3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 3:161

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں۔ اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز (خدا کے روبرو) لاحاضر کرنی ہوگی۔ پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی

و ما کان لنبی ان یغل مال غنیمت میں خیانت کرنا نبی ﷺ سے بعید ہے۔ غلول مال غنیمت میں خیانت کرنا۔ محمد بن اسحاق نے بیان کیا ہے اس آیت کا نزول وحی کے متعلق ہوا مطلب یہ ہے کہ کسی لالچ یا خوف یا سہل انگاری کی وجہ سے وحی کا کچھ حصہ ظاہر نہ کرنا نبی ﷺ کے لیے جائز نہیں۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ کچھ طاقتور لوگوں نے اصرار کے ساتھ رسول اللہ سے مال غنیمت کی طلب کی اس پرا اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ مطلب یہ کہ مال غنیمت میں خیانت کرنا کہ کسی گروہ کو دے اور کسی کو نہ دے نبی کے لیے جائز نہیں بلکہ مساوات کے ساتھ سب کو تقسیم کرنا اس پر لازم ہے۔ ابو داؤد، ترمذی نے حضرت ابن عباس کا قول بیان کیا ہے اور ترمذی نے اس کو حسن بھی کہا ہے کہ اس آیت میں اس سرخ دھاری والی کمبلی کا بیان ہے جو بدر کے دن گم ہوگئی تھی اور بعض لوگوں نے خیال کیا تھا کہ شاید رسول اللہ نے لے لی ہو اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ مال غنیمت میں خیانت نبی ﷺ کے لیے درست نہیں۔ کلبی اور مقاتل کا بیان ہے کہ آیت کا نزول جنگ احد کی غنیمت کے متعلق ہوا جب تیر اندازوں نے احد کی گھاٹی کے مرکز کو چھوڑ دیا اور کہنے لگے ہم کو اندیشہ ہے کہیں رسول اللہ یہ نہ فرما دیں کہ جس نے جو چیز لی وہ اسی کی ہے اور بدر کی لڑائی کی طرح آج بھی غنیمت کی تقسیم نہ کریں پس اس خیال سے انہوں نے اپنی مقررہ جگہ چھوڑ دی اور اموال غنیمت پر جا پڑے رسول اللہ نے فرمایا : کیا میں نے تم کو حکم نہیں دیدیا تھا کہ جب تک میرا حکم تم کو نہ پہنچے اپنی جگہ نہ چھوڑنا کہنے لگے ہم اپنے دوسرے ساتھیوں کو وہیں کھڑآ چھوڑ آئے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : نہیں بات یہ ہے کہ تم نے یہ خیال کیا کہ ہم مال غنیمت میں خیانت کرلیں گے۔ بانٹ کر تم کو نہیں دیں گے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور ابن جریر نے ضحاک کی مرسل روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے کچھ جاسوس دشمن کے حال کی دیکھ بھال کے لیے بھیجے تھے ان کی غیر حاضری میں رسول اللہ نے ساتھیوں کو مال غنیمت بانٹ دیا اور جاسوسوں کو کوئی حصہ نہیں دیا اس پر اس آیت کا نزول ہوا پس بعض مستحقین کے محروم رہ جانے کو غلول فرمایا۔ اگرچہ یہ خیانت نہ تھی لیکن سختی اور مبالغہ کی وجہ سے اس کو خیانت قرار دیا۔ آیت کی دوسری قراءت میں اَنْ یُغَلَّ فعل مجہول آیا ہے یعنی نبی ﷺ کو خائن قرار دینا جائز نہیں یا یہ مطلب کہ نبی سے امت کا خیانت کرنا جائز نہیں۔ قتادہ نے فرمایا : ہم سے بیان کیا گیا تھا کہ کچھ صحابہ نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی ان کے بارے میں اس آیت کا نزول ہوا۔ طبرانی نے کبیر میں باوثوق سند سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ نے کچھ لشکر کہیں بھیجا مگر اس کا جھنڈا (ناکام) واپس آیا پھر بھیجا تو پھر واپس آگیا اور وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ہرن کے سر کے برابر سو نیکی خیانت کرلی تھی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ و من یغلل یات بماغل یوم القیامۃ اور جو خیانت کرے گا قیامت کے دن چرائے ہوئے مال کے ساتھ آئے گا (ملزم مال کے ساتھ پکڑا ہوا آئے گا۔ ) کلبی نے کہا دوزخ کے اندر اس چرائی ہوئی چیز کی ہم شکل کوئی شئ بنا دی جائے گی اور اس خائن سے کہا جائے گا جا اتر کر اس کو لے لے وہ اتر کر اس چیز کو پشت پر اٹھا کرلے آئے گا جب اپنی جگہ آجائے گا تو وہ چیز چھوٹ کر پھر اندرگر پڑے گی اور اس شخص کو حکم دیا جائے گا کہ اتر کر جائے اور اس چیز کو لاد کرلے آئے وہ ایسا کرے گا اور یہی معاملہ اس کے ساتھ (خدا جانے) کب تک ہوتا رہے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ خیبر کے سال ہم رسول اللہ کے ہمرکاب نکلے وہاں سونا چاندی کچھ لوٹ میں ہاتھ نہیں آیا صرف اونٹ، کپڑے اور سامان ملا۔ یہاں سے حضور نے وادی قریٰ کا رخ کیا۔ ایک حبشی غلام جس کا نام مدعم تھا۔ رفاعہ بن زید نے رسول اللہ کو ہبہ کیا تھا ( وہ بھی ساتھ تھا) جب وادی قریٰ میں پہنچ گئے اور مدعم کے اونٹ کا کجاوہ اتارنے لگا تو اچانک ایک نامعلوم تیر اس کے آلگا۔ معلوم نہیں کس نے مارا اس تیر سے وہ مرگیا لوگوں نے کہا اس کو جنت مبارک ہو رسول اللہ نے فرمایا : ہرگز نہیں قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ چھوٹی کمبلی جو اس نے خیبر کی جنگ میں مال غنیمت سے لے لی تھی اور اس کے حصہ میں نہیں آئی تھی وہ اس کے اوپر آگ بن کر بھڑک رہی ہے یہ بات سن کر ایک شخص ایک یا دو تسمے لے کر آیا اور خدمت گرامی میں پیش کردیئے۔ فرمایا : ایک یا دو تسمے بھی آگ کے ہیں (یعنی اگر داخل نہ کئے جاتے تو مرنے کے بعد یہ آگ کے ہوجاتے) (رواہ البغوی) صحیحین کی روایت میں بحوالہ حضرت ابوہریرہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ کسی شخص نے رسول اللہ کے پاس ایک غلام جس کا نام مدعم تھا بطور ہدیہ بھیجا تھا۔ حضرت یزید بن خالد جہنی کی روایت ہے کہ خیبر کے دن ایک شخص کا انتقال ہوگیا لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ سے کیا آپ ﷺ نے فرمایا : تم اپنے ساتھی کی نما زپڑھو یہ سن کر لوگوں کے رنگ فق ہوگئے۔ رسول اللہ نے فرمایا : تمہارے ساتھی نے راہ خدا میں خیانت کی ہے ہم نے اس کا سامان کھول کر دیکھا تو اس میں یہودیوں سے لوٹے ہوئے کچھ نقلی موتی (پوتھ) ملے جو دو درہم کی قیمت کے ہوں گے۔ (رواہ مالک و النساء) حضرت ابو حمید ساعدی راوی ہیں کہ قبیلۂ ازد کا یک شخص تھا جس کا نام ابن الکتیبہ تھا اسے رسول اللہ نے وصول صدقہ کا آفیسر بنا کر بھیجا جب وہ مال زکوٰۃ وصول کرکے واپس آیا تو (کچھ مال پیش کرکے) کہنے لگا۔ یہ تمہارا ہے اور یہ مجھے ہدیہ میں دیا گیا ہے۔ رسول اللہ نے اس کے بعد کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور حمد وثناء کے بعد فرمایا : اما بعد اللہ نے جن امور کا مجھے مہتمم بنایا ہے میں ان میں سے بعض کاموں کا ناظم تمہارے بعض اشخاص کو بنا دیتا ہوں پس وہ آکر کہتے ہیں کہ یہ (مال تو اے مسلمانو) تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ میں دیا گیا ہے آخر وہ اپنی اماں اور اپنے ابا کے گھر کیوں نہیں بیٹھ رہتا کہ اگر وہ سچا ہے تو اس کا ہدیہ (گھر بیٹھے) اس کے پاس آجاتا خدا کی قسم جو شخص بھی تم میں سے کوئی چیز ناحق لے گا وہ ضرور جب اللہ کے سامنے جائے گا تو وہ چیز اپنے اوپر لا دے ہوگا پس میں کسی کو ایسا نہ پاؤں کہ اللہ کی پیشی کے وقت بلبلاتے اونٹ کو یا دھاڑتی گائے کو یا منمناتی بکری کو اپنے اوپر لادے ہوئے لائے۔ (متفق علیہ) دوسری روایت میں آیا ہے کہ پھر حضور نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر فرمایا : اے اللہ کیا میں نے (تیرا حکم) پہنچا دیا۔ اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا۔ حضرت عدی بن عمیرہ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے سنا کہ ہم نے جس کسی کو تم میں سے کسی کام پر مقرر کیا اور اس نے ہم سے ایک سوئی یا اس سے زیادہ کوئی چیز چھپالی تو یہ چوری ہوگی جس کو ساتھ لے کر قیامت کے دن اس کو آنا ہوگا۔ (رواہ مسلم) حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ (خطاب کرنے) کھڑے ہوئے اور (مال زکوٰۃ یا مال غنیمت کی) خیانت کا بڑا جرم بتایا اور فرمایا : خوب سن لو قیامت کے دن تم میں سے کسی کی ایسی حالت میں مجھ سے ملاقات نہ ہو کہ اس کی گردن پر بلبلاتا اونٹ سوار ہو اور وہ کہہ رہا ہو یا رسول اللہ ﷺ دہائی ہے اور میں کہوں اللہ کے مقابلہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔ میں تو تجھے حکم پہنچا چکا تھا پھر حضور ﷺ نے اس شخص کا ذکر کیا جس کی گردن پر گھوڑا اور بکری اور سونا چاندی لدا ہوگا اور اس سے آگے وہی فریاد کرنے اور مدد نہ کرنے کا تذکرہ فرمایا۔ (بخاری و مسلم) ابو یعلی اور بزار نے حضرت عمر کی روایت سے اور امام احمد نے حضرت سعد بن عبادہ اور بلب کی روایت سے اور بزار نے حضرت ابن عمر و حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے اور طبرانی نے حضرت ابن عباس و حضرت ابن مسعود اور حضرت عبادہ بن صامت کی روایت سے اس طرح کی حدیثیں نقل کی ہیں اور یہ تمام احادیث مال زکوٰۃ وصول کرنے والوں کے متعلق ہیں جو مال زکوٰۃ میں خیانت کرتے ہوں۔ حضرت ابو مالک اشعری کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ کے نزدیک سب سے بڑی خیانتی چوری گز بھر زمین کی ہے کسی زمین یا مکان میں اگر دو شخص ہم جوار (شریک) ہوں اور ایک دوسرے کے حق کی ایک گز زمین کاٹ لے تو قیامت کے دن اللہ اس کو سات زمینوں کا طوق پہنائے گا۔ حضرت معاذ بن جبل نے فرمایا : مجھے رسول اللہ نے (عامل بنا کر) یمن کو بھیجا اور فرمایا میری اجازت کے بغیر کوئی چیز نہ لے لینا کیونکہ وہ خیانتی چوری ہوگی : و مَنْ یَّغْلُلْ یاتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ جو شخص خیانتی چوری کرے گا وہ قیامت کے دن اس خیانتی مال کے ساتھ آئیگا۔ عمرو بن شعیب کے دادا راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ نے خیانتی چور کا سامان جلوا دیا اور اس کو مارا۔ (رواہ ابو داؤد) حضرت عبد اللہ بن عمرو نے فرمایا : کہ رسول اللہ کے سامان پر ایک شخص مقرر تھا جس کو کر کرہ کہا جاتا تھا کر کرہ مرگیا تو رسول اللہ نے فرمایا : وہ دوزخ میں ہے لوگ اس کا سامان دیکھنے گئے تو اس میں ایک عبا ملا جس کی اس نے خیانت کی تھی۔ (رواہ البخاری) حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : خیبر کے دن صحابہ کی ایک جماعت آئی اور کہنے لگی فلاں شہید ہوا فلاں شہید ہوا یہاں تک کہ ایک آدمی (کے جنازہ) کی طرف سے گذرے اور بولے فلاں شہید ہوا۔ رسول اللہ نے فرمایا : ہرگز نہیں میں نے اس کو آگ میں دیکھا ہے کہ ایک چادر کی خیانت کرنے کی وجہ سے یہ فرمایا : ایک عبا کی خیانت کی وجہ سے۔ پھر فرمایا : اے خطاب کے بیٹے جا اور تین بار لوگوں میں منادی کردے کہ جنت میں صرف مؤمن جائیں گے حسب الحکم میں نے باہر نکل کر تین بار لوگوں میں منادی کردی کہ جنت میں صرف مؤمن جائیں گے۔ (رواہ مسلم) ثم توفی کل نفس ما کسبت پھر پورا پورا دیا جائے گا ہر شخص کو جو کچھ اس نے کمایا ہوگا یعنی کئے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ و ھم لا یظلمون اور ان کی حق تلفی نہیں کی جائے گی یعنی نہ اطاعت گذار کے ثواب میں کمی کی جائے گی نہ نافرمان کے عذاب میں زیادتی۔
Ayah 3:162

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

بھلا جو شخص خدا کی خوشنودی کا تابع ہو وہ اس شخص کی طرح (مرتکب خیانت) ہوسکتا ہے جو خدا کی ناخوشی میں گرفتار ہو اور جس کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور وہ برا ٹھکانا ہے

افمن اتبع رضوان اللہ بھلا جس شخص نے اللہ کی خوشنودی کی اتباع کی ہے یعنی انصار اور مہاجرین۔ کمن باء بسخط من اللہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو اللہ کی ناراضگی کے ساتھ لوٹا یعنی منافق اور بعض فاسق۔ و ماوہ جھنم حالانکہ اللہ کی ناراضگی کے ساتھ لوٹنے والے کا ٹھکانا جہنم ہے۔ و بئس المصیر اور جہنم برا مقام واپسی ہے۔
Ayah 3:163

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

ان لوگوں کے خدا کے ہاں (مختلف اور متفاوت) درجے ہیں اور خدا ان کے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے

ھم درجٰت مرضی خدا کا اتباع کرنے والے اور اللہ کی ناراضگی لے کر لوٹنے والے مختلف درجات والے ہیں مختلف مراتب ہیں ثواب و عذاب میں اوّل و دوئم کا بڑ اتفاوت ہے اس لیے ان لوگوں کو درجات فرمایا۔ عند اللہ اللہ کے نزدیک بعض مؤمن، بعض مؤمنوں سے اللہ کے زیادہ مقرب ہوں گے اور بعض کفار و نافرمان دوسرے کافروں اور نافرمانوں سے دوزخ کے زیادہ نچلے درجہ میں ہوں گے۔ و اللہ بصیر بما تعملون اور اللہ انکے اعمال سے واقف ہے پس اعمال کے موافق بدلہ دیا جائیگا۔
Ayah 3:164

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے۔ جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے

لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم بیشک اللہ نے مؤمنوں پر احسان کیا جب کہ ان کے اندر انہی میں سے ایک عظیم الشان پیغمبر مبعوث فرمایا۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک المؤمنین سے مراد ہیں صرف حضور ﷺ کے خاندان (قریش) کے مؤمن کیونکہ نعمت بعثت اگرچہ تمام مؤمنوں کے لیے عمومی ہے لیکن قریش کو زیادہ فائدہ حاصل ہوا اور حضور ﷺ کی ذات سے خصوصی بزرگی ملی۔ اس لیے قریش پر یہ اللہ کا خصوصی احسان تھا کہ ان میں سے اللہ کا پیغمبر مبعوث ہوا۔ رسول اللہ نے فرمایا : کہ لوگ قریش کے تابع ہیں (عام) مؤمن قریشی مؤمنوں کے اور (عام) کافر قریشی کافروں کے 1 ؂۔ رسول اللہ نے فرمایا : یہ امر یعنی خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی جب تک ان میں سے دو شخص بھی باقی رہیں گے (یہ خبر بمعنی امر ہے یعنی خلافت قریش میں رہنی چاہئے لیکن یہ حکم بشرط صلاحیت وتقویٰ ہے فاسقوں اور ظالموں کے خلیفہ بنانے کے لیے امر نہیں ہے) بعض علماء کا خیال ہے کہ المؤمنین سے عرب کے تمام مؤمن مراد ہیں کیونکہ بنی تغلب کے علاوہ باقی ہر عربی قبیلہ کا قریش سے کچھ نہ کچھ نسبی تعلق ہے اللہ نے فرمایا : ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِیِّیْنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ 2 ؂۔ مِنْ انفسھم سے مراد ہیمِنْ جنسھم یعنی اللہ نے رسول کو عربوں کی جنس کا بنایا تاکہ آسانی سے اس کا کلام سمجھ لیں اور اس کی صداقت و امانت کی حالت سے واقف ہوں اور اس کی وجہ سے حامل فخر ہوجائیں۔ حضرت سلمان کا بیان ہے کہ مجھ سے رسول اللہ نے فرمایا : مجھ سے بغض نہ رکھنا (یعنی نفرت نہ کرنا) ورنہ دین سے الگ ہوجائے گا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ میں حضور ﷺ سے کیسے نفرت کرسکتا ہوں۔ حضور ﷺ ہی کے ذریعہ سے تو اللہ نے ہم کو ہدایت فرمائی ہے فرمایا : عرب سے بغض رکھے گا تو مجھ سے بغض رہے گا۔ یہ حدیث ترمذی نے نقل کی ہے اور اس کو حسن کہا ہے۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ تمام مؤمن مراد ہیں (عجمی ہوں یا عربی) جیسے آیت : لَقَدْ جَاءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ انفُسِکُم میں تمام انسان مراد ہیں یعنی پیغمبر انسانوں میں سے آیا کوئی فرشتہ نہیں آیا تاکہ نوعی مناسبت کی وجہ سے اثر افرینی اور اثر پذیری (بآسانی) ہوسکے۔ اللہ نے فرمایا : لو کان فی الارض ملائکۃ یمشون مطمئنین لنزلنا علہم من السماء ملکا رسولا اگر زمین پر ملائکہ چلتے پھرتے، رہتے بستے ہوتے تو ہم ان پر آسمان سے فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے (مگر انسانوں کیلئے تو انسان ہی رسول ہونا چاہئے) یتلو علیہم ایتہ جو اللہ کی آیات یعنی قرآن ان کو پڑھ کر سناتا ہے حالانکہ وہ پہلے کچھ نہ جانتے تھے۔ و یزکیھم اور ان کو پاک کرتا ہے یعنی ان کے دلوں کو غلط عقائد اور اللہ کے سوا دوسروں کے ساتھ لو لگانے سے پاک کرتا ہے نفوس کو رذیل خصائل سے طاہر بناتا ہے اور اجسام کو نجاستوں، گندگیوں اور برے اعمال سے صاف کرتا ہے۔ و یعلمھم الکتاب اور ان کو کتاب کی تعلیم دیتا ہے یعنی وہ علوم سکھاتا ہے جو قرآن سے اخذ کئے جاتے ہیں یا وہ علوم سکھاتا ہے جو اوراق پر لکھے جانے کے قابل ہیں۔ والحکمۃ اور ان کو حکمت سکھاتا ہے یعنی ایسے صحیح یقینی علوم سکھاتا ہے جو ایک دانشمند دوسرے دانشمند سے کتاب اور بیان کے بغیر سیکھ لیتا ہے۔ و ان کانوا من قبل لفی ضلل مبین اِنْ شرطیہ نہیں ہے نہ وصلیہ ہے بلکہ مخففہ ہے یعنی اِنّ تھا اور اِنّ کا اسم۔ ضمیر شان محذوف ہے یعنی بلا شبہ یہ لوگ رسول اللہ کی بعثت سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔
Ayah 3:165

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

(بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (اُحد کے دن کافر کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دوچند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑچکی ہے توتم چلا اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے آپڑی کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی شامت اعمال ہے (کہ تم نے پیغمبر کے حکم کے خلاف کیا) بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

او لما اصابتکم مصیبۃ قد اصبتم مثلیھا قلتم انی ھذا اور جب تم پر ایسی مصیبت پڑی کہ اس سے دوگنی تم (دشمنوں پر) ڈال چکے تھے تو اب تم کہتے ہو کہ یہ کدھر سے آئی۔ مصیبت سے مراد ہے سترّ آدمیوں کا قتل اور شکست جو احد کے دن واقع ہوئی اور دوگنی مصیبت ڈالنے سے مراد ہے بدر کی لڑائی میں کافروں کا قتل اور قید ہونا۔ امام احمد، بخاری، مسلم اور نسائی نے حضرت براء کا قول نقل کیا ہے کہ احد کے دن مشرکوں نے ہمارے ستر آدمی مارے پھر بدر کے دن رسول اللہ اور صحابہ نے ایک سو چالیس مشرکوں پر مصیبت ڈالی۔ سترّ کو قتل کیا اور سترّکو قید۔ میں کہتا ہوں قیدی کو بھی اللہ نے مقتول کے حکم میں قرار دیا کیونکہ مسلمان ان کو قتلکر سکتے تھے اور ان کو قتل کر ڈالنے کی ہی اللہ کی مرضی تھی۔ فدیہ لے کر قتل نہ کرنا (اور رہا کردینا) تو مسلمانوں کی اپنی رائے سے ہوا (جو اللہ کی مرضی کے خلاف ہوا) لَمَّا کا تعلق قلتم سے ہے۔ اَنّٰی ھذا یعنی تعجب سے تم نے کہا کہ یہ شکست اور قتل کی مصیبت ہم پر کہاں سے پڑی ہم تو مسلمان ہیں اور اللہ کا رسول ہم میں موجود ہے۔ اَلَمَّا میں ہمزہ استفہام انکاری کے لیے ہے یعنی تم کو ایسا کہنا نہ چاہئے تھا۔ اس جملہ کا عطف یا آیت : لقد صدقکم اللہ وعدہ پر ہے یعنی اللہ نے جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ پورا کیا اور تم کہتے ہو کہ یہ مصیبت ہم پر کہاں سے آگئی۔ یا استزلھم الشیطان پر عطف ہے۔ یا لقَدْ مَنَّ اللہ پر عطف ہے یعنی رسول اللہ کا موجود ہونا تو تم پر اللہ کا احسان ہے اور تم مصیبت کی نسبت رسول اللہ کی طرف کرتے اور کہتے ہو کہ ان کی وجہ سے یہ مصیبت آئی۔ یا محذوف جملہ پر عطف ہے کلام اس طرح تھا کہ اللہ نے تم سے فتح کا وعدہ صبر رکھنے اور تقویٰ اختیار کرنے کی شرط پر کیا تھا تم نے صبر نہیں کیا اور مصیبت پڑی تو کہنے لگے یہ کدھر سے آگئی۔ یا اس طرح کلام تھا کہ تم نے باہم اختلاف رائے کیا اور رسول کی نافرمانی کی اور بزدل بن گئے اور جب مصیبت پڑی تو ایسی بات کہنے لگے۔ وغیرہ۔ قل ھو من عند انفسکم اے محمد ﷺ تم کہہ دو کہ یہ مصیبت خود تمہاری طرف سے آئی ہے۔ یعنی مرکز کو چھوڑ دینے اور رسول ﷺ کا حکم نہ ماننے کی وجہ سے آئی۔ کیونکہ فتح کا وعدہ تو صبر وتقویٰ کے ساتھ وابستہ تھا۔ بعض علماء نے کہا کہ من عند انفسکم سے مراد یہ ہے کہ تم نے بدر کے قیدیوں کا فدیہ لینا پسند کیا اور یہ تمہارا ذاتی فعل تھا اس سے یہ مصیبت پڑی۔ ابن ابی حاتم نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ احد کے دن مسلمانوں کو اس حرکت کی سزا دی گئی جو انہوں نے بدر کے دن کی تھی کہ قیدیوں کا فدیہ لے لیا تھا (سترّ کو فدیہ لے کر رہا کرنے کا) نتیجہ یہ نکلا کہ احد کے دن ستر مسلمان مارے گئے اور صحابہ کو شکست ہوگئی اور رسول اللہ ﷺ کا اگلا دانت شہید ہوگیا اور سر مبارک پر خود ٹوٹ (کر گر) گیا اور چہرہ مبارک پر خون بہنے لگا اور اللہ نے آیت : او لما اصابتکم مصیبۃٌ۔۔ نازل فرمائی۔ بغوی (رح) نے حضرت علی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جبرئیل نے آکر رسول اللہ سے کہا آپ کی قوم کی یہ حرکت اللہ کو ناپسند ہوئی کہ قیدیوں کا معاوضہ لے لیا حالانکہ اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا تھا کہ آپ ان کو دو باتوں میں سے ایک بات پسند کرلینے کا اختیار دیدیں یا تو وہ آگے بڑھ کر قیدیوں کی گردنیں مار دیں یا فدیہ لے کر چھوڑ دیں مگر اس صورت میں ان قیدیوں کی تعداد کے برابر مسلمانوں کا شہید ہونا لازم ہوگا۔ رسول اللہ نے اس کا تذکرہ مسلمانوں سے کیا انہوں نے جواب دیا یا رسول اللہ یہ ہمارے قبیلہ والے ہیں بھائی بند ہیں ہم ان سے فدیہ لے لیں گے اور اس مال سے دشمن کے مقابلہ کے لیے طاقت فراہم کرلیں گے ہم میں سے ان کی تعداد کے برابر شہید ہوجائیں گے تو ہوجائیں (ہم اس پر راضی ہیں) چناچہ احد کے دن بدر کے قیدیوں کی تعداد کے برابر سترّ مسلمان شہید ہوگئے آیت : ھُوَ مِنْ عِنْد اَنْفُسِکُمْ کا یہی مطلب ہے۔ فائدہ سعید بن منصور نے ابو الصخر کی روایت سے مرسلاً نقل کیا کہ احد کے دن سترّ شہید ہوئے چار مہاجر حضرت حمزہ، حضرت مصعب بن عمیر، حضرت عبد اللہ بن جحش، حضرت شماس بن عثمان اور باقی (66) انصاری لیکن ابن حبان اور حاکم نے حضرت ابی بن کعب کا قول نقل کیا ہے کہ احد کے دن 64 انصاری اور چھ مہاجر شہید ہوئے (چار تو وہی تھے جن کا ذکر ابو الصخر کی روایت میں آچکا ہے اور) بقول حافظ پانچویں مہاجر شہید حضرت حاطب بن بلتعہ کے آزاد کردہ غلام سعد تھے اور چھٹے ثقیف بن عمرو اسلمی تھے۔ بخاری نے قتادہ ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ انصار سے زیادہ شہداء عرب کے کسی قبیلہ کے ہم کو معلوم نہیں ہم سے حضرت انس نے فرمایا تھا کہ احد کے سترّ انصاری شہید ہوئے اور بیر معونہ کے دن (1) [ حضور نے قبائل عرب میں تبلیغ کے لیے ستر قراء انصاری بھیجے تھے کافروں نے دھوکہ سے چاہ معونہ کے قریب ان سب کو شہید کردیا اور حضور نے ان قبائل کے لیے بد دعا کی، 12] سترّ اور جنگ یمامہ میں سترّ ۔ حافظ محب طبری نے بروایت مالک لکھا ہے کہ شہداء احد 75 تھے جن میں 71 انصاری تھے۔ امام شافعی کے ایک قول میں 72 کی تعداد آئی ہے اور العیون میں شہداء احد کے ناموں کی ترتیب وار فہرست آئی ہے یہ کل تعداد 96 ہوتی ہے 11 مہاجر 38 اوس کے اور 47 خزرج کے۔ العیون میں مدیاطی کے حوالہ سے کل شہداء احد کی تعداد 104 یا 105 آئی ہے لیکن قرآن ان کی تعداد ستر بتارہا ہے۔ ان اللہ علی کل شی قدیر مدد کرے یا بےمدد چھوڑ دے اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 3:166

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مقابلے کے دن واقع ہوئی سو خدا کے حکم سے (واقع ہوئی) اور (اس سے) یہ مقصود تھا کہ خدا مومنوں کو اچھی طرح معلوم

و ما اصابکم یوم التقی الجماعان فباذن اللہ اور جو مصیبت تم پر پڑی جس روز کہ ان دونوں گروہوں کا مقابلہ ہوا پس اللہ کے حکم اور تقدیر سے پڑی یعنی احد کے دن جب مسلمانوں اور کافروں کا مقابلہ ہوا اور مسلمانوں پر قتل و شکست کی مصیبت پڑی تو وہ بحکم خدا پڑی۔ ایک شبہ اذن یعنی اجازت خداوندی کا تعلق جائز امور سے ہوتا ہے جو امر غیر مشروع ہے اس کی اجازت اللہ کی طرف سے نہیں ہوسکتی اور جہاد سے فرار امر غیر مشروع ہے اس کا باذن الٰہی وقوع کیسے ممکن ہے۔ ازالہ اذن سے مراد ہے امر تکوینی یعنی وہ امر جس کی تعبیر کن فیکون سے کی ہے اور امر تکوینی کا تعلق مشروع اور غیر مشروع دونوں سے ہے ہاں امر تکلیفی یعنی حکم شرعی کا تعلق امر مشروع سے ہی ہوتا ہے اور امر تکلیفی یہاں مراد نہیں بلکہ قضاء و تقدیر مراد ہے۔ و لیعلم المومنین
Ayah 3:167

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے اور (جب) ان سے کہا گیا کہ آؤ خدا کے رستے میں جنگ کرو یا (کافروں کے) حملوں کو روکو۔ تو کہنے لگے کہ اگر ہم کو لڑائی کی خبر ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ رہتے یہ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں۔ اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں خدا ان سے خوب واقف ہے

و لیعلم الذین نافقوا یعنی تم پر یہ مصیبت مختلف مصالح کی وجہ سے آئی اور اس لیے بھی کہ اللہ مؤمنوں کو دیکھ لے اور ان لوگوں کو بھی دیکھ لے جنہوں نے نفاق کا برتاؤ کیا۔ یعنی لوگوں کی نظر میں دونوں گروہ الگ الگ آجائیں ان کا ایمان اور ان کا کفر پہچان لیا جائے۔ و قیل لھم تعالوا قاتلوا فی سبیل اللہ اوادفعوا اور منافقوں سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں لڑو یا (کم سے کم) دفعیہ ہی کرو مطلب یہ کہ اگر طاقت رکھتے ہو تو اللہ کی راہ میں کافروں سے جہاد کرو ورنہ مسلمانوں کی جماعت بڑھانے کے لیے اپنی جگہ جمے رہو، فرار نہ کرو تاکہ دشمنوں کی مدافعت ہی ہوجائے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اگر سچے مؤمن ہو تو اخلاص کے ساتھ کافروں سے لڑو اور اگر ایسا نہیں کرسکتے (اور اخلاص نہیں رکھتے) تو اپنے بچوں کی طرف سے ہی دشمنوں کو دفع کرو۔ قالوا انہوں نے کہا یعنی عبد اللہ بن ابی اور اس کے منافق ساتھی جن کی تعداد تین سو تھی مسلمانوں کے مذکورہ بالا قول کے جواب میں کہنے لگے۔ لو نعلم قتالاً لاتبعنکم اگر ہم (اس ٹکراؤ کو) لڑائی جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے مگر یہ تو جنگ نہیں خودکشی ہے یا یہ مطلب کہ اگر تم حق پر ہوتے اور ہم اس جنگ کو راہ خدا میں جنگ سمجھتے تو تمہارا ساتھ دیتے یا یہ مطلب کہ اگر ہم سمجھتے کہ یہ لڑائی ہمارے ساتھ ہے تو ہم تمہارا ساتھ دیتے مگر یہ لڑائی تو ہمارے ساتھ نہیں مشرکوں کو صرف تم سے لڑنا مقصود ہے یا یہ مطلب کہ اگر ہم اچھی طرح لڑنا جانتے تو تمہارا ساتھ دیتے۔ اس صورت میں یہ قول محض استہزا کے طور پر کہا تھا۔ ھم للکفر یومئذ اقرب منھم للایمان وہ منافق جتنے ایمان سے قریب تھے اس روز اس سے زیادہ کفر کے قریب ہوگئے (یا قریب تھے) یعنی منافق ایمان و کفر کے درمیان چکر میں تھے جیسے اجنبی بکری دو گلوں کے درمیان ہوتی ہے اگر اسلام میں ان کو کچھ دنیوی فائدہ مل گیا تو اطمینان سے رہے اور اگر کچھ دکھ پڑگیا تو کفر کی طرف پلٹ گئے جنگ احد میں مصیبت آپڑی تھی اور یہ آزمائش تھی پس منافق اس روز کفر سے زیادہ قریب ہوگئے یہ ہی پہلا دن تھا جس میں ان کا کفر اور نفاق ظاہر ہوا۔ یا یہ مطلب ہے کہ بہ نسبت اہل ایمان کے کافروں سے ان کی مدد زیادہ قریب تھی کیونکہ مسلمانوں سے ان کا بچھڑ جانا اور مندرجہ بالا الفاظ کہنا اہل شرک کی قوت اور مسلمانوں کے ضعف کا باعث ہوا۔ یقولون بافواھھم ما لیس فی قلوبھم وہ اپنے منہ سے ایسی بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے یعنی اسلام کو منہ سے ظاہر کرتے ہیں اور دلوں میں کفر پوشیدہ ہے۔ قول کی نسبت منہ کی طرف کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام پر ان کا عقیدہ نہیں کہ دل سے اقرار کریں ان کا ایمان صرف زبانی ہے جو ہیچ ہے۔ اس جملہ میں منافقوں کی عام حالت کو بیان کیا ہے صرف احد کے دن کی خصوصی حالت کا اظہار نہیں ہے اس لیے الگ یعنی بغیر عطف کے یہ جملہ ذکر کیا گیا۔ وا اللہ اعلم بما یکتمون اور جس بات کو وہ دلوں میں چھپاتے ہیں اللہ اس سے بخوبی واقف ہے یعنی ان کے نفاق کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 3:168

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

یہ خود تو (جنگ سے بچ کر) بیٹھ ہی رہے تھے مگر (جنہوں نے راہ خدا میں جانیں قربان کردیں) اپنے (ان) بھائیوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کہا مانتے تو قتل نہ ہوتے۔ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا

الذین قالوا لاخوانھم وقعدوا لو اطاعونا ماقتلوا یہ وہی لوگ ہیں کہ خود تو جنگ سے بیٹھ رہے اور اس حالت میں اپنے ان نسبی بھائیوں کے متعلق جو جنگ میں مارے گئے انہوں نے کہا کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے یعنی ہماری طرح جنگ سے بیٹھ رہتے تو جس طرح ہم نہیں مارے گئے وہ بھی نہ مارے جاتے۔ قل فادروا عن انفسکم الموت ان کنتم صادقین اے محمد ﷺ آپ ﷺ ان سے کہہ دیں کہ اب تو اپنی جانوں سے موت کو دفع کرو اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ تدبیر تقدیر کو ٹال دیتی ہے۔
Ayah 3:169

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا (وہ مرے ہوئے نہیں ہیں) بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے

و لا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا اور جو لوگ راہ خدا میں مارے گئے ان کو مردہ نہ کہو 1 ؂۔ ترمذی نے باسناد حسن اور ابن خزیمہ نے بسند صحیح اور ابن ماجہ اور بغوی نے بیان کیا ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ نے فرمایا : رسول اللہ مجھے ملے اور فرمایا : جابر کیا سبب ہے میں تجھے کچھ شکستہ (خاطر) دیکھ رہا ہوں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ میرا باپ شہید ہوگیا اور اس کے بچے رہ گئے اور اس پر قرض بھی ہے فرمایا : کیا تجھے بشارت نہ دوں کہ اللہ تیرے باپ سے کس طرح ملا میں نے عرض کیا : کیوں نہیں فرمائیے۔ ارشاد فرمایا : اللہ نے جس سے بھی کلام کیا پردہ کی اوٹ سے کیا مگر تیرے باپ کو زندہ کرکے رو در رو کلام کیا اور فرمایا : میرے بندے اپنی آرزو مجھ سے بیان کر میں تجھے دوں گا۔ تیرے باپ نے کہا میرے رب مجھے پھر زندہ کردے کہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں اللہ نے فرمایا : میرا فیصلہ پہلے ہوچکا ہے کہ (مرنے کے بعد) پھر وہ نہیں لوٹیں گے راوی کا بیان ہے پھر ان شہداء کے بارے میں نازل ہوئی آیت : لا تحسبن الذین قتلوا۔۔ مسلم، امام احمد، ابو داؤد، حاکم اور بغوی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : کہ احد کے دن جب تمہارے بھائی مارے گئے تو اللہ نے ان کی روحوں کو سبز پرندوں کے پوٹوں میں داخل کردیا وہ جنت کی نہروں پر اترتے ہیں (یعنی انہار جنت کا پانی پیتے ہیں) جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت میں جہاں چاہتے ہیں سیر کرتے پھرتے ہیں اور لوٹ کر سونے کی ان قندیلوں میں چلے جاتے ہیں جو عرش کے نیچے آویزاں ہیں جب انہوں نے اپنی عمدہ خواب گاہ اور کھاناپینا دیکھا اور اللہ نے ان کے لیے جو عزت فراہم کی ہے اس کا معاینہ کیا تو بولے کاش ہماری قوم کو ہماری اس موجودہ راحت اور اس سلوک کی جو اللہ نے ہمارے ساتھ کیا اطلاع ہوجاتی تاکہ ان کو بھی جہاد کی رغبت ہوتی اور وہ جہاد سے رو گرداں نہ ہوتے اللہ نے فرمایا : میں تمہاری طرف سے اطلاع دیدوں گا اور تمہارے بھائیوں کو خبر پہنچا دوں گا شہداء یہ سن کو خوش اور ہشاش بشاش ہوگئے پس اللہ نے (آیت مذکورہ) نازل فرمادی۔ ابن المنذرنے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ جب حضرت حمزہ اور آپ کے ساتھی احد کے دن شہید ہوگئے تو شہداء نے کہا کاش کوئی خبر پہنچانے والا ہمارے بھائیوں کو اللہ کی عطا کردہ اس عزت کی جس میں ہم آگئے ہیں اطلاع دیدیتا اللہ نے ان کو وحی بھیجی کہ میں تمہارے بھائیوں کو تمہارا پیام پہنچا دوں گا پس اللہ نے آیت : لا تحسبن الذین قتلوا۔۔۔ لا یضیع اجر المؤمنین تک نازل فرمائی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شہداء کے اعزہ و اقارب کو جب (دنیا میں) کچھ راحت اور نعمت ملتی تو ان کو افسوس ہوتا کہ ہم تو ایسے مزے میں ہیں اور ہمارے باپ بھائی بیٹے قبروں میں ہیں (کاش وہ بھی ہمارے ساتھ ہوتے) اس پر اللہ نے آیت مذکورہ نازل فرمائی۔ و لا تحسبن کا خطاب یا رسول اللہ کو ہے یا شہیدوں کے اقارب کو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ منافقوں کو خطاب ہو کیونکہ (بطور طعن) انہوں نے کہا تھا : لو اطاعونا ما قتلوا اس وقت یہ آیت قل کے ذیل میں داخل ہوگی (یعنی قل کا مفعول ہوگی) سبیل اللہ سے مراد ہے جہاد۔ یہ لفظ عام ہے ہر راہ خیر میں مرنے والے کو شامل ہے مگر لفظ قتل کی وجہ سے دوسرے خیر کے راستوں میں مرنے والوں کو صراحۃً شمول نہ ہوگا مگر بدلالت نص بدرجۂ اولیٰ یا کم سے کم بالمساوات شمول ہوجائے گا یا نفس کے ساتھ جہاد کرنے والے کو مقتول فی سبیل اللہ پر قیاس کیا جائے گا کیونکہ اپنے نفس سے جہاد کرنا جہاد اکبر ہے اور جہاد اصغر سے زیادہ سخت ہے۔ اموات سے مراد ہے وہ مردے جن کو لذت و راحت کا احساس نہ ہو۔ بل احیاء بلکہ وہ زندہ ہیں ابو العالیہ نے اس فقرہ کی تشریح میں کہا کہ وہ سبز پرندوں کی شکلوں پر ہیں جنت کے اندر جہاں چاہتے ہیں اڑتے ہیں رواہ ابو حاتم بغوی نے لکھا ہے کہ روز قیامت تک ہر رات عرش کے نیچے ان کی روحیں رکوع اور سجدہ کرتی رہیں گی۔ ابن منذر راوی ہیں کہ حضرت طلحہ بن عبد اللہ نے فرمایا : میں جنگل میں اپنے اونٹوں کی تلاش میں گیا وہاں مجھے رات ہوگئی تو میں عبد اللہ بن عمرو بن حرام کی قبر کے پاس قیام پذیر ہوگیا وہاں قبر کے اندر سے مجھے قرآن پڑھنے کی ایسی اچھی آواز آئی کہ اس سے بہتر آواز میں نے نہیں سنی میں نے واپس آکر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا تذکرہ کیا فرمایا : وہ عبد اللہ تھا کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ نے ان (شہداء) کی ارواح قبض کرنے کے بعد زمرد اور یاقوت کی قندیلوں میں رکھ کر وسط جنت میں ان قندیلوں کو لٹکا دیا ہے جب رات ہوتی ہے تو ان کی روحیں واپس لوٹ دی جاتی ہیں اور رات بھر ایسی ہی رہتی ہیں پھر فجر نکلتی ہے تو روحوں کو پھر ان کے اصلی مقامات پر (قندیلوں کے اندر) واپس کردیا جاتا ہے۔ اس قول پر شہید کو مرنے کے بعد کی طاعات کا ثواب اور درجے بھی ملتے رہتے ہیں اور شہید قبر کے اندر گلتا سڑتا نہیں اور نہ اس کو زمین کھاتی ہے یہ اس کی زندگی کے نشانوں میں سے ایک نشان ہوتا ہے۔ بیہقی نے اپنی سندوں سے اور ابن سعد و بیہقی نے دوسرے طریقوں سے اور محمد بن عمرو نے اپنے مشائخ کی سند سے نقل کیا ہے کہ حضرت جابر نے فرمایا : جب معاویہ ؓ نے چشمہ (نہر) جاری کرایا تو ہم اپنے شہداء احد کے مزاروں پر چیختے ہوئے پہنچے اور ان کو باہر نکالا تو دیکھا وہ تر وتازہ ہیں اور ان کے ہاتھوں اور پاؤں میں (زندوں کی طرح) لچک ہے۔ محمد بن عمرو کے مشائخ کا بیان ہے کہ لوگوں نے حضرت جابر کے والد کو ایسی حالت میں پایا کہ ان کا ہاتھ اپنے زخم پر رکھا ہوا تھا جب ہاتھ زخم سے الگ کیا گیا تو خون ابلنے لگا مجبوراً ہاتھ کو پھر اس کی جگہ لوٹا دیا گیا تو خون تھم گیا۔ حضرت جابر کا بیان ہے میں نے اپنے باپ کو قبر کے اندر دیکھا معلوم ہوتا تھا کہ سو رہے ہیں اور جس دھاری دار کمبلی کا ان کو کفن دیا گیا تھا وہ بھی ویسی ہی تھی حالانکہ اس کو چھیالیس برس ہوچکے تھے ان شہداء میں ایک شخص کی ٹانگ میں (زمین کھودتے وقت) پھاوڑا لگ گیا تو اس سے خون ابل پڑا مشائخ نے کہا یہ حضرت حمزہ ؓ تھے۔ حضرت ابو سعید خدری نے فرمایا : اس کے بعد کوئی منکر (حیات شہداء کا) انکار نہیں کرسکتا۔ لوگ (ان مزاروں کی) مٹی کھودتے تھے۔ جب تھوڑی سی ہی مٹی کھودتے تھے تو مشک کی خوشبو مہکنے لگتی تھی۔ بغوی نے حضرت عبید بن عمیر کا بیان نقل کیا ہے کہ احد سے واپسی کے وقت رسول اللہ کا گذر حضرت مصعب بن عمیر (شہید احد) کی طرف سے ہوا مصعب شہید ہوچکے تھے آپ ﷺ ان کے پاس کھڑے ہوگئے اور ان کے لئے دعا کی پھر یہ آیت پڑھی : من المؤمنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ پھر فرمایا : میں شہادت دیتا ہوں کہ قیامت کے دن یہ سب اللہ کے نزدیک شہید ہوں گے متنبہ ہوجاؤ تم ان کے پاس آیا کرو ان کی زیارت کیا کرو اور ان کو سلام کہا کرو قسم ہے اسکی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قیامت تک جو کوئی ان کو سلام کرے گا وہ ضرور اس کے سلام کا جواب دیں گے۔ حاکم اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے اور بیہقی نے حضرت ابوذر کی روایت سے اور ابن مردویہ نے حضرت خباب بن ارت کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ حضرت مصعب بن عمیر کی طرف سے گذرے حضرت مصعب حضور ہی کے راستہ پر شہید پڑے تھے آپ ﷺ وہاں ٹھہر گئے ان کے لیے دعا کی پھر پڑھا : من المؤمنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ۔۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا : میں نے تجھے مکہ میں دیکھا تھا کہ تجھ سے زیادہ مکہ میں نہ کوئی خوش لباس تھا نہ حسین بالوں والا (یعنی نہ تجھ سے زیادہ خوش جمال اور آج اللہ کی راہ میں تیری یہ حالت ہوگئی کہ تجھ مثلہ کیا گیا ) ۔ سوال کیا شہید کے مرتبہ کو کوئی پہنچ سکتا ہے ؟ جواب ہاں پہنچ سکتا ہے شہداء کے فضائل جو کچھ بیان کئے گئے ہیں ان کا اقتضا یہ نہیں کہ دوسرے وہاں تک نہ پہنچیں۔ ابو داؤد اور نسائی نے حضرت عبید بن خالد کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ نے دو آدمیوں میں بھائی چارہ کرادیا ان میں سے ایک راہ خدا میں شہید ہوگیا پھر تقریباً ایک جمعہ کے بعددوسرا بھی مرگیا لوگوں نے اس کی نماز پڑھی رسول اللہ نے فرمایا : تم نے (نماز میں اس کے لیے) کیا کہا لوگوں نے عرض کیا : ہم نے اللہ سے دعا کی کہ اللہ اس کی مغفرت فرما دے اس پر رحم کرے اور اور اس کو اس کے ساتھی تک پہنچا دے (یعنی اس کو بھی شہید کا درجہ مل جائے) حضور ﷺ نے فرمایا : تو پھر اس کی نمازوں کے بعد اس کی نمازیں اور اس کے اعمال کے بعد والے اس کے اعمال یا فرمایا اس کے روزوں کے بعد والے اس کے روزے کہاں جائیں گے ان دونوں کے درمیان (مرتبہ) کا فاصلہ تو اتنا ہے جتنا آسمان زمین کا (یعنی بعد کو مرنے والا پہلے شہید ہونے والے سے مرتبہ میں بہت اونچا ہے اس کی نمازیں اور روزے اس سے زائد ہیں) انبیاء شہدا صدیقین اور مؤمنین کے مقامات کا بیان ہم نے سورة المطففین میں کیا ہے اور حیوۃ شہداء کا مسئلہ سورة بقرہ کی آیت : و لا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات کی تفسیر کے ذیل میں ذکر کردیا ہے۔ عندربھم اپنے رب کے پاس یعنی اللہ کے قرب میں جو بلا کیف ہے (جسمانی اور مکانی نہیں انضمامی ادغامی اور نسبی نہیں ان سب سے الگ ایک ایسا قرب ہے جس کی کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی نہ سمجھی جاسکتی ہے یعنی قرب اعزازی ہے) شیخ شہید نے جو میرے شیخ و امام تھے (غالباً حضرت مؤلف قدس سرہ کی شیخ شہید سے مراد حضرت مرزا مظہر جان جاناں کی ذات مبارک ہے) کہ شہداء پر تجلیات ذاتیہ کی بارش کو کشف کی آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ ان لوگوں نے اللہ کی راہ میں اپنی جانیں دیدیں اور اللہ نے فرمایا ہے : و ما تقدموا لانفسکم من خیر تجدوہ عند اللہ پس ان لوگوں نے اپنے لیے اپنی ذاتیں (ہستیاں) خرچ کردیں لہٰذا اللہ بھی ان کو خالص تجلیات ذاتیہ عطا فرمائے گا۔ یرزقون یعنی ان کو جنت سے رزق دیا جاتا ہے یہ ان کے زندہ ہونے کی تائید ہے۔
Ayah 3:170

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

جو کچھ خدا نے ان کو اپنے فضل سے بخش رکھا ہے اس میں خوش ہیں۔ اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے اور (شہید ہوکر) ان میں شامل نہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں کہ (قیامت کے دن) ان کو بھی نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

فرحین بما اتھم اللہ من فضلہ اللہ جو کچھ ان کو اپنے فضل سے عطا فرماتا ہے وہ اس پر خوش ہوتے ہیں کیونکہ وہاں تک کسی عقل کی رسائی نہیں نہ اس کی تفصیل لفظوں میں بیان کی جاسکتی ہے۔ عبد الرزاق نے مصنف میں اور ابن ابی شیبہ نے اور احمد اور مسلم اور ابن المنذر نے مسروق کا قول بیان کیا ہے کہ ہم نے حضرت عبد اللہ یعنی ابن مسعود سے ان آیات کی تشریح پوچھی فرمایا : ہم نے بھی رسول اللہ سے اس کے متعلق دریافت کیا تھا تو حضور ﷺ نے فرمایا تھا ان کی روحیں سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہوتی ہیں۔ عبد الرزاق کی روایت میں ہے کہ شہیدوں کی روحیں سبز پرندوں کی طرح ہوتی ہیں (بہر حال) ان پرندوں کے لیے سونے کی قندیلیں (پنجرے) عرش سے آویزاں ہیں وہ جنت میں جہاں چاہتی ہیں سیر کرتی ہیں۔ پھر لوٹ کر قندیلوں میں آجاتی ہیں۔ اللہ ان کو ایک بار جھانکتا ہے اور فرماتا ہے کیا تم کچھ چاہتے ہو ایسا (روزانہ) تین بار کرتا ہے۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ اللہ فرماتا ہے مجھ سے مانگو جو کچھ چاہو وہ جواب دیتے ہیں اے رب ہم کیا مانگیں جس جنت میں ہم چاہتے ہیں سیر کرتے ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ بغیر مانگے ان کو نہیں چھوڑا جاتا تو عرض کرتے ہیں اے رب ہم چاہتے ہیں کہ ہماری روحوں کو ہمارے جسموں کے اندر دوبارہ لوٹا دیا جائے تاکہ ہم ایک بار اور تیرے راستے میں جہاد کریں۔ اللہ فرماتا ہے میں لکھ چکا ہوں کہ دوبارہ دنیا میں لوٹنا نہیں ہوگا) آخر جب اللہ دیکھتا ہے کہ ان کی کوئی ضرورت (باقی) نہیں تو ان کو (ان کی حالت پر) چھوڑ دیا جاتا ہے۔ و یستبشرون اور وہ بشارت پائیں گے یعنی مسرور و خوش ہوں گے۔ بالذین لم یلحقوا بھم ان لوگوں کی جو ان سے نہیں ملے ہیں یعنی جن کو دنیا میں زندہ ایمان، اطاعت اور جہاد پر چھوڑ کر آئے تھے یا یہ مراد کہ جو مرتبہ میں ان کو نہیں پہنچے۔ من خلفھم ان کے پیچھے والوں میں سے یعنی بعد کے زمانہ والے یا مرتبہ میں پیچھے رہنے والے۔ الا خوف علیھم و لا ھم یحزنون کہ ان کو نہ کوئی خوف ہے نہ ان کو رنج ہے (یعنی نہ آئندہ تکلیف کا خوف ہے نہ دنیا کی زائل شدہ نعمت کا رنج) ممکن ہے آیت کا یہ معنی ہو کہ وہ اپنے ان بھائیوں کے سلسلہ میں جو ابھی نہیں مرے ہیں خوش ہوں کہ شہداء پر (زندہ) بھائیوں کی طرف سے کچھ اندیشہ نہیں یعنی بھائیوں کے حقوق جو شہداء کے ذمے رہ گئے تھے ان کا کوئی اندیشہ نہیں کیونکہ اللہ (شہداء کی طرف سے) اہل حقوق کو راضی کردے گا اور دعوے سے دست بردار کرا دے گا۔ میں کہتا ہوں یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ شہداء کے بھائی بند اور دوست جو مرتبہ میں شہداء کے درجہ کو نہیں پہنچے شہداء ان کے معاملہ میں بشارت پائیں گے اور خوش ہوں گے کہ ان کے بھائی بندوں کو بھی عذاب کا کچھ اندیشہ نہیں اور نہ ان کو رنج ہوگا کیونکہ اللہ نے شہداء کو اپنے بھائی بندوں کی شفاعت کرنے کا حق عطا فرمایا ہے۔ ابو داؤد اور ابن حبان نے حضرت ابو درداء کا قول نقل کیا ہے کہ میں نے خود سنا رسول اللہ فرما رہے تھے شہید اپنے ستر گھروالوں کی شفاعت کرے گا۔ احمد اور طبرانی نے حضرت عبادہ بن صامت ؓ کی روایت سے اور ترمذی و ابن ماجہ نے حضرت مقدام بن معدیکرب کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ ابن ماجہ اور بیہقی نے حضرت عثمان بن عفان کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : قیامت کے دن انبیاء شفاعت کریں گے پھر علماء پھر شہداء بزار نے بھی یہ حدیث لکھی ہے اور آخر میں اتنا زائد لکھا ہے کہ پھر موذن۔ میں کہتا ہوں حدیث میں جن علماء کو شفاعت میں شہداء پر سبقت عطا فرمائی ہے شاید ان سے مراد وہ علماء راسخین ہیں جو حقیقت کے عالم ہیں۔