Ayah 3:129واللہ ما فی السموات وما فی الارض اور جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ اللہ ہی کی مخلوق اور مملوک ہے اس لیے تمام امور اسی کے قبضہ میں ہیں۔
یغفر لمن یشاء وہ جس کی مغفرت چاہے گا اسلام کی توفیق دے کر کردے گا۔ خواہ اس نے (گناہوں سے) توبہ کی ہو یا نہ کی ہو۔
و یعذب من یشاء اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا۔ یہ آیت صراحۃً بتارہی ہے کہ گنہگاروں کو عذاب دینا اللہ پر لازم نہیں۔
و اللہ غفور رحیم اور اللہ غفور ورحیم ہے لہٰذا تم ان کے لیے بد دعا کرنے میں پیش قدمی نہ کرو۔ فریانی نے مجاہد کا قول بیان کیا ہے کہ لوگ (ادائے ثمن کی) ایک مدت مقرر کرکے خریدو فروخت کرتے تھے اور جب میعاد ادا پوری ہوجاتی تو ثمن میں اضافہ کردیتے اور مدت اداء میں بھی توسیع کردیتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 3:130یا ایھا الذین امنو الا تاکلو الربوا اضعافا مضاعفۃ اے اہل ایمان سود نہ کھاؤ چند در چند بڑھا کر اضعافا مضاعفۃ قید احترازی نہیں ہے (کہ اگر چند در چند نہ ہو تو سود کھانے کی ممانعت نہیں) بلکہ مطلق ربوا کی ممانعت ہے اور ان کے طریق عمل پر زجر ہے۔
واتقوا اللہ لعلکم تفلحون اور فلاح کی امید رکھتے ہوئے سود اور دوسرے ممنوعات میں اللہ سے ڈرتے رہو۔
Ayah 3:131واتقوا النار التی اعدت للکافرین اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے اس آیت میں تنبیہ ہے اس امر پر کہ آگ اصل میں کافروں کے لیے تیار کی گی ہے اور بالعرض گناہگار مؤمنوں کے لیے۔
میں کہتا ہوں ظاہر یہ ہے کہ (النار کی) صفت (یعنیاعدت للکافرین) تخصیص کے لیے ہے جو آگ کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے وہ الگ ہے اور جو گناہگار مؤمنوں کے تیار کی گئی ہے وہ الگ ہے۔ اس توضیح پر آیت میں اس طرف اشارہ ہوگا کہ سود کھانے سے دل میں اتنی قساوت (سختی) پیدا ہوجاتی ہے جو اکثر کفرتک لے جاتی ہے اس توضیح کی تائید تفسیر مدارک کی اس صراحت سے ہوتی ہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے تھے قرآن میں یہ سب سے زیادہ خوفناک آیت ہے کہ اللہ نے اہل ایمان کو بصورت خلاف ورزئ احکام اس آگ سے ڈرایا ہے جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس کے بعد اللہ نے اپنی رحمت کی امید واری کو اطاعت خدا اور رسول سے وابستہ کیا ہے اس سے آیت سابقہ کے مضمون کی تائید ہوتی ہے (جس میں امید فلاح کو تقویٰ کے ساتھ وابستہ کیا ہے)
Ayah 3:132واطیعوا اللہ والرسول لعلکم ترحمون اور رحمت کی امید رکھتے ہوئے اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔ بہر حال آگ کی تخلیق اصل میں کافروں کے لیے اور عارضی طور پر اہل ایمان کے لیے قرار دی جائے یا کافروں کے لیے الگ اور گنہگار مؤمنوں کے لیے الگ تخلیق مانی جائے دونوں صورتوں میں اس آیت کا مضمون فرقۂ مرجیۂ کے مسلمہ کے خلاف ہے مرجیۂ قائل ہیں کہ اگر ایمان موجود ہو تو پھر کسی گناہ سے کوئی ضرر نہ ہوگا۔
اکثر مفسرین نے صراحت کی ہے کہ اللہ کی طرف سے لَعَلَّ اور عسٰی کا استعمال تحقیق کے لیے ہے (امید کا مفہوم نہیں ہے کیونکہ امید وہ کرتا ہے جس کو کسی بات کا انتظار ہو اور وہ بات حاصل نہیں ہوئی ہو اور اللہ کے لیے حالت منتظرہ نہیں اس لیے اس کی طرف سے کسی بات کی امید نہیں ہوسکتی) ظاہر یہ ہے کہ لعل اور عسیٰ مفید وجوب نہیں (یعنی رجائیت کا مفہوم بالکل معدوم ہوگیا ہو اور قطعیت کا مکمل مفہوم آگیا ہو ایسا نہیں ہے) بلکہبیم آمیز امید کے لیے ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ ایسے مقامات میں لعل اور عسیٰ آئندہ خبر تک پہنچنے کی دلیل ہوتا ہے۔
Ayah 3:133و سارعوا الی مغفرۃ من ربکم وجنۃ اور تیزی سے بڑھو اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف۔
حضرت ابن عباس ؓ نے اِلٰی مغفرۃ کی تشریح میں اِلٰی الاسلام اور عکرمہ کی روایت میں الی التَّوْبَۃِ فرمایا (یعنی مغفرت سے مراد ہے اسلام یا توبہ) ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ ٗ نے ادائے فرض اور حضرت انس بن مالک نے نماز کی تکبیر اولیٰ سے تفسیر فرمائی۔ تمام اقوال کا مآل یہ ہے کہ مغفرت سے مراد ہیں ایسے عقائد، اخلاق فاضلہ اور اعمال صالحہ جن سے گناہوں کی مغفرت، دوزخ سے رہائی اور ظل رحمت میں پہنچنے کا استحقاق ہوجاتا ہے حضرت ابو امامہ کی روایت کردہ حدیث پہلے گذر چکی ہے : بَادِرُوْا بالْاَعْمَال ھرمًا نَاغِضًا۔۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : سات امور سے پہلے اچھے اعمال کرلو تمہارے سامنے (بس یہی سات امور ہیں) یا تو ایسا افلاس ہے جو ہر چیز کو فراموش کرا دینے والا ہے یا ایسی مالداری ہے جو سرکش بنا دینے والی ہے یا نظام صحت کو بگاڑ دینے والی بیماری ہے یا سٹھیا دینے والا بڑھاپا ہے یا جلد آجانے والی موت ہے یا دجال ہے اور وہ بد ترین انتظار کی چیز ہے یا قیامت ہے اور قیامت عظیم ترین مصیبت اور بہت ہی تلخ چیز ہے۔ (رواہ الترمذی والحاکم)
عرضھا السموات والارض لایہ جنت کی صفت ہے یعنی یہ جنت کی وسعت آسمانوں اور زمین کی وسعت کی طرح ہے۔ یہ کلام بطور تمثیل ہے حقیقت مراد نہیں ہے (جنت تو ان سب سے زیادہ وسیع ہے لیکن) عوام کے خیال میں سب سے زیادہ وسعت مکانی آسمان و زمین کی ہے اس لیے آیت میں آسمان و زمین کی وسعت سے جنت کی وسعت کو تشبیہ دے کر بیان کیا جس طرح آیت : خَالِدِیْنَ فِیْھَا مَا دَامَتِ السَّمٰوَاتُ وَالْاَرْضُ میں جنت کے اندر دوام سکونت کو بقاء ارض و سماء کی مدت سے تشبیہ دی ہے (کیونکہ عامی نظر میں آسمان و زمین سے زیادہ کسی چیز کی مدت کا بقاء نہیں ہے پس) انسانوں کے خیال کے مطابق تشبیہ دی۔ بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ حضرت انس بن مالک سے دریافت کیا گیا کہ جنت آسمان میں ہے یا زمین میں ؟ فرمایا : کس زمین و آسمان میں جنت کی سمائی ہوسکتی ہے دریافت کیا گیا پھر کہاں ہے ؟ فرمایا : ساتوں آسمانوں کے اوپر عرش کے نیچے۔ قتادہ نے کہا کہ وہ (یعنی صحابہ ؓ خیال کرتے تھے کہ جنت ساتوں آسمانوں کے اوپر اور جہنم ساتوں زمینوں کے نیچے ہے ابو الشیخ نے العظیمہ میں باسناد ابو الزعراء حضرت عبد اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ جنت سب سے اونچے ساتویں آسمان میں (یعنی ساتویں آسمان کے اوپر) ہے اور دوزخ سب سے نچلی ساتویں زمین میں (یعنی ساتویں زمین کے نیچے) ہے۔
اعدت للمتقین جو کامل طور پر تقویٰ رکھنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے کامل متقی وہی ہیں جو اللہ کے سوا کسی چیز سے دل بستگی نہیں رکھتے اور رذائل نفس سے مجتنب رہتے ہیں۔
کیا حقیقت میں جنت کامل تقویٰ والوں کے لیے تیار کی گئی ہے اور غیر متقیوں کو ذیلی طور پر (عفو معاصی کے بعد) ملے گی یا دونوں گروہوں کے لیے الگ الگ مستقل طور پر بنائی گئی ہے یہ دونوں تشریحیں اسی طرح اس آیت کی بھی ہیں جیسے دوزخ کے متعلق دونوں تشریحیں آیت : اعدت للکافرین کے ذیل میں بیان کردی گئی ہیں۔
Ayah 3:134الذین ینفقون فی السراء والضراء السَّرَّاء وہ مسرت جو مالدار ہونے کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔
الضَّرائمال کی کمی۔ (قاموس) یعنی وہ لوگ جو کسی حالت میں راہ خدا میں خرچ کرنے سے باز نہیں رہتے تھوڑا بہت جو کچھ میسر ہو ہر حال میں راہ خدا میں دیتے ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ من جملہ ان اوصاف کے جو اہل تقویٰ کو مستحق جنت بناتے ہیں سب سے اوّل سخاوت کا ذکر اس آیت میں کیا ہے۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : سخی اللہ سے قرب رکھنے والا ہے، جنت سے قرب رکھنے والا ہے، لوگوں سے قرب رکھنے والا ہے، دوزخ سے دور رہنے والا ہے جبکہ کنجوس اللہ سے دور جنت سے دور لوگوں سے دور اور دوزخ سے قریب ہے۔ جاہل سخی عابد بخیل سے اللہ کے نزدیک اچھا ہے 1 ۔ بغوی کی نقل کردہ روایت میں عابد بخیل کی بجائے عالم بخیل کا لفظ آیا ہے۔ مذکورہ حدیث بیہقی نے جابر کی روایت سے اور طبرانی نے عائشہ کی روایت سے بیان کی ہے۔ ابن عباس کی مرفوع روایت ہے کہ سخاوت اللہ کی سب سے بڑی صفت ہے 2 ۔
رسول اللہ نے فرمایا : سخاوت جنت کے درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کی شاخیں دنیا میں لٹکی ہوئی ہیں جو شخص ان ٹہنیوں میں سے کسی ٹہنی کو پکڑ لے گا وہ ٹہنی اس کو جنت کی طرف کھینچ کرلے جائے گی اور کنجوسی دوزخ کے درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کی شاخیں دنیا میں لٹکی ہوئی ہیں جو شخض ان ٹہنیوں میں سے کسی ٹہنی کو پکڑ لے گا وہ ٹہنی اس کو کھینچ کر دوزخ کی طرف لے جائے گی۔ 3
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : ایک درہم ایک لاکھ سے بازی لے گیا ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ یہ کیسے ؟ فرمایا : ایک آدمی ہو جو بڑا مالدار ہو اور اپنے مال میں سے وہ ایک لاکھ درہم خیرات کردے اور ایک اور آدمی ہو جس کے پاس صرف دو درہم ہوں اور وہ دو درہموں میں سے ایک درہم خیرات کردے (پس یہ ایک درہم ایک لاکھ سے بہتر ہوگا) ۔ 1
والکاظمین الغیظ اور سخت غصہ کو ضبط کرنے والے۔ کظم کا معنی ہے باوجود بھر بھر کر آنے کے اپنے نفس کو روکنا۔ کَظَمْتُ الْقِرْبَۃَ میں نے مشک کو بھر دیا اور اس کے منہ کو باندھ دیا۔ یعنی باوجود قدرت رکھنے کے غصہ نکالنے سے اپنے آپ کو روکنے والے رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : جس نے سخت غصہ کو روک لیا۔ باوجود یکہ اس کو پورا کرنے کی قدرت تھی اللہ اس کے دل کو امن اور ایمان سے بھر دے گا 2 ۔ بغوی (رح) نے حضرت انس کی مرفوع حدیث نقل کی ہے جو شخص سخت غصہ کو پی گیا۔ باوجودیکہ غصہ نکالنے پر اس کو قابو تھا قیامت کے دن سب مخلوق کے سامنے اللہ اس کو بلائے گا اور اس کو اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے لے لے۔
ابن ابی الدنیا نے حضرت ابن عمر ؓ کی مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ جو شخص اپنے غصہ کو روکے گا اللہ اس کی عیب پوشی کرے گا۔
والعافین عن الناس اور لوگوں سے درگذر کرنے والے یعنی باندی ‘ غلاموں کی بےادبی کو معاف کرنے والے (کلبی) یا حق تلفی کرنے والوں اور براسلوک کرنے والوں سے درگزر کرنے والے (زید بن اسلم و مقاتل) رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : ایسے لوگ میری امت کے تھوڑے ہیں سوائے اس کے جس کی اللہ نے حفاظت فرمائی 3 ۔
وا اللہ یحب المحسنین المحسنین میں لام جنسی ہے جو مذکورۂ بالا متقیوں کو بھی شامل ہے یا عہدی ہے اور مذکورہ اوصاف کے مندرجہ بالا اشخاص ہی مراد ہیں۔ بر تقدیر دوائم اسم ظاہر کو بجائے ضمیر کے لانے کی غرض مدح بھی ہے اور اس امر کی طرف اشارہ کرنا بھی کہ محسنین کے اوصاف وہی ہیں جن کا ذکر کردیا گیا۔
حضرت سفیان ثوری نے فرمایا برائی کرنے والے سے بھلائی کرنا احسان ہے اور بھلائی کا بدلہ بھلائی سے تو تجارت ہے۔ شیخین نے صحیحین میں حضرت عمر کی روایت سے نقل کیا کہ جب حضرت جبرائیل نے رسول اللہ سے احسان کی تشریح پوچھی تو آپ ﷺ نے فرمایا : احسان 4 یہ ہے کہ تم اپنے رب کی اس طرح عبادت کرو جیسے تم اس کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم اس کو نہیں دیکھ پاتے تو وہ یقیناً تم کو دیکھتا ہے۔
میں کہتا ہوں اس صورت میں تو اہل احسان صوفیہ ہیں اور شایدکظِم غیظ سے بطور کنایہ فناء نفس مراد ہو کیونکہ غرور، حسد، کینہ، بخل اور اسی طرح کی دوسری رذیل صفات ہی غضب کی بنیاد ہیں اور شاید عفو سے بطور کنایہ فنائے قلب مراد ہو کیونکہ قلب کے فناء کے بعدآدمی کی نظر سے فاعلیت انسان کا پردہ ہٹ جاتا ہے اور اس کو دکھنے لگتا ہے کہ تمام افعال کی 5 نسبت اللہ ہی کی طرف ہے لہٰذا وہ کسی آدمی کو کسی عمل کی وجہ سے قابل مواخذہ نہیں سمجھتا ہے اور ماخوذ سمجھتا ہے تو بسلسلۂ حق اللہ جتنا اللہ نے حکم دیا ہے اور شاید تنگی و فراخی دونوں حالتوں میں راہ خدا میں خرچ کرنے سے یہ مراد ہے کہ ان کے دل دنیوی سامان سے وابستہ نہیں ہوتے۔ وا اللہ اعلم۔
اصحاب تقویٰ اہل احسان عارفوں کے ذکر کے بعد آئندہ آیت میں ان (گناہگار) مسلمانوں کا ذکر فرمایا جو توبہ کرکے اہل تقویٰ کے ساتھ شامل ہوجاتے ہیں۔ فرمایا :
Ayah 3:135والذین اذا فعلوا فاحشۃ فاحشہ فحش سے ماخوذ ہے فحش کا اصل معنی ہے بدی اور حد سے باہر نکل جانا یہاں فاحشہ سے مرادگناہ گبیرہ کیونکہ مرتکب کبیرہ عصیان اور بدی کی حد سے آگے بڑھ جاتا ہے حضرت جابر ؓ نے فرمایا : فاحشہ زنا ہے۔
حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : مسلمانوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ہم سے تو بنی اسرائیل ہی اللہ کی نظر میں زیادہ عزت والے تھے ان میں سے اگر کوئی (رات کو) گناہ کرلیتا تھا تو صبح کو دروازہ کی چوکھٹ پر اس کا کفارہ لکھا ہو املتا تھا کہ اپنی ناک یا کان کاٹ ڈال یا ایسا کرلے۔ حضور ﷺ یہ سن کر خاموش ہوگئے تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
عطاء نے کہا اس آیت کا نزول نبہان خرمہ فروش کے حق میں ہوا تھا جس کی کنیت ابو معبد تھی قصہ یہ ہوا کہ ایک خوبصورت عورت چھوارے خریدنے اس کے پاس آئی نبہان نے کہا یہ چھوارے اچھے نہیں ہیں گھر کے اندر اس سے کھرے موجود ہیں چناچہ اس عورت کو لے کر نبہان گھر میں گیا اور اندر جا کر اس کو چمٹا لیا اور بوسہ لیا عورت نے کہا اللہ سے ڈر نبہان نے فوراً چھوڑ دیا اور اس حرکت پر پشیمان ہو کر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور قصہ عرض کردیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ رسول اللہ نے دو آدمیوں کو بھائی بھائی بنا دیا تھا ایک انصاری تھا دوسر 1 ثقفی۔ ثقفی ایک جہاد پر گیا اور انصاری بھائی کو اپنے بال بچوں کا نگران بنا گیا ایک روز انصاری نے ثقفی کے گھروالوں کے لیے گوشت خریدا اور ثقفی کی بیوی نے جب انصاری سے گوشت لینا چاہا تو وہ عورت کے پیچھے پیچھے گھر میں آگیا اور اس کے ہاتھ کو چوم لیا پھر اس کی پشیمانی ہوئی اور واپس لوٹ آیا مگر خاک سر پر اڑاتا ہوا سرگرداں ہو کر (جنگل میں) نکل گیا۔ ثقفی لوٹ کر آیا اور انصاری استقبال کے لیے نہ آیا تو اس نے اپنی بیوی سے انصار کا حال پوچھا عورت نے کہا : ایسے بھائیوں کی تعداد خدا زیادہ نہ کرے اور پوری حالت بیان کردی ادھر انصاری پہاڑوں میں گھومتا اور توبہ استغفار کرتا پھر رہا تھا ثقفی نے اس کی تلاش کی اور جب مل گیا تو حضرت ابوبکر کی خدمت میں لے کر اس امید پر آیا کہ شاید کوئی سکون اور کشائش کا راستہ آپ کے پاس مل جائے۔ انصاری نے قصہ عرض کردیا اور کہا میں تباہ ہوگیا۔
حضرت ابوبکر نے فرمایا : تیر ابرا ہو کیا تجھے معلوم نہیں کہ غازی کے سلسلے میں اللہ اتنی حمیت رکھتا ہے کہ مقیم کے سلسلے میں نہیں رکھتا اس کے بعد یہ دونوں حضرت عمر ؓ سے ملے اور حضرت عمر نے بھی وہی جواب دیا جو حضرت ابوبکر نے دیا تھا آخر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے مگر آپ نے بھی شیخین کا سا جواب دیا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
و ظلموا انفسھم یا انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہو یعنی صغیرہ گناہ کرکے یا زنا سے کم درجہ کا گناہ کرکے جیسے بوسہ یا معانقہ اور ہاتھ لگانا۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ فاحشہ کا ارتکاب کیا ہو قولاً اور اپنی جانوں پر ظلم کیا ہو عملاً ۔ بعض اہل علم نے کہا کہ فاحشہ وہ ہے جو متعدی گناہ ہو اور ظلم نفس سے وہ گناہ مراد ہے جو متعدی نہ ہو۔ یہی زیادہ ظاہر ہے مطلب آیت کا یہ ہے کہ جنت ان لوگوں کے لیے بھی تیار کی گئی ہے جو کسی فاحشہ کا ارتکاب یا اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں پھر۔
ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبھم اللہ کے عذاب کی یاد ان کو ہوجاتی ہے تو گناہ کے پیچھے وہ اپنے گناہوں کی معافی اللہ سے چاہتے ہیں، ذکر اللہ سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کے عذاب کو یاد کرتے ہیں اور ان کو یہ احساس ہوجاتا ہے کہ اللہ ان سے پوچھے گا لہٰذا پشیمان ہو کر وہ توبہ و استغفار کرتے ہیں۔ مقاتل بن حبان کے نزدیک ذکر اللہ سے مراد ہے اللہ کی زبانی یاد۔
میں (مفسر) کہتا ہوں ممکن ہے کہ ذکرا اللہ سے صلوٰۃ استغفار مرادہو کیونکہ حضرت علی ؓ نے حضرت ابوبکر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ فرما رہے تھے کہ جو مؤمن بندہ یا جو شخص کوئی گناہ کرتا ہے پھر اچھی طرح وضوء کرکے کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے پھر اللہ سے معافی کا طلب گار ہوتا ہے تو اللہ اس کا گناہ ضرور معاف فرما دیتا ہے۔ (رواہ ابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن حبان) ترمذی نے اتنا لفظ اور روایت کیا ہے پھر حضور ﷺ نے پڑھا : والذین اذا فعلوا فاحشۃ او ظلموا انفسھم۔۔
و من یغفر الذنوب الا اللہ استثناء مفرغ اور استفہام بمعنی نفی ہے یعنی اللہ کے علاوہ کوئی بھی گناہ معاف نہیں کرسکتا کیونکہ جو لوگ (دنیا یا آخرت میں) دوسروں کو معاف کرنے والے ہیں وہ صرف اپنے حقوق سے درگذر کرنے والے ہیں گناہ معاف نہیں کرسکتے۔ گناہ کو معاف کرنا توا اللہ کا حق ہے۔ (معصیت اللہ کے حق کے خلاف کرنے کا نام ہے) ۔
یا یوں کہا جائے کہ معاف کرنے والے اشخاص جو لوگوں کو معاف کرتے ہیں وہ اس امید پر معاف کرتے ہیں کہ اللہ ان کی مغفرت فرمادے گا گویا ان کی معافی تجارتی ہوتی ہے اور گناہوں کو معاف کرنے والا وہی ہوتا ہے جو بلا لالچ اور بغیرغرض کے معاف فرما دے گا اور ایسا سوائے خدا کے کوئی نہیں۔ یہ جملہ معترضہ درمیان میں وسعت رحمت اور عموم مغفرت کو ظاہر کرنے کے لیے لایا گیا ہے پھر اس میں استغفار کی ترغیب اور توبہ قبول ہونے کا وعدہ بھی ہے۔
ولم یصروا علی ما فعلوا یعنی وہ اپنے گناہوں پر جم کر نہ بیٹھ رہے صحاح میں ہے کہ (اس جگہ) اصرار کا معنی ہے گناہ میں گھس کر بیٹھ رہنا اور شدت کرنا اور ترک گناہ سے باز رہنا۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ استغناء کے لیے جس طرح گناہ پر ندامت ضروری ہے اسی طرح ترک گناہ کا عزم بھی لازم ہے خواہ آئندہ یہ عزم ترک ٹوٹ جائے اور گناہ صادر ہوجائے رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : جس نے استغفار کیا اس نے اصرار نہیں کیا خواہ دن میں لوٹ لوٹ کر سترّ بار (گناہ) کیا ہو۔ (رواہ ابو داؤد والترمذی) رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : گناہ پر قائم رہتے ہوئے استغفار کرنے والا ایسا ہے جیسے اپنے رب سے استہزاء کررہا ہو۔ (رواہ البیہقی و ابن عساکر عن ابن عباس)
مسئلہ صغیرہ گناہوں پر جم جانا کبیرہ ہوجاتا ہے حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : استغفار کے ساتھ کوئی کبیرہ کبیرہ نہیں رہتا اور اصرار کے ساتھ کوئی صغیرہ صغیرہ نہیں رہتا (بلکہ کبیرہ ہوجاتا ہے) ۔ (رواہ الدیلمی فی مسند الفردوس)
و ھم یعلمون یہ جملہ حالیہ ہے یعنی معصیت پر اصرار کو اس لیے انہوں نے ترک کردیا کہ وہ معصیت کو جانتے ہیں اور معصیت پر اصرار سے ان کو اللہ کا خوف روکتا ہے ترک گناہ کی وجہ ان کی اپنی سستی یا طبعی نفرت یا بندوں کا خوف یا موقع کا میسر نہ آنا نہیں ‘ کیونکہ اگر اطاعت کی نیت سے کسی ممنوع کام سے نفس کو روکا جائے تو اس پر ثواب مرتب ہوتا ہے (بغیر نیت اطاعت کے) محض ترک ممنوع موجب ثواب نہیں ہاں اس صورت میں اتنا فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ مطلقاً ترک معصیت کی وجہ سے اس عذاب سے بچاؤ ہوجائے گا۔ جو معصیت کے لیے مقرر ہے۔ گناہ پر قابو نہ پانا خود ایک قسم کا (عذاب سے) بچاؤ ہے۔
ضحاک نے کہا : ھم یعلمون سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کو مغفرت معاصی کا مالک جانتے ہیں۔ حسین بن فضل نے کہا کہ وہ اس امر کو جانتے ہیں کہ ان کا ایک رب ہے جو گناہ معاف فرماتا ہے۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ گناہ کتنے ہی ہوں اللہ کے عفو سے بڑے نہیں بعض دوسرے علماء نے یہ مطلب کہا ہے وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ اللہ سے معافی کے طلبگار ہوں گے تو اللہ معاف فرما دے گا۔
شیخین نے صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کردہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : کسی بندہ نے ایک گناہ کیا پھر عرض کیا : میرے رب مجھ سے ایک گناہ ہوگیا ہے تو اسے معاف کردے اللہ نے فرمایا : میرے بندے نے جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو معاف بھی کرتا ہے اور پکڑ بھی کرتا ہے میں نے اپنے بندہ کو معاف کردیا کچھ مدت کے بعد اسی شخص نے پھر ایک گناہ کیا اور عرض کیا : پروردگار مجھ سے ایک اور گناہ ہوگیا تو معاف کردے اللہ نے فرمایا : میرا بندہ واقف ہے کہ اس کا ایک مالک ہے جو گناہ بخش دیتا ہے اور (کبھی) گرفت بھی کرلیتا ہے میں نے اپنے بندہ کا گناہ بخش دیا کچھ وقت کے بعد بندہ نے ایک اور گناہ کیا اور عرض کیا : پروردگار تو معاف فرما دے اللہ نے فرمایا : میرا بندہ سمجھتا ہے کہ اس کا ایک مالک ہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گرفت بھی کرلیتا ہے میں نے اپنے بندہ کو، بخشا اب وہ جو کچھ چاہے کرے۔
طبرانی اور حاکم نے بسند صحیح حضرت ابن عباس کی روایت سے یہ فرمان رسول اللہ نقل کیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : جو شخص مجھے مغفرت معاصی پر قادر جانتا ہے میں اس کو بخش دیتا ہوں اور (اس کے گناہوں کی کثرت کی) پرواہ بھی نہیں کرتا جب کہ اس نے کسی چیز کو میرا ساجھی (شریک ‘ 12) نہ ٹھہرایا ہو۔
Ayah 3:136اولءِک جزاء ھم مغفرۃ من ربھم و جنت تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ان سب تقویٰ رکھنے والوں اور توبہ کرنے والوں کی یا انہی توبہ کرنے والوں کی جزاء مغفرت الٰہی ہے اور ایسے باغ ہیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان جنتوں میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
جنّٰت کی تنوین بتارہی ہے کہ وہ اہل تقویٰ جو اوصاف مذکورہ کے حامل ہیں ان کی جزاء سے ان مغفور گناہگاروں کا ثواب کم درجہ کا ہوگا اسی لیے اہل تقویٰ کی جزاء والی آیت کا تتمہوَ اللہ ُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ کے ساتھ کیا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اہل احسان محبت خداوندی کے مستحق ہیں اور مغفور اہل معصیت کے ثواب کا بیان ذیل کی آیت پر ختم کیا۔
و نعم اجر العاملین بیشک اپنی کوتاہی کی تلافی کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو فوت شدہ چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
لیکن فوت شدہ کی تلافی کرلینے والے میں اور صاحب احسان میں بڑافرق ہے اوّل اجیر ہے دوسرا محبوب اور اجیر محبوب کی طرح نہیں ہوسکتا۔ شاید لفظ جزاء کو اس جگہ لفظ اجر سے بدل کر ذکر کرنے میں یہی نکتہ ہے۔
رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : گناہ سے توبہ کرنے والا بےگناہ کی طرح ہے 1 ۔
فائدہ بیشک جنت اہل تقویٰ اور (گناہگار) اہل توبہ کے لیے تیار کی گئی ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ گناہوں پر جم جانے والے (اہل ایمان) جنت میں نہیں جائیں گے جیسے دوزخ اگرچہ کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے لیکن دوسروں کا دوزخ میں نہ ہونا اس سے لازم نہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مؤمن مرتکب کبیرہ کو اللہ گناہوں سے پاک کرکے جنت میں داخل فرما دے خواہ تطہیر کی یہ صورت ہو کہ دوزخ کا عذاب دے کر پاک صاف کردے جیسے بھٹی میں پڑ کر معدنی چیزوں کا میل صاف ہوجاتا ہے یا بغیر عذاب دیئے اللہ بخش دے اور اس طرح توبہ نہ کرنے والا گناہگار بھی توبہ کرنے والے کی طرح ہوجائے۔ ثابت بنانی نے کہا مجھے اطلاع ملی ہے کہ جب آیت : والذین اذا فعلوا فاحشۃ۔۔ نازل ہوئی تو ابلیس رویا۔
Ayah 3:137قد خلت من قبکم سنن فسیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین (سُنَنٌ سنَّۃٌکی جمع ہے اور) سنت کا معنی ہے اچھائی یا برائی کا وہ راستہ جس کی پیروی کی جائے۔ رسول اللہ نے فرمایا : جس نے اچھا طریقہ نکالا اس کو خود اس طریقہ پر چلنے کا ثواب بھی ملے گا اور ان لوگوں کا بھی جو اس طریقہ کے موافق عمل کریں گے مگر ان (عمل کرنے والوں) کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور جس نے برا طریقہ ایجاد کیا اس پر خود اپنا بھی گناہ ہوگا اور ان لوگوں کا بھی جو اس طریقہ پر عامل ہوں گے مگر ان پر عمل کرنے والوں کے بارے میں سے کچھ کمی نہیں کیا جائے گی۔ سننٌ سے مضاف محذوف ماننا بھی جائز ہے یعنی سنن سے مراد ہیں اہل سنن۔
بعض علماء نے سنن کا ترجمہ کیا ہے اقوام سنۃٌ کا معنی ہے قوم۔ ایک شاعر کا قول ہے لوگوں نے ان کے فضل جیسا کوئی فضل اور ان کی طرح کوئی قوم گذشتہ اقوام 1 میں نہیں دیکھی۔ اوّل صورت میں آیت کا مطلب اس طرح ہوگا کہ تم سے پہلے خیر و شر کے بہت طریقے یا بہت طریقوں والے گذر گئے تم ملک میں چل پھر کر دیکھ لو کہ تکذیب خیر کا نتیجہ کیسا ہوا اور انجام کار تکذیب کرنے والوں کی تباہی کس طرح ہوئی۔
مجاہد نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ تم سے پہلے گذشتہ کافر قوموں کے لیے میرے طریقے یہ رہے ہیں کہ میں ان کو اس حد تک مہلت اور ڈھیل دیتا رہا کہ وہ اپنی مقررہ حدود زندگی تک پہنچ جائیں آخر جب ان کی تباہی کا وقت آگیا تو میں نے ان کو ہلاک کردیا اور اپنے پیغمبروں کو اور ان کے متبعین کو فتح عنایت کی چل پھر کر دیکھو اور عبرت حاصل کرو۔ کلبی نے کہا ہر قوم کے لیے اللہ کی طرف سے ایک طریقہ اور راستہ رہا ہے جن لوگوں نے اس کو مانا اور اس پر چلے اللہ ان سے راضی ہوا جس نے نہ مانا اور اس طریقے پر نہ چلا اللہ نے اس کو تباہ کردیا یا تکذیب کرنے والوں کا انجام دیکھ لو 2 ۔
Ayah 3:138ھذا یہ قرآن کی طرف اشارہ ہے یا آیت : قد خلت کی طرف یا فانظروا کے مفہوم کی طرف۔
بیان للناس کھلا ہوا بیان ہے عام طور پر لوگوں کے لیے۔
و ھدی وموعظۃ للمتقین اور خصوصیت کے ساتھ متقیوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے کیونکہ متقی ہی اس سے مستفیذ ہوتے ہیں۔
Ayah 3:139و لا تھنوا اور احد کے دن تمہارے جو آدمی قتل یا زخمی ہوگئے ان کی وجہ سے تم دشمنوں کے مقابلہ سے کمزور اور بےہمت نہ ہو۔
و لاتحزنوا اور مقتولوں کے قتل کا رنج نہ کرو۔
و انتم الاعلون حالانکہ تم ہی ان سے اونچے ہو کیونکہ اس مصیبت کے اجر وثواب کے تم امید وار ہو اور کافروں کو آئندہ ثواب کی امید نہیں۔ تمہارے مقتولین جنت میں ہیں اور ان کے مقتول دوزخ میں۔ احد کی لڑائی میں پانچ مہاجر حضرت حمزہ اور حضرت مصعب وغیرہ اور ستر انصاری شہید ہوئے تھے۔ یہی مفہوم ہے ایک اور آیت کا جس میں فرمایا ہے : وَ لَا تَھِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ اِنْ تَکُوْنُوْا تَالَمُوْنَ فَاِنَّھُمْ یَاْلَمُوْنَ کَما تَاْلَمُوْنَ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللہ مَا لَا یَرْجُوْنَ کلبی کا بیان ہے کہ جنگ احد میں مسلمانوں کو زخمی ہونے کی تکلیف ہوئی لیکن باوجود زخمی ہوجانے کے رسول اللہ نے ان کو دشمن کے تعاقب کا حکم دیا یہ حکم مسلمانوں پر بار گذرا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
یا یہ مطلب ہے کہ آخر میں تم ہی غالب رہو گے اللہ کی طرف سے تم کو ہی فتح وظفر حاصل ہوگی۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ گھاٹی میں صحابہ کو شکست ہوگئی خالد بن ولید مشرکوں کا سوار دستہ ساتھ لے کر یہاں پر چڑھ کر اوپر سے حملہ کرنا چاہتے تھے۔ رسول اللہ نے دعا کی اے اللہ یہ ہمارے اوپر نہ آئے ہم کو تیرے سوا کسی اور کی قوت حاصل نہیں۔ مسلمان تیر اندازوں کی ایک جماعت پہاڑ پر چڑھ گئی تھی اور انہوں نے رات وہیں گذاری تھی اس گروہ نے مشرک رجمنٹ کو تیروں پر رکھ لیا اور بھگا دیا آیت : و انتم الاعلون کا یہی مطلب ہے۔
ان کنتم مومنین یعنی اگر تم ایماندار ہو اور تمہارا ایمان پکا ہے تو کمزور اور رنجیدہ نہ ہو کیونکہ ثواب کی امید رکھنا اور اللہ پر بھروسہ کرکے قوی دل ہونا ایمان کا تقاضا ہے یا یہ مطلب ہے کہ اگر تمہارا ایمان درست ہوگا تو تم ہی آخر میں غالب رہو گے کیونکہ اہل ایمان کی مدد کرنے کا ہمارا ذمہ ہے۔
Ayah 3:140ان یمسسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ قَرْحٌاور قُرْحٌ ہتھیار وغیرہ کی چوٹ جس سے بدن زخمی ہوجائے۔ (قاموس) فراء نے کہا قرح بفتح قاف زخم اور بضم قاف زخم کی تکلیف یعنی احد کے دن تم کو زخم لگے اور تکلیف ہوئی تو بدر کے دن کفارقریش کو بھی ایسے ہی زخم لگے اور تکلیف ہوئی تھی مگر وہ دوبارہ تم سے لڑنے کے لیے آنے سے بےہمت نہ ہوئے پس تم تو اس کے زیادہ مستحق ہو۔ مسلمان جب دکھ اور رنج کے ساتھ احد سے لوٹے تو مسلمانوں کو تسلی دینے اور کافروں کے مقابلہ میں حوصلہ بڑھانے کے لیے اس آیت کا نزول ہوا۔
و تلک الایام نداولھا بین الناس اور ایام فتح کو ہم لوگوں میں باری باری سے گھماتے پھیرتے رہتے ہیں یعنی ہماری عادت یونہی جاری ہے کبھی اس گروہ کی فتح ہوتی ہے اور کبھی اس کی۔ حضرت براء بن عازب کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے پچاس پیادوں کا جبیر بن معطم کو سردار بنا کر (گھاٹی کے دہانہ پر جمے رہنے کا) حکم دیدیا تھا اور فرمایا تھا اگر تم دیکھو کہ پرندے ہم کو جھپٹ کرلیے جا رہے ہیں تب بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا جب تک میرا پیام تمہارے پاس نہ پہنچ جائے اور اگر دیکھو کہ ہم نے دشمن کو بھگا دیا اور روند دیا تب بھی اپنی جگہ نہ چھوڑ نا تاوقتیکہ میں تمہارے پاس پیام نہ بھیجوں۔
راوی کا بیان ہے کہ (شروع میں) رسول اللہ نے ان کو بھگا دیا میں نے خود دیکھا کہ عورتیں ٹانگوں سے کپڑے اٹھائے تیزی سے بھاگی جا رہی ہیں اور ان کی پازیبیں اور پنڈلیاں کھل گئیں ہیں یہ دیکھ کر عبد اللہ بن جبیر کے ساتھی بولے لوگو ! تمہارے ساتھی غالب آگئے تم کیا انتظار کر رہے ہو۔ لُوٹو، لُوٹو۔ عبد اللہ بن جبیر ؓ نے کہا کیا تم رسول اللہ کا فرمان بھول گئے کہنے لگے خدا کی قسم ہم تو ضرور ان کے پاس پہنچ کر مال غنیمت حاصل کریں گے چناچہ جونہی یہ لوگ (بھاگتے ہوئے) کافروں پر پہنچے ان کے رخ پھرگئے اور یہ شکست کھا کر بھاگے (اور رسول اللہ پچھلی قطار میں کھڑے تم کو پلٹ کر آنے کے لیے پکار رہے تھے) یہ ہی مفہوم ہے والرسول یدعوکم فی اخراکم کا۔ حضور ﷺ کے ساتھ بارہ آدمیوں کے سوا کوئی باقی نہیں رہا۔ کافروں نے ہمارے سترّ آدمی قتل کئے رسول اللہ اور آپ ﷺ کے صحابہ نے بدر کے دن سترّ مشرکوں کو قتل اور ستر کو قید کیا تھا۔ ابو سفیان نے تین بار (پکار کر) کہا کیا قوم میں محمد ﷺ ہیں ؟ رسول اللہ نے لوگوں کو جواب دینے سے منع فرما دیا۔ ابو سفیان نے تین بار کہا کیا ابو قحافہ کا بیٹا موجود ہے پھر تین بار کہا کیا ابن خطاب ہے ؟ (جب کوئی جواب نہ ملا تو) لوٹ کر اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا سب مارے گئے یہ بات سن کر حضرت عمر بےقابو ہوگئے اور بولے۔
” اے دشمن خدا، خدا کی قسم تو جھوٹا ہے جن کے تو نے نام لیے وہ سب زندہ ہیں اور تجھے دکھ دینے والا کانٹا موجود ہے “
ابو سفیان بولا آج کا دن، بدر کے دن کا بدلہ ہوگیا لڑائی چرخ کے ڈولوں کی طرح (نیچی اونچی ہوتی رہتی) ہے۔ مقتولین میں تم کو کچھ لوگ مثلہ (ناک، کان، پیشاب گاہ کٹے ہوئے) ملیں گے لیکن میں نے اس کا حکم نہیں دیا تاہم مجھے یہ برا بھی نہیں معلوم ہوا۔ اس کے بعد جنگی لے میں گانے لگا : ہبل کی جے۔ ہبل کی جے (ہبل ایک بت کا نام تھا قریش اس کی پوجا کرتے تھے) رسول اللہ نے فرمایا : تم اس کو کیوں جواب نہیں دیتے ؟ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ہم کیا کہیں ؟ فرمایا : کہوا اللہ سب سے بالا و برتر ہے ابو سفیان نے کہا ہماری عزیٰ ہے تمہاری کوئی عزیٰ نہیں (عزیٰ ایک مورتی تھی جس کی شکل عورت کی تھی گویا ہبل دیوتا تھا اور عزیٰ دیوی) ۔
رسول اللہ نے فرمایا : تم جواب نہیں دیتے صحابہ ؓ نے عرض کیا ہم کیا کہیں ؟ فرمایا : کہو اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارا کوئی مولیٰ نہیں۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ ابو سفیان نے حضرت عمر سے کہا تم خوشی کے ساتھ یہاں آؤ۔ رسول اللہ نے فرمایا : عمر ؓ جاؤ دیکھو اس کا کیا کام ہے۔ حسب الحکم حضرت عمر گئے ابو سفیان نے کہا عمر میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا ہم نے محمد ﷺ کو قتل کردیا حضرت عمر ؓ نے فرمایا : بخدا نہیں وہ تو اس وقت بھی تیرا کلام سن رہے ہیں ابو سفیان نے کہا تم میری نظر میں ابن قمیہ سے زیادہ سچے ہو اور سچی قسم والے ہو۔ ابن قمیہ نے قریش سے جا کر کہہ دیا تھا کہ میں نے محمد ﷺ کو قتل کردیا۔ پھر ابو سفیان نے کہا سال ختم ہونے پر آئندہ بدر صغریٰ پر تم سے مقابلہ ہوگا۔ رسول اللہ نے فرمایا : کہہ دو اچھاہمار اتمہا را وعدہ ہوگیا پھر ابو سفیان اپنے ساتھیوں کو لے کر لوٹ گیا اور روانہ ہوگیا۔
حضرت ابن عباس کی روایت سے بھی اسی مضمون کی حدیث منقول ہے اس حدیث میں آیا ہے کہ ابو سفیان نے کہا دن کے بدلے دن اور ایام کی گردش رہتی ہے اور لڑائی چرخ کے ڈولوں کی طرح اوپر نیچے ہوتی ہے حضرت عمر ؓ نے فرمایا : دونوں برابر نہیں ہیں ہمارے مقتول جنت میں ہیں اور تمہارے مقتول دوزخ میں۔
زجاج نے کہا مسلمانوں کا غلبہ تو ہوتا ہی ہے کیونکہ اللہ نے فرما دیا ہے : وَ اِنَّ جُنْدَنَا لَھُمُ الْغَالِبُوْنَ احد کے دن جو مسلمانوں پر کافروں کو غلبہ حاصل ہوگیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمان نے فرمان رسول اللہ کے خلاف کیا تھا۔
و لیعلم اللہ الذین امنوا اس جملہ کا عطف ایک محذوف جملہ پر ہے یعنی ہم ایام فتح و شکست کا باری باری سے تبادلہ مختلف حکمتوں اور مصلحتوں کے تحت کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ جو مؤمن صبر اور ثبات ایمانی کی وجہ سے لوگوں کے نزدیک ممتاز ہوچکے ہوں ان کو ہم جان لیں یہ بھی ممکن ہے کہ معطوف علیہ محذوف نہ ہو بلکہ اس جملہ پر عطف ہو جو آیت : تلک الایام نداولھابین الناس سے سمجھ میں آرہا ہے اس صورت میں کلام اس طرح ہوگا کہ ایام فتح و شکست کا تبادلہ ہم اس لیے کرتے ہیں کہ یہی ہمارا معمول ہے پیدا کرنا اور فناء کرنا عادت خداوندی ہے اور اس لیے بھی کہ اللہ جان لے۔
اس جیسی (مثبت) یا اسکے خلاف (منفی) آیات میں اللہ کے علم کو ثابت کرنا یا نفی کرنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ برہانی طور پر معلوم خارجی کا ثبوت یا اس کی نفی مقصود ہوتی ہے کیونکہ علم خداوندی معلوم خارجی کے لیے لازم ہے اور نفی علم نفی معلوم کے لیے۔ دوسری طرف نفی معلوم نفی علم کو مستلزم ہے ورنہ علم علم نہیں رہے گا بلکہ جہالت ہوجائے گا۔ پس آیت میں ملزوم بول کر لازم مراد لیا گیا ہے یعنی تبادل ایام کی علت یہ ہے کہ لوگوں کی نظر میں اہل ایمان کا دوسروں سے امتیاز ہوجائے۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ لیعلم سے مراد ہے ایسا علم جس سے جز و سزا وابستہ ہے اور یہ علم بندہ کے اعمال کے ظہور کے بعد ہی ہوتا ہے (رہا وہ علم خداوندی جو تخلیق کائنات سے پہلے سے ہے اس پر سزا و جزا مرتب نہیں) ۔
و یتخذ منکم شہداء اور تم میں سے بعض لوگوں کو انعام شہادت سے سرفراز کردے اس سے مراد شہداء احد ہیں یا یہ مطلب ہے کہ قیامت کے دن دوسری اقوام پر صبر اور ثبات کی شہادت دینے کی جن مسلمانوں میں اہلیت ہو انکو چن لے۔
ابن ابی حاتم نے عکرمہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ (اُحد کے دن) جب دیر تک عورتوں کو جنگ کی خبر نہ ملی تو دریافت حال کے لیے وہ نکلیں سامنے سے دو اشخاص ایک اونٹ پر سوار آتے دکھائی دیئے ایک عورت نے پوچھا رسول اللہ ﷺ کا کیا حال ہے سواروں نے کہا زندہ ہیں عورت بولی اب مجھے پرواہ نہیں کہ اللہ اپنے بندوں میں سے کچھ لوگوں کو شہید بنا دے پس اسی عورت کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
وا اللہ لا یحب الظالمین اور اللہ ظالموں یعنی ان کافر منافقوں کو ناپسند کرتا ہے جن سے ایمان پر ثابت قدم رہنے کا ظہور نہیں ہوا (اور وہ منہ موڑ کر چلے آئے) اس آیت میں تنبیہ ہے اس امر پر کہ اللہ حقیقت میں تو کافروں کی مدد نہیں کرتا لیکن کبھی کبھی جوان کو غلبہ عنایت کردیتا ہے تو یہ ان کے لیے ڈھیل اور مسلمانوں کا امتحان ہوتا ہے۔
Ayah 3:141و لیمحص اللہ الذین امنوا اور اس لیے بھی کہ اللہ اہل ایمان کو گناہوں سے پاک صاف کردے۔
و یمحق الکافرین اور کافروں کو آہستہ آہستہ مٹا دے۔ محق کا معنی ہے تھوڑا تھوڑا کرکے کسی چیز کو توڑ دینا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کافروں کو مسلمانوں پر غلبہ ہوتا ہے تو مسلمانوں کے امتیاز کرنے، شہید بنانے اور گناہوں سے پاک کرنے کے لیے ہوتا ہے اور مسلمانوں کا غلبہ ہوتا ہے تو کافروں کو گھٹانے اور ان کے نشان مٹانے کے لیے ہوتا ہے۔
Ayah 3:142ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے 1 ۔ استفہام انکاری اور ام منقطعہ ہے۔
و لما یعلم اللہ الذین جاھدوا منکم ویعلم الصابرین حالانکہ تمہارے مجاہدوں کا اللہ نے (لوگوں کی نظر میں) امتیاز ابھی تک نہیں کیا اور نہ صبر کرنے والوں کا امتیاز کیا۔ یعنی ابھی تک نہ تم نے جہاد کیا 2 ۔ دوسرے یَعْلَمَ سے پہلے اَنْ مضمر ہے اور واؤ جمع کے لیے ہے جیسے لاتاکُلِ السَّمَکَ وَ تَشْرَبَ اللَّبَنَ یعنی مچھلی اور دودھ کو ساتھ ملا کر نہ کھاؤ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کو حالت جزم میں قرار دے کر مفتوح پڑھا جائے کیونکہ دو ساکن جمع ہیں اور ساکن سے پہلے حرف (لام) پر فتح ہے۔
ابن ابی حاتم نے بطریق عوفی حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ کچھ صحابی کہا کرتے تھے کاش ہم بھی بدر والوں کی طرح دشمنوں کو مارتے یا یوں کہتے کہ کاش بدر کے دن کی طرح ہم کو بھی کسی دن مشرکوں سے لڑنے کا موقع ملتا اور اس روز ہمارا اچھا امتحان ہوتا یا ہم شہادت پا کر جنت میں شہیدوں کی زندگی اور رزق کے طلب گار ہوتے لیکن (آزمائش کے وقت) سوائے ان کے جن کو اللہ نے چاہا کوئی (میدان جنگ میں) نہ ٹھہر سکا۔ اس پر اللہ نے مندرجہ ذیل آیت نازل فرمائی۔
Ayah 3:143و لقد کنتم تمنون الموت اور تم بلاشبہ اللہ کی راہ میں مرنے کی تمنا کیا کرتے تھے یا موت سے مراد ہے لڑائی کیونکہ لڑائی موت کا ایک سبب ہے یعنی تم لڑائی کی تمنا کیا کرتے تھے۔
من قبل ان تلقوہ موت یا لڑائی کو دیکھنے اور اس کی شدت کا معاینہ کرنے سے پہلے۔
فقدرائیتموہ و انتم تنظرون اب تم نے اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ یعنی تمہارے بھائی بند تمہارے سامنے مارے گئے اور تم نے خود دیکھ لیا۔ آیت میں زجر ہے اس امر پر کہ پہلے لڑائی کی تمنا کیا کرتے تھے پھر لڑائی ہوئی تو بزدل بن کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ یا زجر ہے تمنا شہادت پر کیونکہ شہادت مسلمین کی تمنا کا معنی ہے غلبۂ کفار کی تمنا۔
ابن ابی حاتم نے ربیع کا قول نقل کیا ہے کہ احد کے دن جب مسلمانوں پر زخمی ہونے کی جو مصیبت پڑنی تھی پڑی تو انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو پکارا لوگوں نے کہا وہ تو شہید ہوگئے کچھ لوگ کہنے لگے اگر نبی ہوتے تو مارے نہ جاتے دوسرے لوگوں نے کہا جس چیز کے لیے تمہارے نبی نے قتال کیا تھا اسی کے لیے تم بھی اس وقت تک لڑو کہ اللہ تم کو فتح عطا فرما دے یا تم بھی رسول اللہ سے جا ملو۔ ابن المنذر نے حضرت عمر کا قول نقل کیا ہے کہ احد کے دن ہم رسول اللہ کو چھوڑ کر پراگندہ ہوگئے میں پہاڑ پر چڑھ گیا اور ایک یہودی کو کہتے سنا محمد مارے گئے میں نے کہا جو کوئی بھی کہے گا محمد مارے گئے میں اس کی گردن ماردوں گا اتنے میں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ اور دوسرے لوگ واپس آرہے ہیں۔
بیہقی نے دلائل میں ابو البیح کی روایت سے لکھا ہے کہ ایک مہاجر کسی انصاری کی طرف سے گذرا انصاری خون میں تڑپ رہا تھا۔ مہاجر نے انصاری سے (یا انصاری نے مہاجر سے) کہا کیا تم کو معلوم ہے کہ محمد ﷺ قتل کردیئے گئے ؟ اس نے جواب دیا اگر محمد قتل کردیئے گئے تو وہ (پیام خداوندی) پہنچا گئے اب تم اپنے دین کی طرف سے لڑو۔ اس پر مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی۔ (1) [ بخاری نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت ابوبکر کاشانۂ نبوت سے برآمد ہوئے اس وقت حضرت عمر ؓ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے صدیق اکبر ؓ نے فرمایا : عمربیٹھ جاؤ پھر فرمایا : اما بعد ! جو محمد ﷺ کی پوجا کرتا تھا تو (اس کو سمجھ لینا چاہئے کہ) محمد ﷺ کی وفات ہوگئی اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو بلاشبہ اللہ زندہ ہے اللہ نے خود فرمایا ہے و ما محمد الا رسول۔۔ الشاکرین تک راوی کا بیان ہے کہ خدا کی قسم ایسا معلوم ہوا کہ ابوبکر کی تلاوت سے پہلے لوگوں کو علم ہی نہ تھا کہ اللہ نے یہ آیت بھی نازل کی ہے اور ابوبکر سے سنکر سب نے اس کی تلاوت شروع کردی میں نے کوئی شخص نہیں پایا کہ وہ پڑھنے نہ لگا ہو۔ حضرت ابوہریرہ اور عروہ وغیرہ راوی ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا تھا اگر لوگ اونٹ کے پاؤں میں باندھنے کی رسّی بھی مجھے دینے سے انکار کریں گے جو (زکوۃ کے اونٹوں کے ساتھ) وہ رسول اللہ کو دیا کرتے تھے تو میں ان سے جہاد کروں گا پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : و ما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم .]
Ayah 3:144و ما محمد الا رسول اور محمد ﷺ نہیں ہیں مگر رسول یعنی خدا نہیں ہیں جن کا مرنا اور فنا ہونا ناممکن ہو اور نہ وہ لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت دیتے ہیں۔
محمد ﷺ (کا مادہ حمد ہے اور مصدر تحمید) قاموس میں ہے حمد کا معنی ہے شکر، رضا، جزا، ادائے حق اور تحمید کا معنی ہے پیہم حمد کرنا پس محمد ﷺ کا معنی ہوا وہ شخص جس کی پیہم حمد کی جائے میں کہتا ہوں محمد ﷺ وہ شخص ہے جس کی پیہم غیر متنا ہی حمد کی جائے۔
بغوی (رح) نے لکھا ہے محمد ﷺ وہ شخص ہے جو تمام محامد کا جامع ہو کیونکہ حمد کا مستحق صرف وہی شخص ہوتا ہے جو کامل الصفات ہو اور تحمید کا درجہ حمد سے زیادہ ہے (باب تفعیل میں باب مجرد سے زیادہ قوت اور کثرت ہونی چاہئے کثرت لفظ کثرت معنی پر دلالت کرتی ہے) پس مستحق تحمید وہ ہی شخص ہوگا جو انتہائی کمالات کو محیط ہے۔ حضرت حسان بن ثابت کا قول ہے۔
کیا تم کو نہیں معلوم کہ اللہ نے اپنے بندہ کو اپنی برہان (یعنی قرآن) دے کر بھیجا اور اللہ سب سے بزرگ و برتر ہے اور اس کی عزت افزائی کے لیے اپنے نام سے مشتق کرکے (اس کا نام رکھا) پس مالک عرش محمود ہے اور یہ محمد ہیں ﷺ ۔
قد خلت یعنی گذر گئے اور مر گئے
من قبل الرسل ان سے پہلے پیغمبر پس یقیناً وہ بھی مریں گے۔
افان مات او قتل انقبتم علی اعقابکم پس کیا اگر وہ (اپنی موت) مرجائیں گے یا مارے جائیں گے تو تم ایڑیوں کے بل اپنے پہلے مذہب یعنی کفر کی طرف پلٹ جاؤ گے۔ استفہام انکاری ہے یعنی جب سابق انبیاء مرگئے تو ان کا دین نہیں مرگیا پس محمد بھی ایک رسول ہیں اگر مرجائیں گے تو انکا دین نہیں مرے گا لہٰذا تم کو لوٹ کر مرتد نہ ہونا چاہئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ فاء سببیت کے لیے ہے اور ہمزہ انکاری ہے یعنی رسول اللہ کی وفات تمہارے ارتداد کا سبب نہ ہونا چاہئے۔
و من ینقلب علی عقبیہ اور جو اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جائے گا یعنی دین سے پھر جائے گا۔
فلن یضر اللہ شیئا اور اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا۔
و سیجزی اللہ الشاکرین اور جو لوگ اسلام پر قائم رہ کر نعمت (1) [ حضرت علی نے الشاکرین کی تفسیر میں فرمایا دین پر جمے رہنے والے یعنی ابوبکر اور ان کے ساتھی۔ حضرت علی فرماتے تھے ابوبکر شاکرین کے سردار تھے، مولف ] اسلام کے شکر گذار رہینگے اللہ ضرور انکو جزاء دیگا
قصۂ : احد
اہل مغازی نے بیان کیا ہے کہ احد کی گھاٹی میں رسول اللہ سات سو صحابہ کی جمعیت کے ساتھ اترے اور عبد اللہ بن جبیر کو (پچاس) پیادوں کا سردار بنا کر گھاٹی پر مقرر فرما دیا جیسا کہ حضرت براء بن عازب کی سابق روایت میں گذ رچکا ہے۔ اب قریش آئے میمنہ پر خالد بن ولید اور میسرہ پر عکرمہ بن ابی جہل کمانڈر تھے عورتیں ان کے ساتھ تھیں جو دف بجا بجا کر شعر گا رہی تھیں گھمسان کا رن پڑا رسول اللہ نے دست مبارک میں تلوار لے کر فرمایا : یہ تلوار لے کر کون اس کا حق ادا کرے گا کہ دشمن کو مارے اور خوب خون بہائے ابو دجانہ سماک بن حرسہ انصاری نے وہ تلوار لے لی اور لے کر سرخ عمامہ باندھ کر اٹھلا کر چلنے لگے حضور نے فرمایا : یہ چال اللہ کو ناپسند ضرور ہے مگر اس موقع پر درست ہے مشرکوں کے سرداروں کو ابو دجانہ نے اس تلوار سے قتل کیا۔ رسول اللہ اور آپ کے ساتھیوں نے مشرکوں پر حملہ کیا اور ان کو مار بھگایا اور اللہ نے مسلمانوں کو فتح عنایت کی اور اپنا وعدہ پورا کیا مسلمانوں نے کافروں کو تلوار سے کاٹ کر رکھ دیا میدان جنگ سے ان کو بھگا دیا اور خوب قتل کیا۔
مشرکوں کے سواروں نے مسلمانوں پر تین بار حملہ کیا لیکن ہر بار ان پر تیروں کی بوچھاڑ کی گئی اور ان کو پسپا ہونا پڑا تیر انداز مسلمانوں کی پشت کی حفاظت کر رہے تھے اور مشرکوں کے سواروں کو تیروں کا نشانہ بنا رہے تھے ہر تیر یا گھوڑے کے لگتا تھا یا آدمی کے آخر کار سب پشت دے کر بھاگے۔
حضرت علی بن ابی طالب نے مشرکوں کے علمبردار طلحہ بن طلحہ کو قتل کردیا اور مسلمان تکبیر کہہ کر کافروں کو خوب ہی مارنے لگے نتیجہ میں کافروں کی صفیں پراگندہ ہوگئیں۔ حضرت زبیر بن عوام نے فرمایا : میں نے دیکھا کہ ہندہ اور اس کے ساتھ والیاں بھاگتی ہوئی تیزی کے ساتھ پہاڑ پر جا رہی تھیں ان کی پازیبیں 2 کھلی ہوئی تھیں ان کی گرفتاری سے کوئی مانع نہ تھا۔ جب حضرت عبد اللہ بن جبیر کے ساتھ والے تیر اندازوں نے دیکھا کہ دشمنوں کے پرے چھٹ گئے تو لوٹنے کے لیے یہ بھی میدان جنگ کی طرف چل دیئے جیسا کہ حضرت براء کی سابق حدیث سے واضح ہوچکا ہے۔
تیر اندازوں کے کمانڈر یعنی حضرت عبد اللہ کے ساتھ دس سے کم آدمی رہ گئے خالد بن ولید نے جب پہاڑ کی طرف نگاہ کی اور پہاڑ کے محافظ کم نظر آئے اور مسلمانوں کو لوٹ میں مشغول پایا اور ان کی پشت خالی دکھائی دی تو کافروں کے سواروں کو چیخ کر آواز دی اور مسلمانوں کے پیچھے آکر حملہ کیا۔ عکرمہ بھی خالد کے پیچھے سے آگئے آخر مسلمانوں کو کافروں نے بھگا دیا اور قتل کیا۔ عبد اللہ بن جبیر اپنی جگہ جمے رہے یہاں تک کہ لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ کافروں نے آپ کے کپڑے اتار لیے اور بہت بری طرح سے مثلہ کیا جب مسلمان ہر طرف سے پراگندہ ہوگئے جو مال لوٹا تھا اس کو بھی چھوڑ گئے جن لوگوں کو قید کیا تھا وہ بھی چھوڑنا پڑے شروع دن میں ہوا پروا تھی پھر (پچھلے دن میں) پچھمی ہوگئی۔ بھاگتے لوگوں کے تین حصے ہوگئے ایک حصہ زخمی ہوا ایک حصہ قتل ہوا اور ایک حصہ بھاگ گیا۔
بیہقی نے حضرت مقداد کی روایت سے لکھا ہے حضرت مقداد نے کہا قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے رسول اللہ کو حق کے ساتھ بھیجا آپ ﷺ اپنی جگہ سے بالشت بھر نہیں ہٹے دشمن کے سامنے مقابلہ پر رہے آپ کی طرف صحابہ کی ایک جماعت (حفاظت کے لیے) لوٹتی رہی اور کبھی اس میں شگاف پڑتے رہے۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ برابر کھڑے کمان سے تیر پھینک رہے تھے اور پتھر مار رہے تھے رسول اللہ کے ساتھ (اس روز) پندرہ آدمی بھی جمے رہے آٹھ مہاجر، ابو بکر، عمر، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص اور ابو عبیدہ بن جراح ؓ اور سات انصار حباب بن منذر، ابو دجانہ، عاصم بن ثابت، حارث بن صمہ، سہل بن حنیف، محمد بن مسلمہ اور سعد بن معاذ ؓ بعض روایات میں سعد بن معاذ کی جگہ سعد بن عبادہ کا ذکر ہے۔
عبدا لرزاق نے مرسلاً زہری کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ کے چہرہ مبارک پر تلوار کے سترّوار ہوئے اور کوئی ضرب کار گر نہ ہوئی اللہ نے محفوظ رکھا۔ عتبہ بن وقاص نے حضور پر چار پتھر مارے جن سے آپ کا اگلا دایاں نچلا دانت ٹوٹ گیا اور زیریں لب زخمی ہوگیا حافظ نے کہا اس سے مراد وہ دانت ہے جو کاٹنے والے اور چبھنے والے دانتوں کے درمیان تھا۔ حاطب بن بلتعہ کا بیان ہے میں نے عتبہ کو قتل کردیا اور اس کا سر رسول اللہ کی خدمت میں لا کر حاضر کردیا۔ آپ ﷺ کو اس سے خوشی ہوئی اور میرے لیے دعا فرمائی۔ (رواہ الحاکم)
عبد اللہ بن شہاب زہری نے حضور ﷺ کے سر کو زخمی کردیا۔ اس واقعہ کے بعد یہ شخص مسلمان ہوگیا تھا چہرۂ مبارک پر خون بہنے لگایہاں تک کہ ریش اقدس خون سے تر ہوگئی۔ عبد اللہ بن قمیہ کے پتھر سے رخسار مبارک زخمی ہوگیا اور خود کی دو کڑیاں رخسار میں گھس گئیں عبد اللہ بن قمیہ حضور ﷺ کو قتل کرنے کے ارادہ سے آگے آیا لیکن مصعب بن عمیر نے مدافعت کی آپ رسول اللہ کے علمبردار تھے ابن قمیہ نے ان کو شہید کردیا اور یہ سمجھا کہ میں نے رسول اللہ کو شہید کردیا لوٹ کر گیا تو اپنے لوگوں سے کہا میں نے محمد ﷺ کو قتل کردیا اس پر ایک چیخنے والے نے ندا کی محمد ﷺ مارے گئے کہا جاتا ہے کہ یہ پکارنے والا ابلیس تھا۔ طبرانی نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ نے ابن قمیہ سے فرمایا تھا : اقماک اللہ۔ اللہ تجھے بیخ بن سے ہلاک کردے۔
اس بد دعا ہی کا یہ نتیجہ ہوا کہ کسی پہاڑی بکرے کو اللہ نے اس پر مسلط کردیا اور بکرے نے سینگ مارتے مارتے اس کو پارہ پارہ کردیا۔ رسول اللہ اٹھ کر ایک چٹان پر چڑھنا چاہتے تھے لیکن تہ بہ تہ دو زرہیں پہنے تھے اس لیے خود چڑھ نہ سکے۔ حضرت طلحہ نے نیچے بیٹھ کر اپنے اوپر رسول اللہ کو اٹھا لیا اور اس طرح آپ چٹان پر پہنچ گئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : طلحہ نے واجب کردیا (یعنی اپنے لیے جنت کو) ہندہ اور اس کے ساتھ دوسری عورتیں شہیدوں کے ناک کان کاٹنے لگیں یہاں تک کہ ہندہ نے ان کے ہار بنا کر وحشی کو دیئے اور حضرت حمزہ کا جگر نکال کر چبایا مگر نگل نہ سکی تھوک دیا۔
ادھر رسول اللہ لوگوں کو پکار رہے تھے اللہ کے بندو (اوپر آؤ) آواز سن کر حضور ﷺ کے پاس تیس آدمی جمع ہوگئے جن میں سے ہر ایک کہہ رہا تھا میرا چہرہ (زخمی ہو) آپ ﷺ کا چہرہ نہ ہو۔ میری جان (کام آئے) آپ ﷺ کی جان ایسی نہ ہو (یعنی آپ محفوظ رہیں میں قربان ہوجاؤں) آپ ﷺ سالم رہیں غرض سب آپ کے محافظ ہوگئے اور مشرکوں کو آپ کی طرف سے ہٹا دیا۔ سعد بن ابی وقاص نے اتنے تیر مارے کہ آپ ﷺ کی چھ کمانیں ٹوٹ گئیں رسول اللہ نے ان کے سامنے اپنی ترکش سے تیر بکھیر دیئے اور فرمایا : تیر مار تجھ پر میرے ماں باپ قربان 1 ۔
ابو طلحہ بھی بڑے تیر انداز تھے اور کمان کھینچنے میں بڑے طاقتور تھے۔ آپ نے بھی اس روز دو یا تین کمانیں توڑیں تھیں جو شخص بھی ان کی طرف سے تیر دان لے کر گذرتا آپ فرماتے تھے ابو طلحہ کے لیے تیر بکھیر دو حضرت ابو طلحہ تیر پھینکتے تو رسول اللہ بھی گردن اٹھا کر تیر لگنے کی جگہ کو دیکھتے۔
رسول اللہ کی حفاظت کے لیے حضرت طلحہ بن عبید اللہ کا ہاتھ اتنا چٹیلا ہوا کہ آخر خشک ہوگیا۔ ابو داؤ دطیالسی اور ابن حبان نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر نے فرمایا : وہ دن سارا کا سارا طلحہ کے لیے ہوا 2 ۔ محمد بن عمر کا بیان ہے کہ اس روز حضرت طلحہ کے سر میں ایسی چوٹ لگی کہ خون نچڑ گیا اور آپ پر غشی طاری ہوگئی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے آپ کے چہرہ پر پانی چھڑکا جس سے آپ کو ہوش آگیا۔ ہوش آتے ہی فرمایا : رسول اللہ کا کیا ہوا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : خیریت سے ہیں انہوں نے ہی مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ حضرت طلحہ نے کہا اللہ کا شکر ہے اس کے بعد ہر مصیبت حقیر ہے۔ اس روز حضرت قتادہ بن نعمان کی آنکھ میں چوٹ لگی تھی جس کی وجہ سے آنکھ رخسار پر آپڑی تھی رسول اللہ نے دوبارہ جگہ پر لوٹا دی اور آنکھ اچھی بھلی ہوگئی۔
رسول اللہ احد سے واپس آرہے تھے کہ (راستہ میں) ابی بن خلف جمحی نے آلیا اور کہنے لگا اگر اب (میرے ہاتھ سے) تم بچ نکلے تو مجھے خدا نہ بچائے (یعنی اس وقت میں ضرور قتل کردوں گا) لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ کیا ہم میں سے کوئی آدمی اس پر نہ جھک پڑے۔ یعنی قتل نہ کردے) فرمایا : رہنے دو جب وہ قریب آگیا اس سے پہلے ابی رسول اللہ سے ملنے کے وقت کہا کرتا تھا میرے پاس خاکستری رنگ کی ایک گھوڑی ہے جس کو روزانہ ایک فرق جوار دے کر میں پالتا ہوں اسی پر سوار ہو کر تم کو قتل کروں گا۔ اس کے جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا : ایسا نہیں ہوگا بلکہ میں تجھے قتل کروں گا۔ تو رسول اللہ نے حارث بن صمہ سے چھوٹا نیزہ لے کر ابی کے سامنے جا کر اس کی گردن پر مارا جس کی وجہ سے کچھ خراش پڑگئی۔ ابی گھوڑے سے لڑھک کر نیچے گرا اور بیل کی طرح دھاڑنے لگا اور کہنے لگا محمد نے مجھے مار ڈالا لوگوں نے کہا کوئی خطرہ کی بات نہیں ہے بولا کیوں نہیں ہے اگر یہ نیزہ کا زخم (تمام قبائل) ربیعہ و مضر کے لگتا تو ان کو بھی ہلاک کردیتا کیا انہوں نے مجھ سے نہیں کہا تھا کہ میں تجھے قتل کروں گا۔ اس قول کے بعد تو اگر یہ مجھ پر تھوک دیتے تب بھی قتل کردیتے غرض زیادہ مدت نہیں گذری کہ مقام سرف میں پہنچ کر وہ مرگیا۔
بخاری نے صحیح میں حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے جس کو نبی نے قتل کیا اس پر اللہ کا سخت غضب ہوا اور جس نے رسول اللہ کے چہرہ مبارک کو خون آلود کردیا اس پر بھی اللہ کا غضب سخت ہوا۔
اہل مغازی نے لکھا ہے کہ لوگوں میں یہ بات پھیل گئی کہ محمد قتل کردیئے گئے یہ سن کر بعض مسلمان کہنے لگے کاش کوئی قاصد عبد اللہ بن ابی کے پاس چلا جاتا تاکہ ابن ابی ابو سفیان سے ہمارے لیے امان لے لیتا کچھ صحابی پست ہمت ہو کر بیٹھ رہے بعض ناہل نفاق کہنے لگے اگر محمد مارے گئے تو تم اپنے پہلے مذہب میں شامل ہوجاؤ۔ حضرت انس بن مالک ؓ کے چچا حضرت انس بن نضر بولے قوم والو ! اگر محمد مارے بھی گئے ہوں تو محمد کا رب تو قتل نہیں ہوگیا تم رسول اللہ کے بعد زندہ رہ کر کیا کرو گے جس کام کے لیے رسول اللہ لڑے تم بھی اسی کام کے لیے لڑو اور جس غرض کے لیے وہ مرے تم بھی اسی کے لیے مرجاؤ پھر بولے اے اللہ یہ لوگ یعنی مسلمان جو کچھ کہہ رہے ہیں میں تیرے سامنے اس کی معذرت کرتا ہوں اور یہ لوگ یعنی منافق جو بات پیش کر رہے ہیں میں اس سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں یہ کہہ کر تلوار لے کر حضرت انس نے حملہ کیا اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔
پھررسول اللہ پتھر کی چٹان کے پاس جا کر لوگوں کو پکارنے لگے سب سے پہلے حضرت کعب بن مالک نے آپ کو پہچانا خود کے نیچے حضور کی آنکھیں چمکتی دیکھ کر شناخت کی۔ حضرت کعب کا بیان ہے کہ میں نے حضور کو پہچان کر اونچی آواز سے پکار کر کہا اے گروہ اہل اسلام تم کو بشارت ہو یہ رسول اللہ موجود ہیں۔ حضور ﷺ نے میری طرف اشارہ کیا کہ خاموش رہو پھر صحابہ کی ایک جماعت حضور ﷺ کے پاس آکر جمع ہوگئی آپ ﷺ نے بھاگنے پر ان کو ملامت کی صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ہمارے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہم کو اطلاع ملی کہ آپ ﷺ شہید کردئیے گئے اس لیے ہمارے دل خوف زدہ ہوگئے اور ہم پشت پھیر کر بھاگ نکلے (یعنی آپ کو چھوڑ کر نہیں بھاگے تھے بلکہ جب آپ کی شہادت کی خبر سن لی تو لڑائی کو بیکار سمجھ کر ڈر کر بھاگ نکلے تھے) اس پر اللہ نے نازل فرمایا : و ما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل۔۔.