Ayah 2:190مفہوم آیت میں چار اقوال :
190۔ وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْاج اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ : اور اللہ کی راہ میں جنگ کرو ان لوگوں سے جو تم سے جنگ کرتے ہیں ‘ اور زیادتی مت کرو ‘ بیشک اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ۔ اللہ کے راہ میں مقاتلہ کا مطلب اعلائے کلمۃ اللہ اور عظمت دین کے لئے جہاد کرنا ہے الذین یقاتلونکم۔ جو تم سے لڑائی کرتے ہیں نہ ان سے جو کہ باز رہنے والے ہیں اس صورت میں یہ آیت سورة التوبہ آیت نمبر 26 قاتلوا المشرکین کآفۃ سے منسوخ مانی جائے گی۔
دوسرا قول : یہ آیت سب سے پہلی آیت ہے جو قتال کے سلسلہ میں اتری۔ پس رسول اللہ ﷺ اس سے لڑتے جو آپ سے لڑتا اور اس سے ہاتھ روکتے جو لڑائی سے باز رہتا۔
تیسرا قول : جو تم سے لڑائی قائم کرنے والے ہیں یعنی نوجوان نہ وہ جو لڑائی کے قابل نہیں مثلاً بوڑھے ٗ بچے ٗ رہبان عورتیں۔
چوتھا قول : تمام کفار مراد ہیں کیونکہ وہ تمام ہی مسلمانوں سے لڑائی کا قصد کرنے والے ہیں اور قاصدین مقاتلین کے حکم میں ہیں۔
حد سے نہ بڑھنے کا مطلب :
ولا تعتدوا۔ حد سے نہ بڑھو۔ یعنی قتال میں ابتداء کر کے۔
دوسرا قول : حد سے نہ بڑھو ان سے لڑائی کر کے ان سے لڑائی منع کی گئی مثلاً بوڑھے عورتیں وغیرہ
تیسرا قول : مثلہ کر کے حد سے نہ بڑھو بیشک اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔
Ayah 2:191تفسیر آیت 191:
وَاقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ : (اور ان کو قتل کرو جہاں تم ان کو پائو) الثقف کسی چیز کو جلدی پالینا اور اس پر غلبہ حاصل کرلینا۔ یعنی جس جگہ ان کے قتل پر قادر ہو۔
وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ : (اور ان کو وہاں سے نکالو۔ جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا) یعنی مکہ سے
وعدہ الٰہی :
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فتح مکہ کا وعدہ فرمایا اور رسول اللہ ﷺ نے اسلام نہ لانے والوں کے ساتھ ایسا سلوک فرمایا۔
فتنہ سے مراد :
وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۔ نمبر 1۔ فتنہ سے مراد یہاں شرک ہے جو قتل سے عظیم تر ہے یہ قتل ایک وقت میں مسلمانوں کے لئے مباح کر دینگے۔
دوسرا قول : فتنہ سے عذاب آخرت مراد ہے۔
تیسرا قول : وہ مشقت و مصیبت جو انسان پر اترتی ہے اور قتل سے بڑھ کر اس سے سزا پاتا ہے۔
نکتہ : ایک عقل مند سے کسی نے پوچھا۔ ما اشد من الموت موت سے زیادہ سخت کونسی چیز ہے ؟ اس نے جواب دیا وہ مصیبت جس میں موت کی تمنا کی جائے۔ تو گویا اخراج عن الوطنکو ان فتن سے قرار دیا جن میں ابتداء کے وقت موت کی تمنا کی جاتی ہے۔
وَلَا تُقٰتِلُوْہُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوْکُمْ فِیْہِ : (ان سے مسجد حرام کے پاس مت لڑو) یعنی حرم میں ان کے ساتھ لڑائی کی ابتداء نہ کرو۔ (یہاں تک کہ وہ ابتداء کریں) ۔ عند المسجد سے مراد سارا حرم ہے۔
فَاِنْ قٰتَلُوْکُمْ فَاقْتُلُوْہُمْ 1 : (اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان سے لڑو) حرم میں۔ ہمارے نزدیک اشہر حرم میں بھی قتل نہ کریں گے۔ مگر جب کہ وہ ہمارے ساتھ قتل میں ابتداء کریں۔ پس اس وقت ہم ان کو قتل کریں گے۔ اگرچہ فاقتلوہم حیث ثقفتموہم۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قتل ہر جگہ مباح ہے لیکن آیت۔ لاتقاتلوہم عندالمسجد الحرام سے حرم کی تخصیص ہوگئی۔ سوائے اس صورت کے جس میں وہ ابتداء کریں۔
(تفسیر شرح التاویلات میں اسی طرح مذکور ہے) کَذٰلِکَ جَزَآئُ الْکٰفِرِیْنَ (کافروں کی سزا اسی طرح ہے) نحو۔ یہ مبتداء و خبر ہے۔
اختلافِ قراءت :
حمزہ اور علی رحمہما اللہ نے اس طرح پڑھا۔ ولا تقٰتٰلوھم حتّٰی یقتلوکم فان قَتَلُوکم
Ayah 2:192تفسیر آیت 192:
فَاِنِ انْتَہَوْا : (اگر وہ باز آجائیں) یعنی شرک سے اور قتال سے
فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ: (بےشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے) ان تمام سرکشیوں کو جو پہلے کی جا چکیں۔
رَّحِیْمٌ: (مہربان ہے) ان کے ایمان و توبہ کو قبول فرمائے گا۔
Ayah 2:193193۔ وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ : (ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے) یعنی شرک
نحوی تحقیق :
یہ کان تامہ ہے اور حتی کَیْ کے معنی میں ہے یا اِلٰی اَنْ کے معنی میں
وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ : (اور دین ہوجائے خالص) اس طرح کہ شیطان کا اس میں کوئی حصہ نہ ہو۔ یعنی اس کے سوا کسی چیز کی عبادت نہ کی جائے۔
ظالم سے مراد :
فَاِنِ انْتَھَوْا فَـلَا عُدْوَانَ اِلَّاعَلَی الظّٰلِمِیْنَ : (اگر وہ باز آجائیں تو کسی پر زیادتی نہیں سوائے ظالموں کے) یعنی اگر وہ کفر سے باز آجائیں تو ان سے مت لڑو۔ اس لئے کہ زیادتی صرف ظالمین پر ہی ہے اور یہ ایمان کی وجہ سے ظالم نہیں رہے)
دوسرا قول : ظالموں کے سواء کسی پر زیادتی نہ کرو۔ جو ظالم باز نہ آنے والے ہوں۔
بلاغت : آیت میں مشاکلہ ہے کہ جزائے ظلم کو ظلم کہہ دیا جس طرح سورة بقرہ آیت نمبر 194 میں فمن اعتدٰی علیکم فاعتدوا علیہ میں بدلہ اعتداء کو اعتداء کہہ دیا گیا ہے۔
Ayah 2:194تفسیر آیت 194:
اَلشَّہْرُ الْحَرَامُ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌط فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ : حرمت والا مہینہ بدلہ میں حرمت والے مہینے کے اور حرمت والی چیزوں میں برابری ہے۔ جو زیادتی کرے تم پر تو تم اس پر زیادتی کرو اسی قدر جتنی اس نے زیادتی کی۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یقین کرلو اللہ تعالیٰ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے)
6 ھ۔ ذیقعدہ حدیبیہ والے سال مشرکین نے مسلمانوں سے شہر حرام ذوالقعدہ میں لڑائی کی۔ پس عمرۃ القضاء 7 ھ ذیقعدہ میں یہ بات کہی گئی۔ لڑائی کو ذیقعدہ کی بناء پر ناپسند کیا تو فرمایا۔ حرمت والا مہینہ بدلے حرمت والے مہینے کے ہے اور اس کی بےحرمتی ان کی بےحرمتی کے بدلے میں ہے۔ یعنی تم اس کی حرمت سے بےپر وائی ان کے بےحرمتی کے مقابلہ میں کر رہے ہو۔
وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ1۔ حرمت کی اشیاء میں برابری جاری ہوتی ہے جو کسی چیز کی بےحرمتی کرے۔ تو اس حرمت کا اس سے قصاص لیا جائے گا۔ کہ اس کی بےحرمتی کی جائے گی۔ پس جب انہوں نے تمہارے مہینے کی حرمت کو توڑا ہے تو تم بھی ان سے اسی طرح کرو اور کوئی پرواہ نہ کرو۔ اور فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْص۔ کہ جو حد سے گز رے۔ پس اس پر اتنی زیادتی کرو۔ جتنی اس نے تم پر کی۔ سے اس کی تائید کردی۔ مَنْ شرطیہ ہے اور بآءؔ زائدہ نہیں۔ تقدیر عبارت یہ ہے بعقوبۃ مماثلۃ یعنی ایسی سزا جو مماثل ہو اور ان کی عداوت کے پیش نظر تقوی اختیار کرو۔
یا باء زائدہ مان لیں۔ تو تقدیر عبارت یہ ہے۔ عدوانًا مثل عداونھم۔ یعنی ایسی زیادتی جو ان کی زیادتی جیسی ہو۔
وَاتَّقُوا اللّٰہَ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ اس حالت میں کہ تم زیادتی کرنے والوں پر غلبہ پانے والے ہو۔ پس ان پر ایسی زیادتی نہ کرو۔ جو تمہارے لئے حلال نہ ہو۔
وَاعْلَمُوْٓ ا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ ۔ اور یقین کرلو بیشک اللہ متقین کے ساتھ ہیں۔ اپنی مدد کے ساتھ (معیت، نصرت و مدد ہی مراد ہے)
Ayah 2:195تفسیر آیت 195:
وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ وَاَحْسِنُوْاج اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ : (اور تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔ اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بیشک اللہ نیک لوگوں کو پسند کرتا ہے) وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اور خرچ کرو اللہ کی رضا مندی میں یہ انفاق جہاد اور دیگر میں عام ہے۔ وَلاَ تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّہْلُکَۃِ 5 اور تم اپنے نفسوں کو ہلاکت میں مت ڈالو۔ ایدیکم سے مراد نفس ہیں۔ باء زائدہ ہے۔ یا نہ قتل کرو اپنے نفسوں کو اپنے ہاتھوں جیسا عرب کہتے ہیں اہلک فلان نفسہ بیدہ جب کہ وہ اپنے نفس کی ہلاکت کا سبب بنے۔ مطلب یہ ہوا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کو ترک کرنے کی ممانعت ہے۔
ترک انفاق ممنوع ہے :
کیونکہ یہ ہلاکت کا سبب ہے یا خرچہ میں فضول خرچی کرے یہاں تک کہ فقیر ہوجائے اور اپنے اہل کو ضائع کر دے۔ یا نفس کو خطرات میں مبتلا کرنا۔ یا غزوہ کے ترک سے ہلاکت میں نہ ڈالو۔ کیونکہ وہ دشمن کی تقویت کا باعث ہے۔ التھل کہ : ہلاک الہلک یہ ایک ہی ہیں۔ واحسنوا : اور نیکی کرو۔ یعنی اس کے بدلے کے متعلق اچھا گمان اللہ پر رکھو۔ ان اللّٰہ یحب المحسنین۔ (بےشک اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں) جو محتاجوں کو دیتے ہیں۔
Ayah 2:196196۔ وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ وَلَا تَحْلِقُوْا رُئُ ْوسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہ ‘ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِہٖٓ اَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖ فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ فَاِذَآ اَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ذٰلِکَ لِمَنْ لَّمْ یَکُنْ اَہْلُہ ‘ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ : (اور تم پورا کرو اللہ تعالیٰ کیلئے حج اور عمرہ کو پھر اگر تم روک لئے جائو۔ تو جو کچھ ہوسکے قربانی معین سے اور نہ منڈوائو اپنے سر یہاں تک کہ ہدی اپنے ٹھکانہ پر پہنچ جائے پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اس کو تکلیف ہو سر کی تو اس پر بدلہ لازم ہے روزہ یا خیرات ہدی میں سے پس جب تم امن میں ہوجائو۔ تو جو شخص نفع اٹھائے عمرہ کا حج کے ساتھ ملانے کا تو جو کچھ میسر ہو ہدی میں سے۔ پس جو شخص ہدی نہ پائے پس وہ حج کے دنوں میں تین دن کے روزے رکھے اور سات جب تم لوٹو۔ یہ دس دن مکمل ہوئے یہ حکم اس کیلئے
ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے پاس موجود نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ اور یقین کرو بیشک اللہ سخت بدلہ لینے والے ہیں) ۔
وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ : اور پورا کرو حج وعمرہ اللہ تعالیٰ کے لئے یعنی ان کی ادائیگی ان کی شرائط کے ساتھ اور فرائض کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لئے پوری کرو۔ بغیر کسی نقص اور سستی کے اور یہ بھی کہا گیا۔ تکمیل تو شروع کرنے کے بعد ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس نے ان دونوں کو شروع کیا۔ اس پر ان کی تکمیل لازم ہے اور یہی ہم کہتے ہیں کہ عمرہ شروع کرنے سے لازم ہوجاتا ہے پس اس آیت میں لزوم عمرہ کے لئے امام شافعی (رح) کے لئے کوئی موقع استدلال کا نہ رہا۔ کیونکہ یہاں تو تکمیل کا حکم ہے اور واجب و نوافل دونوں کی تکمیل کا کبھی حکم دیا جاتا ہے۔
تکمیل کا حکم :
یا ان کا اتمام یہ ہے کہ اپنے گھر سے ان کا احرام باندھے۔
یا ان دونوں کے لئے الگ الگ سفر کرے۔
یا ان دونوں میں حلال مال خرچ کرے۔
یا ان دونوں کی ادائیگی کے ساتھ تجارت نہ کی جائے۔
احصار کا مفہوم :
فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ : اگر تم روک دیئے جائو۔ عرب کہتے ہیں۔ احصر فلان۔ جبکہ اس کو کچھ خوف یا مرض یا عاجزی نے روک دیا۔ وحصر۔ جب دشمن جانے سے روک دے۔ ہمارے نزدیک احصار ہر رکاوٹ خواہ وہ دشمن یا بیماری یا ان کے علاوہ کسی بھی چیز سے پیش آجائے ظاہر نص سے یہی معلوم ہوتا ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ من کسرا و عرج فقد حل کہ جس کی ہڈی ٹوٹ گئی یا لنگڑا ہوگیا اس کیلئے جائز ہے کہ وہ حلال ہو اور اس پر آئندہ سال حج ہے۔ ( ابودائود وترمذی) امام شافعی (رح) کے نزدیک احصار صرف دشمن سے ہے اور ظاہر نص دلالت کر رہی ہے کہ احصار عمرہ کے دوران بھی واقع ہوسکتا ہے کیونکہ دونوں کے بعد ذکر کیا گیا ہے۔ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ 5 (جو ہدی میسر ہو) عرب کہتے ہیں یسر الامروا ستیسر۔ اس کو میسر ہوا جیسا کہ صعب واستصعب بولتے ہیں۔ مجرد و مزید دونوں کا ایک ہی معنی ہے الہدی ہدیۃ کی جمع ہے یعنی اگر بیت اللہ کی طرف جانے سے تم روک دیئے جائو اس حالت میں کہ تم حج کا احرام باندھنے والے ہو یا عمرہ کا پس تم پر لازم ہے کہ جب تم ان سے حلال ہونے کا ارادہ کرو۔ تو جو ہدی میسر ہو خواہ اونٹ یا گائے یا بکری (وہ دیکر حلال ہوجائو)
نحو : مایہ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے تقدیر عبارت فعلیکم ما استیسر ہے یا منصوب ہے تقدیر عبارت فاہدوا ما استیسر۔
مقام ذبح کونسا ہے ؟
وَلاَ تَحْلِقُوْا رُئُ وْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہٗ 1 (اور تم سر نہ منڈوائو یہاں تک کہ ہدی اپنے حلال ہونے کی جگہ کو پہنچ جائے) اس میں ان لوگوں کو خطاب کیا جن کو روک لیا گیا ہو۔ یعنی سر منڈا کر حلال نہ ہو یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ ہدی جو تم نے حرم روانہ کی ہے وہ اپنے مقام ذبح پر پہنچ چکی ہے وہ مقام جہاں اس کا نحر کرنا ضروری ہے اور وہ حرم ہے۔
مسئلہ : یہ آیت ہماری دلیل ہے کہ دم احصار حرم میں ہی ذبح ہوگا۔
امام شافعی (رح) کے نزدیک غیر حرم میں بھی اس کا ذبح کرنا درست ہے۔
فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا : (پس جو تم میں سے بیمار ہو) جس شخص کو تم میں سے ایسی بیماری ہو جس سے حلق کی ضرورت پڑجائے۔
اَ وْ بِہٖٓ اَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖ : ا اس کو سر کی تکلیف ہو۔ یعنی جوئیں پڑجائیں۔ یا زخم ہوجائے۔
فَفِدْیَۃٌ : (تو فدیہ ہے) یعنی اس کے ذمہ فدیہ ہے اگر وہ سر منڈوا دے۔
مِّنْ صِیَامٍ ۔ (روزوں سے) یعنی تین دن کے روزے۔ اَ وْ صَدَقَۃٍ ۔ (یا صدقہ) یعنی چھ مسکین پر صدقہ جبکہ ہر مسکین کو نصف صاع گندم کا دیا جائے۔
اَوْ نُسُکٍج (یا قربانی) یعنی بکری نسک مصدر ہے یا جمع نسیکۃٌ ہے۔
فَاِذَآ اَمِنْتُمْ (جب تم امن میں ہوجائو۔ یعنی احصار سے یعنی احصارنہ ہو اور تم حالت امن و سلامتی میں ہو۔
نفع اٹھانا کیا ہے ؟
فَمَنْ تَمَتَّعَ ۔ فائدہ اٹھایا جس نے بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ ۔ (عمرہ کو حج سے ملانے کا) اس کا نفع اٹھانا عمرہ کے ساتھ وقت حج میں یہ ہے کہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے قرب کا فائدہ حاصل کرلیا۔ حج کے تقرب سے پہلے اور یہ بھی کہا گیا کہ نفع اٹھانا یہ ہے کہ جب وہ عمرہ سے حلال ہوگیا تو اس نے نفع اٹھایا یا اس چیز کو اپنے لئے مباح کر کے جو اس پر احرام حج کی تکمیل تک حرام تھی۔ اب حج کے احرام باندھنے تک حلال رہے گی۔
فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ 5 (پس جو ہدی میسر ہو) یہ ہدی متعہ ہے یہ دم نسک یعنی شکرانہ ہے اس لئے اس کا گوشت کھایا جائے گا اور یوم نحر کو ذبح کریں گے۔
ہدی کے بدلے دس روزے :
فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ : (پس جو شخص نہ پائے) یعنی ہدی۔ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَ یَّامٍ فِی الْحَجِّ ۔ پس وہ تین دن کے روزے رکھے حج میں یعنی اس کے ذمہ تین دن کے روزے ہیں۔ حج کے ایام میں اور وہ اس کے مہینے ہیں جو دونوں احراموں کے درمیان ہونگے احرام عمرہ اور احرام حج۔ وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ 1 ( اور سات جب تم لوٹو) یعنی جب تم سفر کرلو اور افعال حج سے فارغ ہوجائو۔ (خواہ مکہ میں ہو یا گھر پہنچ کر) تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ 1۔ (یہ دس پورے ہوئے) یعنی یہ دس روزے ہدی کے بدلے میں پورے ہیں۔ یا ثواب میں پورے ہیں۔ یا واو یہاں اس ابہام کو دور کرنے کے لئے لائے کہ وائو کو یہاں اباحت کے لئے نہ سمجھ لیا جائے جیسا کہ اس مثال میں ہے جالس الحسن وابن سیرین۔ اب اس مثال میں دونوں کے پاس بیٹھنا یا ایک کے پاس بیٹھنے میں وہ تکمیل حکم کرنے والا ہوگا۔
ذٰلِکَ : سے تمتع کی طرف اشارہ کیا اس لئے کہ مسجد حرام کے پاس رہنے والوں کے لئے تمتع و قران ہمارے نزدیک جائز نہیں۔ عند الشافعی (رح) ۔ یہ اشارہ اس حکم کی طرف ہے جو وجوب ہدی صیام ہے حالانکہ ان پر کوئی چیز واجب نہیں۔
لِمَنْ لَّمْ یَکُنْ اَہْلُہٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ 1۔ (یہ اس کے لئے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے پاس موجود نہ ہوں) وہ اہل مواقیت پھر وہ جو ان کے علاوہ ہیں مکہ تک۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ (اور تم اللہ سے ڈرو) ان احکام میں جن کا اس نے تمہیں حکم دیا اور جن سے حج وغیرہ کے سلسلہ میں روک دیا۔ وَاعْلَمُوْٓ ا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِِ (اور یقین کرلو کہ بیشک اللہ تعالیٰ سخت بدلہ لینے والے ہیں ان سے جو اس سے نہ ڈرے)
Ayah 2:197آیت۔ 197 : اَلْحَجُّ اَشْہُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِیْہِنَّ الْحَجَّ فَـلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْہُ اللّٰہُ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی وَاتَّقُوْنِ یٰٓـاُولِی الْاَلْبَابِ لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ہَدٰکُمْ وَاِنْ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ ۔ ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ: ( حج کے مہینے مقرر ہیں پس جو شخص لازم کرے اپنے اوپر حج کو نہ وہ عورت کے پاس جائے اور نہ کوئی گناہ کا کام کرے اور نہ وہ جھگڑا کرے حج میں اور جو کچھ تم نیکی کرو گے اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں اور زاد راہ لے لو پس بیشک بہترین زاد راہ تقویٰ ہے اور مجھ سے ڈرو۔ اے عقل والو ! تم پر کچھ گناہ نہیں کہ تم تلاش کرو فضل (یعنی) رزق اپنے پروردگار کا۔ پس جب تم عرفات سے لوٹو پس اللہ تعالیٰ کو یاد کرو مشعرحرام کے پاس اور اس کو یاد کرو جیسا اس نے تمہیں بتایا اور بیشک تم تھے اس سے پہلے گمراہوں میں پھر تم لوٹو جہاں سے دوسرے لوگ لوٹیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرو۔ بیشک اللہ تعالیٰ بخشن ہار رحم کرنے والے ہیں)
اَ لْحَجِّ : سے مراد وقت حج ہے جیسے کہتے ہیں : البرد شہران۔ سردی کا وقت دو مہینے۔ اَشْہُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ5 معلومات سے مراد لوگوں کے ہاں معروف اور جانے پہچانے۔ جن کا لوگوں کو پہچاننا مشکل نہیں وہ شوال ٗ ذوالقعدہ اور دس دن ذوالحجہ کے ہیں۔
فائدہ توقیت :
ان مہینوں کو حج کے لئے مقرر کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ کوئی فعل حج ان مہینوں کے علاوہ ادا نہیں ہوسکتا۔ حتی کہ امام شافعی (رح) کے نزدیک تو احرام بھی منعقد نہیں ہوسکتا۔ ہمارے نزدیک اگر پہلے باندھ لیا۔ کراہیت کے ساتھ منعقد ہوجائے گا۔
الاشہر۔ جمع لائے کیونکہ دو ماہ مکمل اور تیسرے کا کچھ حصہ ہے یا یہ اسم جمع ہے اور اسم جمع واحد کے بعد سب کو شامل ہوتا ہے اس کی دلیل سورة التحریم آیت نمبر 4 فقد صغت قلوبکما ہے۔
کہ قلوب جمع لائے دو کے لئے۔ فَمَنْ فَرَضَ جس نے فرض کیا۔ یعنی احرام سے اپنے اوپر لازم کرلیا۔ فِیْہِنَّ الْحَجَّ ۔ ان مہینوں میں حج کو۔ فَلاَ رَفَثَ ۔ وہ نہ جماع کرے۔ رفث جماع کو کہتے ہیں یا تذکرہ جماع عند النساء یا فحش کلام۔
فسوق کی وضاحت :
وَلاَ فُسُوْقَج۔ نہ گناہ کرے۔ فسوق سے مراد گناہ یا گالم گلوچ ہے اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سباب المؤمن فُسُوْقٌ 5 (بخاری) مومن کو گالم گلوچ کرنا فسق ہے یا برے القاب سے یاد کرنا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا سورة الحجرات۔
آیت نمبر 11۔ بئس الاسم الفسوق کہ فسق والا نام بہت برا ہے۔
وَلاَ جِدَالَ فِی الْحَجِّ 1 اور نہ جھگڑا کرے حج میں۔ یعنی نہ جھگڑے رفقاء کے ساتھ اور نہ خدام اور جانور ہنکانے والوں کے ساتھ۔
ایک سوال کا جواب :
سوال : حج میں ان سے اجتناب کا حکم دیا حالانکہ ان سے ہرحال میں بچنا واجب ہے۔
جواب : حج کے ساتھ تو یہ اور زیادہ عیب والے اور برے ہیں۔ جیسا کہ نماز میں ریشم پہننا قرآن مجید کی قراءت نفی سے مراد یہاں ان کے انتفاء کا لازم ہونا ہے کہ وہ بالکل نہ پائے جائیں۔
اختلاف قراءت :
ابوعمرو اور مکی نے پہلے دو فلا رفثٌ ولا فسوقٌ پڑھا اور دونوں کو نہی پر محمول کیا۔ گویا یوں کہا فلا یکونن رفثٌ ولا فسوقٌ۔ کہ ہرگز جماع و فسوق نہ کرو۔ اور تیسرے ولا جدال کو نصب سے پڑھا۔ خبر کے معنی میں۔ جدال کی نفی کی گویا اس طرح کہا لاشک ولا خلاف فی الحج۔ یعنی اس میں شک اور نزاع نہیں کہ حج ذوالحجہ میں قرار پکڑ گیا۔ (جیسا رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے) (اس میں اختلاف مت کرو) برائیوں سے روک کر پھر خیر پر ابھارا کہ وہ برائی کی جگہ اچھا کام کریں۔ اور برے اعمال کی جگہ برو تقویٰ اختیار کریں اور جدال کی جگہ موافقت اور اخلاق جمیلہ کا مظاہرہ کریں۔ چناچہ فرمایا : وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْہُ اللّٰہُ 1 اور جو بھی تم بھلائی کا کام کرو اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں اور تم یقین کرلو کہ اللہ تعالیٰ ان افعال کو جاننے والے ہیں۔ وہ ان پر بدلہ عنایت فرمائیں گے۔
مسئلہ : اس آیت میں ان لوگوں کی تردید ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس بات کے قائل ہیں کہ اس کو جزئیات کا (نعوذ باللہ) علم نہیں۔
شان نزول : اہل یمن جب حج وعمرہ کے لئے جاتے تو زاد سفر ساتھ نہ لیتے۔ بلکہ کہتے ہم تو متوکل ہیں۔ پس وہ لوگوں پر بوجھ بنتے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ وَتَزَوَّدُوْا۔ تم زاد راہ لے لیا کرو۔ لوگوں سے کھانا مانگنے اور تنگ کرنے سے بچو۔ اور ان پر بوجھ نہ بنو۔
بہترین زاد راہ :
فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰیز۔ پس بہترین زاد راہ تقوی ہے۔ یعنی لوگوں کو تنگ کرنے اور ان پر بوجھ بننے سے بچنا۔
دوسرا قول : آخرت کے لئے زاد راہ لو اپنے آپ کو محظورات احرام و حج سے بچائو اس لئے کہ بہترین آخرت کا زاد ممنوعات سے بچنا ہے۔ وَاتَّقُوْنِ اور میری سزا سے بچو۔ یہ دعان کی طرح ہے۔
قراءت : ابوعمرو نے وصل کی حالت میں یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور بقیہ تمام قراء نے وصل ووقف میں حذف یاء سے پڑھا ہے۔ یٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ ۔ (اے عقل والو) یعنی تقاضہ عقل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے اور جو شخص عقل والا ہو کر اس سے نہیں ڈرتا وہ گویا عقل سے خالی ہے۔
شان نزول : ان لوگوں کے متعلق اتری۔ جن کا خیال یہ تھا کہ اونٹ والے اور تاجر پر حج نہیں۔ اور وہ کہا کرتے : ہؤلاء الداج ولیسوابا لحاج۔ کہ یہ معاون ہیں حاجی نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔
Ayah 2:198حج میں تجارت ممنوع نہیں :
198: لَـیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ 1 (کہ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم تلاش کرو فضل اپنے رب کا) یعنی حج کے ایام میں روزی جو فضل و عطیہ خداوندی ہے اس کی تلاش میں کوئی حرج نہیں۔ فضل سے مراد نفع یا تجارت ہے۔
فَاِذَ آ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفَاتٍ : (جب تم عرفات سے لوٹو۔ ) یہ افاضۃ الماء سے ہے۔
پانی کا زور سے بہنا۔ اور اصل اس طرح ہے افضتم انفسکم۔ مفعول کو ترک کردیا گیا یعنی جب تم کثرت سے چلائو۔ اپنے آپ کو اور لوٹو۔
عرفات جمع ہے :
عرفات۔ یہ موقف حج کا نام ہے یہ نام جمع ہی ہے۔ جیسے اذرعات۔ اور یہ منصرف ہے۔ کیونکہ اس میں تاء تانیث کی نہیں۔ بلکہ الف کے ساتھ یہ جمع مؤنث کی علامت ہے (واحد اس کا عرفۃ ہے)
وجہ تسمیہ : اس کا نام عرفات اس لئے رکھا گیا کہ ابراہیم ( علیہ السلام) کو اس کی نشان دہی کی گئی تو انہوں نے اس جگہ کو جونہی دیکھا پہلی نظر میں پہچان لیا۔
دوسرا قول : اس میں آدم ( علیہ السلام) و حوا ( علیہ السلام) کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا۔
دلیل فرضیت عرفات :
مسئلہ : اس میں دلیل ہے کہ وقوف عرفات فرض ہے کیونکہ افاضہ ٹھہرنے کے بعد ہوتا ہے۔
فَاذْکَرُوا اللّٰہِ : (پس تم اللہ تعالیٰ کو یاد کرو) یعنی تلبیہ اور لا الہ الا اللّٰہ اور حمد وثناء اور دعا کے ساتھ۔ یا نماز مغرب و عشاء پڑھ کر۔
مشعر حرام کو جمع کہنے کی وجہ :
عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِص : (مشعر حرام کے پاس) اور یہ قزح ہے یعنی وہ پہاڑ ہے جس پر امام وقوف کرتا ہے اور اس پر میقدہ بطور علامت ہے۔ المشعر۔ علامت اور نشان کیونکہ وہ عبادت کے مقامات میں سے ہے۔ الحرام۔ اس کو حرام حرمت (بمعنی روکنا) حرم میں جو چیزیں ممنوع ہیں وہ اس میں بھی ممنوع ہیں۔ یا عظمت کی وجہ سے کہہ دیا۔ یا مشعر حرام مزدلفہ ہے اس کو مزدلفہ اور جمع کہنے کی وجہ یہ ہے کہ آدم ( علیہ السلام) حواء ( علیہ السلام) کے ساتھ یہاں جمع ہوئے اور ان کے قریب ہوئے۔ یا یہاں دو نمازیں جمع کی جاتی ہیں یا یہاں وقوف کر کے لوگ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔
وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ہَدٰکُمْ : (اور اس کو یاد کرو جیسا اس نے تمہاری راہنمائی کی) مَا مصدر یہ ہے یا کافہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح یاد کرو۔ جیسا اس نے تمہیں سکھایا۔ کہ کیسے تم نے اس کو یاد کرنا ہے اور اس سے عدول نہ کرو۔
وَاِنْ کُنْتُمْ مِّنْ قَـبْلِہٖ : (اگرچہ تم اس ہدایت سے پہلے)
ان مخففہ :
لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ : (البتہ جاہلوں میں سے تھے) اور تم نہیں جانتے تھے کہ کس طرح اللہ کی عبادت اور اس کا ذکر کرنا ہے۔ ان یہ مخففہ من المثقلہ ہے۔ اور لام اس کے بعد فارقہ ہے۔
Ayah 2:199تفسیر آیت 199:
ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ : (پھر تم لوٹو جہاں سے ہو کر لوٹیں لوگ) صرف مزدلفہ سے ہی مت لوٹو۔ کہا گیا کہ یہ قریش کو عرفات سے ہو کر مزدلفہ آنے کا حکم دیا۔ کیونکہ وہ مزدلفہ میں ٹھہرتے جبکہ بقیہ تمام لوگ عرفات میں جاتے۔ اور کہتے ہم تو حرم کے باشندے ہیں۔ ہم حرم سے نہ نکلیں گے۔
افاضہ کا معنی :
دوسرا قول : افاضہ عرفات تو مذکور ہے یہاں سے مراد مزدلفہ سے منٰی کو لوٹنا ہے۔ اس صورت میں الناس سے مراد قریش ہوں گے۔ اور خطاب عام افیضوا کا مؤمنین کو ہوگا۔
حمس : یہ قریش کا لقب تھا۔ کیونکہ وہ اپنے دین میں مضبوط اور متشدد تھے۔
معافی مانگو :
وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰہَ 1 : (اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو) جو تم نے موقف میں آج تک مخالفت کی۔ اسی طرح جاہلیت کے دیگر اعمال۔ یا اعمال حج میں اپنی کوتاہی پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو اور استغفار کرو۔
اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ : (بےشک اللہ غفور رحیم ہیں) تم پر
Ayah 2:200تفسیر آیت 200:
فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَا سِکَکُمْ : (جب تم اپنے افعال حج پورے کرچکو) جن کا تمہیں حکم دیا گیا حج میں اور وہاں سے کوچ کرو۔
فَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَذِکْرِکُمْ ٰابَآئَ کُمْ : (تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرو جس طرح تم اپنے آباء کو یاد کرتے تھے) یعنی کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ اور اس میں مبالغہ کرو۔ جس طرح اپنے آباء کے تذکرہ میں مبالغہ کرتے تھے اور ان کے مفاخر اور ان کے واقعات زندگی بیان کرتے تھے۔
طریقہ جاہلیت :
جب وہ حج کے افعال ادا کرلیتے تو مسجد منیٰ اور پہاڑ کے درمیان ٹھہرتے اور اپنے آباء کے فضائل و محاسن اور ان کے کارنامے بیان کرتے۔
طریقہ جاہلیت :
اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًا : (بلکہ اس سے بھی بڑھ کر)
نحو : یہ کذکرکم پر عطف کی وجہ سے موضع جر میں ہے جیسا کہتے ہیں۔ کذکر قریش آباء ہم۔ یا قوم اشد منھم ذکرا۔ اس صورت میں ذکرًا تمیز ہے۔ یعنی ایسی قوم کی طرح یاد کرو۔ جو ان سے زیادہ یاد کرنے والی ہو۔
فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ ۔ (پس بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں ان لوگوں میں سے) جو حج میں حاضر ہو کر اللہ تعالیٰ سے دنیا کی لذات مانگتے ہیں اور اس طرح کہتے ہیں۔
دُنیا کے طالب :
رَبَّنَآ ٰاتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَمَا لَہ ‘ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلَاقٍ : (اے ہمارے رب ہمارا عطیہ دنیا کے ساتھ خاص کر دے۔ ایسے لوگوں کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں) یعنی مالداری ٗ مرتبہ وغیرہ کیونکہ ان کا مقصد دنیا کے گرد ہے اس لئے کہ وہ آخرت کے انکاری ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ اے حجاج تم اللہ تعالیٰ کا خوب ذکر کرو اور اس سے دعا کرو۔ کیونکہ لوگ کوتاہی کرنے والے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کی یاد سے سوائے اغراض دنیا کے اور کچھ نہیں چاہتے۔ اور کچھ لوگ کثرت والے ہیں جو ان دونوں جہاں کی خیر مانگتے ہیں۔ پس تم ان کثرت والوں میں سے بنو جن کے بارے میں جو کہا گیا وہ آگے آتا ہے۔
Ayah 2:201201۔ وَمِنْھُمْ : (اور ان لوگوں میں سے) جو حج میں حاضر ہوتے ہیں بعض ایسے ہیں جو مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَآ ٰاتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً (کہتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھلائی عنایت فرما) حسنۃ سے مراد نعمت اور عافیت یا علم و عبادت۔
آخرت کی بھلائی :
وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً : (اور آخرت میں بھلائی) یعنی معافی و مغفرت یا مال اور جنت یا تعریف خلق اور رضائے حق یا ایمان وامان یا اخلاص و خلاص جہنم یا سنت و جنت یا قناعت و شفاعت یا نیک عورت اور حورا لعین یا سعادت والی زندگی اور بشارت والی بعثت۔
نار سے مراد :
وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ : (اور تو ہمیں عذاب سے بچا) تو جہنم کے عذاب سے ہماری حفاظت فرما۔ یا عذاب نار سے یا بری عورت سے
Ayah 2:202202۔ اُولٰٓپکَ : (یہ) یعنی دنیا و آخرت کی دعا کرنے والے۔
لَھُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا کَسَبُوْا : (ان کو ان کی کمائی کا حصہ ملے گا) یعنی اس جنس میں سے حصہ ملے گا۔ جو اعمال حسنہ انہوں نے کمائے اور وہ ثواب ہے جو کہ عمدہ منافع ہیں۔ یا من اجلیہ ہے اس وجہ سے کہ انہوں نے کمائی کی۔
دُعا کمائی ہے :
سوال : دعا کو کسب کیوں کہا ؟
جواب : کیونکہ دعا اعمال میں سے ہے اور اعمال کی تعریف کسب سے کی جاتی ہے یا ممکن یہ ہے کہ اولئک سے فریقین مراد لیں۔ کہ ہر فریق کو اس جنس سے حصہ ملے گا جو اس نے کمائی۔
سرعت حساب :
وَاللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ : (اللہ جلد حساب لینے والے ہیں) قریب ہے کہ قیامت قائم فرما دیں اور بندوں کا حساب لیں۔ پس کثرت ذکر میں جلدی کرلو۔ اور طلب آخرت میں تیزی کرو۔ یا اللہ تعالیٰ نے سرعت حساب کی صفت اپنے لئے بیان فرمائی کہ مخلوق اور اس کے اعمال کتنے زیادہ ہیں مگر وہ ان کا جلد حساب لے لے گا۔ تاکہ کمال قدرت کی دلیل بن جائے۔ اور ایسی کامل قدرت والے سے ڈرنا چاہیے۔ روایات میں آتا ہے کہ وہ تمام مخلوق کا حساب اتنی دیر میں لے لے گا جتنی دیر میں بکری کا دودھ دوہتے ہیں اور دوسری روایت میں ہے کہ ایک پل بھر میں مخلوق کا حساب لے لیں گے۔
Ayah 2:203آیت 203:
وَاذْکُرُوا اللّٰہَ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَـلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ وَمَنْ تَاَخَّرَ فَـلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ لِمَنِ اتَّقٰی وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓ ا اََنَّکُمْ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ : (اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرو گنتی کے دنوں میں پھر جو جلدی چلا گیا۔ تو اس پر کچھ گناہ نہیں اور جو ٹھہرا رہا اس پر بھی کچھ گناہ نہیں یہ ان کے لئے ہے جو پرہیز گاری اختیار کرے اور تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ اور یقین کرلو کہ تم اس کے ہاں جمع کیے جائو گے) وَاذْکُرُوا اللّٰہَ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ ۔ گنتی کے دنوں سے مراد ایام تشریق ہیں۔
مراد ذکر :
اوروَاذْکُرُوا اللّٰہَسے مراد نماز کے بعد کہی جانے والی تکبیرات اور رمی جمار کے وقت کی تکبیر ہے۔
فَمَنْ تَعَجَّلَ ۔ جو جلدی کرے کوچ میں۔ یا کوچ میں سبقت کر جائے تعجل اور استعجل یہ دونوں ایک دوسرے کے مطاوع بن کر عجل کے معنی میں آتے ہیں۔ اور یہ متعدی بھی آتے ہیں۔ مگر مطاوعت زیادہ مناسب ہے کہ اس نے اسکو جلدی کا حکم دیا اس نے جلدی کرلی۔
فِیْ یَوْمَیْنِ ۔ دو دنوں میں یعنی ان تین دنوں میں دو دن گیارہ ٗ بارہ کی رمی پر اکتفاء کیا اور تیسرے دن کے لئے نہ رکا۔
نفیٔ گناہ کی وجہ :
فَـلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ ۔ اس پر گناہ نہیں۔ یعنی اس ایک دن کی رمی ترک کرنے سے وہ گناہگار نہ ہوگا۔ وَمَنْ تَاَخَّرَ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ لِمَنِ اتَّقٰی 1۔ اس کے لئے جو بچا شکار کرنے یا جماع اور فسوق سے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کو جلدی کا اختیار ہے۔ اگرچہ تاخیر افضل ہے۔ کبھی فاضل و افضل میں تخییر واقع ہوتی ہے۔ جیسا کہ مسافر کو روزے اور افطار میں اختیار ہے اگرچہ روزہ افضل ہے۔
دوسرا قول : اہل جاہلیت دو قسم کے تھے بعض جلدی رمی کرنے والے کو گناہگار قرار دیتے اور بعض تاخیر کرنے والے کو گناہگار سمجھتے۔ پس قرآن مجید نے آ کر دونوں کی نفی کردی۔
وَاتَّقُوا اللّٰہَ اور تم اللہ تعالیٰ سے تمام امور میں ڈرو۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّکُمْ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ۔ اور یقین جانو کہ تم اس کی بارگاہ میں جمع ہو گے۔ جب وہ تمہیں قبور سے زندہ کر کے اٹھائے گا۔
Ayah 2:204204۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُکَ قَوْلُہٗ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیََا وَیُشْہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیْ قَلْبِہٖ وَہُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ وَاِذَا
تَوَلّٰی سَعٰی فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْھَا وَیُھْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ ۔ وَاِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُہٗ جَہَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِہَادُ : (بعض لوگ ایسے ہیں جن کی بات آپ کو پسند آتی ہے دنیا کی زندگی میں اور وہ اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہے اس بات پر جو اس کے دل میں ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے جب وہ لوٹ کرجاتا ہے تو زمین میں فساد پھیلانے کے لئے دوڑ دھوپ کرتا ہے تاکہ کھیتی و نسل کو تباہ کرے۔ اور اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتے اور جب اس کو کہا جاتا ہے اللہ سے ڈر تو غرور اس کو گناہ پر آمادہ کرتا ہے پس اس کے لئے جہنم کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ وَمِنَ النَّاسِ ۔ یہ آیات اخنس بن شریق کے متعلق اتریں۔ جو رسول اللہ ﷺ سے ملتا تو نرم بات کرتا اور دعویٰ کرتا کہ وہ مسلمان ہے اور رسول اللہ ﷺ سے محبت رکھتا ہے اور اپنی اس حجت میں سچا ہے تو اللہ نے وَمِنَ النَّاسِ نازل فرمائی۔
دعویٔ محبت سے مقصود دُنیا :
یُّعْجِبُکَ قَوْلُہٗ آپ کو پسند آتی ہے اور تمہارے دل میں بڑی معلوم ہوتی ہے اسی سے الشیٔ العجیب یعنی وہ شیٔ جو نفس میں معظم معلوم ہو۔ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا۔ فِیْ یہ قول کے متعلق ہے۔ ای یعجبک ما یقولہ فی معنی الدنیا۔ آپ کو پسند آتی ہے وہ بات جو وہ کہتا ہے دنیا کے سلسلہ میں کیونکہ دعویٔ محبت سے اس کا مقصود دنیا ہے نہ کہ آخرت۔
دوسرا قول : آپ کو پسند آتا ہے یعنی اس کا شیریں کلام دنیا کے سلسلہ میں آپ کو پسند آتا ہے آخرت کے متعلق نہیں۔ کیونکہ اس موقعہ پر اس کی زبان میں لکنت پیدا ہوجاتی ہے۔
وَیُشْہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیْ قَلْبِہٖ اور وہ اللہ تعالیٰ کو اپنے دل کی بات پر گواہ بناتا ہے یعنی وہ قسم اٹھا کر کہتا ہے۔ اللّٰہ شاہد علی ما قلبی من محبتک۔ اللہ تعالیٰ گواہ ہے کہ میرے دل میں آپ کی محبت ہے اور میں آپ پر ایمان رکھتا ہوں۔ وَہُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ ۔ حالانکہ وہ شخص جھگڑالو ہے۔
نحوی لطائف :
نحو : یہ اضافت فی کے معنی میں ہے کیونکہ افعل کا وزن اسکی طرف مضاف ہوتا ہے جو کہ اس کا بعض حصہ ہوتا ہے جیسے تم کہو۔ زید افضل القوم اور آدمی جھگڑے کا حصہ تو بن نہیں سکتا۔ پس تقدیر عبارت یہ ہوگی۔ الد فی الخصومۃ۔ وہ جھگڑے میں سخت ہے۔ یا الخصام جمع خصم ہے جیسے صَعْبٌ وَ صِعَابٌ اب تقدیر عبارت اس طرح ہے وہ خصومت کے اعتبار سے سخت جھگڑالو ہے۔
Ayah 2:205205۔ وَاِذَا تَوَلّٰی : (جب وہ تم سے منہ پھیر کرجاتا ہے) اور جاتے ہوئے نرم و میٹھی بات کہہ کر گیا۔
فسادی منافق :
سَعٰی فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْہَا : (وہ دوڑ دھوپ کرتا ہے تاکہ فساد برپا کرے) جیسا اس نے ثقیف کے ساتھ کیا۔ کہ اس کے اور ان کے درمیان مخالفت تھی۔ ان پر شب خون مارا اور ان کے مویشیوں کو ہلاک کیا۔ اور کھیتیوں کو آگ لگا دی۔
وَیُھْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ : (اور ہلاک کرے کھیتی اور نسل) یعنی کھیتی اور حیوان یا جب کہ یہ یآء کے ساتھ یھلک ہو تو پھر اس سے مراد وہ حرکت ہے جس کو برے حکام زمین میں فساد پھیلانے کیلئے کرتے ہیں۔ کھیتیوں کی ہلاکت اور نسل کشی کی صورت میں ایک اور قول یہ ہے۔ کہ ظلم کو اختیار کرے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ظلم کی نحوست سے بارش کو بند کردیں۔ جس سے کھیتیاں اور نسل برباد ہوجائیں۔ گویا ہلاکت کی نسبت مجازاً اس کی طرف کردی گئی۔
وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ : (اور اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتے)
Ayah 2:206206۔ وَاِذَا قِیْلَ لَہُ : (جب اس کو کہا جاتا ہے) ہٗ ضمیر کا مرجع اخنس ہے۔
اتَّقِ اللّٰہَ : (تو اللہ سے ڈر) زمین میں بگاڑ پیدا کرنے اور ہلاکت پھیلانے کے سلسلے میں
جاہلی غیرت کی مذمت :
اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالْاِ ثْمِ : (اس کو غرور گناہ پر آمادہ کرتا ہے) یعنی تکبر اور جاہلی غیرت اس کو گناہوں پر بر انگیختہ کرتی ہے حالانکہ اس سے روکا گیا ہے مگر وہ اس کے ارتکاب کو لازم سمجھتا ہے۔
دوسرا قول : یا باءؔ سببیہ ہے یعنی پکڑ لیتا ہے اس کو غرور اس گناہ کے سبب سے جو گناہ اس کے دل میں ہے اور وہ کفر ہے۔
فَحَسْبُہٗ جَہَنَّمُ : (پس اس کے لئے کافی ہے جہنم)
وَلَبِئْسَ الْمِہَادُ : (اور جہنم بہت برا بچھونا ہے)
مسئلہ : یہ آیت حضرت صہیب ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جبکہ مشرکین نے انکو اسلام کے چھوڑنے کیلئے کہا اور انکے ساتھ والے کچھ لوگوں کو شہید کردیا حضرت صہیب ؓ نے فرمایا اگر تم چاہو کہ میں اپنا وہ مال جو مکہ میں چھوڑ آیا ہوں۔ وہ بتادوں۔ اور تم اس پر قابض ہوجائو اور میرا راستہ چھوڑ دو ۔ انہوں نے آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے پتہ بتادیا اور مدینہ میں آگئے تو یہ آیت اتری۔
Ayah 2:207207۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ : یا ان لوگوں کے حق میں اتری جو بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں۔ یہاں تک کہ قتل کردیئے جاتے ہیں۔
یَشْرِیْ نَفْسَہُ ۔ کا معنی اپنے آپ کو بیچنا۔
ابْتِغَآئَ : (واسطے طلب کرنے) کا معنی چاہنے کے لئے۔ مَرْضَاتِ اللّٰہِ 1۔ اللہ کی رضا مندی۔ یہاں اس کو حاصل ہوسکے۔
وَاللّٰہُ رَئُ وْفٌم بِالْعِبَادِ : (اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نرمی کرنے والے ہیں)
Ayah 2:208208۔ یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہ ‘ لَکُمْ عَدُوٌّمُّبِیْنٌ۔ فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْم بَعْدِ مَاجَآئَ تْکُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ: (اے ایمان والو داخل ہوجائو اسلام میں پورے پورے اور شیطان کے قدموں پر مت چلو۔ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ پھر اگر تم پھسل گئے اس کے بعد کہ واضح دلائل تمہارے پاس آچکے تو یقین کرلو کہ اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والے ہیں)
قراءت : یٰٓـاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِِ ٗ علی اور حجازی نے سین کے فتح کے ساتھ پڑھا ہے سلم کا معنی اطاعت و فرمانبرداری ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور مطیع بن جائو۔ یا اس کا معنی اسلام ہے اور خطاب اہل کتاب کو ہے کیونکہ وہ اپنے پیغمبر اور کتاب پر ایمان لائے تھے۔ یا منافقین کو خطاب ہے۔ کیونکہ وہ صرف زبانوں سے اسلام کے دعوے دار تھے۔ کَآفَّۃً ۔ پورے پورے یعنی کوئی ایک بھی تم میں سے اپنا ہاتھ اسلام کی فرمانبرداری سے نہ نکالے۔ یہ ادخلوا کی ضمیر سے حال ہے اور اس کا معنی ہے تمام ٗ
دوسرا قول : یا یہ سلم کے لفظ سے حال ہے کیونکہ وہ بھی لفظاً مؤنث ہے اب مطلب یہ ہوگا گویا ان کو حکم دیا گیا کہ وہ تمام طاعات میں داخل ہوجائیں۔ یعنی ان کو انجام دیں۔
تیسرا قول : وہ اسلام کے شعبوں اور اس کے تمام احکام میں داخل ہوجائیں یہ کافۃ کا لفظ کف سے ہے گویا ان کو روک دیا گیا۔ کہ کوئی ایک ان میں سے اپنی اجتماعیت سے نہ نکلے۔
وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ۔ شیطان کے قدموں پر مت چلو۔ خطوات۔ سے مراد وساوس ہیں۔ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ۔ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ یعنی اس کی عداوت ظاہر ہے۔
Ayah 2:209209۔ فَاِنْ زَلَلْتُمْ ۔ پس اگر تم پھسل گئے یعنی اسلام میں داخل ہونے سے تمہارے قدموں نے لغزش کھائی۔ مِّنْ م بَعْدِ مَا جَآئَ تْکُمُ الْبَیِّنٰتُ ۔ تمہارے پاس دلائل آنے کے بعد بینات سے مراد واضح ثبوت اور روشن شواہد ہیں۔ جس چیز میں داخل ہونے کے لئے تمہیں دعوت دی گئی ہے وہ برحق ہے فَاعْلَمُوْٓ ا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ پس تم یقین کرلو اللہ زبردست حکمت والے ہیں۔ عزیز ایسے غلبے والے کو کہتے ہیں۔ جس کو کوئی چیز بھی مانع نہ بن سکے۔ حکیم کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسی حکمت والا ہے کہ وہ حق پر انتقام لیتا ہے۔
نکتہ : ایک قاری نے اس آیت میں عزیز حکیم کی بجائے غفور رحیم پڑھ دیا ایک بدو نے اس آیت کو اس کی زبان سے جب سنا۔ حالانکہ وہ قرآن پڑھا ہوا نہیں تھا۔ وہ کہنے لگا کہ یہ اللہ کا کلام نہیں۔ کیونکہ حکیم لغزش اور معصیت کے وقت مغفرت کا تذکرہ نہیں کرتا۔ کیونکہ اس طرح تو معصیت پر خود آمادہ کرنا لازم آتا ہے۔
Ayah 2:210210۔ ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلآَّ اَنْ یَّاْتِیَہُمُ اللّٰہُ فِی ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰٓپکَۃُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ (نہیں وہ انتظار کر رہے مگر اس بات کا کہ آئے اللہ تعالیٰ ان کے پاس بادل کے سائبانوں میں اور فرشتے اور معاملے کا فیصلہ کردیا جائے گا اور اللہ ہی کی طرف تمام کاموں کا لوٹنا ہے۔ ہَلْ یَنْظُرُوْنَ ہَلْ ۔ یہاں مانافیہ کے معنی میں ہے۔ نہیں وہ انتظار کر رہے اور یا تیکم اللّٰہ کا مطلب اللہ کا حکم اور اس کی پکڑ کا آنا ہے جیسا کہ سورة النحل آیت نمبر 32 میں فرمایا او یاتی امر ربک اور سورة اعراف آیت نمبر 4 میں فرمایا : فَجَآئَ ہَا بَاْسُنَآ۔
دوسرا قول : جس چیز کو لایا جانا ہے وہ محذوف ہے اور معنی یہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنی پکڑ لائے اس پر پچھلی آیت فاعلموا ان اللّٰہ عزیز حکیم۔ دلالت کر رہی ہے۔ فی ظلل۔ ظلل جمع ظلۃ کی۔ ظلہ اس چیز کو کہتے ہیں جو ڈھانپ لے غمام کا معنی بادل اس میں دراصل ڈرایا گیا ہے کیونکہ بادل سے بارش کا بھی گمان ہے جب اس سے عذاب اترے۔ تو معاملہ زیادہ خوفناک اور رسوا کن ہوتا ہے۔ والملٰئکۃ یعنی وہ فرشتے آجائیں جن کو عذاب پر مقرر کیا گیا ہے یا اس سے مراد قیامت کے دن ان کا حاضر ہونا ہے۔ وقضی الامر اور معاملہ طے کردیا جائے یعنی ان کی ہلاکت کا معاملہ پورا ہوجائے اور اس سے فراغت حاصل ہوجائے۔ والی اللّٰہ ترجع الامور۔ اور اللہ کی طرف تمام کاموں کا لوٹنا ہے یعنی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو بعض امور کا اختیار دیا ہے۔ پس سارے معاملات حشر کے دن اسی کی طرف لوٹیں گے۔
اختلافِ قراءت :
قرآن مجید میں جہاں بھی تُرْجَعُ الْاُمُوْرُہے ٗ شامی ٗ حمزہ اور علی رحمہم اللہ کے نزدیک تَرْجِعُ الْاُمُوْر پڑھا جائے گا۔
Ayah 2:211211۔ سَلْ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ کَمْ ٰاتَیْنٰہُمْ مِّنْ ٰایَۃٍم بَیِّنَۃٍ وَمَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَۃَ اللّٰہِ مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَ تْہُ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ (اے محمد ﷺ آپ بنی اسرائیل سے پوچھیں کہ ہم نے بنی اسرائیل کو کتنی کھلی نشانیاں دیں۔ اور جس نے اللہ کی نعمت کو بدل دیا۔ ان کے آجانے کے بعد پس بیشک اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے) سَلْ اصل میں اسئل ہے۔ ہمزہ کو فتح سے بدل کر سین کردیا اور ہمزہ کو حذف کردیا۔ اب سین کے متحرک ہونے کی وجہ سے ہمزئہ وصل کی بھی ضرورت نہ رہی پس یہ سَلْ ہوگیا اس میں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا۔ یا ہر مخاطب کو۔ یہ سوال تو بیخ کیلئے ہے۔ جس طرح کہ کافروں سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔
معجزات و دلائل :
ایَۃٍم بَیِّنَۃٍ ۔ سے مراد وہ آیات جو انبیاء کے ذریعے ان کو دی گئیں۔
دوسرا قول : یا وہ آیتیں جو ان کی کتابوں میں دین اسلام کے صحیح ہونے پر گواہی دے رہی ہیں۔
نحو : یہ کم یہاں استفہامیہ ہے یا خبر یہ۔ کم استفہامیہ کی صورت میں سل کو مفعول ثانی کی ضرورت نہ ہوگی۔ مگر خبر یہ کی صورت میں یہ سَلْ کا مفعول ثانی ہوگا۔
اسبابِ ہدایت کو گمراہی کے لئے استعمال کرنا :
وَمَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَۃَ اللّٰہِ ۔ نعمت اللہ سے مراد اللہ کی نشانیاں ہیں اور وہ حقیقت میں اللہ کی عظیم نعمتیں ہیں۔ کیونکہ وہ ہدایت کے اسباب اور گمراہی سے نجات کا ذریعہ ہیں اور یبدل کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے وہ آیات اس لئے ظاہر فرمائیں۔ تاکہ وہ ان کی ہدایت کا سبب بن جائیں۔ انہوں نے انہی کو اپنی گمراہی کا سبب بنادیا۔ جیسا کہ سورة التوبہ آیت نمبر 125۔ فزادتھم رجسا الٰی رجسہم۔ میں فرمایا گیا کہ ان آیات نے ان کی پلیدی میں (بوجہ شدید انکار کے) اضافہ کردیا۔
یا دوسرا قول : انہوں نے اپنی کتابوں کی ان آیات کو بدل ڈالا جو دین محمد ﷺ پر دلالت کرنے والی تھیں۔ مِنْ 0 بَعْدِ مَآجَآئَ تْہُ (اس کے بعد کہ وہ آچکیں) ۔ آنے کا مطلب یہ ہے اس کے بعد کہ انہوں نے اس کو پہچان لیا اور ان کی صحت ان کے ہاں ثابت ہوگئی کیونکہ جب آدمی کسی چیز کو نہ پہچانے تو وہ چیز اس سے غائب شمار ہوتی ہے۔ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ (بےشک اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے) اس کو جو اس کا مستحق ہو۔
Ayah 2:212آیت 212:
زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَیَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَالَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ۔ (دنیا کی زندگی ان کے لئے خوش نما بنادی گئی جنہوں نے کفر کیا اور یہ کفار ان لوگوں سے ہنستے ہیں جو ایمان لائے اور وہ لوگ جو متقی ہیں۔ ان سے اوپر ہونگے قیامت کے دن اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بےحساب روزی دیتا ہے)
دُنیا کا پسندیدہ بنایا جانا :
زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوا۔ کافروں کے لئے دنیا کی زندگی کو مزین کردیا گیا۔ یہ تزیین کرنے والا شیطان ہے اس نے دنیا کو مزین اور اپنے وساوس سے خوبصورت بنایا اور پسندیدہ کردیا کہ وہ اس کے سواء اور کسی چیز کو چاہتے ہی نہیں۔
دوسرا قول : اللہ تعالیٰ ہی انسانوں میں خواہشات پیدا کرنے والا ہے کیونکہ تمام کائنات اسی کی مخلوق ہے اور اس پر مجاہد ٗ ابن محیصن وحمید کی قراءت زَیَّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا معروف کے ساتھ دلالت کرتی ہے وَیَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا۔ (وہ ایمان والوں سے ہنستے ہیں) کفار مکہ فقراء مؤمنین ابن مسعود، عمار ٗ صہیب ؓ وغیرہم سے تمسخر کرتے تھے۔ کیونکہ کافر دنیا کو مقصود سمجھتے تھے۔ جن کے پاس دنیا نہیں تھی وہ ان سے تمسخر کرتے یا ان کا مذاق اڑاتے جو دنیا کے علاوہ اور کسی چیز کو مطلوب بناتا۔ وَالَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ 1۔ (اور وہ لوگ جو متقی ہیں ان سے اوپر ہوں گے قیامت کے دن) تقویٰ سے مراد شرک سے بچنا ہے اور یہ بچنے والے فقراء مؤمنین تھے۔ اوپر ہونگے کیونکہ وہ بلند جنتوں میں ہو نگے۔ اور کافر کو جہنم کے گڑھے میں۔
ہر توسع نعمت ہے :
وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ (اور اللہ تعالیٰ رزق دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں بغیر حساب کے) بغیر کمی کے یعنی وہ توسیع کرتا ہے جس پر توسیع کا ارادہ فرماتا ہے۔ جیسا قارون وغیرہ پر توسیع فرمائی۔ اور یہ وسعت تم پر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے پیش نظر ہے اور وہ نعمت کے ساتھ استدراج ہے۔ اگر یہ اکرام ہوتا تو پھر اہل ایمان اس کے سب سے زیادہ مستحق تھے۔