Ayahs 2:37–39فَتَلَقّٰی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ : (آدم ( علیہ السلام) نے سیکھ لیے اپنے رب سے چند کلمے) ان کلمات کو قبول کیا حرز جان بنایا۔ اور ان پر عمل کیا۔
نحو : اٰدم منصوب کلمات مرفوع عندالم کی، یعنی ان کلمات نے آدم ( علیہ السلام) کا استقبال کیا۔ یعنی اس تک پہنچ گئے۔ اور اس سے مل گئے اور وہ کلمات سورة الاعراف آیت نمبر 23 میں مذکور ہیں۔ رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ اس میں ان کی اولاد کو نصیحت کردی کہ انہوں نے گناہوں سے ہٹنے کا راستہ معلوم کرلیا۔
محبوب کلام :
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے تھے۔ کہ اللہ تعالیٰ کو محبوب کلام وہ ہے جو ہمارے باپ آدم ( علیہ السلام) نے کہا۔ جب غلطی کا ارتکاب کیا۔
سبحنک اللّٰھم وبحمدک وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وتعالٰی جدک ولا الہ الا انت ظلمت نفسی فاغفرلی انہ لا یغفرالذنوب الا انت۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) نے کہا یا رب الم تخلقنی بیدک قال بلٰی ! قال یا ربّ الم تنفخ فی روحی من روحک۔ الم تسبق رحمتک غضبک ؟ الم تسکنی جنتک وھو تعالیٰ یقول بلٰی بلٰی، قال فلم اخر جتنی من الجنۃ قال بشؤم معصیتک۔ قال فلو تبت۔ أراجعنی انت الیھا ؟ قال نعم
اے میرے رب کیا ؟ آپ نے مجھے اپنے ہاتھ سے نہیں بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیوں نہیں۔
پھر عرض کیا اے میرے رب کیا آپ نے مجھ میں اپنی طرف سے روح نہیں پھونکی۔ کیا آپ کی رحمت غضب سے سبقت کرنے والی نہیں ؟ کیا تو نے مجھے اپنی جنت میں نہیں ٹھہرایا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کیوں نہیں ؟ کیوں نہیں ؟ پھر عرض کیا اے میرے اللہ تو نے مجھے جنت سے کیوں نکالا۔ تو فرمایا تیری معصیت کی نحوست سے۔ عرض کیا اگر میں توبہ کرلوں تو مجھے اس کی طرف واپس کر دے گا ؟ فرمایا ہاں۔
فَتَابَ عَلَیْہِ : (تو اللہ تعالیٰ نے توجہ فرمائی) پس اللہ تعالیٰ نے رحمت و قبولیت سے ان کی طرف رجوع فرمایا۔ آدم ( علیہ السلام) کی توبہ کا فقط ذکر کیا۔
کیونکہ حواء تو ان کے تابع تھیں۔ عمومًا قرآن وسنت میں عورتوں کا تذکرہ مردوں کے تذکرہ کے ضمن میں سمو دیا گیا ہے۔
اِنَّہٗ ھُوَالتَّوَّابُ : (وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے)
الرَّحِیْمُ : (نہایت مہربان ہے) اپنے بندوں پر
قُلْنَا اھْبِطُوْامِنْھَا جَمِیْعًا : (ہم نے کہا تم سب کے سب یہاں سے اترو) جمیعًا حال ہے یعنی اکٹھے
نمبر 1: اترنے کا حکم دوبارہ تاکید کے لیے لائے۔
نمبر 2: پہلا ھبوط جنت سے آسمان پر تھا اور دوسرا آسمان سے زمین پر
نمبر 3: اس لیے اھبطوا دوبارہ لائے کیونکہ دوسرے اھبطوا کے ساتھ اَمَا یَاْتِیَنَّکُمْ … ملا ہوا تھا۔
اتیان کی مراد :
فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی : (پس جب بھی آئے تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت) ۔ اتیان ہدایت سے مراد رسول جس کو تمہاری طرف بھیجوں گا۔ یا کتاب تمہاری طرف اتاروں گا اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔
وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْاوَکَذَّبُوْابِاٰیٰتِنَاکو فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ کے مقابلے میں لائے یعنی اتباع ہدایت سے مراد قبول ہدایت اور اس پر ایمان لانا ہے۔
فَلاَخَوْفٌ عَلَیْھِمْ : (پس نہ خوف ہوگا ان پر) ان پر مستقبل میں خوف نہ ہوگا۔
وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ : (وہ غمگین نہ ہونگے) اس پر جو انہوں نے پیچھے چھوڑا۔ نحو : دوسری شرط اپنے جواب سمیت اول کا جواب ہے۔ جیسا کہتے ہیں۔ ان جئتنی فان قدرت احسنت الیََّّ ۔ اگر تو میرے پاس آئے پس اگر تو ایسا کرسکا تو تو نے مجھ پر احسان کیا۔
قراءت : یعقوب کہتے ہیں تمام قرآن میں خَوْفَ کا لفظ فتح کے ساتھ پڑھا جائے گا۔
وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْابِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓپکَ : (اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہ )
نحو : یہ مبتدا ہے اور اَصْحٰبُ النَّارِ (آگ والے) یہ خبر ہے اور اس کے حق داریہ جملہ موضع رفع میں مبتداء کی خبر ہے میری مراد الذین کفروا ہے
ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ : (وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے)
Ayah 2:40تفسیر یٰبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ :
یٰبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ : (اے بنی اسرائیل) اسرائیل یعقوب ( علیہ السلام) یہ ان کا لقب ہے ان کی زبان میں اس کا معنی صفوۃ اللہ یا عبد اللہ ہے۔ اسراء کا معنی بندہ یا چنا ہوا۔ ایلؔ۔ عبرانی زبان میں اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یہ غیر منصرف ہے کیونکہ عجمہ اور علم ہے۔
انعامات کی مراد :
اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ : (تم میری وہ نعمتیں یاد کرو جو میں نے تم پر کیں) ان کو نعمتیں یاد دلائیں تاکہ وہ ان کے شکریہ سے خالی نہ رہیں۔ اور دینے والے کی اطاعت کریں۔ اس سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو ان کے آبائو اجداد پر کیں۔ جن کو شمار کیا وہ یہ ہیں۔ فرعون اور اس کے عذاب سے نجات دلانا۔ فرعون کا غرق۔ بچھڑا بنانے پر معافی۔ توبہ قبول کرنا اور محمد ﷺ کے زمانہ نبوت کو پالینے کا انعام جن کی بشارت تورات وانجیل میں دی گئی ہے۔
وَاَوْفُوْا : (اور تم میرا عہد پورا کرو) پورا پورا ادا کرو کہا جاتا ہے۔ وفیت لہ بالعھد، فانا وافٍ بِہٖ واوفیت لہ بالعھد فانا موفٍ بہ اوفیت۔ کو اختیار کیا اور اسی کے مطابق قرآن اترا۔
بِعَھْدِیْٓ : (میرا وعدہ) جو تم نے مجھ پر ایمان لانے کا عہد کیا اور میری اطاعت کا۔ یا تم نے نبی رحمت اور قرآن مجید پر ایمان لانے کا عہد کیا۔
اُوْفِِ بِعَھْدِکُمْ : (میں پورا کرونگا تمہارا وعدہ) جو وعدہ میں نے تمہارے ساتھ کر رکھا ہے۔ کہ تمہاری نیکیوں پر اچھا بدلہ دونگا۔
فائدہ اضافت :
عہد کی اضافت معاہدہ کرنے والے اور جس سے معاہدہ کیا جائے ہر دو کی طرف ہوتی ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ وہ دونوں عہد لئن اقمتم اور لاکفرن سورة المائدہ آیت نمبر 2 1 میں ہے۔
اہل اشارہ کا قول :
تم میرے مشقت کے گھر میں وعدہ پورا کرو۔ میری خدمت کی قالین پر بیٹھ کر اور میری حرمت کی حفاظت کر کے۔ میں اپنی نعمتوں کے گھر میں اپنے اکرام کے قالین پر تمہیں پورا پورا دونگا۔ اس حالت میں کہ میرے دیدار کا سرور بھی حاصل ہوگا۔
Ayah 2:41وَاِیَّایَ فَارْھَبُوْنِ : (اور خاص مجھ ہی سے ڈرو) تم میرے وعدے کو نہ توڑو۔ جیسے تم کہو۔ زیداً رھبتہ۔ یہ خصوصیت کا فائدہ دینے میں ایاک نعبد سورة الفاتحہ سے بڑھ کر ہے
نحوی تحقیق :
نحو : ایّای فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے اس کا ما بعد اس پر دلالت کرتا ہے تقدیر عبارت یہ ہے۔ فارھبوا ایای فارھبون۔ اول کو حذف کرلیا کیونکہ دوسرا اس پر دلالت کرتا ہے۔ یہ فارھبون کی وجہ سے منصوب نہیں کیونکہ اس نے تو اپنا مفعول لے لیا ہے اور وہ یاء محذوفہ ہے نون کا مک سورة ونا یہ یاء کی دلیل ہے جس طرح کہ زید کا نصب اس مثال میں زید افاضربہ۔ زیدا اضرب جو ظاہر ہے اس کی وجہ سے منصوب نہیں ہے بلکہ محذوف کی بناء پر منصوب ہے۔
وَاٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلْتُ : (اور تم ایمان لائو جو میں نے اتارا) یعنی قرآن
مُصَدِّقًا : (تصدیق کرنے والا) ھا محذوفہ سے حال مؤکد ہے گویا عبارت اس طرح ہوئی انزلتہ مصدقًا
لِّمَا مَعَکُمْ : (اس چیز کے لیے جو تمہارے پاس ہے) یعنی تو رات جو کہ عبادت اور توحید اور نبوت اور محمد ﷺ کے معاملے میں مصدق ہے۔
ایک تعریض :
وَلَا تَـکُوْنُوْااَوَّلَ کَافِرٍمبِہٖ : (اور مت بنو اس کے پہلے منکر) یعنی پہلے انکاری اس کے یا پہلا گروہ اس کا انکار کرنے والا یا پہلی جماعت اس کا انکار کرنے والی یا تم میں سے ہر ایک اس کا پہلا منکر نہ بنے۔ اس میں ان پر تعریض کی گئی کہ ان پر تو لازم تھا کہ وہ اس پر تو پہلے ایمان لانے والے بنتے کیونکہ وہ آپ کو آپ کی صفات کے ساتھ پہچاننے والے تھے۔ بہٖ میں ضمیر قرآن کی طرف لوٹتی ہے۔
وَلَا تَشْتَرُوْا : ( اور نہ بدلے میں لو)
بِاٰ یٰتـِیْ : (میری آیات کے) یعنی میری آیات میں تبدیلی و تحریف کر کے
ثمن قلیل کی مراد :
ثَمَنًا قَلِیْلًا : (تھوڑی قیمت)
نمبر 1: حضرت حسن (رح) کہتے ہیں۔ وہ اپنے سامان سمیت پوری دنیا ہے۔ نمبر 2: یہ بھی کہا گیا وہ سرداری مراد ہے جو انہیں اپنی قوم میں حاصل تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی اتباع سے جس کے چلے جانے کا ان کو خطرہ ہوا۔
وَاِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ : (مجھ ہی سے ڈرو)
قراءت : تمام قراء کے ہاں پس خافونی، فارھبونی، فاتقونی ہر دو حالتوں میں یاء کے ساتھ ہیں قاری یعقوب (رح) کے نزدیک یہی حکم ہر یاء کا ہے۔ جو لکھنے میں حذف ہو۔
Ayahs 2:42–43کتمان و لبس کا معنی :
وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ : (اور نہ لاحق کرو حق کو باطل کے ساتھ) لبس الحق بالباطل کا مطلب ان کا آپس میں ملانا ہے۔
نمبر 1: اگر باء صلہ کی مانیں تو اس قول کی طرح ہے لبست الشیء بالشیئ۔ میں نے دونوں چیزوں کو ملایا۔ اب مطلب یہ ہوا کہ تورات میں وہ چیزیں مت لکھو۔ جو اسمیں نہیں اسی طرح اتارا ہوا حق اس باطل سے مل جل جائے گا۔ جو تم نے لکھا ہے یہاں تک کہ اس کے حق و باطل میں تمہارے لیے تمیز نہ رہے گی۔
نمبر 2: اگر یہ باء استعانت ہو تو اس قول کی طرح ہوگا۔ کتبت بالقلم۔ اب معنی یہ بنے گا ولا تجعلوا الحق ملتبسا مشتبھا بباطلکم الذی تکتبونہ۔ حق کو ملتبس اور مشتبہ مت کرو اپنے اس باطل کی مدد سے جو تم لکھتے ہو۔
نحوی تحقیق :
نحو : وَتَکْتُمُوا الْحَقَّ ( اور نہ چھپائو حق کو) یہ مجزوم ہے حکم نہی کے تحت داخل ہے ولا تکتموا۔ یا أنِ کو مضمر مان کر منصوب ہے۔ وائو جمع کا معنی دے رہی ہے یعنی حق کو باطل کے التباس اور کتمان حق کو جمع نہ کرو۔ جیسے کہتے ہو۔ لا تاکل السمک وتشرب اللبن مچھلی کھانے کو دودھ پینے کے ساتھ جمع نہ کرو۔ یہ دونوں الگ معاملے ہیں لبس باطل یہ ہے کہ تورات میں وہ چیز لکھ دی جو اس میں نہ تھی اور حق کا کتمان یہ تھا۔ کہ وہ کہتے ہم تورات میں محمد ﷺ کی تعریف نہیں پاتے۔ یا تورات میں یہ حکم نہیں پاتے۔
Ayahs 2:44–46وَاَنْتُمْ تَعْ ( علیہ السلام) لَمُوْنَ : (حالانکہ تم جانتے ہو) یہ جاننے کی حالت میں کہ تم التباس کرنے والے، چھپانے والے ہو اور یہ ان کے لیے قبیح ترین چیز تھی۔ کیونکہ قبیح سے ناواقفی بسا اوقات مرتکب قبیح کے لیے عذربن جاتی ہے۔
وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ : (اور تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو) یعنی مسلمانوں والی نماز و زکوٰۃ
رکوع کی مراد :
وَارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ : (اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ) جو ان میں سے رکوع کرنے والے ہیں کیونکہ یہود کی نماز میں رکوع نہ تھا۔ (مگر اس کے لیے ثبوت درکار ہے جبکہ حضرت مریم کو فرمایا یا مریم اقنتی لربک واسجدی وارکعی مع الرٰکعین فرمایا گیا ہے فافھم) یعنی تم اسلام لا کر اہل اسلام کے اعمال کرو۔ اور یہ بھی درست ہے۔ کہ رکوع سے خود نماز مراد ہو جیسا کہ نماز کو سجود سے تعبیر کیا جاتا ہے اور نمازیوں کے ساتھ نماز کا حکم جماعت کے لیے ہے یعنی نمازیوں کے ساتھ نماز ادا کرو۔ الگ الگ نہیں۔
برّ کا مفہوم :
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ : (کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو) ہمزہ تقریر یہاں تو بیخ کے لیے ہے اور ان کی حالت پر اظہار تعجب مقصود ہے۔
بالبر : بھلائی ونی کی پھیلانے کا اور اسی سے البرّ بمعنی جنگل ہے جو اس کی وسعت کی وجہ سے کہا جاتا ہے البرّہر خیر کو شامل ہے اور اسی سے انکا قول صدقت وبررت ہے۔ احبار یہود اپنے اقارب کو خفیہ نصیحت کرتے تو اتباع محمد ﷺ کی نصیحت کرتے مگر خود اتباع نہ کرتے تھے۔
یہ بھی کہا گیا کہ وہ صدقہ کا حکم دیتے مگر صدقہ نہ کرتے۔ جب ان کو صدقات تقسیم کے لیے دئیے جاتے وہ ان میں خیانت کرتے۔
وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ : (اور تم اپنے آپ کو بھلاتے ہو) تم اپنے نفوس سے نیکی چھوڑتے ہو جیسے کوئی بھولی بسری چیزیں ہوتی ہیں۔
وعید یا تبکیت :
وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ : (حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو) نمبر 1 : یہ ان کو بطور تبکیت کہا کہ تم تورات پڑھتے ہو حالانکہ اس میں محمد ﷺ کی تعریف موجود ہے۔
نمبر 2 یا : اس میں خیانت پر وعید موجود ہے۔ اور ترک برّ اور قول وعمل کے تضاد پر وعید پائی جاتی ہے۔
اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ : (کیا تم سمجھتے نہیں ہو) کیا تم اس کی قباحت نہیں سمجھتے جس کا تم اقدام کرتے ہو۔ تاکہ اس کی قباحت کی اپنے ہاتھوں تصدیق کرو۔ یہ بہت بڑی تو بیخ ہے
وَاسْتَعِیْنُوْا : (اور تم مدد لو) تم مدد طلب کرو اپنی ضروریات میں اللہ تعالیٰ سے۔
صبر و استعانت :
بِالصَّبْرِوَالصَّلٰوۃِ : (صبرو نماز کے ساتھ) ان دونوں کو جمع کر کے اور نماز کی تکالیف پر صبر کرتے ہوئے تم نماز پڑھو۔ اس طرح کہ اس کی مشقتیں برداشت کرنے والے ہو۔ اور جو چیزیں اس میں ضروری ہیں۔ جیسے اخلاص قلب۔ دفع وساوس شیطانیہ : وھواجس نفسانیہ اور مراعاۃ آداب۔ خشوع اور اس بات کا استحضار کہ تم جبار السمٰوٰت والارض کے سامنے کھڑے ہو۔
یا مصائب و آفات میں صبر کر کے مدد طلب کرو۔ اور ان مصائب کے وقوع کے وقت نماز کی طرف جھکو۔ رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی گھبراہٹ والا معاملہ پیش آتا۔ تو نماز کی طرف جلدی کرتے۔ ( رواہ الطبری فی تفسیرہ ٖ ) حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کو قُثَمْ ؓ کی موت کی خبر دوران سفر ملی تو انہوں نے اناللّٰہ وانا الیہ راجعون پڑھی اور دو رکعت نماز ادا کی۔ پھر یہ آیت تلاوت کی۔ واستعینوا بالصبروالصلٰوۃ۔ یہ بھی کہا گیا۔ کہ الصبر روزے کو کہتے ہیں۔ کیونکہ یہ روزہ مفطرات سے اپنے آپ کو روک رکھنے کا نام ہے اور اسی طرح رمضان المبارک کو شہر الصبر فرمایا گیا ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ الصلوٰۃ سے دعا مراد ہے یعنی مصائب پر صبر اور دعا کی التجا سے اور اللہ کی بارگاہ میں گڑ گڑا کر
اس کے دور کرنے میں مدد حاصل کرو۔
مرجع ضمیر :
وَاِنَّھَا : (اور بیشک وہ) نحونمبر 1 : ضمیر نماز کی طرف لوٹ رہی ہے۔
نمبر 2: استعانت کی طرف لوٹ رہی ہے۔
لَکَبِیْرَۃٌ : (البتہ بھاری ہے) شاق اور بھاری ہے جیسا کہ کہتے ہیں کبر علیّ ھذا الامر۔ یہ معاملہ مجھ پر گراں گذرا
اِلَّاعَلَی الْخٰشِعِیْنَ : (مگر خاشعین پر) کیونکہ وہ توقع رکھتے ہیں اس اجر کی جو صابرین کے لیے ان کی تھکاوٹوں پر ملے گا۔ پس جنت ان پر آسان ہوجائے گی۔ کیا تم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر نگاہ نہیں ڈالتے ؟
اَ لَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَ نَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّھِمْ : (وہ لوگ جو یقین رکھتے ہیں اپنے رب کی ملاقات کا) اپنے ثواب کو پانے کی توقع رکھتے ہیں۔ اور اس چیز کے پانے کی جو اللہ کے ہاں ہوگی۔
یظنون کی تفسیر عبد اللہ بن مسعود ؓ کی قراءت کی وجہ سے یعلمون ہے یعنی وہ جانتے ہیں جزاء کا ملنا یقینی ہے پس ان کے مطابق وہ عمل کرتے ہیں۔ باقی جن کو جزاء کا یقین نہیں۔ اور جزاء پر یقین نہیں رکھتے اور نہ ثواب کے امیدوار ہیں۔ ان پر یہ خالص مشقت ہے۔
الخشوع اخبات۔ التطامن۔ فروتنی و عاجزی۔ الخضوع نرمی۔ انقیاد۔ اطاعت
اللقاء کی تفسیر :
رؤیت و دیدار یعنی وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ کہ ان کو اس کا بلا کیف دیدار ہوگا۔
وَاَ نَّھُمْ اِلَـیْہِ رٰجِعُوْنَ : (اور بیشک وہ اس کی طرف لوٹنے والے ہیں) ان کے معاملات کا آخرت میں اس کے سواء اور کوئی بھی مختار نہ ہوگا۔
Ayahs 2:47–48یٰبَنِیْٓ اِسْرَائِ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ : (اے بنی اسرائیل تم یاد کرو میری وہ نعمتیں جو میں نے تم پر کیں) دوبارہ تاکید کے لیے لائے۔
وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ : (اور میں نے تمہیں فضیلت دی لوگوں کے جم غفیر پر) یعنی نعمتوں اور فضیلت عنایت کرنے کو یاد کرو۔ عالم یعنی لوگوں کے جم غفیر پر۔ کہا جاتا ہے۔
رایت عالما من الناس۔ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا۔ مراد کثرت ہے۔
وَاتَّقُوْا یَوْمًا : (اور تم اس دن سے ڈرو) قیامت کے دن سے ڈرو۔
نحو : یومًا مفعول بہٖ ہے ظرف نہیں۔
لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ : (نہ کام آئے گا کوئی نفس) مومن نفس۔
عَنْ نَّفْسٍ : (کسی نفس کے) کافرنفس کے لیے۔
شَیْئًا : (کچھ بھی) یعنی کچھ بھی ادائیگی نہیں کرے گا۔ ان حقوق کی جو اس پر لازم ہیں۔
نحو : شیئًامفعول بہٖ ہے یعنی تھوڑا سا بدلہ اور جملہ محلًا منصوب ہے۔ اور یومًا کی صفت ہے۔ اور ضمیر اس میں، موصوف
محذوف کی طرف جارہی ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ لا تجزی فیہ۔ اس میں کام نہیں آئے گا۔
وَّلَا یُقْبَلُ مِنْھَا شَفَاعَۃٌ : (اور اس سے کوئی شفاعت قبول نہ کی جائے گی)
مکی وبصری قراءت میں تاء کے ساتھ ہے۔ اور ضمیر منھا میں نفس مومنہ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ! مطلب یہ ہوا کہ کسی نفس مومنہ کی کوئی شفاعت نفس کافرہ کے لیے مقبول نہ ہوگی۔ " کہا گیا ہے کہ یہود کو یہ زعم تھا کہ ان کے آباء انبیاء ( علیہ السلام) تھے وہ شفاعت کریں گے۔ تو ان کو مایوس کردیا گیا۔ وہ اس ارشاد الٰہی کی طرح ہے جو سورة المدثر آیت نمبر 48 فَمَا تَنْفَعُھُمْ شَفَاعَۃُ الشَّافِعِیْنَ ہے۔
معتزلہ کا جواب :
قول معتزلہ : معتزلہ نے اس آیت سے گناہ گاروں کے لیے شفاعت کی نفی ثابت کی۔
جواب : ان کا قول مردود ہے کیونکہ نفی شفاعت کفار کی کی گئی۔
حضور ( علیہ السلام) نے خود فرمایا۔ شفاعتی لا ھل الکبائر من امتی من کذب بھا لم ینلھا (احمد، ابو داؤد، ترمذی)
دوسرا جملہ صرف احمد نے نقل کیا۔
وَّلَا یُؤْخَذُ مِنْھَا عَدْلٌ : (نہ لیا جائے گا اس سے بدلہ) عدل، فدیہ، کیونکہ یہ فدیہ دینے والے کا معادل ہے۔
جمع کی حکمت :
وَّلاَھُمْ یُنْصَرُوْنَ : (اور نہ ان کی مدد کی جائے گی) ان کی معاونت نہ کی جائے گی۔ ینصرون کو جمع لایا گیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ نفس جو نکرہ آیا ہے اس سے مراد نفوس کثیرہ ہیں۔ (عباد، اناسی) معنی کا لحاظ کر کے مذکر لائے۔
Ayah 2:49وَاِذْ نَجَّیْنٰـکُمْ مِّنَ اٰلِ فِرْعَوْنَ : (جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی) آل کا اصل اہل ہے اس لیے کہ تصغیر اھیل آتی ہے ھَا کو الف سے بدل دیا۔ اس کا استعمال بڑے لوگوں کے لیے آتا ہے مثلًا بادشاہ اور ان کے ہم مثل۔ او اور آل حجام نہیں کہتے۔
فرعون۔ عمالقہ کے ہر بادشاہ کا لقب تھا۔ جیساقیصر، رومی بادشاہوں کا۔ کسریٰ ، فارس کے بادشاہوں کا۔
سوم کا مفہوم :
یَسُوْمُوْنَکُمْ : (وہ تمہیں تکالیف دیتے) یسومونکم یہ آل سے حال ہے۔ تمہیں تکالیف دیتے یہ سامہ خسفا سے ہے جبکہ ظلم سے اس کا والی بنے۔ اور اس کا اصل سام السلعۃ سے ہے۔ جب اس کو طلب کرے۔ گویا یہ یبغونکم کے معنی ہیں یعنی تمہارے لیے طلب کرتے۔
سوء عذاب کی مراد :
سُوْئَ الْعَذَابِ : (سخت عذاب) وہ برے عذاب کا تمہارے خلاف ارادہ رکھتے۔
مساومۃ البیع : زائد کرنا یا بڑھانا یا ایک دوسرے سے مطالبہ کرنا۔
نحو : سوء مفعول ثانی ہے برا عذاب تاکہ تمہیں سزا دیں۔ یہ سئی کا مصدر ہے کہا جاتا ہے۔ اعوذباللّٰہ من سوء الخلق وسوء الفعل۔ میں برے اخلاق اور برے فعل سے پناہ چاہتا ہوں۔ مراد اخلاق وفعل کی برائی ہے۔ اور معنی سوء العذاب۔ سخت رسوا کن عذاب ہے۔ کیونکہ عذاب تو سب ہی برے ہیں۔
یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآئَ کُمْ : (وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے) یہ یسو مونکم کا بیان ہے۔ اسی لیے حرف عطف نہیں لائے۔
وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآئَ کُمْ : (وہ تمہاری بیٹیوں کو زندہ چھوڑتے تھے) تمہاری بیٹیوں کو خدمت کے لیے زندہ چھوڑتے۔
انہوں نے یہ اس لیے کیا کیونکہ کاہنوں نے فرعون کو ڈرایا۔ کہ ایک بچہ پیدا ہوگا۔ جس کے سبب تیرا ملک چلا جائیگا جیسا کہ نمرود کو انہوں نے ڈرایا۔ مگر ان کی تخفظ کی کوشش ناکام رہی۔ اور وہ ہو کر رہا۔ جو اللہ تعالیٰ نے چاہا۔
وَفِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآئٌ : (اور اس میں آزمائش تھی) مشقت۔ جبکہ مشارالیہ فرعون کی حرکت ہو۔ اور مشارالیہ انجاء ہو۔ تو بلاء کا معنی نعمت ہے۔
مِّنْ رَّبِّکُمْ : (تمہارے رب کی طرف سے) یہ بلاء کی صفت اول ہے۔
عَظِیْمٌ ! : (بڑی) یہ صفت دوم ہے۔
Ayah 2:50وَاِذْفَرَقْنَا : (جب ہم نے پھاڑ دیا تمہارے لئے سمندر کو) بعض کو بعض سے جدا کردیا۔ یہاں تک کہ راستے بن گئے
فَرقنا : یہ شد کے ساتھ پڑھا گیا۔ ہم نے جدا کیا کہا جاتا ہے اس نے دو چیزوں میں جدائی کردی اور چیزوں میں تفریق کردی۔ کیونکہ راستے بارہ تھے۔ جتنی قبائل بنی اسرائیل کی تعداد تھی۔
بِکُمُ الْبَحْرَ : (تم پر سمندر کو) وہ ان پر چل رہے تھے۔ اور تمہارے چلتے ہوئے پانی الگ الگ تھا۔ گویا ان کے ساتھ پھاڑا یا ہم نے تمہارے سبب سے پھاڑا۔ یا ہم نے پھاڑا اس حال میں کہ وہ تمہارے ساتھ متلبس تھا۔ اس صورت میں یہ حال بنے گا۔
روایت میں آیا ہے کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو کہا۔ ہمارے ساتھی کہاں ہیں ؟ ہم جب تک ان کو دیکھ نہ لیں۔ راضی نہ ہونگے اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی۔ کہ اپنی لاٹھی کو اسی طرح کہو۔ آپ نے دیواروں پر مار کر یہ کہا۔ پس اس میں روشن دان بن گئے۔ پس وہ ایک دوسرے کو دیکھتے اور ایک دوسرے کی باتیں سنتے جا رہے تھے۔
فَاَنْجَیْنٰکُمْ وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ : (پس ہم نے تمہیں نجات دی اور ڈبو دیا آل فرعون کو اس حال میں کہ تم دیکھ رہے تھے) اور مشاہدہ کرر ہے تھے۔ اور اس میں شک نہیں کرتے تھے۔
Ayahs 2:51–53وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰٓی : (جب ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے وعدہ کیا) کیونکہ وہ وعدہ وحی سے تھا۔ اور وہ طور پر آنے کا تھا۔
وٰعَدْنَا : جہاں تک میری تحقیق ہے۔ بنی اسرائیل مصر میں ہلاکت فرعون کے بعد داخل نہ ہوئے اور اس وقت ان کے پاس کوئی کتاب نہ تھی۔ جس کی طرف رجوع کریں۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے وعدہ کیا۔ وہ ان پر تورات اتاریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے وقت مقرر کیا۔ ذوالقعدہ اور دس دن ذی الحجہ کے اور فرمایا۔ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً : کیونکہ مہینہ کی ابتداء راتوں سے ہوتی ہے۔ اور چالیس راتیں۔
نحو : اَرْبَعِیْنَ یہ وعدنا کا مفعول ثانی ہے ظرف نہیں ہے۔ اس لیے اس کا معنی چالیس راتوں میں نہیں ہے (فی اربعین لیلۃ)
ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ : (پھر بنا لیا تم نے بچھڑے کو) اتخذتم کا مفعول ثانی حذف کردیا۔ اس کے باب میں مکی اور حفص کے نزدیک اظہار ہے۔
مِنْم بَعْدِہٖ ۔ (موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد) طور پر جانے کے بعد
وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ : (اور تم ظالم تھے) اور تم ظالم تھے اس لیے کہ تم نے عبادت کا مستحق اسکے سواء دوسرے کو قرار دیا۔
نحو : یہ جملہ حال ہے یعنی تم نے اس کی عبادت کی اس حال میں کہ تم ظلم کرنے والے تھے۔
ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْکُمْ : (پھر ہم نے تم کو معاف کردیا) ہم نے تمہارے گناہ تم سے مٹا دئیے۔
مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ : (اس کے بعد) یعنی تمہارے بچھڑا بنانے کے بعد
لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ : (تا کہ تم نعمت کا شکریہ ادا کرو) یعنی معاف کرنے کی نعمت کا شکریہ ادا کرو۔
وَاِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَالْفُرْقَانَ : (اور جب ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو کتاب اور معجزات دئیے)
فرقان کا معنی :
نمبر 1: یعنی وہ کتاب منزل اور فرقان ہونے میں جامع تھی۔ وہی تورات حق و باطل میں فرق کرنے والی تھی۔ اس کی نظیر یہ جملہ ہے رأیت الغیث واللیث یعنی میں نے ایسے آدمی کو دیکھا جو سخاوت وجرأت کا جامع تھا۔
نمبر 2: تورات اور دلیل مراد ہے جو کفر و ایمان میں فرق کرنے والی تھی عصا۔ ید بیضا و دیگر آیات۔
نمبر 3: شریعت جو حلال و حرام میں فرق کرنے والی تھی۔ یہ بھی کہا گیا کہ الفرقان سمندر پھٹنے کو یا وہ مدد جس نے ان کے اور ان کے دشمنوں میں جدائی کردی۔
لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْن : (تا کہ تم ہدایت پائو) یہاں لَعَلَّ کَیْ کے معنی میں ہے۔
Ayah 2:54قوم سے مراد :
وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ : (جب موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم کو کہا) قوم سے مراد یہاں وہ لوگ ہیں جنہوں نے بچھڑے کی عبادت کی۔
یٰـقَوْمِ اِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَکُمْ : (اے میری قوم بیشک تم نے اپنے آپ پر ظلم کیا)
بِاتِّخَاذِ کُمُ الْعِجْلَ : (بسبب تمہارے بنا لینے بچھڑے کو) معبود۔
فَتُوْبُوْٓا اِلٰی بَارِپکُمْ : (پس تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو)
الباری : وہ ذات جس نے مخلوق کو فرق سے بری بنایا۔ جو ان کو بچھڑے کی عبادت کی طرف لے جاتے جو غباوت وبلادت میں ضرب المثل ہے۔
(فیہ لغباوۃ العابدین للعجل)
قتل کا مفہوم :
فَاقْتُلُوْٓ ا اَنْفُسَکُمْ : (تم اپنے نفسوں کو قتل کرو)
نمبر 1: کہا گیا کہ یہ ظاہر پر ہے اور وہ غصہ اور غم سے قتل کرنا ہے۔
نمبر 2: یہ بھی کہا گیا۔ جنہوں نے بچھڑے کی عبادت نہ کی تھی۔ ان کو حکم دیا۔ کہ بچھڑے کی عبادت کرنے والوں کو قتل کریں۔ پس ستّر ہزار قتل ہوئے۔
ذٰلِکُمْ : (یہ) یعنی توبہ اور قتل
خَیْرٌ لَّکُمْ عِنْدَ بَارِپکُمْ : (تمہارے رب کے ہاں بہت بہتر ہے) گناہ پر اصرار کرنے سے
فَتَابَ عَلَیْکُمْ اِنَّہٗ ھُوَالتَّوَّابُ : (پس اس نے تم پر توجہ کی پس بیشک وہی ہے توبہ قبول کرنے والا) وہ قبول توبہ سے فضل فرمانے والا ہے خواہ یہ کثرت سے بار بار ہی ہو۔
الرَّحِیْمُ : (وہ نہایت مہربان ہے) گناہ معاف کرتا ہے خواہ کتنا بڑا ہو۔
Ayah 2:55تین فائ :
پہلا فاء سبب کے لیے ہے کیونکہ ظلم توبہ کا سبب ہے۔
اور دوسرا فاء تعقیب کے لیے ہے۔ اس لیے معنی یہ ہوگا۔ توبہ کا عزم کرو۔ پس اپنے نفسوں کو قتل کرو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قتل النفس مقرر فرمائی۔
اور تیسراؔ فاء شرط محذوف سے متعلق ہے۔ گویا اس طرح فرمایا۔ فان فعلتم اگر تم نے ایسا کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول کرلی۔
وَاِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَھْرَۃً : (جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ہرگز تم پر یقین نہ کریں گے یہاں تک کہ ہم اللہ تعالیٰ دیکھ لیں سامنے)
جھرۃ : آنکھوں سے دیکھیں۔ نمبر 1 نحو : یہ مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے جیسا قرفصا کا لفظ جلوس کے فعل سے ای جلس قرفصا۔
نمبر 2: یا نَرٰی سے حال ہے یعنی ذوی جہرۃ۔ ایسا دیکھنا جو کہ ظہور والاہو۔
فَاَخَذَتْکُمُ الصّٰعِقَۃُ : (پس تمہیں کڑک نے پکڑ لیا) نمبر 1: یعنی موت
نمبر 2: یہ کہا گیا کہ آگ آسمان کی طرف سے آئی اس نے ان کو جلایا۔ روایت کیا گیا کہ جبل طور کی طرف جاتے ہوئے جن ستّر 70 افراد نے یہ مطالبہ کیا اور ان کو کہنے لگے ہم نے ان کی طرح بچھڑے کی عبادت نہیں کی پس آپ اللہ کی ذات ہمیں آنکھوں سے دکھلائیں۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا۔ میں نے خود یہ سوال کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انکار فرمایا تھا۔ انہوں نے کہا تو نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے ہم ہرگز تم پر اعتماد نہ کریں گے۔ جب تک اللہ تعالیٰ کو ظاہر نہ دیکھ لیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر صاعقہ بھیج دیا۔ جس نے ان کو جلا دیا۔
دلیل معتزلہ :
معتزلہ نے اس آیت سے نفی رؤیت باری تعالیٰ ثابت کرنے کی کوشش کی دلیل یہ دی کہ اگر یہ جائز ہوتی تو جائز الثبوت پر ان کو سزانہ دی جاتی ؟
وجوہ سزا :
جواب نمبر 1: ان کو سزا تو انکار کے سبب ملی۔ اس لیے کہ ان کا قول انک رأیت اللّٰہ فلن نؤمن لک حتّٰی نری اللّٰہ جھرۃ۔ ان کی طرف سے کفروانکار تھا۔
نمبر 2: اس لیے بھی کہ وہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے ظہور معجزات کے بعد ایمان سے لوٹ رہے تھے۔ جب تک وہ اپنے رب کو سامنے نہ دیکھ لیں۔ حالانکہ انبیاء ( علیہ السلام) پر ایمان ظہور معجزات کے بعد لازم ہے ان سے نئی نشانیاں طلب کرنا جائز نہیں۔
نمبر 3: اور اس لیے بھی کہ انہوں نے رشدو ہدایت طلب کرنے کے لیے سوال نہ کیا تھا۔ بلکہ محض تعنت وعناد کی خاطر سوال کیا تھا۔ (جس پر سزا ملنی ضروری تھی)
وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ : (اور تم اس صاعقہ کو دیکھ رہے تھے) جب وہ اتری۔
Ayah 2:56ثُمَّ بَعَثْنٰـکُمْ : (پھر ہم نے تمہیں اٹھایا) ہم نے تمہیں زندہ کیا۔ اس کا اصل اثار یثیراثارۃً سے ہے ( اٹھانا)
مِّنْ م بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ : (تمہاری موت کے بعد تاکہ تم احسان مانو) موت کے بعد اٹھائے جانے کے انعام کا۔
Ayah 2:57وَظَلَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْغَمَامَ : (ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ کردیا) ہم نے بادلوں کو تمہیں سایہ کرنے والا بنادیا یہ میدان تیہ کا واقعہ ہے بادل کو ان کے کام میں لگادیا۔ کہ ان کے چلنے پر ساتھ چلیں۔ اور دھوپ سے ان پر سایہ کریں۔ اور رات کو روشنی کے ستون اترتے جن کی روشنی میں چلتے۔ ان کے کپڑے میلے نہ ہوتے۔ اور نہ پرانے ہوتے۔
وَاَنْزَلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی : (اور اتارا تم پر من وسلوٰی) ترنجبین وہ طلوع شمس کے وقت برف کی طرح ان پر اترتا۔ ہر انسان کے لیے ایک جیسا ہوتا۔
السلوٰی : جنوبی ہوا سے اللہ تعالیٰ ان پر سلویٰ پر ندے بھیجتا۔ وہ بٹیر ہے ‘ پھر آدمی اپنی ضرورت کے مطابق ذبح کرلیتا۔ اور ہم نے کہا۔
کُلُوْامِنْ طَیِّبٰتِ : (تم پاکیزہ چیزیں کھائو) ۔ تم لذیذ یا حلال چیزیں کھائو۔
مَارَزَقْنٰـکُمْ : (جو ہم نے تمہیں دیں)
وَمَا ظَلَمُوْنَا : (انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا) ۔ پس ظلم کیا اس طرح کہ ان نعمتوں کی ناشکری کی۔
وَلٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ : (لیکن وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے تھے)
نحو : اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ کا مفعول ہے اور وہ کان کی خبر ہے۔
Ayah 2:58تفسیر آیت : 58:
وَاِذْقُلْنَا : (اور جب ہم نے کہا) ہم نے میدان تیہ سے نکلنے کے بعد کہا۔
ادْخُلُوْا ھٰذِہِ الْقَرْیَۃَ ۔ (تم اس بستی میں داخل ہوجائو) یعنی تم بیت المقدس میں داخل ہوجائو۔ یا اریحا میں۔
القریہ۔ اس بات پر اتفاق ہے یہ قریت سے ہے اس لیے کہ بستی لوگوں کو جمع کرتی ہے تیہ کے بعد ان کو داخلے کا حکم ملا۔
فَکُلُوْامِنْھَا : (تم اس میں سے کھائو) تم بستی کے غلہ جات اور پھل کھائو۔
حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَداً ۔ : (جہاں سے چاہو بافراغت)
وَّادْخُلُوا الْبَابَ : (اور دروازے میں داخل ہو) باب القریہ : الباب سے مراد بستی کا دروازہ یا باب قبہ مراد ہے جس کی طرف وہ نماز پڑھتے تھے۔ کیونکہ موسیٰ ( علیہ السلام) کی زندگی میں بیت المقدس میں داخل نہیں ہوئے۔ البتہ باب قریہ میں ان کی زندگی میں داخل ہوئے۔
سُجَّدًا : (سرجھکائے) یہ حال ہے اور ساجد کی جمع ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ کا حکم شکریہ کے طور پر دروازے تک پہنچنے کے وقت ہوا یعنی اس کی بارگاہ میں تواضع کرتے ہوئے۔
تفسیر حِطَّۃ :
وَّقُوْلُوْاحِطَّۃٌ : (تم حطۃ کہو) نحو : حطۃ یہ فعلۃ کا وزن ہے الحط سے جیسا جلسۃ۔
نمبر 1: یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے یعنی مسئالتنا حطۃ یا امرک حطۃ۔ ہمارا سوال گناہ مٹانے کا ہے یا
نمبر 2: آپ کا حکم بخشش کرنا ہے۔
اصل نصب ہے اور اس کو اس طرح بھی پڑھا گیا۔ حط عنا ذنوبنا حطۃ۔ ہمارے گناہ ہم سے مٹادے مٹانا یہ مرفوع اس لیے لائے تاکہ اثبات کا معنی دے۔ یہ بھی کہا گیا۔ اس کا معنی امرنا حطۃ ہے یعنی یہ کہ ہم اس بستی میں اتریں اور اس میں قرار اختیار کریں۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ حطۃ بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے۔ عکرمہ (رح) کہتے ہیں وہ لا الٰہ الا اللہ ہے۔
نَّغْفِرْلَکُمْ خَطٰیٰکُمْ : (ہم تمہاری غلطیاں بخش دیں گے) خطایا کم جمع خطیئۃ وہ گناہ کو کہتے ہیں۔ (مدنی نے یُغْفَرْ ) اور شامی نے (تُغْفَرْ ) پڑھا۔
اضافہ کا مطلب :
وَسَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ : (عنقریب زیادہ دیں گے مخلصوں کو) یعنی جو تم میں سے مخلص ہو تو یہ کلمہ اس کے ثواب میں اضافہ کا سبب بنے گا۔ اور جو گناہ گار ہوگا اس کے لیے توبہ و بخشش کا ذریعہ ہوگا۔
Ayah 2:59بدلنے کی تشریح :
فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاقَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ : (پس بدل دیا ظالموں نے بات کو اور بات سے جو ان کو کہی گئی تھی) اس میں حذف ہے اور تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِالَّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ پس بدل دیا ظالموں نے اس کہی ہوئی بات کو اور بات سے جو کہی گئی تھی ان کو۔
پس بدّ ل یہ ایک مفعول کی طرف متعدی بنفسہٖ ہے اور دوسرے مفعول کی طرف باء سے متعدی ہوگا جو باء کے ساتھ ہے وہ متروک ہے۔ اور جو باء کے بغیر ہے وہ موجود ہے یعنی حطۃ کی جگہ اور بات کو رکھا یعنی ان کو حکم تو اس بات کا تھا جس سے توبہ و استغفار ہو۔ مگر انہوں نے اس کی مخالفت ایسی بات سے کی جس کا معنی وہ نہ تھا جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ حطۃ کی بجائے حنطۃ کہا۔
اور یہ بھی کہا گیا۔ کہ انہوں نے قبطی زبان میں کہا۔ حطاسمقاثا یعنی سرخ گندم۔ انہوں نے اس ارشاد الٰہی کا مذاق اڑایا۔ جو ان سے کہا گیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کے ہاں جو کچھ ہے اس سے منہ موڑ کر اپنا پسندیدہ سامان دنیا طلب کیا
فَاَنْزَلْنَا عَلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْارِجْزًا : (پس ہم نے ظالموں پر عذاب اتارا) ۔ رجز یعنی عذاب۔ الذین ظلموا کا کلمہ دوبارہ لا کر ان کے معاملے کی شدید قباحت کا اظہار مقصود ہے۔ اور اسی بات کا اعلان ہے کہ ان پر عذاب ان کے ظلم و زیادتی کی وجہ سے اترا۔
مِّنَ السَّمَآئِ : (آسمان سے) یہ رجز کی صفت ہے ( رجز نازل من السمائ)
بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ : (بسبب اس کے کہ وہ فسق کرتے تھے) یعنی ان کے فسق کے سبب ‘ روایت میں ہے۔ کہ ایک گھڑی میں 24 ہزار آدمی طاعون کا شکار ہوگئے۔ بعض نے ستر ہزار کہا ہے۔
Ayah 2:60تفسیر آیت : 60
وَاِذِاسْتَسْقٰی مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ : (جب موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا) واذموضع نصب میں ہے گویا اصل اس طرح ہے واذکروا اذاستسقٰی یعنی انہوں نے استدعا کی کہ ان کی قوم کو سیراب کیا جائے۔
پتھر سے مراد کونسا :
فَقُلْنَااضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْحَجَرَ : (پس ہم نے کہا تم اپنا عصا پتھر پر مارو) ان کو تیہ میں پیاس لگی۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے ان کے لیے پانی کی درخواست کی۔ جس پر انہیں حکم ملا کہ پتھر پر اپنی لاٹھی ماریں۔ اس میں لام عہد کا ہے اس سے مقررہ پتھر مراد ہے۔ روایت میں آیا یہ طور کا پتھر تھا۔ جس کو اپنے ساتھ لائے تھے۔ اور مربّع پتھر تھا۔ جس کی چار طرفیں تھیں۔ ہر طرف سے تین چشمے چلتے تھے ہر قبیلے کیلئے ایک چشمہ تھا۔ ان کی تعداد چھ لاکھ تھی۔ اور لشکر گاہ کی وسعت بارہ میل تھی یا الف لام جنس کا ہے یعنی اس شئی کو مارو جس کو پتھر کہتے ہیں۔ یہ دلیل میں ظاہر اور قدرت میں واضح تر ہے۔
فَانْفَجَرَتْ : (پس پھوٹ پڑے بارہ چشمے) یہ محذوف سے متعلق ہے یعنی فضرب فانفجرت یعنی کثرت سے بہنے لگا۔ یا فان ضربت فقد انفجرت۔ پس اگر تو مارے گا۔ پس اس سے جاری ہوجائیں گے۔ اس صورت میں فاء فصیحیہ ہے جو کلام بلیغ میں ہوتی ہے۔
مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَیْنًا : (اس سے بارہ چشمے) قبیلوں کی تعداد کے مطابق۔ عَشْرَۃَ کی شین پر کسرہ اور فتح پڑھا گیا ہے۔ یہ دو لغتیں ہیں۔ عینًا یہ تمیز ہے۔
قَدْ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ : (تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے) اناس سے مراد قبیلہ ہے۔
مَّشْرَبَھُمْ : (اپنا اپنا گھاٹ) انکاوہ چشمہ جس سے وہ پیتے ہیں۔
کُلُوْا : (کھائو) اور ہم نے ان کو کہا تم من وسلو یٰ کھاؤ۔
وَاشْرَبُوْا : (اور پیو) ۔ چشموں کا پانی پیو۔
مِنْ رِّزْقِ اللّٰہِ : (اللہ تعالیٰ کے رزق سے) یعنی وہ تمام رزق جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دیا۔
وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ : (اور تم زمین میں فساد مت مچائو) یعنی تم اس میں فساد نہ کرو۔ العیثؔ: سخت فساد۔
مُفْسِدِیْنَ : (فساد کرنیوالے) یہ مؤکد حال ہے یعنی تم اپنے فساد میں درازی مت اختیار کرو۔ وہ اپنے فساد میں درازی اختیار کرنے والے تھے۔
Ayah 2:61طعام واحد کا مطلب :
وَاِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ : (اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ہرگز ایک کھانے پر صبر نہیں کریں گے) تیہ میں ان کو من وسلوٰی کا رزق دیا گیا۔ مگر انہوں نے کہا طعام واحدٍ ایک کھانے پر حالانکہ وہ دو کھانے تھے۔ کیونکہ انہوں نے واحد سے مراد ایسا کھانا لیا۔ جو نہ بدلے بلکہ ایک ہی رہے۔ اگر کسی آدمی کے دستر خوان پر قسم قسم کے کھانے ہوں اور ہر روزان پر وہ مداومت کرے۔ تو کہا جاتا ہے۔ لا یا کل فلان الاطعامًا واحدًا۔ فلاں تو ایک ہی کھانا کھاتا ہے واحد سے مراد وحدت ہے کہ ایک جیسا کھانا مختلف اور تبدیل نہیں کرتا۔ یا مراد ایک قسم کے مانوس کھانے یعنی ساگ دالیں وغیرہ تھیں۔
فَادْعُ لَنَارَبَّکَ : (تو دعا کر ہمارے لیے اپنے رب سے) یعنی تم اس سے سوال کرو۔ اور کہو وہ ہمارے لیے نکال دے۔
یُخْرِجْ لَنَا : (وہ نکال دے ہمارے لیے) یعنی ہمارے لیے ظاہر کر دے۔ ایجاد کر دے۔
بقل کی تفسیر :
مِمَّا تُنْبِتُ الْاَرْضُ مِنْم بَقْلِھَا : (ان چیزوں سے جن کو زمین اگاتی ہے جیسے سبزیاں) وہ سبزیاں جو زمین سے اگتی تھیں۔ مراد اس سے عمدہ ساگ، پودینہ، ککڑی پیاز وغیرہ ہیں۔ ایسی چیزیں جو عموما لوگ کھاتے ہیں۔
وَقِثَّآپھَا : (کھیرا) یعنی کھیرا۔
وَفُوْمِھَا : (گندم) وہ گندم یا لہسن ہے۔ قراءت عبد اللہ بن مسعود میں ثومھا آیا ہے۔
وَعَدَسِھَا وَبَصَلِھَا قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ ھُوَ اَدْنٰی : (اور دالیں اور پیاز کہا کیا تم بدلے میں وہ مانگتے ہو جو کہ حقیر ہے) جو مرتبہ میں نزدیک تر اور مقدار میں حقیر تر ہے۔ دنو اور قرب کے الفاظ سے قلت مقدار کی تعبیر کی جاتی ہے۔
بِالَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ : (اس کے بدلے جو کہ بہت بلند ہے) اعلیٰ مرتبے والی۔
اِھْبِطُوْامِصْرًا : (کسی بھی شہر میں اتر جائو) تیہ سے اتر جائو۔ تیہ کا علاقہ بیت المقدس سے قنسرین تک ہے اور یہ 36×24= 864 مربع میل کا علاقہ ہے۔
نمبر 2: فرعون کے مصر میں چلے جائو۔
نحو : مصرًا کا لفظ منصرف لائے حالانکہ دو سبب موجود ہیں۔ یعنی تانیث وعلمیت اس لیے کہ مراد شہر ہے یا درمیانہ حرف نوح ‘ لوط کی طرح ساکن ہے حالانکہ ان دونوں میں بھی علم ‘ عجمیت پائی جاتی ہے۔
فَاِنَّ لَکُمْ : (پس بیشک تمہارے لیے) یعنی اس میں۔
مَّا سَاَلْتُمْ : (جو تم نے مانگا) پس جو تم نے مانگا وہ تو شہروں میں پایا جاتا ہے۔ تیہ میں نہیں۔
تسلط ِذلت :
وَضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ : (ان پر ذلت ومسکنت ثبت کردی گئی) ذلت وفقر یعنی ذلت کو۔ نمبر 1: ان پر طاری کیا گیا۔ وہ ذلت کے تحت اسی طرح ہوگئے جیسے کوئی لگے ہوئے خیمے کے نیچے ہوتا ہے۔ نمبر 2: یا چمٹا دی گئی ان پر ذلت یہاں تک کہ اس نے ان کو لازم پکڑ لیا جیسے چپکنے والی چیز ہوتی ہے۔ جیسے دیوار پر مٹی ماریں تو چمٹ، چپک جاتی ہے۔ یہود ذلیل، خوار اور مسکینی اور فقروالے ہیں۔ خواہ حقیقتہً ہوں یا وہ بتکلف فقر اور حقارت ظاہر کرنے والے ہیں۔ کہ کہیں ان پر جز یہ دوگنانہ کردیا جائے۔
قراءت : عَلَیْھِمُ الذلّۃ۔ نمبر 1۔ حمزہ وعلی نے اسی طرح دونوں پر ضمہ پڑھا ہے۔ اور ہر وہ لفظ جس میں ھ اسے قبل یا ساکنہ ہو وہ اسی طرح پڑھا جائے گا۔
نمبر 2: ابو عمرو نے ھاؔ اور میم کے کسرہ سے پڑھا علیھمِ الذلۃ۔
نمبر 3: بقیہ قراء نے ھا کے کسرہ اور ضمہ میم سے پڑھا۔ عَلَیْھِمُ
وَبَآئُ وْبِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ : (اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کا غضب کمایا) نمبر 1۔ باء کا لفظ اسی طرح ہے جیسے کہتے ہیں باء فلان بفلان جبکہ وہ اس لائق ہو کہ اس کو اس کے برابر ہونے کی وجہ سے قتل کیا جائے۔
معنی آیت :
اب معنی آیت یہ ہوا۔ وہ اس کے غضب کے حق دار بن گئے۔
نمبر 2: کسائی کہتے ہیں باء کا معنی رجع ہے وہ اس کا غصہ لیکر لوٹے۔
ذٰلِکَ : (یہ) اس کا مشارالیہ۔ ضرب، ذلت مسکنت اور غضب کا حقدار ہونا۔
بِاَنَّھُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ : (یہ اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے اور انبیاء کو قتل کرتے رہے) قراءت۔ نافع نے النبیئین کو ہمزہ سے پڑھا۔ اسی طرح اس کے تمام باب میں پڑھا جائے گا یعنی یہ نتائج بسبب کفر اور قتل انبیاء ( علیہ السلام) کے تھے۔ یہود نے حضرت شعیائ، زکریا، یحییٰ صلوٰۃ اللہ علیہم کو قتل کیا۔
النبی کی تحقیق :
النبی کا لفظ النبأ سے ہے اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دیتا ہے۔ یہ فعیل بمعنی مُفعِل یا مُفْعَل ہے یا نبا یعنی بلند النبوۃ بلند مکان کو کہتے ہیں۔
بِغَیْرِالْحَقِّ : (ناحق) یعنی یہ ناحق تھا ان کے ہاں بھی اس لیے کہ اگر وہ انصاف کرتے تو وہ کوئی ایسی چیز ذکر کرسکتے تھے۔ جس سے ان کو قتل کا حقدار قرار دے سکیں۔
نحو : یہ یقتلون کی ضمیر فاعلی سے حال ہونے کی بناء پر منصوب ہے یعنی یقتلو نھم مبطلین وہ ان کو قتل کرتے اس حال میں کہ وہ باطل حرکت کرنے والے تھے۔
نمبر 1۔ ذٰلِکَ : (اس میں) اشارہ تکرار سے لائے۔
حدود سے تجاوز :
بِمَا عَصَوْاوَّکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ : (اس سبب سے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ تھے حد سے بڑھنے والے) اس سبب سے کہ وہ قسم قسم کے گناہوں میں مبتلا تھے۔ اور ہر چیز میں حدود اللہ سے تجاوز کرنے والے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرنے والے اور انبیاء کو قتل کرنے والے تھے۔
دوسرا قول : یہ بھی کہا گیا کہ مراد اس سے ہفتے کے بارے میں ان کا حد سے گذرنا تھا۔
تیسرا قول : اور یہ بھی درست ہے کہ ذٰلک کا مشارالیہ کفر، قتل انبیاء کو قرار دیا جائے۔ اس طرح کہ یہ جرأت ان میں نافرمانی اور حد سے گذرنے کی بناء پر پیدا ہوئی۔ اس لیے کہ وہ ان دونوں باتوں میں منہمک ہوگئے اور انہوں نے ان میں غلو کیا یہاں تک کہ ان کے دل سخت ہوگئے جس پر انہوں نے انکار آیات اور قتل انبیاء کی جسارت کی۔
چوتھا قول : ذٰلک کا مشارالیہ کفر اور قتل ہے جن کے ساتھ مسلسل نافرمانی ان میں پائی جاتی تھی۔
Ayah 2:62اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : (بےشک جو لوگ ایمان لائے) یعنی دلوں کی موافقت کے بغیر صرف زبانوں سے ایمان لائے اور وہ منافقین ہیں۔
وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا : (اور وہ لوگ جو یہودی ہوئے) یعنی یہودیت اختیار کی۔ کہا جاتا ہے ھاد، یہود، تہود، ھائد جب کوئی یہودیت میں داخل ہوجائے۔ ھائد کی جمع ھود ہے۔
نصرانی کی وجہ :
وَالنَّصٰرٰی : (اور نصاریٰ ہوئے) نصاریٰ جمع نصران جیسے ندمان وندامیٰ کہا جاتا ہے رجل نصران وامراۃ نصرانۃ۔ نصرانی مرد، نصرانی عورت۔ نصرانی میں یامبالغہ کے لیے ہے۔ جیسے احمری میں ان کو نصاریٰ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے مسیح ( علیہ السلام) کی مدد کی۔
وَالصَّابِپیْنَ : (اور صابی ہوئے) جو کسی مشہور دین سے نکل کر کسی غیر معروف دین میں چلے جائیں۔ جب کوئی دین سے نکلے تو کہتے صبافلان۔
نمبر 1: یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے یہودیت ونصرانیت سے رخ موڑا اور فرشتوں کی عبادت شروع کردی۔
نمبر 2: یہ کہا گیا کہ یہ زبور پڑھتے تھے۔
مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : (جو ان میں اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان لایا) ان کفار میں سے جو خالص ایمان لایا۔
وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ : (اور اس نے نیک عمل کیا پس ان کا بدلہ) اجر ھم کا معنی انکا ثواب
عِنْدَ رَبِّھِمْ : (ان کے رب کے ہاں) یعنی آخرت میں
وَلَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ : (اور نہ ان پر خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہونگے)
نحوی لطائف :
نحو نمبر 1 : اگر من اٰمن کو مبتداء اور فلھم اجر ھم خبر بنائو تو من اٰمن محل رفع میں ہوگا۔
نمبر 2: اور اگر اس کو اسم انّ ومعطوف علیہ کا بدل مانیں تو منصوب ہے۔ پہلی صورت میں اِنّ کی خبر اسی طرح جملہ ہوگا۔ دوسری صورت میں فلھم اس کی خبر ہے اور فاء اس لیے لائی گئی کیونکہ من شرط کے معنی کو شامل ہے۔
Ayah 2:63وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ : (جب ہم نے تم سے میثاق لیا) یعنی تورات کی تمام باتیں قبول کرنا۔
رفع طور :
وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ : (اور طور کو تم پر بلند کیا) جبل طور۔ یہاں تک کہ تم نے قبول کر کے پختہ وعدہ دے دیا۔
واقعہ : اس کا واقعہ اس طرح ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) الواح لیکر آئے تو اس میں بنی اسرائیل نے پابندیاں اور مشکل اعمال پائے۔ جو ان پر گراں گزرے۔ پس انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے جبرائیل ( علیہ السلام) کو حکم دیا۔ انہوں نے طور کو جڑ سے اکھاڑا اور اٹھا کر ان کے او پر سائبان کی طرح کردیا۔ ان کو موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا۔ اگر تم قبول کرتے ہو (تو ٹھیک) ور نہ طور کو تم پر پھینکا جائے گا۔ پس انہوں نے قبول کرلیا۔ تو ہم نے انہیں حکم دیا۔
خُذُوْامَآ ٰاتَیْنٰکُمْ : (جو ہم نے دیا اس کو مضبوط پکڑو) یعنی کتاب تورات۔
بِقُوَّۃٍ : (مضبوطی کے ساتھ) کوشش و پختہ ارادے سے
وَّاذْکُرُوْامَافِیْہِ : (اور یاد کرو جو اس میں ہے) یعنی یاد کرو جو کچھ کتاب میں ہے اور کتاب کو پڑھو اور نہ بھلائو اور نہ غفلت اختیار کرو۔
لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ : (تا کہ تم متقی ہوجائو) اس امید سے کہ تم متقی بن جائو۔
Ayahs 2:64–66ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ : (پھر تم نے منہ موڑا) یعنی پھر تم نے میثاق اور وفاداری سے منہ موڑا۔
مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ : (اس کے بعد) قبول کرلینے کے بعد
فضل و رحمت :
فَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ : (اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت نہ ہوتی) نمبر 1۔ یعنی عذاب کو مؤخر کر کے
نمبر 2: یا تمہیں توبہ کی توفیق دے کر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت نہ ہوتا۔
لَکُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ : (تو تم نقصان میں پڑجاتے) یعنی تم عذاب سے ہلاک ہوجاتے۔
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ : (تحقیق تم نے جانا) یعنی تم نے پہچانا۔ عَلِمَ ایک مفعول کی طرف متعدی ہے۔
الَّذِیْنَ اعْتَدَوْامِنْکُمْ فِی السَّبْتِ : (ان کو جنہوں نے ہفتے کے سلسلہ میں حد سے زیادتی کی)
سبت کی تشریح :
السبت یہ مصدر ہے سبتت الیہود کا جبکہ وہ ہفتے کی تعظیم کریں۔ یہود اس میں حد سے گذرگئے اور تجاوز کر گئے وہ اس طرح کہ ان کو عبادت کے لیے ہفتے کو خالی رکھنے کا حکم کیا۔ اور اس کی تعظیم کرنے کا حکم دیا تھا۔ وہ اس دن شکار میں مشغول ہوگئے حالانکہ ان کو اس دن شکار سے منع کیا گیا تھا۔ پھر ان کی آزمائش مزید اس طرح کی کہ سمندر میں کوئی ایسی مچھلی نہ تھی جو ہفتے کے دن اپنا منہ پانی سے نہ نکالتی ہو۔ جب ہفتہ گذر جاتا تو منتشر ہوجاتیں۔ انہوں نے سمندر کے کنارے حوض بنالیے اور ان کی طرف نالیاں چلا دیں۔ مچھلیاں ہفتے والے دن ان میں داخل ہوتیں کیونکہ وہ شکار سے محفوظ تھیں۔ پس وہ سمندر سے نکلنے والی نالیوں میں بند لگا دیتے اور اتوار کو شکار کرلیتے۔ یہ حوضوں میں روکنا ہی ان کا حد سے گذرنا تھا۔
فَقُلْنَا لَھُمْ کُوْنُوْا قِرَدَۃً خَاسِپیْنَ : (پس ہم نے انہیں کہا تم ذلیل بندربن جائو) پس ہوجائو یعنی ہماری تکوین سے
نحو : قردۃ خاسئین۔ یہ کان کی خبر ہے یعنی تم بندر اور ذلت ہر دو کو جمع کرنے والے بنو۔
فَجَعَلْنٰھَا : (پس ہم نے کردیا اس واقعہ کو عبرت) مسخ کو
نَکَالًا : (عبرت) اس کے لیے جو عبرت حاصل کرے۔ اس کو روکے۔
لِّمَا بَیْنَ یَدَ ْیھَا : (موجودہ لوگوں کے لیے) پہلوں کے لیے
وَمَا خَلْفَھَا : (اور آئندہ لوگوں کے لیے) بعد والی امتوں اور بستیوں کے لیے کیونکہ ان کا مسخ پہلی کتابوں میں ذکر کردیا گیا۔ پس انہوں نے اس سے عبرت حاصل کی اور جن پچھلوں کو یہ پہنچی انہوں نے عبرت حاصل کی۔
مراد متقی :
وَمَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْنَ : (اور متقین کے لیے نصیحت) متقین سے مراد قوم کے وہ صالح لوگ جنہوں نے حد توڑنے سے روکا۔ یا ہر متقی کے لیے جو ان کو سنے۔
Ayah 2:67ظروف کا حکم :
وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ : (جب موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم کو کہا) یعنی تم یاد کرو جب موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم کو فرمایا۔ یہ نعمتی پر معطوف ہے۔ (اُذْکُرُوْانِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ ) [ سورة البقرہ آیت : 40] گویا اس طرح ہوگا۔ ان ظروف میں جو گزرے۔ اذکرو انعمتی، اذکروا وقت انجینا ایاکم، اذکروا وقت فرقنا، اذکروا نعمتی، اذکروا وقت استسقاء موسٰی ربہ لقومہ اور یہی حکم ان ظروف کا بھی ہے جو یہاں سے لیکر اِذِابْتَلٰی اِبْرَاہِیْمَ رَبُّہٗ (البقرہ آیت نمبر 124) تک آئیں گے کہ ان تمام میں اذکروا محذوف ہوگا۔
اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُکُمْ اَنْ : (بےشک اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتے ہیں یہ کہ)
تَذْبَحُوْا بَقَرَۃً : (کہ تم گائے ذبح کرو۔ ) تم ذبح کرو کوئی گائے۔
علماء مفسرین نے فرمایا۔ قصہ کا اول حصہ تلاوت میں مؤخر ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ وَاِذْقَتَلْتُمْ نَفْسًافَادَّارَئْ تُمْ فِیْھَا۔ سورة البقرہ آیت نمبر : 72۔
حقیقت واقعہ :
واقعہ اس طرح تھا کہ ایک خوش حال آدمی جس کا نام عامیل تھا۔ اس کو اس کے چچا زاد بھائیوں نے جائداد کی خاطر قتل کردیا تھا۔ اور شہر کے دروازے پر اس کی لاش پھینک دی۔ پھر اس کے خون کا مطالبہ لیکر آگئے اللہ تعالیٰ نے ان کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا اور میت کو گائے کے گوشت کا کوئی حصہ لگانے کا حکم دیا۔ اس سے وہ زندہ ہو کر اپنے قاتل کی خبر دے گا۔
قَالُوْٓ ا اَتَتَّخِذُنَا ھُزُوًا : (انہوں نے کہا کیا تو ہم سے مذاق کر رہا ہے ؟ ) یعنی کیا تو ہمیں مذاق کی جگہ سمجھتا ہے یا مذاق والے سمجھتا ہے۔ یا تو ہمیں زیادہ استہزاء کی وجہ سے مجسمہ مذاق سمجھتا ہے۔
قراءت : ھُزْئً ہمزہ اور زاء کے سکون کے ساتھ۔ حمزہ کے ہاں اور دونوں ضمہ اور وائو کے ساتھ حفص کے ہاں ھُزْوًابقیہ قراء نے تثقیل اور ہمزہ کے ساتھ پڑھا۔
قاَلَ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجَاھِلِیْنَ : (میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ میں نادان بنوں) عیاذ اور لیاذ کے لفظ ہم معنی ہیں۔ ان اکون من الجاہلین۔ کیونکہ ایسے موقعہ پر مذاق یہ جہالت و حماقت ہے۔ اس میں ان پر تعریض کی کہ تم نے میری طرف استہزاء کی نسبت کر کے جہالت کا ارتکاب کیا ہے۔