3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 3:180

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 3:180 in the Quran reader

جو لوگ مال میں جو خدا نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے بخل کرتے ہیں وہ اس بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں۔ (وہ اچھا نہیں) بلکہ ان کے لئے برا ہے وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا۔ اور آسمانوں اور زمین کا وارث خدا ہی ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہوخدا کو معلوم ہے

و لا یحسبن الذین یبخلون بما اتھم اللہ من فضلہ ھو خیرا لھم جو لوگ خدا داد مال میں بخل کرتے ہیں یعنی زکوٰۃ نہیں دیتے وہ بخل کو اپنے لیے بہتر نہ سمجھیں۔ الذین یبخلون کا فاعل ہے اور مفعول اوّل محذوف ہے اور مفعول دوئم خیراً ہے اور ھُوَ ضمیر فصل ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ھُوَ کو مفعول اوّل کے قائم مقام قرار دیا جائے۔ بہر صورت مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ نے مال دیا ہے اور وہ زکوٰۃ نہیں دیتے وہ اللہ کی اس عطا کو یا خداداد مال کو یا بخل کو اپنے لیے بہتر نہ سمجھیں۔ ما اٰتاھم اللہ سے خداداد مال مراد لینا اولیٰ ہے کیونکہ آگے آیا ہے کہ جس چیز میں انہوں نے بخل کیا تھا اس کا ان کی گردنوں میں طوق ڈالا جائے گا (لہٰذا مناسب یہ ہے کہ وہی چیز مراد لی جائے جو اللہ نے عطا فرمائی اور بخیلوں نے اس کی زکوٰۃ نہ دی ) ۔ بل ھو شر لھم بلکہ وہ بخل یا عطاء خدا یا مال جو خدا نے دیا ہے ان کے لیے برا ہے۔ سیطوقون ما بخلوا بہ یوم القیامۃ جس چیز کی انہوں نے زکوٰۃ نہیں دی قیامت کے دن اس کا طوق ان کو پہنایا جائے گا۔ اس آیت کا نزول زکوٰۃ نہ دینے والوں کے حق میں ہوا حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت ابو وائل شعبی اور سدی ؓ کا یہی قول ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں۔ کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس کو اللہ نے مال دیا اور اس نے اس کی زکوٰۃ نہ دی تو قیامت کے دن اس کے مال کو ایسے سانپ کی شکل پر کردیا جائے گا جو گنجا ہوگا اور اس کی آنکھوں کے اوپر دو سیاہ دھبے ہوں گے۔ قیامت کے دن وہ سانپ زکوٰۃ نہ دینے والے کی گردن کا طوق ہوجائے گا اور اس کی دونوں بانچھیں پکڑ کر کہے گا میں تیرا مال ہوں میں تیرا بےزکوٰۃ خزانہ ہوں، اس کے بعد حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : و لا یحسبن الذین یبخلون۔۔ (رواہ البخاری) حضرت ابوذر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو آدمی بھی ایسا ہو کہ اس کے پاس اونٹ یا گائے بھینس یا بکریاں ہوں اور وہ ان کا فرض (زکوٰۃ) ادا نہ کرے تو قیامت کے دن یہ جانور بہت ہی جسامت اور فربہی کے ساتھ سامنے آئیں گے اونٹ اپنے موزوں سے اس کو روندیں گے اور گائیں بکریاں اس کو سینگوں سے ماریں گی۔ جب پچھلی قطار (روندتی اور مارتی) اس پر پہنچے گی تو (گھوم کر) اوّل قطار آپہنچے گی۔ یہ روندنے اور مارنے کا سلسلہ اس وقت تک قائم رہے گا کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) عطیہ کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول آیا ہے کہ اس آیت کا نزول یہودی علماء کے حق میں ہو اجو رسول اللہ ﷺ کے خصوصی احوال اور نبوت (جن کا اظہار تورات میں کیا گیا تھا) کو چھپاتے تھے۔ بخل سے مراد ہے علم کو پوشیدہ رکھنا اور سیطوقون ما بخلوا بہ کا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنے گناہ اور جرائم کا بار اٹھائیں گے۔ و اللہ میراث السموات والارض آسمان و زمین کی وراثت اللہ ہی کو حاصل ہے یعنی مخلوق کے فنا ہونے کے بعد اللہ باقی رہنے والا ہے۔ سب مرجائیں گے مال چھوڑ جائیں گے اللہ جس کو چاہے گا ان کا مال دے گا خواہ وارث ہوں یا غیر اور مرنے والوں کی گردن پر اس کا عذاب رہے گا اور (مرتے وقت) مال چھوڑ جانے کی حسرت ہوگی پھر کیا وجہ ہے کہ وہ بخل کرتے ہیں اور راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے۔ وا اللہ بما تعملون خبیر اور اللہ تمہارے اعمال سے خبردار ہے کئے کا بدلہ ضرور دے گا۔ محمد بن اسحاق ‘ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ نے حضرت ابوبکر صدیق کو ایک تحریر دے کر بنی قینقاع کے یہودیوں کے پاس بھیجا اور تحریر میں ان کو اسلام لانے نماز پڑھنے زکوٰۃ ادا کرنے اور اللہ کے لیے قرضۂ حسنہ دینے کی دعوت دی حسب الحکم ایک روز حضرت ابوبکر یہودیوں کے مدرسہ میں گئے وہاں آپ نے دیکھا کہ بہت سے یہودی ایک شخص کے پاس جمع ہیں یہ شخص فخاض بن عازوراء تھا جو یہودیوں کے علماء میں سے تھا اور اس کے ساتھ ایک اور عالم بھی تھا جس کا نام اشیع تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فخاض سے فرمایا : اللہ سے ڈرو اور مسلمان ہوجاؤ خدا کی قسم تم خوب جانتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں جوا اللہ کی طرف سے حق کے ساتھ آئے ہیں ان کا ذکر تمہارے پاس تورات میں لکھا ہوا موجود ہے لہٰذا ان پر ایمان لے آؤ ان کی تصدیق کرو اور اللہ کو قرض حسنہ دو اللہ تم کو جنت میں داخل کرے گا اور دوہرا ثواب دے گا۔ فخاض نے کہا ابوبکر تم کہتے ہو کہ ہمارا رب ہم سے ہمارا مال قرض مانگتا ہے قرض تو فقیر غنی سے مانگتا ہے پس اگر تمہاری بات صحیح ہے تو اللہ فقیر ہوا اور ہم غنی۔ اللہ تم کو تو سود (دینے) سے منع کرتا ہے اور خود ہم کو دے گا اگر وہ غنی بھی ہو تب بھی ہم کو سود نہیں دے گا۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر ؓ کو غصہ آیا اور فخاص کے منہ پر آپ نے ایک زور دار ضرب رسید کی اور فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر ہمارا تجھ سے معاہدہ نہ ہوتا تو اللہ کے دشمن میں تیری گردن مار دیتا۔ فخاض رسول اللہ کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا دیکھو محمد ﷺ تمہارے ساتھی نے میرے ساتھ کیسی حرکت کی۔ حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ سے فرمایا : تم نے ایسی حرکت کس وجہ سے کی ؟ حضرت ابوبکر نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس دشمن خدا نے بہت بڑی بات کہی تھی اس نے کہا تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ مجھے یہ سن کر غصہ آیا اور میں نے اس کے منہ پر مارا۔ فخاض نے حضرت ابوبکر کے اس قول کا انکار کردیا (اور حضرت ابوبکر ؓ کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا) اس پر اللہ نے فخاض کے قول کی تردید اور حضرت ابوبکر کی تصدیق میں مندرجہ ذیل آیت نازل فرمائی۔ (کذا قال عکرمہ والسدی و مقاتل)
Ayah 3:181

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 3:181 in the Quran reader

خدا نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے۔ اور ہم امیر ہیں۔ یہ جو کہتے ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے۔ اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے ہیں اس کو بھی (قلمبند کر رکھیں گے) اور (قیامت کے روز) کہیں گے کہ عذاب (آتش) سوزاں کے مزے چکھتے رہو

لقد سمع اللہ قول الذین قالوا ان اللہ فقیر و نحن اغنیاء بیشک اللہ نے ان لوگوں کی بات سنی جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اللہ فقیر ہے ہم سے قرض مانگتا ہے یہ بات یہودیوں نے اس وقت کہی تھی جب آیت : من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا نازل ہوچکی تھی اس پر آیت : لقد سمع اللہ نازل ہوئی حسن نے فرمایا فرمایا : کہ اس کلام کا قائل حیی بن اخطب تھا۔ سنکتب ما قالوا ہم لکھتے ہیں ان کے قول کو یعنی اعمال نامے لکھنے والے فرشتے ہمارے حکم سے لکھ لیتے ہیں اسی کی مثل ہے آیت : وَ اِنَّا لَہٗ کَاتِبون ہم یعنی ہمارے فرشتے اس کو بلاشبہ لکھ لینے والے ہیں۔ و قتلھم الانبیاء بغیر حق اور انکے قتل کردینے کو انبیاء کو ناحق۔ یعنی انکے اسلاف نے جو انبیاء کو ناحق قتل کیا تھا اور انہوں نے اپنے اسلاف کے اس فعل کو پسند کیا انکی اس پسندیدگی اور خوشنودی کو ہم لکھتے ہیں قتل انبیاء کو قول مذکور کے ساتھ لا کر بیان کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ یہ بیہودہ قول ان کا پہلا ہی جرم نہیں ہے۔ (بلکہ اس سے پہلے یہ قتل انبیاء جیسے سخت جرم کرچکے ہیں) و نقول اور قیامت کے دن ان کے قول و فعل کی پاداش میں ہم ملائکہ کی زبانی کہیں گے کہ ذوقوا عذاب الحریق آتش سوزاں کے عذاب کو چکھو حریق بمعنی محرق ہے یعنی جلانے والی آگ۔ جیسے عذابٌ الیمٌ میں الیم بمعنی مولم (دکھ رساں) ہے یا عذاب الحریق میں اضاف بیانیہ ہے (موصوف کی صفت کی جانب اضافت ہے) یعنی جلانے والا عذاب۔ یہ قول ان سے اس وقت کہا جائے گا جب ان کو آگ میں ڈالا جائے گا۔ ذوق کا معنی ہے کسی مزہ کا احساس، مجازً ا تمام محسوسات کے احساس کو ذوق کہہ لیا جاتا ہے چونکہ یہودی اپنے زیر دستوں سے رشوت کھاتے تھے اس مناسبت کی وجہ سے ان کی پاداش میں لفظ ذوق ذکر کیا۔
Ayah 3:182

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ Open ayah 3:182 in the Quran reader

یہ ان کاموں کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھ آگے بھیجتے رہے ہیں اور خدا تو بندوں پر مطلق ظلم نہیں کرتا

ذالک بما قدما ایدیکم یہ عذاب ان اعمال کی سزا میں ہے جو تم نے پہلے کیے تھے یعنی قتل انبیاء اور دوسرے گناہ۔ اَیْدَی (ید کی جمع۔ ہاتھ) بول کر اشخاص اور نفوس مراد لئے کیونکہ اکثر حسی افعال ہاتھوں سے ہی ہوتے ہیں اور دل کے کاموں کا اظہار ہاتھوں اور پاؤں کی حرکات سے ہی ہوتا ہے۔ و ان اللہ لیس بظلام للعبید اور یہ عذاب تم پر اس وجہ سے بھی ہے کہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ ا اللہ ظالم نہیں اور نفی ظلم کے لیے عدل لازم ہے اور عدل کا تقاضا ہے کہ نیک کو ثواب اور بد کو عذاب دیا جائے پس اللہ کے ظالم نہ ہونے کا تقاضا ہے کہ کافروں کو عذاب دیا جائے۔ ایک شبہ پر مسلک اشاعرہ ظلم کی نفی اللہ کی ذات کے لیے لازم ہے کیونکہ ظلم قبیح لذاتہ ہے اور تمام بری باتوں سے اللہ کا پاک ہونا ضروری ہے اور نفی ظلم عدل کو مستلزم ہے اور عدل کے لیے لازم ہے کہ نیک کو ثواب اور گناہگار کو عذاب دیا جائے۔ پس فرمانبردار کو ثواب اور نافرمان کو عذاب دینا اللہ پر لازم قرار پایا اور یہ اشاعرہ کے مسلک کے خلاف ہے جو اللہ پر کسی چیز کو لازم قرار نہیں دیتے (بلکہ اللہ کو مختار کل جانتے ہیں) بلکہ یہ بعینہٖ معتزلہ کا مسلک ہے۔ جواب لغت میں ظلم کا معنی ہے کسی چیز کو اس کی مخصوص جگہ کے علاوہ دوسری جگہ رکھنا خواہ کمی بیشی کے ساتھ یا زمان و مکان کے تبدل و تغیر کے سبب اور چونکہ بار گاہ الوہیت میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ورنہ مالک کی اجازت کے بغیر اس کی ملک میں تصرف لازم آئے گا یا حکم کے خلاف خود کرنا لازم آئے گا اور یہ ظاہر ہے کہ اگر بغیر کسی جرم کے اللہ سارے جہان کو عذاب دے تب بھی یہ ظلم نہ ہوگا کیونکہ وہ مالک مطلق ہے اپنی ملک میں جس طرح چاہے تصرف کرسکتا ہے لہٰذا اس کے لیے اس کے کسی فعل کو ظلم کہا ہی نہیں جاسکتا (اور جب اس کی شان میں ظلم کا تصور ہی ممکن نہیں تو ناممکن چیز کی نفی کا کوئی معنی نہیں کیونکہ قضیہ موجبہ کے لیے تو وجود موضوع کی یا ثبوت موضوع کی یا تقرر موضوع کی ضرورت ہے اور سالبہ اگرچہ ثبوت موضوع کا محتاج نہیں مگر بوقت حکم تصور موضوع بہر حال لازم ہے ورنہ نفی کس چیز کی ہوگی) پس اس جگہ لفظ ظلم کا استعمال حقیقی معنی میں نہیں ہے بلکہ نفی ظلم سے مراد یہ ہے کہ جو فعل بندوں کے باہمی معاملات میں ظلم کہلاتا ہے اگرچہ اللہ سے اس کا صدور ظلم نہیں مگر اللہ اس سے بھی پاک ہے اور نفی ظلم بایں معنی اللہ کے لیے لازم نہیں ( یعنی جو عمل بندوں کے باہمی معاملات میں ظلم کہلاتا ہے اس کی نفی بھی خدا کے لیے لازم ہو یہ ضروری نہیں کیونکہ حقیقت میں اس کا اللہ سے صدور ظلم ہی نہیں ہے پس اس کی نفی کیسے واجب ہوجائے گی) بلکہ اس ظلم کا بھی خدا سے صادر نہ ہونا محض اس کی مہربانی پر مبنی ہے۔ یہ بھی جواب ہوسکتا ہے کہ انبیاء پر ظلم کرنے والوں اور تکذیب کرنے والوں اور انبیاء کو قتل کرنے والوں سے انتقام لینا اگرچہ خدا پر واجب نہیں مگر انتقام نہ لینا صورۃً ظلم معلوم ہوتا ہے کیونکہ انبیاء اللہ کا جو فضل و کرم ہے اس کا تقا ضا یہ ہے کہ انبیاء کے قاتلوں سے انتقام لیا جائے اور ان کو سزا دی جائے پس انتقام نہ لیناصورۃً ظلم ہے اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ( لہٰذا انبیاء کا انتقام وہ ضرور لے گا اور انکے قاتلوں کو عذاب دے گا) اس صورت میں عبید سے مراد ہوں گے انبیاء اور اس لفظ سے انبیاء کی مدح مستفاد ہوگی کہ وہ عبدیت اور فرمان پذیری میں باختیار خود اور بالارادہ اتنے کامل ہیں جیسے دوسری بےعقل چیزیں بلا ارادہ صرف طبعاً فرمان پذیری پر مجبور ہیں۔ اس آیت میں ایک نازک توجیہ اور بھی ہے آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ کافر عذاب کے اتنے مستحق ہیں کہ اگر اللہ ان کو عذاب نہ دے تو ان پر ظلم اور ان کی حق تلفی ہوگی پس گویا اس طرز کلام سے کافروں پر عذاب ہونے کو مؤکد طور پر ظاہر کردیا۔
Ayah 3:183

اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:183 in the Quran reader

جو لوگ کہتے ہی کہ خدا نے ہمیں حکم بھیجا ہے کہ جب تک کوئی پیغمبر ہمارے پاس ایسی نیاز لے کر نہ آئے جس کو آگ آکر کھا جائے تب تک ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمہارے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے اور وہ (معجزہ) بھی لائے جو تم کہتے ہو تو اگر سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟

الذین قالوا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کہا کلبی نے بیان کیا ہے کہ کعب بن اشرف اور مالک بن حنیف اور وہب بن یہود اور زید بن تابوت اور فخاض بن عازوراء اور حیی بن اخطب نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا محمد تم دعویٰ کرتے ہو کہ اللہ نے تم کو پیغمبر بنا کر ہمارے پاس بھیجا ہے اور تم پر کتاب اتاری ہے حالانکہ اللہ نے ہم کو تورات میں حکم دیدیا ہے کہ اگر کوئی شخص اللہ کی طرف سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرے تو تم اس پر ایمان نہ لانا تاوقتیکہ وہ ایسی قربانی تمہارے سامنے نہ لے آئے جس کو آگ (خود بخود آسمان سے اتر کر) کھالے پس اگر تم ایسی قربانی پیش کردو گے تو ہم تمہاری تصدیق کریں گے اور ایمان لے آئیں گے اس پر اللہ نے آیت الذین قالوا۔۔ نازل فرمائی۔ ان اللہ عھد الینا کہ اللہ نے تورات میں ہم کو حکم دیدیا ہے اور ہدایت کردی ہے۔ الا نومن لرسول کہ جو شخص بھی اللہ کی طرف سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرے ہم اس کی تصدیق نہ کریں۔ حتی یاتینا بقربان تاکلہ النار تاوقتیکہ وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ لائے جس کو (آسمانی) آگ کھاجائے۔ قربان بروزن فعلان قربت سے مشتق ہے۔ اصل لغت میں ایسی چیز کو کہتے ہیں جس کو پیش کرکے بندہ اللہ کے قرب کا جو یاں ہوتا ہے خواہ کوئی ذبیحہ ہو یا صدقہ یا نیک عمل پھر استعمال میں صرف اس ذبیحہ پر اطلاق ہونے لگا جس کو اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے لوگ پیش کرتے تھے قربانیاں اور مال غنیمت بنی اسرائیل کے لیے خود کام میں لانا درست نہیں تھا اس لیے جب کوئی قربانی کرتے یا مال غنیمت پاتے تھے تو اللہ کے لیے پیش کرتے تھے۔ (اور قبول یا عدم قبول کی یہ شکل ہوتی تھی کہ) آسمان سے ایک آگ سفید بےدود آتی تھی جس کے آنے سے ایک گونج اور گڑگڑاہٹ کی آواز ہوتی تھی اور آخر اس قربانی کو کھا جاتی تھی یہ قبول ہونے کی علامت تھی اور اگر آگ نہ آتی اور وہ قربانی اصلی حالت پر رہ جاتی تو نا مقبول سمجھی جاتی۔ سدی کا بیان ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ اگر کوئی شخص اللہ کی طرف سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرے تو تم اس کی تصدیق نہ کرنا تاوقتیکہ وہ ایسی قربانی نہ پیش کرے جس کو آگ کہا جائے ہاں مسیح اور محمد اگر آئیں تو تم ان پر ایمان ضرور لانا وہ قربانی پیش نہیں کریں گے۔ (اسی بناء پر) اللہ نے بنی اسرائیل کے قول کے خلاف دلیل قائم کرتے ہوئے فرمایا۔ قل قد جاء کم رسل من قبلی بالبینات و بالذی قلتم اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اے گروہ یہود ! مجھ سے پہلے بہت پیغمبرکھلے کھلے معجزات تمہارے پاس لے کر آئے اور جس قربانی کو تم کہہ رہے ہو وہ بھی انہوں نے پیش کی یعنی زکریا اور یحییٰ وغیرہ دوسرے انبیاء آئے (اور معجزات لے کر آئے اور اپنے دعویٰ کی تصدیق کیلئے انہوں نے قربانیاں بھی دیں) ۔ فلم قتلتموھم پھر تم نے ان کو کیوں قتل کر ڈالا یعنی تمہارے اسلاف نے ان کو کیوں قتل کیا اور انکے اخلاف نے جو رسول اللہ کے زمانہ میں تھے کیوں ان کی اس حرکت کو پسند کیا چونکہ رسول اللہ کے زمانہ کے یہودی اپنے اسلاف کی اس حرکت کو درست سمجھتے اور پسند کرتے تھے پس گویا یہ بھی اپنے باپ دادا کے فعل کے مرتکب ہوئے اسی لیے استفہام انکاری کا رخ حاضرین کی طرف کیا گیا۔ ان کنتم صادقین اگر تم سچے ہو اس شرط کی جزا محذوف ہے یعنی اگر تم اس قول میں سچے ہو کہ تمہارا ایمان نہ لانا اللہ کے سابق حکم کی وجہ سے ہے توبتاؤ تم زکریا اور یحییٰ وغیرہ پر کیوں ایمان نہیں لائے (انہوں نے تو قربانیاں بھی پیش کی تھیں) پس جب تم ان پر ایمان نہیں لائے تو ظاہر ہوگیا کہ تمہارا ایمان نہ لانا محض عناد اور تعصب کی وجہ سے ہے حکم خدا کی وجہ سے نہیں ہے۔
Ayah 3:184

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 3:184 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ تم کو سچا نہ سمجھیں تو تم سے پہلے بہت سے پیغمبر کھلی ہوئی نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آچکے ہیں اور لوگوں نے ان کو بھی سچا نہیں سمجھا

فان کذبوک اب اگر ان یہودیوں نے تم کو جھوٹا قرار دیا تو تم رنجیدہ نہ ہو۔ فقد کذب رسل من قبلک تم سے پہلے بھی بہت سے پیغمبروں کی تکذیب کی گئی تھی۔ اس مطلب پر فان کَذَّبُوْکَ شرط ہے اور جزاء محذوف ہے اور فقد کذب رسل اس کے قائم مقام ہے (دوسرے پیغمبروں کی تکذیب کو دیکھ کر رسول اللہ کو اپنی تکذیب پر صبر کرنا اور رنجیدہ نہ ہونا چاہئے کیونکہ پہلے سے کافروں کا دستور ہی یہ چلا آیا ہے صرف موجود الوقت کافروں ہی کی یہ حرکت نہیں ہے) پس سبب کو ذکر کرکے اصل جزاء کو حزف کردیا۔ ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو تنہا یہ آپ کی تکذیب نہیں ہے بلکہ آپ سے پہلے پیغمبروں کی بھی تکذیب ہے کیونکہ انہوں نے آپ کی بعثت کی خبر پہلے دیدی تھی (اور یہ آپ ﷺ پر ایمان نہیں لائے پس حقیقت میں انہوں نے گذشتہ پیغمبروں کی پیشین گوئیوں کو نہیں مانا) ۔ جاء وا بالبینت جو کھلے ہوئے معجزات لائے تھے۔ والزبر اور صحیفے بھی لائے تھے جیسے حضرت ابراہیم کے صحیفے۔ والکتب المنیر اور روشن کتاب بھی لائے تھے۔ جیسے توریت و انجیل۔ اوّل الذکر تفسیر پر فقد کذب سے المنیرتک رسول اللہ کے لیے پیام تسلی ہوگا کہ جیسے گذشتہ پیغمبروں نے صبر کیا آپ بھی صبر کریں اور مؤخر الذکر توجیہ پر یہ یہودیوں کی غلطی پر تنبیہ ہوگی کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو جھوٹا قرار دینا حقیقت میں ان پیغمبروں کو جھوٹا قرار دینا ہے جنہوں نے قربانیاں بھی پیش کی تھیں۔ الزُّبُر زبور کی جمع ہے زبور وہ کتاب جس میں صرف احکام ہوں یہ لفظ زَبَرْتُ الشَّئَ سے ماخوذ ہے زَبَرْت کا معنی ہے اَحْسَنْتُ ۔
Ayah 3:185

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 3:185 in the Quran reader

ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے اور تم کو قیامت کے دن تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا۔ تو جو شخص آتش جہنم سے دور رکھا گیا اور بہشت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے

کل نفس ذائقۃ الموت ہر شخص مؤمن ہو یا کافر موت کا مزہ چکھنے والا ہے 1 ؂۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حدیث میں آیا ہے جب اللہ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کو پیدا کیا تو زمین نے اللہ سے شکوہ کیا کہ میرا ایک جزلیا گیا اور اس سے آدم کو بنایا گیا اللہ نے زمین سے وعدہ کرلیا کہ جو کچھ تجھ سے لیا گیا ہے وہ تجھے واپس کردیا جائے گا۔ چناچہ جو شخص بھی جس مٹی سے بنا ہے وہ اسی مٹی میں دفن کیا جاتا ہے۔ آیت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ دنیوی زندگی اور اس کی آسائشیں اطاعت (اور اللہ کی فرمانبرداری) کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ۔ و انما توفون اجورکم یوم القیامۃ قیامت کے دن تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اچھے عمل ہوں گے اچھا بدلہ ہوگا برے عمل ہوں گے برا بدلہ ہوگا۔ پس تم کو صبر وطاعت کی جزاء ملے گی اور کافروں کو تکذیب حق کی سزا۔ لفظ توفون بتارہا ہے کہ اعمال کا کچھ بدلہ قیامت سے پہلے دنیا میں بھی ملتا ہے اللہ نے فرمایا ہے : و آتَیْنَاہُ اَجْرَہٗ فِی الدُّنْیا۔۔ ہم نے ابراہیم کو دنیا میں ان کا اجر عطا کیا اور آخرت میں وہ صالحین (کے گروہ) میں ہوگا۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : قبر جنت کے چمنوں میں سے ایک چمن ہے یا آگ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ (رواہ الترمذی) طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے یہ حدیث بیان کی ہے۔ فمن زحزح عن النار و ادخل الجنۃ فقد فاز پس جو شخص دوزخ سے دور رکھا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہ کامیاب اور با مراد ہوا۔ و ما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور اور دنیوی زندگی تو کچھ بھی نہیں مگر صرف دھوکہ کا سودا ہے متاع وہ سامان جس سے فائدہ اور نفع حاصل کیا جائے۔ غَرٌّ اور غُرُوْرٌ مصدر ہے۔ باب نصر۔ غَرَّہٗ اس کو دھوکہ دیا۔ غلط لالچ دیا۔ یا غَرُورٌجمع ہے غارٌ اس کا مفرد ہے۔ دنیا کو اس سودے سے تشبیہ دی جس کو بائع مشتری کو فریب دینے کے لیے پیش کرتا ہے تاکہ دھوکہ میں آکر خریدار اس کو خرید لے ظاہر میں تو وہ کام کی چیز نظر آتی ہے اور حقیقت میں کچھ نہیں ہوتی، دنیا بھی ایسی ہی پر فریب ہے واقع میں مکروہات اور دکھوں سے بھری ہوئی ہے اور خواب کی طرح ناپائیدار بھی ہے مگر بظاہر راحت کدہ اور مجموعہ آسائش نظر آتی ہے) ۔ قتادہ نے کہا غرورکا معنی ہے باطل دنیا ایک ایسا سامان ہے جو دوسروں کا چھوڑا ہوا ہے اور چھوٹ جانے والا عنقریب دنیا اور دنیا دار سب مٹ جائیں گے لہٰذا اس سامان میں سے تم اللہ کی فرمانبرداری کے ساتھ حسب توفیق لے لو۔ حسن بصری نے فرمایا : دنیا گھاس کی سبزی اور لڑکیوں کی گڑیوں کی طرح ہے جس کا کوئی حاصل نہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی چیزیں تیار رکھ چھوڑی ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی کے دل میں ان کا تصور آیا (حضور ﷺ نے فرمایا :) اگر تم (اس کا ثبوت) چاہتے ہو تو پڑھو : فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَاءً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ اور جنت کے اندر ایک درخت ہے۔ جس کے سایہ میں سو برس تک سوار چلتا رہے پھر بھی طے نہ کر پائے۔ اگر تم (اس کا ثبوت) چاہو تو پڑھو : وَ ظِلِّ مَّمْدُوْدٍ اور جنت کی کوڑا برابر جگہ دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے اگر تم چاہو تو پڑھو فَمَنْ زحزح عن النار و ادخل الجنۃ فقد فاز وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور (رواہ البغوی بسندہ) صحیحین میں حدیث کا پہلا ٹکڑا بما کانوا یعملون تک موجود ہے لیکن دوسرے اور تیسرے ٹکڑوں میں : اقرء وا ان شئتم ظلٍ مَمْدُوْدٍ اوراقرء وا ان شئتم فمن زحزح۔۔ نہیں ہے (صرف درخت کے سایہ کا اور جنت کے اندر کوڑا برابر جگہ کا تذکرہ ہے)
Ayah 3:186

لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ Open ayah 3:186 in the Quran reader

(اے اہل ایمان) تمہارے مال و جان میں تمہاری آزمائش کی جائے گی۔ اور تم اہل کتاب سے اور ان لوگوں سے جو مشرک ہیں بہت سی ایذا کی باتیں سنو گے۔ اور تو اگر صبر اور پرہیزگاری کرتے رہو گے تو یہ بڑی ہمت کے کام ہیں

لتبلون فی اموالکم و انفسکم تمہاری ضرور آزمائش کی جائے گی مالوں اور جانوں (کے سلسلہ) میں یعنی اوامر تکلیفیہ دے کر جیسے زکوٰۃ، صدقات، روزہ، نماز، حج اور جہاد یا تکالیف میں مبتلا کرکے جیسے (طرح طرح کی) مصیبتیں مالی تباہیاں آفات تجارتی گھاٹا، بیماریاں اور دوستوں عزیزوں کی موت۔ و لتسمعن من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم من الذین اشرکوا اذًی کَثیرا اور تم ضرور سنو گے ان لوگوں سے جن کو کتاب تم سے پہلے دی گئی اور مشرکوں سے دکھ کی باتیں بہت۔ یعنی رسول اللہ کی ہجا، دین پر طعنے ‘ مسلمانوں کے خلاف کافروں کو ترغیب اللہ نے اس بات کی اطلاع پہلے سے اس لیے دیدی کہ آئندہ ہونے والے واقعات سے وہ تنگدل نہ ہوں، صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور برداشت کرنے کے لیے تیار رہیں۔ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے اپنی مسند میں بسند حسن حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول اس واقعہ کے متعلق ہوا جو حضرت ابوبکر و فخاض یہودی کے درمیان ہوا تھا جس میں فخاض نے کہا تھا : ان اللہ فقیر و نحن اغنیاء . عکرمہ، مقاتل، کلبی اور ابن جریح کا بیان بھی اسی کی تائید کرتا ہے ان حضرات کا بیان یہ ہے کہ رسول اللہ نے حضرت ابوبکر کو بنی قینقاع کے سردار فخاض بن عازوراء کے پاس کچھ (مالی) امداد طلب کرنے کے لیے بھیجا اور ایک تحریر بھی اس کے نام لکھ دی اور حضرت ابوبکر ؓ سے فرمایا کہ میرے بغیر تیزی میں کچھ حرکت نہ کر بیٹھنا (بلکہ) واپس آجانا حضرت ابوبکر گردن میں تلوار لٹکائے فخاض کے پاس پہنچے اور اس کو نامۂ مبارک دیدیا فخاض نے خط پڑھ کر کہا اب تمہارا رب ہماری مدد کا محتاج ہوگیا۔ حضرت ابوبکر نے (یہ بےادبی کے الفاظ سن کر) تلوار کی ضرب رسید کرنی چاہی مگر حضور ﷺ کا فرمان یاد آگیا کہ واپس آجانا تیزی میں کوئی حرکت نہ کر بیٹھنا یہ سوچ کر رک گئے اور یہ آیت نازل ہوئی۔ عبد الرزاق نے بروایت زہری عبد اللہ بن کعب بن مالک کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول کعب بن اشرف کے حق میں ہوا یہ شخص اپنے اشعار میں رسول اللہ کی ہجا کرتا تھا مسلمانوں کو گالیاں دیتا تھا اور مشرکوں کو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کے خلاف بھڑکاتا تھا۔ میں کہتا ہوں یہ قصہ واقعۂ بدر کے بعد کا ہے کعب نے جب اسلامی حکومت دیکھی سرداران قریش بھی اس کی نظر کے سامنے مارے گئے تو مکہ کو خو دگیا کہ مشرکوں کو رسول اللہ سے جنگ کرنے کے لیے جمع کرے اور جب قریش نے اس سے پوچھا کہ ہمارا مذہب زیادہ ہدایت کا ہے یا محمد ﷺ کا دین تو کعب بن اشرف نے کہا تمہارا دین۔ رسول اللہ کی اجازت سے حضرت حسان ؓ نے اس کی ہجاء کی تھی۔ صحیح روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : کعب بن اشرف نے اپنے اشعار میں اللہ اور اس کے رسول کو دکھ پہنچا یا ہے اور ہمارے خلاف مشرکوں کو طاقت بہم پہنچائی ہے میرے لیے کون اس کا کام تمام کرسکتا ہے۔ محمد بن مسلمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ میں حضور کی یہ خدمت کروں گا وہ میرا ماموں ہے میں اس کو قتل کردوں گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اگر تم سے ہو سکے تو ایسا کردو۔ محمد بن مسلمہ (گھر) لوٹ کر آئے لیکن تین روز تک سوائے اتنی غذا کے کہ سانس باقی رہے نہ کچھ کھایا نہ پیا اس کا تذکرہ رسول اللہ سے کیا گیا تو آپ ﷺ نے محمد بن مسلمہ سے دریافت کیا تم نے کھانا پینا کیوں چھوڑ دیا ؟ ابن مسلمہ نے کہا یا رسول اللہ میں ایک بات کہہ تو گذرا لیکن معلوم نہیں کہ پورا بھی کرسکوں گا یا نہیں حضور ﷺ نے فرمایا : تمہارے ذمے کوشش کرنا ہے سعد بن معاذ سے مشورہ کرو۔ محمد بن مسلمہ نے سعد سے مشورہ کیا تو انہوں نے فرمایا : تم اس کے پاس جاؤ اپنی ضرورت کا اس سے شکوہ کرو اور کچھ غلہ قرض دینے کی اس سے درخواست کرو۔ غرض اس کے بعد محمد بن مسلمہ اور عباد بن بشر اور ابو نائلہ سلکان بن سلامہ جو کعب بن اشرف کے رضاعی بھائی تھے اور حارث بن عبس اور حارث بن اوس بن معاذ جو حضرت سعد بن معاذ کے بھتیجے تھے اور چچا نے ان کو بھیجا تھا اور ابو عبس بن حبر ایک جگہ جمع ہوئے اور خدمت گرامی میں عرض کیا یا رسول اللہ ہم اس کو قتل تو کردیں گے مگر آپ ہم کو اجازت دیجئے کہ آپ کے متعلق اگر کچھ (نازیبا) باتیں ہم آپس میں کہیں (تو قابل مواخذہ نہ قرار دیئے جائیں) فرمایا : جیسا سمجھو ویسا کہو تم کو آزادی ہے اس کے بعد سب نے ابو نائلہ کو آگے بھیجا۔ ابو نائلہ کعب کے پاس گئے اس سے کچھ باتیں کیں اور آپس میں شعر سنانے لگے کیونکہ ابو نائلہ بھی شعر کہا کرتے تھے (اور کعب بن اشرف بھی شاعر تھا) پھر ابو نائلہ بولے ابن اشرف میں ایک کام سے تیرے پاس آیا تھا میں اس کا ذکر تو تجھ سے کرتا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ ظاہر نہ کرنا ابن اشرف نے کہا بیان کرو۔ ابو نائلہ نے کہا ہمارے ملک میں اس شخص کا آنا ہمارے لیے مصیبت بن گیا ہے تمام عرب ہمارا دشمن ہوگیا اور ہمارے مقابلہ میں ایک کمان بن گیا ہمارے (سفر کے) راستے سارے کٹ گئے یہاں تک کہ بال بچے بھوکے مرنے لگے اور ہم سخت دشواریوں میں پڑگئے کعب نے کہا میں نے تو تم کو پہلے ہی بتادیا تھا کہ آخر یہی ہوگا، ابو نائلہ نے کہا میرے ساتھ میرے کچھ ساتھی ہیں ہم سب چاہتے ہیں کہ تم ہمارے ہاتھ کچھ غلہ فروخت کردو (اور قیمت کے عوض اس وقت) ہم تمہارے پاس کچھ رہن رکھ دیں گے اور تمہارا اعتماد کرا دیں گے تم ہم سے اتنا سلوک کردو کعب نے کہا اپنے بچے میرے پاس رہن رکھد و ابو نائلہ نے کہا ہم کو شرم آتی ہے کہ اپنی اولاد کو گروی ہونے کی عار میں مبتلا کریں کہ آئندہ لوگ کہیں یہ ایک وسق کے عوض گروی تھا اور یہ دو وسق کے عوض۔ کعب نے کہا تو اپنی عورتیں رہن رکھدو۔ ابو نائلہ نے کہا عورتوں کو کیسے رہن رکھ دیں تم عرب کے حسین ترین شخص ہو ہم تمہاری طرف سے بےخطر نہیں ہیں۔ تمہاری خوبصورتی کو دیکھ کر کون عورت تم سے بچ سکتی ہے البتہ ہم اپنے اسلحہ تمہارے پاس رہن رکھ سکتے ہیں اور تم واقف ہی ہو کہ ہم کو اسلحہ کی کتنی ضرورت ہے۔ کعب نے کہا اچھا۔ بیشک اسلحہ پر (ادائے قیمت کا) پورا اعتماد ہے۔ ابو نائلہ نے چاہا کہ کعب ہتھیاروں کو دیکھ کر کہیں انکار نہ کردے اسلئے اس سے دوبارہ آنے کا وعدہ کرکے لوٹ آئے اور اپنے ساتھیوں کو آکر اطلاع دیدی سب نے باتفاق رائے طے کرلیا کہ شام کو مقررہ وعدہ کے مطابق کعب کے پاس جائیں گے پھر رات کو آکر رسول اللہ کو اس تدبیر اور گفتگو کی اطلاع دیدی۔ محمد بن اسحاق اور امام احمد نے بسند صحیح حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ان لوگوں کو رخصت کرنے بقیع غرقد تک ان کے ساتھ گئے پھر ان کو بھیج کر فرمایا : جاؤ اللہ کے نام پر۔ اے اللہ ان کی مدد فرما۔ اس کے بعد آپ ﷺ چاندنی رات میں جو دن کی طرح تھی اپنے گھر لوٹ آئے یہ چاندنی ماہ ربیع الاوّل کی چودھویں رات کی تھی۔ ادھر وہ لوگ چلے گئے اور رات کو ابن اشرف کی گڑھی پر پہنچے ساتھیوں سے ابو نائلہ نے کہا میں کعب کے سر کے بال ہاتھ سے بٹوں گا اور جب تم دیکھو کہ میں نے اس کے سر کے بال مضبوطی سے قابو میں کرلیے تو اپنا کام کرنا اور تلواروں سے اس پر حملہ کرنا۔ گڑھی کے پاس پہنچ کر ابو نائلہ نے آواز دی۔ ابن اشرف کی شادی نئی نئی ہوئی تھی آواز سن کر وہ چادر لپیٹے ہی اٹھ کھڑا ہوا۔ بیوی نے چادر کا کونا پکڑ لیا اور کہنے لگی آپ جنگی آدمی ہیں اور جنگی آدمی ایسے وقت نہیں اترا کرتے (اس وقت باہر نکلنے میں آپ جیسے لوگوں کے لیے خطرہ ہے) میں ایسی آواز سن رہی ہوں جس سے خون ٹپک رہا ہے آپ گڑھی کے اوپر سے ہی ان سے گفتگو کرلیں۔ کعب نے کہا میں نے وعدہ کرلیا ہے اور یہ تو میرا بھانجہ محمد بن مسلمہ اور رضاعی بھائی ابو نائلہ ہے اگر یہ لوگ مجھے سوتا پائیں گے تو بیدار کرلیں گے اور شریف آدمی کو اگر رات میں نیزوں کی طرف بھی بلایا جائے تو وہ قبول کرتا ہے غرض کعب چادر گلے میں ڈالے نیچے اتر آیا چادر سے خوشبو مہک رہی تھی تھوڑی دیر تک ان لوگوں سے باتیں کرتا رہا کچھ دیر ہوگئی تو ان لوگوں نے کہا ابن اشرف چلو شعب عجوز تک ٹہلتے ہوئے چلیں وہاں پہنچ کر باقی رات باتیں کریں گے کعب نے کہا اگر چاہتے ہو تو چلو سب پیدل ٹہلتے ہوئے چلد ئیے کچھ دیر ہی چلے تھے کہ ابو نائلہ نے کہا مجھے تمہاری طرف سے خوشبو کی مہک آرہی ہے کعب نے جواب دیا فلاں عورت جو عرب کی عورتوں میں سب سے زیادہ معطر رہنے والی ہے میری بیوی ہے ابونائلہ نے کہا کیا مجھے سونگھنے کی اجازت ہے کعب نے کہا ہاں ابو نائلہ نے اپنا ہاتھ کعب کے سر کے بالوں میں ڈالا پھر اپنے ہاتھ کو سونگھا اور کہا آج کی رات کی طرح میں نے (کبھی کوئی) خوشبو نہیں سونگھی۔ کعب حسین اور گھونگریالے بالوں والا شخص تھا۔ مشک کو پانی میں گھس کر اور عنبر ملا کر دونوں کنپٹیوں پر گوند کی طرح جما لیا کرتا تھا ابونائلہ کچھ دیر اور چلتے رہے پھر لوٹ کر وہی عمل کیا جو پہلے کیا تھا یہاں تک کہ کعب کو پورا مطمئن کردیا اور ابو نائلہ کا ہاتھ کعب کے بالوں میں پھرنے لگا آخر کار لوٹ کر اس کے سر کی لٹیں پکڑ لیں اور خوب قابو میں لے کر اپنے ساتھیوں سے کہا دشمن خدا کو مار و۔ فوراً تلواریں چلیں مگر کچھ نتیجہ نہ نکلا محمد بن مسلمہ کا بیان ہے کہ مجھے ایک خنجر یاد آیا جو تلوار (کی نیام) میں میں نے رکھا تھا فوراً میں نے وہ خنجر ہاتھ میں لے لیا دشمن خدا نے ایک زور کی چیخ ماری چیخ کے ساتھ ہی ہمارے گردا گرد جتنی گڑھیاں تھیں سب پر آگ روشن کردی گئیں۔ میں نے خنجر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا اور خنجر پر دباؤ ڈال کر پیڑوں کی ہڈی تک پہنچا دیا اور اللہ کا دشمن گرپڑا۔ ابن سعد کی روایت میں آیا ہے کہ ابو عبس نے کعب کے پہلو میں برچھا مارا پھر ان لوگوں نے اس کا سر کاٹ لیا حارث بن اوس بن معاذ کے سر پر ہماری ہی کسی تلوار سے چوٹ آگئی تھی ہم پہرہ دار یہودیوں کے ڈر سے وہاں سے نکل کر تیزی سے بھاگے مگر ہمارا ساتھی حارث بن اوس سر کی چوٹ اور خون نکل جانے کی وجہ سے پیچھے رہ گیا اور اس نے ساتھیوں کو پکار کر کہا رسول اللہ سے میرا سلام کہہ دینا۔ آواز سن کر لوگ اس کی طرف مڑے اور اٹھا لائے اور رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے چل دیئے آخر رات میں بقیع غرقد پر پہنچ کر سب نے تکبیر کہی رسول اللہ اس وقت کھڑے نماز پڑھ رہے تھے بقیع میں تکبیر کی آواز سن کر رسول اللہ نے بھی تکبیر کہی اور سمجھ گئے کہ کعب کو قتل کردیا تھوڑی دیر کے بعد وہ لوگ دوڑتے آئے تو رسول اللہ کو مسجد کے دروازہ پر کھڑا پایا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : چہرے با مراد ہوں آنے والوں نے کہا یا رسول اللہ آپ کا چہرہ بھی با مراد ہو۔ آنے والوں نے حضور ﷺ کے سامنے کعب کا سر ڈال دیا آپ نے اس کے قتل پر اللہ کا شکر کیا۔ لوگوں نے اپنے ساتھی حارث کو پیش کیا۔ حضور ﷺ نے ان کے زخم پر تھتکارا جس کی وجہ سے پھر زخم نے تکلیف نہیں دی اور لوگ اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ صبح کو رسول اللہ نے فرمایا : جو یہودی مرد تمہارے ہاتھ لگے اس کو قتل کردو۔ شغینہ ایک یہودی تاجر تھا جس کا مسلمانوں سے اختلاط تھا اور مسلمانوں سے خرید فروخت کرتا تھا محیصہ بن مسعود نے اس کو قتل کردیا محیصہ کا ایک بڑا بھائی خویصہ تھا اور اس وقت تک مسلمان نہیں ہوا تھا خویصہ نے محیصہ کو مارا اور کہا اللہ کے دشمن تو نے اس کو قتل کردیا حالانکہ خدا کی قسم تیرے پیٹ کے اندر جتنی چربی ہے اس کا بیشتر حصہ اسی کے مال سے پیدا ہوا ہے محیصہ ؓ نے کہا خدا کی قسم جس نے مجھے اس کے قتل کا حکم دیا تھا اگر وہ مجھے تیرے قتل کرنے کا حکم دیتا تو میں تیری بھی گردن مار دیتا۔ خویصہ نے کہا کہ اگر محمد ﷺ تجھے میرے قتل کا حکم دیدیں تو مجھے بھی قتل کردے گا۔ محیصہ نے کہا ہاں۔ خویصہ نے کہا جس دین نے تجھے اس حد تک پہنچا دیا۔ خدا کی قسم وہ تو عجب دین ہے اس کے بعد خویصہ بھی مسلمان ہوگیا۔ کعب کے قتل کے بعد یہودی ڈر گئے پھر ان کے بڑے لوگوں میں سے کسی نے گردن نہیں اٹھائی اور کچھ نہ بولے ان کو اندیشہ ہوگیا کہ ابن اشرف کی طرح کہیں ان کو بھی رات کو قتل نہ کردیا جائے۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ یہودی خوف زدہ ہوگئے اور رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر انہوں نے کہا ہمارے سردار کو نامعلوم طور پر قتل کردیا گیا رسول اللہ نے ان سے کعب کی حرکتوں کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ) کہ وہ کس کس طرح بھڑکاتا اور رسول اللہ سے لڑنے کی ترغیب دیتا اور حضور ﷺ کو دکھ پہنچاتا تھا اس کے بعد ان کو دعوت دی کہ رسول اللہ کے اور ان کے درمیان ایک صلح نامہ لکھ دیا جائے چناچہ صلح نامہ لکھا گیا اور وہ تحریر حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کے پاس رہی۔ مسئلہ اس قصہ سے امام شافعی نے استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی کافر رسول اللہ کو گالی دے یا آپ ﷺ کی توہین کرے یا آپ کو دکھ پہنچائے تو اس کو قتل کردینا جائز ہے خواہ وہ معاہد ہو یا غیر معاہد۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : اگر معاہد رسول اللہ کو گالی دے تو اس کو قتل کرنا ناجائز ہے کیونکہ رسول اللہ کو گالی دینا کفر ہے اور کفر سے معاہدہ کی شکست نہیں ہوتی (معاہد تو پہلے سے ہی کافر ہوتا ہے) رہا ابن اشرف کا قتل تو اس کی وجہ جواز یہ تھی کہ اس نے خود عہد شکنی کی تھی مکہ کو جا کر مشرکوں کو رسول اللہ سے لڑنے پر ابھارا تھا حالانکہ اس سے معاہدہ تھا کہ رسول اللہ کے خلاف کسی کی مدد نہیں کرے گا مگر اس نے اس کے خلاف کیا۔ مسئلہ اس قتل کو حضرت محمد بن مسلمہ ؓ اور حضرت ابو نائلہ کی غداری کہنا جائز نہیں ایک شخص نے حضرت علی کی مجلس میں ایسا کہا تھا تو آپ نے اس کی گردن مار دی تھی غداری تو امان دینے کے بعد ہوسکتی ہے مگر حضرت محمد بن مسلمہ اور آپ کے ساتھیوں نے تو کعب کو امان نہیں دی تھی صرف بیع اور رہن کی گفتگو کی تھی یہاں تک کہ اس پر قابوپالیا۔ فائدہ صحیح روایت میں آیا ہے کہ کعب سے گفتگو کرنے والے حضرت محمد بن مسلمہ تھے لیکن اکثر اہل مغازی نے لکھا ہے کہ گفتگو کرنے والے حضرت ابو نائلہ تھے دونوں روایتوں میں تطبیق کے لیے کہا جاسکتا ہے کہ دونوں حضرات نے گفتگو کی۔ و ان تصبروا اور اگر تم آزمائشوں پر صبر رکھو گے۔ و تتقوا اور اللہ کے حکم کی مخالفت سے بچتے رہو گے۔ فان ذالک من عزم الامور تو یہ صبر وتقویٰ تاکیدی احکام میں سے ہے۔ عزم مصدر بمعنی اسم مفعول ہے یعنی ان امور میں سے ہے جن پر عزم واجب ہے یا ان امور میں سے ہے جن کا اللہ نے تاکیدی حکم دیا ہے عزم کا اصل معنی ہے کسی چیز پر رائے کا جم جانا۔ عطا نے عزم الامور کا ترجمہ کیا ہے حقیقت ایمان۔ میں کہتا ہوں کہ صبر سے مراد ہے آزمائشوں کے وقت بےقرار نہ ہوجانا اور فرمانبردار رہنا اور (مصائب نازلہ پر) اعتراض نہ کرنا لیکن اگر کفار مسلمانوں کو ایذا دیں تو انتقام لینا صبر کے منافی نہیں ہے جیسے ابن اشرف کے قصہ سے واضح ہو رہا ہے۔ وا اللہ اعلم
Ayah 3:187

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ Open ayah 3:187 in the Quran reader

اور جب خدا نے ان لوگوں سے جن کو کتاب عنایت کی گئی تھی اقرار کرلیا کہ (جو کچھ اس میں لکھا ہے) اسے صاف صاف بیان کرتے رہنا۔ اور اس (کی کسی بات) کو نہ چھپانا تو انہں نے اس کو پس پشت پھینک دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت حاصل کی۔ یہ جو کچھ حاصل کرتے ہیں برا ہے

و اذ اخذا اللہ میثاق الذین اوتوا الکتاب اور یاد کرو اس وقت کو جب اللہ نے اہل کتاب سے وعدہ لیا تھا یعنی توریت کے اندر علماء اہل کتاب سے وعدہ لیا تھا۔ لتبیننہ للناس کہ لوگوں کے سامنے اس کتاب (کے احکام) کو کھول کر بیان کرنا۔ و لا تکمتونہ اور اس (کے احکام اور بیانات) کو پوشیدہ نہ رکھنا۔ فنبذوہ وراء ظھورھم پھر انہوں نے کتاب کو پس پشت پھینک دیا یعنی اس پر عمل چھوڑ دیا اور توریت کے اندر جو اوصاف محمدی کا بیان تھا اس کو پوشیدہ رکھا۔ واشتروا بہ اور اس کے (اخفاء کے) عوض انہوں نے لیا۔ ثمناقلیلا حقیر معاوضہ یعنی کچھ کھانے کی چیزیں اور رشوتیں۔ فبئس ما یشترون پس بری ہے وہ چیز جو وہ (حق کو چھپانے کے) معاوضہ میں لے رہے ہیں یعنی جو چیز وہ اپنے لیے پسند کر رہے ہیں وہ بری ہے۔ قتادہ نے کہا اللہ نے یہ عہد علماء سے لیا تھا کہ جو شخص کچھ جانتا ہو وہ دوسروں کو بتائے چھپا کر نہ رکھے۔ اخفاء علم موجب ہلاکت ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : اللہ نے اہل کتاب سے یہ عہد لیا تھا کہ میں جو کچھ تم سے بیان کروں اس کو نہ چھپانا پھر آپ نے آیت : وَ اِذْ اَخَذَ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ ۔۔ تلاوت کی، حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : اگر کسی شخص سے کوئی ایسی علم کی بات پوچھی جائے جس کو وہ جانتا ہو اور وہ چھپائے رکھے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔ (رواہ احمد و الحاکم بسند صحیح) ابن ماجہ نے یہ حدیث حضرت انس کی روایت سے نقل کی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حسن بن عمارہ نے بیان کیا کہ میں زہری کے پاس اس زمانہ میں گیا جب انہوں نے حدیث بیان کرنا چھوڑ دیا تھا۔ میں نے ان کو دروازہ پر پایا اور کہا اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھ سے کوئی حدیث بیان کریں بولے کیا تم کو معلوم نہیں کہ میں نے حدیث بیان کرنی چھوڑ دی ہے میں نے کہا یا تو آپ بیان کریں یا پھر میں آپ سے ایک حدیث بیان کروں، بولے تم بیان کرو میں نے کہا مجھ سے حکم بن عیینہ نے یحییٰ جزار کے حوالے سے بیان کیا جزار نے کہا کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ اللہ نے جاہلوں سے علم سیکھنے کا عہد اس وقت تک نہیں لیا جب تک علماء سے علم سکھانے کا وعدہ نہ لے لیا۔ پھر زہری نے مجھ سے چالیس حدیثیں بیان کیں۔ ثعلبی نے اپنی تفسیر میں یہ حدیث حارث کی سند سے ابو اسامہ کی روایت سے لکھی ہے اور مسند الفردوس میں حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ سے یہ حدیث مرفوعاً منقول ہے۔
Ayah 3:188

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:188 in the Quran reader

جو لوگ اپنے (ناپسند) کاموں سے خوش ہوتے ہیں اور پسندیدہ کام) جو کرتے نہیں ان کے لئے چاہتے ہیں کہ ان ک تعریف کی جائے ان کی نسبت خیال نہ کرنا کہ وہ عذاب سے رستگار ہوجائیں گے۔ اور انہیں درد دینے والا عذاب ہوگا

لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا و یحبون ان یحمدوا بما لم یفعلوا فلا تحسبنھم بمفازۃ من العذاب و لھم عذاب الیم جو لوگ اپنے (بد) کردار پر خوش ہوتے ہیں اور جو (اچھے) کام نہیں کئے، چاہتے ہیں کہ ان پر ان کی تعریف کی جائے سو تم ہرگز مت خیال کرنا کہ ایسے لوگ خصوصی عذاب سے بچے رہیں گے۔ (وہ نہیں بچیں گے) اور ان کو دکھ کا عذاب ہوگا۔ مَا اَتَواْ سے مراد ہے لوگوں کو گمراہ کرنا۔ فریب کاری کرنا۔ حق کو چھپانا یا عام گناہ مراد ہیں۔ مَا لَمْ یَفْعَلواْ سے مراد ہے عہد کو پورا کرنا حق کو ظاہر کرنا سچی خبر دینا اور دوسری نیکیاں۔ بد کرداری پر خوش ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی بد کرداری تکذیب نبوت کی مدد گار تھی۔ ممکن ہے کہ الَّذین یفرحون سے مراد وہ منافق ہوں جنہوں نے واقع میں دل سے تو اطاعت نہیں کی مگر دکھاوٹ کے لیے اطاعت کا اظہار کرتے تھے اور باوجودیکہ زاہد اور اللہ کے فرمانبردار نہ تھے مگر اس بات سے خوش ہوتے اور خواہش کرتے کہ ان کے زہد و اطاعت کی تعریف کی جائے اوّللا تحسبن سے خطاب رسول اللہ کو ہے اس کا پہلا مفعول الذین اور دوسرا مفعول بمفازۃ ہے اور دوسرا لا تحسبن پہلے لا تحسبن کی تاکید ہے اور جو فاعل اور اوّل مفعول پہلے لا تحسبن کا ہے وہی اس کا ہے۔ العذاب سے مراد ہے دنیا میں رسوائی، مذمت اور عدم قبول اور عذاب الیم سے مراد ہے آخرت کا عذاب۔ شیخین وغیرہ نے حمید بن عبد الرحمن بن عوف کے طریق سے اور بغوی نے بخاری کے طریق سے بروایت علقمہ بن وقاص بیان کیا کہ مروان نے اپنے دربان سے کہا جا کر ابن عباس سے دریافت کرو کہ جب ہم میں سے ہر شخص اپنے کئے پر خوش اور نا کردہ نیکی پر تعریف کئے جانے کو پسند کرتا ہے اور ایسے شخص کو عذاب دیا جانا یقینی ہے تو کیا پھر ہم سب کو عذاب دیا جائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : تمہارا آس آیت سے کیا تعلق۔ اس کا واقعہ تو یہ ہے کہ رسول اللہ نے یہودیوں کو طلب فرمایا اور کوئی بات پوچھی یہودیوں نے اصل بات چھپالی اور کوئی دوسری بات بتائی اور رسول اللہ پر ظاہر یہ کیا کہ آپ نے جو کچھ دریافت کیا تھا ہم نے وہی بتایا اور اس فعل پر انہوں نے مستحق تعریف بننا چاہا۔ لیکن اپنی جگہ پر وہ اس امر سے خوش تھے کہ ہم نے وہ بات چھپالی جو رسول اللہ ﷺ نے دریافت کی تھی اس بیان کے بعد حضرت ابن عباس ؓ نے آیت : وَ اِذْ اَخَذَ اللہ مِیْثَاقَ الَّذِیْن۔۔ بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا تک تلاوت کی۔ شیخین نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے لکھا ہے کہ کچھ منافق ایسے تھے کہ جب رسول اللہ کسی جہاد پر جاتے تھے تو وہ رہ جاتے تھے جہاد پر نہیں جاتے تھے اور اپنے بیٹھ رہنے سے خوش ہوتے تھے لیکن جب حضور واپس آتے تھے تو یہ لوگ قسمیں کھا کر معذرت پیش کرتے تھے اور نا کردہ نیکی پر تعریف کے خواستگار ہوتے تھے اس پر آیت : لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بما اتوا۔۔ نازل ہوئی۔ عبد نے اپنی تفسیر میں زیدبن اسلم کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت رافع بن خدیج اور حضرت زید بن ثابت مروان کے پاس موجود تھے مروان نے حضرت رافع سے پوچھا کہ آیت : لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بما اتوا کس بابت نازل ہوئی تھی ؟ حضرت رافع نے فرمایا : کچھ منافق ایسے تھے کہ جب رسول اللہ کسی جہاد پر جاتے تو وہ عذر معذرت کرکے ساتھ نہیں جاتے تھے اور کہتے تھے ہم دل سے چاہتے تھے کہ آپ ﷺ لوگوں کے ساتھ ہوتے مگر خاص مجبوری کی وجہ سے رکنا پڑگیا۔ انہی منافقوں کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا۔ حضرت رافع کا یہ کلام سن کر معلوم ہوتا تھا مروان کو اطمینان نہیں ہوا حضرت رافع نے گفتگو کا رخ بدل کر حضرت زید بن ثابت سے کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں کیا آپ ﷺ کو اس کا علم ہے ؟ حضرت زید نے فرمایا : ہاں (ایسا ہی ہے) حافظ ابن حجر (رح) نے لکھا ہے کہ دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح دی جاسکتی ہے کہ آیت کا نزول دونوں گروہوں (یہود اور منافقین) کے حق میں ہوا (یعنی دونوں واقعات ایک ہی زمانہ میں ہوئے اور آیت کا نزول دونوں کے متعلق ہوا۔ فراء نے بیان کیا ہے کہ یہودی کہتے تھے ہماری کتاب پہلے ہے ہم اہل الصلوٰۃ اور اہل طاعت ہیں لیکن اس کے باوجود وہ رسول اللہ کی نبوت کا اقرار نہیں کرتے تھے اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ابن ابی حاتم نے مختلف طریقوں سے تابعین کی ایک جماعت کی روایت سے بھی اسی طرح نقل کیا ہے اور ابن جریر نے اسی کو ترجیح بھی دی ہے ہوسکتا ہے کہ اس واقعہ کے متعلق بھی یہ آیت نازل ہوئی ہو کوئی وجہ مانع نہیں۔ بغوی نے عکرمہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ آیت کا نزول فخاض اور اشیع اور دوسرے علماء یہود کے متعلق ہوا جو لوگوں کو گمراہ کرنے اور علماء کہلانے سے خوش ہوتے تھے باوجودیہ کہ علماء نہیں تھے مجاہد نے کہا یہودی خوش ہوتے تھے کہ اللہ نے آل ابراہیم کو مراتب عطا فرمائے حالانکہ وہ خود اس سے بےبہرہ تھے (حضرت ابراہیم کے پیرو نہ تھے) ۔ قتادہ اور مقاتل نے کہا کہ خیبر کے یہودیوں نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر کہا ہم آپ کو پہچانتے اور تصدیق کرتے ہیں (کہ آپ نبی ﷺ موعود ہیں) اور ہم تمہارے (یعنی مسلمانوں کے) خیال سے متفق ہیں اور تمہارے مددگار ہیں مگر یہ باتیں (وہ صرف زبان سے کہتے تھے) ان کے دلوں میں نہیں تھیں جب حضور ﷺ کے پاس سے اٹھ کر باہر آئے تو مسلمانوں نے ان سے کہا تم نے خوب کہا ایسا ہی کرنا غرض مسلمانوں نے ان کی تعریف کی اور ان کے لیے دعا کی اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
Ayah 3:189

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 3:189 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کو ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

واللہ ملک السموات والارض اور اللہ ہی کی ہے حکومت آسمانوں کی اور زمین کی یعنی بارش، رزق اور زمین کی روئیدگی کے خزانے اللہ ہی کے اختیار میں ہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جیسا چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔ وا اللہ علی کل شی قدیر اور اللہ ہر چیز پر قابو رکھتا ہے پس ان کو سزا دینے کی بھی اس کو قدرت ہے۔ اس آیت میں یہودیوں کے قول ان اللہ فقیر کی تردید ہے۔ طبرانی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کی طرف اس قول کی نسبت کی ہے کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا موسیٰ کیا معجزات لے کر آئے تھے ؟ یہودیوں نے جواب دیا۔ عصاء اور ید بیضاء پھر عیسائیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا عیسیٰ کی کیا کیفیت تھی ؟ عیسائیوں نے کہا وہ مادر زاد اندھوں اور برص کی بیماری والوں کو تندرست اور مردوں کو زندہ کردیتے تھے اس کے بعد رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ کوہ صفا کو ہمارے لیے سونے کا بنا دے۔ حضور ﷺ نے دعا کی اس پر یہ آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 3:190

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ Open ayah 3:190 in the Quran reader

بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں

ان فی خلق السموات والارض بیشک آسمانوں کی اور زمین کی اور ان کے درمیانی کائنات کی تخلیق میں جو عجائب قدرت ہیں اور باوجودیکہ ذات ممکن مقتضی وجود نہیں (کیونکہ ذات امکان کی نسبت وجود و عدم دونوں سے برابر ہوتی ہے) پھر بھی اللہ نے ماہیات ممکنات پر فیضان وجود کیا (اور نیست سے ہست کیا) ۔ واختلاف اللیل والنھار اور رات ‘ دن کے تعاقب اور ترتیب کے ساتھ پر حکمت آمد و رفت میں۔ لایٰت خالق کی ہستئ کمال علمی ہمہ گیری قدرت اور ارادہ و حکمت کے ثبوت کی کھلی ہوئی دلیلیں موجود ہیں 1 ؂۔ لاولی الالباب ان لوگوں کے (جاننے اور ماننے کے) لیے جن کی دانش و فہم تو ہمات کی آمیزش سے پاک اور شیطانی وسوسوں سے منزہ ہے۔ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : افسوس ہے اس پر جو یہ (آیت) پڑھتا ہے اور اس پر غور نہیں کرتا 2 ؂۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ (ایک رات) میں رسول اللہ کے گھر سو گیا میں نے دیکھا رات کو رسول اللہ ﷺ نے بیدار ہو کر مسواک کی وضوء کیا اور آیت : اِنَّ فی خلق السموات والارض آخرت سورت تک پڑھی پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھی جس میں قیام رکوع اور سجود طویل کیا پھر واپس آکر سو گئے کہ سانس کی آواز آنے لگی پھر اسی طرح حضور ﷺ نے تین بار کیا۔ اس طرح چھ رکعتیں پڑھی اور ہر مرتبہ مسواک بھی کی اور وضوء بھی کیا اور ان آیات کی بھی تلاوت کی پھر تین وتر پڑھے 3 ؂۔