3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 3:68

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:68 in the Quran reader

ابراہیم سے قرب رکھنے والے تو وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں اور پیغمبر (آخرالزمان) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور خدا مومنوں کا کارساز ہے

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِيْمَ : سب سے زیادہ ابراہیم سے خصوصیت اور ان کے دین سے قرب رکھنے والے۔ اَوْلی ولی سے مشتق ہے اور ولیٌ کا معنی ہے قرب۔ لَلَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ : بیشک وہی لوگ ہیں جنہوں نے ابراہیم کی امت میں سے ان کی پیروی کی کیونکہ وہی لوگ بلاشبہ آپ کے دین پر تھے۔ وَھٰذَا النَّبِىُّ : اور یہ نبی یعنی محمد ﷺ ۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : اور وہ لوگ جنہوں نے محمد ﷺ کو پیغمبر مانا۔ کیونکہ یہ لوگ اکثر احکام میں ملت ابراہیمی کے موافق ہیں موحد ہیں قربانی کرتے ہیں ختنہ کراتے ہیں کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں حج اور عمرہ کرتے ہیں اور ان احکام کو پورا کرتے ہیں جن سے اللہ نے ابراہیم کی جانچ کی تھی اور ابراہیم نے ان کو پورا کیا تھا۔ وَاللّٰهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِيْنَ : اور اللہ مؤمنوں کا دوست ہے کیونکہ ان کا ایمان اوّل سے آخر تک تمام انبیاء پر ہے یہودی اور عیسائی ایسے نہیں ہیں۔ بغوی نے کلبی کی روایت سے اور محمد بن اسحاق (رح) نے زہری کی روایت سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ جب حضرت جعفر بن ابی طالب کچھ صحابیوں کو ساتھ لے کر مکہ چھوڑ کر حبشہ کو چلے گئے اور رسول اللہ بھی مدینہ کو ہجرت کر گئے اور پھر بدر کی جنگ بھی ہوچکی (جس میں بڑے بڑے قریشی سردار مارے گئے اور بہت سے گرفتار ہوگئے) تو اس کے بعد قریش نے مشورہ گھر میں کمیٹی کی اور کہنے لگے محمد ﷺ کے جو ساتھی نجاشی کے پاس چلے گئے ہیں ان کے ذمہ ہمارے مقتولین بدر کا قصاص ہے لہٰذا کچھ مال جمع کرکے نجاشی کے پاس بطور ہدیہ لے جاؤ ممکن ہے کہ تمہاری قوم کے جو لوگ اس کے پاس پہنچ گئے ہیں ان کو وہ تمہارے سپرد کردے (اور تم انتقام لے سکو) پس دو سمجھدار آدمیوں کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجو چناچہ عمرو بن عاص اور عمارہ بن ابی معیط کو کچھ (طائف کے) چمڑے وغیرہ بطور ہدیہ دے کر نجاشی کے پاس سب نے باتفاق رائے بھیجا۔ یہ دونوں سمندری راستہ سے حبشہ جا پہنچے اور نجاشی کے دربار میں حاضر ہو کر اس کو سجدہ کیا اور دعا سلامتی دی اور عرض کیا : ہماری قوم آپ کی خیر خواہ اور شکر گذار ہے اور آپ کی عافیت کی طلبگار ہے قوم والوں نے ہم کو آپ کی خدمت میں اس بات پر آگاہ کرنے کے لیے بھیجا ہے کہ کچھ لوگ آپ کے پاس (مکہ کے) آئے ہیں ان سے آپ ہو شیار رہیں یہ لوگ ایک بڑے جھوٹے آدمی کے ساتھی ہیں جس نے رسول خدا ہونے کا دعویٰ کیا ہے مگر سوائے بیوقوفوں کے ہم میں سے کوئی بھی اس کے پیچھے نہیں ہوا ہم نے ان کو اتنا تنگ کیا کہ مجبور ہو کر انہوں نے ہمارے ملک کی ایک گھاٹی میں پناہ لی اور وہاں لوگوں کی آمد و رفت بند ہوگئی نہ وہاں سے کوئی باہر نکلتا ہے نہ باہر سے اندر جاتا ہے بھوک اور پیاس سے ان کی جانوں پر بنی ہوئی ہے آخر سختی سے تنگ آکر اس نے اپنے چچا کے بیٹے کو آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تاکہ وہ آپ کا مذہب خراب کردے اور آپ کی حکومت و رعیت کو بھی تباہ کردے آپ ان لوگوں سے احتیاط رکھیں اور ان کو ہمارے سپرد کردیں تاکہ ہم ان کو آپ سے روک دیں اور آپ کا کام ہوجائے ہمارے اس قول کا ثبوت یہ ہے کہ چونکہ وہ آپ کے دین اور طور طریقہ سے نفرت کرتے ہیں اس لیے جب وہ آپ کے سامنے آئیں گے تو سجدہ نہیں کریں گے اور نہ دوسروں کی طرح آداب شاہی بجا لائیں گے۔ نجاشی نے حضرت جعفرکو ساتھیوں سمیت طلب کیا یہ حضرت دروازہ پر ہی پہنچے تھے کہ حضرت جعفر نے چیخ کر کہا اللہ کا گروہ باریاب ہونے کی اجازت چاہتا ہے نجاشی نے آواز سن کر کہا اس چیخنے والے کو حکم دو کہ دوبارہ یہی الفاظ کہے حضرت جعفر نے پھر وہی کہا۔ نجاشی نے کہا جی ہاں۔ اللہ کے اذن اور ذمہ داری کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ عمرو بن عاص نے اپنی ساتھی سے کہا سن رہے ہو انہوں نے کس طرح لفظ حزب اللہ کہا اور نجاشی نے ان کو کیا جواب دیا۔ عمرو بن عاص اور عمارہ کو حضرت جعفر کے کلام اور نجاشی کے جواب سے دکھ ہوا۔ جب وہ حضرات اندر آئے تو نجاشی کو انہوں نے سجدہ نہیں کیا عمرو بن عاص نے نجاشی سے کہا آپ دیکھ رہے ہیں یہ آپ کو سجدہ کرنے سے بھی غرور کرتے ہیں (یعنی غرور کی وجہ سے آپ کو سجدہ بھی نہیں کرتے) نجاشی نے ان حضرات سے کہا کیا وجہ کہ تم نے مجھے سجدہ نہیں کیا اور وہ آداب بجا نہ لائے جو باہر سے آنے والے بجا لاتے ہیں صحابہ ؓ نے کہا ہم اس خدا کو سجدہ کرتے ہیں جس نے آپ کو پیدا کیا اور بادشاہ بنایا سلام کا یہ طریقہ ہمارا اس وقت تھا جب ہم بتوں کی پوجا کرتے تھے 1 ؂۔ لیکن اللہ نے ہمارے اندر ایک سچا نبی مبعوث فرمایا اس نے ہم کو اسی طرح سلام کرنے کا حکم دیا جو اللہ کو پسند تھا یعنی لفظ سلام کہنے کا یہی اہل جنت کا سلام ہے۔ اس گفتگو سے نجاشی سمجھ گیا کہ یہی بات حق ہے اور توریت و انجیل میں بھی یہی ہے۔ بولا تم میں سے کون ہے جس نے حزب اللہ کہہ کر باریاب ہونے کی چیخ کر اجازت طلب کی تھی۔ حضرت جعفر ؓ نے فرمایا : میں ہوں اس کے بعد آپ نے فرمایا : کوئی شبہ نہیں کہ آپ زمین کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ ہیں اور اہل کتاب میں سے ہیں آپ کے سامنے نہ زیادہ باتیں کرنا مناسب ہے، نہ کسی پر ظلم (آپ کے لیے سزاوار ہے) میں چاہتا ہوں کہ اپنے ساتھیوں کی طرف سے (تنہا) خود جواب دوں۔ آپ ان دونوں آدمیوں کو حکم دیدیجئے کہ ان میں سے ایک بات کرے اور دوسرا خاموش رہ کر ہماری گفتگو سنتا رہے یہ سن کر عمرو نے حضرت جعفر ؓ سے کہا بولو حضرت جعفر نے نجاشی سے کہا ان دونوں سے دریافت کیجئے کہ ہم کیا آزاد ہیں یا غلام (کہ بھاگ کر آگئے ہیں) ؟ عمرو نے کہا نہیں تم آزاد ہو اور معزز ہو۔ نجاشی نے کہا : غلام ہونے (کے الزام) سے تو بچ گئے۔ جعفر نے کہا ان سے دریافت کیجئے کیا ہم نے ناحق کوئی خون کیا ہے جس کا قصاص ہم سے لیا جائے ؟ عمرو نے کہا نہیں ایک قطرۂ خون بھی نہیں بہایا۔ جعفر ؓ نے کہا کیا ہم نے ناحق لوگوں کا مول لے لیا ہے جس کی ادائیگی ہمارے ذمہ ہے ؟ نجاشی نے کہ اگر (تمہارے ذمہ) قنطار 2 ؂ بھی ہوگا تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ۔ عمرو نے کہا کوئی مال نہیں ایک قیراط بھی نہیں۔ نجاشی نے کہا تو پھر تم ان سے کیا مطالبہ کرتے ہو ؟ عمرو نے کہا ہم اور یہ ایک مذہب اور ایک طریقہ پر تھے باپ دادا کے دین پر تھے انہوں نے اس دین کو چھوڑ دیا اور دوسرے مذہب کے پیرو ہوگئے اس لیے ہماری قوم نے ہم کو آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ ان کو ہمارے حوالے کردیں۔ نجاشی نے پوچھا مجھے سچ سچ بتاؤ وہ مذہب جس پر تم تھے وہ کیا تھا اور جس دین کے اب پیرو ہو وہ کیا ہے ؟ جعفر نے کہا جس مذہب پر ہم تھے وہ شیطان کا دین تھا ہم اللہ کا انکار کرتے تھے پتھروں کو پوجتے تھے اور پلٹ کر جس دین کو ہم نے اختیار کیا وہ اللہ کا دین اسلام ہے اللہ کے پاس سے اس دین کو لے کر ہمارے پاس ایک رسول ﷺ آیا اور ایک کتاب بھی ویسی ہی آئی جیسی ابن مریم ( علیہ السلام) لے کر آئے تھے یہ کتاب بھی اس کتاب کے موافق ہے نجاشی نے کہا تم نے بڑا بول بولا ہے۔ نرم رفتار پر رہو اس کے بعد نجاشی کے حکم سے ناقوس بجایا گیا اور تمام عیسائی علماء و مشائخ جمع ہوگئے جب سب اکٹھے ہوگئے تو نجاشی نے ان سے کہا میں تم کو اس خدا کی جس نے عیسیٰ پر انجیل نازل کی تھی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم کو 3 ؂ یہ بات ملتی ہے کہ عیسیٰ اور قیامت کے درمیان کوئی نبی مرسل آئے گا۔ علماء نے جواب دیا بیشک خدا گواہ ہے ایسا ہے ہم کو عیسیٰ نے اس کی بشارت دی ہے اور یہ بھی فرما دیا ہے کہ جو اس پر ایمان لایا وہ مجھ پر ایمان لایا اور جس نے اس کا انکار کیا اس نے میرا انکار کیا۔ نجاشی نے جعفر ؓ سے کہا یہ شخص تم سے کیا کہتا ہے کیا کرنے کا حکم دیتا ہے اور کس چیز سے منع کرتا ہے ؟ جعفر ؓ نے جواب دیا وہ ہمارے سامنے اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں، اچھے کاموں کا حکم دیتے ہیں، برے کاموں سے روکتے ہیں، ہمسایوں سے حسن سلوک کرنے، قرابت داروں سے میل رکھنے اور یتیموں کو نوازنے کا حکم دیتے ہیں اور یہ بھی ہدایت فرماتے ہیں کہ ہم فقط اللہ ہی کی پوجا کریں جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ نجاشی نے کہا جو کلام وہ تمہارے سامنے پڑھتے ہیں اس میں سے کچھ مجھے سناؤ۔ حضرت جعفر نے سورة عنکبوت و روم کی تلاوت کی جس کو سن کر نجاشی اور اس کے ساتھیوں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے نجاشی کے ساتھی بولے۔ جعفر ؓ یہ پاکیزہ کلام کو کچھ اور سناؤ۔ حضرت جعفر ؓ نے سورة کہف پڑھ کر سنائی۔ یہ حالت دیکھ عمرو بن عاص نے چاہا کہ نجاشی کو جعفر پر غصہ دلادے اس لیے کہنے لگا یہ لوگ عیسیٰ اور ان کی ماں کو گالی دیتے ہیں اس پر نجاشی نے جعفر سے پوچھا تم عیسیٰ اور ان کی والدہ کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ حضرت جعفر نے جواب میں سورة مریم ( علیہ السلام) کی تلاوت کی اور مریم و عیسیٰ کے تذکرہ پر پہنچے تو نجاشی نے اپنی مسواک کا اتنا باریک ریزہ جیسے آنکھ میں تنکا پڑجاتا ہے اٹھایا اور کہنے لگا۔ خدا کی قسم مسیح اس بیان سے اتنے بھی زائد نہ تھے پھر جعفر اور ان کے ساتھیوں سے خطاب کرکے کہا جاؤ میرے ملک میں تم محفوظ ہو یعنی امن کے ساتھ رہو جو تم کو گالی دے گا یا کچھ ستائے گا اس کو سزا بھگتنا ہوگی پھر کہنے لگا تم خوش رہو کچھ اندیشہ نہ کرو۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے گروہ کا آج بگاڑ نہیں ہوگا۔ عمرو نے پوچھا نجاشی ابراہیم (علیہ السلام) کی جماعت کونسی ہے ؟ نجاشی نے جواب دیا یہی گروہ اور ان کا وہ آقا جس کے پاس سے یہ آئے ہیں اور ان کی پیروی کرنے والے۔ مشرکین نے اس بات کو ماننے سے انکار کیا اور خود دین ابراہیمی میں ہونے کا دعویٰ کیا پھر نجاشی نے وہ مال واپس کردیا جو عمرو اور اس کا ساتھی لے کر آئے تھے اور کہا تمہارا یہ ہدیہ محض رشوت ہے اس پر اپنا قبضہ کرلو اللہ نے بغیررشوت لیے مجھے بادشاہت عطا فرمائی ہے حضرت جعفر کا بیان ہے کہ پھر ہم لوٹ آئے اور بہترین مکان اور بڑی عزت کی عمدہ مہمانی میں رہے ادھر اللہ نے اسی روز مدینہ میں رسول اللہ پر حضرت ابراہیم کے دین پر ہونے کے نزاع کے متعلق یہ آیت نازل فرمادی : ان اولی الناس بابراہیم۔۔ .
Ayah 3:69

وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 3:69 in the Quran reader

(اے اہل اسلام) بعضے اہلِ کتاب اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ تم کو گمراہ کر دیں مگر یہ (تم کو کیا گمراہ کریں گے) اپنے آپ کو ہی گمراہ کر رہے ہیں اور نہیں جانتے

وَدَّتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ : حضرت معاذ بن جبل ‘ حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت عمار بن یاسر کو یہودیوں نے اپنے مذہب کی دعوت دی تو اس آیت کا نزول ہوا یعنی یہودیوں کی ایک لَوْ يُضِلُّوْنَكُمْ : جماعت چاہتی ہے کہ تم کو تمہارے دین سے اغوا کرلے اور لوٹا کر کفر کی طرف لے جائے۔ لَوْ بمعنی اَنْ مصدری ہے لیکن لفظی عمل اَنْ کی طرح نہیں ہے (ورنہ یضلونکا نون حذف کردیا جاتا) پورا جملہ (بتاویل مفرد ہو کر) وَدَّتْ کا مفعول ہے یالَوْ تمنائی ہے اس صورت میں یہ مودت کا بیان ہوجائیگا۔ وَمَا يُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ : اور وہ سوائے اپنے نفسوں کے کسی کو گمراہ نہیں کرتے یعنی اس اغوا کا وبال انہی پر لوٹ کر پڑے گا اور عذاب دو گنا ہوجائے گا مسلمان تو بہر حال اللہ کی مدد کی وجہ سے ان کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ اس مطلب کی بناء پر گمراہ کو گمراہ کرنا لازم نہیں آتا۔ (1) [ آیت پر یہ اعتراض کیا جاسکتا تھا کہ یہودی تو پہلے ہی گمراہ ہیں دوبارہ اپنے آپ کو گمراہ کرنے کا کیا معنی۔ گم کردہ راہ کو دوبارہ گمراہ بنانے کا مطلب ہی کیا ہوسکتا ہے۔ حضرت مؤلف نے توجیہ مطلب اس طرح کی کہ مسلمان تو گمراہ ہونے سے محفوظ ہیں لیکن یہودیوں کی ضلالت انگیزی ان کے لیے موجب عذاب ہے پس یہودیوں پر دوہرا عذاب ہوگا ایک تو خود گمراہ ہونے کا دوسرا ضلالت انگیزی کی کوشش کا۔] وَمَا يَشْعُرُوْنَ : اور ان کو احساس بھی نہیں کہ ان کی ضرر رسانی (کی یہ کوشش) لوٹ کر انہی پر پڑے گی۔
Ayah 3:70

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 3:70 in the Quran reader

اے اہلِ کتاب تم خدا کی آیتوں سے کیوں انکار کرتے ہو اور تم (تورات کو) مانتے تو ہو

يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ : اے اہل کتاب تم اللہ کی ان آیات کا کیوں انکار کرتے ہو جو توریت و انجیل میں مذکور ہیں اور جن میں محمد رسول اللہ کی نبوت اور آپ ﷺ کے اوصاف کی صراحت ہے یا یہ مراد کہ تم آیات قرآن کا کیوں انکار کرتے ہو۔ وَاَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ : حالانکہ تم آپس میں چھپ چھپ کر اقرار کرتے ہو کہ محمد ﷺ سچے نبی ہیں جن کا بیان توریت و انجیل میں موجود ہے یا یہ مطلب ہے کہ معجزات کو دیکھ کر تم جانتے ہو کہ یہ نبی برحق ہیں۔
Ayah 3:71

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 3:71 in the Quran reader

اے اہلِ کتاب تم سچ کو جھوٹ کے ساتھ خلط ملط کیوں کرتے ہو اور حق کو کیوں چھپاتے ہو اور تم جانتے بھی ہو

يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بالْبَاطِلِ : اے اہل کتاب تم کیوں حق کو باطل کے ساتھ مخلوط کرتے ہو یعنی اصل تورات کی آیات کے ساتھ اپنی طرف سے لکھے ہوئے باطل کو ملا دیتے ہو۔ وَتَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ : اور حق کو چھپاتے ہو یعنی محمد رسول اللہ کے جو اوصاف توریت میں مذکور ہیں ان کو چھپاتے ہو۔ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : اور جانتے ہوئے ایسا کرتے ہو یعنی جو کچھ کرتے ہو قصداً کرتے ہو۔ محمد ابن اسحاق نے حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ عبد اللہ بن الضیف اور عدی بن زید اور حارث بن عوف نے باہم مشورہ کیا اور کہا کہ محمد اور ان کے ساتھیوں پر جو کچھ اتارا گیا ہے (ہمارے لیے مناسب ہے کہ) شروع دن میں تو ہم اس کو سچ مان لیں اور پچھلے دن میں انکار کردیں اس تدبیر سے مسلمانوں کو بھی اپنے دین میں شبہ پڑجائے گا ممکن ہے ہماری طرح وہ بھی کرنے لگیں اور اپنے مذہب سے لوٹ جائیں۔ انہی کے بارے میں اللہ نے يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ سے واسعٌ علیم تک آیات نازل فرمائیں۔
Ayah 3:72

وَ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚۖ Open ayah 3:72 in the Quran reader

اور اہلِ کتاب ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ جو (کتاب) مومنوں پر نازل ہوئی ہے اس پر دن کے شروع میں تو ایمان لے آیا کرو اور اس کے آخر میں انکار کر دیا کرو تاکہ وہ (اسلام سے) برگشتہ ہو جائیں

وَقَالَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بالَّذِيْٓ اُنْزِلَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ : یعنی اہل کتاب کے ایک گروہ نے (آپس میں) کہا کہ دن کے اوّل حصہ میں اس قرآن پر جو مسلمانوں پر اترا ہے صرف زبان سے اپنے ایمان لانے کا اظہار کرو۔ وَاكْفُرُوْٓا اٰخِرَهٗ : اور پچھلے دن میں اس کا انکار کردو اور کہہ دو کہ ہم نے اپنی کتابوں کا مطالعہ کیا اور اپنے علماء سے مشورہ بھی لیا ہم پر واضح ہوگیا کہ محمد ﷺ وہ (نبی موعود) نہیں ہیں ہم کو ان کا جھوٹ کھل گیا (اس لیے ہم اس مذہب کو ترک کرتے ہیں) لَعَلَّھُمْ يَرْجِعُوْنَ : شاید اس ترکیب سے مسلمان بھی اپنے دین میں شک کرنے لگیں اور یہ خیال کرکے کہ تم ان کے مذہب میں کوئی خرابی پا کر ہی لوٹے ہو اپنے دین سے لوٹ جائیں۔ بغوی نے حسن بصری کا قول نقل کیا ہے کہ اس پر خیبر اور دیہات عرینہ کے بارہ یہودی عالموں نے اتفاق کیا تھا۔ ابن جریر نے سدی کی روایت بھی اسی طرح نقل کی ہے اور مجاہد مقاتل اور کلبی کا قول ہے کہ یہ گفتگو قبلہ کے بارے میں ہوئی تھی جب بیت المقدس سے کعبہ کی طرف مسلمانوں کا رخ پھیر دیا گیا تو یہودیوں کو یہ بات شاق ہوئی۔ کعب ابن اشرف اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ کعبہ کی تحویل کو (بظاہر) مان لو اور دن کے ابتدائی حصہ میں کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھ لو پھر دن کے آخری حصہ میں انکار کردینا اور اپنے قبلہ کی طرف لوٹ آنا۔
Ayah 3:73

وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ١ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ١ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۚۙ Open ayah 3:73 in the Quran reader

اور اپنے دین کے پیرو کے سوا کسی اور کے قائل نہ ہونا (اے پیغمبر) کہہ دو کہ ہدایت تو خدا ہی کی ہدایت ہے (وہ یہ بھی کہتے ہیں) یہ بھی (نہ ماننا) کہ جو چیز تم کو ملی ہے ویسی کسی اور کو ملے گی یا وہ تمہیں خدا کے روبرو قائل معقول کر سکیں گے یہ بھی کہہ دو کہ بزرگی خدا ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا کشائش والا (اور) علم والا ہے

وَلَا تُؤْمِنُوْٓا : اور دل سے نہ ماننا۔ اس کا عطف امنوا پر ہے یعنی دل سے نہ ماننا اور کسی کو سچا نہ جاننا۔ اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِيْنَكُمْ : مگر انہی لوگوں کو جو تمہارے دین پر چلیں، یا یہ مطلب ہے کہ شروع دن میں اپنے ایمان کا اظہار انہی لوگوں پر کرنا جو پہلے تمہارے ہم مذہب تھے کیونکہ انہی سے سابق مذہب کی طرف لوٹنے کی زیادہ امید ہوسکتی ہے اور انہی کی اہمیت بھی ہے یہ بھی ممکن ہے کہ لا تو منوا اکفرو کا بیان ہو یعنی دن کے آخرحصہ میں اسلام کا انکار کردینا اور سوائے اپنے ہم مذہب لوگوں کے کسی کی بات کو نہ ماننا۔ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى ھُدَى اللّٰهِ : اے محمد ﷺ آپ کافروں سے کہہ دیں کہ مسلمانوں کو جو ہدایت ملی ہے وہ خداداد ہے تم پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھا نہیں سکتے۔ اللہ تو اپنے نور کی تکمیل کرکے ہی رہے گا تمہاری مکاری مسلمانوں کو ضرر نہیں پہنچا سکتی یا یہ مطلب ہے کہ اے محمد ﷺ آپ خود بھی اپنے دل کو سمجھا دیں اور مسلمانوں سے بھی کہہ دیں کہ یہ ہدایت خداداد ہے کسی مکار کی مکاری تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ اَنْ يُّؤْتٰٓى اَحَدٌ مِّثْلَ مَآ اُوْتِيْتُمْ : اس کا تعلق فعل محذوف سے ہے یعنی (اے اہل کتاب) تم اس جلن میں یہ مکاری کرتے ہو کہ جیسی کتاب و حکمت تم کو دی گئی ہے ویسی ہی دوسروں کو بھی عطا کی جا رہی ہے۔ اَوْ يُحَاۗجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ : یحاجوا کی ضمیراَحَدٌ کی طرف راجع ہے۔ احدٌ اگرچہ لفظاً مفرد ہے لیکن معناً جمع ہے کیونکہ دائرہ نفی میں واقع ہے مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن دوسرے لوگ خدا کے سامنے تم پر غالب آجائیں گے کیونکہ تم ہدایت پر نہیں اور وہ ہدایت پر ہوں گے۔ مراد یہ ہے کہ ان دونوں باتوں پر حسد کرنے نے تم کو مکاری پر آمادہ کیا مگر یہ مکرو حسد مناسب نہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان یؤتی کا تعلقلا تؤمنوا سے ہو اس صورت میں تین طرح مطلب کی توجیہ کی جاسکتی ہے۔ (1) لِمَنْ تَبِعَ میں لام زائد ہے جیسے : رَدِفَ لَکُمْ میں لام زائد ہے۔ اَحَدٌ یُوْتِی کا فاعل ہے اور مستثنیٰ کو مستثنیٰ منہ سے پہلے ذکر کیا ہے یعنی اس بات کی تصدیق نہ کرنا نہ اس امر کا اقرار کرنا کہ کسی کو بھی سوائے تمہارے ہم مذہب لوگوں کے ویسی کتاب و حکمتعطا کی جاسکتی ہے جیسے تم کو دی گئی ہے اور نہ اس بات کا یقین کرنا کہ قیامت کے دن خدا کے سامنے کوئی تم پر غالب آسکے گا۔ اس مطلب پراَوْ یُحَاجُّوْکُمْ میں اَوْ بمعنی واؤ ہوگا جیسے آیت : لا تُطِعْ مِنْھُمْ اٰثِمًا اَوْ کَفُوْرًا میں اَوْ ۔ واؤ کے معنی میں ہے۔ (2) لام انتفاع کے لیے ہے یا زائد ہے۔ استثناء مفرغ ہے یعنی مستثنیٰ منہ محذوف ہے یعنی کسی کے کہنے کا یقین و اقرار نہ کرنا کہ تمہارے علاوہ کسی دوسرے کو بھی ویسی ہی چیز دی جاسکتی ہے جو تم کو دی گئی یا کوئی دوسرا خدا کے ہاں تم پر غالب آسکے گا ہاں اپنے ہم مذہب لوگوں کا یقین کرنا اور انہی کے لیے اقرار کرنا۔ (3) لَا تو منوا کا ترجمہ لا تظھروا ہے اور لام صلہ کا ہے یعنی سوائے اپنے ہم مذہب لوگوں کے کسی پر اپنے اس ایمان کا اظہار نہ کرنا کہ کسی کو تمہارے جیسا مذہب مل سکتا ہے یا خدا کے ہاں کسی کو تم پر غلبہ حاصل ہوسکتا ہے مطلب یہ کہ سوائے اپنے ساتھیوں کے دوسروں کو اپنے ایمان کی اطلاع نہ دینا کیونکہ اگر اس کا اظہار کردو گے تو مسلمانوں کا ایمان اور مضبوط ہوجائے گا اور مشرکوں کو ایمان کی رغبت ہوجائے گی۔ ان تمام توجیہات پر آیت : قل ان الھدی ھدی اللہ جملہ معترضہ ہوگا جس کو کلام کے درمیان اس بات کو ظاہر کرنے کے لیے داخل کیا گیا ہے کہ ان لوگوں کی مکاری سے نہ ان کو کچھ فائدہ ہوگا نہ مسلمانوں کو ضرر۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ھدی اللہ۔ الھدیٰ سے بدل ہو اور انْ یوتی اِنَّ الھدی ھُدَی اللہ کی خبر ہو اور او یحاجوکم میں اَوْ ‘ حتیٰ کے معنی میں ہو۔ مطلب یہ ہوگا کہ ہدایت یعنی خدادا دہدایت یہ ہے کہ جس کسی کو اللہ چاہے ویسی ہی کتاب دیدے جیسی تم کو دی گئی ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن خدا کے سامنے وہ تم پر غالب آجائیں۔ بعض علماء نے کہا کہ یوتیٰ سے پہلے سیاقاً لا محذوف ہے جیسے آیت : یُبَیِّنُ اللہ لَکُمْ اَنْ تَضِلُّوْا میں اَنْ لَا تَضِلُّوْا مراد ہے اس صورت میں مطلب اس طرح ہوگا کہ تم ان کی تصدیق نہ کرنا تاکہ جیسا تمہارا علم ہے ان کا بھی علم ویسا ہی نہ ہوجائے اور تمہاری علمی فضیلت ان پر قائم نہ رہے اور اس لیے بھی ان کی تصدیق نہ کرنا کہ خدا کے سامنے تمہارے مقابلہ میں ان کو غلبہ حاصل نہ ہوجائے اور وہ قیامت کے دن یہ نہ کہنے لگیں کہ تم کو ہمارے دین کا حق ہونا معلوم تھا مگر تم ایمان نہیں لائے۔ مطلب کی یہ توجیہ ابن جریح کے قول پر ہوگی مگر سب سے زیادہ پیچ در پیچ توجیہ ہے۔ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللّٰهِ ۚ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ : اے محمد ﷺ یہودیوں سے کہہ دیجئے کہ فضیلت اللہ کے ہاتھ میں ہے تمہارے ہاتھوں میں نہیں ہے وہی جس کو چاہتا ہے دیتا ہے پس اسی نے محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو فضیلت عطا فرمائی ہے۔ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ : اور اللہ کا فضل وسیع ہے اور وہی ان لوگوں سے بخوبی واقف ہے جو فضل کے اہل ہیں۔
Ayah 3:74

یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 3:74 in the Quran reader

وہ اپنی رحمت سے جس کو چاہتا ہے خاص کر لیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

يَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ : وہی اپنی رحمت و نبوت کے لیے جس کو چاہتا ہے مخصوص کرلیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
Ayah 3:75

وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِمًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:75 in the Quran reader

اور اہلِ کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے پاس (روپوں کا) ڈھیر امانت رکھ دو تو تم کو (فوراً) واپس دے دے اور کوئی اس طرح کا ہے کہ اگر اس کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھو تو جب تک اس کے سر پر ہر وقت کھڑے نہ رہو تمہیں دے ہی نہیں یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں کے بارے میں ہم سے مواخذہ نہیں ہوگا یہ خدا پر محض جھوٹ بولتے ہیں اور (اس بات کو) جانتے بھی ہیں

وَمِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ : اور بعض اہل کتاب یعنی عبد اللہ بن سلام اور ان جیسے وہ اہل کتاب جو مسلمان ہوگئے تھے۔ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ : ایسے ہیں کہ اگر تم ان کی امانت میں کثیر مال بھی دیدو تو وہ يُّؤَدِّهٖٓ اِلَيْكَ : اپنی دیانت و ایمانداری کی وجہ سے پورا پورا مال تم کو واپس کردیں۔ بغوی نے بسلسلہ جو یبر از ضحاک حضرت ابن عباس ؓ کا قول بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن سلام کے پاس بارہ سو اوقیہ سونا امانت رکھا اور حضرت عبد اللہ نے وہ امانت پوری ادا کردی (گویا یہ آیت حضرت عبد اللہ بن سلام کے متعلق نازل ہوئی) وَمِنْھُمْ مَّنْ : اور ان میں سے بعض ایسے ہیں یعنی کعب بن اشرف اور اس جیسے دوسرے یہودی۔ کذا قال مقاتل۔ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِيْنَارٍ لَّا يُؤَدِّهٖٓ اِلَيْكَ : کہ اگر ان کے پاس تم ایک دینار امانت رکھو تو وہ واپس نہ دیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ کسی قریشی نے فخاص بن عازورا یہودی کے پاس ایک دینار امانت رکھا مگر فخاص نے بےایمانی کرلی۔ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَاۗىِٕمًا ۭ : مگر جب کہ تم اس پر کھڑے رہو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : قاءِمًَا عَلَیْہِ سے مراد ہی مُلِحًّا یعنی جب تک کہ تم سخت تقاضا نہ کرو اور تقاضے پر جم نہ جاؤ اور عدالت سے چارہ جوئی نہ کرو وہ امانت واپس نہیں کرتا۔ ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْاُمِّيّٖنَ سَبِيْلٌ : یعنی امانت واپس نہ کرنے اور خیانت کو حلال سمجھ لینے کا سبب یہ ہے کہ کافر یہودی کہتے ہیں کہ جو اہل کتاب نہیں ہیں ان کے معاملہ میں اللہ کے ہاں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں۔ یہودی کہتے تھے کہ عرب کا مال ہر طرح ہمارے لیے حلال ہے۔ کیونکہ یہ ہمارے مذہب پر نہیں ہیں ہماری کتاب میں ان کے حقوق ہی نہیں ہیں بلکہ یہودی غیر مذہب والوں پر ہر ظلم کو اور ان کی ہر حق تلفی کو حلال جانتے تھے۔ وَيَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ : اور وہ اللہ پر دانستہ یہ دروغ بافی کرتے ہیں کہ اللہ نے عرب کا مال ان کے لیے حلال کردیا ہے۔
Ayah 3:76

بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:76 in the Quran reader

ہاں جو شخص اپنے اقرار کو پورا کرے اور (خدا سے) ڈرے تو خدا ڈرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

بَلٰي : یعنی جس طرح یہودی کہتے ہیں ایسا نہیں ہے بلکہ مؤمنین کے معاملہ میں بھی ان کی گرفت ہوگی یہ مطلب ہے کہ (کافروں کے) مال کے بچاؤ کی صرف دو صورتیں ہیں مسلمان ہوجانا یا مسلمانوں کا ذمی بن جانا (یعنی یہودی الٹا سمجھے ہیں کہ مسلمان کے مال کو اپنے لیے مباح جانتے ہیں حقیقت اس کے برعکس ہے ان کا مال مسلمانوں کے لیے مباح ہے ہر طرح سے لینا جائز ہے۔ بچاؤ کی صرف دو صورتیں ہیں مسلمان ہوجانا یا جزیہ دینا) حضرت ابو موسیٰ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : مجھیلوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے کہ وہ لا الٰہ الّا اللہ اور محمّد رسول اللہ کا اقرار کرلیں اور ٹھیک ٹھیک نماز پڑھیں اور زکوٰۃ ادا کریں اگر وہ ایسا کرلیں تو ان کی جانیں اور ان کے مال سوائے اسلامی حقوق کے ہر طرح مجھ سے محفوظ ہوجائیں گے اور (اندرونی) حساب فہمی اللہ کے ذمہ ہے (کہ انہوں نے یہ اقرار توحید و رسالت دل کے یقین کے ساتھ کیا ہے یا نفاق کے ساتھ) سلیمان بن برید نے حضرت برید ؓ کی روایت سے ایک طویل حدیث بیان کی ہے جس میں یہ (حکم) بھی مذکور ہے کہ اگر وہ یعنی کفار اسلام سے انکار کریں تو ان سے جزیہ طلب کرنا اگر دیدیں تو لے لینا اور (جنگ کو) ان سے روک دینا۔ (متفق علیہ) مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ : جس کسی نے بھی اپنا عہد پورا کیا یا جو بھی اپنا عہد پورا کرے۔ مَنْ شرطیہ ہے یا موصولہ اور عہد سے مراد ہے مالک مال سے واپسی امانت کا کیا ہوا وعدہ یا اللہ کا وہ حکم جو توریت میں اللہ نے دیا تھا کہ تمام انبیاء پر اور محمد ﷺ پر اور قرآن پر ایمان لانا اور امانت ادا کرتے رہنا۔ اوّل مطلب پر عَھْدِہٖ کی ضمیر مَنْ کی طرف راجع ہے اور دوسرے مطلب پر اللہ کی طرف۔ وَاتَّقٰى : اور کفر و خیانت سے بچتا رہا۔ تو اللہ اس سے محبت کرے گا۔ فَاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ : کیونکہ اللہ تقویٰ والوں کو پسند کرتا ہے (اور ایسے لوگ تقویٰ والے ہیں) یُحبھم کی جگہ یُحِبُّ الْمتقِیْن کہنے میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ تمام امور کا مدار تقویٰ پر ہے وفاء عہد اور تمام فرائض کی ادائیگی اور ممنوعات سے اجتناب تقویٰ ہی کی شاخیں ہیں۔ اسی عموم کی وجہ سے بجائے ضمیر کے المتقین کو ذکر کیا۔ بَلٰی بجائے خود ایک جملہ کا قائم مقام ہے اور اس جملہ کی تاکید من اوفیٰ بعھدہٖ ۔۔ پورا جملہ کر رہا ہے۔ بخاری و مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ کی روایت آئی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : چار (خصلتیں) ہیں جس کے اندر یہ چاروں ہوں گی وہ خالص (عملی) منافق ہوگا اور جس کے اندر ان میں سے کوئی ایک ہوگی وہ تاوقتیکہ اس کو ترک نہ کردے نفاق کی ایک خصلت اس میں رہے گی جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ بات کرے تو جھوٹی کرے وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔ کسی سے جھگڑا ہو تو بیہودہ بکے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے تو جھوٹی کرے وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ مسلم کی روایت میں حدیث کے اتنے الفاظ زائد ہیں کہ خواہ وہ روزے رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو اور مسلمان ہونے کا دعویدار ہو۔
Ayah 3:77

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:77 in the Quran reader

جو لوگ خدا کے اقراروں اور اپنی قسموں (کو بیچ ڈالتے ہیں اور ان) کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ان سے خدا نہ تو کلام کرے گا اور نہ قیامت کے روز ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَــمَنًا قَلِيْلًا : صحیحین میں ابو وائل کی وساطت سے حضرت عبد اللہ کی روایت منقول ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو شخص کسی مسلمان کا مال مارنے کے لیے جھوٹی قسم کھائے گا تو اللہ کے سامنے اس کی پیشی ایسی حالت میں ہوگی کہ اللہ اس پر غضب ناک ہوگا۔ اس کی تصدیق میں آیت مذکورہ آخرتک نازل ہوئی۔ حضرت عبد اللہ یہ حدیث بیان کرچکے تو حضرت اشعث بن قیس باہر سے اندر آئے اور پوچھا ابو عبد الرحمن نے تم سے کیا حدیث بیان کی تھی لوگوں نے بتادیا کہ یہ یہ بیان کر رہے تھے حضرت اشعث نے کہا یہ آیت میرے متعلق نازل ہوئی تھی۔ بات یہ ہوئی کہ میرا ایک کنواں میرا چچا کے بیٹے کی زمین میں تھا میں نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر گذارش کی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اپنے گواہ پیش کرو۔ ورنہ اس کی قسم کو مانو۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ وہ تو اس پر قسم کھالے گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : جس نے مسلمان آدمی کا مال مارنے کے لیے جھوٹی قسم کھائی اور (دانستہ) وہ قسم میں جھوٹا ہو تو قیامت کے دن جب اللہ کی پیشی میں جائے گا تو اللہ اس پر غضب ناک ہوگا۔ بخاری کے طریق سے بغوی نے اپنی سند سے یہ حدیث اسی طرح نقل کی ہے لیکن ابوداؤد اور ابن ماجہ وغیرہ کی روایت میں حضرت اشعث بن قیس کا قول اس طرح منقول ہے کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ زمین کا نزاع تھا۔ یہودی (میرے حق کا) منکر تھا) میں اس کو رسول اللہ کی خدمت میں لے گیا۔ آپ نے مجھ سے فرمایا : کیا تیرے پاس گواہ ہیں میں نے عرض کیا : نہیں۔ آپ ﷺ نے یہودی سے فرمایا : تو قسم کھا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ یہ تو قسم کھالے گا اور میرا مال لے جائے گا۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ بخاری نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی کی روایت سے لکھا ہے کہ ایک شخص کچھ تجارتی سامان بازار میں لایا اور کسی مسلمان کو پھانسنے کے لیے اللہ کی قسم کھا کر کہنے لگا کہ مجھے اس کی اتنی قیمت ملتی تھی حالانکہ اس کو اس کی بیان کردہ قیمت نہیں ملتی تھی (یا یوں ترجمہ کیا جائے کہ اس نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ میں نے اس سامان کی اتنی قیمت دی ہے یعنی اتنے میں خریدا ہے حالانکہ اس نے اتنی قیمت نہیں دی تھی) اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حافظ ابن حجر نے بخاری کی شرح میں لکھا ہے کہ ان دونوں حدیثوں میں کوئی تضاد نہیں (کہ ایک کو صحیح ماننے کی صورت میں دوسری کو غلط ماننا ہی پڑے) بلکہ ممکن ہے کہ نزول آیت کے دونوں سبب ہوں (ایک واقعہ بھی ہوا ہو اور دوسرا بھی) ثَــمَنًا قَلِيْلًا : سے مراد ہے متاع دنیا خواہ قلیل ہو یا کثیر کیونکہ جنت کی نعمتوں کے مقابل تو دنیا کا کثیر سامان بھی قلیل ہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اداء امانت کے عہد اور جھوٹی قسموں کے عوض متاع دنیا حاصل کرتے ہیں ابن جریر نے عکرمہ کا قول نقل کیا ہے کہ آیت کا نزول کعب بن اشرف حیی بن اخطب اور ان جیسے دوسرے یہودیوں کے حق میں ہوا جو توریت میں نازل شدہ اوصاف محمدی کو چھپاتے بدلتے اور ان کی جگہ دوسری چیزیں درج کیا کرتے تھے اور قسم کھا کر کہتے تھے کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں اس تبدیل و تحریف سے ان کی غرض یہ تھی کہ ان کو کھانے کو ملتا رہے اور جو رشوتیں وہ اپنے متبعین سے لیتے رہتے تھے ان میں فرق نہ آئے۔ ابن حجر نے لکھا ہے آیت میں اس سبب نزول کا بھی احتمال ہے۔ لیکن اصل سبب نزول وہی ہے جو صحیح حدیث میں آیا ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں آیت کی رفتار اور کلام کا سیاق ابن جریر از عکرمہ کی روایت کی صحت کو چاہتا ہے اور جس طرح دونوں مذکورۂ بالا حدیثوں میں باہم تضاد نہیں ہے اس طرح ان حدیثوں سے عکرمہ کی روایت کا بھی تضاد نہیں ہے ہوسکتا ہے کہ اسباب نزول تینوں ہوں۔ علقمہ نے اپنے والد حضرت وائل کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ کی خدمت میں دو آدمی حاضر ہوئے ایک حضرموت کا دوسرا کندہ کا۔ حضرمی نے عرض کیا : یا رسول اللہ اس نے میری زمین چھین لی۔ کندی نے جواب دیا وہ میری زمین ہے۔ میرے قبضہ میں ہے اس میں کسی کا حق نہیں ہے رسول اللہ نے حضرمی سے فرمایا : کیا تمہارے پاس گواہ ہیں۔ اس نے کہا نہیں فرمایا : تو تم کو اس سے قسم لینے کا حق ہے حضرمی نے عرض کیا : یا رسول اللہ یہ شخص تو علانیہ فاسق ہے کسی چیز سے اس کو باک نہیں۔ اس کو قسم کھانے کی پروا بھی نہ ہوگی فرمایا : اس کے علاوہ اس سے تم کو کوئی حق نہیں چناچہ کندی جب قسم کھانے چلا اور پشت پھیری تو رسول اللہ نے فرمایا : اگر اس نے ناحق مال کھانے کے لیے قسم کھالی تو اللہ کی پیشی کے وقت خدا اس سے رخ پھیرے ہوئے ہوگا۔ (رواہ مسلم) ایک اور روایت میں آیا ہے کہ کندی کا نام امراء القیس بن عابس اور اس کے حریف کا نام ربیعہ بن عبدان تھا۔ ابو داؤد کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ جو کوئی قسم کھا کر (کسی کا) کوئی مال مارے گا وہ اللہ کی پیشی کے وقت کوڑھی ہوگا۔ یہ سن کر کندی نے عرض کیا : یہ زمین اسی کی ہے۔ بغوی کی ایک روایت میں آیا ہے کہ جب کندی نے قسم کھانے کا ارادہ کیا تو یہ آیت نازل ہوئی اس پر امراء القیس (یعنی کندی) نے قسم کھانے سے انکار کردیا اور اپنے حریف کے حق کا اقرار کرلیا اور زمین اس کو دیدی۔ اُولٰۗىِٕكَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِي الْاٰخِرَةِ : ان لوگوں کا راحت آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ حضرت ابو امامہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس نے قسم کھا کر کسی مسلمان شخص کا حق مارا اللہ نے اس کے لیے دوزخ لازم کردی اور جنت اس پر حرام کردی۔ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ اگرچہ تھوڑی سی چیز ہو ؟ فرمایا : اگرچہ درخت پیلو کی ایک ٹہنی ہو۔ (رواہ مسلم) ایک روایت میں آیا ہے کہ حضور نے یہ آخری لفظ تین مرتبہ فرمایا۔ وَلَا يُكَلِّمُھُمُ اللّٰهُ وَلَا يَنْظُرُ اِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : اور قیامت کے دن اللہ ان سے کلام نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا۔ بعض علماء نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ ان سے ایسا کلام نہیں کرے گا جس سے ان کو خوشی ہو اور نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا۔ صحیح یہ ہے کہ (آیت کا حقیقی معنی مراد نہیں ہے بلکہ) بطور کنایہ غضبناک ہونا اور رخ پھیرلینا مراد ہے گویا اس آیت کی تفسیر وہ حدیث ہے جو حضرت عبد اللہ اور حضرت اشعث کی روایت سے ذکر کردی گئی ہے کہ لقی اللہ و ھو علیہ غضبان اور حضرت وائل کی روایت سے بیان کیا گیا ہے کہ لیلقین اللہ و ھو عنہ معرض . وَلَا يُزَكِّيْهِمْ ۠ : اور اللہ ان کو پاک نہیں بنائے گا یعنی ان کی (پاکی کی) تعریف نہیں کرے گے (یہ مطلب ضعیف ہے) صحیح مطلب یہ ہے کہ اللہ ان کا گناہ معاف نہیں کرے گا کیونکہ یہ بندوں کا حق ہے اس کا بدلہ تو ضرور ملنا ہے۔ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اعمالناموں کی تین مدیں ہیں ایک مد وہ ہے جس کی پروا (سختی کے ساتھ) اللہ نہیں کرے گا۔ دوسری مد وہ ہے جس میں سے کوئی چیز (بغیر عوض کے) نہیں چھوڑے گا تیسری مد وہ ہے جس کو معاف نہیں فرمائے گا۔ جس مد کو معاف نہیں فرمائے گا وہ تو شرک ہے اور جس مد کی کوئی خاص پرواہ نہیں کرے گا وہ خود انسان کا اپنی ذات پر ظلم ہے یعنی وہ حقوق جو براہ راست خدا کے انسان پر ہیں ان کو ادا نہ کرنا (جیسے) کوئی روزہ ترک کردیا یا کوئی نماز چھوڑ دی اور وہ مد جس (کے اندرا جات) میں سے کوئی چیز (بغیر بدلہ کے) نہیں چھوڑے گا وہ بندوں کی باہم حق تلفیاں ہیں اس میں لا محالہ بدلہ دینا ہوگا۔ (رواہ الحاکم و احمد) طبرانی نے بھی ایسی ہی حدیث حضرت سلمان اور حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اور بزار نے حضرت انس کی روایت سے بیان کی ہے اگر اوصاف رسول اللہ کو چھپانے کی وجہ سے آیت کا نزول یہودیوں کے متعلق تسلیم کیا جائے تو عدم مغفرت کا حکم ان کے کفر کی وجہ سے قرار پائے گا۔ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ : اور انہی کے لیے درد ناک عذاب ہوگا یعنی ان کے اعمال کی سزا میں حضرت ابوذر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ کلام نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف نظر فرمائے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور انہی کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔ حضور ﷺ نے یہ آیت تین بار تلاوت فرمائی حضرت ابوذر نے عرض کیا : یا رسول اللہ وہ ناکام اور نامراد ہوں گے مگر ہیں کون لوگ۔ فرمایا : (غرور سے) تہبند نیچی لٹکانے والا (یعنی ٹخنوں سے نیچے) اور وہ احسان جتلانے والا کہ جب کچھ دیتا ہے تو اس کا احسان ضرور جتلاتا ہے اور جھوٹی قسم کھا کر اپنے مال کی فروخت کو فروغ دینے والا۔ (رواہ مسلم و احمد وابو داؤد والترمذی والنسائی) حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : تین ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور انہی کے لیے درد ناک عذاب ہوگا ایک وہ شخص جس کے پاس بیابان میں ضرورت سے زائد پانی ہو اور وہ دوسرے مسافر کو نہ دے ایک وہ شخص جس نے عصر کے بعد (جب کہ بازار میں رونق ہوتی ہے) کچھ سامان تجارت کا فروخت کرنا چاہا اور اللہ کی قسم کھا کر کہ میں نے یہ اتنے میں خریدا ہے حالانکہ بیان کردہ قیمت پر اس نے نہیں خریدا تھا اور لوگوں نے اس کی بات سچ مان لی اور ایک وہ آدمی جس نے امام کی بیعت کی اور صرف دنیا کے لیے کی اگر امام نے کچھ دنیا اسے دے دی تو وفا دار رہا اور نہ دی تو اس نے بیعت کی وفا نہ کی (یعنی غداری کی) (رواہ اصحاب الستہ و احمد) بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی ایک مرفوع روایت اس طرح ہے کہ تین ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن بات بھی نہیں کرے گا اور نہ ان پر نظر فرمائے ایک وہ شخص جس نے کسی سامان کے فروخت پر جھوٹی قسم کھا کر کہا کہ میں نے یہ اتنے میں لیا ہے حالانکہ جو قیمت اس نے دی تھی اس سے بتائی ہوئی قیمت زیادہ تھی۔ دوسرا وہ شخص جس نے کسی مسلمان کا مال مارنے کے لیے عصر کے بعد جھوٹی قسم کھائی تیسرا وہ آدمی جس نے اپنی ضرورت سے بچا ہوا پانی (حاجتمند مسافر کو دینے سے) روک لیا۔ (قیامت کے دن) اللہ اس سے فرمائے گا آج میں تجھ سے اپنا فضل روکتا ہوں جس طرح تو نے اپنے صرف سے بچی ہوئی وہ چیز روک رکھی تھی جو تو نے بنائی بھی نہ تھی ‘(یعنی پانی) ۔ طبرانی اور بیہقی نے تین آدمیوں کی تفصیل حضرت سلمان ؓ کی روایت سے اس طرح نقل کی ہے ایک بوڑھا زانی ‘ دوسرا شیخی خور مفلس ‘ تیسرا وہ شخص جس نے اپنا سرمایہ ہی اس بات کو بنا رکھا ہے کہ کچھ بچے گا تو قسم کھا کر اور خریدے گا تو قسم کھا کر۔ طبرانی نے حضرت عصمہ بن مالک کی روایت سے بھی ایسی ہی مرفوع حدیث نقل کی ہے۔
Ayah 3:78

وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:78 in the Quran reader

اور ان (اہلِ کتاب) میں بعضے ایسے ہیں کہ کتاب (تورات) کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں تاکہ تم سمجھو کہ جو کچھ وہ پڑھتے ہیں کتاب میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے اور کہتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے (نازل ہوا) ہے حالانکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا اور خدا پر جھوٹ بولتے ہیں اور (یہ بات) جانتے بھی ہیں

وَاِنَّ مِنْھُمْ لَفَرِيْقًا : بیشک اہل کتاب کا ایک گروہ ہے یعنی کعب بن اشرف، حیی بن اخطب، ابو یاسر، مالک بن الضیف اور سفنہ بن عمرو شاعر۔ يَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَھُمْ بالْكِتٰبِ : جو (ا اللہ کی) کتاب پڑھتے وقت اپنی زبانوں کو نازل شدہ الفاظ سے اپنے اختراع کردہ الفاظ کی طرف پھیردیتا ہے (یعنی نازل شدہ الفاظ کی جگہ خود ساختہ عبارت کو پڑھتا ہے) لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ : تاکہ اے مسلمانو ! تم اس کی پڑھی ہوئی عبارت کو (ا اللہ کی اصل کتاب کا جزء سمجھ لو۔ ) وَمَا ھُوَ مِنَ الْكِتٰبِ : حالانکہ وہ کتاب اللہ کا حصہ نہیں ہے (بلکہ خود پڑھنے والے کا یا اس کے ساتھیوں کا بنایا ہوا ہے) وَيَقُوْلُوْنَ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَمَا ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۚ : (اور صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ آہستہ سے پڑھتے چلے جائیں تاکہ مسلمان غلط فہمی میں پڑجائیں بلکہ) وہ صراحۃً کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے (یونہی) آیا ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے (آیا ہوا) نہیں ہے۔ وَيَـقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ : یہ لوگ دانستہ اللہ پر دروغ بندی کرتے ہیں یہ جملہ تاکید مزید ہے اور بالارادہ دروغ بندی کرنے کی محکم صراحت ہے ضحاک نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت یہود و نصاریٰ سب کے حق میں نازل ہوئی تھی کیونکہ ان سب نے توریت و انجیل کو بگاڑ لیا تھا اور کتاب میں اس (عبارت) کو ملا لیا تھا جو کتاب کی نہ تھی۔
Ayah 3:79

مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 3:79 in the Quran reader

کسی آدمی کو شایاں نہیں کہ خدا تو اسے کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے ہو جاؤ بلکہ (اس کو یہ کہنا سزاوار ہے کہ اے اہلِ کتاب) تم (علمائے) ربانی ہو جاؤ کیونکہ تم کتابِ (خدا) پڑھتے پڑھاتے رہتے ہو

مَا كَانَ لِبَشَرٍ : ابن اسحاق، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نیز دلائل میں بیہقی نے حصرت ابن عباس کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ (جب علماء یہود اور نجران کے نصاریٰ رسول اللہ کی خدمت میں جمع ہوئے اور آپ ﷺ نے ان کو اسلام کی دعوت دی تو) ابو رافع قرظی (مدنی) نے رسول اللہ سے کہا محمد ﷺ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم تمہاری ایسی ہی پوجا کریں جیسے نصاریٰ عیسیٰ کی کرتے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ کی پناہ کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کو پوجنے کا میں حکم دوں اللہ نے اس کے لیے مجھے نہیں بھیجا نہ اس کا مجھے حکم دیا اس پر اللہ نے آیت : ما کان لبشر سے مسلمون تک نازل فرمائی۔ عبد نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ حسن بصری نے فرمایا : مجھے یہ اطلاع پہنچی ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ہم آپ کو اسی طرح سلام کرتے ہیں جیسے آپس میں ایک دوسرے کو کرتے ہیں (آپ ﷺ کو سلام کرنے کا کوئی امتیاز نہیں) تو کیا ہم آپ ﷺ کو سجدہ نہ کیا کریں ؟ فرمایا : نہیں بلکہ اپنے نبی ﷺ کی عزت کرو اور اہل حق کا حق پہچانو۔ اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ مقاتل اور ضحاک کا بیان ہے کہ نجران کے عیسائیوں نے کہا تھا کہ عیسیٰ نے ہم کو حکم دیا ہے کہ ہم ان کو رب بنا لیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی محمد ہوں یا عیسیٰ ( علیہ السلام) کسی بشر کے لیے جائز نہیں بشر انسان کی طرح اسم جنس ہے مذکر مونث مفرد جمع سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے کبھی اس کا تثنیہ بھی آتا ہے جیسے آیت : انومن لبشرین مثلنا میں آیا ہے بشر کی جمع ابشار آتی ہے (قاموس) بغوی نے لکھا ہے کہ بشر جمع ہے اس کا اطلاق انسانوں کی جماعت پر ہوتا ہے اس لفظ سے واحد نہیں آتا جیسے قوم، جیش اور واحد کے مقام میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ : کہ اللہ تو اس کو کتاب اور حکم اور نبوت عطا کرے حکم سے مراد ہے حکمت و سنت یا حکومت۔ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : یقول کا عطف یُؤتی پر ہے اور وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کی توحید کو چھوڑ کر تم میرے پرستار بن جاؤ (یعنی میری بھی پوجا کرو) اس آیت میں اشارہ ہے کہ عبادت خداوندی کا حصر صرف توحید میں ہے اگر غیر اللہ کو عبادت میں شریک کیا تو عبادت اللہ نہیں ہوسکتی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے تو عطاء کتاب و نبوت ہو اور بندہ کی طرف سے غیر اللہ کی عبادت کا حکم ہو ایسا ہونا ممکن نہیں (کوئی نبی غیر اللہ کی پوجا کا حکم نہیں دے سکتا کیونکہ) نبوت اور غیر اللہ کی عبادت کا حکم دو متضاد چیزیں ہیں اوّل دعوت توحید ہے اور دوسری دعوت شرک۔ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ : بلکہ وہ کہتا ہے کہ تم ربانی ہوجاؤ۔ یعنی احکام خداوندی کے مبلغ۔ حضرت علی اور حضرت ابن عباس ؓ نے ربانیین کا تفسیر ترجمہ کیا ‘ فقہا علماء۔ قتادہ نے حکماء علماء کہا۔ سعیدبن جبیر ؓ کی روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ ربانیین سے مراد ہیں فقہاء معلمین۔ عطا (رح) نے ترجمہ کیا با وقار دانشمند علماء جو اللہ کی طرف سے مخلوق کے خیر خواہ ہوں۔ سعید بن جبیر ؓ نے کہا با عمل عالم۔ ابو عبید ؓ نے کہا میں نے ایک عالم سے سنا کہ ربانی وہ شخص ہے جو حلال حرام اور امر و نہی کو جانتا ہو امت کے گذشتہ اور آئندہ احوال سے واقف ہو۔ بعض نے کہا ربانی کا درجہ حبِر سے اونچا ہے حبِر تو عالم کو کہتے ہیں اور ربانی اس عالم کو کہتے ہیں جو صاحب بصیرت بھی ہو۔ تمام اقوال کا حاصل یہ ہے کہ ربانی اس شخص کو کہتے ہیں جو علم، عمل، اخلاص اور درجات قرب میں خود بھی کامل ہو اور کامل گر بھی ہو کیونکہ رَبَّ (ماضی) یَرُبُّ (مضارع) رَبًّا (مصدر) کا معنی ہے کسی چیز کی درستی اور تکمیل کرنا۔ ربانی علم کی ترقی اور تکمیل کرتے ہیں اور متعلمین کو تربیت دیتے ہیں بڑے بڑے علوم سے پہلے چھوٹے چھوٹے علوم کی تدریجی تعلیم دیتے ہیں اسی لیے ان کو ربانی کہا جاتا ہے ایک روایت میں حضرت علی کا قول آیا ہے کہ ربانیین وہ لوگ ہیں جو اپنے اعمال سے علم کی تکمیل کرتے ہیں یہ ربان کی جمع ہے جیسے رَیَّان، عطشان یاء نسبت ملا دی گئی ہے۔ بعض نے کہا ربانی وہ شخص ہے جو رب کی طرف منسوب ہو (ا اللہ والا) الف نون کو مبالغہ کے لیے زیادہ کردیا گیا ہے (بڑا اللہ والا) جیسے لحیانی بڑی گھنی لمبی داڑھی والا اور رقبانی بڑی موٹی گردن والا اگر مبالغہ مقصود نہ ہو اور صرف لحیہ اور رقبہ کی طرف نسبت کرنی غرض ہو تو لحیی اور رقبی کہا جائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ کی جس روز وفات ہوئی تو محمد بن حنفیہ نے فرمایا : اس امت کے ربانی کا انتقال ہوگیا۔ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ : یعنی تم ربانی ہوجاؤ اس وجہ سے کہ تم کتاب کے عالم اور معلم ہو اور ہمیشہ پڑھتے اور یاد رکھتے ہو۔ تدرسون کا معنی یہ ہے کہ ہمیشہ کتاب کو پڑھنے اور یاد رکھتے ہوے ممکن ہے کہ لوگوں کے سامنے پڑھنا یعنی لوگوں کو پڑھانا مراد ہو۔ صحاح میں ہے دَرَسَ الدَّار یعنی گھر مٹ گیا (اس کے) نشانات باقی رہ گئے۔ درس الکِتَابَ وَالْعِلْمَ کتاب کو اور علم کو پڑھا یعنی کتاب اور علم کا اثر اپنی یاد داشت میں لے لیا اور چونکہ یا دداشت ہمیشہ پڑھتے رہنے سے ہوتی ہے اس لیے ہمیشہ پڑھتے رہنے کی تعبیر لفظ درس سے کی اللہ نے فرمایا : و درسوا ما فیہ۔ و بما کنتم تدرسون حاصل مراد یہ ہے کہ چونکہ تم کتاب کو پڑھتے پڑھاتے اور جانتے سکھاتے ہو اس لیے ربانی ہوجاؤ کیونکہ جاننے کا فائدہ عمل کرنا اور اپنی اصلاح کرنا ہے اور تعلیم کی غرض دوسروں کی اصلاح ہے مگر دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح لازم ہے تاکہ آیت : لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْن اور اَتَامُرُوْنَ النَّاسَ باِلْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ کے مصداق نہ ہوجاؤ۔
Ayah 3:80

وَ لَا یَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِكَةَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا١ؕ اَیَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 3:80 in the Quran reader

اور اس کو یہ بھی نہیں کہنا چاہیے کہ تم فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا بنالو بھلا جب تم مسلمان ہو چکے تو کیا اسے زیبا ہے کہ تمہیں کافر ہونے کو کہے

وَلَا يَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ وَالنَّبِيّٖنَ اَرْبَابًا : اور نہ اس کے لیے یہ جائز ہے کہ ملائکہ اور انبیاء کو رب بنا لینے کا تم کو حکم دے بلکہ وہ تو اس بات کی ممانعت کرتا ہے لاَ یَامُرَ کا عطفیقول پر ہے اور مَا کَانَ لِبَشَرٍ میں جو نفی کا معنی ہے اس کی تاکید کے لیے لا کو زائد کیا گیا ہے قریش اور صابیوں کا فرقہ ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتا تھا یہودی عزیر کو اور عیسائی مسیح کو خدا کی اولاد کہتے تھے (اسکی تردید میں فرمایا : کہ قریش اور یہود و نصاریٰ کی طرح) کسی ایسے شخص کے لیے جس کو اللہ نے نبی بنایا ہو اپنی پوجا کا یا ملائکہ و انبیا کو اولاد خدا کہنے کا حکم دینا جائز نہیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لا زائد نہ ہو اس وقت مطلب اس طرح ہوگا کہ اپنی پوجا کا حکم دینا اس کیلئے جائز نہیں اور نہ وہ ملائکہ و انبیاء کو ارباب بنانے کا حکم دیتا ہے بلکہ اسکی ممانعت کرتا ہے کہ خدا کی مثل ملائکہ اور انبیاء کو رب بنایا جائے۔ اَيَاْمُرُكُمْ بالْكُفْرِ : استفہام تعجب و انکار کیلئے ہے (یعنی تعجب ہے کہ وہ تم کو کفر کا حکم دے ایسا نہیں ہوسکتا) کفر سے مراد ہے غیر اللہ کی پوجا۔ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ : اس کے بعد کہ تم اللہ کے فرماں بردارہو اگر یہ خطاب ان مسلمانوں کو ہو جنہوں نے رسول اللہ سے آپ کو سجدہ کرنے کی خواہش کی تھی جیسا کہ حسن بصری کی روایت ہے تو آیت کا مطلب صاف ہے اسی طرح اگر یہ نصاریٰ کے اس قول کی تردیدہو کہ حضرت عیسیٰ نے حکم دیا تھا کہ ہم ان کو رب بنالیں تب بھی مطلب میں کوئی خفاء نہ ہوگا کیونکہ حضرت عیسیٰ کے زمانہ میں عیسائی مسلمان تھے۔ لیکن اگر مخاطب وہ یہود و نصاریٰ ہوں جنہوں نے حضور سے کہا تھا کہ محمد ﷺ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم تمہاری پوجا کریں تو آیت کا مطلب واضح نہ ہوگا کیونکہ یہ لوگ مسلمان نہیں ہوئے تھے) اس وقت کلام کی توجیہ اس طرح ہوگی کہ یہ خطاب بطور فرض ہے یعنی اگر مان لیا جائے کہ تم مسلمان ہوجاؤ گئے اور رسول اللہ کے حکم کو مان لو گے تو کیا تمہارے مسلمان ہونے کے بعد وہ غیر اللہ کی پرستش کا تم کو حکم دیں گے۔
Ayah 3:81

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗ١ؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْ١ؕ قَالُوْۤا اَقْرَرْنَا١ؕ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:81 in the Quran reader

اور جب خدا نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور دانائی عطا کروں پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے جو تمہاری کتاب کی تصدیق کرے تو تمھیں ضرور اس پر ایمان لانا ہوگا اور ضرور اس کی مدد کرنی ہوگی اور (عہد لینے کے بعد) پوچھا کہ بھلا تم نے اقرار کیا اور اس اقرار پر میرا ذمہ لیا (یعنی مجھے ضامن ٹہرایا) انہوں نے کہا (ہاں) ہم نے اقرار کیا (خدا نے) فرمایا کہ تم (اس عہد وپیمان کے) گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں

وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاق النَّبِيّٖنَ : یعنی اللہ نے ہر نبی سے پختہ وعدہ لے لیا تھا کہ اپنے بعد آنے والے نبی کی تصدیق کرنا اور اپنی امت کو بھی حکم دینا کہ وہ آنے والے نبی کی پیروی کریں حضرت ابن عباس نے جو تشریح کی ہے اس کا یہی مطلب ہے۔ لیکن حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ نے فرمایا : کہ آدم اور آدم کے بعد ہر نبی سے اللہ نے وعدہ لے لیا تھا کہ تم اور تمہاری امت محمد ﷺ کی تصدیق کرنا اور اگر تمہاری زندگی میں محمد ﷺ کی بعثت ہوجائے تو تم سب ان کی مدد کرنا (گویا حضرت ابن عباس ؓ کے قول پر رسول سے عام پیغمبر مراد ہیں اور حضرت علی کی تشریح پر صرف رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک مراد ہے) ۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ میثاق النبیین سے میثاق اہل کتاب مراد ہے یعنی بنی اسرائیل سے اللہ نے عہد لے لیا تھا اس صورت میں یا مضاف محذوف مانا جائے گا یعنی میثاق اولاد النبیین یا بطور استہزاء میثاق اہل کتاب کو میثاق انبیاء فرمایا کیونکہ اہل کتاب کا خیال تھا کہ ہم اہل کتاب ہیں ہم محمد سے زیادہ نبوت کے مستحق ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ میثاق کی اضافت فاعل کی طرف ہے انبیاء نے اپنی امتوں سے عہد لیا تھا اس توجیہ کی تائید حضرت ابن مسعود اور حضرت ابی بن کعب کی قراءت کی قراءت سے ہوتی ہے ان دونوں حضرات میں میثاق الذین اوتوا الکتاب ہے (النبیین نہیں ہے) مگر صحیح مطلب وہی ہے جو سب سے پہلے بیان کردیا گیا وہی متواتر قراءت کے موافق ہے پس اللہ نے حضرت موسیٰ سے عہد لیا تھا کہ تم خود عیسیٰ کی تصدیق کرو اور اپنی امت کو بھی حکم دو کہ وہ عیسیٰ پر ایمان لائے حضرت عیسیٰ سے بھی عہد لیا تھا کہ تم خود محمد ﷺ کی تصدیق کرو اور اپنی امت کو بھی حکم دو کہ وہ بھی ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں اسی لیے تو حضرت عیسیٰ نے کہا تھا۔ یا بنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التورات و مبشر ا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد پھر قراءت ابن مسعود اور قراءت متواترہ میں کوئی تضاد بھی نہیں ہے کیونکہ لیڈر کا عہد اس کے متبعین کا عہد ہوتا ہے (جب انبیاء سے عہد لے لیا تو بس ان کی امتوں سے بھی لے لیا) لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ : حمزہ کی قراءت میں لام جارہ مک سورة ہے اور یا مصدریہ یا موصولہ متواتر قراءت فتح لام کے ساتھ ہے لام تمہید قسم کے لیے ہے کیونکہ میثاق لینے کا معنی ہی قسم لینا ہے اس صورت میں ما شرطیہ ہے اور لَتُؤمِنُنَّ بِہٖ جواب قسم بھی ہے اور جزاء شرط بھی۔ اس وقت مطلب اس طرح ہوگا کہ اللہ نے پیغمبروں سے قسم لے لی تھی کہ اگر میں تم کو کتاب عطا کروں پھر اس کتاب کی تصدیق کرنے والا رسول تمہارے سامنے آجائے تو تم اس کی تصدیق کرنا۔ یا مَا موصولہ ہے اور مِنْ کتابٍ اس کا صلہ ہے اور لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ ۔۔ خبر ہے یعنی اللہ نے انبیاء سے عہد لیا تھا کہ جو کتاب میں نے تم کو دی۔۔ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ : حکمت سے مراد ہے سنت یا دین کی سمجھ۔ ثُمَّ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ : مَا مَعَکُمْ سے مراد کتاب بعض علماء کے نزدیک رسول سے صرف رسول اللہ کی ذات مراد ہے کیونکہ تمام انسانوں کے لیے آپ ہی کی بعثت ہوئی تھی حضرت ابن عمر کے قول سے یہی مطلب اخذ کیا گیا اور حضرت علی کے کلام میں تو اس کی صراحت ہے۔ میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ لفظ عام ہے تعیین کی کوئی دلیل نہیں ہے کذشتہ امتیں ہوں یا آنے والی سب کے لیے تمام انبیاء پر ایمان لانا واجب ہے اور لا نفرق بین احد من رسلہ کہنا لازم ہے (دین کی وحدت اور عدم تفرق کے متعلق) اللہ نے فرمایا : شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرَاھِیْمَ وَ مُوْسٰی و عِیْسٰی اَنْ اَقِیْمُوْا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ حضرت علی اور حضرت ابن عمر ؓ کے قول میں رسول اللہ کے ذکر کی خصوصیت صرف اہل کتاب کو قائل کرنے کے لیے ہے کیونکہ اہل کتاب سے کلام صرف رسول اللہ کے متعلق تھا کسی دوسرے پیغمبر کے متعلق نہ تھا لیکن اس خصوصیت کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ رسول اللہ کے علاوہ اس جگہ کوئی دوسرا پیغمبر مراد ہی نہیں ہے یہ بھی ممکن ہے کہ رسول اللہ کے متعلق خاص طور پر اخذ میثاق آپ کی فضیلت کے اظہار کے لیے ہو مُصَدِّقًَا لِّمَا مَعَکُمْ کے لفظ ہیں اس طرف اشارہ ہے کہ اس رسول کی تکذیب سے کتاب سابق کی تکذیب لازم آتی ہے۔ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ : تم ضرور اس رسول کی تصدیق کرنا۔ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ : اور اگر تم کو اس کا زمانہ مل جائے تو خود اس کی مدد کرنا اور اگر وہ تمہارے زمانہ میں نہ آئے تو اپنے متبعین کو نصیحت کردینا کہ جو اس کے زمانہ میں ہو وہ مدد کرے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اللہ نے آدم کی پشت سے (تمام) ذریات کو برآمد کیا جن میں انبیاء چراغوں کی طرح 1 ؂ تھے اور سب سے محمد ﷺ کے بارے میں میثاق لیا۔ قَالَ : وَ اِذْ اَخَذَ اللہ۔۔ سے پہلے اگر لفظ اُذْکُرْ محذوف قرار دیا جائے تو پورا جملہ اِذْ اخذ اللہ اس کا مفعول ہوگا ورنہ قال کا مفعول ہوگا یاقال علیحدہ جملہ ہے جس میں میثاق لینے کی تفصیل ظاہر کی گئی ہے۔ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰي ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ ۭ : اللہ نے فرمایا : کیا تم نے اقرار کرلیا اور اپنے اس اقرار پر میرا عہد لے لیا۔ یہ استفہام (سوالیہ نہیں ہے بلکہ) تقریری ہے 2 ؂۔ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا ۭ : انبیاء نے یا انبیاء اور ان کی امتوں نے بروز میثاق کہا ہم نے اقرار کیا۔ قَالَ فَاشْهَدُوْا : اللہ نے پیغمبروں سے فرمایا تم اپنے اور اپنے متبعین کے اس اقرار کی قیامت کے دن شہادت دینا۔ وَاَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ : اور میں بھی تمہارے اور ان کے اقرار پر تمہارے ساتھ شہادت دوں گا۔
Ayah 3:82

فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 3:82 in the Quran reader

تو جو اس کے بعد پھر جائیں وہ بد کردار ہیں

فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ : اب اس اقرار کے بعد جس نے پیغمبروں کے اتباع سے اپنا رخ پھیرا۔ یہ رخ پھیرنے والے یہود و نصاریٰ ہیں۔ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ : پس وہی ایمان سے خارج یعنی کافر ہیں یہ آیت صراحتًابتا رہی ہے کہ انبیاء اور ان کی امتوں سے سب سے عہد لیا گیا تھا مگر پیشواؤں کے ذکر کے بعد متبعین کے ذکر کی ضرورت نہ تھی اسلئے پیشواؤں ہی کے ذکر پر اکتفا کیا۔