Ayah 3:83اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللّٰهِ يَبْغُوْنَ : کیا وہ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کے طلبگار ہیں اس جملہ کا عطف فاولءِک ھم الفاسقون پر ہے اور استفہام انکاری ہے یا فعل محذوف پر عطف ہے اصلی عبارت اس طرح تھی ایفسقون فغیر دین اللہ یبغون یا اصل میں کلام اس طرح تھا ایتوتون فغیر دین اللہ یبغون .
مفعول کو فعل سے پہلے تخصیص کی وجہ سے ذکر کیا گویا مخصص کا انکار مقصود ہے مطلب یہ ہے کہ کیا دین اللہ کے علاوہ کسی اور ہی دین کو وہ چاہتے ہیں۔ اس سے بطور اشارہ یہ بات معلوم ہوئی کہ دین اللہ کی طلب کے ساتھ دوسرے دین کی طلب نہیں ہوسکتی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ یہود و نصاریٰ میں سے ہر فریق نے دین ابراہیمی پر ہونے کا دعویٰ کیا اور رسول اللہ کی خدمت میں یہ جھگڑا لے کر حاضر ہوئے حضور ﷺ نے فرمایا : دونوں فریق دین ابراہیم سے علیحدہ ہیں اس فیصلہ سے دونوں ناراض ہوگئے اور کہنے لگے ہم آپ کے فیصلہ کو نہیں مانتے اور نہ آپ کے مذہب کو پسند کرتے ہیں اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
وَلَهٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ : حالانکہ اللہ ہی کے فرماں بردار اور مطیع ہیں جو آسمانوں میں ہیں یعنی ملائکہ یہ جملہ اللہ سے حال ہے لفظ اللہ اگرچہ مفعول نہیں ہے بلکہ دین کا مضاف الیہ ہے مگر مفعول کے دائرہ میں واقع ہے۔
وَالْاَرْضِ : اور جو زمین میں ہیں یعنی جن وانس۔
طَوْعًا : یعنی اپنے اختیار سے مطلب یہ ہے کہ ملائکہ اور ایماندار جن و انس اوامر تکلیفیہ کی تعمیل بخوشی خاطر اپنے اختیار سے کرتے ہیں اور اوامر تخلیقیہ میں اپنے محبوب کی مرضی پر راضی اور اللہ کی تکوینی فیصلہ سے خوش ہیں۔
وَّكَرْھًا : اور مجبوراً بھی مطیع ہیں خواہ اسلام کی قوت کی وجہ سے یا ایسے اسباب کا معاینہ کرنے کی وجہ سے جو اسلام پر مجبور کرتے ہیں جیسے (بنی اسرائیل کے سروں پر) پہاڑ کو اکھاڑ کر معلق کیا گیا یا آل فرعون کو غرق کیا گیا تھا یا موت کا پھندا گلے میں پڑنے لگتا ہے تو منکر بھی اسلام پر مجبور ہوجاتا ہے۔ یہ صورت تو اوامر تکلیفیہ میں ہوتی ہے اور اوامر تکوینیہ میں تو کوئی اختیار ہوتا ہی نہیں ہے نیچرل تسخیر سب کو محیط ہے اور سب مسخر ہیں (بہرحال مؤمن و کافر سب چار و ناچار اللہ کے فرماں بردار ہیں)
وَّاِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ : اور اسی کی طرف سب کو واپس جانا ہوگا۔
Ayah 3:84قُلْ اٰمَنَّا : آپ کہہ دیں کہ ہم مانتے ہیں یہ خطاب یا رسول اللہ کو ہے آپ کی عظمت کے اظہار کے لیے شاہانہ طریقۂ کلام کا حکم دیا یا یہ حکم دیا کہ اپنے ساتھ اپنے متبعین کو بھی شامل قرار دے کر اظہار ایمان کرو۔ یا خطاب ہر مؤمن کو ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ اپنے ساتھ ہر مؤمن بھائی کو شامل سمجھ کر اظہار ایمان کریں۔
بِاللّٰهِ : تنہا اللہ کو وما انزل علینا اور اس قرآن کو جو ہم پر اتارا گیا ہے اگر خطاب ہر مؤمن کو مانا جائے تو ہم پر نازل ہونے سے مراد ہوگا رسول اللہ کی وساطت سے ہم تک پہنچنا۔ یا یوں تاویل کی جائے گی کہ اگر جماعت کے کسی ایک فرد کی طرف کسی فعل کی نسبت کی جائے (اور وہ فرد اہم ہو) تو پوری جماعت کی طرف اس فعل کی نسبت ہوجاتی ہے (اہل ایمان میں رسول اللہ کا مرتبہ سب سے اہم ہے اور آپ پر قرآن نازل ہوا تو گویا سب پر نازل ہوا) مادۂ نزول کے بعد کبھی الیٰ آتا ہے کیونکہ اللہ کا پیام پیغمبروں تک پہنچتا ہے کبھی علیٰ آتا ہے کیونکہ اللہ کا پیام اوپر سے اترتا ہے۔
وَمَآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ عَلٰٓى اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ : اور ان کتابوں اور صحیفوں کو جو ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب اور دوسرے اسرائیلی پیغمبروں پر اتارے گئے اسباط سے مراد ہیں حضرت یعقوب کی نسل کے انبیاء۔
وَمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى : جن میں سے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ بھی تھے لیکن یا تو ان دونوں حضرات کی جلالت قدر کی وجہ سے انکا خصوصی ذکر کیا یا یہ وجہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کی طرف سے انہی کے متعلق خصوصی نزاع تھا اور ان کو یہ خیال تھا کہ مسلمان حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کو نہیں مانتے اس گمان کو دفع کرنے کے لیے خاصطور پر ان کا ذکر کیا۔
ما اوتی سے اس جگہ بھی کتابیں اور صحیفے مراد ہیں۔ یامَا اُنْزِلَسے وحی جلی اور ما اوتی سے وحی خفی مراد ہے۔ یا معجزات و فضائل مراد ہیں۔
وَالنَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ ۠ : اور اس کو بھی مانتے ہیں جو موسیٰ و عیسیٰ اور دوسرے انبیاء کو اللہ کی طرف سے دیا گیا تھا۔
لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ : ہم انبیاء کے باہم تفریق نہیں کرتے کہ کسی کو سچا کہیں اور کسی کو جھوٹا۔
وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ : اور ہم اللہ ہی کے فرماں بردار ہیں۔
Ayah 3:85وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا : جو طلب کرے گا سوائے اسلام کے کوئی دوسرا دین اسلام سے مراد ہے توحید اور اللہ کی فرماں برداری یا دین محمدی جو تمام مذاہب کا ناسخ ہے۔ دیناً یا تمیز ہے یا یبتغ کا مفعول۔ اس صورت میں غیر الاسلام حال ہوگا جو دیناً کے نکرہ ہونے کی وجہ سے پہلے ذکر کردیا گیا ہے۔
فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ : تو ہر گز اس سے قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ دین اللہ کے حکم اور پسند کے خلاف ہوگا۔
وَھُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ : اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا کیونکہ وہ اسلام کا تارک اور دوسرے دین کا طالب ہے اس نے اپنی فطرت سلیمہ کو بگاڑ لیا ہے اس لیے فائدہ سے محروم اور نقصان سے ہمکنار ہوگا۔ (1) [ بیہقی نے دعوات میں حضرات ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اگر کسی کا سواری کا جانور سرکش ہو اور اس پر سوار ہونا دشوار ہو تو اس کے کانوں میں آیت : و من یبتغ غیر الاسلام۔۔ پڑھی جائے۔]
بغوی نے لکھا ہے کہ یہ آیت اور اس کی بعد والی آیات کا نزول بارہ آدمیوں کے حق میں ہوا تھا۔ یہ لوگ مرتد ہو کر مدینہ سے مکہ کو چلے گئے تھے انہیں میں سے حارث بن سوید انصاری بھی تھے۔ (حارث مرتد ہو کر چلے گئے تھے لیکن پھر سچے دل سے توبہ کر کے و اپس آگئے تھے)
Ayah 3:86كَيْفَ يَهْدِي اللّٰهُ : یعنی اللہ جنت کا راستہ کیسے دکھائے گا۔ یہ استفہام انکاری ہے یعنی اللہ ان کو جنت کی ہدایت نہیں کرے گا ان کا ہدایت یاب ہونا بہت بعید ہے۔
قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِهِمْ : ایسے لوگوں کو جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے۔ جیسے بارہ آدمیوں نے کیا۔
وَشَهِدُوْٓا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ : اور جو رسول کے حق ہونے کی شہادت دینے کے بعد کافر ہوگئے (ا اللہ ان کو ہدایت نہیں کرے گا) شھدوا اگرچہ فعل ہے لیکن مصدری معنی مراد ہے جیسے تَسْمَعُ بالْمُعِیْدِیْ خَیْرٌ مِّنْ اَتَراہ میں تَسْمَع فعل بمعنی مصدر ہے معیدی کا ذکر سننا اس کو دیکھنے سے بہتر ہے یا ایمانِھِم میں ایمان (مصدر) ہونے کے باوجود اپنے اندر فعل کے معنی رکھتا ہے۔ اس لیے شھدوا کا عطف اس پر کردیا گیا یعنی ایسے لوگوں کو اللہ جنت کا راستہ نہیں بتائے گا جو ایمان لا چکے تھے اور حقانیت رسول کی شہادت دے چکے تھے اس کے بعد کافر ہوگئے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شھدوا سے پہلے لفظ زمان محذوف قرار دیا جائے یہ بھی ممکن ہے کہ شھدوا کا عطف کفروا پر ہو (شہادت رسالت اگرچہ کفر سے پہلے تھی لیکن) عطف بالواؤ میں ترتیب واقعی کی مطابقت ضروری نہیں۔ یا شھدوا حال ہے اور قَدْ محذوف ہے۔ بہر حال اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ زبان سے اقرار رسالت کرنا ہی ایمان کی حقیقت میں داخل نہیں۔ (اسی لیے تو شھدوا کا عطف ایمانھم پر کیا ہے، معطوف معطوف علیہ سے غیر ہوتا ہے)
وَّجَاۗءَھُمُ الْبَيِّنٰتُ : بینات سے مراد ہیں روشن دلائل جیسے قرآن اور تمام معجزات۔
وَاللّٰهُ لَايَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ : اور اللہ کافروں کو جنت کی راہ پر نہیں لے جائے گا۔
Ayah 3:87اُولٰۗىِٕكَ جَزَاۗؤُھُمْ اَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللّٰهِ : یہی ہیں جن کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ کی لعنت ہے۔ لعنت اللہ سے مراد ہے اللہ کا غضب لیکن اللہ کے غضب کے بعد اس کی رحمت سے دوری ضروری ہے۔ اسی لیے لعنت سے مراد ہوئی رحمت سے دوری۔
وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ : اور فرشتوں کی لعنت یعنی اللہ کی رحمت سے دور رہنے کی بد دعا۔
وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ : اور تمام لوگوں کی لعنت تمام لوگوں سے مراد ہیں تمام مؤمن یا سب آدمی خواہ کافر ہوں یا مؤمن کیونکہ کافر بھی منکر حق پر لعنت کرتا ہے اگرچہ (اس کی لعنت اسی پر پڑتی ہے کیونکہ وہ بھی منکر حق ہوتا ہے مگر) وہ حق کی شناخت نہیں رکھتا یا یہ مراد ہے کہ قیامت کے دن بعض کافر بعض کافروں پر لعنت کریں گے اللہ نے فرمایا ہے : یَکْفُرُ بَعْضُکُمْ بِبَعْضٍ وَ یَلْعَنُ بَعْضُکُمْ بَعْضًا .
Ayah 3:88خٰلِدِيْنَ فِيْهَا : اس لعنت میں ہمیشہ رہیں گے یا آگ میں ہمیشہ رہیں گے آگ کا ذکر گو صراحۃ نہیں ہے مگر کلام اس پر دلالت کر رہا ہے (کیونکہ لعنت کے بعد دوزخ لازم ہے )
لَا يُخَفَّفُ عَنْھُمُ الْعَذَابُ : ان کے عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی۔
وَلَا ھُمْ يُنْظَرُوْنَ : اور نہ ان کو مہلت دی جائیگی (کہ ٹھہر ٹھہر کر عذاب دیا جائے گا کچھ موقع دم لینے کا دیدیا جائیگا)
Ayah 3:89اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ : ہاں جن لوگوں نے ارتداد سے توبہ کرلی۔
وَاَصْلَحُوْا : اور اصلاح نفس کرلی۔ یہتابُوا کی تفسیر ہے توبہ کرلی یعنی نیک ہوگئے مراد یہ ہے کہ مسلمان ہوگئے یا یہ مراد ہے کہ انہوں نے اپنے ایمان کو ٹھیک کرلیا یعنی (کفر کی وجہ سے) جو ملک میں بگاڑ کیا تھا اسکو (ایمان کے بعد) درست کرلیا۔
فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ : تو بلاشبہ اللہ معاف کرنے والا ہے ان کی توبہ قبول فرما لے گا اور ان سے جو اللہ کی حق تلفیاں ہوئی ہیں ان کو معاف کردے گا۔
رَّحِيْمٌ : وہ مہربان ہے ان پر مہربانی کرکے جنت میں لے جائے گا نسائی ‘ ابن حبان اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ ایک انصار مسلمان ہونے سے کچھ مدت کے بعد مرتد ہوگیا لیکن پھر اسے پشیمانی ہوئی اس نے اپنے خاندان والوں کے پاس پیام بھیجا کہ رسول اللہ کی خدمت میں کسی کو بھیج کر یہ دریافت کراؤ کہ کیا اب میرے لیے توبہ کی گنجائش ہے ؟ اس پر آیت : کیف یھدی اللہ۔۔ غفور رحیم تک نازل ہوئی اور انصاری کے خاندان والوں نے اس کے پاس ( قبول توبہ کا) پیام بھیج دیا یا وہ (پھر) مسلمان ہوگیا۔ ابن المنذر نے (مسند میں) اور عبد الرزاق نے مجاہد کا قول بیان کیا ہے کہ حارث بن سوید اگر مسلمان ہوا لیکن کچھ عرصہ کے بعد کافر ہو کر اپنے قبیلہ میں لوٹ گیا اللہ نے اس کے متعلق آیت : کیف یھدی اللہ سے غفور رحیم نازل فرمائی اس کے خاندان کے کسی شخص نے یہ آیت لے جا کر اس کو سنا دی حارث نے کہا خدا کی قسم میری دانست میں تم بڑے سچے آدمی ہو اور رسول اللہ تم سے زیادہ سچے ہیں اور اللہ دونوں سے بڑھ کر سچا ہے اس کے بعد حارث واپس آکر مسلمان ہوگیا اور اچھا مسلمان ہوگیا۔
Ayah 3:90اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا : قتادہ اور حسن بصری کا بیان ہے کہ آیت کا نزول یہودیوں کے حق میں ہوا جنہوں نے حضرت موسیٰ اور توریت پر ایمان لانے کے بعد حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور انجیل کو ماننے سے انکار کردیا پھر کفر میں اور ترقی کی کہ رسول اللہ اور قرآن کو نہیں مانا۔ ابو العالیہ کے قول پر آیت کا نزول یہود و نصاریٰ دونوں کے حق میں ہوا دونوں نے رسول اللہ کے اوصاف و حالات اپنی کتابوں میں پڑھے اور ان کو مانا لیکن بعثت نبوی کے بعد رسول اللہ پر ایمان نہیں لائے اور اس کفر کی حالت میں گناہوں کی وجہ سے مزید ترقی کی۔ مجاہد کے نزدیک آیت کا نزول تمام کفار کے حق میں ہوا جو اللہ کے خالق ہونے کا اقرار کرنے کے باوجود شرک کرتے ہیں پھر کفر میں بڑھ جاتے ہیں یعنی مرتے دم تک کفر پر قائم رہتے ہیں۔ حسن نے کہا کہ کفر میں بڑھنے کا معنی یہ ہے کہ جو آیت نازل ہوتی گئی وہ اس کا انکار کرتے گئے کلبی نے کہا کہ آیت کا نزول حارث بن سوید کے ساتھیوں کے متعلق ہوا کہ حارث کے دوبارہ مسلمان ہونے کے بعد بھی وہ کفر پر قائم رہے اور مکہ ہی میں مقیم رہے۔ بعض علماء کے نزدیک اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا سے منافق مراد ہیں علانیہ کافروں سے منافقوں کا کفر زیادہ تھا وہ کفر کو پوشیدہ رکھنے اور ظاہر میں باوجود کراہت خاطر کے نماز، روزہ ادا کرنے کی مشقت اٹھاتے تھے کفر سے ان کو انتہائی محبت تھی۔
لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُھُمْ : یعنی جن لوگوں نے کفر کیا پھر کفر میں بڑھ گئے ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ اگر الذین کفروا سے یہود و نصاریٰ یا عام کافر مراد ہوں تو توبہ قبول نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ کفر پر قائم رہیں گے گناہوں سے توبہ قبول نہیں کی جائے گی ہاں غر غرہ کے وقت (بھی) کفر سے توبہ مقبول ہے کیونکہ فتح مکہ کے بعد حارث بن سوید کے ساتھیوں میں سے جس نے بھی کفر سے توبہ کی رسول اللہ نے اس کی توبہ قبول فرمائی اور اگر آیت میں منافق مراد ہوں تو یہ مطلب ہوگا کہ جب تک دل سے کفر پر جمے رہیں گے زبان سے توبہ ناقابل قبول ہے۔
وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الضَّاۗلُّوْنَ : اور یہی لوگ راہ حق سے بھٹکے ہوئے ہیں۔
Ayah 3:91اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ كُفَّارٌ : جن لوگوں نے کفر کیا اور کفر سے توبہ نہ کی اور کفر کی حالت میں ہی مرگئے۔
فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِھِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَھَبًا : اگر بالفرض انہوں نے زندگی میں زمین بھر سونا خیرات کیا ہوگا تب بھی قیامت کے دن قبول نہیں کیا جائے گا اس سے کم کا تو ذکر ہی کیا ہے کیونکہ ایمان، تمام صدقات و عبادات کے قبول ہونے کی شرط ہے بلکہ عبادت عبادت ہی نہیں ہوتی جب تک ایمان اور خلوص کے ساتھ نیت نہ ہو۔
چونکہ الذین میں شرط کا مفہوم ہے اس لیے اِنّ کی خبر یعنیفَلَنْ یُّقْبَلَ میں فاء (جزائیہ) لائی گئی اس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ کفر کی حالت میں مرنا خیرات قبول نہ ہونے کا سبب ہے۔
وَّلَوِ افْتَدٰى بِهٖ : اگر قیامت کے دن بالفرض وہ زمین بھر سونا بدلہ میں دے تب بھی قبول نہ ہوگا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ عذاب قیامت کے عوض اگر کوئی زمین بھر کر اور اسکے ساتھ اتنا ہی اور سونا دیگا تب بھی قبول نہ ہوگا جیسے دوسری آیت میں آیا ہے کہ : وَلَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَہٗ مَعَہٗ (گویا بِہٖ سے مراد ہے بمثلہ۔ لفظ مثل محذوف ہے) چونکہ دو ایک طرح کی چیزوں کا حکم ایک ہی ہوتا ہے اس لیے کسی ایک چیز کے ذکر کے وقت اس جیسی دوسری چیز بھی اس کے ساتھ بکثرت مراد لے لی جاتی ہے۔
وَلَوْ افتدیٰ میں لَو وصلیہ نہیں ہے (یعنی اگرچہ اور خواہ کا معنی نہیں ہے) کیونکہ شرط وصلی کی صورت میں نقیض شرط کا جزاء ہونا بدرجہ اولیٰ صحیح ہوتا ہے جیسے آیت : یَکَادُ زَیْتُھَا یُضِیی وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ کا مفہوم یہ ہے کہ (درخت زیتون اتنا چمکیلا اور شفاف ہوتا ہے کہ) اس کا تیل آگ کے چھوتے ہی مشتعل ہوجائے اور آگ اس کو نہ لگے تب بھی مشتعل ہوجائے اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اگر وہ اپنے بدلہ میں زمین بھر سونا نہ دے تو قبول نہیں کیا جائے گا اور دے تب بھی قبول نہ ہوگا (اور یہ مطلب غلط ہے) بعض علماء نے توجیہ مطلب اس طرح کی ہے کہ کوئی عوض قبول نہ ہوگا اگر زمین بھر سونے سے کم دے تب قبول نہ ہوگا اور زمین بھر سونا دے تب قبول نہ ہوگا۔
اُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ : اور انہی کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ اس آیت میں پر زور تخویف ہے کیونکہ جس کی طرف سے کوئی معاوضہ (جرم) قبول نہ ہو اس کو (بلامعاوضہ) محض کرم ذاتی کے زیر اثر معافی مل جانا بہت کم ہوتا ہے (مگر ہوسکتا ہے پس جب درد ناک عذاب میں مبتلا ہونے کی صراحت کردی تو) اس سے معافی کی طرف سے بالکل ناامید بنا دیا۔
وَّمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ : اور ان کا کوئی حمایتی نہ ہوگا کہ عذاب کو دفع کرسکے۔ مِن کی زیادتی مفید استغراق ہے (یعنی کوئی بھی مددگار نہ ہوگا)
حضرت انس بن مالک ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : قیامت کے دن خفیف ترین عذاب والے دوزخی سے اللہ فرمائے گا اگر تیرے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو کیا (آج) عذاب سے چھوٹنے کے لیے تو وہ سب چیزیں دے دے گا دوزخی کہے گا جی ہاں اللہ فرمائے گا جب تو آدم کی پشت میں تھا اس وقت میں نے تجھ سے اس سے بہت زیادہ آسان چیز کی خواہش کی تھی کہ (پیدا ہونے کے بعد) میرے ساتھ کسی کو شریک نہ قرار دینا مگر تو بغیر شرک کئے نہ رہا۔ (متفق علیہ)
Ayah 3:92لَنْ تَنَالوا البر بِرّ کا معنی ہے انعام، جنت، بھلائی، احسان کی وسعت، سچائی، اطاعت (قاموس) میں کہتا ہوں کہ اگر ” بر “ کی نسبت بندہ کی طرف کی جاتی ہے تو مراد ہوتی طاعت سچائی اور احسان کی وسعت۔ اس وقت اسکے مقابل فجور اور عقوق کا لفظ آتا ہے لیکن اگر اللہ کی طرف برّ کی نسبت کی جاتی ہے تو مرادہوتی ہے رضاء، رحمت، جنت۔ اس وقت اسکے مقابل غضب اور عذاب کا لفظ آتا ہے۔
آیت مذکورہ میں حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس اور مجاہد کے نزدیک جنت مراد ہے مقاتل بن حبان کے نزدیک تقویٰ بعض علماء کے نزدیک طاعت اور بعض کے نزدیک بھلائی حسن بصری نے آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا تم ابرار نہیں ہوسکتے یعنی کثیر الخیر وسیع الاحسان اور طاعت گذار نہیں ہوسکتے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ تم حقیقت بر یعنی کمال خیر تک نہیں پہنچ سکتے یا اللہ کی بر یعنی رحمت، رضا اور جنت کو نہیں پاسکتے۔ اوّل قول پر البر میں لام جنسی اور دوسری صورت میں عہدی ہوگا۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : سچائی کو اختیار کرو کیونکہ سچائی بر کی طرف لے جاتی ہے اور بر جنت کی طرف۔ آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے اور سچ کی نیت کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں اس کو صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے پرہیز رکھو کیونکہ جھوٹ بدکاری کی طرف لے جاتا ہے اور بد کاری دوزخ کی طرف۔ آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کی نیت کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں اس کو کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔ (رواہ مسلم و احمد والترمذی)
حضرت ابوبکر صدیق کی مرفوع روایت ہے کہ صدق کو اختیار کرو صدق بر کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ دونوں جنت میں (لے جاتے) ہیں اور کذب سے پرہیزرکھو کذب فجور کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ دونوں دوزخ میں (لے جاتے) ہیں۔ (رواہ احمد وابن ماجہ والبخاری فی الادب)
حتی تنفقوا مما تحبون یہاں تک کہ تم اپنے محبوب مال کا کچھ حصہ راہ خدا میں خرچ کرو۔ مِنْ تبعیضیہ ہے یعنی کچھ مال ما تحبون سے مراد ہر قسم کا مال ہے کیونکہ ہر قسم کے مال سے لوگوں کو محبت ہوتی ہے ان کے دل ہر طرح کے مال کی طرف مائل ہوتے ہیں پس اگر کوئی کسی قسم کا مال کچھ بھی راہ خدا میں نہ خرچ کرے یہاں تک کہ زکوٰۃ بھی ادا نہ کرے وہ فاجر ہوگا اور بِر سے بالکل محروم۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر قسم کے مال کا کچھ حصہ راہ خدا میں دینا فرض ہے اور اگر حلال حرام مال مخلوط ہو تو حلال مال کو چھوڑ کر حرام مال میں سے دینا ناجائز ہے جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : یا ایھا الذین امنوا انفقوا من طیبات ما کسبتم و مما اخرجنا لکم من الارض و لا تیمموا الخبیث منہ تنفقون و لستم باخذیہ الا ان تغمضوا فیہ۔.
اگر مقدار واجب سے کم دے گا تو واجب ادا نہ ہوگا یہ حکم بالاجماع ہے پھر یہ فعل عنوان محبوبیت کے تقاضے 4 کے خلاف بھی ہے ہر مال کی کتنی مقدار راہ خدا میں دینا واجب ہے اس کے متعلق آیت میں کوئی تفصیل نہیں البتہ مقدار زکوٰۃ کی تعیین کرنے والی احادیث میں اس کا بیان ہے گویا آیت کے اجمال کی توضیح احادیث سے ہو رہی ہے۔ آیت سے معلوم ہورہا ہے کہ ہر مال کی زکوٰۃ واجب ہے مال بڑھوتری والا اور روبہ ترقی ہو یا نہ ہو (گھر میں بیکار پڑا ہو) مقدار نصاب (فقہی) کو پہنچ گیا ہو یا نہ پہنچا ہو اپنی ضرورتوں سے بچا ہوا ہو یا ضرورت سے زائد نہ ہو اس پر سال گذر گیا ہو یا نہ گذرا ہوا۔ لیکن بعض دوسری آیات و احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ وجوب زکوٰۃ کی کچھ مخصوص صورتیں اور حالتیں ہیں (اس لیے اس آیت کا حکم عام مطلق نہیں ہے) ایک آیت ہے : یَسْءَلُوْنَکَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ قل العَفْوَ ۔ اے پیغمبر مسلمان آپ سے پوچھتے ہیں کہ راہ خدا میں کیا خرچ کریں ؟ آپ جواب میں کہہ دیں کہ جو چیز ضرورت سے زائد ہو وہ را ہِ خدا میں دیدو۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ کام کرنے والے اور بوجھ اٹھانے والے اور گھروں میں چارہ کھا کر پرورش پانے والے جانوروں میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ دوسری حدیث ہے کہ ایک شخص کے جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ اس کے علاوہ تجھ پر کچھ فرض نہیں ہاں اگر اپنی خوشی سے بطور نفل تو ادا کرے تو خیر۔ تیسری حدیث ہے کہ زکوٰۃ کا وجوب بغیر تونگری کے نہیں ہوتا ہے (یعنی جو شخص غنی نہ ہو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں) ان احادیث و آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ زکوٰۃ ان جانوروں میں واجب ہے جو (سال کے زیادہ حصہ میں) جنگل میں (مفت) چرتے ہوں (گھر پر ان کو خوراک نہ دی جاتی ہو) یا سونا چاندی بقدر نصاب ہو یا تجارتی سامان ہو (جس کی قیمت) بقدر نصاب ہو بشرطیکہ ایک سال سے یہ اشیاء ملکیت میں ہوں یا کھیتی کا غلہ ہو یا پھل ہوں ان تمام چیزوں میں زکوٰۃ کے وجوب پر اجماع ہے پس یہ آیت زکوٰۃ کے متعلق ہے لیکن حکم مخصوص بالبعض ہے ضحاک نے حضرت ابن عباس ؓ کی طرف اس قول کی نسبت کی ہے لیکن مجاہد و کلبی کے نزدیک اس آیت میں زکوٰۃ مراد نہیں ہے بلکہ دوسری آیت زکوٰۃ اس آیت کے عمومی حکم کی ناسخ ہے مگر یہ قول غلط ہے جب آیت کے حکم کو زکوٰۃ پر محمول کیا جاسکتا ہے (اور حکم آیت کو عام مخصوص بالبعض کہا جاسکتا ہے) تو منسوخ قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں۔
نسخ کا قول تو اس وقت اختیار کیا جاسکتا ہے جب دونوں آیات میں (ناقابل ازالہ) تعارض ہو یہاں تعارض ہی نہیں ہے اس آیت میں بلاشبہ محبوب ترین مال کو خرچ کرنے کا وجوبی حکم ہے لیکن محبوب ترین مال کے علاوہ دوسرے مال میں سے راہ خدا میں دینے کا عدم وجوب تو اس سے معلوم نہیں ہوتا (ہو سکتا ہے کہ محبوب مال میں سے راہ خدا میں دینا اس آیت کی رو سے واجب ہو اور دوسرے مال میں سے انفاق دوسری آیت سے ثابت ہو) نہ آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مقدار زکوٰۃ کے علاوہ کوئی دوسری مقدار واجب نہیں ہے۔ پھر یہ آیت مدنی ہے اور زکوٰۃ کی آیت مکی ہیں۔ سابق النزول حکم مؤخر النزول کا ناسخ کس طرح ہوسکتا ہے۔ وا اللہ اعلم۔
عام مال کو ما تحبون سے تعبیر کرنا اس امر کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ جو مال زیادہ محبوب خاطر ہوگا اس کو راہ خدا میں خرچ کرنا زیادہ بہتر ہوگا۔ دلالت النص سے یہ بات بھی معلوم ہو رہی ہے کہ مال کا کچھ حصہ خرچ کرنا واجب ہے لیکن جو شخص کل مال راہ خدا میں دیدے وہ سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔
حسن بصری نے فرمایا : کہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے مسلمان (جس قسم کا) جو مال خرچ کرے گا یہاں تک کہ ایک چھوارہ دینے والا بھی اس بر کا مستحق ہے جس کا ذکر آیت میں کیا گیا ہے حضرت حسن کے اس قول کا مقتضا یہ ہے کہ آیت میں جس انفاق کا حکم ہے وہ انفاق واجب اور انفاق مستحب دونوں کو شامل ہے اگر کوئی مطلقًا راہ خدا میں خرچ نہ کرے یہاں تک کہ فرض زکوٰۃ بھی نہ دے تو وہی بر مذکور سے محروم ہوگا اور اسی پر فاجر (خارج از حکم خدا) کا اطلاق کیا جائے گا عطاء نے آیت کا تفسیری مطلب ان الفاظ میں بیان کیا کہ تم فضیلت دین وتقویٰ اس وقت تک نہیں پاسکتے جب تک صحت اور ضرورت کی حالت میں تم خیرات نہ کرو۔
حضرت انس بن مالک کا بیان ہے کہ مدینہ میں حضرت ابو طلحہ انصار میں سے سب سے زیادہ مالدار تھے اور آپ کا مرغوب ترین مال (بستان) بیرھا تھا جو مسجد کے سامنے تھا۔ رسول اللہ بھی (کبھی کبھی) تشریف لے جا کر وہاں کا عمدہ پانی پیتے تھے جب آیت : لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون نازل ہوئی تو حضرت ابو طلحہ نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے : لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون مجھے اپنے مال میں بیرحا سب سے زیادہ پسند ہے میں اللہ کی خوشنودی کے لیے اس کو دیتا ہوں امید ہے کہ اللہ اس کا ثواب اور اجر میرے لیے جمع رکھے گا۔ آپ ﷺ جس طرح چاہیں اس (باغ) میں تصرف کریں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : واہ واہ یہ تو نفع بخش مال ہے جو کچھ تم نے کہا میں نے سن لیا میرے نزدیک یہی مناسب ہے کہ تم یہ اپنے قرابتداروں کو دیدو۔ حضرت ابو طلحہ ؓ نے کہا (بہت خوب) یا رسول اللہ میں ایسا ہی کروں گا چناچہ حضرت ابو طلحہ نے وہ باغ اپنے اقرباء اور چچا زادوں کو تقسیم کردیا۔ 1
حضرت زید بن حارثہ اپنے محبوب گھوڑے کو لے کر آئے اور عرض کیا یہ اللہ کی راہ میں (دیتا ہوں) رسول اللہ نے وہ گھوڑا حضرت اسامہ بن زید کو سواری کے لیے دے دیا حضرت زید نے کہا میں نے تو اس کو خیرات کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ حضور نے فرمایا : اللہ نے تمہاری طرف سے اس کو قبول کرلیا (یعنی تم کو خیرات کا ثواب ملے گا) ابن المنذر نے اس حدیث کو محمد بن منکدر کی روایت سے مرسل بیان کیا ہے اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ اس گھوڑے کا نام سبیل تھا۔ ابن جریر نے یہ حدیث عمرو بن دینار کی روایت سے مرسل اور ایوب سجستانی کی روایت سے معضل بیان کی ہے۔
بغوی نے مجاہد کی روایت لکھی ہے کہ جلولا 2 ء کی فتح کے دن حضرت عمر ؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کو لکھا کہ میرے لیے جلولاء کے قیدیوں میں سے کوئی باندی خرید لو۔ 3 آپ کو وہ باندی بہت پسند آئی اور فرمایا : اللہ نے فرمایا ہے : لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون اس لیے آپ نے اس باندی کو آزاد کردیا۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے صاحبزادے حضرت حمزہ ؓ نے فرمایا : کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے دل میں آیت : لن تنالوا البر۔۔ کھٹکی تو دل میں سوچا کہ خداداد نعمتوں میں سب سے مرغوب چیز کیا ہے سوچنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ فلاں باندی سے زیادہ دل کو محبوب اور کوئی چیز نہیں یہ سوچ کر فرمایا : فلاں باندی لوجہ اللہ آزاد ہے اگر بارگاہ الٰہی میں پیش کی ہوئی چیز کو واپس لینے (کی ممانعت) کا خیال نہ ہوتا تو میں اس سے نکاح کرلیتا۔ ان احادیث اور آثار صحابہ سے معلوم ہوتا ہے کہ راہ خدا میں دینے کا مفہوم عام ہے اسکا اطلاق خیرات پر بھی ہوتا ہے اور استعمال کے لیے عاریۃً دینے پر بھی اور قرض دینے پر بھی اور باندی غلام کو آزاد کرنے پر بھی۔ حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار کو دینا افضل ہے۔
Ayah 3:93و ما تنفقوا من شی فان اللہ بہ علیم تم جو کچھ راہ خدا میں خرچ کرو گے خواہ وہ محبوب و مرغوب ہو یا غیر محبوب اللہ اس سے یقینی طور پر بخوبی واقف ہے یعنی عمل اور نیت کے مطابق جزا دے گا علم سبب ہے اور جزا وثواب اس کا نتیجہ سبب کو بجائے نتیجہ کے ذکر کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ کریم کا اپنے بندہ کی نیکی کو جاننا ہی ثواب و جزاء کے لیے کافی ہے پھر ماضی (انفقتم) کی جگہ مستقبل کا صیغہ (تنفقوا) ذکر کرنے سے یہ معلوم ہوگیا کہ انفاق (راہ خدا میں صرف) سے اللہ واقف ہے خواہ تھوڑا انفاق ہو یا زیادہ اور خواہ (ماضی میں ہوگیا ہو یا حال میں ہو رہا ہو یا) آئندہ ہونے والا ہو۔ اس سے اشارۃً یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اللہ کے علم کے لیے علی الاعلان انفاق ضروری نہیں (چھپ کر بھی اگر خیرات کی جائے تو اللہ اس سے واقف ہوتا ہے بلکہ) پوشیدہ خیرات کرنے کی اس سے ترغیب مستفاد ہو رہی ہے۔ (آئندہ آیت کے شان نزول کے سلسلے میں)
بغوی نے لکھا ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ سے عرض کیا کہ آپ کو ملت ابرہیمی پر ہونے کا تو دعویٰ ہے مگر آپ اونٹ کا گوشت کھاتے ہیں باوجود یکہ ابراہیم نہ اونٹ کا گوشت کھاتے تھے نہ انکا دودھ پیتے تھے رسول اللہ نے فرمایا : ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے تو یہ چیزیں حلال تھیں کہنے لگے ہم آج جن چیزوں کو حرام کہتے ہیں یہ نوح کے لیے بھی حرام تھی اور ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے بھی اسی زمانہ سے آج تک ان کی حرمت چلی آئی ہے۔ اس قول کی وجہ یہ تھی کہ یہودی نسخ احکام کے قائل نہیں تھے۔ یہودیوں کی تکذیب کے لیے اللہ نے مندرجہ ذیل آیت نازل فرمائی۔
کل الطعام کان حلا لبنی اسرائیل طعام مصدر ہے غذا کھانا۔ یہاں مفعول کے معنی مراد ہیں یعنی غذا۔ الف لام عہدی ہے یعنی وہ پاکیزہ غذائیں جو (توریت سے پہلے) حلال تھیں لیکن یہودیوں کی حرکات بےجا کی وجہ سے توریت میں ان کو حرام کردیا گیا چونکہ الطعام میں معہود طعام مراد ہے اس لیے یہ لفظ مردار، خون، گوشت، خنزیر اور دوسرے درندوں کے گوشت کو شامل ہی نہیں ہے۔
حلٌّ اصل میں مصدر ہے لیکن اس سے مراد صیعہ صفت ہے مذکر مونث، جمع، واحد سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ایک اور آیت میں آیا ہے۔ لَا ھُنَّ حِلٌّ لَّھُم وہ عورتیں ان مردوں کے لیے حلال نہیں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تورات میں جو کھانے حرام کردیئے گئے ہیں وہ پہلے اولادِیعقوب اور یعقوب کے باپ، دادا اسحاق و ابراہیم کے لیے حلال تھے۔
الا ما حرم اسرائیل علی نفسہ سوائے اس قسم کے کھانے کے جو یعقوب ( علیہ السلام) نے اپنے لیے خود حرام کرلیے تھے یعنی اونٹ کا گوشت اور اس کا دودھ۔
بات یہ ہوئی کہ اونٹ کا گوشت اور دودھ حضرت یعقوب کی مرغوب ترین غذا تھی لیکن آپ کو عرق النساء (ایڑی کا درد ‘ 12) کی بیماری تھی اس لیے آپ نے منت مانی تھی کہ اگر اللہ آپ کی بیماری دور کردے گا تو آپ اس محبوب غذا کو کبھی نہیں کھائیں گے۔ احمد اور حاکم وغیرہ نے یہ حدیث حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بسند صحیح بیان کی ہے اور بغوی نے ابو العالیہ، عطاء، مقاتل اور کلبی کی روایت سے اس کو لکھا ہے لیکن جویبر کی روایت سے حضرت ابن عباس کا قول اس طرح بیان کیا ہے کہ حضرت یعقوب عرق النساء میں مبتلا تھے طبیبوں نے تجویز کی کہ آپ اونٹ کے گوشت سے پرہیز رکھیں اس لیے آپ نے اونٹ کا گوشت اپنے لیے ممنوع قرار دے لیا۔ یہ بھی بغوی نے لکھا ہے کہ حسن بصری نے کہا کہ حضرت یعقوب نے اونٹ کا گوشت خدا پرستی کے جذبہ کے تحت اپنے لیے حرام کرلیا تھا اور اللہ سے دعا کی تھی کہ اللہ اس حرمت کو نافذ فرما دے حسب دعا اللہ نے آپ کی اولاد کے لیے اونٹ کا گوشت حرام کردیا۔ عطیہ کا بیان ہے کہ اولاد اسرائیل کے لیے اللہ کی طرف سے اونٹ کے گوشت کی حرمت نہیں ہوئی بلکہ حضرت یعقوب نے اپنی اولاد کے لیے خود حرام کر رکھا تھا کیونکہ (بطور منت) کہا تھا کہ اگر اللہ مجھے شفا عطا فرما دے گا تو میری اولاد اونٹ کا گوشت نہیں کھائے گی۔
من قبل ان تنزل التوراۃ تورات نازل کئے جانے سے پہلے۔ اس فقرہ کا تعلق حرَّم اسرائیل سے تو یقیناً نہیں ہے کیونکہ حضرت اسرائیل کا بعض اشیاء کو اپنے لیے حرام کرلینا یقیناً نزول تورات سے پہلے ہی تھا (اس میں شبہ کی گنجائش نہیں ہے) پھر اس فقرہ کو ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اور کان حلاًّ سے بھی اس کا تعلق نہیں ہے ورنہ اِلَّا مَا حَرَّمَ اسرائیل کو درمیان میں لانا خلاف ضابطہ ہے جب تک پوری صفت ذکر نہ کردی جائے۔ حصر صفت کا معنی کیا ہوسکتا ہے لا محالہ اس کا تعلق فعل محذوف سے ہے۔ کلام کا مطلب اس طرح ہوگا کہ نزول تورات سے پہلے تمام پاکیزہ چیزیں بنی اسرائیل کے لیے حلال تھیں مگر یہودیوں کی بیجا حرکتوں کی وجہ سے نزول توریت کے بعد بعض چیزیں حرام کردی گئیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : فبظلم من الذین ھادوا حرّمنا علیہم طیبات احلت لھم دوسری آیت ہے : و علی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفرو من البقر والغنم حرمنا علیہم شحومھما الا ما حملت ظہورھما اولحوایا او ما اختلط بعظم ذٰلک جزاینٰم ینٰھَم .
کلبی کا بیان ہے کہ بنی اسرائیل نے جب بھی (بحیثیت اجتماع) کسی بڑے گناہ کا ارتکاب کیا اللہ نے (سزا میں) ان کے لیے یا کسی پاکیزہ حلال غذا کو حرام کردیا یا ہلاکت کی بارش کردی۔ ضحاک نے کہا بنی اسرائیل کے لیے کوئی غذا حرام نہیں تھی نہ توریت میں اللہ نے حرام قرار دی تھی بلکہ اپنے باپ (حضرت اسرائیل) کے اتباع میں انہوں نے خود اپنے لیے (بعض چیزوں کو) حرام کرلیا اور حکم حرمت کی نسبت اللہ کی طرف کردیا مگر اللہ نے ان کے جھوٹ کو ظاہر کردیا مگر ضحاک کا یہ قول غلط ہے کیونکہ اللہ نے خود فرمایا ہے : حرمنا علیہم طیبات احلت لھم دوسری جگہ فرمایا : حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ شُحُوْمَھَمَا صحیح بخاری و مسلم میں ایک حدیث آئی ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا : یہودیوں پر اللہ کی لعنت ہو چربیاں ان پر حرام کردی گئیں تو انہوں نے ان کو پگھلا کر فروخت کیا اور قیمت کھائی (گویا چربی نہ کھائی چربی بیچ کر قیمت کھائی) ۔
قل فاتوا بالتوراۃ فاتلوھا ان کنتم صادقین آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور پڑھو (تمہارا جھوٹ خود تورات سے ظاہر ہوجائے گا) تورات میں مذکور ہے کہ جو چیزیں یہودیوں کے لیے نزول توریت سے پہلے حرام نہ تھیں ان کی بیجا حرکات کی وجہ سے توریت میں حرام کردی گئیں اللہ نے یہودیوں کو لا جواب بنانے کے لیے رسول اللہ کو حکم دیا کہ یہودیوں سے کہو کہ توریت لا کر پڑھو یہودی توریت نہیں لائے اور لا جواب ہوگئے۔
اس آیت میں رسول اللہ کی نبوت اور آپ ﷺ کے ملت ابراہیمی پر ہونے کا ثبوت ہے اور نسخ احکام کی ممانعت کے جو یہودی قائل تھے ان کے قول کی تردید بھی ہے۔
Ayah 3:94فمن افتری علی اللہ الکذب پس اب جو لوگ اللہ پر دروغ بندی کریں گے اور دعویٰ کریں گے کہ اللہ نے اونٹ کا گوشت حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کے لیے حرام کردیا تھا۔
من بعد ذالک اس کے بعد کہ ان کے قول کے خلاف خود توریت میں دلیل موجود ہے۔
فاولءِک ھم الظالمون پس یہی لوگ درحقیقت ظالم (حق ناشناس) ہیں جو حقانیت کے واضح ہوجانے کے بعد جھگڑا کرتے ہیں۔
Ayah 3:95قل صدق اللہ اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ نے سچ فرمایا ہے : اِنَّ اَوْلَی النَّاس بابْرَاھِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ وَ ھٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اور یہود و نصاریٰ جھوٹے ہیں جو اپنے اپنے گروہ کو دین ابراہیمی پر بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ابراہیم یہودی یا عیسائی تھے۔
فاتبعوا ملۃ ابراہیم پس اے طلب گار ان دین ابراہیم (علیہ السلام) ملت ابراہیمی یعنی اسلام کا اتباع کرو جو محمد ﷺ اور ان کی امت کا دین ہے یہی دین ابراہیم (علیہ السلام) تھا یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ میں آپ کا دین یہی تھا یا دین اسلام دین ابراہیمی سے کامل مشابہت رکھتا ہے (گویا دونوں ایک ہی ہیں) ۔
رسول اللہ ان اسرائیلی پیغمبروں کی طرح نہیں تھے جن کو حضرت موسیٰ کی شریعت کی تبلیغ کے لیے بھیجا گیا تھا (بلکہ آپ ﷺ خود صاحب شریعت تھے) لہٰذا ملت ابراہیمی کا اتباع اس اعتبار سے واجب ہے کہ یہ ملت محمدی ہے اس لحاظ سے اتباع واجب نہیں کہ یہ ملت ابراہیمی ہے اور محمد ﷺ کے تابع تھے یہی وجہ ہے کہ ملت ابراہیمی (یعنی اسلام) پر چلنے کا حکم دیا اور ابراہیم کی پیروی کا حکم نہیں دیا۔
ملت کا اطلاق دین کی طرح ان امور پر ہوتا ہے جو بندوں و مرتبہ قرب تک پہنچانے اور دونوں جہان میں کامیاب بنانے کے لیے اللہ نے پیغمبروں کی معرفت بندوں تک بھیجے اور ان کا مکلف کیا ہے دین اور ملت کا فرق یہ ہے کہ ملت کی اضافت صرف انبیاء کی طرف ہوتی ہے دوسرے افراد کی طرف نہیں ہوتی نہ اللہ کی طرف ہوتی ہے اس لیے نہ ملت خدا کہہ سکتے ہیں نہ ملت زید و عمر بلکہ ملت محمد، ملت موسیٰ ، ملت ابراہیم بولا جاتا ہے اس کے علاوہ ملت کا اطلاق پوری شریعت کے مجموعہ پر ہوتا ہے جیسے ملت اسلام ایک ایک رکن کو ملت نہیں کہتے اسی لیے صرف نماز (صرف زکوٰۃ یا صرف روزہ) کو ملت نہیں کہا جاتا دین اللہ کہا جاتا ہے۔ لفظ ملت امَْلَلْتُ سے ماخوذ ہے (اَمْلَلْتُ میں نے لکھوایا گویا ہر ملت اسی پیغمبر کی لکھوائی ہوئی ہے جوا اللہ کی طرف سے اس کو لایا ہو) (کذا فی صحاح الجوہری)
حنیفا یعنی ابراہیم نے تمام باطل مذاہب سے منہ موڑ کر دین حق کی طرف رخ کرلیا تھا یا افراط وتفریط سے رخ پھیر کر اعتدال کی طرف مائل تھے (گویا آپ نہ یہودی دین پر تھے نہ عیسائی مذہب پر کیونکہ) یہودیوں کے مذہب میں افراط اور شدت ہے اور عیسائیوں کے دین میں تفریط یعنی نرمی حد سے زائد ہے یہی مؤخر الذکر مطلب اولیٰ ہے۔
و ما کان من المشرکین اور ابراہیم مشرکوں میں سے نہیں تھے۔ یہ یہود و نصاریٰ پر تعریض ہے یہ دونوں گروہ شرک کرنے کے باوجود دین ابراہیمی پر ہونے کے مدعی تھے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ یہودیوں نے مسلمانوں سے کہا ہمارا قبلہ بیت المقدس ہے جو کعبہ سے افضل بھی ہے اور پرانا بھی اور انبیاء کا مقام ہجرت بھی۔ مسلمانوں نے جواب دیا بیت المقدس سے کعبہ افضل ہے (اور مقدم بھی) اس پر آیت ذیل کا نزول ہوا۔
Ayah 3:96ان اول بیت وضع للناس سب سے پہلا مکان جو لوگوں کے لیے قائم کیا گیا یعنی اللہ نے لوگوں کے لیے قبلہ بنایا بعض کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ لوگوں کے حج کرنے کے لیے سب سے پہلا مکان جو اللہ نے قائم کیا۔ حسن اور کلبی نے کہا کہ اوّل ترین مسجد اور عبادت خانہ مراد ہے ؟ جو اللہ کی عبادت کے لیے مقرر کیا گیا (گویا بیت سے مراد ہے مسجد) جیسا کہ دوسری آیت میں آیا ہے : فِی بُیُوْتٍ اَذِنَ اللہ اَنْ تُرْفَعَ ۔ اس جگہ بھی بیوت سے مراد ہے مسجدیں۔
للذی ببکۃ یقیناً وہی مکان ہے جو مکہ میں ہے بکہ اور مکہ دونوں ہم معنی ہیں اہل عرب میم کو باء سے بدل لیتے ہیں جیسے نمیط و نبی ط لازم و لازب۔ راتب و راتم۔ بعض علماء نے کہا مکہ شہر کا نام ہے اور بکہ صرف وہ جگہ جہاں کعبہ ہے یا مقام طواف۔ بَکَّۃٌ کا معنی ہے اژدحام مکہ میں (ایام حج میں) لوگوں کا اژدحام ہوتا ہے اس یے اس کو بکہ کہتے ہیں۔
عبد اللہ بن زبیر نے فرمایا : مکہ بڑے بڑے جابروں کی گردنیں توڑ دیتا ہے جس جابر نے اصحاب فیل کی طرح کعبہ (کو ڈھانے) کا ارادہ کیا اللہ نے اس کی گردن توڑ دی۔ مکہ کہنے کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ (مِکٌّ کا معنی ہے پانی کی قلت) مکہ میں پانی کم ہے۔
آیت میں اوّلیت بیت سے کیا مراد ہے اس کے متعلق علماء کے اقوال مختلف ہیں حضرت عبد اللہ بن عمر، مجاہد، قتادہ اور سدی نے فرمایا : آسمان و زمین کی پیدائش کے زمانہ میں پانی کی سطح سے سب سے اوّل کعبہ کا مقام نمو دار ہوا شروع میں یہ سفید جھاگ تھے (جو منجمد ہوگئے تھے) زمین کی پیدائش سے دو ہزار برس پہلے اس کی تخلیق ہوئی تھی پھر اسی کے نیچے سے زمین پھیلائی گئی۔ حضرت علی بن الحسین (امام زین العابدین) نے فرمایا : کہ اللہ نے عرش کے نیچے ایک مکان بنایا جس کا نام بیت المعمور ہے اور (آسمان کے) فرشتوں کو اسکے طواف کرنے کے حکم دیا پھر زمین پر رہنے والے فرشتوں کو حکم دیا کہ بیت المعمور کی طرح زمین پر ایک مکان بنائیں فرشتوں نے حسب الحکم کعبہ کی تعمیر کی اور اس کا نام صراح رکھا پھر اللہ نے زمین والوں کو حکم دیا کہ جس طرح آسمان والے بیت المعمور کا طواف کرتے ہیں اسی طرح زمین والے صراح کا طواف کریں۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ آدم کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے فرشتوں نے کعبہ کی عمارت بنائی تھی اور اس کا حج کیا کرتے تھے آدم نے حج کیا تو فرشتوں نے کہا آپ کا حج مبرور ہے ہم نے آپ سے دو ہزار سال پہلے اس کا حج کیا تھا۔
ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کی طرف سے اس قول کی نسبت کی گئی ہے کہ حضرت آدم نے سب سے اوّل زمین پر کعبہ کی عمارت بنائی تھی یہ روایت ازرقی نے تاریخ مکہ میں نقل کی ہے۔
صحیحین میں حضرت ابوذر کی روایت آئی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ زمین پر کونسی مسجد سب سے پہلے قائم کی گئی ؟ فرمایا : مسجد حرام۔ میں نے عرض کیا پھر کونسی ؟ فرمایا : مسجد اقصیٰ میں نے عرض کیا دونوں میں کتنا فصل تھا ؟ فرمایا : چالیس سال پھر جہاں بھی تم کو نماز کا وقت آجائے پڑھ لو اس میں فضیلت ہے۔
روایت میں آیا ہے کہ کعبہ کی عمارت سب سے اوّل حضرت آدم نے بنائی تھی اور طوفان نوح کے وقت اس کو اٹھا لیا گیا تھا۔ بعض نے کہا کہ طوفان سے مٹ گئی تھی پھر حضرت ابراہیم نے اس کی تعمیر کی۔ پھر مٹ گئی تو قبیلہ جرہم نے بنائی پھر عمالقہ نے بنائی پھر قریش نے تعمیر کی۔
ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی کا بیان ہے کہ طوفان کے زمانہ میں کعبہ کی عمارت اٹھا لی گئی تھی۔ پھر حضرت ابراہیم نے اس کو بنانے کا ارادہ کیا تو اللہ نے اس کی جگہ آپ کو بتادی اس کی صورت یہ ہوئی کہ اللہ نے حجوج نام کی ہوا بھیجی ہوا نے کعبہ کے گردا گرد کی مٹی اڑا کر بنیاد نمودار کردی اور آپ نے قدیم بنیاد پر تعمیر کی۔ حجوج ایک جانور ہوتا ہے جس کے دو باز پرندوں کی طرح اور صورت سانپ کی طرح ہوتی ہے۔
بعض لوگوں نے کہا کعبہ کی اوّلیت زمانہ کے لحاظ سے مراد نہیں ہے بلکہ فضیلت کے اعتبار سے ہے یعنی کعبہ افضل ترین عمارت ہے اس قول کی نسبت حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کی طرف کی گئی ہے ضحاک نے کہا کعبہ سب سے اوّل مکان ہے جس کو برکت عطا کی گئی کیونکہ اللہ نے اس کے بعد فرمایا۔
مبارکا یعنی کعبہ برکت والا ہے اور اس کا اجرو ثواب بہت ہے بعض عبادتیں تو کعبہ کے ساتھ ہی مخصوص ہیں (کسی دوسری جگہ نہیں ہوسکتیں) جیسے حج، حج کی قربانی کا جانور بھیجنا، عمر اور بعض عبادتیں اس جگہ ادا کرنے کا ثواب اتنا زائد ہے کہ کسی اور جگہ اس کی برابر نہیں جیسے نماز، روزہ اور اعتکاف، اسی لیے امام ابو یوسف نے فرمایا : کہ جس نے مسجد حرام میں دو رکعت نماز پڑھنے کی نذر مانی ہو اور دوسری جگہ پڑھ لے تو کافی نہ ہوگا کیونکہ حضرت انس بن مالک ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اپنے گھر کے اندر آدمی کی نماز ایک نماز کے برابر ہے اور محلہ کی مسجد میں ایک نماز پچیس نماز کے برابر ہے اور جامع مسجد میں پانچسو نمازوں کے برابر ہے اور مسجد اقصیٰ میں ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے اور میری مسجد میں پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے اور مسجد حرام میں ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔ (ابن ماجہ) طحاوی نے حضرت عطاء بن زبیر کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : میری اس مسجد میں ایک نماز مسجد حرام کے علاوہ دوسری مسجدوں میں ہزار نمازوں سے افضل ہے اور مسجد حرام میں ایک نماز (میری) اس مسجد میں سو نمازوں سے بہتر ہے۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر نے حضرت عمر بن خطاب کی روایت سے بھی یہ حدیث نقل کی ہے مگر غیر مرفوع (یعنی رسول اللہ کا رشاد ہونا ظاہر نہیں کیا) اور حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت سے یہ حدیث مرفوع آئی ہے۔ ابن جوزی نے حضرت جابر کی روایت سے ان الفاظ کے ساتھ اس حدیث کو مرفوع ذکر کیا ہے کہ مسجد حرام میں ایک نماز سو ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ لیکن امام ابوحنیفہ (رح) اور امام محمد (رح) کا قول ہے کہ نمازوں کی یہ ترتیبی فضیلت صرف فرض نمازوں کے متعلق ہے نوافل میں یہ فضیلت نہیں ہے کیونکہ حضرت زید بن ثابت کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : فرض کے علاوہ باقی نمازیں آدمی کی اپنے گھر میں افضل ہیں۔ (صحیح بخاری و مسلم)
میں کہتا ہوں اعتکاف کا حکم فرض نمازوں کی طرح ہے کیونکہ بصورت اعتکاف آدمی مسجد کے اندر رہ کر فرض نمازوں کا انتظار کرتا رہتا ہے گویا وہ نماز میں مشغول رہتا ہے۔
ابن جوزی (رح) نے فضائل مکہ میں حضرت عبد اللہ بن عدی بن الحمراء کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ مکہ کے بازار میں حرورہ مقام پر کھڑے فرما رہے تھے کہ خدا کی قسم تو بلاشبہ اللہ کی زمین میں سب سے اچھی اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے اگر مجھے تیرے اندر سے نکالا نہ جاتا تو میں نہ نکلتا۔ یہی حدیث ابن جوزی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بھی مرفوعاً بیان کی ہے۔
و ھدی للعالمین اور باعث ہدایت سب لوگوں کے لیے کیونکہ کعبہ سب کے لیے قبلہ ہے۔ اس میں ایسی عجیب نشانیاں موجود ہیں جو اللہ اور رسول پر ایمان لانے کی طرف رہنمائی کررہی ہیں۔