Ayah 2:282تفسیر آیت دین :
282 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓ ا اِذَا تَدَ ایَنْتُمْ بِدَیْنٍ ۔ (اے ایمان والو۔ جب تم باہمی قرض کا معاملہ کرو) ۔ یعنی جب ایک دوسرے کو قرض لو۔ دو ۔ عرب کہتے ہیں۔ داینت الرجل۔ جب کسی کو قرض دیا جائے۔ یا لیا جائے۔
اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی (ایک مقررہ وقت تک) مقررہ مدت تک۔ مثلاً کٹائی یا گہائی یا حجاج کے لوٹنے تک
نکتہ : دَیْن کا لفظ واضح ذکر کیا۔ اذا تدا ینتم الٰی اجل مسمًّی فقط نہیں کہا تاکہ فاکتبوہ کی ضمیر اس کی طرف لوٹ سکے۔ اگر دَیْن کا لفظ واضح نہ ہوتا تو لازم آتا تھا۔ کہ کہا جاتا فاکتبوا الدین اور اس طرح سے کلام میں وہ خوبصورتی نہ ہوتی۔ جو ‘ اب ہے۔
دو وجوہ :
وجہ اول : یہ انداز کلام قرض کی اقسام مؤجل اور دَیْنِحالی کو بیان کرنے میں زیادہ واضح ہے۔
وجہ دوم : قرض کے تحریر کرنے کا حکم دیا گیا۔ کیونکہ یہ زیادہ پختہ بات ہے اور بھول چوک سے محفوظ ہے اور انکار سے دور ہے۔
مطلب آیت : مطلب آیت کا یہ ہوا کہ جب تم باہمی مؤجل قرض کا معاملہ کرو تو اس کو لکھ لیا کرو۔
استنباطی مسائل :
مسئلہ : یہ حکم استحبابی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے۔ کہ اس سے مراد بیع سلم ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے سود کو حرام کیا تو بیع سلم کو جائز کردیا۔ جو کہ کتاب اللہ میں مدت معلوم کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور اس میں طویل ترین آیت نازل فرمائی۔ اس آیت میں یہ بھی دلیل ہے۔ کہ بیع سلم میں مدت شرط ہے۔
وَلْیَکْتُبْ بَّیْنَکُمْ (اور چاہیے کہ تمہارے درمیان لکھے) یعنی قرض دار اور قرض دینے والے کے درمیان۔
امین کاتب کی تعریف :
کَاتِبٌم بِالْعَدْلِ (کاتب انصاف کے ساتھ) بالعدل یہ کاتب کے متعلق ہے اور اس کی صفت ہے یعنی ایسا کاتب جو احتیاط سے لکھے۔ اور جو کچھ لکھتا ہے اس پر امین ہو جس چیز کا لکھنا ضروری ہے اس میں اضافہ اور کمی نہ کرے۔
فائدہ : اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ کاتب سمجھ دار اور شرائط کو جاننے والا ہو۔ تاکہ اس کا لکھا ہوا شرع کے مطابق ہو۔
فائدہ : کاتب کے چنائو کا حکم قرض دینے والے لینے والے دونوں کو ہے اور وہ ایسے آدمی سے کتابت کروائیں جس پر فریقین کو اتفاق ہو۔
وَلَا یَاْبَ کَاتِبٌ۔ (اور کاتب انکار نہ کرے) یعنی کوئی کاتب تحریر سے انکار نہ کرے۔
اَنْ یَّکْتُبَ کَمَا عَلَّمَہُ اللّٰہُ (لکھنے سے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کو علم دیا) یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کو وثیقہ نویسی کا علم دیا ہے نہ اس میں تبدیلی کرے اور نہ تغیر۔ کَمَا کا لفظ ان یکتب کے متعلق ہے۔
فَلْیَکْتُبْ (پس چاہیے کہ وہ لکھے) یعنی دستاویز لکھے اس سے عدول نہ کرے۔
مدیون کی املاء اقرار ہے :
وَلْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْہِ الْحَقُّ (اور چاہیے کہ وہ شخص املاء کروائے جس کے ذمہ حق ہے) یعنی مدیون لکھوالے اسی کا اقرار حجت الزامی ہے کہ قرض اس کے ذمہ ہے اور یہ لکھوانا اپنے متعلق اقرار بن جائے گا زبان سے۔
املال اور املاء یہ دونوں لغات ہیں۔
وَلْیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ (اور وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے جو اس کا رب ہے) یعنی مدیون اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور املاء سے انکار نہ کرے۔ کیونکہ اس طرح تو اس کے تمام حق کا انکار ہوگا۔
وَلَا یَبْخَسْ مِنْہُ شَیْئًا (اور اس میں سے کوئی چیز کم نہ کرے) یعنی املاء کروانے میں حق واجب سے کوئی چیز کم نہ کرے۔ اس میں مدیون کے بعض حق کا انکار لازم آتا ہے۔
فَاِنْ کَانَ الَّذِیْ عَلَیْہِ الْحَقُّ سَفِیْہًا (پس اگر مدیون سفیہ ہو) یعنی مجنون کیونکہ سفہہ خفت عقل کو کہا جاتا ہے۔ یا فضول خرچ اور تصرف سے جاہل ہونے کی بناء پر ممنوع التصرف ہو۔
اَوْ ضَعِیْفًا (یا کمزور ہو) یعنی نادان بچہ ہو۔
اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ ہُوَ (یا وہ املاء کرانے کی طاقت نہ رکھتا ہو) یعنی عاجزی یا جہالت یا زبان سے ناواقفیت کی بناء پر۔
فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّہٗ (پس اس کا ولی املاء کرائے) یعنی وہ شخص جو اس کا سرپرست و وکیل ترجمان ہے۔
بِالْعَدْلِ (انصاف کے ساتھ) یعنی سچائی اور حق کے ساتھ
وَاسْتَشْہِدُوْا شَہِیْدَیْنِ (اور تم دو گواہ بنائو) تاکہ وہ قرض پر گواہی دینے والے بن جائیں۔
شروطِ گواہی :
مِنْ رِّجَالِکُمْ (اپنے مردوں میں سے) یعنی مسلمانوں میں سے اسلام کے ساتھ آزادی وبلوغ بھی شرط ہے۔
مسئلہ : احناف کے نزدیک کفار کی گواہی کفار کے متعلق درست ہے۔
فَاِنْ لَّمْ یَکُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتٰنِ (پس اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں) یعنی اگر دو گواہ مرد نہ ملیں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں کافی ہیں۔
حدود و قصاص کے علاوہ بقیہ معاملات میں مردوں کے ساتھ عورتوں کی گواہی مقبول ہے۔
مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّہَدَآئِ (جن کو تم بطور گواہ پسند کرو) یعنی جن کی عدالت سے تم واقف ہو۔
مسئلہ : اس میں دلیل ہے کہ ناپسندیدہ بھی شاہد بن سکتا ہے۔
اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰہُمَا فَتُذَکِّرَ اِحْدٰہُمَا الْاُخْرٰی (اگر ایک بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلائے) یعنی اس بناء پر کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلا دے۔
اختلافِ قراءت :
حمزہ کی قراءت میں اِنْ تَضِلَّ میں ان شرطیہ ہے اور فَتُذَکِّرُ مرفوع ہے اور پورا جملہ جزاء ہے۔
تَضِلَّ پر شرط کی وجہ سے جزم آنی چاہیے مگر تشدید کی وجہ سے جزم نہیں آئی۔ جیسا کہ سورة المآئدہ میں آیت نمبر 95 ومن عادفینتقم اللّٰہ منہ، تو فَیَنْتَقِمُ میں باوجود جزاء کے رفع ہے۔
مکی اور بصری قراء نے فَتُذْکِرَ نصب کے ساتھ پڑھا۔ اور اصل اس کی الذِکْر سے بتلائی نہ کہ الذُکْرِ سے۔
وَلَایَاْبَ الشُّہَدَآئُ اِذَا مَادُعُوْا (اور نہ انکار کریں گواہ جب ان کو بلایا جائے) یعنی ادائیگی شہادت کے لئے یا گواہ بنانے کے لئے تاکہ لوگوں کے حقوق ضائع نہ ہوں۔
یہاں ان کو گواہ بننے سے پہلے ہی ان کو شہداء کہا گیا۔ کیونکہ آئندہ چل کر وہ گواہ بننے والے ہیں۔ پہلی صورت میں تو فرض ہے اور دوسری صورت میں مستحب ہے۔
وَلَا تَسْئَمُوْٓا (نہ اکتائو) جیسا شاعر نے کہا۔
سئمتُ تکالیف الحیاۃ ومن یعش ٭ ثمانین حولا لا ابالک یسأم (اکتاجانا)
محل استدلال یسئام ہے۔
ان تکتبوہ کی ضمیر دَیْنکی طرف لوٹ رہی ہے یا الحق کی طرف
صَغِیْرًا اَوْکَبِیْرًا (تھوڑا ہو یا زیادہ) یعنی جس حالت میں ہو خواہ تھوڑا حق ہو یا زیادہ۔
اس میں دلیل ہے کہ بیع سلم کپڑے میں بھی جائز ہے کیونکہ جو کیل وزن میں آسکے۔ اس کے لئے صغیر و کبیر کا لفظ نہیں لاسکتے۔ البتہ تھوڑی چیز کے لئے ذرعی استعمال کرتے ہیں۔
ممکن ہے کہ ضمیر کُتَّاب کی طرف لوٹے۔ مطلب یہ ہو کہ وہ تحریر کو مختصر مشتمل لکھیں۔
اِلٰٓی اَجَلِہٖ (وقت مقررہ تک) یعنی وہ وقت جس پر دونوں دائن و مدیون متفق ہوئے ہیں۔
ذٰلِکُمْ (یہ) یعنی لکھنا۔ اس کا مشارالیہ ان تکتبوہ ہے۔
اَقْسَطُ (زیادہ انصاف والی بات ہے) یہ قسط سے ہے جس کا معنی عدل ہے۔
عِنْدَاللّٰہِ (اللہ کے ہاں یہ اقسط کا ظرف ہے) یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں۔
وَاَقْوَمُ لِلشَّہَادَۃِ (یہ ادائے شہادت کو بہت قائم کرنے والا ہے) یعنی اقامت شہادت میں زیادہ معاون ہے۔
اقسط ٗ اقوم یہ دونوں سیبویہ کے نزدیک تفضیل کے صیغے ہیں۔
وَاَدْنٰٓی اَلاَّ تَرْتَابُوْٓا (اور زیادہ قریب ہے کہ تم شک میں نہ پڑو) یعنی گواہ اور حاکم اور صاحب حق کے لئے شک کو زیادہ دور کرنے والی چیز ہے۔ اس لئے کہ بسا اوقات مقدار وصفات میں شک پڑجاتا ہے جب دستاویز کی طرف رجوع کریں گے۔ تو شک زائل ہوجائے گا۔
صرَف : اَدْنٰی : کی الف اصل میں وائو تھی۔ کیونکہ یہ دَنْوٌ سے ہے۔
اِلَّآٓ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً حَاضِرَۃً (ہاں اگر دست بدست تجارت ہو)
قراءت ونحو :
عاصم نے اس طرح پڑھا۔ الا ان تکون التجارۃُ تجارۃً یا الا ان تکون المعاملۃُ تجارۃً حاضرۃً نصب کے ساتھ۔ اسم کو محذوف مان کر تجارۃً حاضرۃً کو خبر بنایا۔
دیگر قراء نے تجارۃٌ حاضرِۃٌ پڑھا۔ اور جمہور کا یہی قول ہے۔ اس صورت میں کان تامہ ہے۔
تقدیر عبارت یہ ہے۔ الا ان تقع تجارۃٌ حاضرۃٌ۔ کہ تجارت حاضرہ پیش آئے۔
یا کان ناقصہ ہے۔ اور تجارۃٌ حاضرۃٌ مرفوع اس کا اسم اور تدیرونہا اس کی خبر ہو۔
تُدِیْرُوْنَہَا بَیْنَکُمْ ۔ (تم اس کو اپنے درمیان لوٹانے والے ہو) بینکم، تدیرون کا ظرف ہے۔ اس کا معنی اپنے درمیان پھیرنا۔ فوری لین دین کرنا۔
فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَلاَّ تَکْتُبُوْہَا۔ تمہیں نہ لکھنے میں کچھ حرج نہیں۔ جبکہ تم دست بدست فوری لین دین کرو۔ اگر اس کو نہ لکھو تو کچھ حرج نہیں۔ کیونکہ اس میں وہ وہم نہیں جو قرض میں ہوتا ہے۔
نقد میں گواہی :
وَاَشْہِدُوْٓا اِذَا تَبَایَعْتُمْ ۔ (اور خریدو فروخت کے وقت گواہ بنا لو) خریدو فروخت نقد قیمت پر ہو یا ادھار گواہ بنا لیا کرو۔ کیونکہ احتیاط اسی میں ہے۔ اور یہ گواہ بنانا اختلاف میں پڑنے سے بچانے والا ہے۔
دوسرا قول : اس سے مراد یہ ہے کہ جب یہ تجارت حاضرہ والی بیع کرو۔ تو اس میں گواہ کافی ہیں کتابت کی ضرورت نہیں۔ اور امر استحباب کے لئے ہے۔
دو قراءتیں اور مراد نہی :
وَلَا یُضَآرَّ کَاتِبٌ وَّلَا شَہِیْدٌ۔ (کاتب اور گواہ کو تکلیف نہ دی جائے) نمبر 1۔ احتمال یہ ہے کہ یہ معروف ہو۔ حضرت عمر ؓ کی قراءت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ لَا یُضَارِرْ ۔
نمبر 2۔ قراءت ابن عباس ؓ کے مطابق مجہول ہے۔ لَا یُضَارَرْ معنی یہ ہے کہ کاتب اور گواہ سے جو طلب کیا جائے۔ اس کو ماننے میں وہ پس و پیش نہ کریں۔ تحریف، زیادتی ٗ نقصان سے باز رہیں۔
نمبر 3۔ نہی ضرار مراد ہے کہ فریقین نہ کاتب کو دکھ دیں اور نہ گواہ کو کہ اس کو جلدی پر مجبور کریں۔ لازم پکڑیں۔ یا کاتب کو آنے جانے کا خرچہ نہ دیں۔ یا گواہ کو اس کے شہر سے آنے کی مشقت اسی پر ڈالیں۔
وَاِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّہٗ فُسُوْقٌم بِکُمْ ۔ (اگر تم ایسا کرو گے تو یہ تمہارے لئے گناہ ہے) یعنی اگر تم ضرر پہنچائو گے تو یہ ضرار گناہ ہے۔
وَاتَّقُوا اللّٰہَ ۔ (اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو) یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر کی مخالفت نہ کرو۔
وَیُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ ۔ (اور اللہ تعالیٰ تمہیں سکھاتے ہیں) یعنی اپنے دین کے احکام
وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ۔ (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والے ہیں) اس کو سہو و قصور لاحق نہیں ہوتا۔
Ayah 2:283آیت 283:
وَاِنْ کُنْتُمْ ۔ (اگر تم ہو) یعنی اے قرض خواہو۔
عَلٰی سَفَرٍ ۔ (سفر پر) یعنی سفر کی حالت میں
وَلَمْ تَجِدُوْا کَاتِبًا۔ (اور تم نہ پائو کاتب)
فَرِہٰنٌ۔ (تو رہن رکھنا ہے)
قراءت۔ ابو عمرو ٗ مکی نے فَرُہُنٌ پڑھا ہے۔ اور قابل اعتماد زیادہ رُہُنٌ ہے۔
دونوں رہن کی جمع ہیں۔ جیسے سَقْفٌ وَسُقُفٌ اور بَغْلٌ ٗ و بِغَالٌ اس طرح رہانٌ جمع ہے رہن اصل میں مصدر ہے اب تو نام بن گیا۔ پھر اسماء کی طرح اس میں توڑ پھوڑ کی گئی۔
ارشادی حکم :
سفر میں چونکہ عموماً گواہوں کے اور کاتبوں کے نہ ملنے کا گمان غالب ہے تو بطور ارشاد و راہنمائی کے حفاظت مال کی خاطررہن کا حکم دیا گیا تاکہ رہن کے ذریعہ امکانی حد تک اعتماد حاصل کرلیا جائے۔ اس بناء پر نہیں کہ رہن رکھنے کیلئے سفر ضروری ہے۔
مَّقْبُوْضَۃٌ(قبضہ کیا ہوا) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قبضہ شرط نہیں۔ صرف ایجاب و قبول سے پورا ہوجاتا ہے۔
اظہارِ اعتماد :
فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا (اگر تمہیں ایک دوسرے پر اعتماد ہو) یعنی اگر بعض قرضداروں اور قرض خواہوں کو ایک دوسرے پر حسن ظن ہو۔ تو پھر قرض دار کو چاہیے۔ کہ وہ اپنے ذمہ لازم ہونے والی رقم کو واپس کر دے کیونکہ اس نے رہن نہ لے کر اس پر اعتماد کا اظہار کیا۔ تو یہ اعتماد پر پورا اترے۔
یہاں دَیْن کو امانت کہا گیا۔ کیونکہ وہ اس کا ضامن بن گیا۔ کیونکہ اس پر اعتماد کرتے ہوئے اس نے رہن نہیں لیا۔
وَلْیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ (اور اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ جو اس کا رب ہے) اور اس کے حق کا انکار نہ کرے۔
وَلَا تَکْتُمُوا الشَّہَادَۃَ (اور تم گواہی کو مت چھپائو) یہ گواہوں کو خطاب کیا گیا۔
وَمَنْ یَّکْتُمْہَا فَاِنَّہٗٓ ٰاثِمٌ قَلْبُہٗ (جو اس کو چھپاتا ہے پس اس کا دل گنہگار ہے)
نحو : قَلبُہ کا لفظ مرفوع ہے کیونکہ یہ آثم کا فاعل ہے تقدیر عبارت یہ ہے۔
فانہ آثم قلبہ یا قَلبُہ مبتداء اور آثم خبر مقدم ہے اور یہ جملہ اِنّ کی خبر ہے۔
ایک سوال :
اعتراض : اثم کی نسبت قلب کی طرف ہے حالانکہ وہ سارا ہی گنہگار ہے نہ کہ صرف دل
نسبت کی تین وجوہ :
جواب : کیونکہ گواہی دل ہی میں چھپائی جاتی ہے اور اس کو منہ سے نہیں بولتا۔ جب گناہ کمانے میں دل ساتھی بنا۔ تو اس کی طرف نسبت کردی گئی۔ کیونکہ فعل کی نسبت آلہ عمل کی طرف بلیغ تر ہے۔ جیسا تم کہو۔ ہذا مما ابصرتہ عینی۔ یہ وہ چیز ہے جس کو میری آنکھ نے دیکھا ہے۔ او مما سمعتہ اذنی و مما عرفہ قلبی۔ اور کان نے سنا اور دل نے پہچانا۔
2 دوسری وجہ : یہ ہے کہ دل رئیس الاعضاء ہے اور جسم کا وہ ٹکڑا ہے کہ اگر یہ صحیح ہو تو سارا جسم صحیح رہتا ہے اور اگر یہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ گویا اس طرح فرمایا گیا کہ گناہ اس کے دل کی گہرائیوں میں پیوست ہوچکا ہے اور اس کے سب سے اعلیٰ مقام پر قابض ہوچکا۔
3 تیسری وجہ : یہ ہے افعال قلوب، اعمال جوارح سے عظیم تر ہیں۔
ذرا غور تو کرو۔ کہ تمام حسنات وسیئات کی جڑ ایمان و کفر ہے۔ اور یہ دونوں دل کے فعل ہیں۔ چناچہ جب کتمان شہادت کو آثام قلب سے قرار دیا۔ تو گویا اس کے لئے گواہی دے دی۔ کہ یہ عظیم گناہوں سے ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اکبر الکبائر یہ ہیں۔
نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا۔ جھوٹی گواہی دینا۔ گواہی چھپانا
وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے) یعنی کتمان شہادت اور اظہار شہادت سے
عَلِیْمٌ (واقف ہیں) اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔
Ayah 2:284آیت 284 :
لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے) یعنی اس کا پیدا کیا ہوا ‘ اور اسی کی ملک ہے۔
وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ (اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے یا اس کو چھپائو) یعنی برائی میں سے۔
مؤاخذہ کی حقیقت :
یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ (وہ اللہ تعالیٰ اس کا محاسبہ کریں گے) یعنی اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ دیں گے۔ اس میں وساوس قلبیہ اور حدیث نفس جس کو انسان چھپاتا ہے وہ داخل نہیں۔ لیکن جس کو دل میں پختہ کرلے۔ وہ قابل مؤاخذہ ہے۔
حاصل یہ ہے کہ عزم کفر بھی کفر ہے۔ اور گناہوں کا خیال آنا بغیر پختہ ارادہ کے معاف ہے اور گناہ کا ارادہ کر کے اگر شرمندہ ہو اور اس سے رجوع کرے اور استغفار کرے تو اس کو بخش دیا جاتا ہے اور اگر وہ کسی برائی کا پختہ ارادہ کرے اور وہ اس پر ثابت و قائم بھی ہو۔ تو گناہ ہے مگر یہ کہ وہ اس سے باز آگیا۔ کسی رکاوٹ کی وجہ سے (یعنی مجبوراً ) اپنے اختیار سے نہیں۔ تو اس پر کرنے کا گناہ تو نہ ملے گا۔ یعنی زنا کا ارادہ کرنے سے زنا کی سزا تو نہ ملے گی۔
عزم کا حکم :
اب اس کو عزم زنا کی سزا ملے گی یا نہیں۔
قول اوّل : سزا نہ ملے گی۔ کیونکہ آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا۔ ان اللّٰہ عفا عن امتی ماحدثت بہ انفسہا مالم تعمل۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے میری امت کو معاف کردیا۔ جو ان کے خیال میں آئے اور اس پر عمل نہ کیا ہو ( بخاری)
دوسرا قول : جمہور کہتے ہیں کہ حدیث نفس سے مراد خطر فی القلب، خیال آنا ہے۔ عزم گناہ مراد نہیں۔ اور عزم پر مؤاخذہ ثابت ہے۔
شیخ ابو منصور ٗ علامہ حلوانی رحمہما اللہ کا رجحان اسی طرف ہی ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ۔ الاٰیۃ سورة النور آیت نمبر 19 یہ لوگ فاحشہ خود کرنے والے نہیں۔ صرف اس کی اشاعت میں شریک ہیں۔ ان کو عذاب کی وعید سنائی گئی۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں۔ جس گناہ کا بندہ ارادہ کرتا ہے مگر عمل نہیں کرتا۔ اس کو اس پر دنیا کے غم و حزن کی صورت میں سزا دی جاتی ہے۔
اکثر تفاسیر میں ہے کہ جب یہ آیت اتری۔ تو صحابہ ؓ گھبرا گئے اور کہنے لگے کیا ہمارا ہر اس بات پر مؤاخذہ ہوگا۔ جو ہمارے دلوں میں حدیث نفس کی صورت میں پیدا ہوتی ہے تو یہ آیت اتری۔
امن الرسول سے لایکلف اللّٰہ تا ما اکتسبت۔ پس یہ کسب سے متعلق ہے عزم سے نہیں۔ بقول بعض یہ آیت اس آیت سے منسوخ ہوگئی۔
قولِ محققین :
مگر محققین کا فرمان یہ ہے کہ نسخ تو احکام میں ہے اور یہ تو خبر ہے اور خبر میں نسخ نہیں۔ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ 1 پس وہ جس کو چاہے گا بخش دے گا اور جس کو چاہے گا سزا دے گا۔
قراءت : شامی ٗ عاصم رحمہما اللہ نے یغفرُ اور یعذّبُ کو ضمہ سے پڑھا ہے۔
یعنی فہو یغفِرُ ویعذبُ مگر دیگر قراء رحمہم اللہ نے جواب شرط پر عطف کی وجہ سے جزم پڑھی ہے۔
ابوعمرو (رح) نے ادغام سے پڑھا۔ (کذا فی الا شارۃ و البشارۃ)
صاحب کشاف کا قول :
صاحب کشاف نے کہا راء کو لام میں ادغام کرنے والا لاحق ہے اور غلطی پر ہے کیونکہ راء حرف مکرر ہے۔ پس وہ مضاعف کی طرح ہوگیا۔ اور مضاعف میں ادغام درست نہیں ہے۔ اس لئے ابوعمرو سے اس کی روایت کرنا دوہری غلطی ہے۔
کیونکہ ایک تو وہ خود لحن کا مرتکب ہے اور دوسرا ایسے شخص کی طرف غلط نسبت کر رہا ہے۔ جو عربیت کا اپنے زمانہ میں سب سے بڑا ماہر تھا۔ بس یہ بات عظیم جہل کی نشان دہی کرتی ہے۔
وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر) ۔ خواہ مغفرت ہو یا عذاب وغیرہما
قَدِیْرٌ (قدرت رکھتے ہیں) ۔
Ayah 2:285285 : ٰامَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ (ایمان لائے رسول اس پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر اتارا گیا۔ اور مومن ایمان لائے) ۔
اگر المؤمنون کا عطف الرسول پر کیا جائے تو ضمیر کا نائب کلٌّ کی تنوین کو مانا جائے گا۔ اور ضمیر رسول اور مؤمنون دونوں کی طرف راجع ہوگی۔ یعنی کلہم۔
ٰامَنَ بِاللّٰہِ وَمَلٰٓپکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ (وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر) ۔
نحوو قراءت :
اس پر وقف ہے اور اگر یہ مبتداء ہو تو پھر کُلٌّ مبتداء ثانی ہے۔
اور تقدیر یہ ہے کل منہم اور ٰامَنَ یہ مبتدائے ثانی کی خبر بنے گی۔ اور یہ تمام جملہ خبر اول بن جائے گی۔ اور ضمیر مؤمنین کی طرف راجع ہوگی۔ اور ٰامَنَمیں ضمیر کُلٌّ کی طرف واحد لائی گئی۔ گویا کُلُّ واحد منہم ٰامن فرمایا۔ حمزہ علی رحمہما اللہ نے کِتَابِہٖ پڑھا اور مراد قرآن مجید لیا۔ یا جنس کتاب رسل مراد لی۔
لَا نُفَرِّقُ (ہم تفریق نہیں کرتے)
لاَ نفرق۔ یعنی وہ کہتے ہیں ہم تفریق نہیں کرتے۔ بلکہ ہم تمام پر ایمان لاتے ہیں۔
بَیْنَ اَحَدٍمِّنْ رُّسُلِہٖ (اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان) احدٍ یہ جمع کے معنی میں ہے۔
اس وجہ سے بین اس پر داخل ہے۔ کیونکہ بین اس اسم پر داخل ہوتا ہے۔ جو ایک سے زیادہ پر دلالت کرے۔ جیسے تم کہو۔ المال بین القوم۔ اس طرح نہیں کہتے المال بین زید۔
وَقَالُوْا سَمِعْنَا (انہوں نے کہا ہم نے سنا) یعنی تیرے فرمان کو قبول کیا۔
وَاَطَعْنَا (اور تیری اطاعت کی) یعنی تیرا حکم مانا۔
غُفْرَانَکَ (تو بخش دے) یعنی تو اپنی بخشش سے ہمیں بخش دے۔
یہ فعل مضمر سے منصوب ہے ای اغفرلنا غفرانک۔
رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ (اے ہمارے رب اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے) المصیر لوٹنے کی جگہ اس آیت میں بعث و جزاء کا اقرار ہے۔
اس آیت میں دلیل ہے کہ ایمان و استثناء باطل ہے اور کبیرہ گناہ کے باوجود ایمان باقی رہتا ہے۔
Ayah 2:286لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا (اللہ تعالیٰ کسی نفس کو تکلیف نہیں دیتے) یہ جملہ مستانفہ ہے یا محکیعنہ ہے۔
تکلیف کا مطلب کفایت ہے :
اِلاَّ وُسْعَہَا (مگر اس کی وسعت کے مطابق) کیونکہ تکلیف اسی کی طرف لوٹتی ہے جس پر مکلف کو قدرت ہو۔ (کذا فی شرح التاویلات)
صاحب کشاف کہتے ہیں الوسع جو انسان کو کفایت کرے اور اس پر تنگی نہ کرے نہ اس سے تکلیف میں مبتلا ہو۔ یعنی نہیں اسکو تکلیف دیتا۔ مگر اتنی جتنی اس میں گنجائش ہے اور اس پر آسان ہو۔ انتہائی مشقت میں مبتلا ہونے کے بغیر آسانی کے ساتھ اسکو ادا کرے۔ انسان کی طاقت میں تھا کہ پانچ سے زیادہ نمازیں پڑھے اور مہینہ سے زیادہ روزے رکھے اور ایک سے زیادہ حج کرسکتے ہیں۔
لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ (اس کے لئے جو اس نے کمایا اور اس پر وبال ہے جو اس نے گناہ کمایا) یعنی جو بھلائی کمائی وہ اس کو فائدہ دے گی۔ اور اس کو نقصان دے گی۔ جو اس نے برائی کمائی۔
کسب و اکتساب کا فرق :
اعتراض : آیت میں خیر کو کسبت سے اور شر کو اکتسبت سے تعبیر کیا گیا۔
جواب : کیونکہ اکتسب کسی دوسرے کے لئے کمانا اور نفس شر پر اپنے آپ عمل کرنا ہے اور بھلائی کے لئے تکلف کرنا ہے۔
رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَا (اے ہمارے رب تو ہم سے مؤاخذہ نہ کر اگر ہم بھول جائیں) یعنی تیرے حکموں میں سے کوئی حکم بھول کر چھوڑ دیں۔
اَوْ اَخْطَاْنَا (یا ہم غلطی کریں)
یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ نسیان و خطاء پر مؤاخذہ جائز ہے۔
اختلافِ معتزلہ :
البتہ معتزلہ اسکے متعلق اختلاف کرتے ہیں کیونکہ دونوں سے بچنا ممکن ہے اگر مؤاخذہ درست نہ ہوتا تو سوال کا کوئی مطلب نہیں۔
اِصر کی مراد :
رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا (اے ہمارے رب نہ لاد ہم پر بوجھ زائد جو اٹھانے والے کو بوجھل کر دے) یعنی بوجھ والے کو جو بوجھ اس کی جگہ پر روک دے۔
یعنی ایسا زائد کام جو اٹھانے والے کو بوجھ کی وجہ سے اس کی جگہ پر روک دے۔ یہ لفظ سخت تکلیف کیلئے بطور استعارہ استعمال کیے گئے ہیں جیسے قتل جان اور جلد میں سے نجاست کے مقام کو کاٹنا۔ (جلد سے موزہ کی جلد مراد ہے) وغیرہ اور کپڑے میں سے۔
کَمَاحَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا (جس طرح تو نے ان لوگوں پر لادا جو ہم سے پہلے ہوئے) جیسے یہود۔
رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَالَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ (اے ہمارے رب ہم سے نہ اٹھوا وہ چیز جس کی ہم میں طاقت نہیں) یعنی وہ سزائیں جو ہم سے پہلے لوگوں پر اتریں۔
وَاعْفُ عَنَّا (تو ہم کو معاف فرما) یعنی ہماری برائیاں مٹا دے۔
وَاغْفِرْلَنَا (اور تو ہمیں بخش دے) اور ہمارے گناہ کو چھپا دے۔ یہ تکرار نہیں۔ اول کبائر کیلئے اور دوسرا صغائر کے لئے۔
وَارْحَمْنَا (تو ہم پر رحم فرما) ہمارے افلاس کے ہوتے ہوئے ہمارے میزان کو بوجھل کر کے یا اول مسخ سے اور دوم دھنسنے سے اور سوم غرق ہونے سے۔
اَنْتَ مَوْلٰنَا (تو ہمارا کار ساز ہے) یعنی تو ہمارا آقا ہم تیرے غلام یا تو ہمارا مددگار ہے اور ہمارے امور کا ذمہ دار ہے۔
فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ (تو کافر قوم کے خلاف ہماری مدد فرما) اسلئے کہ کار ساز کا حق ہے کہ اپنے غلاموں کی مدد کرے۔
آیت کی فضیلت :
حدیث میں وارد ہے کہ جس نے ٰامن الرسول سے الکٰفرین تک رات کے آخری حصہ میں پڑھا۔ تو یہ اس کیلئے کافی ہے۔
جس نے ان کو عشاء آخرہ کے بعد پڑھا تو قیام لیل کی طرف سے کافی ہیں۔
جائز ہے کہ کہا جائے قراءت سورة البقرۃ یا قراءت البقرہ۔
اس لئے کہ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ سورة بقرہ کی اختتامی آیات عرش کے نیچے خزانہ ہے۔ بعض نے کہا۔ اس طرح کہنا مکروہ ہے بلکہ اس طرح کہا جائے گا۔ قرأت السورۃ التی تذکر فیہا البقرۃ۔ واللّٰہ اعلم