Ayah 2:228آیت 228: وَالْمُطَلَّقٰتُ ۔ (اور طلاق شدہ عورتیں) یعنی مراد مدخول بھا حیض والی عورتیں۔
امر بصورت خبر :
یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ۔ (وہ اپنے آپ کو روکیں) یہ خبر ہے جو امر کا معنی دیتی ہے اصل کلام اس طرح ہوگا۔ ولتتربصن المطلقات چاہیے کہ مطلقہ عورتیں انتظار کریں امر کو بصورت خبر لا کر تاکید امر مقصود ہے اور اس بات کی طرف نشان دہی کی گئی کہ یہ ان کاموں میں سے ہے جن کو فی الفور پورا کرنا مناسب ہے گویا ان عورتوں نے اس حکم کو انتظار سے تسلیم کرلیا ہے پس اس کے پائے جانے کی خبر دی جا رہی ہے۔ اہل عرب دعا میں اس طرح استعمال کرتے ہیں۔ رحمک اللّٰہ یہ کلمہ دعائیہ بھی خبر کی صورت میں اسی لئے لایا جاتا ہے۔ کہ قبولیت پر یقین و اعتماد ہوتا ہے گویا رحمت ابھی موجود ہے اور یہ اس کے متعلق خبر دے رہا ہے۔ پھر یہاں مبتداء پر اس کی بنیاد رکھ کر تاکید میں اضافہ کردیا۔ کیونکہ جملہ اسمیہ دوام و ثبات پر دلالت کرتا ہے بخلاف جملہ فعلیہ کے نیز انفس کا ذکر کر کے ان کو انتظار پر مزید برانگیختہ کیا گیا اور مزید اس پر ابھارا کیونکہ عورتوں کے نفس مردوں کی طرف مائل ہونے والے ہیں۔ پس ان کی ذوات کو حکم دیا۔ کہ وہ اپنے آپ کو ہٹائیں۔ اور طمع پر غالب کریں اور انتظار پر مجبور کریں۔
قرء بمعنی حیض کی اشارۃ النص سے دلیل :
ثَلٰثَۃَ قُرُوْئٍ ۔ (تین حیض) قرٌٔ جمع قرء یا قروء کی اور اس کا معنی حیض ہے۔ اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ دعی الصلوۃ ایام اقراءک (دار قطنی)
تو نماز اپنے حیض کے ایام کی مقدار چھوڑ دو ۔ اسی طرح یہ ارشاد طلاق الامۃ تطلیقتان وعدتہا حیضتان۔ (ابودائود ٗ ترمذی)
آپ ﷺ نے طہران نہیں فرمایا اور سورة الطلاق آیت نمبر 4 والّٰئی یئسن من المحیض من نساء کم ان ار تبتم فعد تہن ثلاثۃ اشہر۔ میں اشہر کو حیض کے قائم مقام قرار دیا گیا۔ اطہار کو قائم مقام قرار نہیں دیا گیا۔ (پس گویا اشارۃ النص سے اس معنی کی تاکید ہوگئی) ان نصوص کے علاوہ دلائل عقلیہ۔
اس معنی کے تین دلائل عقلیہ :
دلیل عقلی نمبر 1 : عدت کا مقصود استبراء رحم ہے حیض سے رحم کا استبراء حاصل ہوتا ہے نہ کہ طہر سے اسی بناء پر بالاتفاق لونڈی کے لئے استبراء ایک حیض سے حاصل ہوتا ہے۔
نمبر 2۔ اگر طہر مراد لیا جائے جیسا کہ امام شافعی (رح) کا قول ہے تو عدت دو قرء اور تیسرے کے کسی قدر حصہ سے ختم ہوجائے پس تین کی عددیت حاصل نہ ہوئی کیونکہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو ُ طہر کے آخر میں طلاق دے تو وہ حیض امام شافعی (رح) کے ہاں عدت میں پورا شمار کیا جاتا ہے۔ اور وہ اگر اس کو حیض کے آخر میں طلاق دے تو ہمارے ہاں وہ حیض گنتی میں نہ آئے گا اور یہ ظاہر بات ہے کہ تین ایک خاص عدد ہے جو تین سے کم پر بولا نہیں جاتا۔
نمبر 3۔ محاورئہ عرب ہے اقرأت المرأۃ جبکہ اس کو حیض آئے اور امرأۃ مقریٔ حائضہ عورت
نحوی تحقیق :
نحو : ثلاثۃ منصوب ہے کیونکہ مفعول بہٖہے یعنی یتربصن ثلاثۃ قروء نمبر 1۔ یا ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے یعنی یتربصن مدۃ ثلاثہ قروء نمبر 2۔ یعنی وہ روکیں اپنے کو مدت تین حیض کے گزرنے تک۔ تمیز جمع کثرت ہے نہ جمع قلت جو کہ اقراء ہے کیونکہ اتساعاً یہ جمعیت میں مشترک ہیں۔ شاید قروء کا لفظ قرء کی جمع کے طور پر اقراء سے زیادہ استعمال ہوتا ہے پس اس کو قلیل الاستعمال پر ترجیح دے کر ذکر کیا گیا۔ کیونکہ قلیل الاستعمال بمنزلہ مہمل کے ہے۔
کتمان کی مراد :
وَلَایحِلُّ لَہُنَّ اَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْٓ اَرْحَامِہِنَّ ۔ (اور ان کے لئے جائز نہیں کہ وہ چھپائیں اس چیز کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کے رحموں میں پیدا کی ہے) یعنی حمل ٗ یا دم حیض یا دونوں میں سے کوئی ایک اور یہ حکم اس وقت ہے جبکہ عورت اپنے خاوند سے جدائی کا ارادہ رکھتی ہو پس وہ حمل کو چھپائے تاکہ وہ خاوند اس کی طلاق میں وضع حمل تک انتظار نہ کریں۔ اور کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لڑکے کے بارے میں شفقت کرتے ہوئے اس کو رخصت سے گریز کرے۔ یا وہ عورت اپنا حیض چھپائے اور کہے کہ وہ حائضہ ہے حالانکہ وہ طہر میں ہو، تاکہ جلدی طلاق حاصل کرلے۔
اِنْ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ۔ (اگر وہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں) یہاں ان کی اس حرکت کو بڑا کر کے پیش کیا گیا۔ کیونکہ جس کو اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کی سزا پر ایمان ہو وہ اس کے گناہ پر جرأت نہیں کرتا۔
وَبُعُوْلَتُہُنَّ ۔ (اور ان کے خاوند) البعول جمع بعل ہے تاء جمع مؤنث کے لئے لائی گئی ہے۔
اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ ۔ (ان کے لوٹانے کے زیادہ حق دار ہیں) یعنی ان کے خاوند رجعت کے زیادہ حقدار ہیں۔
لفظ زوج کی حکمت :
مسئلہ : اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ طلاق رجعی سے وطی حرام نہیں ہوتی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے خاوند کو طلاق کے بعد بھی زوجاً کے لفظ سے ذکر فرمایا ہے۔
فِیْ ذلِٰکَ ۔ (اس میں) یعنی مدت انتظار میں۔ مطلب یہ ہے کہ جب آدمی رجوع کا ارادہ کرلے اور عورت انکار کرے تو مرد کی بات کو عورت کی بات پر ترجیح دی جائے گی۔ اور مرد اس بات کا زیادہ حقدار ہے اس بناء پر نہیں کہ اس کو رجوع کا حق ہے۔
اِنْ اَرَادُوْا۔ (اگر وہ ارادہ کریں) یعنی رجوع کا۔
اِصْلَاحًا۔ (درستگی کا) اپنے اور ان کے مابین۔ اور ان پر احسان کا ارادہ رکھتے ہوں۔ ان کو نقصان پہنچانا مقصود نہ ہو۔
طرفین کے حقوق و فرائض :
وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ (اور ان عورتوں کا حق ہے اسکی مثل جیسا عورتوں پر ہے) یعنی ان عورتوں کا مردوں پر حق لازم ہے جیسے مہر و نفقہ اور حسن معاشرت اور ترک مضرت وغیرہ اسکی مثل جو خاوندوں کا ان عورتوں پر لازم ہے جیسے ناپسند باتوں سے روکنا اور اچھی باتوں کا حکم دینا۔
بالمعروف سے مماثلت فی الاصلاح مراد ہے :
بِالْمَعْرُوْفِ ۔ (دستور کے موافق) یعنی اس انداز سے جو شریعت و عادات میں نامناسب خیال نہیں کیا جاتا۔ یہاں مماثلت سے جنس فعل میں مماثلت مراد نہیں بلکہ ایک دوسرے کے حقوق ذمہ ہونے اور اصلاح و درستی اختیار کرنے میں مماثلت مراد ہے۔
پس مرد پر لازم نہیں کہ جب عورت اس کے کپڑے دھوئے یا اس کے لئے کھانا تیار کرے تو وہ مرد بھی اسی طرح اس کے لئے کرے۔ بلکہ اس کے بالمقابل وہ کام کرے جو مردوں کے لائق ہیں۔
وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ۔ (اور مردوں کو ان پر درجہ حاصل ہے) یعنی زائد حق ہے اور اس کے معاملات کی ذمہ داری میں افضلیت ہے اگرچہ لذت و استمتاع ٗ انفاق ٗ ملک نکاح میں دونوں شریک ہیں۔
وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ (اور اللہ تعالیٰ زبردست ہیں) اس کے معاملات پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔
حَکِیْمٌ (حکمت والے ہیں) وہ اسی بات کا حکم فرماتے ہیں۔
Ayah 2:229آیت 229:
اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ ۔ (طلاق (رجعی) دو بار ہے) الطلاق بمعنی التطلیق یعنی طلاق دینا ہے جیسے السلام بمعنی تسلیم۔ مطلب یہ ہے کہ شرعی طلاق ایک طلاق کے بعد طلاق متفرق طور پر دینا ہے۔ نہ کہ اکٹھی اور نہ ایک ہی لفظ سے مرتین سے مراد تثنیہ نہیں بلکہ دفعہ (مرتبہ) مراد ہے۔ جیسے سورة ملک آیت نمبر 4 میں ثم ارجع البصر کرتین یعنی کرّۃً بعد کرّۃٍ ایک مرتبہ کے بعد دوسری مرتبہ ہے نہ کہ دو مرتبہ۔
طلاق بدعت :
مسئلہ : اس آیت میں ہماری دلیل ہے۔ دو طلاقوں اور تین کو اکٹھا ایک ہی طہر میں دینا بدعت ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں الگ الگ کر کے دینے کا حکم دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ظاہر میں اگرچہ یہ خبر ہے مگر یہ امر ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی خبر میں تخلف لازم آتا ہے اس لئے کہ طلاق اکٹھی بسا اوقات پائی جاتی ہے۔
ایک قول : یہ بھی ہے کہ ایک انصاریہ نے عرض کیا۔ میرے خاوند نے کہا ہے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں پھر رجوع کرتا رہوں گا۔ پس یہ آیت اتری۔
اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ ۔ کہ طلاق رجعی تو دو بار ہے کیونکہ تیسری طلاق کے بعد رجوع نہیں۔
بِمَعْرُوْفٍ ۔ پھر دستور کے موافق رکھنا ہے یعنی رجوع کر کے مطلب یہ ہے کہ تم پر دستور کے موافق روکے رکھنا لازم ہے۔
اَوْ تَسْرِیْحٌم بِاِحْسَانٍ ۔ (یا حسن سلوک سے رخصت کر دے) یعنی اس سے رجوع نہ کرے۔ یہاں تک کہ عدت سے بائنہ ہوجائے۔
تیسری طلاق اور خلع :
دوسرا قول : یہ ہے کہ اس کو تیسری طلاق تیسرے طہر میں دے دے۔ یہ آیت جمیلہ اور ان کے خاوند ثابت بن قیس بن شماس کے بارے میں اتری۔ جمیلہ ان کو ناپسند کرتی تھی۔ جبکہ ثابت اس سے محبت کرتے تھے۔ ثابت نے ان کو مہر میں ایک باغ دے رکھا تھا۔ پس جمیلہ نے وہ باغ واپس کر کے ان سے خلع کرلیا۔ اسلام میں یہ سب سے پہلا خلع تھا (تفسیر طبری صفحہ 461 جلد 2)
وَلَایَحِلُّ لَکُمْ ۔ (اور تمہارے لئے جائز نہیں ہے) اے خاوند یا اے حکام کیونکہ فیصلے کے وقت وہی لینے دینے کا حکم کرنے والے ہوتے ہیں اس لئے انہی کو خود لینے ٗ دینے والے کہہ دیا گیا۔
اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ ٰاتَیْتُمُوْہُنَّ شَیْئًا۔ (کہ تم لو اس میں سے کچھ جو کہ تم اُ نہیں دے چکے ہو) یعنی اس میں سے جو مہر تم ان کو دے چکے ہو۔
اِلَّآ اَنْ یَّخَافَآ اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَاللّٰہِ ۔ (مگر جب دونوں کو خوف ہو کہ وہ دونوں خدائی قوانین پر قائم نہ رہ سکیں گے) یعنی مگر یہ کہ میاں بیوی ٗ جان لیں کہ ازدواجی زندگی برقرار رکھنے میں حقوق زوجیت میں حدود اللہ کی خلاف ورزی لازم آتی ہے اس لئے کہ بیوی کی بد اخلاقی اور نافرمانی ظاہر ہوچکی۔
فَاِنْ خِفْتُمْ ۔ (پس اگر تمہیں ڈر ہو) یعنی اے حکام۔ یہ بھی جائز ہے کہ اول خطاب ازواج کو ہو اور دوسرا حکام کو۔
حدود اللہ کی مخالفت :
اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَاللّٰہِ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا۔ (کہ وہ دونوں اللہ کے قوانین کی پابندی نہ کرسکیں گے تو ان دونوں پر کچھ گناہ نہیں) یعنی نہ مرد پر لینے کا گناہ اور نہ عورت پر دینے کا گناہ۔
فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ ۔ (اس چیز میں جو وہ عورت اپنے خاوند کو فدیہ میں دے) یعنی اس چیز کے دینے میں جس سے وہ اپنی جان چھڑا لے۔ اور جو مہر اس کو ملا ہے اس کے بدلے میں اپنے خاوند سے خلع کرے۔
نحو و قراءت :
حمزہ ٗ یعقوب ابو جعفر رحمہم اللہ نے الا ان یخافا کو مبنی للمفعول پڑھا ہے۔ جبکہ دیگر قراء نے قراءت حفص کی طرح مبنی للفاعل ہی پڑھا ہے۔
اور الا یقیما یہ بمعنی صلہ یخافا کی ضمیر تثنیہ سے بدل الاشتمال ہے۔ مثلاً خیف زیدتر کہ اقامۃ حدود اللّٰہ۔ زید سے چھوڑنے کا خطرہ ہوا یعنی اللہ تعالیٰ کی حدود کا قیام۔
تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلاَ تَعْتَدُوْہَا۔ (یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں) پس تم ان سے تجاوز نہ کرو۔ یعنی انکی مخالفت کر کے تجاوز نہ کرو۔
وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَاُولٰٓپکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (جو اللہ تعالیٰ کی حدوں سے آگے بڑھتے ہیں وہی ظالم ہیں) یعنی اپنے نفسوں کو نقصان پہنچانے والے ہیں۔
Ayah 2:230آیت 230:
فَاِنْ طَلَّقَہَا۔ (پس اگر اس نے عورت کو طلاق دے دی) یعنی تیسری بار۔ دو بار کے بعد۔
خلع طلاق بدل :
سوال : خلع ہمارے نزدیک طلاق ہے اور ایک قول امام شافعی (رح) کا بھی یہی ہے۔ تو اس طرح یہ چوتھی طلاق بن گئی۔
جواب : خلع طلاق بالبدل ہے ( اور پہلی دو جو مذکور ہوئیں وہ بلا بدل ہیں) پس یہ تیسری طلاق ہوئی۔ اور یہ اسی کا بیان ہے یعنی اگر اس نے تیسری طلاق بالبدل دے دی۔ تو اس سے تحلیل کا حکم اس طرح ہے۔
فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنْم بَعْدُ ۔ (تو اب اس کے بعد وہ اسکے لئے حلال نہیں ہے) یعنی تیسری طلاق کے بعد۔ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ ۔ (جب تک کہ شوہر ثانی کے نکاح میں نہ آئے) یعنی اس وقت تک جبکہ وہ دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ نکاح کی اسناد عورت کی طرف کی جاتی ہے۔ جیسے مرد کی طرف جیسے تزوج کا لفظ ہے۔ اس میں دلیل ہے۔ کہ نکاح عورت کی تعبیر سے بھی منعقد ہوجائے گا۔ اور وطی کی قید حدیث عسیلہ سے لگائی ہے۔ جیسا اصول فقہ میں معروف ہے۔
نکتہ : جب خاوند نے فراق کا اقدام کیا اور شرمندگی سے نکلنے کیلئے کوئی راستہ باقی نہ رہنے دیا تو عورت کو دوسرے خاوند کے دخول کے بغیر حلال نہ قرار دیا گیا۔ جب اس نے دخول کرلیا تو اب یہ عورت حلال ہوگئی اور دخول اس لئے لازم کیا۔ تاکہ آئندہ اس فعل کے ارتکاب سے باز رہے۔
فَاِنْ طَلَّقَہَا پس اگر اس نے اس عورت کو طلاق دے دی یعنی زوج ثانی نے وطی کے بعد فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَآ (ان دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہیں) یعنی پہلے خاوند اور اس عورت پر اَنْ یَّتَرَاجَعَآ (کہ پھر رجوع کرلیں) اِنْ ظَنَّآ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ (اگر ان کو یقین ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم رکھ سکیں گے) ۔
تعبیری حکمت :
سوال : (ان علما انہما یقیمان) نہیں فرمایا بلکہ اِنْ ظَنَّآ اَنْ یُّقِیْمَا کہا گیا۔
جواب : کیونکہ یقین ان سے غائب ہے۔ اس کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔
وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ یُبَیِّنُہَا (یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں جن کو وہ بیان کرتے ہیں) قاری المفضل نے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی نُبَیِّنُہَا۔ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ (ان لوگوں کے لئے جو جانتے ہیں) یعنی اس کو سمجھتے ہیں جو ان کیلئے بیان کیا گیا۔
Ayah 2:231آیت 231:
وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ ۔ (جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت پوری کرنے کو ہوں) یعنی جب ان کی عدت انتہا کو پہنچ جائے اور اسکے انتہا کے قریب ہوجائیں۔
لفظ اجل کا معنی :
الاجلکا لفظ تمام مدت پر بھی بولا جاتا ہے اور آخر مدت پر بھی انسان کی عمر کو بھی الاجل کہا جاتا ہے۔ اور موت کو بھی الاجل کہتے ہیں۔ جس سے عمر ختم ہوتی ہے۔
حسن معاشرت کا حکم :
فَاَمْسِکُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّ حُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ۔ انہیں حسن معاشرت سے روک لو یا سلوک کے ساتھ انہیں رخصت کردو۔ یعنی یا تو ان سے رجوع کرلے مگر اس سے ان کو دکھ دینا مقصود نہ ہو۔ یا پھر اس کا راستہ چھوڑ دے تاکہ اس کی عدت ختم ہوجائے اور بلا ایذاء کے ہونا ظاہر ہوجائے۔
خاتمہ رواج :
وَلَا تُمْسِکُوْہُنَّ ضِرَارًا (اور ان کو تنگ کرنے کیلئے مت روکو) ضِرَارًا۔ مفعول لَہٗ (ترجمہ اسکے مطابق ہے) یا حال ہے۔ مت ان کو روکو اس حال میں کہ ان کو تنگی دینے والے ہو۔ عرب میں رواج یہ تھا کہ عورت کو طلاق دے کر چھوڑ دیا جاتا۔ یہاں تک کہ اس کی عدت کا زمانہ قریب اختتام ہوتا۔ تو پھر اس سے رجوع کرلیتے۔ مگر یہ رجوع ضرورت کی بناء پر نہ تھا۔ بلکہ عدت کو لمبا کرنا مقصود ہوتا تھا۔ اس کو قرآن مجید میں الامساک ضِرَارًا۔ فرمایا گیا۔ لِّتَعْتَدُوْا تاکہ تم ان پر زیادتی کرو۔ یعنی ان پر ظلم کرو یا ان کو فدیہ دینے پر مجبور کرو۔ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ ۔ (جو اس طرح کرے گا) یعنی دکھ دینے کیلئے روکے گا۔
تاکید عمل :
فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ ۔ (بس یقینا اس نے اپنی ہی جان پر ظلم کیا) ۔ اس جان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مستحق بنا کروَلَا تَتَّخِذُوْٓا ٰایٰتِ اللّٰہِ ہُزُوًا (اور تم اللہ تعالیٰ کی آیات کو مذاق نہ بنائو) ۔ یعنی تم ان آیات کو اپنانے اور ان کے فرامین پر عمل کی کوشش کرو۔ اور ان کی پوری پوری نگہبانی کرو۔ ورنہ تو تم انکا مذاق بنانے والے ہو عرب اس آدمی کو جو کسی معاملے میں کوشش نہ کرے کہتے ہیں۔ انما انت لا عب وہازیٌٔ۔ تو تو کھیل تماشہ اور مذاق اڑانے والا ہے۔ وَاذْ کُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ (اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو جو اس نے تم پر کی ہیں) ۔ یعنی اسلام دے کر اور نبوت محمد ﷺ دے کر۔
وَمَآ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنَ الْکِتٰبِ وَالْحِکْمَۃِ (اور جو کتاب اس نے نازل کی اور حکمت) ۔ حکمت سے مراد کتاب اور سنت ہے۔
ذِکر نعمت۔ یہ ہے کہ اس کا شکریہ ادا کرے اور اس نعمت کا شکریہ ادا کرے۔
یَعِظُکُمْ بِہٖ (وہ اس کے ساتھ تمہیں نصیحت کرتے ہیں) یعنی ہٖ کی ضمیر ما انزل کی طرف جا رہی ہے اور یہ حال واقع ہے۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ (اور تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو) اس چیز میں جس میں اس نے تمہارا امتحان لیا ہے۔
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ۔ (اور یقین کر وبے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والے ہیں) خواہ وہ ذکر ہو یا تقویٰ نصیحت حاصل کرنا وغیر ذلک یہ انتہائی بلیغ انداز میں وعدو وعید ہے۔
Ayah 2:232آیت 232:
وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ (اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں) یعنی ان کی عدت ختم ہوجائے۔
بلوغ کا معنی :
نکتہ : دونوں کلاموں کا سیاق ظاہر کر رہا ہے۔ کہ بلوغ کا دونوں جگہ معنی الگ الگ ہے۔ یہاں تو نکاح کے بعد بلوغ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور یہ عدت کے بعد ہی ہوتا ہے۔ پس یہاں معنی ختم ہونا اور پہلی آیت میں رجعت کے بعد ذکر کیا اور رجعت عدت کے دوران ہوتی ہے۔ اور پہلے میں معنی قریب اور اختتام ہونا ہے۔
فَلاَ تَعْضُلُوْہُنَّ ۔ (پس تم مت ان کو روکو) ۔ یعنی مت ان کو منع کرو۔
العضل۔ روکنا اور تنگی دینا۔
اَنْ یَّنْکِحْنَ ۔ (یہ کہ وہ نکاح کریں) ۔ یعنی اس بات سے کہ وہ نکاح کریں۔
اَزْوَاجَہُنَّ ۔ (اپنے خاوندوں سے) یعنی وہ خاوند جن کی طرف یہ عورتیں رغبت رکھتی ہیں اور وہ ان کے لئے مناسب بھی ہیں۔
عجیب استنباط :
مسئلہ : اس سے بھی اشارہ نکلا کہ عورتوں کی تعبیر سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے۔
نکتہ : آیت میں خطاب ان ازواج کو ہے۔ جو اپنی عورتوں کو ظلم کے طور پر عدت کے ختم ہونے کے بعد روکتے ہیں اور اس وقت بھی ان کو چھوٹ نہیں دیتے کہ وہ جن خاوندوں سے پسند کریں نکاح کرلیں۔ ان کو ازواج مایؤول کے اعتبار سے کہا گیا۔ یا خطاب اولیائے عورت کو ہے۔ جو ان عورتوں کو اپنے سابقہ خاوندوں کی طرف لوٹنے سے روکنے والے ہیں۔ ان کو ازواج ماضی کے اعتبار سے کہا۔
واقعہ معقل بن یسار۔ :
یہ آیت حضرت معقل بن یسار ؓ کے متعلق اتری جب انہوں نے اپنی بہن جملاء بن یسار کو اپنے سابقہ خاوند بداح بن عاصم عجلانیؔ کے ساتھ دوبارہ نکاح سے روکا۔ یا عام لوگوں کو خطاب ہے کہ تمہارے درمیان عضل یعنی روکنا نہیں پایا جاتا۔ کیونکہ جب وہ پایا جائے اور لوگ اس سے راضی ہوں تو وہ تمام منع کرنے والے کے حکم میں ہوتے ہیں۔
اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَہُمْ ۔ (جب وہ باہم رضا مند ہوجائیں) یعنی جب منگنی کا پیغام دینے والا اور عورتیں رضا مند ہوں۔ بِالْمَعْرُوْفِ (دستور کے مطابق) جو دین و مروّت کے ساتھ اچھی شرائط یا مہر مثل کے ساتھ اور کفو میں کیونکہ جب دونوں میں سے ایک معدوم ہو تو اولیاء کو تعرض کرنا درست ہے۔ اور ذٰلک میں خطاب نبی اکرم ﷺ کو ہے۔ یا ہر ایک مخاطب کو۔ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوِْمِ الْاٰخِرِ ۔ (یہ اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو) اس لئے کہ نصیحت انہی میں کامیاب ہوتی ہے۔ ذٰلِکَ یہ ( اے لوگو) یعنی منع کرنا۔
اَزْکٰی لَکُمْ وَاَطْہَرُ ۔ (یہ تمہارے حق میں نفع دینے والی اور زیادہ پاک کرنے والی ہے) یعنی تمہارے لئے گناہوں کی گندگی سے زیادہ پاک کرنے والی ہے یا افضل اور اطیب ہے۔
وَاللّٰہُ یَعْلَمُ ۔ (اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں) اس چیز کو جس میں پاکیزگی اور طہارت ہے۔
وَانَتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (اور تم نہیں جانتے ہو) اس کو
Ayah 2:233آیت 233:
وَالْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَہُنَّ (اور مائیں دودھ پلائیں اپنی اولاد کو) یہ صورۃً خبر ہے مگر امر مؤکد کے معنی میں ہے جیسا کہ یتربّصنَ مگر یہ امر بطور استحباب ہے یا بطور وجوب جبکہ بچہ ماں کا دودھ ہی قبول کرتا ہو یا اس کے لئے کوئی دایہ نہ ملتی ہو یا والد اجرت سے عاجز ہو۔ یا مطلقہ والدات مراد ہوں۔ اور نفقہ اور کپڑے بطور رضاعت واجب کئے گئے ہوں۔
حَوْلَیْنِ (دو سال) یہ ظرف ہے کَامِلَیْنِ (پورے دو ) یہ حَوْلَیْن کی تاکید ہے۔ کیونکہ اس میں تسامح ہوسکتا ہے جس طرح تم کہتے ہو۔ انک اقمت عند فلان حولین ولم تستکملہما تم نے فلاں کے ہاں دو سال قیام کیا۔ اور ان کو پورا نہ کیا ہو۔
لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ ۔ (اس شخص کے لئے جو رضاعت کو پورا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو) اس میں اس شخص کا بیان ہے جس کی طرف حکم متوجہ ہو۔ یعنی یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جو رضاعت کی مدت پوری کرنا چاہتا ہو۔
باپ کی ذمہ داری :
مسئلہ : یہ ہے کہ باپ کے ذمہ لازم ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو دودھ پلائے ماں کے ذمہ نہیں۔ اور باپ کے ذمہ ہے یا لازم ہے کہ اس کے لئے ایک دایہ کا انتظام کرے۔ مگر یہ کہ ماں دودھ پلانے پر خوش دلی سے راضی ہو۔ اور وہ خود رضا مندی ظاہر کرنے والی ہو۔ اس پر اس کو مجبور نہیں کیا جاسکتا اور ماں کو مزدوری طلب کرنی جائز نہیں۔ جب تک کہ وہ بیوی ہے یا معتدہ ہے۔
وَعَلَی الْمَوْلُوْدِ لَہٗ (اور والد پر) ہٗ ضمیر لام کی طرف لوٹتی ہے اور لام اَلّذی کے معنی میں ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے علی الذی یولدلہ وہو الوالد۔
نحو : لہ فاعلیت کی وجہ سے محل رفع میں ہے جیسا کہ علیہم غیر المغضوب علیہم۔ الفاتحہ آیت نمبر 7 میں ہے۔
مولود لہ کی تعبیر میں حکمت :
سوال : یہاں مولود لہ فرمایا گیا والد نہیں فرمایا۔
جواب : تاکہ معلوم ہوجائے کہ مائوں نے ان بچوں کو ان کے لئے جنا ہے۔ اس لئے کہ اولاد باپوں کی ہے نسب کی نسبت باپوں کی طرف ہوتی ہے نہ کہ مائوں کی طرف۔ پس ان باپوں پر لازم ہے کہ وہ ان ( والدات) کو کھانا اور کپڑا دیں۔ جبکہ وہ ان کی اولاد کو دودھ پلائیں۔ جیسا کہ دایہ کو کھانا کپڑا دیا جاتا ہے ذراغور تو کرو۔ جہاں ایسا موقعہ نہ تھا۔ وہاں والد کا نام لے کر ذکر کیا سورة لقمان : 33 … وَاخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِہٖ ۔ وَلَا مَوْلُوْدٌ ہُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِہٖ شَیْئًا 1 اور تم ڈرو اس دن سے کہ والد اپنی اولاد کی طرف سے کام نہ آئے گا اور نہ مولود اپنے والد کے کچھ کام آسکے گا۔
رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (ان کے خرچے اور کپڑے کی دستور کے موافق ذمہ داری ہے) یعنی بغیر فضول خرچی اور بغیر کمی کے۔ اس کی تفسیر لا تکلف نفس الا وسعہا ہے۔ کہ ان میں سے کسی کو ایسی چیز کی تکلیف نہ دی جائے گی۔ جو اس کی وسعت میں نہیں۔ اور نہ وہ دکھ دیئے جائیں گے۔
لَا تُکَلَّفُ نَفْسٌ اِلاَّ وُسْعَہَا (نہ تکلیف دی جائے گی کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق) یعنی جو پائی جائے یا امکان کی حد تک۔ التکلیف۔ اس چیز کو لازم کرنا جس کو تکلف میں ترجیح دی جاتی ہے۔
نحو و قراءت :
نحو : وسعہا۔ یہ لاتکلف کا مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ استثناء کی وجہ سے نہیں اور الاَّ دو مفعولوں کے درمیان آیا ہے لاَ تُضَارَّ ۔ قراءت : قرائے مکہ و بصرہ ابن کثیر و یعقوب نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس وجہ سے کہ یہ لا تکلف سے بدل ہے پس یہ خبر بمعنی نہی ہے۔ باقی قراء نے لا تضآرَّ کو نصب سے پڑھا ہے نہی مان کر۔
ان دونوں صورتوں میں معروف و مجہول ہونے کا احتمال ہے اور اس کی اصل تُضَارِرْ یا تُضَارَرْ ہے بقیہ قراء نے لا تضّآر نہی پڑھا اور اصل تُضَارَرْ پہلی راء کو ساکن کردیا اور دوسری میں ادغام کردیا۔ اب دو ساکن جمع ہوئے تو دوسری راء کو فتح دیدیا۔
ضرر کی صورتیں :
وَالِدَۃٌم بِوَلَدِہَا وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّہٗ بِوَلَدِہٖ (والدہ اپنے بیٹے کی وجہ سے اور نہ والد تکلیف دیا جائے بیٹے کی وجہ سے) نہ ماں اپنے خاوند کو تکلیف دے اپنے بیٹے کے سبب سے۔ وہ یہ ہے کہ نخرے کرے اور اس سے رزق اور کپڑے ایسے مانگے جو خلاف انصاف ہوں۔ اور اس کے دل کو پریشان کرے۔ لڑکے کی دیکھ بھال میں کوتاہی برتے۔ اور بچے کو اپنے ساتھ مانوس کرلینے کے بعد کہے کہ کوئی دودھ والی دایہ اس کے لئے تلاش کرلو۔ بس اسی طرح کی دیگر مائیں۔ یعنی نہ والد اپنی بیوی کو بیٹے کی وجہ سے تکلیف دے کر اس سے ایسی چیز روک لے جو اس پر لازم ہے کپڑے اور رزق میں سے۔ یا اس سے بیٹا چھین لے حالانکہ وہ اس کو دودھ پلانا چاہتی ہو۔ جب یہ مجہول ہو پھر یہ ممانعت اس بات کی بنے گی۔ کہ عورت کو تکلیف پہنچے خاوند کی طرف سے اور تکلیف خاوند کو پہنچے عورت کی طرف سے لڑکے کی وجہ سے۔
دوسرا قول : لا تضار بمعنی لا تضر ہے اور باءؔ اس کے صلہ میں آئی ہے۔ یعنی نہ نقصان پہنچائے والدہ اپنے بیٹے کو نہ اس کی غذا کا خیال رکھے۔ اور نہ نگہبانی اور نہ اپنے سے مانوس کرنے کے بعد والد کے سپرد کرے۔ اور والد نقصان دے بیوی کو اپنے بیٹے کے سبب۔ وہ اس طرح کہ عورت سے بچہ چھین لے یا اس کے حق میں کوتاہی کرے۔ جس کے نتیجہ میں وہ لڑکے کے حقوق میں کوتاہی کرے۔
نسبت میں حکمت :
نکتہ : والد اور والدہ دونوں کی طرف لڑکے کی نسبت کی تاکہ ان کی شفقت اور محبت میں جوش آئے۔ وہ دونوں اس پر خصوصی شفقت کریں۔ (اپنے اختلاف کو بھول جائیں)
نحو : وَعَلَی الْوَارِث۔ یہ علی المولود لہ رزقہن وکسوتہن پر معطوف ہے اور ان کے درمیان میں معروف کی تفسیر ہے جو بطور جملہ معترضہ معطوف اور معطوف علیہ میں حائل ہے۔
تقدیر عبارت یہ ہے۔ وعلی الوارث الصبی عند عدم الاب مثل ذٰلک۔ کہ بچے کے وارث پر والد نہ ہونے کی صورت میں اسی کی مثل ہے۔
مِثْلُ ذٰلِکَ ۔ اس کی مثل سے مراد یعنی کپڑے اور رزق جو والد کی زندگی میں اس کے ذمہ تھا وارث پر بھی وہی لازم ہے۔
وارث کی تفسیر :
وارث کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ نمبر 1: ابن ابی لیلیٰ (رح) کے نزدیک ہر وہ جو اس کا وارث بنا۔ خواہ مرد ہو یا عورت۔
نمبر 2۔ احناف کے نزدیک۔ ذی رحم محرم مراد ہے۔ کیونکہ قراءت عبداللہ بن مسعود ؓ میں وعلی الوارث ذی الرحم المحرم مثل ذٰلک ہے۔
نمبر 3۔ عندالشافعی (رح) ۔ والد کی جائیداد سے خرچہ ادا کیا جائے گا۔
فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا (اگر دونوں دودھ چھڑانے کا ارادہ رکھتے ہوں) یعنی دونوں ماں باپ دودھ چھڑانے کا ارادہ رکھتے ہوں اور وہ ارادہ۔
عَنْ تَرَاضٍ مِّنْہُمَا وَ تَشَاوُرٍ (رضا مندی اور باہمی مشورے سے صادر ہونے والا ہو)
فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا (تو ان دونوں پر اس سلسلہ میں کوئی گناہ نہیں) ان الفاظ سے تحدید کے بعد توسع فرمایا گیا۔ کہ دو سال سے بڑھائیں یا کم کریں۔
اَلتَّشَاوُر۔ (ایک دوسرے سے رائے لینا) یہ شُرتُ العسل سے لیا گیا۔ جب کہ تم شہد کو چھتے سے نکالو۔ اور یہ اس لئے فرمایا تاکہ باہمی رضا مندی سوچ و بچار کے ساتھ ہو۔ جس سے بچے کو تکلیف و ضرر نہ پہنچے۔
مصنف کا ذوق سلیم :
سُبحان الذی ادب الکبیرو لم یہمل الصغیرواعتبر اتفا قہما لان للاب النسبۃ والو لایۃ وللام الشفقۃ والعنایۃ۔
مصنف کے یہ ذوقی جملے بعینہٖ نقل کئے گئے تاکہ پڑھنے والا ان کے ذوق سلیم کی داد دیئے بغیر نہ رہے۔
پاک ہے وہ ذات جس نے بڑے کو ادب سکھایا اور چھوٹے کو ضائع و بیکار نہ ہونے دیا۔ اور والدین کے اتفاق کا اعتبار کیا۔ کیونکہ باپ کو نسبت اور ولایت حاصل ہے۔ اور ماں کو ممتا اور عنایت وہاب حقیقی سے ملی ہے۔
اضافت عدمی کا فائدہ :
وَاِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْٓا اَوْلَادَکُمْ ۔ اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہتے ہو۔ یعنی اولاد کم کی اضافت لام کے معنی میں ہے۔ لا ولادکم۔ یہ زجاج کا قول ہے۔ بعض نے کہا استرضع یہ ارضع سے منقول ہے۔ عرب کہتے ہیں ارضعت المرأۃ الصبی واسترضعتہا الصبی عورت نے بچے کو دودھ پلایا۔ میں نے بچے کے لئے اس کا دودھ طلب کیا۔ یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے۔ یعنی تم دودھ پلانے والیوں سے اپنی اولاد کو دودھ پلوائو۔ تو ایک مفعول حذف کردیا گیا۔ یعنی ماں کے علاوہ اور کسی عورت سے تم دودھ پلواتے ہو۔ جبکہ ماں انکاری ہے۔ یا دودھ پلانے سے عاجز ہے۔
فَـلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ (پس کوئی گناہ نہیں جبکہ تم سپرد کردو) ۔ دودھ پلانے والیوں کو۔ مَآ ٰاتَیْتُمْ (جو تم نے دینا ہو) یعنی جو تم مزدوری دینے کا ارادہ رکھتے ہو۔
قراءت : مکی نے اَتَیْتُمْ بِہٖ پڑھا ہے۔ یہ اَتَی اِلَیْہِ اِحْسَانًاسے لیا گیا ہے۔ جبکہ وہ احسان کرے اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سورة مریم۔ 41 کان وعدہٗ ماتیا میں یہی معنی ہے۔ پورا کیا ہوا۔ التسلیم یہ حوالے کرنا مستحب ہے۔ جواز کی شرط نہیں۔
بِالْمَعْرُوْفِ یہ سلمتم کے متعلق ہے۔ یعنی اجرت مراضع کے سپرد کردو بطیب خاطر اور بسر ور نفس
وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور یقین کرلو۔ بیشک اللہ تعالیٰ جو تم عمل کرتے ہو دیکھنے والے ہیں۔ یعنی اس پر تمہارے اعمال مخفی نہیں۔ پس وہ ان اعمال پر تمہیں بدلہ دے گا۔
Ayah 2:234234 : وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ ۔ (وہ جو تم میں سے مرجائیں) توفیت واستوفیت اس وقت بولتے ہیں۔ جب کسی چیز کو پورا پورا لیا جائے۔ یعنی ان کے ازواج کو پورا پورا لے لیا جائے۔ وَیَذَرُوْنَ (اور وہ چھوڑ جائیں) ۔
انتظار کا مطلب :
اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ (وہ بیویاں وہ روکیں اپنے کو) یعنی ان کی بیویاں اپنے آپ کو روکیں جو تم میں سے فوت ہوجائیں۔ یعنی عدت گزاریں یا مطلب یہ ہے۔ ان کے بعد اپنے آپ کو روکیں اور انتظار کریں۔ بَعْدَہُمْ کو معلوم ہونے کی وجہ سے حذف کردیا گیا۔ جو جملہ خبر بنے اس میں ایک ضمیر ہونی چاہیے۔ جو مبتداء کی طرف لوٹنے والی ہو۔ تقدیر عبارت یہ ہے : وازواج الذین یُتَوَفَّوْنَ یَتَرَبَّصْنَ بَعْدَ ہُمْ ۔
قراءت : مفضل نے یَتَوَفَّوْنمعروف یا کے فتحہ سے پڑھا اور اس کا معنی اپنی عمریں پوری کرلیں۔
تذکرہ میں لیالی کا لحاظ :
اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّعَشْرًا۔ چار ماہ دس دن یعنی دس راتوں کے ساتھ دن بھی داخل ہوں گے۔ لفظ عشر کو مؤنث لانا لیالی کے لحاظ سے ہے۔ کیونکہ اہل عرب جب عدد کو لیالی و ایام میں مبہم ذکر کرتے ہیں۔ تو لیالی کا لحاظ کرتے ہیں۔ جیسے کہتے ہیں۔ صمت عشرًا۔ جبکہ قرآن مجید میں فرمایا : ان لبثتم الاعشراً ۔
فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ (جب وہ اپنی عدت پوری کرچکیں) ۔ یعنی پس اگر ان کی عدت ختم ہوجائے۔
فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ (تو تم پر کچھ گناہ نہیں) اے ائمہ اور حکام
فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْٓ اَنْفُسِہِنَّ (جو وہ اپنے نفسوں کے بارے میں دستور کے مطابق کریں) ۔ یعنی منگنی کرنے والوں کا پیغام وصول کرنا۔ بِالْمَعْرُوْفِ دستور کے مطابق یعنی اس طریق سے جس کو شرع درست قرار دیتی ہے۔ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ (اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے خبردار ہے) ۔ یعنی تمہارے باطن سے واقف ہے۔ (اس کے مطابق جزا دے گا)
Ayah 2:235آیت 235 :
وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہٖ مِنْ خِطْبَۃِالنِّسَآئِ (تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اسمیں کہ تم اشارۃً ان عورتوں کو نکاح کا پیغام دو ) ۔
تعریض و کنایہ کا فرق :
خطبہ کا مطلب طلب نکاح اور تعریض یہ ہے کہ تم کہو بیشک تو خوبصورت ہے۔ یا نیک ہے۔ اور میرا مقصد نکاح کرنا ہے۔ اس طرح کا قدم جس سے یہ خیال پیدا ہو کہ وہ اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ وہ اپنے آپ کو اس کے لئے روک کر رکھے۔ اگر وہ پسند کرے۔ البتہ صراحت نکاح کی نہیں کرسکتا۔ کہ اس طرح کہے۔
اِنی اریدان اتزوجک کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ تعریض وکنایہ کا فرق۔ یہ معنی کہ کسی چیز کا ذکر ان الفاظ کے علاوہ دیگر الفاظ سے کرے۔ جو اس کے لئے بنائے گئے اور مخصوص ہیں۔ کنایہ کہلاتا ہے۔
اور تعریض کسی چیز کا تذکرہ کرنا جو دلالت کے انداز سے ہو مثلاً محتاج کہے کہ میں سلام کرنے آیا ہوں۔ اور آپ کے سخاوت والے چہرے کی زیارت کرنے آیا ہوں۔ اس لئے اہل عرب کہتے ہیں۔
حسبک بالتسلیم منی تقاضیا گویا اس نے کلام ایسے انداز سے کیا جو قائل کی غرض پر دلالت کرتا ہے۔
اَوْ اَکْنَنْتُمْ فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ (یا اپنے دلوں میں چھپائو) یعنی تم اپنے دلوں میں چھپائو اور اپنے دلوں میں رکھو اور زبان سے تعریض و تصریح کسی طور پر ظاہر نہ کرو۔
عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ سَتَذْکُرُوْنَہُنَّ (اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم عنقریب ان کا تذکرہ کرو گے) یعنی ہر صورت ان کا تذکرہ کرو گے۔ ان کی طرف رغبت کو زبان سے ظاہر کرنے سے نہیں رکو گے۔
وَلٰکِنْ لاَّ تُوَا عِدُوْہُنَّ سِرًّا (لیکن ان سے خفیہ جماع کا وعدہ نہ کرو) ۔ کیونکہ یہ پوشیدہ کیے جانے والے افعال میں سے ہے۔ یعنی عدت میں اس طرح مت کہو کہ میں جماع پر قدرت رکھتا ہوں۔
اِلَّآ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا (مگر یہ کہ ان سے دستور کی بات کہو) ۔ تعریض وکنایہ سے اِلاَّ کا تعلق لا تواعدوھن سے ہے یعنی لا تواعدوہن مواعدۃ قط۔
الا مواعدۃ معروفۃ غیر منکرۃ ان سے وعدہ نہ لو پختہ وعدہ مگر دستور کا وعدہ جو نامناسب نہ ہو۔
عزم فعل کی طرح ہے :
وَلَا تَعْزِمُوْا عُقْدَۃَ النِّکَاحِ (اور عقد نکاح کا قصد نہ کرو) یہ عزم الامر اور عزم علیہ پختہ ارادہ کرنا عقد نکاح کی نہی میں مبالغہ کیلئے عزم عقد سے منع فرمایا۔ کیونکہ کسی فعل کا پختہ ارادہ اس پر اقدام کرنا ہی ہوتا ہے۔ جب عزم سے منع فرمایا تو فعل کی ممانعت اور زیادہ ہوگئی۔ مطلب یہ ہے کہ نکاح کی گرہ کو باندھنے کا عزم مت کرو۔ یا دوسرا قول : نکاح کی گرہ کو قطعی مت کرو۔ کیونکہ عزم کی حقیقت قطع ہے۔ اور اس حدیث کا یہی معنی ہے۔
لا صیام لمن لم یعزم الصیام من الّیل۔ جو رات کو روزے کا قطعی فیصلہ نہ کرے اس کا روزہ نہیں۔ اور دوسری روایت میں لم یبیت الصیام (نسائی) بھی وارد ہوئے ہیں۔ قطعی فیصلہ مراد ہوگیا مطلب آیات کا یہ ہے۔ عقد نکاح کا پختہ ارادہ مت کرو۔
حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتٰبُ اَجَلَہٗ جب تک کہ لکھا ہوا اپنے وقت کو نہ پہنچ جائے۔ یعنی یہاں تک کہ اس کی عدت ختم ہوجائے۔ عدت کو کتاب کہا کیونکہ اس کی فرضیت کتاب سے ثابت ہوئی مطلب یہ ہوا کہ یہاں تک لکھا ہوا انتظار اپنے وقت مقررہ یعنی انتہاء کو نہ پہنچ جائے۔
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَافِیْٓ اَنْفُسِکُمْ تم یقین کرلو۔ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں۔ جو تمہارے دلوں میں ہے۔ یعنی وہ پختہ ارادہ جو جائز نہیں۔
فَاحْذَرُوْہُ پس اس سے ڈرو یعنی اس کا پختہ ارادہ نہ کرو۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔ جان لو کہ اللہ تعالیٰ بخشنے والے حلم والے ہیں۔ اسی لئے تمہیں جلدی سزا نہیں دیتے (بلکہ مہلت دیتے ہیں)
مسئلہ : یہ اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس نے نہ تو بیوی کو طلاق دی تھی اور نہ ہی اس کا مہر مقرر کیا تھا۔
Ayah 2:236آیت 236:
لَا جُنَاحُ عَلَیْکُمْ ۔ تم پر کچھ گناہ نہیں یعنی تم پر وجوب مہر کا تاوان نہیں۔
اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ اگر تم عورتوں کو طلاق دے دو ۔ یہ شرط ہے۔ اور اس کے جواب پر لا جناح علیکم دلالت کر رہا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ (اگر تم عورتوں کو طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں) ۔
مَالَمْ تَمَسُّوْہُنَّ (جب تک کہ تم نے عورتوں کو ہاتھ نہ لگایا ہو) ۔ یعنی ان سے مجامعت نہ کی ہو۔ ما شرطیہ ہے۔ یعنی ان لم تجامعوہن۔ اگر تم نے ان سے مجامعت نہ کی ہو۔
اختلافِ قراءت :
حمزہ ٗ علی رحمہما اللہ نے قرآن مجید میں جہاں بھی یہ لفظ آیا اس کو تُمَاسُّوْہُنَّ پڑھا ہے۔ کیونکہ یہ فعل دو کے درمیان ہونے والا ہے۔
اَوْ تَفْرِضُوْا لَہُنَّ فَرِیْضَۃًاور نہ مقرر کیا ہو ان کے لئے مہر۔ یعنی مگر یہ کہ مقرر کیا ہو تم نے ان کے لئے مہر یا یہاں تک کہ تم مقرر کرو۔ فرض الفریضۃ مہر مقرر کیا۔
غیر موطوءہ کا مہر :
مسئلہ : اگر مطلقہ غیر موطوءہ ہے۔ تو مقررہ مہر کا نصف اس کو دیا جائے گا اور اگر مہر مقرر ہی نہ ہو تو مہر مثل کا نصف نہ دیا جائے گا بلکہ جوڑا دیا جائے گا۔
وَمَتِّعُوْہُنَّ اور تم انہیں متعہ دو ۔ یہ فعل محذوف کا معطوف ہے تقد یر عبارت یہ ہے۔ فَطَلِّقُوْہُنَّ وَ مَتِّعُوْہُنَ طلاق دے دو اور انہیں فائدہ پہنچائو اور متعہ۔ تین کپڑے چادر اوڑھنی ٗ کرتہ ہے۔ عَلَی الْمُوْسِعِ (وسعت والے پر) یعنی وہ جس کو وسعت حاصل ہے۔ قَدَرُہٗاس مقدار کے مطابق جس کی وہ قدرت رکھتا ہو۔
قراءت : ابوبکر کے علاوہ باقی کوفی قراء نے قَدْرُہٗ دال کے جزم سے پڑھا ہے۔ اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔
وَعَلَی الْمُقْتِرِتنگدست پر۔ تنگ حال والا۔ اور اس بات کی دلیل کہ مہر کا تاوان گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔
وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ تا فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ ہے۔ پس نصف فرضتم سے اس گناہ کا اثبات جس کی اس جگہ نفی فرمائی قَدَرُہٗ اس کی حیثیت سے اور یہ متعہ مستحب ہے۔ مَتَاعًایہ مَتِّعُوْہُنَّ کی تاکید ہے۔ یعنی متعوہن تمتیعًا۔ تم ان کو متعہ دو متعہ دینا۔
بِالْمَعْرُوْفِ (دستور کے موافق) یعنی اس انداز سے جو شرع میں مستحسن ہے۔ اور مروت کے اعتبار سے درست ہے۔ حَقًّا یہ حق ہے یہ متاعاً کی صفت ہے۔ یعنی ایسا متعہ جو ان پر واجب ہے۔
یا دوسرا قول : حَقَّ ذٰلِکَ حَقًّایہ ثابت ہوا ثابت ہونا۔
مستقبل کا محسن :
عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ (نیکی کرنے والوں پر) ۔ مسلمانوں پر یا ان لوگوں پر جو مطلقات پر متعہ دے کر احسان کرتے ہیں۔
سوال : ان کے فعل کرنے سے قبل ہی ان کو محسنین کیوں فرمایا۔ حالانکہ ابھی انہوں نے احسان تو نہیں کیا ؟
جواب : یہ اسی طرح ہے جیسا حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد : من قتل قتیلا فلہ سلبہ (بخاری ومسلم) تو قتیل مایؤ ول کے اعتبار سے کہا۔ اور یہ احسان و تبرع نہیں جو اس کے ذمہ نہ ہو بلکہ یہ متعہ تو واجب ہے۔
پھر اس عورت کا حق بتلایا کہ طلاق دیتے وقت اس کا مہر مقرر تھا مگر طلاق قبل المس واقع ہوگئی۔ پس فرمایا۔
Ayah 2:237وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْہُنَّ (اگر تم ان کو طلاق دے دو اس سے پہلے کہ تم نے ان کو چھوا ہو) ۔ اِنْ یہاں فعل پر داخل ہوا بتاویل مصدر فعل موضع جر میں ہے یعنی اس سے پہلے کہ تم نے ان کو چھوا ہو۔
وَقَدْ فَرَضْتُمْ (اور تم معین کرچکے ہو) یہ موضع حال میں ہے یعنی اس حال میں کہ تم نے معین کردیا۔
لَہُنَّ فَرِیْضَۃً (ان کے لئے مہر)
فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّآ اَنْ یَّعْفُوْنَ (پس نصف ہے اس کا جو تم نے مقرر کیا مگر یہ کہ وہ عورتیں معاف کردیں) مراد اس سے مطلقات ہیں۔ ان فعل کے ساتھ استثناء کی وجہ سے موضع نصب میں واقع ہے گویا اس طرح کہا گیا۔ پس تم پر نصف ہے جو تم نے مقرر کیا۔ تمام اوقات میں مگر اس وقت میں کہ وہ تم سے نصف مہر معاف کردیں۔
صیغوں میں فرق :
سوال : مردوں کے لئے یعفوا اور عورتوں کے لئے یعفون کا صیغہ لایا گیا۔ حالانکہ تانیث و تذکیر کا فرق ہونا چاہیے۔
جواب : یعفوا۔ اس میں وائو ضمیر ہے اور نون علامت رفع تھی ان کی وجہ سے گرگئی اور یعفون میں وائو لام کلمہ ہے اور نون ضمیر جمع مؤنث ہے اس لئے عامل کا اس میں چنداں اثر نہیں۔ اویعفوا۔ یہ یعفون کے محل پر معطوف ہے۔
نکاح کی گرہ والا :
الَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ وہ جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے یعنی خاوند جیسا کہ حضرت علی ؓ نے تفسیر فرمائی۔ اور یہی سعید بن جبیر اور شریح اور مجاہد۔ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی (رح) کا قول جدید بھی یہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طلاق کا اختیار مرد کو ہے۔ پس عقد کو باقی رکھنا بھی اسی کے اختیار میں ہے۔
مطلب یہ ہے کہ شرعی واجب تو نصف مہر ہی ہے مگر عورت کل کو ساقط کر دے تو اس کی مرضی۔ یا مرد اپنی عظمت کا خیال کرتے ہوئے تمام ادا کر دے۔
امام مالک ٗ اور امام شافعی رحمہما اللہ کا پرانا قول یہ ہے کہ بیدہ عقدۃ النکاح سے ولی مراد ہے۔
ایک اہم سوال :
امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کے مسلک کے مطابق ولی چھوٹی بچی کے حق میں تبرع کا مالک نہیں تو یہاں بڑی عورت کے سلسلہ میں عقدۃ النکاح کیسے بن گیا۔
نحو : ان تعفوا۔ یہ بتاویل مبتداء ہے اور اقرب للتقویٰ یہ خبر ہے اس میں خطاب ازواج اور زوجات کا بطور تغلیب ہے۔
مقام عفو :
زجاج (رح) نے اس کو ذکر فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ خاوند کا عفو یہ ہے کہ وہ کل مہر دے دے اور یہ عفو اس کے حق میں بہت بہتر ہے اور عورت کا عفو تمام کا وصول نہ کرنا بلکہ تمام سے دستبردار ہونایہ عورت کے لئے بہت بہتر ہے۔
یا دوسرا قول : خاوندوں کے لئے عفو بہت بہتر ہے۔
وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ (اور تم فضل کو نہ بھلائو) یہاں فضل افضلیت کے معنی میں ہے۔
بَیْنَکُمْ (اپنے درمیان) یعنی اس بات کو مت بھولو کہ بعض کو بعض پر فضیلت ہے جیسے دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے افضل ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (بےشک اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے) پس وہ تمہاری افضلیت پر تمہیں بدلہ دیگا۔
Ayah 2:238آیت 238 :
حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ (تم تمام نمازوں کی حفاظت کرو) یعنی ان کو ان کے اوقات میں ادا کرنے کا التزام کرو۔ اور ان کے ارکان اور شرائط کو پورا کرنے کا التزام کرو۔
نمازِ عصر کی عظمت :
وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی (اور درمیانی نماز) یعنی جو نمازوں کے درمیان میں ہو۔ یعنی فضیلت والی۔ عرب کے لوگ فضیلت والی چیز کے لئے وسط کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔
صلوۃ وسطیٰ کو مفرد لا کر صلوٰت پر عطف کیا کیونکہ یہ نماز فضیلت میں منفرد مقام رکھتی ہے اور وہ صلوٰۃ عصر ہے۔
امام ابوحنیفہ (رح) اور جمہور علماء کا یہی مسلک ہے۔
دلیل نمبر 1 : اس لئے کہ حضور ﷺ نے احزاب کے دن فرمایا۔ انہوں نے ہمیں صلوٰۃ وسطی سے مشغول کیا یعنی صلوٰۃ عصر سے۔ اللہ تعالیٰ ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے۔ (بخاری، مسلم، احمد)
نمبر 2۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہی وہ نماز ہے کہ جس سے سلیمان ( علیہ السلام) مشغول ہوئے یہاں تک کہ سورج حجاب میں چھپ گیا۔ (ابن ابی شیبہ)
نمبر 3۔ مصحف حفصہ ؓ میں الصلوٰۃ الوسطیٰ ۔ صلوٰۃ العصر کے الفاظ ہیں۔
نمبر 4۔ یہ نماز دو دن اور دو رات کی نمازوں کے درمیان میں واقع ہے۔
نمبر 5 اور اس کی فضیلت کی ایک وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنی تجارت اور معیشت کے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں۔
تفسیری اقوال :
دوسرا قول : یہ نماز ظہر ہے کیونکہ یہ دن کے درمیان میں ہے۔
تیسرا قول : نماز فجر ہے۔ کیونکہ یہ دن کی دو اور رات کی دو نمازوں کے درمیان ہے۔
چوتھا قول : نماز مغرب ہے کیونکہ یہ دو اور چار رکعات کے مابین تین رکعات والی ہے۔ اور اس لئے بھی کہ دو ، سری نمازوں اور دو جہری نمازوں کے درمیان ہے۔
پانچواں قول : نماز عشاء ہے کیونکہ وہ دو طاق نمازوں کے درمیان ہے یعنی مغرب اور نماز وتر۔
چھٹا قول : یہ لیلۃ القدر کی طرح غیر معین ہے تاکہ تمام نمازوں کی حفاظت کریں۔
قنوت قیام ہے :
وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ (تم اللہ تعالیٰ کے سامنے ادب سے کھڑے رہا کرو) یعنی نماز میں
نحو : قانتین۔ یہ حال ہے۔ یعنی اس حال میں کہ تم اطاعت کرنے والے اور خشوع کرنے والے ہو۔ یا اللہ تعالیٰ کو قیام میں یاد کرنے والے ہو۔
القنوت۔ کا معنی قیام کی حالت میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا۔
دوسرا قول : اس میں کہ وہ قیام کو لمبا کرنے والے ہیں۔
Ayah 2:239آیت 239 :
فَاِنْ خِفْتُمْ (پس اگر تم کو خوف ہو) یعنی دشمن کا خوف ہو یا اور کوئی۔
فَرِجَالاً (پس پیدل) یہ حال ہے یعنی تم پیدل نماز پڑھو۔ رجالا جمع راجل ہے جیسے قائم اور قیام۔
اَوْ رُکْبَانًا (یا سواری پر) یعنی ایک اکیلے اشارہ کے ساتھ۔ اس صورت میں قبلہ کی طرف منہ کرنا ضروری نہ ہوگا۔
فَاِذَآ اَمِنْتُمْ (جب تم امن میں ہوجائو) یعنی خوف زائل ہوجائے۔
فَاذْ کُرُوا اللّٰہَ (پس تم اللہ تعالیٰ کو یاد کرو) یعنی پس امن والی نماز پڑھو۔
کَمَا عَلَّمَکُمْ (جیسا اس نے تمہیں سکھایا) یعنی یاد کرنا اس طرح جیسا اس نے تمہیں سکھایا۔
مَالَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ (وہ باتیں جو تم نہ جانتے تھے) یعنی صلوٰۃِ امن۔
Ayah 2:240آیت 240 :
وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا وَّصِیَّۃً لِّاَزْوَا جِہِمْ مَّتَاعًا (اور وہ جو تم میں سے فوت ہوجائیں اور چھوڑ جائیں بیویاں وصیت کرنا ہے اپنی بیویوں کے لئے)
نحو و اختلاف قراءت :
شامی ٗ ابو عمرو ٗ اور حمزہ حفص نے وصیۃً کو نصب سے پڑھا ہے فلیوصوا وصیۃ۔ وہ وصیت کریں وصیت کرنا۔ یہ زجاج (رح) سے مروی ہے۔ اور دیگر قراء نے رفع سے پڑھا ہے یعنی فعلیہم الوصیۃ ان پر وصیت لازم ہے۔
نمبر 1۔ متاعًا یہ وصیت کی وجہ سے منصوب ہے کیونکہ یہ مصدر لیوصوا وصیۃ متاعاً وہ وصیت کریں وصیت فائدہ دینے کی۔
منسوخ و ناسخ کا ذکر :
دوسرا قول : متعوہن متاعًا۔ تم ان کو سامان کا فائدہ دو ۔
اِلَی الْحَولِ (ایک سال تک) یہ متاعًا کی صفت ہے۔
غَیْرَ اِخْرَاجٍ (بلا نکالے) یہ مصدر مؤکد ہے جیسا تمہارا قول ہذا القول غیر ماتقول۔ میں غیر ماتقول قول کی تاکید ہے۔
دوسرا قول : متاعًا سے بدل ہے مطلب آیت کا یہ ہوا کہ ان لوگوں پر حق بنتا ہے کہ جو فوت ہو رہے ہوں کہ وہ قریب المرگ ہونے سے پہلے بیویوں کے متعلق وصیت کریں کہ ان کی بیویاں ان کے بعد ایک سال مکمل نان ونفقہ لے لیں گی۔ یعنی یہ خرچہ ان پر ترکہ میت مشترکہ میں سے کیا جائے گا اور ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالا جائے۔
ابتدائے اسلام میں یہ مقرر کیا گیا پھر اس آیت سے منسوخ کردیا گیا۔
والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا الٰی قولہ اربعۃ اشہر و عشرا۔ یہ نسخ والی آیت اگرچہ تلاوت میں مقدم ہے مگر نزول میں متأخر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد سیقول السفہاء من الناس سورة البقرۃ۔ آیت نمبر 142 میں ہے۔
قد نرٰی تقلب وجہک فی السمآء البقرہ آیت نمبر 144۔ تلاوت میں مقدم ہے مگر نزول میں متاخر ہے اور قد نری تلاوت میں متاخر اور نزول میں مقدم ہے۔
فَاِنْ خَرَجْنَ (پس اگر وہ نکل جائیں) یعنی ایک سال کے بعد۔
فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْٓ اَنْفُسِہِنَّ (تو تم پر کچھ گناہ نہیں جو وہ اپنے نفسوں کے بارے میں کریں) یعنی زینت، پیغام منگنی کا وصول کرنا۔
مِنْ مَّعْرُوْفٍ (دستور کے مطابق) یعنی شرعاً غلط نہ ہو۔
وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (اور اللہ زبردست حکمت والا ہے) ان احکام میں جو وہ کرتے ہیں۔
Ayah 2:241آیت 241:
وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌم (مطلقہ عورتوں کو فائدہ دینا ہے) یعنی عدت کا نفقہ۔
بِالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ (دستور کے موافق یہ حق ہے متقین پر) حَقًّا یہ مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
Ayah 2:242آیت 242 :
کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ ٰایٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ (اسی طرح اللہ تعالیٰ کھول کر آیات بیان کرتے ہیں تاکہ تم سمجھو) اگر اس سے مراد متعہ ہو تو مراد مطلقہ مذکورہ کے علاوہ ہے اور یہ متعہ مستحب ہے۔
تَعْقِلُوْنَ یہ محل رفع میں اول کی خبر ہے۔
Ayah 2:243آیت 243 :
اَلَمْ تَرَ (کیا آپ نے نہیں دیکھا) یہ ہمزہ تقریر و تاکید کے لئے ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے اہل کتاب اور احبار اولین سے یہ واقعہ سن رکھا تھا اور ان کی حالت پر تعجب کے اظہار کے لئے بھی ہے۔
دوسرا قول : یہ کلام تعجب دلانے میں ایک مثل بن گیا۔ اس سے ان لوگوں کو مخاطب کیا گیا۔ جنہوں نے اس واقعہ کو نہ دیکھا اور نہ سنا تھا۔ تاکہ مثل سے بیخبر ہونے سے ان پر تعجب کا اظہار ہو۔
دیار سے مراد :
اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ (ان لوگوں کو جو اپنے گھروں سے نکلے) یعنی اپنی بستی و شہر سے بعض نے کہا یہ بستی واسط ہے جہاں طاعون پڑنے پر لوگ وہاں سے بھاگ نکلے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو موت دے دی۔ پھر حضرت حزقیل ( علیہ السلام) کی دعا سے ان کو دوبارہ زندہ کیا۔
دوسرا قول : یہ بنی اسرائیل کے لوگ ہیں ان کے بادشاہ نے ان کو جہاد کی دعوت دی۔ تو یہ موت سے ڈر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آٹھ دن تک موت کی نیند سلایا۔ پھر ان کو زندہ کیا۔
وَہُمْ اُلُوْفٌ (اور وہ ہزاروں تھے) : یہ حال ہونے کی وجہ سے موضع نصب میں ہے۔ اس میں دلیل ہے کہ اُلُوْفٌکا لفظ کثرت کے لئے بولا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ جمع کثرت ہے یہ اَلْف کی جمع ہے۔ الاف کی نہیں۔
حَذَرَ الْمَوْتِ (موت کے ڈر سے) یہ مفعول لہٗ ہے۔
فَقَالَ لَہُمُ اللّٰہُ مُوْتُوْا (پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا کہ مر جائو) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو موت دے دی۔
موت ‘ موت میں فرق :
نکتہ : یہ انداز تعبیر اس لئے اختیار فرمایا گیا تاکہ ظاہر ہو کہ ان تمام کی موت ایک آدمی کی طرح تھی۔ اللہ تعالیٰ کے حکم و مشیت سے یہ موت عادۃً موت سے مختلف ہے۔
اس میں مسلمانوں کو جہاد پر ابھارا کہ جب موت کے بغیر چارئہ کار نہیں۔ اور اس سے بھاگنے کا چارہ نہیں تو زیادہ بہتر ہے کہ وہ موت اللہ تعالیٰ کی راہ میں پیش آئے۔
ثُمَّ اَحْیَاہُمْ (پھر ان کو زندہ کیا) تاکہ وہ عبرت حاصل کریں اور جان لیں اللہ کے حکم و فیصلے سے بھاگنا ممکن نہیں۔ اس کا عطف فعل محذوف پر ہے تقدیر عبارت یہ ہے۔ پس وہ مرگئے پھر ان کو زندہ کردیا۔ یا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان فقال لہم اللّٰہ موتوا کا معنی ہی یہ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو موت دے دی۔ وہ معنوی اعتبار سے اس پر عطف تھا۔
اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْفَضْلٍ عَلَی النَّاسِ (بےشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر مہربانی کرنے والے ہیں) اس طرح کہ ان کو ایسے واقعات دکھاتے ہیں جن سے وہ عبرت حاصل کریں۔ جیسا کہ ان کو دکھایا اور جیسا ان کا واقعہ بیان کر کے تمہیں دکھایا۔
یا دوسرا قول : لوگوں پر فضل فرمانے والے ہیں کہ ان لوگوں کو زندہ کردیا۔ تاکہ وہ عبرت حاصل کریں اور کامیاب ہوں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے۔ تو ان کو مردہ چھوڑ دیتے۔ قیامت کے دن تک وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْکُرُوْنَ (لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے اس پر)