Ayah 2:244244 : اس بات کی دلیل ہے کہ یہ واقعہ جہاد پر آمادہ کرنے کے لئے لایا گیا۔ یہ بعد والا واقعہ لائے اور اس میں قتال کا حکم دیا۔ اور وہ یہ ارشاد ہے۔
آمادگی بر جہاد :
وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اور تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتال کرو) اس میں جہاد پر آمادہ کیا گیا۔ یہ بتلانے کے بعد کہ موت سے فرار فائدہ مند نہیں۔
یہ خطاب امت محمد ﷺ کو فرمایا۔ یا
دوسرا قول : ان کو خطاب ہے جن کو زندہ کیا گیا۔
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ (اور جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر بات سننے والے ہیں) جو باتیں پیچھے رہنے والے اور سبقت کرنے والے کرتے ہیں۔
عَلِیْمٌ (جاننے والے ہیں) ان چیزوں کو جو انسان کو نقصان دینے والی ہیں۔
Ayah 2:245245۔ مَنْ ذَا الَّذِیْ (کون ہے ایسا) جو قرض دے۔ : مَنْ استفہام کے لئے ہے۔ اور مبتداء کی وجہ سے موضع رفع میں ہے۔ اور ذَا اس کی خبر ہے۔ الذی یہ ذا کی صفت ہے۔ یا بدل ہے۔
یُقْرِضُ اللّٰہَ (وہ اللہ تعالیٰ کو قرضہ دے) یہ جملہ الذی کا صلہ ہے۔
قرض کہنے کی حکمت :
نکتہ : اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو خرچ کیا جاتا ہے اس کو قرض فرمایا۔ کیونکہ قرض اس کو کہا جاتا ہے جو اپنے مال میں سے دوسرے کو اس لئے دیا جاتا ہے تاکہ وہ اس کے برابر اس کو واپس پھیر دے۔ اور قرض کا لغوی معنی قطع کرنا ہے اور اس کو قرض کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کو وہ اپنے مال سے قطع کرتا ہے اور مقروض کو دیتا ہے اور مقراض قینچی اور قرض الفار۔ انقراض تمام میں کاٹنے کا مفہوم ہے اس کو قرض کہہ کر متنبہ کردیا کہ اللہ تعالیٰ اس مال کو اپنے پاس نہ رکھے گا۔ بیشک وہ ان کو بہر صورت اس پر بدلہ عنایت فرمائے گا۔
قَرْضًا حَسَنًا (قرض حسنہ) یعنی پاکیزہ مال میں سے جو بطیب خاطر دیا جائے اس سے مراد جہاد میں خرچ کرنا ہے اسلئے کہ جب قتال کا حکم دیا گیا اللہ تعالیٰ کی راہ میں تو اس میں مال کی ضرورت ہوگی۔ اسلئے صدقہ پر آمادہ کیا تاکہ اسباب جہاد مہیا کیے جائیں۔
فَیُضٰعِفَہٗ لَـہٗ (تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس کو کئی گنا کر دے)
قراءت : نمبر 1۔ ابن عامر اور عاصم نے استفہام کا جواب بنا کر انْ مقدرہ کی وجہ سے منصوب پڑھا ہے۔ باقی قراء ابو عمرو۔ نافع ٗ حمزہ اور علی رحمہم اللہ نے یقرض پر عطف کر کے اس کو مرفوع پڑھا ہے۔ یا جملہ مستانفہ ہے۔ ای فہو یُضَاعِفُہٗ ۔
نمبر 2۔ شامی نے فَیُضَعِّفَہٗ پڑھا۔ جبکہ مکی نے فَیُضَعِّفُہٗ پڑھا۔ بقیہ قراء نے مفاعلہ کے صیغہ سے ہی پڑھا۔
اَضْعَافًا (بڑھانا) یہ مصدر کی جگہ ہے۔
کَثِیْرَۃً (بہت زیادہ) کہ جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں یہ بھی کہا گیا کہ ایک کا بدلہ سات سو۔
وَاللّٰہُ یَقْبِضُ وَیَبْسُطُ (اور اللہ تعالیٰ تنگدست کرتا ہے اور کھولتا ہے) یعنی اپنے بندوں پر رزق کو تنگ کرتا ہے اور وسیع کرتا ہے پس تم بوقت وسعت بخل نہ کرو۔ وہ وسعت کے بدلے تنگی نہ دے گا۔
قراءت : یبصط۔ حجازی ٗ عاصم اور علی رحمہم اللہ نے پڑھا۔
وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (اسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے) پس وہ تمہیں اس پر جو تم نے آگے بھیجا بدلہ عنایت فرمائے گا۔
Ayah 2:246آیت 246 :
اَ لَمْ تَرَ اِلَی الْمَلَاِ (کیا تم نے اس جماعت کو نہیں دیکھا) یعنی شرفاء۔ ان کو ملاء اس لئے کہا جاتا ہے کہ دلوں کو راہنمائی سے بھر دیتے ہیں اور آنکھوں کو رعب سے۔
مِنْ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ (بنی اسرائیل میں سے) یہاں مِنْ تبعیضیہ ہے۔
واقعہ بنی اسرائیل :
مَنْ بَعْدِ مُوْسٰی۔ (موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد) یعنی ان کی وفات کے بعد یہاں مِنْابتدائے غایت کیلئے ہے۔
اِذْ قَالُوْا (جب انہوں نے کہا)
لِنَبِیٍّ لَّہُمُ (اپنے پیغمبر کو) اور وہ شمعون یا یوشع یا شموئیل ( علیہ السلام) تھے۔
ابْعَثْ لَنَا مَلِکًا (تو ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کر) یعنی تو ہمارے ساتھ قتال کے لئے اٹھا بطور امیر کے ایک شخص تاکہ اس کی رائے سے ہم لڑائی کی تدبیریں کریں۔ اور اس کے حکم پر اتریں۔
نُّقَاتِلْ (ہم قتال کریں) یہ جواب ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے اور نون کے ساتھ ہے۔
فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی راہ میں) یہ نقاتل کا صلہ ہے۔
قَالَ (ان کو نبی ( علیہ السلام) نے کہا) ۔
ہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ (کیا قریب ہے کہ اگر تم پر قتال فرض کردیا جائے)
قراءت : عَسَیْتُمْ ۔ کو عَسِیْتُمْ جہاں بھی آئے نافع نے پڑھا ہے۔
عَسٰی کی خبر اور اسم میں فاصل شرط ان کتب علیکم القتال ہے۔ اور عَسٰی کی خبر اَلاَّ تُقَاتِلُوْا ہے اب مطلب یہ ہوا کیا تم قریب ہو اس بات کے کہ نہ قتال کرو تم۔ یعنی کیا بات اس طرح ہے جیسے میں توقع کرتا ہوں۔ کہ تم نہ قتال کرو گے۔ بلکہ بزدلی کرو گے۔ ہل استفہامیہ داخل ہے تاکہ ان سے وہ پوچھا جائے جس کی ان کو ان سے توقع تھی۔ اور مقصد استفہام سے تقریر ہے اور ثابت کرنا ہے کہ جس کی توقع ہے وہ ہونے والا ہے اور وہ اپنی توقع میں درست ہے۔
قَالُوْا وَمَا لَنَآ اَلاَّ نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (انہوں نے کہا ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں نہ لڑیں گے) یعنی ترک قتال کی طرف کونسی چیز ہمیں دعوت دینے والی ہے اور ترک قتال میں ہمارا کیا مقصد پورا ہوتا ہے۔
قصہ خروج بنی اسرائیل :
وَقَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآپنَا (حالانکہ ہمیں اپنے گھروں اور بیٹوں سے نکالا گیا)
وقد میں وائو حالیہ ہے اور اس کا قصہ یہ ہے کہ قوم جالوت مصر و فلسطین کے درمیان رہتے تھے۔ انہوں نے ان کے 440 شہزادے قید کرلیے تھے۔ ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا۔ کہ جب معاملہ اس حد تک پہنچ چکا ہے تو جہاد ضروری ہے۔
فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمُ الْقِتَالِ (جب ان پر قتال فرض کردیا گیا) یعنی جس چیز کی تم نے التماس کی ہے۔ آئو اس کو قبول کرو۔
تَوَلَّوْا (انہوں نے منہ موڑا) یعنی اس سے اعراض کیا۔
اِلاَّ قَلِیْلاً مِّنْہُمْ (مگر تھوڑے ان میں سے) ان کی تعداد 313 تھی جتنی کہ اہل بدر کی تھی۔
وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِالظّٰلِمِیْنَ (اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو جانتے ہیں) اس میں انہوں نے ترک جہاد کی جو زیادتی کی تھی۔ اس پر یہ وعید ہے۔
Ayah 2:247247 : وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اللّٰہَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوْتَ ان کے پیغمبر ( علیہ السلام) نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے طالوت کو مقرر فرمایا ہے۔ نحو : طالوت یہ جالوت کی طرح عجمی نام ہے اور اسی طرح دائود بھی یہ غیر منصرف ہیں علمیت کی وجہ سے اور عجمہ ہونے کی بناء پر مَلِکًا۔ (ایک بادشاہ) یہ حال ہے۔
قَالُوْٓا اَنّٰی یَکُوْنُ لَہُ الْمُلْکُ عَلَیْنَا (انہوں نے کہا کیسے ہوگی اس کو سربراہی ہم پر) یعنی کیسے ؟ اور کہاں سے ؟ اس میں طالوت کی سپہ سالاری کا انکار اور اس پر اظہار بعد ہے کہ یہ بہت دور کی بات ہے۔
وَنَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْکِ مِنْہُ (ہم اس سے زیادہ سربراہی کے حقدار ہیں) وائو حالیہ ہے۔
دُنیا پرستوں کا مزاج :
وَلَمْ یُؤْتَ سَعَۃً مِّنَ الْمَالِ (اس کو مالی وسعت میسر نہیں) یعنی وہ ہم پر سربراہ کیسے بنے گا جبکہ حالت یہ ہے کہ وہ سربراہی کے لائق ہی نہیں۔ کیونکہ اس سے زیادہ مستحق موجود ہیں۔ اور شان یہ ہے کہ وہ فقیر ہے اور بادشاہ کے لئے مال ہونا چاہیے جس سے وہ مضبوطی حاصل کرسکے۔ بنی اسرائیل نے یہ بات کہی کیونکہ نبوت تو لاوٰی بن یعقوب ( علیہ السلام) کی اولاد میں تھی۔ اور بادشاہت یہود ابن یعقوب ( علیہ السلام) کے خاندان میں اور طالوت یہ بنیامین کی اولاد سے تھا اور یہ پانی پلانے والا آدمی تھا۔ یا رنگنے والا محتاج آدمی تھا۔
روایات میں ہے کہ ان کے پیغمبر ( علیہ السلام) نے اس وقت دعا کی جب انہوں نے اس سے سپہ سالاری کا مطالبہ کیا۔ پس ان کو ایک لاٹھی دی گئی۔ جس سے قد کی پیمائش کی گئی۔ ان لوگوں کی جو بادشاہ بننے والے تھے۔ اس کے مطابق کوئی بھی پورا نہ اترا سوائے طالوت کے۔
حکم پر اعتراض کی گنجائش نہیں :
قَالَ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰہُ عَلَیْکُمْ (اس نے کہا بیشک اللہ تعالیٰ نے اس کو تم پر چن لیا ہے) اصطفٰی میں طاء یہ تاءؔ کا بدل ہے صاد ساکنہ کی جگہ۔ معنی اس کا پسند کرنا اور چننا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو چنا ہے وہ مصالح کو تم سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ اور اس کے حکموں پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
پھر دو مصلحتوں کا تذکرہ بھی فرما دیا جو ان مصالح سے زیادہ نفع بخش تھیں جو انہوں نے ذکر کی تھیں۔ یعنی نسب اور مال اور وہ مصلحتیں علم مبسوط اور جسامت۔
پیغمبر ( علیہ السلام) نے کہا۔ وَزَادَہٗ بَسْطَۃً فِی الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ (اللہ تعالیٰ نے بڑھا دیا اس کو علم وجسم کی وسعت میں) بسطۃً یہ مفعول دوم ہے۔
بڑا ماہر :
کہتے ہیں کہ وہ اپنے وقت میں بنی اسرائیل کی لڑائی کے فنون اور علوم دیانات میں سب سے بڑھ کر تھا۔ اور ہر انسان سے اپنے سر اور کندھے کے لحاظ سے لمبا چوڑا تھا۔
البسطہ وسعت درازی کو کہتے ہیں۔ اور بادشاہ کے لیے علم والا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ جاہل ذلیل و حقیر ہے اور اس سے مخلوق کو فائدہ نہ ہوگا۔ اور وہ جسامت والا ہو کیونکہ اس سے دلوں میں اس کی شان اور رعب بیٹھتا ہے۔
وَاللّٰہُ یُؤْتِیْ مُلْکَہٗ مَنْ یَّشَآئُ (اللہ تعالیٰ اپنا ملک جن کو چاہتے ہیں عنایت فرماتے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں اس کا کوئی منازع نہیں۔ وہ جس کو چاہتا عنایت کردیتا ہے اس کا وراثت سے تعلق نہیں۔
وَاللّٰہُ وَاسِعٌ۔ (اللہ تعالیٰ وسعت والے ہیں) یعنی وسیع فضل و عطا والے ہیں اس پر وسعت فرما دیتے ہیں جن کے پاس وسعت مالی نہیں ہوتی۔ اس کو فقر کے بعد غنی کردیتے ہیں۔
عَلِیْمٌ (وہ جاننے والے ہیں) کہ جس کو بادشاہی کے لیے چننا ہے۔
پھر بھی انہوں نے اپنے پیغمبر ( علیہ السلام) سے طالوت کے چنائو اور نشانی کا مطالبہ کردیا۔
Ayah 2:248آیت 248 :
وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ ٰایَۃَ مُلْکِہٖٓ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ (ان کو ان کے پیغمبر ( علیہ السلام) نے کہا بیشک اس کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ تابوت تمہارے پاس آجائے گا) یعنی وہ صندوق جس میں تورات تھی جب موسیٰ ( علیہ السلام) قتال کرتے اس کو آگے رکھتے بنی اسرائیل کے نفوس کو اس سے سکون حاصل رہتا۔ اور وہ فرار اختیار نہ کرتے۔
صندوق سکینہ :
فِیْہِ سَکِیْنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ (اس میں سکینہ ہے تمہارے رب کی طرف سے) سکون و اطمینان ہے
وَبَقِیَّۃٌ۔ (بقیہ چیزیں) یعنی الواح کے ٹکڑے۔ عصائے موسیٰ ٗ ثیاب موسیٰ ٗ کچھ تورات۔ موسیٰ ( علیہ السلام) کے نعل اور عمامہ ہارون ( علیہ السلام) ۔
مِّمَّا تَرَکَ ٰالُ مُوْسٰی وَ ٰالُ ہٰرُوْنَ (جن کو چھوڑا آل موسیٰ اور آل ہارون نے) یعنی جن کو چھوڑا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) نے۔ آل کا لفظ ان دونوں ہستیوں کی عظمت شان کو ظاہر کرنے کے لئے ہے۔
فرشتے تابوت لائے :
تَحْمِلُہُ الْمَلٰٓپکَۃُ (اس کو فرشتے اٹھانے والے ہونگے) یعنی تابوت کو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد اٹھا لیا تھا۔ پس فرشتے اس کو لے کر اٹھائے ہوئے اترے۔ جبکہ بنی اسرائیل دیکھ رہے تھے۔
نحو : یہ جملہ موضع حال میں واقع ہے اور اسی طرح فیہ سکینۃ بھی اور من ربکم یہ سکینہ کی صفت ہے اور مما ترک یہ بقیۃ کی صفت ہے۔
اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (اس میں نشانی ہے تمہارے لئے اگر تم مومن ہو) یعنی تابوت کے تمہاری طرف لوٹ آنے میں اس بات کی علامت و نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی طالوت کو تم پر بادشاہی دی ہے۔ اگر تم اس کی تصدیق کرنے والے ہو۔
Ayah 2:249249 : فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ (جب طالوت لشکر لے کر جدا ہوئے) فصلکا معنی خرج یعنی نکلنا ہے۔ یعنی جب نکلے اپنے اس شہر سے دشمن کے خلاف جہاد کے لئے۔
تعدادِ لشکر :
بالجنود کا لفظ موضع حال میں ہے یعنی لشکروں کو ساتھ لینے والے تھے۔ جن کی تعداد اسی ہزار تھی۔ یہ وقت گرمی کا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کردیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے پانی کی نہر جاری کر دے۔
قَالَ اِنَّ اللّٰہَ مُبْتَلِیْکُمْ (انہوں نے کہا بیشک اللہ تمہارا امتحان کرنے والے ہیں) یعنی تمہارے ساتھ ایسا معاملہ کرنے والے ہیں جیسا امتحان لینے والا کرتا ہے۔
دریائے فلسطین :
بِنَہَرٍ (ایک دریا کے ساتھ) یہ دریائے فلسطین ہے۔ یہ ابتلاء اسی لئے تھا تاکہ سچے مجاہد اور نکمّے پہچان لیے جائیں۔
فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ (پس جس نے اس میں سے پیا) یعنی منہ لگا کر
فَلَیْسَ مِنِّیْ (پس وہ مجھ سے نہیں) یعنی وہ میرا سچا پیروکار نہیں اور میرا حمایتی نہیں۔
وَمَنْ لَّمْ یَطْعَمْہُ (جس نے نہ چکھا) یہ طعم الشیٔ سے ہے جب کہ اس کو چکھا جائے۔
فَاِنَّہٗ مِنِّیْ (پس وہ مجھ سے ہے)
قراءت : ابوعمرو اور مدنی نے مِنِّیَ یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے
اِلاَّ مَنِ اغْتَرَفَ (یہ استثناء ہے۔ فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَیْسَ مِنِّیْ سے۔ اور دوسرا جملہ استثناء سے جملہ متاخرہ کے حکم میں ہے۔ صرف عنایت کی وجہ سے اس کو مقدم کیا گیا ہے۔
غُرْفَۃًم بِیَدِہٖ (ایک چلو ہاتھ سے)
قراءت : حجازی اور ابوعمرو نے غَرْفَۃً غین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کا معنی مصدر والا ہے۔ اور غُرْفَۃٌ غین کے ضمہ کے ساتھ بمعنی مغروف بمعنی چُلّو۔
مطلب یہ ہے کہ ہاتھ کے ایک چلّو کی رخصت ہے۔ منہ لگا کر پینے کی اجازت نہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے۔
فَشَرِبُوْا مِنْہُ (پس انہوں نے اس سے پیا) یعنی منہ لگا کر پیا۔
اِلاَّ قَلِیْلاً مِّنْہُمْ (مگر تھوڑے ان میں سے) اور ان کی تعداد تین سو تیرہ تھی۔
فَلَمَّا جَاوَزَہٗ (پس جب وہ اس کو عبور کر گئے) یعنی نہر کو۔
ہُوَ (وہ) اس سے مراد طالوت ہیں۔
وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مَعَہٗ (اور وہ لوگ جو ان کے قول پر یقین کرنے والے تھے) یعنی قلیل تعداد میں۔
قَالُوْا لَا طَاقَۃَ لَنَا الْیَوْمَ (وہ کہنے لگے ہمیں آج طاقت نہیں) یعنی کوئی قوت نہیں۔
جابر جالوت :
بِجَالُوْتَ (جالوت کے ساتھ) یہ عمالقہ کا ایک جابر بادشاہ ہے جو عملیق بن عاد کی اولاد میں سے تھا۔ اس کے خود میں تین سو، رِطل لوہا تھا۔
وَجُنُوْدِہٖ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوا اللّٰہِ ۔ (اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کیا۔ کہا ان لوگوں نے جو یقین رکھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ملنے والے ہیں) یعنی شہادت پر یقین کرنے والے ہیں۔
بعض نے کہا۔ قالوا کی ضمیر ان میں بہت سے لوگوں کی طرف لوٹتی ہے۔ جو پیچھے رہ گئے تھے۔
اور والذین یظنون میں ضمیر ان قلیل کی طرف ہے۔ جو ثابت قدم رہنے والے تھے۔
روایات میں یہ بھی ہے کہ ایک چُلّو آدمی کے پینے اور برتن کے لئے کافی ہوجاتا۔ جنہوں نے پانی پیا۔ ان کے ہونٹ سیاہ ہوگئے۔ اور پیاس ان پر غالب آگئی۔
کَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ (بہت سی تھوڑی جماعتیں ہیں)
نحو : یہ کَمْ خبر یہ ہے اور ابتداء کی وجہ سے محل رفع میں ہے۔
غَلَبَتْ (غالب آگئیں) یہ کَمْ کی خبر ہے۔
فِئَۃً کَثِیْرَۃًم (بڑی جماعتوں پر)
بِاِذْنِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے حکم سے) یعنی اس کی مدد سے
وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ (اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں) اپنی مدد کے ذریعہ۔
Ayah 2:250آیت 250:
وَلَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ (جب وہ جالوت اور اس کے لشکر کے سامنے آئے) یعنی ان سے لڑائی کرنے نکلے۔
قَالُوْا رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَیْنَاصَبْرًا (کہنے لگے اے ہمارے رب تو انڈیل ہم پر صبر) افراغ کا معنی انڈیلنا ہے صبر سے مراد لڑائی میں ثابت قدمی ہے۔
وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا (اور ہمارے قدموں کو مضبوط کر) ہمارے دلوں کو مضبوط کر کے اور ہمارے دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈال کر۔
وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ (اور تو کافر قوم کے خلاف ہماری مدد فرما) یعنی ہماری اعانت فرما۔
Ayah 2:251آیت 251 :
فَہَزَمُوْہُمْ (پس انہوں نے ان کو شکست دی) یعنی طالوت اور مؤمنین نے جالوت اور اس کے لشکروں کو۔
فیصلہ قضاء و قدر :
بِاِذْنِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے اذن سے) یعنی اس کے فیصلہ قضا و قدر سے
تذکرہ دائود۔ :
وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ (اور دائود نے جالوت کو قتل کیا) دائود ( علیہ السلام) کے والد ایشٰی بھی طالوت کے لشکر میں اپنے چھ بیٹوں سمیت شامل تھے۔ دائود ان میں ساتویں تھے۔ اور وہ اپنے تمام بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ اور بکریاں چراتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ( علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ دائود ہی جالوت کو قتل کرے گا۔
انہوں نے ان کے والد سے دائود کو طلب کیا وہ آگئے۔ راستے میں چلتے ہوئے تین پتھروں نے دائود کو کہا۔ ہمیں اٹھا لو۔ اور اس سے کہا تم ہمارے ساتھ جالوت کو قتل کرو گے۔
دائود نے ان پتھروں کو اپنے تھیلے میں ڈال لیا اور وہ پتھر جالوت کی طرف پھینکے پس اس کو قتل کردیا۔ طالوت نے اپنی بیٹی کا نکاح دائود ( علیہ السلام) سے کردیا۔ پھر ان کو حسد پیدا ہوا اور اس کو قتل کرنا چاہا (مگر قدرت نہ پاسکا) پھر تائب ہو کر موت آئی۔
ملک سے مراد :
وَاٰتٰہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ (اللہ تعالیٰ نے ان کو بادشاہی دے دی) ارض مقدس کے مشرق و مغربی علاقوں میں دائود سے پہلے بنی اسرائیل کسی بادشاہ پر مجتمع نہ ہوئے تھے۔
وَالْحِکْمَۃَ (اور حکمت) یعنی نبوت۔
وَعَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآئُ (اور اس کو جو چاہا علم دیا) یعنی صنعت زرع اور کلام طیور وغیرہ۔
وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ (اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو دور نہ کرتے)
نحو : الناس یہ مفعول بہ ہے۔
بَعْضَہُمْ یہ الناس کا بدل ہے یعنی بعض لوگوں کو۔
قراءت : دفعُ کو مدنی (رح) نے دِفَاعُ پڑھا ہے۔ یہ دفاع دفع کا مصدر ہے۔ یا اس کا معنی دافع دفاع کرنے والا ہے۔
فساد کا مطلب :
بِبَعْضٍ لَّفَسَدتِ الْاَرْضُ (بعض لوگوں کے ساتھ تو بگڑ جاتی زمین) یعنی اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض سے دفع نہ کرے اور ان کے ذریعے ان کا فساد نہ روکے تو مفسد غالب آجائیں اور زمین بگڑ جائے اور اس کے منافع کھیتی و نسل باطل ہوجائیں۔
دوسرا قول : اگر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی کافروں کے خلاف مدد نہ کرتا۔ تو غلبہ کفار سے زمین بگڑ جاتی اور نیک قتل کردیئے جاتے۔ اور شہر برباد ہوجاتے اور بندے دکھوں میں مبتلا ہوجاتے۔
وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ (لیکن اللہ تعالیٰ جہان والوں پر فضل فرمانے والے ہیں) یعنی ان سے فساد کا ازالہ کر کے۔
یہ آیت معتزلہ کے خلاف اہلسنّت کی دلیل ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ اصلح کو اختیار فرماتے ہیں۔
Ayah 2:252آیات کا مفہوم :
252 : تِلْکَ ٰایٰتُ اللّٰہِ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات ہیں۔
نحو : تلک مبتداء اور آیات اللہ خبر ہے۔
مطلب یہ ہوا یہ ہزاروں کے واقعات جو بیان کیے گئے اور ان کی موت کا تذکرہ ہوا اور پھر زندگی بخشنے کا اور طالوت کی بادشاہت۔ جابروں پر ایک بچہ کے ذریعہ ان کا غلبہ وغیرہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔
نَتْلُوْہَا (ہم ان کو پڑھ کر سنا رہے ہیں)
نحو : یہ ٰایٰتُ اللّٰہِ سے حال ہے اور اس کا عامل تلک کا معنی ہے۔ یا ٰایٰتُ اللّٰہِ یہ تلک سے بدل ہے اور نتلوھا اس کی خبر ہے۔
عَلَیْکَ بِالْحَقِّ (آپ پر حق کے ساتھ) یعنی اس یقین کے ساتھ کہ جس میں اہل کتاب کو شک کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ یہ واقعات ان کی کتابوں میں بھی اسی طرح ہیں۔
دلیل رسالت :
وَاِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ (اور بیشک آپ البتہ رسولوں میں سے ہیں) اس لئے کہ آپ ان کو کسی کتاب کی قراءت کے بغیر اطلاع دے رہے ہیں۔ یا آپ ان کو کسی اہل کتاب سے سننے کے بغیر اطلاع دے رہے ہیں جو رسالت کی کھلی نشانی ہے۔
Ayah 2:253آیت 253 :
تِلْکَ الرُّسُلُ (یہ رسل) تِلْکَ کا اشارہ رسولوں کی جماعت کی طرف ہے۔
جن کے واقعات اس سورت میں مذکور ہوچکے۔ آدم ( علیہ السلام) سے دائود ( علیہ السلام) تک۔
یا دوسرا قول : جن رسل کی جماعت کا علم رسول اللہ ﷺ کو ان آیات کے نزول سے قبل ہوچکا۔
طاعات میں تفاوت :
فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ (ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی) یعنی رسالت کے علاوہ خصوصیات کے ساتھ فضیلت دی۔ کیونکہ رسالت و نبوت میں تو تمام برابر ہیں۔ جیسا کہ مومن صفت ایمان میں تمام برابر ہیں اور ایمان کے بعد طاعات میں متفاوت ہیں۔ پھر اس ارشاد مِنْہُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہُ (ان میں سے بعض وہ تھے جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا) مِنْہُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہُسے امت کی وضاحت کی۔ یعنی ان سے کلام کیا اللہ تعالیٰ نے۔ ضمیر عائد کو صلہ سے حذف کردیا۔ یعنی منہم من فضلہ اللّٰـہ بان کلمہ من غیر سفیر۔ ان میں جن کو اللہ تعالیٰ نے فضیلت اس طرح دی۔ کہ بغیر سفیر کے ان کو شرف کلام بخشا اور وہ موسیٰ ( علیہ السلام) ہیں۔
بلند درجات سے مراد :
وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجٰتٍ (اور بعض کے درجات بلند کئے)
نحو : بعضھم پہلا مفعول اور دَرَجٰتٍ دوسرا مفعول ہے۔ یعنی بدرجات یا الی درجات۔
مطلب یہ ہوا کہ بعض ان میں سے وہ ہیں جن کو تمام انبیاء ( علیہ السلام) پر رفعت عنایت فرمائی پس فضیلت میں تفاوت کے بعد وہ ان میں درجات کثیرہ کے ذریعہ افضل ہوگئے اور وہ حضرت محمد ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ کیونکہ آپ ہی ان میں تمام کائنات کی طرف بھیجے جانے کی وجہ سے افضل ہوگئے اور اس لیے بھی کہ آپ کو وہ نشانات و معجزات دیئے گئے جو کثرت تعداد میں ایک ہزار یا اس سے بھی بڑھنے والے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید ہے۔ کیونکہ یہ زمانہ کے چہرہ پر باقی رہنے والا معجزہ ہے۔ اس ابہام میں تفخیم اور وضاحت ہے کیونکہ وہ ایک ایسی علامت ہے۔ جو کسی پر مخفی نہیں اور ایسا امتیاز ہے جس میں کسی کو التباس نہیں۔
دوسرا قول : اس سے مراد حضرت محمد و ابراہیم (علیہما السلام) وغیر ہما انبیائے اولو العزم مراد ہیں۔
وَ ٰاتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ (اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو واضح نشانات دیئے) جیسے مردوں کو زندہ کرنا مادرزاد نابینا اور برص کی بیماری والے کو تندرست کردیا کرتے تھے۔ وغیر ذلک۔
وَاَیَّدْنٰـہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ (اور ہم نے جبرائیل ( علیہ السلام) کے ذریعے ان کی مدد کی) یعنی ہم نے ان کو قوت دی۔ یا انجیل کے ساتھ مدد دی۔
وَلَوْشَآئَ اللّٰہُ مَا اقْتَتَلَ (اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو وہ لوگ نہ لڑتے) یعنی باہمی اختلاف نہ کرتے۔ جس کی وجہ سے نوبت قتال آئی۔
الَّذِیْنَ مِنْم بَعْدِہِمْ (وہ لوگ جو ان کے بعد ہوئے) یعنی ان رسل ( علیہ السلام) کے بعد
مِنْم بَعْدِ مَاجَآئَ تْہُمُ الْبَیِّنٰتُ (اس کے بعد کہ ان کے پاس کھلے دلائل آگئے) یعنی ظاہر معجزات
وَلٰکِنِ اخْتَلَفُوْا (لیکن انہوں نے اختلاف کیا) یعنی میری مشیت کے ساتھ۔ پھر اختلاف کی وضاحت اس طرح فرمائی۔
فَمِنْہُمْ مَّنْ ٰامَنَ وَمِنْہُمْ مَّنْ کَفَرَ (پس کچھ تو ایمان لے آئے اور کچھ وہ لوگ ہوئے جنہوں نے کفر کیا) یعنی میری مشیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے اپنے رسولوں کے معاملات کو اس طرح جاری کیا۔ یعنی کسی پیغمبر کی تمام امت اس کی زندگی میں اس پر متفق نہیں ہوئی۔ اور نہ ہی ان کی زندگی کے بعد بلکہ انہوں نے ان کے متعلق۔ فمنہم من ٰامن ومنھم من کفر۔ پس ان میں سے کچھ تو ایمان لائے اور ان میں سے بعض نے کفر کیا۔ یعنی اختلاف کا رویہ اختیار کیا۔
کفر کا مطلب :
وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ مَا اقْتَتَلُوْا (اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو وہ قتال نہ کرتے) اس جملہ کو تاکید کے لئے دوبارہ لایا گیا۔ یعنی اگر میری مشیت میں ہوتا کہ وہ آپس میں قتال نہ کریں تو وہ آپس میں قتال نہ کرتے۔ اس لئے کہ میری مملکت میں میری مشیت چلتی ہے۔
تردید ِمعتزلہ :
اس آیت سے معتزلہ کی تردید ہوتی ہے۔ کیونکہ اس آیت میں یہ بتلایا گیا کہ اگر اللہ چاہتے کہ وہ قتال باہمی نہ کریں۔ تو وہ نہ کرتے۔ حالانکہ معتزلہ کہتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے کہ وہ آپس میں نہ لڑیں تو بھی وہ لڑ پڑتے۔
ثبوتِ ارادہ :
وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ (اور لیکن اللہ تعالیٰ وہی کرتے ہیں جو کچھ چاہتے ہیں) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لئے ارادہ کو ثابت کیا۔ جیسا کہ مذہب اہلسنّت ہے۔
Ayah 2:254آیت 254:
یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰکُمْ (اے ایمان والو ! تم خرچ کرو اس میں سے جو ہم نے تمہیں دیا) یعنی جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرو۔
یا دوسرا قول : (اس سے مراد ہر صدقہ واجبہ زکوٰۃ وغیرہ ہے)
عدم تدارک کا دن :
مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لاَّبَیْعٌ فِیْہِ (اس سے پہلے کہ ایسا دن آئے کہ جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی) یعنی اس سے پہلے کہ ایسا دن آئے کہ جس میں تم اس انفاق کا تدارک نہ کرسکو گے جو رہ جائے کیونکہ اس دن میں نہ خریدو فروخت ہوگی کہ اس میں تم خریدلو جو تم نے خرچ کرنا ہو۔
وَّلاَ خُلَّۃٌ(اور نہ دوستی ہوگی) کہ دو دوست دوستی کا لحاظ کر کے چشم پوشی کرسکیں۔
وَّلَا شَفَاعَۃٌ (اور نہ سفارش) یعنی کافروں کے لئے سفارش نہ ہوگی۔ باقی مسلمانوں کے لئے ہوگی۔ یا شفاعت ہوگی مگر اس کی اجازت سے۔
دو قول :
وَالْکٰفِرُوْنَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ (اور کافر وہی ظالم ہیں) یعنی کافر اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی حاجت کے دن کی طرف بڑھنا چھوڑ دیا۔
یا دوسرا قول : یہ ہے کہ اس دن کا انکار کرنے والے وہی ظالم ہیں۔
قراءت : لَا بَیْعٌ فِیْہِ وَلَاخُلَّۃٌ وَّلَاشَفَاعَۃٌ۔ مکی اور بصری قراء نے اسی طرح پڑھا۔
Ayah 2:255آیت 255 :
اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ (اللہ تعالیٰ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مگر وہی)
نحو : لفظ اللہ مبتداء اور جملہ اسمیہ لا الہ الا ہو اس کی خبر ہے۔ لا نفی جنس الٰہ اس کا اسم اِلّا ادات حصر ھُوَبدل از محل لَا۔
اَلْحَیُّ (زندہ) یعنی ایسی باقی رہنے والی ذات جس پر فنا کا کوئی راستہ نہ ہو۔
اَلْقَیُّوْمُ (مخلوق کو تھامنے والا) یعنی ایسی ہمیشگی والی ذات جو مخلوق کی تدبیر کرنے والی ہو۔ اور اس کی نگہبانی کرنے والی ہو۔
نیند و اونگھ کا فرق :
لَا تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ (اس کو اونگھ اور نیند نہیں آتی) سنۃ اونگھ اعصاب دماغی کی وہ سستی جو نیند سے پہلے آئے۔ النوم نیند دماغ کے اعصاب میں استرخائی کیفیت کو کہتے ہیں۔
مفضل۔ : کہتے ہیں۔ کہ السنۃ سرکا بوجھل ہونا۔ النعاس آنکھ کا بوجھ النوم دل کے بوجھ کو کہتے ہیں۔
نحو : لا تاخذہ سنۃ ولا نوم یہ القیوم کی تاکید ہے کیونکہ جس کو نیند و اونگھ آجائے وہ قیوم نہیں بن سکتا۔
سب کو تھامنے والا :
حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف وحی کی گئی۔ ان کو کہہ دو کہ میں آسمان و زمین کو اپنی قدرت سے تھامنے والا ہوں۔ اگر مجھے اونگھ یا نیند آجائے تو یہ دونوں فنا ہوجائیں (ابویعلی)
لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اسی کا ہے) یعنی ملک و ملک کے لحاظ سے یعنی بادشاہ بھی وہی اور مالک بھی وہی۔
کبریائی باری تعالیٰ عزوجل :
مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلاَّ بِاِذْنِہٖ (اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے کون سفارش کرسکتا ہے ؟ ) یعنی کسی کی ہمت و جرأت نہیں۔ کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں شفاعت کرے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور عظمت کا بیان ہے اور کوئی شخص قیامت کے دن کلام کرنے کا اختیار نہ رکھتا ہوگا۔ مگر جب وہ خود اس کو کلام کی اجازت دے۔ اس میں کفار کے اس زعم کی تردید ہے۔ کہ بت ان کے لئے شفاعت کریں گے۔
یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ (وہی ان کے سامنے اور پیچھے کی چیزوں کو جانتا ہے) یعنی جو ان سے پہلے تھا۔ اور جو آئندہ ہوگا۔
نحو : ھم ضمیر عقلاء کا لحاظ کر کے لائی گئی۔
وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ(اور اہل علم اللہ تعالیٰ کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے) یعنی اس کی معلومات میں سے۔ دعا کا یہ کلمہ اللہم اغفر علمک فینا۔ میں علم بمعنی معلوم ہے۔
اِلاَّ بِمَا شَآئَ (مگر وہ جو چاہے) یعنی مگر جو وہ سکھائے۔
کرسی کے متعلق اقوال :
وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (اسکی کرسی آسمان اور زمین کو اپنے اندر سمانے والی ہے) یعنی اس کا علم اور اسی سے الکراسۃ کاپی کو کہتے ہیں۔ کیونکہ اس میں علم ہوتا ہے۔ اسی الکراسی کا معنی میں علماء اور علم کو کرسی کہا جاتا ہے۔ اسکے مرتبہ و عظمت کا لحاظ کر کے جو جہاں کی کرسی ہے اور یہ اسی طرح ہے جیسا کہ سورة غافر کی آیت ربنا وسعت کل شیٔ رحمۃ وعلما۔
دوسرا قول : ملک کو کرسی کہا۔ اس کے اس مرتبہ کا لحاظ کر کے جو کہ بادشاہت کی کرسی ہے۔
تیسرا قول : اس کا عرش۔ حسن (رح) کا یہی قول ہے۔
چوتھا قول : عرش کے علاوہ تخت ہے حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان کرسی کے مقابلہ میں ایک چھلے کی مانند ہیں۔ جو وسیع بیابان میں پڑا ہو۔ اور عرش کی فضیلت کرسی پر ایسی ہے جیسا کہ وسیع بیابان کو اس چھلے پر۔ ( ابن مردویہ)
پانچواں قول : اس کی قدرت ‘ اس کی دلیل یہ ارشاد ہے ولا یؤدہٗ حفظہما۔
وَلَا یَئُوْدُہٗ (اس کو تھکاتی نہیں) یعنی اس کو بوجھل نہیں کرتی اور نہ اس پر گراں کرتی ہے۔
حِفْظُہُمَا (ان دونوں کی حفاظت) یعنی زمین و آسمان کی حفاظت۔
بلند اور عزت و جلال والا :
وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ (وہ بلند وبالا عظمت والا ہے) یعنی اپنی ملک و سلطنت میں بلند اور عزت و جلال میں بڑائی والا ہے۔
دوسرا قول : العلی۔ ان صفات سے اعلیٰ جو اس کے لائق نہیں۔ العظیم۔ ایسی صفات سے موصوف جو اس کے لائق ہیں۔ یہ دونوں صفات کمال توحید کو جامع ہیں۔
نکتہ : آیت الکرسی میں جملوں کو بغیر حرف عطف کے لایا گیا۔ کیونکہ وہ جملے بطور بیان آئے ہیں۔
پس پہلا جملہ اس بات کو بیان کر رہا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ تدبیر خلق کرنے والے ہیں اور وہ مخلوق کے نگہبان ہیں۔ اس میں غفلت برتنے والے نہیں۔
دوسرے : میں فرمایا۔ یہ تمام اس لئے کرتے ہیں کہ وہ مخلوق کے خود مالک ہیں۔
تیسرے : اس لئے کہ اس کی شان کبریائی والی ہے۔
اور چوتھے : اس لئے کہ وہ خلق کے حالات کا احاطہ کرنے والے ہیں۔
پانچویں : اس لئے کہ اس کا علم وسیع ہے اور اس کا علم تمام معلومات سے متعلق ہے۔ یا اس کے جلال اور عظیم قدرت کی وجہ سے۔
فضیلت آیت الکرسی :
یہ آیت فضیلت والی ہے یہاں تک کہ اس کی فضیلت میں بہت سی روایات ہیں۔
ایک روایت ان میں سے وہ ہے جس کو حضرت علی ؓ نے بیان کیا۔ کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔ جس نے آیت الکرسی پڑھی۔ ہر فرض نماز کے بعد۔ اسکو دخول جنت سے صرف موت ہی رکاوٹ ہے اور اس پر ہمیشگی صدیق یا عابد ہی کرتا ہے۔ جس نے اسکو بستر پر لیٹتے ہوئے پڑھا۔ اللہ تعالیٰ اسکے نفس اور اسکے پڑوس اور پڑوس کے پڑوس اور اس کے اردگرد گھروں کو امان میں رکھتے ہیں۔ (بیہقی)
دوسری روایت : نبی ( علیہ السلام) نے فرمایا۔ سیدالبشر آدم ( یعنی سب سے پہلے انسان آدم) اور عرب کے سردار محمد (ﷺ) ہیں اور یہ بات میں فخر سے نہیں کہتا۔
(اس روایت میں نکارت ہے کیونکہ صحیح مرفوع روایت انا سید ولد آدم ولا فخر کے الفاظ مروی ہیں) فارسیوں کے سردار سلمان ؓ اور رومیوں کے سردار صہیب ؓ اور حبشیوں کے سردار بلال ؓ اور پہاڑوں کا سردار طور اور دنوں کا سردار جمعہ اور کلاموں کا سردار قرآن۔ قرآن کی سردار سورة بقرہ اور بقرہ کی آیات کی سردار آیت الکرسی۔ (دیلمی فی مسند الفردوس)
نمبر 3۔ فرمایا۔ جس گھر میں آیت الکرسی پڑھی جائے۔ اس کو شیاطین تیس دنوں تک چھوڑ جاتے ہیں۔ اور اس گھر میں جادوگر اور جادوگرنی چالیس راتوں تک داخل نہیں ہوسکتی۔ (بقول ابن حجر اس کی اصل نہیں ملی)
نمبر 4۔ فرمایا جس نے سوتے وقت آیت الکرسی پڑھی۔ اس پر ایک فرشتہ مقرر کردیا جاتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ صبح طلوع ہو۔ (در منثور)
نمبر 5۔ اور فرمایا۔ جس نے یہ دو آیات شام کے وقت پڑھیں تو صبح تک اس کی حفاظت کی جاتی ہے اور اگر صبح بھی پڑھ لیں۔ تو شام تک اس کی حفاظت کی جاتی ہے۔
نمبر 1۔ آیت الکرسی نمبر 2۔ حٰمٓ مومن کی آیات الیہ المصیر تک۔ (ترمذی)
وجہ فضیلت :
کیونکہ یہ دونوں آیات اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی تعظیم اور بزرگی اور عظیم صفات پر مشتمل ہیں۔ اور رب العزت کے تذکرہ سے اور کونسا تذکرہ بڑھ کر ہوسکتا ہے جو اس کا ذکر ہوگا وہ تمام ذکروں سے افضل ہے اس سے بخوبی یہ معلوم ہوگیا کہ تمام علوم میں سب سے اعلیٰ علم توحید ہے۔
نکتہ : سب سے زیادہ عظمت والی آیت، آیت الکرسی۔ سب سے زیادہ خوف والی آیت۔ من یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ۔ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ۔ اور سب سے زیادہ امید والی آیت قل یا عبادی الذین اسرفوا۔ کذاعن ابن مسعود ؓ
Ayah 2:256آیت 256 :
لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ (دین میں جبر نہیں) یعنی دین حق پر کسی کو جبراً نہیں لایا جاسکتا۔ دین حق سے مراد دین اسلام ہے۔
ایک قول : یہ ہے اگرچہ یہ جملہ خبریہ ہے مگر معنی نہی کا ہے۔ یعنی دین پر لانے کے لئے جبر نہ کرو۔
ایک روایت :
روایت میں ہے کہ ایک انصاری کے دو بیٹے نصرانی ہوگئے ان کے والد نے ان کو پکڑا اور کہا میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔
یہاں تک کہ تم مسلمان ہو۔ انہوں نے انکار کردیا۔ وہ اپنا جھگڑا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے۔ انصاری نے کہا۔ یارسول اللہ ﷺ کیا میرے دیکھتے ہوئے میرا بعض حصہ آگ میں چلا جائے ؟ پس یہ آیت اتری۔ اس انصاری نے ان کا رستہ چھوڑ دیا۔
حضرت ابن مسعود ؓ اور ایک جماعت نے کہا۔ کہ یہ ابتدائے اسلام میں تھا۔ پھر آیات قتال سے یہ منسوخ ہوگیا۔
(مگر نسخ تو تب ہو جب ان میں تعارض ہو اور یہاں تو تعارض بھی نہیں)
قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ (تحقیق واضح ہوگئی رشد گمراہی سے) یعنی ایمان کفر سے دلائل واضحہ کے ذریعہ نکھر چکا ہے۔
فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ (پس جو شخص طاغوت کے ساتھ کفر کرے) طاغوت سے مراد شیطان ہے۔ یا اصنام
وَیُؤْمِنْم بِاللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی (اور وہ ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر پس واقعی اس نے مضبوط تھام لیا مضبوط رسّی کو) استمساک کا معنی تھامنا ہے۔ العروۃ جس کو تھاما جائے جس سے چمٹا جائے۔ الوثقٰی۔ یہ اوثق کی مؤنث ہے یعنی انتہائی مضبوط رسی۔ پختہ ٗ محفوظ۔
شاہد محسوس سے مثال :
لَاانْفِصَامَ لَہَا (اس کے لئے ٹوٹنا نہیں) یعنی اس رسّی کے لئے ٹوٹنا نہیں۔
یہ معلوم و معروف چیز کی نظر و استدلال سے تمثیل بیان کی گئی ہے اور شاہد محسوس سے مثال بتلائی گئی ہے تاکہ سامع اس کو تصور کرے۔ کہ گویا وہ اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ پس اس کا اعتقاد پختہ ہوجائے مطلب یہ ہے۔ اس نے اپنے نفس کو دین سے مضبوط باندھ دیا ہے جس کو کوئی اشتباہ کھول نہیں سکتا۔
وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ (اور اللہ تعالیٰ سننے والے ہیں) یعنی اس کے اقرار کو۔ عَلِیْمٌ (جاننے والے ہیں) اس کے اعتقاد کو۔
Ayah 2:257آیت 257 :
اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا دوست ہے) ٰامنوا سے مراد جو ایمان لانے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ ولی کا معنی ناصر اور ان کے امور کا ذمہ دار۔
نورِ واحد اور ظلمات جمع لانے کی حکمت :
یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ (ان کو نکالتا ہے اندھیروں سے) یعنی کفر و ضلالت کے اندھیروں سے۔ کفریات و ضلالات بہت اقسام کی ہیں اس لئے جمع کا لفظ لایا گیا۔
اِلَی النُّوْرِ (روشنی کی طرف) یعنی ایمان و ہدایت کی طرف۔ نور کا لفظ واحد لایا گیا کیونکہ ایمان ایک ہی ہے۔
وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا (اور کافر)
اَوْلِیٰٓئُہُمُ الطَّاغُوْتُ (ان کے دوست شیطان ہیں)
نحو : والذین کفروا مبتداء ہے اور اولیاء ہم الطاغوت خبر ہے۔
شبہات کی دلدل :
یُخْرِجُوْنَہُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ (وہ ان کو نور سے نکالتے ہیں ظلمات کی طرف) یہاں ظلمات کو جمع لایا گیا۔ کیونکہ طاغوت معناً جمع ہے۔
مطلب یہ ہے وہ لوگ جو کفر پر پختہ ہوگئے ان کا معاملہ اس کے خلاف ہے۔
یا دوسرا قول : اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ولی ہیں وہ ان کو شبہات دینیہ سے نکالتے ہیں اگر کبھی راہ ہدایت میں ان کو شبہ واقع ہوجائے تو ان کو اس شبہ کے ازالہ کی توفیق دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ شبہ سے نکل کر نور یقین میں پہنچ جاتے ہیں اور کافروں کے دوست شیاطین ہیں۔ وہ ان کو واضح دلائل کی روشنی سے جو ان کے سامنے ظاہر باہر ہیں نکال کر شکوک و شبہات کی گمراہیوں میں مبتلا کردیتے ہیں۔
اُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ (وہ آگ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے)
استفہام تعجب :
پھر تعجبی انداز میں اپنے پیغمبر ﷺ کو نمرود اور ابراہیم (علیہ السلام) کا مجادلہ سنایا اور تسلی دی۔ نمرود ربوبیت کا دعویدار تھا۔
Ayah 2:258آیت 258 :
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰھٖمَ فِیْ رَبِّہٖ (کیا تمہیں اس شخص کا واقعہ معلوم نہیں جس نے ابراہیم ( علیہ السلام) سے ان کے رب کے متعلق جھگڑا کیا) یعنی اپنے اس جھگڑے میں جو ربِ ابراہیم کی ربوبیت کے سلسلہ میں اس نے کیا۔
نحو : ربہ۔ کی ضمیرہٖ ابراہیم ( علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ یا اس کی طرف جس نے جھگڑا کیا۔ اسلئے کہ وہ دونوں کا رب ہے۔
اَنْ اٰتٰہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ (کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حکومت عطاء کی تھی) اصل اس طرح ہوا لان ٰاتاہ اللّٰہ۔ یعنی حکومت کے مل جانے نے اسے غرور وتکبر میں مبتلا کردیا۔ پس وہ اسی وجہ سے جھگڑنے لگا۔
ردِ معتزلہ :
یہ آیت بھی معتزلہ کے خلاف اصلح کے مسئلہ میں دلیل ہے۔ وہ کہتے ہیں کافر کو اللہ حکومت نہیں دیتے۔ یہاں دینے کا ذکر کیا گیا ہے۔
(معتزلہ کا قول یہ ہے کہ اصلح اللہ تعالیٰ پر واجب ہے جبکہ اہلسنّت کہتے ہیں اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز واجب نہیں جو کچھ دیتا ہے یہ اس کا فضل و احسان ہے)
دوسرا قول : وہ اس وقت جھگڑا کرنے لگا۔ جس وقت اللہ تعالیٰ نے اس کو ملک عنایت کیا۔
اِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ (جب ابراہیم ( علیہ السلام) نے کہا میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا اور موت دیتا ہے)
تحقیق نحو و قراءت :
نحو : اذ قال یہ حَآجَّ کی وجہ سے منصوب ہے یا ان ٰاتاہ اللّٰہ سے بدل ہے جبکہ جعل بمعنی وقت ہو۔
قراءت : حمزہ نے رَبِّیَکو رَبِّیْ پڑھا ہے سکون یاء کے ساتھ۔
گویا بادشاہ نے سوال کیا۔ من ربُّکَ ۔
ابراہیم ( علیہ السلام) نے جواب دیا میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے۔
قَالَ (اس نے کہا) یعنی نمرود نے۔
اَنَا اُحْیٖ وَاُمِیْتُ (میں زندہ کرتا اور موت دیتا ہوں) اس کی مراد یہ تھی کہ میں قتل کو معاف کرتا اور قتل بھی کردیتا ہوں۔ یہ بات کہہ کر لعین جھگڑے سے رک گیا۔
تلبیس کی قاطع دلیل :
پس ابراہیم ( علیہ السلام) نے وہ بات پیش کی۔ جس میں کمزور دماغ والوں پر تلبیس کا احتمال نہ تھا جبکہ فرمایا۔
قَالَ اِبْرٰہٖمُ فَاِنَّ اللّٰہَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِہَا مِنَ الْمَغْرِبِ (ابراہیم ( علیہ السلام) نے کہا۔ پس اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق سے چڑھاتے ہیں تو اس کو مغرب سے لے آ۔ )
ازالہ وہم :
یہ ایک دلیل سے دوسری دلیل کی طرف انتقال نہیں۔ جیسا کہ بعض لوگوں کو وہم ہوا۔ کیونکہ پہلی دلیل ہی لازم ہونے والی تھی۔ لیکن جب اس نے عناد سے زندہ کرنے کی دلیل کو ایک کے چھوڑنے اور دوسرے کے قتل کردینے سے ٹال دیا۔ تو آپ نے ایسے انداز سے کلام فرمایا جس سے عناد نہ کیا جاسکے۔ وہ تمام ستارہ پرست لوگ تھے۔ اور کواکب کی حرکت مغرب سے مشرق کی طرف ان کو معلوم تھی اور سورج کی مشرقی حرکت جو ہمیں محسوس ہوتی ہے یہ زبردستی وجبری حرکت ہے جیسا کہ پن چکی۔ جس پر چیونٹی بیٹھی ہو اور وہ دوسری طرف کو حرکت کرنے والی ہو جبکہ پانی چکی کو دوسری طرف حرکت دے رہا ہے اور چیونٹی اس کو دوسری طرف سمجھ رہی ہے پس ابراہیم ( علیہ السلام) نے فرمایا۔ بیشک میرا رب سورج کو زبردستی اس کی اپنی حرکت کے الٹ حرکت دے رہا ہے اگر تو رب ہے تو اس کی اصلی حرکت پر چلا۔ جو کہ آسان تر ہے۔
فَبُہِتَ الَّذِیْ کَفَرَ (پس کافر متحیر و دہشت زدہ ہوگیا)
وَاللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو زبردستی سیدھے راستے کی ہدایت نہیں دیتا)
بعض : نے کہا کہ نمرود نے یہ نہیں کہا۔ کہ تیرا رب سورج کو مغرب سے لا کر دکھائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس بات کی طرف نہ آنے دیا۔ بلکہ اس سے پھیر دیا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے متعلق ربوبیت کا دعویدار تھا اور اپنے علاوہ دوسرے کی ربوبیت کا قائل نہ تھا اور اس کے اس قول کا مطلب انا احیی وامیت کہ میں ہی تو وہ ہوں جس کی طرف احیاء و اماتت کی نسبت کی جاتی ہے میرے سواء اور کوئی نہیں۔
مسئلہ : اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ علم کلام میں بات کرنا اور مناظرہ کرنا مباح ہے اسلئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ الم ترا لی الذی حاج ابراہیم فی ربہ۔ کیا تمہیں معلوم نہیں وہ شخص جس نے ابراہیم ( علیہ السلام) سے جھگڑا کیا۔ ان کے رب کے متعلق۔
حآجّ باب مفاعلہ سے ہے اور وہ دو کے مابین ہوتا ہے۔ جیسے مقاتلہ۔ پس اس سے خود یہ نکل آیا کہ ابراہیم ( علیہ السلام) نے بھی اس سے مناظرہ کیا۔ اگر یہ جائز نہ ہوتا۔ تو ابراہیم ( علیہ السلام) اس کو بذات خود نہ کرتے۔ کیونکہ انبیاء ( علیہ السلام) ارتکاب حرام سے معصوم ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں کفار کو ایمان باللہ اور توحید باری تعالیٰ کی طرف بلانے کا حکم دیا گیا۔ جب ہم ان کو دعوت دیں گے تو لازماً وہ ہم سے اس پر دلیل طلب کرینگے۔ اور یہ مناظرہ کے بعد ہوگی۔ (انظر شرح التاویلات)
Ayah 2:259آیت 259:
اَوْ کَالَّذِیْ مَرَّ (یا اس کی طرح جس کا گزر ہوا) مطلب یہ ہے۔
یا ارأیت مثل الذی۔ کیا تمہیں معلوم ہے اس کا حال جس کا گزر ہوا پس اس کو حذف کردیا کیونکہ الم تر اس پر دلالت کے لئے کافی تھا۔ کیونکہ یہ دونوں تعجب کے کلمات ہیں۔
دوسرا قول :
یہ معنی پر محمول ہے لفظ پر نہیں۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ ارأیت کا لذی حاج ابراہیم او کالذی مر۔
علامہ زمخشری : نے متوفی 389 ھ کشاف میں کہا۔ کہ اس میں کاف زائدہ ہے اور الذی کا عطف الی الذی حاج پر ہے۔
قولِ حسن :
حضرت حسن (رح) سے مروی ہے کہ یہ گزرنے والا کافر تھا۔ اور بعث کا منکر تھا اس لئے اس کو نمرود کے ساتھ ایک ہی لڑی میں پر وکر ذکر کیا۔
دوسری دلیل : یہ ہے کہ انی یحی کلمہ استبعاد کا استعمال کیا گیا۔ جو بعث بعد الموت کو بعید جاننے کی طرف مشیر ہے۔
جمہور مفسرین (رح) کی رائے :
مگر اکثر مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ یہ حضرت عزیر ( علیہ السلام) تھے۔ انہوں نے احیائے موتیٰ کا معائنہ کرنے کا ارادہ فرمایا۔ تاکہ بصیرت تامہ حاصل ہوجائے جیسا کہ ابراہیم ( علیہ السلام) نے طلب کیا اور انّٰی یحیٖ تو زندہ کرنے کا طریقہ اور زندہ کرنے والے کی عظیم قدرت کی معرفت سے عاجزی کا اعتراف ہے۔
بیت المقدس کا اجڑنا :
عَلٰی قَرْیَۃٍ (بستی پر) یہ بیت المقدس شہر تھا۔ جبکہ اس کو بخت نصر نے برباد کردیا تھا۔ یا وہی بستی ہے جس سے وہ ہزاروں لوگ نکلے تھے۔
وَّہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِہَا (وہ گرنے والی تھی اپنی چھتوں پر) یعنی چھتوں سمیت گر چکی تھی۔
یا دوسرا قول : چھتیں گریں پھر ان پر دیواریں بھی گرپڑیں۔ عرش ہر بلند چیز کو عرش کہتے ہیں۔
قَالَ اَنّٰی یُحْیٖ ہٰذِہِ اللّٰہُ بَعْدَ مَوْتِہَا فَاَمَاتَہُ اللّٰہُ مِائَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗ (اس نے کہا کیسے زندہ کرے گا۔ اس کو اللہ تعالیٰ اس کے ویران ہونے کے بعد پس اس کو موت دی اللہ تعالیٰ نے پھر اس کو اٹھا کھڑا کیا) اَنّٰی یہ کیف کے معنی میں ہے۔ ہٰذہٖ سے مراد اہل ہذہ اس کے رہنے والے ‘ بعث سے مراد زندہ کرنا ہے۔
قَالَ (اس نے کہا) یعنی اس کو فرشتے نے کہا۔
کَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ (تو کتنا عرصہ ٹھہرا اس نے کہا میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرا) یعنی اپنے گمان کی بناء پر۔
جوازِ اجتہاد :
مسئلہ : اس میں دلیل ہے کہ اجتہاد جائز ہے۔
روایت میں ہے کہ ان کو موت چاشت کے وقت آئی اور سو سال بعد ان کو سورج کے غروب ہونے سے پہلے اٹھایا۔ پس انہوں نے سورج کی طرف نگاہ ڈالنے سے پہلے کہا۔ یومًا ایک دن۔ پھر وہ متوجہ ہوئے۔ تو انہوں نے ابھی سورج کو باقی پایا۔ تو کہنے لگے۔ اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ ۔ یا دن کا کچھ حصہ۔
قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَۃَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰی طَعَامِکَ وَشَرَابِکَ (اس نے کہا بلکہ تو سو سال ٹھہرا ہے پس تو دیکھ اپنے کھانے کو اور اپنے مشروب کو)
مشروب کی جنس :
روایت میں ہے کہ ان کا کھاناانجیر اور انگور تھے اور مشروب جوس اور دودھ تھا۔ پس انہوں نے انگور اور انجیر کو اس طرح پایا گویا ابھی تازے چنے گئے ہیں اور مشروب بھی اپنی اصلی حالت میں ہے۔
لَمْ یَتَسَنَّہْ (وہ باسی نہیں ہوا) یعنی اس کا ذائقہ نہیں بدلا۔ اس کی ہاء اصلی ہے یا ہائے سکتہ ہے ؟
اور السنۃ سے اس کے اشتقاق کے دو طریق ہیں۔
دو طریق اشتقاق :
نمبر 1۔ کیونکہ اس کا لام کلمہ ہاء ہے۔ تو اصل سَنْہَۃٌ اور فعل سانَہْتُ فلانًا یعنی میں نے اس سے ایک سال معاملہ کیا۔
نمبر 2 : اصل سنوۃٌ تھا اور فعل سانیت بنا۔ اس کا معنی ہے اس کو سالوں نے تبدیل نہیں کیا۔ اور لم یتسن میں ہاء کو وصل میں حذف کردیا۔ اور وقف میں ہاء قائم رکھی۔ حمزہ وعلی رحمہما اللہ کے ہاں۔
گدھے کی سواری کا جواز :
وَانْظُرْ اِلٰی حِمَارِکَ (اور تم اپنے گدھے کو دیکھو) یعنی کس طرح اس کی ہڈیاں تک بکھر چکی اور کھوکھلی ہوچکی ہیں)
ان کی سواری گدھا تھا۔ جس کو باندھا ہی تھا۔ کہ موت آگئی۔ اس کی ہڈیاں باقی رہ گئیں۔
دوسرا قول : تو دیکھ اس کو کہ وہ صحیح سالم ہے جیسا تم نے باندھا۔ اور یہ عظیم نشانات قدرت میں سے ہے کہ اس کو سو سال بغیر چارے اور پانی کے زندہ رکھا۔ جیسا اس کے کھانے اور مشروب کی تبدیلی سے حفاظت فرمائی۔
نشانی کا مطلب :
وَلِنَجْعَلَکَ ٰایَۃً لِّلنَّاسِ (اور تاکہ تجھے لوگوں کے لئے نشانی بنادیں) یعنی نمبر 1۔ ہم نے یہ کہا ہے مراد اس سے ان کا موت کے بعد زندہ کرنا تھا اور ان تمام چیزوں کی حفاظت کرنا جو ان کے ساتھ تھیں۔ نمبر 2۔ یہ بھی کہا گیا۔ کہ وائو محذوف پر عطف ہے ای لتعتبر ولنجعلک۔ تاکہ تو عبرت حاصل کرلے اور تاکہ ہم تجھے بنائیں لوگوں کے لئے نشانی۔
نمبر 3۔ یہ بھی کہا گیا کہ وہ اپنی قوم کے پاس گدھے پر سوار تشریف لائے اور کہا کہ میں عزیر ( علیہ السلام) ہوں۔ انہوں نے جھٹلایا۔ انہوں نے تورات کو لانے کا حکم دیا۔ پس اس کو زبانی پڑھنے لگے۔
حضرت عزیر ( علیہ السلام) سے پہلے کسی نے تورات کو زبانی نہ پڑھا تھا۔ پس یہی ان کا نشانی ہونا ہے۔
نمبر 4۔ یہ بھی کہا گیا کہ وہ گھر لوٹ کر گئے تو اپنی اولاد کو دیکھا۔ تو وہ بوڑھے ہوچکے اور یہ نوجوان تھے۔
ہڈیاں کس کی ؟
وَانْظُرْ اِلَی الْعِظَامِ (اور تم ہڈیوں کو دیکھو) نمبر 1۔ یعنی گدھے کی ہڈیاں۔ یا
دوسرا قول : ان مردوں کی ہڈیاں جن کے زندہ ہونے پر تعجب کیا تھا۔
کَیْفَ نُنْشِزُہَا (کس طرح ہم ان کو زمین سے اٹھا کر جوڑتے ہیں) یعنی ان کو حرکت دیتے اور بعض کو بعض کے ساتھ جوڑنے کے لئے اٹھاتے اور بلند کرتے ہیں۔
قراءت : اہل حجاز و بصری قراء نے نَنْشُرُہَا راء کے ساتھ پڑھا یعنی زندہ کرتے ہیں۔
ثُمَّ نَکْسُوْہَا لَحْمًا (پھر ہم ان پر گوشت چڑھاتے ہیں) ہَاء سے مراد ہڈیاں۔ لحما۔ گوشت۔ تو گوشت بمنزلہ لباس قرار دیا مجازی طور پر۔
فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ (پس جب ان کے سامنے واضح ہوگیا) اس کا فاعل مضمر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے فلما تبین لہ ان اللّٰہ علی کل شیٔ قدیر۔ کہ جب ان کو اللہ تعالیٰ کا ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہونا خوب واضح ہوگیا۔
دلالت کی وجہ سے حذف :
قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (اس نے کہا میں نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت والے ہیں) پہلے ان اللّٰہ علٰی کل شیٔ قدیر۔ کو حذف کردیا۔ کیونکہ دوسرا اس پر دلالت کر رہا تھا۔ جیسا محاورئہ عرب ہے ضربنی وضربت زیداً ۔ یعنی مجھے زید نے مارا اور میں نے زید کو مارا۔ تو اول زید کو حذف کردیا۔
دوسرا قول : یہ درست ہے کہ فلما تبین لہ سے مراد جو ان پر مشکل ہوا۔ یعنی احیائے موتیٰ کا معاملہ۔ قراءت : حمزہ (رح) و علی (رح) نے کہا : اَعْلَمُ ‘ اِعْلَمْ صیغہ امر ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کہا اِعْلَمْ تو جان یا انہوں نے خود اپنے نفس کو خطاب کر کے کہا اے نفس تو سمجھ لے۔