3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 3:37

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے (یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بے شمار رزق دیتا ہے

فَتَقَبَّلَهَا : پس اللہ نے حنہ سے مریم ( علیہ السلام) قبول کرلیا یا پیدائش ہوتے ہی لے لیا۔ مؤخر الذکر ترجمہ پر تَقَبَّل اِسْتَقْبَلَ کے معنی میں ہوگا جیسے : تَعَجَّلَ استعجل کے معنی میں آتا ہے۔ رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ : قبول وہ شئے جس کے ساتھ کسی چیز کو قبول کیا جائے (مثلا کشادہ روئی یا روگردانی اظہار مسرت ترش روئی وغیرہ) جیسے : سَعْوَۃٌ اور لدود (ناس جس سے چھینک لی جاتی ہے۔ جھگڑے کی چیز) یعنی اللہ نے اچھے طریقہ سے مریم ( علیہ السلام) کو قبول کیا۔ قبول اس جگہ مصدر نہیں ہے ورنہ قبولاً حَسَناً کہا جاتا اگر مصدری معنی لیا جائے گا تو (تاویل کرنی ہوگی) ۔ تقدیر کلام اس طرح ہوگی : فَتَقَبَّلَھَا رَبُّھَا بامرذی قبول حسن حضرت مریم ( علیہ السلام) کو بغیر کسی سابق عمل اور کوشش کے اللہ نے اپنی مہربانی سے برگزیدہ بنایا سارے جہان کی عورتوں پر فضیلت عطا کی، معاصی اور حیض سے پاک رکھا اس لیے جس قبول حسن کے ساتھ اللہ نے ان کو لیا اس سے مراد ہے ان لوگوں کا سا قبول جو درجہ مرادیت و محبوبیت پر فائز ہوتے ہیں ان لوگوں کا سا قبول مراد نہیں جو اہل ارادت و اجتہاد ہیں (کہ اللہ کے بتائے ہوئے راستہ پر چلتے اور ہر وقت رضائے الٰہی کے طلبگاررہتے ہیں آخر کار اللہ ان کے اعمال کو قبول فرمالیتا ہے) اور مصدری معنی کی صورت میں قبول سے مراد ہوگا اس امر کی وجہ سے قبول کرنا جس کو ہم اختصاص بھی کہہ سکتے ہیں جس طرح تمام منتخب لوگوں کے تعین کا مبدء یہی اختصاص ہوتا ہے اسی طرح حضرت مریم ( علیہ السلام) کے تعین کا باعث بھی یہی اختصاص الٰہی تھا (یعنی اللہ نے اپنی طرف سے مریم ( علیہ السلام) کے اندر ایک خصوصیت رکھی تھی جو مریم ( علیہ السلام) کے منتخب ہونے کا باعث ہوئی) ۔ وَّاَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَـنًا : اور اللہ نے مریم ( علیہ السلام) کو اچھی بالیدگی کے ساتھ بڑھایا چناچہ ایک دن میں آپ کا بڑھاؤ اتنا ہوتا تھا جتنا دوسرے بچوں کا سال بھر میں ہوتا ہے۔ ابن جریر نے عکرمہ ؓ ، قتادہ ؓ اور سدی کے اقوال لکھے ہیں کہ جب مریم ( علیہ السلام) پیدا ہوئیں تو حنہ نے ایک کپڑے میں لپیٹ کر ان کو مسجد میں لے جا کر مشائخ مسجد کے سامنے رکھ دیا۔ یہ مشائخ ہارون کی اولاد میں سے تھے اور بیت المقدس کے متولی تھے جیسے دربان کعبہ کے متولی ہوتے ہیں اور ان سے جا کر کہا لو یہ نذیرہ ہے (منت میں پیش کی ہوئی لڑکی) مریم ( علیہ السلام) چونکہ ان کے امام اور متولی قربانی کی بیٹی تھیں اس لیے سب نے ان کو لے لینے کی بڑھ چڑھ کر خواہش کی۔ حضرت زکریا ( علیہ السلام) نے فرمایا : میں اس کا سب سے زیادہ مستحق ہوں کیونکہ اس کی خالہ میری بی بی ہے۔ آپ کی بیوی اشیاع بنت قاقو وا تھی جو حضرت یحییٰ کی والدہ تھی۔ دوسرے مجاوروں نے بغیر قرعہ اندازی کے دینے سے انکار کیا غرض سب مشائخ جن کی تعداد ستائیس تھی دریا پر گئے سدی نے اس دریا کا نام اردن بتایا ہے سب نے اپنے قلم اس شرط پر پانی میں ڈالے کہ جس کا قلم پانی میں رک جائے گا اور سیدھا رہے گا وہی بچی کو لینے کا مستحق ہوگا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ وہ لوگ تورات کی نقل کر رہے تھے اور ان کے ہاتھوں میں قلم تھے چناچہ انہوں نے اپنے قلم پانی میں ڈالدیئے زکریا ( علیہ السلام) کا قلم ٹھہر گیا اور پانی کے اوپر اٹھ آیا باقی قلم پانی کے اندر چلے گئے اور تہ نشین ہوگئے یہ قول محمد بن اسحاق کا ہے سدی (رح) اور ایک جماعت نے لکھا ہے کہ زکریا کا قلم رک کر پانی کے اوپر کھڑا ہوگیا جیسے مٹی میں گڑ گیا ہو باقی لوگوں کے قلم بہہ گئے بعض روایات میں آیا ہے کہ زکریا کا قلم بھی بہا تھا مگر سیدھاہو کر پانی کے اوپر چڑھتا ہوا باقی قلم معمول کے موافق پانی کے ساتھ بہہ گئے غرض زکریا ( علیہ السلام) کے نام کا قرعہ نکل آیا زکریا تمام مشائخ کے سردار اور نبی تھے۔ وَّكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ڝ : اور اللہ نے زکریا کو مریم ( علیہ السلام) کا کفیل بنا دیاکفَّل کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے کیونکہ تمام اذہان میں یہ بات راسخ ہے کہ یہ سب کام اللہ ہی کے حکم سے ہوئے (اس لیے مرجع کا پہلے ذکر ضروری نہیں) یا رَبُّھَا کی طرف ضمیر راجع ہے بعض قراءتوں میں کَفَلَھَا بغیر تشدید کے آیا ہے جمہور کے نزدیک زکریا ( علیہ السلام) فاعل ہے یعنی زکریا مریم ( علیہ السلام) کے ذمہ دار بنے اور کو فیوں کے نزدیک زکریا ( علیہ السلام) مفعول ہے یعنی اللہ نے قرعہ اندازی کے بعد زکریا کو مریم کا ذمہ دار بنادیا۔ زکریا بن اذن بن مسلم بن صدون حضرت سلیمان کی نسل میں سے تھے۔ صدون حضرت سلیمان کا بیٹا تھا۔ حضرت زکریا نے مریم ( علیہ السلام) کے لیے ایک حجرہ بنوا دیا اور دودھ پلانے کے لیے ایک عورت مقرر کردی محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) کی ماں یعنی مریم کی خالہ کو مریم ( علیہ السلام) کی نگہداشت اور پرورش پر مقرر کیا۔ جب مریم ( علیہ السلام) جوان ہوگئیں تو ان کے لیے مسجد کے اندر ایک بالا خانہ بنوا دیا جس کا دروازہ مسجد کے اندر تھا اور بغیر زینہ کے اس بالا خانہ پر چڑھنا ممکن نہ تھا جیسے آج کل کعبہ کا دروازہ ہے حضرت زکریا کے علاوہ کوئی بالا خانہ پر مریم ( علیہ السلام) کے پاس نہیں جاتا تھا آپ ہی کھانے پینے کی چیزیں اور مالش کے لیے تیل مریم کو پہنچایا کرتے تھے۔ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ : چونکہ یہ جملہ گذشتہ جملہ کی یعنی فتقتلَھَا ربھا۔۔ کی تاکید ہے نیز کوئی وجہ جامع بھی نہیں ہے اس لیے حرف عطف نہیں لا یا گیا اور کُلَّما ظرف زمان (مفعول فیہ) ہے اس میں شرط کا معنی ہے : وَجَدَ جو آئندہ آرہا ہے اس میں عامل ہے۔ محراب سے مراد وہ بالا خانہ ہے جو حضرت زکریا ( علیہ السلام) نے مریم کے لیے بنوادیا تھا۔ محراب (لغت میں) سب سے اونچی اور اعلیٰ نشست گاہ کو کہتے ہیں مسجد کو بھی محراب کہا جاتا ہے کیونکہ مسجد شیطان سے جنگ کرنے کا مقام ہے۔ مبرد کا قول ہے کہ محراب کا اطلاق اسی کمرہ پر ہوتا ہے جس پر زینہ کے ذریعہ سے چڑھا جاتا ہو۔ ابن جریر نے ربیع بن انس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ زکریا ( علیہ السلام) نے مریم ( علیہ السلام) کو سات دروازوں کے اندر رکھا تھا یعنی جب بھی زکریا مریم ( علیہ السلام) کے پاس بالا خانہ پر جاتے۔ وَجَدَ عِنْدَھَا رِزْقًا : تو ان کے پاس غیر موسمی پھل رکھے ہوئے پاتے تھے گرمی کے پھل سردی میں اور سردی کے پھل گرمی میں۔ قَالَ يٰمَرْيَـمُ اَنّٰى لَكِ ھٰذَا ۭ قَالَتْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ : زکریا تعجب سے کہتے ہیں تھے مریم یہ پھل تیرے پاس کہاں سے یا کس طرف سے آئے ’؟ مریم ( علیہ السلام) جواب دیتی ‘ اللہ کے پاس سے آئے۔ ابن جریر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ مریم کے پاس ان کا رزق جنت سے آتا تھا۔ حسن بصری نے کہا کہ پیدا ہونے کے بعد مریم ( علیہ السلام) نے دودھ پینے کے لیے کسی کا پستان منہ میں نہیں پکڑا بلکہ انکا رزق جنت سے آتا تھا اور عیسیٰ کی طرح انہوں نے بھی بچپن میں ہی بات کی تھی۔ اِنَّ اللّٰهَ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاۗءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ : اللہ بلاشبہ جس کو چاہتا ہے بےحساب روزی دیتا ہے یعنی اتنی روزی دیتا ہے کہ کثرت کی وجہ سے اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا یا یہ مطلب ہے کہ اپنی مہربانی سے بغیر استحقاق کے عطا فرماتا ہے۔ یہ حنہ کا کلام بھی ہوسکتا ہے اور اللہ کا کلام بھی۔ اس قصہ سے اولیاء کی کرامت کا ثبوت ملتا ہے بعض لوگوں نے اس کو حضرت زکریا ( علیہ السلام) کا معجزہ قرار دیا ہے مگر یہ غلط ہے کیونکہ حضرت زکریا کو خود یقینی طور پر معلوم نہ تھا کہ رزق کہاں سے آتا ہے اسی لیے تو انہوں نے مریم سے پوچھا تھا۔ ابو یعلی نے مسند میں حضرت جابر ؓ کی روایت سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت سیّدہ فاطمہ نے رسول اللہ کی خدمت میں دو خمیری روٹیاں اور ایک پارچہ گوشت بطور ہدیہ بھیجا حضور والا وہ ہدیہ واپس لے کر خود ہی حضرت فاطمہ ؓ کے پاس پہنچ گئے اور فرمایا : بیٹی یہ لے لے۔ حضرت سیّدہ ؓ نے طباق کھول کر دیکھا تو اس میں روٹیاں اور گوشت بھرا ہوا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : انی لک ھذا تمہارے پاس یہ کہاں سے یا سیّدہ ؓ ؓ نے کہا : ھو من عند اللہ ان اللہ یرزق من یشاء بغیر حساب حضور ﷺ نے فرمایا : ستائش ہے اس اللہ کے لیے جس نے تم کو زنان بنی اسرائیل کی سردار (مریم ( علیہ السلام) کی طرح کردیا۔ پھر آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ اور حسن ؓ و حسین اور سب گھروالوں کو جمع کرکے کھانے کا حکم دیا سب نے پیٹ بھر کر کھالیا اور کھانا پھر بھی بچ رہا تو حضرت سیّدہ ؓ نے پڑوسیوں کو تقسیم کیا۔
Ayah 3:38

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

اس وقت زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی (اور) کہا کہ پروردگار مجھے اپنی جناب سے اولاد صالح عطا فرما تو بے شک دعا سننے (اور قبول کرنے) والا ہے

ھُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ : جب حضرت زکریا نے مریم کی کرامت اور رحمت خدا کی وسعت دیکھی اور محسوس کیا کہ خاندان والے سب ختم ہوگئے اور میرا کوئی ایسا بچہ نہیں جو علم و نبوت کا وارث بنے اور آپ کو اندیشہ ہوا کہ چچا کی اولاد میرے بعد دین کو کھو بیٹھے گی تو ایسے وقت میں یا اس جگہ دروازے بند کرکے اپنے مالک سے دعا کی اور۔ قَالَ رَبِّ ھَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً : عرض کیا : پروردگار مجھے اپنی طرف سے پاکیزہ اولاد عطا فرما۔ چونکہ حضرت زکریا کی بیوی بانجھ تھی اور آپ بہت بوڑھے ہوگئے تھے اس لیے عرض کیا کہ اپنی طرف سے یعنی معمول کے خلاف مجھے اولاد عطا فرما۔ جیسے دستور اسباب کے خلاف تو مریم کو رزق عطا فرماتا ہے ذریۃً سے مراد ہے اولاد اس کا اطلاق واحد جمع اور مذکر مؤنث سب پر ہوتا ہے۔ طیبۃ سے مراد ہے نیک گناہوں سے پاک معصوم۔ اِنَّكَ سَمِيْعُ الدُّعَاۗءِ : بیشک تو دعا سننے والا یعنی قبول کرنے والا ہے۔
Ayah 3:39

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

وہ ابھی عبادت گاہ میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے کہ فرشتوں نے آواز دی کہ (زکریا) خدا تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو خدا کے فیض یعنی (عیسیٰ) کی تصدیق کریں گے اور سردار ہوں گے اور عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے اور (خدا کے) پیغمبر (یعنی) نیکو کاروں میں ہوں گے

فَنَادَتْهُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ : پس ملائکہ نے زکریا کو پکارا، پکارنے والے تنہا جبرائیل تھے یہ قول حضرت ابن مسعود ؓ کا ہے جس کو ابن جریر نے نقل کیا ہے۔ اس صورت میں ملائکہ کو بصیغہ جمع ذکر کرنے کے وجہ برقول مفضل بن مسلمہ یہ ہے کہ جب کسی قول کا قائل جماعت کا سردار ہوتا ہے تو جماعت کی طرف اس قول کی نسبت صحیح ہوتی ہے کیونکہ سب اپنے سردار کے قول پر متفق ہوتے ہیں جبرائیل بھی سید الملائکہ تھے عموماً ان کے ساتھ فرشتوں کی جماعت رہتی تھی بعض نے یہ معنی بیان کیا کہ الملائکہ سے جنس مراد ہے یعنی فرشتوں کی جنس میں سے کسی نے پکارا جیسے کہا جاتا ہے : زید یرکب الخیل زید گھوڑوں پر یعنی کسی نہ کسی گھوڑے پر سوار ہوتا ہے۔ وَھُوَ قَاۗىِٕمٌ يُّصَلِّيْ فِي الْمِحْرَابِ : اور زکریا اس وقت مسجد کے اندر کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ زکریا (علیہ السلام) شیخ اعظم تھے قربانی پیش کرنا اور قربان گاہ کا دروازہ کھولنا آپ ہی کے سپرد تھا آپ کی اجازت کے بغیر کوئی اندر داخل نہیں ہوسکتا تھا ایک روز قربان گاہ کے پاس مسجد کے اندر کھڑے نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ اجازت داخلہ کے منتظر تھے کہ اچانک ایک نوجوان سفید کپڑے پہنے نمودار ہو اوہ جبرئیل تھے آپ ڈر گئے جبرائیل نے ندا دی زکریا۔ اَنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيٰى : کہ اللہ تم کو یحییٰ کے پیدا ہونے کی بشارت دے رہا ہے یحییٰ کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ماں کے بانجھ پن کوا اللہ نے ان کی وجہ سے کھودیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے یہی فرمایا۔ قتادہ نے وجہ تسمیہ یہ بیان کی کہ اللہ نے ان کے دل کو ایمان و اطاعت کی وجہ سے زندگی عطا فرمائی تھی کبھی آپ نے گناہ نہیں کیا بلکہ نافرمانی کا ارادہ بھی نہیں کیا۔ مُصَدِّقًۢـا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ : یحییٰ ( علیہ السلام) اللہ کے کلمہ کی یعنی عیسیٰ ( علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے عیسیٰ کو کلمۃ اللہ کہنے کی یہ وجہ ہے کہ آپ بغیر باپ کے صرف لفظ کُن سے پیدا ہوئے تھے سبب پر مسبب کا اطلاق کردیا گیا (لفظ کن حضرت عیسیٰ کی پیدائش کا سبب تھا لہٰذا عیسیٰ کو ہی کلمہ کہہ دیا گیا) بعض نے یہ وجہ تسمیہ بیان کی کہ جس طرح اللہ کے کلام سے لوگوں کو ہدایت ملتی ہے اسی طرح حضرت عیسیٰ کی ذات سے لوگ ہدایت یاب ہوتے تھے (گویاہدایت آفرینی میں آپ کی ذات ہی کلام اللہ تھی) صوفیہ نے کہا کہ حضرت عیسیٰ کا مبدء تعین اللہ کی صفت کلامیہ تھی (اسی لیے شیر خوارگی کی حالت میں آپ نے کلام کیا تھا) حضرت یحییٰ نے سب سے پہلے حضرت عیسیٰ کی تصدیق کی اور آپ پر ایمان لائے۔ حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) کی عمر حضرت عیسیٰ سے چھ ماہ زیادہ تھی۔ صحیحین میں حدیث معراج کے ذیل میں آیا ہے کہ یحییٰ اور عیسیٰ باہم خالہ زاد بھائی تھے لیکن ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ یحییٰ مریم کی خالہ کے بیٹے تھے۔ (گویا حضرت یحییٰ آپ کے ماموں تھے) اگر روایت کی صحت ثابت ہوجائے تو دونوں میں مطابقت اس طرح ہوجائے گی کہ حدیث میں خالہ زاد بھائی قرار دینا بر سبیل مجاز ہوگا جیسے رسول اللہ نے حضرت فاطمہ ؓ سے فرمایا : تمہارے چچا کا بیٹا کہاں ہے۔ حالانکہ حضرت علی حضرت فاطمہ ؓ کے والد کے چچا کے بیٹے تھے لیکن مجازاً حضرت فاطمہ کے چچا کا بیٹا حضرت علی ؓ کو قرار دیدیا۔ حضرت یحییٰ کی شہادت حضرت عیسیٰ کے آسمان پر اٹھانے سے پہلے ہوئی تھی۔ ابو عبیدہ نے کہا : بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللہ کا معنی ہے بِکَلِّمَۃٍ مِّنْ کِتَابِ اللہ وَ مِنْ اٰیٰتِ کَلَامِ اللہ ِ ۔ وَسَيِّدًا : اور یحییٰ اپنی قوم کے سردار ہوں گے یعنی علم، عبادت، پرہیز گاری اور تمام خصائل خیر میں سب کے سردار ہوں گے۔ مجاہد نے سیداً کا ترجمہ کیا ہے عند اللہ معزز۔ بعض نے کہا ایسا حلیم جس کو کسی وجہ سے غصہ نہ آئے۔ سفیان نے کہا حسد نہ کرنے والا۔ بعض نے قانع اور بعض نے سخی بھی ترجمہ کیا ہے جنید نے کہا سید وہ ہے جس نے دونوں جہان دے کر خالق جہاں کو لے لیا۔ (1) [ جزری نے نہایہ میں لکھا ہے کہ لفظ سید کا اطلاق رب مالک سردار، فاضل، کریم، حلیم، متحمل زوج، رئیس قوم اور پیشوا سب ہی پر ہوتا ہے۔ یہ ساَدَ یَسُوْدُ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے اصل میں سَیْوِدٌ تھا ساکن یاء کی وجہ سے واؤ کو یاء سے تبدیل کرکے ادغام کردیا۔ (مؤلف)] وَّحَصُوْرًا : یہ لفظ حصر سے مشتق ہے حصر کے معنی ہیں بندش روک۔ حضرت یحییٰ عورتوں سے قربت صنفی نہیں کرتے تھے اس کی علت بعض نے یہ بیان کی کہ آپ پیدائشی نامرد تھے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر یحییٰ پیدائشی نامرد بھی ہوں تب بھی اس جگہ حصوراً سے یہ مفہوم مراد نہیں ہیں ہے مقام مدح کا ہے اور عنین ہونا قابل مدح چیز نہیں۔ بلکہ حصوراً سے مراد ہے اپنے نفس کو خواہشات اور لہو و لعب سے روکنے والا۔ ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم اور ابن عساکر نے حضرت عمرو بن عاص کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : کوئی اللہ کا بندہ ایسا نہیں کہ اللہ کے سامنے بغیر گناہ کئے جائے سوائے یحییٰ بن زکریا کے اللہ نے خود ان کے متعلق فرمایا دیا ہے : وَ سَیَّدًا وَّ حَصُوْرًا حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ یحییٰ ( علیہ السلام) کی شرم گاہ کپڑے کی جھالر کی طرح تھی۔ (یعنی مادر زاد عنین تھے) حضور ﷺ نے مذکورہ لا قول انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ حضور اقدس ﷺ کا آخری فقرہ کہ یحییٰ کی شرم گاہ کپڑے کی جھالر کی طرح تھی۔ حصور ہونے کا بیان نہیں ہے بلکہ ایک واقعہ کا بیان ہے حقیقت میں حصور ہونے کا بیان وہ ہے جو اوپر گذر گیا کہ آپ معصوم تھے۔ بلکہ ابن ابی شیبہ نے (مصنف میں) اور امام احمد (رح) نے الزہد میں نیز ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عمر ؓ کا قول موقوفاً یہی نقل کیا ہے جو سابق کی حدیث مرفوع سے اسناد کے اعتبار سے زیادہ قوی ہے۔ ابن ابی حاتم اور ابن عساکر نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : تمام ابن آدم جب اللہ کے سامنے جائیں گے تو اس گناہ کے ساتھ جائیں گے جو ان سے سر زد ہوا ہوگا اگر اللہ چاہے گا تو معاف کردے گا اور چاہے گا تو عذاب دے گا سوائے یحییٰ بن زکریا کے کہ وہ سید اور حصور تھے (انہوں نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں اس لیے اللہ کے سامنے جائیں گے تو بےگناہ کے جائیں گے) اور نبی تھے اور صالحین کی نسل میں سے تھے اس کے بعد حضور ﷺ نے دست مبارک جھکا کر زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور فرمایا : ان کی شرم گاہ اس تنکے کی طرح تھی۔ عبد الرزاق نے اپنی تفسیر میں قتادہ کا قول موقوفاً اور ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں حضرت معاذ ؓ بن جبل کی روایت سے مرفوع بیان کیا ہے کہ حضرت یحییٰ بچپن میں کچھ بچوں کی طرف سے گذرے لڑکوں نے ان کو کھیلنے کے لیے بلایا آپ نے فرمایا : ہم کھیلنے کے لیے نہیں پیدا ہوئے ہیں۔ وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ : اور نبی تھے اور نیکوں کی نسل سے تھے یعنی معصوم انبیاء کی نسل سے تھے۔ یا ان لوگوں میں سے تھے جو صغیرہ، کبیرہ گناہوں سے پاک تھے۔
Ayah 3:40

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

زکریا نے کہا اے پروردگار میرے ہاں لڑکا کیونکر پیدا ہوگا کہ میں تو بڈھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے خدا نے فرمایا اسی طرح خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ غُلٰمٌ : حضرت زکریا نے جبرائیل ( علیہ السلام) کی طرف توجہ دیئے بغیر مناجات میں کہا اے میرے رب میرے ہاں لڑکاکہاں ہوسکتا ہے ؟ حضرت زکریا سے اس قول کا صدور بلا اختصار بتقاضائے بشریت ہوا تھا آپ کو عادت قدرت کی اس شکست پر تعجب بھی ہوا اور حیرت بھی اور اس بات کو آپ نے بہت بڑا بھی سمجھا مگر یہ سب کچھ طبیعت بشری کے زیر اثر ہوا کبھی طبیعت بشری عقل اور علم پر غالب آجاتی ہے علم اور عقل کا فیصلہ ہے کہ قدرت خدا سے نہ کوئی چیز بعید ہے نہ تعجب انگیز مگر طبیعت بشری معمول قدرت کی شکست کو بعید بھی جانتی ہے اور عجیب بھی۔ جیسے کہ حضرت موسیٰ نے وعدہ کرلینے کے بعد بھی (بتقاضائے بشریت) حضرت خضر پر اعتراض کیا تھا حالانکہ پہلے کہہ چکے تھیستَجِدُنِیْ اِنْ شَآءَ اللہ صَابِرًا وَّ لَا اَعْصِیْ لَکَ اَمْرًا . عکرمہ اور سدی نے بیان کیا کہ جب ملائکہ نے زکریا کو ندا کی تو شیطان فوراً آگیا اور کہنے لگا یہ آواز اللہ کی طرف سے نہیں ہے شیطان کی طرف سے ہے اگر اللہ کی طرف سے ہوتی تو وہ خود ہی تمہارے پاس وحی بھیج دیتا۔ پس اس وسوسہ کو دفع کرنے کے لیے حضرت زکریا نے مذکورہ الفاظ کہے۔ حسن بصری نے کہا طریق پیدائش کو دریافت کرنے کے لیے حضرت زکریا نے مذکورہ الفاظ کہے تھے کہ میرا لڑکا کس طرح ہوگا کیا مجھے اور میری بیوی کو جوان کردیا جائے گا اور بیوی کے بانجھ پن کو دور کردیا جائے گا یا کسی دوسری عورت سے میرا لڑکا ہوگا یا موجودہ حالت میں ہی ہم دونوں کو بچہ عنایت کیا جائے گا۔ وَّقَدْ بَلَغَنِىَ الْكِبَرُ : اور مجھے بڑھاپا پہنچ گیا ہے یہ ترکیب استعمال معکوس ہے مراد یہ ہے کہ میں بڑھاپے کو پہنچ گیا ہوں اور بوڑھا ہو ہوگیا ہوں۔ یا یہ مطلب ہے کہ مجھ پر بڑھاپے کا اثر پہنچ گیا اور بڑھاپے نے مجھے کمز ور کردیا اس وقت حضرت زکریا کی عمر بقول کلبی 92 سال اور بقول ضحاک 120 سال تھی اور بیوی کی عمر 98 سال۔ وَامْرَاَتِيْ عَاقِرٌ : اور میری بیوی بانجھ ہے ناقابل تولید۔ عاقر کے لفظ میں مذکر مؤنث برابر ہیں دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاۗءُ : اللہ نے یا فرشتہ نے کہا بات تو یونہی ہے اللہ جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے یعنی تمہارے بوڑھا ہونے اور تمہاری بیووی کے بانجھ ہونے کے باوجود بچہ ہوگا۔
Ayah 3:41

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ Open ayah 3:41 in the Quran reader

زکریا نے کہا کہ پروردگار (میرے لیے) کوئی نشانی مقرر فرما خدا نے فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے تین دن اشارے کے سوا بات نہ کر سکو گے تو (ان دنوں میں) اپنے پروردگار کی کثرت سے یاد اور صبح و شام اس کی تسبیح کرنا

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّيْٓ اٰيَةً : زکریا نے کہا اے رب استقرار حمل کی میرے لیے کوئی نشانی مقرر کردے جس سے میں استقرار حمل کو جان جاؤں اور بطور شکر تیری عبادت زیادہ کروں۔ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰــثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمْزًا : یعنی اللہ نے فرمایا استقرار حمل کی تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ باوجود ذکر اللہ پر قدرت رکھنے کے تو لوگوں سے تین دن کوئی بات نہیں کرسکے گا سوائے اشارہ کرنے کے سر سے ہو یا ہاتھ وغیرہ سے۔ رمز کا اصل معنی ہے حرکت دینا استثناء منقطع ہے لیکن اگر کلام سے مراد وہ تمام چیزیں ہوں جو ما فی الضمیر پر دلالت کرتی ہیں (جیسے زبان سے بات آنکھ سے ایماء ہاتھ پاؤں سے یا سر سے اشارہ) تو استثناء متصل ہوگا عطا نے کہا کلام نہ کرنے سے مراد ہے تین دن روزہ رکھنا کیونکہ وہ لوگ روزہ میں سوائے اشارہ کے زبان سے بات نہیں کرتے تھے۔ وَاذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِيْرًا : یعنی جب نشانی ظاہر ہوجائے تو شکریہ میں اپنے رب کا ذکر بہت کرنا۔ وَّسَبِّحْ : اور نماز پڑھنا۔ بِالْعَشِيِّ : پچھلے دن یعنی زوال کے بعد سے کچھ رات گئے تک۔ اس سے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز مراد ہے۔ وَالْاِبْكَارِ : اور دن کے پہلے حصہ میں یعنی فجر سے چاشت تک۔
Ayah 3:42

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:42 in the Quran reader

اور جب فرشتوں نے (مریم سے) کہا کہ مریم! خدا نے تم کو برگزیدہ کیا ہے اور پاک بنایا ہے اور جہان کی عورتوں میں منتخب کیا ہے

وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰۗىِٕكَةُ : اس کا عطفاذ قالت امرأۃ عمران پر ہے اور ملائکہ سے مراد جبرائیل ہیں یعنی یاد کرو کہ جب جبرائیل نے رو در رو کہا تھا۔ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ : اے مریم اللہ نے بلاشبہ تجھے اپنے لیے چھانٹ لیا ہے یعنی دوامی تجلیات ذاتیہ کے ساتھ تجھے برگزیدہ کردیا ہے صوفیہ نے تجلیات ذاتیہ کی تعبیر کمالات نبوت سے کی ہے جو انبیاء کو بالذات بلاواسطہ حاصل ہوتے ہیں اور ذیلی طور پر انبیاء کی وساطت سے صدیقین کو ملتے ہیں حضرت مریم صدیقہ تھیں اللہ نے فرمایا ہے : و اُمُّہٗ صِدِّیْقَۃٌ (اس لیے آپ کو کمالات نبوت حاصل تھے) وَطَهَّرَكِ : اور اللہ نے تجھے پاک رکھا یعنی گناہوں سے محفوظ رکھا یا پاک کردیا یعنی گناہوں کی مغفرت کرکے اور شیطان کا راستہ بند کرکے جس طرح حضرت ابوہریرہ کی روایت کردہ حدیث صحیحین میں مذکور ہے اور ہم اوپر نقل کرچکے ہیں بعض علماء نے کہا کہ پاک رکھنے سے مراد ہے مردوں کے چھونے سے پاک رکھنا۔ حیض سے پاک رکھنا بھی مراد لیا گیا ہے۔ وَاصْطَفٰىكِ عَلٰي نِسَاۗءِ الْعٰلَمِيْنَ : اور جہان کی عورتوں پر تجھے فضیلت دی ہے یعنی تیرے زمانہ کی عورتوں پر۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ نے فرمایا : میں نے خود رسول اللہ کو یہ فرماتے سنا کہ اس کی عورتوں میں افضل مریم بنت عمران ہے اور اس کی عورتوں میں افضل خدیجہ ؓ ہے۔ (متفق علیہ) حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : تیرے لیے جہان کی عورتوں سے مریم بنت عمران اور خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد ﷺ اور آسیہ زوجہ فرعون کافی ہیں (یعنی سب سے افضل ہیں) (رواہ الترمذی) حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : مردوں میں تو کامل بہت ہیں لیکن عورتوں میں کامل صرف مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون تھیں اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید (شوربے میں بھیگی ہوئی گھی سے آمیختہ روٹی) کی فضیلت باقی کھانوں پر۔ (متفق علیہ) میں کہتا ہوں شاید رسول اللہ کے اس ارشاد کا معنی یہ ہے کہ گذشتہ اقوام میں عورتوں میں کامل صرف مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون تھیں کیونکہ حضور ﷺ نے خود ہی آخر میں فرما دیا کہ عائشہ ؓ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت باقی کھانوں پر۔ اس جملہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ حضرت عائشہ کو حضرت مریم اور حضرت آسیہ ( علیہ السلام) پر بھی فضیلت حاصل تھی۔ صحیحین میں حضرت عائشہ کی روایت کردہ حدیث آئی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اے فاطمہ ؓ کیا تو اس پر خوش نہیں کہ تو اہل جنت کی عورتوں کی سردار ہو یا فرمایا : اہل ایمان کی عورتوں کی۔ ابو داؤد نسائی اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اہل جنت کی عورتوں میں سب سے زیادہ فضیلت والی خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد ﷺ ہیں۔ احمد ترمذی نسائی، ابن حبان اور حاکم نے حضرت حذیفہ ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : ایک فرشتہ آسمان سے اترا اس نے اللہ سے اجازت لے کر مجھے سلام کیا اور مجھے بشارت دی کہ فاطمہ ؓ اہل جنت کی عورتوں کی سردار ہیں یہ حدیث بتارہی ہیں کہ حضرت سیدہ ؓ حضرت مریم ( علیہ السلام) سے افضل ہیں کیونکہ اہل جنت کی عورتوں کی کسی خاص زمانہ کے ساتھ کوئی تخصیص نہیں۔ صراحت عام ہے ہاں تخصیص کا احتمال آیت : واصطفک علی نساء العلمین میں ہے کہ حضرت مریم ( علیہ السلام) کے زمانہ کی عورتیں ہی مراد ہوں جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کردیا ہے لیکن ایک حدیث اور آئی ہے جس کو ابو یعلی اور ابن حبان اور طبرانی نے حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : فاطمہ ؓ اہل جنت کی عورتوں کی سردار ہے سوائے اس کے جو مریم سے ہوا (یعنی مریم ( علیہ السلام) کی وجہ فضیلت کو چھوڑ کر) اسی طرح ترمذی نے حضرت ام سلمہ کا قول نقل کیا ہے کہ فاطمہ ؓ نے فرمایا : مجھے رسول اللہ نے اطلاع دی کہ تو اہل جنت کی عورتوں کی سردار ہے سوائے مریم بنت عمران کے۔ یہ دونوں حدیثیں بتارہی ہیں کہ حضرت مریم ( علیہ السلام) پر حضرت فاطمہ کو فضیلت حاصل نہیں تھی لیکن اس سے حضرت مریم ( علیہ السلام) کا حضرت فاطمہ ؓ سے افضل ہونا بھی ثابت نہیں ہوتا۔ صحیحین میں حضرت مسور بن مخرمہ کی روایت سے یہ ارشاد نبوی ﷺ مذکور ہے کہ فاطمہ ؓ میرا پارہ ہے۔ احمد اور ترمذی اور حاکم نے بھی حضرت ابن الزبیر کی روایت سے ایسا ہی نقل کیا ہے۔ اس حدیث کا مقتضا یہ ہے کہ تمام مردوں اور عورتوں، پر حضرت فاطمہ کو برتری حاصل ہوجائے کہ امام مالک نے فرمایا تھا کہ رسول اللہ کے ٹکڑے کے برابر ہم کسی کو نہیں قرار دیتے لیکن جمہور اہل سنت کے نزدیک اس عمومی صراحت سے وہ لوگ الگ ہیں جن کی فضیلت (شرعاً ) معلوم ہوچکی ہے یعنی انبیاء اور بعض صدیقین۔ ان کے علاوہ باقی لوگ عموم میں داخل ہیں۔
Ayah 3:43

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 3:43 in the Quran reader

مریم اپنے پروردگار کی فرمانبرداری کرنا اور سجدہ کرنا اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنا

يٰمَرْيَمُ اقْنُتِىْ لِرَبِّكِ : یعنی اے مریم اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے نماز میں طویل قیام کیا کر۔ وَاسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ : اور جماعت کے ساتھ رکوع و سجدہ کر۔ والراکعین سے مراد ہے نمازیوں کی جماعت۔ الراکعات (رکوع کرنے والیوں کی جماعت) نہیں فرمایا (بلکہ الراکعین یعنی رکوع کرنے والوں کی جماعت فرمایا) کیونکہ (نماز میں) عورتیں مردوں کی تابع ہیں برعکس نہیں ہے۔
Ayah 3:44

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 3:44 in the Quran reader

(اے محمدﷺ) یہ باتیں اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہارے پاس بھیجتے ہیں اور جب وہ لوگ اپنے قلم (بطور قرعہ) ڈال رہے تھے کہ مریم کا متکفل کون بنے تو تم ان کے پاس نہیں تھے اور نہ اس وقت ہی ان کے پاس تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ : یہ مذکورہ قصے غیب کی اطلاعات ہیں۔ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ : وحی کے ذریعہ سے ہم آپ کے پاس بھیجتے ہیں۔ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ : اور آپ ان کے پاس نہیں تھے جب وہ قرعہ اندازی کے لیے اپنے قلم دریا میں ڈال رہے تھے یہ وحی ہونے کی تاکید اور منکرین کے ساتھ استہزائیہ کلام ہے کیونکہ علم کے تین ہی ذرائع ہیں : عقل، یا کسی خبر کا کان سے سننا یا مشاہدہ کرنا۔ گذشتہ قصوں کا اپنی عقل سے دریافت کرلینا بداہۃً ممکن نہیں اور نہ سننا بھی تسلیم شدہ چیز ہے کیونکہ رسول اللہ خود لکھنا پڑھنا جانتے نہ تھے کہ کتابوں میں پڑھ کر معلوم کرلیتے اور خبر دینے والا کوئی موجود نہ تھا۔ رہ گیا مشاہدہ تو کوئی دانش مند اس کا گمان بھی نہیں کرسکتا (کہاں حضور ﷺ کا زمانہ اور کہاں پانچ سو برس پہلے مریم ( علیہ السلام) اور حنہ ( علیہ السلام) کا زمانہ) لا محالہ ایسی صحیح خبریں حضور ﷺ نے وحی سے حاصل کرکے معجزہ کے طور پر بتائیں اس سے آپ ﷺ کا یقینی طور پر نبی ہونا اور اس بیان کا وحی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اَيُّھُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۠: وہ کہہ رہے تھے کہ مریم کی ذمہ داری اپنے اوپرکون لے ؟ یا یہ مطلب ہے کہ وہ قرعہ اندازی یہ معلوم کرنے کے لیے کر رہے تھے کہ کون مریم کی کفالت کرے۔ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ : اور آپ ان کے پاس اس وقت بھی نہ تھے جب وہ مریم کی کفالت کے لیے باہم جھگڑا کر رہے تھے۔
Ayah 3:45

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 3:45 in the Quran reader

(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب فرشتوں نے (مریم سے کہا) کہ مریم خدا تم کو اپنی طرف سے ایک فیض کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح (اور مشہور) عیسیٰ ابن مریم ہوگا (اور) جو دنیا اور آخرت میں باآبرو اور (خدا کے) خاصوں میں سے ہوگا

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰۗىِٕكَةُ : یہ سابق اذ قالت الملائکۃ سے بدل ہے درمیان میں کلام بطور معترضہ کے تھا۔ اس قصہ کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ رسول اللہ کو وحی کا ممنون کرنا اور کافروں کو انکی جہالت وعناد پر تنبیہ کرنا۔ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ ڰ اسْمُهُ الْمَسِيْحُ : یاد کرو کہ جب جبرائیل نے مریم سے کہا مریم تجھے اللہ ایسے کلمہ کی بشارت دے رہا ہے جس کا نام مسیح ہوگا۔ اسمہٗ کی ضمیر کلمہ کی طرف راجع ہے کلمہ سے مراد ہیں حضرت عیسیٰ اس لیے ضمیر مذکر کی ذکر کی۔ مسیح کو مسیح برکت کی وجہ سے کہا گیا جیسے دجال کو دجال نحوست کی وجہ سے۔ مسیح عبرانی زبان میں مشیحاً تھا جس کا معنی ہے مبارک۔ بعض نے عیسیٰ کو مسیح کہنے کی وجہ سے یہ بیان کی ہے کہ آپ کی ذات سے تمام گندگیاں صاف کردی گئیں اور آپ کو گناہوں سے پاک رکھا گیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے مسیح کہنے کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ آپ جس دکھی بیمار کو ہاتھ لگاتے تھے وہ تندرست ہوجاتا تھا (مذکورہ بالا دونوں قولوں پر مسیح کا مادہ مسح ہوگا اور مسح کا معنی پونچھنا صاف کرنا۔ بر شق اوّل اور چھونا ہاتھ لگانا بر شق دوم ہے) بعض نے کہا آپ ہمیشہ سیاحت کرتے رہتے تھے کہیں مقیم نہیں ہوتے تھے اس لیے مسیح کہا گیا (اس صورت میں مسیح کا مادہ سیح ہوگا) قاموس میں مسیح کا ترجمہ کثیر السیاحۃ لکھا ہے۔ (گویا سیاحت سے مسیح مبالغہ کا صیغہ ہے) ابراہیم نخعی نے فرمایا : مسیح صدیق حضرت عیسیٰ تھے اور مسیح کذاب دجال تھا۔ اس وقت یہ لفظ اضداد میں سے ہوگا۔ (کذا فی القاموس) صحاح میں جوہری نے لکھا ہے کہ بعض لوگوں کا قول ہے کہ مسیح وہ شخص ہوتا ہے جس کی ایک آنکھ مٹا دی گئی ہو اور روایت میں آیا ہے کہ دجال کی سیدھی آنکھ مٹی ہوئی ہوگی اور عیسیٰ کے متعلق بھی کہا گیا ہے کہ آپ کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی تھی ان دونوں قوتوں کا مطلب یہ ہے کہ دجال کے اندر سے خصائل حمیدہ کا ازالہ کردیا گیا تھا ایمان، علم، عقل، حلم اور دوسرے محاسن سے وہ محروم تھا اور حضرت عیسیٰ کے اندر سے بری خصلتیں بالکل نکال دی گئی تھیں جہالت، حرص، حب مال، کنجوسی وغیرہ ہر بری بات سے آپ پاک تھے صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ لفظ مسیح کے اشتقاق کے متعلق میں نے اپنی کتاب شرح مشارق الانوار وغیرہ میں پچاس قول لکھے ہیں۔ عِيْسَى : یہ لفظ معرّب ہے بعض کا قول ہے کہ عبرانی زبان میں اصل لفظ یسوع ہے جس کا معنی ہے سردار۔ عیسیٰ ( علیہ السلام) آپ کا نام اور مسیح لقب اور ابن مریم کنیت تھی۔ نام لقب اور کنیت سے زیادہ عام ہوتا ہے اس سے مسمّٰی کا کامل امتیاز ہوجاتا ہے۔ ابْنُ مَرْيَمَ : ابن مریم ایک وصف ہے لیکن ایسی صفت ہے کہ اسماء کی طرح اپنے موصوف کو ممتاز کرتی ہے اس لیے اسماء میں اس کا شمار کیا گیا۔ بجائے اسمہ ٗ کے اسماءُ ہٗ نہیں فرمایا باوجودیکہ اسماء تین ذکر کئے اس لیے کہ لفظ اسم اسم جنس ہے جس کی اضافت استغراق کے لیے کی گئی ہے استغراق اگرچہ افرادی ہے لیکن استغراق افرادی کے مجموعہ پر متعدد کو محمول کرنا درست ہے جیسے آیت : مَا مِنْ دَآبَّۃٍ اِلَّا اُمَمٌ امثالکم میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ابن مریم بجائے خود خبر ہو اور ھُو ضمیر مبتدا محذوف ہو۔ ابن مریم عیسیٰ کی صفت نہیں ہے کیونکہ آپ کا نام صرف عیسیٰ ( علیہ السلام) تھا عیسیٰ ابن مریم نہیں تھا۔ باوجودیکہ خطاب مریم کو ہے پھر بھی (اِبْنُکِ کہنے کی بجائے) ابن مریم اس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے فرمایا : کہ عیسیٰ کا کوئی باپ نہیں ہوگا کیونکہ عام طور پر اولاد کی نسبت باپ کی طرف کی جاتی ہے ماں کی طرفصرف اسی صورت میں کی جاتی ہے کہ باپ موجود ہی نہ ہو۔ وَجِيْهًا : یعنی وہ با عزت عالی مرتبہ اور با وجاہت ہوگا۔ یہ کلمۃ کا حال ہے اور کلمہ نکرۂ موصوفہ ہے اس لیے ذوالحال ہوسکتا ہے۔ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ : دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں نبی اور مقتداء خلق ہونے کی وجہ سے اور آخرت میں شفیع اقوام اور جنت میں عالی مرتبہ پر فائز ہونے کی وجہ سے۔ وَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ : اور اللہ کے مقربین میں سے ہوگا یعنی اس کو قرب ذاتی اور دوامی تجلیات ذاتیہ حاصل ہوں گی۔
Ayah 3:46

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:46 in the Quran reader

اور ماں کی گود میں اور بڑی عمر کا ہو کر (دونوں حالتوں میں) لوگوں سے (یکساں) گفتگو کرے گا اور نیکو کاروں میں ہوگا

وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ : اور پالنے میں لوگوں سے باتیں کرے گا یعنی شیر خوارگی کی حالت میں کلام کرے گا۔ وَكَهْلًا : اور درمیانی عمر کی حالت میں بھی لوگوں سے باتیں کرے گا۔ جیسے دوسرے انبیاء کرتے ہیں یعنی اس کے کلام کے لیے اوّل آخر عمر کا کوئی فرق نہیں ہوگا۔ وہ متوسط عمر کی طرح شیر خوارگی میں بھی باتیں کرے گا۔ اس جملہ میں اس طرف اشارہ ہے کہ سن کہولت کو پہنچنے سے پہلے اس کی وفات نہیں ہوگی اور کہولت سے اس کی عمر آگے نہیں بڑھے گی حسن بن فضل نے کہا یعنی آسمان سے اترنے کے بعد وہ کلام کرے گا کیونکہ آپ کو سن کہولت سے پہلے آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا (اس لیے آسمان پر اٹھانے سے پہلے بحالت کہولت کلام کرنے کا احتمال نہیں) ۔ مجاہد نے کہا : کھلاً سے مراد ہے حلیم ہونا۔ عرب سن کہولت کی مدح کرتے ہیں اس عمر میں عقل میں پختگی، رائے میں جودت اور تجربہ ہوجاتا ہے کہولت سے پہلے تجربہ ناقص ہوتا ہے اور عقل بھی درجہ کمال تک نہیں پہنچتی اور کہولت کے بعد عقل میں کمزوری آجاتی ہے۔ و یکلم الناس کا عطف و من المقربین پر ہے حالت شیر خوارگی میں کلام کرنے کی صراحت میں مریم ( علیہ السلام) کو تسلی دینا مقصود ہے کہ بغیر شوہر کے بچہ ہونے پر جو لوگ ملامت کریں گے کہ اس کا ازالہ یہ بچہ خود کردے گا تم کو اندیشہ نہ کرنا چاہئے۔ وَّمِنَ الصّٰلِحِيْنَ : اور وہ صالحین میں سے ہوگا اس کے دین میں کوئی نقص اور بگاڑ نہیں ہوگا انبیاء کی یہی شان ہوتی ہے تو گویا من الصالحین کے معنی ہیں من النبیین .
Ayah 3:47

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:47 in the Quran reader

مریم نے کہا پروردگار میرے ہاں بچہ کیونکر ہوگا کہ کسی انسان نے مجھے ہاتھ تک تو لگایا نہیں فرمایا کہ خدا اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ وَلَدٌ وَّلَمْ يَمْسَسْنِىْ بَشَرٌ : مریم نے کہا اے رب ! میرے بچہ کیسے ہوگا مجھے تو کسی مرد نے نہیں چھوا۔ مریم ( علیہ السلام) نے یہ بات اظہار تعجب وحیرت کے طور پر کہی تھی یا یہ دریافت کرنا مقصود تھا کہ نکاح کے بعد بچہ پیدا ہوگا یا یونہی بغیر مرد کے۔ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۭ : اللہ نے جبرائیل کی زبان سے فرمایا یونہی (بچہ ہوگا ) ۔ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اِذَا قَضٰٓى اَمْرًا : جب وہ کسی چیز کے ہونے کا فیصلہ کرلیتا ہے۔ فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ : تو اس چیز کے ہونے کا حکم دیدیتا ہے بس فوراً وہ چیز ہوجاتی ہے یعنی جس طرح مادی اسباب اور مادہ کے ذریعہ ترتیب کے ساتھ اللہ چیزوں کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے اسی طرح بغیر اسباب کے یکدم بھی پیدا کرسکتا ہے۔
Ayah 3:48

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ Open ayah 3:48 in the Quran reader

اور وہ انہیں لکھنا (پڑھنا) اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائے گا

وَيُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ : اس جملہ کا عطف یخلق یا یبشرک پر ہے مریم ( علیہ السلام) کو جب معلوم ہوا کہ بچہ یونہی بغیرمرد کے پیدا ہوگا تو ان کو فکر ہوئی اور لوگوں کی لعنت ملامت کا اندیشہ پیدا ہوا اس فکر کو دور کرنے اور ان کے دل کو تسکین دینے کے لیے فرمایا کہ اللہ اس کو لکھنا سکھائے گا۔ کتاب سے مراد ہے تحریر اور خط۔ چناچہ آپ اپنے زمانہ میں سب سے بڑے خوشنویس تھے یا آسمانی کتابیں مراد ہیں یعنی اللہ ان کو آسمانی کتابوں کا علم عطا فرمائے گا من جملہ دیگر کتب کے تورات و انجیل کا خصوصی ذکر اس وجہ سے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ کے لیے یہ دونوں کتابیں زیادہ اہم تھیں فروع اعمال میں ان کی پابندی آپ کے لیے لازم تھی اصول دین تو تمام آسمانی کتابوں کے ایک ہی ہیں۔ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ : اور سمجھ اور تورات و انجیل (یعنی سمجھ عطا فرمائے گا اور تورات و انجیل کے علوم خصوصیت کے ساتھ عنایت کرے گا) ۔
Ayah 3:49

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

اور (عیسیٰ) بنی اسرائیل کی طرف پیغمبر (ہو کر جائیں گے اور کہیں گے) کہ میں تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں وہ یہ کہ تمہارے سامنے مٹی کی مورت بشکل پرند بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ خدا کے حکم سے (سچ مچ) جانور ہو جاتا ہے اور اندھے اور ابرص کو تندرست کر دیتا ہوں اور خدا کے حکم سے مردے میں جان ڈال دیتا ہوں اور جو کچھ تم کھا کر آتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو سب تم کو بتا دیتا ہوں اگر تم صاحب ایمان ہو تو ان باتوں میں تمہارے لیے (قدرت خدا کی) نشانی ہے

وَرَسُوْلًا اِلٰى بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ڏ : رسولا میں تنوین اظہارِعظمت کے لیے ہے اور فعل محذوف ہے یعنی ہم اس کو بنی اسرائیل کے پاس عظیم الشان پیغمبر بنا کر بھیجیں گے۔ اَنِّىْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰيَةٍ : یہاں حرف جر محذوف ہے اور رسولاً سے اس کا تعلق ہے یا احوال مذکورہ پر عطف ہے اور رسالت نطق کے معنی کو متضمن ہے مطلب اس طرح ہوگا کہ ہم اس کو بنی اسرائیل کے پاس پیغمبر بنا کر بھیجیں گے اور وہ ان سے کہے گا کہ میں تمہارے پاس معجزہ لے کر آیا ہوں جو میری رسالت کو ثابت کر رہا ہے حضرت عیسیٰ کے معجزات اگرچہ متعدد تھے مگر آپ کی صداقت تمام معجزات سے ایک ہی طرح ثابت ہوتی تھی اس لیے باٰیات کی جگہ بٰایۃ فرمایا۔ مِّنْ رَّبِّكُمْ : یہ آیت کی صفت ہے یعنی معجزہ ایسا ہوگا جو اللہ کا دیا ہوا ہوگا۔ یا جئتکم سے اس کا تعلق ہے یعنی میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے آیا ہوں۔ اَنِّىْٓ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّيْنِ : کہ میں تمہارے سامنے مٹی کی ایک مورت بناؤں گا خلق کا معنی ہے صورت بنانا اندازہ کرنا۔ كَهَيْــــَٔــةِ الطَّيْرِ : پرندہ کی شکل جیسے۔ ہیئت کا معنی ہے بنائی ہوئی صورت۔ فَاَنْفُخُ فِيْهِ : یعنی اس مٹی میں پھونک ماروں گا یا فیہ کی ضمیر کاکی طرف راجع ہے یعنی اس مورت میں پھونک ماروں گا جو پرندہ جیسی ہوگی۔ فَيَكُوْنُ طَيْرًۢ ا : پس وہ پرندے یا پرندہ ہوجائے گی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ نے صرف چمگادڑ بنائی تھی چمگادڑ کی خصوصیت کی وجہ یہ تھی کہ تخلیق (اور ساخت) کے لحاظ سے چمگادڑ سب پرندوں سے زیادہ کامل ہے اس کے پستان بھی ہوتے ہیں اور دانت بھی اور اس کو حیض بھی آتا ہے۔ 1 ؂ وہب نے بیان کیا وہ پرندہ جب تک لوگوں کی نظروں کے سامنے ہوتا تھا اڑتا تھا اور آنکھوں سے غائب ہوتے ہی گر کر مرجاتا تھا۔ ایساصرف اس لیے ہوتا تھا کہ براہ راست خدائی تخلیق اور بندہ کی وساطت سے تخلیق میں فرق واضح ہوجائے۔ بِاِذْنِ اللّٰهِ : اللہ کی اجازت یعنی اللہ کے حکم سے۔ اس لفظ سے یہ بتانامقصود ہے کہ عطاء زندگی میری طرف سے نہیں ہوگی بلکہ اللہ کی طرف سے ہوگی۔ وَاُبْرِئُ الْاَكْمَهَ : اکمہ کا معنی ہے نابینا (حسن سدی) یا وہ شخص جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی ہوں۔ (حضرت ابن عباس ؓ یا وہ شخص جس کی نظر کمزور ہو اور آنکھوں سے آنسو بہتے ہوں ‘ یا وہ شخص جس کو دن میں دکھتا ہو۔ رات کو نظر نہ آتا ہو۔ 2 ؂ وَالْاَبْرَصَ : اور میں تندرست کردوں گا اندھے کو اور سفید داغ والے کو یہ دونوں بیماریاں لاعلاج ہیں۔ حضرت عیسیٰ کے زمانہ میں طبّ کا زور تھا اس لیے آپ نے لوگوں کو طبی معجزہ دکھایا جیسے حضرت موسیٰ کے زمانہ میں جادو کا بہت شور تھا اس لیے آپ نے ہر ماہر جادو گر کو عاجز کرکے دکھادیا اور رسول اللہ کے زمانہ میں کلام کی بلاغت و فصاحت کا بڑا چرچا تھا اس لیے قرآن نے ان کو بلاغت میں زیر کردیا اور حکم دیا : فاتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ. وہب بن منبہ نے بیان کیا کہ ایک ایک دن میں پچاس پچاس ہزار مریض حضرت کے پاس جمع ہوجاتے تھے جو خود آسکتا تھا آجاتا تھا جو نہیں آسکتا تھا آپ اس کے پاس چلے جاتے تھے اور بیماروں، اپاہجوں اور اندھوں کے لیے ان الفاظ سے دعا کرتے تھے۔ اللّٰھُمَّ اَنْتَ اِلٰہُ مَنْ فِی السَّمَاءِ وَ اِلٰہُ مَنْ فِی الْاَرْضِ لَآ اِلٰہَ فِیْھِمَا غَیْرُکَ وَ اَنْتَ جَبَّارٌ مَنْ فِی السَّمَوٰاتِ وَ جَبَّارٌ مَنْ فِیْ الْاَرْضِ لَا جَبَّارَ فِیْہِمَا غَیْرُکَ وَ اَنْتَ مَلِکُ مَنْ فِی السَّمَاءِ وَ مَلِکُ مَنْ فِی الْاَرْضِ لَا مَلِکَ فِیْہَِمَا غَیْرُکَ قُدْرَتُکَ فِی الْاَرْضِ کَقُدْرَتِکَ فِی السَّمَاءِ سُلْطَانُکَ فِی الْاَرْضِ کَسُلْطَانِکَ فِی السَّمَاءِ اَسْأَلُکَ بِاِسْمِکَ الْکَرِیْمِ وَ وَجْھِکَ الْمُنِیْرِ وَ مُلْکِکَ الْقَدِیْمِ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔ (1) [ حضرت عیسیٰ کی زبان عبرانی یا سریانیتھی عربی نہ تھی اور یہ دعا عربی ہے اس لیے شاید وہب کی مراد یہ ہے کہ ان عربی الفاظ کے ہم معنی الفاظ میں حضرت عیسیٰ دعا کرتے تھے۔ واللہ اعلم ] وہب نے لکھا یہ دعا خفقان اور جنون کے لیے ہے مجنون اور خفقانی پر یہ دعاء پڑھ کر دم کی جائے اور لکھ کر پانی سے دھو کر پلائی جائے انشاء اللہ صحت ہوجائے گی۔ وَاُحْىِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ : اور اللہ کے حکم سے میں مردوں کو زندہ کروں گا۔ مردوں کو زندہ کرنا بشری فعل کی جنس سے خارج ہے تو ہّم الوہیت کو دور کرنے کے لیے آپ نے مکرر باذن اللہ فرمایا۔ بغوی (رح) نے لکھا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کہ حضرت عیسیٰ نے چار آدمیوں کو زندہ کیا : (1) عاذر ‘ (2) ایک بڑھیا کا بیٹا۔ (3) عاشر کی بیٹی۔ (4) سام بن نوح۔ عاذر آپ کا دوست تھا مرنے لگا تو اس کی بہن نے حضرت کے پاس پیام بھیجا کہ آپ کا دوست مر رہا ہے۔ درمیانی مسافت تین روز کا سفر چاہتی تھی آپ اپنے ساتھیوں سمیت پہنچے تو عاذر کو مرے تین دن ہوگئے تھے۔ حضرت نے اس کی بہن سے فرمایا : مجھے اس کی قبر پر لے چل عاذر کی بہن قبر پر لے گئی آپ نے اللہ سے دعا کی عاذر اٹھ کھڑا ہوا اس کے بدن سے روغن ٹپک رہا تھا پھر قبر سے نکل آیا اور مدت تک زندہ رہا اس کے اولاد بھی ہوئی۔ ایک بڑھیا کے بیٹے کا جنازہ چار پائی پر حضرت عیسیٰ کی طرف سے گذرا۔ آپ نے دعا کی وہ فوراً چار پائی پر اٹھ بیٹھا لوگوں کے کندھوں سے نیچے اتر آیا اور کپڑے پہن کر چارپائی اپنی گردن پر اٹھا کر لوٹ کر گھر پہنچ گیا وہ بھی بعد کو زندہ رہا اور اس کے بھی بچے ہوئے۔ ایک شخص عاشر یعنی محصل ٹیکس تھا۔ اس کی بیٹی ایک روز پہلے مرگئی حضرت نے دوسرے روز اللہ سے دعا کی اللہ نے اس کو زندہ کردیا وہ بھی بعد کو زندہ رہی اور اس کے بھی بچے پیدا ہوئے۔ سام بن نوح کی قبر پر آپ خود گئے اور اللہ کا اسم اعظم لے کر صاحب قبر کو پکارا سام قبر سے نکل آیا قیامت بپا ہونے کے اندیشہ سے اس کا آدھا سر سفید ہوچکا تھا اس زمانہ میں لوگوں کے بال سفید نہیں ہوتے تھے۔ سام نے کہا کیا قیامت برپا ہوگئی۔ حضرت عیسیٰ نے فرمایا : نہیں۔ میں نے تم کو اللہ کا اسم اعظم لے کر پکارا تھا پھر آپ نے فرمایا : اب مرجاؤ سام نے کہا اس شرط پر (مرنے کو تیار ہوں) کہ اللہ موت کی تلخی سے محفوظ رکھے۔ آپ نے اللہ سے دعا کی اور دعا قبول ہوئی۔ وَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ ۙفِيْ بُيُوْتِكُمْ : اور تم جو کچھ کھاتے ہو اور جو کچھ گھروں میں اندوختہ رکھتے ہو میں تم کو بتا دونگا۔ چناچہ آپ رات کی کھائی چیز اور دن میں جو کچھ کھایا جاتا تھا اور شام کیلئے کو جو کچھ بچا کر رکھا جاتا تھا سب کی تفصیل بتادیتے تھے۔ سدی نے بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ مکتب میں جا کر بچوں کو بتا دیتے کہ تمہارے باپوں نے یہ یہ بنایا ہے کسی بچہ سے فرماتے جا تیرے گھر والوں نے فلاں فلاں چیز کھالی اور فلاں فلاں چیز اٹھا کر رکھ دی ہے بچہ جا کر روتا آخرگھر والے وہ چیز اسکو دیدیتے اور پوچھتے تجھے کس نے بتادیا ؟ بچہ کہتا عیسیٰ نے غرض گھروالوں نے اپنے بچوں کو عیسیٰ سے ملنے کی ممانعت کردی اور کہہ دیا کہ اس جادو گر سے ہرگز نہ ملنا۔ ایک بار سب بچوں کو ایک گھر میں جمع کرلیا۔ حضرت ڈھونڈھتے ہوئے تشریف لائے اور بچوں کو دریافت فرمایا : لوگوں نے کہا بچے یہاں نہیں ہیں فرمایا : اس میں گھر میں کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا سور ہیں۔ فرمایا : ایسے ہی ہوجائیں گے لوگوں نے گھر کھولاتو سب سور برآمد ہوئے۔ یہ خبر بنی اسرائیل میں پھیل گئی اور انہوں نے آپ کو قتل کردینے کا ارادہ کرلیا۔ آپ کی والدہ کو جب آپ کے قتل ہوجانے کا اندیشہ ہوگیا تو اپنے گدھوں پر سوار کرکے مصر لے کر بھاگ گئیں۔ قتادہ نے کہا یہ واقعہ مائدہ کے سلسلہ میں ہوا تھا بنی اسرائیل جہاں بھی ہوتے من وسلویٰ کی طرح خوان نازل ہوتا لیکن حکم یہ تھا کہ خیانت نہ کریں اور چھپا کر نہ رکھیں مگر بنی اسرائیل نے چرا چھپا کر رکھا آپ ان کو بتا دیتے کہ تم نے کتنا کھایا اور کتنا بچا کر رکھا آخر اللہ نے ان کی صورتیں بگاڑ کر سوروں جیسی کردی۔ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : مذکورہ معجزات میں عیسیٰ کے دعوے نبوت کی سچائی کی تمہاری ہدایت یابی کے لیے بڑی دلیل ہے اگر تم کو ایمان کی توفیق ہے تو ایمان لاؤ۔
Ayah 3:50

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

اور مجھ سے پہلے جو تورات (نازل ہوئی) تھی اس کی تصدیق بھی کرتا ہوں اور (میں) اس لیے بھی (آیا ہوں) کہ بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کو تمہارے لیے حلال کر دوں اور میں تو تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ : اس کا عطف رسولاً پر ہے یا فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے یعنی تمہارے پاس ایسی حالت میں آیا ہو کہ اپنے سے پہلی تورات کی تصدیق کرتا ہوں انبیاء کی شان یہی ہوتی ہے ہر پیغمبر دوسرے پیغمبر کی اور تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے۔ وَلِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِيْ حُرِّمَ عَلَيْكُمْ : اور میں اس لیے آیا ہوں کہ بعض چیزیں جو تمہارے لیے حرام کردی گئیں تھیں حلال کردوں یعنی بعض چربیاں اور گوشت جو تمہارے لیے تورات نے حرام کردی تھیں ان کی حرمت کو منسوخ کردوں۔ بعض احکام کا نسخ تصدیق کے منافی نہیں جیسے قرآن کے بعض احکام بعض کے ناسخ ہیں۔ باوجودیکہ احکام ناسخ احکام منسوخ کے منزل من اللہ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں کیونکہ نسخ کا معنی ہی یہ ہے کہ پچھلا حکم اگرچہ صحیح تھا لیکن وقتی اور ایک مدت خاص کے لیے تھا اب وہ وقت نہیں رہا لہٰذا وہ حکم بھی نہیں رہا) ۔ وَجِئْتُكُمْ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ : اور میں تمہارے پاس ایک بڑی نشانی لیکر آیا ہوں۔ یہ آیت پہلے بھی گذر چکی ہے لیکن وہاں آیت سے مراد تھے معجزات اور یہاں آیت سے مراد ہے انجیل کی آیات لہٰذا تکرار نہیں ہوئی۔ یہ بھی جائز ہے کہ تاکید کے لیے تکرار ہی قرار دی جائے۔ فَاتَّقُوا اللّٰهَ : پس اللہ کے عذاب سے ڈرو جو میری مخالفت اور تکذیب کی وجہ سے آجائے گا۔ وَاَطِيْعُوْنِ : اور اللہ کی توحید و اطاعت کا جو حکم میں تم کو دے رہا ہوں اس میں میری اطاعت کرو۔
Ayah 3:51

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا رستہ ہے

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ : فاتقوا اللہ واطیعون میں جو مضمون مجمل تھا یہ اس کی تفصیل ہے اور اس میں قوت نظریہ اور قوت عملیہ دونوں کے استکمال کی طرف اشارہ کیا ہے صحیح اعتقاد جس کا بنیادی پتھر توحید ہے قوت نظر یہ کا استکمال کرتا ہے۔ اس کا بیان ان اللہ ربی و ربکم سے کردیا اور مامورات و منہیات کی پابندی سے قوت عملیہ کامل ہوتی ہے اس کا اظہار فاعبدوہ سے فرما دیا پھر پہلے اللہ کو اپنا رب قرار دیا اور اپنی عبدیت کا اقرار کیا تاکہ آئندہ ہونے والے فتنہ کا دروازہ بند ہوجائے کہیں لوگ آپ کو اللہ کا بیٹا یا تین میں کا تیسرا الٰہ نہ کہنے لگیں۔ آخر میں دونوں جملوں کے مضمون کو پختہ کرنے کے لیے فرمایا۔ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ : یہ ہی سیدھا راستہ ہے یعنی اقرار توحید اور عبادت (تعمیل اوامرو نواہی) دونوں کو جمع رکھنا ہی ایسا راستہ ہے جس کا صحیح ہونا ثابت ہے۔ یہ ہی مطلب ہے رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کا قُلْ اٰمنْتُ بِ اللہ ِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ایک شخص نے عرض کیا کہ مجھے اسلام میں کوئی ایسی بات بتا دیجئے کہ آپ ﷺ کے بعد مجھے کسی سے نہ پوچھنا پڑے اس کے جواب میں حضور ﷺ نے مذکورہ بالا جملہ فرمایا تھا۔
Ayah 3:52

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

جب عیسیٰؑ نے ان کی طرف سے نافرمانی اور (نیت قتل) دیکھی تو کہنے لگے کہ کوئی ہے جو خدا کا طرف دار اور میرا مددگار ہو حواری بولے کہ ہم خدا کے (طرفدار اور آپ کے) مددگار ہیں ہم خدا پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں

فَلَمَّآ اَحَسَّ عِيْسٰى مِنْھُمُ الْكُفْرَ : لماّ ظرف زمان ہے مگر اس میں شرط کا معنی ہے اور جزاء مَنْ انصاری الی اللہ ہے یعنی جب حضرت عیسیٰ نے بنی اسرائیل کی طرف سے اپنی تکذیب اور کفریہ کلمات سنے جیسے عزیر کو اللہ کا بیٹاقرار دینا اور ایسی حرکتیں دیکھیں جن سے کفر مترشح ہورہا تھا۔ اس جملہ میں کچھ الفاظ محذوف ہیں اختصار کلام کے پیش نظر ان کو حذف کردیا گیا ہے پورا کلام اس طرح تھا کہ مریم سے عیسیٰ پیدا ہوئے اور اپنی قوم سے شیر خوارگی کے زمانہ میں کلام کیا اور حد کمال کو پہنچ گئے یہاں تک کہ آسمانی کتابوں کے عالم اور نبی ہوگئے اور لوگوں کو ہدایت کی طرف بلایا اور معجزات مذکورہ پیش کئے اور بنی اسرائیل نے آپ کا انکار کیا اور تکذیب کی اور کفریہ حرکات کا ان سے ظہور ہوا پس جب عیسیٰ نے بنی اسرائیل کی طرف ایسی باتیں سنیں اور ایسی حرکات دیکھیں اور کفریہ حالات محسوس کئے تو کہا۔ قَالَ مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللّٰهِ : الی اللہ میں الی یا مَعَ کے معنی میں ہے یعنی اللہ کے ساتھ مل کر میری مدد کرنے والے کون کون ہیں ؟ جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : لا تاکلوا اموالھم الی اموالکمان کا مال اپنے مالوں کے ساتھ ملا کر نہ کھا جاؤیا الی بمعنی فی ہے یعنی اللہ کی راہ میں میرے مدد گا رکون ہیں ؟ یا بمعنی لام ہے یعنی اللہ کے واسطے میری مدد کرنے والے کون ہیں۔ یا الیٰ کا استعمال اپنے اصلی معنی میں ہی ہے یعنی نسبت و اضافت۔ نصرت میں اضافت کا مفہوم ہوتا ہے اس وقت مطلب اس طرح ہوگا کہ میری امداد میں اللہ کے ساتھ اپنے نفسوں کو ملا دینے والے کون لوگ ہیں۔ ان تمام صورتوں میں الیٰ کا تعلق انصاری سے ہوگا لیکن اگر کسی محذوف فعل سے تعلق قرار دیا جائے تب بھی جائز ہے اور مطلب اس طرح ہوگا کہ اللہ کی جانب جاتے ہوئے اس کے گروہ میں شامل ہوتے ہوئے اس کی پناہ لینے کے لیے کون میرا مددگار ہے۔ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ : حواری کہنے لگے ‘ حواری خالص دوست۔ یہ لفظ حور سے بنا ہے حور کا معنی ہے خالص سفید۔ رسول اللہ نے جب غزوہ خندق کے دن تین بار لوگوں کو پکارا اور ہر بار حضرت زبیر ؓ بن عوام نے ہی جواب دیا تو حضور ﷺ نے فرمایا : ہر نبی کا کوئی حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ؓ ہے۔ (متفق علیہ) قاموس میں ہے حواری مددگار یا پیغمبروں کا مددگار اور دھوبی اور گہرا دوست۔ حضرت عیسیٰ کے ساتھیوں کو حواری کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی نیتیں دینی امور میں خالص تھی یا اس وجہ سے کہ وہ حضرت عیسیٰ کے مددگار تھے۔ حسن اور سفیان کا یہی قول ہے بعض لوگوں نے کہا کہ یہودیوں میں سے چند شاہزادے تھے جن سے حضرت عیسیٰ مدد کے خواستگار ہوئے تھے چونکہ وہ سفید لباس پہنتے تھے اس لیے ان کو حواری کہا گیا۔ ابن جریر نے ابو ارطاۃ کا قول نقل کیا ہے کہ وہ دھوبی تھے لوگوں کے کپڑے دھوکر سفید کرتے تھے ضحاک نے کہا ان کے دل صاف یعنی گناہوں سے پاک تھے اس لیے ان کو حواری کہا گیا۔ ابن مبارک نے کہا ان کے چہروں پر عبادت کا اثر اور نور نمایاں تھا اس لیے حواری کہا گیا حور کا اصل معنی ہے خوب سفیدی۔ کلبی اور عکرمہ نے کہا حواری کچھ بر گزیدہ اشخاص تھے جن کی تعداد بارہ تھی۔ روح بن قاسم کا بیان ہے کہ میں نے قتادہ سے حواریوں کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : حواری وہ لوگ تھے جو خلافت (انبیاء) کے اہل تھے دوسرے قول میں قتادہ نے حواریوں کی تعبیر وزراء سے کی ہے مجاہد اور سدی نے کہا وہ ماہی گیر تھے کسی نے ملاح بھی کہا ہے۔ نَحْنُ اَنْصَار اللّٰهِ : ہم اللہ کے دین کے مددگار ہیں۔ اٰمَنَّا باللّٰهِ ۚ وَاشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ : ہم اللہ پر ایمان لے آئے اور اے عیسیٰ جس روز انبیاء اپنی امتوں کی موافقت یا مخالفت کی شہادت دیں گے آپ ہمارے فرماں بردار ہونے کی گواہی دیں۔ یہ آیت بتارہی ہے کہ ایمان اور اسلام ایک ہی چیز ہے (کیونکہ پہلے حواریوں نے ایمان کا اظہار کیا اور پھر حضرت عیسیٰ سے اپنے اسلام کی شہادت کے خواستگار ہوئے معلوم ہوا کہ ایمان و اسلام سے ان کی مراد ایک ہی تھی)
Ayah 3:53

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

اے پروردگار جو (کتاب) تو نے نازل فرمائی ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور (تیرے) پیغمبر کے متبع ہو چکے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ رکھ

رَبَّنَآ اٰمَنَّا بِمَآ اَنْزَلْتَ : اے ہمارے رب تو نے جو کتابیں نازل کیں انجیل و تورات وغیرہ ہم اس پر ایمان لائے۔ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ : اور جو کچھ تیرے پیغمبر یعنی عیسیٰ نے ہم کو حکم دیا ہم اس پر چلے۔ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ : پس تو ہم کو ان لوگوں کی فہرست میں لکھ دینا جنہوں نے تیری واحدانیت اور تیرے انبیاء کی صداقت کی شہادت دی ہے۔ عطاء کے نزدیک الشاہدین سے مراد ہیں انبیاء کیونکہ ہر نبی اپنی امت کا شاہد ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : الشاہدین یعنی محمد ﷺ اور آپ ﷺ کی امت۔ کیونکہ امت محمدیہ ﷺ (قیامت کے دن) انبیاء کی رسالت و تبلیغ کی شہادت دے گی۔