Ayah 3:191الذین یذکرون اللہ قیاماً و قعوداً و علی جنوبھمَ جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے بیٹھے اور پہلو کے بل لیٹے ہوئے۔ یہ اولی الالباب کی صفت ہے کیونکہ ذکر فکر تسبیح، استغفار، دعا تضرع اور ایمان عقلی کا تقاضا ہے جو ان صفات سے متصف نہیں وہ جانور ہے بلکہ چوپایوں سے بھی زیادہ گمراہ کیونکہ چوپائے بھی کسی نہ کسی طرح تسبیح میں مشغول رہتے ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی، حضرت ابن عباس، نخعی اور قتادہ کے نزدیک اس آیت میں ذکر سے مراد نماز ہے کھڑے ہو کر نماز پڑھے۔ کھڑا نہ ہو سکے تو بیٹھ کر پڑھے بیٹھ نہ سکے تو کروٹ سے لیٹ کر پڑھے۔ اسی آیت کی ہم مراد سورة نساء کی یہ آیت ہے : فَاِذا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوۃ فاذْکُرُوا اللہ قِیَامًا وَّ قُعُوْدًا عَلٰی جُنُوْبِکُمْ 1
حضرت عمران بن حصین ؓ نے فرمایا : مجھے بواسیر تھی میں نے رسول اللہ سے مریض کی نماز کے متعلق پوچھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کھڑا ہو کر نماز پڑھ، کھڑا نہ ہوسکتا ہو تو بیٹھ کر (پڑھ) اور بیٹھ بھی نہ سکتا ہو تو پہلو پر لیٹ کر (پڑھ) 2 ۔ نسائی نے حدیث کے آخر میں اتنا زائد نقل کیا ہے کہ اگر (کروٹ سے لیٹ کر) نہ پڑھ سکے تو چت لیٹ کر (پڑھ) اللہ کسی کو طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : مریض کھڑے ہو کر نماز پڑھے اگر (کھڑا) ہو سکے ایسا نہ کرسکے تو بیٹھ کر پڑھے پس اگر سجدہ نہ کرسکتا ہو تو اشارہ کرے اور سجدہ کا اشارہ رکوع سے زیادہ جھکا ہوا کرے اگر (بیٹھنے کی بھی) استطاعت نہ ہو تو دائیں کروٹ سے لیٹ کر قبلہ کی طرف منہ کرکے پڑھے اگر دائیں پہلو پر لیٹ نہ سکے تو چت لیٹ کر پاؤں کو قبلہ کی جانب کرکے پڑھے 3 لیکن اس حدیث کے راویوں میں سے ایک شخص حسین بن زید ہے جس کو ابن المدینی نے ضعیف کہا ہے ایک اور راوی حسن بن حسن مغربی بھی ہے جو متروک ہے اسی بنیاد پر امام شافعی نے فرمایا : کہ مریض اگر کھڑا ہونے سے عاجز ہو تو بیٹھ کر نما زپڑھے بیٹھنے سے بھی عاجز ہو تو دائیں کروٹ سے لیٹ کر قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھے اگر کروٹ سے لیٹنے سے بھی عاجز ہو تو چت لیٹ کر پاؤں کا رخ کعبہ کی طرف کرکے پڑھے تاکہ اس کے رکوع اور سجود کا اشارہ قبلہ کی طرف ہو سکے۔
امام مالک اور امام احمد کا بھی یہی قول ہے مگر ان دونوں بزرگوں کا امام شافعی سے اتنا اختلاف ہے کہ (امام شافعی کے نزدیک چت لیٹنے کی اجازت اس وقت ہے جب دائیں کروٹ سے نہ لیٹ سکتا ہو لیکن) ان دونوں کے نزدیک اگر کروٹ سے لیٹ بھی سکتا ہو تب بھی چت لیٹ کر نما زپڑھنا درست ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : اگر بیٹھ نہ سکتا ہو تو چت لیٹ کر کعبہ کی طرف پاؤں کرکے پڑھے اور چت نہ لیٹ سکتا ہو تو کروٹ سے لیٹ کر پڑھے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے یہ بھی فرمایا : کہ یہ آیت اور سورة نساء والی آیت کوئی بھی صلوٰۃ مریض کے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ عام اہل تفسیر کے نزدیک آیت کی مراد یہ ہے کہ ہر وقت اور ہر حالت میں اللہ کی یاد کی جائے کیونکہ عموماً انسان کی یہی تین حالتیں ہوتی ہیں۔ یا کھڑا ہوتا ہے یا بیٹھتا ہے یا لیٹتا ہے۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : جو شخص جنت کے باغوں کی سیر پسند کرتا ہو اس کو اللہ کا ذکر بہت کرنا چاہئے 4 ۔
اور اگر ہم مان بھی لیں کہ آیت کا نزول صلوٰۃ مریض کے متعلق ہے تب بھی چت لیٹ کر نماز پڑھنے کی نفی اس سے نہیں نکلتی اور شافعی (رح) نے جو ترتیب بیان کی ہے آیت اس پر دلالت نہیں کرتی۔ رہی حضرت عمران بن حصین والی حدیث تو ابن ہمام (صاحب فتح القدیر) نے اس کے متعلق لکھا ہے کہ حضرت عمران کو بواسیر تھی آپ چت لیٹ ہی نہ سکتے تھے اس لیے حدیث میں چت لیٹنے کا تذکرہ نہیں ہے۔ ہاں نسائی نے حدیث کے آخر میں جو زیادتی نقل کی ہے اگر وہ صحیح ثابت ہوجائے تو شافعی کے لیے دلیل ہوسکتی ہے۔ باقی حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کی حدیث تو وہ (روایۃً ) ضعیف ہے اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔
امام ابوحنیفہ (رح) نے جو چت لیٹنے کو کروٹ سے لیٹنے سے ترتیب میں پہلے ذکر کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ (امام صاحب (رح) کے نزدیک) نماز میں رکوع سجود کی اہمیت زیادہ ہے اسی لیے امام صاحب ﷺ نے فرمایا : کہ جو شخص اور رکوع سجود نہ کرسکتا ہو مگر کھڑا ہوسکتا ہو اس کے لیے بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھنا افضل ہے کیونکہ بیٹھ کر اشارہ کرنا سجدہ سے قریب پہنچا دیتا ہے۔ (اور کھڑے رہ کر اشارہ کرنے سے سجدہ سے دوری رہتی ہے) لیکن جمہور کا قول اس کے خلاف ہے (اگر قیام کی قدرت ہے تو جمہور کے نزدیک بیٹھ کر نماز صحیح نہ ہوگی سجدہ سے قرب و بعد کی اتنی اہمیت نہیں کہ قیام کا حکم ساقط ہوجائے) اور چت لیٹ کر اشارہ کرنے سے جبکہ پاؤں قبلہ کی طرف ہوں اشارہ کعبہ کی طرف ہوگا لیکن کروٹ سے لیٹ کر خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے اشارہ کرنے سے اشارہ کعبہ کی طرف نہ ہوگا قدموں کی طرف ہوگا۔ لہٰذا کروٹ سے لیٹنے سے چت لیٹ کر پڑھنا بہتر ہے۔
امام مالک (رح) ، امام احمد اور امام شافعی کے نزدیک رکوع سجود کی اہمیت قیام سے زیادہ نہیں (ارکان صلوٰۃ ہونے میں سب برابر ہیں) اس لیے جو کھڑا ہوسکتا ہو اس کی نماز بیٹھ کر صحیح نہیں خواہ رکوع سجود نہ کرسکتا ہو بلکہ کھڑا ہو کر اشارہ سے نماز پڑھنا لازم ہے۔ رہا چت لیٹنا تو یہ خیال غلط ہے کہ اس کا منہ کعبہ کی طرف ہوگا عام طور پر اس کا منہ آسمان کی طرف ہوتا ہے ہاں کروٹ سے لیٹ کر عموماً اس کا رخ قدموں کی طرف نہیں ہوتا کعبہ کی طرف ہوتا ہے اور آیت : فَوَلِّ وَجْھَک شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَام میں اسی کا حکم دیا گیا ہے۔
و یتفکرون فی خلق السموات والارض اور آسمانوں کی اور زمین کی پیدائش پر نیز ان عجائب اور ندرتوں پر جو انکے اندر اور درمیانی کائنات 1 میں ہیں غور کرتے ہیں تاکہ ان سے خالق قادر علیم حکیم وحدہٗ لا شریک کی ہستی پر استدلال کرسکیں۔
حصرت علی کرم اللہ وجہہٗ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : (آیات قدرت پر) غور کرنے کے برابر کوئی عبادت نہیں 2 ۔ بیہقی اور ابن حبان دونوں نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : ایک شخص اپنے بستر پر چت لیٹا ہوا تھا اوپر کو منہ تھا اچانک اس کی نظر آسمان اور ستاروں پر پڑی تو اس نے کہا میں شہادت دیتا ہوں کہ تیرا ایک مالک اور خالق ہے اے اللہ مجھے بخشدے اللہ نے اس کی طرف رحمت کی) نظر فرمائی اور بخش دیا 3 ۔
(اہل منطق کے نزدیک) فکر کا معنی ہے نامعلوم چیز کو جاننے کے لیے معلوم چیزوں کو (دماغ کے اندر مناسب) ترتیب دینا۔ قاموس میں ہے کہ کسی چیز (کو جاننے) کے لیے غور سے کام لینا فکر ہے جوہری نے صحاح میں لکھا ہے۔ فکرۃٌ وہ قوت جو معلوم تک پہنچنے کے لیے علم کا راستہ بتاتی ہے اور تفکر کا معنی ہے قوت فکر کی حرکت جو عقلی نظر کے موافق ہو اور یہ صرف انسان کی خصوصیت ہے دوسرے حیوان تفکر سے محروم ہیں (کیونکہ کسی حیوان کو قوت عقلیہ نہیں ملی حیوان کے پاس صرف حس ہے) تفکر کا تعلق صرف انہی چیزوں سے ہوتا ہے جن کی صورت دماغ میں آنا ممکن ہو اسی لیے روایت میں آیا ہے کہ اللہ کی نعمتوں پر غور کرو اللہ کی ذات میں غور نہ کرو۔ کیونکہ اللہ کی ذات ہر صورت سے پاک ہے۔
بعض علماء کا قول ہے کہ لفظ فکر۔ لفظ فرک کا مقلوب ہے (فرک کا معنی ہے تراشنا، چھیلنا، رگڑنا) مگر فکر کا استعمال معانی میں ہوتا ہے یعنی معانی کو چھیلنا کھودنا، رگڑنا تاکہ ان کی حقیقت تک رسائی ہوجائے (تفکر ہے) (انتہی کلام الجوہری ) ۔ میں کہتا ہوں حدیث میں آیا ہے کہ ہر شئے میں غور و خوض کرو مگر اللہ کی ذات میں غور نہ کرو کیونکہ ساتویں آسمان سے اللہ کی کرسی تک سات ہزار نور ہیں اور اللہ اس سے بھی بالا ہے۔ (رواہ ابو الشیخ فی العظمۃ عن ابن عباس ؓ
حضرت ابن عباس ؓ کی دوسری روایت کے یہ الفاظ ہیں خلق میں غور کرو خالق (کی ذات) میں غور نہ کرو کیونکہ تم اس کا اندازہ نہیں کرسکتے۔ حضرت ابو ذکر کی روایت بایں الفاظ ہے کہ اللہ کی خلق میں غور کرو اللہ (کی ذات) میں غور نہ کرو ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے۔ ابو نعیم نے حلیہ میں حضرت ابن عباس کی روایت ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے۔ کہ اللہ کی مخلوق میں غور کرو اللہ (کی ذات) میں غور نہ کرو۔ طبرانی نے الاوسط میں اور ابو الشیخ نے اور ابن عدی نے اور بیہقی نے ضعیف سند سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں کہ اللہ کی نعمتوں میں غور کرو۔ اللہ میں غور نہ کرو۔
ان تمام احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کی ذات میں غور کرنا منع ہے۔ صرف افعال خدا، صفات خدا اور اسماء خدا پر غور کیا جاسکتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی سامنے آجاتی ہے کہ اسماء اور صفات کی آمیزش کے بغیر (اور تمام صفات سے قطع نظر کرکے) تنہا خالص ذات کا علم حصولی (یعنی علم تصور ی) ناممکن ہے بلکہ حضرت مجدد قدس سرہٗ نے تو فرمایا ہے کہ مرتبہ ذات سے تو علم حضوری کا تعلق بھی محال ہے کیونکہ علم حضوری کی حرکت تو عالم کی جانب ہوتی ہے یعنی مرتبہ اتحاد و عینیت کی طرف ہوتی ہے (مراد یہ ہے کہ علم حضوری بواسطہ صورت نہیں ہوتا مبداء انکشاف نفس ذات معلوم ہوتی ہے اس لیے علم حضوری کی حقیقت عالم کی ذات کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوتی) پس اس سے کفر حقیقت لازم آتا ہے اللہ ہمارے نفس سے بھی زیادہ ہم سے قریب ہے (شدت قرب نے ہی اس کو ہمارے لیے نامعلوم بنا دیا ہے) پس وہ واراء الوراء ہے پھر وراء الوراء ہے پھر وراء الوراء ہے مگر اس کا وراء الوراء (پردہ در پردہ) ہونا بعد کی جانب نہیں (ایسا نہیں کہ انتہائی دوری کی وجہ سے وہ مستور ہو) بلکہ قرب کی جانب ہے (یعنی انتہائی قرب کی وجہ سے وہ مجہول غیر مرئی غیر معقول اور مخفی ہے) لہٰذا مرتبۂ ذات میں اس کی ذات کا علم حضوری بھی ناممکن ہے بعض صوفیہ کو جو علم لدنی بسیط (بےکیف، بےمقدار، بےصورت اور بےحضور) ہر وقت حاصل رہتا ہے اور اس کے علم کا تعلق ذات خالص سے ہوتا ہے وہ علم نہ حصولی ہوتا ہے نہ حضوری۔ معلوم نہیں کہ اس کی کیا حقیقت اور کیا کیفیت ہوتی ہے اس پر تفکر کا حقیقی اطلاق درست نہیں ہاں مجازاً اس کو تفکر کہا جاسکتا ہے جیسا کہ بعض صوفیہ کے کلام میں آیا ہے۔ شریعت میں اس کی تعبیر لفظ ذکر سے کی گئی ہے۔ حدیث میں جو آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے اس سے مراد وہی مرتبہ علمی ہے جو نہ حصولی ہے۔ نہ حضوری۔ ذکر لسانی مراد نہیں ہے کیونکہ ہر وقت ہمیشہ زبانی ذکر ناممکن ہے۔
چونکہ دو ام ذکر ہی اصل مقصد ہے اور اس کا مرتبہ بہت اونچا ہے اور تفکر ہی ایک ایسا طریقہ ہے جو ذکر تک پہنچاتا ہے اس لیے اللہ نے سب سے پہلے اولیٰ الالباب کی صفت دوام ذکر کو قرار دیا اور اس کے بعد تفکر کا ذکر کیا جو علم (ذکر) تک پہنچاتا ہے اور ذکر کے لیے ایسا ہے جیسے کسی چیزکا سایہ پس کھڑے بیٹھے اور کروٹ کے بل ذکر کرنے سے مراد ہے ہر حال میں ہر وقت ذکر کرنا اس کے بعد فرمایا : و یتفکرون فی خلق السَّموٰت وَالْاَرْضِ اس کے علاوہ فکر سے پہلے ذکر کو بیان کرنے سے اس امر پر تنبیہ بھی ہوتی ہے کہ عقل تنہا کوئی صحیح حکم اور فیصلہ نہیں کرسکتی جب تک نور ذکر اور ہدایت الٰہی سے ضیاء چیں نہ ہو (یعنی تفکر سے پہلے نور ذکر کی ضرورت ہے تنہا تفکر کرنے والے تو بہت ہیں مگر ذکر کی روشنی سے چونکہ وہ نور چیں نہیں اس لیے علم ذات سے محروم ہیں) ۔
ربنا ما خلقت ھذا باطلا وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب تو نے اس کو بیکار بےحقیقت محض کھیل کے لیے نہیں بنایا۔ یعنی وہ یہ بات کہتے ہوئے غور کرتے ہیں۔ باطل حق کی ضد ہوتا ہے (قاموس) حق کا اطلاق تین معانی پر ہوتا ہے (1) وہ موجود جس کا وجود اصلی ہو خود بخود ہو وہ اپنے وجود اور تحقیق بلکہ کسی چیز میں دوسرے کا محتاج نہ ہو۔ بایں معنی حق صرف اللہ ہے (2) وہ موجود جس کا وجود محض وہمی تراشیدہ اور خیالی نہ ہو بلکہ ذہن سے باہر واقع میں بھی ہو خواہ وہ اپنے تحقق میں موجودِ حق بمعنی اوّل سے خوشہ چیں ہو (جیسے آسمان، زمین، ہوا، پانی، انسان، حیوان، نباتات وغیرہ) (3) وہ موجود جس کا وجود پر حکمت پُر مصلحت اور مفید ہو بےکار بےفائدہ بےحکمت اور بیہودہ نہ ہو۔
حق کے یہ تین معانی ہیں اور ہر معنی کے مقابل لفظ باطل آتا ہے اوّل معنی کے اعتبار سے رسول اللہ نے فرمایا ہے : کہ سب سے اچھا قول لبید (بن ربیعہ) کا یہ قول ہے : اَلاَ کْلُّ شَیءٍ مَا خلا اللہ باطلٌ آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے (یعنی اپنے وجود لوازم وجود اور ہر وصف میں محتاج ہے کسی چیز کا وجود اصلی اور خود بخود نہیں ہے) باطل کا دوسرا معنی بھی شعر میں مراد ہوسکتا ہے یعنی اللہ کے سوا ہر معبود کی معبودیت وہمی زائیدہ اور خیالی تراشیدہ ہے واقعی نہیں تیسرے معنی کے لحاظ سے باطل کا اطلاق شیطان پر ہوتا ہے۔ اللہ نے فرمایا : لَا یَاتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْ بَیْنَ یَدَیْہِ وَ لَا مِنْ خَلْفِہٖ اس کے آگے پیچھے (کسی طرف) سے شیطان نہیں آتا۔
آیت رَبَّنا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا میں باطل بمعنی دوم اور بمعنی سوم مراد ہوسکتا ہے اگر باطل بمعنی دوم مراد ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ آسمان و زمین بےحقیقت نہیں ان کا وجود واقعی خارجی ہے محض خیال و وہم نہیں اہل حق (اشاعرہ) نے صانع کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے اسی مسئلہ کو اساس قراردیا ہے اور صراحت کی ہے کہ حقائق اشیاء (یعنی کائنات ارضی وسماوی کی حقیقتیں) ثابت ہیں (صرف وہم کی آفریدہ اور خیال کی تراشیدہ نہیں ہیں) اور ان کا علم واقعی ہے (محض فرضی اور اختراعی نہیں ہے ہاں سو فسطائیہ کا قول اس کے خلاف ہے (ان کے نزدیک سارا عالم ایک فریب اور وہم ہے کسی چیز کی کوئی واقعی حقیقت اور خارجی وجود نہیں) اس آیت میں اہل حق کے قول کی صراحت ہے اور اگر آیت میں باطل بمعنی سوم مراد ہو تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اے رب تو نے اس کو بیکار اور محض کھیل نہیں بنایا بلکہ اس کی تخلیق میں تیری حکمت عظیمہ کار فرما ہے اس کا وجود تیری معرفت کی دلیل اور تیری شکر وطاعت کا موجب ہے۔
مَا خَلَقْت ھٰذا میں اشارہ آسمان اور زمین کی طرف ہے اسم اشارہ مذکر اس لیے لا یا گیا کہ آسمان و زمین کے مجموعہ سے مراد ہے ان کا وجود جس پر اولی الالباب غور کرتے ہیں یا اس لیے کہ ان کا مجموعہ مخلوق ہے یا اشارہ خلق کی طرف ہے اور خلق بمعنی مخلوق ہے یا خلق بمعنی تخلیق ہے (پیدا کرنا) یہ بھی ممکن ہے کہ آسمان و زمین کے ہر جزء کی پیدائش کی طرف اشارہ ہو۔
سبحانک تو پاک ہے یعنی تو ہزل (مذاق کرنے اور محض کھیل) سے پاک ہے کیونکہ ہزل ایک قبیح فعل ہے۔ یہ جملہ حالیہ ہے لیکن اگر باطل بمعنی اوّل لیا جائے تو جملہ معترضہ ہوگا۔
فقنا عذاب النار پس ہم کو بچا دوزخ کے عذاب سے یعنی اگر ہمارے تفکر اور غور میں کوئی خرابی ہوجائے اور ہم غور و فکر کا تقاصا پور ا نہ کرسکیں (اور عذاب کے مستحق قرار پائیں) تو ہم کو عذاب سے محفوظ رکھ فقنا کی فاء (جو تفریع کے لیے ہے) بتارہی ہے کہ کائنات کی پیدائش (جو وجود صانع پر استدلال کرنے اور شکر وطاعت بجا لانے کے لیے ہے) کا تقاضا ہے کہ فرماں بردار کو ثواب اور نافرمان کو عذاب ہو اور تخلیق ارض و سما کے باطل اور بیکار نہ ہونے کا علم چاہتا ہے کہ ثواب کی امید اور عذاب کا خوف ہو لہٰذا ضروری ہے کہ عذاب سے بچنے کی درخواست اور ثواب کی طلب کی جائے اور چونکہ دفع مضرت کی اہمیت حصول منفعت سے زیادہ ہوتی ہے اس لیے عذاب سے بچاؤ کا ذکر حصول ثواب سے پہلے کیا جائے اور رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ کا ذکر فَقِنَا عَذَاب النَّارِ کے بعد کیا جائے بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ فَقِنَا میں فا جزائیہ ہے اصل کلام اس طرح تھا۔ جب ہم تیری پاکی کے مقر میں تو توُ ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ۔
Ayah 3:192ربنا انک من تدخل النار فقد اخزیتہ اے ہمارے رب تو نے جس کو دوزخ میں داخل کیا تو بس اس کو رسوا ہی کردیا۔ باربار رَبَّنَا کا ذکر (چند وجوہ سے کیا گیا ہے) تضرع اور زاری میں زور پیدا کرنے کے لیے۔ ہر مقصد کو مستقل حیثیت میں ظاہر کرنے کے لیے۔ ہر مطلب کی بلندی شان ظاہر کرنے کے لیے وصف ربوبیت پر پورا پورا اعتماد پیدا کرنے کے لیے اور اللہ کی ربوبیت کا اقرار کرنے کے لیے خَزَاہُ اس پر غالب آیا اس کو اس کی خواہش سے روک دیا یا خزی (جمع) مصیبت میں پڑگیا۔ اَخْزَاہ اللہ (افعال) اللہ نے اس کو رسوا کردیا۔ (قاموس)
و ما للظالمین من انصار اور ظالموں کا کوئی ساتھ نہیں۔ بجائے ضمیر کے لفظظالمین کہنے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ظلم کی وجہ سے ہی وہ دوزخ میں جائیں گے۔ نصرت کا معنی ہے قوت سے دفع کرنا قہار کے مقابلہ میں طاقت سے دفع کرنے کا تصور ہی نہیں ہوسکتا ورنہ قہار کا عاجز ہونا لازم آئے گا اور عاجز ہونا صفت ربوبیت کے منافی ہے لیکن اس سے شفاعت کی نفی نہیں ہوتی (کیونکہ شفاعت سے دفع مصیبت قوت کے ساتھ نہیں ہوتا)
ایک شبہ اللہ نے فرمایا ہے : یَوْمَ لَا یُخْزِی اللہ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اَمَنُوْا مَعَہٗ اللہ نبی کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے رسوا نہیں کرے گا۔ لیکن مؤمن دوزخ میں جائیں گے اور اس آیت میں صراحت ہے کہ جو دوزخ میں جائے گا اللہ اس کو رسوا کردے گا (نتیجہ یہ نکلا کہ بعض مؤمن رسوا ہوں گے) دونوں آیتوں کے تضاد کو دور کرنے کی کیا صورت ہوگی۔
ازالہ ہم کہتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص دوزخ میں جائے گا جب تک وہ دوزخ میں رہے گا اس کی رسوائی ہوگی یا جن مؤمنوں کو رسوا نہ کرنے کا وعدہ فرمایا ہے ان سے کامل مؤمن مراد ہیں (مَعَہٗ کا لفظ اس کا قرینہ ہے۔ مترجم) حضرت انس اور قتادہ نے مَنْ تدخل النار کا ترجمہ کیا ہے جس کو تو دوزخ میں ہمیشہ رکھے سعید بن منصور نے کہا اس آیت (میں رسوا نہ کرنے) کا حکم ان لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے جو کبھی دوزخ سے نہیں نکلیں گے۔ حضرت جابر ؓ نے فرمایا : مؤمن کو رسوا کرنے سے مراد ہے ادب آموزی، رسوائی کا درجہ اس سے اونچا ہے۔
Ayah 3:193ربنا اننا سمعنا منادیا اے ہمارے ربّ ! ہم نے ایک ندا دینے والے سے سنا۔ حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ اور اکثر علماء کے نزیک منادی 1 سے مراد ہیں رسول اللہ۔ قرطبی نے کہا قرآن مراد ہے کیونکہ ہر شخص کی ملاقات تو رسول اللہ سے نہیں ہوسکتی۔ میں کہتا ہوں رسول اللہ کا متواتر فرمان سننا ہی ایسا ہے جیسے کسی نے خود حضور ﷺ سے سنا (یعنی رو در رو ہو کر سننا) جس طرح مفید یقین ہوتا ہے اسی طرح اگر کوئی فرمان تواتر کے ساتھ کسی کے پاس پہنچے تو وہ بھی خود زبان مبارک سے سننے کی طرح مفید یقین ہے۔ پکار نے والے کو سنا۔ فرمایا : پکارنے والے کے قول کو سنا۔ نہیں فرمایا : کیوں ؟ سننے کی قوت بتانے کے لیے۔ پہلے منادیاً کو نکرہ ذکر کیا۔ منادی کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے پھر اس کی ندا کو ایمان کے ساتھ مفید کیا۔ منادی اور نداء کی مزید عظمت بیان کرنے کے لیے کیونکہ ایمان کے لیے پکارنے والے سے زیادہ باعظمت منادی اور ندائے ایمانی سے بڑھ کر کوئی ندا ممکن نہیں۔
ینادی للایمان جو پکار رہا تھا ایمان کے لیے۔ مادۂ نداء کے بعد الیٰ بھی آتا ہے کیونکہ ندا کے مفہوم میں پہنچنے کا مفہوم شامل ہے اور لفظ نداء کے بعد لام بھی آتا ہے کیونکہ لام خصوصیت کو ظاہر کرتا ہے اور مقصود ندائی مخصوص ہوتا ہے۔
ان امنو بربکم کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ اَنْ مفسرہ ہے نداء کے اندر قول کا معنی ہوتا ہے (یعنی وہ ایمان کے لیے پکار کر کہہ رہا تھا کہ) یا اَنْ مصدری ہے اور باء مقدر ہے اصل میں تھا بِاَنْ اٰمِنُوْا۔
فامنا سو ہم اس پر ایمان لائے۔ فقط دعوت ایمان پر ایمان لانا بتارہا ہے کہ ایمان کی بناء (عقلی دلیلوں پر نہیں ہے بلکہ) صرف شارع کی طرف سے دیئے ہوئے حکم پر ہے اس آیت سے شیخ ابو منصور ماتریدی نے استدلال کیا ہے کہ ایمان میں استثناء باطل ہے 1 بلکہ اسطرح کہنا واجب ہے کہ میں یقینی مؤمن ہوں۔
ربنا فاغفرلنا ذنوبنا اے ہمارے رب پھر معاف کردے ہمارے کبیرہ گناہ۔ فاغفر میں فاء سببیت کی 2 ہے کیونکہ ایمان سبب مغفرت ہے مغفرت بغیر ایمان کے نہیں ہوسکتی۔
و کفر عنا سیئتنا اور ہماری بدکاریاں (یعنی صغیرہ گناہ) ہم سے دور کردیکَفِّر باب تفعیل سے امر ہے اور باب تفعیل فعل کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے صغیرہ گناہ بکثرت ہوتے ہیں اس لیے درخواست بھی بار بار معاف کرنے کی۔ یعنی بار بار ہماری برائیوں پر پردہ ڈال۔
وتوفنا مع الابرار اور نیکوں (کے گروہ) میں شامل کرکے ہمیں موت دے۔ ابرار جمع ہے۔ بَرٌّ یا بارٌّکی مراد ہیں سچے اور بکثرت نیکی کرنے والے اور بہت بھلائی والے لوگ۔ اپنے آپ کو نیکوں میں شامل کرنے کی دعا کی اور خود نیک ہونے کا اظہار نہیں کیا محض عاجزی اور خضوع اور انکسار نفس کی وجہ سے کیونکہ خضوع ہی اللہ کو محبوب ہے۔ نیکوں کے ساتھ موت دینے کا معنی یہ نہیں ہے کہ نیکوں کی موت کے وقت ہماری موت ہو ایسی دعاء علاوہ غیر مفید ہونے کے عادۃً ناممکن بھی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہم کو ان کے زمرہ میں داخل کرکے اور نیک بنا کے موت دے۔
ایک شبہ یہ تو موت کی دعا اور تمنا ہے اور موت کی دعا سے رسول اللہ نے منع فرمایا جیسے سورة بقرہ کی آیت : فتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ کی تفسیر میں گذر چکا ہے۔
ازالہ مسئلہ کی تحقیق ہم کرچکے ہیں کہ موت کی تمنا اور دعا کسی مالی نقصان یا جسمانی دکھ سے تنک آکر ناجائز ہے مطلقاً ناجائز نہیں ہے اس کے علاوہ اس آیت سے مراد موت کی دعا نہیں ہے بلکہ مرتے دم تک نیکی اور صلاح عمل پر قائم رکھنے کی دعامقصود ہے کہ موت آئے تو صلاح و نیکی کی حالت میں آئے فوری موت کی طلب کا اظہار مقصود ہی نہیں ہے جیسے آیت : وَلاَ تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ میں غیر اسلامی حالت پر مرنے کی ممانعت کرنا نہیں ہے موت (کسی حالت میں ہو) انسان کے بس میں ہی نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ تمہاری زندگی کی ہر حالت اسلامی ہو اور ہر وقت تم مسلمان رہو تاکہ جب بھی موت آئے تو اسلام پر آئے۔
Ayah 3:194ربنا و اتنا ما وعدتنا اے ہمارے پروردگار اور ہم کو عطا کر جو تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے یعنی ثواب جنت۔ اپنا دیدار اور مرتبہ قرب آخرت میں اور دشمنوں پر فتح دنیا میں۔
علی رسللک اپنے پیغمبروں پر ایمان لانے کے بدلہ میں یا اپنے پیغمبروں کی زبانی کئے ہوئے وعدہ پر۔ یا یہ مطلب کہ پیغمبروں پر جو وعدہ تو نے نازل کیا تھا وہ عطا فرما۔ یا یہ مطلب کہ اپنے پیغمبروں کے ساتھ ہم کو بھی دے اور ہم کو بھی اپنی دادوہش میں ان کا شریک بنا دے۔ اس صورت میں علیٰ کا معنی ہوگا مع اس درخواست معیت کے اظہار سے مقصود ہے حق رسالت کو ادا کرنا اور پیغمبروں کی شرکت کی برکت سے اپنے لیے فضل کو بڑھانا۔
اٰتِنَا اور وَعَدْتَّنَا میں جمع متکلم کی ضمیر سے مراد ہے مسلمانوں کا گروہ یعنی تمام صالحین سے جو تو نے وعدہ کیا وہ عطا فرما۔
ایک شبہ کیا اہل ایمان کو اللہ کی طرف سے وعدہ خلافی کا کچھ اندیشہ تھا کہ دعا میں ایفاء وعدہ کی درخواست کی۔
ازالہ نہیں ایسا نہیں بلکہ یہ دعا اس اندیشہ کی وجہ سے ہے کہ کہیں سائل کا شمار ان لوگوں میں نہ ہوجائے جن کو برے انجام کی وعید سنائی گئی ہے یا اس غرض سے ایسی دعا کر رہا ہے کہ اس کو اپنے بیان اور طاعت میں کچھ قصور نظر آرہا ہے یا یوں کہو کہ یہ دعا محض تعبُّدی اور اظہار عجز کے لیے ہے ورنہ ہوگا وہی جو اللہ کو منظور ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جیسا چاہتا ہے حکم دیتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ الفاظ دعا کے ہیں مگر معنی خبر کے مراد ہیں یعنی اے رب بلاشبہ جو تو نے پیغمبروں کی معرفت ہم سے فضل ورحمت کا وعدہ کیا وہ ہم کو ضرور دے گا۔ بعض علماء نے کہا دعا سے مراد ہے ایفاء وعدہ کی تعجیل یعنی یہ تو ہم جانتے ہیں کہ جس فتح کا تو نے وعدہ کیا ہے وہ ضرور پورا کرے گا اس کے خلاف نہیں کرے گا لیکن ہم کو تیرے حلم کی برداشت نہیں اب جلد ان کو رسوا اور ہم کو ان پر فتح یاب فرمادے۔
ولا تحزنا اور ہم کو رسوا نہ کر یعنی ہم کو دوزخ میں داخل نہ کر۔
یوم القیامۃ قیامت کے دن یعنی اس دن جب یکدم سب لوگ قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ 1 رسوا نہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ ایسے اعمال کے ارتکاب سے بچا جن کے نتیجہ میں قیامت کے دن ہم کو رسوائی ہو اور ہم کو بخش دے اور ہمارے قصوروں پر پردہ ڈال دے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ بندہ کو اپنے قریب بلوا کر اس پر اپنا ہاتھ رکھے گا اور مخلوق سے چھپا کر اس کے سامنے اس کا اعمالنامہ لا کر فرمائے گا اپنا اعمالنامہ پڑھ۔ حسب الحکم بندہ پڑھے گا اور نیکی کو لکھا دیکھ کر اس کا چہرہ چمک جائے گا اور دل خوش ہوگا اللہ فرمائے گا۔ میرے بندے کیا تو اسکو پہچانتا ہے بندہ عرض کرے گا ہاں پروردگار پہچانتا ہوں اللہ فرمائے گا میں نے تیری نیکی قبول کی بندہ فوراً سجدہ میں گرپڑے گا اللہ فرمائے گا اپنا سر اٹھا اور اپنے اعمالنامہ کو ( اور آگے) پڑھ۔ حسب الحکم بندہ پڑھے گا اور بدی لکھی دیکھ کر اس کا چہرہ سیاہ اور دلی خوف زدہ ہوجائے گا اللہ فرمائے گا میرے بندے کیا تو اس کو پہچانتا ہے ؟ بندہ عرض کرے گا ہاں میرے رب پہچانتا ہوں اللہ فرمائے گا میں تجھ سے زیادہ اس کو جانتا ہوں مگر میں نے تجھے یہ گناہ معاف کیا۔ اسی طرح بندہ پڑھتاجائے گا نیکی کو پڑھے گا اور اللہ کی طرف سے قبول ہونے کا فرمان سن کر سجدہ کرے گا اور بدی کو پڑھے گا اور معافی کا حکم سن کر سجدہ کرے گا مگر مخلوق کو 2 اس کا سجدہ کرنا دکھائی دے گا اس لیے بعض لوگ آپس میں چپکے چپکے کہیں گے بشارت ہو اس بندہ کو جس نے کبھی اللہ کی نافرمانی نہیں کی کسی کو معلوم نہ ہوگا کہ اللہ کا اور اس کا کیا معاملہ گذرا۔ 3 حضرت ابن عمر کی روایت سے صحیحین میں بھی ایسی ہی حدیث آئی ہے۔
انک لا تخلف المیعاد اس میں شبہ نہیں کہ تو وعدہ کے خلاف نہیں کرے گا یعنی مؤمن کو ثواب دے گا اور دعا کرنے والے کی دعا قبول فرمائے گا۔ گذشتہ دعا میں اٰتنا ما وعدتنا سے چونکہ وہم ہوسکتا ہے کہ شاید دعا کرنے والے کے نزدیک اللہ کی وعدہ خلافی کا احتمال ہے اس لیے انک لا تخلف المیعاد کہہ کر اس وہم کو دور کردیا۔
Ayah 3:195فاستجاب لھم ربھم پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی۔ استجاب اور اجاببعض علماء کے نزدیک ہم معنی ہیں لیکن بیضاوی نے لکھا ہے استجاب اجاب سے خاص ہے استجاب کا معنی ہے دعاء کو قبول کیا۔ یہ بغیر حرف جار کے مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے اور لام کے ذریعہ سے بھی (پس استجاب لھم اور استجابھم دونوں طرح کہنا درست ہے۔
انی لا اضیع عمل عامل منکم من ذکر او انثی بایں طوریا یہ کہتے ہوئے ان کی دعا قبول کی کہ میں تم میں 1 سے کسی عمل کرنے والے کا کوئی عمل اکارت نہیں کروں گا کرنے والا مرد ہو یا عورت 2 حضرت ام سلمہ ؓ میں سن رہی ہوں کہ ہجرت میں اللہ مردوں کا ذکر فرماتا ہے عورتوں کا کوئی تذکرہ نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(اخرجہ الحاکم وصححہ والترمذی وابن ابی حاتم و عبد الرزاق و سعید بن منصور)
بعضکم من بعض تمہارے بعض بعض سے ہیں 3 ۔ کلبی نے کہا یعنی دین میں باہم مدد کرنے میں اور آپس کی دوستی میں بعض نے کہا نسب اور انسانیت میں ایک کا دوسرے سے ہونا مراد ہے کیونکہ سب آدم و حوا کی اولاد ہیں ہر مرد بھی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے (باستثناء آدم و حوا) اور ہر عورت بھی مرد کی پشت سے پیدا ہوتی ہے پس عورتوں کو بھی اعمال کا ثواب اسی طرح ملے گا جس طرح مردوں کو۔ علم عمل کرنے والوں سے جو وعدہ کیا ہے اس میں مردوں کے ساتھ عورتوں کی شرکت ظاہر کرنے کے لیے یہ جملہ معترضہ بیان کیا اس سے آگے بعض عمل کرنے والوں کے بعض اعمال کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے مستقل طور پر فرمایا۔
فالذین ھاجروا واخرجوا من دیارھم اوذوا فی سبیلی پھر جن لوگوں نے وطن چھوڑے اور اپنی بستیوں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ان کو دکھ دیئے گئے۔ میری راہ سے مراد ہے میری اطاعت اور میرے دین کی راہ میں یا مجھ پر ایمان لانے کی وجہ سے اور میرے سبب سے۔
و قاتلوا و قتلوا اور لڑے اور مارے گئے۔
لاکفرن عنھم سیاتھم میں ضرور ضرور دور کردونگا ان سے انکے گناہ یعنی ان کے گناہ مٹا دونگا اور مغفرت کردونگا۔
و لا دخلنھم جنت تجری من تحتھا الانھار اور ان کو ضرور ضرور ایسی جنتوں میں داخل کروں گا جن کے درختوں کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔
ثوابا من عند اللہ اللہ کی طرف سے ثواب کے طور پر مبرد نے کہا ثوابًا مفعول مطلق تاکیدی ہے فعل محذوف ہے یعنیلاَُشَیِّبَنَّھُمْ ثَوَابًا میں ان کو ضرور بالضرور یقیناً ثواب عطا کروں گا۔ زیادہ ظاہر یہ ہے کہ ثواباً جنّٰت سے حال قرار دیا جائے یعنی جنات بطور ثواب دی جائیں گی۔ شاید من عند اللہ ثوابا کہنے سے یہ مراد ہو کہ جنات سے بڑھ کر کوئی اور ثواب محض خداداد ان کو ملے گا (اس وقت ثواباً حال نہ ہوگا بلکہ فعل محذوف کا مفعول ہوگا کیونکہ یہ ثواب جنات سے غیر ہوگا یہ ثواب جنات کے علاوہ اللہ کی طرف سے محض عطا ہوگی اور یہ ثواب ان کے اعمال کی جزا ہوگا مگر ہوگا اللہ کی مہربانی سے۔
وا اللہ عندہ اور اللہ کی قدرت میں ہے اللہ کے ساتھ مخصوص ہے۔
حسن الثواب اچھا ثواب۔ حُسْن سے مراد حَسَنہے اور صفت کی اضافت موصوف کی جانب ہے) یا سب سے اچھا ثواب مراد ہے جس پر کوئی قدرت نہ رکھتا ہو یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کے قرب کے بکثرت درجات ہیں اور اس کا قرب تمام جنات اور جنات کی نعمتوں سے بہتر ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ مشرک بڑی راحت اور آسائش میں تھے تجارت کرتے اور آرام سے رہتے تھے مسلمانوں نے کہا دیکھو اللہ کے دشمن کیسے اچھے حال میں ہیں اور ادھر ہم ہیں کہ (باوجود مؤمن ہونے کے) دکھ اور تنگ حالی میں مبتلا ہیں اس پر آیت نازل ہوئی۔
Ayah 3:196لا یغرنک تم کو دھوکے میں نہ ڈالے۔ خطاب رسول اللہ کو ہے اور مراد امت ہے۔ (کیونکہ رسول اللہ کو تو کافروں کا عیش فریب دے ہی نہ سکتا تھا) یا مخاطب عام ہے کوئی ہو۔
تقلب الذین کفروا فی البلاد ان کافروں کا ملک میں گھومنا، پھرنا شہروں شہروں میں گھومنا یعنی تجارت اور کمائی کے لیے ملک میں چلنا پھرنا (اور کمائی کرکے مزے اڑانا) کافروں کا گھومنا پھرنا مسلمانوں کی فریب خوردگی کا سبب تھا اس فریب خوردگی کی ممانعت فرمائی مراد یہ ہے کہ کافروں کی فراخ حالی پر نظر نہ کرو اور ان کی ظاہری وسعت معاشی سے فریب خوردہ نہ ہو۔
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : کسی فاجر (کی راحت اور اچھی حالت دیکھ کر اس) پر رشک نہ کرو تم کو نہیں معلوم کہ مرنے کے بعد اس کے سامنے کیا آئے اللہ کے نزدیک اس کے لیے ایک ایسا مار ڈالنے والا متعین ہے جو (خود) کبھی نہیں مرے گا یعنی دوزخ۔ (رواہ البغوی فی شرح السنۃ)
Ayah 3:197متاع قلیل یہ تھوڑا اور حقیر سامان ہے یا اس کے لے تھوڑا اور بےمقدار سامان ہے کیونکہ اس عیش کی مدت کم ہے پھر اس کی مقدار تھوڑی بھی ہے اور حقیر بھی۔ حضرت مسور بن شداد ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : آخرت کے مقابلہ میں دنیا ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈال کر نکال لے پھر اپنی انگلی کو دیکھے کہ اس پر کتنی (تری لگ کر) لوٹی ہے۔ (رواہ مسلم)
ثم ماواھم جھنم وبیس المھاد پھر آخر میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور جہنم بری آرام گاہ ہے۔ یعنی جو چیز انہوں نے اپنے لیے تیار کی ہے وہ جہنم ہے اور جہنم بری چیز ہے۔
Ayah 3:198لکن الذین اتقوا ربھم لھم جنت تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرے انہی کے لیے ہوں گی جنتیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان جنتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اہل نحو کے نزدیک لٰکن کا استعمال استدراک کے لیے ہوتا ہے یعنی گذشتہ کلام سے جو مقصود کے خلاف وہم پیدا ہوسکتا ہے اس کو دفع کرنے کے لیے لٰکن سے دوسرا کلام شروع کیا جاتا ہے یہاں بھی یہ وہم پیدا ہوتا تھا کہ جب دنیا میں آسائش کے ساتھ رہنے والوں کی متاع قلیل ہے تو اہل تقویٰ کی متاع اس سے بھی قلیل ہوگی کیونکہ وہ تو ویسے ہی لذتوں سے دست کش ہوچکے ہیں اس وہم کو دور کرنے کے لیے اللہ نے فرمایا : کہ جن متقیوں نے دنیا میں ایسی کمائی کرلی جو آخرت کی نعمتوں کے حصول کا وسیلہ اور ذریعہ ہے تو حقیقت میں انہوں نے ہی دنیا میں ایسا بیش بہا فائدہ اٹھا لیا کہ اس سے زیادہ ہو ہی نہیں سکتا۔ علماء معانی کے نزدیکلٰکن کا استعمال مخاطب کے خیال کو رد کرنے کے لیے ہوتا ہے اس صورت میں کافروں کے اس خیال کا رد ہوجائے گا کہ ہم ہی دنیا میں لذت اندوز اور بہرہ یاب ہیں اور مسلمان سراسرگھاٹے میں ہیں۔
نزلامن عند اللہ یہ اللہ کی طرف سے (خصوصی) مہمانی ہوگی۔ من عند اللہ نزلاً کی صفت ہے۔ نزل مہمانی کا وہ سامان جو کسی آنے والے مہمان کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ نزلاً کا لفظ اہل تقویٰ کی مرتبہ کی بلندی کو ظاہر کر رہا ہے کہ اللہ نے ان کو اپنا مہمان بنایا اور کریم میزبان اپنی استعداد وقدرت کے مطابق بہترین ضیافتی سامان مہمان کے لیے مہیا کرتا ہے (پس اللہ اپنے مہمانوں کے لیے اپنی لا محدود قدرت اور محیط کل کرم کے موافق سامان ضیافت پیش فرمائے گا) نزلاً یا جنتات سے حال ہے یا مفعول مطلق تاکیدی اور فعل محذوف ہے یا مفعول بہ دوئم اور فعل مع مفعولِ اوّل کے محذوف ہے یعنی جعل ذالک نزلاً یا تمیز ہے۔
و ما عند اللہ اور جو چیزا اللہ کے پاس ہے یعنی ثواب اور قرب کے درجات اور رضا ورحمت۔
خیر وہ دنیا کے مال و متاع سے بہتر ہے یا ہر چیز سے بہتر ہے۔
للابرار نیکوں کے لے۔ لَھُمْ نہیں فرمایا بلکہ لفظ ابرار کی صراحت کی۔ ان لوگوں کی تعریف اور ان کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے (کہ وہ نیک ہیں) ۔
حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا : میں بالا خانہ پر خدمت گرامی میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ایک کھرّی چٹائی پر استراحت فرما ہیں۔ سر کے نیچے چمڑے کا تکیہ تھا جس میں پوست کھجور کے ریشے بھرے ہوئے تھے۔ قدموں کے پاس کچھ پکا چمڑا تہ کیا رکھا تھا سرہانے کچی کھال لٹک رہی تھی اور چٹائی کے نشان پہلو مبارک پر پڑگئے تھے میں یہ دیکھ کر رونے لگا فرمایا : کس وجہ سے روتے ہو ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کسریٰ اور قیصر اس (عیش کی) حالت میں ہیں اور آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں (اور اس تنگ حالی میں ہیں) فرمایا : کیا تم اس پر رضا مند نہیں کہ ان کے لئے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ دعا فرمائیے کہ اللہ آپ ﷺ کی امت کو کشائش فرما دے کیونکہ اللہ نے فارس و روم والوں کو کشائش عطا فرما دی ہے حالانکہ وہ (خالص) اللہ کی عبادت بھی نہیں کرتے فرمایا : اے ابن خطاب ؓ کیا تم اس خیال میں تھے کہ اس قوم کو تو اللہ نے دنیاوی زندگی میں ہی ان کی پسند کی چیزیں فوری طور پر دیدی ہیں۔ (صحیحین) حضرت عبد اللہ بن عمر (بن عاص) راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : دنیا مؤ من کے لیے قید خانہ اور کال (کا زمانہ) ہے جب وہ دنیا کو چھوڑتا ہے تو قید خانہ اور کال (کے زمانہ) سے چھوٹتا ہے۔ (رواہ البغوی فی شرح السنہ) حضرت قتادہ بن نعمان کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جب اللہ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو دنیا سے اسکو بچاتا ہے جیسے تم اپنے بیمار کا پانی سے پرہیز کراتے ہو۔ (احمد والترمذی)
Ayah 3:199و ان من اھل الکتاب نسائی نے حضرت انس اور ابن جریر نے حضرت جابر کی روایت سے لکھا ہے کہ جب نجاشی کی وفات کی خبر آئی تو رسول اللہ نے فرمایا : اس کی نماز پڑھو کسی نے کہا یا رسول اللہ ہم ایک حبشی غلام کی نماز پڑھیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر نے فرمایا : یہ آیت نجاشی کے متعلق نازل ہوئی۔ (رواہ الحاکم فی المستدرک)
بغوی نے لکھا ہے کہ جس روز نجاشی کی وفات ہوئی اسی روز حضرت جبرائیل نے رسول ﷺ اللہ کو وفات کی اطلاع دیدی آپ ﷺ نے صحابہ ؓ سے فرمایا : (شہر سے) باہر نکل کر اپنے بھائی نجاشی کی نماز پڑھو اس کا انتقال دوسرے ملک میں ہوگیا ہے چناچہ بقیع کو تشریف لے گئے آپ کے سامنے سے سر زمین حبش تک پردہ ہٹا دیا گیا اور نجاشی کا جنازہ آپ ﷺ نے خود (آنکھوں سے) دیکھ کر نماز جنازہ پڑھی (جس میں) چار تکبیریں کہیں اور دعا مغفرت کی۔ منافق کہنے لگے ان کو تو دیکھو ایک حبشی عیسائی کافر کی نماز پڑھ رہے ہیں جو ان کے دین پر نہیں تھا۔ نہ اس کو کبھی انہوں نے دیکھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ عطاء نے کہا یہ آیت چالیس نجرانیوں کے متعلق نازل ہوئی جن میں 32 حبش کے رہنے والے تھے اور آٹھ رومی تھے یہ سب پہلے حضرت عیسیٰ کے مذہب پر تھے پھر رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ ابن جریر نے ابن جریح کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت عبد اللہ بن سلام اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں ہوا مجاہد نے کہا ان تمام اہل کتاب کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا جو ایمان لے آئے تھے۔
لمن یومن باللہ اہل کتاب میں سے کچھ لوگ یقیناً اللہ پر یعنی اللہ کی ذات وصفات اور اسماء پر صحیح ایمان رکھتے ہیں۔
و ما انزل الیکم اور اس قرآن پر ایمان رکھتے ہیں جو تمہاری طرف اتارا گیا۔
و ما انزل الیھم اور اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو ان کی طرف بھیجا گیا یعنی توریت، انجیل اور زبور۔
خاشعین اللہ اللہ کے سامنے عاجزی اور خضوع کرتے ہوئے خٰشعین مَنْ سے حال چونکہ مَنْ معنی کے لحاظ سے جمع ہے اس لیے خشعینب صیغۂ جمع لا یا گیا۔
لا یشترون بایت اللہ ثمنا قلیلا اللہ کی آیات (یعنی توریت کی وہ آیات جن کے اندر رسول اللہ کے اوصاف کا بیان ہے ان کو چھپا کر اس) کے عوض حقیر معاوضہ نہیں لیتے (یعنی رشوتیں لے کر ان کو نہیں چھپاتے) جیسے اللہ کے کلام کو بگاڑنے والے علماء کرتے ہیں۔
اولءِک لھم اجرھم عند ربھم یہی لوگ ہیں جن کا خصوصی اجر ان کے رب کے پاس ہے یعنی ان کے لیے مخصوص اجر ہے جو دوسروں سے زائد ہے جیسا کہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے اُوْلٓءِکَ یُوْتُوْنَ اَجْرَھُمْ مَّرَّتَیْنَ حضرت ابوموسیٰ اشعری کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : تین (شخص) ہیں جن کا اجر دوہرا ہے (تینوں میں سے) ایک وہ کتابی شخص ہے جو (پہلے) اپنے پیغمبر پر ایمان لایا (پھر) محمد ﷺ پر بھی ایمان لایا۔ (الحدیث صحیح مسلم و صحیح بخاری)
ان اللہ سریع الحساب یہ حقیقت ہے کہ اللہ جلد حساب کرلینے والا ہے کیونکہ وہ اعمال اور اعمال کے لائق جزاء سزا سے واقف ہے اور سوچنے کی اس کو ضرورت نہیں۔ روایت میں آیا ہے کہ اللہ تمام مخلوق کا حساب آدھے دن کی بقدر مدت میں طے کردے گا اور آدھادن بھی دنیا کے ایک دن کے آدھے کے برابر۔ آیت کا مقصود یہ ہے کہ جس اجر کا وعدہ کیا گیا ہے وہ بہت جلد ملنے والا ہے۔ سرعت حساب سے مجازاً مراد ہے جلد بدلہ دینا۔
Ayah 3:200یا یھا الذین امنو اصبروا اے ایمان والو جمے رہو یعنی اپنے دین پر، اوامرو نواہی کی تکلیفوں پر، خواہشات نفس کی مخالفت پر۔ اپنے رب کی محبت وطاعت پر۔ رب کی محبت وطاعت کسی وقت نہ چھوڑو نہ دکھ میں نہ سکھ میں نہ سختی میں نہ نرمی میں اور جمے رہو دشمنوں سے جہاد کرنے، پر شدائد و مصائب برداشت کرنے پر۔ جنید نے فرمایا : صبر کا معنی ہے مصائب پر بغیر بےتابی کے نفس کو جمائے رکھنا۔
و صابروا اور شدائد جنگ پر دشمنوں سے زیادہ جمے رہو کیونکہ تمہاری طرح (زخموں کا اور بھوک پیاس تھکان وغیرہ کا) ان کو بھی دکھ ہوتا ہے مگر (نتیجہ میں) ان کو (جزاء آخرت اور جنت کی) کوئی امید نہیں ہوتی اور تم اللہ سے امید رکھتے ہو۔ اصبروا میں عام صبر کا حکم دیا گیا ہے اور صابروا میں خاص قسم کے صبر کا۔
جس طرح کفار کے مقابلہ میں جہاد اصغر کرنے پر صبر ہوتا ہے اسی طرح نفس کے مقابلہ میں جہاد اکبر کرنے کا حکم ہے نفس دنیا اور دنیا کی خواہشات کی طلب میں بڑی بڑی تکلیفیں اور دکھ برداشت کرتا ہے اور کبھی ابدی نعمات جنت کو حاصل کرنے کے لیے بھی دکھ اٹھاتا ہے پس صوفی پر لازم ہے کہ ان سب سے زیادہ مولیٰ کی طلب کے لیے شدائد برداشت کرے۔
و رابطوا اور مقابلہ کے لیے مستعد رہو۔
یعنی سرحدوں پر دشمنوں سے لڑنے کے لیے خود بھی تیار رہو اور گھوڑوں کو بھی تیار رکھو۔ یا یہ مراد ہے کہ اپنی جانوں کو اپنے دلوں کو اور اپنے بدنوں کو اللہ کے ذکر وطاعت اور مسجدوں کے اندر ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار اور ذکر کے حلقوں کے لیے تیار رکھو۔
ربط کا لغوی معنی ہے باندھنا۔ مراد سرحدوں پر گھوڑے باندھے رکھنا اس کے بعد ربط کے مفہوم میں مزید توسیع کی گئی اور معنی ہوگیا سرحد پر ہر مقیم کا دشمن کو دفع کرنے کے لیے مستعد رہنا خواہ اس کے پاس گھوڑا ہو یا نہ ہو۔ پھر مفہوم میں اس سے بھی زیادہ توسیع کی گئی اور معنی ہوگئے ہر نگرانی پر لگے ہوئے آدمی کا رکاوٹوں کو دفع کرنا۔ مرابط 1 مستعدی اور چوکیداری میں دشمن سے بڑھ جانا۔ یعنی تم سے لڑنے کے لیے مستعد تو دشمن بھی ہوتے ہیں مگر تم کو ان سے زیادہ مستعد رہنا چاہئے۔
حضرت سہل بن سعد ساعدی کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ کی راہ (یعنی جہاد) میں سرحد پر ایک دن کی چوکیداری دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے بہتر ہے اور جنت کے اندر ایک کوڑے کی برابر تم میں سے کسی کی جگہ دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے بہتر ہے اور جو بندہ ایک شام یا ایک صبح کو راہ خدا میں نکلتا ہے وہ اس کے لیے دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے بہتر ہے 2 ۔ اس حدیث کا پہلا حصہ صحیحین میں حضرت سہل کی روایت سے اور تیسرا ٹکڑا حضرت انس کی روایت سے بھی آیا ہے۔
حضرت سلمان الخیر کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن اور ایک رات کی چوکیداری سرحد پر کی اس کو حالت اقامت میں ایک ماہ کے روزوں کا ثواب ملے گا اور جو سرحد پر چوکسائی کرنے کی حالت میں مرگیا اس کے لیے اس کا جیسا اجر جاری رکھا جائے گا 3 اور (شہیدوں کی طرح) اس کو رزق ملتا رہے گا اور وہ (قبر کے) فتنہ سے مامون رہے گا 4 ۔
مسلم کی روایت کے یہ الفاظ ہیں ایک دن رات کی سرحد پر چوکیداری مہینہ بھر کے روزوں سے اور مہینہ بھر راتوں کو نما زپڑھنے سے بہتر ہے۔ اگر اسی حالت میں مرجائے گا تو جو عمل وہ کر رہا تھا وہ (قیامت تک) جاری رہے گا اور اس کا رزق جاری رکھا جائے گا اور وہ فتنہ سے محفوظ رہے گا۔ احمد اور ابن ابی شیبہ کی حدیث کے یہ الفاظ ہیں جس نے ایک دن یا ایک رات اللہ کی راہ میں سرحد پر چوکیداری کی اس کے لیے یہ عمل ایسا ہوگا جیسے رمضان بھر کے روزے اور رات بھر کی نمازیں کہ کوئی روزہ ناغہ نہ ہو اور قضا حاجت کے علاوہ (کسی اور کام کے لیے) نما زکو ترک نہ کرے۔
حضرت فضالہ بن عبید راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : ہر میت اپنے عمل پر ختم ہوجاتی ہے (یعنی ہر شخص کا عمل مرنے سے ختم ہوجاتا ہے (سوائے اس کے جو راہ خدا میں سرحد پر چوکسائی کرتا ہوا مرتا ہے اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہے گا اور وہ قبر کے فتنہ سے محفوظ رہے گا 1 ۔ دارمی نے یہ حدیث حضرت عقبہ بن عامر کی روایت سے نقل کی ہے۔ حضرت عثمان کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : راہ خدا میں سرحد پر ایک دن کی چوکسائی دوسرے مقامات پر ہزار دنوں (کی چوکیداری) سے بہتر ہے 2 ۔
بغوی نے ابو سلمہ عبد الرحمن کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ کے زمانہ میں کبھی کوئی جہاد ایسا نہیں ہوا کہ اس میں سرحد پر چوکسائی کی گئی ہو بلکہ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار ہی چوکسائی تھا اور یہی آیت میں مراد ہے) اس تفسیر کا ثبوت حضرت ابوہریرہ کی روایت کردہ حدیث سے ملتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا میں تم کو ایسا عمل بتاؤں جس سے اللہ گناہوں کو مٹاتا اور درجات اونچے کرتا ہے وہ ہے پورا پورا وضوء کرنا باوجود مکروہات کے (یعنی سخت سردی، برفباری وغیرہ کے پورا پورا وضوء کرنا) اور مسجدوں تک جانے کے لیے اپنے قدموں سے زیادہ مسافت طے کرنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں لگا رہنا یہی تمہارا رباط ہے یہی تمہارا رباط ہے یہی تمہارا رباط ہے 3 ۔
واتقوا اللہ اور اللہ سے ڈرو۔
لعلکم تفلحون کامیاب ہونے کے امید رکھتے ہوئے۔ فلاں کا معنی ہے نا مرغوب چیز سے خلاص ہونے کے بعد محبوب چیز کو پالینا۔ لَعَلَّ 4 کا لفظ اس لیے استعمال کیا کہ مال تو پوشیدہ ہے۔ کہیں لوگ بغیر اعمال کے امیدوں کے سہارے پر ہی نہ رہنے لگیں۔
سورة آل عمران کی تلاوت کے فضائل
حضرت عثمان بن عفان نے فرمایا : جو شخص آل عمران کا آخر حصہ کسی رات کو تلاوت کرے گا اس کے لیے قیام شب کا ثواب لکھا جائے گا 5 ۔ حضرت ابو امامہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : زھراء دین یعنی بقرہ اور آل عمران کو پڑھو قیامت کے دن یہ دونوں (پڑھنے والے کے سر پر) ایسی ہوں گی جیسے دو بدلیاں یا دو سائبان یا چھائے ہوئے پرندوں کے دو جھنڈ۔ اپنے پڑھنے والوں کی یہ دونوں سورتیں حمایت کریں گی 6 ۔ حضرت نواس بن سمعان کی روایت ہے کہ میں نے خود سنا رسول اللہ فرما رہے تھے قیامت کے دن قرآن اور ان قرآن والوں کو پیش کیا جائے گا جو قرآن پر عمل کرتے تھے سب سے آگے سورة بقرہ اور آل عمران ہوں گی یہ دونوں ایسی ہوں گی جیسے چھائے ہوئے پرندوں کے دو جھنڈ۔ یہ دونوں سورتیں اپنے پڑھنے والے کی حمایت کریں گی 1 ۔ مکحول کا قول 2 ہے دو بدلیاں یا دو سیاہ سائبان جن کے اندر روشنی کی چمک ہو یا جیسے جمعہ کے دن جو شخص سورت آل عمران پڑھتا ہے رات تک اس کے لیے فرشتے دعا کرتے ہیں 3 ۔
الحمد رب العالمین و صلی اللہ تعالیٰ علٰی خیر خلقہ محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین
سورة آل عمران کی تفسیر 8 ھ بروز دو شنبہ 1197 ھ کو ختم ہوئی اس سے آگے سورة نساء کی تفسیر انشاء اللہ عنقریب آئے گی
الحمد اللہ والمنتہ لہٗکہ سورة آل عمران کی تفسیر مظہری کا ترجمہ 29 / ع 1382 ھ کو صبح تین بجے ختم ہوا۔ فالحمد قبل لہ والحمد بعدلہ