Ayah 2:174174۔ شان نزول : یہ آیت یہود کے ان سرداروں کے متعلق اتری جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صفت تبدیل کردی اور اس پر رشوت بھی لی۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ الْکِتٰبِ وَیَشْتَرُوْنَ بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلاً اُولٰٓپکَ مَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ اِلَّا النَّارَ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ: (بےشک وہ لوگ جو چھپاتے ہیں ان آیات کو جو اللہ تعالیٰ نے اتاریں کتاب میں اور اس کے بدلے لیتے ہیں قیمت یہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ بھر کر کھاتے ہیں۔ ان سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے) یکتمون مآ انزل اللّٰہ وہ چھپاتے ہیں اس چیز کو جو اللہ تعالیٰ نے اتارا یعنی صفات محمد ﷺ ثمنًا قلیلا تھوڑی قیمت یعنی بدلہ یا قیمت والی (مراد دنیا اور اغراض دنیا ہیں) ۔
اکل بطن کی تشریح :
اولٰٓپک مایأ کلون فی بطونھم۔ وہ اپنے پیٹوں میں نہیں کھاتے یعنی پیٹ بھر۔ عرب کہتے ہیں فلان اکل فی بطنہ وا کل فی بعض بطنہ یعنی پیٹ بھر کھایا ٗ الا النار۔ مگر آگ۔ اس لئے کہ جب ایسی چیز کھائی جس کی سزا آگ ہے تو گویا آگ کھائی۔ اور عرب کہتے ہیں۔ اکل فلان الدم کہ فلاں تو خون کھاتا ہے۔ یہ اس وقت بولتے ہیں جب کوئی مال دیت کھاجائے۔ کیونکہ دیت خون کے بدلہ میں حاصل ہوتی ہے۔ شاعر نے کہا۔
یاکلن کل لیلۃ اکافًا۔ ا کاف سے ثمن اکاف مراد ہے
وہ ہر رات پالان یعنی پالان کی قیمت کھاتی ہیں ثمن اکاف کو اکاف بہت مناسبت کی وجہ سے کہہ دیا۔
کلام سے مراد :
ولا یکلمہم اللّٰہ۔ ان سے اللہ تعالیٰ کلام نہ فرمائیں گے۔ کلام سے مسرور کن کلام مراد ہے لیکن اس طرح کا کلام اخسئوا فیھا ولا تکلمون۔ المؤمنون آیت نمبر 108 جو دھتکارنے کے لئے ہے وہ کہا جائے گا۔ ولا یزکیھم۔ نمبر 1۔ نہ ان کو گناہوں کی میل سے پاک کریں گے۔
نمبر 2۔ یا اللہ تعالیٰ انکی مدح وثناء نہ کرے گا۔ ولھم عذاب الیم۔ اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ الیم : بمعنی مولم ہے۔
نحو : تینوں جملوں کا عطف اِنَّ کی خبر پر ہے۔ گویا چاروں جملے اِنّ کی خبر ہیں۔
Ayah 2:175تفسیر آیت 175:
اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بِالْہُدٰی وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَۃِ فَمَآ اَصْبَرَھُمْ عَلَی النَّارِ ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ نَزَّلَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْکِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍم بَعِیْدٍ : ( یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی اور مہر کے بدلے قہر لے لیا پس کتنا صبر ہے ان کو آگ پر۔ یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سچی کتاب اتاری اور جنہوں نے کتاب میں اختلاف کیا وہ سخت ضد میں ہیں) اُولٰٓپکَ یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب یعنی حضرت محمد ﷺ کی تعریف کو چھپایا۔ (تاکہ انکار کریں جو عذاب و گمراہی کا سبب ہیں) ۔
استفہام توبیخی :
فَمَآ اَصْبَرَھُمْ عَلَی النَّارِ ۔ کتنا صبر ہے ان کا آگ پر یہ استفہام تو بیخی ہے یعنی کس چیز نے ان کو صابر بنادیا۔ اس عمل پر جو آگ کی طرف لے جانے والا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کو جہنم کی آگ پر بڑا صبر ہے۔
Ayah 2:176تفسیر آیت 176:
ذٰلک : اس کا مشار الیہ عذاب ہے یعنی یہ عذاب اس سبب سے ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے جو کتب سماویہ اتاری ہیں وہ برحق ہیں۔ اختلفوا جنہوں نے اختلاف کیا یعنی اہل کتاب فی الکتٰب۔ اس میں الف لام جنس کا ہے اللہ تعالیٰ کی تمام کتابیں مراد ہیں۔ انہوں نے بعض کتابوں کو برحق اور بعض کو باطل قرار دیا۔
شقاق بعید کا مطلب :
لفی شقاق۔ شقاق کا معنی مخالفت۔ بعید۔ دور یعنی حق سے دور۔
دوسرا قول : ان کا یہ کفر اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن برحق اتارا اور جنہوں نے اس کے متعلق اختلاف کیا وہ ایسی مخالفت میں مبتلا ہیں جو ہدایت سے بہت دور ہے۔
Ayah 2:177تفسیر آیت 177:
لَـیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ ٰامَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰٓپکَۃِ وَالْکِتٰبِ وَالنَّبِیِّیْنَ ۔ وَ ٰاتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ ۔ وَالسَّآپلِیْنَ وَفِی الرِّقَابِ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ ٰاتَی الزَّکٰوۃَ ۔ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَھْدِھِمْ اِذَا عٰھَدُوْا۔ وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآئِ وَالضَّرَّآئِ وَحِیْنَ الْبَاْسِ اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ۔ ( نیکی یہ نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق و مغرب کی طرف کرو۔ بلکہ نیکی ان کی ہے جو اللہ پر ایمان لائے اور فرشتوں پر اور کتاب پر اور پیغمبروں پر اور مال کی محبت کے باوجود مال دیا رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں اور مسافروں اور سائلوں کو اور گردنیں چھڑانے میں اور قائم کرتے رہے نماز اور پورا کرنے والے ہیں اپنے عہد کو جب وہ عہد کرتے ہیں اور صبر کرنے والے ہیں۔ تنگی اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت۔ یہی لوگ سچے ہیں اور یہی لوگ پرہیزگار ہیں)
اصلی بر کیا ہے ؟
لیس البر ان تولوا۔ تمہارا مشرق و مغرب کی طرف منہ پھیرنا نیکی نہیں اس میں خطاب نصاریٰ کو ہے کیونکہ ان کا قبلہ بیت المقدس کی جانب مشرق تھا اور یہود کا قبلہ بیت المقدس کی مغربی جانب تھا اور ان میں سے ہر ایک کا خیال یہی تھا۔ کہ اصل نیکی اسی کے قبلہ کی طرف منہ پھیرنا ہے۔ ان کی تردید فرمائی کہ جو تم کہتے ہو یہ درست نہیں بلکہ وہ تو منسوخ ہے۔
نمبر 1۔ ولکن البر۔ لیکن نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا۔
نمبر 2۔ دوسرا قول : نیکی والا وہ ہے جو ایمان لایا اللہ تعالیٰ پر۔ ان دونوں اقوال کے مطابق مضاف محذوف ہے مگر پہلا قول ان میں سے عمدہ ہے۔ البرّ ۔ کا معنی ہر نیکی اور ہر پسندیدہ فعل کو کہتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ مسلمانوں اور اہل کتاب نے قبلہ کے معاملے میں بہت دلچسپی لی۔ تو ان کو یہ بات سمجھائی گئی یہ کوئی بڑی نیکی نہیں۔ کہ جس میں مصروف ہو کر تم نیکی کی سب اقسام کو بھول جائو۔ لیکن جو نیکی واجب الاہتمام ہے وہ اس شخص کی ہے۔ جو ایمان لایا اور ان اعمال کو انجام دیا۔
نحو : البر لیس کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور ان تولوا بتاویل مصدر اسم ہے۔
اختلافِ قراءت :
البرّ کو نصب کے ساتھ حمزہ اور حفص نے پڑھا ہے اور نافع اور شامی نے وَلٰکِنَّ الْبِرُّ امام مبرد فرماتے تھے اگر میں قاری ہوتا تو میں اس طرح پڑھتا۔ لٰکِنَّ الْبِرَّ ایک قراءت میں لٰکِنَّ البَارَّ پڑھا گیا ہے۔
والیوم الاٰخر۔ آخرت کے دن سے مراد اٹھنے کا دن ہے۔
والملائکۃ والکتاب۔ نمبر 1۔ الف لام کتاب پر جنس کا ہے اللہ تعالیٰ کی تمام کتب اگر عہد کا ہو تو قرآن مجید مراد ہے۔ والنّبیّین وٰاتی المال علٰی حبہٖ ۔
ضمیر کے مراجع :
نمبر 1۔ حُبّہٖ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے یعنی مال اللہ تعالیٰ کی محبت میں خرچ کیا۔
نمبر 2۔ یا مال کی طرف یعنی مال کی محبت کے باوجود اس کو دیا۔
نمبر 3۔ الایتاء کی طرف لوٹتی ہے مراد یہ ہے مال دے رہا ہو اس حالت میں کہ وہ اس کے دینے میں دل سے راضی و خوش ہو۔ ذوی القربٰی۔ قرابت والے ان کو مقدم زیادہ حقدار ہونے کی وجہ سے کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا تمہارا مسکین پر صدقہ تو ایک صدقہ شمار ہوگا اور رشتہ دار پر صدقہ اور صلہ رحمی کا ثواب ملے گا۔ (ترمذی ٗ نسائی)
والیتامٰی۔ یتیم سے مراد قرابت والے فقراء اور یتامٰی ہیں اور مطلق اسلئے لائے۔ کیونکہ التباس کا خطرہ نہیں۔
مسکین کی تعریف :
والمساکین جمع مسکین جو لوگوں میں ہمیشہ سکون پکڑنے والا ہو کیونکہ اسکے پاس کچھ نہیں جس سے چلے پھرے مثلاً سِکّیر۔ جو ہمیشہ نشہ میں رہتا ہو۔ وابن السبیل اگرچہ لفظاً مفرد ہے مگر مراد اس سے جنس ہے اسکو ابن السبیل کہنے کی وجہ سے سفر کا لازم لینا ہے یا مہمان ہونے کی وجہ سے ابن سبیل کہا۔ والسائلین۔ سوال کرنے والے سے مراد کھانا طلب کرنے والے۔ وفی الرقاب۔ گردنوں میں سے مراد مکاتبین کی گردنیں آزاد کروانے میں یا قیدی چھڑوانے میں واقام الصلٰوۃ صلوٰۃ سے فرضی نماز مراد ہے۔
یہاں زکوٰۃ سے مراد :
واتی ٰالزکٰوۃ۔ فرضی زکوٰۃ ہے بعض نے کہا یہ اول کی تاکید ہے۔
دوسرا قول : یہ ہے کہ اول سے مراد نفلی صدقات اور نیکی کے اعمال ہیں۔ الموفون پورے کرنے والے اپنے عہد کو جب وہ عہد کرتے ہیں۔ اس کا عطف مَن ٰامن پر ہے اور عہد سے اللہ کا عہد یا لوگوں کا عہد مراد ہے۔ والصابرین۔ شدائد میں صبر کی فضیلت کو ظاہر کرنے کے لئے فعل مدح و تخصیص سے منصوب ہے ای امدح الصابرین۔ اسی طرح قتال کے مقامات کی فضیلت تمام اعمال سے برتر ثابت کرنے کے لئے اسے منصوب ذکر کیا۔ فی الباساء۔ بأساء سے فقر و شدت مراد ہے والضرآء مرض اور اپاہج پن۔ حین البأس۔ لڑائی کا وقت اولئک الذین صدقوا یعنی ان صفات والے ہی وہ لوگ ہیں جو دین میں سچے ہیں اور وہی متقی ہیں۔
Ayah 2:178آیت : 178۔ یٰٓـاَ ۔ یُّـہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی۔ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْثٰی بِالْاُنْثٰی فَمَنْ عُفِیَ لَہ ‘ مِنْ اَخِیْہِ شَیْئٌ فَاتِّبَاعٌ م بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآئٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَاٍنط ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ رَحْمَۃٌ۔ فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔
(اے ایمان والو فرض کیا جاتا ہے تم پر بدلہ لینا مقتولوں میں۔ آزاد کے بدلے آزاد قتل کیا جائے غلام کے بدلے غلام اور عورت کے عوض عورت۔ پس جس شخص کو معاف کردیا جائے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ تو دستور کے موافق چلنا چاہیے اور اچھے انداز سے چلنا چاہیے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے آسانی اور مہربانی ہے پھر جو شخص زیادتی کرے۔ اس کے بعد تو اس کے لئے درد ناک عذاب ہے ) ۔
طرزِ جاہلیت :
روایات میں آیا ہے کہ عرب کے بعض قبیلوں میں جاہلیت کے زمانے میں خون کا معاملہ تھا اور ایک کو دوسرے پر طاقت اور قوت حاصل تھی۔ تو انہوں نے قسم اٹھائی۔ کہ ہم دوسرے قبیلے کے آزاد کو غلام کے بدلے میں قتل کریں گے اور ان کے مرد کو عورت کے بدلے میں قتل کریں گے اور ایک کے بدلے میں ان کے دو قتل کریں گے۔ جب اسلام آیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے معاملے میں فیصل بنایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ یٰٓایھا الذین ٰامنوا کہ اے ایمان والو۔ کُتب یعنی فرض کردیا گیا۔
مفہومِ قصاص :
علیکم القصاص۔ قصاص اصل میں برابری کو کہتے ہیں۔ اصل میں یہ اس محاورے سے لیا گیا ہے۔ قص اثرہ واقتصہ۔ یہ اس وقت کہتے ہیں جب کسی کا پیچھا کیا جائے۔ اسی لئے قصہ کہانیاں بیان کرنے والے کو قاص کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ حکایات کا پیچھا کرتے ہیں۔ القتلٰی جمع قتیل۔ اب مطلب یہ ہوا۔ کہ تم پر فرض کیا گیا کہ تم برابری اور مساوات اختیار کرو۔ مقتولین میں الحر بالحر یعنی آزاد پکڑا جائے گا یا مقتول ہوگا آزاد کے بدلے العبد بالعبد امام شافعی کا قول آزاد کو غلام کے بدلے میں اس آیت کی وجہ سے قتل نہ کیا جائے گا اور ہمارے نزدیک قصاص آزاد اور غلام کے درمیان بھی جاری ہوگا۔ جیسا اس آیت میں ہے جو سورة مآئدۃ آیت نمبر : 45۔ ان النفس بالنفس۔ کہ جان کے بدلے جان۔ جیسا کہ مذکر و مؤنث کے درمیان آپ کے اس ارشاد سے المسلمون تتکافأد ماء ھم۔ ( ابودائود۔ ابن ماجہ) مسلمانوں کے خون برابر ہیں۔
نفوس میں تفاضل معتبر نہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر ایک جماعت ایک آدمی کو قتل کرے تو اس کے بدلہ میں ان سب کو قتل کیا جائے۔ اس لیے کہ حکم کا کسی نوع سے مخصوص ہونا دوسری نوع کی نفی نہیں کرتا۔ بلکہ حکم اس میں دلیل کے آنے تک موقوف رہے گا اور یہاں تو دلیل موجود ہے۔ جیسا ہم واضح کرچکے۔
عفو کی تحقیق :
فمن عفی لہ۔ عفو یہ عقوبت کی ضد ہے۔ کہا جاتا ہے۔ عفوت عن فلان جب کہ اس سے در گزر کیا جائے اور اس کی سزا سے اعراض کیا جائے۔ یہ جانی یا جنایت کی طرف متعدی عن کے ساتھ ہوتا ہے۔ جیسا کہ البقرہ 52 ثم عفونا عنکم پھر ہم نے تمہارا گناہ معاف کردیا اور الشورٰی آیت نمبر 25 ویعفوا عن السّیّاٰت۔ وہ بہت سی برائیاں معاف کرتا ہے اور جب یہ دونوں جمع ہوجائیں تو پہلے کی طرف لام سے متعدی ہوگا۔ جیسے عفوت لہ عن ذنبہ۔ میں نے اسے اس کا گناہ معاف کردیا۔ اور حدیث میں ہے عفوت لکم عن صدقۃ الخیل والرقیق۔ (ابودائود) میں نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوٰۃ تمہیں معاف کردی۔ یعنی چھوڑ دی۔
حضرت امام زجاج (رح) کا بیان :
زجاج (رح) فرماتے ہیں۔ من عفی لہ کا معنی جس کا دیت کی وجہ سے قتل چھوڑ دیا جائے۔ (یعنی معاف کردیا جائے) ازہری نے کہا عفو لغت میں زائد کو کہتے ہیں۔ جیسے سورئہۃ بقرہ کی آیت 219 میں ویسئلونک ماذا ینفقون قل العفو۔ اور کہا جاتا ہے عفوت لفلان بمال۔ جبکہ مال اس کو دے اور مہربانی سے زائد دے۔ وعفوت لہ عمالی علیہ جبکہ اس کے ذمہ جو کچھ تھا اس کو چھوڑ دیا جائے۔
قولِ جمہور :
جمہور مفسرین آیت کا معنی یہ بتاتے ہیں۔ بس جس آدمی کو اس کے بھائی کی جانب سے معاف کردی جائے کوئی چیز زائد۔ اس معنی میں فعل کی نسبت مصدر کی طرف کی گئی ہے جیسے کہ اس مثال میں سیر بزید بعض السیر زید کو کچھ چلایا گیا۔
الاخ لانے کی حکمت :
الاخ اس سے مراد مقتول کا وارث بھائی ہے اور اس لفظ سے تعبیر کر کے در حقیقت مہربانی پر آمادہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ دونوں آدم ( علیہ السلام) کی اولاد اور اسلام کے رشتے میں منسلک ہیں۔ مَن سے مراد وہ قاتل ہے جس کو اس کا گناہ معاف کیا جا رہا ہے۔ یہاں آیت میں دوسرے مفعول کی ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا گیا۔ اور بعض نے کہا۔ کہ لہٗ کا لفظ عنہ کی بجائے لایا گیا۔ اور ضمیر لہ اور اخیہ میں یہمن کی طرف راجع ہے اور علیہ میں بھائی کی طرف راجع ہے۔ یا متبع کے لئے ہے اس کے لئے فاتباع کا لفظ دلالت کررہا ہے اب مطلب یہ ہوا کہ مطالبہ کرنے والا قاتل کا پیچھا کرے۔ کس طریقے کے ساتھ۔ یعنی اچھے انداز سے مطالبہ کرے۔ تاکہ اس کو مطلوب ادا کردیا جائے یعنی قاتل خون کا بدلہ احسان کے ساتھ ادا کرے ٹال مٹول نہ کرے۔ اور نہ اس میں کمی کرے۔ شیٔ من العفو کہا گیا ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اگر بعض خون کا حصہ معاف کردیا گیا۔ یا بعض وارثوں نے معاف کردیا۔ تو اس وقت معافی کامل ہوگئی۔ اور قصاص ختم ہوگیا۔
دوسرا قول :
نمبر 2۔ جنہوں نے عفی کی تفسیر شی ٔ کے لفظ کو مفعول بہ بنانے کے بغیر کی ہے اور اسی طرح جنہوں نے اعطی کے ساتھ کی ہے یعنی ان الولی اذا أعطی لہ شیٔ من مال اخیہ۔ یعنی القاتل بطریق الصلح فلیا خذہ بمعروف من غیر تعنیف و لیؤدّہ القاتل الیہ بلا تسویف۔ بیشک ولی کو جب کوئی چیز اپنے بھائی کے مال میں سے دی جائے یعنی قاتل کے مال میں سے بطور صلح تو اس ولی کو چاہیے کہ وہ اس مال کو دستور کے مطابق لے لے۔ اس میں کوئی سختی نہ برتے۔ اور قاتل بھی اس کو مال بغیر افسوس کے ادا کرے۔
نحو : اتباع کا لفظ مرفوع ہے کیونکہ یہ مبتداء مضمر کی خبر ہے یعنی الواجب اتباع یعنی واجب ہے اتباع کرنا اس حکم کا جو کہ معافی کے سلسلے میں ذکر کیا گیا۔ ذٰلک اس سے مراد عفو اور دیت لینے کا جو حکم پیچھے ذکر ہوا تخفیف من ربکم ورحمۃ۔ یہ تخفیف ہے تمہارے رب کی طرف سے اور مہربانی ہے۔ اس لئے تورات میں قتل کے علاوہ دوسرا حکم نہیں تھا اور انجیل میں معافی بغیر بدلے کے تھی۔ اور کوئی حکم نہ تھا۔ ہمارے لئے قصاص اور عفو اور مال صلح کے طریقے سے لینا آسانی اور وسعت کی خاطر جائز کیا گیا۔
دلالت آیت :
یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ کبیرہ گناہ کرنے والا مومن ہے کیونکہ قتل کے پائے جانے کے باوجود ایمان کے ساتھ اس کی تعریف ذکر کی گئی اور ایمان کے ساتھ قائم ہونے والا بھائی چارہ باقی رہا۔ اور وہ تخفیف اور رحمت کا حق دار بن گیا۔
تعدی کی تفسیر :
فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ : (جو شخص حد سے بڑھا اس کے بعد) یعنی تخفیف کے بعد اور اس نے تجاوز کیا۔ جو اس کے لئے جائز نہیں تھا۔ جیسے غیر قاتل کو قتل کرنا یا دیت لینے کے بعد بھی قاتل کو قتل کردینا فَلَـہٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ پس اس کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ الیم۔ سے مراد یہاں آخرت میں سخت درد ناک قسم کا عذاب ہے۔
Ayah 2:179تفسیر آیت 179:
وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ : (تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے اے عقل والو) یہ کلام انتہائی فصیح ہے کیونکہ اس میں غرابت پائی جاتی ہے۔
قصاص بڑی زندگی ہے :
نمبر 1۔ قصاص میں انسان قتل ہوجاتا ہے اور اس کی زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ مگر آیت میں اس کو حیٰوۃ کے لئے بطور ظرف کے ذکر کیا گیا اور قصاص کو معرفہ لایا گیا۔ اور حیٰوۃ کے لفظ کو نکرہ لا کر خوب بلاغت ظاہر کردی۔ کیونکہ مطلب یہ بنا۔ کہ تمہارے لئے حکم کی اس قسم میں سے جو کہ قصاص ہے۔ بہت بڑی زندگی ہے۔ اس لئے کہ اس سے اس چیز کی روک تھام کی گئی کہ جو ان میں ایک شخص کے بدلے ایک جماعت کا قتل کردینے کا رواج تھا۔ تو گویا سب کی زندگی بچ گئی۔
نمبر 2۔ پس فرمایا کہ قصاص میں زندگی ہے۔ یعنی خاص قسم کی زندگی ہے۔ یا اعلیٰ قسم کی زندگی ہے اور وہ وہی زندگی ہے جو قتل سے رک جانے کے بنا پر حاصل ہوئی۔ کیونکہ اس کو بھی معلوم ہوگیا۔ کہ اگر وہ بھی قتل کرے گا۔ تو اس سے قصاص لیا جائے گا۔ اس لئے جب وہ قتل کا ارادہ کرے گا۔ تو یہ بات یاد آتے ہی وہ قتل سے باز رہے گا۔ پس اس کا ساتھی اس کے ہاتھ سے قتل ہونے سے بچ جائے گا۔ اور وہ قصاص سے بچ جائے گا۔ پس قصاص کا حکم انسانوں کی زندگی کا سبب بن گیا۔ یٰٓاولی الالباب۔ اے عقل والو۔ لعلکم تتقون۔ تاکہ تم قتل سے بچ جائو قصاص سے ڈرتے رہو۔
Ayah 2:180تفسیر آیت 180:
کُتِبَ عَلَیْکُمْ اِذَا حَضَرَاَحَدَکُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَکَ خَیْرَا اڑلْوَصِیَّۃُ لِلْوَالِدَیْنِ وَالْاَ قْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ : کتب۔ فرض کیا گیا۔ اذا حضر احد کم الموت۔ جب موت آموجود ہو موت آموجود ہونے کا مطلب اسباب موت کا ظاہر ہونا ہے۔
مال کو خیر فرمایا :
خیر۔ کا معنی کثیر مال۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ میرے آزاد کردہ غلام نے وصیت کا ارادہ کیا اور اس کے پاس سات سو درہم تھے۔ تو میں نے اس کو منع کیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے وصیت کے بارے میں فرمایا۔ ان ترک خیرا۔ اگر بہت مال چھوڑے اور تیرے پاس مال نہیں۔ (ابن ابی شیبہ)
الوصیّۃ۔ یہ کُتِبَ کا نائب فاعل ہے۔
وصیت و ارث :
نمبر 1۔ ابتدائے اسلام میں وصیت وارث کے حق میں ثابت تھی۔ پھر سورة نساء کی آیت میراث سے منسوخ کردی گئی جیسا کہ ہم شرح المنار میں ذکر کرچکے ہیں۔
نمبر 2: یہ منسوخ نہیں بلکہ یہ ان کے متعلق ہے جو کفر کی وجہ سے وارث نہیں کیونکہ وہ لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے۔ آدمی مسلمان ہوتا اور اس کے والدین اور دیگر قرابت والے اسلام نہ لاتے اور اسلام رشتہ وراثت کو منقطع کردیتا ہے پس ان میں قرابت کے حق کی ادائیگی کے لئے استحباب کے طور پر وصیت جاری کی گئی۔ اس صورت میں کُتِبَکا معنی فرض نہیں ہوگا۔ (بلکہ لکھ دیا گیا ہوگا) بالمعروفکا معنی عدل ہے۔ اس طرح نہیں کہ مال دار کے لئے وصیت کرے اور فقیر کے لئے نہ کرے اور ثلث مال سے تجاوز بھی نہ کرے حقاً یہ مصدر مؤکد ہے یعنی حق ذلک حقاً ۔ یہ ثابت و لازم کیا گیا ہے لازم کرنا علی المتقین۔ ان لوگوں پر جو شرک سے بچنے والے ہیں۔
Ayah 2:181تفسیر آیت 181:
فَمَنْم بَدَّلَہٗ بَعْدَ مَا سَمِعَہ ‘ فَاِنَّمَآ اِثْمُہٗ عَلَی الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَہ ‘ ط اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ: (جو وصیت کو بدل دے اس کے بعد کہ سن چکا۔ تو اس کا گناہ ان لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ سننے والے خبر رکھنے والے ہیں)
فمنم بدلہ۔ جس شخص نے اپنی طرف سے بدل دیا۔ جبکہ وصیت کرنے والوں اور گواہوں کی طرف سے وصیت شرع کے موافق تھی۔ بعد ماسمعہ۔ سن لینے کے بعد یعنی وصیت کردینے کے بعد فانما اثمہ علی الذین یبدلونہ۔ اس کا گناہ ان پر ہے جو اس کو بدلتے ہیں۔ یعنی تبدیل کرنے کا گناہ بدلنے والوں کے ذمہ ہے۔ موصی یا موصٰی لہٗ کے ذمہ نہیں۔ کیونکہ وہ تو اس ظلم سے بری الذمہ ہیں۔ ان اللّٰہ سمیع علیم : بیشک اللہ وصیت کے قول کو سننے والا اور تبدیل کرنے والے کے ظلم سے واقف ہے۔
Ayah 2:182تفسیر آیت 182:
فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَھُمْ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ: (جس کو خطرہ ہو وصیت کرنے والے کی طرف سے طرفداری کا یا گناہ کا پس اس نے اصلاح کردی ان کے درمیان تو اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک اللہ بخشنے والے مہربان ہیں)
خوف کا مطلب :
فَمْنَ خَافَ ۔ جس کو خطرہ ہوا خاف کا معنی جاننا ہے اور کلام عرب میں یہ معروف ہے۔ کہا جاتا ہے اخاف ان یرسل السمآء۔ مقصد اس سے ظن غالب ہوتا ہے جس کو علم کے قائم مقام لاتے ہیں۔ جیسا اس آیت میں فان خفتم ان لا یقیما۔ اگر تم جانو کہ وہ قائم نہیں رکھ سکیں گے۔ من موصٍ ۔ وصیت کرنے والے سے۔ قراءت۔ یہ قراءت کو فی میں مُوَصٍّ پڑھا گیا۔ سوائے حفص کے۔
جنف و اثمکا فرق :
جَنَفًا اَوْ اِثْمًا۔ وہ طرف داری جو خطاء سے وصیت میں واقع ہو۔ اثم وہ زیادتی جو جان بوجھ کر کی جائے۔
ہر تبدیلی باطل نہیں :
فاصلح بینھم۔ اس نے ان کے درمیان اصلاح کردی۔ یعنی اولاد اور قرابت داروں کو طریق شرع پر لاکر ان میں اصلاح کردی۔ تو اس صورت میں اس پر گناہ نہ ہوگا۔ کیونکہ اس کی یہ تبدیلی تو تبدیلی باطل الی الحق ہے۔ اس کا تذکرہ جو باطل سے تبدیل کر کے پھر اس کو حق سے بدل دے تو پھر بھی گناہ نہیں۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ ہر تبدیلی سے گناہگار نہیں ہوتا۔
دوسرا قول : یہ وصیت کرنے والے کی زندگی میں حکم ہے یعنی جو آدمی کسی وصیت کرنے والے کی وصیت کے وقت موجود تھا۔ پھر اس کو خلاف شرع پا کر اس سے اس کو منع کیا اور اس کو اصلاح پر آمادہ کیا۔ تو اب وصیت کرنے والے کے پہلے قول پر اس کو گناہ نہ ملے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہیں۔
Ayah 2:183183۔ یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ : (اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح فرض کیے گئے ان پر جو تم سے پہلے تھے۔ تاکہ تم پرہیز گار بن جائو)
Ayah 2:184تفسیر آیت 184:
اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْعَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَھُوَ خَیْرٌلَّہ ‘ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌلَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : (چند گنتی کے دن ہیں۔ پس جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی ضروری ہے۔ اور ان لوگوں پر جو طاقت نہیں رکھتے ایک محتاج کا کھانا کھلانا ہے پھر جو اپنی خوشی سے نیکی کرے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے اور تمہارا روزہ رکھنا تمہارے واسطے بہتر ہے اگر تم سمجھو)
فرضیت روزہ :
یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ ۔ کتب یعنی فرض کیے گئے۔ صیام۔ یہ صام کا مصدر ہے مراد رمضان المبارک کے روزے ہیں۔ کما کتب۔ یعنی لکھا جانا جس طرح کہ لکھا گیا۔ یہ مصدر محذوف کی صفت ہے۔ علی الذین من قبلکم۔ تم سے پہلے لوگوں سے وہ تمام انبیاء ( علیہ السلام) اور امتیں مراد ہیں۔ جو آدم ( علیہ السلام) سے تمہارے زمانے تک ہو گزریں۔ یہ قدیم عبادت ہے اور تشبیہ صرف فرضیت میں ہے کہ ہر ایک پر ان سابقہ امم میں کچھ دنوں کے روزے تھے۔ یعنی جس طرح تم ان دنوں روزہ سے عبادت کرنے والے ہو۔ اس طرح دیگر امتیں بھی روزہ سے عبادت گزاری کرنے والی تھیں۔
روزہ ذریعہ تقویٰ :
لعلکم تتقون۔ تاکہ تم بچو۔ یعنی روزے کے ذریعے گناہوں سے بچو۔
نمبر 1۔ کیونکہ روزے نفس کو اس کی خواہشات سے خوب روکنے والے ہیں اور برائی کے مقامات سے نفس کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ کرنے والے ہیں۔
نمبر 2۔ دوسرا قول : تاکہ تم زمرئہ متقین میں پرو دیئے جائو۔ اس لئے کہ روزہ متقین کا شعار ہے۔
نحو : ایامًا یہ الصیام مصدر کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعنی ان تصوموا ایامًا لیکن زیادہ صحیح یہ ہے کہ اس کو صوموا محذوف کا مفعول مانیں۔ کیونکہ مصدر کی صورت میں اجنبی فاصل حائل ہے۔ معدودات۔ گنتی کے معلوم دن یعنی تھوڑے سے دن ہیں۔ کیونکہ قلیل چیز کو ہی گنا جاتا ہے۔ نہ کہ کثیر کو۔
حکم مریض :
فمن کان منکم مریضًا۔ جو تم میں سے بیمار ہو اور روزے کی وجہ سے مرض میں اضافہ کا خطرہ ہو۔ یا وہ سفر پر ہو۔ فعدۃ۔ بس اس پر گنتی ہے یعنی اگر اس نے روزہ نہ رکھا۔ تو جتنے دنوں افطار کیا۔ تو اس کے ذمے ان ایام افطار کے دنوں کی گنتی کے مطابق روزے ہیں۔ پس عدۃ کا لفظ معدود کے معنی میں ہے۔ من ایام اخر۔ جو ایام سفر و مرض کے علاوہ ہوں۔ ٰاخر یہ غیر منصرف ہے کبرٰیسے کبر اور صُغرٰی سے صُغَر علی الذین یطیقونہ اور ان لوگوں پر جو روزے کی طاقت رکھتے ہیں اور وہ معذور بھی نہیں۔ پس وہ روزہ نہ رکھیں۔ (یہ ان مفسرین کے ہاں ہے جو اس آیت کو منسوخ مانتے ہیں اور جو اس کو منسوخ نہیں مانتے وہ باب افعال کا ہمزہ سلب کے لئے مانتے ہیں) تو ان پر فدیہ ہے۔ ایک مسکین کا کھانا ہے۔ جو گندم سے نصف صاع اور دوسری اجناس سے ایک صاع دیا جائے گا۔ طعام یہاں فدیہ سے بدل واقع ہے۔
قراءت : ابن ذکوان اور مدنی نے فدیۃ طعام مساکین پڑھا ہے۔ ابتدائے اسلام میں طبائع روزے کی عادی نہ تھیں اس لئے افطار و فدیہ کی رخصت دی گئی پھر اختیار آیت فمن شہد منکم الشہر (الاٰیۃ) اس سے منسوخ ہوگیا۔ اسی وجہ سے فمن کان منکم مریضا (الاٰیۃ) کو ناسخ و منسوخ دونوں میں ذکر کردیا۔ تاکہ وہ حکم کی بقاء پر دلالت کرے۔
دوسرا قول : یہ بھی ہے کہ آیت کا معنی اس طرح ہے کہ جو طاقت نہیں رکھتے۔ لا مضمر ہے۔ اور حضرت حفصہ ؓ کی قراءت اس کی تائید کرتی ہے۔ اس طرح منسوخ ماننے کی ضرورت نہیں۔ فمن تطوع خیرا۔ جو مقدار فدیہ سے زائد ثواب کی خاطر دے۔ تو وہ اس کے لئے بہتر ہے۔ یعنی تطوع یا خیر اس کے لئے بہتر ہے۔
اختلاف قراءت :
حمزہ وعلی رحمہما اللہ نے یطَّوع بمعنی تطوع پڑھا ہے۔
تفسیر وان تصوموا :
یعنی طاقت والو ! تمہارا روزہ رکھنا ہی تمہارے حق میں فدیہ اور تطوع سے بہت بہتر ہے یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا۔
دوسرا قول : یہ ہے کہ تمہارا سفر و مرض میں روزہ رکھ لینا بہتر ہے۔ کیونکہ وہ نفس پر زیادہ گراں ہے اگر تم روزے کی فضیلت کو جانتے ہو۔ گویا ان شرطیہ کا جواب محذوف ہے۔
Ayah 2:185185۔ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ وَمَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ ۔ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ : (رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور معجزہ (حق و باطل میں) فرق کرنے والی بات پس جو شخص موجود ہو تم میں سے اس مہینے میں پس چاہیے کہ وہ روزہ رکھے اور جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو پس وہ گنتی پوری کرے دوسرے دنوں سے اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتے ہیں اور تمہارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں کرتے کہ تم پورا کرو گنتی کو اور تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس پر جو اس نے راہنمائی فرمائی تاکہ تم احسان مانو)
نحو : 1۔ شہر رمضان۔ یہ مبتداء ہو تو الذی اپنے صلہ کے ساتھ اس کی خبر ہے۔
نمبر 2۔ یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے یعنی ہو شہر تو صلہ موصول مل کر شہر رمضان کی صفت ہے۔
نمبر 3۔ کتب علیکم الصیام میں الصیام سے بدل ہے۔
انزل فیہ القرٰان۔ نمبر 1۔ اس میں قرآن اتارا گیا۔ یعنی اتارنے کی ابتداء ہوئی اور لیلۃ القدر میں ابتداء کی گئی۔
دوسرا قول : انزل فی شانہ۔ کہ اس کی شان میں قرآن مجید اتارا گیا۔ اور وہ یہ آیت ہے۔
کتب علیکم الصیام۔ رمضان۔ یہ رمض سے مصدر ہے۔ جس کا معنی گرمی سے جلنا ہے۔ پھر شہر کی اضافت اس کی طرف کر کے ایک خاص مہینے کا نام بنادیا۔ یہ غیر منصرف ہے۔ الف۔ نون۔ اور تعریف کی وجہ سے۔
رمضان کی وجہ تسمیہ :
اور اس کے نام رکھنے کی وجہ یہ ہے۔ کہ اس میں بھوک سے جلتے اور سختی برداشت کرتے ہیں۔ اور انہوں نے مہینوں کے نام انہی اوقات سے رکھے تھے۔ جن میں وہ واقع ہوئے۔ یہ مہینہ گرمیوں کی شدت میں واقع ہوا اسی لئے یہ نام رکھ دیا گیا۔
سوال : حدیث میں آیا ہے ٗ من صام رمضان ایمانا واحتساباً غفرلہ ماتقدم من ذنبہ۔ اس میں مضاف اور مضاف الیہ قسمیہ کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں۔
جواب : التباس کا خطرہ نہیں۔ یہ حذف مضاف کی قسم میں سے ہے گویا یہ من صام شہر رمضان ہوا۔
قراءت : القرآن کا لفظ :
القرٰان یہ پورے قرآن میں غیر مہموز ہے۔ مکی (رح) کے ہاں۔
ہُدًی۔ یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے یعنی وہ قرآن اتارا گیا اس حال میں کہ وہ لوگوں کے لئے حق کا ہادی ہے اور حق کی طرف راہنمائی کے لئے اس میں کھلی نشانیاں ہیں اور قرآن حق و باطل میں امتیاز پیدا کرتا ہے۔ قرآن مجید کی پہلی صفت ہدایت بیان کی۔ پھر فرمایا یہ من جملہ ان واضح دلائل سے ہے جن سے اللہ تعالیٰ راہنمائی فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی اور کتب سماویہ کے ذریعہ حق و باطل میں واضح تفریق کردی۔
فمن شہد۔ پس جو شاہد ہو یعنی موجود ومقیم ہو مسافر نہ ہو۔ پس وہ اس میں روزہ رکھے اور افطار ہرگز نہ کرے۔
نحو : الشہر کا لفظ منصوب ہے مفعول فیہ ہونے کی وجہ سے اسی طرح لیصمہُکی ہٗ ضمیر بھی منصوب بوجہ مفعول بہ نہیں۔ کیونکہ مقیم و مسافر مہینہ میں حاضر و موجود ہوتے ہیں۔
افطار مرض و سفر میں مباح ہے :
ومن کان مریضًا تا فعدۃ من ایام اخر عدۃ مبتدا اور خبر محذوف ہے یعنی فعلیہ عدۃٌ ای صوم عدۃ۔ پس اس پر گنتی کے روزے ہیں۔ یرید اللّٰہ بکم الیسر۔ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ فرماتے ہیں اسی لئے سفر و مرض میں افطار کو مباح کردیا۔ ولا یرید بکم العسر اور تم پر سختی کرنا نہیں چاہتے۔
مسئلہ : جن حضرات نے مریض و مسافر پر افطار کو فرض قرار دیا۔ انہوں نے اس آیت کے مفہوم سے اعراض کیا۔ ولتکملوا العدۃ۔ تاکہ تم گنتی پوری کرو۔ قضا کے ساتھ جو تم نے افطار کیا۔ جب مرض و سفر زائل ہوجائیں۔ فعل معلل محذوف ہے اور ما سبق اس پر دلالت کرتا ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ لتعلموا ولتکملوا العدۃ تاکہ تم جان لو اور تاکہ تم اس گنتی کو قضا سے پورا کرلو۔ جو تم نے افطار کیا ہے۔
حکم شکر :
ولتکبروا اللّٰہ علی ما ہدٰکم ولعلکم تشکرون۔ (اور تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو۔ اس بات پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی۔ اور تاکہ تم شکر ادا کرو) مشروعیت پر۔ یعنی ان تمام باتوں پر جو مذکور ہوئیں۔ حاضر کو مہینے کے روزہ کا حکم۔ افطار کیے ہوئے ایام کو دوسرے دنوں میں گن کر پورا کرنے کا حکم اور رخصت کے وقت افطار کی اباحت پر شکر ادا کرو۔ ولتکملوا گنتی کی رعایت کا حکم جو دیا اس کی یہ علت ہے۔ ولتکبروا اللّٰہ۔ یہ قضاء اور افطار کی ذمہ داری سے نکلنے کی جو کیفیت معلوم ہوئی۔ اس کی یہ علت ہے۔ اور لعلکم تشکرون۔ یہ رخصت ملنے کی علت ہے۔
عجیب ترتیب :
یہ انتہائی شاندار قسم کی ترتیب ہے۔ تکبیر کو عَلٰی سے متعدی کیا گیا۔ اس لیے کہ اس میں حمد کا معنی پایا جاتا ہے۔ گویا یوں فرمایا تاکہ تم اس کی تعظیم کرو۔ اس حالت میں کہ تم اس کی اس بات پر حمد کرنے والے ہو۔ کہ اس نے اپنی طرف سے تمہیں ہدایت دی۔
قراءت : ابوبکر (رح) نے لتکملوا تشدید میم سے پڑھا ہے۔
Ayah 2:186تفسیر آیت 186:
وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْالِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ : (جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو کہیں۔ میں قریب ہوں۔ قبول کرتا ہوں دعا کرنے والے کی دعا جب وہ مجھ سے دعا کرے۔ پس چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں۔ تاکہ وہ سیدھا راستہ پائیں)
شان نزول : ایک بدو نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا۔ کیا ہمارا رب قریب ہے کہ ہم چپکے چپکے دعا کریں۔ یا دور ہے کہ زور سے پکاریں۔ تو یہ آیت اتری۔ (تفسیر طبری)
مراد قرب :
قرب سے مراد قرب مکانی نہیں۔ کیونکہ اس سے ذات باری تعالیٰ بلند وبالا ہے۔ قرب علم و اجابت مراد ہے۔ (بلکہ قرب واقعی مراد ہے جس کا ادراک وحی سے ہوسکتا ہے)
اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْن۔ میں قبول کرتا ہوں دعا کرنے والے کی دعا جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے پس چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں۔ تاکہ وہ سیدھا راستہ پائیں۔
اختلافِ قراءت :
سہل ٗ یعقوب ٗ ابوعمرو ٗ نافع رحمہم اللہ نے سوائے قالون کے حالت وصل میں الداع ٗ دعان کو الداعی ٗ دعانی پڑھا ہے۔ دیگر قراء نے دونوں حالتوں میں بغیر یاء پڑھا ہے۔
اجابت کے رخ :
اجیب۔ اجابت دعا کا تو سچا وعدہ ہے وعدہ خلافی ناجائز ہے۔ البتہ اجابت دعا میں حاجت کے پورے ہونے میں تخالف ہے۔ اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ اجابت دعوت یہ ہے کہ بندہ کہے۔ یا رب پس اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ لبیک عبدی۔ تو یہ بات ہر بندئہ مومن کے لئے موجود ہے اور رہی قضائے حاجت یعنی مراد دینا۔ نمبر 1۔ تو اس میں کبھی تو فوراً مل جاتی ہے۔
نمبر 2۔ کبھی کچھ مدت بعد۔ نمبر 3۔ اور کبھی آخرت میں ملے گی۔ نمبر 4۔ اور کبھی اس مطلوب چیز کے علاوہ میں اس کے لئے خیر ہوتی ہے۔ وہ دے دی جاتی ہے۔ فلیستجیبوا لی۔ پس ان کو میرا حکم ماننا چاہیے۔ جبکہ میں ان کو ایمان وطاعت کی طرف بلائوں جیسا کہ وہ حاجات کے وقت مجھے پکارتے ہیں۔ تو ان کی حاجات پوری کرتا ہوں۔ ولیؤمنوا بی۔ اور مجھ پر ایمان لائیں۔ ان دونوں میں لام امر ہے۔
لعلھم یرشدونتا کہ وہ سیدھا راستہ پائیں یعنی گزشتہ خصلتوں پر کاربند ہوں تاکہ ہدایت پانے کے امیدوار ہوں۔ رشد یہ غیٌّ کی ضد ہے۔
شان نزول : ابتدائے اسلام میں جب آدمی عشاء کی نماز پڑھ لیتا یا اس سے پہلے سو یا رہتا تو اس پر کھانا پینا جماع اگلی رات تک حرام ہوجاتا۔ صرف کھانا پینا اور جماع شام کے بعد عشاء پڑھنے اور جاگتے رہنے تک درست تھا۔ حضرت عمر ؓ نے عشاء کے بعد اپنی زوجہ سے صحبت کرلی۔ پس جب غسل کرچکے۔ تو رونے اور اپنے آپ کو ملامت کرنے لگے۔ پس نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر خبر دی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا۔ تمہیں یہ مناسب نہ تھا۔ تو یہ آیت اتری۔
Ayah 2:187187 : اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآپکُمْ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْ ھُنَّ وَابْتَغُوْا مَاکَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَ سْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ وَلَا تُبَاشِرُوْہُنَّ وَاَنْتُمْ عٰکِفُوْنَ فِی الْمَسٰجِدِ تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلَا تَقْرَبُوْھَا کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ ٰایَاتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ : (حلال کردیا گیا تمہارے لئے روزوں کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانا وہ تمہارا لباس اور تم ان کا لباس ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جانا کہ تم چوری سے اپنا نقصان کرتے ہو۔ پس اس نے معاف کیا۔ اور تم سے در گزر کیا۔ پس اب تم ان سے ہم بستر ہو اور تلاش کرو جو اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا تمہارے لئے اور کھاتے پیتے رہو۔ یہاں تک کہ صاف نظر آنے لگے۔ تمہیں صبح کی سفید دھاری کالی دھاری سے۔ پھر پورا کرو روزہ رات تک۔ اور نہ ہم بستر ہو ان سے جبکہ تم اعتکاف کرنے والے ہو۔ مساجد میں یہ اللہ تعالیٰ کے ضابطے ہیں۔ پس ان کے نزدیک بھی نہ جائو اسی طرح اللہ تعالیٰ صاف صاف بیان کرتا ہے اپنی نشانیاں لوگوں کے لئے تاکہ وہ پرہیز گار بنیں)
لباس سے تشبیہ کی وجہ :
احل لکم لیلۃ الصیام الرفث۔ رفث جماع کو کہتے ہیں۔ الی نساء کم۔ رفث کو اِلٰی سے متعدی کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس میں افضاء یعنی جماع کا مفہوم پایا جاتا ہے اور افضاء اِلیٰ سے متعدی ہوتا ہے البتہ رفث کے لفظ کو کنایہ کے لئے استعمال کیا۔ حالانکہ اس میں قبح کا معنی پایا جاتا ہے افضاء کا لفظ نہیں لائے۔ اس سے اس قباحت کی طرف اشارہ کیا۔ جو قبل از اباحت پائی گئی تھی۔ جیسا کہ اَ نَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَ نْفُسَکُمْ میں خیانت سے تعبیر کیا۔ اور چونکہ مرد و عورت ایک دوسرے سے لپٹتے ہیں اور ہر ایک دوسرے پر مثل لباس کے مشتمل ہوجاتا ہے۔ اس لئے دونوں کو ایک دوسرے کے لباس سے تشبیہ دی۔ جو کہ جسم کو ڈھانپنے والا ہوتا ہے۔ اپنے اس ارشاد سے ہن لباس لکم وانتم لباس لھن۔
دوسرا قول : یہ ہے کہ لباس جس طرح پہننے والے کو چھپا لیتا ہے اسی طرح مرد اور عورت ایک دوسرے کو حرام سے چھپاتے اور روکتے ہیں۔
نحو : ھن لباس لکم یہ جملہ مستانفہ ہے جو کہ بیان کی طرح ہے احلال کے سبب کے لئے۔ اب مطلب یہ ہوا کہ جب تمہارے اور ان کے درمیان اتنا گہرا میل جول ہے۔ اور تمہارا ان سے صبر ممکن نہیں۔ اور ان سے پرہیز تم پر گراں ہے اسی لئے ان کے ساتھ مباشرت کی اجازت تمہیں دے دی گئی۔ علم اللّٰہ انکم کنتم تختانون انفسکم۔ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ اپنے نفسوں پر جماع کر کے ظلم کرتے ہو۔ اور اپنے خیر کے حصہ میں کمی کرتے ہو۔ الاختنان یہ خیانت سے ہے جیسا کہ اکتساب کسب سے ہے۔ مزید میں زیادتی اور شدت ہے۔ فتاب علیکم۔ پس اس نے تم پر رجوع فرمایا جبکہ تم نے ارتکاب ممنوع سے توبہ کی۔ وعفا عنکم اور اس نے معاف کردیا جو تم نے رخصت سے پہلے کیا۔ فالئٰن باشروھن۔ اب ان سے ملو۔ یعنی روزے کی راتوں میں جماع کرو یہ امرا باحت کے لیے ہے مجامعت کو مباشرت اس لیے کہا۔ کیونکہ دونوں کے چمڑے آپس میں ملتے ہیں۔
تلاش کا مطلب :
وابتغوا ماکتب اللّٰہ لکم اور تلاش کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ یعنی
نمبر 1۔ تلاش کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری قسمت میں مباشرت کے ساتھ اولاد لوح محفوظ میں لکھ دی ہے مطلب یہ ہوا کہ فقط قضائے شہوت کی خاطر مت مباشرت کرو۔ بلکہ نکاح کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو توالد و تناسل کا سلسلہ بنایا ہے اس کو سامنے رکھو۔
نمبر 2۔ اس مقام میں تلاش کرو۔ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مقرر کردیا ہے اور اس کو حلال کردیا ہے نہ وہ مقام جو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔
دھاگے کی مشابہت :
وکلوا واشربوا حتّٰی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود۔ خیط ابیض سفید دھاگے سے مراد افق میں پھیلنے والی سفیدی جو کھینچے ہوئے دھاگے کی طرح ہوتی ہے۔ سیاہ دھاگے سے مراد رات کی وہ سیاہی جو افق میں پھیلی ہوتی ہے۔ ان کے افق میں پھیلنے کی بناء پر سیاہ وسفید دھاگے سے تشبیہ دی۔ من الفجر۔ نمبر 1۔ یہ خیط ابیض کا بیان ہے کہ فجر کی سفید دھاری مراد ہے نہ اور کچھ۔ خیط اسود کا بیان ترک کردیا۔ کیونکہ متضاد میں ایک کا بیان خود دوسرے کا بیان ہے۔
نمبر 2۔ مِنْ تبعیضیہ ہے کیونکہ یہ فجر کا بعض اور خصوصاً پہلا بعض ہے۔
بلاغت : اس کو استعارہ قرار دے کر تشبیہ بلیغ بنایا گیا جیسا کہو۔ رأیت اسدًا۔ مجاز ہے۔ اگر اس پر من فلان کا لفظ اضافہ کردیا تو یہ تشبیہ بن گئی۔
حضرت عدی ؓ بن حاتم 9 ھ میں مسلمان ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے سفید و سیاہ دھاگے لے کر ان کو اپنے تکیے کے نیچے رکھ دیا۔ میں نے ان کو نکال کر دیکھا۔ تو سیاہ وسفید میں امتیاز نہ ہوسکا۔ پس میں نے نبی اکرم ﷺ کو اطلاع دی تو آپ نے فرمایا انک لعریض القفا یعنی تو سلیم القلب ہے کیونکہ یہ محاورہ تو قلت عقل و فہم پر بولا جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا اس سے تو دن کی سفیدی اور رات کی سیاہی مراد ہے۔
ثم اتموا الصیام الی الّیل۔ پھر تم روزہ پورا کرو رات تک یعنی ان چیزوں سے رات تک رکو۔
مسئلہ عجیب :
نمبر 1۔ اس میں دلیل ہے کہ صوم رمضان کی نیت دن میں کی جاسکتی ہے۔
نمبر 2۔ فجر تک غسل کا مؤخر کرنا جائز ہے۔
نمبر 3۔ وصال کے روزے کی نفی کی گئی۔
نمبر 4۔ کھانے پینے سے بھی کنارہ لازم ہے۔
نمبر 5۔ جنابت روزے کے منافی نہیں۔
آیت سے ماخوذ مسائل :
وانتم عاکفون فی المسٰجد۔ اور تم اعتکاف کرنے والے ہو۔ مساجد میں۔ یعنی ان میں حالت اعتکاف میں ہو۔
مسئلہ : اس سے واضح ہوگیا۔ کہ رمضان شریف کی راتوں میں جماع حلال ہے لیکن اس کی حلت غیر معتکف کے لئے ہے۔
وانتم یہ جملہ موضع حال میں ہے۔
مسئلہ : اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اعتکاف مسجد میں ہی ہوسکتا ہے کسی بھی مسجد میں ہوسکتا ہے کوئی مسجد مخصوص نہیں۔
تلک۔ اس سے ان احکام کی طرف اشارہ ہے جو ذکر ہوچکے۔ حدود اللّٰہ۔ اللہ کی حدود سے مراد مقررہ احکام ہیں۔ فلا تقربوھا۔ ان کے قریب مت جائو یعنی ان کی مخالفت اور تبدیلی کے قریب بھی مت گزرو۔ کذٰلک یبین اللّٰہ ٰایاتہ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کھول کر اپنی آیات بیان کرتے ہیں۔ آیات سے مراد احکامات ہیں لعلھم یتقون۔ تاکہ وہ متقی بن جائیں۔ یعنی حرام سے بچیں۔
Ayah 2:188188۔ وَلَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِھَآ اِلَی الْحُکَّامِ لِتَاْکُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِ ثْمِ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : (اور نہ کھائو آپس میں اپنے مال ناحق اور نہ ذریعہ بنائو ان مالوں کو حاکموں تک رسائی تاکہ کھائو تم تھوڑا مال لوگوں کا گناہ کے ساتھ حالانکہ تم جانتے ہو) ولا تاکلوا۔ تم نہ کھائو اپنے اموال اپنے درمیان یعنی تم ایک دوسرے کا مال نہ کھائو۔ بالباطل۔ ناحق کے ساتھ یعنی اس طریق سے جس کو اللہ تعالیٰ نے مباح نہیں کیا اور نہ مشروع قرار دیا ہے۔
ناحق فیصلے کی مذمت :
وتدلوا بھا الی الحکام اور نہ حکام کے پاس لے جائو تاکہ تم لوگوں کے اموال میں سے کچھ کھائو یہ مجزوم ہے نہی کے تحت داخل ہے۔ یعنی نہ ڈالو اموال کا معاملہ اور ان میں فیصلہ حکام کے پاس۔ لتاکلوا، تاکہ تم کھائو یعنی فیصلہ کے ذریعہ۔ فریقا، کچھ۔ من اموال الناس بالاثم، لوگوں کے اموال میں سے گناہوں کے ساتھ۔ اثم۔ سے مراد جھوٹی گواہی یا جھوٹی قسم یا صلح کے ساتھ یہ جانتے ہوئے کہ جس کے حق میں فیصلہ ہوا ہے وہ ظالم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے دونوں فریق کو فرمایا۔ انما انا بشر وا نتم تختصمون الیّ ولعلّ بعضکم الحن بحجتہ من بعض فاقضی لہ علی نحو ما اسمع منہ فمن قضیت لہ بشیٔ من حق اخیہ فلا یأخذن منہ شیئًا فان ما اقضی لہ قطعۃ من نار۔ اے لوگو ! میں تمہاری طرح انسان ہوں اور تم میرے پاس جھگڑے ٗ فیصلے کرانے کے لئے لاتے ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعض تم میں سے اپنی دلیل اور اظہار بیان میں دوسرے سے زیادہ زبان آور اور فصیح ہو پھر اسکے بیان پر میں اسکے موافق فیصلہ کر دوں تم کو چاہیے کہ جس کے لیے میں اسکے بھائی مسلمان کے حق میں سے کچھ دلائوں۔ اس کو نہ لو کیونکہ یہ لینے والے کے لئے میں نے گویا آگ کا ایک انگارہ دیدیا۔ (بخاری ومسلم)
پس اس فرمانے پر وہ دونوں رونے لگے اور ہر ایک نے کہا میرا حق میرے ساتھی کا ہے (احمد)
بعض نے وتدلوا بھا کا مطلب یہ کیا بعض کو نہ لے جائو برے مقام کے پاس رشوت کے طور پر۔ عرب کہتے ہیں ادلٰی دلوہ۔ اس نے اپنا ڈول کنوئیں میں ڈالا پانی نکالنے کے لئے۔ وانتم تعلمون حالانکہ تم جانتے ہو۔ کہ تم باطل پر ہو اور جانتے ہوئے گناہ کا ارتکاب قباحت میں برتر ہے اور اس کا مستحق توبیخ کا زیادہ مستحق ہے۔
شان نزول : حضرت معاذ بن جبل ؓ نے کہا یارسول اللہ ﷺ چاند کیونکر دھاگے کی طرح باریک ظاہر ہو کر بڑھتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بڑھ کر برابر ہوجاتا ہے۔ پھر کم ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اسی حالت کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ جس میں شروع میں تھا۔ آخر یہ سورج کی طرح ایک حالت میں کیوں نہیں رہتا۔ تو یہ آیت اتری۔
Ayah 2:189189 : یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَہِلَّۃِ قُلْ ہِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ وَلَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُہُوْرِہَا وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰی وَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِھَا وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ (اے محمد ﷺ آپ سے لوگ پہلی رات کے چاند کا حال پوچھتے ہیں۔ فرما دیجئے کہ یہ وقت ہیں لوگوں کے (معاملات) کے لئے اور حج کے واسطے اور نیکی نہیں کہ تم گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے آئو بلکہ نیکی اس کی ہے جو پرہیزگاری کرے اور آئو گھروں میں ان کے دروازوں کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہوجائو) یسئلونک عن الاہلۃ۔ اہلہ ہلال کی جمع ہے۔ ہلال کو ہلال کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی آوازیں چاند دیکھتے وقت بلند کرتے تھے۔
چاند ذریعہ ٔ وقت ہے :
قل ہی مواقیت للناس والحج۔ کہہ دیں وہ لوگوں اور حج کے لئے اوقات ہیں۔ یعنی نشان ہیں۔ جن سے لوگ اپنے کھیتوں ٗ تجارات ٗ قرضہ جات ٗ روزے ٗ افطار ٗ عدت نساء ٗ ایام حیض ٗ مدت حمل وغیرہ کے احکام کا وقت معلوم کرتے ہیں اور حج کے نشان ہیں۔ جن سے حج کے اوقات مقرر ہوتے ہیں۔
طریق انصار :
بعض انصار کا یہ طریقہ تھا کہ جب وہ احرام باندھ لیتے تو وہ کسی دروازے کی طرف سے احاطہ گھر اور نہ ہی کسی خیمہ میں داخل ہوتے۔ اگر وہ کچے مکانات والے ہوتے تو گھر کے پچھلی طرف سوراخ کر کے داخل ہوتے اور گھر سے نکلتے۔ اور اگر خیمے والا ہوتا تو خیمے کی پچھلی جانب سے نکلتاپس ( اس رسم بد کے ازالہ کے لئے) یہ آیت نازل ہوئی۔ ولیس البر کہ نیکی یہ نہیں کہ گھروں میں پچھلی جانب سے داخل ہو۔ یعنی نیکی نہیں دروازہ سے داخل ہونے میں بتکلف اپنے آپ کو تنگی میں ڈالنا۔
نحوی تحقیق :
البر کے رفع میں یہاں سب کا اتفاق ہے کیونکہ آیت اس جگہ دونوں احتمال رکھتی ہے جیسا کہ ہم نے واضح کیا تھا۔ پس رفع نصب اس جگہ درست ہے مگر اس آیت میں ایک ہی احتمال ہے اور وہ رفع ہے اس لئے کہ لیس کی خبر پر باءؔ ہی داخل ہوتی ہے ولکن البر لیکن نیکی تو اس شخص کی ہے جس نے تقویٰ اختیار کیا ان چیزوں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا۔
اختلافِ قراءت :
البیوت کو کسرہ اول کے ساتھ (ابن کثیر) ابن عامر ٗ کسائی نے پڑھا اسی طرح اس کے باب العیون۔ الشیوخ وغیرہ میں مگر مدنی۔ بصری ٗ حفص رحمہم اللہ نے البیوت کو ضمہ کے ساتھ اصل ہی پڑھا ہے۔ جیسے کعب کعوب۔
کسرہ کی وجہ یہ بتائی گئی کہ اس کے بعد یاء آرہی ہے مگر اس سے لازم آتا ہے کہ کسرہ سے ضمہ کی طرف نکلنا لازم ہے۔ اس کے مطابق مطلب یہ ہوا۔ کہ جب جانداروں کے بارے میں انہوں نے سوال کیا اور اس کے نقصان کی حکمت دریافت کی۔ تو ان کو کہا گیا کہ تم بخوبی جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ کرتے ہیں وہ عین حکمت ہے پس یہ سوال ترک کردو اور غور کرو۔ اس ایک خصلت کے متعلق کہ یہ نیکی میں سے کسی درجہ کی بھی نہیں۔ حالانکہ تم اس کو نیکی خیال کرتے ہو۔ ماقبل سے اس آیت کے تعلق کی یہ وجہ ہے۔
دوسرا قول : یہ بھی ممکن ہے کہ جن چیزوں کا ذکر ہوا یعنی مواقیت حج ان کے لئے بطور استطراد (کلام کو اس انداز سے ذکر کرنا کہ دوسرا کلام خود لازم آجائے) لایا گیا ہو۔ چونکہ یہ ان کے من جملہ افعال حج میں سے تھا۔
تیسرا احتمال : ممکن ہے کہ یہ تمثیل ہو کیونکہ انہوں نے سوال الٹ کیا تو ان کو کہا گیا تمہاری مثال اس میں اس جیسی ہے جیسے کوئی گھر کا دروازہ چھوڑ کر گھر کی پشت سے داخل ہو اب مطلب یہ ہوا یہ کوئی نیکی نہیں اور نہ تمہیں اس پر قائم رہنا مناسب ہے کہ الٹ سوال کرو۔ لیکن اصل نیکی تو اس کی ہے جو ان چیزوں سے بچا اور اس نے پرہیز کیا۔ اور اس قسم کی جسارت نہ کی۔
افعالِ الٰہی میں حکمت :
وأتوا البیوت من ابوابھا۔ آئو گھروں میں ان کے دروازوں سے یعنی معاملات کو اس طرح اختیار کرو۔ جیسے لازم ہوتے ہیں الٹ مت کرو۔ یا
دوسرا قول : مراد یہ ہے کہ یہ اعتقاد رکھنا لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام افعال میں حکمت ہے اور درست ہیں ان کے متعلق دل میں کوئی شبہ نہیں لانا چاہیے اور نہ کوئی اعتراض کر کے شک کرنا مناسب ہے بلکہ سوال بھی نہ کرنا چاہیے کیونکہ سوال کے متعلق شک کا قرین ہونے کی وجہ سے اتہام والزام ہے جیسا سورة انبیاء آیت نمبر 22 میں فرمایا۔ لایسئل عما یفعل وھم یسئلون۔ اللہ تعالیٰ جو کچھ کرتے ہیں اس کا سوال نہیں کیا جاسکتا لوگوں سے پوچھا جائے گا۔ واتقوا اللّٰہ اور تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ ان کے تمام احکام میں جن کا اس نے حکم دیا اور جن سے روکا ٗ لعلکم تفلحون۔ تاکہ تم کامیاب ہو کر سرمدی نعمتوں کو پالو۔