Ayah 2:121تفسیر آیت 121:
اَ لَّذِیْنَ : (وہ لوگ) نحو : الذین اسم موصول مبتدا
اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ : (جن کو ہم نے کتاب دی) نحو : یہ صلہ ہے۔ نمبر 1: ھم سے مراد اہل کتاب کے مؤمن۔ الکتٰب سے مراد تورات وانجیل ہے۔
نمبر 2: یا اصحاب محمد ﷺ ۔ کتاب سے مراد قرآن مجید۔
یَتْلُوْنَہٗ : (وہ اس کو پڑھتے ہیں) یہ ھم سے حال مقدرہ ہے کیونکہ کتاب دئیے جانے کے وقت وہ اس کی تلاوت کرنے والے نہ تھے۔ اور
حق تلاوت کا مطلب :
حَقَّ تِلَاوَتِہٖ : (جیسے تلاوت کا حق ہے) مصدر کی وجہ سے منصوب ہے۔
ای یقرؤونہ حق قراءت ہ فی الترتیل۔ یعنی وہ اس کو پڑھتے تھے۔ جیسے پڑھنے کا حق ہے یعنی ترتیل اور ادائیگی حروف ‘ تدبرو تفکر کے ساتھ۔
یا اس پر عمل کرتے ہیں۔ اور اس کے مضمون پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور اس میں پیغمبر ﷺ کی تعریف کو
نہیں بدلتے۔
اُولٰٓپکَ : (یہی لوگ) نحو : یہ مبتدا ہے۔ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ ۔ یہ اس کی خبر ہے۔ اور یہ جملہ الذین کی خبر ہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ یتلونہٗ کو خبر مانیں۔ اور یہ جملہ دوسری خبر ہے
وَمَنْ یَّکْفُرْبِہٖ فَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنََ : -(اور جو اس کا انکار کرتے ہیں۔ وہی لوگ نقصان پانے والے ہیں) اس لیے وہ خسارہ پانے والے ہیں کہ انہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلہ میں لے لیا۔
Ayah 2:122تفسیر آیت 122:
122: یٰبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ : (اے بنی اسرائیل تم یاد کرو میری ان نعمتوں کو جو میں نے تم پر کیں) یعنی انعمتھا علیکم۔ تم پر میں نے انعام کیا۔
وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ : (اور میں نے تمہیں فضیلت دی جہاں کے لوگوں پر) میں نے تمہیں تمہارے زمانے کے لوگوں پر فضیلت دی۔
Ayah 2:123تفسیر آیت 123:
123: وَاتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّلَا یُقْبَلُ مِنْھَا عَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُھَا شَفَاعَۃٌ وَّلَا ھُمْ یُنْصَرُوْنَ : (اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔ اور نہ اس کی طرف سے معاوضہ قبول کیا جاویگا اور نہ کسی کی سفارش اسے فائدہ دے گی اور نہ ان لوگوں کی مدد کی جائے گی)
نحو : ھم مبتدا اور ینصرون خبر ہے۔ اور چاروں جملے یومًا کی صفت ہیں۔ یعنی واتقوایومًا لا تجزی فیہ۔ ولا یقبل فیہ۔ ولا تنفعھا فیہ، ولا ھم ینصرون فیہ۔
بارِ دیگر لانے کی وجہ :
سوال : ان دونوں آیات کو دوبارہ کیوں لایا گیا ؟
جواب : ان سے گناہ بار بار ہوئے گویا ہر دفعہ نیا گناہ ہوا۔ بنی اسرائیل کے واقعہ کو جس سے شروع فرمایا اسی پر ختم کیا۔
Ayah 2:124124: وَاِذِ ابْتَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ : (جب آزمایا ابراہیم کو ان کے رب نے چند کلمات کے ساتھ) واذ۔ اذکر محذوف ہے۔ ابتلاء کا معنی اوامرونواہی سے امتحان کرنا ہے اور بندوں کے اختبار کا مطلب اس چیز کا ظہور جس کو ہم نہیں جانتے۔ اللہ کی طرف سے اختبار کا مطلب جس کو اپنے علم سے جانتا ہے اس کا ظاہر فرمانا۔
نتیجہ ابتلائ :
شاہد و غائب میں کسی خفی امر کا ظاہر ہونا۔ اسی وجہ سے تو ابتلاء کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جاسکتی ہے۔
دوسرا قول : یہ کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندہ کا امتحان کرنا یہ مجاز ہے۔ اس سے کہ بندے کو دو کاموں میں ایک کے کرنے کا اختیار دے دیا جائے۔ جن کاموں کا اللہ تعالیٰ ارادہ فرمائے اور بندہ چاہتا ہے۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ اس کا امتحان لے رہے ہیں۔ اس کام میں جو بندے سے سرزد ہوگا۔ تاکہ اس کے مطابق وہ بدلہ عنایت فرمائے۔
قراءت : ابوحنیفہ (رح) نے ابراہیم ربَّہٗ ابراہیم کو رفع دیا ہے۔ ابن عباس ؓ کا یہی قول ہے یعنی دعا کے کلمات سے ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا۔ جیسے امتحان لینے والا کرتا ہے۔ کہ آیا مخاطب اس کو جواب دے گا یا نہیں۔
اکثر مفسرین کا قول :
اکثر مفسرین نے کلمات کو عشر خصال قرار دیا۔ جن میں پانچ سر اور پانچ جسم میں ہیں۔ مضمضہ، سواک، ناک میں پانی ڈالنا، مونچھیں کٹوانا۔ مانگ نکالنا۔ استنجائ۔ زیر ناف بال لینا۔ بغل کے بال نوچنا، ناخن کاٹنا، ختنہ کرنا۔
فَاَتَمَّھُنَّ : (پس انہوں نے ان کو پورا کردیا) یعنی ان کو صحیح طور پر ادا کردیا۔ بغیر کسی سستی اور اضافے کے جیسا کہ سورة نجم آیت نمبر 37 میں فرمایا۔ وَاِبْرَاھِیْمُ الَّذِیْ وَفّٰی۔
قراءت : ابوحنیفہ (رح) کے مطابق مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ نے وہ دے دیا۔ جو ابراہیم ( علیہ السلام) نے طلب کیا۔ اور ان چیزوں میں کمی نہ کی۔ اب اس کے مطابق کلمات سے مراد وہ ہے جو ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنے رب سے مانگی نمبر 1: رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَداً اٰمِنًا (البقرہ آیت نمبر 126) نمبر 2۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا (البقرہ آیت نمبر 127 نمبر 3) وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ (بقرہ آیت نمبر 128)
سنن :
وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ (البقرہ آیت نمبر 129) اور قراءت مشہورہ کے مطابق کلمات پانچ سر میں ہیں۔ مانگ نکالنا۔ مونچھیں لینا۔ مسواک کرنا۔ مضمضہ، استنشاق پانچ بقیہ جسم میں ہیں۔ ختنہ۔ ناخن کاٹنا۔ بغل کے بال اکھاڑنا۔ زیر ناف بال، استنجاء۔
سیّدنا ابن عباس ؓ کا قول :
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ شرائع کے تیس احکام ہیں جن میں سے دس سورة توبہ آیت نمبر 112۔ التَّائبون، دس احزاب کی آیت 35 میں اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ اور دس سورت مؤمنون کی آیت نمبر 9 اور معارج کی آیت نمبر 34 یخافون۔ تک میں مذکور ہیں۔
قول آخر : یہ ہے کہ یہ حج کے احکامات ہیں۔
قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا : (تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تجھ کو لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں) امام اس کو کہتے ہیں جس کی اقتداء کی جائے۔ یعنی وہ اپنے دین میں تیری اقتدا کریں گے۔
قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ : (ابراہیم ( علیہ السلام) نے کہا اور میری اولاد میں سے) یعنی تو میری اولاد میں سے مقتدا بنا جس کی لوگ اقتدا کریں، ذریۃ الرجل۔ مذکرومؤنث ہر دو اولاد کے لیے آتا ہے۔ یہ ذرء سے فعلیّۃٌ کا وزن ہے۔ ذرء کا معنی پیدا کرنا۔ ہمزہ کو یاء سے بدل دیا۔
مسلمانوں کا مقتدیٰ کافر نہیں ہوسکتا :
قَالَ لَایَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ : (کہا ہمارے اس عہد میں وہ داخل نہیں جو ظالم ہیں)
قراءت : الظالمین، حمزہ اور حفص کے نزدیک سکون یاء کے ساتھ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ امامت تیری اولاد میں سے اہل ظلم کو نہ ملے گی۔ اہل ظلم سے اہل کفر مراد ہیں۔ اس سے بتلادیا گیا۔ کہ مسلمانوں کی امامت اہل کفر کے لیے ثابت نہیں ہوسکتی۔ اور ان کی اولاد میں مسلمان و کافر دونوں ہونگے۔ جیسا سورة الصافات آیت نمبر 113 میں بارکنا علیہ تا محسن و ظالم لنفسہ مبین۔ محسن سے مراد مومن اور الظالم سے کافر مراد ہیں۔
معتزلہ کا قول :
فاسق امامت کا حقدار نہیں۔ ظالم کا امامت کے منصب پر مقرر کرنا جائز نہیں اس لیے کہ امام تو دفع ظلم کے لیے ہوتا ہے جب ظالم کو مقرر کردیا جائیگا۔ تو وہ مشہور مثال کے مطابق بن جائے گا۔ من استرعی الذئب ظلم۔ جس نے بھیڑیئے کو چرواہا بنایا اس نے ظلم کیا۔
جواب معتزلہ : یہ ظالم سے مطلق یعنی کافر مراد ہے کیونکہ مطلق ظالم وہی ہے۔
دوسرا قول : یہ ہے کہ ابراہیم ( علیہ السلام) نے سوال کیا کہ ان کا بیٹا نبی ہو۔ جس طرح ان کو نبوت ملی تو ارشادہوا کہ ظالم نبی نہیں ہوگا۔
Ayah 2:125125: وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ : (اور جب ٹھہرایا ہم نے گھر کو) بیت سے مراد کعبہ ہے یہ نام اس پر غالب آگیا جیسا کہ ثریا کو نجم کہا جاتا ہے۔
ملتجی فی الحرم کی دلیل :
مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ : (لوگوں کے لیے اجتماع کی جگہ) حجاج وعمار کے لیے مرجع ہے۔ کہ وہاں سے جدا ہو کر پھر اس کی طرف لوٹتے ہیں۔
وَاَمْنًا : (اور امن کا مقام) امن کی جگہ جنایت کرنے والا وہاں پناہ لے تو اس پر تعرض نہیں کیا جاتا۔ یہاں تک کہ وہ خود نکل جائے اور یہ ہمارے لیے مسئلہ ملتجی فی الحرم کے متعلق دلیل ہے۔
مقام ابراہیم (d) کی مراد :
وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰہِیْمَ مُصَلًّی : (اور بنا لو ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو جائے نماز) ہم نے کہا وہاں نماز کی جگہ مقرر کرلو۔ جہاں نماز ادا کیا کرو۔ آپ ﷺ کے متعلق روایت ہے کہ آپ نے عمر ؓ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا یہ مقام ابراہیم ہے تو عمر نے کہا۔ اس کو نماز کی جگہ نہ بنالیں۔ تو آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا مجھے اس کا حکم نہیں ہوا۔ ابھی سورج غروب نہ ہوا تھا کہ یہ آیت اتری۔
(ابو نعیم، ابن ابی دائود فی المصاحف بحوالہ کنز العمال ج 7/381)
دوسرا قول : یہ ہے کہ مصلیٰ سے مراد مدعیٰ اور وہ پتھر جس پر ابراہیم ( علیہ السلام) کے قدم مبارک کا اثر موجود ہے یہ مقام ابراہیم ہے۔
تیسرا قول : سارا حرم مقام ابراہیم ہے۔
قراءت : شامی ونافع نے وَاتَّخَذُوْا۔ ماضی پڑھا۔ اور جعلنا پر عطف کیا۔ یعنی اتخذالناس من مکان ابراہیم الذی وسم بہ لا ھتما مہ بہ وامکان ذریتہ عندہ قبلۃ یصلون الیھا یعنی لوگوں نے ابراہیم کے اس نشان زدہ کھڑے ہونے کی جگہ کو مہتم بالشان سمجھ کر اور ان کی اولاد کے وہاں ٹھہرنے کی وجہ سے قبلہ قرار دیا۔ کہ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔
وَعَھِدْنَآ اِلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ : (اور ہم نے کہہ دیا ابراہیم واسماعیل کو) ان دونوں کو ہم نے حکم دیا۔
طہارت کا معنی :
اَنْ طَھِّرَا بَیْتِیَ : (کہ صاف رکھو میرے گھر کو) قراءت : بَیْتِیَ ۔ یاء کے فتح کے ساتھ مدنی اور حفص نے پڑھا۔ مطلب یہ ہوا کہ تم دونوں پاک کرو۔ یا مطلب یہ ہے کہ بتوں سے اس کو پاک رکھو۔ اور تمام قسم کی انجاس وخبائث سے صاف رکھو
لِلطَّآئِفِیْنَ : (طواف کرنے والوں) اس کے گرد طواف کرنے والوں کے لیے۔
وَالْعٰکِفِیْنَ : (اور اعتکاف کرنے والوں) نمبر 1: جو اس کے پاس اعتکاف کرنے والے ہیں۔
نمبر 2: وہ مجاور جو اس کے پاس اقامت اختیار کرنے والے ہیں۔ کہ اس کے پاس سے جدا نہیں ہوتے
دوسرا قول : طائفین کے متعلق یہ ہے کہ اپنے شہروں سے وہاں کھنچ کر آنے والے ہیں۔ اور عاکفین سے مراد اہل مکہ۔
125۔ وَالرُّکَّعِِ السُّجُوْدِ : (اور رکوع و سجدہ کرنے والوں کے لئے) نماز ادا کرنے والے۔ الرُّکع یہ راکع کی جمع ہے اور السجود جمع ساجد ہے۔
Ayah 2:126وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّ اجْعَلْ ہٰذَا : (جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب بنا اس شہر کو امن والا) یعنی نمبر 1: اس شہر کو کر دے۔ نمبر 2: اس مکان کو کر دے۔
بَلَدًا ٰامِنًا کا مطلب :
بَلَدًا اٰمِنًا : (امن والا شہر) نمبر 1۔ امن والا۔ یہ اس طرح ہے جیسے عیشۃ راضیۃ۔
نمبر 2۔ ان کے لئے امن والا بنا جو اس میں رہیں یہ اس طرح ہے جیسا کہتے ہیں۔ لیل نائم۔ گہری نیند والی رات۔
نحو ! ہذا۔ یہ مفعول اول ہے اور بلدا مفعول دوم ہے اور امنا اس کی صفت ہے۔
وَّارْزُقْ اَہْلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ : (اور عطا کر اس کے رہنے والوں کو پھل) کیونکہ اہل مکہ کے ہاں پھل نہ تھے۔ پھر اس کا بدل دے۔
مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : (ان لوگوں کو جو ان میں ایمان لائیں اللہ پر اور آخرت کے دن پر) اس کے رہنے والوں میں سے۔ یہ بدل الکل سے بدل البعض ہے۔ یعنی رزق المؤمنین من اہلہ خاصۃ۔ خاص کر اس کے رہنے والے مؤمنین کو رزق عنایت فرما۔ رزق کو اپنی امامت پر قیاس کر کے ایمان والوں کے ساتھ خاص کردیا۔
قَالَ : (فرمایا) اللہ تعالیٰ نے جواباً فرمایا۔
وَمَنْ کَفَرَ : (جو کفر کرے) یعنی میں ان کو بھی رزق دوں گا۔ جنہوں نے کفر کیا۔
فَاُمَتِّعُہٗ قَلِیْلًا : (پس اس کو فائدہ اٹھانے دوں گا تھوڑا)
نمبر 1۔ تھوڑا فائدہ۔ نمبر 2۔ تھوڑا زمانہ جو اس کی زندگی کا ہے۔
قراءت : شامی۔ فَاَمْتِعُہٗ
ثُمَّ اَضْطَرُّہٗٓ : (پھر اس کو مجبور کروں گا) مجبور کروں گا۔
اِلٰی عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ : (آگ کے عذاب کی طرف اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے)
مصیر کا معنی وہ لوٹنے کی جگہ جس کی طرف پہنچتے ہیں وہ آگ ہے پس مخصوص بالذم یہاں محذوف ہے۔
Ayah 2:127127۔ وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرَاہِیمُ : (جب ابراہیم بلند کر رہے تھے) یہ زمانہ ماضی کی حکایت بیان کی۔
الْقَوَاعِدَ : (خانہ کعبہ کی بنیادیں) القواعد جمع قاعدہ کی ہے اور قاعدہ کہتے ہیں جو اوپر کے لئے بنیادو جڑ کا کام دے۔ یہ صفت غالبہ ہے ورنہ اس کا معنی قائم ہونے والی اور رفع الاساس اس پر تعمیر کرنے کو کہتے ہیں۔ کیونکہ جب اس پر تعمیر کی جائے گی۔ تو وہ پستی سے بلندی میں منتقل ہوجائے گی اور قصیر ہونے کے بعد طویل ہوجائے گی۔
مِنَ الْبَیْتِ : (بیت اللہ کی) بیت سے مراد بیت اللہ وہ کعبہ شریف ہے۔
وَاِسْمٰعِیْلُ : (اور اسماعیل) اس کا عطف ابراہیم پر ہے ابراہیم ( علیہ السلام) معماری کر رہے تھے اور اسماعیل ان کو پتھر پکڑا رہے تھے۔
رَبَّنَا : (اے ہمارے رب) وہ دونوں ربنا کہتے تھے۔ یہ فعل حال ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے اور عبداللہ نے اپنی قراءت میں اس کو ظاہر بھی کیا ہے اور اب اس کا معنی یہ ہے وہ دونوں دیواروں کو ربنا کہتے ہوئے بلند کر رہے تھے۔
تَقَبَّلْ مِنَّا : (تو ہم سے قبول کر) اس گھر کی تعمیر کے سبب ہمارا قرب اپنی بارگاہ میں قبول کر۔
اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ : (بےشک تو ہر بات سننے والا ہے) ہماری دعائوں کو سننے والے۔
الْعَلِیْمُ : (اور ہر بات جاننے والا ہے) ہمارے بواطن اور نیات کو جاننے والے ہیں۔ آیت میں قواعد کو پہلے مبہم رکھا اور پھر اس ابہام کے بعد واضح کردیا اس میں مبین کی عظمت شان کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔
Ayah 2:128تفسیر آیت 128:
رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ : (اے ہمارے رب تو بنا ہمیں اپنا فرمانبردار)
نمبر 1۔ مسلمین کا معنی ہم اپنے چہروں کو تیرے لئے خالص کرنے والے ہیں اور یہ اسی طرح ہے جیسا البقرہ آیت نمبر 112 میں من اسلم وجہہ للّٰہ۔
دوسرا قول : عاجز و فرمانبرداری اختیار کرنے والے ہیں۔ یہ اس طرح ہے جیسے کہیں اسلم لہ واستسلم۔ یعنی عاجزی کی اور یقین کرلیا۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے اخلاص اور اپنے اوپر یقین میں اضافہ فرما۔
وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَآ : (اور ہماری اولاد میں سے) نحو : یہ اجعل کے متعلق ہے تو ہماری اولاد میں سے کر دے۔
اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ : (ایک فرمانبردار جماعت) نمبر 1۔ من تبعیضیہ ہے نمبر 2۔ بیانیہ ہے۔
مراد امت :
امت سے مراد ایک قول کے مطابق امت محمد ﷺ ہے۔
سوال : اپنی اولاد کو دعا میں کیوں خاص کیا ؟
سوال کا مدلل جواب :
جواب : اولاد شفقت کی سب سے زیادہ حقدار ہے جیسا کہ سورة التحریم آیت نمبر 6 میں قوا انفسکم واہلیکم نارا فرمایا ہے۔ (کہ تم اپنے آپ اور اپنے اہل کو آگ سے بچائو)
وَاَرِنَا مَنَا سِکَنَا : (اور ہماری عبادت کے طریقے ہمیں بتا) اَرِ کا لفظ رأی سے بنا ہے اس کا معنی دکھانا یا بتلانا ہے۔ اس لئے اس کو دو مفعولوں کی ضرورت نہیں پڑی۔ یعنی تو ہمیں حج میں عبادت کے مقامات دکھا۔ یابتلا۔ مناسک کا واحد منسک ہے۔ سین (س) کی زیر و زبر دونوں کے ساتھ استعمال ہوتا ہے اور اس کا معنی عبادت کے مقامات ہیں۔ اس لئے عبادت کرنے والے کو ناسک کہتے ہیں۔
قراءت : (مکی نے أَرْنَا پڑھا۔ اس کو فَخْذٌ کے لفظ پر قیاس کیا۔ ابوعمرو نے رکو کسرہ کا اشمام دے کر پڑھا۔
وَتُبْ عَلَیْنَا : (اور توبہ قبول کر) نمبر 1۔ جو ہم سے کوتاہی پیش آگئی ہو۔
نمبر 2۔ اپنی اولاد کے لئے دونوں نے توبہ طلب کی۔ یعنی ہماری اولاد کو معاف فرما۔
اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ : (بےشک تو توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے)
Ayah 2:129تفسیر آیت 129:
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ : (اے ہمارے رب تو بھیج ان میں) سے مراد امت مسلمہ ہے۔
رَسُوْلًا مِّنْہُمْ : (رسول انہی میں سے) انہی میں سے پس اللہ تعالیٰ نے ان میں محمد ﷺ کو بھیجا۔ آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا۔ انا دعوۃ ابی ابراہیم و بشریٰ عیسیٰ و رؤیا امّی۔ (رواہ احمد۔ الحاکم ٗالبزار) میں اپنے والد ابراہیم ( علیہ السلام) کی دعا اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کی بشارت اور اپنی والدہ کا خواب ہوں) خواب یہ تھا۔ کہ آپ کی والدہ محترمہ نے ولادت سے قبل ایک روشنی اپنے سے نکلتی ہوئی دیکھی جس نے مکہ کو بھر دیا۔
یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ : (جو ان پر تیری آیات پڑھے) ان پر پڑھتا ہے اور ان کو پہنچاتا ہے۔ جو اس کی طرف وحی کے ذریعہ تیری وحدانیت کے دلائل اور انبیاء اور رسل ( علیہ السلام) کی صداقت کے دلائل بھیجے جاتے ہیں۔
وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ : (اور ان کو تعلیم دے کتاب) کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔
وَالْحِکْمَۃَ : (و حکمت کی) سنت اور فہم قرآن مراد ہے۔
وَیُزَکِّیْہِمْ : (اور ان کو پاک و صاف بنائے) وہ ان کو شرک اور تمام نجاستوں سے پاک کرتا ہے۔
اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ : (بےشک تو زبردست) وہ غالب جو مغلوب نہ ہو۔
الْحَکِیْمُ : (تدبیر والا ہے) اس چیز میں جس کا اس نے تمہیں مالک بنایا۔
Ayah 2:130تفسیر آیت 130:
وَمَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّۃِ اِبْرٰہٖمَ : (نہیں اعراض کرتا ملت ابراہیم سے) یہ استفہام انکاری ہے اور اس بات کا شدت سے انکار کیا گیا۔ کہ واضح حق سے بےرغبتی اختیار کرنے والا عقل مند نہیں ہے۔ اور واضح حق ملت ابراہیم ہے۔ الملّۃ۔ طریقہ، سنت۔ زجاج (رح) نے اسی طرح کہا ہے۔
اِلَّامَنْ : (مگر وہ)
نحوی تراکیب :
یہ یرغب کی ضمیر سے بدل ہے اور محل رفع میں واقع ہے اور بدل ہی صحیح ہے۔ کیونکہ جو منہ موڑنے والا ہے وہ لازم کرنے والا نہیں۔ جیسا کہتے ہیں۔ ہل جاءک احدٌ الا زید ٗ تیرے پاس سوائے زید کے کوئی نہیں آیا۔ اب آیت کا معنی یہ بنے گا۔ نہیں اعراض کرتا ملت ابراہیم سے مگر وہ۔
مفاہمت کا مفہوم :
سَفِہَ نَفْسَہٗ : (بےوقوف ہے جس کا نفس) یعنی جس کا نفس جاہل ہے۔
نمبر 1۔ ای جہل نفسہ (یعنی وہ اپنے دل میں سوچتا نہیں) ۔ یہاں سفہ کو جھل کی جگہ لائے اور اس کو اس کی طرح شمار کرلیا۔
نمبر 2۔ دوسرا قول۔ یہ ہے کہ جس کے نفس میں حماقت ہے۔ پس فی کو حذف کردیا جس طرح مِنْ کو اعراف آیت نمبر 155 سے واختار موسٰی قومہ۔ اور عَلٰی کو سورة بقرہ آیت نمبر 235 ولا تعزموا عقدۃ النکاح ای علی عقدۃ النکاح۔ یہ دو صورتیں زجاج کے نزدیک ہیں مگر فراء (رح) نے کہا کہ یہ تمیز کی وجہ سے منصوب ہے۔ مگر یہ قول ضعیف ہے۔ کیونکہ وہ معرفہ ہے۔
ملت ابراہیم (d) کا حکم :
وَلَقَدِ اصْطَفَیْنٰہُ فِی الدُّنْیَا 5 وَ اِنَّہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ : اس میں اس آدمی کی رائے کی غلطی بتلائی جو ملت ابراہیم سے منہ موڑنے والا ہے کیونکہ جو شخص دونوں جہاں کی عظمت کا جامع ہو تو اس کے طریقے کی طرف رغبت کرنے سے بڑھ کر کسی کا طریقہ نہیں۔
Ayah 2:131تفسیر آیت 131:
اِذْ قَالَ : (جب کہا) نحو۔ نمبر 1۔ یہ اصطفیناہ کا ظرف ہے۔
نمبر 2۔ یا اذکر مضمر کی وجہ سے منصوب ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا۔ اس وقت کو یاد کرو تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے وہی منتخب و صالح ہیں۔ کہ جن کی ملت قابل اعراض نہیں۔
لَہٗ رَبُّہٗٓ اَسْلِمْ : (ان کو ان کے رب نے تو فرمانبردارہو جا) یقین کر یا اطاعت کر یا اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کر۔
قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ : (کہا میں نے اپنے تمام کاموں کو اللہ تعالیٰ کے لئے خاص کیا۔ میں خالص ہوا میں نے خالص کیا۔ یا میں مطیع ہوا۔
Ayah 2:132مرجع ضمائر :
وَ وَصّٰی بِہَآ : (اور اس کی وصیت کی) قراءت مدنی و شامی نے اَوْ صٰی پڑھا۔
نمبر 1۔ ہَا کی ضمیر سے مراد ملت ہے یا نمبر 2۔ کلمہ اسلمت لرب العالمین ہے۔
اِبْرٰہٖمُ بَنِیْہِ وَ یَعْقُوْبُ : (ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے کہا) یعقوب یہ ابراہیم پر معطوف ہے اور اس کے حکم میں داخل ہے اور مطلب یہ ہے کہ یعقوب ( علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو بھی وصیت کی۔
یٰـبَنِیَّ : (اے میرے بیٹو) قال مضمر ہے۔
چنا ہوا دین :
اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی لَکُمُ الدِّیْنَ : (بےشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں چن کر دین دیا) یعنی تمہیں وہ دین دیا جو دینوں میں منتخب شدہ ہے۔ وہ دین اسلام ہے اس کو تھامنے کی تمہیں توفیق دی۔
ثابت قدمی کا حکم :
فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ : (پس تم مسلمان ہو کر ہی مرنا) تمہاری موت اسلام پر ثابت قدمی کی حالت میں ہونی چاہیے۔ حقیقت میں اس بات کی ممانعت کی گئی کہ موت کے وقت ان کی حالت اسلام کے خلاف نہ ہونی چاہیے۔ جیسا کہتے ہیں۔ لاتصل الا وانت خاشع یعنی تمہیں نماز خشوع کے ساتھ پڑھنی چاہیے۔ اس میں نماز کی ممانعت نہیں بلکہ نماز میں خشوع کے ترک کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔
Ayah 2:133تفسیر آیت 133:
اَمْ کُنْتُمْ شُہَدَآئَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ : (کیا تم موجود تھے جب یعقوب ( علیہ السلام) کا آخری وقت آیا)
ام کی اقسام :
نمبر 1۔ ” اَمْ “ منقطعہ ہے۔ ہمزہ انکار کے لئے ہے شہداء جمع شہید اس کا معنی حاضر ہے۔ یعنی یعقوب ( علیہ السلام) کی موت کے وقت تم حاضر نہ تھے۔ یہاں خطاب ایمان والوں کو فرمایا۔ اب مطلب یہ ہوا۔ کہ تم اس وقت موجود نہ تھے۔ تمہیں ان کے متعلق وحی سے علم ہوا۔
نمبر 2۔ دوسرا قول۔ ” اَمْ “ متصلہ ہے اس سے قبل مقدر محذوف ہے اور اس وقت خطاب یہود کو ہے۔ کیونکہ وہ کہا کرتے تھے۔ کہ جو پیغمبر بھی فوت ہوا۔ وہ یہودیت پر فوت ہوا۔ تو ان کو مخاطب کر کے گویا فرمایا کہ تم انبیاء ( علیہ السلام) پر یہودیت کے دعویدار ہو ؟ کیا تم حاضر تھے جبکہ یعقوب ( علیہ السلام) کو موت آئی ؟
اِذْ قَالَ : (جب انہوں نے اپنے) نمبر 1۔ یہ پہلے اذ سے بدل ہے اور ان دونوں میں شہداء کا لفظ عامل ہے۔
یا نمبر 2۔ حَضَرَ کا ظرف ہے۔
لِبَنِیْہِ مَاتَعْبُدُوْنَ مِنْم بَعْدِیْ : (بیٹوں کو کہا تم لوگ میرے بعد کس کی پوجا کرو گے)
ما ؔ کی تفصیل :
نحو : ماؔ استفہامیہ ہے اور تعبدون کی وجہ سے محل نصب میں واقع ہے مطلب یہ ہے۔ کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو ؟ ماؔ عام ہے ہر چیز کے لئے آتا ہے یا مامعبود کی صفت کے متعلق سوال کے لئے ہے۔ جیسا تم کہو۔ مازید ترید افقیہ ام طبیب زید کے متعلق تم کیا جانتے ہو کہ وہ فقیہ ہے یا طبیب من بعدی۔ میری موت کے بعد
الہ کو دوبارہ لانے کی وجہ :
قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰـہَکَ وَاِلٰــہَ اٰبَآپکَ : (انہوں نے کہا ہم اس کی عبادت کریں گے جو تیرا اور تیرے آباء کا ہے) ۔ الٰہ کا ذکر دوبارہ کیا گیا تاکہ ضمیر مجرور پر عطف بغیر اعادئہ حرف جار کے لازم نہ آئے۔
اِبْرٰہٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ : (ابراہیم ٗ اسماعیل ٗ اسحاق کا معبود ہے) یہ ٰاباءک سے عطف بیان ہے۔
سوال : آباء میں اسماعیل ( علیہ السلام) کا ذکر کیا حالانکہ وہ ان کے چچا ہیں۔
جواب : چچا بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے۔ آپ ( علیہ السلام) نے عباس ؓ کے متعلق ارشاد فرمایا۔ ہذٰ بقیۃ آبائی (ابن ابی شیبہ)
نحوی لطائف :
اِلٰـہًا وَّاحِدًا : (یعنی ایک معبود ہے) نمبر 1۔ یہ الٰہ ابائک سے بدل ہے جس طرح العلق کی آیت 15۔ 16 میں ناصیہ۔ بالناصیۃ ناصیۃ کا ذبۃ۔
نمبر 2 دوسرا قول : اختصاص کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعنی ہم تیرے آباء کے معبود سے ایک ہی معبود مراد لیتے ہیں۔ وَّنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ (اور ہم اسی کی فرمانبرداری کرنے والے ہیں) نحو نمبر 1: یہ نعبد کے فاعل سے حال ہے ہم اس کی عبادت کرنے والے ہیں۔ اس حال میں کہ ہم اس کے فرمانبردار ہیں۔
نمبر 2 دوسرا قول : یہ نعبد پر جملے کا عطف ہے گویا یہ مقولہ ثانی ہے۔
تیسرا قول : جملہ معترضہ ہے جو تاکید کے لئے لایا گیا۔
Ayah 2:134134۔ تِلْکَ : (وہ) یہ امت مذکورہ کی طرف اشارہ ہے یعنی ابراہیم اسماعیل و یعقوب اور ان کی موحد اولاد
اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ : (ایک جماعت تھی جو گزری) گزر چکی
غیر کی کمائی کام نہ آئے :
لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَـکُمْ مَّا کَسَبْتُمْ : (ان کے لئے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لئے جو تم نے کمایا) یعنی کسی کو غیر کی کمائی کام نہ دے گی۔ خواہ کان کو مقدم مانیں یا مؤخر۔ کہ ان کو وہ چیز فائدہ دے گی جو انہوں نے کمائی۔ پس اسی طرح تمہیں وہ چیز کام آئے گی جو تم نے کمائی۔ یہ بات فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے باپوں پر فخر کر کے (برائیوں پر ڈھٹائی اختیار کرنے والے تھے) اور اعمال کو کوئی حیثیت نہ دیتے تھے۔
وَلَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ : (اور تم سے ان کے عملوں کی باز پرس نہ ہوگی) انکی برائیوں کا تمہیں مؤاخذہ بھگتنا نہ پڑے گا۔
Ayah 2:135135۔ وَ قَالُوْا کُوْنُوْا ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی : (اور کہتے ہیں کہ یہودی یا نصرانی ہوجائو) یعنی یہود نے کہا تم یہودی بن جائو۔ نصاریٰ نے کہا تم نصرانی بن جائو۔
تَہْتَدُوْا : (تو ہدایت پا جائو گے) یہ مجزوم ہے کیونکہ یہ امر کا جواب ہے۔
قُلْ بَلْ مِلَّۃَ اِبْرٰہٖمَ : (کہہ دیں بلکہ ہم تو ملت ابراہیم پر رہیں گے) بلکہ ہم تو ملت ابراہیم کی اتباع کرینگے۔
حنیف کا مفہوم :
حَنِیْفًا : (جو تمام سے یکسو تھے) حنیفاً یہ ابراہیم سے حال ہے جیسا کہ کہتے ہیں رایت وجہ ہند قائمۃً میں نے ہندہ کا چہرہ دیکھا اس حال میں کہ وہ کھڑی ہے۔ الحنیفؔ ہر دین باطل سے دین حق کی طرف جھکنے والا۔
تعریض بر مشرکین :
وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ : (اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے) یہ اہل کتاب پر تعریض ہے کیونکہ وہ سب ملت ابراہیم کی اتباع کے دعویدار تھے حالانکہ وہ شرک پر تھے۔
Ayah 2:136136۔ قُوْلُوْا : (تم کہو) نمبر 1۔ یہ ایمان والوں کو خطاب ہے۔
نمبر 2۔ یہ کفار کو خطاب ہے یعنی تم ان کو کہو کہ تم حق قبول کرلو ورنہ تم باطل پر ہو۔
اٰمَنَّابِاللّٰہِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْنَا : (ہم اللہ پر ایمان لائے اور جو ہماری طرف اتارا گیا) انزل الینا سے مراد قرآن مجید ہے۔
سبط کی تفسیر :
وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓی اِبْرَاہٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَ سْبَاطِ : (اور جو ابراہیم ( علیہ السلام) اور اسماعیل اسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد کی طرف بھیجا گیا) السبط کا معنی پوتے ٗ نواسے ٗ حسن و حسین ؓ سبط رسول اللہ ﷺ ہیں۔ ای الاسباط حفدۃ یعقوب کے پوتے اور ان کے بارہ بیٹوں کی اولاد مراد ہے۔
نحوی تحقیق :
: انزل کا لفظ الی اور علی دونوں کے ساتھ متعدی بنتا ہے اس لئے یہاں الی کے ساتھ ہے۔ اور آل عمران میں عَلٰی کے ساتھ ہے۔
تفسیر آیت 136:
وَمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی وَمَآ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّہِمْ لَانُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍِ مِّنْہُمْ : (اور اس پر جو دیئے گئے موسیٰ ، عیسیٰ اور جو انبیاء ( علیہ السلام) کو ان کے رب کی طرف سے ملا ہم ان میں سے کسی ایک میں تفریق نہیں کرتے) جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے کیا۔ احدؔ۔ کا معنی یہاں جماعت ہے اس لئے بین کا لفظ اس پر داخل ہوسکتا ہے۔
وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ : (اور ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں) اللہ تعالیٰ کے ساتھ اخلاص اختیار کرنے والے ہیں۔
Ayah 2:137مثل کے صحیح مفہوم کی وضاحت میں تین اقوال :
137۔ فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اہْتَدَوْا : (پس اگر وہ ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے تو بیشک وہ ہدایت پاجائیں گے) آیت کا ظاہر مشکل ہے اس لئے کہ اس سے لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی مثل ہو حالانکہ وہ اس سے بلند وبالا ہے۔
نمبر 1۔ پس کہا گیا ہے کہ بازاء اور مثل یہ مصدر محذوف کی صفت ہے اصل عبارت یہ ہے۔
فان امنوا ایمانا مثل ایمانکم۔ پس اگر وہ ایمان لائیں ایسا ایمان جو تمہارے ایمان کی طرح ہو ہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے۔ اور بآء کا اضافہ نئی چیز نہیں ہے جیسا اللہ تعالیٰ نے سورة یونس آیت نمبر 27 والذین کسبوا السیئات جزاء سیئۃ بمثلہا۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ جزاء سیئۃ مثلہا۔ برائی کی جزا اس کی مثل سے ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے جزاء سیئۃٍ سیئۃٌ مثلہا۔ الشوریٰ آیت نمبر 40 میں ہے۔ برائی کی جزاء اس کی مثل برائی سے ہے۔
دوسرا قول : مثل کا لفظ زائد ہے تقدیر عبارت یہ ہے فان امنوا ما امنتم بہ (اگر وہ ایمان لائیں جس ذات پر تم ایمان لائے ہو۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی قراءت بما آمنتم بہ۔ اس کی تائید کرتی ہے۔
مآالذی کے معنی میں ہے اور اس کی دلیل حضرت ابی ابن کعب ؓ کی قراءت بالذی آمنتم بہ ہے۔
تیسرا قول : باء استعانت کے لئے ہے جیسا کہتے ہیں۔ کتبت بالقلم۔ اب مطلب یہ ہوا فان دخلوا فی الایمان بشہادۃ مثل شہادتکم التی امنتم بہا۔ پس اگر وہ داخل ہوں ایمان میں شہادت کے ساتھ جو تمہاری اس شہادت جیسی ہو جس کے ساتھ تم ایمان لائے ہو۔
انحراف کا مطلب :
وَاِنْ تَوَلَّوْا : (اور اگر وہ انحراف کریں) نمبر 1۔ اس میں سے جو تم انہیں کہتے ہو تو انہوں نے انصاف نہ کیا۔
نمبر 2۔ دوسرا قول : اگر تم شہادت اور ایمان میں شہادت کے ساتھ داخلے سے منہ موڑو۔
فَاِنَّمَاہُمْ فِیْ شِقَاقٍ : (تو پس وہ ضد پر ہیں) یعنی پس وہ مخالفت اور دشمنی میں مبتلا ہیں۔ وہ طلب حق میں کسی چیز پر نہیں۔
غلبہ اہل کتاب :
فَسَیَکْفِیْکَہُمُ اللّٰہُ : (پس کافی ہے تمہاری طرف سے ان کو اللہ) اس میں رسول اللہ ﷺ کو اہل کتاب پر غلبہ کی ضمانت دی گئی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ان یہود میں سے بعض کے قتل اور بعض کی جلاوطنی سے پورا ہوا۔ سینؔ کا معنی یہ ہے کہ وہ وعدہ ہر صورت میں پورا ہونے والا ہے۔ اگرچہ کچھ دیر سہی۔
وَہُوَالسَّمِیْعُ : (اور وہ ہر بات کو سننے) جو کچھ وہ کہتے ہیں۔
ممانعت و وعید :
الْعَلِیْمُ : (اور جاننے والا ہے) جو وہ حسد اور کینہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو خود سزا دیں گے۔ نمبر 1۔ یہود کے لئے وعید ہے۔
نمبر 2۔ رسول اللہ ﷺ کے لئے وعدہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ سنتے ہیں۔ جو آپ دعائیں کرتے ہیں۔ اور وہ آپ کی نیت سے واقف ہے اور آپ کے غلبہ دین کے ارادے کو جانتا ہے۔ وہ ان دعائوں کو قبول فرمائے گا اور آپ کو منزل مقصود پر پہنچائے گا۔
Ayah 2:138صبغۃ اللہ کی مراد حقیقی :
138۔ صِبْغَۃَ اللّٰہِ : (ہم نے اللہ تعالیٰ کا رنگ لے لیا) نحو۔ صبغۃ اللّٰہ سے مراد اللہ کا دین یہ مصدر مؤکد ہے اور اٰمنا باللّٰہ سورة البقرۃ آیت نمبر 8۔ منصوب ہے۔ یہ فِعلۃٌ کا وزن ہے جو صبغ سے ہے جیسے جِلسۃ جَلَسَ سے۔ صبغۃ دراصل اس حالت کو کہتے ہیں۔ جس پر رنگنا واقع ہوتا ہے۔ مراد اللہ تعالیٰ کا پاک کرنا ہے کیونکہ ایمان دلوں کو پاک کرتا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ نصاریٰ اپنے بچوں کو زرد پانی میں ڈبوتے اور اس کو معمودیہ کہتے اور کہتے یہ بچوں کی تطہیر ہے جب ان میں سے کوئی یہ فعل کرلیتا تو کہتا اب وہ واقعۃً نصرانی بن گیا اس پر مسلمانوں کو حکم ملا کہ وہ ان کو کہیں۔
اٰمنا باللّٰہ وصبغنا اللّٰہ بالایمان صبغۃ ولم نصبغ صبغتکم ہم اللہ پر ایمان لائے اور اللہ نے ہمیں ایمان سے خوب رنگ دیا۔ ہم تمہارے رنگ میں اپنے آپ کو نہیں رنگتے آیت میں لفظ صبغہ مشاکلت کے لئے لایا گیا۔ جیسے کہتے ہیں جو درخت لگائے۔ اغرس کما یغرس فلان۔ مراد اس سے وہ آدمی ہے جو نیکی کا کام کر رہا ہو۔
وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃً : (اور کس کا رنگ اللہ کے رنگ سے بہتر ہے) یہ صبغۃً تمیز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ لاصبغۃ احسن من صبغتہ۔ کہ کوئی رنگ اس کے رنگ سے زیادہ خوب نہیں۔ مراد اس سے دین یا تطہیر ہے۔
عطف آمنا پر :
وَّنَحْنُ لَہٗ عٰبِدُوْنَ : (اور ہم اس کی عبادت کرنے والے ہیں) یہ آمنا باللہ پر عطف ہے۔ یہ عطف اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ صبغۃ اللہ کا قول یہ قولوا آمنا کے مفعول میں داخل ہے۔ ان قولو اہذا و ہذا ونحن لہٗ عابدون۔ کہ تم یہ کہو اور یہ بھی کہو کہ ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔
بعض کا قول :
یہ ترکیب ان لوگوں کی تردید کر رہی ہے جو صبغۃ اللہ ملۃ ابراہیم کا بدل مانتے ہیں۔ یا اغراء کی بناء پر منصوب قرار دیتے ہیں۔ یعنی علیکم صبغۃ اللّٰہ تم صبغۃ اللّٰہ کو لازم پکڑو۔ کیونکہ اس سے نظم قرآن ٹوٹتا ہے اور کلام کا اپنے باہمی جوڑ ربط سے نکالنا لازم آتا ہے۔ (جو مناسب نہیں) اور مصدر مؤکد کہہ کر منصوب قرار دینا یہ سیبویہ کا قول ہے اور بہتر قول وہی ہے جو حزام نے کہا اور ہم نے اولاً نقل کیا۔
Ayah 2:139تفسیر آیت 139:
قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنََا فِی اللّٰہِ : (کہہ تو کیا تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑتے ہو) یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کی شان میں ہم سے جھگڑا کرتے ہو اور اس پر جھگڑتے ہو کہ اس نے تمہاری بجائے عرب سے پیغمبر چنا۔ اور تم کہتے ہو کہ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی پر کلام اتارنا ہوتا تو وہ ہم پر اتارتا۔ گویا تم اپنے کو نبوت کا بڑا حق دار قرار دیتے ہو۔
وَہُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّکُمْ : (حالانکہ وہ ہمارا رب ہے اور تمہارا رب) ہم اس کے بندے ہونے میں سب شریک ہیں اور وہ ہمارا رب ہے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور عظمت اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے ان کو پہنچاتا ہے۔
وَلَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ : (اور ہمارے لئے ہمارے اعمال اور تمہارے لئے تمہارے (اعمال) یعنی عمل امر کی بنیاد ہے جس طرح کے تمہارے لئے اعمال ہیں اور اسی طرح کے ہمارے لئے بھی ہوں گے۔
وَنَحْنُ لَہٗ مُخْلِصُوْنَ : (اور ہم اسی کو خالص ماننے والے ہیں) کہ ہم اس کی وحدانیت کو ماننے والے ہیں اس کو ایمان میں خالص کرتے ہیں اور تم شریک ٹھہراتے ہو اور مخلص عظمت کے زیادہ لائق ہے کہ اس کا احترام کیا جائے اور وہ دوسروں کی بہ نسبت نبوت کا بھی حقدار ہے۔
Ayah 2:140140۔ اَمْ تَقُوْلُوْنَ : (کیا تم کہتے ہو) قراءت۔ یہ شامی اور کوفی نے ابوبکر کے علاوہ تائؔ کے ساتھ پڑھا ہے۔
ام کونسا ہے ؟
نمبر 1۔ اس صورت میں اَمْ ہمزہ کے معادل ہے جو اَتُحَاجُّوْنَنَا میں ہے یعنی کونسا کام تم کرو گے ؟ اللہ کے حکم میں حجت بازی یا دعویٰ یہودیت اور نصرانیت انبیاء ( علیہ السلام) کے متعلق ؟
نمبر 2 دوسرا قول : اَمْ منقطعہ ہے یعنی بلکہ کیا تم کہتے ہو ؟
یقولونؔ دوسروں نے یائؔ سے پڑھا ہے اس صورت میں ہمزہ منقطعہ ہی ہوسکتا ہے۔
اِنَّ اِبْرٰہٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَ سْبَاطَ کَانُوْا ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی : (کہ ابراہیم، اسماعیل ٗ اسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا نصرانی تھے) پھر اپنے پیغمبر ﷺ کو حکم دیا۔ کہ ان کو بطور استفہام کہے انہی کی بات کو ان پر لوٹاتے ہوئے۔
قُلْ ئَ اَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰہُ : (کہہ دیں کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ) یعنی بیشک اللہ نے ان کے لئے (مسلمانوں کیلئے) تو ملت اسلام کی گواہی دی ہے۔ اپنے اس قول میں۔ ما کان ابراہیم یہودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما۔ سورة آل عمران آیت نمبر 67
ملتِ حنیفی کا چھپانے والا ظالم :
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِ : (اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اس گواہی کو چھپائے جو اس کے پاس ہو اللہ تعالیٰ کی طرف سے) جس نے اللہ تعالیٰ کی اس گواہی کو چھپایا جو اس کے پاس ہے۔ وہ شہادت ابراہیم ( علیہ السلام) کے متعلق حنفیّت کی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اہل کتاب سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔ کیونکہ انہوں نے اس گواہی کو چھپا دیا۔ حالانکہ اس کو جانتے ہیں۔ یا اگر ہم اس گواہی کو چھپاتے تو ہم سے بڑا کوئی ظالم نہ ہوتا۔ پس ہم تو اس کو نہیں چھپاتے۔ اس میں ان پر تعریض کی۔ کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے متعلق نبوت کی گواہی کو جو ان کی کتابوں میں موجود ہے چھپا رہے ہیں۔ مِنَ اللّٰہ میں مِن اس طرح ہے جیسے کہتے ہیں ہذہ شہادۃ منِّی لفلان اذا شہدت لہ گویا یہ اس کی صفت ہے
وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ : (اور اللہ تعالیٰ بیخبر نہیں ان عملوں سے جو تم کرتے ہو) یعنی تکذیب رسل اور کتمانِ شہادت۔
Ayah 2:141ماکسبت کا مقصد :
تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَّا کَسَبْتُمْ وَلَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ : (یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ان کے لئے ہے جو انہوں نے کیا اور تمہارے کام آئے گا جو تم کرتے ہو۔ تم سے ان کے متعلق پوچھ گچھ نہ ہوگی۔
نمبر 1۔ یہ تاکید کے لئے لائے۔
نمبر 2۔ پہلی مرتبہ لا کر انبیاء ( علیہ السلام) مراد ہیں۔ اور دوسری مرتبہ لا کر اسلاف یہود و نصاریٰ مراد لیے ہیں۔
Ayah 2:142تفسیر آیت 142:
سَیَقُوْلُ السُّفَہَآئُ مِنَ النَّاسِ مَاوَلّٰہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمُ الَّتِیْ کَانُوْا عَلَیْہَا قُلْ لِّلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ 1 یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ : (عنقریب بیوقوف لوگ کہیں گے کہ ان کو کس بات نے پھیر دیا ہے ان کے اس قبلہ سے جس پر یہ تھے کہہ دیں کہ مشرق و مغرب خدا ہی کے ہیں وہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف چلاتا ہے)
سفیہ کی مراد :
السّفہآء۔ کم عقل اصل سفہ کی ہلکا پن ہے۔ اس سے مراد۔ نمبر 1۔ یہود ہیں کیونکہ وہ کعبہ کی طرف رخ کرنا ناپسند کرتے تھے اور شریعت کے منسوخ ہونے کے قائل نہ تھے۔
نمبر 2۔ منافقین ہیں۔ اس لئے کہ وہ مسلمانوں پر طعن و استہزاء کے بہت دلدادہ تھے۔
نمبر 3۔ مشرکین ہیں کیونکہ وہ کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ نے اپنے آبائو اجداد کے قبلہ سے اعراض کیا پھر اب اس کی طرف لوٹ آئے ہیں۔ قسم بخدا وہ اپنی قوم کے دین کی طرف بھی ضرور لوٹ آئیں گے۔
نکتہ : معاملے کے پیش آنے سے پہلے بتلانے کا فائدہ یہ ہے کہ اس عظیم انقلاب کا نفس عادی بن جائے دفعۃً خلاف طبع چیز سے زیادہ گرانی ہوتی ہے نیز مخالف کے اعتراض کا جواب دینے کے لئے طبیعت مستعد ہوجائے۔ جیسا کہ تیر اندازی سے پہلے تیر کو پر لگائے جاتے ہیں۔
قبلہ کا معنی :
مَا وَلّٰہم۔ کس چیز نے ان کو پھیر دیا۔ عن قبلتہم التی کانوا علیہا۔ اس سے مراد بیت المقدس لیتے تھے۔ القبلۃؔ وہ جہت جس کا نماز میں انسان رخ کرتا ہے کیونکہ نمازی اسی کا سامنا کرتا ہے۔ (اصل میں ہیئت قبلہ کو کہتے ہیں) قل للّٰہ المشرق والمغرب۔ کہہ دیں کہ مشرق و مغرب خدا ہی کے ہیں۔ یعنی مشرق و مغرب کے علاقے اور تمام زمین اسی کی ملکیت ہے۔ یہدی من یشآء الی صراط مستقیم۔ وہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف چلاتا ہے۔
درست قبلہ ؟
مستقیم۔ برابر درست یعنی جس کو چاہتا ہے اس کی راہنمائی درست قبلہ کی طرف کردیتا ہے۔
نمبر 1۔ اور وہ کعبہ ہے جس کی طرف ہمیں رخ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
یا نمبر 2۔ تمام مکان اللہ ہی کے ہیں۔ پس وہ جدھر چاہتا ہے ادھر رخ کرنے کا حکم دیتا ہے کبھی کعبہ کی طرف اور کبھی بیت المقدس کی طرف (اس میں خصوصیت مکانی کو دخل نہیں) اور نہ کسی کو اعتراض کا حق ہے۔ کیونکہ حقیقی اکیلا بادشاہ وہی ہے۔
Ayah 2:143آیت 143:
وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا : (اسی طرح ہم نے تم کو معتدل امت بنایا) کذٰلک جعلنٰکم اس عجیب بنانے کی طرح ہم نے تمہیں بنایا۔
نحوی تحقیق :
نحو : کذلک میں کاف تشبیہ کے لئے ہے اور ذَا اسم اشارہ ہے جو کاف کا مجرور ہے لامؔ اشارہ قریب (ذا) اور اشارہ بعید کے درمیان فرق کے لئے لایا گیا۔ ک،ؔ ضمیر خطاب ہے اس کا کوئی محل اعراب نہیں۔
امت وسط کا معنی :
امۃ وسطا نمبر 1۔ افضل و بہتر۔ بہتر کو وسط بھی کہا جاتا ہے اس لئے کہ خرابی اطراف میں جلد اثر پذیر ہوتی ہے اور درمیان محفوظ رہتا ہے۔
سب سے بہتر قبلہ :
مطلب یہ ہے جس طرح میں نے تمہارا قبلہ سب قبلوں سے بہتر بنایا۔ اسی طرح میں نے تمہیں سب سے افضل امت بنایا اور بنانے کی وجہ یہ ہے تاکہ تم غور سے وہ دلائل جان لو جو تمہارے لئے مقرر کیے گئے۔ اور تم پر کتاب اتاری گئی تاکہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی پر بھی بخل نہیں کیا اور نہ ظلم ٗ بلکہ راستے واضح کردیئے اور رسولوں کو روانہ فرمایا۔ جنہوں نے اس کے پیغامات کو پہنچا دیا اور امتوں کی کامل خیر خواہی کی مگر پھر بھی کفار کو ان کی بدبختی نے شہوات کی پیروی اور دلائل سے اعراض کی طرف موڑ دیا۔ پس اے امت محمدیہ تم اس بات کی گواہی اپنے ہم عصروں اور اپنے سے ماقبل اور مابعد کے متعلق دو گے۔
وسط کی تفسیر دوم :
وسط کا معنی معتدل۔ کیونکہ وسط اطراف کے درمیان میں ہوتا ہے وہ کسی بھی طرف کے قریب تر یا بعید نہیں ہوتا۔ معنی یہ ہوگا۔ جس طرح ہم نے تمہارے قبلہ کو مشرق و مغرب کے درمیان معتدل بنایا۔ اسی طرح تمہیں معتدل امت بنایا۔ جو غلو اور تقصیر کے درمیان ہے۔ پس تم نہ تو نصاریٰ جیسا غلو کرتے ہو کہ مسیح ( علیہ السلام) کو الوہیت کے درجہ تک پہنچا دیا اور نہ کوتاہی کرنے والے ہو جس طرح یہود نے حضرت مریم سلام اللہ علیہا پر تہمت زنا لگائی اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کو (نعوذ باللہ) ولدالزنا قرار دیا۔
علت امت ِوسط :
لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ (تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو) نحو : شہداؔ غیر منصرف ہے اس میں الف ممدودہ برائے تانیث ہے۔
عَلَی النَّاسِ : یہ شہداء کا صلہ ہے یکون الرسول علیکم شہیدا اور رسول تم پر گواہ ہوں یہ لتکونوا پر عطف ہے ( لام تعلیلیہ لا کر امت وسط کی علت بیان کردی)
روایت میں ہے کہ امتیں قیامت کے دن انبیاء ( علیہ السلام) کی تبلیغ کا انکار کردیں گی۔ پس اللہ تعالیٰ انبیاء ( علیہ السلام) سے ان کے پیغام پہنچانے کے گواہ طلب کرے گا۔ حالانکہ وہ تو خوب جانتا ہے پس امت محمد ﷺ کو گواہی کے لئے لایا جائے گا۔ وہ گواہی دیں گے تو اس وقت امتیں کہیں گی۔ تمہیں یہ کہاں سے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے پیغام پہنچا یا۔ پس امت محمدیہ جواب دے گی۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی اطلاع دینے سے معلوم کیا جو اس نے اپنے پیغمبر صادق کی زبان پر اتاری۔ اس وقت محمد ﷺ کو بلایا جائے گا اور امت کا حال دریافت کیا جائے گا۔ پس آپ اپنی امت کی عدالت کی گواہی دیں گے اور تزکیہ کا سرٹیفکیٹ عنایت کریں گے۔ باقی شہادت کبھی بلا مشاہدہ بھی ہوتی ہے۔ جیسا کہ مشہور اشیاء کے بارے میں سن کر شہادت۔
لفظ عَلٰی کا راز :
یہ حرف استعلاء ہے اور شہادت نگرانی کی طرح ہے اور شہید نگران کی طرح ہے اسی لئے کلمہ استعلاء لائے۔ جیسا ارشاد الٰہی ہے۔ کنت انت الرقیب علیہم مائدہ آیت نمبر 117
ایک اور تفسیر :
یہ ہے تاکہ تم لوگوں پر دنیا میں گواہی دینے والے بنو یہ شہادت عدول واخیار کی معتبر ہے۔
وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا : (اور رسول اللہ ﷺ تم پر گواہ ہوں) یعنی رسول تمہارا تزکیہ کریں اور عدالت بیان کریں گے۔
قول شیخ ابو منصور (رح) :
شیخ ابو منصور (رح) فرماتے ہیں اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اجماع امت حجت ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کی صفت عدل سے بیان کی اور عادل ہی مستحق شہادت ہے اور اسی کی شہادت قابل قبول ہے۔ پس جب امت کے لوگ کسی بات پر جمع ہوجائیں اور اس کی گواہی دے دیں۔ تو اس بات کا قبول کرنا ضروری ہے۔
نکتہ : شہادت کے لفظ کا صلہ پہلی مرتبہ تو بعد میں لائے اور دوسری مرتبہ پہلے لائے۔ کیونکہ پہلی دفعہ میں امتوں کے خلاف ان کی شہادت کو ثابت کرنے کا ذکر ہے اور دوسرے میں رسول اللہ ﷺ کا خاص امت کے حق میں گواہی دینا مذکور ہے۔ (علیکم کی تقدیم کیا لطف دے رہی ہے)
القبلہ کی مراد :
وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْہَآ : (اور نہیں بنایا تھا ہم نے وہ قبلہ جس پر آپ پہلے تھے) یعنی نہیں بنایا ہم نے اس قبلہ والی جہت کو جس پر آپ تھے۔ اور وہ کعبہ ہے پس التی کنت علیہا یہ القبلہ کی صفت نہیں بلکہ یہ جعل کا مفعول دوم ہے۔ روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں کعبہ کی طرف نماز ادا کرتے تھے پھر ہجرت کے بعد بیت المقدس کی طرف نماز کا حکم ہوا۔ تاکہ یہود مانوس ہوں۔ (آپ کا نبی قبلتین ہونا تورات میں ہے اس لئے صخرہ کی طرف نماز کا حکم ہوا۔
اصول : اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سنت کا نسخ کتاب اللہ سے جائز ہے۔ (امام شافعی (رح) کا اس میں اختلاف ہے) کیونکہ بیت المقدس کی طرف منہ کرنا وحی غیر متلو سے ثابت ہے اور اس کا نسخ قرآن مجید کی آیت سے ہوا۔
نعلم کی تفسیر :
اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ : (مگر اس لئے کہ ہم ظاہر کردیں ان لوگوں کو جو پیروی کریں رسول کی ان لوگوں سے جو پھرجائیں الٹے پائوں) نمبر 1۔ یعنی تبدیلی کعبہ والی جہت جو آپ کو پسند ہے۔ اس غرض سے ہوئی۔ تاکہ ہم اس شخص کو جان لیں جو اسلام پر پختگی سے قائم رہنے والا ہے اور کون اضطراب کی وجہ سے الٹے پائوں پھرنے والا ہے۔ اس سے یہ بتلایا کہ تحویل قبلہ کے وقت کئی لوگ اسلام سے پھرجائیں گے۔
قول شیخ ابومنصور (رح) :
شیخ ابو منصور (رح) نے فرمایا : لنعلم کا معنی یہ ہے کہ جس شخص یا چیزکا ہم پہلے ہونا جانتے تھے۔ اس کا موجود ہونا جان لیں۔ یعنی ہمارا علم اس کے وجود سے متعلق ہوجائے کہ وہ پائی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ازل سے اس شیٔ کو جانتا ہے جس کے وجود کا وہ ارادہ رکھتا ہے کہ وہ چیز اس وقت پائی جائے گی جس میں وہ اس کا وجود چاہے گا اور ازل میں یہ کہنا صحیح نہیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی فلاں شیٔ کو جواب تک موجود نہیں ہوئی۔ ازل میں موجود جانتا ہے۔ کیونکہ جو شیٔ موجود نہیں ہوئی اس کو موجود کس طرح جان سکتا ہے۔ پس جب وہ وجود میں آجائے گی تو وہ علم ازلی کے تحت داخل ہوجائے گا۔ پس وہ چیز اس کو معلوم ہوجائے گی اور وہ موجود ہوجائے گی۔ تو اس اعتبار سے تبدیلی معلوم میں آئی۔ علم میں تبدیلی لازم نہیں آئی۔
دیگر اقوال :
یا دوسرا قول یہ ہے تاکہ ہم جدا کردیں تابع کو نافرمان سے جیسا اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
لِیَمِیْزَ اللّٰہُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ (الانفال : 37) پس اس قول میں علم کی جگہ تمییز کا لفظ لایا گیا۔ کیونکہ تمییز علم سے حاصل ہوتی ہے۔
یا تیسرا قول : تاکہ رسول اللہ ﷺ اور مومن جان لیں گویا ان کے علم کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں۔
یا چوتھا قول : یہ ہے کہ جو نہیں جانتے ان کو ملاطفت کے طور پر خطاب کیا جس طرح کہتے ہیں۔ اس آدمی کو جو سونے کے پگھلنے کا منکر ہو۔ فلنلقہ فی النار لنعلم أیذوب۔ کہ ہم اس کو آگ میں ڈالتے ہیں۔ تاکہ ہم جان لیں کہ آیا وہ پگھلتا ہے۔
(تو یہاں منکر کو سمجھانے کے لئے اپنے آپ کو اس کے ساتھ شامل کر کے اس پر فعل کو ثابت کرنا مقصود ہے) آیت میں بھی نعلم کا صیغہ خطاب ان سے ملاطفت کے لئے استعمال فرمایا گیا ہے۔
لکبیرہ کی تفسیر :
وَاِنْ کَانَتْ لَکَبِیْرَۃً : (بےشک یہ گراں گزرا ہے) یعنی تحویل یا جعل یعنی کرنا ٗ بنانا یا قبلہ۔ نحو۔ کانت کی ضمیر ان تین میں سے کسی ایک کی طرف ہے۔
لکبیرۃًبھاری اور گراں۔ یہ اِنْ دراصل اِنَّ ہے اور لکبیرۃ، کان کی خبر ہے اور لام ان شرطیہ اور مخففہ میں فرق کیلئے لایا گیا ہے۔
اِلَّا عَلَی الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ : (مگر ان پر جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی) یعنی اللہ تعالیٰ نے جن کو ہدایت و اتباع رسول پر صادق و ثابت قدم فرمایا۔
ایمان سے مراد نماز ہے :
وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ : (اور اللہ ایسا نہیں کہ ضائع کر دے تمہارے ایمان) ایمان سے مراد بیت المقدس کی طرف پڑھی جانے والی نمازیں ہیں۔ نماز کو یہاں ایمان فرمایا۔ کیونکہ نماز اہل ایمان پر ہی واجب ہے اور وہی اس کو قبول کرنے والے ہیں اور جماعت کے ساتھ اس کی ادائیگی علامت ایمان ہے۔
شان نزول : جب رسول اللہ ﷺ نے کعبہ کی طرف رخ کرلیا تو صحابہ کرام ؓ نے کہا۔ ان لوگوں کا کیا بنے گا ؟ جو تحویل قبلہ سے پہلے فوت ہوگئے۔ تو یہ آیت اتری۔ (بخاری ومسلم)
اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ : (بےشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر شفقت رکھنے والے بڑے مہربان ہیں) یہ ماقبل کی تعلیل ہے۔ (یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ان کی کی ہوئی عبادات جو اس کے حکم کے مطابق تھیں ضائع کر دے)
اختلافِ قراءت : حجازی ٗ شامی ٗ حفص رحمہم اللہ نے لَرَئُ وْفٌ کو فعول کے وزن پر ضمہ کو خوب ظاہر کر کے پڑھا اور دیگر قراء نے فَعُلٌ کے وزن پر اختلاس حرکت کے ساتھ پڑھا ہے یہ دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں۔ الرأفۃؔ بہت زیادہ رحمت و شفقت۔ رحیمٌ مہربان جو ان کے اجر کو ضائع نہ کرے گا۔
نکتہ : (دونوں کو اسی طرح جمع کردیا جیسا بسم اللہ میں الرحمٰن الرحیم کو (بہت زیادہ رحمت کو مقدم اور خصوصی کو مؤخر لایا گیا۔ نیز مقطع آیات کا بھی لحاظ ہوگیا)