Ayah 2:213آیت 213:
کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ وَاَنْزَلَ مَعَہُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ وَمَا اخْتَلَفَ فِیْہِ اِلاَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوْہُ مِنْم بََعْدِ مَا جَآئَ تْہُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًام بَیْنَہُمْ فَہَدَی اللّٰہُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِہٖ وَاللّٰہُ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (سب لوگ ایک ہی دین رکھتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء ( علیہ السلام) کو بھیجا۔ خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری۔ تاکہ فیصلہ کرے لوگوں میں اس بات کا جس میں انہوں نے اختلاف کیا ٗ اور نہیں اختلاف کیا اس کتاب میں مگر ان لوگوں نے جن کو وہ کتاب دی گئی اس کے بعد کہ ان کے پاس کھلی نشانیاں آگئیں۔ آپس کی ضد کی وجہ سے پھر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اپنے حکم سے وہ راہ دکھا دی جس میں اختلاف کرتے تھے اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔ )
امت سے مراد دین ہے :
کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ۔ امت واحدہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آدم ( علیہ السلام) سے لے کر نوح ( علیہ السلام) تک ایک دین پر متفق تھے۔ یا نوح ( علیہ السلام) اور ان کے ساتھ جو کشتی میں تھے۔ پس انہوں نے اختلاف کیا فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ ۔ پس پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء ( علیہ السلام) کو بھیجا۔ مَااخْتَلَفُوْا کے حذف پر یہ آیت دلالت کرتی ہے۔ لِیََحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ اور عبداللہ بن مسعود ؓ کی قراءت بھی کان الناس امۃ واحدۃ فاختلفوا اور سورة یونس آیت نمبر 19۔ وَمَا کَانَ النَّاسُ اِلَّآ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخْتَلَفُوْابھی دلالت کرتی ہے۔
دوسرا قول :
لوگ ایک ہی جماعت کفر کی حالت میں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء ( علیہ السلام) کو بھیجا پس انہوں نے ان پر اختلاف کیا۔ (پہلی توجیہ راجح ہے) مبشرین خوش خبری سنانے والے مؤمنین کو ثواب ملنے کی ومنذرین۔ اور ڈرانے والے عذاب کے ساتھ کفار کو۔
نحو : مبشرین اور منذرین دونوں حال ہیں۔ وَاَنْزَلَ مَعَہُمُ الْکِتٰبَ ۔ اور اس نے ان میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک
کتاب اتاری۔ بِالْحَقِّ یعنی جو حق کی وضاحت کرنے والی تھی۔ لِیَحْکُمَ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ یا کتاب یا نبی ﷺ فیصلہ کریں جو اترا۔ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لوگوں کے درمیان ان باتوں میں جن میں لوگوں نے اختلاف کیا۔ دین اسلام کے سلسلہ میں۔ کیونکہ انہوں نے اتفاق کے بعد اختلاف کیا وَمَا اخْتَلَفَ فِیْہِ ۔ اس میں اختلاف نہیں کیا۔ یعنی حق میں۔ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْہُ ۔ مگر ان لوگوں نے جن کو وہ کتاب دی گئی تھی حالانکہ کتاب تو ازالہ اختلاف کے لئے اتاری گئی تھی۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ اختلاف میں اور بڑھ گئے جب ان پر کتاب اتاری گئی۔ مِنْم بَعْدِ مَاجَآئَ تْھُمُ الْبَیِّنٰتُ ۔ اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلائل اس کی سچائی کے آچکے۔ بَغْیاً م بَیْنَھُمْ ۔ اپنے درمیان حسد اور ظلم کی بناء پر کیونکہ ان میں دنیا کی حرص اور قلت انصاف پائی جاتی تھی۔
نحو : بَغْیـًچا یہ مفعول لہٗ ہے۔
فَہَدَی اللہ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ ۔ پس ہدایت دی اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو حق کی طرف وہ حق کہ جس میں اختلاف کیا جن لوگوں نے بھی کیا۔ مِنَ الْحَقِّ یہ اخْتَلَفُوْا کا بیان ہے۔ بِاِذْنِہٖ اپنے حکم کے ساتھ یعنی اپنے علم کے ساتھ۔ وَاللّٰہُ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتے ہیں۔
Ayah 2:214214۔ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَاْتِکُمَ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ ط مَسَّتْہُمُ الْبَاْسَآئُ وَالضَّرَّآئُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ اَلَآٓ اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ۔ (کیا تم نے یہ سمجھا کہ جنت میں یونہی چلے جائو گے حالانکہ جو تم سے پہلے (انبیاء مؤمنین) گزرے ان کی سی حالت (تنگی) تمہیں پیش نہیں آئی انہیں سختی پہنچی اور (فقر و بیماری کی) تکلیف سے بھی اور ان کو جھنجھوڑا گیا یہاں تک کہ رسول اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے وہ کہنے لگے کہ خدا کی مدد کب آئے گی آگاہ رہو اللہ تعالیٰ کی مدد قریب ہے)
نحو : اَمْ حَسِبْتُمْ یہ ام منقطعہ ہے متصلہ نہیں۔ کیونکہ متصلہ کی شرط یہ ہے کہ اس سے پہلے ہمزہ استفہام ہوتا ہے جیسا کہ کہتے ہیں أعندک زیدٌ ام عمرو ؟ یعنی کونسا دونوں میں تیرے پاس ہے اس کے جواب میں زید کہیں گے اگر زید وہاں ہو یا عمرو کہیں گے جب عمرو وہاں ہو۔
باقی ام منقطعہ استفہام وخبر دونوں کے بعد واقع ہوتا ہے اور وہ ھل اور ہمزہ کے معنی میں آتا ہے اور تقدیر عبارت یہ ہوگی۔ بَلْ أَحَسِبْتُمْ ہمزہ تقریر کے لئے ہو اور مؤمنین کے خیال کے انکار اور استبعاد کے لئے اس سے غرض یہ ہے کہ مومن سختی اور تکلیف میں صبر کریں۔ اللہ تعالیٰ نے جب امتوں کا اپنے انبیاء ( علیہ السلام) پر اختلاف کا ذکر کیا جو اختلاف امتوں نے واضح دلائل آنے کے بعد ڈالا۔ اس سے مقصد رسول اللہ ﷺ اور ایمان والوں کو ثابت قدمی اور صبر پر تسلی دینا مقصود تھا۔ اس موقعہ پر جبکہ مشرکین اور یہود و نصاریٰ ان کے ساتھ اختلاف کر رہے تھے اور ان کے ساتھ محض عداوت کی وجہ سے آیات کا انکار کر رہے تھے۔
ایسے موقع پر طریق التفات سے فرمایا۔ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَاْتِکُمْ بلکہ تم نے گمان کرلیا کہ جنت میں یونہی چلے جائو گے۔ حالانکہ تمہارے پاس نہیں آئی یہاں لمّا بمعنی لم ہے اور لمّا میں معنی توقع کا بھی ہے۔ یعنی ایسے حالات آنے کی توقع و انتظار ہے۔ مَثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا خلوا کا معنی گزرنا ہے یعنی ان کا حال وہ مثال ہے شدت و سختی کی۔ مِنْ قَبْلِکُمْ ۔ سے مراد انبیاء ( علیہ السلام) اور مومن ہیں۔ مستھم یہ حالت کا بیان ہے جملہ مستانفہ ہے گویا کہنے والا یوں کہہ رہا ہے کہ وہ حال کیسا تھا ؟ تو جواب آیا مَسَّتْہُمُ الْبَاْسَآئُ ۔ ان کو تنگیوں نے گھیر لیا۔ وَالضَّرَّآئُ بیماری اور بھوک حملہ آور ہوئی وَزُلْزِلُوْا قسما قسم کی مصیبتوں سے ان کو حرکت دی گئی اور جھنجھوڑا گیا۔ جیسا زلزلہ سے حرکت آتی ہے۔
بےقراری انتہاء کو :
حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مَعَہٗ ۔ اس حد تک کہ رسول اور مومن کہنے لگے۔ مَتٰی نَصْرُاللّٰہِ ۔ کب آئے گی اللہ تعالیٰ کی مدد یعنی بےقراری انتہا کو پہنچ گئی اور صبر باقی نہ رہا حتی کہ وہ کہنے لگے مَتٰی نَصْرُاللّٰہِ مطلب یہ ہے کہ مدد طلب کرتے اور اس کی تمنا میں شدت کا زمانہ طویل ہوگیا۔ اَلَآٓ اِنَّ نَصْرَاللّٰہِ قَرِیْبٌ۔ جلدی مدد سے ان کی طلب کو پورا کرتے ہوئے انہیں کہا گیا۔ آگاہ رہو بیشک اللہ تعالیٰ کی مدد قریب ہے۔
اختلاف قراءت :
یَقُوْلُ نافع اور علی رحمہما اللہ نے رفع سے پڑھا اور اس کو حکایت حال ماضی میں قرار دیا ٗ جیسے کہتے ہیں شربت الابل حتی یجیء البعیر یجر بطنہ تویہاں یجیئحکایت حال ماضی ہے باقی قراء نے اَن مقدرہ مان کر منصوب پڑھا ہے اور معنی استقبال کا کیونکہ ان اس کی علامت ہے۔
Ayah 2:215215۔ یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنَِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ۔ آپ ﷺ سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں تم کہہ دو کہ جو مال تم خرچ کرو۔ تو ماں ٗ باپ اور رشتہ داروں کو یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کو دو اور تم جو کچھ نیکی کرو پس بیشک اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے۔
مسئلہ : جب حضرت عمرو بن جموح ؓ نے سوال کیا کہ ہم کس قسم کے اموال اور کہاں کہاں خرچ کریں تو یہ آیت اتری۔ (ابن حبان)
صراحت مصارف میں حکمت :
یَسْئَلُوْنَکَ اللہ تعالیٰ نے مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ عام فرما کر خرچ کے مصارف کو صراحت کے ساتھ ذکر کردیا۔ اور سائل کے سوال کے جواب کو اشارہ میں بیان فرمایا۔ اس سے یہ واضح کردیا کہ اصل قابل اہتمام مصرف کا لحاظ و خیال رکھنا ہے کیونکہ خرچ قابل اعتبار وہی ہوتا ہے۔ جو صحیح موقع پر صرف ہوجائے۔
حضرت حسن بصری (رح) سے مروی ہے کہ یہ نفلی نفقہ جات کے سلسلہ میں ہے۔ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ۔ جو بھی تم بھلائی کرو پس اللہ تعالیٰ اس کو جاننے والے ہیں وہ اس پر بدلہ دیں گے۔
Ayah 2:216آیت 216:
کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَہُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ وَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَہُوْا شَیْئًا وَّ ہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ ہُوَ شَرٌّلَّکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ (تم پر جہادفرض کیا گیا اور وہ تمہیں ناگوار ہے اور شاید تمہیں ایک چیز بری لگے۔ حالانکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور شاید ایک چیز تمہیں اچھی معلوم ہو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بری ہے اور اللہ تعالیٰ (تمہاری بھلائی اور برائی کو) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے) کتب علیکم القتال۔ تم پر کفار سے جہاد فرض کیا گیا۔
صفت سے مقصود اظہار مبالغہ :
وَہُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ ۔ یہاں مصدر کو صفت کی جگہ لایا گیا۔ تاکہ مبالغہ ظاہر ہو جیسا کہ اس شعر میں۔
فَاِنَّمَا ہِیَ اِقْبَالٌ وَاِدْبَارٌ تو یہاں شاعر نے گھر کے پچھلے حصے اور سامنے والے حصے کو اقبال و ادبار کہہ دیا۔ گویا بذات خود وہ کوئی ناپسند چیز ہے کہ جس سے اتنی طبعی ناپسندیدگی ہے یا یہ فُعْلٌ کا وزن مفعول کے معنی میں ہے۔ جیسے خُبْزٌ بمعنی الْمَخْبُوْزُ ۔ یعنی مکروہ لکم۔ وہ ناپسندیدہ ہے تمہیں۔ وَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَہُوْا شَیْئًا وَّہُوَ خَیْرٌلَّکُمْ ۔ ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہو۔ پس تم غزوہ کو ناپسند کر رہے ہو۔ حالانکہ اس میں دو میں سے ایک خیر ضرور مل جائے گی یا کامیابی اور غنیمت یا شہادت و جنت۔ وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا۔ اور شاید تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ غزوہ میں بیٹھ رہنا ہے۔ وَّہُوَ شَرٌّ لَّـکُمْ اور وہ تمہارے لئے بہت بری ہو اس لئے کہ اس میں ذلت و فقر اور اجر و غنیمت سے محرومی ہے۔
اللہ جل شانہٗ جو فرمائیں کر ڈالو :
وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اللہ جانتے ہیں وہ چیز جو تمہارے حق میں خیر ہے وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ اور تم نہیں جانتے اس کو پس جلدی سے وہ کر ڈالو جس کا وہ حکم دے رہے ہیں خواہ وہ تمہیں گراں ہو۔
نکتہ : عَسٰٓی یہاں لایا گیا۔ اصل میں یہ شک کے لئے ہے کیونکہ نفس جب پاک ہوجاتا ہے تو اس کی تمام خواہشات شریعت کے مطابق ہوجاتی ہیں پھر وہ ان چیزوں سے نفرت کرتا ہے جو اللہ کو ناپسند ہیں اور ان چیزوں کو پسند کرتا ہے جو اللہ کو پسند ہیں۔
Ayah 2:217آیت 217:
یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌط وَصَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَکُفْرٌم بِہٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ اِخْرَاجُ اَہْلِہٖ مِنْہُ اَکْبَرُ عِنْدَ اللّٰہِ وَالْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ حَتّٰی یَرُدُّوْکُمْ عَنْ دِیْنِکُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا وَمَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓپکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ۔
(اے محمد ﷺ وہ آپ سے ماہ حرام میں جنگ کے متعلق پوچھتے ہیں ان سے کہہ دو ۔ اس (ماہ حرام) میں لڑنا بڑا گناہ ہے اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس کو نہ ماننا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو نکال دینا اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے اور فساد اس قتل سے بھی زیادہ سخت ہے اور وہ تم سے ہمیشہ لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں اگر وہ قابو پالیں اور جو تم میں سے اپنے دین سے پھرجائے گا اور کفر کی حالت میں مرجائے گا تو ایسے لوگوں کے عمل ضائع ہوجائیں گے۔ دنیا میں اور آخرت میں اور یہی لوگ دوزخی ہیں اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے) ۔
سریہ عبداللہ بن جحش۔ :
آیت یَسْئَلُوْنَکَ اس سریہ عبداللہ بن جحش ؓ کے متعلق اتری۔ جس کو رسول اللہ ﷺ نے جمادی الاخرٰی میں روانہ فرمایا تھا۔ انہوں نے مشرکین سے لڑائی کرلی یہ سمجھ کر کہ رجب کا چاند نہیں ہوا حالانکہ رجب ہوچکا تھا۔ قریش نے پروپیگنڈا کیا محمد (ﷺ) نے تو اشہر حرام کو بھی حلال کردیا حالانکہ ان میں خائف کو بھی امن حاصل تھا۔ یَسْئَلُوْنَکَ آپ سے کفار سوال کرتے ہیں یا مسلمان سوال کرتے ہیں کہ اشہر حرام میں قتال کا حکم کیا ہے ؟
نحو : الشہر سے قتالٍ فیہ بدل الاشتمال ہے۔
قراءت : عن قتالٍ فیہ تکرار عامل کے ساتھ پڑھا گیا۔ جیسا کہ سورة الاعراف آیت نمبر 75 میں لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ ٰامَنَ مِنْھُمْ ۔ میں لام کو دوبارہ لایا گیا ہے۔ قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌ۔ کہہ دیں کہ لڑائی اس میں بڑا یعنی گناہ ہے۔
نحو : قتالٌ، مبتداء کبیر، خبر ہے نکرہ کو مبتداء بنانا درست ہے کیونکہ فیہ کی وجہ سے اس میں تخصیص پیدا ہوگئی ہے وہ قتالٌ کی صفت ہے۔
رائے مفسرین : اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم التوبہ آیت نمبر 5 سے منسوخ ہے (مگر جن دلائل کو نسخ کے لئے پیش کیا جاتا ہے وہ خود محل نظر ہیں البتہ بعض مفسرین نے الشہر الحرام بالشہر الحرام سے اس کو منسوخ مانا ہے جس سے ابتداء قتال فی الاشہر الحرام تو حرام رہے گی البتہ جوابی کارروائی اس آیت سے حلال ثابت ہوگی۔ واللہ اعلم۔
حدیبیہ میں روکنا :
وَصَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ۔ اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکنا یعنی کفار کا رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کو حدیبیہ والے سال روکنا۔
نحو : یہ مبتداء ہے و کفربہٖ اس کا معطوف علیہ ہے اور اخراج اہلہٖ یہ بھی اس کا معطوف علیہ ہے ان تینوں اسماء کی خبر اَکْبَرُ عِنْدَ اللّٰہِ ہے۔ والمسجد الحرام۔ فراء (رح) کا خیال یہ ہے کہ والمسجد الحرام کا عطف کفر بہ میں بہ پر ہے تقدیر عبارت یہ ہے کفر بہ وبالمسجد الحرام علمائے بصرہ کا قول : ضمیر مجرور پر عطف اس صورت میں جائز ہے جبکہ حرف جار کو دوبارہ لایا جائے۔ پس اس طرح نہیں کہہ سکتے مررت بہ وزید۔ بلکہ اس طرح کہیں گے مررت بہٖ وبزید پس اگر یہاں عطف بہٖ پر ہوتا تو عبارت اس طرح ہوتی۔ وکفر بہٖ وبالمسجد الحرام وَاِخْرَاجُ اَہْلِہٖ ۔ وہاں کے رہنے والوں کا نکالنا یعنی مسجد حرام کے رہنے والوں کا نکالنا اور وہ رسول اللہ ﷺ اور مومن تھے اس کا عطف بھی صَدٌّ پر ہے۔ اَکْبَرُ عِنْدَاللّٰہِ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا گناہ ہے جو کچھ کہ فعل قتال اشہر حرام میں سریہ نے خطاء ً کیا ہے اور گمان کی بناء پر کیا۔ (قصداً نہیں) وَالْفِتْنَۃُ ۔ اور نکالنا یا شرک کرنا۔ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ۔ یہ شہر حرام میں قتل سے بڑھ کر ہے یا کفار کا مسلمان کو دکھ دینا ان مسلمانوں کے شہر حرام میں قتل کفار سے زیادہ قبیح ہے۔
پیشینگوئی :
وَلَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ حَتّٰی یَرُدُّوْکُمْ عَنْ دِیْنِکُمْ ۔ وہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ تم کو تمہارے دین سے لوٹا دیں یعنی کفر کی طرف۔
اس آیت میں اطلاع دی گئی ہے کہ کفار کی ہمیشہ مسلمانوں سے عداوت رہے گی۔ اور وہ اس سے کبھی باز نہ آئیں گے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کو ایمان سے پھیر دیں۔
نکتہ : حَتّٰی یہاں تعلیل کے لئے ہے جیسے کہتے ہیں یَعْبُدُ اللّٰہَ حَتّٰی یَدْخُلَ الْجَنَّۃَ ۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا رہے گا تاکہ وہ جنت میں پہنچ جائے۔
آیت کا مطلب :
مطلب آیت کا یہ ہوا۔ کہ وہ تم سے لڑتے رہیں گے تاکہ وہ تمہیں ایمان سے لوٹا دیں۔ اِنِ اسْتَطَاعُوْا۔ اگر وہ ایسا کرسکیں ان میں ایسا کرسکنے سے استبعاد ظاہر کیا گیا۔ جیسے تم دشمن کو کہتے ہو۔ ان ظفرت بی فلا تبق علی۔ کہ اگر تم مجھ پر کامیابی پائو۔ تو مت چھوڑنا۔ حالانکہ تمہیں یقین ہے کہ وہ تم پر کامیابی نہ پا سکے گا۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ ایسا نہ کرسکیں گے کیونکہ تم ایمان میں مضبوط ہو۔ وَمَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ ۔ اور جو شخص تم میں سے پھر گیا اپنے دین سے یعنی اسلام سے کفر کی طرف۔
کفر سے مراد ارتداد ہے :
فَیَمُتْ وَہُوَ کَافِرٌ۔ اور کفر کی حالت میں اس کی موت آگئی۔ یہاں کفر سے ارتداد مراد ہے۔ فَاُولٰٓپکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰ خِرَۃِ ۔ پس ان کے اعمال دنیا اور آخرت میں برباد ہوگئے۔ اس لئے کہ ارتداد سے مسلمانوں والے تمام ثمرات سے محرومی ہوگئی۔ اور آخرت میں ثواب اور اچھے ٹھکانے سے محروم ہوگیا۔
وَاُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ وہ آگ والے ہیں اور وہ اس آگ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
استدلال امام شافعی سوال :
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ارتداد سے اعمال حبط نہیں ہوں گے جب کہ موت ارتداد پر نہ آئے۔ گویا اگر توبہ کرلی تو سابقہ اعمال بحال ہیں۔
جواب : اللہ تعالیٰ نے سورة مائدۃ آیت نمبر 4 وَمَنْ یَّکْفُرْ بِالْاِیْمَانَ فَقَدْ حَبِطَتْ عَمَلُہٗ ۔ میں حبط عمل کو فقط ارتداد سے معلق فرمایا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ صرف ارتداد سے حبط اعمال ہوجاتا ہے۔ اصل اس اختلاف کی بنیاد وہ کلیہ ہے کہ مطلق کو مقید پر ہمارے ہاں محمول نہ کریں گے۔ بلکہ اپنے اپنے مقام پر رہیں گے اور ان کے ہاں مطلق کو مقید پر محمول کر کے اس میں بھی وہ قید معتبر مانیں گے۔
والدلائل فی اصول الفقہ۔
مسئلہ : مجاہدین سریہ نے عرض کیا کہ ہمیں اس جہاد کا اجر ملے گا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 2:218آیت 218:
اِنَّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا۔ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی۔ یعنی انہوں نے مکہ کو اور اپنے خاندانوں کو چھوڑا۔
وَجٰہَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ۔ (اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا) مشرکین کے خلاف۔
قراءت : یہاں وقف نہیں۔ کیونکہ اولٰئک یرجون یہ اِنّ کی خبر ہے۔
اُولٰٓپکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰہِ ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار ہیں کہا جاتا ہے من رجاطلب ومن خاف ہرب۔
نکتہ : (امید کو ان کے لئے اس وجہ سے ثابت کیا تاکہ یہ معلوم ہوجائے۔ کہ عمل نہ موجب ثواب ہے اور نہ ثبوت ثواب کا یقین دلانے والا۔ خاص کر اس وقت جبکہ اعتبار خاتمہ کا ہے)
وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے)
Ayah 2:219219۔ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیْہِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ اِثْمُہُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِہِمَا وَیَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ قُلِ الْعَفْوَ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ ۔ (آپ سے اے محمد (ﷺ) یہ لوگ شراب اور جوئے کے بارے میں سوال کرتے ہیں ان سے کہہ دو ۔ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے فائدے بھی ہیں۔ اور ان کے فائدے سے انکا گناہ بڑا ہے اور آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں کہہ دو ۔ جو ضرورت سے زیادہ ہو اسی طرح اللہ تعالیٰ تم سے صاف صاف آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ تم غور کرو) ۔ شراب کے متعلق چار آیات اتریں۔ مکہ شریف میں نمبر 1۔ سورة نحل ومن ثمرات النخیل والا عناب تتخذون منہ سکرا ورزقا حسنا۔ مسلمان شراب کو استعمال کرتے تھے اور اس وقت حلال بھی تھی پھر حضرت عمر فاروق ؓ اور بعض دیگر صحابہ ؓ نے کہا یارسول اللہ ﷺ آپ ہمیں شراب کے بارے میں فتویٰ دیں۔ یہ عقل کو دور کرنے والی اور مال سلب کرنے والی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔
واقعہ عبدالرحمن بن عوف۔ :
نمبر 2۔ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ ۔ پھر کچھ لوگوں نے تو شراب پینی چھوڑ دی۔ جبکہ دوسرے استعمال کرتے رہے حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے ایک دن دوستوں کی جماعت کو دعوت دی انہوں نے شراب پی اور نشہ چڑھ گیا۔ نماز کا وقت آگیا۔ تو ان میں سے کسی نے امامت کروائی۔ تو قل یٰٓایھا الکفرون لا اعبد کو اعبد ماتعبدون پڑھ دیا۔ اس پر یہ آیت اتری۔
واقعہ عتبان بن مالک۔ :
نمبر 3۔ لَاتَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُکٰرٰی۔ النساء آیت نمبر 43 اب اس کے بعد پینے والوں کی تعداد کم ہوگئی۔ پھر حضرت عتبان بن مالک ؓ نے دوستوں کی ایک جماعت کو بلایا۔ جب انہوں نے شراب پی اور اس کا نشہ چڑھا۔ تو ایک دوسرے سے جھگڑے اور باہمی مار پٹائی ہوئی۔ حضرت عمر ؓ نے کہا الَلّٰھُمَّ بَیِّنْ لَنَا بَیَانًا شَافِیًا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت۔
نمبر 4۔ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ ۔ تا۔ فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ ۔ اتاری۔ سورة المائدہ آیت نمبر 90۔ 91 اس آیت کو سن کر حضرت عمر ؓ کی زبان سے نکلا۔ انتہینا انتہینا یا رب اے ہمارے رب ہم باز آئے باز آئے۔
ارشاد حضرت علی ؓ :
حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ اگر ایک قطرہ شراب کنوئیں میں گرجائے پھر اس کی جگہ منارہ بنایا جائے۔ میں علی اس پر اذان نہ دونگا۔ اور اگر دریا میں قطرہ گرجائے پھر وہ دریا خشک ہوجائے اور اس میں گھاس اگ آئے تو میں اس کو اپنے جانوروں کو نہ چرائونگا۔ خمر۔ انگور کا شیرہ جو گاڑھا ہوجائے جھاگ نکالے اصل میں خمرہ خمراً مصدر پر اسمیت کا معنی غالب آگیا۔ اس نے ڈھانپا ڈھانپنا۔ شراب بھی عقل کو ڈھانپ لیتی ہے۔
میسر کا مآخذ :
المیسر۔ کا معنی ہے جُوَاا یہ یسر سے مصدر ہے جیسا موعد اپنے فعل سے۔
کہا جاتا ہے۔ یسرتہ۔ جبکہ اس سے جوا کھیلے۔ اور ایسر سے مشتق ہے۔ کیونکہ دوسرے کا مال اس میں سہولت و آسانی بغیر محنت و تھکاوٹ کے حاصل کرلیتا ہے یا ایسار سے مشتق ہے گویا اس کے بائیں ہاتھ نے یہ مال چھین لیا ہے۔ جوئے کی صورت حال اس طرح تھی ان کے ہاں دس تیر تھے۔ جن پر خطوط تھے۔ اور وہ درج ذیل تھے۔
جوئے کے تیر :
نمبر 1۔ الفذ اس کا ایک حصہ تھا۔ نمبر 2۔ التوام اس کے دو حصے تھے۔ نمبر 3۔ الرتیب اس کے تین حصے تھے۔ نمبر 4۔ الحلس اس کے چار حصے تھے۔ نمبر 5۔ النافس اس کے پانچ حصے تھے۔ نمبر 6۔ المسبل اس کے چھ حصے تھے۔ نمبر 7۔ المعلیّٰ اس کے سات حصے تھے۔ تین تیر بلا علامت تھے ان کا کوئی حصہ نہ تھا۔ نمبر 1۔ المنیح نمبر 2۔ السفیح۔ نمبر 3۔ الوغد وہ ان تمام تیروں کو ایک تھیلے میں ڈالتے۔ اور ایک عادل آدمی کے ہاتھ پر رکھ دیتے۔ پھر وہ ان تیروں کو حرکت دیتا۔ اور اپنا ہاتھ تھیلے میں ڈال کر ہر آدمی کے نام پر باری باری ایک ایک تیر نکالتا جاتا۔ جس کا تیر ان تیروں میں سے نکلتا جن کے حصے مقرر تھے۔ وہ مقررہ حصے لے لیتا۔ اور جس کا ایسا تیر نکلتا جن کے حصے مقرر نہ تھے وہ کچھ وصول نہ کرتا۔ بلکہ سارے اونٹ کی قیمت بطور تاوان دیتا۔ وہ حصے وصول کرنے والے اپنے حصے فقراء پر بانٹ دیتے۔ اس میں سے خود کچھ بھی استعمال نہ کرتے اور اس پر فخر کرتے اور جو اس میں داخل نہ ہوتا۔ اس کی مذمت کرتے۔ قمار کی تمام اقسام۔ نرد۔ شطرنج وغیرہ اسی کے حکم میں ہیں۔
لین دین کے متعلق سوال :
وہ آپ سے ان کے لین دین کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ آپ فرما دیں۔ قُلْ فِیْہِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌوَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ (کہ ان میں گناہ بہت بڑا ہے اور لوگوں کے کچھ فائدے بھی ہیں) ۔ باہمی جھگڑے اور گالم گلوچ کی وجہ سے اور فحش گوئی اور جھوٹ کی وجہ سے۔
قراءت : حمزہ اور علی رحمہما اللہ نے کبیر کی جگہ کثیر پڑھا ہے۔
و منافع للناس سے مراد تجارت خمر کے فوائد اور پینے کی لذت اور جوئے میں فقراء کا نفع یا مال بلا محنت کے میسر آجانا۔ وَاِثْمُہُمَآ۔ ان کے لین دین کے گناہ کی سزا۔ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِہِمَا۔ وہ ان دونوں کے فائدے سے بہت بڑھ کر ہے۔ کیونکہ شرابی اور جوا باز طرح طرح کے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔
وَیَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ قُلِ الْعَفْوَ ۔ وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں تو فرما دیں جو بچ رہے۔ عفو زائد کو کہتے ہیں۔ یعنی تم وہ خرچ کرو۔ جو ضرورت سے بچا ہوا ہو۔ ابتدائے اسلام میں تمام زائد مال کا خرچ کرنا فرض تھا کھیتی والے کو اپنا سال کا خرچہ رکھ کر مہینے کے بعد زائد کے خرچ کر ڈالنے کا حکم تھا۔
جب آیت زکوٰۃ نازل ہوئی۔ تو یہ حکم منسوخ ہوگیا۔
نحو و قراءت : ابو عمرو نے اس کو ضمہ کے ساتھ اَلْعَفْوُ پڑھا ہے جنہوں نے اس کو نصب دیا تو انہوں نے ” مَاذَا “ کو ایک اسم قرار دے کر ینفقون سے منصوب بنایا ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے قل ینفقون العفو۔ : اور جنہوں نے رفع پڑھا انہوں نے مَا کو مبتدا اور ذا کو صلہ سمیت اس کی خبر بنایا ہے ذا یہاں الّذی کے معنی میں ہے ینفقون یہ ذا کا صلہ ہے تقدیرعبارت یہ ہے۔ ما الذی ینفقون ؟ تو اس کے جواب میں العفو لایا گیا۔ یعنی ہو العفو۔ تو جواب کو سوال والا اعراب دے دیا۔ تاکہ سوال و جواب میں مطابقت ہو۔
کَذٰلِکَ ۔ کاف یہ موضع نصب میں مصدر محذوف کی صفت ہے یعنی تَبْیِیْنًا مِّثْلَ ہٰذَا التَّبْیِیْنَ ۔ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ ۔ اللہ تعالیٰ اپنی آیات کھول کر بیان کرتے ہیں۔ تاکہ تم سوچ و بچار کرو۔
Ayah 2:220آیت 220:
فِی الدُّنْیَا۔ (دنیا میں) یعنی دنیا کے معاملے میں۔
وَالْاٰخِرَۃِ (اور آخرت میں) فی یہ یتفکرون سے متعلق ہے۔ یعنی تم دونوں جہانوں کے متعلق غور و فکر کرو۔ اور ایسے اعمال کرو۔ جو تمہارے لئے نہایت درست ہوں۔ یا دونوں جہانوں کے متعلق سوچ و بچار کرو اور ان میں جو باقی رہنے والا ہے اور کثرت منافع والا ہے اس کو ترجیح دو ۔
دوسرا قول : یہ ہے کہ یبین کے متعلق بھی ہوسکتا ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی۔
یبین لکم الاٰیات فی امر الدارین وفیما یتعلق بہما اور وہ تمہارے لئے اپنی آیات دونوں جہانوں کے سلسلے میں اور جو چیزیں ان سے متعلق ہیں واضح طور پر بیان کرتے ہیں۔ لعلکم تتفکرون۔ تاکہ تم سوچ بچار کرو۔ جب یہ آیت نمبر 10 سورة نساء ان الذین یاکلون اموال الیتمٰی ظلماً اتری تو کئی صحابہ ؓ نے یتامٰی سے علیحدگی اختیار کرلی۔ اور ان سے میل جول چھوڑ دیا۔ اور ان کے مالوں کی نگرانی ترک کردی۔ اور اس بات کا تذکرہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کیا۔ تو یہ آیت اتری۔
مداخلت برائے احتیاج :
وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْیَتٰمٰی قُلْ اِصْلَاحٌ لَّہُمْ خَیْرٌ۔ (وہ آپ سے یتیموں کے بارے سوال کرتے ہیں تم کہہ دو اصلاح کرنا ان کے لئے بہتر ہے) یعنی ان کے معاملات میں اور اموال میں اصلاح کی خاطر مداخلت الگ تھلگ ہوجانے سے بہتر ہے۔
وَاِنْ تُخَالِطُوْہُمْ (تم ان سے میل جول کرو) اور علیحدگی اختیار مت کرو۔
فَاِخْوَانُکُمْ ۔ (پس وہ تمہارے دینی بھائی ہیں) اور بھائی کا حق ہے کہ دوسرے بھائی کے ساتھ مل جل کر رہے۔
وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ۔ (اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے ان کے اموال میں بگاڑ پیدا کرنے والے کا ان کی اصلاح کرنے والے سے) پس مداخلت کے مطابق بدلہ دے گا۔ پس احتیاط کرو اور اصلاح کے علاوہ اور کوئی چیز مت تلاش کرو۔
وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ ۔ (اور اگر اللہ تعالیٰ کو تمہاری تنگی منظور ہوتی)
لَاَعْنَتَکُمْ ۔ (تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا) تمہیں مشقت اٹھوا کر اور تنگی میں مبتلا کرتا۔ اور شرکت کو مطلق مباح نہ کرتا۔
اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ۔ (بےشک اللہ تعالیٰ زبردست) یعنی غالب ہے وہ اپنے بندوں پر مشقت ڈالنے کی قدرت رکھتا ہے اور تنگی میں مبتلا کرنے کی۔
حَکِیْمٌ۔ (حکمت والا ہے) وہ وسعت کے مطابق اور طاقت کے لحاظ سے حکم دیتا ہے۔
Ayah 2:221221۔ وَلَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ وَلَاَ مَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکَۃٍ وَّلَوْ اَعْجَبَتْکُمْ وَلَا تُنْکِحُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوْا وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکٍ وَّلَوْ اَعْجَبَکُمْ اُولٰٓپکَ یَدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ وَاللّٰہُ یَدْعُوْٓا اِلَی الْجَنَّۃِ وَالْمَغْفِرَۃِ بِاِذْنِہٖ وَیُبِیِّنُ ٰایٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ۔ (اور مشرکہ عورتیں جب تک ایمان نہ لائیں۔ ان سے نکاح نہ کرو۔ اور البتہ مومنہ لونڈی مشرک عورت سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں اچھی معلوم ہو۔ اور نہ نکاح کرو مشرک مردوں سے جب تک وہ ایمان نہ لائیں اور بیشک مسلمان غلام مشرک سے بہت بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں پسند آئے۔ یہ دوزخ کی طرف بلانے والے ہیں۔ اور اللہ جنت اور مغفرت کی طرف بلاتے ہیں۔ اپنے حکم سے اور اپنے احکام لوگوں کے سامنے صاف صاف بیان کرتے ہیں۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں) ۔
مسئلہ : جب مرثد ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا آیا وہ عناق مشرکہ سے نکاح کرے۔ تو یہ آیت اتری۔
آیت 221:
وَلاَ تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ 1۔ تم مشرکہ عورتوں سے نکاح مت کرو۔ جب تک وہ ایمان نہ لائیں۔ نکح کا معنی خود نکاح کرنا اور انکح نکاح کروانا۔
وَلَاَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکَۃٍ وَّلَوْ اَعْجَبَتْکُمْ 1۔ مومنہ لونڈی بہت بہتر ہے مشرکہ سے خواہ وہ تمہیں زیادہ بھائے یعنی اگرچہ حالت یہ ہو کہ مشرکہ تمہیں پسند ہو اور تم اس سے محبت کرتے ہو۔
وَلاَ تُنْکِحُوا الْمُشْرِکِیْنَ ۔ نہ نکاح کر کے دو مشرکین کو۔ یعنی کسی مسلمہ کا نکاح ان سے مت کرو۔
امام زجاج (رح) نے اسی طرح کہا۔
جامع العلوم :
یہاں ایک مفعول کو حذف کیا گیا ہے۔
تقدیر عبارت یہ ہے : وَلاَ تُنْکِحُوا ھُنَّ الْمُشْرِکِیْنَ کہ نہ نکاح کر کے دو ان مسلمات کا مشرکین کو۔ حَتّٰی یُؤْمِنُوْا 1 وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکٍ وَّلَوْ اَعْجَبَکُمْ 1۔ یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور مومن غلام بہت بہتر ہے مشرک سے اگرچہ وہ تمہیں پسند آئے۔
اُولٰٓپکَ اس میں ماقبل کی علت بیان کی گئی اور اس کا مشارا لیہ مشرکہ عورتیں اور مشرک مرد ہیں۔
ان سے رشتہ قطع کریں :
یَدْعُوْنَ اِلَی النَّار 1 گ۔ (وہ آگ کی طرف دعوت دینے والے ہیں) یعنی اس کفر کی طرف دعوت دینے والے ہیں جو اہل نار کا عمل ہے پس وہ اس بات کے مستحق ہیں۔ کہ ان سے دوستی نہ کی جائے۔ اور نہ ان سے دامادی کا رشتہ قائم کیا جائے۔
ان سے موالات واجب ہے :
وَاللّٰہُ یَدْعُوْٓ ا اِلَی الْجَنَّۃِ وَالْمَغْفِرَۃِ ۔ (اور اللہ تعالیٰ جنت و مغفرت کی طرف دعوت دینے والے ہیں) اور جو چیز انکی طرف پہنچانے والی ہو ‘ یہی وہ لوگ ہیں جن کی موالات واجب ہے اور انکی مصاہرت درست ہے۔ بِاِذْنِہٖ ۔ اپنے اذن سے یعنی اپنے علم سے یا اپنے حکم سے۔ وَیُبَیِّنُ ٰ ایٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ اور اپنی آیات کھول کر بیان کرتے ہیں۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
Ayah 2:222222۔ وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ہُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَآئَ فِی الْمَحِیْضِ وَلَا تَقْرَبُوْ ہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ فَاِذَا تَطَہَّرْنَ فَاْتُوْہُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ ۔ اور وہ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں ‘ آپ فرما دیجئے کہ وہ گندگی ہے۔ سو تم علیحدہ رہو عورتوں سے حیض کے زمانہ میں ‘ اور ان کے پاس نہ جائو یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں ‘ پھر وہ جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس آئو جس جگہ سے اللہ نے تم کو حکم دیا ہے۔ بیشک اللہ پسند فرماتا ہے خوب توبہ کرنے والوں کو اور پسند فرماتا ہے خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو۔
: اہل عرب حائضہ عورتوں کے ساتھ کھاتے پیتے نہ تھے۔ اور نہ ہی ان کے ساتھ رہائش رکھتے جیسا کہ یہود مجوس کرتے۔ حضرت ابو الدحداح ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ان کے متعلق سوال کیا۔ یارسول اللہ ! حیض کی حالت میں عورتوں سے کس طرح معاملہ کریں ؟ پس یہ آیت اتری۔
وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ (وہ آپ سے حیض کے متعلق پوچھتے ہیں) المحیض۔ یہ مصدر میمی ہے کہا جاتا ہے۔ حاضت حیضًا۔ اس کو حیض آیا حیض آنا۔ جیسے جاء مجیئًا۔
قُلْ ہُوَ اَذًی۔ (کہہ دیں وہ ناپاکی ہے) ۔ یعنی حیض گندگی ہے اور صحبت کرنے والے کو ایذاء دیتی ہے۔
اعتزالِ عورت کا دائرہ :
فَاعْتَزِلُوا النِّسَآئَ فِی الْمَحِیْضِ (تم عورتوں سے حیض میں الگ رہو) یعنی ان سے پرہیز کرو۔ یعنی مجامعت نہ کرو۔ یہ بھی کہا گیا کہ نصاریٰ ان سے مجامعت میں حیض کی پرواہ نہ کرتے۔ اور یہود ان سے بالکل علیحدگی اختیار کرتے پس اللہ تعالیٰ نے دونوں کے درمیان میں میانہ روی کا حکم دیا۔
مسئلہ : امام ابوحنیفہ اور ابو یوسف رحمہما اللہ کے نزدیک ازار کے نیچے والے حصہ سے پرہیز کرے۔ امام محمد (رح) کے نزدیک فقط شرمگاہ سے پرہیز واجب ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ خون کے نشان یعنی شرمگاہ سے بچے۔ اور اس کے لئے بقیہ جسم میں اختیار ہے۔
وَلَا تَقْرَبُوْ ہُنَّ ۔ (ان کے قریب نہ جائو) یعنی مجامعت مت کرو۔ یا ان کی مجامعت کے قریب نہ جائو۔
حَتّٰی یَطْہُرْنَ ۔ (یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں)
اختلافِ قراءت : حفص کے علاوہ کوفی قراء کے نزدیک تشدید کے ساتھ ہے۔ یعنی وہ غسل کرلیں اور یہ اصل میں یتطہّرن۔ تاء۔ طاء کو قرب مخرج کی وجہ سے ادغام کرلیا۔ دیگر قراء نے یَطْہُرْنَ ۔ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اسکا معنی خون کا منقطع ہونا ہے۔
نحو : دونوں قراءتیں دو آیات کی طرح ہیں ہم نے دونوں پر عمل کرتے ہوئے کہا۔ کہ دم حیض کے اکثر دن گزر جانے پر اگر خون منقطع ہوگیا۔ اور اگر عورت نے غسل نہیں بھی کیا۔ تو مرد اسکے قریب جاسکتا ہے قراءت تخفیف کا یہ تقاضا ہے اور اگر خون قلیل دنوں میں منقطع ہوگیا۔ تو جب تک عورت غسل نہ کرے اس کے قریب نہ جائے۔ یا اس پر ایک وقت نماز کا نہ گزر جائے۔ تاکہ انقطاع بالیقین ثابت ہوجائے۔ اس طرح قراءت تشدید پر عمل ہوگیا۔ اور اس پر محمول کرنا آیت کا یہ اس کے عکس پر محمول کرنے سے اولیٰ ہے۔ کیونکہ عکس کی صورت میں ایک پر عمل کا ترک لازم ہوگا۔ جمع نہ کیا جاسکے گا۔ امام شافعی (رح) کے ہاں مرد اس وقت تک قریب نہیں جاسکتا۔ جب تک خوب طہارت حاصل نہ کرے۔ اور ان کی دلیل یہ آیت : فَاِذَا تَطَہَّرْنَ فَاْتُوْہُنَّ ہے۔
امام شافعی (رح) کے ہاں صورت جمع :
آنے کا مطلب ان سے جماع کرنا ہے۔ پس اس طرح انہوں نے دونوں آیات کو جمع کیا۔
مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ ۔ (جہاں سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا) یعنی ان مقامات سے جہاں سے اس نے تمہیں آنے کا حکم دیا۔ اور اس کو حلال کیا اور وہ شرمگاہ ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ ۔ (بےشک اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں) توابین سے مراد ممنوعات کے ارتکاب سے رجوع کرنے والے یا اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والے خواہ وہ غلطی پر غلطی کرلیں۔ اللہ تعالیٰ کی محبت کی پہچان یہ ہے کہ اس کی عظیم معافی کے سبب مایوس نہ ہو۔
وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ ۔ (اور خوب پاکیزگی والوں کو پسند کرتے ہیں) یعنی پانی سے پاکیزگی اختیار کرنے والے یا عورتوں کے ساتھ دبر میں وطی سے بچنے والے ہیں۔ یا حیض میں جماع سے بچنے والے یا فواحش سے بچنے والے ہیں۔
مسئلہ : یہود کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی اپنے اہل کے ساتھ بیٹھ کر وطی کرے تو لڑکا بھینگا پیدا ہوگا تو یہ آیت اتری۔
Ayah 2:223مقصودِ جماع بقائے نسل ہے :
223۔ نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ ۔ (تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتی ہیں) یعنی کھیتی کے مقامات ہیں۔ اور یہ مجاز ہے عورتوں کو کھیتیوں سے تشبیہ دی۔ اس لئے کہ ان کے رحموں میں نطفے ڈالے جاتے ہیں جو نسل کے لئے بمنزلہ بیج ہے اور لڑکا بمنزلہ نبات کے ہے دراصل نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ یہ فَاْتُوْہُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ کا بیان اور توضیح بن گئی۔ یعنی وہ مقام جس کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا۔ وہ مقام کھیتی ہے مقام گندگی نہیں۔ اس سے در حقیقت متنبہ کردیا کہ مجامعت کا مقصد قضائے شہوت نہیں بقائے نسل ہے پس ایسے مقامات سے آئو جس سے یہ مقصد متعلق ہے۔
فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ ۔ (اپنی کھیتی میں آئو جیسے تم چاہو) یعنی ان سے جماع کرو جب چاہو۔ یا جس طرح چاہو۔ آئو بیٹھ کر۔ یا چت لیٹ کر یا پہلو کے بل لیٹ کر مگر آنے کا مقام ایک ہی ہے۔ وہ مقام حرث ہے۔
یہ در حقیقت تمثیل ہے یعنی تم ان کے پاس آئو جیسا تم اپنی اراضی جن میں تم کاشت کرنا چاہتے ہو جس طرف سے آتے ہو کوئی ایک طرف مخصوص نہیں۔
بلاغت :
ان آیات میں لطیف کنایات اور خوبصورت تعریضات ہیں۔
تعلیم آداب :
ہوا ذی فاعتزلوا النساء۔ من حیث امرکم اللّٰہ۔ فاتوا حرثکم انّٰی شئتم۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ان آداب کو اختیار کرے۔ اپنے محاورات اور مکاتبات میں بتکلف یہ انداز اختیار کرے۔
وَقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ ۔ (اپنے نفسوں کے لئے آگے بھیجو) یعنی جن اعمال صالحہ کا مقدم کرنا ضروری ہے اور ممنوعات کی مخالفت سے بچو یا اولاد طلب کرو یا اس سے مراد وطی ہے۔
وَاتَّقُوا اللّٰہَ ۔ (اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو) یعنی ممنوعات پر جرأت مت کرو۔
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّکُمْ مُّلٰقُوْہُ ۔ (اور یقین کرلو بیشک تم اس کو ملنے والے ہو) یعنی تم اس کی طرف جانے والے ہو پس اس کی ملاقات کی تیاری کرو۔
وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (اور ایمان والوں کو خوش خبری دے دو ) ثواب کے ساتھ اے محمد ﷺ ۔
عجیب نکتہ :
تین مرتبہ یَسْئَلُوْنَکَ بغیر وائو کے آیا۔ پھر تین مرتبہ وائو کے ساتھ لایا گیا۔ کیونکہ پہلے تین حوادث کے متعلق سوال گویا متفرق حالات میں پیش آیا اس لئے حرف عطف نہیں لایا گیا کیونکہ ہر سوال ابتدائی سوال تھا اور پچھلے حوادث کے متعلق سوال ایک ہی وقت میں پیش آئے اس لئے وائو جمع کا ان کے درمیان لایا گیا۔
Ayah 2:224224۔ وَلَا تَجْعَلُوا اللّٰہَ عُرْضَۃً لِّاَیْمَانِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَتَتَّقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ (اور نہ بنائو اللہ تعالیٰ کو روکنے والا اپنی قسموں کا کہ تم نیکی کرو گے۔ اور تقویٰ اختیار کرو گے اور اصلاح کرو گے لوگوں کے درمیان اور اللہ تعالیٰ سننے والے اور جاننے والے ہیں) ۔
عرضہ کی تفسیر :
العُرضہ۔ بروزن فُعلہ بمعنی مفعول ہے جیسا قبضہ بمعنی مقبوض۔ اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے لئے رکاوٹ بنے۔ یہ عرض العود علی الاناء سے لیا گیا ہے جو لکڑی اس برتن سے آڑ اور رکاوٹ بن جائے۔ جیسے تم کہتے ہو۔ عرضۃ دون الخیر۔ فلاں آدمی بھلائی کے راستہ میں رکاوٹ ہے بعض لوگ صلہ رحمی کے بعض کاموں پر قسم اٹھاتے یا اصلاح رشتہ داری کرنے کی قسم کھالیتے یا کسی پر احسان نہ کرنے کی یا عبادت نہ کرنے کی۔ پھر کہتے۔
اخاف اللّٰہ ان احنث فی یمینی۔ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں کہ میری قسم ٹوٹ جائے پس وہ نیکی کو اس لئے چھوڑتا ہے اپنی قسم میں نیکی کا ارادہ کر کے۔
قسم سے متعلق قسم کو چھوڑنا :
پس ان کو کہہ دیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنائو۔ یعنی اس چیز کے لئے رکاوٹ نہ بنائو اس چیز کو جس پر قسم اٹھائی ہے اور محلوف علیہ کو یمین کہا کیونکہ وہ قسم سے متعلق ہے جیسا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی کسی چیز پر قسم اٹھائے پھر اس کے غیر کو اس سے بہتر دیکھے تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔ (احمد ٗ نسائی) تو اس شیٔ کو یمین کہا گیا۔
اَنْ تَبَرُّوْا وَتَتَّقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ ۔ (کہ تم نیکی نہ کرو گے اور تقویٰ اختیار نہ کرو گے اور لوگوں کے مابین اصلاح نہ کرو گے) ۔
لام کی دو قسمیں :
جملہ لایمانکم کا عطف بیان ہے یعنی للا مور المحلوف علیہا التی ہی البر والتقوی والاصلاح بین الناس۔ یعنی وہ امور جن پر قسم اٹھائی گئی ہے وہ بر ٗ تقویٰ اور اصلاح بین الناس ہے اور لام فعل سے متعلق ہے۔ یعنی ولا تجعلوا اللّٰہ عرضۃ لایمانکم نہ بنائو اللہ کو اپنی قسموں کے لئے پردہ۔
دوسرا قول : لام تعلیل کے لئے بھی ہوسکتا ہے اور ان تبروا فعل سے متعلق ہو یا عرضۃ سے متعلق ہو یعنی ولا تجعلوا اللّٰہ لاجل ایمانکم بہ عرضۃ لان تبروا۔ اللہ تعالیٰ کی قسموں کو لوگوں کے ساتھ سلوک کرنے سے تم آڑ نہ بنائو کہ تم قسم کھالو کہ فلاں کے ساتھ سلوک نہ کرو گے۔
وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ۔ (اور اللہ سننے والے ہیں) تمہاری قسموں کو۔ عَلِیْمٌ۔ (اور جاننے والے ہیں) تمہاری نیّات کو
Ayah 2:225آیت 225:
لَایُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ ۔ (اللہ تعالیٰ تم سے مواخذہ نہ کرے گا تمہاری قسموں میں بےہودہ قسموں پر)
اللّغو۔ وہ بےہودہ اور نکمی چیز جس کا اعتبار نہ ہو خواہ کلام ہو یا اور کچھ۔
یمین لغو :
وہ بےہودہ قسم جس کا قسموں میں اعتبار نہ ہو اور وہ یہ ہے کہ کسی ایسی چیز پر قسم کھائے کہ جس کے متعلق گمان ہو کہ اس نے قسم نہیں اٹھائی اور معاملہ اس کے الٹ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لغویمین اٹھانے والے کو سزا نہ دیں گے۔
عند الشافعی (رح) ۔ جو زبان پر بلا قصد جاری ہوجائے مثلا لا واللّٰہ وبلٰی واللّٰہ
وَلٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ ۔ (لیکن وہ مؤاخذہ کریں گے) یعنی سزا دیں گے۔
یمین غموس اور مؤاخذئہ آخرت :
بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ ۔ (اس پر جو کمایا تمہارے دلوں نے) یعنی جو جان بوجھ کر قسم میں جھوٹ بولا ہے اور وہ اس طرح ہے کہ آدمی ایسی چیز کی قسم جان بوجھ کر کھائے جس کے متعلق جانتا ہو۔ کہ وہ اس کے برخلاف ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور یہی یمین غموس ہے۔ امام شافعی (رح) نے اس آیت سے یمین غموس پر کفارہ کو لازم کیا کیونکہ وہ دل کا کسب ہے۔ عزم ٗ اور قصد ہے اور مؤاخذہ یہاں واضح نہیں۔ بلکہ سورة المائدہ کی آیت میں واضح ہے۔ پس وہاں کا بیان یہاں کیلئے ہوگا۔
جواب : ہم کہتے ہیں اور وہ اگلے جہان کا معاملہ ہے اور مواخذہ اس جگہ دارابتلاء سے مقید ہے پس ایک کو دوسرے پر محمول کرنا درست نہیں۔
وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔ (اللہ تعالیٰ بخشنے والے بردبار ہیں) کہ تمہاری لغو قسموں پر مواخذہ نہیں کرتے۔
Ayah 2:226آیت 226:
لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِ ھِمْ ۔ وہ لوگ جو اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھالیتے ہیں۔ یؤلون کا معنی قسم اٹھانا ہے اور یہ ابن عباس ؓ کی قراءت ہے : مِنْ نِّسَآپہِمْ یہ جار مجرور سے متعلق ہے۔ یعنی للذین کے جیسا تم کہو۔
لک منی نصرۃ۔ ولک منی معونۃ۔ اب مطلب یہ ہوا للمؤلین من نساء ہم۔ اپنی عورتوں کے بارے میں قسم کھانے والوں کے لئے۔
ایلاء کی تحقیق :
تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْہُرٍ ۔ (چار ماہ انتظار کرنا ہے) یعنی قسم اٹھانے والے کے لئے ثابت ہوا چار ماہ کا انتظار گویا یہ استقر کے متعلق ہوا۔ یؤلون کے متعلق نہیں کیونکہ وہ آلیٰ ٗ علی سے متعدی ہوتا ہے جیسے کہتے ہیں آلٰی فلان علی امرأتہٖ ۔ صحیح محاورہ ہے اگر کسی نے آلٰی فلان من امرأتہ کہا۔ تو اس آیت کو دیکھ کر غلط وہم کیا ہے۔ البتہ اس طرح کہا جاسکتا ہے۔ یہاں من سے آلٰی کو متعدی اس لئے کیا گیا کیونکہ اس قسم میں بعد اور دوری کا معنی پایا جاتا ہے گویا تقدیر عبارت اس طرح ہے یبعدون من نساء ہم مؤلین وہ دوری اختیار کرتے ہیں اپنی عورتوں سے اس حال میں کہ وہ قسم اٹھانے والے ہیں۔
فَاِنْ فَآئُ وْ ۔ پس اگر وہ رجوع کریں ان مہینوں میں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قراءت میں فان فاء و فیہن ہے وہ اس معنی کی تاکید کرتی ہے یعنی وطی کی طرف لوٹ آئیں۔ اور ترک پر اصرار چھوڑ دیں۔
فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (پس اللہ تعالیٰ بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں) اسی لئے کفارہ مشروع کیا۔
Ayah 2:227آیت 227:
وَاِنْ عَزَمُوا الطَّـلَاقَ ۔ (اگر انہوں نے طلاق کا ارادہ کرلیا) رجوع کو ترک کر کے پس وہ مدت کے اختتام کا انتظار کریں۔
فَاِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ۔ (پس اللہ سننے والا ہے) اس کی قسم والی بات کو۔
قولِ شافعی m :
عَلِیْمٌ۔ (اور جاننے والا ہے) اس کی نیت کو۔ دراصل یہ جملہ اصرار علی القسم ترک رجوع پر وعید ہے امام شافعی (رح) کے ہاں
اس کا معنی یہ ہے پس اگر وہ رجوع کرلیں مدت کے گزرنے کے بعد گویا رجوع مدت کے گزرنے کے بعد ہے کیونکہ فاء تعقیب مع الوصل کے لئے ہے۔
شاندار جواب :
جواب : مگر اس کا جواب یہ ہے فان فاء و وان عزموا درحقیقت للذین یؤلون من نساء ہم کی تفصیل ہے۔ اور تفصیل مفصل کے بعد آتی ہے۔ جیسا کہ تم کہو۔
انا نزیلکم ہذا الشہر فان احمدتکم اقمت عندکم الی آخرہ واِلَّالَمْ اَقُمْ الاریثما أتحول۔ میں اس مہینہ تمہارا مہمان ہوں پس اگر میں تمہاری تعریف کروں تو ہمیشہ تک کے لئے تم میں قیام کروں گا۔ ورنہ قیام نہ کروں گا اور تھوڑی دیر میں کوچ کر جائوں گا۔