کوئی برائی پڑجاتی ہے مثلاً دشمن کو کچھ غلبہ حاصل ہوجاتا ہے یا قحط پڑجاتا اور تمہاری روزی تنگ ہوجاتی ہے تو وہ خوب خوش ہوتے ہیں۔ و ان تصبروا اور اگر ان کی دشمنی یا تمام مصائب یا حکم الٰہی کی تعمیل کی مشقت پر تم صبر کرو گے۔ و تتقوا اور ان کی موالات سے اور دوسرے ممنوعات سے بچتے رہو گے۔ لا یضرکم کیدھم شیئا تو ان کی مکاری تم کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ یعنی وہ پوشیدہ طور پر تم کو ضرر پہنچانا چاہتے ہیں کچھ ضرر نہ پہنچا سکیں گے اللہ کا فضل اور اس کی طرف سے حفاظت جس کا وعدہ اہل صبر وتقویٰ سے کیا گیا ہے تمہارے شامل حال رہے گا ایک بات یہ بھی کہ صبر اور تقویٰ کا جو شخص آہستہ آہستہ مشاق ہوجائے اور رفتہ رفتہ کوشش کرتا رہے وہ متاثر بھی کم ہوتا ہے پھر مؤمن کو ہر مصیبت کے ثواب کی امید ہوتی ہے اس لیے نعمت ملنے سے زیادہ اس کو مصیبت سے خوشی ہوتی ہے عاشق کو اگر معلوم ہوجائے کہ اس پر جو دکھ آیا ہے وہ محبوب کا بھیجا ہوا ہے تو اس کو اس دکھ میں اتنی لذت حاصل ہوتی ہے کہ نعمت میں نہیں حاصل ہوتی کیونکہ محبوب کی مرضی اور خوشی اس کو اپنی مرضی اور خوشی سے زیادہ لذت بخش ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ایک روز میں رسول اللہ کے پیچھے تھا ارشاد فرمایا : لڑکے اللہ کا لحاظ رکھ اللہ تیری نگہداشت کرے گا اللہ کا لحاظ رکھ تو اپنے سامنے اللہ کو پائے گا اگر کچھ مانگے تو اللہ سے مانگ اور مدد کی درخواست کرے تو اللہ سے مدد طلب کر اور سمجھ لے کہ اگر سب لوگ جمع ہو کر تجھے کچھ نفع پہنچانا چاہیں گے تو بس اتنا ہی نفع پہنچائیں گے جتنا اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہوگا اور اگر سب مل کر چکھ نقصان پہنچانا چاہیں کہ تو صرف اتنا ہی ضرر پہنچائیں گے جتنا اللہ نے لکھ دیا قلم اٹھا لیے گئے اور لکھی ہوئی تحریریں خشک ہوگئیں 1 ؂۔ حضرت ابوذر کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : مجھے ایک ایسی آیت معلوم ہے کہ اگر لوگ اس کو پکڑ لیں تو وہی ان کے لیے کافی ہے اللہ نے فرمایا : و مَنْ یَتَّقِ اللہ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا وَ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ 2 ؂۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر میرے بندے میری فرمانبرداری کرتے تو میں رات میں ان پر بقدر سیرابی پانی برساتا اور دن میں سورج نکالتا اور گرج کی آواز بھی نہیں سناتا۔ (یعنی لوگوں کی تجارت صنعت اور دوسرے کاروبار بھی خراب نہ ہوتے اور زراعت کا بھی نقصان نہ ہوتا اور نباتات و حیوانات پیاسے بھی نہ رہتے 3 ؂۔ حضرت صہیب کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : مؤمن کا معاملہ بھی عجیب ہے اس کے سارے کام خیر ہی خیر ہیں اور یہ بات مؤمن کے علاوہ کسی کو میسر نہیں اگر اس کو راحت ملتی ہے تو شکر کرتا ہے اور یہ شکر اس کے لیے موجب خیر ہوتا ہے اور کچھ دکھ پہنچتا ہے تو صبر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے موجب خیر ہوتا ہے 4 ؂۔ ان اللہ بما یعملون محیط یقیناً اللہ ان کے اعمال کو گھیرے ہوئے ہے یعنی کفار جو مسلمانوں کو ضرر پہنچاتے ہیں اللہ کا علم اس کو محیط ہے وہ کافروں کو سزادے گا اگر وہ چاہے تو ان کی ایذا رسانی سے تم کو محفوظ رکھے گا اور اس کی مرضی ہوگی تو تم کو تکلیف کی جزا عنایت کرے گا۔
Ayah 3:121

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 3:121 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تم صبح کو اپنے گھر روانہ ہو کر ایمان والوں کو لڑائی کے لیے مورچوں پر (موقع بہ موقع) متعین کرنے لگے اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

و اذ غدوت من اھلک تبوی المومنین مقاعد للقتال اور یاد کرو اس وقت کو جب تم گھر سے نکل کر مسلمانوں کو لڑائی کے لیے ان کے مقامات یعنی میمنۂ میسرہ اور ساقہ میں ٹھیک کرکے بٹھا رہے تھے۔ وا اللہ سمیع علیم اور اللہ ان کے اقوال کو خوب سننے والا اور ان کی نیتوں کو جاننے والا تھا۔ حسن بصری نے فرمایا : یہ واقعہ جنگ بدر اور مقاتل کے نزدیک جنگ احزاب اور باقی اہل تفسیر کے نزدیک جنگ احد کا یہی قول صحیح ہے۔ ابن ابی حاتم اور ابی یعلی نے بیان کیا ہے کہ حضرت مسور بن مخرمہ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف سے کہا مجھ سے جنگ احد کا واقعہ بیان فرمائیے۔ حضرت عبد الرحمن نے فرمایا : آل عمران کی ایک سو بیس آیات کے بعد والی آیات پڑھو تم کو ہمارا قصہ وہاں مل جائے گا اللہ نے فرمایا ہے : وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اھلک الی قولہ اِذْ ھَمَّتْ طَاءِفَتانِ مِنْکُمْ اَنْ تَفْشَلَا یہ بزدل ہوجانے والے وہ لوگ تھے جنہوں نے کافروں سے امان طلب کی تھی۔ وَ لَقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ ۔۔ میں اس آرزو کا بیان ہے جو مسلمانوں نے دشمن سے مقابلہ کے لیے کی تھی اور اَفَاِنْ مَاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ کا قصہ یہ ہوا کہ احد کے دن شیطان نے چیخ کر کہا تھا محمد ﷺ مارے گئے اور اَمَنَۃً نُّعَاسًا کی صورت یہ ہوئی کہ مسلمانوں پر نیند کا دورہ پڑگیا تھا (تاکہ خوف اور تھکان اور دہشت دور ہوجائے) حضرت عبد الرحمن نے ساٹھ آیات کے آخر تک یعنیوَ اللہ ُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْر تک تلاوت فرمائی اور اسکے بعد آیت لقد سمع اللہ ... ہے۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ اللہ نے آل عمران کی ساٹھ آیات جنگ احد کے حالات کے بیان میں نازل فرمائی جن کے اندر ان باتوں کو ظاہر فرمایا جو اس روز ہوئی تھیں اور جو لوگ جنگ سے غیر حاضر تھے ان پر عتاب فرمایا۔ مجاہد اور کلبی اور واقدی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صبح کو حضرت عائشہ کے مکان سے برآمد ہوئے اور پیادہ چل کر احد تک پہنچے اور لڑائی کے لیے اپنے ساتھیوں کی صف بندی (ایسی سیدھی) کرنے لگے جیسے تیر سیدھا کیا جاتا ہے۔ ابن جریر اور بیہقی نے دلائل میں ابن اسحاق کے حوالہ سے اور عبد الرزاق نے مصنف میں معمر کی وساطت سے زہری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ 12 شوال 3 ھ کو بروز بدھ تین ہزار مشرکوں نے احد میں پڑاؤ کیا رسول اللہ نے صحابہ سے مشورہ طلب کیا اور عبد اللہ بن ابی بن سلول کو بھی (مشورہ کے لیے) بلوایا اس سے پہلے حضور ﷺ نے عبد اللہ کو کبھی طلب نہیں فرمایا تھا عبد اللہ اور اکثر انصاریوں نے عرض کیا یا رسول اللہ حضور ﷺ کو (سب مسلمانوں کے ساتھ) مدینہ کے اندر ہی رہنا چاہئے باہر نہ نکلنا چاہئے۔ کیونکہ خدا کی قسم (ہمیشہ یہ طریقہ رہا ہے کہ) دشمن کے حملہ آور ہونے کے وقت ہم اگر باہر نکلے ہیں تو دشمن پر ہم کامیاب رہا ہے اور اگر دشمن اندر آکر ہم پر حملہ آور ہوا ہے تو ہم اس پر کامیاب رہے ہیں اب جبکہ آپ ﷺ ہم میں موجود ہیں ہم کو کیا ڈر ہے اگر مشرک جہاں ہیں وہیں قیام پذیر رہیں گے تو وہاں کے قیام کے لیے بری جگہ ہے اور اگر وہ شہر کے اندر گھسیں گے تو ہمارے مرد ان کے سامنے سے لڑیں گے اور بچے اور عورتیں اوپر سے ان پر پتھر برسائیں گے اور اگر لوٹ کر چلے جائیں تو ناکام لوٹیں گے۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ رائے پسند آئی ‘ بزرگ مہاجرین اور انصار کی یہی رائے تھی لیکن حمزہ بن عبد المطلب، حضرت سعد بن عبادہ، حضرت نعمان بن مالک اور انصاریوں کی ایک جماعت (جن میں اکثر نوجوان تھے اور بدر کی شرکت سے محروم رہے تھے دشمن کے مقابلہ میں شہید ہونے کے خواستگار تھے اور اللہ نے احد کے دن ان کو شہادت عطا بھی فرما دی) کی رائے ہوئی کہ ان کتوں کی طرف نکل کر چلنا چاہئے تاکہ یہ خیال نہ کریں کہ ہم بزدل اور کمزور ہوگئے ہیں رسول اللہ نے فرمایا : میں نے خواب میں گائے دیکھی ہے جس کی تفسیر ہے بھلائی اور میں نے اپنی تلوار کی دھار ٹوٹی ہوئی دیکھی ہے میرے نزدیک اس کی تعبیر ہے شکست اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ مضبوط زرہ میں داخل کیا ہے۔ اس کی تعبیر میں نے دی مدینہ میں داخل (یا قیام) پس اگر مدینہ میں ہی قیام رکھنے کی تمہارے رائے ہو (تو بہتر ہے) آپ کو یہی بات پسند تھی کہ دشمن مدینہ کے اندر آجائیں اور گلی کوچوں میں ان سے لڑائی ہو۔ احمد، دارمی اور نسائی کی روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ میں نے (اپنا ہاتھ) مضبوط زرہ میں دیکھا اور گائے کو ذبح کئے جاتے دیکھا تو میں نے اس کی تعبیریہ دی کہ مضبوط زرہ مدینہ ہے اور گائے خدا کی قسم بہتری ہے۔ بزاز اور طبرانی نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں نے پڑاؤ کیا تو رسول اللہ نے صحابہ سے فرمایا : میں نے خواب میں اپنی شمشیر ذوالفقار کو شکستہ دیکھا ہے اور یہ مصیبت ہے اور گائے کو ذبح ہوتے دیکھا ہے یہ بھی مصیبت ہے اور اپنے بدن پر اپنی زرہ دیکھی ہے یہ تمہارا شہر ہے انشاء اللہ وہ تمہارے شہر تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ ابن اسحاق، ابن عقبہ اور ابن سعد وغیرہ کا بیان ہے کہ یہ خواب جمعہ کی رات کو دیکھا تھا۔ عروہ نے کہا تلوار کی شکستگی جو دیکھی تھی وہ وہی زخم تھا جو چہرہ مبارک پر لگا تھا۔ ابن ہشام کی روایت میں ہے کہ (رسول اللہ نے فرمایا : کہ) تلوار کی شکستگی تو یہ ہے کہ میرے گھر والوں میں سے کوئی آدمی مارا جائے گا۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ (حضور ﷺ نے فرمایا :) پھر میں نے اس کو یعنی تلوار کو دوبارہ ہلایا تو وہ پہلی حالت سے بہتر حالت پر ہوگی پس یہ وہی فتح ہے جو اللہ نے عنایت فرمائی۔ حضرت حمزہ نے کہا تھا قسم ہے اس کی جس نے آپ ﷺ پر (قرآن) نازل کیا جب تک میں ان سے مدینہ کے باہر تلوار سے مقابلہ نہیں کرلوں گا آج کھانا نہیں کھاؤں گا۔ حضرت حمزہ جمعہ کے دن بھی روزہ دار رہے اور ہفتہ کے دن بھی۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ ! آپ ﷺ ہم کو جنت سے محروم نہ کریں قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تو جنت میں ضرور ضرور داخل ہوں گا۔ رسول اللہ نے فرمایا : یہ کیوں ؟ حضرت نعمان نے جواب دیا میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور لڑائی کے دن نہیں بھاگوں گا۔ رسول اللہ نے فرمایا : تم نے سچ کہا چناچہ حضرت نعمان اس روز شہید ہوگئے۔ نیز مالک بن سنان خدری اور ایاس بن عتیک نے بھی لڑائی کے لیے مدینہ سے باہر نکلنے کی ترغیب دی۔ غرض جب لوگ نہ مانے تو رسول اللہ نے لوگوں کو جمعہ کی نماز پڑھائی اور نصیحت کی اور خوب کوشش و محنت کرنے کا حکم دیا اور بتادیا کہ اگر صبر رکھو گے تو فتح تمہاری ہوگی لوگ دشمن کی طرف روانہ ہونے (کی اجازت سننے) سے خوش ہوگئے لیکن مدینہ سے خروج بہت سے لوگوں کو پسند بھی نہیں آیا۔ رسول اللہ نے عصر کی نماز بھی لوگوں کو پڑھا دی اور بالا مدینہ کے رہنے والے بھی آگئے عورتوں کو اونچے ٹیلوں پر (محفوظ مقامات پر) بھیج دیا اور رسول اللہ حضرت ابوبکر و حضرت عمر کو ساتھ لے کر اپنے گھر میں تشریف لے گئے لوگ حجرۂ مبارک سے ممبر تک صف بند ہو کر رسول اللہ کی برآمدگی کا انتظار کرنے لگے اتنے میں حضرت سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر آئے اور لوگوں سے کہا تم نے رسول اللہ کی مرضی کے خلاف کیا اور جو کچھ کہنا تھا کہا حالانکہ آسمان سے وحی رسول اللہ پر اترتی ہے (تم پر نہیں اترتی) مناسب یہ ہے کہ معاملہ کو حضور ﷺ ہی کے سپرد کردو اور جو کچھ آپ حکم دیں وہی کرو اتنے میں رسول اللہ ہتھیار لگائے زرہ پہنے برآمد ہوگئے۔ اس وقت آپ کمر پر تلوار کا چمڑہ کا پر تلہ بطور پیٹی باندھے عمامہ پہنے اور تلوار لٹکائے ہوئے تھے لوگ حضور ﷺ کی مرضی کے خلاف رائے دینے پر پشیمان ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ ہم نے حضور ﷺ کی مرضی کے خلاف رائے دی ہم کو یہ نہ چاہئے تھا اب اگر آپ مناسب سمجھیں تو بیٹھ جائیے (یعنی مدینہ سے باہر نہ نکلئے) فرمایا : میں نے تم کو اسی بات کی دعوت دی تھی مگر تم نے نہ مانا اور کسی نبی کے لیے زیبا نہیں کہ جب وہ ہتھیار لگالے تو بغیر جنگ کے ہتھیار اتار دے دیکھو میں جو حکم دوں اس پر چلو۔ اللہ کے نام پر (بھروسہ کرکے) روانہ ہوجاؤ جب صبر رکھو گے تو فتح تمہاری ہوگی۔ اس فرمان کے بعد مالک بن عمرو بخاری کا جنازہ جنازوں کے مقام میں آپ نے رکھا ہو پایا۔ مالک کی وفات ہوگئی تھی اور لوگوں نے میت کو لا کر رکھدیا تھا۔ حضور ﷺ نے جنازہ کی نماز پڑھی پھر باہرنکل کر اپنے گھوڑے پر جس کا نام سکب تھا سوار ہوگئے کمان کاندھے پر ڈالی۔ سعد بن عبادہ اور سعد بن معاذ مسلح دائیں بائیں موجود تھے اور دوسرے لوگ بھی تھے۔ گھاٹی کے سرے پر پہنچے تو وہاں ایک بہادر طاقتور فوجی دستہ ملا۔ دریافت فرمایا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ عبد اللہ بن ابی کے یہودی معاہد ہیں 1 ؂۔ فرمایا : کیا یہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ جواب دیا گیا نہیں۔ فرمایا : تم مشرکوں کے خلاف اہل شرک سے ہم مدد کے طالب نہیں۔ یہاں سے چل کر مقام شیخین 2 ؂ میں پہنچ کر رسول اللہ نے لشکر بندی کی۔ اس روز رسول اللہ کے سامنے کچھ لڑکے جن کی عمریں 14 برس کی تھیں لشکر میں شامل کئے جانے کے لئے پیش کیے گئے آپ ﷺ نے ان کو لوٹا دیا ان کی تعداد سترہ تھی۔ کچھ اور لڑکے جن کی عمریں پندرہ سال کی تھیں پیش ہوئے آپ ﷺ نے ان کو لڑائی میں شامل ہونے کی اجازت دیدی جن میں سے عبد اللہ بن عمر، زید بن ثابت، اسامہ بن زید، زید بن ارقم، براء بن عازب، ابو سعید خدری اور اوس بن ثابت انصاری بھی تھے۔ رافع بن خدیج کو لوٹا دیا گیا تھا لیکن جب بتایا گیا کہ یہ تیر انداز ہے تو شامل ہونے کی اجازت عطا فرما دی۔ اس پر سمرہ بن جندب بولے کہ رافع بن خدیج کو تو رسول اللہ نے اجازت دیدی اور مجھے لوٹا دیا حالانکہ کشتی میں میں اس کو پچھاڑ دوں گا اس کی اطلاع رسول اللہ کو بھی دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا : دونوں کشتی لڑلو۔ کشتی ہوئی تو سمرہ نے رافع کو پچھاڑ لیا۔ اس لیے سمرہ کو بھی جنگ میں شامل ہونے کی اجازت مل گئی فوج کا معائنہ ختم ہوگیا اور سورج ڈوب گیا تو بلال نے مغرب کی اذان دی اور رسول اللہ نے ساتھیوں کو نماز پڑھائی پھر (کچھ دیر کے بعد) عشاء کی اذان دی اور آپ ﷺ نے عشاء کی نما زپڑھائی اور رات شیخین میں بسر کی اس رات لشکر کی نگرانی کے لیے محمد بن مسلمہ کو پچاس آدمی دے کر مقرر کیا گیا ان لوگوں نے لشکر کے گرد گھوم پھر کر چوکیداری کی اور رسول اللہ سو گئے سحر ہوئی تو فجر کی نماز پڑھ کر فرمایا : کیا کوئی ایسا رہبر ہے جو دشمنوں کی طرف سے گذارے بغیر ہم کو ٹیلہ سے نکال کرلے جائے ابو خیثمہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ میں ایسا کروں گا چناچہ ابو خیثمہ بنی حارثہ کے میدان اور ان کے باغات کے درمیان سے لے کر چلا یہاں تک کہ مربع بن قنطی کے باغ میں لے کر پہنچا مربع منافق اور نابینا تھا۔ رسول اللہ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کی آہٹ پا کر ان حضرات کے منہ کی طرف خاک اڑانے لگا اور کہنے لگا اگر تم رسول اللہ ﷺ بھی ہو تب بھی میں اپنے باغ میں داخل ہونے کی تم کو اجازت نہیں دیتا یہ کہہ کر اس نے لپ بھر مٹی لی اور بولا اگر مجھے علم ہوجاتا کہ جس وقت میں یہ مٹی ماروں گا تو تمہارے چہرہ پر ہی پڑے گی تو ضرور مار دیتا لوگ اس کو قتل کرنے کے لیے آگے بڑھے مگر حضور ﷺ نے فرمایا : اس کو قتل نہ کرو یہ اندھا کور دل بھی ہے اور کور چشم بھی لیکن حضور ﷺ کی ممانعت سے پہلے ہی سعد بن زبدہ اشہلی اندھے کے پاس پہنچ چکے تھے اور کمان مار کر اس کو زخمی کردیا تھا۔ رسول اللہ مدینہ سے ہزار آدمی لے کر کوہ احد کی طرف نکلے تھے۔ بعض روایات میں نو سو پچاس کی تعداد آئی ہے جب دونوں فوجوں کے ملنے کے مقام پر پہنچے تو عبد اللہ بن ابی ایک تہائی یعنی تین سو آدمی لیکر واپس لوٹ گیا اور کہنے لگا ہم کیوں اپنی اور اپنی اولاد کی جانیں دیں ابو جابر سلمی اس کے پیچھے گیا اور کہا میں تم کو تمہارے نبی اور تمہاری جانوں کا واسطہ دیتا ہوں (لوٹ کر نہ جاؤ) عبد اللہ بولا : لو نعلم قتالا لاتبعنا کم . رسول اللہ کے ساتھ سات سو آدمی اور دو گھوڑے رہ گئے ایک گھوڑا خود آپ کا تھا اور دوسرا ابو بردہ کا۔ ابن عقبہ کا بیان ہے کہ اس روز مسلمانوں کے پاس کوئی گھوڑ انہیں تھا۔ قبیلہ خزرج میں سے بنو اسلمہ اور قبیلہ اوس میں سے بنو حارثہ اسلامی لشکر کے دو بازو تھے ان دونوں قبیلوں نے بھی عبد اللہ بن ابی کے ساتھ لوٹ پڑنے کا ارادہ کرلیا تھا مگر اللہ نے ان کو محفوظ رکھا اور وہ نہیں لوٹے اللہ نے اپنی یہی نعمت عظمیٰ ان کو یاد دلائی اور فرمایا :
Ayah 3:122

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

اس وقت تم میں سے دو جماعتوں نے جی چھوڑ دینا چاہا مگر خدا ان کا مددگار تھا اور مومنوں کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے

اذ ھمت طائفتن اس وقت کو یاد کرو جب دو گروہوں یعنی بنی حارثہ اور بنی اسلمہ نے ارادہ کرلیا تھا۔ منکم تم میں سے۔ اس میں عبد اللہ 1 ؂ پر طنز ہے کہ وہ اور اس کے ساتھی تم میں سے نہیں تھے اسی لیے ان کی واپسی کا ذکر نہیں کیا۔ ان تفشلا کہ بزدل اور کمز ور ہوجائیں۔ وا اللہ ولیھما اور اللہ دونوں گروہوں کا دوست تھا یا اس خطرہ سے بچا نے والا یا ان کا مددگار اور کار ساز تھا پس کیا سبب تھا کہ وہ بزدل ہور ہے تھے اور اللہ پر اعتماد نہیں کر رہے تھے۔ و علی اللہ فلیتوکل المومنون اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ رکھنا چاہئے پس منافقوں کے بھاگنے سے ان کو بزدل نہ ہونا چاہئے تھا۔ حضرت جابر بن عبد اللہ نے فرمایا : اس آیت کا نزول ہمارے حق میں ہوا تھا (ہم نے ہی بھاگنے کا ارادہ کیا تھا) لوگوں نے کہا کہ جب اللہ نے فرمایا : وا اللہ ولیُّھَما تو اب ہم کو گذشتہ ارادۂ فرار سے اتنی مسرت ہے کہ اگر ہم ارادۂ فرار نہ کرتے تو اتنی مسرت نہ ہوتی۔
Ayah 3:123

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

اور خدا نے جنگِ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی اور اس وقت بھی تم بے سرو وسامان تھے پس خدا سے ڈرو (اور ان احسانوں کو یاد کرو) تاکہ شکر کرو

و لقد نصرکم اللہ ببدر مسلمانوں کی تعداد کی قلت اور اسباب کی کمزوری کے باوجود اللہ نے بدر میں مسلمانوں کو فتح عنایت کی تھی اور یہ واقعہ موجب توکل تھا اس لیے یہاں سے واقعہ بدر کی یاد دلائی ہے۔ اکثر کے نزدیک بدر مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام کا نام تھا بعض نے کہا ایک کنویں کا نام تھا یہ بھی ایک قول مروی ہے کہ بدر نام کے ایک شخص کا کنواں تھا۔ یہ قول شعبی کا ہے۔ و انتم اذلۃ اذلَّۃٌ کا مفرد ذلیل ہے ذلیل کی جمع ذلائل بھی ہے مگر اذلہ فرمایا ذلائل نہیں فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ 2 ؂ حالات کی کمزوری، سواریوں اور ہتھیاروں کی کمی ظاہر کرنے کے ساتھ بدر میں مسلمانوں کی قلت کا اظہار بھی مقصود ہے۔ مسلمان تین سو مرد تھے اور ستر اونٹ ان کے ساتھ تھے جن پر باری باری سے سوار ہوجاتے تھے اور دو گھوڑے تھے ایک حضرت مقداد کا اور دوسرا حضرت زبیر ؓ بن عوام کا۔ فاتقوا اللہ لعلکم تشکرون اس آیت کا مطلب دو طرح سے ہوسکتا ہے ایک یہ کہ اللہ نے تم کو فتح عنایت فرمائی تاکہ تم اس کا شکریہ اس طرح ادا کرو کہ میدان جنگ میں ثابت قدم رہ کر اللہ سے ڈرتے رہو۔ دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ تم شکر گذار ہونے کی امید میں تقویٰ اختیار کرو۔ اس جملہ میں تنبیہ ہے اس امر پر کہ بندہ کی اصل نظر شکر کی طرف ہونی چاہئے اس کو اللہ کی نعمت کی رغبت اس لیے ہو کہ حصول نعمت شکر ادا کرنے کا ذریعہ ہے۔
Ayah 3:124

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

جب تم مومنوں سے یہ کہہ (کر ان کے دل بڑھا) رہے تھے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ پروردگار تین ہزار فرشتے نازل کر کے تمہیں مدد دے

اذ تقول للمومنین الن یکفیکم ان یمدکم ربکم بثلٰثۃ الاف من الملائکۃ منزلین اللہ نے تم کو فتح یاب اس وقت کیا جب تم مؤمنوں سے کہہ رہے تھے کہ کیا تین ہزار فرشتوں کو اتار کر اللہ کی طرف سے تمہاری امداد کرنا کافی نہیں ہے۔ قتادہ ؓ نے فرمایا یہ واقعہ بدر کے دن کا تھا شروع میں اللہ نے ایک ہزار ملائکہ سے امداد فرمائی تھی جیسے فرمایا ہے : فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلَاءِکۃ پھر فرشتے تین ہزار اور پھر پانچ ہزار کردیئے گئے۔ اَلَن یکفیکم میں استفہام انکاری ہے۔ (1) [ اور لن نافیہ ہے اور نکار نفی، اچبات ہوتا ہے پس مطلب یہ ہوا کہ تین ہزار فرشتوں کی مدد تمہارے لیے کافی ہے ] ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور ابن ابی حاتم نے شعبی کا قول نقل کیا ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ اور مسلمانوں کو اطلاع ملی کہ کرز بن جابر محاربی مشرکوں کی مدد کرنی چاہتا ہے یہ بات مسلمانوں پر شاق گذری تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : لَنْ (فی تاکیدی) لانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ مسلمان اپنی کمزوری اور قلت اور دشمن کی قوت و کثرت کو دیکھ کر فتح سے گویا ناامید ہوچکے تھے (ایسی حالت میں اللہ نے مدد کی) ۔
Ayah 3:125

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

ہاں اگر تم دل کو مضبوط رکھو اور (خدا سے) ڈرتے رہو اور کافر تم پر جوش کے ساتھ دفعتہً حملہ کردیں تو پروردگار پانچ ہزار فرشتے جن پر نشان ہوں گے تمہاری مدد کو بھیجے گا

بَلیٰ کیوں کافی نہیں۔ یہ نفی موکد کے بعد اثبات ہے آگے صبر وتقویٰ کی ترغیب دینے اور دلوں کو قوی بنانے کے لیے مزید مشروط امداد کا وعدہ فرمایا۔ ان تصبروا اگر تم قتال پر صبر رکھو گے۔ وتتقوا اور رسول اللہ کے حکم کی مخالفت سے پرہیز کرتے رہو گے۔ و یاتوکم من فورھم ھذا اور اسی حالت میں کہ تم کمزور ہو اور وہ طاقتور ہیں تم پر اسی وقت آپڑیں گے۔ فور بمعنی ساعت۔ اصل میں یہفَارَتِ القِدْرُ کا مصدر ہے (ہانڈی میں ابال آگیا) مجازاً بمعنی سرعت ہے پھر اس حالت کو کہنے لگے جو موجودہ ہو۔ میں کہتا ہوں کلام میں فوراً کی قید لگانے کا کوئی خاص مفہوم نہیں بلکہ بات میں قوت پیدا کرنا مقصود ہے کہ آئندہ جب تم میں مشرکوں سے مقابلہ کرنے کی قوت ہوجائے گی تو اس وقت بدرجۂ اولیٰ اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تم کو فتح یاب کرے گا لیکن موجودہ حالت میں بھی اگر تم ثابت قدم رہے اور مخالفت امر رسول نہ کی اور مشرک تم پر آپڑے تب بھی۔ یمددکم ربکم بخمسۃ الاف من الملائکۃ اللہ پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا۔ امداد کا معنی ہے فوجی کمک۔ مسومین جو نشاندار یعنی نشان والے ہو نگے۔ 2 ؂ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے اس روایت کی نسبت شعبی کی طرف کی ہے کہ کرز 3 ؂ مشرکوں کی شکست کی خبر پہنچی تو (وہ پست حوصلہ ہوگیا اور) اس نے مشرکوں کو مدد نہیں دی (اور چونکہ مسلمانوں کو ضرورت باقی نہیں رہی تھی) اس لیے پانچ ہزار فرشتوں کی کمک مسلمانوں کے لیے بھی اللہ نے نہیں بھیجی۔ مُسَوِّمِیْنَ تَسْوِیْمَسے اسم فاعل ہے تسویم کا معنی ہے نشاندار ہونا (یا نشان دار بنانا) قتادہ اور ضحاک نے کہا فرشتوں نے (اپنے) گھوڑوں کی پیشانیوں اور دموں میں ان کا نشان لگا دیا تھا۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں عمرو بن اسحاق کی روایت مرسلاً نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے بدر کے دن صحابہ سے فرمایا : تم بھی اپنا نشان لگا لو کیونکہ ملائکہ نے سفید اون کے نشان اپنی ٹوپیوں اور خودوں میں لگا لیے ہیں ابن جریر نے بھی یہ روایت نقل کی ہے اور اتنا زائد لکھا ہے کہ یہ اوّل ترین جنگ تھی جس میں اون کا نشان لگایا گیا۔ یا تسویم کا معنی ہے اَسَامَۃٌ یعنی لٹکانا چھوڑنا۔ عروہ بن زبیر نے فرمایا : ملائکہ ابلقگھوڑوں پر سوار تھے اور ان کے عمامے زرد تھے لیکن حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ان کے عمامے سفید تھے جن کی دمیں دونوں شانوں کے درمیان انہوں نے چھوڑ رکھی تھیں۔ ہشام بن عروہ اور کلبی نے کہا ان کے عمامے زرد تھے جو شانوں پر لٹکے ہوئے تھے۔ قتادہ ؓ نے فرمایا : بدر کے دن مسلمان صابر رہے اور رسول اللہ کے حکم کی خلاف ورزی سے مجتنب رہے اس لیے اللہ نے حسب وعدہ پانچ ہزار ملائکہ کی ان کو مدد دی۔ حسن نے فرمایا : بس یہی پانچ ہزار قیامت کے دن تک مسلمانوں کے لیے پشت پناہ رہیں گے یعنی بشرط صبر وتقویٰ ۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد کا بیان ہے کہ بدر کے علاوہ ملائکہ نے کسی معرکہ میں جنگ نہیں کی ہاں موجود ضرور رہے مگر لڑے نہیں صرف تعداد بڑھانے اور مدد کرنے کے لیے حاضر رہے۔ کچھ علماء کا بیان ہے کہ بدر کے دن اللہ نے مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر لڑائیوں میں ثابت قدم رہیں گے اور ممنوعات سے اجتناب رکھیں گے تو اللہ تمام لڑائیوں میں ان کی مدد کرے گا مگر سوائے جنگ احزاب کے مسلمان کسی جنگ میں صابر نہیں رہے چناچہ جنگ احزاب کے دن قریظہ اور نضیر کے محاصرہ کے وقت اللہ نے ان کی مدد بھی کی۔ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی کا بیان ہے کہ ہم بنی قریظہ اور بنی نضیر کا محاصرہ کئے رہے لیکن فتح حاصل نہیں ہوئی رسول اللہ پانی منگوار کر سرد ھو رہے تھے کہ جبرائیل نے آکر کہا تم لوگوں نے ہتھیار کھول دیئے اور ملائکہ نے ابھی تک اپنے اسلحہ نہیں اتارے یہ سن کر رسول اللہ نے فوراً ایک کپڑا منگوا کر سر سے لپیٹا، سر نہیں دھویا پھر ہم کو جمع کرنے کے لیے منادی کرائی ہم فوراً تیار ہوگئے اور قریظہ و نضیر کی بستیوں پر جا پہنچے اس روز تین ہزار ملائکہ نے ہماری مدد کی اور آسانی سے فتح عنایت کردی۔ ضحاک اور عکرمہ نے کہا کہ آیت : اذ تقول للمؤمنین الن یکفیکم۔۔ میں جنگ احد کے واقعہ کا بیان ہے (بدر کے واقعہ کا بیان نہیں ہے) اللہ نے مسلمانوں سے وعدہ مدد بشرط صبر وتقویٰ کیا تھا لیکن انہوں نے صبر نہیں رکھا۔ رسول اللہ کے حکم کی مخالفت کی اس لیے ان کی مدد نہیں کی گئی۔ مجاہد و ضحاک نے کہا کہ من فورھم کا معنی ہے منْ غضبھم با ت یہ ہوئی تھی کہ بدر کے دن کی شکست سے مشتعل ہو کر انتہائی غضب کے ساتھ احد میں لڑنے کے لیے کفار آئے تھے چونکہ رسول اللہ احد کے دن ثابت قدم رہے تھے اور اللہ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی تھی اس لیے اللہ نے جبرائیل اور میکائیل کے ذریعہ سے آپ کی مدد کی۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ راوی ہیں کہ احد کے دن میں نے رسول اللہ کو دیکھا اس وقت آپ کی معیت میں دو آدمی سفید کپڑے پہنے ہوئے دشمن سے لڑ رہے تھے ان دونوں آدمیوں کو میں نے اس سے پہلے دیکھا تھا نہ بعد کو دیکھا۔ (متفق علیہ) یہ دونوں آدمی جبرائیل و میکائیل تھے۔ محمد بن اسحاق نے بیان کیا کہ رسول اللہ کو چھوڑ کر لوگ پراگندہ ہوگئے صرف سعد بن مالک حضور ﷺ کی طرف سے تیر چلاتے رہے تھے اور ایک جوان تیروں میں بوریاں لگا کر دے رہا تھا جب بوریاں ختم ہوگئیں تو جبرائیل بوریاں لے کر آئے اور لا کر بکھیر دیں اور دو مرتبہ کہا ابو اسحاق تیر مار۔ جب معرکہ ختم ہوگیا تو اس جوان کے متعلق دریافت کیا گیا (کہ کون تھا) مگر کسی کو معلوم نہ ہوسکا۔
Ayah 3:126

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

اور اس مدد کو خدا نے تمھارے لیے (ذریعہٴ) بشارت بنایا یعنی اس لیے کہ تمہارے دلوں کو اس سے تسلی حاصل ہو ورنہ مدد تو خدا ہی کی ہے جو غالب (اور) حکمت والا ہے

و ما جعلہ اللہ الا بشری لکم اللہ نے تم کو فرشتوں سے مدد صرف اس لیے دی کہ تم کو فتح کی بشارت ہو۔ و لتطمئن قلوبکم بہ اور تمہارے دل مطمئن ہوجائیں دشمنوں کی کثرت اور اپنی قلت کی تم کو پروا نہ ہو ظاہری اسباب پر اعتماد انسان کی فطرت ہے مدد گاروں کی ظاہری کثرت دیکھ کر آدمی کو اطمینان خاطر ہوتا ہی ہے۔ و ما النصر الا من عند اللہ اور در حقیقت فتح تو اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے سامان کی فراوانی اور تعداد کی کثرت 1 ؂ سے نہیں ہوتی کیونکہ آدمی ہوں یا فرشتے سب کے افعال اللہ ہی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ العزیز ایسا غلبہ والا جس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ الحکیم حکمت والا کہ باقتضاء حکمت جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے خواہ بالواسطہ یا بلا ذریعہ اور جس کو چاہتا ہے بےمدد چھوڑ دیتا ہے اگر وہ مدد کرتا ہے تو اپنی مہربانی سے کرتا ہے اس پر لازم نہیں۔
Ayah 3:127

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

(یہ خدا نے) اس لیے (کیا) کہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک یا انہیں ذلیل ومغلوب کر دے کہ (جیسے آئے تھے ویسے ہی) ناکام واپس جائیں

لیقطع تاکہ کاٹ دے (ہلاک کردے) اس کا تعلق یانصرکم اللہ سے ہے یا یمدد کم سے یا ما النصر سے مؤخر الذکر صورت میں النصر میں لام عہدی ہوگا۔ طرفا من الذین کفروا تاکہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک کردے۔ قاموس میں ہے طرف کا معنی ہے کنارہ۔ کسی چیز کا ایک ٹکڑا اور شریف آدمی چناچہ بدر میں کافروں کے کمانڈر اور سترّ سردار مارے گئے اور سترّ گرفتار ہوئے۔ جس مفسر نے ان آیات کو جنگ احد کے متعلق قرار دیا ہے اس نے کہا کہ احد میں کافروں کے سولہ سردار مارے گئے تھے اور شروع میں فتح مسلمانوں کی ہوئی تھی لیکن جب انہوں رسول اللہ کے حکم کی مخالفت کی تو فتح شکست سے بدل گئی۔ و یکبتھم یا ان کو لوٹا دے۔ کَبَتٌ کا معنی ہے سختی کے ساتھ لوٹادینا (صحاح) کَبَتَہٗاس کو پچھاڑا، ہلاک کیا، رسوا کیا، پھیر دیا، توڑ دیا دشمن کو غصہ کے ساتھ لوٹا دیا ذلیل کردیا 2 ؂۔ میں کہتا ہوں شکست کے لیے یہ تمام باتیں لازم ہیں۔ لفظ اَوْ تردید کے لیے نہیں بلکہ نوعیت کے اختلاف کو ظاہر کرنے کے لیے ہے یعنی اللہ نے تمہاری مدد کی تاکہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک کردے اور باقی کو شکست دے کر بھگا دے۔ فینقلبوا خائبین پس وہ اپنے شہروں کو ناکام ہو کر پلٹ جائیں۔ مسلم اور امام احمد نے حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کا اگلا دانت اور چہرۂ مبارک زخمی ہو کر خون بہنے لگا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ایسی قوم کیسے ٹھیک ہوسکتی ہے جس نے اپنے پیغمبر سے یہ سلوک کیا ہو حالانکہ پیغمبر ان کو اللہ کی طرف بلارہا ہے اس پر مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی۔
Ayah 3:128

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اس کام میں تمہارا کچھ اختیار نہیں (اب دو صورتیں ہیں) یا خدا انکے حال پر مہربانی کرے یا انہیں عذاب دے کہ یہ ظالم لوگ ہیں

لیس لک من الامر شیء آپ ﷺ کو اس امر کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ (اس آیت کے شان نزول میں ایک اور قصہ بھی آیا ہے) جو امام احمد اور بخاری نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے حضرت ابن عمر کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا رسول اللہ فرما رہے تھے اے اللہ فلاں شخص پر لعنت کر۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے دعا کی اے اللہ ابو سفیان پر لعنت کر، اے اللہ حارث بن ہشام پر لعنت کر، اے اللہ سہیل بن عمرو پر لعنت کر، اے اللہ صفوان بن امیّہ پر لعنت کر۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ان سب کو توبہ کی توفیق عنایت کی گئی۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ شیخ ابن حجر نے دونوں روایتوں میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ جنگ احد کے دن جو واقعہ ہوا (اور حضور ﷺ نے جو کچھ فرمایا) اس کے بعدمذکورہ بالا اشخاص کے لیے رسول اللہ نے نماز میں بد دعا کی۔ پس ان دونوں قصوں پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ سعید بن مسیب اور محمد بن اسحاق نے بیان کیا کہ جب احد کے دن رسول اللہ اور مسلمانوں نے دیکھا کہ کافروں نے مسلمانوں کے ناک، کان اور آلات تناسل کاٹ کر سب کو مثلہ بنا دیا تو کہنے لگے اگر اللہ نے ہم کو ان پر غلبہ عنایت کیا تو جیسا انہوں نے کیا ہے ہم بھی ایسا ہی کریں گے اور اس طرح مثلہ بنائیں گے کہ کسی عرب نے کسی کے ساتھ نہ کیا ہوگا اس پر آیت کا نزول ہوا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے ان لوگوں کے بیخ و بن سے تباہ ہوجانے کی بد دعا دینے کا ارادہ کیا تھا تو یہ آیت نازل ہوئی کیونکہ اللہ کو معلوم تھا کہ ان میں سے بہت لوگ مسلمان ہوجائیں گے۔ لیکن ان روایات کا تعارض اس روایت سے ہوتا ہے جو مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کے حوالہ سے بیان کی ہے کہ رسول اللہ فجر کی نماز میں پڑھا کرتے تھے۔ اللّٰھم العن رعلا وذکوان وعصیۃ یہاں تک کہ اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی (اور حضور نے بددعا کرنا موقوف کیا) کیونکہ رعل و ذکوان کا قصہ اس کے بعد کا ہے۔ رعل و ذکوان قبائل کا تعلق بیر معونہ کے قصہ سے تھا رسول اللہ نے سترّ قاری قرآن سکھانے پڑھانے کے لیے ان قبائل کے پاس روانہ کئے تھے جن کے امیر منذر بن عمرو تھے مگر عامر بن طفیل ؓ نے ان سب قاریوں کو شہید کردیا۔ حضور کو اس کا سخت رنج ہوا اور مہینہ بھر تک ہر نماز میں آپ نے ان قبائل کے لیے بد دعا کی۔ حافظ ابن حجر نے اس روایت کو مدرج قرار دیا ہے تعارض کو دور کرنے کی ایک توجیہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جنگ احد سے چار ماہ بعد ماہ صفر 4 ھ میں رعل وذکوان کا قصہ ہوا تھا اس لیے ممکن ہے کہ اس آیت کا نزول دونوں واقعات کے بعد ہوا ہو۔ اگر سبب نزول سے کچھ مدت کے بعد آیت کا نزول ہوا ہو تو بعید نہیں لیکن بخاری نے تاریخ میں اور ابن اسحاق نے سالم بن عبد اللہ بن عمر کی روایت سے آیت کا سبب نزول یہ لکھا ہے کہ ایک قریشی شخص نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر کہا تم ایک بات سے منع کرتے ہو پھر اس کو پلٹ دیتے ہو یہ کہہ کر اس نے اپنی پشت رسول اللہ کی طرف پھیر دی اور پیچھے سے سرین کھول دیئے حضور ﷺ نے (اس گستاخی کی وجہ سے) اس کے لیے بد دعا کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی پھر وہ شخص مسلمان ہوگیا اور اس کا اسلام اچھا رہا۔ یہ روایت مرسل اور غریب ہے۔ او یتوب علیہم او یعذبھم یہاں تک کہ اللہ ان کی توبہ قبول فرما لے گا اگر وہ مسلمان ہوجائیں گے یا ان کو عذاب دے گا اگر وہ کفر پر جمے رہیں گے دنیوی عذاب بصورت قتل و گرفتاری ہوگا اور آخرت میں عذاب جہنم ہوگا۔ فانھم ظالمون اس لیے کہ وہ ظالم ہیں یہ عذاب دینے کی علت ہے۔ فراء نے کہا : اَوْ یَتُوْبَ میں اَوْحتی (یہاں تک) کے معنی میں ہے۔ ابن عیسیٰ نے اَوْ کا معنی الاّ اَنْ (مگر یہ کہ) کا ہے جیسے بولا جاتا ہے : لا لزمنک او تعطینی حقی میں تیرا پیچھا نہیں چھوڑونگا یہاں تک کہ تو میرا حق دیدے (بر قول فراء) یا مگر یہ کہ تو میرا حق دیدے (برقول ابن عیسیٰ ) آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو عذاب دینا یا نہ دینا کوئی بات آپ کے اختیار میں نہیں ہے یہاں تک کہ اللہ مسلمان ہونے کی وجہ سے یا ان پر رحم فرمائے گا اور تم کو اس سے خوشی ہوگی یا (کفر پر جمے رہنے کی وجہ سے) ان کو عذاب دیگا اور اس سے تم کو تسکین حاصل ہوگی۔ بعض علماء نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ اَوْ یَتُوْبَ کا عطف اَلْاَمر پر یاشیءٌ پر ہو یعنی آپ کو ان کے معاملہ کا یا ان کو عذاب دینے یا رحم کرنے کا کوئی اختیار نہیں آپ صرف اس بات پر مامور ہیں کہ ان کو ڈرائیں اور ان سے جہاد کریں نتیجہ کا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ تفتازانی نے اعتراض کیا ہے کہ اس صورت میں عام پر خاص کا عطف ہوگا (الامر عام ہے اور یتوب و یعذب خاص ہے) لیکن ایسے موقعہ پر لفظ اَو نہیں لایا جاتا۔ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ امر سے اس جگہ حال مراد ہے لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امر بمعنی حکم ہو اس وقت یہ مطلب ہوگا کہ آپ جو حکم دیتے ہیں وہ آپ کی طرف سے نہیں ہوتا حکم دینا اور فرض کرنا آپ کے ہاتھ میں نہیں ہے اور نہ رحم کرنا اور عذاب دینا آپ کے اختیار میں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر اس آیت کے نزول کو پہلی آیت سے مربوط قرار دیا جائے تو اَو یَتوبَ عَلَیْھِم کا عطف اَوْ یَکْبِتَ پر ہوگا اور مطلب اس طرح ہوگا کہ اللہ نے بدر میں تمہاری مدد اس لیے کی کہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک کردے یا شکست دے کر ایک گروہ کو ناکام لوٹا دے یا مسلمان ہوجانے کی وجہ سے ان پر رحم کرے یا ان کو عذاب دے۔ گویا احوال کفار کی چار انواع بیان فرمائیں۔ اس تفصیل پر لیس لک من الامر شیء بد دعا سے روکنے کے لیے جملہ معترضہ ہوگا۔