Ayah 3:145و ما کان لنفس ان تموت الا باذن اللہ یعنی کوئی شخص بغیر اللہ کی مشیت اور حکم کے نہیں مرسکتا یا یہ مطلب کہ جب تک ملک الموت کو کسی کی جان قبض کرنے کی اجازت نہ مل جائے وہ نہیں مرسکتا۔
کتابا موجلا موجَّلا کتابًا کی صفت ہے اور کتاباً مصدر ہے فعل محذوف ہے
یعنی اللہ نے موت کی موقت تحریر لکھ دی ہے لکھے ہوئے وقت سے آگے پیچھے موت نہیں آسکتی۔ اس آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب اور جنگ کی جرأت دلائی گئی ہے۔
و من یرد ثواب الدنا نوتہ منھا یعنی جو شخص اپنے عمل کا دنیوی بدلہ چاہتا ہے ہم دنیا میں ہی اس کو اپنی مشیت کے مطابق جو کچھ ہم نے اس کے لیے مقدر کردیا ہے دیدیتے ہیں اس آیت میں ان لوگوں پر تعریض ہے جو مال غنیمت کی طرف راغب ہو کر جہاد سے غافل ہوگئے تھے۔
و من یرد ثواب الاخرۃ نوتہٖ منھا اور جو اپنے عمل سے آخرت کے ثواب کا خواستگار ہوگا ہم آخرت کا ثواب اس کو دیں گے۔
و سنجزی الشاکرین اور شکر گذاروں کو یعنی ثابت قدم رہنے والوں کو ضرور جزا دیں گے۔ میں کہتا ہوں کہ شاید اس فقرہ سے یہ مراد ہے کہ جو شخص اپنے عمل سے صرف شکر گذار ہونے کا طلب گار ہو نہ اس کے پیش نظر ثواب دنیا ہو نہ ثواب آخرت تو اللہ اس کو ایسی عظیم الشان جزا دے گا جس کا اندازہ کوئی عقل نہیں کرسکتی نہ کسی فہم کی رسای وہاں تک ہوسکتی ہے اور یہ جزا صرف ذات باری ہے۔ 1 جزا کو مبہم رکھنا (اور تعیین کے ساتھ کسی خاص قسم کے ثواب کا ذکر نہ کرنا) بتارہا ہے کہ جزاء غیرمعروف ہے انسان کی عقل اس کو نہیں جان سکتی۔
قاموس میں ہے شکر کا معنی ہے احسان کو پہچاننا اور اس کو پھیلانا حضرت انس بن مالک راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس کی نیت طلب آخرت کی ہو اللہ اس کے دل میں دنیا کی طرف سے بےنیازی پیدا کردیتا ہے اور اس کی پریشانی کو جمع کردیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے اور جس کی نیت طلب دنیا کی ہو اللہ محتاجی اس کی آنکھوں کے سامنے کردیتا ہے اس کی جمعیت (خاطر) کو پراگندہ بنا دیتا ہے اور دنیا میں سے اس کو اتنا ہی ملتا ہے جو اللہ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے۔ (رواہ البغوی)
حضرت عمر بن خطاب ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : اعمال صرف نیتوں سے وابستہ ہیں اور آدمی کے لیے صرف اس کی نیت کا پھل ہے پس جس کی ہجرت اللہ اور رسول کے لیے ہے اس کی ہجرت اللہ اور رسول کے لیے ہوگی اور جس کی ہجرت مال حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہوگی اس کی ہجرت اسی غرض کے لیے ہوگی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہوگی۔ (متفق علیہ)
Ayah 3:146و کاین من نبی قتل معہ ربیون کثیر اور بہت سے پیغمبروں کے ساتھ بلکہ بکثرت آدمیوں نے (کافروں سے) جنگ کی۔ حضرت ابن عباس، مجاہد اور قتادہ نے رِبِّیُّوْن کا ترجمہ کیا ہے کثیر جتھے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے اسکا ترجمہ کیا ہے ہزارہا۔ کلبی نے کہا : ایک رِبّیَّۃ دس ہزار ضحاک نے کہا ایک ربیہ ایک ہزار۔ حسن بصری نے ربیّون کا معنی کیا۔ فقہاء، علماء بعض نے متبعین ترجمہ کیا ہے اس صورت میں ربانیون سے مراد ہونگے حکام اور ربیون سے رعایا یہ بھی کہا گیا ہے کہ ربی رب کی طرف منسوب ہے یعنی خدا پرست۔
فما وھنوا لما اصابھم فی سبیل اللہ یعنی لوگ قتل سے بچ رہے تھے وہ اللہ کی راہ میں زخمی ہونے شدائد سامنے آنے اور ساتھیوں کے مارے جانے کی وجہ سے پست ہمت نہ ہوئے۔
و ما ضعفوا اور نہ جہاد کرنے سے کمزور پڑگئے۔
و ما استکانوا اور نہ دشمن کے مطیع ہوئے نہ ذلیل و عاجز بنے بلکہ وہ اللہ کے حکم پیغمبر کی اطاعت اور دشمن سے جہاد کرنے پر جمے رہے۔
اِسْتَکَانَ کا مادہ سکن اور (مجرد کا مصدر) سکون ہے عاجز فرمانبردار بھی اپنے مقابل کے سامنے بےحرکت ہوجاتا ہے وہ اس کے ساتھ جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس جملہ میں تعریض ہے ان لوگوں پر جو ابو سفیان سے امن طلب کرنے کے خواستگار تھے یالڑائی سے پست ہمت ہو بیٹھے تھے۔
وا اللہ یحب الصابرین اور اللہ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اسلئے ان کی مدد اور عزت افزائی کرتا ہے۔
Ayah 3:147و ما کان قولھم الا ان قالوا ربنا اغفرلنا ذنوبنا قَوْلَھُمْ کَانَکی خبر ہے اور اَنْ قَالُوْا کَانَ کا اسم ہے
کیونکہ اسم کو خبر سے اعرف ہونا چاہئے اور قالوا چونکہ فاعلی نسبت اور زمانہ پر دلالت کررہا ہے اس لیے قَوْلَھُمْ سے (جو صرف نسبت پر دلالت کرتا ہے) معرفہ ہونے میں زیادہ ہے۔ ذنوب سے مراد ہیں صغیرہ گناہ۔
و اسرافنا فی امرنا اسراف حد عبدیت سے تجاوز۔ امر حال، معاملہ، اسراف سے مراد ہیں کبیرہ گناہ۔ یعنی شدائد و مصائب میں مبتلا ہونے کے بعد بھی ان کا قول (بجائے شکوہ و شکایت اور آہ و بکا و بےصبری کے) صرف یہ تھا کہ اے رب ہمارے چھوٹے بڑے گناہ معاف کردے۔
و ثبت اقدامنا اور ہمارے پاؤں اپنے سیدھے راستہ پر اور دشمن کے مقابل جہاد میں جمائے رکھ۔
وانصرنا علی القوم الکافرین اور کافر قوموں پر ہم کو فتح عطا فرما ‘ اس قول کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ نے اہل ایمان سے نصرت و غلبہ کا وعدہ فرما لیا ہے چناچہ ارشاد فرمایا ہے۔ حَقًا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمنِیْن دوسری جگہ فرمایا : اِنَّ جُنْدَنَا لَھُُمُ الْغَالِبُوْن اور اہل ایمان پر جو دکھ اور مصیبت آتی ہے وہ گناہوں کے اور حدود عبودیت سے تجاوز کرنے کے سبب سے آتی ہے اللہ نے فرمایا ہے : مَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُصِیْبَۃٍ فَبِمَاکَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ پس مصیبت کے وقت مؤمن کا فرض ہے کہ اپنے گناہ کا اقرار کرے تاکہ ندامت حاصل ہو اور معافی کا طلب گار ہو پھر اللہ سے امداد دینے اور ثابت قدم رکھنے کی دعا کرے۔ وَ مَا النَّصْرُ الَّا مِنْ عِنْدِ اللہ العَزِیْزِ الْحَکِیْم گناہوں سے پاک ہونے اور استغفار کرنے کے بعد دعاباب قبول تک جلد پہنچتی ہے۔
Ayah 3:148فاتٰھم اللہ اس قول کی برکت سے اللہ نے ان کو عطا فرمایا۔
ثواب الدنیا دنیاوی ثواب یعنی فتح، مال غنیمت، ملک اور نیک نامی (وغیرہ)
و حسن ثواب الاخرۃ اور ثواب آخرت کا حسن یعنی جنت مرتبہ قرب اور اپنی خوشنودی اور رب کی ادنیٰ خوشنودی ہی سب سے بڑھ کر ہے۔ حسن ثواب معمولی ثواب سے افضل ہے اور واجب القصد بھی اس لیے ثواب آخرت کے ساتھ حسن کا ذکر کیا۔
وا اللہ یحب المحسنین اور اللہ اہل احسان کو پسند فرماتا ہے۔ یُحِبُّہُمْ نہیں فرمایا بلکہ ضمیر کی جگہ اسم ظاہر کو ذکر کیا تاکہ اس امر کی صراحت ہوجائے کہ مذکورہ مقولہ کے قائل ہی اہل احسان ہیں کیونکہ احسان کا معنی ہے اللہ کو حاضر ناظرسمجھتے ہوئے عبادت کرنا یعنی ہر طرح کی غفلت دور کرکے دل کو حاضر رکھنا پس احسان کا تقاضا ہے کہ مقولۂ مذکورہ زبان سے کہا جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ راحت و رنج اور دکھ سکھ سب اللہ کی طرف سے آتا ہے مگر اللہ کریم ہے اس لیے انسان جب تک اپنی اطاعت میں کوئی قصور نہ کرے اللہ کی طرف سے نعمت نہیں بدلی جاتی جب اطاعت میں کمی آتی ہے تو اللہ اپنی نعمت بدل دیتا ہے اور نعمت کی جگہ کچھ تکلیف بھیج دیتا ہے۔ تاکہ انسان بیدار ہو کر معافی کا طلبگار ہو اور دنیوی سزا بھگت کر پاک صاف ہوجائے۔
Ayah 3:149یایھا الذین امنوا ان تطیعوا الذین کفروا اے ایمان والو اگر تم (ان) کافروں کا کہا مانو گے حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ نے فرمایا کہ : الذین کفروا سے منافق مراد ہیں اور اطاعت سے مراد ہے منافقوں کا یہ مشورہ ماننا کہ اپنے سابق مذہب میں لوٹ جاؤ۔ اگر محمد ﷺ نبی ہوتے تو مارے نہ جاتے۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اگر تم ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کی اطاعت کرو گے ان کے سامنے عاجزی کرو گے اور ان سے امن کے خواہش مند ہو گے تو یردوکم علی اعقابکم تو وہ تم کو اسلام سے سابق شرک کی طرف ایڑیوں کے بل پلٹا دیں گے۔
فتنقلبوا خاسرین نتیجہ میں تم لوٹ کر گھاٹے میں پڑجاؤ گے دنیا اور دین دونوں تباہ ہو جائینگے
Ayah 3:150بل اللہ مولٰکم (یہ تمہارے دوست نہیں ہیں) بلکہ اللہ تمہارا دوست، مددگار اور مسلمان ہونے کی حالت میں محافظ ہے لہٰذا اس کے سوا تم کافروں سے (اندرونی) دوستی نہ کرو۔
و ھو خیر الناصرین اور وہی بہترین مددگار ہے پس اس کے ہوتے ہوئے تم کو کسی دوسرے کی دوستی اور امداد کی ضرورت نہیں۔ روایت میں آیا ہے کہ 16 شوال کو جب ابو سفیان اور مشرک مکہ کو جانے لگے اور روانہ ہوگئے تو کچھ راستہ طے کرنے کے بعد ان کو پشیمانی ہوئی اور کہنے لگے ہم نے برا کیا اوّل تو ہم نے ان کو قتل کیا پھر جب چند بھاگے ہوئے لوگوں کے سوا ہمارے مقابلہ میں کوئی نہ رہا تو ہم ان کو چھوڑ آئے اس لیے مناسب ہے کہ ابھی لوٹ چلو اور ان کی جڑ ہی اکھاڑ دو ۔ کافروں نے یہ ارادہ کیا ہی تھا کہ اللہ نے ان کے دلوں کے اندر مسلمانوں کا رعب ڈال دیا اور وہ اپنے ارادہ سے با زآگئے اور اللہ نے ذیل کی آیت نازل فرمائی۔
Ayah 3:151سنلقی قلوب الذین کفروا الرعب بما اشرکوا باللہ ما لم ینزل بہ سلطانا یعنی ہم ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے دلوں میں رعب ڈالدیں گے اس وجہ سے کہ وہ ایسی چیزوں کو اللہ کا ساجھی بناتے ہیں جن کی شرکت کی اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری 1 ۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب مکہ واپس جاتے وقت مشرکوں نے مدینہ کو لوٹنے کا ارادہ کیا تھا اس وقت ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا گیا۔ اگر اس آیت کا نزول واقعہ کے بعد مانا جائے تو پھر سنلقی میں سین صرف تاکید کے لیے ہوگی استقبالیہ نہ ہوگی بلکہ گزشتہ واقعہ کی نقل ہوگی۔
سلطان کا اصل لغوی معنی ہے قوت اس جگہ مراد ہے۔ دلیل ‘ برہان مطلب یہ کہ ایسے معبودوں کو انہوں نے اللہ کا ساجھی بنا رکھا ہے جن کے شریک ہونے کی نہ کوئی دلیل ہے نہ برہان بلکہ عقلی نقلی تمام دلیلیں اور جہتیں اللہ کی توحید پر دلالت کر رہی ہیں۔
و ماٰھم النار و بئس مثوی الظالمین اور ان کا یعنی مشرکوں کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ ظالموں کی بری قرار گاہ ہے ضمیر کی جگہ الظالمین کہنے کی وجہ سے ناراضگی کی درشتی کا اظہار بھی ہوگیا اور دوزخی ہونے کی علت کی بھی صراحت ہوگئی۔ محمد بن کعب کا بیان ہے کہ جب احد کی افتاد کے بعد رسول اللہ اور صحابہ مدینہ کو لوٹے تو بعض صحابیوں نے کہا کہ اللہ نے ہم سے وعدہ تو فتحیاب بنانے کا کیا تھا پھر یہ کیا ہوا اس پر اللہ نے مندرجہ ذیل آیت نازل فرمائی۔
Ayah 3:152و لقد صدقکم اللہ وعدہ یعنی اللہ نے جو تم کو فتحیاب بنانے کا وعدہ بشرط صبروتقویٰ کیا تھا وہ اس نے پورا کیا آغاز جنگ میں تم کو فتح یاب کیا۔
اذ تحسونھم باذنہ جب اللہ کے حکم و فیصلہ کے مطابق تم کافروں کو بےدریغ تلوار سے کاٹ رہے تھے۔ ابو عبیدہ (رح) نے کہا حَسٌّ کا معنی ہے قتل کرکے بیخ و بن سے اکھاڑدینا۔ یہاں قتل عام مراد ہے۔ یہ لفظاَحَسَّہٗ سے نکلا ہے۔ اَحَسَّ کا معنی ہے حس کو باطل کردیا 2 ۔
حتی اذا فشلتم لیکن جب تم بزدل اور کمزور پڑگئے بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جب تمہاری رائے کمزور پڑگئی اور تم مال غنیمت پر جھک پڑے (گویا کمزوری سے مراد ہے رائے کی کمزوری) کیونکہ مال کی حرص ضعف عقل کی علامت ہے۔
و تنازعتم فی الامر اور قیام وعدم قیام کے معاملہ میں تم باہم جھگڑنے لگے عبد اللہ بن جبیر ؓ کے ساتھیوں نے جب مسلمانوں کا غلبہ اور مشرکوں کی شکست دیکھی تو بعض نے کہا اب یہاں ٹھہرے رہنے کی کیا ضرورت۔ عبد اللہ نے کہا کیا تم رسول اللہ کا فرمان بھول گئے ؟ انہوں نے جواب دیا رسول اللہ کی یہ مراد نہیں تھی (کہ کافروں کو شکست ہوجائے تب بھی تم یہاں سے نہ ہٹنا) ہم تو ضرور جا کر لوٹ کا مال حاصل کریں گے۔ عبد اللہ اور ان کے ہم خیال لوگوں نے کہا ہم حکم رسول سے بالکل تجاوز نہیں کریں گے۔
و عصیتم اور تم نے رسول ﷺ اللہ کے حکم کے خلاف کیا۔ بعض علماء نے کہا کہ : حتٰی اذا فشلتم اور تنازعتم کے درمیان واؤ زائد ہے (اور تنازعتم جزا ہے یعنی جب تم بزدل ہوگئے تو باہم نزاع کرنے لگے) مگر یہ بات غلط ہے ورنہ لازم آئے گا کہ نزاع باہمی سے پہلے بزدلی پیدا ہوگئی تھی (جزا سے پہلے شرط کا تحقق ضروری ہے) حالانکہ بزدلی باہمی نزاع کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ شروع میں تو وہ جرأت مند تھے کافروں کی شکست دیکھ کر لوٹنے کے لیے میدان جنگ کی طرف گئے تھے۔
بعض علماء کا قول ہے کہ اگر واؤ کو زائد ہی مانا جائے تو کہنا پڑے گا کہ کلام کی ترتیب میں کچھ تقدیم و تاخیر ہے اصل کلام یوں تھا : حتی اذا تنازعتم فی الامر و عصیتم فشلتم (یہ خواہ مخواہ کلام کی توڑ مروڑ ہے لہٰذا) صحیح یہی ہے کہ واؤ زائد نہیں ہے اور جزاء محذوف ہے یعنی جب تم ہمت ہار بیٹھے اور قیام و عدم قیام کے متعلق باہم جھگڑنے لگے اور نافرمانی کی تو اللہ نے اپنی مدد روک لی اور تم پر مصیبت ڈال دی چونکہ واؤ مطلق عطف کے لیے ہے ترتیب واقعہ کو ظاہر کرنے کے لیے نہیں ہے اس لیے نزاع اور نافرمانی پر بزدلی کی تقدیم لازم نہیں آتی۔
من بعد ما اراکم ما تحبون اس فقرہ کا تعلقفشلتم سے ہے یعنی تم بزدل ہوگئے اس کے بعد کہ تم کو اللہ نے تمہاری محبوب چیز یعنی فتح اور مال غنیمت کی صوت دکھا دی تھی۔
منکم من یرید الدنیا تم میں سے کچھ تو دنیا کے طالب تھے جنہوں نے مرکز کو چھوڑدیا اور لوٹنے کی طرف متوجہ ہوگئے۔
و منکم من یرید الاخرۃ اور کچھ آخرت کے طلبگار تھے جو عبد اللہ بن جبیر کے ساتھ جمے رہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا : رسول اللہ کے ساتھیوں میں سے کسی کو میں نے دنیا کا طلبگار نہیں پایا یہاں تک کہ احد کا دن آیا (اور) یہ آیت نازل ہوئی آپ کے کلام کا مقصد یہ ہے کہ صحابہ میں سے کسی نے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے مال غنیمت کی طلب کی تھی دنیا کی طلب نہیں کی اور انہی کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا۔
ثم صرفکم عنھم پھر تم کو تمہاری نافرمانی کی نحوست کی وجہ سے کافروں کی طرف سے پھیر دیا، پانسہ پلٹ گیا، کافر تم پر غالب آگئے اور تم کو شکست ہوگئی۔
لیبتلیکم تمہاری جانچ کرنے کے لیے تاکہ اہل نفاق سے مؤمن ممتاز ہوجائیں۔ یا اس فقرہ کا یہ مطلب ہے کہ تمہاری بیجا حرکت کی وجہ سے اللہ نے تم پر مصیبت ڈالنی چاہی۔ اس مطلب پر یہ مسئلہ نکلے گا کہ بعض لوگوں کی نافرمانی کی وجہ سے کبھی عام لوگوں پر مصیبت پڑجاتی ہے اور یہ مصیبت نافرمان کے لیے سزا اور فرماں بردار کیلئے زیادتی اجر کا باعث ہوجاتی ہے۔
ولقد عفا عنکم اور اللہ نے تم سے در گذر فرمائی کہ معصیت اور حکم رسول کی مخالفت کے بعد بھی اللہ کی یہ مہربانی ہوئی کہ کفار تمہارا استیصال نہ کرسکے یا یہ مطلب ہے کہ رسول اللہ کی نافرمانی پر جب تم نادم ہوئے تو اللہ نے تم کو معاف کردیا۔
وا اللہ ذو فضل علی المؤمنین اور اللہ مؤمنوں پر بڑا مہربان ہے کہ اگر اس کی مشیت ہوتی ہے تو اپنی مہربانی سے معاف کردیتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ ہر حال میں اللہ مہربانی فرماتا ہے معصیت کے بعد مؤمنوں پر مصیبت ڈالنا بھی اس کی مہربانی ہے کہ گناہوں سے پاکیزگی اور صفائی ہوجاتی ہے بغوی نے اپنی اسناد سے بیان کیا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ نے فرمایا : کیا میں تم کو قرآن کی وہ بزرگ ترین آیت بتاؤں جو رسول اللہ نے ہم سے بیان فرمائی تھی وہ آیت یہ ہے : وَ مَا اَصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفوا عن کثیر۔ رسول اللہ نے فرمایا : اے علی ؓ میں تم سے اس آیت کی تفسیر بیان کرتا ہوں تم پر جو بیماری عذاب یا دنیوی مصیبت آتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے اعمال کی وجہ سے آتی ہے (ایسے لوگوں کو) آخرت میں دوبارہ عذاب دینا اللہ کی شان سے بعید ہے اور دنیا میں اگر سزا دینے سے اللہ درگذر فرما دے تو (آخرت میں) دوبارہ پکڑنے کا اسکو اختیار ہے۔
Ayah 3:153از تصعدون جب تم تیزی کے ساتھ چلے جا رہے تھے۔ اس فقرہ کا تعلق صرفکم سے ہے یبتلیکم سے یا عفا عنکم سے یا اذکر محذوف سے۔ ابو عبد الرحمن سلمی حسن اور قتادہ کی قراءت میں تَصْعَدُوْنَ بفتح تاء مجرد سے آیا ہے لیکن اجماعی قراءت بضم تاء باب افعال سے ہے مفضل نے کہا کہ صَعَدَ (صعود سے) اور اَصْعَدَ (اصعاد سے) اور صَعَّدَ (تصعید سے) سب ہم معنی ہیں۔ ابو حاتم نے کہا باب افعال سے اصعاد کا معنی ہے۔ اپنے منہ کے سامنے ہموار میدان میں جانا اور صعود کا معنی ہے پہاڑ پر چڑھنا مبردنے کہا اصْعَدَ یعنی دور چلا گیا بغوی نے لکھا ہے کہ واقعہ دونوں طرح ہو اتھا کوئی ہموار میدان میں دور نکل گیا تھا اور کوئی پہاڑ پر چڑھ گیا تھا۔
و لا تلوون علی احد اور کسی کی طرف گردن موڑ کر نہیں دیکھ رہے تھے یعنی شدت دہشت کی وجہ سے کوئی کسی کی طرف منہ موڑ کر نہیں دیکھتا تھا۔
والرسول یدعوکم فی اخراکم اور پچھلی جماعت میں (کھڑے) رسول تم کو پکار رہے تھے اور فرما رہے تھے اللہ کے بندو میری طرف آؤ میں اللہ کا رسول ہوں جو میری طرف مڑ کر آئے گا اس کے لیے جنت ہے۔ یہ جملہ حالیہ ہے۔
فاثابکم پس اللہ نے تمہاری بزدلی اور نافرمانی کے بدلہ میں دیا۔ اثاب ثواب سے ماخوذ ہے۔
بجائے عقاب کے ثواب کا لفظ (صرف استہزاء کے طور پر) ذکر کیا یعنی تم ثواب کی امید لگائے ہوئے تھے مگر جو حرکت تم نے کی اسکے عوض اللہ نے تم کو سزا دی (اور یہی سزا تمہارے لیے ثواب کی جگہ تھی) جیسے فبشرھم بعذاب الیم (میں عذاب کی وعید کو بشارت سے تعبیر کیا ہے) ۔
غما بغم غم بالائے غم ‘ یعنی متواتر غم قتل، زخم، شکست مشرکوں کی فتح اور شہادت رسول کی جھوٹی خبر کی اشاعت۔ بعض علماء نے کہا پہلے غم سے مراد ہے۔ مال غنیمت ہاتھ سے جاتے رہنے کا غم اور دوسرے غم سے مراد ہے قتل اور زخمی ہونا اور شکست کھانا یا پہلے غم سے قتل اور زخمی ہونے کی مصیبت اور دوسرے غم سے رسول اللہ کی شہادت کی خبر مراد ہے جس نے پہلے غم کو بھلا دیا تھا یا پہلے غم سے مراد ہے گھاٹی سے خالد بن ولید کا سواروں کا دستہ لے کر برآمد ہونا اور دوسرے غم سے مراد ہے ابو سفیان کا سامنے سے نمودار ہوجانا قصہ یہ ہوا کہ اس روز رسول اللہ لوگوں کو پکارتے پکارتے اس جگہ پہنچے جہاں چٹان والے (مسلمان) جمع تھے انہوں نے جب آپ کو دیکھا تو (نہ پہچاننے کی وجہ سے) ایک شخص نے کمان میں تیر جوڑ کر آپ ﷺ کو مارنا چاہا آپ نے فرمایا : میں اللہ کا رسول ہوں رسول اللہ کو پا کر وہ لوگ بہت خوش ہوگئے اور محافظین کو پاکر رسول اللہ کو بھی خوشی ہوئی پھر یہ لوگ فتح کا فوت شدہ مال غنیمت کا اور اپنے ساتھیوں کی شہادت کا ذکر کرنے لگے۔ اتنے میں ابو سفیان اپنے ساتھیوں کے ساتھ سامنے سے آکر گھاٹی کے دہانہ پر کھڑا ہوگیا۔ مسلمان ان کو دیکھ کر فکر میں پڑگئے اور ان کو خیال ہوا کہ یہ لوگ ہم پر ٹوٹ پڑیں گے اور قتل کریں گے اس خیال نے آتے ہی ان کے پہلے خیال کو بھلا دیا۔ رسول اللہ نے فرمایا : یہ لوگ ہمارے اوپر نہیں آسکیں گے۔ اے اللہ اگر یہ گروہ مارا گیا تو تیری پرستش کرنے والا کوئی نہیں رہے گا پھر اپنے صحابہ کو آواز دی۔ صحابہ نے کافروں کو پتھر مار مار کر نیچے اتار دیا۔ میں کہتا ہوں آیت : سنلقی فی قلوب الذین کفروا الرعب اسی مقام پر نازل ہوئی۔ اسی جگہ ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے دلوں میں اللہ نے رعب ڈال دیا۔
میں کہتا ہوں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دوسرے غم سے مرادمدینہ کے لوٹے جانے کے خیال سے پیدا ہونے والا غم مراد ہو کیونکہ روایت میں آیا ہے کہ جب ابو سفیان ساتھیوں سمیت کوچ کرکے مکہ کو چل دیا تو رسول اللہ اور مسلمانوں کو اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ لوگ مدینہ پہنچ کر بچوں اور عورتوں کو ہلاک نہ کردیں اس لیے آپ نے حضرت علی اور حضرت سعد بن ابی وقاص کو دیکھنے کے لیے بھیجا اور فرمایا : اگر وہ لوگ اونٹوں پر سوارہوں اور گھوڑوں کو پہلو میں لگا کرلے جا رہے ہوں تو (سمجھ لو) یہ کوچ کر کے چل دئیے اور اگر گھوڑوں پر سوار ہوں اور اونٹوں کو ساتھ لے جا رہے ہوں تو یقیناً وہ مدینہ کو جانا اور لوٹنا چاہتے ہیں قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر انہوں نے مدینہ پر چڑھائی کی تو میں خود جا کر ان سے مقابلہ کروں گا حسب الحکم حضرت علی اور حضرت سعد مشرکوں کے پیچھے گئے اور دیکھا کہ وہ خود اونٹوں پر سوار ہیں اور گھوڑوں کو پہلو سے لگائے لیے جا رہے ہیں لیکن ایسا انہوں نے مدینہ کو لوٹنے کے متعلق مشورہ کرنے کے بعد کیا تھا کیونکہ صفوان بن امیہ نے ان سے کہہ دیاتھا کہ ایسا نہ کرو (یعنی مدینہ پر چڑھائی نہ کرو)
آیت کا مطلب اس طرح بھی بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ کی نافرمانی کرکے جو غم تم نے رسول اللہ کو چکھایا تھا اس کے بدلہ میں اللہ نے تم کو غم دیا۔
لکیلا تحزنوا علی ما فاتکم تاکہ تم فوت شدہ فتح اور مال غنیمت پر غمگین ہو۔ لا تحزنوا میں لا معنی کے اعتبار سے زائد ہے۔
و لا ما اصابکم اور قتل ہونے، زخمی ہونے اور شکست پانے کی جو مصیبت تم پر پڑی ہے اس پر بھی تم غمگین ہو۔
اس آیت کا مطلب اس طرح بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ نے جو تم کو پیہم غم دیا اس کی غرض یہ تھی کہ مصائب پر صبر کرنے کی تم میں جرأت پیدا ہو اور آئندہ کسی فوت شدہ فائدے یا پہنچنے والے دکھ سے تم کو رنج نہ ہو۔ میں کہتا ہوں یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اللہ نے مسلسل غم کے عوض تم کو ثواب عطا فرمایا اور نبی کی زبانی تم کو اس کی اطلاع کردی تاکہ فوت شدہ فائدے اور پہنچے ہوئے دکھ کا تم کو غم نہ ہو بلکہ اللہ کے ثواب کی خبر پا کر تم خوش ہوجاؤ۔
بعض علماء کا قول ہے کہ اَثَابَ کی ضمیر رسول اللہ کی طرف راجع ہے اور باء سببیت یا بدلیت کے لیے ہے یعنی اس غم میں رسول اللہ : تمہارے برابر کے شریک ہوگئے۔ مطلب یہ کہ جس مصیبت کی وجہ سے تم غمگین ہوئے تمہاری طرح رسول اللہ بھی غمگین ہوئے اور نافرمانی پر انہوں نے تم کو ملامت نہ کی تاکہ تم کو تسلی رہے اور فوت شدہ نعمت اور پہنچنے والی مصیبت کا تم کو غم نہ ہو۔
وا اللہ خبیر بما تعملون اور اللہ تمہارے اعمال سے اور اعمال کی غرض سے باخبر ہے۔
Ayah 3:154ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ پھر اے گروہ اہل اسلام اللہ نے غم کے بعد تمہارے لیے امن یعنی قلبی اطمینان اور سکون اتارا۔ نزول رحمت کے وقت اس سکون کا وجدان صوفی کو ہوتا ہے۔
نعاسا یعنی اونگھ۔ یہ امنۃ سے بدل یا انزل کا مفعول ہے ممکن ہے کہ نعاس سے مراد وہ استغراقی کیفیت ہو جو نزول رحمت کے وقت صوفی کو حاصل ہوتی ہے اور وہ تمام ماسوا سے غافل ہوجاتا ہے کیونکہ یہ کیفیت اونگھ سے بہت زیادہ مشابہ ہوتی ہے 1 ۔
یغشی طائفۃ منکم جو تمہارے ایک گروہ پر چھا گئی تھی یہ گروہ اہل ایمان کا تھا۔
بخاری وغیرہ نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت ابو طلحہنے فرمایا : کہ احد کے دن جب ہم صف بند میدان میں تھے کہ ہم پر ایسی اونگھ چھا گئی کہ میرے ہاتھ سے چھوٹ کر تلوار گری جا رہی تھی اور میں اس کو پکڑ رہا تھا وہ گری جا رہی تھی اور میں پکڑ رہا تھا۔ ثابت نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت ابو طلحہ نے فرمایا : احد کے دن میں نے سر اٹھایا تو لوگوں میں کوئی شخص ایسا نظر نہیں آیا کہ اونگھ کی وجہ سے ڈھال کے نیچے وہ جھکا نہ پڑ رہا ہو۔
وطائفۃ قد اھمتھم انفسھم اور ایک گروہ یعنی منافقوں کو (صرف) اپنی جانوں کی فکر تھی 2 یا یہ مطلب ہے کہ انکے نفسوں نے خود ان کو غموں میں ڈال دیا تھا اور وہ سکون و اطمینان سے محروم تھے۔
یظنون باللہ غیر الحق اللہ کے متعلق وہ نازیبا غلط گمان رکھتے تھے یعنی یہ گمان رکھتے تھے کہ اللہ محمد ﷺ کی مدد نہیں کرے گا یا یہ خیال کرتے تھے کہ اگر محمد ﷺ نبی ہوتے تو مارے نہ جاتے۔
ظن الجاہلیۃ اہل جاہلیت یعنی مشرکوں اور کافروں کے گمان کی طرح۔
یقولون وہ رسول اللہ سے کہتے ہیں یا اپنے دلوں میں کہتے ہیں۔
ھل لنا من الامر من شئی استفہام انکاری ہے یعنی جس نصرت کا وعدہ اللہ نے کیا تھا ہم کو اس سے کچھ نہیں ملا۔ روایت میں آیا ہے کہ بنی خزرج کے شہید ہونے کی اطلاع جب ابن ابی کو ملی تو اس نے یہ بات کہی۔
یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ہم کو خود اپنی تدبیر اور انتظام کرنے سے روک دیا گیا ہمارے اختیار میں کچھ بھی نہیں رہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ کیا ہم پر سے یہ جبر کبھی دور ہوگا اور اپنے معاملہ کا اختیار ہم کو حاصل ہوگا۔
ابن راہویہ نے حضرت عبد اللہ بن زبیر کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت زبیر بن عوام نے فرمایا : مجھے (اب تک) دکھ رہا ہے کہ میں رسول اللہ کے ساتھ تھا سخت خوف کا وقت تھا تو اللہ نے ہم پر نیند مسلط کردی ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں رہا کہ اس کی ٹھوڑی سینہ سے نہ جا لگی ہو۔ خدا کی قسم مجھ پر اونگھ چھائی ہوتی تھی اور ایک خواب کی طرح میں معتب بن قشیرکایہ قول سن رہا تھا : لَوْ کَانَ مِن الامر شیء ما قتلنا ھہنا اسی کے متعلق اللہ نے آیت : ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ نعاساً یغشی۔۔ وا اللہ علیم بذات الصدور تک نازل فرمائی۔
قل ان الامر کلہ اللہ اے محمد ﷺ آپ ﷺ کہہ دیں کہ حکم سارا اللہ ہی کا ہے وہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے اور جیسی منشاء ہوتی ہے کرتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ حقیقی غلبہ تو اللہ اور اس کے دوستوں ہی کو حاصل ہے، اللہ کا گروہ ہی غالب رہتا ہے لیکن کسی مصلحت کی وجہ سے بعض اوقات اس کا (عارضی طور پر) ظہور نہیں ہوتا۔
یخفون فی انفسھم مالا یبدون لک وہ اپنے دلوں میں ایسی باتیں چھپائے رکھتے ہیں جن کا تم پر اظہار نہیں کرتے یعنی ظاہر تو یہ کرتے ہیں کہ وہ ہدایت کے طلبگار اور فتح کے خواستگار ہیں مگر باہم ایک دوسرے سے اسکے خلاف باتیں کرتے ہیں۔
یقولون یعنی ان الامر کلہ اللہ کا انکار کرتے ہوئے آپس میں پوشیدہ طور پر کہتے ہیں۔
لو کان لنا من الامر شی ما قتلنا ھھنا کہ اگر ہمارے لیے وہی ہوتا جو محمد ﷺ نے وعدہ کیا تھا یا جو محمد ﷺ کا خیال تھا کہ غلبہ پورا پورا اللہ کو اور اس کے دوستوں کو ہوتا ہے تو ہم یہاں مارے نہ جاتے یا یہ مطلب ہے کہ اگر ہمارا اختیار ہوتا اور ہماری تدبیر چلتی تو ہم مدینہ سے باہر نہ نکلتے جیسا کہ ابن ابی وغیرہ کا مشورہ تھا اور یہاں قتل نہ ہوتے۔
قل لو کنتم فی بیوتکم لبرز الذی کتب علیہم القتل الی مصاجعھم آپ کہہ دیں کہ اگر تم اپنے گھروں کے اندر بھی رہتے تب بھی جن لوگوں کے لیے قتل ہونا لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا تھا اور مقدر ہوچکا تھا وہ ضرور اپنی خواب گاہوں یعنی قتل گاہوں میں نکل کر پہنچتے مدینہ میں قیام رکھنا ان کے لیے سود مند نہ ہوتا بلکہ وہ مدینہ کے اندر ٹھہر ہی نہ سکتے۔
و لیبتلی اللہ ما فی صدورکم اس کا تعلق بَرَزَ سے ہے اور عطف محذوف پر ہے یعنی گھروں میں بیٹھ رہنے والے بھی ضرور اپنی قتل گاہوں میں آتے (اور مارے جاتے) کیونکہ حکم الٰہی کا نفاذ ضروری تھا اس کے علاوہ دوسری مصلحتیں بھی تھیں نیز دلوں کے اخلاص اور نفاق کی جانچ اور پوشیدہ خیالات کا اظہار بھی مقصود تھا یا اس کا تعلق فعل محذوف سے ہے اور جملہ کا عطف سابق حملہ پر ہے یعنی اللہ نے ایسا کیا تاکہ امتحان کرے۔۔ یاکیلا تحزنوا پر عطف ہے۔
و لیمحص ما فی قلوبکم اور اس لیے بھی کہ تمہارے دلوں کے خیالات کو کھول دے اور چھانٹ دے یا اے مسلمانو ! تمہارے دلوں کے اندر پیدا ہونے والے وسوسوں کو دور کردے۔
وا اللہ علیم بذات الصدور اور اللہ تمہارے اندرونی خیالات سے بخوبی واقف ہے نہ اس کو اظہار کی ضرورت ہے نہ جانچ کی۔ صرف مسلمانوں کو کسنا اور منافقوں کے حال کو ظاہر کرنا اور انکے خلاف دلیل قائم کرنا اسکی علت ہے۔
Ayah 3:155ان الذین تولوا منکم یوم النقی الجمعان جس روز دونوں گروہوں کا یعنی اہل اسلام اور اہل شرک کا مقابلہ ہوا اور تم میں سے اے مسلمانو ! کچھ لوگ شکست کھا کر بھاگ گئے یہ احد کے دن کا واقعہ ہے سوائے تیرہ آدمیوں کے رسول اللہ کے ساتھ کوئی باقی نہیں رہا سب بھاگ گئے اور عبد اللہ بن جبیر کے ساتھ صرف دس آدمی قائم رہے۔ (چالیس آدمی ان کا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے ) ۔
انما استزلھم الشیطان بس شیطان نے ڈگمگا دینا چاہا یا شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسے ڈال کر لغزش یعنی گناہ پر آمادہ کردیا۔ اَزَلَّ اور اِسْتَزَلََّ کو ہم معنی بھی کہا گیا ہے۔
ببعض ما کسبوا یعنی ان کے گناہوں کی وجہ سے کہ بعض لوگوں نے مرکزکو چھوڑدینے کا مشورہ دیا تھا۔ حسن بصری نے فرمایا : ما کسبوا سے مراد ہے شیطان کے وسوسہ کو مان لینا۔
و لقد عفا اللہ عنھم یقیناً اللہ نے انکو معاف فرما دیا۔ (دوبارہ ذکر تاکیداً ہے ‘ 12) جب مصر والوں نے حضرت عثمان پر نکتہ چینی کی ‘ احد کے دن آپ ؓ کے فرار ہونے کا ذکر کیا اور جنگ بدر اور بیعت رضوان سے غیر حاضر ہونے کا بھی اظہار کیا تو حضرت ابن عمر ؓ نے یہی بات ان کے جواب میں فرمائی۔ فرمایا : میں شہادت دیتا ہوں کہ جنگ احد سے فرار کو تو اللہ نے معاف فرما دیا اور بدر سے غیر حاضری کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ کی صاحبزادی حضرت رقیہ آپ کے عقد میں تھیں اور بیمار تھیں (جن کی وجہ سے با جازت آپ کو رکنا پڑا) اس لیے حضور نے فرما دیا تھا کہ شرکاء بدر کے برابرتم کو ثواب بھی ملے گا اور حصہ بھی۔ رہا بیعت رضوان سے غیر حاضر رہنے کا معاملہ تو وادی مکہ کے اندر اگر حضرت عثمان غنی سے زیادہ کوئی معزز شخص ہوتا تو رسول اللہ اس کو (قریش مکہ کے پاس) بھیج دیتے (لیکن عثمان ہی سب سے زیادہ عزت والے تھے اس لیے) حضور ﷺ نے آپ کو مکہ کو بھیج دیا تھا اور ان کے جانے کے بعد بیعت رضوان ہوئی پس حضور ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : یہ عثمان کا ہاتھ ہے پھر اس کو دوسرے ہاتھ پر خود ہی مارا اور فرمایا : یہ عثمان کی بیعت ہے۔ حضرت ابن عمر نے یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد نکتہ چینی کرنے والے سے فرمایا : اب اس (تفصیل) کو اپنے ساتھ لے جا۔ (رواہ البخاری)
لہٰذا جنگ احد سے فرار کرنے کی بنیاد پر کسی صحابی کو مطعون کرنا جائز نہیں۔ اس کے علاوہ یہ امر بھی تو ہے کہ فرار کی ممانعت سے پہلے یہ واقعہ ہوا تھا۔ (اس لیے قابل طعن نہیں ہے کیونکہ ورود حکم سے پہلے عدم تعمیل کوئی جرم نہیں بلکہ قابل تصور ہی نہیں) ۔
اِن اللہ غفور حلیم کوئی شبہ نہیں کہ اللہ بڑی مغفرت اور حلم والا ہے (اس لیے اس نے اہل فرار سے مواخذہ نہیں کیا اور معاف فرما دیا) ۔
Ayah 3:156یا یھا الذینامنوا لا تکونوا کالذین کفروا اے اہل ایمان تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کفر کیا۔ کافروں سے مراد ہیں عبد اللہ بن ابی اور اسکے ساتھی منافق۔
منافقوں کی طرح نہ ہوجانے کا حکم اس لیے دیا کہ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص کسی قوم (کے افکار و اعمال اس کی) مشابہت اختیار کرے گا وہ اسی قوم میں سے ہوگا۔ اس حدیث کو حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے ابو داؤد نے مرفوعاً اور حضرت حذیفہ ؓ کی روایت سے طبرانی نے مرفوعاً نقل کیا ہے۔ خصوصاً ایسی مشابہت (سے تو اجتناب فرض ہے) جو موجب کفر ہو اس جگہ جس مشابہت کو اختیار کرنے کی ممانعت کی گئی ہے وہ موجب کفر ہی ہے کیونکہ یہ تقدیر کا انکار ہے اور تقدیر کا انکار کفر ہے۔
و قالوا اور انہوں نے کہا : قالوا اگرچہ ماضی ہے لیکن اس جگہ استقبال کا معنی مراد ہے کیونکہ آگے اذا ضربوا اس کا ظرف (یعنی ظرف زمان) آیا ہے اِذْ نہیں ہے اور اذا اگر ماضی پر بھی داخل ہو تب بھی معنی استقبال کے ہوتے ہیں (گویا مطلب یہ ہوا کہ یہ کافر آئندہ کہیں گے) لیکن صیغہ استقبال کی جگہ ماضی کا صیغہ اس لیے ذکر کیا گیا کہ یہ قول آئندہ کہنا یقینی تھا اور مستقبل میں جو بات یقینی الوقوع ہو اس کو ماضی کے صیغہ سے تعبیر کرلیا جاتا ہے۔ (گویا وہ بات ہوگئی) جیسے اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ میں (کہ اگرچہ آسمان ابھی نہیں پھٹا لیکن پھٹنا یقینی ہے اس لیے تَنْشَقُّ مضارع کی جگہ اِنْشَقَّتْماضی ذکر کیا ہے)
لاخوانھم اپنے نسبی بھائیوں کے متعلق یا منافق بھائیوں سے۔
بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ لاخوانھم کا مطلب اپنے بھائیوں کے بارے میں اور ان کے متعلق ہے (یعنی لاخوانھم کا ترجمہ بھائیوں سے نہیں ہے) کیونکہ آیت : لَوْ کَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا بتارہی ہے کہ اخوانھم سے مراد وہ لوگ نہیں ہیں جو مخاطب تھے بلکہ وہ لوگ مراد ہیں جو مرچکے یا مارے جا چکے تھے۔
میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے اخوانھم سے مراد مخاطب ہی ہوں کیونکہ کچھ لوگ تو حاضر تھے ہی اور لو کانوا عندنا۔۔ میں وہ لوگ مراد ہوں جو مرگئے یا مارے گئے اگر کسی فعل کے فاعل جماعت کے اندر چند اشخاص ہوں تو فعل کی نسبت جماعت کی جانب کر ہی دی جاتی ہے۔ اگر اخوان سے برادران نفاق مراد ہوں تو پھر صرف مخاطب ہی مراد ہوں گے کیونکہ غازی (سفر جہاد پر جانے والے) اکثر وہ لوگ تھے جو منافق نہ تھے۔
اذا ضربوا فی الارض جب وہ تجارت وغیرہ کے لیے ملک میں چلیں پھریں اور دور نکل جائیں۔ اذا کا تعلق قالوا سے ہے گویا تین افعال کے صدور کا وقت ایک ہی ہے ملک میں جانا مرجانا اور پھر کافروں کا یہ بات کہنا ایک ہی ممتد زمانہ کے واقعات ہیں۔
بیضاوی نے لکھا ہے کہ چونکہ قالوا ماضی کا صیغہ ہے اس لیے بجائے اِذَا کے اِذْ ہونا چاہئے تھا لیکن گذشتہ حال کی اس وقت حکایت کی گئی ہے (تو گویا قالوا ماضی کا صیغہ نہیں رہا۔ بلکہ حال کا صیغہ ہوگیا اس لیے اذا لایا گیا) بیضاوی کا یہ قول قابل اعتراض ہے کیونکہ ماضی کے ساتھ اذا کا لانا تو ماضی کو مستقبل بنا دیتا ہے حال کا معنی پیدا نہیں ہوتا پھر ماضی کی حکایت کہ ماضی کو حال فرض کرلیا جائے یا حال کے کلام کو ماضی میں قرار دیدیا جائے کوئی صورت جائز نہیں نہ اذا کے داخلہ سے ماضی حال بنتی ہے وَ اِذَا کے ساتھ ماضی لانے سے حال ماضی ہوتا ہے بلکہ ماضی مستقبل ہوجاتا ہے اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ قالوا کا معنی اس جگہ استقبال کا ہے۔
او کانوا غزی غزًّیغازی کی جمع ہے جیسیعُفًّی عافی کی جمع ہے یعنی سفر پر ہوں یا جہاد پر پھر مرجائیں یا مارے جائیں۔
لو کانوا عندنا ما ماتوا و ما قتلوا کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے ( اور سفر پر نہ گئے ہوتے) تو مرتے نہیں اور (جہاد پر نہ جاتے تو) مارے نہ جاتے یہ بات کہنے کی وجہ یہ تھی کہ تقدیر پر انکا ایمان نہ تھا۔ 1 (اسلام میں) فرقہ قدریہ بھی اسی کا قائل ہے۔
لیجعل اللہ ذالک حسرۃ فی قلوبھم لام غایت کا ہے (یعنی لام کے بعد والا کلام پہلے کلام کا نتیجہ اور علت ہے) اور ذالک سے اشارہ اعتقاد کی جانب ہے اور لام کا تعلق قالوا سے ہے یعنی ان کا عقیدہ مذکورہ جس پر ان کا قول دلالت کر رہا ہے آخر کار ان کی قلبی حسرت بن جائے گا یا لا تکونوا سے لام کا تعلق ہے یعنی منافقوں کی طرح تمہارا عقیدہ اور قول نہ ہونا چاہئے تاکہ تمہارا یہ عقیدہ اور قول ان کے لیے حسرت بن جائے عقیدہ اور قول کی مخالفت منافقوں کے لیے حسرت آفریں ہے۔
وا اللہ یحییٰ و یمیت اور اللہ ہی زندگی اور موت دیتا ہے یعنی نہ سفر و جہاد موت آور ہیں نہ ترک سفر و جہاد حیات آفریں کبھی مقیم خانہ نشین مرجاتا ہے اور مسافر مجاہد زندہ رہتا ہے۔
وا اللہ بما تعملون بصیر اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے اس آیت میں اہل ایمان کو منافقوں کی مشابہت 2 اختیار کرنے سے تہدید ہے۔
Ayah 3:157ولئن قتلتم فی سبیل اللہ اومتم اور اگر تم اللہ کی راہ میں مارے بھی گئے یا مرگئے نافع حمزہ اور کسائی کے نزدیک مِتُّمْ مِتُّ مِتْنَا ہر جگہ بکسر میم باب خاف یخاف (سمع یسمع) سے ہے اور ابن کثیر و ابو عمرو ابن عامر و ابوبکر کے نزدیک بضم میم۔ باب نصر ینصر سے ہے حفص کے نزدیک مُتُّمْ یہاں دونوں جگہ نصر ینصر سے بضم میم ہے۔ باقی مقامات پر مِتُّ مِتْنَا بکسر میم۔
لمغفرۃ من اللہ ورحمۃ خیر مما یجمعون یہ کلام جواب قسم ہے اور جزاء شرط کے قائم مقام ہے یعنی سفر اور جہاد کو موت اور زندگی میں دخل نہیں اللہ ہی حیات بخش اور موت آفریں ہے لیکن ظاہری طور پر اگر سفر و جہاد موت کا سبب نظر آتا بھی ہے تب بھی ایسی موت جس کے نتیجہ میں اللہ کی طرف سے گناہوں کی مغفرت اور رحمت حاصل ہو اس دنیوی مال و متاع سے بہتر ہے پس مناسب یہی ہے کہ آئندہ خیر کی طلب کی جائے اور فوت شدہ دنیا کا افسوس نہ کیا جائے۔
Ayah 3:158و لئن متم او قتلتم لا الی اللہ تحشرون اور اللہ کی راہ میں اگر تم مرگئے یا مارے گئے خواہ کسی طور پر ہو تو اللہ ہی کی طرف تمہارا حشر ضرور ہوگا کسی دوسرے کے پاس جانا نہ ہوگا اس لیے تم کو امکانی کوشش کرنی چاہئے کہ اللہ کی محبت تم کو حاصل ہوتا کہ مرنے کے بعد تم فراق کے قید خانہ سے چھوٹ کر بار گاہ محبوب تک پہنچ جاؤ۔
Ayah 3:159فبما رحمۃ من اللہ لنت لہم پس اللہ ہی کی عظیم الشان رحمت (جو تم پر اور تمہاری امت پر ہے) کی وجہ سے تم مؤمنوں کے حق میں نرم دل ہو اور باوجودیکہ انہوں نے تمہارے حکم کے خلاف کیا پھر بھی ان کی تکلیف پر اللہ کی توفیق اور خدادا قلبی وجدان کے زیر اثر رنجیدہ ہوتے ہو۔ تمہاری یہ نرمی قلب باعث رحمت اس وجہ سے ہے کہ و لو کنت فظا غلیظ القلب اگر تم درشت رو زشت خو اور سخت دل ہوتے 1 ۔
لانفضوا من حولک تو وہ تمہارے آس پاس سے بچھڑ جاتے آپ کے پاس نہ رہتے اور دائرہ اسلام سے نکل جاتے اور جنت کے استحقاق سے محروم ہوجاتے اور متبعین کی تعداد کم ہونے سے تمہارا اجر کم ہوجاتا۔
فاعف عنھم پس ان پر جو تمہارا حق ہے اس سے درگذر کرو ان کو معاف کرو۔
واستغفر لھم اور اللہ کے جو حقوق انکے ذمہ ہیں اور یہ ادا نہیں کرسکے ‘ انکے لیے ان حقوق کی معافی کی اللہ سے دعا کرو۔
و شاورھم فی الامر اور جنگ کا معاملہ ہو یا کوئی اور معاملہ بہر حال جن چیزوں کا تعلق مشورہ (1) [ حضرت ابن عباس کا قول منقول ہے کہ آیت : (و شاورھم فی الامر) میں ابوبکر و عمر سے مشورہ لینے کا حکم ہے۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر و حضرت عمر ؓ کے حق میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ نے فرمایا : اگر تم دونوں مشورہ میں متفق الرائے ہوجاؤ تو میں مخالفت نہیں کروں گا۔ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کو لکھا کہ جنگ کے معاملہ میں رسول اللہ مشورہ لیا کرتے تھے اس لیے تم بھی مشورہ لیا کرو۔ ضحاک نے کہا کہ حضرت عمر ؓ مشورہ لیا کرتے تھے یہاں تک کہ عورت سے بھی۔] سے ہو اور اللہ کی طرف سے تم کو کوئی خاص ہدایت نہ ملی ہو تو ان کی رائے طلب کرو تاکہ تم کو ان کے مشورہ سے قوت حاصل ہو اور ان کے دل بھی خوش ہوجائیں اور امت کے لیے بھی باہمی مشاورت کا ایک دستور مقرر ہوجائے۔ بغوی نے اپنی سند سے بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : رسول اللہ سے زیادہ لوگوں کے لیے مشورہ لینے والا میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا۔
فاذا عزمت پھر جب مشورہ کے بعد تمہارا ارادہ محکم ہوجائے۔
فتوکل علی اللہ توا اللہ پر بھروسہ کرو، اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردو اور اس پر اعتماد رکھو۔ رسول ﷺ کی یہی حالت تھی۔ اسی لیے جب احد کے دن جنگ کے ارادہ سے برآمد ہوگئے تو فرمایا : کسی نبی کے لیے زیبا نہیں کہ جب اس نے زرہ پہن لی ہو تو بغیر جنگ کئے اتارے 3 ۔
آیت کا مطلب یہ ہے کہ باہم مشورہ کے بعد مشورہ سے جو کچھ طے ہو اس پر عمل کرو اور اعتماد اللہ پر رکھو یہ مطلب نہیں کہ اپنی رائے پر عمل کرو (اور مشورہ کو نظر انداز کردو) کیونکہ غیب کا علم تو اللہ ہی کو ہے مگر باہم مشورہ کے بعد افکار و خیالات کے ردو بدل سے وہ بات نکل آتی ہے جو زیادہ مفید ہوتی ہے پھر بھی اجتماعی مشورہ قابل بھروسہ نہیں ہوتا کہ یقیناً مفید ہی ہو کیونکہ انسانی افکار کی رفتار کبھی اندھا دھند ہوتی ہے اور اللہ معمول کے خلاف کبھی نتیجہ پیدا کردیتا ہے اس لیے بھروسہ لوگوں کی رائے پر نہیں صرف اللہ پر ہونا چاہئے 1 ۔
توکل کا مطلب یہ ہے کہ ہر چیز اللہ کے سپرد کردی جائے اسی سے درخواست کی جائے کہ کوشش کا نتیجہ اچھا نکلے اور اللہ پر بدگمانی نہ کی جائے حسن ظن رکھا جائے (کہ وہ ضروراچھا نتیجہ نکالے گا ) ۔
بعض علماء کا قول ہے کہ رزق حاصل کرنے کے لیے اللہ کی نافرمانی نہ کرنا توکل ہے اس قول پر اللہ کی طرف (رزق کے معاملے میں) رجوع کرنا لازم ہے لیکن گناہ کے معاملہ میں اللہ سے التجا کا کوئی معنی نہیں۔
بعض علماء نے کہا کہ توکل کا معنی یہ ہے کہ اپنی ذات کے لیے اللہ کے سوا کسی کو نا صر اور رزق کا کسی کو خازن اور اعمال کا کسی کو نگران نہ قرار دیا جائے۔
حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : میری امت کے سترّ ہزار آدمی بلا حساب جنت میں جائیں گے عرض کیا گیا : یا رسول اللہ وہ کون ہوں گے ؟ فرمایا : وہ لوگ وہ ہیں جو داغ نہیں لگواتے، منتر نہیں پڑھتے پڑھواتے، شگون نہیں لیتے اور اپنے رب پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔ (متفق علیہ) بغوی نے حضرت عمران بن حصین ؓ کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔
حضرت عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : اگر تم اللہ پر توکل کرو جیسا توکل کا حق ہے تو اللہ تم کو اسی طرح رزق دے جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ صبح کو بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے واپس آتے ہیں 2 ۔
اگر شبہ کیا جائے کہ حضرت ابن عباس کی روایت سے تو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ظاہری معمولی اسباب کو ترک کردینا توکل ہے جیسے (زخم وغیرہ کے لیے) داغ نہ لگوانا اور منتر افسوں کو ترک کرنا۔ میں کہتا ہوں ایسا نہیں ہے (ترک اسباب نہیں) بلکہ اسباب پر اعتماد نہ کرنا توکل ہے دیکھو مشورہ لینا بھی تو ایک طرح کے سبب کا استعمال ہے جس کا حکم دیا گیا ہے لیکن اس پر اعتماد کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ رہی حدیث ابن عباس تو اس کے آخر میں : و علی ربھم یتوکلون داغ نہ لگوانے اور افسوں نہ کرنے کرانے کی تفسیر نہیں ہے۔
عطف غیریت کو چاہتا ہے اور ان دونوں جملوں کے مفہوم میں تغایر و تضاد نہیں ہے۔
اور شاید سترّ ہزار سے مراد وہ لوگ ہیں جو اکثر اسباب کا استعمال نہیں کرتے (کیونکہ مطلقاً ترک اسباب تو ممکن ہی نہیں) یا ترک تشبث سے مراد ہے اسباب مکروہہ کو چھوڑ دینا کیونکہ اسباب کا استعمال تو زندگی کے لوازم میں سے ہے (ان کا ترک تو ناممکن ہے) کھانا پینا عادۃً زندگی کے اسباب میں سے ہے۔ نماز، روزہ غالباً دخول جنت کا سبب ہے اور ان کو ادا کرنا واجب اور ضروری ہے۔
ان اللہ یحب المتوکلین جو لوگ اللہ پر توکل کرتے ہیں اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور اللہ کا محبوب ہونا ہی سب سے اونچا مقصد ہے اس کے علاوہ توکل علی اللہ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ مدد فرماتا ہے اور (دین دنیا کی) صلاح کا راستہ دکھا دیتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَ مَنْ یَّتَّوَکَّلْ عَلَی اللہ فَھُوَ حَسْبُہٗ حدیث قدسی میں آیا ہے کہ میں اپنے بندہ کے گمان کے پاس ہوں (یعنی بندہ جیسا مجھ پر اچھا برا گمان کرتا ہے میں ویسا ہی اس کے ساتھ سلوک کرتا ہوں) ۔
Ayah 3:160ان ینصرکم اللہ فلاغالب لکم اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو پھر کوئی تم پر غلبہ پانے والا نہیں کیونکہ جو اللہ کی طرف سے مدد یافتہ ہو وہ کسی سے مغلوب نہیں ہوسکتا۔ ورنہ اللہ کا عاجز اور کمزور ہونالازم آئے گا جو قطعاً محال ہے۔
و ان یخذلکم فمن ذالذی ینصرکم اور اگر وہ تم کو بےمدد چھوڑ دے اور اپنی مدد کو روک دے تو پھر کون تمہاری مدد کرسکتا ہے (استفہام انکاری ہے) یعنی کوئی مدد نہیں کر سکتا کیونکہ بندوں کے تمام افعال اللہ کے پیدا کردہ ہیں اس لیے اگر وہ بےمدد چھوڑ دے تو پھر کسی کی طرف سے مدد کا تصور ہی نہیں ہوسکتا۔
من بعدہ اس کے مدد نہ کرنے کے بعد۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب تم نے اللہ سے مدد کی طلب چھوڑ دی تو کسی دوسرے کی طرف سے مدد کا تصور ممکن ہی نہیں۔ شرعاً اللہ پر توکل رکھنے کا حکم بصیغہ امر واجب ہے لیکن اس آیت میں توکل کے عقلی وجوب کو دلیل سے بھی ثابت کیا ہے۔
و علی اللہ فلیتوکل المؤمنون اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو توکل کرنا چاہئے کیونکہ وہ جانتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں ہے۔