Ayah 2:96وَلَتَجِدَنَّھُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ : (اور تم ضرور پائو گے ان لوگوں کو سب سے زیادہ حریص)
نحو : ھم اور احرص الناس۔ یہ دونوں وجد کے مفعول ہیں۔
عَلٰی حَیٰوۃٍ : (زندگی پر) حیات کی تنوین تنکیر پر دلالت کرتی ہے اور مراد مخصوص قسم کی زندگی ہے اور وہ مہلت والی زندگی ہے اسی وجہ سے تنوین والی قراءت زیادہ بہتر ہے۔ (علی الحیاۃ) الف لام والی قراءت سے۔ جو حضرت ابی ؓ کی قراءت ہے۔
وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا : (اور ان لوگوں سے بھی زیادہ جو مشرک ہیں) یہ معنی پر محمول ہے کیونکہ احرص الناس کا معنی احرص من الناس۔ لوگوں میں زیادہ حریص۔
الگ تذکرہ کی وجہ :
سوال : مشرک جب الناس میں داخل ہیں تو ان کا الگ تذکرہ کیوں کیا ؟
جواب : مشرکین کی حرص سب سے زیادہ ہے جیسا کہ الملائکہ کہیں تو تمام فرشتے داخل ہیں۔ مگر جبرائیل ومیکائیل کو خصوصًا ذکر کردیا جاتا ہے۔ ان کی خصوصیت کی وجہ سے اسی طرح یہ حرص میں نمبراول ہیں۔ یا یہ مراد ہے کہ یہ یہود مشرکوں سے بھی زیادہ حریص ہیں۔ سابقہ کلام کی دلالت کی وجہ سے۔
” احرص “ کو حذف کردیا۔ اس میں یہود کو سخت ڈانٹ پلائی گئی اس لیے کہ مشرکوں کو تو آخرت پر بھی ایمان نہیں اور وہ فقط دنیا ہی کی زندگی جانتے ہیں۔ اگر وہ دنیا کے بارے میں حرص کریں تو بعید نہیں۔ کیونکہ یہی ان کی جنت ہے۔ پس اگر کوئی اہل کتاب ہوتے ہوئے زیادہ حرص کرے۔ جبکہ اس کو جزاء وسزا کا اقرار بھی ہے۔ تو وہ عظیم تو بیخ کا مستحق ہے۔ مشرکین سے ان کی حرص بڑھنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں۔ کہ وہ آگ میں جائیں گے۔ کیونکہ ان کو اپنی حالت معلوم ہے (جس کی سزا جہنم ہی ہے) اور مشرکین کو اس کے متعلق کچھ بھی علم نہیں۔
شدت حرص :
یَوَدُّ اَحَدُ ھُمْ لَوْ یُعَمَّرُاَلْفَ سَنَۃٍ : (ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کاش اسے عمردی جائے ایک ہزار برس) جملہ مستانفہ لا کر ان کی شدت حرص ذکر کی۔ دوسرا قول یہ ہے۔ اَلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا سے مجوس مراد ہیں کیونکہ وہ اپنے بادشاہوں کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ عش الف نیروز۔ ! تو جئیے ہزار سال۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ عجمیوں کا قول ہے۔ ہزار سال جیو۔
تیسرا قول : وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا۔ یہ ابتدائی کلام ہے یعنی ومنھم ناس یوداحد ھم اور ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جن میں سے ہر ایک چاہتا ہے گویا موصوف محذوف ہے، اس صورت میں والذین اشرکوا سے مراد یہود ہونگے۔ کیونکہ انہوں نے کہا۔ عزیرابن اللہ کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے۔
وَمَا ھُوَبِمُزَحْزِحِہٖ مِنَ الْعَذَابِ : (حالانکہ اس قدر جینا ان کو عذاب سے نجات دینے والا نہیں)
ضمیر کا مرجع :
نحو نمبر 1: ہٖ کی ضمیر احد ھم کی طرف لوٹتی ہے اور ان یعمریہ بمزحزحہٖ کا فاعل ہے۔
اَنْ یُّعَمَّرَ : (یہ کہ اس کو عمردی جائے) یہ بمزحزحہٖ کا فاعل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس کو اس کی عمر آگ سے بچالے۔
نمبر 2: ھو ضمیر مبہم اور ان یعمر اس کی توضیح۔ مطلب یہ ہوا وہ عمر دیا جانا ان میں سے کسی کو بھی آگ سے نہ بچاسکے گا۔
الزحزحۃ : دور ہونا۔ ایک جانب ہونا۔ کتاب جامع العلوم وغیرہ میں لکھا ہے کہ لو یعمّر کا معنی اَنْ یعمّرہے۔ یعنی عمر دیا جانا۔ یہاں لَو۔ ان کا قائم مقام ہے۔ اور اَنْ فعل کو مصدر کے معنی میں کردیتا ہے اور یہ یودّ کا مفعول ہے ای یوداحدھم تعمیر الف سنۃ۔ ان میں سے ہر ایک ایک ہزار سال کی عمر چاہتا ہے۔
وَاللّٰہُ بَصِیْرٌم بِمَا یَعْمَلُوْنَ : (اور اللہ تعالیٰ دیکھتے ہیں جو وہ کرتے ہیں) یعنی ان کفار کا عمل (جانتا ہے) پس وہ اس پر ان کو سزا دے گا۔
قراءت : یعقوب (رح) نے تعملون پڑھا ہے۔
Ayah 2:97تفسیر آیت 97:
قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ : (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیں جو کوئی دشمن ہو جبرائیل کا)
قراءت۔ نمبر 1: مکی نے جَبْرِیْلَ بغیر ہمزہ پڑھا۔
نمبر 2: حفص کے علاوہ باقی کو فی قراء نے جبرائیل۔ اشباع ہمزہ سے پڑھا۔
نمبر 3: بقیہ تمام قراء نے، جِبْرِیْل۔ بلا ہمزہ پڑھا
نحو : جبریل۔ معرفہ وعجمہ کی وجہ سے غیر منصرف ہے۔ اس کا معنی عبد اللہ ہے۔ کیونکہ سریانی میں جبر۔ عبد کو کہتے ہیں۔ اور ایل اللہ کا نام ہے۔
حجت باز یہودی :
روایت میں ہے کہ ابن صوریا یہودی عالم نے نبی اکرم ﷺ سے حجت بازی کی۔ اور آپ سے سوال کیا۔ کہ آپ پر کون وحی لاتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا جبریل۔ ابن صوریا نے کہا وہ تو ہمارا دشمن ہے۔ اگر اور کوئی فرشتہ ہوتا تو ہم ضرور آپ پر ایمان لے آتے۔ اس نے بارہا ہم سے دشمنی کی۔ ان میں سب سے شدید تریہ تھی۔ کہ ہمارے پیغمبر پر یہ حکم اتارا۔ عنقریب بیت المقدس کو بخت نصر تباہ کر دے گا۔ پس ہم نے اس کو قتل کرنے کے لیے ایک آدمی بھیجا۔ اس نے بخت نصر کو بابل میں ایک مسکین لڑکے کی صورت میں پایا۔ پھر جبرائیل ( علیہ السلام) نے اس کا دفاع کر کے قاتل سے بچالیا۔ اور کہا جبرائیل ( علیہ السلام) نے۔ اگر تمہارے رب نے اس کو تمہارے ہلاک کرنے کا حکم دیا ہے تو تمہیں اس پر غلبہ نہ دیں گے۔ اور اگر اس کے ہلاک کا حکم نہیں دیا۔ تو پھر کس گناہ کی وجہ سے اسے تم قتل کرتے ہو۔ (الواحدی فی اسباب النزول)
فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ : (اس نے تو اتارا ہے یہ کلام) پس جبرائیل ( علیہ السلام) نے قرآن اتارا۔
اصول : ایسا اضمار جس کا پہلے تذکرہ نہ ہو۔ اس کو کثرت شہرت کی وجہ سے بطور عظمت شان کے ضمیر کی صورت میں لاتے ہیں۔ گویا وہ اپنی ذات پر خود دلالت کرتا ہے۔ اور اس لیے اس کے صریح نام کی بجائے اس کی کسی صفت کا ذکر کردیا جاتا ہے۔
خصوصیت ِقلب کی وجہ :
عَلٰی قَلْبِکَ : (آپ کے دل پر) یعنی آپ کو یاد کرایا۔ اور دل کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ حفظ کا مقام ہے جیسے سورة شعراء آیت نمبر 193، 194 میں فرمایا۔ نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ ۔ علی قلبک کلام کا تقاضا یہ تھا کہ علیٰ قلبی کہا جاتا۔ مگر کلام اللہ کی حکایت کے طور جس طرح آپ سے کلام کیا گیا تھا۔ اسی طرح ذکر کردیا گیا۔ (یہ قرآن کے کلام اللہ ہونے کی ایک دلیل ہے)
جواب شرط بنائیں :
نمبر 1: اس طرح بھی درست ہے کہ فانّہٗ نزّلہ کو شرط کی جزا بنائیں۔ تقدیر عبارت اس طرح ہو۔
ان عادی جبریل احدٌ من اہل الکتب فلا وجہ لمعاداتہ حیث نزَّل کتابا مصدقًا للکتب بین یدیہ فلو انصفوا لاحبوہ واشکروا لہ صنیعہ فی انزالہ ما ینفعھم ویصَحِّح المنزل علیھم اگر کوئی اہل کتاب میں سے جبرائیل سے دشمنی کرتا ہے تو اس کی دشمنی کی کوئی وجہ نہیں۔ اس لیے کہ اس نے ایک ایسی کتاب اتاری ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اگر ان میں انصاف ہوتا تو وہ اس سے محبت کرتے اور اس کے شکر گذار ہوتے۔ ان کے اس احسان پر کہ اس نے ان کیلئے فائدہ مند کتاب اتاری۔ اور انکی کتاب منزل (جس کی انہوں نے تحریف کردی) کی وہ تصحیح کرنے والی ہے۔
نمبر 2: جواب شرط کو محذوف مان کر تقدیر عبارت اس طرح ہو۔ من کان عدوالجبریل فلیمت غیضًا فانہ نزل الوحی علی قلبک۔ جو جبرائیل ( علیہ السلام) کا دشمن ہے پس اسے غصے سے ڈوب مرنا چاہیے۔ اس لیے کہ اس نے آپ کے دل پر وحی کو اتارا ہے۔
بِاِذْنِ اللّٰہِ : (اللہ تعالیٰ کے حکم سے) یہاں اذن کا معنی حکم ہے۔
مُصَدِّقًالِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ : (جو تصدیق کرتا ہے اس کلام کی جو اس سے پہلے ہے اور ہدایت وخوش خبری ہے ایمان والوں کے لیے) اس میں یہود کے اس قول کی تردید ہے کہ جبرائیل تو سختی اور لڑائی لے کر آتا ہے۔ تو ان کو جوابًا کہا گیا۔ کہ وہ تو ہدایت و بشارت بھی لاتا ہے۔
نحو : باذن اللہ۔ نزل کی ضمیر فاعلی سے حال ہے یعنی اس حال میں کہ اس کو اجازت دی جاتی ہے۔ مصدقًا یہ نزلہ کی ہٗ ضمیر سے حال ہے۔ اسی طرح ھدی وبشرٰی بھی اسی ضمیر سے احوال ہیں۔ یعنی ہادی اور مبشر۔
فرقہ شیعہ باطنیہ کا ہذیان :
قرآن مجید رسول اللہ ﷺ پر ان حروف میں نہیں اترا جن میں ہم پڑھتے ہیں بلکہ یہ الھام کے طور پر آپ کے دل پر اترا۔ آپ نے عربی الفاظ میں اس کو تعبیر کردیا۔ ان حروف سے جن میں ہم پڑھتے ہیں۔ پس قرآن وہ باطنی معنی ہے یہ الفاظ قرآن نہیں اس کی دلیل نزلہ علی قلبک ہے۔
جواب : مگر ہم کہتے ہیں کہ یہ بات ان کی باطل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے نظم عجیب کو معجزہ بنایا۔ سورة بقرہ آیت نمبر 23 میں فرمایا۔ فَأْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ ۔ اور سورة یوسف آیت نمبر 2 میں فرمایا۔ قراٰنا عربِیًّا (اور ظاہر ہے کہ سورة اور عربی زبان دونوں مجموعہ الفاظ سے بننے والی چیزیں ہیں محض معنی کو عربی نہیں کہا جاتا۔
Ayah 2:9898: مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَمَلَاپکَتِہٖ وَرُسُلِہٖ وَجِبْرِیْلَ وَمِیْکٰـلَ : (جو دشمن ہے اللہ تعالیٰ کا اور اس کے فرشتوں اور رسولوں کا اور جبرائیل اور میکائیل کا۔ )
وجوہ قراءت :
نمبر 1: بصری اور حفص نے مِیْکال۔ نمبر 2: مدنی نے میکائل اختلاس ہمزہ کے ساتھ۔
نمبر 3: بقیہ قراء نے میکائیل ہمزہ اور مد مشبعہ کو کسرہ دے کر۔
وجہ تخصیص : خصوصاً دو فرشتوں کو افضل ہونے کی وجہ سے نام کے ساتھ ذکر کردیا۔ گویا کہ وہ اور جنس سے ہیں۔ اس لیے کہ وصف میں تغایریہ ذات کے تغایر کے قائم مقام شمار ہوتا ہے۔
فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّلِّلْکٰفِرِیْنَ : (بےشک اللہ تعالیٰ کافروں کا دشمن ہے) یہاں ضمیر کی بجائے اسم ظاہر ذکر کیا گیا۔ تاکہ ظاہر کردیا جائے کہ ان سے عداوت کی وجہ انکاکفر ہے اور فرشتوں کی عداوت بھی انبیاء ( علیہ السلام) کی عداوت کی طرح کفر ہے۔ جو ان سے دشمنی کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے دشمنی کرتا ہے
Ayah 2:99تفسیر آیت : 99: وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ اٰیٰتٍم بَیِّنٰتٍ وَمَا یَکْفُرُ بِھَآ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ : (یقینا ہم نے اتاردیں آپ کی طرف کھلی نشانیاں اور نہیں انکار کرتے مگر نافرمان) فاسق سے مراد کفر میں آگے بڑھنے والے۔ الف لام جنس کا ہے بہتریہ ہے کہ اس سے اہل کتاب کی طرف اشارہ مراد لیا جائے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ابن صوریا نے آپ کو کہا ہمارے پاس آپ کوئی ایسی چیز نہیں لائے جس کو ہم پہچانتے ہوں۔ اور آپ پر کوئی نشانی نہیں اتری۔ جس کی وجہ سے ہم آپ کی اتباع کریں۔ پس یہ آیت اتری۔ (طبری فی تفسیرہٖ )
Ayah 2:100100: اَوَکُلَّمَا : (کیا جب کبھی) اَوَ اس میں وَائو محذوف پر عطف کے لیے آیا ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ أکفروا بالاٰیٰت البینات وکلما۔ کیا انہوں نے واضح آیات کا انکار کیا اور جب بھی۔
عٰھَدُوْاعَھْدًا نَّبَذَہٗ : (وہ کوئی عہد کرتے ہیں توڑ دیا) اس عہد کو نبذ کا معنی اس کو توڑ دیا۔ اور اس کا انکار کردیا۔
فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ : (ایک گروہ نے ان میں سے) فرمایا کیونکہ ان میں سے بعض ایسے بھی تھے جنہوں نے نہیں توڑا۔
بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ : (بلکہ اکثریت ان کی تو ایمان ہی نہیں رکھتی) یعنی تورات کے ساتھ۔ پس وہ دین میں کسی چیز پر نہیں اس لیے وعدہ توڑنے کو گناہ نہیں سمجھتے۔ اور نہ اس کی پرواہ کرتے ہیں۔
Ayah 2:101101: وَلَمَّا جَآئَ ھُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ : (جب آیا ان کے پاس اللہ کا رسول) یعنی محمد ﷺ ۔
مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ : (جو ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والا ہے تو پھینک دیا ایک گروہ نے ان میں سے جن کو کتاب دی گئی) ۔ الکتب سے مراد تورات۔ اوتوا الکتب سے مراد یہود ہیں۔
کتب اللہ سے مراد :
کِتٰبَ اللّٰہِ : (اللہ تعالیٰ کی کتاب کو) نمبر 1: کتاب اللہ سے مراد تورات۔ کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے انکار کی وجہ سے جو کہ تورات کی تصدیق کرنے والے تھے۔ درحقیقت تورات کا انکار کرنے والے اور اس کو چھوڑنے والے شمار ہوتے تھے۔
نمبر 2: یاکتب اللہ سے مراد قرآن مجید ہے۔ اس کو چھوڑ دیا اس کے بعد کہ اس کا قبول کرنا ان پر لازم تھا۔
اعراض کی تمثیل :
وَرَآئَ ظُھُوْرِھِمْ : (پس پشت ڈال دیا) یہ ان کے چھوڑ دینے اور اعراض کرنے کی تمثیل ہے ان کے اعراض کو اس چیز سے تمثیل دی۔ جس کو بےپروائی اور بےتوجہی کی وجہ سے اور اعراض کرنے سے پیٹھ پیچھے پھینک دیا جاتا ہے۔
کَاَنَّھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ : (گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں) کہ وہ اللہ کی کتاب ہے۔
Ayah 2:102102: وَاتَّبَعُوْا مَاتَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ : (اور پیچھے پڑگئے ان چیزوں کے جو پڑھتے تھے شیاطین) یعنی یہودنے کتاب اللہ کو پھینک دیا۔ اور سحرو منتر کی کتابوں کی اتباع کرنے لگے۔ جن کو وہ پڑھا کرتے تھے۔
عہد سلیمانی میں شیاطین کی حرکات :
عَلٰی مُلْکِ سُلَیْمٰنَ : (سلطنت سلیمان ( علیہ السلام) میں) سلیمان ( علیہ السلام) کے عہد حکومت میں اور وہ اس طرح کہ شیاطین فرشتوں کی باتیں چوری چھپے سن لیتے پھر اس کے ساتھ اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ کر ملاتے۔ پھر وہ کاہنوں کے دلوں میں لا ڈالتے۔ کاہنوں نے ان کو کتابوں کی صورت میں مرتب کرلیا تھا۔ جس کو وہ خود پڑھتے اور لوگوں کو سکھاتے تھے۔ یہ چیزیں سلیمان ( علیہ السلام) کے زمانے میں پھیل گئیں۔ یہاں تک کہ وہ کہنے لگے جنات غیب جانتے ہیں اور یہ بھی کہا کرتے تھے۔ کہ یہ سلیمان ( علیہ السلام) کا علم ہے اور سلیمان ( علیہ السلام) کی سلطنت بھی اس علم سے مکمل ہوئی۔ اور اسی کے ذریعہ انہوں نے جنات کو تابع کیا اور انسانوں اور ہوا کو ماتحت بنایا ہے۔
وَمَا کَفَرَ سُلَیْمَانُ : (اور نہیں کفر کیا سلیمان ( علیہ السلام) نے) اس میں شیاطین کی تردید ہے اور سحر کے اعتقاد وعمل جس کا انہوں نے سلیمان ( علیہ السلام) پر بہتان باندھا تھا اس کی تردید ہے
وَلٰکِنَّ الشَّیٰطِیْنَ : (لیکن شیاطین نے) وہی ہیں۔
کَفَرُوْا : (کفر کیا) یعنی سحر کو استعمال کر کے اور اس کو مدوّن کر کے۔
قراءت : ولکن الشیطین۔ لکن تخفیف کے ساتھ ہے اور حمزہ، شامی اور علی نے شیاطین کو رفع کے ساتھ پڑھا۔
یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ : (وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے)
نحو : یہ جملہ حال کے مقام پر ہے یعنی انہوں نے کفر کیا اس حال میں کہ وہ لوگوں کو سحر سکھانے والے تھے۔ اس حال میں کہ وہ اس سے ان کی گمراہی واغواء کا قصد کرنے والے تھے۔
وَمَآ اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ : (اس کی اتباع کی جو اتارا گیا دو فرشتوں پر)
عطف کہاں ہے ؟
نمبر 1: جمہور کہتے ہیں کہ ما یہاں الذی کے معنی میں ہے۔ اور السحر پر عطف کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعنی وہ ان کو تعلیم دیتے اس چیز کی جو دو فرشتوں پر اتاری گئی۔
نمبر 2: اس کا عطف ماتتلوا پر ہے یعنی انہوں نے اتباع کی اس چیز کی جو دو فرشتوں پر اتاری گئی۔
بِبَابِلَ ھَارُوْتَ وَمَارُوْتَ : (ہاروت ماروت پر بابل میں) ۔ یہ دونوں ان کے نام ہیں۔
نحو : یہ ملکین کا عطف بیان ہے : ان فرشتوں پر جو اتارا گیا تھا۔ وہ علم سحر تھا جو انسانوں کی آزمائش کیلئے اتارا گیا تھا۔ جس نے ان سے سیکھ کر عمل کیا وہ کافر ہوگیا اگر اس میں کوئی ایسی بات ہو جس سے ایمان کی تردید ہوتی تھی۔
اور جس شخص نے اس سے پرہیز کیا یا اس کو سیکھاتا کہ اس سے بچے اور اس کے دھوکے سے محفوظ رہ سکے۔ عمل کی خاطر نہیں سیکھا۔ تو ایسا شخص مومن ہے۔
شیخ ماتریدی کا قول :
شیخ ابو منصورماتریدی (رح) فرماتے ہیں کہ سحر کے متعلق مطلقًا یہ کہہ دینا کہ یہ کفر ہے یہ غلط ہے۔ بلکہ اس کی حقیقت کو جانچنا ضروری ہے۔ اگر اس میں کسی شرط ایمان کی تردید ہوتی ہو۔ تو یہ کفر ہے ورنہ نہیں۔ وہ سحر جو کفر ہے اس کے قائل وعامل کو قتل کیا جائے گا۔
البتہ اگر عورت ہوگی تو اس کو قتل نہ کیا جائے گا۔ اور جو قسم سحر کی کفر نہیں مگر اس سے نفس کو ہلاک کرنا لازم آتا ہے اس کا حکم ڈاکوئوں والا ہے۔
(اَنْ یُّقَتَّلُوْا اَوْیُصَلَّبُوْا اَوْ تُقَطَّعَ اَ یْدِیْھِمْ (الاٰیۃ) اس میں مؤنث ومذکر کا حکم ایک ہے اگر توبہ کرلیں تو توبہ قبول کی جائے گی۔ جنہوں نے توبہ کے قبول نہ کرنے کا قول کیا ہے انہوں نے غلط کہا۔ اس لیے کہ ساحرین فرعون کی توبہ قبول کرلی گئی۔
نمبر 3: انزل کا معنی قذف فی قلوبھما مع النہی عن العمل۔ ان کے دلوں میں سحرڈالا اس پر عمل کی ممانعت سمیت۔
من گھڑت حکایت کا رَد :
نمبر 4: یہ بھی کہا گیا کہ یہ دونوں فرشتے وہ تھے جن کا ملائکہ نے انتخاب کیا کہ ان میں شہوت پیدا کی جائے جب انہوں نے بنی آدم کو عار دلائی۔ یہ دن کو زمین میں فیصلہ کرتے اور رات کو آسمانوں پر چڑھ جاتے۔ دونوں نے زھرہ کی خواہش کی اس نے ان کو شراب پینے پر آمادہ کیا۔ پھر اس کے ساتھ وہ زنا میں مبتلا ہوگئے۔ ان کو ایک آدمی نے دیکھ لیا۔ ان دونوں نے اس کو قتل کر ڈالا۔ پھر دونوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کے عذاب کو ترجیح دی۔ اور وہ دونوں بابل کے کنوئیں میں اوندھے لٹکے ہوئے ہیں۔ یہ من گھڑت کہانی ہے جس کی کوئی اصل نہیں۔ معتبر مفسرین نے اس کی تردید کی ہے۔
وجہ تسمیہ : بابل کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ زبانیں اس میں وہاں مخلوط ہوجاتی تھیں۔
وَمَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ : (وہ فرشتے کسی کو نہیں سکھاتے تھے)
حَتّٰی یَقُوْلَآ (یہاں تک کہ وہ کہتے) یہاں تک کہ اس کو تنبیہ کرتے اور اس کو نصیحت کرتے اور اس کو کہہ دیتے۔
اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ : (بےشک ہم آزمائش ہیں) فتنہ کا معنی ابتلاء ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہے
فَلَا تَکْفُرْ : (تو کفر نہ کر) یعنی اس کو سیکھ کر اور اس پر عمل کر کے اس انداز میں کہ جو کفربن جائے۔
نحوی حکایت :
فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْھُمَا : (پس وہ ان دونوں سے سیکھتے) نمبر 1: فائکا عطف یعلمون الناس السحر پر ہے۔ یعنی وہ ان کو سکھاتے پس وہ جادو اور کفر ان سے سیکھتے۔ جادو اور کفر سیکھنے پر کفر وا اور یعلمون الناس السحردلالت کرتے ہیں۔
نمبر 2: فائؔ کا عطف مضمر پر ہے پس تقدیر عبارت یہ ہوگی۔ فیاتون فیتعلمون۔ پس وہ ان کے پاس آتے اور ان سے سیکھتے۔ اور ضمیر اس کی طرف جاتی ہے جس پر من احدٍ دلالت کرتا ہے۔ یعنی فیتعلم الناس من الملکین۔ پس لوگ ان دونوں فرشتوں سے سیکھتے۔
مَا یُفَرِّقُوْنَ بِہٖ بَیْنَ الْمَرْئِ وَزَوْجِہٖ : (وہ باتیں جو جدائی ڈال دیں مردو عورت کے درمیان) یعنی وہ علم سحر جو زوجین کے درمیان تفریق کا سبب بنتا۔ اللہ تعالیٰ ابتلاء کے طور پر عورت میں نافرمانی اور مخالفت پیدا فرما دیتے
اہلسنّت :
کے نزدیک سحر کی ایک حقیقت ہے اور معتزلہ کے ہاں یہ محض تخیل ہے اور ملمع سازی ہے۔
وَمَاھُمْ بِضَآرِّیْنَ بِہٖ : (حالانکہ وہ نقصان نہیں پہنچا سکتے) ہٖ سے مراد سحر ہے۔
مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ : (اس سے کسی کو بغیر حکم الٰہی کے) یعنی اللہ تعالیٰ کے علم ومشیت کے ساتھ۔
وَیَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّھُمْ وَلَا یَنْفَعُھُمْ : (اور وہ سیکھتے تھے جو ان کو نقصان نہ پہنچا وے اور نہ نفع) یعنی آخرت میں۔
مسئلہ : اس میں بتلا دیا کہ سحر سے بچنا ضروری ہے جیسا وہ فلسفہ جو گمراہی کی طرف لے جائے۔ اس سے بھی بچنا ضروری ہے۔
وَلَقَدْ عَلِمُوْا : (تحقیق وہ جان چکے) یعنی یہود۔
لَمَنِ اشْتَرٰہُ : (جس نے اس کو خریدا) کتاب اللہ کے بدلہ میں اس کو لیا جو شیاطین پڑھتے تھے۔
مَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلَاقٍ : (اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں) خلاق کا معنی حصہ ہے۔
وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِہٖٓ اَنْفُسَھُمْ : (بہت بری چیز کے بدلے انہوں نے اپنے نفسوں کو بیچا) یعنی اپنے نفسوں کو بیچا۔
لَوْکَانُوْایَعْلَمُوْنَ : (کاش وہ جان لیتے)
سوال : لَوْکَانُوْایَعْلَمُوْنَ سے علم کی نفی کی۔ اور ولقد علموا سے ان کے لیے علم کا اثبات و تاکید قسم کے ساتھ کیا۔
جواب : کاش لَوْکَانُوْایَعْلَمُوْنَ کا معنی ہے وہ اپنے علم سے جان لیتے جب انہوں نے اپنے علم کو نہ جانا تو ان کو اس طرح قرار دیا گویا وہ جانتے ہی نہیں۔
Ayah 2:103تفسیر آیت 103:
103: وَلَوْ اَنَّھُمْ ٰامَنُوْا : (اگر وہ ایمان لے آئے) ٰامنوا سے مراد رسول اللہ ﷺ اور قرآن پر ایمان لانا ہے۔
وَاتَّقَوْا : (اور تقویٰ اختیار کرتے) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تو کتاب اللہ کا پیٹھ پیچھے پھینکنا اور شیاطین کی کتابوں کی اتباع چھوڑ دیتے۔
لَمَثُوْبَۃٌ مِّنْ عِنْدِاللّٰہِ خَیْرٌ لَوْکَانُوْایَعْلَمُوْنَ : (تو ضرور ثواب ہوتا اللہ تعالیٰ کے پاس سے بہتر اگر وہ جان لیتے) بیشک اللہ تعالیٰ کا ثواب بہت بہتر ہے ان غلط چیزوں سے جن میں وہ مبتلا تھے۔ اور وہ اس بات سے بخوبی واقف تھے۔ لیکن جب انہوں نے اپنے علم پر عمل ترک کیا۔ تو ان کو جاہل قرار دیا گیا۔
مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو بہتر بدلہ ملتا (اگر اپنے صحیح رخ پر قائم رہتے)
کنایت ثواب :
سوال : لَوْ کے جواب میں جملہ فعلیہ کی بجائے اسمیہ لائے ؟
جواب : کیونکہ اس میں ثواب کے ثابت کرنے اور پختہ کرنے کی زیادہ دلالت ہے۔
سوال : لمثوبۃ اللّٰہ خیر نہیں کہا بلکہ لمثوبۃ من عند اللہ خیر کہا گیا۔
جواب : اس لیے کہ لمثوبۃ من عند اللّٰہ خیر کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑا سا ثواب بھی ان کے لیے کافی تھا۔ لَوْ کو یہاں تمنی کے لیے بھی قرار دیا گیا۔ گویا انہیں یہ کہا گیا۔ کاش کہ وہ ایمان لاتے پھر نیا کلام شروع کر کے کہا لمثوبۃ من عند اللّٰہ خیر۔
Ayah 2:104104 : یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا : (اے ایمان والو ! تم راعنا نہ کہو بلکہ انظر نا کہو) جب مسلمانوں کو آپ کوئی بات فرماتے تو مسلمان کہتے راعنا یا رسول اللہ۔ یعنی ہمارا خیال وانتظار فرمائیں۔ یہاں تک کہ ہم اس کو سمجھ کر یاد کرلیں۔
راعنا کی وجہ ممانعت :
اور ادھر یہود کے ہاں عبرانی یا سریانی زبان میں، راعینا “” کا کلمہ تھا جس سے وہ ایک دوسرے کو گالم گلوچ کرتے تھے۔ جب انہوں نے مسلمانوں سے راعنا کا لفظ سنا تو انہوں نے فرصت کو غنیمت جانا اور رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے یہی کلمہ کہنا شروع کردیا۔ اور مراد اس سے وہ اپنا گالی والا کلمہ لینے لگے۔ پس مسلمانوں کو اس کلمہ سے روک دیا گیا۔ اور اس کا ہم معنی کلمہ انظر نا کہنے کا حکم دیا۔ یہ انظر نظر سے انتظار کے معنی میں ہے۔
وَاسْمَعُوْا : (اور غور سے سنو) نمبر 1: غور سے رسول اللہ ﷺ کے ارشادات اور فرامین کو سنو۔ کہ تمہارے کان ان کو محفوظ کرنے والے اور دماغ حاضر ہوں۔ تاکہ اعادہ اور رعایت کرنے والے کے مطالبہ کی حاجت پیش نہ آئے۔
نمبر 2: قبولیت و اطاعت کی غرض سے سنو۔ تمہارا سننا یہود کی طرح نہ ہونا چاہیے کہ انہوں نے کہا۔
سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا (کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی)
وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ : (اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے) یہود کے لیے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی ہے دردناک عذاب ہے۔
Ayah 2:105105: مَایَوَدُّالَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَلَا الْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ۔ (اہل کتاب میں سے کافر اور مشرک یہ نہیں چاہتے کہ اتاری جائے تم پر بھلائی اللہ تعالیٰ کی طرف سے)
قراءت : یُنَزَّلَ کو ابو عمرو اور مکی نے یُنْزَلَ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔
اقسام من :
مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ : (کوئی بھلائی تمہارے رب کی طرف سے)
نمبر 1: پہلا مِنْ بیانیہ ہے۔
نمبر 2: اور دوسرا زائدہ ہے جو خیر میں استغراق کا معنی پیدا کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ یعنی کسی قسم کی کوئی بھلائی۔
نمبر 3: تیسرا مِنْ ابتداء غایت کے لیے ہے۔ الخیر سے وحی اور اسی طرح رحمت مراد ہے۔
وَاللّٰہُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآئُ : (اور اللہ تعالیٰ خاص کرتے ہیں اپنی رحمت کے ساتھ جس کو چاہتے ہیں) یعنی وہ اپنے بارے میں خیال کرتے ہیں۔ کہ وہ وحی اتارے جانے کے زیادہ حقدار ہیں۔ پس اے مسلمانو۔ وہ تم سے حسد کرتے ہیں۔ اور پسند نہیں کرتے کہ تم پر کوئی چیز وحی میں سے اتاری جائے، اللہ تعالیٰ تو نبوت کے ساتھ جس کو چاہتا ہے خاص کرلیتا ہے۔
وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ : (اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والے ہیں) اس میں بتلایا کہ نبوت کا ملنا بہت بڑا فضل ہے۔
شان نزول : کفار نے نسخ کے سلسلہ میں یہ اعتراض اٹھایا کہ محمد ﷺ کو دیکھو۔ کہ اپنے اصحاب کو ایک بات کا حکم دیتے ہیں پھر ان کو منع کر کے اس کے الٹ حکم دیتے ہیں آج ایک بات کہتا ہے اور کل اس سے رجوع کرلیتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں۔
Ayah 2:106106: مَانَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْنُنْسِھَا : (جو کوئی آیت ہم منسوخ کردیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں)
لغوی معنی :
لغت میں نسخ تبدیل کرنے کو کہتے ہیں۔
شرعی تعریف :
کسی ایسے مطلق شرعی حکم کی انتہاء کو متاخر بیان کرنا کہ جس کا ہمیشہ رہنا ہمارے دماغوں میں پختہ ہوچکا ہو۔ یہ ہمارے حق میں تو بظاہر تبدیلی ہے مگر صاحب شرع کے لیے یہ بیان محض ہے۔
ہم نے ان لوگوں کا جواب یہ کہہ کر۔ ” یہ صاحب شرع کے حق میں محض بیان ہے “ ” دے دیا جو نسخ کے منکرین ہیں “ اور نسخ کو بداء قرار دیتے ہیں۔ میری مراد اس سے یہود ہیں۔ (یا اس طرح کے دیگر گروہ بھی)
محل نسخ :
ایسا حکم جس میں وجود وعدم کا ذاتی طور پر احتمال ہو۔ اور اس حکم کے ساتھ ایسی چیزیں جو نسخ کے خلاف ہوں وہ نہ پائی جائیں۔ مثلًا توقیت، تابید خواہ وہ توقیت وغیرہ نص سے ثابت ہو یا دلالت نص سے۔
شرط نسخ :
دل کے ارادے سے قدرت کافی ہے تمکن فعل سے قدرت ضروری نہیں۔ عندنا۔ البتہ معتزلہ فعل سے قدرت کو ضروری قرار دیتے ہیں۔
نسخ کی صورت :
نمبر 1: تلاوت اور حکم سے نسخ بھی جائز ہے اور
نمبر 2: یہ بھی جائز ہے۔ کہ حکم منسوخ ہو۔ اور تلاوت منسوخ نہ ہو۔
نمبر 3: اور اس کا عکس ہو کہ تلاوت منسوخ ہو مگر حکم منسوخ نہ ہو۔
نمبر 4: اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حکم کا کوئی وصف منسوخ ہو جیسے نص پر اضافہ قید یہ ہمارے نزدیک نسخ ہے امام شافعی (رح) کے نزدیک نہیں۔
الانساء : دلوں سے اس کی یادداشت کا مٹ جانا۔
قراءت : ابو عمرو اور مکی نے نَنْسَأ ھا ہمزہ سے پڑھا ہے۔ نَنْسأ کا معنی موخر کرنا ہے یہ نسأت سے لیا گیا ہے جس کا معنی أخّرتُ ہے۔ میں نے مؤخر کیا۔
نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَا : (تو نازل کردیتے ہیں اس سے بہتر) یعنی ہم کوئی آیت لے آتے ہیں جو بندہ کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ عمل میں ثواب کے لحاظ سے
اَوْمِثْلِھَا : (یا اس جیسی) اس میں اس کی مثل ہوتی ہے اس لیے کہ بعض آیات کو بعض پر (بحیثیت آیت کے) کوئی فضیلت نہیں۔
اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ : (کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں) یعنی وہ قادر ہے پس خیر اور اس کی مثل پر یکساں قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 2:107تفسیر آیت : 107:
107: اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : (کیا تم کو معلوم نہیں کہ آسمان و زمین کی سلطنت اسی اللہ کی ہے۔ ) وہ تمہارے معاملات کا مالک اور مدبر ہے وہ خوب جانتا ہے کہ ناسخ منسوخ میں سے کس کے ساتھ تم سے عبادت کروانی ہے۔
وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ : (اور تمہارے لیے اللہ کے مقابل کوئی مددگار دوست نہیں) ایسا جو تمہارے معاملے کا ذمہ دار ہو۔
وَّلَا نَصِیْرٍ : (اور نہ مددگار) اور نہ کوئی مددگار جو تمہیں عذاب سے بچائے۔
Ayah 2:108آیت 108… بیجا سوالات کی ممانعت :
اَمْ تُرِیْدُوْنَ : (کیا تم یہ چاہتے ہو کہ) یہ اَمْ منقطعہ ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ اَتُریدون کیا تم ارادہ رکھتے ہو ؟
اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَکُمْ کَمَاسُپلَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ : (سوال کر وجس طرح سوال کئے گئے موسیٰ ( علیہ السلام) سے اس سے قبل) روایت میں آیا ہے کہ قریش نے کہا۔ اے محمد ﷺ صفاپہاڑ کو ہمارے لیے سونا بنا دے۔ اور مکہ کی زمین سے پہاڑ ہٹا کر اس کو کھلا میدان کر دے۔ پس اس آیت میں ان کو نشانیاں مانگنے کی ممانعت کردی گئی۔ جس طرح موسیٰ ( علیہ السلام) کی قوم نے ان سے کہا۔
اجْعَلْ لَّنَا اِلٰھًا۔ سورة الاعراف آیت نمبر 138
وَمَنْ یَّتَبَدَّلِ الْکُفْرَ بِالْاِیْمَانِ : (جو بدل لے کفر کو ایمان سے) جس نے آیات منزّلہ پر یقین کو چھوڑ دیا۔ اور ان میں شک کیا اور اپنی طرف سے اور کو ایجاد کیا
فَقَدْ ضَلَّ سَوَآئَ السَّبِیْلِ : (پس وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا) سواء کا معنی سیدھا اور درمیانہ راستہ۔
Ayah 2:109تفسیر آیت 109:
وَدَّکَثِیْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ : (اہل کتاب میں سے بہت سے چاہتے ہیں کہ تم کو پھیر دیں) یہ کہ وہ تم کو لوٹا دیں۔
مِنْم بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًا : (ایمان کے بعد کفر کی حالت میں) یہ کُمْ ضمیر سے حال ہے مطلب یہ ہوا۔ یعنی تم کو تمہارے دین سے کفر کی حالت کی طرف لوٹا دیں۔
شان نزول : یہ آیت اس وقت اتری جب یہود نے واقعہ احد کے بعد کہا۔ کیا تم نے غور نہیں کیا۔ کہ جو تکلیف تمہیں پہنچی۔ اگر تم حق پر ہوتے تو تمہیں شکست نہ ہوتی۔ تم ہمارے دین میں واپس لوٹ آئو۔ وہی تمہارے لیے بہتر ہے۔
حَسَدًا : (حسد کی وجہ سے) یہ مفعول لہ ہے یعنی حسد کی وجہ سے۔ حسد دوسرے کے پاس نعمت کے ہونے پر افسوس کرنا (جلنا اور اس کے زوال کی تمنا کرنا) ۔
مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِھِمْ : (جو ان کے دلوں میں ہے) یہ ودّ کے متعلق ہے یعنی وہ اپنے دلوں سے چاہتے ہیں اپنی شہوت کی بناء پر۔ دین داری اور حق کی طرف میلان کی وجہ سے نہیں۔ کیونکہ وہ اس کو پسند کرتے ہیں۔
مِّنْم بَعْدِ مَا تَـبَیَّنَ لَھُمُ الْحَقُّ : (اس کے بعد کہ ان پر ظاہر ہوچکا حق) کہ ان کو معلوم ہے کہ تم حق پر ہو۔ یا حسد کی بناء پر یعنی ایسا حسد شدید جو ان کے دلوں کی گہرائی سے پھوٹنے والا ہے۔
فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا : (تم معاف کرو اور درگزر کرو) پس تم ان کے ساتھ درگزر اور معافی کا راستہ اختیار کرو اگر ان سے جہالت و دشمنی ظاہر ہو۔
حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ : (یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ لے آئے اپنا حکم) یعنی لڑائی والا حکم۔
اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ٍء قَدِیْرٌ : (بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں) وہ ان سے انتقام کی قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 2:110تفسیر آیت 110:
وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَمَا تُقَدِّمُوْالِاَنْفُسِکُمْ مِّنْ خَیْرٍ : (اور قائم کرو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ اور جو کچھ بھیج دو آگے اپنے لیے بھلائی) خیر سے مراد کوئی نیکی، نماز یا ان کے علاوہ دیگر عبادات۔
تَجِدُوْہُ عِنْدَ اللّٰہِ : (وہ پائو گے اللہ تعالیٰ کے پاس) اس کا ثواب اس کے ہاں پالو گے۔
اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ : (بےشک اللہ تعالیٰ جو تم کرتے ہو دیکھ رہا ہے) اس کے ہاں کسی عامل کا کوئی عمل ضائع نہیں ہوتا۔
Ayah 2:111ادعاء یہود و نصاریٰ :
111: وَقَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّامَنْ کَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی : (وہ کہتے ہیں ہرگز نہ جائیں گے جنت میں مگر جو یہودی یا عیسائی ہو) قالوا کی ضمیر اہل کتاب یہود و نصاریٰ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ یعنی یہود نے کہا جنت میں فقط یہودی جائیں گے۔ نصاریٰ نے کہا جنت صرف نصاریٰ کیلئے ہے ان دونوں قولوں میں صنعت لف کا لحاظ رکھا گیا۔ کہ ہر فریق دوسرے کی تضلیل کر رہا ہے۔ اور دوسرے کو یقینی طور پر گمراہ قرار دے رہا ہے۔ سورة البقرہ آیت نمبر 113۔ قَالَتِ الْیَھُوْدُ لَیْسَتِ النَّصَارٰی عَلٰی شَیْئٍ وَقَالَتِ النَّصَارٰی لَیْسَتِ الْیَھُوْدُ عَلٰی شَیْئٍ ۔ ! میں یہ بات مذکور ہے ھود جمع ھائد کی جس طرح عائذ جمع عوذ کی۔ مَن کے لفظ کا لحاظ کر کے کان کا اسم واحد لائے۔ اور معنی کی طرف نظر کر کے خبر جمع لائے۔
باطل تمنا :
تِلْکَ اَمَانِیُّھُمْ : (یہ ان کی تمنائیں ہیں) اس سے ان کی مذکورہ تمنائوں کی طرف اشارہ کیا۔ اور وہ یہ کہ ایمان والوں پر رب کی طرف سے خیر نہ اترے گی، اور ایک تمنا یہ تھی۔ کہ وہ مسلمانوں کو کفر کی طرف لوٹا دیں۔ اور ایک تمنا یہ تھی کہ ان کے علاوہ کوئی جنت میں نہ جائے گا اس قسم کی باطل تمنائیں ان کی تمنائیں تھیں۔ الامنیۃ۔ یہ تمنی سے افعولۃ کا وزن ہے۔ جیسے اضحوکۃ۔
قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ : (کہہ دیں اے محمد ﷺ تم اپنی دلیل لائو) تم اپنے جنت میں داخلے کی دلیل لائو۔ ھاتِ کا لفظ بمنزلہ ھاء کے ہے۔ جس کا معنی اُحْضُرْ ہے یہ ان کے قول لن ید خل الجنۃ الا من کان ھودا او نَصٰرٰی سے متصل ہے اور تِلْکَ اَمَا نِیُّھُمْ کا جملہ معترضہ ہے
اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ : (اگر تم سچے ہو) اپنے دعویٰ میں۔
Ayah 2:112مذمت اہل کتاب :
112: بَلٰی : (کیوں نہیں) دوسروں کے جنت میں داخلے کی یہود و نصاریٰ نے جو نفی کی۔ یہ اس کا اثبات ہے۔
مَنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ : (جس نے حوالے کیا اپنے چہرے کو اللہ تعالیٰ کے) جس نے اپنے آپ کو اس کے لیے خالص کرلیا۔ اور وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔
وَھُوَ مُحْسِنٌ : (اور وہ نیکو کار بھی ہے) وہ قرآن کی تصدیق کرنے والا ہے۔
فَلَہٗ اَجْرُہٗ : (اس کے لیے اس کا ثواب ہے) یہ من اسلم کا جواب ہے۔ من اسلم یہ ایسا کلام ہے جو معنی شرط کو متضمن ہے۔ اور بلٰی سے ان کی تردید ہے کہ جنت میں ہمارے سوا کوئی نہ جائے گا۔
عِنْدَ رَبِّہٖ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ : (اس کے پروردگار کے ہاں نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہونگے)
Ayah 2:113تفسیر آیت 113:
وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰی عَلٰی شَیْئٍ : (یہود نے کہا کہ نصاریٰ کسی راہ پر نہیں) کسی صحیح شئی پر جو شمار کی جاسکے۔
وَقَالَتِ النَّصٰرٰی لَیْسَتِ الْیَھُوْدُ عَلٰی شَیْئٍ : (اور نصاریٰ نے کہا یہود کسی راہ پر نہیں)
وَّھُمْ یَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ : (حالانکہ وہ سب کتاب الٰہی پڑھتے ہیں) وھم یتلون الکتٰب میں وائو حالیہ ہے اور الکتاب کا الف لام جنس کا ہے۔ یعنی انہوں نے ایسی بات کہی حالانکہ وہ اہل علم اور کتابیں پڑھنے والے ہیں۔ اور جو تورات وانجیل کو اٹھانے والا اور ان پر ایمان لانے والا ہے اسے باقی کا انکار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ دونوں کتابیں ایک دوسرے کی مصدق ہیں۔
کَذٰلِکَ : (اسی طرح) اس جیسی بات جو تو سن چکا۔
توبیخ اہل کتاب :
قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِھِمْ : (کہی ان لوگوں نے جو بےعلم ہیں ان جیسی بات) یعنی وہ جاہل جن کو نہ کچھ علم ہے اور نہ ان کے پاس کتاب ہے۔ جیسے بت پرست۔ دہرئیے وہ ہر دین والے کو کہتے ہیں۔ کہ وہ کسی ایسی چیز پر نہیں جو کسی شمار وقطار میں آئے۔ اس آیت میں اہل کتاب کو سخت تو بیخ کی گئی کہ انہوں نے علم کے باوجود اپنے آپ کو جاہلوں کی لڑی میں پرودیا ہے۔
فَاللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ : (پس اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان میں فیصلہ کرے گا۔ جس میں یہ جھگڑتے تھے) یعنی یہود و نصاریٰ کے درمیان اس سزا کا جو ہر فریق کے لیے اس کے مناسب تجویز کی جائیگی۔
Ayah 2:114114: وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْھَا اسْمُہٗ : (اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو منع کرے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں سے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے) قراءت : من ابتداء کی وجہ سے موضع رفع میں ہے اور یہ استفہامیہ ہے۔ اظلم یہ اس کی خبر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کون بڑا ظالم ہے اس شخص سے۔
نحوی تراکیب :
نمبر 1: ان یذکر یہ مَنَعَ کا مفعول دوم ہے کیونکہ محاورہ ہے منعتہ کذا۔ اس کی مثال سورة اسراء کی آیت ومامنعنا ان نرسل بالاٰ یات میں منع کا مفعول اول ناؔ اور دوم ان نرسل بالاٰ یات ہے۔ اور اسی سورت کی آیت نمبر 94 وما منع الناس ان یؤمنوا۔ میں الناس اور ان یؤمنوا دو مفعول ہیں۔
نمبر 2: یہ بھی جائز ہے کہ ان کے ساتھ حرف جر کو حذف کردیں۔ اصل اس طرح ہے۔ من ان یذکر اور تم اس کو نصب دو بطور مفعول لہ کے۔ نصب کا مطلب یہ ہے۔ منعھا کراھۃ ان یذکر (ان مساجد سے روکے ذکر سے نفرت کی بناء پر)
ایک مسئلہ :
اللہ تعالیٰ کی تمام مساجد کے لیے یہ حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے ان میں روکنے والا ظلم میں حد سے نکلنے والا ہے اس کی وجہ یہ ہوئی کہ عیسائیوں نے بیت المقدس میں گندگی ڈال دی۔ لوگوں نے ان کو اس میں نماز پڑھنے سے روک دیا۔ یا مشرکین مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو حدیبیہ کے سال مسجد حرام میں داخلے سے منع کیا۔
جمع کی وجہ :
سوال : یہاں مساجد اللہ فرمایا گیا۔ حالانکہ روکا تو ایک مسجد سے تھا۔ مسجد بیت المقدس یا مسجد حرام سے۔
جواب : حکم عام ہے اگرچہ سبب خاص ہے اس کی مثال سورة ہمزہ کی آیت نمبر 1 ویل لکل ہمزہ ہے۔ جو اخنس بن شریق کے بارے میں اتری۔ حالانکہ مراد عام ہر طعنہ زن ہے۔
وَسَعٰی فِیْ خَرَابِھَا : (اور کوشش کرے ان کے اجاڑنے کی) اللہ کی یاد کو منقطع کر کے۔ مَنْ سے عام مراد ہے جیسا کہ مَسٰجِدَ اللّٰہِ سے مراد عام ہے یعنی ہر ایک مسجد مراد ہے۔
اُولٰٓپکَ : (یہ لوگ) اولئک کا مشارالیہ وہ رکاوٹ ڈالنے والے ہیں۔
مَاکَانَ لَھُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْھَآ : (اس لائق نہیں کہ ان میں داخل ہوں) یعنی ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مساجد میں داخل ہوں۔
عاجزانہ داخلہ کی اجازت :
اِلَّاخَآپفِیْنَ : (مگر ڈرتے ڈرتے) یہ ید خلو ھا کی ضمیر سے حال ہے۔ نمبر 1: یعنی مؤمنوں سے ڈرنے کی اور کپکپی کی حالت میں کہ کہیں پکڑنہ لیے جائیں۔ بجائے اس کے کہ وہ ناجائز تسلط جمائیں اور منہ موڑیں۔ اور ایمان والوں کو اس سے روکیں۔
مطلب یہ ہوا کہ ان کا یہی حق تھا۔ اگر کفار کا ظلم و سرکشی و غرور نہ ہو۔
نمبر 2: یہ بھی کہا گیا۔ کہ ماکان لھم فی حکم اللّٰہ یعنی بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا اور لوح محفوظ میں لکھ دیا کہ وہ مؤمنوں کی مدد فرمائے گا۔ اور ان کو مضبوط کرے گا۔ یہاں تک کہ وہ اسمیں داخل نہیں ہونگے۔ مگر اس حال میں کہ وہ ڈرنے والے ہونگے۔
روایت میں ہے کہ بیت المقدس میں کوئی عیسائی داخل نہیں ہوتا۔ مگر ناواقف بنکر اس خطرہ کے پیش نظر کہ قتل نہ کردیا جائے۔
حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں۔ بیت المقدس میں جو عیسائی پایا جاتا ہے اس کی خوب پٹائی کی جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اعلان فرمادیا۔ الالا یحجن بعد ھذا العام مشرک (بخاری ومسلم) خبر دار اس سال کے بعد کوئی مشرک ہرگز حج بیت اللہ کو نہ آئے۔
بعض نے اس ارشاد کا معنی یہ کیا ہے۔ کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین کو بطور صاحب اقتدار کے وہاں غالب نہ ہونے دو ۔ کہ اس کے راستہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہونے دو ۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے جو سورة احزاب آیت نمبر 53 میں ہے۔ وما کان لکم ان تؤذوارسول اللّٰہ کہ رسول اللہ ﷺ کو ایذاء مت دو ۔
لَھُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ : (ان کے لیے دنیا میں رسوائی) خزی سے مراد حربی کافر کا قتل وقید کرنا ہے اور ذمی کا جزیہ کی ذلت اٹھانا
وَّلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ : (اور ان کے لیے آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے) عذاب سے مراد یہاں آگ ہے۔
Ayah 2:115115: وَلِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ : (مشرق ومغرب اللہ تعالیٰ ہی کا ہے) یعنی مشرق ومغرب کے سارے ملک اس کے ہیں۔ اور وہی ان کا مالک ہے اور متولی ہے۔
فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا : ( جدھر تم اپنا منہ کرلو گے) یہ شرط ہے تو لوایہ جزاء فعل اس کی وجہ سے مجزوم ہے یعنی جس جگہ میں ہو تم چہروں کا رخ قبلہ کی طرف پھیرو۔ اس مطلب کی دلیل سورة بقرہ کی آیت نمبر 144۔ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِالْحَرَامِ وَحَیْثُ مَاکُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ ۔ کہ تم اے پیغمبر پھیرو اپنے چہرے کو مسجد حرام کی طرف اور جس جگہ بھی تم ہو) تم (مسلمانو) پھیرو اپنے چہروں کو اسی کی طرف۔
فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ : (پس ادھرہی اللہ کا سامنا ہے) یہ جواب شرط ہے۔ یعنی وہ جہت جس پر وہ راضی ہے اور جس کا اس نے حکم دے رکھا ہے۔ پس مطلب یہ ہے کہ جب تمہیں مسجد حرام یا مسجد بیت المقدس میں نماز سے روک دیا گیا۔ تو تمہارے لیے ساری زمین کو مسجد بنادیا گیا۔ پس تم زمین کے جس ٹکڑے پر چاہو نماز ادا کرو۔ اور اس میں بیت اللہ کی طرف منہ کرلو کیونکہ جہت کی طرف منہ تو ہر جگہ ممکن ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ : (بےشک اللہ وسعت والے علم والے ہیں) یعنی وہ و سیع رحمت والے ہیں وہ بندوں پر اپنی رحمتوں کو وسیع کرنا چاہتے ہیں اور وہ بندوں کی مصلحتوں سے بخوبی واقف ہیں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ مسافر کی نماز کے سلسلہ میں یہ آیت اتری۔ کہ جب وہ اپنی سواری پر ہو تو جدھر اس کی سواری رخ کرلے ادھر ہی مسافر منہ کر کے نماز پڑھ لے۔
اشتباہ قبلہ کا حکم :
یہ بھی کہا گیا۔ کہ کچھ لوگوں پر قبلہ مشتبہ ہوگیا۔ انہوں نے مختلف اطراف کی طرف رخ کر کے (اپنے اجتہاد کے مطابق) نماز پڑھ لی۔ جب صبح ہوئی تو ان کو اپنی خطا کا علم ہوا۔ پس ان کا عذر قبول کرلیا گیا۔ یہ روایت امام شافعی (رح) کے خلاف حجت ہے۔
امام شافعی (رح) اور جہت ِقبلہ :
کیونکہ وہ قبلہ کے مشتبہ ہوجانے والوں میں سے قبلہ کی طرف پشت کرکے نماز پڑھنے والے کی نماز درست قرار نہیں دیتے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ اینما تو لوا یہ ذکرودعا کیلئے ہے۔
Ayah 2:116116: وَقاَلُوا اتَّخَذَاللّٰہُ وَلَدًا : (وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا) ان کے قول سے مراد مسیح ابن اللہ اور عزیر ابن اللہ ہے۔
قراءت : شامی نے قالوا پڑھا ہے پس وائو کو ثابت ماننے کی صورت میں یہ واقعہ ماقبل پر معطوف ہوگا اور اگر وائو کا حذف مانیں تو یہ جملہ مستانفہ اور الگ واقعہ ہے۔
سُبْحٰنَہٗ : (وہ سبحان ہے) ۔ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے اور منزہ ہے۔
بَلْ لَّہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : (بلکہ اسی کا ہے جو کچھ آسمان و زمین میں ہے) یعنی وہ اس کا خالق ومالک ہے۔ اور مسیح وعزیر اس کے مملوک و مخلوق ہیں۔ اور ولادت بذات خود مالکیت کے منافی ہے۔
کل کی نحوی تحقیق :
کُلٌّ لَّہٗ قَانِتُوْنَ : (سب اسی کے تابعدار ہیں) مطیع ہیں ان میں سے کوئی چیز بھی اس کی تکوین و تقدیر سے نکل نہیں سکتی۔ کُلٌّ میں تنوین مضاف الیہ کے عوض میں آئی ہے۔ یعنی کل ما فی السموت والارض۔ (آسمان و زمین کی ہر چیز) یا تقدیر عبارت یہ ہے۔
کل من جعلوہ للّٰہ ولداً لہ قانتون مطیعون عابدون مقرون بالربوبیۃ منکرون لما اضافوا الیھم۔ کہ ہر وہ جس کو لوگوں نے اللہ کا بیٹا قرار دیا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے مطیع اور اس کے سامنے عاجزی کرنے والے عبادت کرنے والے اور اس کی ربوبیت کے اقراری ہیں۔ اور جس چیز کی نسبت لوگوں نے ان کی طرف کی ہے اس کا انکار کرنے والے ہیں۔
سوال : یہاں ماؔ کا لفظ لایا گیا جو غیرذوی العقول کے لیے ہے جبکہ قانتون جمع سالم عقلاء کے لیے ہے۔
جواب : یہ اسی طرح ہے جیسا کہا جاتا ہے سُبحٰن ما سخرلنا۔ ماؔ بمعنی مَنْہے کہ پاک ہے وہ ذات جس نے ان کو ہمارے کام میں لگایا۔
Ayah 2:117تفسیر آیت 117:
بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : (وہ آسمان و زمین کا موجد ہے) ان کا مخترع اور بغیر مثال کے ان کو بنانے والا ہے۔ عرب ہر اس آدمی کو جو ایسا کام کرے جو اس سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو کہتے ہیں۔ ابدعت اس لیے اہل سنت والجماعت کی مخالفت کرنے والوں کو مبتدع کہا جاتا ہے۔
اس لیے کہ وہ دین اسلام میں ایسی چیز رواج دے رہا ہے جو صحابہ ؓ وتابعین رحمہم اللہ نے نہیں کی۔
وَاِذَا قَضٰٓی اَمْرًا : (جب وہ ارادہ کرتا ہے کسی کام کا) قضٰی کا معنی حکم دینا یا مقدر کرنا ہے۔
فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ : (تو بس فرما دیتا ہے کہ ہو وہ ہوجاتا ہے)
جلد وقوع کی تمثیل :
کن فیکون۔ یہ کان تامہ ہے یعنی وہ کہتا ہے پیدا ہوجاوہ وجود میں آجا تا ہے۔ یہ حقیقتًا تو جلدی وقوع پذیر ہونے کو مجازو تمثیل سے ذکر کیا گیا۔ ورنہ نہ وہاں قول ہے نہ حاجت قول مطلب یہ ہوا کہ جن معاملات کا وہ فیصلہ اور ارادہ کرتا ہے تو وہ بلاروک ٹوک وجود میں آجاتے ہیں۔ جس طرح کہ فرمانبردار نوکر اطاعت کرتے ہوئے ذرا توقف نہیں کرتا۔ اور نہ اس سے انکار بن پڑتا ہے ولدیت کے استبعاد کو اس سے اور مؤکد و پختہ طور پر ثابت کردیا۔ اس لیے کہ جو قدرت کی ایسی صفات کاملہ رکھتا ہو۔ جس کی یہ صفات جسمیت کے منافی ہیں پھر تو الد کا تصور کیوں کر ممکن ہو ؟
قراءت : فیکونُ میں رفع ہی سب سے بہتر ہے اور عام قراء کی قراءت یہی ہے۔ وہ اسے جملہ مستانفہ جانتے ہیں۔ ای فھویکون۔
یا یقول پر عطف کی وجہ سے ضمّہ آئے گا۔
ابن عامر (رح) نے اس کو کن کی وجہ سے منصوب پڑھا ہے کیونکہ اس صورت میں امر ہے اور امر کا جواب فائ کی صورت میں منصوب ہوتا ہے۔ (ان مقدرہ کی وجہ سے)
قولِ فیصل :
کن حقیقت میں امر نہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر کہا جائے اذاقضٰی امرافانما یکون فیکون یا اس طرح کہا جائے فانما یقول لہ کن فیکون۔ تو یہ دونوں برابر ہیں۔
جب اس کا امر ہونا ثابت نہ ہوا تو نصب کا کوئی مطلب نہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے اگر وہ امر ہو تو دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو اس سے موجود کو خطاب ہوگا۔ تو موجود کن سے مخاطب کیا نہیں جاتا۔ یا معدوم کو مخاطب کریں۔ تو معدوم قابل خطاب ہی نہیں۔
Ayah 2:118تفسیر آیت 118:
وَقَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ : (اور کہتے ہیں وہ لوگ جو نہیں جانتے) مشرکین میں سے یا اہل کتاب میں سے۔ ان سے علم کی نفی کی۔ کیونکہ انہوں نے اس پر عمل نہ کیا تو گویا ان کو علم ہی نہ تھا۔
لَوْلَا یُکَلِّمُنَا اللّٰہُ : (کیوں نہیں باتیں کرتا ہم سے اللہ تعالیٰ ) وہ ہم سے ہم کلامی کیوں نہیں کرتا۔ جیسا کہ ملائکہ سے کرتا ہے اور موسیٰ ( علیہ السلام) سے ہمکلام ہوا یہ بات وہ تکبر و سرکشی کی بناء پر کہتے ہیں۔
اَوْتَاْتِیْنَآ اٰیَۃٌ کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ : (یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی نشانی اسی طرح کہا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے گذرے) شدید انکار کی وجہ سے۔ کیونکہ ان کو دی جانے والی آیات وہ آیات ہی تو تھیں۔ ان آیات کی تحقیر کرتے ہوئے (وہ انکار کرتے تھے)
مِّثْلَ قَوْلِھِمْ : (ان جیسی بات)
تَشَابَھَتْ قُلُوْبُھُمْ : (ملے جلے ہیں ان کے دل) ان کے دل اور ان سے پہلے والوں کے دل اندھے ہیں۔ گویا اندھے ہونے میں مشابہ ہیں۔
قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنََ : (بےشک ہم نے بیان کردیں نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو یقین کرتے ہیں) یعنی اس قوم کے لیے جو انصاف پسند ہیں پس وہ ان آیات پر یقین کرتے ہیں۔ کہ یہ آیات ہیں جن پر یقین لانا اور اعتراف کرنا ضروری ہے۔ اور انہی پر وہ اکتفا کرتے ہیں۔ مزید کے متلاشی نہیں۔
Ayah 2:119تفسیر آیت 119:
اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًاوَّنَذِیْرًا : (بےشک ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا) یعنی مؤمنوں کو ثواب کی خوش خبری اور کفار کو عقاب سے ڈرانے والے۔
وَّلَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ : (تجھ سے پوچھ نہ ہوگی دوزخ والوں کے متعلق) ہم ان کے متعلق آپ سے پوچھ گچھ نہ کریں گے کہ وہ آپ کے پیغام پہنچانے اور دعوت میں پوری کوشش صرف کرنے کے باوجود کیوں ایمان نہیں لائے۔
نحو : بِالْحَقِّ یہ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا کی طرح حال ہے۔ یعنی غیر مؤول ہے یہ جملہ مستانفہ ہے
قراءت : نافع (رح) نے لَاتَسْئَلْ نہی کے صیغہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
دو تفسیریں :
مطلب یہ ہے کہ کفار جس چیز میں مبتلا ہیں اس کا عذاب بہت ہی بڑا ہے اس کا کیا پوچھنا ہے جیسے کہتے ہیں۔ کیف فلان جبکہ وہ مصیبت میں مبتلا ہو تو جوابًا یہی کہا جاتا ہے۔
لاقال اس کے بارے میں مت پوچھو۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو کفار کے احوال کے بارے میں سوال سے روک دیا۔ جب کہ کسی صحابی ؓ نے کہا کاش مجھے معلوم ہوجائے کہ میرے والد کا کیا حال ہے۔
Ayah 2:120تفسیر آیت 120:
وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ : ( ہرگز تم سے یہودونصاریٰ خوش نہ ہونگے جب تک کہ تم اختیار نہ کرو ان کا دین) گویا انہوں نے اس طرح کہا۔ کہ ہم ہرگز تم سے راضی نہ ہونگے اگرچہ تم ہماری رضا مندیوں کی طلب میں انتہا کردو۔
یہود کے دخول اسلام سے مایوسی :
یہاں تک کہ تو ہماری ملت کی اتباع کرے۔
اس میں رسول اللہ ﷺ کا یہود و نصاریٰ کے دخول اسلام سے مایوس ہونا ظاہر کیا گیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کا کلام ذکر کیا۔
تفسیر آیت 120:
قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ : (کہہ دیں کہ اللہ ہی کی ہدایت) وہی ہدایت جس کو وہ اپنے بندوں کے لیے پسند کرتے ہیں۔
ھُوَالْھُدٰی : (ہدایت ہے) یعنی اسلام جو کہ خالص ہدایت ہے اس سے بڑھ کر کوئی ہدایت نہیں اور جس کی طرف تم (اے یہودونصاریٰ ) دعوت دیتے ہو وہ ہدایت نہیں بلکہ ضلالت ہے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد۔
وَلَپنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآئَ ھُمْ : (اگر آپ چلے ان کی خواہشات پر) یعنی ان کے ان اقوال پر جو کہ خواہشات، بدعات پر مبنی ہیں۔
بَعْدَ الَّذِیْ جَآئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ : (اس کے بعد کہ آپ کے پاس علم آچکا) یعنی العلم سے مراد یہ کہ جان لینا کہ وہ، وہ دین اسلام ہے یا جانا پہچانا ہوا دین۔ کہ جس کے دلائل واضح اور ثبوت روشن ہیں۔ وہ مراد ہے۔
مَالَکَ مِنَ اللّٰہِ : (آپ کے لیے کوئی حمایتی) یعنی اللہ کے عذاب سے
مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ : (مددگار نہ ہوگا) نصیر بمعنی ناصر (مددگار) کے معنی میں ہے۔