Ayah 3:14زُيِّنَ للنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ : زَیْنٌ (مصدر) شَیْنٌ کے برعکس ہے اس کا مفہوم ہے کسی چیز کا آراستہ، خوبصورت قابل ستائش اور محبوب خاطر ہونا۔ اسباب زینت کبھی (داخلی ہوتے ہیں کبھی خارجی، داخلی اسباب کبھی) غیر مادی ہوتے ہیں جیسے علم عقل وغیرہ اور کبھی مادی بدنی ہوتے ہیں جیسے جسمانی طاقت، حسن قامت، جمال صورت، خارجی اسباب زینت لباس، گھوڑا، سواری، مال، مرتبہ وغیرہ ہیں۔ تزیین (مصدر باب تفعیل۔ متعدی) کسی چیز کو حامل زینت بنا دینا خواہ واقعی وہ حامل زینت ہوجائے جیسے : زَیَّنَا السَّمَآء الدُّنْیَاء بِمَصَابِیْحَ یا محض اعتقادی زینت ہو عتقادی زینت بھی دو طرح کی ہوتی ہے واقع کے مطابق اور غیر مطابق اوّل کی مثال جیسے : وَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَہُ فِی قُلُوْبِکُمْ اور دوسرے کی مثال جیسے : زُیِّنَ لَھُمْ سُوْءُ اَعْمَالِھِم ایمان اور بد عملی دونوں اعتقادی اسباب زینت ہیں لیکن اوّل واقعی سبب زینت ہے اور دوسرا محض فرضی۔
شہوت کسی چیز کی طرف نفس کی انتہائی رغبت اور کمال میلان۔ آیت میں شہوات سے مراد ہیں مشتہیات (یعنی مرغوبات) کیونکہ حقیقت میں یہ مرغوب چیزیں ہی اسباب زینت اور جاذب محبت ہیں۔ محبت مرغوبات کی جگہ محبت شہوات کا ذکر اپنے اندر دو خوبیاں رکھتا ہے۔
(1) تنبیہ اور زجر کا مقام ہے اور شہوات کا ذکر کرنے سے زجر میں زور پیدا ہوگیا۔ (2) اس بات کی طرف اشارہ ہوگیا کہ لوگ اسباب زینت کی محبت میں اتنے غرق ہیں کہ اسباب زینت کی خواہش سے بھی محبت رکھتے ہیں گویا اصل کلام اس طرح تھا۔ زین للناس حب محبۃ النساء والاولاد والمال وغیرہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے : احببت حب الخیر مجھے خیر کی محبت بھی محبوب ہے۔ (جب لیلیٰ سے محبت ہے تو اس کی محبت بھی پیاری ہے اور عشق لیلیٰ بھی محبوب ہے۔ قیس نے کہا تھا۔
ع الٰہی مجھ سے جدا ہو نہ الفت لیلیٰ
صاحب کشاف نے لکھا ہے کہ تقاضاء مقام ہے کہ اشیاء دنیوی سے نفرت دلائی جائے اور ثواب عند اللہ کی طرف رغبت پیدا کی جائے اور بجائے مشتہیات کے شہوات کہنے سے نفرت دلانے میں زور پیدا ہوجاتا ہے کیونکہ یہ شہوت علامت دناءت اور دلیل بیہمت ہے۔ بعض علماء نے کہا کہ ان مذکورہ اشیاء میں مشغول رہنے اور ان کی طرف کامل توجہ رکھنے سے باز داشت اس لفظ کی وجہ سے پرزور طور پر کردی گئی کیونکہ ان اشیاء دنیوی کو کمال مرغوبیت و محبوبیت حاصل ہے جس کی وجہ سے یہ چیزیں اپنی طرف کا مل طور پر کھینچتی ہیں اور اللہ کے مقرر کردہ ثواب سے کاٹ دیتی ہیں۔
اسباب زینت بنانے والا حقیقت میں اللہ ہی ہے کیونکہ وہی تمام جو اہر، اعراض اور انسان کے اعمال و جذبات کا خالق ہے ان چیزوں میں دل کشی اور زیبائش غالباً چند وجوہ کے لیے پیدا کی ایک تو آزمائش مقصود ہے جیسے خود ہی فرمایا ہے : انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا لنبلوھم ایھم احسن عملا دوسرے اہل ایمان کی عملی جدو جہد کا بھی یہ ذریعہ ہے، تیسرے شکر نعمت کا بھی سبب ہے، چوتھے سعادت آخرت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، پانچویں ملائکہ پر آدمی کی فضیلت کا موجب ہے، چھٹے کافروں کو توفیق نہ دینے اور ان کو گمراہ کردینے کا باعث ہے۔ فرمایا ہے : یضل بہٖ من یشاء و یھدی من شیاء۔ پھر شخصی اور نوعی زندگی کے بقاء کی حکمت بھی اس کے اندر ہے فرمایا : قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہٖ ۔
بعض علماء کا قول ہے کہ آیت میں فاعل تزیین شیطان ہے کیونکہ آیت کا سیاق مذمت آگئی ہے اور مقام ذم میں فاعل تزیین شیطان کو ہی قرار دینا مناسب ہے۔ ہاں اللہ نے کبھی تزیین اشیاء کی نسبت اپنی ذات کی طرف کی ہے لیکن یہ نسبت تخلیق کے اعتبار سے ہے (کہ ہر دلکش چیز کا خالق اللہ ہے) فرمایا ہے : وَ کَذَالِکَ زَیَّنَا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَھُمٌ وَ زَیَّنَّا لَھُمْ اَعْمَالَھُمْ فَھُمْ یَعْمَھُون دوسری جگہ فرمایا ہے : وَزَیََّنَہٗ فِی قُلُوْبِکُمْ اور کبھی شیطان کی طرف کی ہے اسلئے کہ دلوں میں وسوسہ ڈالنے اور غافل بنانے کا سبب شیطان ہے فرمایا ہے : اِذْ زَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطَانُ اَعْمَالَھُمْ اور لَاُزَیِّنَنَّ لَھُمْ اور وَ زَیََّنَ لَھُمُ الشَّیْطَانُ اَعْمَالَھُمْ فَصَدَّھُمْ عَنِ السَّبِیْلِ .
مِنَ النِّسَاۗءِ وَالْبَنِيْنَ وَالْقَنَاطِيْرِ : قناطیر جمع قنطار مفرد، تہ بر تہ چنا ہوا کثیر مال (ڈھیر) قنطار میں مضبوطی کا مفہوم بھی ہے۔ محاورہ ہے قَنْطَرْتُ الشَیء : میں نے اس چیز کو مضبوط کردیا۔ قنطرۃ (پل) اسی سے بنا ہے۔ حضرت معاذ بن جبل نے قنطار کی مقدار دو سو اوقیہ قرار دی ہے حضرت ابن عباس ؓ نے بارہ سو مثقال یا بارہ ہزار درہم یا ایک ہزار دینا۔ سعید بن جبیر اور عکرمہ ؓ نے سو ہزار اور سو سیر اور سو رطل (پونڈ) اور سو مثقال اور سو درہم (غرض ہر چیز کا ایک سینکڑہ) سدی نے چارہزار مثقال حکم نے کہا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں قنطار ہیں۔ بعض نے کہا بیل کی کھال بھر مشک قنطار ہے۔
قنطار کا وزن فعلال ہے یا فنعال یہ بحث اختلافی ہے۔ (یعنی قنطار کا نون اصلی ہے یا الحاقی یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے)
الْمُقَنْطَرَةِ : یہ لفظ قنطار ہی سے بنا ہے قنطار کے بعد مقنطرۃ کا لفظ تاکید کے لیے لایا (ڈھیروں جمع کیا ہوا مال) جیسے بدرۃٌ مبدرۃٌ کہا جاتا ہے۔ ضحاک نے مقنطرۃ کا ترجمہ کیا ہے مضبوط محکم۔ یمان نے دفن کردہ اور سدی نے ٹکسالی سکہ (مہری) اور فراء نے چند گنا ترجمہ کیا ہے پس القناطیر سے قنطار کی جمع اور المقنطرۃ سے جمع الجمع مراد لی گئی ہے (یعنی ڈھیروں ڈھیر) ۔ (1) [ حاکم نے حضرت انس کی مرفوع روایت نقل کی ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے کہ قنطار ایک ہزار اوقیہ ہے، امام احمد اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ کی مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ قنطار بارہ ہزار اوقیہ ہے۔ 12 ]
مِنَ الذَّھَبِ : ذہب۔ سونا بعض نے ذہب کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی کہذَھْبٌ : کا معنی ہے جانا اور سونا بھی آنے جانے والی چیز ہے
وَالْفِضَّةِ : فضۃ چاندی، بعض نے اس کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی کہ فِضٌّ کا معنی ہے منتشر ہونا اور چاندی بھی منتشرہونے والی چیز ہے۔
وَالْخَيْلِ : خیل فرس کی جمع ہے خیل کے لفظ سے مفرد نہیں آتا۔
الْمُسَوَّمَةِ : مجاہد نے اس کا ترجمہ کیا مکمل ساخت والے کامل الاعضاء خوبصورت۔ تسویم کا معنی ہے حسن سعید بن جبیر نے کہا چرنے والی یعنی جنگل میں آزادی سے چرنے والے۔ حسن بصری اور ابو عبیدہ نے ترجمہ میں کہا نشاندار۔ یہ لفظ سیماء سے مشتق ہے اور سیماء کا معنی ہے علامت۔ لیکن سیماء سے کیا مراد ہے کسی نے کہا گھوڑے کی جلد کا دھبہ اور رنگ قتادہ نے کہا داغ۔
وَالْاَنْعَامِ : انعام نَعَمٌ کی جمع ہے اور نعم بھی جمع ہے مگر اس لفظ سے اس کا واحد نہیں آتا۔
انعام کا اطلاق اونٹ گائے بھینس اور بکری پر ہوتا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : جنگلی چوپایوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اسی لیے امام صاحب (رح) نے آیت : جزاء مثل ما قتل من النعم کی تفسیر میں النعم سے جنگلی چوپایہ مراد لیا ہے۔
وَالْحَرْثِ : اور کھیتی۔ یعنی انسانوں کے لیے اللہ کی طرف سے عورتوں میں، اولاد میں اور ڈھیروں ڈھیر سونے چاندی میں اور خوبصورت گھوڑوں اور چوپایوں میں اور کھیتی میں دلکشی کا سامان پیدا کیا گیا ہے۔
ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : یہ سب چیزیں دنیوی زندگی میں مزہ اڑانے کی چیزیں ہیں آخر فنا ہونے والی ہیں۔
وَاللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ : اور انجام کی خوبی اللہ ہی کے پاس ہے یعنی اچھا انجام جو انتہائی خوب ہونے کی وجہ سے گویا مجسم خوبی ہے اللہ ہی کے پاس ہے۔ اس میں پوری پوری ترغیب ہے اس امر کی کہ دنیا کی فنا پذیر مرغوبات کو چھوڑ کر آخرت کی لذت آگیں لازوال چیزیں حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ (2) [ قتادہ کا قول ہے کہ ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عمر (اس آیت کی تلاوت کے بعد) کہتے تھے اللھم زینت لنا الدنیا وانبائنا ان مابعدھا خیر منھا فاجعل حظنا فی الذی ھو خیر و ابقی، مولف ]
Ayah 3:15قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ : آپ کہہ دیجئے کہ کیا ان تمام مذکورہ چیزوں سے بہتر چیز میں تم کو بتاؤں۔ اس جملہ میں کافروں کے لیے زجر ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسول اللہ (باوجود پیغمبر ہونے کے) اس امر میں متردد ہیں کہ کیا رحم و مہربانی کے تقاضے کے تحت اور اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کافروں کو اس بہترین چیز کی اطلاع دیدیں یا کافروں کے انکار اور حق سے نفرت کے پیش نظر ان کو نہ بتائیں۔ پہلے اشارۃً کہا تھا کہ اللہ کا عطا کردہ ثواب دنیوی لذتوں سے بہتر ہے۔ اس جملہ میں اسی مضمون کو پختہ کردیا ہے۔
لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ : جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا ان کے لیے اللہ کے پاس جنتیں ہیں۔ متقیوں کا خصوصی ذکر اس وجہ سے کیا کہ حقیقت میں ثواب آخرت سے فائدہ اندوز وہی ہوں گے۔
تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ : جن کے درختوں کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔
خٰلِدِيْنَ فِيْهَا : متقی ان جنتوں میں ہمیشہ رہینگے یعنی داخلہ کے دن کے بعد انکے لیے وہاں ہمیشہ رہنا مقدر ہے۔
وَاَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ : اور پاک بیبیاں یعنی عورتوں کی آلائش، حیض، نفاس اور بول و براز سے پاک بیبیاں۔
وَّرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ : اور اللہ کی عظیم الشان خوشنودی۔ بعض علماء نے بیان کیا کہ آیت میں اللہ نے جنت اور ازواج کا ذکر کیا یہ دونوں چیزیں انسانی مرغوبات کی ہم جنس ہیں جنتیں کھیتی کی جنس سے ہیں اور ازواج عورتوں کی جنس سے۔ اولاد کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ دنیا میں اولاد کا مقصد بقاء نوع اور زندگی کی مدد ہے اور آخرت میں اس کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح گھوڑوں کا چوپایوں کا اور سونے چاندی کا بھی ذکر نہیں کیا کیونکہ جنت میں گھوڑوں وغیرہ کی سواری کی تکلیف نہ ہوگی اور حصول زر کے لیے جو بیع و شراء کی جاتی ہے اس کی بھی ضرورت نہ ہوگی آخر میں ایک ایسی عظیم الشان نعمت کا اضافہ کیا جس پر زیادتی ممکن نہیں یعنی اللہ کی خوشنودی۔ پھر رضوانٌ کو بصورت نکرہ (غیر معروف) لانے سے اشارہ کیا کہ اللہ کی رضا مندی (کی حد) کوئی سمجھ نہیں سکتا۔
حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ اہل جنت سے فرمائے گا اے اہل جنت جنتی جواب دیں گے : لَبَّیْکَ رَبَّنَا وَ سَعْدِیْکَ وَالْخَیْرُ فِیْ یَدَیْکَ اللہ فرمائے گا کیا میں اس سے بڑھ کر چیز تم کو دوں ؟ جنتی عرض کریں گے اے ہمارے رب ! اس سے بڑھ کر کیا چیز ہے ؟ اللہ فرمائے گا میں تم پر اپنی خوشنودی نازل کروں گا تم پر کبھی غصے نہ ہوں گا۔ (متفق علیہ)
میں کہتا ہوں کہ آیت میں جنات کا ذکر انسان کے تمام مرغوبات کے دوش بدوش واقع ہوا ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : وَ فِیْھَا مَا تَشْتَھِیْہِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُن اولاد اقرباء سب جنت میں جمع ہوں گے اور سب سے ہمیشہ ملاقات رہے گی اللہ نے فرمایا ہے : اَلْحَقْنَا بِھِمْ ذُرِیَّتَھُم وَ مَا اَلَتْنٰھُمْ مِنْ عَمَلِھِمْ مِنْ شَیْءٌ رسول اللہ سے دریافت کیا گیا کہ اولاد آنکھوں کی خنکی اور دل کا کامل سرور ہوتی ہے تو کیا جنتیوں کے بچے پیدا ہوں گے ؟ فرمایا : مومن جب اولاد کی خواہش کرے گا تو ایک ہی ساعت میں استقرار حمل وضع حمل اور سن (یعنی بالیدگی اور بڑھاؤ) اس کی خواہش کے مطابق ہوجائے گا)
ترمذی نے روایت کے بعد اس کو حسن کہا ہے بیہقی نے بھی یہ روایت لکھی ہے اور ہناد نے زہد میں حضرت ابو سعید کی روایت سے اس کو ذکر کیا ہے اسی طرح حاکم نے تاریخ میں اور اصبہانی نے ترغیب میں اس کو نقل کیا ہے۔ رہے چاندی سونے کے ڈھیر تو (یہ ثابت ہے کہ) اللہ نے ایک جنت ایسی بنائی ہے جس کی ایک اینٹ چاندی کی دوسری اینٹ سونے کی اور گارا مشک کا ہے (یعنی گنگا جمنی جنت) ۔ 1 ایک مرفوع حدیث میں آیا ہے کہ دو جنتیں چاندی کی ہیں جن کے ظروف اور ان کے اندر کی تمام چیزیں چاندی کی ہیں اور دو جنتیں سونے کی ہیں جن کے برتن اور ان کے اندر کی تمام چیزیں سونے کی ہیں۔ (رواہ البخاری و مسلم من حدیث ابی موسیٰ ) باقی گھوڑوں اور چوپایوں کا جنت کے اندر ہونا تو یہ بھی ثابت ہے ایک اعرابی نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ مجھے گھوڑوں سے محبت ہے کیا جنت میں گھوڑے ہونگے ؟ فرمایا : جب تم جنت میں داخل ہو گے تو تمہارے سامنے یاقوت کا گھوڑا لایا جائیگا جسکے دو بازو ہونگے تم کو اس پر سوار کیا جائیگا اور وہ تم کو تمہاری مرضی کے موافق اڑا کرلے جائے گا۔ 2
ابن مبارک نے حضرت شفی بن مانع ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جنت کی آسائشوں میں سے یہ بات بھی ہوگی کہ جنتی باہم ملاقات کے لیے اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار ہو کر جائیں گے اور جمعہ کے روز ان کے سامنے زین پوش گھوڑے لائے جائینگے جن کے لگا میں لگی ہوں گی وہ لید اور پیشاب نہیں کرینگے جنتی ان پر سوار ہو کر جہاں اللہ چاہے گا پہنچ جائیں گے۔
ابن ابی الدنیا اور ابو الشیخ اور اصفہانی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کی مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کی بالائی چوٹی سے لباس کے جوڑے اور نچلے حصہ سے سونے کے ابلق گھوڑے پیدا ہوں گے جن کی زینیں اور لگامیں موتی اور یاقوت کی ہوں گی ان کے پروں والے بازو بھی ہوں گے ان کا ایک پر بقدر رسائی نگاہ ہوگا وہ لید اور پیشاب نہیں کریں گے ان پر اولیاء اللہ سوار ہوں گے اور جہاں چاہیں گے گھوڑے اڑا کرلے جائیں گے۔ نیچے والے کہیں گے انہوں نے تو ہمارا نور ماند کردیا (ا اللہ یا فرشتہ) کہے گا یہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے تھے تم کنجوسی کرتے تھے یہ جہاد کرتے تھے تم بیٹھے رہتے تھے۔
ابن مبارک نے حضرت ابن عمر ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ جنت میں عمدہ گھوڑے اور اعلیٰ اونٹنیاں ہوں گی جن پر جنتی سوار ہوں گے۔ ابن وہب نے حسن بصری کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : کم سے کم مرتبہ والا جنتی وہ ہوگا جو ہزار در ہزار غلمان جنت کے ساتھ سرخ یاقوت کے گھوڑوں پر سوار ہوگا اور ان گھوڑوں کے بازو سونے کے ہوں گے۔ رہا کھیتی کا تذکرہ تو اس کے سلسلہ میں بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : ایک جنتی اپنے رب سے کھیتی کرنے کی اجازت مانگے گا اللہ فرمائے گا کیا تو اپنی خواہش کے مطابق حالت میں نہیں ہے ؟ جنتی عرض کرے گا کیوں نہیں لیکن میں کھیتی کرنی چاہتا ہوں۔ چناچہ وہ کاشت کرے گا مگر پلک جھپکنے سے پہلے کھیتی اگ آئے گی، پودے ٹھیک ہوجائیں گے اور کھیت کٹنے کے قابل ہوجائے گا اور پہاڑوں کی طرح کھیتی ہوجائے گی اللہ فرمائے گا اے آدم ( علیہ السلام) کے بچے لے تجھے کوئی چیز سیر نہیں کرے گی۔ طبرانی اور ابو الشیخ نے بھی اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے اس روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ کھیتی کی ایک ایک بالی بارہ ہاتھ کی ہوجائے گی اور وہ شخص اپنی جگہ سے ہٹنے بھی نہ پائے گا کہ پہاڑوں کے برابر (غلہ کا) ٹیلہ ہوجائے گا۔
جنت کی نعمتوں میں ازواج کے خصوصی تذکرہ کی وجہ غالباً یہ ہے کہ عرب کو عورتوں کی خواہش شدت کے ساتھ ہوتی تھی یا یہ وجہ ہے کہ جنت میں ہر ایک کو ازواج (حوریں) ملیں گی۔
باقی اولاد تو صرف انہی کو ملے گی جن کی دنیا میں اولاد ہوگی یا جنت میں اولاد کے خواہش مند ہوں گے عموماً اہل جنت کو اولاد کی خواہش نہیں ہوگی کیونکہ حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت میں آیا ہے کہ جب جنت کے اندر مؤمن اولاد کا خواہش مند ہوگا تو فوراً اولاد ہوجائے گی مگر وہ خواہش مند ہی نہ ہوگا۔ (رواہ الترمذی والدارمی) مطلب یہ ہے کہ اکثر لوگ اولاد کے خواہش مند نہ ہوں گے ہم نے یہ تاویل مختلف روایات کو مطابق بنانے کے لیے کی ہے اللہ نے (آخر میں) ایک ایسی نعمت کا ذکر فرمایا ہے۔ جو دنیوی نعمتوں سے بڑھ چڑھ کر ہے اور اس سے بڑی نعمت کا امکان ہی نہیں ہے یعنی اللہ کی خوشنودی۔ اللہ کی رضا مندی ہی وہ امتیازی نعمت ہے جو جنت کی نعمتوں کو دنیوی نعمتوں سے ممتاز کرتی ہے۔ دنیا ملعون ہے جو کچھ اس میں ہے وہ ملعون ہے ہاں دنیا کی چیزوں میں سے جس چیز سے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا مقصود ہو وہ ملعون نہیں ہے بعض روایات میں اللہ کے ذکر اور (علم دین کے) عالم و متعلم کو ملعون ہونے سے مستثنیٰ کیا گیا ہے طبرانی نے اوسط میں ابن مسعود ؓ کی روایت سے اور صغیر میں ابو درداء ؓ کی روایت سے اور ابن ماجہ نے سنن میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اسی طرح بیان کیا ہے اور جنت کی نعمتیں اللہ کی نظر میں پسندیدہ ہیں۔ حضرت ربیعہ حرسی ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : مجھے خواب میں بتایا گیا ہے کہ کسی سردار نے کوئی مکان بنایا اور (پھر) دستر خوان چنوایا اور ایک منادی کو لوگوں کے بلوانے کے لیے بھیجا اب جس شخص نے منادی کی دعوت کو قبول کیا وہ گھر میں آگیا اور اس نے دستر خوان پر کھانا کھالیا اور وہ سردار اس سے خوش ہوگیا اور جس نے دعوت کرنے والے کی دعوت نہ قبول کی وہ گھر میں نہ آیا اور دستر خوان سے کچھ نہ کھا سکا اور سردار اس سے ناراض ہوگیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : سردار تو اللہ ہے اور اس کی طرف سے دعوت دینے والا محمد ہے اور مکان اسلام ہے اور دستر خوان جنت ہے۔ (رواہ الدارمی)
میں کہتا ہوں کہ دنیا کی نعمتیں اللہ کو پسند نہیں ان کی طرف رخ پھیر کر دیکھنا بھی نہیں چاہئے اللہ نے فرمادیا ہے : وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْھُمْ زَھْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا اور جنت کی نعمتیں اللہ کو پسند ہیں ان کی رغبت کرنے والا قابل ستائش ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : و فِیْ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَناَفِسُوْنَ اس کا راز یہ ہے کہ موجودات دنیوی کا مبدِؤ جود عدم ہے (تمام ممکنات اصلاً معدوم ہیں پہلے نہ تھے پھر ہوئے ان کا وجود حادث ہے ازلی نہیں) تمام اعدام کا تقرر اللہ کے علم میں تھا (وجود نہ تھا اندازۂ وجود تھا) جب اللہ کی صفات کمالیہ کا ان پر پر تو پڑا تو ان میں (وجود کی) چمک آگئی اور ان کا وجود ظلی ہوگیا جیسے جہالت پر علم کا اور عجز پر قدرت کا عکس پڑتا ہے تو جہالت میں علم کا اور عجز میں قدرت کا ظلی وجود پیدا ہوجاتا ہے چونکہ موجودات دنیا کی اصل عدم ہے اسی لیے یہ جلد جلد فنا کی طرف جا رہے ہیں (کیونکہ ہر چیز اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہے) اور عدم فی نفسہٖ خالص شر ہے اس میں نہ کوئی حسن ہے نہ خیر نہ کمال ہاں (صفات خداوندی کا عکس پڑنے سے) اس میں اتنا ہی حسن پیدا ہوگیا ہے جتنا کسی ناقص الاصل چیز میں ملمع کرنے سے پیدا ہوجاتا ہے آخرت کی موجودات کی حالت اس کے بر خلاف ہے ان کی تعیین اور تحقق کے مبادی صفات خداوندی ہیں (صفات خداوندی ان کا سر چشمہ ہے آفتاب صفات کی یہ شعاعیں ہیں۔ (1) [ ممکن وہی ہوتا ہے جو اپنے وجود میں دوسرے کا محتاج ہوتا ہے اس کا وجود ضروری نہیں ہوتا اور ہمارے نزدیک ہر ممکن حادث ہے کوئی ممکن نہ قدیم بالذات ہے نہ قدیم بالغیر البتہ ارسطو اور اس کے پیرو ممکن بالذات کو قدیم بالغیر کہتے ہیں یعنی ہر ممکن اپنے وجود کا خود مالک تو نہیں ہے مگر علت کی طرف سے اس کا وجود قدیم ازلی ہے جس کا کوئی آغاز نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ہر ممکن کی اصل عدم ہے لیکن عدم محض نہیں کیونکہ عدم محض سے تو وجود نہیں پیدا ہوسکتا بلکہ عدم متقرر اصل ہے تقرر کا مرتبہ عدم محض اور وجود بالفعل کے درمیان ہے تمام حقائق کو نیہ کا تقرر اور تقدر علم باری تعالیٰ میں ہے بلکہ تقرر کائنات نام ہی علم خداوندی کا ہے پس اصلاً یہ کائنات معدوم ہے جب صفات باری تعالیٰ کا پر تو کائنات پر پڑتا ہے تو کائنات کا وجود ظلی یا عکسی نمودار ہوجاتا ہے لوگ اسی ظلی وجود کو جو خداوندی پر تو سے نمو دار ہوگیا ہے غلطی سے وجود اصلی کہنے لگتے ہیں حالانکہ اگر وجود اصلی ہوتا تو ہمیشہ سے ہوتا اور ہمیشہ رہتا کبھی فنا نہ ہوتا لیکن ہم محسوس کر رہے ہیں کہ دنیا کی ہر چیز فنا پذیر ہے اور عدم کی طرف دوڑی جا رہی ہے اس لیے یہ امر ناقابل انکار ہے کہ اس کی اصل عدم ہے اور عدم مقابل وجود ہے عدم کی کوئی حقیقت نہیں اور جس کی حقیقت نہ ہو تو وہ نہ خیر ہوسکتی ہے ‘ نہ حسن و کمال۔ لہٰذا دنیا کی ہستی نہ خیر ہے نہ حسن و کمال۔ علم واجب میں ساری دنیا کا تقرر ہی اصل وجود ہے اور وجود خارجی اس کا سایہ اور ظاہر ہے کہ سایہ کی نہ کوئی حقیقت ہے نہ حسن و کمال۔ ہاں اس دنیا کے مقابل آخرت کی نعمتیں اور مصائب لا زوال ہیں ان کا ابدی کنارہ کوئی نہیں اور ان کے مبادی تعین اعدام نہیں بلکہ اللہ کی صفات کاملہ ہیں صفات الٰہی آخرت میں بصورت مہر و قہر نمایاں ہوں گی۔ ہاں اس دنیا میں اگر کوئی چیز خیر ہے تو وہ وہی ہے جو نعمت آخرت کے حصول کا موجب ہے انبیاء اولیاء اور ان کی ہدایات اسی لیے خیر ہیں ‘ وا اللہ اعلم۔] اسی لیے ان کی محبت اللہ کی محبت اور ان کی طرف رغبت اللہ کی طرف رغبت ہے۔ حضرت مجدد نے لکھا ہے کہ باوجود یکہ انبیاء اور اولیاء کی توجہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف نہیں ہوتی مگر حضرت یعقوب کی محبت حضرت یوسف سے (عشق کی حد تک) تھی اس کا راز یہ ہے کہ حسن یوسف حسن اہل جنت کی جنس سے تھا یوسف کی محبت حقیقت میں اللہ کی محبت تھی اور ان سے عشق خدا سے عشق تھا۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا تھا اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا مگر تمہارا ساتھی تو اللہ کو خلیل بنا چکا ہے۔ (رواہ مسلم)
وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ : یہ جملہ گذشتہ کلام کی دلیل کے مقام میں ہے اور العباد میں الف لام استغراقی ہے یعنی اللہ تمام بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے اچھے ہوں یا برے سب کو ان کے اعمال کے مطابق بدلہ دے گا۔ یا الف لام عہدی ہے یعنی متقی بندے اللہ کی نگاہ کے سامنے ہیں اسی لیے ان کے لیے اللہ نے جنتیں تیار کر رکھی ہیں۔
Ayah 3:16اَلَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اِنَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَاب النَّارِ : یعنی اللہ خوب دیکھ رہا ہے ان پرہیزگار بندوں کو جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہم بلاشبہ ایمان لے آئے پس ہمارے گناہ بخش دے اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ۔
فاغْفِرْ میں فاء سببیت کے لیے ہے (یعنی کلام سابق کلام لاحق کی علت ہے) مراد یہ ہے کہ ہم ایمان لے آئے اس لیے تو ہمارے گناہ بخش دے اس آیت میں ثبوت ہے اس امر کا کہ صرف ایمان مغفرت کا استحقاق پیدا کردیتا ہے حضرت معاذ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : بندوں پر اللہ کا حق ہے کہ اس کی عبادت کریں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ قرار دیں اور اللہ پر بندوں کا حق ہے کہ غیر مشرک کو وہ عذاب نہ دے۔ حضرت معاذ ؓ نے عرض کیا : (یا رسول اللہ ﷺ کیا میں لوگوں کو اس کی بشارت نہ دیدوں ؟ فرمایا : لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو کہیں وہ (اسی پر) بھروسہ کر بیٹھیں۔ (متفق علیہ)
Ayah 3:17اَلصّٰبِرِيْنَ : نفس کی مخالفت پر جم جانے والے۔ یعنی مصائب میں بےصبر ہونے سے نفس کو روکنے والے خواہشات اور بری باتوں کی پیروی سے باز داشت کرنے والے۔ طاعت الٰہی اور اچھی باتوں کے پابند رہنے والے۔ (1) [ حضرت مؤلف کی مراد یہ ہے کہ عربی زبان میں لفظ صبر کے بعد عن آتا ہے یا علیٰ ۔ بر صورت اوّل صبر کا معنی ہوتا ہے روکنا باز رکھنا اور برشق دویم معنی ہوتا ہے ‘ پابند بنانا آیت میں الصابرینکے بعد نہ عَنْ ہے نہ عَلٰیاس لیے مطلق معنی مراد ہے روکنا بھی اور پابند رکھنا بھی۔ مطلب یہ ہے کہ متقی اپنے نفوس کو بری باتوں سے روکتے اور اچھی باتوں کا پابند بناتے ہیں پہلا وصف سلبی ہے دوسرا وصف ثبوتی۔ سلبی وصف کا معنی ہے رذائل اور قبائح سے خالی اور پاک ہونا۔ ثبوتی وصف کا معنی ہے فضائل اور محاسن سے آراستہ ہونا۔]
وَالصّٰدِقِيْنَ : اور سچے یعنی قول۔ ادعاء احوال اور تمام دعو وں میں نقل واقعات میں اور ادائے شہادت میں سچے 2 اور سب سے بڑا سچ لا الٰہ الا اللہ اور محمد عبدہ ٗ و رسولہٗ کی شہادت ہے۔ (2) [ صدق کا لفظ عام ہے جیسے کذب عام ہے قول میں سچائی، تمام دعوؤں میں سچائی، کسی واقعہ کو نقل کرنے میں سچائی، ادائے شہادت میں سچائی، یہ تو صدق کی عام صورتیں ہیں لیکن صوفیہ کی اصطلاح میں صدق و کذب کا معیار ان صورتوں کے علاوہ ایک اور بھی ہے۔ سالک جب راہ سلوک طے کرتا ہے تو اثناء سیر میں کچھ مواقف ملتے ہیں اور کوئی موقف اصل منزل نہیں ہوتا لیکن صوفی دھوکہ کھا کر یا نادانی کی وجہ سے موقف کو منزل سمجھ لیتا ہے اور منزل پر پہنچنے کا دعویٰ کرنے لگتا ہے یا ابتدائی موقف پر پہنچ کر اگلے موقف تک پہنچنے کا مدعی بن بیٹھتا ہے۔ یہ سب کذب کی صورتیں ہوتی ہیں۔ مثلاً سیر آثار کرنے والا صوفی سیر افعال کا مدعی ہوجائے تو جھوٹ ہوگا یاسیر افعال کرنے والا سالک سیر صفات کا دعویٰ کرنے لگے تو یہ بھی غلط ہوگا یا سیر صفاتی میں مشغول رہنے والا عارف سیر ذاتی کا ادعاء کرے تو یہ بھی اس کی نادانی اور دروغ بافی ہوگی۔ غرض اداء احوال میں بھی صدق ضروری ہے۔ وا اللہ اعلم ]
وَالْقٰنِـتِيْنَ : اور اللہ کی طاعت پر ہمیشہ پابندی رکھنے والا جن کے پیش نظر ہر وقت اللہ کی خوشنودی کا حصول ہی ہوتا ہے۔
وَالْمُنْفِقِيْنَ : اور اپنے مالوں کو اللہ کی خوشنودی کے لیے خرچ کرنے والے۔ اس جگہ تک کلام مذکور ہر قسم کی طاعت کو حاوی ہوگیا اس میں درستی اخلاق و اقوال بھی آگئی اور جسمانی و مالی اعمال کی اصلاح تھی۔
وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ : یعنی ظاہری اور باطنی اطاعت گذاریوں کے باوجود وہ اللہ سے ڈرتے ہیں اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے ہیں اس لیے معافی کے طلب گار رہتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ بندہ سے اللہ کی عبادت اس طرح ہوسکتی ہی نہیں جیسا اللہ کی عظمت و جلالت کا تقاضا ہے بلکہ بندہ جب یہ سمجھتا ہے کہ میرے تمام اعمال و افعال بھی اللہ ہی کے پیدا کئے ہوئے ہیں یہ اللہ کا احسان و کرم ہے کہ اس نے اپنی عبادت کی توفیق عنایت فرمائی اور مجھے اپنے لیے منتخب فرما لیا تو وہ جان لیتا ہے کہ میری کی ہوئی عبادت اگر قبول کے قابل ہوجائے تو یہ محض اللہ کا کرم ہے اس کا شکر ہے ورنہ اللہ کی نعمت کا کما حقہ شکر ادا کرنا تو ممکن ہی نہیں۔ اللہ ہی اپنی مغفرت اور خوشنودی سے ڈھانک لے تو نجات ہوسکتی ہے : یَمُنُّوْنَ عَلَیْکَ اَنْ اَسْلَمُوْا (قُلْ لَا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلََامَکُمْ ) بَلِ اللہ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ اَنْ ھَدَاکُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ وہ آپ پر اپنے مسلمان ہوجانے کا احسان دھرتے ہیں آپ ان سے کہہ دیں کہ مجھ پر اپنے مسلمان ہونے کا احسان نہ رکھو بلکہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تم کو ایمان کی توفیق دی۔ اگر تم سچے ہو۔
طلب معافی کے لیے سحر کے وقت کا خصوصی ذکر اس لیے کیا کہ یہ وقت قبولیت دعا سے بہت ہی قرب رکھتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : ہر رات کا جب آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے باری تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے۔ میں ہی (سارے جہان کا خود مختار) بادشاہ ہوں کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں کوئی ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اس کو عطا کروں کوئی ہے جو مجھ سے گناہوں کی معافی چاہے اور میں اس کی مغفرت کروں۔
(بخاری ومسلم)
مسلم (رح) کی روایت میں اتنا اور ہے کہ پھر پروردگار اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے اور فرماتا ہے کون ہے قرض دینے والا۔ ایسے شخص کو جو مفلس نہیں ہے اور نہ حق مارنے والا۔ یہ ندا صبح کی پو پھٹنے تک ہوتی رہتی ہے۔ بغوی نے حسن بصری کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا بیٹے اس مرغ سے بھی زیادہ عاجز نہ ہو جو سحر کے وقت چیختا ہے اور تو بستر پر پڑا سوتا رہتا ہے۔
زید بن اسلم نے فرمایا کہ : المستغفرین بالاسحار سے وہ لوگ مراد ہیں جو فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھتے ہیں سحر کا وقت صبح کے قریب ہی ہوتا ہے اس لیے بالاسحار فرمایا۔ حسن بصری (رح) نے آیت کی تشریح میں فرمایا کہ وہ سحر کے وقت تک نماز (تہجد) کو دراز کرتے ہیں پھر استغفار کرتے ہیں۔ نافع کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ رات کو (یا رات بھر) عبادت کرتے آخر میں فرماتے نافع کیا سحر ہوگئی میں عرض کرتا (ابھی) نہیں۔ آپ لوٹ کر پھر نماز پڑھنے لگتے اور اگر میں کہہ دیتا جی ہاں تو بیٹھ کر استغفار کرتے اور صبح تک دعا کرتے رہتے تھے۔
مذکورہ بالا تمام صفات کے درمیان واؤ عاطف کا لانا بتارہا ہے کہ ہر صفت بجائے خود (متقیوں میں) کامل ہے اور وہ ہر صفت میں کمال رکھتے ہیں یا یوں کہا جائے کہ ہر صفت کے موصوف جدا جدا گروہ ہیں صابر تو پاک دل اور پاکیزہ نفوس والا صوفیہ کا گروہ ہے مجاہدین اور شہداء کا شمار بھی انہی صابرین میں ہے اور صادقین سے مراد وہ سچے علماء ہیں جو سچی روایات بیان کرتے ہیں اور قانتین سے مراد زاہدوں کا گروہ ہے جو طویل قنوت کے ساتھ نمازیں پڑھتے اور خوف و رجا کے ساتھ اللہ کو پکارتے ہیں اور منفقین سے مراد وہ دولتمند مؤمن صالح ہیں جو جائز راستوں سے کما کر راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں اور مستغفرین بالاسحار وہ لوگ ہیں جو نادانی سے برے کام کو بیٹھتے ہیں پھر جلد ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہیں کرو گے تو اللہ تم کو لے جائے گا (فنا کردے گا) اور تمہاری جگہ ایسے لوگوں کو لے آئے جو گناہ کریں گے پھر گناہ کے بعد معافی کے طلبگار ہوں گے اور ان کے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ (رواہ مسلم) امام احمد اور ابو یعلی نے حضرت ابو سعید کی روایت سے بھی اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔
آیت میں اللہ نے ترتیب وار ہر گروہ کا ذکر اس کے مرتبہ کے موافق کیا ہے افضل ترین، افضل تر، افضل، فاضل وغیرہ وغیرہ۔
Ayah 3:18شَهِدَ اللّٰهُ : اللہ شاہد ہے یعنی عقلی دلائل قائم کرکے اور کتابیں نازل فرما کے اس نے واضح طور پر بیان کردیا ہے۔
اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ : کہ وہی ہے اس کے سوا کوئی معبود موجود نہیں ہے۔ بغوی نے بروایت کلبی بیان کیا ہے کہ شام کے یہودی علماء میں سے دو عالم رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہونے کے ارادہ سے آئے مدینہ کو دیکھ کر ایک نے دوسرے سے کہا یہ شہر تو اس شہر سے بہت ہی مشابہ ہے جہاں نبی آخر الزماں ﷺ کا ظہور ہوگا۔ جب دونوں خدمت گرامی میں پہنچے تو اپنی کتاب میں بیان کردہ صفات کو حضور ﷺ کی صفات سے مطابق پا کر پہچان لیا اور عرض کیا : کیا آپ محمد ہیں۔ رسول اللہ نے فرمایا : ہاں بولے کیا آپ احمد ﷺ بھی ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : میں محمد بھی ہوں اور احمد بھی۔ کہنے لگے ہم آپ سے کچھ پوچھتے ہیں اگر آپ ﷺ نے بتادیا تو ہم آپ کو مان لیں گے اور سچا قرار دیں گے فرمایا پوچھو کہنے لگے بتاؤ اللہ کی کتاب میں سب سے بڑی شہادت کونسی ہے اس پر آیت مذکورہ کا نزول ہوا اور وہ دونوں مسلمان ہوگئے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ نے اجسام سے چار ہزار سال پہلے ارواح کو پیدا کیا اور ارواح کی تخلیق سے چار ہزار سال پہلے رزق کو پیدا کیا اور مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے جب کہ وہ خود ہی تھا نہ آسمان تھا نہ زمین نہ نیک نہ بد خود ہی اپنے ایک ہونے کی شہادت دی اور فرمایا۔ شھد اللہ انہ لا الٰہ الا ھو۔.
وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ : اور فرشتے اور اصحاب علم شاہد ہیں یعنی فرشتے اور ایماندار جن و انس اپنے دل سے مانتے اور زبانوں سے اللہ کی توحید کا اقرار کرتے ہیں۔
قَاۗىِٕمًۢا بالْقِسْطِ : قَاءِمًا شَھِدَ کے فاعل یعنی اللہ سے حال ہے یعنی عدل کے ساتھ تمام مخلوق کا انتظام قائم رکھنے کی حالت میں اللہ شاہد ہے عدل کے ساتھ اس کا انتظام مخلوق پر قیام توحید کی واضح دلیل ہے
یا ھُو سے حال ہے یا فعل مدح محذوف ہے اور اس کا یہ مفعول ہے یا اولوا العلم کے اندر جو لفظ علم ہے قاءِمًا اس کا مفعول ہے یعنی علماء اللہ کو قائم بالعدل جانتے ہیں اور اس بات کو پہچانتے ہیں کہ اللہ تقسیم اور علم میں عادل ہے اس کی شان میں ظلم کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مالک الملک ہے جس طرح چاہتا ہے اپنی ملک میں تصرف کرتا ہے نہ کسی اطاعت گزار کو ثواب دینا اس پر لازم ہے نہ نافرمان کو عذاب دینا وہ جس کو چاہے گا بخش دے گا اس تفسیر کے مطابق۔ آیت میں معتزلہ کے مسلک کی کوئی دلیل نہیں (جو قائل ہیں کہ نیکو کار کا ثواب اور بد کار کا عذاب اللہ پر واجب ہے) ۔
لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ : اس جملہ کا دوبارہ ذکر مزید تاکید کے لیے کیا نیز توحید کے دلائل کو جاننے اور دلائل کو دیکھ کر توحید کا اعتراف کرنے کی جانب مزید توجہ دلائی۔
الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : وہ اپنی حکومت میں غالب ہے ‘ صنعت میں حکیم ہے۔ اللہ کی قدرت کا علم پہلے ہوتا ہے اور اس کی حکمت کا علم پیچھے اس لیے العزیز کو الحکیم سے پہلے ذکر کیا
Ayah 3:19اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ : یعنی اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہی ہے کسائی کی قراءت میں اَنَّ الدِّیْنَ آیا ہے
اب اگر اسلام کو عین ایمان کہا جائے تو انہ لا الہ الا ھو سے یہ بدل الکل ہوگا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ : لا الہ الا اللہ کی شہادت اور اس بات کا اقرار کہ تمام پیغمبر جو کچھ لائے ہیں اللہ کی طرف سے لائے ہیں یہی وہ دین اللہ ہے جس کو اللہ نے پیغمبروں کو دے کر بھیجا ہے اور اپنے اولیاء کو اس کا راستہ بتایا ہے اس کے علاوہ اور کسی دین کو وہ قبول نہیں کرے گا نہ ثواب دے گا۔
(یا بدل کل من البعض ہوگا اگر) اسلام کے اندر ایمان کو داخل قرار دیا جائے ( اور ایمان کو عین اسلام نہیں بلکہ جزء اسلام کہا جائے) رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : لا الٰہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی شہادت دینا اور نماز ٹھیک ٹھیک ادا کرنا اور زکوٰۃ دینا اور رمضان کے روزے رکھنا اور بشرط استطاعت راہ حج کرنا اسلام ہے۔ سوال جبرائیل ( علیہ السلام) کے جواب میں رسول اللہ نے جو بیان فرمایا تھا اس طویل حدیث کا یہ ایک حصہ ہے جو ہم نے بیان کیا۔ (متفق علیہ)
لیکن اگر اسلام سے مراد صرف شریعت محمدیہ ﷺ ہو کیونکہ تمام ادیان کے منسوخ ہونے کے بعد اس دور (محمدی) میں اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین صرف شریعت محمدیہ ہے تو بدل اشتمال ہوگا۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا تھا اگر موسیٰ (اس زمانہ میں) زندہ ہوتے تو ان کے لیے بھی میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوگا۔ (رواہ احمد والبیہقی من حدیث جابر)
جمہور کی قراءت میں ان الدِّین ہے اس صورت میں یہ مستقل ابتدائی کلام ہوگا۔ روایت میں آیا ہے کہ اعمش رات سے اٹھ کر تہجد پڑھنے لگے جب آیت : شھد اللہ۔۔ کی تلاوت کی تو کہا میں بھی وہی شہادت دیتا ہوں جو اللہ نے دی ہے اور اس شہادت کو اللہ کے پاس امانت رکھتا ہوں۔ اِنَّ الدِّیْنَ عِنَْدَ اللہ الْاِسْلَامُ کی شہادت اللہ کے پاس میری ودیعت ہے۔ نماز پڑھ چکے تو کسی نے پوچھا حضرت آپ نے یہ کیا فرمایا تھا۔ فرمایا مجھ سے ابو وائل نے حضرت عبد اللہ ؓ کی روایت سے بیان کیا تھا کہ رسول اللہ نے فرمایا : اس شہادت والے کو قیامت کے دن لایا جائے گا اللہ فرمائے گا میرے اس بندہ کا میرے پاس ایک عہد ہے اور میں سب سے زیادہ وعدہ پورا کرنے کے لائق ہوں میرے اس بندہ کو جنت میں داخل کردو۔ یہ حدیث بغوی نے اپنی سند سے نقل کی ہے اور طبرانی نے نیز بیہقی نے شعب الایمان میں ضعیف سند کے ساتھ اس کو بیان کیا ہے۔
وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ : یعنی محمد ﷺ کی نبوت اور اسلام کی حقانیت میں یہود و نصاریٰ نے اختلاف نہیں کیا۔
رسول اللہ کی نبوت میں اہل کتاب کا اختلاف یہ تھا کہ بعض نے تو بالکل ہی انکار کردیا اور بعض نے آپ کی نبوت کو صرف عرب کے لیے قرار دیا۔
اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَھُمُ الْعِلْمُ : مگر ان کو علم ہوجانے کے بعد کہ پسندیدہ دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے۔
اس کی اطلاع اللہ نے ان کو تورات و انجیل میں کھول کر دیدی تھی۔
بَغْيًۢا بَيْنَھُمْ : یعنی کسی شبہ اور نا واقفیت کی وجہ سے انہوں نے نبوت محمدیہ ﷺ اور حقانیت اسلام میں اختلاف اور حق کا انکار نہیں کیا بلکہ حقانیت کا ان کو علم ہوچکا تھا اس علم کے بعد صرف عناد اور حسد کی وجہ سے اور حکومت و ریاست کے لالچ میں انہوں نے اختلاف کیا۔
ابن جریر نے حضرت محمد بن جعفر کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول نجران کے عیسائیوں کے متعلق ہوا تھا یعنی جن کو انجیل دی گئی تھی انہوں نے (کسی لا علمی اور شبہ کی وجہ سے) عیسیٰ کے معاملہ میں یہودیوں سے اختلاف نہیں کیا یہاں تک کہ یہودیوں کے مقابلہ میں عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہہ دیا مگر اس بات کے علم کے بعد کہ اللہ واحد ہے وہ کسی کا باپ نہیں اور عیسیٰ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ محض یہودیوں کے عناد اور انکار کی وجہ سے اختلاف کیا۔ ایک طرف یہودیوں نے حضرت عیسیٰ کی نبوت کا انکار کیا اور آپ کی والدہ پر (زنا) کی تہمت لگائی باوجودیکہ تورات میں ان کو یقینی اطلاع دے دی گئی تھی کہ عیسیٰ اللہ کے بندے اور رسول ہیں دوسری طرف عیسائیوں نے یہودیوں کے انکار کے مقابل محض عناد کی وجہ سے عیسیٰ کو ابن اللہ کہہ دیا باوجودیکہ ان کے پاس بھی یقینی علم آچکا تھا کہ عیسیٰ خدا کے بندے اور رسول ہیں اور اللہ وحدہ لا شریک ہے کوئی بھی اس کا بیٹا نہیں۔
ابن ابی حاتم نے ربیع کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی وفات کے وقت بنی اسرائیل کے سترّ علماء کو طلب کیا اور تورات ان کی امانت میں دیدی اور یوشع بن نون کو اپنا جانشین مقرر کردیا جب پہلی دوسری اور تیسری صدی گذر گئی توا سکے بعد یہودیوں میں تفرقہ پڑگیا۔ آیت : و ما اختلف الذین اوتوا الکتاب میں انہی سترّ علماء کی اولاد مراد ہے جن کو تورات دی گئی تھی۔ یہاں تک کہ ان میں خوب خوں ریزی ہوئی اور بدی پھیل گئی اور الا من بعد ما جاء ھم العلم سے مراد ہے اس چیز کا بیان جو تورات میں تھی۔ (یعنی احکام تورات میں آپس کے عناد کی وجہ سے تفرقہ پڑگیا) آخر اللہ نے ان پر جبابرہ (بخت نصروغیرہ) کو مسلط کردیا۔
وَمَنْ يَّكْفُرْ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ : اور جو شخص اللہ کی آیات کا انکار کرے گا تو یقیناً اللہ اس سے جلد حساب لے گا اور اس کو کفر کی سزا دے گا یہ کافروں کے لیے وعید ہے۔
Ayah 3:20فَاِنْ حَاۗجُّوْكَ : پس اے محمد ﷺ اگر وہ آپ سے مناظرہ کریں اور یہودی اور عیسائی کہیں کہ یہودیت اور نصرانیت تو نسب ہے (مذہب نہیں ہے) دین تو ہمارا اسلام ہے۔
فَقُلْ : تو آپ ان سے کہہ دیں کہ لفظ اسلام میں کوئی جھگڑا نہیں۔
اَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلّٰهِ : (بلکہ اسلام کی حقیقت بحث طلب ہے) میں تو اللہ کا فرماں بردار ہوگیا اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار نہیں دیتا اس کے احکام کے مقابل اپنی خواہش کی پیروی نہیں کرتا بلکہ دل، زبان اور سارے اعضاء کو اسی کی اطاعت میں لگا دیا ہے۔ انسان کے (بیرونی) اعضاء میں چہرہ کا درجہ سب سے زیادہ ہے اس لیے چہرہ کا ذکر کیا ورنہ مراد تمام باطنی اور ظاہری اعضاء ہیں یا یہ مطلب ہے کہ میں نے تمام ظاہری اور باطنی اعضاء کی توجہ خالص اللہ کی طرف کردی ہے کسی دوسرے کی طرف التفات بھی نہیں کرتا یا وجہ سے ذات مراد ہے یعنی میں نے اپنی پوری ہستی اللہ کے سپرد کردی ہے اور ایسے اسلام کا تقاضا ہے کہ کسی کو اللہ کا ساجھی نہ قرار دیا جائے اسی کے اوامرو نواہی کی تعمیل فوراً کی جائے اور جو شریعت اس کی طرف سے آئی ہو اگر خود ہی اس نے منسوخ نہ کردی ہو تو اس کی پابندی کی جائے۔
وَمَنِ اتَّبَعَنِ : اور جو لوگ میرے پیرو ہیں انہوں نے بھی اپنی ہستی اللہ کے سپرد کردی ہے۔
وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ : اس کا عطف قُلْ اَسْلَمْتُ پر ہے۔ یعنی (اوّل) اپنے نفس سے آپ کہہ دیں کہ میں نے اپنے کو اللہ کے سپرد کردیا اور اسلام پر دل کو مطمئن بنا لیں اور (پھر) یہود و نصاریٰ سے جو اہل کتاب ہیں اور ان لوگوں سے جو اہل کتاب نہیں ہیں جیسے مشرکین عرب سب سے کہہ دیں کہ جب عقلی دلائل سے بھی واضح ہوگیا اور تورات و انجیل میں بھی اس کی صراحت آچکی کہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہی ہے تو کیا میرے اسلام کی طرح تم بھی اسلام لے آئے یا تم اس کے بعد بھی کفر پر قائم ہو۔ ءَ اَسْلَمْتُمْ صیغہ استفہام کا ہے مگر معنی امر کے ہیں یعنی تم بھی مسلمان ہوجاؤ جیسے آیت : فَھل انتم منتھون کا مطلب ہے باز رہو۔ آیت میں اہل کتاب کو ان کے عناد اور حماقت پر شرم دلانی مقصود ہے (یعنی تمہارا عناد اس حد تک پہنچ گیا کہ لفظ اسلام میں جھگڑا کرتے ہو اور اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ اس لفظ میں جھگڑا نہیں بلکہ حقیقت مراد ہے اور حقیقت اسلام وہی ہے جو ہم پیش کر رہے ہیں یعنی کامل سپردگی اور ہر شریعت کا اقرار اور تمہارے اندر اسلام کی یہ حقیقت نہیں تم کسی شریعت کو مانتے ہو کسی کو نہیں مانتے کوئی کسی پیغمبر کو خدا کا بیٹا کہہ دیتا ہے اور دوسرا اسی پیغمبر کو حرامزادہ قرار دیتا ہے نہ تم کو خدا کا شریک بنانے اور اللہ کے پیغمبروں اور اس کی کتابوں کا انکار کرنے سے شرم آتی ہے نہ باہم عناد اور ہوا پرستی سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور پھر اپنے دین کو اسلام کہتے ہو بس تمہارے اسلام کی یہی حقیقت ہے جس کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں اسلام تو میرا ہے میں نے اپنی خواہش اور میلان نفس کو چھوڑ دیا اور صرف اللہ سے اپنی ہستی کا تعلق جوڑ لیا تم بھی میری طرح مسلمان ہوجاؤ اور اپنے دعوے سے شرم کرو) ۔
فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا : اب اگر وہ بھی تمہاری طرح مسلمان ہوجائیں تو وہ بھی ہدایت یاب ہو جائینگے حسب الحکم رسول اللہ نے (اہل کتاب کے سامنے) یہ آیت تلاوت فرمائی وہ کہنے لگے ہم تو پہلے ہی مسلمان ہوچکے آپ ﷺ نے یہودیوں سے فرمایا : عیسیٰ عبد اللہ تھے ؟ رسول اللہ تھے ؟ کلمۃ اللہ تھے (کیا تم کو اس کا اقرار ہے) بولے معاذ اللہ آپ ﷺ نے عیسائیوں سے فرمایا : عیسیٰ عبد اللہ اور رسول اللہ تھے (کیا تم کو اس کا اعترف ہے) کہنے لگے اللہ کی پناہ کہ عیسیٰ بندے ہوں اس پر اللہ نے فرمایا۔
وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ : اور اگر وہ تمہارے اسلام سے روگردانی کریں تو تمہارا کوئی حرج نہیں وہ تم کو ضرر نہیں پہنچا سکتے تمہارے ذمہ تو صرف ہدایت پہنچا دینا ہے۔ ہدایت دینا نہیں۔
وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ : اور اللہ تمام بندوں کو خوب دیکھتا ہے مومن کو بھی کافر کو بھی ہر ایک کو اسکے کئے کا بدلہ دے گا۔
Ayah 3:21اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ : بیشک جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔ الذین یکفرون سے یہودی مراد ہیں انہوں نے قرآن اور انجیل کا انکار کیا تھا اور تورات کی ان آیات کا بھی جن میں رسول اللہ کے اوصاف بیان کئے گئے تھے۔
وَيَقْتُلُوْنَ النَّـبِيّٖنَ : اور انبیاء کو قتل کرتے ہیں یعنی ان کے اسلاف نے انبیاء کو قتل کیا تھا اور انہوں نے اپنے اسلاف کے اس فعل کو پسند کیا تو گویا یہ بھی قاتل ہوگئے خود بھی رسول اللہ کی شان میں وہی فعل کرنا چاہتے ہیں جو ان کے اسلاف دوسرے انبیاء کے ساتھ کرچکے تھے چناچہ حضور ﷺ سے انہوں نے لڑائیاں کیں۔ آپ ﷺ پر جادو کیا، آپ کو زہر دیا جس کے اثر سے آپ کی وفات ہوئی۔ جادو اور زہر کا تذکرہ سورة بقرہ میں گذر چکا ہے۔
بِغَيْرِ حَقٍّ : ناحق یعنی اپنے خیال میں بھی ناحق۔ بات یہ ہے کہ انبیاء کا قتل تو بہر حال ناحق ہی ہے (پھر اس قید کو بڑھانے کی کیا ضرورت تھی) اور وہ بھی اپنے خیال میں ناحق ہی جانتے تھے مگر ریاست کی ہوس نے ان کو قتل انبیاء پر آمادہ کردیا ورنہ قتل کی کوئی وجہ جواز ان کی نظر میں بھی نہ تھی۔
وَّيَقْتُلُوْنَ الَّذِيْنَ يَاْمُرُوْنَ بالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ : اور جو لوگ انصاف کرنے کا حکم دیتے تھے ان کو بھی وہ قتل کرتے تھے یعنی انبیاء کے متبعین کو بھی قتل کرتے تھے۔ ابن جریح نے بیان کیا کہ انبیاء بنی اسرائیل کے پاس وحی آتی تھی کتاب نہیں آتی تھی وحی کے مطابق انبیاء قوم کو نصیحت کرتے تھے اور شہید کردیئے جاتے تھے پھر انبیاء کے پیرو نصیحت کرنے کھڑے ہوجاتے تھے مگر ان کو بھی شہید کردیا جاتا تھا یہی وہ لوگ تھے جو لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتے تھے۔
بغوی نے حضرت ابو عبیدہ ؓ بن جراح کا قول نقل کیا ہے۔ حضرت ابو عبیدہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ سے عرض کیا : یارسول اللہ ! قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب کس کو ہوگا ؟ فرمایا : جس نے کسی نبی کو قتل کیا یا منکر کا حکم دیا اور معروف سے ممانعت کی پھر حضور ﷺ نے آیت : و یقتلون النبیین بغیر حق سے و ما لھم من ناصرین تک تلاوت فرمائی اس کے بعد ارشاد فرمایا : ابو عبیدہ بنی اسرائیل نے 43 انبیاء کو ایک ساعت کے اندر دن کے اوّل حصہ میں قتل کردیا شہادت انبیاء کے بعد بنی اسرائیل کے عابدوں میں سے 120 آدمی بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لیے کھڑے ہوگئے بنی اسرائیل نے اسی روز دن کے آخر حصہ میں انکو بھی قتل کردیا یہی وہ لوگ ہیں جن کا تذکرہ اللہ نے اپنی کتاب میں کیا اور انکے بیان میں آیت نازل فرمائی۔
فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ : اے محمد ﷺ تم ان کو درد ناک عذاب کی بشارت یعنی اطلاع دیدو خبر کو بشارت سے بطور استہزاء تعبیر کیا۔
سیبویہ کے نزدیک فبشرھم اِنَّ الَّذِیْنَ کی خبر نہیں ہوسکتا۔ لَیْتَ وَ لَعَل کی خبر کی طرح اِنَّ کی خبر پر بھی فاء نہیں آسکتی (کیونکہ سب حروف مشبہ بفعل ہیں) اس قول پر اِنَّ کی خبر یا تو اولٰءِکَ الذین حبطت ہوگی اور فبشرھم بعذاب الیم جملہ معترضہ ہوگا جیسے : زَیْدٌ فَافَھَم رَجُلٌ صَالح میں فافھم جملہ معترضہ ہے اور زید کی خبررجل صالح ہے یا خبرمحذوف ہے اصل کلام اس طرح تھا لھم عَذَابٌ اَلِیْمٌ فَبَشرھم بعذاب الیم سبب کو مسبب کی جگہ ذکر کردیا۔ جمہور کے نزدیک اِنَّ الذین کی خبرفبشرھم ہی ہے۔ بغوی نے اس صورت میں اِنَّ کو عمل سے معطل قرار دیا ہے اور صراحت کی ہے کہ کلام بغیر انَّ کے ہی تھا۔ لیکن اکثر اہل نحو قائل ہیں کہ اگر اِنّ کا اسم موصول ہو تو خبر پر فاء آسکتی ہے کیونکہ اسم موصول شرط کے مشابہ ہوتا ہے جیسے بغیر اِنّ کے اگر مبتدا موصول ہو تو (شرط کے مشابہ ہونے کی وجہ سے) خبر پر فاء کا لانا جائز ہے۔ لیت اور لعَلّ کے اسم پر قیاس کرنا صحیح نہیں کیونکہ یہ دونوں جملہ خبریہ کو انشاء کی طرف منتقل کردیتے ہیں اس لیے شرط کی مسابہت فوت ہوجاتی ہے۔ پس جمہور کے مسلک پر آئندہ آیت کو دوسری خبر کہا جائے گا۔
Ayah 3:22اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ : یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال رائیگاں ہوگئے۔
فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ : پس ان کے لیے دنیا میں لعنت اور رسوائی ہے اور آخرت میں عذاب۔
وَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ : اور ان کا کوئی حمایتی نہیں کہ اعمال کو برباد ہونے سے بچا لے اور عذاب کو دفع کرسکے۔
ابن المنذر، ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ کی روایت سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ یہودیوں کے مدرسہ میں یہود کی ایک جماعت کے پاس تشریف لے گئے اور ان کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی۔ نعیم بن عمرو اور حارث بن زید نے پوچھا محمد ﷺ تم کس دین پر ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت اور دین پر۔ کہنے لگے ابراہیم (علیہ السلام) تو یہودی تھے حضور ﷺ نے فرمایا : آؤ ہمارے تمہارے درمیان تورات حاکم ہے (دیکھو تورات نے کیا فیصلہ کیا ہے) مگر انہوں نے انکار کیا اس پر مندرجہ ذیل آیت کا نزول ہوا۔
Ayah 3:23اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ : یہ استفہام تقریری اور تعجب آفریں ہے۔ نصیباً میں تنوین تحقیر ہے اور مِنَ الکتاب میں مِن تبعیض یا بیان کے لیے ہے اور الکتاب سے مراد ہے تورات یا عام آسمانی کتابیں۔ یعنی دیکھو تو بڑی عجیب بات ہے کہ جن لوگوں کو تورات کا ایک حقیر حصہ (یعنی تورات کا تھوڑا سا علم) دیدیا گیا ہے کہ نہ وہ کتاب کے اندرونی مضامین سے واقف ہیں نہ پوری تورات کے احکام پر ان کا ایمان ہے۔
يُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ : ان کو تورات (کے فیصلہ) کی طرف بلایا جاتا ہے یعنی محمد ﷺ
ان کو تورات کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ کلبی نے بروایت ابو صالح حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ خیبر کے باشندوں میں ایک مرد و عورت نے زنا کیا اور زناء کی سزا ان کی کتاب میں رجم (سنگسار کردینا) مقرر تھی لیکن زانی چونکہ عالی مرتبہ تھے اس لیے یہودیوں نے ان کو سنگسار کرنا مناسب نہ سمجھا اور رسول اللہ کی خدمت میں معاملہ پیش کیا ان کو یہ امید تھی کہ رسول اللہ کے پاس اس سزا میں کچھ تخفیف مل جائے گی۔
لیکن حضور ﷺ نے دونوں کو رجم کردینے کا حکم دیدیا نعمان بن اوفی اور بحری بن عمرو اس سزا کو سن کو بولے محمد ! آپ کا فیصلہ غلط ہے ان کے لیے سنگسار کرنے کا حکم نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : میرے تمہارے قول کا فیصلہ توریت سے ہوسکتا ہے (تورات لاؤ) وہ بولے آپ ﷺ نے انصاف کی بات کہی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تم میں تورات کا سب سے بڑا عالم کون ہے۔ انہوں نے جواب دیا ایک یک چشم آدمی ہے جو فدک کا باشندہ ہے اس کو ابن صوریا کہا جاتا ہے چناچہ یہودیوں نے ابن صوریا کو بلوا بھیجا اور وہ مدینہ میں آگیا۔
حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) نے رسول اللہ کو ابن صوریا کے حالات بتا دیئے تھے۔ ابن صوریا حاضر ہوا تو رسول اللہ نے فرمایا : تم ابن صوریا ہو اس نے جواب دیا جی ہاں فرمایا : کیا تم یہودیوں کے سب سے بڑے عالم ہو۔ ابن صوریا نے کہا لوگ ایسا ہی خیال کرتے ہیں۔ حضور ﷺ نے تورات کا وہ حصہ طلب فرمایا : جس میں رجم کا حکم مذکور تھا اور فرمایا : اس کو پڑھو۔
حسب الحکم ابن صوریا نے تورات پڑھنی شروع کی اور جب آیت رجم پر پہنچا تو اپنی ہتھیلی اس پر رکھ دی اور آگے پڑھنے لگا۔ حضرت عبد اللہ بن سلام بولے یا رسول اللہ یہ آیت رجم کو چھوڑ گیا، پھر عبد اللہ نے خود اٹھ کر اس کا ہاتھ آیت رجم سے ہٹایا اور رسول اللہ کو نیز یہودیوں کو پڑھ کر سنایا کہ محصن اور محصنہ جب زنا کریں اور شہادت سے ثبوت ہوجائے تو ان کو سنگسار کردیا جائے اور اگر عورت حاملہ ہو تو بچہ پیدا ہونے تک سزا موقوف رکھی جائے اس فیصلہ کے بعد رسول اللہ نے دونوں کو سنگسار کرا دیا اور یہودی ناراض ہو کر لوٹ گئے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
لِيَحْكُمَ بَيْنَھُمْ : تاکہ تورات یا رسول اللہ کتاب کے موافق ان کا فیصلہ کردے۔
کتاب سبب حکم ہے حکم کی نسبت کتاب کی طرف مجازی ہے۔
ثُمَّ يَتَوَلّٰى فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ وَھُمْ مُّعْرِضُوْنَ : پھر ان میں سے ایک گروہ کترا کر (کتاب کے فیصلہ سے) منہ موڑ لیتا ہے ثم کا لفظ (بُعد مسافت یا بعد زمان کو ظاہر کرتا ہے) اس جگہ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ رجم کی سزا کو حق جانتے ہوئے اس سے منہ موڑنا بہت بعید ہے۔ و ھم معرضون کا جملہ فریق کی حالت بیان کر رہا ہے یعنی یہ قوم ایسی ہے کہ فیصلہ سے کترا جاتی ہے۔
قتادہ نے کہا آیت کا معنی یہ ہے کہ یہودیوں کو کتاب اللہ یعنی قرآن کے فیصلہ کی طرف بلایا گیا مگر وہ قرآنی فیصلہ سے رو گرداں ہوگئے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے یہود و نصاریٰ اور رسول اللہ کے درمیان قرآن کو فیصلہ کن قرار دیا اور قرآن نے فیصلہ کردیا کہ یہود و نصاریٰ حق پر نہیں ہیں مگر وہ اس فیصلہ سے روگرداں ہوگئے۔
Ayah 3:24ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَــسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ ۠ : جانتے ہوئے کتاب اللہ کی طرف سے یہ اعراض اور حق سے روگردانی صرف اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اپنے غلط اعتقاد کے سبب اپنے لیے عذاب کو خفیف قرار دے رکھا ہے اور خیال کرلیا ہے کہ ہم کو دوزخ کا عذاب چند گنتی کے دن یعنی چالیس روز جتنے دن ہم نے بچھڑے کی پوجا کی تھی چھو وے گا (یعنی چالیس روز بھی ہم کو پورا عذاب نہ ہوگا بلکہ برائے نام چھو جائے گا اور بس)
وَغَرَّھُمْ فِيْ دِيْــنِهِمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ : اور اپنے دین کے اندر جو افترا بندیاں یہ کرتے چلے آئے ہیں اسی نے ان کو دھوکہ میں رکھا ہے۔
ایک افترا تو یہی ہے کہ ہم کو صرف چالیس دن آگ چھوئے گی۔ دوسری دروغ بافی یہ ہے کہ ہمارے اسلاف جو انبیاء تھے ہماری شفاعت کردیں گے۔ تیسری کذب تراشی یہ کہ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) سے اللہ نے وعدہ کرلیا تھا کہ ان کی اولاد کو عذاب نہیں دے گا۔