Ayah 3:54وَمَكَرُوْا : اور جن لوگوں کی طرف سے حضرت عیسیٰ نے کفر کا احساس کیا تھا انہوں نے فریب کیا کہ حضرت کو (خفیہ) قتل کردینے کا ارادہ کیا۔ کلبی نے بوساطت ابو صالح حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ ایک بار یہودیوں کی ایک جماعت حضرت عیسیٰ کے سامنے آئی آپ کو دیکھ کر کہنے لگے جادو گر، جادوگرنی کا بیٹا آگیا۔ آپ پر تہمت لگائی اور آپ کی والدہ پر بھی حضرت عیسیٰ نے ان پر لعنت کی اور ان کو بد دعا دی فوراً اللہ نے ان کو سور بنا دیا۔ یہودیوں کا سردار یہودا تھا اس نے جو یہ بات دیکھی تو گھبرا گیا اور آپ کی بد دعا سے ڈر گیا آخر تمام یہودی حضرت عیسیٰ کو مار ڈالنے پر متفق الرائے ہوگئے اور قتل کرنے کے ارادہ سے حضرت کی طرف بڑھے لیکن اللہ نے جبرائیل کو بھیج دیا جبرائیل نے آپ کو چھت کے روزن میں داخل کردیا پھر وہاں سے اللہ نے آپ کو آسمان پر اٹھا لیا۔ سردار یہود یعنی یہودا نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو جس کا نام طیطیانوس تھا کھڑکی کے اندر بھیجا تاکہ اندر جا کر حضرت کو قتل کردے وہاں اللہ نے اس کی شکل حضرت عیسیٰ جیسی بنا دی لوگوں نے اسی کو عیسیٰ ( علیہ السلام) سمجھ کر قتل کردیا۔ آیت۔
وَمَكَرَ اللّٰهُ : کا یہی معنی ہے (یعنی اللہ نے عیسیٰ کو بچانے اور قتل کے ارادہ سے آنے والے کو قتل کرانے کی خفیہ تدبیر کی) مکر اصل میں کسی کو نقصان پہنچانے کی تدبیر کو کہتے ہیں (ظاہر ہے کہ اللہ کی طرف اس کی نسبت حقیقۃً نہیں کی جاسکتی بلکہ) بر سبیل تقابل اللہ کی طرف اس کی نسبت کی جاتی ہے (جیسے اس جگہ مَکَرُوْا کے مقابل مَکَرَ اللہ آیا ہے) ۔
زجاج نے کہا مکر خدا کا معنی ہے کافروں کے مکر کی سزا دینا جزاء مکر کو مکر مقابلہ کی وجہ سے فرمایا۔
وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ : یعنی اللہ ایسے راستوں سے ضرر پہچانے پر سب سے زیادہ قدرت اور قابو رکھتا ہے جو گمان میں بھی نہیں آسکتے۔
Ayah 3:55اِذْ قَال اللّٰهُ : یہ مکَرَ اللہ سے متعلق ہے یا فعل محذوف سے یعنی یہ اس وقت واقعہ ہوا جب اللہ نے فرمایا۔
يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ : اِلَیَّ کا معنی یہ ہے کہ میں اپنے مقام عزت اور قرار گاہ ملائکہ کی طرف تجھے اٹھاکر لے جاؤں گا۔ حسن کلبی اور ابن جریح نے آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ میں تجھے پکڑلوں گا اور بغیر موت کے دنیا سے اٹھا کر اپنے پاس لے جاؤں گا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ آیت کا معنی دو طرح سے ہوسکتا ہے۔
(1) میں پورا پورا تجھے اٹھا کر اپنے پاس بلاؤں گا وہ تجھے کچھ ضرر نہیں پہنچا سکیں گے۔ محاورہ میں توفَّیْتُ کا معنیاِسْتَوْفَیْتُ (پورا پورا لے لینا) آتا ہے۔ (2) میں تجھے اپنی سپردگی میں لے لوں گا۔ تَوَفَّیْتُ مِنْہُ کَذَا (میں نے اس کو خود لے لیا ‘ اپنی سپردگی میں لے لیا ‘ وصول کرلیا) یعنی تَسَلَّمْتُہٗ ۔
ابن جریر نے ربیع بن انس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ توفی سے مراد ہے نیند جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : ھُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ باللَّیْلِ اللہ وہی ہے جو تم کو رات کو سلاتا ہے حضرت عیسیٰ کو نیند آگئی تھی اور سوتے میں اللہ نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔ اس وقت آیت کا معنی یہ ہوگا کہ میں تم کو سلادوں گا اور سوتے میں اٹھا کر اپنے پاس بلا لوں گا۔ بعض علماء نے کہا کہ توفی سے مراد موت ہی ہے۔ علی بن ابی طلحہ کی روایت سے حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کا معنی ہے اِنِّیْ مُمِیْتُکَ بغوی نے لکھا ہے اس صورت میں آیت کا معنی دو طرح ہوگا۔
(1) وہب کا قول ہے کہ دن میں تین ساعت کے لیے اللہ نے عیسیٰ کو موت دی پھر اپنی طرف اٹھا لیا محمد بن اسحاق نے بیان کیا کہ عیسائی کہتے ہیں اللہ نے دن میں سات گھنٹے عیسیٰ کو میت رکھا پھر زندہ کرکے اٹھا لیا۔ ابن جریر نے وہب بن منبہ کی یہی روایت نقل کی ہے۔ (2) ضحاک نے کہا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے اتارنے کے بعد یہودیوں کے قتل سے محفوظ رکھ کر مدت زندگی پوری کرکے میں تم کو وفات دوں گا اور اس سے پہلے تم کو اپنے پاس اٹھا لوں گا۔ و رافعِکَ میں واؤ ترتیب کے لیے نہیں (کیونکہ واقع میں رفع پہلے ہوا اور وفات بعد کو ہوگی) بلکہ صرف دونوں فعلوں کے ہونے کے لیے ہے۔ آیت کی یہ تفسیر دوسری آیت : فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم کے خلاف ہے کیونکہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ حضرت عیسیٰ کی توفی کے بعد عیسائی بنے اور یہ امر مسلم ہے کہ آپ کے رفع کے بعد لوگوں نے عیسائیت قبول کی تھی لہٰذا توفی سے مراد یا تو آسمان پر اٹھا یا جانا ہے یا اٹھائے جانے سے پہلے وفات ہونا ہے۔ میرے نزدیک ظاہر اوّل صورت ہے یعنی توفی سے مراد بغیر موت کے آسمان پر اٹھا لینا ہے کیونکہ دوسری آیت میں آیا ہے۔ و ما قتلوہ و ماصلبوہ نہ انہوں نے عیسیٰ کو قتل کیا نہ صلیب دی۔ وجدان شاہد ہے کہ اگر اٹھائے جانے سے پہلے عیسیٰ کی موت کی نفی تسلیم نہ کی جائے تو نفی قتل کی صراحت سے کیا فائدہ قتل کا نتیجہ بھی تو موت ہی ہے (بلکہ قتل یعنی شہادت مزید اجر کی موجب ہے) ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : قسم ہے اسکی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ عنقریب ابن مریم حاکم عادل ہو کر تمہارے اندر اتریں گے، صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ کو ساقط کردیں گے اور مال کو بہائیں گے کہ کوئی قبول بھی نہیں کرے گا۔ انتہاء یہ ہوگی کہ ایک سجدہ دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے بہتر ہوگا۔ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : اگر تم (اسکی تصدیق) چاہتے ہو تو پڑھو و ان من اھل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتہ (الایۃ۔ متفق علیہ) بخاری و مسلم کی دوسری روایت میں حضور اقدس ﷺ کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں تمہارا کیا حال ہوگا اس وقت جب (عیسیٰ ) ابن مریم ( علیہ السلام) تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا۔ مسلم کی ایک روایت میں اتنا زائد آیا ہے کہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی ان پر سوار ہو کر دوڑ نہیں کی جائے گی۔ آپس کی دشمنی بغض اور حسد جاتا رہے گا لوگوں کو مال لینے کے لیے بلایا جائے گا لیکن کوئی قبول نہیں کرے گا۔
بغوی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت لکھی ہے کہ رسول اللہ نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے نزول کے متعلق فرمایا : ان کے زمانہ میں تمام مذاہب سوائے اسلام کے مردہ ہوجائیں گے اور دجال بھی ہلاک ہوجائے گا آپ زمین پر چالیس سال رہیں گے پھر آپ کی وفات ہوجائے گی اور مسلمان آپ کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔
ابن جوزی نے کتاب الوفاء میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی روایت سے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) زمین پر اُ تریں گے ‘ نکاح کریں گے ‘ ان کے اولاد ہوگی ‘ پینتالیس سال رہیں گے پھر آپ کی وفات ہوجائے گی اور میرے ساتھ میری قبر میں دفن کئے جائیں گے میں اور عیسیٰ ابن مریم ایک ہی قبر میں ابوبکر ؓ و عمر ؓ کے درمیان رہیں گے۔ حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : میری امت کا ایک گروہ برابر حق پر جہاد کرتا رہے گا اور قیامت کے دن تک غالب رہے گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : پھر عیسیٰ بن مریم اتریں گے مسلمانوں کا امیر کہے گا آئیے ہم کو نماز پڑھائیے عیسیٰ فرمائیں گے نہیں تم ہی میں سے بعض بعض کے سردار ہیں۔ حضرت عیسیٰ یہ بات صرف اس لیے کہیں گے کہ اللہ نے اس امت کو عزت عطا فرمائی ہے۔ (مسلم) حدیث معراج میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم ( علیہ السلام) کو دوسرے آسمان پر دیکھا تھا۔ (بخاری ومسلم)
وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : اور کافروں کے ساتھ رہنے کی برائی سے تم کو پاک کردوں گا (یعنی ان کافروں سے الگ رکھوں گا)
وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ : اور جن لوگوں نے تمہاری پیروی کی ان کو کافروں پر قیامت تک فوقیت عطا کروں گا۔ یعنی تمہاری پیروی کرنے والے دلائل اور اکثر اوقات میں اقتدار کے اعتبار سے (بھی) کافروں پر غالب رہیں گے۔ آپ کے متبع حواری تھے نیزوہ اسرائیلی بھی تھے جو آپ کے دین پر رسول اللہ کی بعثت سے پہلے تھے اور بعثت کے بعد مسلمان بھی آپ ہی کے دین پر ہیں کیونکہ مسلمانوں نے آپ کی تصدیق کی اور آپ کے دین توحید کو قبول کیا اور آپ نے جو رسول اللہ کے اتباع کی وصیت کی تھی جس کا ذکر آیت : وَ مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدْ میں آیا ہے مسلمانوں نے اس پر عمل کیا۔ بعض علماء کا قول ہے کہ متبعین سے مراد ہیں : نصاریٰ ۔ نصاریٰ یہودیوں پر عالب رہیں گے اب تک کبھی عیسائیوں پر یہودیوں کا غلبہ نہیں سنا گیا۔ یہودیوں کی حکومت دنیا سے ختم ہوگئی نہ ان کا ملک رہا نہ سلطنت 1 ۔ بنی اسرائیل کی ساری سلطنت اور حکومت نصاریٰ کو پہنچ گئی۔ اس قول پر اتباع سے مراد اتباع دین نہ ہوگا (کیونکہ موجودہ عیسائی حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے اصل دین پر نہیں ہیں) بلکہ صرف محبت و اتباع کا دعویٰ مراد ہوگا۔
ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ : یہ خطاب حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور آپ کے متبعین اور منکرین سب کو ہے یعنی تم سب کی واپسی آخر میری ہی جانب ہوگی۔
فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ : اور دین کے معاملہ میں جو تمہارا آپس کا اختلاف ہے اس کا فیصلہ کردوں گا اس فیصلہ کی تفصیل یہ ہے کہ :
Ayah 3:56فَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُھُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ : پس جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا ان کو دنیا میں سخت عذاب دوں گا۔ یعنی قتل ‘ قید ‘ جزیہ اور ذلت کا عذاب دنیا میں دوں گا اور آخرت میں دوزخ کا عذاب۔
وَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ : اور ان کا کوئی حمایتی نہیں ہوگا جو ہمارے عذاب سے ان کو بچا سکے۔
Ayah 3:57وَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے۔
فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَھُمْ : توا اللہ ان کی نیکیوں کا عوض ان کو پورا پورا دے گا۔
وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ : اور اللہ ظالموں کو یعنی کافروں کو پسند نہیں کرتا یعنی ان پر رحم نہیں کرے گا اور جب رحم نہیں کرے گا تو ان کے کفر کے موافق عذاب دے گا۔
اہل تاریخ نے لکھا ہے کہ تیرہ سال کی عمر میں شکم مریم میں استقرار عیسیٰ ہوا اور سر زمین بابل پر سکندر کے حملہ کو 65 سال گذرے تھے کہ آپ کی پیدائش ہوئی اور آغاز وحی کے وقت آپ کی عمر 30 سال تھی اور جب آپ 33 سال کے ہوئے تو شب قدر ماہ رمضان میں بیت المقدس سے (آسمان پر) اللہ نے آپ کو اٹھا لیا گویا اٹھنے کے وقت آپ کی نبوت کو تین سال گذرے تھے آپ کے بعد حضرت مریم چھ سال زندہ رہیں۔
ایک اور روایت میں آیا ہے کہ ہم شکل مسیح کو جب قتل کردیا گیا اور صلیب پر لٹکا دیا گیا تو حضرت مریم ( علیہ السلام) اور ایک اور عورت جس کے جنون کو اللہ نے حضرت عیسیٰ کی دعا سے دور کردیا تھا روتی ہوئی صلیب پر لٹکی ہوئی نعش کے پاس پہنچیں۔ اچانک حضرت عیسیٰ نے (نمو دار ہو کر) ان سے کہا تم کیوں روتی ہو اللہ نے مجھے اٹھا لیا اور سوائے بھلائی کے مجھے اس نے کوئی دکھ نہیں دیا باقی یہ صلیب کشیدہ شخص تو میرا ہم شکل ہے اللہ نے ان کی نظر میں اس کو میری شکل کا کردیا ہے (یہ کہہ کر عیسیٰ غائب ہوگئے) پھر سات روز کے بعد اللہ نے عیسیٰ کو حکم دیا کہ مریم کے پاس پہاڑ پر جا کر اترو، وہ سوگوار ہے مریم کی طرح نہ کوئی رویا نہ اس کی برابر کسی کو غم ہوا وہاں جاکر حواریوں کو جمع کرنا اور اللہ کی طرف لوگوں کو بلانے کے لیے ملک میں پھیلا دینا حسب الحکم حضرت عیسیٰ پہاڑ پر نازل ہوئے آپ کے نزول کے وقت پہاڑ بقعہ نور بن گیا۔ حواری آکر آپ کے پاس جمع ہوئے آپ نے دین کی دعوت دینے کے لیے ان کو ملک میں پھیلا دیا اس کے بعد اللہ نے آپ کو اٹھا لیا صبح ہوئی تو جس جس حواری کو جس جس کی ہدایت کے لیے حضرت عیسیٰ نے مقرر فرمایا تھا اس حواری نے اس کی زبان میں گفتگو کی۔
Ayah 3:58ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَيْكَ مِنَ الْاٰيٰتِ : یعنی یہ عیسیٰ مریم اور حواریوں کے واقعات جو ہم تم کو پڑھ کر سنا رہے ہیں ان معجزات میں سے ہیں جو رسول اللہ کی نبوت پر دلالت کرتے ہیں کیونکہ رسول اللہ ان واقعات سے واقف نہ تھے اس کے باوجود اس طور پر بیان فرمایا : جیسے بنی اسرائیل کے علماء جانتے تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اطلاع آپ کو اللہ کی طرف سے دی گئی اور آپ ﷺ ضرور خدا کے رسول تھے یا معجزات سے قرآن کی آیات مراد ہیں۔
وَالذِّكْرِ الْحَكِيْمِ : اور پر حکمت قرآن سے ہیں۔ مقاتل نے حکیم کا ترجمہ کیا ہے محکم جو باطل (کی آمیزش) سے محفوظ ہے۔ بعض کے نزدیک الذکر الحکیم سے لوح محفوظ مراد ہے۔ لوح محفوظ سفید موتی کی اتنی لمبی تختی ہے جیسے زمین سے آسمان تک درمیانی خلاء۔ یہ عرش سے آویزاں ہے۔
Ayah 3:59اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ : دونوں جگہ مثل کا معنی ہے عجیب حالت یعنی اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی عجیب حالت آدم کی عجیب حالت کی طرح ہے۔ وجہ مشابہت یہ ہے کہ۔
خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ : اللہ نے آدم ( علیہ السلام) کو مٹی سے بنایا۔
ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ : پھر اس کا لبد سے کہا زندہ آدمی ہوجا۔
فَيَكُوْنُ : فوراً وہ ہوگیا۔ یہ گذشتہ حال کی حکایت ہے یا یہ مطلب ہے کہ آدمی کو مٹی سے بنانے کا اندازہ کیا اور اندازۂ علمی کو موجود ہوجانے کا حکم دیا تو وہ موجود ہوگیا 1 ۔ لیکن یہاں واقعہ کی تاخیر مدت مراد نہیں ہے بلکہ ایک بیان کی دوسرے بیان سے تاخیر مراد ہے یعنی اوّل آدم کا مٹی سے پیدا کرنا بیان کیا پھر پیدا کرنے کا طریقہ بتادیا کہ حکم دیدیا بس وہ پیدا ہوگیا۔ مطلب یہ کہ آدم کے باپ نہیں تھے۔ نہ پیٹ میں رہنے اور دودھ پینے اور دودھ چھوڑنے کی نوبت آئی عیسیٰ کی پیدائش کی حالت بھی گو عجیب ہے کہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے مگر آدم کی پیدائش کی حالت اس سے بھی زیادہ عجیب ہوئی کہ بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تعجب آگیں ہونے میں دونوں کی پیدائش کی حالت مشترک ہے مگر ایک میں تعجب آگینی کم ہے اور دوسری میں زیادہ کم عجیب کو زیادہ عجیب سے تشبیہ دی گئی ہے۔ عمومی ضابطہ تولید کی خلاف ورزی دونوں جگہ ہے لیکن ایک میں کم اور دوسری میں زیادہ۔ اس بیان سے مادہ خصومت ہی کی بیخ کنی ہوجاتی ہے اور نزاع پیدا کرنے والے کا شبہ کا ہی استیصال ہوجاتا ہے۔
اس آیت کا نزول نجران کے عیسائی نمائندوں کے حق میں ہو اتھا۔ نجران کے نمائندوں نے رسول اللہ سے عرض کیا تھا آپ ﷺ ہمارے آقا کو کیوں گالی دیتے ہیں حضور ﷺ نے پوچھا میں کیا کہتا ہوں۔ بولے آپ ﷺ آپ ان کو بندہ کہتے ہیں فرمایا : بیشک وہ اللہ کے بندے ‘ اللہ کے رسول اور اللہ کا کلمہ (یعنی صرف حکم) تھے جو عذراء بتول کے شکم میں اللہ نے ڈال دیا تھا یہ سن کر اہل وفد کو غصہ آگیا اور کہنے لگے کیا آپ نے کوئی آدمی ایسا دیکھا ہے جو بن باپ کے پیدا ہوا ہو اس گفتگو کے بعد اللہ نے وفد نجران کو لا جواب بنانے اور خاموش کردینے کے لیے یہ آیت نازل فرمائی۔
ابن ابی حاتم نے بطریق عوفی حضرت ابن عباس ؓ کا قول بھی اسی طرح نقل کیا ہے ابن ابی حاتم نے حسن بصری کا قول بیان کیا ہے کہ نجران کے دو راہب رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ایک نے پوچھا عیسیٰ کا باپ کون تھا ؟ رسول اللہ کی عادت تھی کہ اللہ کا حکم آنے سے پہلے آپ فوراً ہی جواب نہیں دیا کرتے تھے۔ اس پر آیت : ذلک نتلوہ سے من الممترین تک نازل ہوئی (اور وہ راہب لاجواب ہوگئے) کیونکہ بغیر ماں باپ کے آدم کے مٹی سے پیدا ہونے کا ان کو بھی اقرار تھا وہ عیسائی بھی کس قدر جاہل تھے کہ یہ تو پوچھا کہ کیا کوئی انسان بن باپ کے پیدا ہوتے آپ نے دیکھا ہے اور خود یہ نہ سوچا کہ انہوں نے کبھی کسی بکری کا بچہ آدمی کو یا آدمی کا بچہ بکری کو دیکھا ہے حالانکہ دونوں میں حیوانی جنس کا اشتراک ہے اختلاف ہے تو صرف نوعیت کا پھر (جنسی تباین بلکہ ہر طرح کے اختلاف کے باوجود) انہوں نے کیسے فیصلہ کرلیا کہ وہ اللہ جو ایک اور ہر چیز سے بےنیاز اور قدیم ہے اور اس کی مثل کوئی بھی نہیں ہے وہ عیسیٰ کا باپ ہوگیا حالانکہ عیسیٰ ایک مخلوق جسم رکھتا تھا جو حادث تھا، کھانا کھاتا اور سوتا بھی تھا اور اس کو موت بھی آئے گی۔ لاریب اللہ نہ کسی کا والد ہے نہ مولود نہ اس کا کوئی ہم سر ہے۔
فائدہ اس آیت سے قیاس کا شرعی حجت ہونا ثابت ہو رہا ہے کیونکہ تخلیق آدم پر قیاس کرتے ہوئے عیسیٰ کی بن باپ کے پیدائش کے جواز پر اللہ نے استدلال کیا ہے (پس مسلمانوں کا وہ گروہ جو صرف قرآن، سنت اور اجماع کو احکام کی علت قرار دیتا ہے اور قیاس کو دلیل حکم نہیں مانتا اس آیت سے اس کے قول کی تردید مستفاد ہوتی ہے) ۔
Ayah 3:60اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ : یہی حق ہے جو تمہارے رب کی طرف سے یا تمہارے رب کے پاس سے یہ حق آچکا۔
فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ : پس اے انکار کرنے والے مخاطب تو عیسیٰ کے معاملہ میں شبہ کرنے والوں میں سے نہ ہو جیسا کہ یہودی شک میں پڑگئے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے عیسیٰ کی والدہ پر زناء کی تہمت لگائی اور عیسائی شک میں پڑگئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہنے لگے۔
Ayah 3:61فَمَنْ حَاۗجَّكَ فِيْهِ : مَنْ شرطیہ ہے یا استفہام انکاری کے لیے ہے یعنی جب عیسائی مناظرہ سے عاجز ہوگئے تو اب عیسیٰ کے معاملہ میں یا اس حق بات میں کون آپ سے مناظرہ کرسکتا ہے۔
مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ : یعنی اس علم کے آجانے کے بعد کہ عیسیٰ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو شخص بھی تم سے عیسیٰ کے متعلق مناظرہ کرے۔ علم حاصل ہوجانے کی شرط جو مباہلہ کے لیے بیان کی اس میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ جب تک کسی بات کا پورا یقین نہ ہوجائے مسلمان کے لیے اس میں مباہلہ کرنا زیبا نہیں۔
فَقُلْ تَعَالَوْا : تو اے محمد آپ ان سے کہہ دیجئے کہ پختہ رائے اور عزم کے ساتھ آؤ۔ تعالوا جمع مذکر حاضر باب تفاعل مادہ علو فراء نے اس کا ترجمہ کیا اوپر اٹھو۔ میں کہتا ہوں گویا مخاطب سے کہتا ہے کہ اونچی جگہ پر چڑھ کر دیکھو جو چیز تم کو نیچے سے نہیں دکھائی دیتی وہ اوپر سے دکھ جائے گی۔ بطو راستعارہ اس سے مراد ہوتا ہے کہ جو چیز تم سے مخفی ہے اس پر غور اور توجہ کرو۔ خلاصہ یہ ہوا کہ پختہ رائے اور عزم کے ساتھ آؤ۔ کبھی اس لفظ کا استعمال ایسے مقام کی طرف بلانے کے لیے بھی ہوتا ہے جو بلانے والے کے قریب ہو (یعنی میرے پاس آؤ)
نَدْعُ اَبْنَاۗءَنَا وَاَبْنَاۗءَكُمْ وَنِسَاۗءَنَا وَنِسَاۗءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْ : یہ امر کا جواب ہے اس لیے نَدْعُ پر جزم ہے (یعنی واؤ حذف کردیا گیا ہے) مراد یہ ہے کہ ہم تم یعنی ہر ایک اپنی ذات کو اور اپنے عزیز ترین لوگوں کو بلا کر اپنے ساتھ ملا لیں تاکہ جھوٹے پر جو عذاب نازل ہو وہ اس شخص پر بھی نازل ہو اور اس کے عزیز ترین بیوی بچوں پر بھی۔ اولاد و نساء کا ذکر انفس سے پہلے اس لیے کیا کہ آدمی انہی کے لیے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالتا اور ان کو بچاتا ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ بلانے والے میں اور جس کو بلایا جائے اس میں غیریت ہونی چاہئے بیوی بچے واقع میں شخصیت کے لحاظ سے آدمی کی ذات سے الگ ہوتے ہیں اور آدمی کی اپنے نفس سے مغایرت صرف فرضی ہوتی ہے لہٰذا حقیقی مغایرت والی ہسیتوں کو پہلے ذکر کیا اور پھر فرضی غیریت والی ہستی یعنی اپنی ذات کو ذکر کیا۔
مسلم اور ترمذی نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین کو بلایا پھر کہا اے اللہ یہ ہی میرے اہل بیت ہیں۔
ثُمَّ نَبْتَهِلْ : پھر ہم زاری کریں ابتہال اگرچہ باب افتعال ہے لیکن باب تفاعل کے معنی میں ہے۔
باب تفاعل کو چھوڑ کر باب افتعال کو اس لیے اختیار کیا کہ (باب افتعال کی خاصیت ہے کسی چیز کو اپنے لیے حاصل کرنا اور لے لینا اور) یہاں مقصود یہ ہے کہ جھوٹا ہو تو لعنت کو اپنے لیے کھینچ لے اور سچا ہو تو فریق مخالف کی طرف لعنت کا رخ پھیردے اور ظاہر ہے کہ آدمی کے اپنے نفس پر کسی برائی کا وقوع مخالف پر واقع ہونے سے پہلے ہوتا ہے گویا (بصورت کذب) تحصیل لعنت اپنے لیے اصل غرض ہے (اور مخالف پر اس کے جھوٹے ہونے کی صورت میں لعنت کا پڑجانا ایک ضمنی چیز ہے) ۔
بُھْلَۃٌ اور بَھْلَۃٌ کا اصل معنی ہے ترک بَھَلْتُ النَّاقَۃَ : میں نے اونٹنی کو بلا قید چھوڑ دیا۔ لعنت میں ترک رحمت بھی ہوتا ہے اور دنیا و دین میں رحمت سے دوری بھی اور ترک رحمت وقوع عذاب کو چاہتا ہے کیونکہ عذاب سے بچاؤ بغیر رحمت کے ممکن نہیں۔ ثُمَّ کے لفظ سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عقلمند کو مباہلہ میں (جہاں تک ممکن ہو) تاخیر ہی کرنی چاہئے۔
فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَي الْكٰذِبِيْنَ : اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں یہ بصورت عطف نبتھل کی تشریح ہے فاء (جو بلاتاخیر عطف کے لیے مستعمل ہے) لانے سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ ابتھال کے بعد لعنت کا وقوع فوراً ہی ہوجائے گا تاخیر نہ ہوگی۔
بغوی نے لکھا ہے کہ جب وفد نجران کے سامنے رسول اللہ نے یہ آیت پڑھی اور ان کو مباہلہ کی دعوت دی تو انہوں نے جواب دیا ہم ذرا لوٹ کر اس معاملہ میں غور کرلیں ہم کل آئیں گے عاقب سب سے زیادہ عقلمند اور سوجھ بوجھ والا تھا۔ اہل وفد نے تخلیہ میں اس سے پوچھا عبد المسیح آپ کی کیا رائے ہے ؟ عاقب نے جواب دیا برادران عیسائیت تم خوب پہچان چکے ہو کہ محمد نبی مرسل ہیں خدا کی قسم کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی قوم نے کسی نبی سے مباہلہ کیا ہو اور پھر ان میں کا کوئی بڑا زندہ رہا ہو یا چھوٹے کو بڑھنے کا موقع ملا ہو (یعنی چھوٹے، بڑے سب ہی مرجاتے ہیں) اب اگر تم نے ایسا کیا تو سب تباہ ہوجاؤ گے لہٰذا اگر تم اپنے انکار پر ہی قائم رہنا چاہتے ہو تو اس شخص سے صلح کرلو اور اپنے ملک کو لوٹ جاؤ اس مشورہ کے موافق سب لوگ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے رسول اللہ صبح کو ہی گھر سے اس حالت میں برآمد ہوچکے تھے۔ کہ حضرت حسین آپ کی گود میں تھے حضرت حسن ؓ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے حضرت فاطمہ ؓ آپ کے پیچھے تھیں اور حضرت فاطمہ ؓ کے پیچھے حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ تھے اور آپ فرما رہے تھے جب میں دعا کروں تو تم آمین کہنا۔
یہ دیکھ کر نجران کا پادری کہنے لگا اے گروہ نصاریٰ ! مجھے ایسے چہرے نظر آرہے ہیں کہ اگر یہ اللہ سے دعا کریں تو اللہ پہاڑ کو بھی اس کی جگہ سے ہٹا دے گا لہٰذا تم ان سے مباہلہ نہ کرو ورنہ سب مرجاؤ گے اور روز قیامت تک روئے زمین پر کوئی عیسائی باقی نہیں رہے گا۔ آخر اہل وفد نے کہا ابو القاسم ! ہمارے رائے یہ ہوئی ہے کہ ہم آپ سے مباہلہ نہ کریں آپ اپنے مذہب پر رہیں اور ہم اپنے مذہب پر۔ رسول اللہ نے فرمایا : اگر تم مباہلہ کرنے سے انکار کرتے ہو تو مسلمان ہوجاؤ جو مسلمانوں کے حقوق و فرائض ہیں وہ تمہارے بھی ہوجائیں گے۔
جب اہل وفد نے مسلمان ہونے سے انکار کیا تو حضور ﷺ نے فرمایا : اب میری تمہاری جنگ ہوگی کہنے لگے عرب سے لڑنے کی ہم میں طاقت نہیں ہے ہم آپ سے اس شرط پر صلح کرسکتے ہیں کہ آپ ہم پر نہ لشکر کشی کریں، ہم کو خوزدہ کریں، نہ اپنا مذہب ترک کرنے پر مجبور کریں اور ہم سالانہ دو ہزار جوڑے کپڑوں کے آپ کو ادا کرتے رہیں۔ ایک ہزار صفر میں اور ایک ہزار رجب میں حضور ﷺ نے اس شرط پر ان سے صلح کرلی اور فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اہل نجران کے سروں پر عذاب آ ہی گیا تھا اگر وہ مباہلہ کرتے تو ان کی صورتیں مسخ ہو کر بندروں اور سوروں جیسی ہوجاتیں ساری وادی بھڑکتی ہوئی آگ سے بھر جاتی نجران اور نجران کے رہنے والے یہاں تک کہ درختوں پر پرندے بھی بیخ و بن سے تباہ ہوجاتے اور سال پلٹنے نہ پاتا کہ سارے عیسائی ہلاک ہوجاتے۔ کذا اخرج ابو نعیم فی الدلائل من طرق عن ابن عباس .
اس آیت سے رافضیوں نے خلفاء ثلاثہ کی خلافت کے ابطال اور حضرت علی ؓ کے خلیفہ اوّل ہونے پر استدلال کیا ہے ان کا قول ہے کہ اس آیت میں ابناء سے حضرت حسن ؓ و حسین ؓ اور نساء سے حضرت فاطمہ ؓ اور انفسنا سے حضرت علی ؓ مراد ہیں۔ اللہ نے علی ؓ کو نفس محمد ﷺ قرار دیا ہے اس سے یہ مراد ہے کہ علی ؓ فضائل میں محمد ﷺ کے مساوی تھے اور ظاہر ہے کہ رسول اللہ کو امارت الناس کا سب سے زیادہ حق تھا اللہ نے فرمایا ہے : النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم پس علی ؓ بھی ایسے ہی ہوئے لہٰذا علی ؓ ہی رسول اللہ کے بعد امام ہوئے۔
اس استدلال کا جواب چند طرح سے ہوسکتا ہے۔ (1) انفس جمع کا صیغہ ہے جو تعدد نفوس پر دلالت کر رہا ہے۔ ایک نفس رسول اللہ کا اور دوسرے نفوس آپ کے متبعین کے وحدت نفس پر کوئی لفظ دلالت نہیں کر رہا ہے اور وحدت نفس نہ ہونا ہے بھی ظاہر (کیونکہ رسول اللہ کی شخصیت جدا تھی اور علی ؓ کی شخصیت علیحدہ) ۔
(2) ممکن ہے کہ بطور عموم مجاز حضرت علی کا شمار بھی ابناء ہی میں ہوجائے کیونکہ عرف میں داماد پر ابن کا اطلاق ہوتا ہے۔
(3) ممکن ہے کہ انفسنا سے مراد وہ سب لوگ ہوں جو نسب اور دین کے اعتبار سے رسول اللہ ﷺ سے وابستہ ہوں۔ دیکھو آیت : و لا تخرجون انفسکم من دیارکم اور تقتلون انفسکم میں وہ لوگ مراد ہیں جو دین اور نسب میں متحد ہوں اسی طرح آیت : ظن المؤمنون والمؤمنات بانفسھم خیراً اور ولا تلمزوا انفسکم میں انفس سے وہ ہی لوگ مراد ہیں جن کے باہم دینی اور نسبی رشتہ ہو لہٰذا ضروری نہیں کہ فضائل میں مساوات ہو۔
(4) رسول اللہ کے ساتھ حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کی تمام ہی اوصاف میں مساوات تو باتفاق فریقین غلط ہے (کیونکہ وصف رسالت میں شرکت نہیں) اور بعض اوصاف میں برابر ہونے سے مدعا ثابت نہیں ہوتا (کیونکہ کیا ضروری ہے کہ وصف امامت میں حضرت علی ؓ رسول ﷺ کے مساوی ہوں)
(5) اگر اس آیت سے حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کا امیر المؤ منین ہونا ثابت ہوتا ہے تو پھر رسول اللہ کی زندگی میں بھی ایسا ہونا ضروری قرار پاتا ہے مگر آپ اس کے قائل نہیں البتہ اس واقعہ سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ کے نزدیک یہ بزرگ ہستیاں سب سے زیادہ محبوب تھیں۔
Ayah 3:62اِنَّ ھٰذَا لَھُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ ۚ : یعنی عیسیٰ و مریم ( علیہ السلام) کا جو واقعہ بیان کیا گیا یہی سچا بیان ہے۔ ھُو ضمیر فعل ہے یا مبتدا ہے اور القصص اس کی خبر ہے اور پورا جملہ اِنّ کی خبر ہے۔ ضمیر فصل پر لام تاکید کا آنا صحیح ہے کیونکہ اصل میں تو یہ لام مبتدا پر آتا ہے اسی لیے اس کو لام ابتداء کہتے ہیں مگر خبر پر بھی آجاتا ہے مگر جب مبتدا اور خبر کے درمیان ضمیر فصل ہو تو چونکہ ضمیر مبتدا کے قریب ہوتی ہے (اور خبر اس کے بعد آتی ہے) اس لیے اس پر لام آجاتا ہے۔
وَمَا مِنْ اِلٰهٍ : اور کوئی الٰہ نہیں ہے۔ استغراق نفی کی تاکید کے لیے مِنْ کو زیادہ کیا گیا ہے۔ یہ عیسائیوں کے عقیدۂ تثلیث کا ردّ ہے۔
اِلَّا اللّٰهُ : سوائے اللہ کے۔
وَاِنَّ اللّٰهَ لَھُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اور حقیقت میں اللہ ہی غالب اور حکمت والا ہے۔ اس جملہ کی نحوی ترکیب وہی ہے جو مذکورہ بالا جملہ اِنَّ ھٰذَا لَھُوَ الْقَصَصُ الْحَقّ کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عزت، کمال قدرت اور احاطہ حکمت میں کوئی بھی اللہ کے برابر نہیں ہے پھر الوہیت میں کوئی کس طرح اس کا شریک ہوسکتا ہے۔
Ayah 3:63فَاِنْ تَوَلَّوْا : پس اگر اب بھی انہوں نے دلائل حق سے روگردانی اور توحید سے اعراض کیا تو اللہ ان کو عذاب دے گا (کیونکہ یہ مفسد ہیں) ۔
فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِالْمُفْسِدِيْنَ : اور اللہ مفسدوں کو خوب جانتا ہے اِنْ کی جزا محذوف ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا : فَاِنْ تَوَلَّوْا فَ اللہ ُ یُعَذِّبُھُمْ عذاب کا باعث تھا مفسد ہونا پس علت کو معلول کے بجائے ذکر کردیا (تاکہ حکم عذاب کی علت معلوم ہوجائے اور حکم کا ثبوت دلیل سے ہوجائے) کیونکہ کفر و معاصی کو دنیا میں پھیلا کر اور لوگوں کو ایمان سے روک کر ملک میں بگاڑ پیدا کرنا اور خود ولی نعمت کی نا شکری اور نافرمانی اور اس کے رسول کی مخالفت کرکے عالم کو تباہ کرنا عذاب پانے کا سبب ہے اور اللہ کو ان کا مفسد ہونا معلوم ہے (پس لا محالہ اللہ ان کو عذاب دے گا) اس آیت میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ حق سے روگردانی فساد انگیز حرکت ہے (اس سے امن تباہ ہوجاتا ہے ) ‘ وا اللہ اعلم۔
مفسرین نے لکھا ہے کہ نجران کا وفد مدینہ میں آیا تو اس کی ملاقات یہودیوں سے ہوئی اور حضرت ابراہیم کے متعلق دونوں فریق کا مناظرہ ہوگیا۔ عیسائیوں نے کہا کہ ابراہیم نصرانی تھے اور ہم ان کے دین پر ہیں لہٰذا ہمارا ان سے خصوصی تعلق ہے اور یہودیوں نے کہا ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے ہم ان کے مذہب پر ہیں ان کا ہم سے قریب ترین تعلق ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا : دونوں گروہوں کا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے دین سے کوئی تعلق نہیں ابراہیم ہر طرف سے کٹ کر اللہ ہی کے ہوگئے تھے اور اللہ کے فرمان بردار تھے میں ان کے دین پر ہوں لہٰذا تم سب ابراہیم (علیہ السلام) کے دین یعنی اسلام کا اتباع کرو۔ یہودی بولے آپ تو یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ کو رب بنا لیا اسی طرح ہم بھی آپ کو رب بنالیں۔ عیسائی کہنے لگے آپ کی یہ تو مرضی ہے کہ یہودیوں نے جو بات عزیر کے بارے میں کہی ہے وہی ہم آپ کے متعلق کہنے لگیں اس پر اللہ نے آیت ذیل نازل کی۔
Ayah 3:64قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ : آپ کہہ دیں اے اہل کتاب۔ اہل کتاب کا لفظ دونوں کتابوں والوں کو شامل ہے۔
تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ : ایک بات کی طرف آجاؤ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ جس قصہ کی کچھ تفصیل ہو عرب اس کو کلمہ کہہ دیتے ہیں اسی لیے قصیدہ کو کلمہ کہا جاتا ہے۔
سَوَاۗءٍۢ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ : جو ہمارے تمہارے درمیان ایک جیسی ہے سواء مصدر بمعنی اسم فاعل ہے اسی لیے اس کا مؤنث نہیں آتا کیونکہ مصدر کا تثنیہ آتا ہے نہ جمع نہ مؤنث یعنی اس بات میں قرآن، توریت، انجیل کسی کو کوئی اختلاف نہیں۔
اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ : وہ یہ ہے کہ اللہ کے سوائے ہم کسی کو نہ پوجیں یعنی عبادت میں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں نہ انسان کو، نہ بت کو، نہ فرشتہ کو، نہ شیطان کو۔
وَلَا نُشْرِكَ بِهٖ شَيْـــًٔـا : اور کسی شئ کو واجب الوجود ہونے میں اسکا ساجھی نہ قرار دیں جیسے یہودی عزیرکو خدا کا بیٹا اور عیسائی مسیح کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور نصاریٰ اللہ کو تین میں کا تیسرا قرار دیتے ہیں اور نتیجہ میں عزیر ( علیہ السلام) اور مسیح کی پوجا کرتے ہیں۔
وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا : اور ہم میں سے بعض آدمی بعض آدمیوں کو رب نہ بنائیں یعنی بعض لوگ بعض کی اطاعت نہ کریں۔
مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کی اجازت کے بغیر۔ حضرت عدی بن حاتم راوی ہیں کہ جب آیت : اتخذوا احبارھم و رھبانھم اربابا من دون اللہ نازل ہوئی تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ہم تو علماء و مشائخ کی پوجا نہیں کرتے تھے فرمایا : کیا وہ (اپنی مرضی سے اشیاء کو) تمہارے لیے حلال حرام نہیں بنایا کرتے تھے اور پھر تم ان کے قول پر عمل نہیں کیا کرتے تھے میں نے عرض کیا : جی ہاں (ایسا تو کرتے تھے) فرمایا : یہی تو وہ ہے (یعنی یہی تو غیر اللہ کو رب بنانا ہوا) ترمذی نے اس روایت کو حسن کہا ہے۔
اطاعت رسول حقیت میں اللہ ہی کی اطاعت ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے اللہ نے فرمایا : و مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہ اسی طرح علماء، اولیاء، حکام اور بادشاہوں کا حکم جب کہ شریعت کے موافق ہو اللہ ہی کی اطاعت ہے اللہ کا ارشاد ہے : اَطِیْعُوْا اللہ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُوْلِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ اور جو خلاف شرع ہو اس کی اطاعت غیر اللہ کی ربوبیت کی تسلیم ہے۔
حضرت علی ؓ کا قول ہے معصیت خداوندی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں اطاعت تو معروف میں ہونی چاہئے۔
(رواہ الشیخان فی صحیحہما و ابو داؤد والنسائی)
حضرت عمران بن حصین اور حضرت حکیم بن عمرو غفاری کی روایت ہے کہ خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔ اس مقام سے اس بات پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ اگر کسی کی تحقیق میں کوئی مرفوع حدیث صحیح ثابت ہوجائے اور اس کے مقابل کوئی دوسری حدیث نہ ہو اور کوئی حدیث اس کی ناسخ بھی نہ ہو اور امام ابوحنیفہ (رح) کا فتویٰ حدیث مذکور کے خلاف ہو اور باقی ائمہ میں سے کسی امام کا مسلک حدیث مذکور کے موافق ہو تو اس صورت میں حدیث کا اتباع واجب ہے ایسی حالت میں اگر امام اعظم (رح) کے فتوے پر جما رہے گا تو گویا یہ غیرا اللہ کی ربوبیت کی تسلیم ہوگی۔ بیہقی نے مدخل میں صحیح اسناد کے ساتھ عبد اللہ بن مبارک کا قول نقل کیا ہے ابن مبارک نے کہا میں نے خود ابوحنیفہ (رح) کو یہ فرماتے سنا کہ اگر رسول اللہ کی کوئی حدیث مل جائے تو ہمارے سر آنکھوں پر اور کسی صحابی کا قول مل جائے تو ان کے اقوال سے ہم (کسی مسلک کو) ترجیح دیں گے اور کسی تابعی کا قول ہو تو ہم اس سے مقابلہ کریں گے۔ بیہقی نے روضۃ العلاء سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امام اعظم (رح) نے فرمایا : رسول اللہ کی حدیث اور صحابہ ؓ کے قول کے مقابل میں میرے قول کو ترک کردو۔ یہ بھی منقول ہے کہ امام صاحب نے فرمایا : اگر حدیث صحیح ثابت ہوجائے تو وہی میرا مذہب ہے۔ ہم نے عمل بالحدیث کے لیے یہ شرط لگائی ہے کہ چاروں اماموں میں سے کسی امام کا قول اس حدیث کے موافق ہونا ضروری ہے اس شرط کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں حدیث کے خلاف عمل کرنے سے اجماع کی خلاف ورزی لازم آملے گی کیونکہ تیسری یا چوتھی قرن کے بعد فرعی مسائل میں اہل سنت کے چار فرقے ہوچکے کوئی پانچواں مذہب باقی نہیں رہا۔ پس گویا اس امر پر اجماع ہوگیا کہ جو قول ان چاروں کے خلاف ہو وہ باطل ہے اور رسول اللہ کا ارشاد ہے کہ میری امت کا اتفاق گمراہی پر نہیں ہوگا۔ اللہ نے بھی فرمایا ہے۔
وَ مَنْ یَّتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْن نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَ نُصْلِہِ جَھَنَّمَ وَ سَاءَ تْ مَصِیْرًا اس کے علاوہ یہ بات بھی ظاہر ہے کہ یہ بات تو ممکن ہے کہ حدیث مذکور کا علم چاروں اماموں میں سے کسی کو نہ ہوا ہو اور نہ ان کے شاگردوں میں سے کسی بڑے عالم کو اطلاع ہو اس سے معلوم ہوا کہ اگر سب نے بالاتفاق حدیث مذکور کے خلاف فتویٰ دیا ہے اور حدیث پر عمل ترک کردیا ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہوگی کہ اس حدیث کو کسی دوسری حدیث سے انہوں نے منسوخ یا مؤ ول قرار دیا ہے۔
فائدہ اگر علماء شرع کسی مسئلہ کے جواز یا عدم جواز کا فیصلہ کرچکے ہوں تو پھر اس فتوے کی خلاف ورزی یہ کہہ کر کرنی جائز نہیں کہ مشائخ صوفیہ کا طریقہ اس کے علاوہ ہے اور ہم صوفیہ کے طریقہ کے پابند ہیں حقیقت میں صوفیائے کرام نے شرع کے خلاف کبھی کوئی کام نہیں کیا۔ شریعت کا بگاڑ تو ان جاہلوں کی وجہ سے ہوا جو صوفیہ کے پیچھے آئے (اور تصوف کے علمبردار بنے)
فائدہ اولیاء اور شہداء کے مزارات پر سجدے کرنا طواف کرنا، چراغ روشن کرنا، ان پر مسجدیں قائم کرنا، عید کی طرح مزارات پر عرس کے نام سے میلے لگانا جس طرح آج کل جاہل کرتے ہیں۔ جائز نہیں۔
حضرت عائشہ اور حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ مرض (وفات) میں رسول اللہ نے دھاری دار کمبل سے چہرہ مبارک ڈھانک لیا اور دم گھٹا تو منہ سے ہٹا دیا اور اسی حالت میں فرمایا : یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت۔ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ حضرت عائشہ کا بیان ہے حضور ﷺ نے اس ارشاد میں یہود و نصاریٰ کے فعل سے مسلمانوں کو باز داشت کی۔ (بخاری و مسلم) امام احمد اور ابو داؤد طیالسی نے بھی حضرت اسامہ بن زید کی روایت سے یہ حدیث نقل کی ہے۔
حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے یہ حدیث نقل کی ہے اور اس کو صحیح بھی کہا ہے کہ قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر اور ان لوگوں پر جو قبروں پر سجدہ گاہ بناتے اور چراغ جلاتے ہیں اللہ کی لعنت ہو۔ مسلم نے حضرت جندب بن عبد الملک کا قول نقل کیا ہے۔ جندب کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا وفات سے پانچ رات پہلے حضور فرما رہے تھے ہو شیار ! قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا میں تاکید کے ساتھ تم کو اس کی ممانعت کرتا ہوں۔
فَاِنْ تَوَلَّوْا : یعنی اس سیدھی سادھی سچی بات سے جس پر اللہ کی تمام کتابیں اور پیغمبر متفق ہیں اگر یہ لوگ رو گردانی کریں۔
فَقُوْلُوا : تو اے پیغمبر تم اور سب مسلمان کہہ دیں کہ
اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ : اے اہل کتاب تم گواہ رہو کہ تمام آسمانی کتابوں کو ہم مانتے ہیں تم نہیں مانتے۔
حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ ابو سفیان بن حرب نے مجھ سے بیان کیا کہ ہرقل نے مجھے اور قریش کی ایک جماعت کو طلب کیا جس زمانہ میں ہماری اور رسول اللہ کی صلح تھی اس مدت صلح میں ہم شام میں بسلسلہ تجارت گئے ہوئے تھے ایلیا میں ہم ہرقل کے پاس پہنچے ہرقل نے ہم سب کو اپنی مجلس میں طلب کرلیا سب اندر داخل ہوئے اس وقت اس گردا گرد سر داران روم موجود تھے اس کے بعد اس نے وہ خط منگوایا جو دحیہ کے ہاتھ رسول اللہ نے حاکم بصریٰ کو بھیجا تھا اور حاکم بصریٰ نے وہ ہرقل کو پہنچا دیا تھا خط ان الفاظ کے ساتھ تھا۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ا اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول محمد ﷺ کی طرف سے ہرقل سردار روم کے نام جو ہدایت پر چلے اس پر سلام ہو۔ اما بعد میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں مسلمان ہوجاؤ محفوظ رہو گے اللہ تم کو دوہرا ثواب دے گا۔ اگر تم نے روگردانی کی تو رعایا کا گناہ بھی تم ہی پڑ پڑے گا اے اہل کتاب ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے تمہارے درمیان برابر ہے وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی پوجا نہ کریں، اس کا کسی چیز کو شریک نہ قرار دیں اور ہم میں سے کوئی کسی کی اطاعت اللہ کی اجازت کے بغیر نہ کرے اس کے بعد بھی اگر انہوں نے روگردانی کی تو مسلمانو تم کہہ دو کہ (اے اہل کتاب) تم گواہ رہو کہ ہم (سب کو) مانتے ہیں (اور اللہ کے فرماں بردار ہیں) (متفق علیہ)
فائدہ رسول اللہ نے یہ آیت نجرانی نمائندوں کو پڑھ کر سنائی اور ہرقل کو لکھ کر بھیجی اور سب نے اس کو تسلیم کیا اور مضمون کا انکار نہیں کیا اور یہ کہہ کر رد نہ کردیا کہ یہ بات ہماری کتابوں میں نہیں ہے یہ اموررسول اللہ کی نبوت کا قطعی ثبوت ہیں اور یہ بات یقینی ہے کہ مندرجۂ آیات امور پر تمام کتابوں اور پیغمبروں کا اتفاق ہے رہا عزیر اور عیسیٰ کو خدا کا بیٹا قرار دینا یہ صرف دماغی تراشیدہ اور تقلیدی عقیدہ ہے آسمانی کتابوں میں اس کی سند نہیں ہے۔ چونکہ عیسیٰ کا ابن اللہ ہونا کسی کتاب میں نہیں اسی لیے تو رسول اللہ سے مناظرہ کے وقت انہوں نے (اپنی اختراعی عقلی یہ) دلیل پیش کی کہ کیا بن باپ کا آپ نے کوئی آدمی دیکھا ہے۔
امام بیضاوی نے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے قصہ میں کس قدر پر زور ہدایت کا طریقہ اختیار کیا اور مناظرہ میں کتنی خوبصورت ترتیب مناظرہ ملحوظ رکھی قابل غور ہے۔ اوّل حضرت عیسیٰ کے وہ احوال واطوار بیان کئے جو الوہیت کے منافی ہیں پھر عیسیٰ کی تخلیقی حالت کو آدم کی تخلیقی حالت سے تشبیہ دے کر ان کے دل کی گرہ اور شبہ کو دور کرنے کا طریقہ اختیار کیا لیکن اس کے بعد بھی جب ان کی طرف سے ضد اور ہٹ دیکھی تو اعجاز آگیں طریقہ سے مباہلہ کی دعوت دی اور جب دیکھا کہ مباہلہ سے وہ کترا گئے اور کسی قدر اطاعت کا اظہار کرنے لگے تو پھر ان کو ہدایت کرنے کی طرف رخ کیا اور اس طریقہ سے ہدایت کی پیش کش کی جو بہت ہی آسان اور لا جواب بنا دینے والا ہے یعنی ان کو ایسی چیز کی دعوت دی جس پر حضرت عیسیٰ انجیل و تمام پیغمبر اور کتابیں متفق ہیں اور یہ طریقہ بھی سود مند ثابت نہیں ہوا اور تمام آیات و تنبیہات غیر مفید ہوئیں تو پھر ہر طرف سے رخ موڑ کر فرمایا : اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ.
ابن اسحاق نے اپنی مکرر سند سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ نجران کے عیسائی اور یہودی علماء رسول اللہ کی خدمت میں جمع ہوئے علماء یہود نے کہا کہ ابراہیم تو یہودی ہی تھے اور عیسائیوں نے کہا کہ وہ عیسائی تھے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 3:65يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ : اے اہل کتاب یہ خطاب دونوں فریقوں کو ہے۔
لِمَ تُحَاۗجُّوْنَ فِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ : تم ابراہیم کے دین کے متعلق باہم کیوں جھگڑا کرتے ہو۔
وَمَآ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَالْاِنْجِيْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ : حالانکہ تورات و انجیل تو ابراہیم سے مدت کے بعد نازل کی گئی تھی اور تورات کے نزول کے بعد دین یہود پیدا ہوا اور انجیل کے نزول کے بعد دین عیسائیت۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ایک ہزار سال بعد حضرت موسیٰ آئے اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے دو ہزار برس کے بعد حضرت عیسیٰ ہوئے حضرت عیسیٰ انبیاء بنی اسرائیل میں آخری پیغمبر تھے۔
اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ : کیا تم اپنے قول کی غلطی نہیں سمجھتے غالباً یہود و نصاریٰ کا دعویٰ یہ تھا کہ فرعی اعمال میں ابراہیم کا عمل توریت و انجیل کے موافق تھا بلکہ ممکن ہے یہ بھی خیال ہو کہ حضرت موسیٰ کی وفات اور حضرت عیسیٰ کے آسمان پر جانے کے بعد دونوں فریقوں نے جو مسائل فرعیہ از خود ایجاد کر رکھے تھے ان میں بھی ابراہیم کا عمل ان کے اختراع کردہ اعمال کے مطابق تھا یہ ہی بحث دونوں گروہوں میں محل نزاع تھی جو سراسر غلط تھی کیونکہ ضابطہ الٰہی اور سنت خداوندی اس طرح ہے کہ جب گذشتہ شریعت کو زیادہ زمانہ گذر جاتا تھا تو ہر زمانہ کی مصلحت کے پیش نظر اللہ گذشتہ شریعت کے فرعی احکام منسوخ فرما دیتا تھا ایسی حالت میں یہودیت یا عیسائیت کے موافق دین ابراہیم کا ہونا کس طرح ممکن ہے ہاں اصول دین اور غیر منسوخ فرعی احکام جیسے غیر اللہ کی عبادت کی حرمت اور کذب و ظلم کی ممانعت تو یہ امور تمام شرائع میں ایک ہی طرح موجود ہیں ان میں اختلاف کا احتمال ہی نہیں۔ وا اللہ اعلم۔
Ayah 3:66ھٰٓاَنْتُمْ : کو فیوں کی قراءت پر پڑھا حرف تنبیہ اور انتم ضمیر مذکر مخاطب ہے اور قنبل و درش کی قراءت پر یہ لفظ بغیر مد کے ھَاَنْتم ہے جو اصل میں ءَ اَنْتُمْ تھا جیسے ھَرَقت اصل میں اَرَقْتُ تھا ہمزہ استفہامیہ کو ہ سے بدل دیا اس صورت میں جملہ استفہامیہ انکاریہ ہوگیا اور اوّل صورت میں مخاطب کو غفلت پر تنبیہ ہوگی۔
ھٰٓؤُلَاۗءِ : انتم مبتداء ہے اور ھولاءِ اس کی خبر ہے اور ائندہ جملہ اس جملہ کے مضمون کا بیان ہے۔ یا انتم مبتدا ہے اور حاججتم اس کی خبر اور ھٰولاء منادی ہے اور حرف نداء محذوف ہے یعنی اے لوگو ! تم نے باہم جھگڑا کیا ان امور میں جن کا تم کو علم ہے بعض لوگوں نیھٰؤلاءِ کو موصول کے معنی میں قرار دیا ہے کیونکہ کو فیوں کے نزدیک موصول کی جگہ اسم اشارہ کا استعمال جائز ہے یعنی کیا تم وہی لوگ ہو کہ تم نے جھگڑا کیا۔۔
حَاجَجْتُمْ : تم نے باہم جھگڑا کیا۔
فِيْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ : ان امور میں جن کا تم کو علم ہے یعنی تم نے موسیٰ اور عیسیٰ کے معاملہ میں جھگڑا کیا اور ان کے دین پر ہونے کا دعویٰ کیا حالانکہ تم واقف ہو کہ توریت و انجیل کا دین کیا ہے اور تم نے کتنی تلبیس کی ہے توریت و انجیل میں محمد رسول اللہ کے اوصاف موجود ہیں اور یہ بھی مذکور ہے کہ دین محمدی سے ان کے احکام منسوخ کردیئے جائیں گے مگر تم نے جانتے ہوئے ان باتوں کو چھپایا مگر اللہ نے یہ پردہ چاک کرکے تم کو رسوا کردیا۔
فَلِمَ تُحَاۗجُّوْنَ فِيْمَا لَيْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ : پس اے بیوقوفو ! جو اپنے دعویٰ کی غلطی کی طرف سے غافل ہو تم ان امور میں کیوں جھگڑا کرتے ہو جن کا تم کو کچھ علم نہیں ہے یعنی ابراہیم کے دین و شریعت میں تم کیوں نزاع کرتے ہو وہ تم سے ہزاروں برس پہلے تھے اور توریت و انجیل میں ان کی شریعت کی تفصیل مذکور نہیں ہے۔
وَاللّٰهُ يَعْلَمُ : اور ہر نبی پر جو احکام نازل کئے گئے ان کو اللہ ہی جانتا ہے۔
وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ : اور تم نہیں جانتے۔ مگر اتنا ہی جتنا تمہاری کتاب میں اللہ نے تم کو بتادیا۔ بلکہ تم کو کچھ علم ہی نہیں کیونکہ جو کچھ اللہ نے کتاب میں نازل کیا تھا اس کو تم نے چھوڑ دیا اور اللہ کی کتاب کو پس پشت پھینک دیا۔ یہاں تک کہ تم محمد ﷺ پر ایمان نہ لائے حالانکہ اللہ تم سے اس کا پختہ وعدہ لے چکا تھا پس اس مناظرہ بازی میں بھی تم کو رسوائی ہوگی کیونکہ تم جاہل ہو اور جاہل عالم سے مناظرہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ اس آیت میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ رسول اللہ کی طرف سے دین ابراہیم (علیہ السلام) کے سلسلہ میں مناظرہ صحیح ہے کیونکہ اللہ کے بتانے سے آپ کو دین ابراہیم (علیہ السلام) کا علم ہوگیا تھا۔
Ayah 3:67مَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا : ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی یعنی دین ابراہیم بہت سے فرعی مسائل میں دین موسیٰ کے موافق تھا نہ شریعت عیسیٰ کے۔
وَّلٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا : بلکہ وہ تمام غلط عقائد سے رو گرداں تھے بعض علماء نے کہا ہے کہ حنیف وہ ہے جو موحد ہو قربانی کرے ختنہ کرائے اور کعبہ کی طرف (نماز میں) منہ کرے اور یہ باتیں نہ یہودیوں میں تھیں نہ عیسائیوں میں۔
مُّسْلِمًا : اللہ کے تمام احکام کی تعمیل کرنے والے تھے نفسانی خواہشات کے پیرو نہ تھے اور تم اللہ کے احکام کی تعمیل نہیں کرتے تم اس پیغمبر کو ہی نہیں مانتے جس کا ذکر توریت و انجیل میں تمہارے پاس لکھا موجود ہے تم دوسروں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو اللہ کو تین میں کا تیسرا کہتے ہو اور عزیر ( علیہ السلام) و مسیح کو خدا کے بیٹے قرار دیتے ہو پس تم ابراہیم کے دین و ملت پر ہونے کا دعویٰ کس طرح کرتے ہو۔
وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ : اور ابراہیم مشرکوں میں سے نہیں بلکہ موحدین میں سے تھے۔