3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 3:145

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مر جائے (اس نے موت کا) وقت مقرر کر کے لکھ رکھا ہے اور جو شخص دنیا میں (اپنے اعمال کا) بدلہ چاہے اس کو ہم یہیں بدلہ دے دیں گے اور جو آخرت میں طالبِ ثواب ہو اس کو وہاں اجر عطا کریں گے اور ہم شکر گزاروں کو عنقریب (بہت اچھا) صلہ دیں گے

و ما کان لنفس ان تموت الا باذن اللہ یعنی کوئی شخص بغیر اللہ کی مشیت اور حکم کے نہیں مرسکتا یا یہ مطلب کہ جب تک ملک الموت کو کسی کی جان قبض کرنے کی اجازت نہ مل جائے وہ نہیں مرسکتا۔ کتابا موجلا موجَّلا کتابًا کی صفت ہے اور کتاباً مصدر ہے فعل محذوف ہے یعنی اللہ نے موت کی موقت تحریر لکھ دی ہے لکھے ہوئے وقت سے آگے پیچھے موت نہیں آسکتی۔ اس آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب اور جنگ کی جرأت دلائی گئی ہے۔ و من یرد ثواب الدنا نوتہ منھا یعنی جو شخص اپنے عمل کا دنیوی بدلہ چاہتا ہے ہم دنیا میں ہی اس کو اپنی مشیت کے مطابق جو کچھ ہم نے اس کے لیے مقدر کردیا ہے دیدیتے ہیں اس آیت میں ان لوگوں پر تعریض ہے جو مال غنیمت کی طرف راغب ہو کر جہاد سے غافل ہوگئے تھے۔ و من یرد ثواب الاخرۃ نوتہٖ منھا اور جو اپنے عمل سے آخرت کے ثواب کا خواستگار ہوگا ہم آخرت کا ثواب اس کو دیں گے۔ و سنجزی الشاکرین اور شکر گذاروں کو یعنی ثابت قدم رہنے والوں کو ضرور جزا دیں گے۔ میں کہتا ہوں کہ شاید اس فقرہ سے یہ مراد ہے کہ جو شخص اپنے عمل سے صرف شکر گذار ہونے کا طلب گار ہو نہ اس کے پیش نظر ثواب دنیا ہو نہ ثواب آخرت تو اللہ اس کو ایسی عظیم الشان جزا دے گا جس کا اندازہ کوئی عقل نہیں کرسکتی نہ کسی فہم کی رسای وہاں تک ہوسکتی ہے اور یہ جزا صرف ذات باری ہے۔ 1 ؂ جزا کو مبہم رکھنا (اور تعیین کے ساتھ کسی خاص قسم کے ثواب کا ذکر نہ کرنا) بتارہا ہے کہ جزاء غیرمعروف ہے انسان کی عقل اس کو نہیں جان سکتی۔ قاموس میں ہے شکر کا معنی ہے احسان کو پہچاننا اور اس کو پھیلانا حضرت انس بن مالک راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس کی نیت طلب آخرت کی ہو اللہ اس کے دل میں دنیا کی طرف سے بےنیازی پیدا کردیتا ہے اور اس کی پریشانی کو جمع کردیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے اور جس کی نیت طلب دنیا کی ہو اللہ محتاجی اس کی آنکھوں کے سامنے کردیتا ہے اس کی جمعیت (خاطر) کو پراگندہ بنا دیتا ہے اور دنیا میں سے اس کو اتنا ہی ملتا ہے جو اللہ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے۔ (رواہ البغوی) حضرت عمر بن خطاب ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : اعمال صرف نیتوں سے وابستہ ہیں اور آدمی کے لیے صرف اس کی نیت کا پھل ہے پس جس کی ہجرت اللہ اور رسول کے لیے ہے اس کی ہجرت اللہ اور رسول کے لیے ہوگی اور جس کی ہجرت مال حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہوگی اس کی ہجرت اسی غرض کے لیے ہوگی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہوگی۔ (متفق علیہ)
Ayah 3:146

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اور بہت سے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ ہو کر اکثر اہل الله (خدا کے دشمنوں سے) لڑے ہیں تو جو مصبتیں ان پر راہِ خدا میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ بزدلی کی نہ (کافروں سے) دبے اور خدا استقلال رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

و کاین من نبی قتل معہ ربیون کثیر اور بہت سے پیغمبروں کے ساتھ بلکہ بکثرت آدمیوں نے (کافروں سے) جنگ کی۔ حضرت ابن عباس، مجاہد اور قتادہ نے رِبِّیُّوْن کا ترجمہ کیا ہے کثیر جتھے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے اسکا ترجمہ کیا ہے ہزارہا۔ کلبی نے کہا : ایک رِبّیَّۃ دس ہزار ضحاک نے کہا ایک ربیہ ایک ہزار۔ حسن بصری نے ربیّون کا معنی کیا۔ فقہاء، علماء بعض نے متبعین ترجمہ کیا ہے اس صورت میں ربانیون سے مراد ہونگے حکام اور ربیون سے رعایا یہ بھی کہا گیا ہے کہ ربی رب کی طرف منسوب ہے یعنی خدا پرست۔ فما وھنوا لما اصابھم فی سبیل اللہ یعنی لوگ قتل سے بچ رہے تھے وہ اللہ کی راہ میں زخمی ہونے شدائد سامنے آنے اور ساتھیوں کے مارے جانے کی وجہ سے پست ہمت نہ ہوئے۔ و ما ضعفوا اور نہ جہاد کرنے سے کمزور پڑگئے۔ و ما استکانوا اور نہ دشمن کے مطیع ہوئے نہ ذلیل و عاجز بنے بلکہ وہ اللہ کے حکم پیغمبر کی اطاعت اور دشمن سے جہاد کرنے پر جمے رہے۔ اِسْتَکَانَ کا مادہ سکن اور (مجرد کا مصدر) سکون ہے عاجز فرمانبردار بھی اپنے مقابل کے سامنے بےحرکت ہوجاتا ہے وہ اس کے ساتھ جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس جملہ میں تعریض ہے ان لوگوں پر جو ابو سفیان سے امن طلب کرنے کے خواستگار تھے یالڑائی سے پست ہمت ہو بیٹھے تھے۔ وا اللہ یحب الصابرین اور اللہ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اسلئے ان کی مدد اور عزت افزائی کرتا ہے۔
Ayah 3:147

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

اور (اس حالت میں) ان کے منہ سے کوئی بات نکلتی ہے تو یہی کہ اے پروردگار ہمارے گناہ اور زیادتیاں جو ہم اپنے کاموں میں کرتے رہے ہیں معاف فرما اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافروں پر فتح عنایت فرما

و ما کان قولھم الا ان قالوا ربنا اغفرلنا ذنوبنا قَوْلَھُمْ کَانَکی خبر ہے اور اَنْ قَالُوْا کَانَ کا اسم ہے کیونکہ اسم کو خبر سے اعرف ہونا چاہئے اور قالوا چونکہ فاعلی نسبت اور زمانہ پر دلالت کررہا ہے اس لیے قَوْلَھُمْ سے (جو صرف نسبت پر دلالت کرتا ہے) معرفہ ہونے میں زیادہ ہے۔ ذنوب سے مراد ہیں صغیرہ گناہ۔ و اسرافنا فی امرنا اسراف حد عبدیت سے تجاوز۔ امر حال، معاملہ، اسراف سے مراد ہیں کبیرہ گناہ۔ یعنی شدائد و مصائب میں مبتلا ہونے کے بعد بھی ان کا قول (بجائے شکوہ و شکایت اور آہ و بکا و بےصبری کے) صرف یہ تھا کہ اے رب ہمارے چھوٹے بڑے گناہ معاف کردے۔ و ثبت اقدامنا اور ہمارے پاؤں اپنے سیدھے راستہ پر اور دشمن کے مقابل جہاد میں جمائے رکھ۔ وانصرنا علی القوم الکافرین اور کافر قوموں پر ہم کو فتح عطا فرما ‘ اس قول کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ نے اہل ایمان سے نصرت و غلبہ کا وعدہ فرما لیا ہے چناچہ ارشاد فرمایا ہے۔ حَقًا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمنِیْن دوسری جگہ فرمایا : اِنَّ جُنْدَنَا لَھُُمُ الْغَالِبُوْن اور اہل ایمان پر جو دکھ اور مصیبت آتی ہے وہ گناہوں کے اور حدود عبودیت سے تجاوز کرنے کے سبب سے آتی ہے اللہ نے فرمایا ہے : مَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُصِیْبَۃٍ فَبِمَاکَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ پس مصیبت کے وقت مؤمن کا فرض ہے کہ اپنے گناہ کا اقرار کرے تاکہ ندامت حاصل ہو اور معافی کا طلب گار ہو پھر اللہ سے امداد دینے اور ثابت قدم رکھنے کی دعا کرے۔ وَ مَا النَّصْرُ الَّا مِنْ عِنْدِ اللہ العَزِیْزِ الْحَکِیْم گناہوں سے پاک ہونے اور استغفار کرنے کے بعد دعاباب قبول تک جلد پہنچتی ہے۔
Ayah 3:148

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

تو خدا نے ان کو دنیا میں بھی بدلہ دیا اور آخرت میں بھی بہت اچھا بدلہ (دے گا) اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے

فاتٰھم اللہ اس قول کی برکت سے اللہ نے ان کو عطا فرمایا۔ ثواب الدنیا دنیاوی ثواب یعنی فتح، مال غنیمت، ملک اور نیک نامی (وغیرہ) و حسن ثواب الاخرۃ اور ثواب آخرت کا حسن یعنی جنت مرتبہ قرب اور اپنی خوشنودی اور رب کی ادنیٰ خوشنودی ہی سب سے بڑھ کر ہے۔ حسن ثواب معمولی ثواب سے افضل ہے اور واجب القصد بھی اس لیے ثواب آخرت کے ساتھ حسن کا ذکر کیا۔ وا اللہ یحب المحسنین اور اللہ اہل احسان کو پسند فرماتا ہے۔ یُحِبُّہُمْ نہیں فرمایا بلکہ ضمیر کی جگہ اسم ظاہر کو ذکر کیا تاکہ اس امر کی صراحت ہوجائے کہ مذکورہ مقولہ کے قائل ہی اہل احسان ہیں کیونکہ احسان کا معنی ہے اللہ کو حاضر ناظرسمجھتے ہوئے عبادت کرنا یعنی ہر طرح کی غفلت دور کرکے دل کو حاضر رکھنا پس احسان کا تقاضا ہے کہ مقولۂ مذکورہ زبان سے کہا جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ راحت و رنج اور دکھ سکھ سب اللہ کی طرف سے آتا ہے مگر اللہ کریم ہے اس لیے انسان جب تک اپنی اطاعت میں کوئی قصور نہ کرے اللہ کی طرف سے نعمت نہیں بدلی جاتی جب اطاعت میں کمی آتی ہے تو اللہ اپنی نعمت بدل دیتا ہے اور نعمت کی جگہ کچھ تکلیف بھیج دیتا ہے۔ تاکہ انسان بیدار ہو کر معافی کا طلبگار ہو اور دنیوی سزا بھگت کر پاک صاف ہوجائے۔
Ayah 3:149

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

مومنو! اگر تم کافروں کا کہا مان لو گے تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر کر (مرتد کر) دیں گے پھر تم بڑے خسارے میں پڑ جاؤ گے

یایھا الذین امنوا ان تطیعوا الذین کفروا اے ایمان والو اگر تم (ان) کافروں کا کہا مانو گے حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ نے فرمایا کہ : الذین کفروا سے منافق مراد ہیں اور اطاعت سے مراد ہے منافقوں کا یہ مشورہ ماننا کہ اپنے سابق مذہب میں لوٹ جاؤ۔ اگر محمد ﷺ نبی ہوتے تو مارے نہ جاتے۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اگر تم ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کی اطاعت کرو گے ان کے سامنے عاجزی کرو گے اور ان سے امن کے خواہش مند ہو گے تو یردوکم علی اعقابکم تو وہ تم کو اسلام سے سابق شرک کی طرف ایڑیوں کے بل پلٹا دیں گے۔ فتنقلبوا خاسرین نتیجہ میں تم لوٹ کر گھاٹے میں پڑجاؤ گے دنیا اور دین دونوں تباہ ہو جائینگے
Ayah 3:150

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:150 in the Quran reader

(یہ تمہارے مددگار نہیں ہیں) بلکہ خدا تمہارا مددگار ہے اور وہ سب سے بہتر مددگار ہے

بل اللہ مولٰکم (یہ تمہارے دوست نہیں ہیں) بلکہ اللہ تمہارا دوست، مددگار اور مسلمان ہونے کی حالت میں محافظ ہے لہٰذا اس کے سوا تم کافروں سے (اندرونی) دوستی نہ کرو۔ و ھو خیر الناصرین اور وہی بہترین مددگار ہے پس اس کے ہوتے ہوئے تم کو کسی دوسرے کی دوستی اور امداد کی ضرورت نہیں۔ روایت میں آیا ہے کہ 16 شوال کو جب ابو سفیان اور مشرک مکہ کو جانے لگے اور روانہ ہوگئے تو کچھ راستہ طے کرنے کے بعد ان کو پشیمانی ہوئی اور کہنے لگے ہم نے برا کیا اوّل تو ہم نے ان کو قتل کیا پھر جب چند بھاگے ہوئے لوگوں کے سوا ہمارے مقابلہ میں کوئی نہ رہا تو ہم ان کو چھوڑ آئے اس لیے مناسب ہے کہ ابھی لوٹ چلو اور ان کی جڑ ہی اکھاڑ دو ۔ کافروں نے یہ ارادہ کیا ہی تھا کہ اللہ نے ان کے دلوں کے اندر مسلمانوں کا رعب ڈال دیا اور وہ اپنے ارادہ سے با زآگئے اور اللہ نے ذیل کی آیت نازل فرمائی۔
Ayah 3:151

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیں گے کیونکہ یہ خدا کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے وہ ظالموں کا بہت بُرا ٹھکانا ہے

سنلقی قلوب الذین کفروا الرعب بما اشرکوا باللہ ما لم ینزل بہ سلطانا یعنی ہم ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے دلوں میں رعب ڈالدیں گے اس وجہ سے کہ وہ ایسی چیزوں کو اللہ کا ساجھی بناتے ہیں جن کی شرکت کی اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری 1 ؂۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب مکہ واپس جاتے وقت مشرکوں نے مدینہ کو لوٹنے کا ارادہ کیا تھا اس وقت ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا گیا۔ اگر اس آیت کا نزول واقعہ کے بعد مانا جائے تو پھر سنلقی میں سین صرف تاکید کے لیے ہوگی استقبالیہ نہ ہوگی بلکہ گزشتہ واقعہ کی نقل ہوگی۔ سلطان کا اصل لغوی معنی ہے قوت اس جگہ مراد ہے۔ دلیل ‘ برہان مطلب یہ کہ ایسے معبودوں کو انہوں نے اللہ کا ساجھی بنا رکھا ہے جن کے شریک ہونے کی نہ کوئی دلیل ہے نہ برہان بلکہ عقلی نقلی تمام دلیلیں اور جہتیں اللہ کی توحید پر دلالت کر رہی ہیں۔ و ماٰھم النار و بئس مثوی الظالمین اور ان کا یعنی مشرکوں کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ ظالموں کی بری قرار گاہ ہے ضمیر کی جگہ الظالمین کہنے کی وجہ سے ناراضگی کی درشتی کا اظہار بھی ہوگیا اور دوزخی ہونے کی علت کی بھی صراحت ہوگئی۔ محمد بن کعب کا بیان ہے کہ جب احد کی افتاد کے بعد رسول اللہ اور صحابہ مدینہ کو لوٹے تو بعض صحابیوں نے کہا کہ اللہ نے ہم سے وعدہ تو فتحیاب بنانے کا کیا تھا پھر یہ کیا ہوا اس پر اللہ نے مندرجہ ذیل آیت نازل فرمائی۔
Ayah 3:152

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اور خدا نے اپنا وعدہ سچا کر دیا (یعنی) اس وقت جبکہ تم کافروں کو اس کے حکم سے قتل کر رہے تھے یہاں تک کہ جو تم چاہتے تھے خدا نے تم کو دکھا دیا اس کے بعد تم نے ہمت ہار دی اور حکم (پیغمبر) میں جھگڑا کرنے لگے اور اس کی نافرمانی کی بعض تو تم میں سے دنیا کے خواستگار تھے اور بعض آخرت کے طالب اس وقت خدا نے تم کو ان (کے مقابلے) سے پھیر (کر بھگا) دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا اور خدا مومنو پر بڑا فضل کرنے والا ہے

و لقد صدقکم اللہ وعدہ یعنی اللہ نے جو تم کو فتحیاب بنانے کا وعدہ بشرط صبروتقویٰ کیا تھا وہ اس نے پورا کیا آغاز جنگ میں تم کو فتح یاب کیا۔ اذ تحسونھم باذنہ جب اللہ کے حکم و فیصلہ کے مطابق تم کافروں کو بےدریغ تلوار سے کاٹ رہے تھے۔ ابو عبیدہ (رح) نے کہا حَسٌّ کا معنی ہے قتل کرکے بیخ و بن سے اکھاڑدینا۔ یہاں قتل عام مراد ہے۔ یہ لفظاَحَسَّہٗ سے نکلا ہے۔ اَحَسَّ کا معنی ہے حس کو باطل کردیا 2 ؂۔ حتی اذا فشلتم لیکن جب تم بزدل اور کمزور پڑگئے بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جب تمہاری رائے کمزور پڑگئی اور تم مال غنیمت پر جھک پڑے (گویا کمزوری سے مراد ہے رائے کی کمزوری) کیونکہ مال کی حرص ضعف عقل کی علامت ہے۔ و تنازعتم فی الامر اور قیام وعدم قیام کے معاملہ میں تم باہم جھگڑنے لگے عبد اللہ بن جبیر ؓ کے ساتھیوں نے جب مسلمانوں کا غلبہ اور مشرکوں کی شکست دیکھی تو بعض نے کہا اب یہاں ٹھہرے رہنے کی کیا ضرورت۔ عبد اللہ نے کہا کیا تم رسول اللہ کا فرمان بھول گئے ؟ انہوں نے جواب دیا رسول اللہ کی یہ مراد نہیں تھی (کہ کافروں کو شکست ہوجائے تب بھی تم یہاں سے نہ ہٹنا) ہم تو ضرور جا کر لوٹ کا مال حاصل کریں گے۔ عبد اللہ اور ان کے ہم خیال لوگوں نے کہا ہم حکم رسول سے بالکل تجاوز نہیں کریں گے۔ و عصیتم اور تم نے رسول ﷺ اللہ کے حکم کے خلاف کیا۔ بعض علماء نے کہا کہ : حتٰی اذا فشلتم اور تنازعتم کے درمیان واؤ زائد ہے (اور تنازعتم جزا ہے یعنی جب تم بزدل ہوگئے تو باہم نزاع کرنے لگے) مگر یہ بات غلط ہے ورنہ لازم آئے گا کہ نزاع باہمی سے پہلے بزدلی پیدا ہوگئی تھی (جزا سے پہلے شرط کا تحقق ضروری ہے) حالانکہ بزدلی باہمی نزاع کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ شروع میں تو وہ جرأت مند تھے کافروں کی شکست دیکھ کر لوٹنے کے لیے میدان جنگ کی طرف گئے تھے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ اگر واؤ کو زائد ہی مانا جائے تو کہنا پڑے گا کہ کلام کی ترتیب میں کچھ تقدیم و تاخیر ہے اصل کلام یوں تھا : حتی اذا تنازعتم فی الامر و عصیتم فشلتم (یہ خواہ مخواہ کلام کی توڑ مروڑ ہے لہٰذا) صحیح یہی ہے کہ واؤ زائد نہیں ہے اور جزاء محذوف ہے یعنی جب تم ہمت ہار بیٹھے اور قیام و عدم قیام کے متعلق باہم جھگڑنے لگے اور نافرمانی کی تو اللہ نے اپنی مدد روک لی اور تم پر مصیبت ڈال دی چونکہ واؤ مطلق عطف کے لیے ہے ترتیب واقعہ کو ظاہر کرنے کے لیے نہیں ہے اس لیے نزاع اور نافرمانی پر بزدلی کی تقدیم لازم نہیں آتی۔ من بعد ما اراکم ما تحبون اس فقرہ کا تعلقفشلتم سے ہے یعنی تم بزدل ہوگئے اس کے بعد کہ تم کو اللہ نے تمہاری محبوب چیز یعنی فتح اور مال غنیمت کی صوت دکھا دی تھی۔ منکم من یرید الدنیا تم میں سے کچھ تو دنیا کے طالب تھے جنہوں نے مرکز کو چھوڑدیا اور لوٹنے کی طرف متوجہ ہوگئے۔ و منکم من یرید الاخرۃ اور کچھ آخرت کے طلبگار تھے جو عبد اللہ بن جبیر کے ساتھ جمے رہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا : رسول اللہ کے ساتھیوں میں سے کسی کو میں نے دنیا کا طلبگار نہیں پایا یہاں تک کہ احد کا دن آیا (اور) یہ آیت نازل ہوئی آپ کے کلام کا مقصد یہ ہے کہ صحابہ میں سے کسی نے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے مال غنیمت کی طلب کی تھی دنیا کی طلب نہیں کی اور انہی کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا۔ ثم صرفکم عنھم پھر تم کو تمہاری نافرمانی کی نحوست کی وجہ سے کافروں کی طرف سے پھیر دیا، پانسہ پلٹ گیا، کافر تم پر غالب آگئے اور تم کو شکست ہوگئی۔ لیبتلیکم تمہاری جانچ کرنے کے لیے تاکہ اہل نفاق سے مؤمن ممتاز ہوجائیں۔ یا اس فقرہ کا یہ مطلب ہے کہ تمہاری بیجا حرکت کی وجہ سے اللہ نے تم پر مصیبت ڈالنی چاہی۔ اس مطلب پر یہ مسئلہ نکلے گا کہ بعض لوگوں کی نافرمانی کی وجہ سے کبھی عام لوگوں پر مصیبت پڑجاتی ہے اور یہ مصیبت نافرمان کے لیے سزا اور فرماں بردار کیلئے زیادتی اجر کا باعث ہوجاتی ہے۔ ولقد عفا عنکم اور اللہ نے تم سے در گذر فرمائی کہ معصیت اور حکم رسول کی مخالفت کے بعد بھی اللہ کی یہ مہربانی ہوئی کہ کفار تمہارا استیصال نہ کرسکے یا یہ مطلب ہے کہ رسول اللہ کی نافرمانی پر جب تم نادم ہوئے تو اللہ نے تم کو معاف کردیا۔ وا اللہ ذو فضل علی المؤمنین اور اللہ مؤمنوں پر بڑا مہربان ہے کہ اگر اس کی مشیت ہوتی ہے تو اپنی مہربانی سے معاف کردیتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ ہر حال میں اللہ مہربانی فرماتا ہے معصیت کے بعد مؤمنوں پر مصیبت ڈالنا بھی اس کی مہربانی ہے کہ گناہوں سے پاکیزگی اور صفائی ہوجاتی ہے بغوی نے اپنی اسناد سے بیان کیا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ نے فرمایا : کیا میں تم کو قرآن کی وہ بزرگ ترین آیت بتاؤں جو رسول اللہ نے ہم سے بیان فرمائی تھی وہ آیت یہ ہے : وَ مَا اَصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفوا عن کثیر۔ رسول اللہ نے فرمایا : اے علی ؓ میں تم سے اس آیت کی تفسیر بیان کرتا ہوں تم پر جو بیماری عذاب یا دنیوی مصیبت آتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے اعمال کی وجہ سے آتی ہے (ایسے لوگوں کو) آخرت میں دوبارہ عذاب دینا اللہ کی شان سے بعید ہے اور دنیا میں اگر سزا دینے سے اللہ درگذر فرما دے تو (آخرت میں) دوبارہ پکڑنے کا اسکو اختیار ہے۔
Ayah 3:153

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب تم لوگ دور بھاگے جاتے تھے اور کسی کو پیچھے پھر کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول الله تم کو تمہارے پیچھے کھڑے بلا رہے تھے تو خدا نے تم کو غم پر غم پہنچایا تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہی یا جو مصیبت تم پر واقع ہوئی ہے اس سے تم اندوہ ناک نہ ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

از تصعدون جب تم تیزی کے ساتھ چلے جا رہے تھے۔ اس فقرہ کا تعلق صرفکم سے ہے یبتلیکم سے یا عفا عنکم سے یا اذکر محذوف سے۔ ابو عبد الرحمن سلمی حسن اور قتادہ کی قراءت میں تَصْعَدُوْنَ بفتح تاء مجرد سے آیا ہے لیکن اجماعی قراءت بضم تاء باب افعال سے ہے مفضل نے کہا کہ صَعَدَ (صعود سے) اور اَصْعَدَ (اصعاد سے) اور صَعَّدَ (تصعید سے) سب ہم معنی ہیں۔ ابو حاتم نے کہا باب افعال سے اصعاد کا معنی ہے۔ اپنے منہ کے سامنے ہموار میدان میں جانا اور صعود کا معنی ہے پہاڑ پر چڑھنا مبردنے کہا اصْعَدَ یعنی دور چلا گیا بغوی نے لکھا ہے کہ واقعہ دونوں طرح ہو اتھا کوئی ہموار میدان میں دور نکل گیا تھا اور کوئی پہاڑ پر چڑھ گیا تھا۔ و لا تلوون علی احد اور کسی کی طرف گردن موڑ کر نہیں دیکھ رہے تھے یعنی شدت دہشت کی وجہ سے کوئی کسی کی طرف منہ موڑ کر نہیں دیکھتا تھا۔ والرسول یدعوکم فی اخراکم اور پچھلی جماعت میں (کھڑے) رسول تم کو پکار رہے تھے اور فرما رہے تھے اللہ کے بندو میری طرف آؤ میں اللہ کا رسول ہوں جو میری طرف مڑ کر آئے گا اس کے لیے جنت ہے۔ یہ جملہ حالیہ ہے۔ فاثابکم پس اللہ نے تمہاری بزدلی اور نافرمانی کے بدلہ میں دیا۔ اثاب ثواب سے ماخوذ ہے۔ بجائے عقاب کے ثواب کا لفظ (صرف استہزاء کے طور پر) ذکر کیا یعنی تم ثواب کی امید لگائے ہوئے تھے مگر جو حرکت تم نے کی اسکے عوض اللہ نے تم کو سزا دی (اور یہی سزا تمہارے لیے ثواب کی جگہ تھی) جیسے فبشرھم بعذاب الیم (میں عذاب کی وعید کو بشارت سے تعبیر کیا ہے) ۔ غما بغم غم بالائے غم ‘ یعنی متواتر غم قتل، زخم، شکست مشرکوں کی فتح اور شہادت رسول کی جھوٹی خبر کی اشاعت۔ بعض علماء نے کہا پہلے غم سے مراد ہے۔ مال غنیمت ہاتھ سے جاتے رہنے کا غم اور دوسرے غم سے مراد ہے قتل اور زخمی ہونا اور شکست کھانا یا پہلے غم سے قتل اور زخمی ہونے کی مصیبت اور دوسرے غم سے رسول اللہ کی شہادت کی خبر مراد ہے جس نے پہلے غم کو بھلا دیا تھا یا پہلے غم سے مراد ہے گھاٹی سے خالد بن ولید کا سواروں کا دستہ لے کر برآمد ہونا اور دوسرے غم سے مراد ہے ابو سفیان کا سامنے سے نمودار ہوجانا قصہ یہ ہوا کہ اس روز رسول اللہ لوگوں کو پکارتے پکارتے اس جگہ پہنچے جہاں چٹان والے (مسلمان) جمع تھے انہوں نے جب آپ کو دیکھا تو (نہ پہچاننے کی وجہ سے) ایک شخص نے کمان میں تیر جوڑ کر آپ ﷺ کو مارنا چاہا آپ نے فرمایا : میں اللہ کا رسول ہوں رسول اللہ کو پا کر وہ لوگ بہت خوش ہوگئے اور محافظین کو پاکر رسول اللہ کو بھی خوشی ہوئی پھر یہ لوگ فتح کا فوت شدہ مال غنیمت کا اور اپنے ساتھیوں کی شہادت کا ذکر کرنے لگے۔ اتنے میں ابو سفیان اپنے ساتھیوں کے ساتھ سامنے سے آکر گھاٹی کے دہانہ پر کھڑا ہوگیا۔ مسلمان ان کو دیکھ کر فکر میں پڑگئے اور ان کو خیال ہوا کہ یہ لوگ ہم پر ٹوٹ پڑیں گے اور قتل کریں گے اس خیال نے آتے ہی ان کے پہلے خیال کو بھلا دیا۔ رسول اللہ نے فرمایا : یہ لوگ ہمارے اوپر نہیں آسکیں گے۔ اے اللہ اگر یہ گروہ مارا گیا تو تیری پرستش کرنے والا کوئی نہیں رہے گا پھر اپنے صحابہ کو آواز دی۔ صحابہ نے کافروں کو پتھر مار مار کر نیچے اتار دیا۔ میں کہتا ہوں آیت : سنلقی فی قلوب الذین کفروا الرعب اسی مقام پر نازل ہوئی۔ اسی جگہ ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے دلوں میں اللہ نے رعب ڈال دیا۔ میں کہتا ہوں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دوسرے غم سے مرادمدینہ کے لوٹے جانے کے خیال سے پیدا ہونے والا غم مراد ہو کیونکہ روایت میں آیا ہے کہ جب ابو سفیان ساتھیوں سمیت کوچ کرکے مکہ کو چل دیا تو رسول اللہ اور مسلمانوں کو اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ لوگ مدینہ پہنچ کر بچوں اور عورتوں کو ہلاک نہ کردیں اس لیے آپ نے حضرت علی اور حضرت سعد بن ابی وقاص کو دیکھنے کے لیے بھیجا اور فرمایا : اگر وہ لوگ اونٹوں پر سوارہوں اور گھوڑوں کو پہلو میں لگا کرلے جا رہے ہوں تو (سمجھ لو) یہ کوچ کر کے چل دئیے اور اگر گھوڑوں پر سوار ہوں اور اونٹوں کو ساتھ لے جا رہے ہوں تو یقیناً وہ مدینہ کو جانا اور لوٹنا چاہتے ہیں قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر انہوں نے مدینہ پر چڑھائی کی تو میں خود جا کر ان سے مقابلہ کروں گا حسب الحکم حضرت علی اور حضرت سعد مشرکوں کے پیچھے گئے اور دیکھا کہ وہ خود اونٹوں پر سوار ہیں اور گھوڑوں کو پہلو سے لگائے لیے جا رہے ہیں لیکن ایسا انہوں نے مدینہ کو لوٹنے کے متعلق مشورہ کرنے کے بعد کیا تھا کیونکہ صفوان بن امیہ نے ان سے کہہ دیاتھا کہ ایسا نہ کرو (یعنی مدینہ پر چڑھائی نہ کرو) آیت کا مطلب اس طرح بھی بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ کی نافرمانی کرکے جو غم تم نے رسول اللہ کو چکھایا تھا اس کے بدلہ میں اللہ نے تم کو غم دیا۔ لکیلا تحزنوا علی ما فاتکم تاکہ تم فوت شدہ فتح اور مال غنیمت پر غمگین ہو۔ لا تحزنوا میں لا معنی کے اعتبار سے زائد ہے۔ و لا ما اصابکم اور قتل ہونے، زخمی ہونے اور شکست پانے کی جو مصیبت تم پر پڑی ہے اس پر بھی تم غمگین ہو۔ اس آیت کا مطلب اس طرح بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ نے جو تم کو پیہم غم دیا اس کی غرض یہ تھی کہ مصائب پر صبر کرنے کی تم میں جرأت پیدا ہو اور آئندہ کسی فوت شدہ فائدے یا پہنچنے والے دکھ سے تم کو رنج نہ ہو۔ میں کہتا ہوں یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اللہ نے مسلسل غم کے عوض تم کو ثواب عطا فرمایا اور نبی کی زبانی تم کو اس کی اطلاع کردی تاکہ فوت شدہ فائدے اور پہنچے ہوئے دکھ کا تم کو غم نہ ہو بلکہ اللہ کے ثواب کی خبر پا کر تم خوش ہوجاؤ۔ بعض علماء کا قول ہے کہ اَثَابَ کی ضمیر رسول اللہ کی طرف راجع ہے اور باء سببیت یا بدلیت کے لیے ہے یعنی اس غم میں رسول اللہ : تمہارے برابر کے شریک ہوگئے۔ مطلب یہ کہ جس مصیبت کی وجہ سے تم غمگین ہوئے تمہاری طرح رسول اللہ بھی غمگین ہوئے اور نافرمانی پر انہوں نے تم کو ملامت نہ کی تاکہ تم کو تسلی رہے اور فوت شدہ نعمت اور پہنچنے والی مصیبت کا تم کو غم نہ ہو۔ وا اللہ خبیر بما تعملون اور اللہ تمہارے اعمال سے اور اعمال کی غرض سے باخبر ہے۔
Ayah 3:154

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:154 in the Quran reader

پھر خدا نے غم ورنج کے بعد تم پر تسلی نازل فرمائی (یعنی) نیند کہ تم میں سے ایک جماعت پر طاری ہو گئی اور کچھ لوگ جن کو جان کے لالے پڑ رہے تھے خدا کے بارے میں ناحق (ایام) کفر کے سے گمان کرتے تھے اور کہتے تھے بھلا ہمارے اختیار کی کچھ بات ہے؟ تم کہہ دو کہ بےشک سب باتیں خدا ہی کے اختیار میں ہیں یہ لوگ (بہت سی باتیں) دلوں میں مخفی رکھتے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم یہاں قتل ہی نہ کیے جاتے کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں مارا جانا لکھا تھا وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرور نکل آتے اس سے غرض یہ تھی کہ خدا تمہارے سینوں کی باتوں کو آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو خالص اور صاف کر دے اور خدا دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ پھر اے گروہ اہل اسلام اللہ نے غم کے بعد تمہارے لیے امن یعنی قلبی اطمینان اور سکون اتارا۔ نزول رحمت کے وقت اس سکون کا وجدان صوفی کو ہوتا ہے۔ نعاسا یعنی اونگھ۔ یہ امنۃ سے بدل یا انزل کا مفعول ہے ممکن ہے کہ نعاس سے مراد وہ استغراقی کیفیت ہو جو نزول رحمت کے وقت صوفی کو حاصل ہوتی ہے اور وہ تمام ماسوا سے غافل ہوجاتا ہے کیونکہ یہ کیفیت اونگھ سے بہت زیادہ مشابہ ہوتی ہے 1 ؂۔ یغشی طائفۃ منکم جو تمہارے ایک گروہ پر چھا گئی تھی یہ گروہ اہل ایمان کا تھا۔ بخاری وغیرہ نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت ابو طلحہنے فرمایا : کہ احد کے دن جب ہم صف بند میدان میں تھے کہ ہم پر ایسی اونگھ چھا گئی کہ میرے ہاتھ سے چھوٹ کر تلوار گری جا رہی تھی اور میں اس کو پکڑ رہا تھا وہ گری جا رہی تھی اور میں پکڑ رہا تھا۔ ثابت نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت ابو طلحہ نے فرمایا : احد کے دن میں نے سر اٹھایا تو لوگوں میں کوئی شخص ایسا نظر نہیں آیا کہ اونگھ کی وجہ سے ڈھال کے نیچے وہ جھکا نہ پڑ رہا ہو۔ وطائفۃ قد اھمتھم انفسھم اور ایک گروہ یعنی منافقوں کو (صرف) اپنی جانوں کی فکر تھی 2 ؂ یا یہ مطلب ہے کہ انکے نفسوں نے خود ان کو غموں میں ڈال دیا تھا اور وہ سکون و اطمینان سے محروم تھے۔ یظنون باللہ غیر الحق اللہ کے متعلق وہ نازیبا غلط گمان رکھتے تھے یعنی یہ گمان رکھتے تھے کہ اللہ محمد ﷺ کی مدد نہیں کرے گا یا یہ خیال کرتے تھے کہ اگر محمد ﷺ نبی ہوتے تو مارے نہ جاتے۔ ظن الجاہلیۃ اہل جاہلیت یعنی مشرکوں اور کافروں کے گمان کی طرح۔ یقولون وہ رسول اللہ سے کہتے ہیں یا اپنے دلوں میں کہتے ہیں۔ ھل لنا من الامر من شئی استفہام انکاری ہے یعنی جس نصرت کا وعدہ اللہ نے کیا تھا ہم کو اس سے کچھ نہیں ملا۔ روایت میں آیا ہے کہ بنی خزرج کے شہید ہونے کی اطلاع جب ابن ابی کو ملی تو اس نے یہ بات کہی۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ہم کو خود اپنی تدبیر اور انتظام کرنے سے روک دیا گیا ہمارے اختیار میں کچھ بھی نہیں رہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ کیا ہم پر سے یہ جبر کبھی دور ہوگا اور اپنے معاملہ کا اختیار ہم کو حاصل ہوگا۔ ابن راہویہ نے حضرت عبد اللہ بن زبیر کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت زبیر بن عوام نے فرمایا : مجھے (اب تک) دکھ رہا ہے کہ میں رسول اللہ کے ساتھ تھا سخت خوف کا وقت تھا تو اللہ نے ہم پر نیند مسلط کردی ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں رہا کہ اس کی ٹھوڑی سینہ سے نہ جا لگی ہو۔ خدا کی قسم مجھ پر اونگھ چھائی ہوتی تھی اور ایک خواب کی طرح میں معتب بن قشیرکایہ قول سن رہا تھا : لَوْ کَانَ مِن الامر شیء ما قتلنا ھہنا اسی کے متعلق اللہ نے آیت : ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ نعاساً یغشی۔۔ وا اللہ علیم بذات الصدور تک نازل فرمائی۔ قل ان الامر کلہ اللہ اے محمد ﷺ آپ ﷺ کہہ دیں کہ حکم سارا اللہ ہی کا ہے وہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے اور جیسی منشاء ہوتی ہے کرتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ حقیقی غلبہ تو اللہ اور اس کے دوستوں ہی کو حاصل ہے، اللہ کا گروہ ہی غالب رہتا ہے لیکن کسی مصلحت کی وجہ سے بعض اوقات اس کا (عارضی طور پر) ظہور نہیں ہوتا۔ یخفون فی انفسھم مالا یبدون لک وہ اپنے دلوں میں ایسی باتیں چھپائے رکھتے ہیں جن کا تم پر اظہار نہیں کرتے یعنی ظاہر تو یہ کرتے ہیں کہ وہ ہدایت کے طلبگار اور فتح کے خواستگار ہیں مگر باہم ایک دوسرے سے اسکے خلاف باتیں کرتے ہیں۔ یقولون یعنی ان الامر کلہ اللہ کا انکار کرتے ہوئے آپس میں پوشیدہ طور پر کہتے ہیں۔ لو کان لنا من الامر شی ما قتلنا ھھنا کہ اگر ہمارے لیے وہی ہوتا جو محمد ﷺ نے وعدہ کیا تھا یا جو محمد ﷺ کا خیال تھا کہ غلبہ پورا پورا اللہ کو اور اس کے دوستوں کو ہوتا ہے تو ہم یہاں مارے نہ جاتے یا یہ مطلب ہے کہ اگر ہمارا اختیار ہوتا اور ہماری تدبیر چلتی تو ہم مدینہ سے باہر نہ نکلتے جیسا کہ ابن ابی وغیرہ کا مشورہ تھا اور یہاں قتل نہ ہوتے۔ قل لو کنتم فی بیوتکم لبرز الذی کتب علیہم القتل الی مصاجعھم آپ کہہ دیں کہ اگر تم اپنے گھروں کے اندر بھی رہتے تب بھی جن لوگوں کے لیے قتل ہونا لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا تھا اور مقدر ہوچکا تھا وہ ضرور اپنی خواب گاہوں یعنی قتل گاہوں میں نکل کر پہنچتے مدینہ میں قیام رکھنا ان کے لیے سود مند نہ ہوتا بلکہ وہ مدینہ کے اندر ٹھہر ہی نہ سکتے۔ و لیبتلی اللہ ما فی صدورکم اس کا تعلق بَرَزَ سے ہے اور عطف محذوف پر ہے یعنی گھروں میں بیٹھ رہنے والے بھی ضرور اپنی قتل گاہوں میں آتے (اور مارے جاتے) کیونکہ حکم الٰہی کا نفاذ ضروری تھا اس کے علاوہ دوسری مصلحتیں بھی تھیں نیز دلوں کے اخلاص اور نفاق کی جانچ اور پوشیدہ خیالات کا اظہار بھی مقصود تھا یا اس کا تعلق فعل محذوف سے ہے اور جملہ کا عطف سابق حملہ پر ہے یعنی اللہ نے ایسا کیا تاکہ امتحان کرے۔۔ یاکیلا تحزنوا پر عطف ہے۔ و لیمحص ما فی قلوبکم اور اس لیے بھی کہ تمہارے دلوں کے خیالات کو کھول دے اور چھانٹ دے یا اے مسلمانو ! تمہارے دلوں کے اندر پیدا ہونے والے وسوسوں کو دور کردے۔ وا اللہ علیم بذات الصدور اور اللہ تمہارے اندرونی خیالات سے بخوبی واقف ہے نہ اس کو اظہار کی ضرورت ہے نہ جانچ کی۔ صرف مسلمانوں کو کسنا اور منافقوں کے حال کو ظاہر کرنا اور انکے خلاف دلیل قائم کرنا اسکی علت ہے۔
Ayah 3:155

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 3:155 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے (اُحد کے دن) جبکہ (مومنوں اور کافروں کی) دو جماعتیں ایک دوسرے سے گتھ گئیں (جنگ سے) بھاگ گئے تو ان کے بعض افعال کے سبب شیطان نے ان کو پھسلا دیا مگر خدا نے ان کا قصور معاف کر دیا بےشک خدا بخشنے والا اور بردبار ہے

ان الذین تولوا منکم یوم النقی الجمعان جس روز دونوں گروہوں کا یعنی اہل اسلام اور اہل شرک کا مقابلہ ہوا اور تم میں سے اے مسلمانو ! کچھ لوگ شکست کھا کر بھاگ گئے یہ احد کے دن کا واقعہ ہے سوائے تیرہ آدمیوں کے رسول اللہ کے ساتھ کوئی باقی نہیں رہا سب بھاگ گئے اور عبد اللہ بن جبیر کے ساتھ صرف دس آدمی قائم رہے۔ (چالیس آدمی ان کا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے ) ۔ انما استزلھم الشیطان بس شیطان نے ڈگمگا دینا چاہا یا شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسے ڈال کر لغزش یعنی گناہ پر آمادہ کردیا۔ اَزَلَّ اور اِسْتَزَلََّ کو ہم معنی بھی کہا گیا ہے۔ ببعض ما کسبوا یعنی ان کے گناہوں کی وجہ سے کہ بعض لوگوں نے مرکزکو چھوڑدینے کا مشورہ دیا تھا۔ حسن بصری نے فرمایا : ما کسبوا سے مراد ہے شیطان کے وسوسہ کو مان لینا۔ و لقد عفا اللہ عنھم یقیناً اللہ نے انکو معاف فرما دیا۔ (دوبارہ ذکر تاکیداً ہے ‘ 12) جب مصر والوں نے حضرت عثمان پر نکتہ چینی کی ‘ احد کے دن آپ ؓ کے فرار ہونے کا ذکر کیا اور جنگ بدر اور بیعت رضوان سے غیر حاضر ہونے کا بھی اظہار کیا تو حضرت ابن عمر ؓ نے یہی بات ان کے جواب میں فرمائی۔ فرمایا : میں شہادت دیتا ہوں کہ جنگ احد سے فرار کو تو اللہ نے معاف فرما دیا اور بدر سے غیر حاضری کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ کی صاحبزادی حضرت رقیہ آپ کے عقد میں تھیں اور بیمار تھیں (جن کی وجہ سے با جازت آپ کو رکنا پڑا) اس لیے حضور نے فرما دیا تھا کہ شرکاء بدر کے برابرتم کو ثواب بھی ملے گا اور حصہ بھی۔ رہا بیعت رضوان سے غیر حاضر رہنے کا معاملہ تو وادی مکہ کے اندر اگر حضرت عثمان غنی سے زیادہ کوئی معزز شخص ہوتا تو رسول اللہ اس کو (قریش مکہ کے پاس) بھیج دیتے (لیکن عثمان ہی سب سے زیادہ عزت والے تھے اس لیے) حضور ﷺ نے آپ کو مکہ کو بھیج دیا تھا اور ان کے جانے کے بعد بیعت رضوان ہوئی پس حضور ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : یہ عثمان کا ہاتھ ہے پھر اس کو دوسرے ہاتھ پر خود ہی مارا اور فرمایا : یہ عثمان کی بیعت ہے۔ حضرت ابن عمر نے یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد نکتہ چینی کرنے والے سے فرمایا : اب اس (تفصیل) کو اپنے ساتھ لے جا۔ (رواہ البخاری) لہٰذا جنگ احد سے فرار کرنے کی بنیاد پر کسی صحابی کو مطعون کرنا جائز نہیں۔ اس کے علاوہ یہ امر بھی تو ہے کہ فرار کی ممانعت سے پہلے یہ واقعہ ہوا تھا۔ (اس لیے قابل طعن نہیں ہے کیونکہ ورود حکم سے پہلے عدم تعمیل کوئی جرم نہیں بلکہ قابل تصور ہی نہیں) ۔ اِن اللہ غفور حلیم کوئی شبہ نہیں کہ اللہ بڑی مغفرت اور حلم والا ہے (اس لیے اس نے اہل فرار سے مواخذہ نہیں کیا اور معاف فرما دیا) ۔
Ayah 3:156

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 3:156 in the Quran reader

مومنو! ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور ان کے (مسلمان) بھائی جب (خدا کی راہ میں) سفر کریں (اور مر جائیں) یا جہاد کو نکلیں (اور مارے جائیں) تو ان کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ ان باتوں سے مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کے دلوں میں افسوس پیدا کر دے اور زندگی اور موت تو خدا ہی دیتا ہے اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

یا یھا الذینامنوا لا تکونوا کالذین کفروا اے اہل ایمان تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کفر کیا۔ کافروں سے مراد ہیں عبد اللہ بن ابی اور اسکے ساتھی منافق۔ منافقوں کی طرح نہ ہوجانے کا حکم اس لیے دیا کہ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص کسی قوم (کے افکار و اعمال اس کی) مشابہت اختیار کرے گا وہ اسی قوم میں سے ہوگا۔ اس حدیث کو حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے ابو داؤد نے مرفوعاً اور حضرت حذیفہ ؓ کی روایت سے طبرانی نے مرفوعاً نقل کیا ہے۔ خصوصاً ایسی مشابہت (سے تو اجتناب فرض ہے) جو موجب کفر ہو اس جگہ جس مشابہت کو اختیار کرنے کی ممانعت کی گئی ہے وہ موجب کفر ہی ہے کیونکہ یہ تقدیر کا انکار ہے اور تقدیر کا انکار کفر ہے۔ و قالوا اور انہوں نے کہا : قالوا اگرچہ ماضی ہے لیکن اس جگہ استقبال کا معنی مراد ہے کیونکہ آگے اذا ضربوا اس کا ظرف (یعنی ظرف زمان) آیا ہے اِذْ نہیں ہے اور اذا اگر ماضی پر بھی داخل ہو تب بھی معنی استقبال کے ہوتے ہیں (گویا مطلب یہ ہوا کہ یہ کافر آئندہ کہیں گے) لیکن صیغہ استقبال کی جگہ ماضی کا صیغہ اس لیے ذکر کیا گیا کہ یہ قول آئندہ کہنا یقینی تھا اور مستقبل میں جو بات یقینی الوقوع ہو اس کو ماضی کے صیغہ سے تعبیر کرلیا جاتا ہے۔ (گویا وہ بات ہوگئی) جیسے اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ میں (کہ اگرچہ آسمان ابھی نہیں پھٹا لیکن پھٹنا یقینی ہے اس لیے تَنْشَقُّ مضارع کی جگہ اِنْشَقَّتْماضی ذکر کیا ہے) لاخوانھم اپنے نسبی بھائیوں کے متعلق یا منافق بھائیوں سے۔ بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ لاخوانھم کا مطلب اپنے بھائیوں کے بارے میں اور ان کے متعلق ہے (یعنی لاخوانھم کا ترجمہ بھائیوں سے نہیں ہے) کیونکہ آیت : لَوْ کَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا بتارہی ہے کہ اخوانھم سے مراد وہ لوگ نہیں ہیں جو مخاطب تھے بلکہ وہ لوگ مراد ہیں جو مرچکے یا مارے جا چکے تھے۔ میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے اخوانھم سے مراد مخاطب ہی ہوں کیونکہ کچھ لوگ تو حاضر تھے ہی اور لو کانوا عندنا۔۔ میں وہ لوگ مراد ہوں جو مرگئے یا مارے گئے اگر کسی فعل کے فاعل جماعت کے اندر چند اشخاص ہوں تو فعل کی نسبت جماعت کی جانب کر ہی دی جاتی ہے۔ اگر اخوان سے برادران نفاق مراد ہوں تو پھر صرف مخاطب ہی مراد ہوں گے کیونکہ غازی (سفر جہاد پر جانے والے) اکثر وہ لوگ تھے جو منافق نہ تھے۔ اذا ضربوا فی الارض جب وہ تجارت وغیرہ کے لیے ملک میں چلیں پھریں اور دور نکل جائیں۔ اذا کا تعلق قالوا سے ہے گویا تین افعال کے صدور کا وقت ایک ہی ہے ملک میں جانا مرجانا اور پھر کافروں کا یہ بات کہنا ایک ہی ممتد زمانہ کے واقعات ہیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ چونکہ قالوا ماضی کا صیغہ ہے اس لیے بجائے اِذَا کے اِذْ ہونا چاہئے تھا لیکن گذشتہ حال کی اس وقت حکایت کی گئی ہے (تو گویا قالوا ماضی کا صیغہ نہیں رہا۔ بلکہ حال کا صیغہ ہوگیا اس لیے اذا لایا گیا) بیضاوی کا یہ قول قابل اعتراض ہے کیونکہ ماضی کے ساتھ اذا کا لانا تو ماضی کو مستقبل بنا دیتا ہے حال کا معنی پیدا نہیں ہوتا پھر ماضی کی حکایت کہ ماضی کو حال فرض کرلیا جائے یا حال کے کلام کو ماضی میں قرار دیدیا جائے کوئی صورت جائز نہیں نہ اذا کے داخلہ سے ماضی حال بنتی ہے وَ اِذَا کے ساتھ ماضی لانے سے حال ماضی ہوتا ہے بلکہ ماضی مستقبل ہوجاتا ہے اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ قالوا کا معنی اس جگہ استقبال کا ہے۔ او کانوا غزی غزًّیغازی کی جمع ہے جیسیعُفًّی عافی کی جمع ہے یعنی سفر پر ہوں یا جہاد پر پھر مرجائیں یا مارے جائیں۔ لو کانوا عندنا ما ماتوا و ما قتلوا کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے ( اور سفر پر نہ گئے ہوتے) تو مرتے نہیں اور (جہاد پر نہ جاتے تو) مارے نہ جاتے یہ بات کہنے کی وجہ یہ تھی کہ تقدیر پر انکا ایمان نہ تھا۔ 1 ؂(اسلام میں) فرقہ قدریہ بھی اسی کا قائل ہے۔ لیجعل اللہ ذالک حسرۃ فی قلوبھم لام غایت کا ہے (یعنی لام کے بعد والا کلام پہلے کلام کا نتیجہ اور علت ہے) اور ذالک سے اشارہ اعتقاد کی جانب ہے اور لام کا تعلق قالوا سے ہے یعنی ان کا عقیدہ مذکورہ جس پر ان کا قول دلالت کر رہا ہے آخر کار ان کی قلبی حسرت بن جائے گا یا لا تکونوا سے لام کا تعلق ہے یعنی منافقوں کی طرح تمہارا عقیدہ اور قول نہ ہونا چاہئے تاکہ تمہارا یہ عقیدہ اور قول ان کے لیے حسرت بن جائے عقیدہ اور قول کی مخالفت منافقوں کے لیے حسرت آفریں ہے۔ وا اللہ یحییٰ و یمیت اور اللہ ہی زندگی اور موت دیتا ہے یعنی نہ سفر و جہاد موت آور ہیں نہ ترک سفر و جہاد حیات آفریں کبھی مقیم خانہ نشین مرجاتا ہے اور مسافر مجاہد زندہ رہتا ہے۔ وا اللہ بما تعملون بصیر اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے اس آیت میں اہل ایمان کو منافقوں کی مشابہت 2 ؂ اختیار کرنے سے تہدید ہے۔
Ayah 3:157

وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 3:157 in the Quran reader

اور اگر تم خدا کے رستے میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو جو (مال و متاع) لوگ جمع کرتے ہیں اس سے خدا کی بخشش اور رحمت کہیں بہتر ہے

ولئن قتلتم فی سبیل اللہ اومتم اور اگر تم اللہ کی راہ میں مارے بھی گئے یا مرگئے نافع حمزہ اور کسائی کے نزدیک مِتُّمْ مِتُّ مِتْنَا ہر جگہ بکسر میم باب خاف یخاف (سمع یسمع) سے ہے اور ابن کثیر و ابو عمرو ابن عامر و ابوبکر کے نزدیک بضم میم۔ باب نصر ینصر سے ہے حفص کے نزدیک مُتُّمْ یہاں دونوں جگہ نصر ینصر سے بضم میم ہے۔ باقی مقامات پر مِتُّ مِتْنَا بکسر میم۔ لمغفرۃ من اللہ ورحمۃ خیر مما یجمعون یہ کلام جواب قسم ہے اور جزاء شرط کے قائم مقام ہے یعنی سفر اور جہاد کو موت اور زندگی میں دخل نہیں اللہ ہی حیات بخش اور موت آفریں ہے لیکن ظاہری طور پر اگر سفر و جہاد موت کا سبب نظر آتا بھی ہے تب بھی ایسی موت جس کے نتیجہ میں اللہ کی طرف سے گناہوں کی مغفرت اور رحمت حاصل ہو اس دنیوی مال و متاع سے بہتر ہے پس مناسب یہی ہے کہ آئندہ خیر کی طلب کی جائے اور فوت شدہ دنیا کا افسوس نہ کیا جائے۔
Ayah 3:158

وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 3:158 in the Quran reader

اور اگر تم مرجاؤ یا مارے جاؤ خدا کے حضور میں ضرور اکھٹے کئے جاؤ گے

و لئن متم او قتلتم لا الی اللہ تحشرون اور اللہ کی راہ میں اگر تم مرگئے یا مارے گئے خواہ کسی طور پر ہو تو اللہ ہی کی طرف تمہارا حشر ضرور ہوگا کسی دوسرے کے پاس جانا نہ ہوگا اس لیے تم کو امکانی کوشش کرنی چاہئے کہ اللہ کی محبت تم کو حاصل ہوتا کہ مرنے کے بعد تم فراق کے قید خانہ سے چھوٹ کر بار گاہ محبوب تک پہنچ جاؤ۔
Ayah 3:159

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ Open ayah 3:159 in the Quran reader

(اے محمدﷺ) خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوئی ہے۔ اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے۔ تو ان کو معاف کردو اور ان کے لئے (خدا سے) مغفرت مانگو۔ اور اپنے کاموں میں ان سے مشورت لیا کرو۔ اور جب (کسی کام کا) عزم مصمم کرلو تو خدا پر بھروسا رکھو۔ بےشک خدا بھروسا رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

فبما رحمۃ من اللہ لنت لہم پس اللہ ہی کی عظیم الشان رحمت (جو تم پر اور تمہاری امت پر ہے) کی وجہ سے تم مؤمنوں کے حق میں نرم دل ہو اور باوجودیکہ انہوں نے تمہارے حکم کے خلاف کیا پھر بھی ان کی تکلیف پر اللہ کی توفیق اور خدادا قلبی وجدان کے زیر اثر رنجیدہ ہوتے ہو۔ تمہاری یہ نرمی قلب باعث رحمت اس وجہ سے ہے کہ و لو کنت فظا غلیظ القلب اگر تم درشت رو زشت خو اور سخت دل ہوتے 1 ؂۔ لانفضوا من حولک تو وہ تمہارے آس پاس سے بچھڑ جاتے آپ کے پاس نہ رہتے اور دائرہ اسلام سے نکل جاتے اور جنت کے استحقاق سے محروم ہوجاتے اور متبعین کی تعداد کم ہونے سے تمہارا اجر کم ہوجاتا۔ فاعف عنھم پس ان پر جو تمہارا حق ہے اس سے درگذر کرو ان کو معاف کرو۔ واستغفر لھم اور اللہ کے جو حقوق انکے ذمہ ہیں اور یہ ادا نہیں کرسکے ‘ انکے لیے ان حقوق کی معافی کی اللہ سے دعا کرو۔ و شاورھم فی الامر اور جنگ کا معاملہ ہو یا کوئی اور معاملہ بہر حال جن چیزوں کا تعلق مشورہ (1) [ حضرت ابن عباس کا قول منقول ہے کہ آیت : (و شاورھم فی الامر) میں ابوبکر و عمر سے مشورہ لینے کا حکم ہے۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر و حضرت عمر ؓ کے حق میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ نے فرمایا : اگر تم دونوں مشورہ میں متفق الرائے ہوجاؤ تو میں مخالفت نہیں کروں گا۔ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کو لکھا کہ جنگ کے معاملہ میں رسول اللہ مشورہ لیا کرتے تھے اس لیے تم بھی مشورہ لیا کرو۔ ضحاک نے کہا کہ حضرت عمر ؓ مشورہ لیا کرتے تھے یہاں تک کہ عورت سے بھی۔] سے ہو اور اللہ کی طرف سے تم کو کوئی خاص ہدایت نہ ملی ہو تو ان کی رائے طلب کرو تاکہ تم کو ان کے مشورہ سے قوت حاصل ہو اور ان کے دل بھی خوش ہوجائیں اور امت کے لیے بھی باہمی مشاورت کا ایک دستور مقرر ہوجائے۔ بغوی نے اپنی سند سے بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : رسول اللہ سے زیادہ لوگوں کے لیے مشورہ لینے والا میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا۔ فاذا عزمت پھر جب مشورہ کے بعد تمہارا ارادہ محکم ہوجائے۔ فتوکل علی اللہ توا اللہ پر بھروسہ کرو، اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردو اور اس پر اعتماد رکھو۔ رسول ﷺ کی یہی حالت تھی۔ اسی لیے جب احد کے دن جنگ کے ارادہ سے برآمد ہوگئے تو فرمایا : کسی نبی کے لیے زیبا نہیں کہ جب اس نے زرہ پہن لی ہو تو بغیر جنگ کئے اتارے 3 ؂۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ باہم مشورہ کے بعد مشورہ سے جو کچھ طے ہو اس پر عمل کرو اور اعتماد اللہ پر رکھو یہ مطلب نہیں کہ اپنی رائے پر عمل کرو (اور مشورہ کو نظر انداز کردو) کیونکہ غیب کا علم تو اللہ ہی کو ہے مگر باہم مشورہ کے بعد افکار و خیالات کے ردو بدل سے وہ بات نکل آتی ہے جو زیادہ مفید ہوتی ہے پھر بھی اجتماعی مشورہ قابل بھروسہ نہیں ہوتا کہ یقیناً مفید ہی ہو کیونکہ انسانی افکار کی رفتار کبھی اندھا دھند ہوتی ہے اور اللہ معمول کے خلاف کبھی نتیجہ پیدا کردیتا ہے اس لیے بھروسہ لوگوں کی رائے پر نہیں صرف اللہ پر ہونا چاہئے 1 ؂۔ توکل کا مطلب یہ ہے کہ ہر چیز اللہ کے سپرد کردی جائے اسی سے درخواست کی جائے کہ کوشش کا نتیجہ اچھا نکلے اور اللہ پر بدگمانی نہ کی جائے حسن ظن رکھا جائے (کہ وہ ضروراچھا نتیجہ نکالے گا ) ۔ بعض علماء کا قول ہے کہ رزق حاصل کرنے کے لیے اللہ کی نافرمانی نہ کرنا توکل ہے اس قول پر اللہ کی طرف (رزق کے معاملے میں) رجوع کرنا لازم ہے لیکن گناہ کے معاملہ میں اللہ سے التجا کا کوئی معنی نہیں۔ بعض علماء نے کہا کہ توکل کا معنی یہ ہے کہ اپنی ذات کے لیے اللہ کے سوا کسی کو نا صر اور رزق کا کسی کو خازن اور اعمال کا کسی کو نگران نہ قرار دیا جائے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : میری امت کے سترّ ہزار آدمی بلا حساب جنت میں جائیں گے عرض کیا گیا : یا رسول اللہ وہ کون ہوں گے ؟ فرمایا : وہ لوگ وہ ہیں جو داغ نہیں لگواتے، منتر نہیں پڑھتے پڑھواتے، شگون نہیں لیتے اور اپنے رب پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔ (متفق علیہ) بغوی نے حضرت عمران بن حصین ؓ کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ حضرت عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : اگر تم اللہ پر توکل کرو جیسا توکل کا حق ہے تو اللہ تم کو اسی طرح رزق دے جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ صبح کو بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے واپس آتے ہیں 2 ؂۔ اگر شبہ کیا جائے کہ حضرت ابن عباس کی روایت سے تو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ظاہری معمولی اسباب کو ترک کردینا توکل ہے جیسے (زخم وغیرہ کے لیے) داغ نہ لگوانا اور منتر افسوں کو ترک کرنا۔ میں کہتا ہوں ایسا نہیں ہے (ترک اسباب نہیں) بلکہ اسباب پر اعتماد نہ کرنا توکل ہے دیکھو مشورہ لینا بھی تو ایک طرح کے سبب کا استعمال ہے جس کا حکم دیا گیا ہے لیکن اس پر اعتماد کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ رہی حدیث ابن عباس تو اس کے آخر میں : و علی ربھم یتوکلون داغ نہ لگوانے اور افسوں نہ کرنے کرانے کی تفسیر نہیں ہے۔ عطف غیریت کو چاہتا ہے اور ان دونوں جملوں کے مفہوم میں تغایر و تضاد نہیں ہے۔ اور شاید سترّ ہزار سے مراد وہ لوگ ہیں جو اکثر اسباب کا استعمال نہیں کرتے (کیونکہ مطلقاً ترک اسباب تو ممکن ہی نہیں) یا ترک تشبث سے مراد ہے اسباب مکروہہ کو چھوڑ دینا کیونکہ اسباب کا استعمال تو زندگی کے لوازم میں سے ہے (ان کا ترک تو ناممکن ہے) کھانا پینا عادۃً زندگی کے اسباب میں سے ہے۔ نماز، روزہ غالباً دخول جنت کا سبب ہے اور ان کو ادا کرنا واجب اور ضروری ہے۔ ان اللہ یحب المتوکلین جو لوگ اللہ پر توکل کرتے ہیں اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور اللہ کا محبوب ہونا ہی سب سے اونچا مقصد ہے اس کے علاوہ توکل علی اللہ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ مدد فرماتا ہے اور (دین دنیا کی) صلاح کا راستہ دکھا دیتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَ مَنْ یَّتَّوَکَّلْ عَلَی اللہ فَھُوَ حَسْبُہٗ حدیث قدسی میں آیا ہے کہ میں اپنے بندہ کے گمان کے پاس ہوں (یعنی بندہ جیسا مجھ پر اچھا برا گمان کرتا ہے میں ویسا ہی اس کے ساتھ سلوک کرتا ہوں) ۔
Ayah 3:160

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:160 in the Quran reader

اور خدا تمہارا مددگار ہے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے کہ تمہاری مدد کرے اور مومنوں کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں

ان ینصرکم اللہ فلاغالب لکم اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو پھر کوئی تم پر غلبہ پانے والا نہیں کیونکہ جو اللہ کی طرف سے مدد یافتہ ہو وہ کسی سے مغلوب نہیں ہوسکتا۔ ورنہ اللہ کا عاجز اور کمزور ہونالازم آئے گا جو قطعاً محال ہے۔ و ان یخذلکم فمن ذالذی ینصرکم اور اگر وہ تم کو بےمدد چھوڑ دے اور اپنی مدد کو روک دے تو پھر کون تمہاری مدد کرسکتا ہے (استفہام انکاری ہے) یعنی کوئی مدد نہیں کر سکتا کیونکہ بندوں کے تمام افعال اللہ کے پیدا کردہ ہیں اس لیے اگر وہ بےمدد چھوڑ دے تو پھر کسی کی طرف سے مدد کا تصور ہی نہیں ہوسکتا۔ من بعدہ اس کے مدد نہ کرنے کے بعد۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب تم نے اللہ سے مدد کی طلب چھوڑ دی تو کسی دوسرے کی طرف سے مدد کا تصور ممکن ہی نہیں۔ شرعاً اللہ پر توکل رکھنے کا حکم بصیغہ امر واجب ہے لیکن اس آیت میں توکل کے عقلی وجوب کو دلیل سے بھی ثابت کیا ہے۔ و علی اللہ فلیتوکل المؤمنون اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو توکل کرنا چاہئے کیونکہ وہ جانتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں ہے۔