Ayah 3:97فیہ ایٰت بینات اسی میں (صداقت و حقانیت کی) بکثرت واضح علامات موجود ہیں مثلاً پرندے اس کے اوپر نہیں اڑتے۔ شکاری جانور حرم کے باہر اپنے شکار پر حملہ کرتا ہے لیکن اگر شکار بھاگ کر حرم میں داخل ہوجائے تو درندہ اندر نہیں آتا باہر ہی رک جاتا ہے۔
مقام ابراہیم ان نشانیوں میں سے ایک نشانی مقام ابراہیم ہے یہ ترجمہ اس وقت ہوگا جب مقام ابراہیم کو مبتداء اور خبر کو محذوف قرار دیا جائے لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ مقام ابراہیم کو آیات سے بدل قرار دیا جائے اس وقت ترجمہ اس طرح ہوگا کہ کعبہ کے اندر بکثرت واضح نشانیاں ہیں یعنی مقام ابراہیم ہے وغیرہ وغیرہ مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم نے بیت اللہ کی دیوار اونچی کی تھی اور اس پر آپ کے پاؤں کے نشانات پڑگئے تھے لیکن (حاجیوں کے) ہاتھوں کی رگڑ سے رفتہ رفتہ مٹ گیا پس پتھر کی چٹان پر قدموں کے نشانات پڑجانا اور چٹان کے اندر قدموں کا ٹخنوں تک سما جانا اور پتھر میں اتنا گہرا گڑھا پڑجانا اور آثار انبیاء میں سے صرف اسی اثر کا اتنے زمانہ تک باقی رہنا اور کثرت اعداء کے باوجود ہزاروں برس تک اس کا محفوظ رہنا ان امور میں سے ہر چیز کعبہ کے قبلہ ہونے کی واضح نشانی ہے اس لیے بعض علماء نے مقام ابراہیم کو آیات کا عطف بیان قرار دیا ہے بعض علماء کے نزدیک مقام ابراہیم پورا حرم ہے۔
و من دخلہ کان امنا اور جو حرم میں داخل ہوتا ہے وہ مقتول ہونے اور لوٹے جانے سے بےخوف ہوجاتا ہے یہ جملہ ابتدائیہ ہے یا شرطیہ ہے اور معنوی اعتبار سے مقام ابراہیم پر اس کا عطف ہے یعنی آیات بینات میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ حرم میں داخل ہونے والا مامون ہوجاتا ہے۔ اسلام سے پہلے عرب باہم کشت و خون اور قتل و غارت میں مشغول رہتے تھے لیکن جو شخص حرم میں داخل ہوجاتا تھا اس سے کسی قسم کا تعرض نہیں کرتے تھے حسن قتادہ اور اکثر اہل تفسیر کا قول ہے کہ اسی آیت کی طرح ایک اور آیت ہے فرمایا ہے : اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جََعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّارُ مِنْ حَوْلِھِمْ.
امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : جو شخص حرم کے اندر آجائے وہ امن میں آجاتا ہے اس کو قتل کرنا جائز نہیں۔ پس حرم سے باہر اگر کسی نے کوئی جرم موجب قصاص یا موجب حد کیا ہو اور حرم میں آکر پناہ گیر ہوجائے تو اس سے حرم کے اندر نہ قصاص لیا جائے گا نہ حد جاری کی جائے گی البتہ اس کا کھانا پینا بند کردیا جائے گا اور خریدو فروخت بھی اس سے ترک کردی جائے گی تاکہ مجبور ہو کر وہ حرم سے باہر نکل آئے اور اس کو باہر سزا دی جاسکے حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول ہے امام شافعی نے فرمایا : بیرون حرم جرم کرکے حرم میں پناہ لینے والے سے حرم کے اندر بھی قصاص لیا جائے گا۔
لیکن حرم کے اندر کسی نے جرم کیا تو باتفاق علماء حرم کے اندر ہی اس کو سزا دی جائے گی آیت : وَ لَا تُقَاتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الحَرَامِ حَتّٰی یُقَاتِلُوْکُمْ فِیْہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے کہ حرم کے اندر مسلمانوں کی طرف سے کافروں کو قتل کرنے کی ابتداء نہ کی جائے اگر کافر مغلوب ہو کر حرم میں داخل ہوجائیں تو ہاتھوں یا تلواروں یا کوڑوں سے مار کر ان کو نکال دیا جائے یا ان کا محاصرہ کرلیا جائے اور (باہر سے) کھانے پینے کی رسد بند کردی جائے تاکہ مجبور ہو کر وہ باہر نکلیں اس وقت ان سے قتال کیا جائے اور اگر کافر خود حرم کے اندرقتال کا آغاز کردیں تو مسلمانوں کے لیے بھی حرم کے اندر ان سے لڑنا جائز ہے۔
پس آیت مذکورۂ بالا اگرچہ صورۃً خبر ہے لیکن حقیقت میں امر ہے مطلب یہ ہے کہ جو حرم میں داخل ہوجائے اس کو امن دو ۔ جیسے آیت : فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ باوجود خبر ہونے کے امر کا حکم رکھتی ہے یعنی حج کے درمیان نہ بیہودہ فحش کلام کرو نہ گناہ۔
بعض علماء نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ جو شخص حرم کی تعظیم اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اندر داخل ہوگا قیامت کے دن عذاب سے مامون ہوگا۔ ابو داؤد طیالسی نے مسند اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت انس کی روایت سے اور طبرانی نے کبیر اور بیہقی نے شعب میں حضرت سلمان کی روایت سے اور طبرانی نے اوسط میں حضرت جابر کی روایت سے اور دار قطنی نے سنن میں حضرت حاطب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو شخص دونوں حرموں میں سے کسی میں مرے گا قیامت کے دن دوزخ سے بےخوف اٹھے گا۔
حارث بن ابی اسامہ نے مسند میں سالم بن عبد اللہ بن عمر ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن میں ابوبکر ؓ و عمر ؓ (کی قبروں) کے درمیان (قبر) سے اٹھایا جاؤں گا پھر بقیع 1 غرقد کو جاؤں گا اور میرے ساتھ وہ بھی اٹھ کر آئیں گے پھر اہل مکہ کا انتظار کروں گا یہاں تک کہ وہ بھی آجائیں گے پس میری بعثت اہل حرمین کے درمیان ہوگی۔
ابو نعیم نے دلائل النبوۃ میں سالم بن عبد اللہ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ کی یہ روایت موصولاً نقل کی ہے اور خطیب نے بحوالہ نافع حضرت ابن عمر ؓ کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : قیامت کے دن میں ابوبکر و عمر ؓ کے درمیان اٹھایا جاؤں گا یہاں تک کہ اہل حرمین کے درمیان جا کر کھڑا ہوں گا اور مدینہ و مکہ والے (وہاں میرے پاس) آئیں گے۔
و اللہ علی الناس اور لوگوں پر اللہ کا فرض ہے اور اس کی طرف سے لازم ہے الناس سے مراد ہیں وہ لوگ جو آزاد ہوں، ہوشمند ہوں اور بالغ ہوں بچوں اور دیوانوں پر حج فرض نہیں کیونکہ ان میں مخاطب ہونے کی اہلیت ہی نہیں ہے نہ غلاموں پر فرض ہے یہ فیصلہ اجماعی ہے پس اگر کسی کافر نے یا ہو شیار بچہ نے یا غلام نے حج کیا تو بالاجماع کافر پر مسلمان ہونے کے بعد اور بچہ پر بالغ ہونے کے بعد اور غلام پر آزاد ہونے کے بعد حج دوبارہ واجب ہے (سابق ادائیگی کافی نہیں ہوگی) حضرت ابن عباس کی روایت کردہ حدیث اس کی دلیل ہے کہ جس بچہ نے حج کرلیا ہو پھر بالغ ہوگیا ہو تو اس پر دوسرا حج کرنا لازم ہے اور (جو غیر مسلم) دیہاتی حج کرچکا ہو پھر (مسلمان ہو کر) اس نے ہجرت کی ہو اس پر بھی دوسرا حج کرنا واجب ہے اور جو غلام حج کرچکا ہو پھر آزاد کردیا گیا ہو تو اس پر بھی دوسرا حج کرنا فرض ہے۔ (رواہ الحاکم)
دیہاتی سے غیر مسلم دیہاتی مراد ہے کیونکہ عرب کے مشرک بھی حج کیا کرتے تھے حاکم نے اس حدیث کو شرط شیخین 2 کے مطابق کہا ہے ابن ابی شیبہ نے بھی یہ حدیث (مصنف میں) ذکر کی ہے اور محمد بن کعب قرظی کی روایت سے ابو داؤد نے اس کو مرسلاً ذکر کیا ہے حضرت جابر ؓ سے بھی یہ حدیث مروی ہے مگر اس کی سند ضعیف ہے ان احادیث کو امت اسلامیہ نے قبول کیا ہے اور ان کے مضامین پر اجماع امت ہے اس لیے آیت کے عموم کی تخصیص ان احادیث سے جائز ہے 1 ۔
حج البیت کعبہ کا حج۔ ابو جعفر، حمزہ، کسائی اور حفص کی قراءت میں حج بکسر حاء آیا ہے باقی قاریوں نے حج بفتح حاء پڑھا ہے کسر حاء اہل نجد کے محاورہ میں اور فتح حاء اہل حجاز کے محاورہ میں ہے معنی دونوں کا ایک ہی ہے صاحب مدارک نے لکھا ہے کہ بکسر حاء اسم ہے اور بفتح حاء مصدر۔
حج کا لغوی معنی ہے قصد کرنا اس جگہ ایک مخصوص عبادت مراد ہے یہ لفظ اس جگہ مجمل ہے لیکن رسول اللہ کے فعل اور دوسری آیات میں اس کا (تفصیلی) بیان موجود ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاض النَّاس ایک اور آیت میں آیا ہے : وَ لْیَطَّوَّفُوْا بالْبَیْتِ العَتِیْقِ (پہلی آیت میں عرفات سے روانگی کا بیان ہے اور دوسری آیت میں طواف کعبہ کا حکم ہے)
مسئلہ : اجماع امت ہے کہ حج ارکان اسلام میں سے ایک رکن اور فرض عین ہے حضرت ابن عمر کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اسلام کی (عمارت کی) بنا پر پانچ امور پر ہے لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کا اقرار اور نماز ٹھیک ٹھیک ادا کرنا اور زکوٰۃ دینا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ (صحیح بخاری و مسلم) فرضیت حج کے متعلق احادیث بکثرت آئی ہیں۔ (1) [ حضرت عمر ؓ نے فرمایا تھا اگر لوگ حج کو چھوڑ دیں میں ان سے جہاد کروں گا جیسے نماز اور زکوٰۃ کے سلسلہ میں ہم جہاد کرتے ہیں۔ (از مولف)]
من استطاع الیہ سبیلا یعنی ان لوگوں پر جو کعبہ تک پہنچنے کی استطاع رکھتے ہوں۔ یہ جملہ الناس سے بدل ہے اس لیے جو مستطیع نہ ہو اس پر حج فرض نہیں۔ سبیلاً سے مراد ہے راستہ پر چلنا سبیلاً کی طرف استطاع کی نسبت مجازی ہے جیسے : جَرَی النَّھْرُ میں نہر کی طرف نسبت مجازی ہے (کیونکہ بہنے والی چیز پانی ہے نہر یعنی گڑھا جس میں پانی بہتا ہے خود نہیں بہتا) چونکہ حج کی فرضیت صرف اہل استطاعت پر ہے۔ اس لیے علماء کا اتفاق ہے کہ وجوب حج کے لیے راستہ کا پر امن ہونا لازم ہے اور راستہ میں جو فرودگاہیں ہوں ان میں کھانا پانی ملنا بھی ضروری ہے خطرۂ راہ کی صورت میں حج فرض نہیں۔ اگر راستہ میں سمندر پڑتا ہو اور اکثر سلامتی کے ساتھ سمندری راستہ طے ہوجاتا ہو تو حج واجب ہوگا صرف سمندر کا درمیان میں ہونا وجوب حج سے مانع نہیں ہے۔ (2)[ فتاوی قاضی خان میں امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ منقول ہے کہ سمندر حائل ہو تو راستہ کو غیر مامون قرار دیا جائے گا یعنی حج فرض نہیں ہوگا، جیحون، سیحون، دجلہ، فرات دریا ہیں سمندر نہیں ہیں۔ مولف ] امام شافعی (رح) کا ایک قول اس کے خلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک (رح) کے نزدیک جسمانی صحت بھی شرط ہے۔ (زیادہ) ضعیف اور پاؤں سے معذور شخص پر حج واجب نہیں خواہ وہ مال خرچ کرکے اپنے قائم مقام دوسرے کو بھیج سکتا ہو کیونکہ وہ خود اہل استطاعت نہیں اور حج ایک بدنی عبادت ہے اور بدنی عبادت کا مقصود ہوتا ہے خود تکلیف اٹھانا، نائب کو اپنی جگہ بھیجنے سے اس عبادت کا اصل مقصد حاصل نہیں ہوتا۔
امام شافعی اور امام احمد (کے نزدیک بدنی صحت شرط نہیں ہے اس لیے ان) کے نزدیک معذور، لنگڑا اور کمزور شخص اہل استطاعت ہے یعنی اس کو مالی استطاعت حاصل ہے۔ بغوی نے (اس قول کی تائید میں) لکھا ہے کہ محاورہ میں بولا جاتا ہے۔ زید اپنا مکان بنانے کی استطاعت رکھتا ہے یعنی مال خرچ کرکے مکان بنوا سکتا ہے خواہ خود اپنے ہاتھ سے تعمیر نہ کرسکتا ہو۔
ہم کہتے ہیں کہ ایسا شخص حج کی استطاعت نہیں رکھتا یعنی حج کے خاص ارکان خود ادا نہیں کرسکتا خواہ مال خرچ کرکے دوسرے سے کراسکتا ہو۔ حج کو مکان کی تعمیر پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ حج بدنی عبادت ہے اور مکان کی تعمیر کا مقصد خود تعمیر کرنا نہیں ہوتا۔ شافعی اور احمد نے اپنے قول کی دلیل میں حضرت ابن عباس کی روایت پیش کی ہے کہ فضل (بن عباس ؓ حضور اقدس کے ردیف تھے خاندان خثعم کی ایک عورت آئی فضل اس کی طرف دیکھنے لگے وہ بھی فضل کی طرف دیکھنے لگی۔ رسول اللہ نے فضل کا منہ دوسری طرف موڑ دیا اس عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ اللہ کا فریضہ حج میرے باپ پر اس وقت آیا جبکہ وہ بہت بڑا بوڑھا ہے کجاوہ میں سنبھل کر بیٹھ بھی نہیں سکتا کیا میں اس کی طرف سے حج کرلوں ؟ فرمایا : ہاں۔
دوسری روایت میں آیا ہے کہ وہ ٹھیک سے کجاوہ میں بیٹھ بھی نہیں سکتا تو کیا اگر میں اس کی طرف سے حج کرلوں تو ادا ہوجائے گا ؟ فرمایا : ہاں ! یہ واقعہ حج وداع کا ہے۔ (صحیح بخاری و مسلم)
جواب : یہ حدیث آحاد ہے کتاب اللہ کی قائم کی ہوئی استطاعت کی شرط حدیث احاد سے منسوخ نہیں کی جاسکتی۔ جواب کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اللہ کا فریضہ حج جس کی فرضیت کتاب اللہ میں بشرط استطاعت آئی ہے میرے باپ پر ایسی حالت میں آیا ہے کہ وہ استطاعت نہیں رکھتا تو کیا میں اس کی طرف سے حج کرلوں یعنی کیا میرے لیے اس کی طرف سے حج کرنا جائز ہے یا یہ مطلب ہے کہ کیا میرے حج کرنے سے اس کو ثواب اور نفع ہوگا ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : (یعنی اگرچہ اس پر حج فرض نہیں ہے مگر تمہارے حج کرنے سے اس کو فائدہ ضرور ہوگا) ۔
اعتراض : بعض روایات میں یہ لفظ بھی آیا ہے کہ حج اس پر فرض ہے۔
جواب : اگر یہ الفاظ پایہ ثبوت تک پہنچ جائیں تو ان سے اس عورت کے خیال کا اظہار ہوتا ہے (کہ وہ اپنے نزدیک یہی سمجھی تھی کہ بوڑھے باپ پر بھی حج فرض ہے) ۔
اعتراض : رسول اللہ نے اس کو جواب دیا اگر اس کا خیال صحیح نہ ہوتا تو حضور ﷺ بیان فرمادیتے (کہ تیرا خیال غلط ہے تیرے باپ پر اس حالت میں حج فرض ہی نہیں ہے) اس اعتراض کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ حضور ﷺ نے جواب اس کے سوال کا دیا تھا اس نے حج کرنے کے متعلق پوچھا تھا۔ حضور ﷺ نے ہاں فرما دیا یعنی اس کی طرف سے تو حج کرلے کیونکہ حضور نے محسوس فرما لیا تھا کہ اس عورت کے دل میں اپنے باپ کو نفع اور ثواب پہنچانے کا بڑا شوق ہے اس مطلب کی تائید حضرت ابن عباس کی اس روایت سے ہوتی ہے جس کو عبد الرزاق نے بیان کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا اپنے باپ کی طرف سے حج کرلے اگر تو اس کی بھلائی میں اضافہ نہیں کر پائے گی تو برائی میں بھی زیادتی نہیں کر یگی۔ لیکن حفاظ حدیث نے اس روایت کو شاذ کہا ہے (اور شاذ ناقابل استدلال ہے) ۔
اولٰی جواب یہ ہے کہ حدیث مذکور کو اس صورت پر محمول کیا جائے کہ حالت صحت میں حج فرض ہوا ہو اور اداء فرض سے پہلے اس پر کمزوری کا دور آجائے یا پاؤں سے معذور ہوجائے ایسے شخص سے فریضہ حج ساقط نہیں ہوتا جب تک اس کی زندگی میں اس کے مال سے کوئی دوسرا شخص اس کی طرف سے حج نہ کرے یا مرنے کے وقت حج کی وصیت نہ کردے بغیر حج کئے مرجائے تو اس کا وارث اس کی طرف سے حج کرلے یا کسی غیر کو مال دے کر اس کی طرف سے حج کرادے۔ پس کسی کی طرف سے حج فرض کرنا قضائے حج ضرور ہے مگر بمثل غیر معقول (یعنی خلاف قیاس) مگر اس حدیث میں اس کا حکم آگیا ہے (لہٰذا خلاف قیاس بھی مانا جائے گا) جیسے پیرنا کا رہ کے حق روزہ کا فدیہ کتاب اللہ کی صراحت سے ثابت ہے (اور خلاف قیاس ہے مگر واجب التسلیم) حج کی فرضیت حدیبیہ کے سال یعنی 6 ھ میں ہوئی تھی۔ اللہ نے فرمایا تھا : وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ ﷲِ اور حدیث والا قصہ حجۃ الوداع کا ہے اس لیے ہوسکتا ہے کہ اس عورت کا باپ 6 ھ کے بعد حج وداع سے پہلے ضعیف ہوگیا ہو، وا اللہ اعلم۔
امام صاحب (رح) کے نزدیک وجوب حج کے لیے بینائی بھی شرط ہے نابینا پر حج واجب نہیں ہے خواہ رہبر اس کے پاس موجود ہو کیونکہ وہ خود اہل استطاعت نہیں ہے اور دوسرے کے سہارے سے استطاعت قابل اعتبار نہیں ہے۔ امام ابو یوسف، امام محمد اور جمہور کے نزدیک نابینا پر حج فرض ہے بشرطیکہ اس کے پاس رہبر موجود ہو۔ وجوب جمعہ میں بھی یہی اختلاف ہے۔
امام ابوحنیفہ کے نزدیک عورت پر ادائیگی حج اس وقت واجب ہوتی ہے جب اس کے ساتھ اس کا شوہر یا کوئی دوسرا محرم ہو اور مکہ تک جانے میں تین منزل کا فاصلہ ہو۔ امام احمد کے نزدیک مسافت کی قلت و کثرت کا اعتبار نہیں بہر صورت بغیر محرم کے عورت پر وجوب حج ہوتا ہی نہیں۔ اس لیے اگر محرم موجود نہ ہو یا محرم اس کے ساتھ نہ جائے یا اتنی اجرت مانگتا ہو کہ عورت ادا کرنے پر قادر نہ ہو تو حج واجب نہیں۔ کیونکہ شرعاً عورت کو بغیر شوہر یا محرم کے سفر کرنے کی ممانعت کردی گئی ہے اور جس چیز کی شرعاً ممانعت کردی گئی ہے وہ غیر موجود کے حکم میں ہے تو گویا بغیر محرم کے عورت کو صاحب استطاعت ہی نہیں سمجھا جائے گا۔
امام صاحب کے قول کی دلیل وہ حدیث ہے جو حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے آئی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ عورت بغیر محرم کے تین منزل پر سفر نہ کرے۔ (صحیح بخاری ومسلم) مسلم کی روایت میں آیا ہے کہ جو عورت اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہے وہ تین رات کا سفر بغیر محرم کے نہ کرے۔ دوسری روایت میں تین رات سے زائد کا لفظ آیا ہے۔ تین رات کے لفظ والی حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی مروی ہے جس کو مسلم اور طحاوی نے نقل کیا ہے تین رات سے زائد کا لفظ طحاوی کی روایت میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی منقول ہے۔
عمرو بن شعیب کے دادا کی روایت میں تین دن کا لفظ طحاوی نے نقل کیا ہے حضرت ابو سعید خدری کی روایت میں ہے تین دن یا زائد کا فاصلہ یہ روایت مسلم اور طحاوی نے نقل کی ہے مسلم کی روایت میں تین رات سے اوپر یا زائد کا لفظ ہے۔
امام احمد نے فرمایا : تین رات یا تین رات سے زائد کی شرط محض اتفاقی ہے (تعیین مدت مقصود نہیں ہے) پھر امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک تو مفہوم مخالف معتبر بھی نہیں ہے کہ اگر تین دن کی مسافت نہ ہو تو بغیر محرم کے عورت کا سفر جائز ہوجائے اگر شرط کو ضروری قرار دیا جائے گا اور اتفاقی نہ مانا جائے گا تو پھر احادیث میں (ناقابل ازالہ) تعارض ہوگا تین اور تین سے زیادہ والی روایات میں توافق نہ ہو سکے گا۔ امام احمد جو تین روز کی مسافت سے کم سفر کو بھی عورت کے لیے بغیر محرم کے ممنوع قرار دیتے ہیں ان کے اس قول کا ثبوت حضرت ابوہریرہ کی اس روایت سے ہوتا ہے جو صحیحین میں مذکور ہے اور اس میں ایک دن رات کی مسافت کی صراحت ہے مسلم کی ایک روایت میں فاصلہ یک یوم اور دوسری روایت میں مسافت یک شب مذکور ہے اور حضرت ابو سعید خدری کی روایت میں حسب ذکر مسلم مسافت دو روز اور حسب روایت طحاوی فاصلہ دو شب مذکور ہے۔
ابو داؤد اور طحاوی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث نقل کی ہے کہ سوائے شوہر یا کسی محرم کی ہمراہی کے عورت ایک منزل سفر نہ کرے۔ ابن حبان نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں نقل کیا ہے اور حاکم نے نقل کرنے کے بعد شرط مسلم کے موافق کہا ہے اور طبرانی نے معجم میں تین میل کے لفظ کی صراحت کی ہے۔ ان مختلف روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک دن یا دو دن یا تین دن کی شرط صرف تمثیلی ہے (عدد معین مراد نہیں ہے) قلیل ترین تعداد مراد ہے ایک دن تو کم ترین ابتدائی عدد ہوتا ہی ہے اور برید اکثر ایک ہی منزل ہوتا ہے دو سے کثرت شروع ہوتی ہے اور تین جمع کا اوّل مرتبہ ہے بعض احادیث میں بلاشرط ممانعت آئی ہے حضرت ابن عباس کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : بغیر محرم کے عورت سفر نہ کرے اور عورت کے پاس کوئی (اجنبی) شخص اس وقت تک نہ داخل نہ ہو جب تک کہ عورت کے پاس اس کا کوئی محرم نہ ہو۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ میں فلاں جہاد میں جانا چاہتا ہوں اور میری بیوی حج کرنا چاہتی ہے فرمایا : تم اس کے ساتھ چلے جاؤ۔ (صحیح بخاری ومسلم) اس سلسلہ کی حدیث حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بھی آئی ہے۔
امام شافعی کا قول ہے کہ معتمد عورتوں کے ساتھ عورت حج کو جاسکتی ہے دوسرے قول میں کہ کسی ایک معتمد عورت کے ساتھ جاسکتی ہے لیکن جن معتمد عورتوں کے ساتھ جائے ان میں سے کسی ایک کا محرم مرد اس کے ساتھ ہونا چاہئے منہاج میں (یہ شرط مذکور نہیں ہے) بلکہ اس کا شرط نہ ہونا مذکور ہے ایک روایت میں امام شافعی (رح) کا قول اس طرح آیا ہے کہ بغیر (معتمد) عورتوں کے بھی عورت حج کو جاسکتی ہے۔
امام مالک (رح) نے فرمایا : اگر راستہ بےخطر ہو تو عورتوں کی جماعت (بغیر مرد کے) بھی حج کو جاسکتی ہے ان دونوں اماموں کے قول کے خلاف ہماری دلیل وہ حدیث ہے جس کا ذکر ہم اوپر کر آئے ہیں۔ استطاعت سے مراد سفر کی ایسی استطاعت ہے جس کی موجودگی میں حج کو جانے سے کوئی خرابی نہ پیدا ہو اسی لیے جمہور کے نزدیک دیگر لوازم سفر کی فراہمی کے علاوہ زاد راہ اور سواری ہونا استطاعت کے لیے ضروری ہے اور یہ بھی لازم ہے کہ قرض دار نہ ہو اور بیوی، بچوں کے مصارف واپسی تک کے دے چکا ہو کیونکہ جو مالدار اصلی ضروریات کی فراہمی میں مشغول ہو وہ نادار کی طرح ہوتا ہے اسی لیے اس کے مال پر زکوٰۃ واجب نہیں جس کے پاس زاد راہ یا سواری نہ ہو وہ عموماً سفر کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا اور شریعت میں ہر قسم کی تنگی دفع کردی گئی ہے۔ (یعنی شریعت نے کسی پر تنگی نہیں کی ہے) ۔ (3) [ اگر کوئی غیر مکی نادار ہو اور اس کی اولاد اپنی طرف سے اس کے زاد راہ اور سواری کا انتظام کردے تو اس سے یہ شخص صاحب استطاعت نہیں سمجھا جاتا۔ امام شافعی کا قول اس کے خلاف ہے لیکن اگر زاد راہ اور سواری کا انتظام کرنے و الا کوئی ٰگر شخص ہوتا اس میں امام شافعی کے دو قول ہیں، مثب اور منفی، بعض روایات میں آیا ہے کہ غیر ہونے کی حالت میں امام شافعی عدم استطاعت کے قائل ہیں اور اولاد ہونے کی صورت میں امام شافعی کے دو قول ہیں۔ (فتاوی قاضی خان) ]
داؤد (رح) ظاہری کے نزدیک وجوب حج کے لیے نہ زاد راہ ضروری نہ سواری۔ امام مالک نے فرمایا : اگر یہ شخص مانگنے کا عادی ہو یا راستہ میں کمائی کرسکتا ہو تو اس کے لیے زاد راہ کی شرط نہیں ہے اور اگر پیدل چلنے پر قادر ہو تو سواری کی شرط نہیں ہے اللہ نے فرمایا ہے : وَ اَذِّنْ فِی النَّاس بالْحَجِّ یَاتُوْکَ رِجَالًا وَ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَاتِیْن مِنْ کُلِّ فَجِّ عَمِیْقٍ.
ہم کہتے ہیں کہ یَا تُوْکَ ایک واقعہ کی خبر اور امر کا جواب ہے اور جو خبر امر کے جواب میں آتی ہے وہ امر کے حکم میں نہیں ہوتی اس لیے آیت سے بلا سواری حج کا وجوب ثابت نہیں ہوتا۔ رہا پیدل چلنے کی قدرت کا مسئلہ تو چلنے کی قدرت ایک پوشیدہ امر ہے کبھی راستہ میں یہ قدرت جاتی رہتی ہے اس لیے شروع ہی سے زاد راہ اور سواری ہونا لازم ہے تاکہ انجام میں ہلاکت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ شرعی احکام عمومی ہوتے ہیں 2 ۔ دیکھو بادشاہ کو سفر میں کوئی تکلیف نہیں ہوتی لیکن اس کے لیے بھی مسافت سفر میں نماز کا قصر اور روزہ نہ رکھنا جائز ہے اور مسافت سفر سے کم اور اس کے لیے بھی روزہ کا ترک جائز نہیں جس کو روزہ رکھنے سے تکلیف ہوتی ہو۔
جمہور کے قول کا ثبوت حضرت انس کی روایت کردہ حدیث ہے کہ رسول اللہ نے آیت : من استطاع الیہ سبیلا کی تفسیر میں فرمایا : کہ سبیل (سے مراد) زاد و سواری۔ یہ حدیث دار قطنی ‘ بیہقی اور حاکم نے حضرت انس کی روایت سے بیان کی ہے حاکم نے اس کو شرط شیخین کے موافق صحیح کہا ہے نیز حضرت حماد بن سلمہ کی روایت سے بھی حاکم نے نقل کی ہے اور شر ط مسلم کے مطابق صحیح قرار دیا ہے اور سعید بن منصور نے سنن میں مرسلاً مختلف طریقوں سے حسن بصری کی روایت سے بیان کیا ہے۔
حضرت ابن عمر کی روایت ہے جس کو امام شافعی ترمذی، ابن ماجہ اور دار قطنی نے بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ حج کو واجب کرنے والی کیا چیزیں ہیں ؟ فرمایا : زاد اور سواری۔ ترمذی نے اس سلسلے کو حسن کہا ہے لیکن اس سلسلہ میں ابراہیم بن یزید جوزی ہے جو امام احمد و نسائی کے نزدیک متروک الحدیث ہے۔ ابن ماجہ اور دار قطنی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : زاد و سواری یعنی اس آیت کی تفسیر میں (استطاعت سبیل کی تشریح کرتے ہوئے) فرمایا : زاد و سواری مگر اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
دار قطنی نے اس حدیث کی روایت کی نسبت حضرت جابر بن عبد اللہ، حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت عائشہ اور عمرو بن شعیب کے دادا کی طرف بھی کی ہے مگر یہ سب طریقے ضعیف ہیں۔
حج میں توشہ ساتھ لینا واجب ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّاد التَّقْوٰی اور توشہ لے لیا کرو اور بہترین توشہ سوال سے بچا رہنا ہے۔ بخاری وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ اہل یمن بغیر توشہ ساتھ لیے حج کرنے پر چل دیتے تھے اور کہتے تھے ہم متوکل ہیں لیکن جب مکہ میں پہنچتے تھے تو لوگوں سے بھیک مانگتے تھے اس پر آیت و تزودوا کا نزول ہوا۔ (4) [ فتاویٰ قاضی خاں میں ہے کہ بعض علماء نے کہا اگر کوئی تاجر جس کا گذران تجارت سے ہوتا ہے اتنے مال کا مالک ہو کہ جانے آنے کے لیے زاد راہ اور سواری کا انتظارم کرلے اور واپسی کے وقت تک اہل و عیال کے لیے ضروری مصارف بھی فراہم کردے اور پھر واپسی کے بعد اس کے پاس اتنا مال بھی رہ جائے کہ تجارت کرسکے تو اس پر حج فرض ہوگا ورنہ نہیں ہوگا اگر کوئی جائیداد والا کچھ جائیداد بیچ کر زاد راہ اور سواری اور بیوی بچوں کے گذار کا سامان فراہم کرسکتا ہو اور پھر بھی اس کے پاس اتنی جائیداد رہ جائے کہ اس کی آمدنی سے گذارا کرسکتا ہو تو اس پر حج فرض ہے ورنہ نہیں اگر کوئی کاشتکار اد راہ اور سوار اور بیوی بچوں کے گذاران کی فراہمی کے بعد ریل پیل اور دوسرے آلات کشاورزی باقی رکھتا ہو کہ واپس آکر کھیتی کرسکے تو اس پر حج فرض ہے ورنہ نہیں
]
و من کفر اور جس نے فرضیت حج کا انکار کیا حضرت ابن عباس، حسن بصری اور عطا خراسانی نے اس لفظ کی یہی تفسیر کی ہے۔ عبد بن حمید نے اپنی تفسیر میں نقیع کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی تو قبیلہ ہذیل کے ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ جس نے حج کو ترک کردیا وہ کافر ہوگیا۔ فرمایا : جس نے (اس طرح) حج کو ترک کردیا کہ اس کو نہ ترک حج کے عذاب کا خوف رہا نہ ادائے حج کے ثواب کی امید (وہ کافر ہوگیا) نقیع تابعی ہے اسلئے یہ حدیث مرسل ہے۔ سعید بن مسیب نے فرمایا : اس آیت کا نزول یہودیوں کے حق میں ہوا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ مکہ کا حج کرنا واجب نہیں ہے۔
سعید بن منصور اور ابن جریر نے ضحاک کا قول بیان کیا ہے کہ جب شروع آیت : وَ ﷲِ عَلَی النَّاس حج البیت نازل ہوئی تو رسول اللہ نے مختلف مذاہب والوں کو جمع کرکے ایک تقریر کی اور فرمایا : کہ اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے اس لیے تم حج کرو۔ یہ سن کر ایک مذہب والوں نے تو اس حکم کو مان لیا یعنی مسلمانوں نے اور پانچ مذاہب والوں نے ماننے سے انکار کردیا یعنی یہودیوں نے، عیسائیوں نے، مشرکوں نے، صابیوں نے، مجوسیوں نے نہ مانا اور اس پر اللہ نے نازل فرمایا : وَ مَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللہ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِیْنَ سعید بن منصور نے عکرمہ کا قول بیان کیا کہ جب آیت : و من یبتغ غیر الاسلام دینا۔۔ نازل ہوئی تو یہودیوں نے کہا ہم تو مسلمان ہیں رسول اللہ نے ان سے فرمایا : کہ اللہ نے مسلمانوں پر حج فرض کیا ہے یہودیوں نے حج کرنے سے انکار کردیا اور کہنے لگے ہم پر حج فرض نہیں کیا گیا اس پر اللہ نے آیت : و من کفر۔۔ نازل فرمائی۔
(حج در حقیقت وسعت مال اور صحت جسمانی کا عملی شکریہ ہے) پس حج نہ کرنے کا معنی ہوا خدا داد مال و صحت کا شکریہ ادا نہ کرنا یہی کفران نعمت ہے 2 ۔ اوّل صورت میں کفر کرنے کا معنی ہے حج نہ کرنا حج نہ کرنے کی تعبیر کفر سے وجوب حج کو پختہ کرنے اور تارک حج کو سخت تنبیہ کرنے کے لیے کی۔ یہ دونوں معنی حضرت ابو امامہ کی روایت کردہ حدیث میں مراد ہوسکتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس کو کھلی ہوئی احتیاج یا روک دینے والا مرض یا ظالم بادشاہ حج سے روکنے والا نہ ہو اور اس پر بھی وہ حج نہ کرے تو چاہے وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر (ا اللہ کو اس کی پرواہ نہیں) یہ روایت دارمی نے مسند میں اور بغوی نے اور ابن جوزی نے موضوعات میں ذکر کی ہے۔ حفاظ حدیث نے اس حدیث پر نکتہ چینی کی ہے۔ حضرت علی کی حدیث ہے کہ جو شخص زاد راہ اور سواری ایسی رکھتا ہو کہ بیت اللہ تک پہنچ سکے اور حج نہ کرے تو بعید نہیں کہ یہودی اور عیسائی ہونے کی حالت میں مرے۔ (رواہ الترمذی وضعفہ)
فان اللہ غنی عن العالمین تو بلاشبہ اللہ سارے جہان سے بےنیاز ہے (اس کو کسی کی عبادت کی ضرورت نہیں جو کرے گا اپنے لیے کرے گا۔ )
آیت : وَ ﷲِ علی الناس سے عن العالمین تک حکم حج کو مندرجہ ذیل وجوہ کی بنا پر تاکید کے ساتھ بیان کر رہی ہے : (1) امر وجوبی کی تعبیر صیغہ خبر سے کی گئی۔ (2) امر کو جملہ اسمیہ کی صورت میں ظاہر کیا۔ (3) اللہ کا وجوبی حق ہونا بیان کیا۔ (4) اوّل عمومی حکم دیا (اور فرمایا : وَ اللہ علی الناس حج البیت پھر حکم کو ایک شرط کے ساتھ مخصوص کردیا اور فرمایا : من استطاع الیہ سبیلاً ) گویا ابہام کے بعد وضاحت کی اور دو بار حکم دیا (ایک بار مبہم دوسری بار واضح) ۔ (5) ترک حج کو کفر فرمایا : گویا یہ کافروں کا فعل ہے۔ (6) اپنا استغنا ظاہر کیا اور اس جگہ استغناء کا ذکر نفرت اور بغض پر دلالت کر رہا ہے ( گویا مستغنی ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تارک حج سے نفرت اور بغض کرتا ہے۔ (7) لفظ اللہ کو دوبارہ ذکر کیا اور ضمیر ذکر نہیں کی تاکہ تارک حج کی طرف سے اللہ کا استغنا بصورت تعمیم مدال طور پر ظاہر ہوجائے اور اللہ کا انتہائی غضب معلوم ہوجائے۔
حج البیت میں حج کی اضافت بیت کی جانب بتارہی ہے کہ کعبہ وجوب حج کا سبب ہے اور چونکہ کعبہ متعدد نہیں اسلئے عمر میں حج کا وجوب بھی بار بار نہیں ہوتا۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ہے حج (فرض) ایک بار ہے جو زیاہ کرے تو نفل ہوگا۔ (رواہ احمد والنسائی)
کعبہ نام کسی خاص چھت یا پتھر مٹی کی دیواروں کا نہیں ہے۔ پتھر مٹی کو اٹھا کر کہیں دوسری جگہ ڈال دیا جائے تو کعبہ منتقل نہیں ہوجائے گا اگر اس مصالحہ سے کسی دوسری جگہ کوئی عمارت بنا دی جائے تو وہ قبلہ سجود نہ بن جائے گی بلکہ کعبہ ایک ربانی لطیفہ ہے جس کی فرو دگاہ ایک موہوم مکان ہے جہاں تجلیات ذاتیہ کی بارش ہوتی ہے پس ظاہر کعبہ اگرچہ مخلوق ہے اور اس کا تعلق عالم خلق سے ہے مگر حقیقت میں کعبہ ایک باطنی نسبت ہے جس کا ادراک نہ حس کرسکتی ہے نہ خیال بلکہ محسوس (ظاہری) ہونے کے باوجود وہ محسوس نہیں ہے اور جہت مخصوصہ میں ہونے کے باوجود اس کی کوئی جہت نہیں۔ یہ ظاہر کعبہ کی شان ہے۔ رہی کعبہ کی حقیقت تو وہ کون جانے پاک ہے وہ ذات جس نے ممکنات کو وجوب کا آئینہ (اور پرتو گاہ) بنایا اور عدم (ذاتی) کو وجوب و وجود کا مظہر قرار دیا۔ پھر کعبہ کی حقیقت سے بالا حقیقت قرآن ہے۔ (جو مخلوق بھی نہیں ہے) اور حقیقت قرآن سے بالا تر نماز کی حقیقت ہے اور اس مقام پر پہنچ کر سالک کی سیر بوساطت پیغمبر ختم ہوجاتی ہے اور فنا وبقاء کا مقام آتا ہے اور اس سے بھی اوپر خالص معبودیت (الوہیت) کا مقام ہے جس کی سیر صرف نظری ہی ہوسکتی ہے (سلوکی نہیں ہوسکتی) وا اللہ اعلم۔
Ayah 3:98قل یا اھل الکتاب لم تکفرون بایات اللہ اے محمد ﷺ آپ کہہ دیں کہ اے حاملان کتاب (سماوی) تم اللہ کے ان نقلی اور عقلی دلائل کا کیوں انکار کرتے ہو جو محمد رسول اللہ کے فرضیت حج وغیرہ کے دعوے کی سچائی کو ظاہر کر رہی ہیں۔ اہل کتاب کو خصوصیت کے ساتھ مخاطب کرنے کا حکم اس وجہ سے دیا کہ کتاب کو جانتے ہوئے کفر کرنا بد ترین فعل ہے۔
وا اللہ شہید علی ما تعملون حالانکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کفر اور تحریف کتاب کے عمل سے باخبر ہے (دیکھ رہا ہے) تم کو اس کی ضرور سزا دے گا اس لیے حق کو پوشیدہ رکھنے کی تمہاری خواہش سود مند نہیں ہوگی۔
Ayah 3:99قل یا اھل الکتاب لم تصدون عن سبیل اللہ من امن آپ کہہ دیں اے اہل کتاب تم کیوں اللہ کے راستہ سے یعنی اسلام کی راہ سے جو اللہ تک پہنچاتی ہے۔ ایمان لانے والوں کو روکتے ہو یعنی جو لوگ ایمان لانا چاہتے ہیں ان کو ایمان لانے سے کیوں روکتے ہو خطاب اور استفہام کی تکرار سے اس طرف اشارہ ہے کہ کفر اور ایمان سے باز داشت دونوں بجائے خود قبیح اور موجب عذاب ہیں اور کسی ایک فعل کا عذر بھی ممکن نہیں گویا دو مرتبہ خطاب اور استفہام کرکے یہودیوں کی دونوں بےجا حرکتوں پر قوت کے ساتھ تنبیہ فرمائی ہے۔
تبغونھا عوجا عوجاً مصدر بمعنی اسم مفعول ہے یعنی تم چاہتے ہو کہ اللہ کا راستہ ٹیڑھا ہو یا مصدری معنی ہی مراد ہے اور ھا سے پہلے لام محذوف ہے یعنی تم اللہ کے راستہ کے کج ہونے کے طلب گار ہو یہودی حق کو چھپاتے تھے رسول اللہ ﷺ کے اوصاف مندرجہ تورات کو بگاڑ کر بیان کرتے تھے مذہب یہودیت کو دوامی کہتے تھے مؤمنوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکاتے تھے تاکہ ان کی وحدت باقی نہ رہے اس و خزرج کے قبائل کے درمیان گذشتہ جاہلیت کے زمانہ کی عداوتوں کی یاد دہانی کرکے کوشش کرتے تھے کہ ازسر نو دیرینہ عداوتیں زندہ ہوجائیں۔
و انتم شہداء تم اپنے (نازیبا) کرتوت کے خود گواہ ہو یا یہ مراد ہے کہ رسول اللہ کے اوصاف اور اسلام کا دین خدا ہوناجو تورات میں مذکور ہے تم خود اس کے گواہ (اگرچہ زبانوں سے اس کی شہادت نہیں دیتے ہو) ۔
و ماا اللہ بغافل عما تعملون اور اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے اور نہ تمہاری اس خیانت نفس سے ناواقف ہے جو تم مسلمان ہونے والوں کو ایمان لانے سے روکتے ہو۔
ابن اسحاق اور ابو الشیخ اور ابن جریر نے زید کی مرسل روایت بیان کی ہے جس کو بغوی نے بھی ذکر کیا ہے کہ شماس بن قیس یہودی بڑا سخت کافر تھا مسلمانوں پر بہت طعن وتشنیع کرتا تھا ایک مجلس میں اوس اور خزرج قبیلوں کے کچھ لوگ جمع تھے شماس ادھر سے گذرا اور مسلمانوں کو باہم (الفت کی) بات چیت کرتے دیکھ کر جل گیا۔ جاہلیت کے زمانہ میں ان دونوں خاندانوں میں عداوت تھی دور اسلامی میں الفت ہوگئی یہودی کو یہ دیکھ کر بہت غصہ آیا کہنے لگا بنی قیلہ کی جماعتیں تو اس ملک میں کبھی جمع نہیں ہوئیں اگر یہ جمع ہوگئے تو ہمیں ان کے ساتھ اس جگہ استقرار حاصل نہ ہوگا یہ کہنے کے بعد اپنے ساتھی کو جو ایک یہودی جوان تھا حکم دیا کہ جاؤ اور جاکر انصار کی مجلس میں بیٹھو ان کے سامنے جنگ بعاث اور جنگ بعاث سے پہلی عداوتوں کا تذکرہ کرو اور جنگ بعاث 1 کے متعلق فریقین نے جو (رجزیہ اور فخریہ) اشعار کہے ہیں وہ بھی ان کے سامنے پڑھو۔ یہودی جوان نے اوس و خزرج سے جا کر گفتگو کی 2 ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں قبیلوں میں سے ایک ایک آدمی زانو کے بل کھڑا ہوگیا آپس میں سب جھگڑنے اور مقابل کے خلاف اپنے فخر کا اظہار کرنے لگے۔
ایک شخص قبیلہ اوس کے بنی حارثہ کے خاندان میں سے تھا جس کا نام اوس بن قبطی تھا دوسرا خزرجی تھا جو بنی سلمہ میں سے تھا اس کا نام جبار بن صخر تھا دونوں کے درمیان لاگ ڈانٹ ہوئی ایک نے دوسرے سے کہا اگر تم چاہتے ہو تو ہم بھی از سر نو اس کو 3 زندہ کرنے کو تیار ہیں دونوں فریق غضبناک ہوگئے اور کہنے لگے ہم زور آزمائی کو تیار ہیں مدینہ سے باہر۔ ظاہرہ یعنی حرہ میں جنگ ہوگی سب لوگ حرہ کی طرف چل دئیے۔ اوس اور خزرج نے دور جاہلیت کے نعرے لگائے ہر فریق جمع ہوگیا یہ اطلاع رسول اللہ کو بھی پہنچ گئی آپ ﷺ مہاجروں کی جماعت ساتھ لے کر تشریف لے گئے اور فرمایا : اے گروہ اہل اسلام ابھی تو میں تمہارے اندر موجود ہوں باوجود یکہ اللہ نے تم کو اسلام کی عزت عطا فرما دی اور جاہلیت کی باتیں ختم کردیں اور تمہارے آپس میں الفت پیدا کردی پھر کیا دوبارہ تم جاہلیت کی ایسی پکار مچا کر پہلے کی طرح کافر ہوجاؤ گے اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو اس وقت لوگوں کو احساس ہوا کہ یہ شیطانی اغوا اور دشمن کی دسیسہ کاری تھی فوراً ہاتھوں سے ہتھیار پھینک دیئے اور رونے لگے اور آپس میں گلے مل گئے پھر حضور اقدس کے ساتھ انتہائی فرمانبرداری اور اطاعت گذاری کے ساتھ لوٹ آئے اس پر مندرجہ ذیل آیت اوس اور جبار اور ان کے ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی۔
Ayah 3:100یا یھا الذین امنوا اے اہل ایمان یعنی اے انصار۔ ان تطیعوا فریقاً من الذین اوتوا الکتاب اگر تم اہل کتاب کے کسی فریق یعنی شماس اور اس کے ساتھیوں کے کہنے میں آجاؤگے تو۔
یردوکم بعد ایمانکم کافرین وہ تمہارے مؤمن ہونے کے بعد دوبارہ تم کو کفر کی طرف لوٹا دیں گے یعنی اعمال کفر کی طرف لے جائیں گے زید کا بیان ہے کہ حضرت جابر نے فرمایا میں نے اس روز سے زیادہ کوئی دن کبھی بد آغاز اور خوش انجام نہیں دیکھا۔
شماس بن قیس ہی کے متعلق آیت : قل یا اھل الکتاب لم تصدون۔۔ نازل ہوئی تھی اس میں رسول اللہ کو حکم دیا گیا کہ اہل کتاب سے دریافت کریں۔ 1 اس سے اہل ایمان کی عظمت قدر کا اظہار اور مخاطبِ الٰہی بننے کا طرف اشارہ ہو رہا ہے۔
فریانی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ دور جاہلیت میں اوس و خزرج میں باہم جنگ تھی (دور اسلامی میں سب متفق ہوگئے لیکن پھر بھی جاہلیت کی یا ددلوں میں باقی تھی) ایک روز سب ملے جلے بیٹھے تھے کہ آپس کی عداوت کا کچھ ذکر آگیا اس تذکرہ (پارینہ) کا نتیجہ یہ ہوا کہ سب غضب ناک ہوگئے اور ایک دوسرے کے مقابل ہتھیار اٹھا کر آگیا اس پر آیت :
Ayah 3:101و کیف تکفرون و انتم تتلی علیکم ایٰت اللہ نازل ہوئی کیف استفہامیہ تعجب و انکار کے لیے ہے یعنی تعجب ہے کہ تم اعمال کفر کی طرف جا رہے ہو حالانکہ ابھی تازہ بتازہ اللہ کا کلام رسول اللہ کی معرفت تم پر اتارا جا رہا ہے اور پڑھ کر تم کو سنا یا جا رہا ہے۔
و فیکم رسولہ اور اللہ کا رسول بھی تمہارے اندر موجود ہے جو تمہاری روک ٹوک کرتا وعظ فرماتا اور تمہارے شبہات مٹاتا ہے مطلب یہ ہے کہ کفر سے روکنے والے اور ایمان کی طرف بلانے والے سارے اسبابِ الٰہی موجود ہیں اور تمہارے سامنے جمع ہیں۔ قتادہ نے کہا اس آیت میں دو واضح علم مذکور ہیں اللہ کی کتاب اور اللہ کا نبی۔ رسول خدا تو چلے گئے کتاب اللہ باقی ہے جو اللہ کی رحمت اور نعمت ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں کہ رسول اللہ نے اپنے بعد قیامت تک ہونے والے اپنے جانشینوں کی طرف ہماری رہنمائی فرما دی ہے۔ حضرت زید بن ارقم کی روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہ نے ہمارے مجمع میں کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور اللہ کی حمدو ثناء کے بعد فرمایا : لوگو ! میں محض ایک آدمی ہوں عنقریب میرے رب کا قاصد میرے پاس آئے گا اور میں اس کی دعوت قبول کروں گا میں تمہارے اندر دو بڑی عظمت والی چیزیں چھوڑ رہا ہوں پہلی کتاب اللہ ہے جس کے اندر ہدایت اور نور ہے تم اللہ کی کتاب کو پکڑ لو اور مضبوطی کے ساتھ تھامے رہو۔ (دوسری چیز) میرے اہل بیت ہیں اپنے اہل بیت کے متعلق تم کو اللہ (کے احکام اور خوف) کی یاد دلاتا ہوں۔
دوسری روایت میں آیا ہے کہ اللہ کی کتاب ہی اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ ہے جو اس کے حکم پر چلے گا ہدایت پر ہوگا جو اس کو چھوڑ دے گا گمراہ ہوگا۔ (رواہ مسلم)
ترمذی کی روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ میں تمہارے اندر ایسی چیز چھوڑ رہا ہوں کہ اگر تم اس کو تھامے رہو گے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو گے (یہ دو چیزیں ہیں جن میں سے) ایک دوسری سے مرتبہ میں زائد ہے (ایک) اللہ کی کتاب ہے جو آسمان سے زمین تک ایک آویختہ رسیّ ہے (اس کو پکڑ کر آسمان تک پہنچا جاسکتا ہے دوسری چیز) میری عزت یعنی میرے اہل بیت ہیں حوض پر اترنے کے وقت تک یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے اسی لیے تم کو دیکھنا چاہئے کہ ان دونوں کے معاملہ میں تم میری نیابت کس طرح کرتے ہو۔
ترمذی کی روایت ہے کہ حضرت جابر نے بیان کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا : میں نے حج میں عرفہ کے دن رسول اللہ کو اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہونے کی حالت میں خطبہ دیتے دیکھا آپ ﷺ فرما رہے تھے لوگو ! میں نے تمہارے اندر ایسی چیز چھوڑی ہے کہ اگر اس کو پکڑ لو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے اللہ کی کتاب اور اپنی عترت یعنی اہل بیت۔ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ نے اہل بیت کو پکڑے رہنے کا اس لیے مشورہ دیا کہ اہل بیت ہی ولایت کے سلسلہ میں راہنمائی کے قطب ہیں اگلوں اور پچھلوں میں سے کوئی بھی ان کے وسیلہ کے بغیر درجہ ولایت تک نہیں پہنچ سکتا نمبر اوّل حضرت علی کا ہے پھر آپ کے صاحبزادگان ہیں حسن عسکری تک یہ سلسلہ آتا ہے اور آخری نمبر غوث الثقلین محئ الدین عبد القادر جیلانی کا ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی (رح) نے اسی طرح بیان کیا ہے کہ ان کے بعد دوسرے اولیاء اور علماء امت کا مرتبہ ہے جو بطور وراثت اہل بیت کے حکم میں داخل ہیں کیونکہ سب کے سب اہل بیت ہی کے تابع ہیں رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔
و من یعتصم باللہ اور جو مضبوط پکڑ لے گا اللہ کو یعنی اللہ کے دین کو اور اللہ کی طرف ہمیشہ رخ رکھے گا۔ اصل لغت میں عصمت کا معنی ہے حفاظت اور کسی چیز کی حفاظت کرنے سے اسکا بچاؤ ہوجاتا ہے لہٰذا عاصم کا معنی ہوا بچاؤ کرنے والا (یعنی اللہ کے دین کے ذریعہ سے اپنا بچاؤ کرنے والا) اعتصام (باب افتعال) کا معنی ہے مضبوطی سے کسی چیز کو پکڑ لینا تاکہ ہلاکت سے محفوظ ہوجائے۔
فقد ھدی الی صراط مستقیم تو اس کو ضرور ہدایت مل جائے گی (ا اللہ تک پہنچنے کی) سیدھی راہ کی یعنی کھلے ہوئے راستہ کی جس پر چلنے والا کبھی بھٹک نہیں سکتا۔
بغوی نے مقاتل بن حبان کی روایت سے لکھا ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں اوس اور خزرج کے درمیان دشمنی اور لڑائی تھی جب رسول اللہ ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو آپ ﷺ نے دونوں میں صلح کرادی (اور دونوں قبیلے مسلمان ہو کر باہم صلح کے ساتھ رہنے لگے) اتفاقاً کچھ مدت کے بعد ثعلبہ بن غنم اوسی اور اسعد بن زرارہ خزرجی میں باہمی قبائلی برتری کے متعلق نزاع ہوگیا اوسی نے کہا ہم میں ہی سے تھا وہ خزیمہ بن ثابت جس کی تنہا شہادت کو دو گواہیوں کے برابرمانا گیا تھا اور ہم میں ہی سے تھا حنظلہ جس کو ملائکہ نے غسل دیا تھا اور ہم میں ہی سے تھا عاصم بن ثابت بن افلح اور ہم میں ہی سے تھا سعد بن معاذ جس کی وفات پر عرش الٰہی میں لرزہ آگیا تھا اور بنی قریظہ کے متعلق اس کے فیصلہ کو اللہ نے پسند کیا تھا خزرجی نے کہا ہم میں چار آدمی ایسے ہیں جنہوں نے قرآن کو محکم کرلیا ہے (یعنی قرآن کے حافظ اور لفظ لفظ کے قاری اور معانی کے عالم ہیں) ۔
ابی بن کعب اور معاذ بن جبل اور زید بن ثابت اور ابو زید اور ہم میں سے ہی ہیں سعد بن عبادہ جو انصار کے خطیب اور سردار ہیں غرض اسی طرح گفتگو کا ردو بدل ہوگیا دونوں کو غصہ آگیا اور دونوں نے فخریہ اشعار پڑھے آخر دونوں قبیلے اوس اور خزرج ہتھیار لے کر آگئے پھر رسول اللہ تشریف لے آئے اور اللہ نے آیت ذیل نازل فرمائی۔
Ayah 3:102یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ اے ایمان والو اللہ (کے عذاب سے ڈرو جیسا کہ حق ڈرنے کا ہے تقاۃ اصل میں وُقْیَۃٌ تھا تُوْدَۃٌ اور تخمۃ کی طرح واؤ کو تاء سے بدل دیا پھر یاء کو الف سے بدل دیا کیونکہ یاء سے پہلے حرف صحیح ساکن تھا اور یاء پر فتحہ تھا اس کے علاوہ یا کو الف سے بدلنے کی یہ وجہ بھی ہے کہ اس مصدر سے جتنے افعال آتے ہیں ان میں یا الف سے بدل دی گئی ہے جیسے : وَقٰی وَقوْا وغیرہ) لہٰذا فعل سے موافقت پیدا کرنے کے لیے مصدر میں بھی یاء کی جگہ الف آگیا) ۔
عبد الرزاق، فریانی، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے اپنی اپنی تفسیروں میں اور طبرانی نے معجم میں اور حاکم نے مستدرک میں اور ابونعیم نے حلیہ میں حضرت ابن مسعود کی موقوف روایت نقل کی ہے بلکہ ابو نعیم نے تو اس روایت کو مرفوع بھی کہا ہے کہ حق تقویٰ کا یہ مطلب ہے کہ اللہ کے احکام کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے شکر کیا جائے نا شکری نہ کی جائے اس کو یاد رکھا جائے فراموش نہ کیا جائے۔ بغوی نے بحوالہ حضرت ابن مسعود و حضرت ابن عباس ؓ صرف اوّل ٹکڑا نقل کیا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے۔
میں کہتا ہوں یاد کرنے اور بھول نہ جانے کا مدار فناء قلب پر ہے۔ رہی اطاعت و عدم عصیان اور شکر و عدم کفران تو ان امور کا مدار نفس کے فناء پر ہے حقیقی ایمان اور قلبی اطمینان پر ہی اطاعت کلی اور شکر دوامی کی بنا پر ہے۔ پس اس آیت کا تقاضا ہے کہ کمالات ولایت کو حاصل کرنا واجب ہے آیت کے سبب نزول کا بھی یہی تقاضا ہے اوس و خزرج کا باہمی تفاخر باقی ماندہ امراض نفس کا نتیجہ تھا اس لیے تمام امراض باطنہ سے نفس کو پاک کرنے اور مکارم اخلاق خشیت اللہ اور ذکر دوامی سے قلب و نفس کو آراستہ کرنے کا حکم دیا گیا۔
مجاہد نے آیت کے مطلب کی توضیح اس طرح کی ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا حق ادا کرو احکام خدا وندی کی تعمیل سے تم کو کسی ملامت گر کی ملامت نہ رو کے اللہ کے لیے انصاف قائم کرنے کے لیے کھڑے ہوجاؤ خواہ خود تمہارا، تمہارے ماں باپ اور اولاد کا اس میں نقصان ہو رہا ہو۔ حضرت انس کا قول ایک روایت میں آیا ہے کہ بندہ اس وقت تک حق تقویٰ ادا نہیں کرتا جب تک اپنی زبان کی نگہداشت نہ کرے۔ میں کہتا ہوں کہ مجاہد اور حضرت انس ؓ نے وہ راستہ بتایا ہے جو کمالات ولایت کو پہنچاتا ہے کیونکہ کم کھانا ‘ کم سونا ‘ ہمیشہ ذکر کرنا ‘ زبان کو لغو باتوں سے روکنا ‘ عوام سے اختلاط کم رکھنا ‘ اللہ کے حقوق کے معاملہ میں لوگوں کی پرواہ نہ کرنا کمال ولایت تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔
بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ اہل تفسیر کا بیان ہے جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کے لیے بڑی دشواری ہوگئی اور انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ اس حکم کی (پوری) تعمیل کرنے کی کس میں طاقت ہے ؟ اس قول کے بعد اللہ نے نازل فرمایا : فاتقوا اللہ ما استطعتم جہاں تک طاقت ہو تقویٰ اختیار کرو پس اس آیت سے اوّل آیت کا حکم منسوخ کردیا گیا مقاتل نے کہا کہ آل عمران میں سوائے اس آیت کے کوئی دوسری آیت منسوخ نہیں۔
میں کہتا ہوں اس قول کا یہ مطلب نہیں کہ حق تقویٰ کا وجوب منسوخ ہوگیا کیونکہ غرور، بےجا غصہ، حسد، کینہ، نفاق، بد خلقی دنیا کی محبت ‘ اللہ کی طرف توجہ میں کمی ‘ دوسروں سے دل کی لگاوٹ اور اسی طرح کی دوسری نفسانی خباثتیں بہر حال ہر وقت حرام ہیں ان کی حرمت کے منسوخ ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ان بزرگوں کے قول کا مقصد یہ ہے کہ ایک دم تمام امراض نفسانیہ کا دور کردینا تو کسی شخص کے اختیار میں نہیں ہے بلکہ اللہ کا طریقہ یوں جاری ہے کہ امراض سے تزکیہ (رفتہ رفتہ) اہل دل اور مقدس نفوس والوں کی صحبت اور مختلف ریاضتیں کرنے سے ہوتا ہے یکدم نہیں ہوجاتا اسی لیے اللہ نے اجازت دیدی اور بقدر امکان نفس کو پاکیزہ بنانے اور دل کو جلا دینے کی کوشش کو واجب قرار دیدیا اب جو شخص بالکل تزکیہ نفس کی کوشش سے منہ موڑ کر خواہشات کی طرف اپنا رخ پھیر لے گا اس پر تمام رذائل نفس کا گناہ ہوگا جو کچھ دلوں کے اندر ہوگا خواہ اس کو ظاہر کرو یا نہ کر وا اللہ اس کی حساب فہمی ضرور کرے گا پھر جس کو چاہے گا معاف کردے گا اور جس کو چاہے گا سزا دے گا اور جو شخص ازالہ امراض کے طریقہ کی جستجو میں لگا رہے گا اور اندرونی بیرونی خباثتوں کو دور کرنے کی امکانی کوشش کرتا رہے گا خواہ وہ درجہ کمال تک نہ پہنچا ہو مگر چونکہ ادائے فرض کر رہا ہے اس لیے امید ہے کہ اللہ اس کمی کو معاف کر دے گا جس کو پورا کرنے اختیار سے باہر ہے۔
و لا تموتن الا وانتم مسلمون یعنی حقیقی اسلام پر ہی تم مرو۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے تمام نواہی واوامر کے پابند رہو، تمام اعمال و افکار میں خلوص رکھو، اپنے تمام کام اللہ کے سپرد کردو، اس کے فیصلہ پر دل سے راضی رہو اس کے علاوہ تمہاری کوئی حالت نہ ہونی چاہئے اسی حالت پر تمہاری موت ہو۔
اگر کسی صفت یا حالت کے ساتھ کوئی فعل مقید ہو اور اس فعل کی ممانعت کی جائے تو کبھی (وہ قید محض اتفاقی ہوتی ہے اور) مقصدہوتا ہے مطلق فعل سے منع کرنا جیسے اللہ کی زمین پر زنا نہ کرو (لفظ زمین پر محض اتفاقاً مذکور ہے اس سے مراد ہے مطلق زناء کی ممانعت ‘ خواہ زمین پر ہو یا ہوائی جہاز میں) کبھی نفی اور نہی کا رخ قید کی طرف ہوتا ہے جیسے اس آیت میں ہے (کہ مطلق مرنے سے روکنا مقصود نہیں ہے بلکہ اسلام کے علاوہ کسی دوسری حالت پر مرنے کی ممانعت کی ہے جس سے مراد یہ ہے کہ اسلام کے علاوہ تمہاری کوئی دوسری حالت ہی نہ ہو کہ غیر اسلام پر تمہاری موت کبھی آجائے) کبھی مجموعہ کی طرف نہی کا رخ ہوتا ہے جیسے مچھلی نہ کھاؤ جب کہ دودھ پی رہے ہو۔ (یعنی دودھ مچھلی ایک وقت میں نہ کھاؤ۔ الگ الگ مختلف اوقات میں دونوں چیزیں کھا سکتے ہو) کبھی ممانعت کا رجوع دونوں میں سے ہر ایک کی طرف انفرادی حالت میں ہوتا ہے جیسے ہمسایہ کی بیوی سے زنا نہ کرو (اس سے ہمسایہ کی بیوی سے زناء کرنے کی ممانعت بھی مقصود ہے اور مطلق زنا کی بھی) ۔
حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے یہ فرمایا : لوگو ! اللہ سے پورے پورے ڈرتے رہو (یعنی آیت : یایھا الذین امنوا اتقو اللہ حق تقاتہ۔۔ تلاوت فرمائی اور فرمایا :) اگر زقوم کا ایک قطرہ زمین پر ٹپکا دیا جائے تو زمین والوں کی زندگی تلخ بنا دے پس کیا حال ہوگا اس شخص کا جس کا کھانا سوائے زقوم کے اور کچھ نہ ہوگا۔ (رواہ الترمذی و قال حسن صحیح)