3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 3:171

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہیں۔ اور اس سے کہ خدا مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

یستبشرون وہ بشارت پائیں گے یہ پہلے یستبشرون کی تاکید ہے یا پہلے سے دفع مضرت کی بشارت مراد ہے اور اس سے حصولمنفعت کی۔ نعمتۃ من اللہ اللہ کی طرف سے نعمت کی یعنی اعمال کے ثواب کی۔ و فضل اور (جزاء اعمال سے) زیادہ پانے کی بھی۔ اس سے مراد ہے دیدارِ الٰہی اور مراتب قرب۔ نعمۃٍ اور فضلٍ کی تنوین ان دونوں کی عظمت شان کو ظاہر کر رہی ہے (کیونکہ تنوین کبھی عظمت قدر کا بھی اظہار کرتی ہے) ان اللہ لایضیع اجرالمومنین اور اس بات کی بھی انکو بشارت ہوگی کہ اللہ اہل ایمان کے اجر کو اکارت نہیں کریگا حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو شخص راہ خدا میں جہاد کرے اور صرف جہاد فی سبیل اللہ (کا خیال) اور کلمہ اللہ کی تصدیق ہی اس کے گھر سے نکلنے کا سبب ہو تو اللہ نے اس کے متعلق ذمہ لے لیا ہے کہ (اگر مرگیا تو) اس کو جنت میں داخل کریگا یا اس گھر میں جس سے وہ نکلا ہے ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ واپس لے آئے گا۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو کوئی راہ خدا میں زخمی ہوگا اور اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں زخم کھاتا ہے (اور کون نام آوری اور شہرت کے لیے زخمی ہوتا ہے) جب وہ قیامت کے دن (سامنے) آئے گا تو اس کے زخم سے خون ابلتا ہوگا جس کا رنگ تو خون کا ہوگا اور خوشبو مشک کی۔ (رواہ البغوی) حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : شہید قتل کا دکھ بس اتنا (اتنی دیر) پاتا ہے جتنا (یعنی جتنی دیر) تم چیونٹی کے کاٹنے سے پاتے ہو۔ (رواہ الدارمی والترمذی) ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے۔ نسائی نے سنن میں طبرانی نے الوسط میں صحیح سند سے حضرت ابو قتادہ کی روایت سے بھی اس کو بیان کیا ہے۔ آیت دلالت کر رہی ہے کہ مؤمنون کا اجر ضائع نہ ہوگا خواہ کوئی مؤمن ہو شہید ہو یا نہ ہو گو یا شہداء کو سب مؤمنوں کی حالت سے خوشی ہوگی۔ بعض علماء نے کہا کہ اس آیت کا نزول شہداء بدر کے متعلق ہوا جن کی تعداد 14 تھی۔ آٹھ انصاری اور چھ مہاجر مگر یہ روایت ضعیف ہے کسائی نے اَنّ کی جگہ اِنّ بکسر ہمزہ پڑھا ہے اور جملہ کو استینافیہ معترضہ کہا ہے گویا آیت اس امر پر دلالت کر رہی ہے کہ یہ امر شہداء کے ایمان کا ہوگا کیونکہ جس کا ایمان نہ ہو اس کے تمام اعمال اکارت جائیں گے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس آیت کا نزول بئر معونہ کے شہداء کے حق میں ہوا جس کی تفصیل محمد بن اسحاق اور عبد اللہ بن ابی نے حضرت انس ؓ وغیرہ کی روایت کی بناء پر اس طرح بیان کی ہے کہ عامر بن مالک بن جعفر عامری جس کا لقب ملا عب الاَسِنّہ تھا۔ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دو گھوڑے اور دو اونٹنیاں ہدیہ میں پیش کیں حضور نے قبول کرنے سے انکار کردیا اور فرمادیا میں مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہارا ہدیہ قبول کرلوں تو مسلمان ہوجاؤ وہ مسلمان نہیں ہوا لیکن اسلام سے دور بھی نہیں گیا (یعنی نفرت کا اظہار بھی نہیں کیا) اور بولا محمد ﷺ جس چیز کی تم دعوت دیتے وہ ہے تو اچھی خوبصورت پس اگر تم اپنے ساتھیوں میں سے کچھ لوگوں کو اہل نجد کے پاس (دعوت دینے کے لیے) بھیج دو تو مجھے امید ہے کہ وہ تمہاری دعوت کو قبول کرلیں گے حضور ﷺ نے فرمایا : مجھے اہل نجد کی طرف سے اپنے آدمیوں کا خطرہ ہے ابو براء بولا میں ان کی پناہ کا ذمہ لیتا ہوں چناچہ رسول اللہ نے حضرت منذر بن عمر ساعدی کو سترّ منتخب انصاری صحابہ کا سردار بنا کر سب کو بھیج دیا۔ ان سترّ آدمیوں کو قاری کہا جاتا تھا۔ (یعنی یہ سب قاری اور عالم قرآن تھے) انہی میں حضرت ابوبکر کے آزاد کردہ غلام حضرت عامر بن فہیرہ بھی تھے۔ یہ روانگی ماہ صفر 4 ھ میں ہوئی۔ غرض یہ لوگ چل دیئے اور بیئر معونہ پر پہنچ کر پڑاؤ کیا۔ بیئر معونہ کی زمین بنی عامر کی زمین اور بنی سلیم کے پتھریلے علاقہ کے درمیان واقع تھی یہاں پہنچ کر ان لوگوں نے حضرت حرام بن ملحان کو رسول اللہ کا نامۂ مبارک دے کر بنی عامر کے کچھ آدمیوں کے ساتھ عامر بن طفیل کے پاس بھیجا حضرت حرام نے پہنچ کر کہا میں رسول اللہ کا قاصد ہوں تمہارے پاس آیا ہوں میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں لہٰذا تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لے آؤ حضرت حرام کی اس تبلیغ کے بعد ایک شخص نیزہ لے کر گھر کی جھونپڑی سے برآمد ہوا اور آتے ہی حضرت حرام کے پہلو پر برچھا مارا جو دوسرے پہلو سے نکل گیا۔ حضرت حرام فوراً بول اٹھے۔ اللہ اکبر۔ رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا اس کے بعد عامر بن طفیل نے بنی عامر کو ان صحابیوں کے خلاف چیخ کر آواز دی بنی عامر نے اس کی بات قبول کرنے سے انکار کردیا اور بولے ابو براء کی ذمہ داری کو نہ توڑو۔ عامر بن طفیل نے بنی سلیم کے قبائل عصیہ رعل اور ذکوان کو پکارا انہوں نے آواز پر لبیک کہی اور نکل کر صحابہ ؓ پر چھا گئے اور فرود گاہ پر آکر سب کو گھیر لیا صحابہ نے مقابلہ کیا یہاں تک کہ سب شہیدہو گئے صرف کعب بن زید بچ گئے اور وہ بھی اس طرح کہ کافر ان کو مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے تھے مگر ان میں کچھ سانس باقی تھی اس لیے زندہ رہے اور آخر خندق کی لڑائی میں مارے گئے۔ حضرت عمرو بن امیہ ؓ کو ان لوگوں نے قید کرلیا تھا لیکن عمر و نے ان کو بتایا کہ میں قبیلہ مضر کا ہوں تو عامر بن طفیل نے ان کو چھوڑ دیا اور انہوں نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اطلاع دی رسول اللہ نے فرمایا : یہ حرکت ابو براء کی ہے ابو براء کو اس کی اطلاع ملی تو عامر بن طفیل کی طرف سے اس کو اپنی ذمہ داری کی شکست بہت بار گزری محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ عامربن طفیل کہتا تھا ان میں وہ شخص کون تھا کہ جب وہ مارا گیا تو اس کو آسمان و زمین کے درمیان اٹھالیا گیا۔ یہاں تک کہ آسمان مجھے اس سے نیچے نظر آنے لگا لوگوں نے کہا وہ عامر بن فہیرہ تھے۔ اس واقعہ کے بعد ابو براء کے بیٹے ربیعہ نے عامر بن طفیل پر حملہ کردیا۔ عامر گھوڑے پر سوار تھا۔ ربیعہ نے اس کے نیزہ مارا اور قتل کردیا۔ صحیحین میں بوساطت قتادہ حضرت انس کا قول مروی ہے کہ رعل اور ذکوان اور عصیہ اور بنی لحیان کے قبائل رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ظاہر کیا کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں اور دشمنوں کے خلاف رسول اللہ سے (فوجی) مدد مانگی۔ حضور ﷺ نے ان کے ساتھ ستر انصاری جن کو ہم قاری کہتے تھے بطور مدد کردیئے یہ حضرات دن میں لکڑیاں جمع کرتے (اور فروخت کرکے گذارا کرتے) اور رات کو نمازیں پڑھتے تھے جب یہ لوگ بیئر معونہ پر پہنچے تو کافروں نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا اور (سب کو) شہید کردیا۔ رسول اللہ کو اس کی خبرپہنچی تو آپ ﷺ نے ایک ماہ تک صبح کی نماز میں دعا قنوت پڑھی جس میں کچھ قبائل عرب یعنی رعل، ذکوان، عصیہ اور بنی لحیان کے لیے بد دعا کی۔ امام احمد اور بخاری اور مسلم اور بیہقی نے حضرت انس کی روایت سے اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے اور بخاری نے عروہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : ہمارے ساتھ کچھ لوگوں کو بھیج دیجئے۔ جو ہم کو قرآن و سنت کی تعلیم دیں حضور ﷺ نے ان کے ساتھ سترّ انصاری جن کو قاری کہا جاتا تھا بھیج دیئے۔ مقام پر پہنچنے سے پہلے ہی یہ درخواست کرنے والے ان قاریوں کے درپے ہوگئے اور سب کو شہید کردیا۔ شہداء نے کہا اے اللہ ! ہمارے نبی ﷺ کو یہ خبر پہنچا دے۔ دوسری روایت میں آیا ہے ہمارے بھائیوں کو یہ خبر پہنچا دے کہ ہم نے (اے اللہ) تجھے پا لیا ہم تجھ سے راضی ہیں اور تو ہم سے راضی ہے اللہ نے وحی بھیجی کہ میں شہداء کی طرف سے (اے مسلمانو) تم کو یہ پیام پہنچاتا ہوں کہ اللہ ان سے خوش ہے اور وہ اللہ سے راضی۔ حضرت انس ؓ نے فرمایا : پہلے ہم (قرآن میں) ان شہداء کے بارے میں پڑھتے تھے۔ بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَناَ اَنَّا قَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَ اَرْضَانا لیکن پھر یہ جملے منسوخ کردیئے گئے (اور قرآن سے خارج کردیئے گئے) اس واقعہ کے بعد رسول اللہ نے ایک چلہ تک صبح کی نماز میں قبائل رعل، ذکوان، عصیہ اور بنی لحیان کے لیے بددعا کی ان قبائل نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی۔ بغوی نے حضرت انس کے قول کے آخر میں اتنے الفاظ مزید نقل کئے ہیں کہ ہم اس کو ایک زمانہ تک پڑھتے رہے پھر اس کو اٹھا لیا گیا اور اللہ نے نازل فرمایا : وَلَا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا۔۔ آخر آیت تک۔ میں کہتا ہوں آیت کے شان نزول میں اگرچہ اختلاف ہے جیسا سطور بالا سے ظاہر ہو رہا ہے لیکن آیت کے الفاظ تمام شہداء کو شامل ہیں اور حکم عام ہے۔ مسئلہ اجماع علماء ہے کہ شہید کو غسل نہ دیا جائے کیونکہ احد کے شہداء کو غسل نہیں دیا گیا اور رسول اللہ ﷺ نے حم دیا کہ انکے ہتھیار اور چمڑے ( کا سامان) تو اتار لئے جائیں باقی خون اور کپڑوں سمیت دفن کردیا جائے۔ (رواہ ابو داؤد ابن ماجہ عن ابن عباس) نسائی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن ثعلبہ ؓ کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ ان کو خون سمیت چھپا دو کیونکہ اللہ کی راہ میں جو شخص زخمی ہوگا وہ قیامت کے دن خون سمیت آئے گا اس کے خون کا رنگ تو خون کا سا ہوگا اور اس کی خوشبو مشک ہوگی اسی مبحث کی ایک حدیث حضرت جابر ؓ کی روایت سے آئی ہے کہ ایک آدمی کے سینہ میں تیر لگا جس سے اس کی موت ہوگئی اس کو انہی کپڑوں میں اور اسی طرح لپیٹ دیا گیا ( اور دفن کردیا گیا) اور ہم رسول اللہ کے ہمرکاب تھے۔ (رواہ ابو داؤد باسناد علی شرط مسلم) مسئلہ اگر جنابت کی حالت میں کوئی شہید ہوجائے تو کیا اس کو غسل دیا جائے۔ یہ مسئلہ اختلافی ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام احمد کے نزدیک غسل دیا جائے امام مالک اور امام شافعی کہتے ہیں غسل نہ دیا جائے کیونکہ رسول اللہ کا فرمان زَمِّلُوْھُمْ بدعاءھم عام ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک حضرت حنظلہ بن ابی عامر کا قصہ ماخذ استدلال ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا تھا میں نے دیکھا کہ فرشتے حنظلہ بن ابی عامر کو آسمان و زمین کے درمیان سفید ابر کے پانی سے چاندی کے برتنوں میں غسل دے رہے تھے۔ ابو اسید ساعدی کا بیان ہے ہم نے جا کر حنظلہ کی نعش کو دیکھا تو ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا میں نے واپس آکر رسول اللہ کو اس کی اطلاع دی حضور ﷺ نے ان کی بیوی کے پاس دریافت حال کے لیے آدمی بھیجا بیوی نے کہا وہ جنابت کی حالت میں باہر گئے تھے حنظلہ کی اولاد کو اسی لیے غسیل الملائکہ (فرشتوں کے غسل دیئے ہوئے) کی اولاد کہا جاتا ہے۔ ابن الجوزی نے اس حدیث کو محمد بن سعد کی روایت سے مرسلاً اور ابن حبان اور حاکم اور بیہقی نے ابن اسحاق کے سلسلہ سے (بقول حافظ) مسندًا نقل کیا ہے حاکم نے اکلیل میں ابو اسید کی روایت سے بھی اس کو نقل کیا ہے لیکن اس کی اسناد میں ضعف ہے۔ حاکم نے مستدرک میں اور طبرانی و بیہقی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بھی یہ حدیث بیان کی ہے لیکن حاکم کی روایت میں معلی بن عبد الرحمن راوی متروک ہے اور طبرانی کی اسناد میں حجاج مدلس ہے اور بیہقی کی سند میں ابو شیبہ واسطی ضعیف ہے۔ مسئلہ شہید کی نماز جنازہ پڑھی جائے ؟ (امام ابوحنیفہ (رح) و امام مالک) نہ پڑھی جائے (امام شافعی) امام احمد کے دونوں قول روایت میں آئے ہیں۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ نماز یا گناہوں کی مغفرت کے لیے ہے یا میت کی عزت افزائی اور ترقی درجات کے لیے اور شہید عزت افزائی کا زیادہ مستحق ہے اگر نماز نہ پڑھنے میں تکریم میت ہوتی تو رسول اللہ اس کے زیادہ مستحق تھے، آپ کی نماز نہ پڑھی جاتی حالانکہ اجماعاً آپ کی نماز پڑھی گئی۔ پھر اصل نماز ہی ہے (جب تک کوئی شرعی مانع نہ ہو ترک کرنا ناجائز ہے) امام شافعی نے حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ کی روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا ہے کہ احد کے شہداء میں سے دو دو کو رسول اللہ ایک کپڑے میں جمع کرکے فرماتے تھے ان دونوں میں قرآن کس کو زیادہ یاد تھا ؟ جب ایک کی طرف اشارہ کردیا جاتا تو آپ اس کو لحد میں پہلے اترواتے۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا : کہ میں قیامت کے دن ان سب کا گواہ رہوں گا۔ پھر آپ ﷺ نے سب کو انہی کے کپڑوں میں دفن کرنے کا حکم دیدیا اور ان کی نماز نہیں پڑھی نہ ان کو غسل دیا گیا۔ (رواہ البخاری والنسائی وابن ماجہ و ابن حبان) حضرت انس ؓ کی بھی روایت ہے کہ احد کے دن رسول اللہ نے دو دو تین تین آدمیوں کو ایک ہی کپڑے کا کفن دلوایا اور ان کو دفن کرایا اور ان کی نماز نہیں پڑھی۔ (رواہ احمد وابو داؤد والترمذی والحاکم) ترمذی نے اس حدیث کو حسن اور حاکم نے صحیح کہا ہے مگر بخاری نے اس کو معلل قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ اسامہ بن زید کی روایت عن زہری عن انس غلط ہے۔ بخاری نے مذکورہ بالا حضرت جابر کی روایت کو ترجیح دی ہے۔ امام شافعی کی دلیل کا جواب یہ ہے کہ شاید رسول اللہ نے شہداء احد کی نماز اس لیے نہ پڑھی ہو کہ آپ خود زخمی ہوگئے تھے اور دندان مبارک بھی شہید ہوگیا تھا بہت ممکن ہے دوسروں نے پڑھی ہو اس احتمال کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو ابو داؤد نے مراسیل میں اور حاکم اور طحاوی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کی ہے کہ رسول اللہ حضرت امیرحمزہ کی طرف سے گذرے آپ ﷺ کی میت کو مثلہ کردیا گیا تھا۔ حضور ﷺ نے حضرت حمزہ کے علاوہ (احد کے دن) اور کسی شہید کی نماز نہیں پڑھی۔ طحاوی کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : میں قیامت کے دن تمہارا سب کا گواہ ہوں گا۔ ایک شبہ یہ حدیث دار قطنی نے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ سوائے عثمان بن عمرو کے اور کسی راوی نے یہ آخری جملہ (کہ حمزہ کے علاوہ اور کسی شہید کی نماز نہیں پڑھی) نہیں بیان کیا پس یہ زیادتی (حدیث میں) محفوظ نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ عثمان سے تخریج حدیث صحیحین (بخاری و مسلم) میں کی گئی ہے۔ (معلوم ہوا کہ عثمان ثقہ ہے) اور ثقہ اگر حدیث میں کچھ زیادہ بیان کرے تو قابل قبول ہے۔ طحاوی نے لکھا ہے کہ اگر شہید کی نماز نہ پڑھنا سنت ہوتا تو رسول اللہ حضرت حمزہ کی نماز نہیں پڑھتے حالانکہ آپ کے شرف و فضل سے حضور ﷺ نے آپ کی میت کی نماز پڑھی البتہ دوسروں کی نہیں پڑھی کیونکہ حضور کو خود (زخموں کا) دکھ تھا۔ پھر نماز نہ پڑھنے کی احادیث کے خلاف مختلف صحابہ سے متعدد احادیث آئی ہیں۔ مثلاً حضرت جابر کی حدیث میں آیا ہے کہ جب لوگ لڑائی سے (واپس) آئے تو رسول اللہ نے حمزہ کو نہ پایا۔ ایک شخص کا بیان ہے کہ میں نے اس درخت کے پاس آپ ﷺ کو دیکھا جب حمزہ ؓ پر آپ کی نظر پڑی اور ان کو مثلہ کئے ہوئے دیکھا تو چیخ پڑے اور رو دیئے۔ ایک انصاری نے اٹھ کر حضرت حمزہ پر چادر ڈال دی پھر میت کو لایا گیا اور آپ نے اس کی نماز پڑھی پھر دوسرے شہداء کو لا کر حمزہ کے برابر رکھ دیا گیا اور آپ ﷺ نے ان کی نماز پڑھی پھر دوسرے شہداء کو اٹھایا جانے لگا لیکن حمزہ کو (وہیں) چھوڑ دیا گیا آخر تمام شہداء کی نماز حضور ﷺ نے پڑھی اور فرمایا : قیامت کے دن اللہ کے نزدیک حمزہ سیّد الشہداء ہوں گے۔ اس حدیث کو حاکم نے نقل کرکے صحیح الاسناد کہا ہے مگر اس کی سند میں ایک شخص مفضل بن صدقہ ابو حماد حنفی ہے جس کو بعض لوگوں نے متروک کہا ہے اور نسائی و یحییٰ نے بھی اس کو ضعیف قرار دیا ہے لیکن اہوازی کا بیان ہے کہ عطاء بن مسلم اس کو ثقہ جانتے تھے اور احمد بن محمد بن شعیب اس کی پوری پوری تعریف کرتے تھے اور ابن عدی نے کہا کہ مجھے اس میں کوئی خرابی نظر نہیں اتی۔ بہر حال یہ حدیث حسن کے درجے سے گری ہوئی نہیں ہے۔ ایک حدیث حضرت ابن عباس کی روایت سے آئی ہے کہ رسول اللہ کے حکم پر حضرت حمزہ (کی میت) کو چادر سے ڈھانک دیا گیا اور آپ ﷺ نے ان کی نماز سات تکبیروں کے ساتھ پڑھی پھر دوسرے شہداء کو لا کر حضرت حمزہ کے برابر رکھا جانے لگا اور حضور ﷺ شہداء کی اور ان کے ساتھ حضرت حمزہ کی نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ حمزہ کی نماز بہتر مرتبہ پڑھی۔ یہ حدیث ابن اسحاق نے نقل کی ہے اور صراحت کی ہے کہ مجھ سے یہ حدیث ایک ایسے شخص نے بیان کی جس کو میں (کذب سے) متہم نہیں کرتا اور اس سے حضرت ابن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام مقسم نے بیان کی اور مقسم سے حضرت ابن عباس نے اس کو بیان کیا۔ مقدمۂ مسلم میں عن شعبۃ عن الحسن بن عمارۃ عن الحکم عن مقسم عن ابن عباس سے منقول ہے کہ رسول اللہ نے شہداء احد کی نماز پڑھی۔ لیکن میں نے حکم سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حضور نے شہداء احد کی نماز نہیں پڑھی۔ سہیلی نے کہا کہ حسن بن عمارہ ضعیف ہے۔ حافظ نے لکھا ہے کہ یہ حدیث حاکم اور ابن ماجہ اور طبرانی اور بیہقی سب نے یزید بن زیاد کی وساطت سے بروایت مقسم عن ابن عباس بیان کی ہے حافظ نے کہا کہ یزید میں کسی قدر ضعف ہے۔ ابن جوزی نے کہا اس کو پھینک دو ۔ بخاری نے کہا یہ منکر الحدیث ہے۔ نسائی نے کہا یہ متروک ہے۔ حضرت ابن مسعود کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث آئی ہے کہ رسول اللہ نے حمزہ کی سترّ نمازیں پڑھیں۔ (رواہ احمد) یہ حدیث بھی ضعیف ہے مگر ابن ہمام نے کہا ہے کہ حسن کے درجہ سے گری ہوئی نہیں ہے۔ ایک حدیث ابو مالک غفاری (تابعی) کی روایت کردہ ہے جس کی تخریج ابو داؤد نے مراسیل میں کی ہے کہ رسول اللہ نے شہداء احد کی دس دس کی نماز (یکجائی) پڑھی اور ہر دس میں حمزہ (کا جنازہ) شامل تھا یہاں تک کہ حمزہ کی سترّ نمازیں پڑھیں۔ حافظ نے کہا اس حدیث کے راوی ثقات ہیں اور ابن مالک تابعی تھے جن کا نام غزوان تھا۔ امام شافعی نے اس حدیث کو معلل قرار دیا ہے کیونکہ اس کے مضمون میں خود باہم ٹکراؤ ہے کیونکہ شہداء ستر تھے جب دس دس کی ٹولی کی نما پڑھی تو کل سات نماز ہوئیں (ستر کیسے ہوئیں) شافعی کے اس اعتراض کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ حدیث کا مطلب (یہ نہیں ہے کہ دس دس کی ٹولی کی سترّ نمازیں پڑھیں بلکہ) یہ ہے کہ ستر آدمیوں کی نمازیں پڑھیں اور ہر ایک کی نماز میں حمزہ کی میت کی نماز شامل تھی۔ ان احادیث کے اجتماع سے اتنا ثابت ہوتا ہے کہ شہداء کی نماز پڑھی گئی۔ مذکورہ بالا احادیث مختلفہ میں تطبیق اس طرح دی جائے گی کہ جس حدیث میں شہداء احد کی نماز پڑھنا مذکور ہے اس میں نماز پڑھنے کی نسبت رسول اللہ کی طرف مجازی ہے یعنی آپ ﷺ نے نماز پڑھنے کا حکم دیا (خود نہیں پڑھی) اور جس حدیث میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شہداء احد کی نماز نہیں پڑھی تو یہ کلام حقیقی ہے یعنی خود نہیں پڑھی اور جس روایت میں تفصیل آئی ہے کہ حضرت حمزہ ؓ کی نماز حضور ﷺ نے پڑھی دوسروں کی نہیں تو یہ واقعہ کا صحیح بیان ہے۔ اس موضوع کی ایک حدیث وہ ہے جو نسائی اور طحاوی نے شداد بن ہاد کی روایت سے مرسلاً بیان کی ہے کہ ایک اعرابی خدمت گرامی میں حاضر ہوا اور ایمان لا کر حضور ﷺ کر پیرو بن گیا اور عرض کیا : میں حضور ﷺ کے ہمرکاب ہجرت کروں گا رسول اللہ نے اس کی نگہداشت ایک صحابی کے سپرد کردی اس کے بعد کوئی جہاد ہوا جس میں رسول اللہ کو کچھ چیزیں مال غنیمت کی ملیں آپ ﷺ نے وہ مال تقسیم کیا تو اس اعرابی کا بھی حصہ دیا۔ اس حدیث میں آیا ہے کہ اعرابی نے عرض کیا : میں نے آپ ﷺ کی پیروی اس غرض کے لیے نہیں کی بلکہ اپنے حلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے (کہا) اس لیے کی ہے کہ اس جگہ میرے تیر لگے اور میں مرجاؤں اور جنت میں چلا جاؤں۔ اس حدیث (کے آخر) میں ہے کہ اس شخص کو (شہید ہونے کے بعد) اٹھا کر رسول اللہ کے پاس لا یا گیا اور جس جگہ اس نے اشارہ کیا وہیں اس کے تیر لگا تھا۔ رسول اللہ نے فرمایا : کیا وہی ہے ؟ وہی صحابہ نے عرض کیا : جی ہاں۔ حضور ﷺ نے اس کو آگے رکھا اور اس کی نماز پڑھی اور نماز میں جو الفاظ ظاہر طور پر فرمائے تھے وہ یہ تھے اے اللہ یہ تیرا بندہ تیری راہ میں ہجرت کرکے نکلا تھا اور شہید ہوگیا میں اس کی شہادت دیتا ہوں۔ یہ حدیث مرسل ہے اور ہمارے نزدیک مرسل حدیث بھی حجت (کسی مسئلہ کی محکم دلیل) ہے۔ فصل بخاری وغیرہ نے حضرت عقبہ بن عامر کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ نے شہداء احد کی نماز آٹھ برس کے بعد یعنی اپنی وفات سے کچھ پہلے پڑھی۔ بیہقی نے اس حدیث میں لفظ صلوٰۃ سے دعا مراد لی ہے (یعنی حضور ﷺ نے آٹھ برس کے بعد شہداء احد کے لیے دعا کی) مگر یہ تاویل لغو ہے کیونکہ آٹھ برس کے بعد دعا صرف ایک بار کی ہو یہ قطعاً لغو ہے بلکہ طحاوی وغیرہ کی بعض روایات میں ان الفاظ کے ساتھ یہ حدیث آئی کہ ایک روز رسول اللہ نے باہر نکل کر احد والوں کی نماز ایسی پڑھی جیسی میت کی نماز ہوتی ہے۔ اگر شبہ کیا جائے کہ احناف کے نزدیک تو تین روز کے بعد میت کی نماز جائز ہی نہیں ہے (اور مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ آٹھ برس بعد کا ہے پھر حنفیہ کے پاس اس کا کیا جواب ہے) تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ چونکہ تین روز کے اندر قبر میں مردہ پھٹ جاتا ہے (اور اس کا بدن اپنی ہیئت ترکیبی پر نہیں رہتا) اس لیے حنفیہ تین روز کے بعد جنازہ کی نماز کی اجازت نہیں دیتے لیکن شہید کے متعلق تو ثابت ہوچکا ہے کہ اس کو زمین نہیں کھاتی اور وہ ہمیشہ ویسا ہی رہتا ہے جیسا دفن کے دن ہوتا ہے ا سلیے اس کی نماز (خواہ کتنی ہی مدت کے بعد ہو) جائز ہے اور اس کی صحت رسول اللہ سے منقول ہے (پھر انکار کی کوئی وجہ نہیں) ۔ فریانی، نسائی اور طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ جب مشرک احد سے واپس چلے گئے تو آپس میں کہنے لگے تم نے بڑی غلطی کی نہ محمد کو قتل کرسکے نہ نوجوان عورتوں کو (لوٹ کر) اپنی پشت کے پیچھے سوار کرکے لائے اب لوٹ پڑو۔ رسول اللہ نے یہ بات سنی تو مسلمانوں کو بلوایا سب نے دعوت پر لبیک کہی (اور حاضر ہوگئے ) ۔۔ محمد بن عمرو کی روایت ہے کہ جب سنیچر کے دن 15 تاریخ کو احد سے لوٹے تو دشمن کے لوٹ پڑنے کا اندیشہ سے خزرج اور اوس کے سرداروں نے حضور ﷺ کے دروازہ پر ہی رات گذاری 16 تاریخ اتوار کے دن کی فجر نکلی تو بلال نے اذان دی اور حضور ﷺ کا انتظار کرنے لگے۔ حضور ﷺ برآمد ہوئے تو ایک مزنی شخص نے اطلاع دی کہ مشرک جب روحاء پر پہنچے تو ابو سفیان نے کہا (مدینہ کو) لوٹ چلو تاکہ جو لوگ باقی رہ گئے ہیں ہم ان کا جڑ سے صفایا کردیں۔ صفوان بن امیہ نے انکار کردیا اور کہنے لگا لوگو ! ایسا نہ کرو وہ لوگ شکست کھاچکے ہیں اب مجھے اندیشہ ہے کہ خزرج کے جو لوگ رہ گئے تھے وہ تمہارے خلاف جمع ہوجائیں گے اگر لوٹ کر جاؤ گے تو مجھے خطرہ ہے کہ کہیں تمہاری فتح شکست سے نہ بدل جائے لہٰذا (مکہ کو ہی) واپس چلو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : صفوان سیدھے راستہ پر تو نہیں ہے مگر اس رائے میں وہ سب سے زیادہ صائب تھا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ان لوگوں پر برسنے کے لیے تو (غیبی) پتھر نامزد کردیئے گئے تھے اگر وہ لوٹ پڑتے تو گذرے ہوئے دن کی طرح گئے گذرے ہوجاتے (ان کا نشان بھی باقی نہ رہتا) پھر رسول اللہ نے حضرت ابوبکر ؓ و حضرت عمر ؓ کو بلوایا اور اس خبر کا تذکرہ ان سے کیا دونوں نے جواب دیایا رسول اللہ دشمن کا تعاقب کیجئے کہیں وہ ہمارے بال بچوں پر سر نہ اٹھائیں۔ اس مشورہ کے بعد رسول اللہ نے بلال کو حکم دیا کہ منادی کردو کہ رسول اللہ دشمن کا تعاقب کرنے کا تم کو حکم دیتے ہیں لیکن ہمارے ساتھ آج وہی لوگ نکلیں جو کل لڑائی میں حاضر تھے۔ اسید بن حضیر جن کے نو زخم لگے تھے اور وہ ان کا علاج کرنا چاہتے تھے اس نداء کو سن کر بولے بسرو چشم ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر حاضر ہیں۔ حضرت اسید زخموں کے علاج کی طرف مائل بھی نہ ہوئے (اور حاضر ہوگئے) خاندان بنی سلمہ کے چالیس زخمی نکل کھڑے ہوئے طفیل بن نعمان کے تیرا (13) زخم لگے تھے خراش بن صمہ کو دس (10) ، کعب بن مالک کو کچھ اوپر دس (10) اور عطیہ بن عامر کو نو (9) ۔ غرض مسلمانوں نے اپنے زخموں کے علاج کی طرف توجہ بھی نہ کی اور دوڑ کر اسلحہ اٹھا لئے۔ ابن عقبہ راوی ہیں کہ عبد اللہ بن ابی نے عرض کیا : یارسول اللہ میں حضور کے ہم رکاب چلوں ؟ فرمایا : نہیں۔ ابن اسحاق اور محمد بن عمر راوی کی روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ نے حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ کے منادی نے ندا کی ہے کہ صرف وہی لوگ ہمارے ساتھ آج نکل کر چلیں جو کل جنگ میں شریک تھے میرا قصہ یہ ہے کہ میں جنگ میں شریک ہونے کا بڑا خواہشمند تھا لیکن میرے والد نے مجھے اپنی جگہ میری سات یا نو بہنوں کا نگراں مقرر کیا تھا اور کہا تھا کہ ان عورتوں کو بغیر کسی مرد کی سرپرستی کے یونہی چھوڑ جانا نہ تیرے لیے مناسب ہے نہ میرے لیے اور میں رسول اللہ کے ساتھ جہاد پر جانے کے لیے تجھے اپنے اوپر ترجیح نہیں دے سکتا شاید اللہ مجھے شہادت نصیب فرما دے۔ (تو میری جگہ تو ان کی نگرانی رکھے گا) اور میں شہادت کی تمنا رکھتا ہوں۔ اس مجبور کی وجہ سے میں لڑ کیوں کا نگراں ہو کر شرکت جہاد سے رہ گیا اور باپ مجھے نگراں چھوڑ کر شہید ہوگئے۔ اب یا رسول اللہ مجھے اپنے ہمرکاب جانے کی اجازت دیدیجئے۔ اس درخواست پر رسول اللہ نے جابر کو اجازت دیدی حضرت جابر کا بیان ہے بہت سے ان لوگوں نے جو گذشتہ دن جہاد میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ رسول اللہ سے اس روز نکلنے کی درخواست کی مگر حضور نے انکار کردیا اور گذشتہ دن کے غیر حاضروں میں سے سوائے میرے کوئی نہ جاسکا۔ ابن اسحاق اور ان کے متبعین کا بیان ہے کہ رسول اللہ دشمن کو ڈرانے کے لیے تعاقب میں نکلے تھے تاکہ ان کو اطلاع پہنچ جائے کہ رسول اللہ ان کے تعاقب میں نکلے ہیں اور مسلمانوں میں قوت ہے اور گذشتہ دن کی شکست دشمن کے مقابلہ سے ان کو کمزور نہیں بنا سکی چناچہ رسول اللہ سترّ آدمیوں کو ساتھ لے کر مدینہ سے نکلے ان لوگوں میں حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت سعد، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ بن یمان ؓ اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ بھی شامل تھے۔ مدینہ سے نکل کر حمراء الاسد کے مقام پر پہنچے یہ مقام مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلہ پر راستہ سے بائیں ہاتھ کو ذوالحلیفہ جاتے ہوئے پڑتا ہے سعد بن عبادہ ؓ نے تیس اونٹ سواری کے لیے دیئے تھے اور کچھ جانور ذبح کرنے کے لیے اس جگہ پہنچ کر پیر کے دن 17 تاریخ کو اور منگل کے دن 18 تاریخ کو اونٹ ذبح کئے گئے ( اور قیام کیا گیا) دن میں لکڑیاں جمع کرنے کا حضور ﷺ نے حکم دیدیا تھا۔ شام ہوئی تو آگ جلانے کا حکم دیا۔ حسب الحکم ہر شخص نے آگ روشن کی اور کل پانچ سو جگہ آگ روشن کی گئی (تاکہ کافروں کو دور سے دیکھ کر مسلمانوں کی کثرت محسوس ہوئی۔ معبد خزاعی جو اس زمانہ میں مشرک تھا، لیکن ابو عمرو اور ابن جوزی نے اس کے مسلمان ہونے کی قطعی صراحت کی ہے۔ رسول اللہ سے ملا اور بنی خزاعہ کے مسلمان اور کافر سب تہامہ میں رسول اللہ سے میل جول رکھتے تھے حضور ﷺ سے ان کا معاہدہ تھا وہ تہامہ کی کوئی بات رسول اللہ سے پوشیدہ نہیں رکھتے تھے۔ معبد خزاعی نے کہا محمد ﷺ جو مصیبت آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کے ساتھیوں پر پڑی اس کا ہم کو بڑا دکھ ہوا ہماری دلی خواہش تھی کہ اللہ (اس سے) آپ کو بچائے رکھتا اس کے بعد یہاں سے نکل کر معبد ابو سفیان کے پاس روحاء میں پہنچا مشرکوں نے لوٹ کر رسول اللہ پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے بڑے بڑے ساتھیوں اور لیڈروں کو ہم ختم کرچکے ہیں اب لوٹ کر باقی لوگوں پر حملہ کرکے ان کی طرف سے بالکل بےغم ہوجائیں گے۔ ابو سفیان نے جو معبد کو دیکھا تو پوچھا ادھر کی کیا خبر ہے ؟ معبد نے کہا محمد ﷺ اور ان کے ساتھی اتنی بڑی فوج لے کر تمہارے تلاش میں نکلے ہیں کہ اتنی فوج میں نے کبھی نہیں دیکھی وہ تم پر دانت پیس رہے ہیں جو لوگ اس روز جنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے وہ اب ان کے ساتھ اکٹھے ہوگئے ہیں اور اپنی گذشتہ حرکت پر پشیمان ہیں ان کے اندر تمہاری اوپر اتنا شدید غصہ ہے کہ میں نے کبھی ایسا غصہ نہیں دیکھا ابو سفیان نے کہا ارے تیرا برا ہو کیا کہہ رہا ہے معبد نے کہا خدا کی قسم میرے خیال میں تم کوچ کرنے بھی نہ پاؤ گے کہ گھوڑوں کی پیشانیاں تم کو نظر آجائیں گی۔ ابو سفیان نے کہا خدا کی قسم ہم تو یہ فیصلہ کرچکے تھے کہ لوٹ کر ان پر حملہ کردیں تاکہ ان کے باقی لوگوں کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ معبد نے کہا میں تم کو اس حرکت سے روکتا ہوں معبد کے اس قول نے صفوان کے مشورہ کے ساتھ مل کر ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کا رخ موڑ دیا اور تعاقب کے ڈر سے وہ جلد جلد لوٹ پڑے۔ اسی اثنا میں ابو سفیان کی طرف سے عبد القیس کے کچھ سوار گزرے ابو سفیان نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے ؟ سواروں نے کہا مدینہ کو غلہ لینے جا رہے ہیں ابوسفیان نے کہا کیا تم محمد کو میری طرف سے ایک پیام پہنچا دو گے اگر تم اس کام کو پورا کردو گے تو میں کل عکاذ میں تمہارے اونٹوں پر کشمش لادوں گا سواروں نے کہا ہاں ابو سفیان نے کہا جب تم محمد ﷺ کے پاس پہنچو تو اس کو اطلاع دیدینا کہ ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ محمد اور اس کے ساتھیوں پر حملہ کریں گے تاکہ جو لوگ باقی رہ گئے ہیں ان کی بیخ کنی کردیں۔ یہ پیام بھیجنے کے بعد ابو سفیان مکہ کو چلا گیا اور سواروں نے جا کر مقام حمراء الاسد میں رسول اللہ کو یہ اطلاع دیدی رسول اللہ نے فرمایا : حسبنا اللہ و نعم الوکیل رسول اللہ نے اس جگہ 17‘ 18 اور 19 یعنی پیر منگل اور بدھ تک قیام کیا اور اللہ نے آیت ذیل نازل کی۔
Ayah 3:172

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

جنہوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا اور رسول (کے حکم) کو قبول کیا جو لوگ ان میں نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے بڑا ثواب ہے

الذین استجابو اللہ والرسول الذینمفعول ہے اَمْدَحُ فعل محذوف ہے یا مبتدا ہے اور آئندہ جملہ خبر ہے یا المؤ منین کی صفت ہے یعنی جن لوگوں نے اللہ اور رسول کی دعوت جہاد کو قبول کیا یا ایسے مؤمن جنہوں نے اللہ اور رسول کی دعوت جہاد کو لبیک کہا۔ من بعد ما اصابھم القرح جنگ احد میں زخموں کی تکلیف پہنچنے کے بعد۔ للذین احسنوا منھم واتقوا اجر عظیم ان میں سے جس نے نیک اعمال کیے اور تقویٰ اختیار کیا اس کے لیے بڑا اجر ہے۔ احسان اور تقویٰ کا ذکر بطور قید (یعنی بطور وصف تقیدی) نہیں ہے کیونکہ دعوت جہاد کو قبول کرنے والے سب ہی نیکو کار اور متقی تھے بلکہ ان دونوں کا ذکر بطور مدح ہے اور اجر عظیم ملنے کی علت کو ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ (1) [ شیخ عبد القاہر جرجانی نے ذکر کیا ہے کہ علامۂ تفتازائی نے اس کو نقل بھی کیا ہے کہ اگر کسی کلام میں کسی صفت پر کوئی حکم مرتب کیا جائے تو وہ صفت اس حکم کی علت ہوتی ہے۔ اس آیت میں اجرعظیم کا حکم صفت احسان وتقویٰ پر مرتب کیا گیا ہے اس لیے یہ دونوں وصف اجرم عظیم کے استحقاق کی علت ہیں۔ (مترجم)] مجاہد اور عکرمہ نے اکثر اہل تفسیر کے خلاف صراحت کی ہے کہ اس آیت کا نزول غزوہ بدر صغرٰی کے متعلق ہوا جس کی تفصیل یہ ہے کہ احد سے واپسی کے وقت ابو سفیان نے کہا محمد اگر تم کو منظور ہو تو آئندہ سال بدر صغریٰ پر ہمارا تمہارا مقابلہ ہوگا۔ رسول اللہ نے فرمایا : انشاء اللہ ہمارے تمہارے درمیان یہی ہوگا 2 ؂۔ اگلے سال ابو سفیان مکہ سے قریش کو لے کر چلا کل تعداد دو ہزار تھی جن میں پچاس سوار تھے مکہ سے نکل کر مرا الظہران کے اطراف میں بمقام مجنہ اس نے پڑاؤ کیا یہاں پہنچ کر اللہ نے اس کے دل میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیا اور واپس ہوجانے کا خیال پیدا ہوگیا نعیم بن مسعود اشجعی عمرہ کرنے کے لیے آیا ہوا تھا (مجنہ میں) ابو سفیان سے اسکی ملاقات ہوئی ابو سفیان نے اس سے کہا نعیم میں نے محمد اور اس کے ساتھیوں کو چیلنج تو کردیا تھا کہ آئندہ ہمارا تمہارا مقابلہ بدر صغریٰ کے میلہ میں ہوگا مگر یہ خشکی کا سال ہے اور ہمارے لیے جنگ اسی سال مناسب ہے جب ہم جانوروں کو سبزہ چرائیں اور خود دودھ پئیں اب میری رائے یہ ہوگئی کہ بدر صغریٰ کو نہ جاؤں لیکن یہ امر بھی مناسب نہیں کہ میں وہاں نہ جاؤں اور محمد ﷺ پہنچ جائیں اس سے مسلمانوں کی جرأت بڑھ جائے گی۔ میری طرف سے چیلنج کی خلاف ورزی سے یہ بہتر ہے کہ محمد ﷺ کی طرف سے خلاف وزری ہو لہٰذا تم مدینہ پہنچ کر مسلمانوں کو روک دو اور ان سے جا کر یہ کہو کہ ابو سفیان کے پاس بہت فوج ہے تم میں اس کے مقابلہ کی طاقت نہیں ہے اگر تم اس خدمت کو انجام دیدو گے تو میں تم کو دس اونٹ دوں گا جو سہیل بن عمرو کے پاس بطور ضمانت جمع کرا دوں گا۔ چناچہ سہیل اونٹوں کا ضامن ہوگیا اور نعیم مدینہ پہنچ گیا۔ وہاں لوگ ابو سفیان کے چیلنج کی تیاری کر رہے تھے نعیم نے پوچھا تم لوگوں کا کہاں کا ارادہ ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا بدر صغریٰ کے میلہ کے موقع پر ہم نے ابو سفیان سے لڑنے کا معاہدہ کیا ہے نعیم نے کہا تمہاری رائے بری ہے وہ تمہارے گھروں میں اور تمہارے مستقر پر آئے تھے تو تم میں سے سوائے بھگوڑے کے اور کوئی بچ نہ سکا اب خود نکل کر (چڑھائی کرکے) جانا چاہتے ہو وہ بھی تمہارے مقابلہ کیلئے بدر صغریٰ کے موقع پر جمع ہوگئے خدا کی قسم (اگر تم وہاں گئے تو) تم میں سے کوئی نہیں بچے گا۔ بعض صحابہ کو یہ تقریر سن کر مدینہ سے نکلنا مناسب نہیں معلوم ہوا اور منافقوں اور یہودیوں کو بڑی خوشی ہوئی اور کہنے لگے محمد ﷺ اس گروہ سے نہیں بچ سکیں گے یہ اطلاع رسول اللہ کو بھی پہنچ گئی اور آپ کو اندیشہ ہوا کہ (شاید) کوئی نہ جائے۔ حضرت ابوبکر ؓ و حضرت عمر ؓ بھی یہ بات سن چکے تھے دونوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ بلاشبہ اللہ اپنے دین کو پھیلانے والا اور اپنے نبی کو غالب کرنے والا ہے ہم ان لوگوں سے معاہدہ کرچکے ہیں اب اس سے ہٹنا نہیں چاہتے آپ ﷺ وقت مقرر پر چلئے بخدا یہی بہتر ہے۔ رسول اللہ کو اس تقریر سے خوشی ہوئی اور فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ضرور جاؤں گا خواہ کوئی میرے ساتھ نہ جائے۔ چنانچہ آپ صحابہ کو لے کر نکل کھڑے ہوئے اور بدر صغریٰ پر پہنچ گئے وہاں مشرکوں سے قریش کے احوال دریافت کئے مشرک مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے کہتے تھے کہ قریش نے تمہارے مقابلہ کے لیے (بہت آدمی) جمع کئے ہیں مسلمان اس کے جواب میں کہتے تھے : حسبنا اللہ و نعم الوکیل جاہلیت کے زمانہ میں بدر کے مقام پر میلہ لگتا تھا لوگ جمع ہوتے تھے یکم ذیقعد سے آٹھ ذیقعد تک رہتا تھا آٹھویں تاریخ گذرنے کے بعد میلہ اکھڑتا تھا اور لوگ اپنے اپنے شہروں کو چلے جاتے تھے رسول اللہ ﷺ ٹھہر کر ابو سفیان کا انتظار کرنے لگے ابو سفیان مجنہ سے ہی لوٹ کر مکہ کو چلا گیا اور رسول اللہ نیز صحابہ سے کسی مشرک کا مقابلہ نہیں ہوا مسلمان بازار میں ٹھہرے رہے ان کے پاس کچھ تجارتی مال اور سودے بھی تھے جن کو بیچ کر انہوں نے ایک کے دو کئے اور مدینہ کو صحیح سالم نفع کما کر لوٹے اس وقت آیت : الذّین استجابوا اللہ۔۔ نازل فرمائی۔ صحیح اوّل قول ہے معمول بخاری بھی اسی کا مقتضی ہے اور ابن جریر نے بھی اسی کی تائید کی ہے میں کہتا ہوں آیت کی رفتار بھی اسی کی مؤید ہے کیونکہ آیت میں من بعد مَا اصابھم القرح آیا ہے اور مسلمانوں کی تعریف اس بنا پر کی ہے کہ زخمی ہونے اور زخموں کا دکھ پانے کے ساتھ ساتھ وہ جہاد کو نکلے اور اللہ و رسول کی دعوت کو قبول کیا اور ظاہر ہے کہ ایسا (اُحد کے بعد ہی) حمراء الاسد کے غزوہ میں ہوا۔ بدر صغریٰ کا غزوہ تو ایک سال بعد کو ہوا تھا جبکہ لوگ تندرست اور صحیح سالم ہوچکے تھے اگر یہ کہا جائے کہ غزوہ بدر صغریٰ بھی احد کے بعد ہوا تھا خواہ ایک سال بعد کو ہوا مگر ہوا بعد ہی کو اس لیے آیت کا مطلب صحیح ہے یعنی متصل بعدیت کی ضرورت نہیں تو میں کہتا ہوں پھر بدر صغریٰ کا غزوہ مراد لینے ہی کی کیا وجہ ہے اور کیوں غزوۂ خندق اور بعد کو آنے والے تمام غزوات پر آیت کو محمول نہ کیا جائے یہ بھی تو احد کے بعد ہی ہوئے تھے۔ وا اللہ اعلم
Ayah 3:173

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

(جب) ان سے لوگوں نے آکر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے (مقابلے کے) لئے لشکر کثیر) جمع کیا ہے تو ان سے ڈرو۔ تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا۔ اور کہنے لگے ہم کو خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے

الذین قال لھم الناس اگر اس آیت اور پہلی آیت کا نزول ساتھ مانا جائے تو یہ الذین گذشتہ الذین استجابوا سے بدل ہوگا اور اگر دونوں کا نزول یکے بعد دیگرے اور جدا جدا مانا جائے تو یہ الذین یا امْدَحُ فعل محذوف کا مفعول ہے یا مبتدا محذوف کی خبر ہے یعنیھم الذینیا مبتدا ہے اور فانقلبوا خبر ہے۔ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک الناس سے مراد عبد القیس کے وہ شتر سوار ہیں جو ابو سفیان کی طرف سے اس وقت خدمت گرامی میں پہنچے تھے جب آپ حمراء الاسد میں تھے۔ مجاہد اور عکرمہ کے نزدیک الناس سے مراد نعیم بن مسعود اشجعی ہے جو ابو سفیان اور اس کے مشرک ساتھیوں کی خبر لے کر مدینہ میں اس وقت پہنچا تھا جب رسول اللہ، غزوۂ بدر صغریٰ کی تیاری میں مصروف تھے اور الناس میں الف لام جنسی ہے نعیم بن مسعود بھی انسانوں کی جنس سے تھا اس لیے الناس کہا گیا جیسے : زَیدٌ یرکب الخیل زید گھوڑوں پر سوار ہوتا ہے محاورہ ہے حالانکہ زید کے پاس ایک ہی گھوڑا ہوتا ہے یا یوں کہا جائے کہ نعیم کے ساتھ کچھ مدینہ کے آدمی بھی مل گئے اور انہوں نے اس کے کلام کو پھیلایا تھا یہ سب لوگ مراد ہیں۔ میرے نزدیک ظاہریہ ہے کہ اس آیت کا نزول بدر صغریٰ کے غزوہ کے متعلق ہوا اور الناس سے مراد نعیم بن مسعود ہے اور پہلی آیت غزوہ حمراء الاسد کے متعلق نازل ہوئی تھی اور ان دونوں کے درمیان ایک سال کا فصل تھا۔ نزول آیت بدر صغریٰ کے متعلق دعوے کا ثبوت یہ ہے کہ آیت : ان الناس قد جمعوا لکم دلالت کر رہی ہے کہ مشرکوں کے جتھے کی یہ بھرتی پہلے نہیں تھی اب ہوئی ہے اور اس حدوث جمعیت کا تصور صرف بدر صغریٰ کے لیے کیا جاسکتا ہے جہال جمع ہو کر لڑنے کے لیے آنے کا وعدہ کیا گیا تھا رہا احد کے بعد مدینہ کی طرف رخ کرنے کا ارادہ تو اس کے لیے کسی جدید اجتماع کی ضرورت نہیں تھی سب مشرک تو پہلے ہی سے جمع تھے۔ پھر جمعوا لکم کہنے کی کوئی وجہ نہیں امام رازی کے قول سے بھی ہماری اس کی تشریح کی تائید ہوتی ہے کیونکہ امام نے لکھا ہے کہ اللہ نے مؤمنوں کی تعریف دو غزو وں میں شریک ہونے کی بنا پر کی ایک غزوہ حمراء الاسد جس کا ذکر پہلی آیت میں کیا گیا ہے اور دوسرا غزوہ بدر صغریٰ جس کا بیان اس آیت میں ہے۔ وا اللہ اعلم ان الناس قد جمعوا لکم کہ لوگوں نے یعنی ابو سفیان اور دوسرے مشرکوں نے تمہارے مقابلہ کے لیے آدمی اور ہتھیار جمع کئے ہیں۔ فاخشو ھم پس تم لوگ ان سے ڈرتے رہو۔ (یعنی بدر صغریٰ کو جانے کا ارادہ ہی مت کرو مقابلہ سے بچتے رہو۔ فزادھم ایمانا پس اللہ نے یا نعیم کے اس قول نے مسلمانوں کے اندر اور ایمان بڑھا دیا مطلب یہ کہ اس قول کی طرف انہوں نے توجہ ہی نہیں کی نہ ہمت ہارے بلکہ حمایت اسلام کا مظاہرہ کیا اور اس عمل کی وجہ سے اللہ سے قربت بڑھ گئی۔ مراتب بزرگی میں اضافہ ہوگیا اور مرتبہ بلندی کے اضافہ سے ایمان میں بھی ترقی ہوگئی اور جو لوگ ایمان کے گھٹنے بڑھنے کے قائل نہیں ان کی نظر صرف ایمان مجازی پر ہے (یعنی اشاعرہ اور تمام اہل سنت جو ایمان کو کیفیت بسیطہ کہتے ہیں جس کے اندر ایمان کی کمی بیشی نہیں ہوسکتی بلکہ وہ حد فاصل جس سے گرنے کے بعد آدمی حد شرک میں داخل ہوجاتا ہے بسیط ایمان ہے ناقابل تقسیم۔ یہ قول ایمان مجازی کے متعلق ہے ایمان حقیقی بہر حال ترقی کرتا رہتا ہے جتنا مرتبہ قرب بڑھتا ہے اتنا ہی ایمان بڑھتا ہے۔ و قالت حسبنا اللہ اور انہوں نے کہا اللہ ہمارے لیے کافی ہے۔ حَسْبُ مصدر ہے جس کا معنی اسم فاعل کا ہے یعنی مُحْسِبُنَا لفظ مُحْسِبٌ اَحْسَبْ سے مشتق ہے۔ اَحْسَبُہٗ وہ اس کے لیے کافی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جس طرح اسم فاعل مضاف ہونے کے بعد بھی نکرہ ہی رہتا ہے (کیونکہ اضافت لفظیہ مفید تعریف نہیں ہوتی) اسی طرح حَسْبُ بھی اضافت کے بعد نکرہ ہی رہتا ہے کہا جاتا ہے ھذا رَجُلٌ حَسْبُکَ رجل موصوف حسبک صفت) یہ ایسا آدمی ہے جو تیرے لیے کافی ہے۔ و نعم الوکیل وکیل وہ شخص جس کے سپرد کوئی کام کردیا جائے وہ بہت اچھا وکیل ہے (مخلوق کے تمام امور کا وہی ذمہ دار ہے) نعم الوکیل جملہ انشائیہ ہے (کیونکہ افعال مدح و ذم انشاء کی قسمیں ہیں) اس کا عطف حسبنا اللہ پر ہے اور حسبنا اللہ جملہ خبریہ ہے پھر یہ عطف کس طرح صحیح ہوا یہ مسئلہ ائمہ کا اختلافی ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ واؤ عاطفہ جو دونوں جملوں کے درمیان ہے وہ مؤمنین کے کلام کا جزء نہیں ہے بلکہ مؤمنین کے دونوں جملوں کو نقل کرنے والے نے درمیان میں عطف کے لیے بڑھا دیا ہے یعنی مؤمنین نے حسبنا اللہ کہا اور نعم الوکیل بھی کہا۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ واؤ عاطفہ مؤمنین کے کلام کا جزء ہے (یعنی مؤمنوں نے دونوں جملے ملا کر واؤ عاطفہ کے ساتھ کہے) کیونکہ حضرت ابن عباس کا قول مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : حسبنا اللہ و نعم الوکیل اس (ایک) جملہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس وقت کہا تھا جب آپ کو آگ میں ڈالا گیا اور محمد ﷺ نے (اور آپ ﷺ کے صحابہ نے) بھی یہ (جملہ) کہا جبکہ قالوا ان الناس قد جمعوا لکم فاخشوھم فزادھم ایمان و قالوا حسبنا اللہ و نعم الوکیل (یعنی صحابہ ؓ اور رسول اللہ نے بھی یہ جملہ کہا اس کا ثبوت یہ ہے کہ اللہ نے فرمایا : ہے کہ) انہوں نے کہا لوگوں نے تمہارا مقابلہ کرنے کے لیے بہت آدمی اور ہتھیار جمع کئے ہیں لہٰذا تم ان سے ڈرو (اور بدر صغریٰ کو نہ جاؤ) لیکن اس قول نے ان کا ایمان اور بڑھا دیا اور انہوں نے کہا : حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔ (رواہ البخاری) حضرت ابن عباس ؓ نے اپنے کلام میں حسبنا اللہ و نعم الوکیل کی طرف مفرد کی ضمیر راجع کی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں جملے بحیثیت مجموعی حضرت ابراہیم نے کہے تھے اور حرف عاطف دونوں کے درمیان ذکر کیا تھا۔ اگر حرف عاطف کا اضافہ نقل کرنے والے کی طرف سے ہوتا تو حضرت ابن عباس کا کلام اس طرح ہوتا کہ یہ دونوں (جملے) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہے تھے یعنی تثنیہ کی ضمیر ہوتی۔ (اس صورت میں انشاء کا خبر پر عطف ہوگا) پس بعض علماء نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ اوّل جملہ (خبریہ) کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اللہ پر اعتماد کیا اور دوسرے (انشائی) جملہ کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنے امور اللہ کے سپرد کردیئے۔ (یعنی یہ انشائی جملہ خبری جملہ کے معنی میں ہے) میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ جملوں کا باہم کوئی اعرابی محل نہیں۔ خواہ ایک خبری اور دوسرا انشائی ہو۔ بہر حال ایک کا دوسرے پر عطف جائز ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک عورت نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : کہ میرے باپ نے میرا نکاح اپنے بھتیجے سے کرادیا (یہ جملہ خبریہ ہے) اور وہ بڑا اچھا باپ ہے۔ (یہ جملہ انشائیہ ہے) نیز ایک آیت میں آیا ہے : اولءِک جزاء ھم مغفرۃ من ربھم و جنات تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا (یہ کلام خبری ہے) و نعم اجر العاملین (یہ کلام انشائی ہے)
Ayah 3:174

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا۔ اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

فانقلبوا بنعمۃ من اللہ پس وہ لوٹ آئے اللہ کی نعمت کے ساتھ یعنی ایمان ‘ عافیت ‘ مال اور عزت کے ساتھ جس کو ساتھ لے کر مدینہ سے نکلے تھے۔ و فضل اور لوٹ آئے زیادتی کے ساتھ یعنی ثواب کی زیادتی سے ایمان میں ترقی ہوئی اور تجارتی نفع سے مال میں زیادتی ہوئی اور دشمن کی بزدلی سے عزت میں اضافہ ہوا۔ مال کی زیادتی کا تصور اسی وقت ہوسکتا ہے جب غزوہ بدر صغریٰ مراد لیاجائے کیونکہ وہیں پر مسلمانوں نے بازار لگایا اور تجارت کی اور نفع کمایا تھا غزوہ حمراء الاسد میں کوئی تجارت نہیں ہوئی۔ لم یمسسھم سوء کسی دکھ نے ان کو چھوا بھی نہیں۔ یعنی کسی حالت میں کوئی دکھ ان کو نہیں پہنچا نہ زخمی ہونے کا نہ قتل ہونے کا نہ لوٹے جانے کا۔ واتبعوا رضوان اللہ اور وہ اللہ کی خوشنودی (کے راستہ) پر چلے جس پر دونوں جہان کی بھلائی موقوف ہے۔ بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ مسلمانوں نے کہا تھا کیا یہ جہاد ہوگا ؟ اس پر اللہ نے ان کو جہاد کا ثواب عطا فرمایا اور ان سے راضی ہوا۔ وا اللہ ذوفضل عظیم اور اللہ بڑے فضل والا ہے اس میں ان لوگوں کے لیے پیام حسرت ہے جو جہاد میں شریک نہیں ہوئے نیز ان کی غلط رائے کا اظہار ہے۔
Ayah 3:175

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا

انما ذالکم بیشک وہ یعنینعیم یا ابو سفیان الشیطان شیطان ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ ذٰلکم کا اشارہ قول مذکور کی طرف بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں الشیطان سے پہلے مضاف محذوف ہوگا یعنی قول مذکور شیطان کا فعل ہے۔ شیطان نے ان کی زبانوں سے یہ بات کہلوائی ہے تاکہ وہ تم کو خوفزدہ بنادیں اور تم پست ہمت ہوجاؤ۔ یخوف اولیاءہ جو اپنے دوستوں کو ڈراتا ہے یعنی ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو رسول اللہ کے ساتھ جہاد کو نہیں نکلے تھے یا اولیاء سے پہلے حرف جر محذوف ہے یعنی اپنے دوستوں (ابوسفیان کے ساتھیوں) سے تم کو ڈراتا ہے۔ سدی نے یہ مطلب بیان کیا کہ تمہارے دلوں میں اپنے دوستوں کو بڑا کرکے ظاہر کرتا ہے تاکہ تم ان سے ڈر جاؤ۔ فلا تخافوھم پس تم ان سے نہ ڈر و کیونکہ اللہ کے بغیر کسی میں طاقت نہیں ہوسکتی۔ و خافون اور مجھ سے ڈرو کہ کہیں میں ان کو تم پر غالب نہ کردوں جیسے احد کے دن کردیا تھا غلبہ میری طرف سے عطا ہوتا ہے لہٰذا میرے احکام کے خلاف نہ کرو اور میرے رسول کے ساتھ مل کر جہاد کرو۔ ان کنتم مومنین اگر تم ایمان دار ہو کیونکہ ایمان کا یہی تقاضا ہے کہ اللہ سے ڈراجائے اور اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ کیا جائے۔ رسول اللہ نے فرمایا : اگر مانگو تو اللہ سے مانگو اور مدد چاہو تو اللہ سے چاہو اور جان رکھو کہ اگر سب لوگ مل کر تم کو نفع پہنچانا چاہیں گے تو بس اتنا ہی پہنچائیں گے جتنا اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے اور اگر سب مل کر تم کو کچھ ضرر پہنچانا چاہیں گے تو بس اتناہی پہنچائیں گے جو اللہ نے تمہارے لیے مقدر کردیا ہے قلم اٹھا لیے گئے اور کاغذ خشک ہوگئے۔ (رواہ الترمذی عن ابن عباس ؓ
Ayah 3:176

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

اور جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں ان (کی وجہ) سے غمگین نہ ہونا۔ یہ خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے خدا چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کو کچھ حصہ نہ دے اور ان کے لئے بڑا عذاب تیار ہے

و لا یحزنک اور تم کو رنجیدہ نہ کردیں جمہور کی قراءت یہی ہے۔ نافع کے نزدیک سارے قرآن میں سوائے سورة انبیاء کے یہ لفظ باب افعال سے آیا ہے صرف سورة انبیاء میں باب نصر سے ہے ابو جعفر کی قراءت میں صرف سورة انبیاء میں باب افعال سے ہے باقی مقامات پر مجرد سے۔ الذین یسارعون فی الکفر وہ لوگ جو تیزی سے کفر میں گھس رہے ہیں ضحاک کے نزدیک کفار قریش مراد ہیں اور دوسرے مفسرین کے نزدیک منافق مراد ہیں جو کافروں کی مدد کرنے کی وجہ سے کفر میں تیزی سے بڑھ رہے تھے۔ یعنی ان منافقوں کے کفر میں تیزی سے گھسنے سے تم کو اسلام اور مسلمانوں کے متعلق کوئی اندیشہ نہ ہو اور تم اس سے رنجیدہ نہ ہو۔ کیونکہ انھم لن یضروا اللہ شیئا وہ اللہ کو یعنی اللہ کے دوستوں کو کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتے اور نہ کافروں پر جذبۂ رحم رکھنے کی وجہ سے تم کو منافقوں کی اس حرکت سے کوئی رنج ہو کیونکہ یرید اللہ الا یجعل لھم حظا فی الاخرۃ اللہ ان کے لیے آخرت کے ثواب میں کوئی حصہ مقرر کرنا نہیں چاہتا چونکہ یہ بد بخت مخلوق ہے اور ان کے نقط ہائے تعین اللہ کے ہم مضل کی طرف منسوب ہیں اسی لیے اللہ نے ان کی مدد نہیں کی اور یہ کفر میں تیزی کے ساتھ بڑھ گئے (بقول اہل تصوف انسان صفات الٰہی کا مظہر ہے اور اللہ کی صفات متضاد ہیں جس صفت کا جس پر تو پڑا اسی وصت کا نقطہ تعین اس شخص میں پیدا ہوگیا اور وہ اس خصوصی وصف میں ممتاز ہوگیا پس اللہ کا ایک وصفی نام مضل بھی ہے اس کا بھی بعض لوگوں پر خصوصی پرتو پڑا ہے اور وصف اضلال ان کے اندرپیدا ہوگیا ہے پس منافق جو دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں وہ حقیقت میں اللہ کی صفت اضلال کا ظہور ہوتا ہے لہٰذا تم کو اپنے جذبۂ رحمت کے زیر اثر اس سے رنجیدہ نہ ہونا چاہئے) و لھَم عذاب عظیم اور انہی کے لیے عذاب عظیم ہے یعنی ثواب سے محرومی کے ساتھ ساتھ ان کے لیے عذاب عظیم بھی ہے۔
Ayah 3:177

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

ان الذین اشتروا الکفر بالایمان جن لوگوں نے ایمان کے عوض کفر لے لیا اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ رسول اللہ کی بعثت سے پہلے (غائبانہ) آپ کی بعثت کا یقین رکھتے تھے لیکن جب آپ مبعوث ہوگئے اور کھلی ہوئی نشانیاں صداقت کی پیش کیں توا نہوں نے ماننے سے انکار کردیا اور دنیوی حرص میں آکرمحض عناد کی وجہ سے ایمان کو چھوڑ دیا۔ لن یضرو اللہ شیاء ولھم عذاب الیم اور اللہ کو ہرگز کچھ ضرر نہ پہنچا سکیں گے اور انہی کے لیے دکھ کا عذاب ہے۔
Ayah 3:178

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

اور کافر لوگ یہ نہ خیال کریں کہ ہم جو ان کو مہلت دیئے جاتے ہیں تو یہ ان کے حق میں اچھا ہے۔ (نہیں بلکہ) ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں۔ آخرکار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

و لا یحسبن الذین کفروا انما نملی لھم خیرو لانفسھم الذین کفروا فاعل ہے اور انما نملی۔۔ دو مفعولوں کے قائم مقام ہے یعنی کافر یہ نہ خیال کریں کہ ہمارا ان کو مہلت دینا اور عمریں دراز کرنا اور ان کی حالت پر ان کو آزاد چھوڑنا ان کے لیے بہتر ہے۔ انَّما میں ما مصدری ہے اس لیے رسم الخط میں اس کو اَنّ سے جدا لکھنا چاہئے لیکن مصحف امام (حضرت عثمان ؓ کے قرآن) میں اس کو متصل لکھا گیا ہے اس کے اتباع میں ملا کر لکھا جاتا ہے۔ انما نملی لھم یہ گذشتہ حکم کی علت کا اظہار ہے۔ لیزدادوا اثما ہم ان کو ڈھیل صرف اس وجہ سے دیتے ہیں کہ ان کے گناہ بڑھ جائیں۔ لیزدادوا میں لام ارادہ کا ہے۔ یعنی ہم ان کے گناہ زیادہ کرنا چاہتے ہیں اس آیت میں ہمارے مسلک کا ثبوت ہے کہ گناہ بھی اللہ کے ارادہ سے ہوتے ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ بندہ کے لیے دنیا و آخرت میں جو چیز بہتر ہو اللہ وہی کرے۔ معتزلہ معاصی کو اللہ کے ارادہ سے وابستہ نہیں جانتے اور خلق اصلح کو واجب قرار دیتے ہیں پس اس آیت سے ہمارے مسلک کی تائید اور معتزلہ کے قول کی تردید نکلتی ہے۔ معتزلہ کے نزدیک لیزدادوا کا لام لام عاقبت ہے یعنی ہمارے ڈھیل دینے کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ زیادہ گناہگار ہوجاتے ہیں۔ و لھم عذاب مھین اور انہی کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ اس آیت کا نزول مقاتل کے نزدیک مکہ کے مشرکوں کے حق میں اور عطاء کے نزدیک بنو قریظہ اور نضیر کے حق میں ہوا۔ حضرت ابوبکر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ سے دریافت کیا گیا کہ سب سے اچھا آدمی کون ہے ؟ فرمایا : جس کی عمر دراز اور اعمال اچھے ہوں۔ عرض کیا گیا سب سے برا کون ہے ؟ فرمایا : جس کی عمر دراز اور عمل برے ہوں۔ 1 ؂ حضرت ابن عباس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن ایک منادی پکارے گا ساٹھ برس کی عمر والے کہاں ہیں اور یہی وہ عمر ہے جس کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : اَوَ لَمْ نُعَمِّرْ کُمْ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ وَ جَآءَ کُمُ النَّذِیْر۔ 2 ؂
Ayah 3:179

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

(لوگو) جب تک خدا ناپاک کو پاک سے الگ نہ کردے گا مومنوں کو اس حال میں جس میں تم ہو ہرگز نہیں رہنے دے گا۔ اور الله تم کوغیب کی باتوں سے بھی مطلع نہیں کرے گاالبتہ خدا اپنے پیغمبروں میں سے جسے چاہتا ہے انتخاب کرلیتا ہے۔ تو تم خدا پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤاور اگر ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو تم کو اجر عظیم ملے گا

ما کان اللہ لیذر المومنین لِیَذَر میں لام تاکید نفی کے لیے ہے یعنی اللہ ہرگز مؤمنوں کو نہیں چھوڑے گا۔ علی ما انتم علیہ اس حالت پر جس پر تم اس وقت ہو کہ مخلصوں کے ساتھ منافق مخلوط ہیں مخلص اور منافق کا کوئی امتیاز نہیں۔ انتم کا خطاب تمام مدعیان اسلام کو ہے جن میں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کے مخلص مؤمن بھی داخل ہیں اور منافق بھی۔ حتی یمیز الخبیث من الطیب بغیر ناپاک کو پاک سے جدا کئے یعنی بغیر اس کے کہ چھانٹ کر کافر کو مؤمن سے جدا کردے۔ خواہ وحی کے ذریعہ سے اطلاع دیدے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے : یَحْذَرُ الْمُنَافِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْہِم سُوْرَۃٌ تُنَبِّءُہُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِھِِمْ قُلِ اسْتَھْزِءُ وٓا اِنَّ اللہ مُخْرِجٌ مَّا تَحْدَرُوْنَ یا واقعات کے ذریعہ سے (جانچ کرکے) جیسے احد کا واقعہ ہوا کہ منافق مؤمنوں کو چھوڑ کر بچھڑ گئے۔ و ما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب اور اللہ تم کو غیب سے آگاہ کرنے والا بھی نہیں کہ تم منافقوں اور مؤمنوں کی الگ الگ تمیز کرلو جب تک اللہ ان دونوں گروہوں کو چھانٹ کر علیحدہ علیحدہ نہ کردے۔ و لکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء بلکہ اللہ پیغمبروں میں سے جس کو چاہتا ہے انتخاب کرلیتا ہے اور بعض غیبی علوم پر کبھی مطلع کردیتا ہے جیسا کہ اپنے پیغمبر محمد ﷺ کو منافقوں کے احوال پر بنور فراست مطلع 3 ؂ فرما دیا۔ اسی کی مثل ہے سورت جن کی یہ آیت : عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٓ اَحَدًا مَنِّ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ علم غیب کی تشریح ہم نے سورة جن کی اسی آیت کے ذیل میں کی ہے۔ بغوی (رح) نے بروایت سدی لکھا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : کہ میرے سامنے میری امت اپنی شکلوں میں طینی (خمیر کی) حالت میں لائی گئی جیسے آدم کے سامنے (ان کی تمام نسل) لائی گئی تھی اور جو لوگ مجھ پر ایمان نہیں لانے والے ہیں اور جو مجھ پر ایمان نہیں لانے والے سب مجھے بتا دیئے گئے اس فرمان کی اطلاع منافقوں کو پہنچی تو وہ مذاق کرتے ہوئے بولے محمد ﷺ کا دعویٰ ہے کہ جو لوگ ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے ان میں کون مؤمن ہوگا اور کون غیر مؤمن۔ محمد ﷺ ان سب سے واقف ہیں اور ہم ان کے ساتھ رہتے ہیں اس کے باوجود وہ ہم کو نہیں پہچانتے۔ منافقوں کے اس قول کی خبر حضور ﷺ کو بھی پہنچ گئی تو آپ ﷺ نے ممبر پر کھڑے ہو کر اللہ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا : لوگ کس وجہ سے میرے علم پر طنز کرتے ہیں تم اپنے زمانہ سے قیامت تک کی جو چیز مجھ سے پوچھو گے میں بتاؤں گا (پوچھ دیکھو) اس پر عبد اللہ بن حذافہ سہمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ میرا باپ کون تھا ؟ فرمایا : حذافہ۔ اس کے بعدفوراً عمر کھڑے ہوگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ہم اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین (برحق) ہونے پر قرآن کے امام (یعنی واجب التسلیم والعمل کتاب) ہونے پر اور آپ ﷺ کے نبی ہونے پر رضا مند ہیں (یعنی دل سے مانتے ہیں) آپ ہم کو معاف فرمادیجئے اللہ آپ کو معاف فرمائے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم باز آگئے کیا تم باز آگئے پھر ممبر سے اتر آئے اور اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ شیخ جلال الدین سیوطی نے لکھا ہے کہ اس روایت کی مجھے اطلاع نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ برتقدیر صحت روایت آیت سے اس حدیث کی مناسبت اس طرح ہوگی کہ آیت میں رسول ﷺ کے مجتبیٰ اور غیب پر مطلع ہونے کی صراحت اور حدیث میں ان (منکرین) کے قول کو رد کیا گیا ہے کیونکہ رسول ﷺ کے لیے یہ امر جائز نہیں کہ بغیر اللہ کی اجازت کے دوسروں کو غیبی علم میں شریک بنالے پس پیغمبر کافروں کے کفر سے واقف ہیں لیکن ظاہر نہیں کرتے کیونکہ ان کا غیبی علم شخصی ہے۔ (دوسروں کو بغیر اذن خداوندی مطلع کرنا حق نہیں ہے) ۔ فامنوا باللہ ورسلہ پس اخلاص کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو تاکہ رسوا نہ ہو۔ و ان تو منو اوتتقوا فلکم اجر عظیم اور اگر تم سچے دل سے ایمان لاؤ گے اور نفاق و معاصی سے پرہیز رکھو گے تو تمہارے لیے بڑا اجر ہوگا۔