2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 2:25

وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:25 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خوشخبری سنادو کہ ان کے لئے (نعمت کے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائیگا تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا اور ان کو ایک دوسرے کے ہمشکل میوے دیئے جائیں گے اور وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے

سابقہ آیات سے ربط : ربط : اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہے کہ ترغیب کو ترہیب کے ساتھ ذکر کرتے ہیں تاکہ جو پیش کیا جاتا ہے۔ وہ خوش اسلوبی سے حاصل ہو اور جو چیز ہلاک کرنے والی ہے اس کے ارتکاب سے بچا جائے۔ جب کفار اور ان کے اعمال کا ذکر کیا۔ اور ان کو عقاب سے ڈرایا۔ تو اس کے بعد اہل ایمان اور ان کے اعمال کا ذکر کیا اور ان کو اپنے اس ارشاد سے خوش خبری دی۔ بشارت : وَبَشِّرِالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : (اور خوش خبری دیں ایمان لانے والوں اور اچھے عمل کرنے والوں کو) بَشِّرْ کا حکم رسول اللہ ﷺ کو دیا۔ یا پھر ہر ایک کو اور یہ زیادہ بہتر ہے۔ اس لیے کہ وہ اعلان کرتے ہیں۔ کہ یہ معاملہ اپنی عظمت و بڑائی کی وجہ سے اس لائق ہے کہ اس کی بشارت ہر ایک کو دی جائے جو بشارت کے قابل ہو۔ نحوی تحقیق : نحو : اس کا عطف فاتقوا پر ہے۔ نمبر 1: یا بنی تمیم احذروا عقوبۃ ما جئتم وبشر یا فلان بنی اسد باحسانی الیھم 1۔ بنی تمیم جو تم نے حرکت کی اس کی سزا کے لیے خبردار ہوجائو اور اے فلاں بنی اسد کو میرے احسانات کی خوش خبری دے۔ نمبر 2: یا یہ جملہ ہے جس میں ایمان والوں کے ثواب کو بیان کیا ہے اس کا عطف اس جملے پر ہے جس میں کفار کا انجام بیان کیا گیا۔ جیسے زید یعاقب بالقید والا زھاق وبشرعمرًوابا لعفو والا طلاق۔ زید کو قید اور دم گھٹنے کی سزا دی جائے اور عمرو کو معافی اور آزادی کی خوش خبری سنادو۔ تعریف بشارت : البشارت : ایسی خبر جو مخبربہٖ کے سرور کو ظاہر کرے اور اس بات کے پیش نظر علماء اصول نے کہا اگر ایک آدمی نے اپنے غلاموں کو کہا۔ کہ جس نے تم میں سے مجھے فلاں کے آنے کی بشارت دی پس وہ آزاد ہے پس انہوں نے الگ الگ خوشخبری دی۔ تو ان میں اول آزاد ہوگا۔ کیونکہ اس نے ہی اپنی خبر سے آقا کی خوشی کو ظاہر کیا باقی نے نہیں۔ اور اگر اس نے بشرنی کی جگہ اخبرنی کہا تو پھر تمام آزاد ہوجائیں گے۔ کیونکہ خبر تو تمام نے دی۔ البشرہ : کا لفظ اسی سے ہے ظاہری جلد کو کہتے ہیں۔ طباشیر الصبح۔ صبح کی اولین روشنیاں۔ ایک اعتراض : اعتراض : فَبَشِّرْ ھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ، آل عمران آیت نمبر 21 سے تو بات غلط ہوجاتی ہے۔ جواب : وہ اس کلام کی قسم میں سے ہے جس میں مخاطب کے استہزاء میں زائد سختی ظاہر کرنا مقصود ہو جیسا کہ دشمن کو کہا جاتا ہے ابشربقتل ذریتک ونھب مالک۔ گویا یہ تحکمانہ کلام ہے۔ الصالحہ : کا لفظ اسم کی جگہ استعمال میں الحسنہ کی طرح ہے۔ مرادِ صالحات : الصالحات : دلیل عقل و کتاب وسنت سے درست ثابت ہونے والے اعمال۔ اس میں لام جنس کا ہے اس آیت میں ان لوگوں کے خلاف دلیل ہے جنہوں نے اعمال کو ایمان میں داخل مانا ہے اس لیے کہ اعمال صالحہ کو ایمان پر عطف کیا گیا۔ معطوف معطوف علیہ دونوں غیر غیر ہوتے ہیں۔ ایک اعتراض : تم کہتے ہو کہ مومن جنت میں بغیر اعمال صالحہ کے داخل ہوسکتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو خوش خبری ان کو دی جو ایمان اور اعمال صالحہ والے ہیں۔ جواب : مطلق جنت کی بشارت کے لیے شرط یہ ہے کہ ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ ملے ہوئے ہوں۔ کبیرہ گناہ والے کے لیے ہم بشارت کو مطلق قرار نہیں دیتے۔ بلکہ بشارت کو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مقید کرتے ہیں۔ خواہ وہ بخش دے خواہ گناہوں کی مقدار عذاب دے کر پھر جنت میں داخل کر دے۔ اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ : (بےشک ان کے واسطے بہشتیں ہیں) یعنی بان لھم (اس لیے کہ ان کے لیے) ۔ نحو : سیبویہ کے نزدیک یبشّر سے اَنّ اور اس کا معمول منصوب ہے۔ خلیل کا اس میں اختلاف ہے۔ یہ قرآن مجید میں کثرت سے ہے۔ جنت کا معنی : اَلْجَنَّۃِ : کھجور اور گھنے درختوں کا باغ جن کی ترکیب میں ستر کا معنی پایا جاتا ہے۔ اسی سے جن، جنون، جنین، جنت ‘ جان، جنان ہے ثواب کے مقام کو جنت کہتے ہیں۔ کیونکہ اس میں باغات ہیں جنت پیدا کی جاچکی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے البقرہ آیت نمبر 35 اُسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ بعض معتزلہ کا اس میں اختلاف ہے جنت کو جمع اور نکرہ لانے کا مقصد یہ ہے کہ جنت تمام ہی دار الثواب کا نام ہے اور اس میں بیشمار باغات ہیں۔ جو اعمال کرنے والے لوگوں کے مراتب کے مطابق ترتیب دئیے گئے ہیں۔ ہر طبقہ کے لیے ان باغات میں سے باغات ہونگے۔ تفسیر تجری : تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ ۔ نحو : یہ جملہ جنات کی صفت ہونے کی وجہ سے موضع نصب میں ہے۔ اور مراد من تحت اشجارھا۔ یعنی اس کے درختوں کے نیچے جیسا کہ تم جاری رہنے والی نہروں کے کناروں پر درخت اگے ہوئے دیکھتے ہو۔ البتہ جنت کی نہریں گہری جگہوں میں چلنے والی نہ ہونگی۔ (بلکہ سطح زمین پر چلنے والی ہونگی) باغوں میں سب سے شاندار وہی ہوتا ہے جس کے درخت سایہ دار ہوں۔ اور اس کے درمیان پانی کی نالیاں پھیلی ہوئی ہوں۔ الجری : پھسلنا، جاری ہونا۔ النھر : جو جدول سے بڑی پانی بہنے کی جگہ ہو۔ مگر سمندر سے کم ہو۔ دریائے نیل کو نہرنیل کہا جاتا ہے۔ لغت غالبہ کے لحاظ سے۔ نہر کی ترکیب وسعت پر دلالت کرتی ہے۔ جری کی نسبت نہر کی طرف مجازی ہے۔ الانہار کی وجہ تعریف : الانھار : کو معرفہ لایا گیا۔ نمبر 1: اس لیے کہ ممکن ہے کہ انہارھا جنت کی نہریں مرادلی جائیں۔ اضافت کی جگہ لام تعریف لائے۔ جیسا کہ سورة مریم آیت نمبر 4 اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا میں الرأس میں الف لام مضاف الیہ کی جگہ لایا گیا۔۔ نمبر 2: الف لام لا کر ان نہروں کی طرف اشارہ مقصود ہو جو سورة محمد آیت نمبر 15 فِیْہَآ اَنْہٰرٌ مِّنْ مَّآئٍ غَیْرِ اٰسِنٍ میں مذکور ہے۔ ایک نکتہ : جاری پانی بڑی نعمت اور بڑی لذیذ چیز ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جنات کے ساتھ انہار جاریہ کا ذکر فرمایا اور تمام صفات سے اس صفت کو مقدم کیا۔ کُلَّمَا رُزِقُوْا : (جب کبھی دیئے جاویں گے وہ لوگ) نحو : یہ جنات کی دوسری صفت ہے۔ نمبر 2: یا جملہ مستانفہ ہے۔ اس لیے کہ جب یہ کہا گیا۔ اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تو سامع کے دل میں یہ بات آتی ہے کہ ان باغات کے پھل دنیا کے باغات کے پھلوں کی طرح ہونگے یا دوسری اجناس کے ہونگے۔ جو ان اجناس سے مشابہت نہ رکھیں تو جواب دیا۔ کہ ان کے پھل دنیا کے پھلوں کے مشابہ ہونگے۔ یعنی ان کی جنس ایک ہوگی۔ اگرچہ فرق ہوگا۔ جس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ مِنْھَا مِنْ ثَمَرَۃٍ رِّزْقًا قَالُوْا ھٰذَا الَّذِیْ : (یعنی جب بھی ان کو باغات سے رزق دیا جائے گا تو وہ کہیں گے یہ وہی ہے) ۔ من ابتدائیہ : مِنْ : پہلا اور دوسرا ابتداء غایت کے لیے ہے کیونکہ ابتداء رزق جنات سے ہوگی۔ اور رزق باغات کے پھلوں سے ہوگا۔ اس کی نظیر یہ ہے رزقنی فلان۔ مجھے فلاں نے رزق دیا۔ تو تمہیں کہا جائے۔ مِنْ اَیْنَ کہاں سے ؟ پس تم کہو من بستانہٖ ۔ اس کے باغ سے پھر کہا جائے من ای ثمرۃ رزقک من بستانہٖ اس کے باغ کے کون سے پھل سے تو تم کہو۔ من الرّمّان۔ انار سے ثمرہ سے مراد ایک سیب نہیں یا الگ سیب مراد نہیں بلکہ مرادپھلوں کی قسموں میں سے ایک قسم ہے۔ رُزِقْنَا : (جو ہمیں دیا گیا) ضمیر حذف کردی گئی۔ مِنْ قَبْلُ : (اس سے پہلے) یعنی اس سے قبل قَبْلُ کا مضاف الیہ منوی ہونے کی وجہ سے مبنی بالضم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی مثل ہے جو ہمیں اس سے پہلے رزق دیا گیا۔ اور اس کے مشابہ ہے جیسا اس آیت میں مشابہت تامہ : وَاُتُوْابِہٖ مُتَشَابِہًا : اور ان کو ایک دوسرے سے ملتے جلتے (میوے) دئیے جائیں گے اور یہ اسی طرح ہے جیسا کہا جاتا ہے ابو یوسف، ابو حنیفہ، ابویوسف تو ابوحنیفہ ہے۔ مراد مشابہت کو مضبوط کرنا ہے گویا دونوں کی ذات ایک ہے ہ ‘ کا مرجع : نحو : بِہٖ میں ہٖ ضمیر دنیا اور آخرت میں دئیے جانے والے سارے رزق کی طرف ہے۔ کیونکہ ارشاد الٰہی : ھذا الذی۔ رزقنا من قبل۔ کے ماتحت دارین میں دیا جانے والارزق سمیٹ دیا۔ مانوس رزق : جنت کے پھل دنیا کے پھلوں کی طرح ہونگے۔ ان کی جنس الگ نہ ہوگی۔ اس لیے کہ انسان دیکھی بھالی چیز سے مانوس ہوتا ہے۔ اور جانی ہوئی چیز کی طرف طبیعت زیادہ مائل ہوتی ہے جب غیر مانوس کو دیکھتا ہے تو اس کی طبیعت نفرت کرتی اور براسمجھتی ہے اس لیے کہ جب وہ دیکھی ہوئی چیز کا مشاہدہ کرتا ہے اور پھر اس میں ظاہری مرتبہ اور واضح فرق دیکھتا ہے تو اس کو تعجب وحیرانی زیادہ ہوتی ہے۔ (بنسبت اس چیز کے کہ جس سے ناواقفیت ہو) ۔ جنت والے یہ بات ہر پھل دئیے جانے پر کہیں گے۔ یہ دلیل ہے کہ امر کی انتہا ہے اور اس حالت کا برقرار رہنا مرتبے کے اظہار کے لیے اور یہ بتلانے کیلئے ہے کہ یہ عظیم فرق ہی تو ہر گھڑی ان کو تعجب سے ُ پر رکھے گا۔ نمبر 2: بہٖ کی ضمیر رزق کی طرف ہے گویا یہ اس کی طرف اشارہ ہے مطلب یہ ہے کہ ان کو جو جنت کے پھلوں سے رزق دیا جائے گا۔ وہ ذاتی لحاظ سے ان کے پاس ایک جیسا ان کو ملے گا۔ جیسا کہ حضرت حسن (رح) سے مروی ہے کہ جنتی کے پاس پیالہ لایا جائے گا اور وہ اس میں سے کھائے گا پھر دوسرا لایا جائے گا تو جنتی کہے گا۔ یہ تو ہمیں پہلے دیا گیا۔ فرشتہ کہے گا۔ کھالو۔ رنگ تو ایک ہے ذائقہ مختلف ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے۔ والذی نفس محمد بیدہٖ (الحدیث) مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے۔ جنتی جب پھل کھانے کے لیے لے گا۔ ابھی وہ اس کے منہ تک نہ پہنچے گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی جگہ اور بدل دے گا۔ (طبرانی فی الکبیر، البزار) جب جنتی اس کو دیکھیں گے جبکہ ہیئت پہلے والی ہوگی تو کہیں گے۔ وَاُتُوْابِہٖ مُتَشَابِہًا : (اور ان کو ان کے مشابہ دیا جائے گا) یہ جملہ معترضہ ہے۔ پختگی ظاہر کرنے کے لیے لائے جیسے کہو۔ فلاں احسن بفلان۔ ونعم مافعل۔ ورأی من الرای کذاوکان صوابًا۔ فلاں نے فلاں سے احسان کیا اور اس نے بہت خوب کیا۔ اس نے یہ رائے اختیار کی۔ اور یہ درست تھی۔ اور ارشاد الٰہی میں وَجَعَلُوْا اَعِزَّۃَ اَھْلِھَا اَذِلَّۃً وَکَذٰلِکَ یَفْعَلُوْنَ (سورۃ النمل آیت نمبر 34) کَذٰلِکَ یَفْعَلُوْنَ تاکید کے لیے لائے۔ وَلَھُمْ فِیْھَآ اَزْوَاجٌ: (ان کیلئے اس میں بیویاں ہونگی) نحو : ازواج مبتدا اور لھم خبر ہے فیھا ظرف مستقر ہے۔ طہارت کا مطلب : نمبر 1: مُطَھَّرَۃٌ۔ پاک ہوں گی برے اخلاق سے۔ نہ خاوندوں سے بغض رکھنے والی ہونگی اور نہ غیروں کی طرف دیکھنے والی ہوں گی۔ نہ اکڑنے والی ہو نگی۔ نمبر 2: حیض واستحاضہ سے پاک ہونگی اور بول براز تمام گندگیاں جو ان کے ساتھ خاص ہیں ان سے پاک ہونگی۔ موصوف جمع ہے صفت واحد ہے کیونکہ دونوں فصیح لغتیں ہیں۔ طاھرہ نہیں کہا اس لیے کہ مطھرہ زیادہ بلیغ ہے اور تکثیر کو ظاہر کرتا ہے اور اس میں یہ بتلایا کہ کسی پاک کرنے والے نے ان کو پاک کیا ہے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کون ہے۔ وَھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ : (اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) الخلدایسی دائمی بقاء جسمیں انقطاع نہ ہو۔
Ayah 2:26

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ۘ یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا١ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ Open ayah 2:26 in the Quran reader

خدا اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے جو مومن ہیں وہ یقین کرتے ہیں کہ وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے، اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا ہے تو نافرمانوں ہی کو

تردید جہمیہ : اس میں جہمیہ فرقہ کی تردید ہے کیونکہ وہ جنت اور اہل جنت کے فناء کے قائل ہیں۔ دلیل جہمیہ۔ اللہ تعالیٰ ہی اول اور آخر ہیں اور اولیت کی حقیقت مخلوق سے پہلے ہونا تو بالا تفاق ہے پس ضروری ہے کہ آخریت کے وصف میں بھی وہ تمام سے آخر ہو اور یہ تبھی درست ہے جب سب کے سب فناء ہوجائیں پس ضرورۃً افناء کو ماننا پڑا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ باقی ہیں اور اسکی صفات بھی باقی ہیں اگر جنت بھی اپنے رہنے والوں کے ساتھ باقی رہنے والی ہو تو خالق و مخلوق میں مشابہت لازم آتی ہے اور یہ محال ہے جواب : اولیت اللہ تعالیٰ کے حق میں اس طرح کہ اس کے وجود کی ابتداء نہیں اور آخریت اس کے حق میں اس طرح کہ اس کی کوئی انتہاء نہیں۔ اور مخلوق کے حق میں اول کا مطلب فرد سابق (پہلے والا فرد) ہے اور آخر فرد لاحق (پچھلافرد) ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے ان صفات کا ہونا صفت کمال کو ظاہر کرنے کے لیے ہے اور اس کی ذات سے نقص وزوال کی نفی کرنے کے لیے ہے اور یہ جنت اور اہل جنت کے متعلق بقاء مٹنے اور فناء ہونے کے احتمال سے ہونے کو ظاہر کرنے کیلئے ہے نہ وہ جو معتزلہ کہتے ہیں۔ پھر کہاں سے تشابہ فی البقاء لازم ہوا۔ اللہ تعالیٰ تو ذاتی لحاظ سے باقی رہنے والے ہیں۔ اور اس کی بقاء واجب الوجود ہونا ہے اور مخلوق کا بقاء اس کے باقی رکھنے سے ہے۔ اور وہ جائز الوجود ہے ( بینھما بون بعید فلیتبصر) سابقہ آیات سے ربط : ربط : قرآن مجید نے جب ذباب وعنکبوت کا ذکر فرمایا۔ اور ان کی مثال بیان کی تو یہود نے ہنسنا شروع کردیا۔ اور کہنے لگے یہ کلام اللہ تو نہیں لگتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاردیں۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیٖٓ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّابَعُوْضَۃً : (تحقیق اللہ نہیں حیا کرتا کہ مثال بیان کرے مچھر کی) یعنی اللہ تعالیٰ مچھر سے مثال بیان کرنا ترک نہیں فرماتے اسکی طرح جو حقارت کی وجہ سے ان سے مثال بیان کرنا چھوڑ دے۔ حیاء کی اصل تعریف : وہ تبدیلی اور شرمندگی جو انسان کو عیب ومذمت کے خوف سے پیش آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات تو قدیم ہے وہ تغیر وخوف ومذمت سے پاک ہے لیکن ترک حیاء کے لوازم میں سے ہے اس لیے ترک کو حیاء سے تعبیر کیا گیا۔ دوسراقول : یہ بھی درست ہے کہ یہ عبارت کفار کے کلام میں پائی جاتی تھی۔ کہ انہوں نے کہا ما یستحی ربّ محمد ان یضرب مثلا بالذباب والعنکبوت : محمد کا رب حیاء نہیں کرتا کہ مکھی ومکڑی کی مثال بیان کرے۔ تو مقابلے اور سوال کے مطابق (ترکی بہ ترکی) جواب دینے کے لیے اس طرح فرمایا اور یہ کلام بدیع میں سے ہے۔ اس میں دو لغات ہیں۔ متعدی بنفسہٖ اور متعدی بحرف الجار کہا جاتا ہے استحییتہٗ واستحییت منہ یہاں دونوں کا احتمال ہے۔ مفہوم ضرب مثل : یہ ضرب اللین اور ضرب الخاتم سے بنا ہے (اینٹ لگانا یا مہر لگانا) بیان کرنا۔ نحوی تحقیق : نحو : مَانمبر 1: یہ ابھامیہ ہے جب یہ نکرہ کے ساتھ آئے تو اس میں ابہام پیدا کر کے اس کے عموم میں اضافہ کرتا ہے مثلاً کہیں اعطنی کتاباما۔ مراد کوئی سی کتاب۔ نمبر 2: یہ ما تاکید کے لیے لایا گیا۔ جیسا سورة النساء آیت نمبر 155۔ فَبِمَا نَقْضِھِمْ مِّیْثَاقَھُمْ میں ہے اب معنی اس طرح ہے کسی بھی مثال کا بیان کرنا نہیں چھوڑتا۔ نحو نمبر 1: مَابَعُوْضَۃً یہ مثلاً کا عطف بیان ہے اور اس نکرہ سے حال ہے جو اس سے مقدم ہے نمبر 2 یا : ضرب بمعنی جعل ہے اور یہ دونوں مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ لغت بعوضۃ : یہ بَعَض سے بنا ہے اور وہ کاٹنے کو کہتے ہیں جیسے البضع والعضب (کاٹنا) کہا جاتا ہے بعضہ البعوض۔ اس کو مچھرنے کاٹا۔ اور بعض الشیٔ کہتے ہیں کیونکہ وہ اس کا حصہ وٹکڑا ہوتا ہے بعوض فعول کے وزن پر قطوع (کاٹنا) کی طرح صفت ہی ہے۔ پھر اسمیت غالب آگئی۔ فوقیت کا مطلب : فَمَا فَوْقَھَا : (یا اس سے بڑھ کر) نمبر 1: جو اس سے متجاوز ہے اور اس معنی میں بڑھ کر ہے جس میں وہ مثال بیان کی گئی ہے اور وہ معنی قلت و حقارت ہے۔ نمبر 2: جو حجم میں اس سے بڑھ کر ہے گویا اس سے اس بات کی تردید کردی کہ جس چیز کو تم نے عجیب قرار دیا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور مکھی اور مکڑی کی مثال یہ کیسے ہوسکتا ہے تو جواب دیا کہ مکھی ومکڑی درکنار اللہ تعالیٰ تو مچھر کی مثال بیان کرنے کو نہیں چھوڑتا حالانکہ یہ ان سے چھوٹا ہے۔ اعتراض : مچھر سے کم کی مثال کیسے بیان کی جاسکتی ہے کیونکہ وہ انتہائی چھوٹا ہے۔ جواب : مچھر کا پر اس سے کئی درجہ قلیل اور چھوٹا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو دنیا کی حقارت کے لیے بطور مثال بیان فرمایا۔ (لوکانت الدنیا تعدل عنداللّٰہ جناح بعوضۃ ما سقی منھا کافرا شربۃ مائ) (ترمذی) اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر مرتبہ رکھتی تو کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ دیتے۔ تفسیر فَاَمَّا الَّذِیْنَ : فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ : (پس وہ لوگ جو ایمان لائے وہ جانتے ہیں کہ یہ مثال حق ہے) نحو : ہٗ کی ضمیر مثل کی طرف ہے یا لان یضرب کی طرف ہے۔ الحق : وہ ثابت شدہ چیز جس کا انکار نہ کیا جاسکے۔ کہا جاتا ہے حق الامر : جب کہ وہ معاملہ ثابت وواجب ہوجائے۔ مِنْ رَّبِّھِمْ : (ان کے رب کی طرف سے) نحو : یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور اس کا عامل حق کا معنی ہے اور ذوالحال اس کی مستتر ضمیر ہے۔ تفسیر آیت : وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَاذَآ اَرَادَ اللّٰہُ بِھٰذَا مَثَلًا : (اور جو منکر ہیں وہ کہتے ہیں اس مثال سے اللہ تعالیٰ کی کیا غرض تھی) اس پر وقف لازم ہے۔ اگر وقف نہ کریں۔ تو مابعد اس کی صفت بن جائیگا۔ اور اس طرح ہو نہیں سکتا۔ (مَاذَا اَرَادَ اللّٰہُ بِھٰذَا مَثَلًا) میں استحقار ہے جب حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا۔ عبد اللہ بن عمرو ؓ کے بارے میں یا عجبالابن عمرو ھذا ! یہ بات ابن عمرو سے انتہائی قابل تعجب ہے (بطور تحقیر فرمایا) نحوی لطائف : نحو : مَثَـلًا تمیز کی وجہ سے منصوب ہے یا حال کی وجہ سے سورة الاعراف آیت نمبر 73 ھٰذِہٖ نَاقَۃُ اللّٰہِ لَکُمْ آیَۃًمیں آیت کا لفظ۔ امّاؔ۔ یہ حرف ہے جس میں شرط کا معنی ہے اسی لیے جواب میں فاؔ لائے ہیں۔ اور کلام میں اس کا فائدہ زائد تاکید ہے۔ مثلاً تم کہو زید ذاھب۔ جب اس کی تاکید کرنا چاہو تو کہوگے۔ امازید ذاھب اس لیے سیبویہ نے اس کی وضاحت میں فرمایا۔ مہما یکن من شیٔ فزید ذاھب۔ جو کچھ بھی ہو زید جانے والا ہے یہ وضاحت اس کی تاکید ہونے کے لیے فائدہ مند ہے اور یہ شرط کے معنی میں ہے دونوں جملوں کے شروع میں لائے۔ اور اس طرح نہیں کہا۔ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَقُوْلُوْنَ بلکہ اَمَّا کے ساتھ شروع کیا۔ اس طرز میں ایمان والوں کیلئے بڑی تعریف ہے کہ ان کے علم کو برحق شمار کیا۔ اور کافروں کے بارے میں اپنے نصیب سے غفلت کی خبردی اور ان پر حمقاء کا کلمہ لا کر طنز کیا۔
Ayah 2:27

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ١۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 2:27 in the Quran reader

جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتہ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

نحو : ماذا اس کی دو صورتیں ہیں۔ نمبر 1 : ذا اسم موصول ہو اور الذی کے معنی میں ہو نمبر 2: ما استفہامیہ ہو۔ پس دونوں کلمے مل کر اسم استفہام بن گئے اور ایک کلمہ ہوئے۔ پہلی صورت میں ماؔ مبتدا اور ذا اس کی خبر ہے۔ اپنے جملہ صلہ یعنی اراد کے ساتھ مل کر اور ضمیر محذوف ہے۔ جب اسم استفہام مان لیں تو اراد کی وجہ سے محلًا منصوب ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے ایّ شیء اراداللّٰہ۔ اللہ تعالیٰ نے کس چیز کا ارادہ کیا۔ الارادۃ۔ یہ مصدر ہے اَرَدت الشیٔ کہتے ہیں جب تیرا نفس اس کو طلب کرے اور اس کی طرف مائل ہو۔ متکلمین کے نزدیک ایک وجہ سے خاص کرتا ہے دوسری کی بجائے۔ معتزلہ کا عقیدہ : البتہ معتزلہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ارادہ کے ساتھ حقیقۃً نہیں کی جاسکتی جب اراداللّٰہ کذا کہیں گے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فعل ہے تو ارادہ بمعنی فعل ہوگا کیونکہ وہ نہ بھولنے والا اور نہ مجبور ہے اور اگر غیر کا فعل ہے تو اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا۔ کثرت کا معنی : یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا وَّیَھْدِیْ بِہٖ کَثِیْرًا : (وہ گمراہ کرتا ہے اس مثال سے بہت سوں کو اور ہدایت دیتا ہے بہت کو) امّا سے شروع ہونے والے دونوں جملوں کی تفسیر اور بیان کے قائم مقام ہے کہ جاننے والا فریق تو اس کو برحق کہتا ہے اور جہلاء استہزاء کرنے والے ہیں۔ اور یہ دونوں کثرت سے موصوف ہیں۔ اور اس کے حق ہونے کا علم باب ہدایت سے ہے اور اسکے اچھے مورد سے ناواقفیت باب گمراہی سے ہے اور اہل ہدایت خواہ بذات خود کہتے ہوں مگر ان کو اہل ضلال کے بالمقابل بظاہراً قلت سے تعبیر کیا جاتا ہے اس لیے بھی کہ تھوڑے سے ہدایت والے بھی حقیقت میں کثیر ہیں اگرچہ صورۃً وہ قلیل ہوں۔ جیسا کہ شاعر کے قول میں۔ ؎ ان الکرام کثیر فی البلاد وان ٭ قلواکما غیر ھم قل وان کثروا شرفاء شہروں میں بہت ہیں۔ اگرچہ صورۃً وہ قلیل ہوں۔ جیسا کہ ان کے علاوہ قلیل ہیں۔ حقیقت میں اگرچہ صورۃً گنتی میں کثیر ہیں۔ والاضلال : بندے میں ضلال کے فعل کا پیدا کرنا۔ الھدایہ : ہدایت پانے کے فعل کو بندے میں پیدا کرنا۔ مقصد تمثیل : اہلسنّت کے نزدیک یہ حقیقت ہے۔ آیت کا سیاق اس بات کی وضاحت کررہا ہے کہ جس چیز کو جاہل کفار انوکھا اور عجیب خیال کرتے ہیں۔ کہ حقیر چیزوں کیساتھ مثال بیان کرنا اچھنبے کی بات ہے۔ حالانکہ یہ تو تعجب کی بات نہیں کیونکہ تمثیل کا مقصد معنی کو واضح کرنا اور وہم والے کو مشاہدے کے قریب کرنا ہوتا ہے۔ پس اگر متمثل لہ عظیم ہو تو متمثل بہٖ بھی عظیم اور اگر وہ حقیر ہو تو متمثل بہٖ بھی حقیر ہوگا۔ ذرا غور تو کرو۔ جبکہ حق واضح اور جلی ہے تو اس کی مثال ضیاء اور نور سے دی۔ اور باطل غیر واضح ہے تو اس کو ظلمت اور اندھیرے سے تشبیہ دی۔ بس اسی طرح اس آیت میں وہ آلہہ جن کو کفار نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے۔ وہ سب سے زیادہ ذلیل ترین اور حقیر ترین ہیں۔ اسی لیے مکڑی کے جالے کو ان کی کمزوری اور بودے پن کے لیے بطور تمثیل لائے۔ اور ان کو مکھی سے کم درجہ قرار دیا۔ اور مچھر کی مثال ان کے لیے بیان کی جو مثال میں مکھی سے بھی کم تر ہے یہ تو کوئی اوپری اور نوایجاد بات نہیں۔ اس تمثیل بیان کرنے والے کو نہ کہا جائے گا۔ کہ مچھر کے ساتھ ان کی تمثیل بیان کرنے سے باز رہو۔ اس لیے کہ وہ اپنی تمثیل میں سچا ہے اور بات میں حقیقت پر چلنے والا ہے اور تمثیل کو اس کے مقام پر فٹ کر رکھا ہے۔ مومن و کافر کے مزاج میں فرق : سیاق اور آیت میں یہ بات بھی بیان کردی۔ کہ وہ مومن جن کی عادت انصاف اور امور میں صحیح عقل سے غور فکر کرنا ہے وہ جب اس تمثیل کو سنیں گے تو جان لیں گے۔ کہ یہ برحق ہے۔ کافر لوگ جن کی عقلوں پر جہل غالب ہے وہ سن کر بڑے بنیں گے۔ اور عنادو ضد پر اتر آئیں گے۔ اور اس کے باطل قرار دینے کی سوچیں گے اور انکار کر کے مقابلہ کریں گے اور یہ چیز مؤمنوں کی ہدایت کا سبب بن جائے گی۔ اور فاسقوں کی گمراہی کا ذریعہ ثابت ہوگی۔ ان کفار (مکہ) پر تعجب ہے کہ انہوں نے کس طرح انکار کردیا حالانکہ لوگ مکھی، پرندوں اور حشرات الارض کی مثالیں بیان کرتے چلے آرہے ہیں چناچہ کہتے ہیں۔ اجمع من ذرّۃ (چیونٹیوں سے زیادہ اکھٹے) اجر أمن الذباب ( مکھی سے زیادہ جرأت مند) اسمع من قراد (چچڑی سے زیادہ کانوں والا) اضعف من فراشۃ (پروانے سے زیادہ کمزور) أکل من السوس (دیمک سے زیادہ کھانے والا) اضعف من البعوضہ (مچھر سے زیادہ کمزور) اعزّمن مخ البعوض۔ (مچھر کے مغز سے زیادہ عزت والا) لیکن حجت باز اور مبہوت کے مزاج کا تقاضا ہے کہ زیادہ حسرت کی وجہ سے واضح کو مسترد کرے اور چمکتے ہوئے روشن حق کا انکار کر دے۔ وَمَا یُضِلُّ بِہٖٓ اِلَّاالْفَاسِقِیْنَ : (اور وہ ہرگز گمراہ نہیں کرتا اس سے مگر فاسقوں کو) نحوی تحقیق : نحو : الفاسقین، ما یضل کا مفعول ہے استثناء کی وجہ سے منصوب نہیں کیونکہ یضل کا مفعول پورا نہیں ہوا۔ مفہوم فسق : الفسق : میانہ روی سے نکلنا۔ شرع میں کبیرہ کا ارتکاب کر کے حکم شرع سے نکلنا یہ دو مرتبوں کے درمیان ہے یعنی مومن و کافر کے درمیان (نہ وہ مومن رہتا ہے اور نہ وہ کافر ہوتا ہے) یہ معتزلہ کے نزدیک ہے۔ عنقریب ہم اس کی تردید کریں گے۔ انشاء اللہ اَلَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ ۔ : (وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑتے ہیں) النقضؔ : ترکیب کھولنا اور فسخ کرنا العھد۔ پکا وعدہ۔ ان ناقضین سے ضدی قسم کے احبار یہود یا ان میں سے جو منافقین یا تمام کفار مراد ہیں۔ عہد اللّٰہ : عہد سے مراد۔ نمبر 1: توحید کے دلائل جو ان کی عقلوں میں موجود تھے۔ گویا وہ وصیت شدہ بات تھی۔ اور وثیقہ تھا۔ جو ان سے لیا گیا تھا۔ نمبر 2: ان سے پختہ عہد لیا گیا۔ کہ جب رسول ان کی طرف بھیجا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ معجزات سے اس کی تصدیق فرما دیں گے۔ تو وہ اس کی تصدیق کریں گے۔ اور اس کی اتباع کریں گے۔ اور اس کا تذکرہ نہ چھپائیں گے۔ نمبر 3: اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ لیا کہ وہ خون نہ بہائیں گے۔ اور ایک دوسرے پر سرکشی نہ کریں گے۔ اور قطع رحمی نہ کریں گے۔ نمبر 4: (تین عہد) یہ بھی کہا گیا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق سے تین وعدے لئے۔ عہد اول جو تمام ذریت آدم سے اقرار ربوبیت کا لیا گیا۔ جو سورة الاعراف آیت نمبر 172۔ وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ 0 بَنِیْ ٰادَمَ میں مذکور ہے دوسرا عہد جو خاص انبیاء ( علیہ السلام) سے لیا گیا۔ کہ وہ رسالت کو پہنچائیں گے اور دین کو قائم کریں گے وہ سورة الاحزاب آیت نمبر 7 وَاِذَ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیِّیْنَ مِیْثَاقَھُمْ میں ذکر فرمایا ہے۔ اور تیسرا عہد جو علماء سے لیا گیا۔ جس کو سورة آل عمران آیت نمبر 187 وَاِذْاَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوتُوا الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُوْنَہٗ میں ذکر کیا گیا گویا یہ تینوں مراد ہیں۔ مِنْ 0 بَعْدِ مِیْثَاقِہٖ : (اس کو پختہ کردینے کے بعد) میثاق، الوثاقہ سے لیا گیا۔ یہ کسی چیز کو مضبوط کرنے کو کہا جاتا ہے۔ ہٖ کی ضمیرعہد کی طرف ہے وہ جس کو قبول کرنے کے لیے انہوں نے مضبوط باندھا۔ اور اپنے نفسوں پر لازم کیا نمبر 1: جائز ہے کہ میثاق تو ثقۃ (وعدے کی توثیق کرنے کے بعد) کے معنی میں ہو جیسا میعاد بمعنیٰ الوعد آتا ہے ہٖ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹے تو معنی یہ بنے گا کہ اللہ تعالیٰ کے ان پر پختہ کردینے کے بعد مِنْ یہ ابتداء غایت کے لیے ہے وَیَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَاللّٰہُ بِہٖٓ اَنْْ یُّوْصَلَ : (اور وہ قطع کرتے ہیں اس کو جن کا اللہ تعالیٰ نے جوڑنے کا حکم دیا)
Ayah 2:28

كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ١ۚ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:28 in the Quran reader

(کافرو ! ) تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو جس حال میں کہ تم بےجان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

قطع کی حقیقت : نمبر 1: قطع رحمی کرنا اور مسلمانوں سے دوستی منقطع کرنا۔ نمبر 2: انبیاء ( علیہ السلام) میں سے بعض پر ایمان اور بعض کا انکار کر کے ان کی اجتماعیت علی الحق کو ختم کیا۔ گویا ان یوصل سے مراد اجتماعیت علی الحق اور قطع سے مراد بعض کی تصدیق اور بعض کی تکذیب ہے۔ تعریف امر : الامرؔ۔ کسی چیز پر استعلاء کے طور پر مخصوص قول سے فعل کا مطالبہ کرنا۔ نحو : مَانکرہ موصوفہ ہے یا الذی کے معنی میں ہے ان یوصل نمبر 1: موضع جر میں ہے ھا سے بدل ہے یعنی بوصلہ نمبر 2: موضع رفع میں ہے ای ھوان یوصل وَیُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ : (وہ زمین میں فساد کرتے ہیں) ڈاکہ ڈال کر اُولٰٓپکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ : (اور وہی نقصان اٹھانے والے ہیں) ایمان لانے پر تنگ کر کے۔ نحو : اولٰٓپک مبتدا ھم ضمیر فصل اور الخاسرون خبر ہے یعنی نقصان اٹھانے والے ہیں۔ نوعیت نقصان : اس طرح کہ انہوں نے وفا کے بدلہ میں وعدہ توڑا اور وصل کو قطع سے اور اصلاح کو فساد سے ثواب کو عقاب سے بدل ڈالا۔ کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ : (تم کیسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرتے ہو) ہمزہ کا وہ معنی جو کیف میں ہے اس کی مثال یہ قول ہے اتکفرون باللّٰہ ومعکم ما یصرف عن الکفروید عوا الی الایمان۔ کیا تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرتے ہو۔ حالانکہ تمہارے پاس وہ چیز ہے جو کفر سے پھیرنے اور ایمان کی طرف راغب کرنے والی ہے۔ مقصد استفہام : یہ استفہام انکار وتعجب کے لیے ہے۔ اس کی مثال اس قول میں ہے أتطیر بغیر جناحٍ وکیف تطیر بغیر جناحٍ ؟ کیا تو بغیر پروں کے اڑتا ہے اور تو بغیر پروں کے کیسے اڑے گا۔ یعنی تو بغیر پروں کے ہے اس لیے تو اڑا نہیں سکتا۔ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا : (حالانکہ تم مردہ تھے) وائو حالیہ ہے یعنی تم اپنے باپوں کی اصلاب میں نطفہ کی صورت میں تھے اور قد مضمر ہے الاموات جمع میت ہے جیسے اقوال جمع قیل۔ اسی لیے جسمیں زندگی نہ ہو اس کو بھی میت کہتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سورة الفرقان آیت نمبر 49 میں ہے بَلْدَۃً مَّیْتًا۔ فَاَحْیَاکُمْ : (پس اس نے تمہیں زندہ کیا) پس اس نے ماں کے رحموں میں زندہ کردیا۔ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ : (پھر وہ تمہیں موت دیں گے) وہ تمہیں موت دیں گے جب تمہاری مدت زندگی پوری ہوجائے گی۔ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ : (پھر وہ تمہیں زندہ کریں گے) پھر وہ بعث کے لیے زندہ کریں گے۔ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ : (پھر اسی کی طرف لوٹائے جائو گے) پھر تم جزا کی طرف لوٹو گے۔ یا پھر وہ قبور میں تمہیں زندہ کریں گے۔ پھر اس کی طرف نشور کے لیے لوٹائے جائو گے۔ فاء اور ثم کا فرق : یہاں پہلا عطف فاء کے ساتھ ہے اور باقی ثم کے ساتھ ہے کیونکہ احیاء اول بلاتا خیر موت اول کے بعد ہوا۔ باقی موت وہ تو زندگی سے مؤخر ہے اور حیات ثانیہ بھی اسی طرح موت سے متاخر ہے اگر نشور مراد ہو اور اگر قبر کی زندگی مراد ہو تو اس کی تاخیر کا بھی اسی سے علم ہوتا ہے اور جزاء کی طرف لوٹناوہ نشور سے متاخر ہے۔ کفر انوکھا ہے : اس موت وحیات کے واقعہ کے ساتھ ساتھ ان کا کفر انوکھی چیز ہے کیونکہ اس واقعہ میں واضح دلائل ہیں جو کفر سے ان کو پھیر سکتے ہیں۔ اور اس لیے بھی ان کا انکار عجیب ہے کہ یہ واقعہ بڑی بڑی نعمتوں پر مشتمل ہے جن کا حق شکریہ ہے نہ کہ نا شکری کرنا۔
Ayah 2:29

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:29 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے سب چیزیں جو زمین میں ہیں تمہارے لئے پیدا کیں پھر آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا تو ان کو ٹھیک سات آسمان بنادیا اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے،

لام کی حکمت : ھُوَالَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ : (وہ وہی ذات ہے جس نے تمہارے لیے سب کچھ بنایا) نمبر 1: لکم کی لام اجلیہ ہے تمہاری خاطر۔ نمبر 2: اور تمہارے دین دنیا میں فائدہ پہنچانے کے لیے پیدا کیا۔ اول تو ظاہر ہے اور دوسرے قول میں غور کرو۔ اس میں جو عجائبات ہیں وہ صانع قادر حکیم علیم کی ہستی پر دلالت کرنے والے ہیں اور اس میں آخرت کی یاد ہے۔ کیونکہ زمین کی پناہ گاہ اس کے ثواب کو یاد دلانے والی ہے اور اس کی ناپسندیدہ چیزیں اس کے عقاب کو یاد دلانے والی ہیں۔ علامہ کرخی۔ ابوبکر رازی اور معتزلہ کا استدلال ہے کہ خلق لکم بتلا رہا ہے کہ تمام اشیاء صحیحہ مباح الاصل ہیں۔ جَمِیْعًا (سب کچھ) نحو : یہ ما سے حال ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآئِ : (پھر آسمان کا قصد کیا) الاستوائ۔ اعتدال و درستگی کو کہتے ہیں کہا جاتا ہے استوی العود یعنی قام واعتدل۔ سیدھی لکڑی درست کھڑی ہوئی۔ پھر کہا گیا استوٰی الیہ کالسھم المرسل چھوڑے ہوئے تیر کی طرح سیدھا ہوا جبکہ وہ ٹھیک نشانے پر لگے۔ اور کسی طرف نہ مڑے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا یہی مطلب ہے ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآئِ ۔ یعنی وہ متوجہ ہوا۔ اور آسمان کو بنانے کی طرف توجہ کی زمین کی تمام اشیاء بنانے کے بعد بغیر اس کے کہ اس دوران کسی اور چیز کے پیدا کرنے کی طرف توجہ کرے۔ فَسَوّٰھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ : (انہیں سات آسمان ہموار بنادیا) یہ مبہم ہے اس کی تفسیر سبع سمٰوٰتٍ ہے جیسا کہ ان کے قول رُبّہٗ رجلاً (بہت سے آدمیوں کو میں ملا ہوں) یہ بھی کہا گیا۔ کہ ضمیر السماء کی طرف لوٹ رہی ہے اگرچہ لفظ واحد ہے مگر معنی جمع کا ہے کیونکہ یہ جنس کے معنی میں ہے۔ مراد تسویہ : تسویتھن : نمبر 1: ان کا پیدائش میں برابر اور پختگی اور ٹیڑھ اور پھٹنے سے محفوظ ہونا دوسرا قول : ان کی خلقت کی تکمیل۔ ثم سے یہاں آسمان کی پیدائش کی فضیلت زمین کی پیدائش پر ظاہر کرنا مقصود ہے اور یہ والارض بعد ذلک دحٰھا۔ سورة النازعات آیت نمبر 30 کے مخالف نہیں کیونکہ زمین کا وجود آسمان کی پیدائش سے مقدم ہے البتہ زمین کا بچھاناوہ زمین کی پیدائش سے متاخر ہے حضرت حسن (رح) کا قول ہے زمین کی پیدائش موضع بیت المقدس میں مہر (پتھر) کی طرح تھی اس پر چمٹا ہوا دھواں تھا پھر دھواں اٹھایا اور اس سے آسمانوں کو بنادیا۔ اور سب کو اپنی جگہ رہنے دیا۔ اس سے زمین کو پھیلادیا۔ سورة الانبیاء آیت نمبر 30 اَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰہُمَا 1 وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآئِ کُلَّ شَیْئٍ حَیٍّ 1 اَفَلاَ یُؤْمِنُوْنَ کا یہی مطلب ہے وہ چمٹنا جس کو رتق فرمایا۔ وَھُوَبِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ : (وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے) پس اسی لیے ان کو برابر مضبوط بلا تفاوت وفرق کے بنایا۔ اور زمین میں جو کچھ بنایا وہ زمین والوں کی ضروریات و فوائد کے مطابق بنایا۔ قراءت : وَھُوَ اور اس کے ہم مثلوں کو ابو عمرو ورش (رح) کے علاوہ مدنی اور دوسرے قراء نے اس طرح پڑھا ہے۔ ورش اور ابو عمرو اور علی رحمھم اللّٰہ نے وَھْوَ پڑھا۔ گویا وائوکو نفس کلمہ سے قرار دیا۔ پس یہ عَضْدٌ کی طرح ہوا اور دیگر قراء کے ہاں عضد کی طرح ہوا۔
Ayah 2:30

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:30 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں، انہوں نے کہا کیا تو اس میں ایسے شخص کو بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے، اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

سابقہ آیات سے ربط : ربط : جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا اس میں جنات کو بسا دیا۔ اور آسمان میں فرشتوں کو ٹھہرایا جنات نے زمین میں فساد کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی ایک جماعت بھیج کر ان کو سمندروں کے جزائر اور پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرف بھگا دیا۔ ان فرشتوں نے جنات کی جگہ اقامت اختیار کی، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ( علیہ السلام) کو انکا واقعہ ذکر فرمانے کا حکم دیا۔ وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰپکَۃِ : (اور جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں کو) اِذْ اذکر کی وجہ سے منصوب ہے الملٰٓئکۃ۔ جمع ملاک شمائل جمع شمال تاء تانیث جمع کے لیے ہے۔ اِنِّیْ جَاعِلٌ : (بےشک میں بنانے والا ہوں) بنانے والا ہوں یہ جعل سے ہے جس کے دو مفعول ہیں۔ خلیفہ کی تفسیر : فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً : (زمین میں خلیفہ) خلیفہ وہ ہے جو غیر کے بعد آئے یہ فعیلہ بمعنی فاعلہ ہے۔ ھا اس میں مبالغہ کی بڑھائی گئی ہے۔ اب معنی خلیفۃ منکم تم میں سے نائب کیونکہ فرشتے زمین کے رہائشی تھے پس اس زمین میں ان کے بعد آدم اور ان کی اولاد کو نائب بنایا۔ خلائف اور خلفاء نہیں کہا کیونکہ خلیفہ سے آدم مراد لئے گئے۔ اور اولاد کے ذکر کی بجائے فقط آدم ( علیہ السلام) کے تذکرہ پر اکتفا کیا۔ جیسا کہ اس قول میں مضر، ہاشم میں قبیلہ کے بڑے کو ذکر کردیا۔ یا مراد وہ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے۔ یا وہ مخلوق جو تمہارے بعد آئے گی اسی لیے واحد لائے۔ یا خلیفۃ منی۔ میرا نائب کیونکہ آدم ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے زمین میں خلیفہ تھے۔ اسی طرح ہر پیغمبر ( علیہ السلام) اللہ کا خلیفہ ہے جیسا کہ سورة صٓآیت نمبر 26 یَا دَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ میں ہے۔ فرشتوں کو خبر دی کہ وہ سوال کریں اور ان کو وہ جواب دیا جائے جو دیا گیا۔ تاکہ آدم کے وجود سے پہلے وہ ان کے استخلاف کی حکمت پہچان لیں۔ نمبر 2: تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو امور میں اقدام سے پہلے مشاورت سکھائیں۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ اپنے علم کامل اور حکمت بالغہ کی وجہ سے مشاورت سے بےنیاز ہے۔ سبب قول : قَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا : (انہوں نے کہا کہ آپ زمین میں اس کو نائب بناتے ہیں جو فساد کریگا) فرشتوں نے یہ تعجب سے کہا کہ اہل اطاعت کے نائب اہل معصیت کو بنایا جائے۔ اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور جہل سے پاک ہے یہ بات انہوں نے اللہ تعالیٰ کے خبر دینے سے معلوم کی۔ یالوح محفوظ سے معلوم کی۔ یا جنات پر قیاس کرلیا۔ وَیَسْفِکُ الدِّمَآئَ : (اور وہ خون بہائے گا) وہ بہائے گا۔ فائدہ واو حالیہ : وَنَحْنُ نُسَبِّحُ : (ہم تیری تسبیح کرتے ہیں) ونحن نسبح میں وائو حالیہ ہے، جیسا کہ تم کہتے ہو۔ أتحسن الی فلان وانا احق منہ بالاحسان ؟۔ کیا تو فلاں پر احسان کرتا ہے حالانکہ احسان کا میں اس سے زیادہ حقدار ہوں۔ بِحَمْدِکَ : (تیری حمد کے ساتھ) یہ مو ضع حال میں ہے یعنی ہم تیری حمد کرتے ہوئے تسبیح کرتے ہیں۔ اور تیری حمد سے تلبس حاصل کرنے والے ہیں جیسا کہ اس سورة المائدہ کی آیت نمبر 61 وقد دخلوا بالکفر کا معنی دخلوا کافرین ہے کہ وہ کفر ہی کی حالت میں داخل ہوئے۔ تقدیس کا معنی : وَنُقَدِّسُ لَکَ : (اور آپ کی پاکیز گی بیان کرتے ہیں) ہم اپنے آپ کو آپ کے لیے پاک کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا۔ کہ تسبیح و تقدیس۔ اللہ کو برائی سے دور قرار دینا۔ یہ سبح فی الارض وقدس فیھا سے ہے جب وہ زمین میں سفر کرے اور بہت دور جائے۔ قَالَ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ : (کہا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے) میں اس کی وہ حکمتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں۔ یعنی ان میں انبیاء اولیاء علماء ہونگے۔ نحو : مَا، الذی کے معنی میں ہے یہ اعلم کا مفعول ہے اور ضمیر عائد محذوف ہے ای مالا تعلمونہٗ وہ چیز جس کو تم نہیں جانتے ہو۔ قراءت : اِنِّیَ ۔ حجازی اور ابو عمرو نے پڑھا۔
Ayah 2:31

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:31 in the Quran reader

اور اس نے آدم کو (سب چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا اگر سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ

وَعَلَّمَ اٰدَمَ : ( اور سکھائے آدم ( علیہ السلام) کو) نمبر 1: عجمی نام ہے قریب ترین بات یہ ہے کہ فَاعَلَ اٰزر کی طرح ہے۔ نمبر 2: آدم کو ادیم الارض سے مشتق مانا جائے۔ یا اَدَمَۃِ جیسے کہ یعقوب العقب اور ادریس۔ درس سے اور ابلیس ابلاس سے مشتق ہے۔ الْاَسْمَائَ کُلَّھَا : (نام تمام) یعنی مسمیات کے نام۔ مضاف الیہ کے معلوم ہونے اور اسماء کی دلالت موجود ہونے کی وجہ سے حذف کردیا۔ کیونکہ اسم مسمّی پر دلالت کرتا ہے اور مضاف الف لام کے عوض میں لائے۔ جیسے اشتعل الرأس شیبًا۔ سورة مریم آیت نمبر 4 میں الر ّأس ہے۔ ثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلٰٓپکَۃِ 3 : (پھر ان کو فرشتوں کے روبرو پیش فرمایا) ۔ اہم تنبیہ : یہ درست نہیں کہ مقدر مانا جائے اور کہا جائے علّم آدم مسمیات الاسماء کہ مضاف کو حذف کیا اور مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام بنادیا۔ اس لیے کہ تعلیم کا تعلق اسماء سے ہے مسمیات سے نہیں جیسا دوسری آیت انبؤنی باسمآء ھٰؤلاَء (تو ان کو بتلا ان کے نام) اور انبئھم باسماء ھم میں واضح طور پر اسماء موجود ہیں۔ انبئونی بِھٰٓؤُلَآئِ ، انبئھم بھم نہیں فرمایا۔ تعلیم اسماء کا مطلب : اسمائے مسمیات کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہ اجناس دکھائیں جن کو اس نے پیدا کیا۔ اور ان کا نام اس کو سکھایا۔ کہ اس کا نام فرس ہے اس کا بعیر اور اس کا فلاں نام ہے اور اس کا نام یہ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ہر چیز کا نام ان کو سکھایا حتیٰ کہ پیالہ اور کفگیر بھی۔ سوال : ان سے سوال کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ کو ان کا عجز معلوم تھا۔ جواب : تبکیت ولا جواب کرنے کے لیے۔ فَقَالَ اَنچْبِؤُنِیْ ، (تم مجھے خبر دو ؟ ) بِاَسْمَآئِ ھٰٓؤُلَآئِ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ ۔ (ان چیزوں کے ناموں کی اگر تم اپنے گمان میں سچے ہو) ۔ کہ میں زمین میں مفسدین سفاکین دماء کو خلیفہ بنانے والا ہوں۔
Ayahs 2:32–33

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 2:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا تو پاک ہے جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں، بیشک تو دانا (اور) حکمت والا ہے

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ Open ayah 2:33 in the Quran reader

(تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم ! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں ! میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے ؟

استخلاف میں علمی فوائد : اس میں فرشتوں کی تردید ہے اور اس بات کی وضاحت ہے کہ جس کو میں نے استخلاف دینا ہے اسمیں علمی فوائد ہیں۔ جو تمام فوائد کی جڑ اور بنیاد ہیں۔ جن کی وجہ سے وہ استخلاف کے اہل ہیں۔ قَالُوْاسُبْحٰنَکََ : (انہوں نے کہا تو پاک ہے) نمبر 1: آپ اس سے پاک ہیں کہ آپ سے کوئی چیز مخفی رہے۔ نمبر 2: آپ اس سے پاک ہیں کہ آپ کی تدبیر پر اعتراض کیا جائے۔ نکتہ عجیبہ : اسماء کا علم حاصل کرنا عبادت کے لیے خلوت میں بیٹھنے سے بڑھ کر ہے۔ تو پھر علم شریعت کا تو کیا ہی کہنا ہے۔ سجنٰک یہ مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعنی سبحت اللّٰہ تسبیحًا۔ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلاَّمَاعَلَّمْتَنَا : (نہیں ہے ہمیں علم اس کے سواء جو تو نے ہمیں بتادیا) ۔ اور ہمیں کوئی علم نہیں مگر جو تو نے ہمیں دیا۔ اور اس میں اسماء کا علم نہیں ہے۔ مَابمعنی الذی ہے اور العلم بمعنی معلوم ہے یعنی ہمیں معلوم نہیں مگر وہ جو تو نے سکھایا۔ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ : (بےشک تو ہر بات کو جاننے والا ہے) آپ بغیر سکھانے کے جاننے والے ہیں۔ الْحَکِیْمُ : (حکمت والے ہیں) حکمت والے ہیں ان میں جن کا آپ نے فیصلہ کیا۔ اور اندازہ فرمایا۔ نحونمبر 1: یہ انّ کا اسم ہے۔ انت مبتداء مابعد خبر ہے۔ تمام انّ کی خبر ہے۔ نمبر 2: انت ضمیر فصل اور العلیم خبراول اور الحکیم خبر دوم ہے۔ قَالَ یٰٓاَدَمُ اَنْچبِئْھُمْ بِاَسْمَآئِ ھِمْ فَلَمَّآ اَنْچبَأَھُمْ بِاَسْمَآپھِمْ : (فرمایا اے آدم تو ان کو خبر دے ان کے ناموں کی تو آدم ( علیہ السلام) نے ہر چیز کا نام لیکر بتادیا) ۔ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا میں نے نہیں کہا کہ میں جانتا ہوں جو آسمانوں و زمین میں تم سے چھپا ہوا ہے) جو کچھ ہوچکا اور جو کچھ آئندہ ہوگا۔ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ : (اور میں جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو) وَمَا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ : (اور جو تم چھپاتے تھے)
Ayah 2:34

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١٘ۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:34 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو وہ سب سجدے میں گرپڑے مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آ کر کافر بن گیا

وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓپکَۃِ اسْجُدُوْالِاٰدَمَ : (اور جب ہم نے کہا فرشتوں کو کہ آدم کیلئے سجدہ کرو) یعنی اس کے سامنے جھک جائو اور اس کی فضیلت کا اقرار کرو۔ سجدہ کی حقیقت : حضرت ابی ابن کعب اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کمر سے جھکنا تھا۔ یہ ٹھوڑیوں کے بل گرنا نہ تھا۔ جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ ان کو زمین پر چہرہ رکھنے کا حکم تھا۔ اور یہ سجدہ آدم ( علیہ السلام) کی تعظیم کے لیے تھا۔ صحیح کی روایت میں ہے کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتا تو ابلیس اس سے باز نہ رہتا۔ اور یہ سجدہ تعظیم پہلی شرائع میں جائز تھا۔ پھر یہ منسوخ ہوا۔ آپ ﷺ کے اس ارشاد سے جو آپ نے حضرت سلمان فارسی ؓ کو فرمایا جبکہ انہوں نے آپ کو سجدہ کرنے کا ارادہ کیا۔ لا ینبغی للمخلوق ان یسجد لا حَدٍ الا للّٰہ تعالٰی۔ (ترمذی) من ابی ہریرہ واحمد من انس وعائشۃ ومعاذ رضی اللّٰہ عنہم۔ کونسا مستثنیٰ ہے ؟ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ : (پس انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس) یہ استثناء متصل ہے کیونکہ وہ فرشتوں میں سے تھا۔ اسی طرح حضرت علی وابن عباس اور ابن مسعود ؓ نے فرمایا۔ اور اس لیے بھی کہ استثناء مستثنیٰ کی جنس سے ہونا چاہیے تھا۔ اسی لیے فرمایا۔ سورة الاعراف آیت نمبر 12 قَالَ مَا مَنَعَکَ اَلَّاتَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُکَ ۔ رہا سورة کہف آیت نمبر 50 کَانَ مِنَ الْجِنِّ ۔ یہ کان، صار کے معنی میں ہے۔ جیسا کہ سورة ھود آیت نمبر 43 میں فَکَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ ۔ کہ وہ ڈو بنے والوں میں سے ہوگیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ یہ استثناء منقطع ہے اس لیے کہ وہ ملائکہ سے نہ تھا۔ دلیل نمبر 1: بلکہ نص کے مطابق وہ جنات میں سے تھا۔ اور یہی حضرت حسن و قتادہ کا قول ہے۔ نمبر 2: اس لیے بھی کہ وہ آگ سے پیدا کیا گیا۔ اور ملائکہ نور سے پیدا کیے گئے۔ نمبر 3: اور اس لیے بھی کہ اس نے انکار کیا اور نافرمانی اور تکبر کیا۔ اور ملائکہ اللہ تعالیٰ جو حکم دیں اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ نمبر 4: اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اَفَتَتَّخِذُوْنَہٗ وَ ذُرِّیَّتَہٗ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِیْ ۔ [ کہف : 50] کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سواء کارساز بناتے ہو۔ حالانکہ وہ فرشتوں کی نسل نہیں۔ جاحظ معتزلی کہتے ہیں۔ کہ جن اور ملائکہ ایک جنس ہے جو ان میں پاکیزہ ہیں وہ فرشتے اور جو خبیث و ناپاک ہیں وہ شیطان۔ اور جو بین بین ہیں وہ جن (مگر جاحظ کا یہ قول بلا ثبوت ہے) اَبٰی : (اس نے انکار کیا) باز رہا اس سے جو اس کو حکم ملا تھا۔ وَاسْتَکْبَرَ : (اور اس نے بڑائی اختیار کی) وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ : (اور کافروں میں سے ہوگیا) نمبر 1: اپنے انکار اور تکبر اور امر الٰہی کو رد کرنے کے سبب کافروں میں سے ہوگیا۔ اس وجہ سے نہیں کہ حکم پر عمل کرنا اس نے ترک کردیا۔ اس لیے کہ ترک سجود ایمان سے خارج نہیں کرتا۔ اور نہ ہی اس سے اہلسنّت کے ہاں کافر بنتا ہے۔ البتہ معتزلہ اور خوارج (کے ہاں ایمان سے خارج ہوجاتا ہے) نمبر 2 : کافروں میں سے تھا۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ وہ اپنے ایمان لانے کے بعد کفر کرے گا۔ اس طرح نہیں کہ وہ علم الٰہی میں ہمیشہ کافر تھا۔ یہ مسئلہ موافات ہے۔
Ayah 2:35

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:35 in the Quran reader

اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بےروک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہوجاؤ گے

وَقُلْنَا یٰٓادَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ : (اور ہم نے کہا اے آدم رہ تو اور تیری بیوی جنت میں) نحو : یہ سکن الدار یسکنھا سکنٰی سے امر ہے۔ جب وہ مکان میں اقامت اختیار کرے۔ کہا جاتا ہے سکن المتحرک سکونا۔ حرکت والے نے سکون وٹھہرائو اختیار کیا۔ انت اسکن کی ضمیر سے تاکید ہے اس لیے لائے تاکہ عطف فعل کا وزوجک پر صحیح ہوجائے۔ جنت کی تحقیق : الجنۃ : وہ جنت خلدہی تھی جس کا وعدہ متقین سے کیا گیا۔ جیسا نقل مشہور میں ہے۔ الف لام تعریف کا ہے۔ معتزلہ کا قول : یہ یمن کا ایک باغ تھا۔ کیونکہ جنت میں تکلیف نہیں اور نہ اس سے نکلنا ہے۔ جواب معتزلہ : جنت سے وہ نہیں نکلے گا جو جزاء کے طور پر داخل ہوا نبی اکرم ﷺ لیلۃ المعراج میں داخل ہوئے اور پھر نکلے اور اہل جنت کو معرفت الٰہی اور توحید کی تکلیف دی جائے گی۔ وَکُلَا مِنْھَا : (اور تم دونوں اس سے کھائو) ۔ یعنی اس کے پھلوں میں سے کھائو مضاف محذوف ہے۔ رَغَدًا : بافراغت۔ رغد ًا مصدر کی صفت ہے ای اکلا رغدًا واسعا (بافراغت وسیع کھانا) حَیْثُ شِئْتُمَا : (جہاں سے تم دونوں چاہو) (شِیْتُمَا) اس کا باب بغیر ہمزہ سے ہے ابو عمرو کے نزدیک حیث : یہ مکان مبہم کے لیے ہے یعنی جنت کے جس مکان میں تم دونوں چاہو۔ وَلَا تَقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ : (اور تم دونوں قریب نہ جائو اس درخت کے) شجرہ یعنی گندم یا انگور کی بیل یا انجیر۔ نکتہ : (کیف لا یعصی الانسان وقوتہ من شجرۃ العصیان) انسان نافرمانی کیوں نہ کرے جبکہ اس کی خوراک شجرئہ عصیان سے ہے۔ انگور بھی ہر فتنے کی اصل ہے (اس سے شراب بنتی ہے) فَتَکُوْنَا : (پس تم ہوجائو گے) لا تقربا پر عطف ہونے کی وجہ سے جزم ہے یا جواب نہی کی وجہ سے ان مقدرہ کے ساتھ منصوب ہے۔ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ : (اپنا نقصان کرنے والوں سے) نمبر 1: تم ان لوگوں میں سے ہوجائو گے جنہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا۔ نمبر 2: یا ان میں سے ہوجائو گے جنہوں نے اپنے کو نقصان پہنچایا۔
Ayah 2:36

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 2:36 in the Quran reader

پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش و نشاط) میں تھے اس سے ان کو نکلوا دیا تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں) سے چلے جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کردیا گیا) ہے

فَاَزَلَّھُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْھَا : (پس ان دونوں کو پھسلا یا شیطان نے اس درخت کے متعلق ) لغزش کی وضاحت : ھا ضمیر شجرہ کی طرف جا رہی ہے یعنی اس درخت کے سبب ان دونوں کو شیطان نے لغزش پر آمادہ کیا۔ نمبر 1: اور تحقیق اس کی یہ ہے کہ شیطان نے درخت کی وجہ سے ان سے لغزش صادر کروائی۔ نمبر 2 یا : ان دونوں کو جنت سے پھسلا دیا۔ بمعنی نکلوادیا۔ اور دور کر ادیا۔ قراءت : حمزہ نے فازا لھما پڑھا۔ تاویل میں آدم ( علیہ السلام) کی لغزش خطاء ً تھی۔ خواہ نہی کو تنزیہ پر محمول کرو۔ یا لام کو عہد خارجی کا مانو۔ گویا اللہ تعالیٰ نے جنس آدم کا ارادہ فرمایا۔ مسئلہ : اس سے یہ ثابت ہوا کہ لغزش کے لفظ کا اطلاق انبیاء ( علیہ السلام) کے لیے درست ہے جیسا کہ مشائخ بخاریٰ نے کہا۔ زلہ کے لفظ کی تفسیر : زلّہ کا لفظاسم فعل ہے مخالفت کا قصد کرنے کے بغیر کسی حکم کے خلاف کرنا۔ جیسے زلۃ الماشی فی الطین چلنے والے کا پائوں کیچڑ میں بلا قصد پڑتا ہے۔ سمرقند کے مشائخ نے فرمایا۔ انبیاء ( علیہ السلام) کے افعال پر زلہ کا اطلاق نہیں کرسکتے۔ جیسا کہ معصیت کا اطلاق ان پر نہیں ہوسکتا۔ پس اس طرح کہا جائے گا۔ انہوں نے فاضل کو کیا اور افضل کو چھوڑا اس لیے ان پر عتاب کیا گیا۔ فَاَخْرَجَھُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ : (پس وہ ان کو نکلواکر رہا۔ اس جنت سے جس میں وہ دونوں تھے) یعنی جن نعمتوں اور تکریموں میں وہ تھے۔ یا اگر عنھا کی ضمیر الشجرۃ کی طرف ہو تو مراد جنت سے نکلوانا ہے۔ رابطہ کس طرح ؟ سوال : شیطان نے ان دونوں سے رابطہ کرلیا حالانکہ اس کو سورة الحجر آیت نمبر 34 فَاخْرُجْ مِنْھَا فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ کا حکم مل چکایہ کس طرح ؟ جواب : کیونکہ اس کا داخلہ احترام کے طور پر جیسے فرشتے داخل ہوتے ہیں۔ منع ہوچکا تھا۔ وسوسہ ابتلاء آدم وحوا کے لیے داخلہ ممنوع نہ ہوا تھا۔ روایت کیا گیا۔ کہ اس نے داخل ہونا چاہا۔ تو اس کو داروغہ جنت نے منع کیا۔ وہ سانپ کے منہ میں داخل ہو کر جنت میں داخل ہوگیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ دروازئہ جنت کے پاس کھڑے ہو کر اس نے آواز دی۔ مخاطب کون ؟ وَقُلْنَا اھْبِطُوْا : (ہم نے کہا تم اترو) الھبوط کا معنی زمین کی طرف اترنا ہے۔ خطاب آدم، حواء اور ابلیس سب کو ہے بعض نے کہا سانپ کو بھی۔ صحیح یہ ہے کہ آدم وحواء کو۔ مراد یہ دونوں اور ان کی اولاد کیونکہ وہ دونوں کل انسان تھے۔ تو گویا وہ ساری جنس انسان تھی۔ اس کی دلیل سورة طہٰ آیت نمبر 123 قَالَ اھْبِطَامِنْھَا جَمِیْعًا میں ہے۔ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ : (تم ایک دوسرے کے دشمن ہو) اس سے مراد لوگوں میں جو بغض و عداوت ہے اور ایک دوسرے کا گمراہ قرار دینا ہے پورا جملہ اھبطوا کی وائو سے حال کی جگہ میں ہے۔ تم اترو اس حال میں کہ ایک دوسرے پر تعدی کرنے والے ہو۔ وَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسَتَقَرٌّ : (اور تمہارے لیے زمین میں ٹھکانہ ہے) استقرار اور چھپنے کی جگہ کو مستقر کہتے ہیں۔ وَّمَتَاعٌ : (نفع اٹھانا) زندگی سے نفع اٹھانا۔ اِلٰی حِیْنٍ : (ایک وقت تک) قیامت تک۔ یا موت تک۔ ابراہیم بن ادھم فرماتے ہیں اس ایک لقمے نے ہمیں طویل غم دیا۔