2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 2:260

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا خدا نے فرمایا کیا تم نے (اس بات کو) باور نہیں کیا ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں لیکن (میں دیکھنا) اس لیے (چاہتا ہوں) کہ میرا دل اطمینان حاصل کرلے خدا نے کہا کہ چار جانور پکڑو اور اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھو دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑے چلے آئیں گے اور جان رکھو کہ خدا غالب اور صاحب حکمت ہے

آیت 260 : وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ (جب ابراہیم ( علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب تو مجھے دکھا ) کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی (تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے) نحو : کیف یہ تحیی کی وجہ سے موضع نصب میں ہے۔ قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰی وَلٰکِنْ لِّیَطْمَپنَّ قَلْبِیْ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کیا تو یقین نہیں رکھتا۔ ابراہیم ( علیہ السلام) نے کہا کیوں نہیں ؟ مگر میرے دل کو اطمینان ہوجائے) فائدئہ سوال : اعتراض : اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ( علیہ السلام) کو فرمایا اولم تؤمن۔ کیا تمہیں یقین نہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ جانتے تھے کہ وہ ایمان میں تمام لوگوں سے زیادہ مضبوط ہیں۔ جواب : یہ سوال اللہ تعالیٰ نے اس لئے فرمایا۔ تاکہ وہ وہی جواب دیں جو انہوں نے دیا۔ اس لئے کہ اس میں سامعین کے لئے عظیم الشان فائدہ ہے۔ علم ضروری اور استدلالی کا فرق : نحو : بَلٰی۔ نفی کے بعد ایجاب کے لئے آتا ہے۔ اس کا معنی ہے کیوں نہیں۔ ٰامَنْتُ یعنی میں ایمان لایا۔ لیکن تاکہ میرا سکون و طمانیت بڑھ جائے۔ علم ضروری کو علم استدلال کے ساتھ ملا کر اور دلائل کا ظاہر ہونا قلوب کے لئے زیادہ سکون کا باعث اور بصیرت میں مزید اضافہ کرنے والا ہے۔ اس لئے کہ علم استدلالی کے ساتھ تو شک کا امکان ہے۔ مگر علم ضروری کے قریب بھی شک کا گزر نہیں۔ نحو : لام محذوف سے متعلق ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : ولکن سالت ذٰلک ارادۃ طمانینۃ القلب لیکن میں نے یہ سوال اطمینان قلب کے ارادے سے کیا۔ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَۃً مِّنَ الطَّیْرِ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تو چار پرندے لے) الطیر سے مور ٗ مرغ ٗ کوا ٗ کبوتر مراد ہیں۔ فَصُرْ ہُنَّ اِلَیْکَ (تو ان کو ہلالے) مادہ صور ٗ صار ٗ یصور قراءت : حمزہ و ابوجعفر نے صِرْہُنَّ پڑھا ہے۔ جس کا معنی پارہ پارہ کرنا ہے۔ مادہ صار۔ یصیر۔ صیرا ہے۔ صُرْہُنَّ کا معنی مائل کرنا ٗ ملانا اور جمع کرنا ہے۔ پہاڑ کتنے ؟ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنْہُنَّ جُزْئً ا (پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک حصہ رکھ دے) یعنی ان کے ٹکڑے کر دے اور ان کے اجزاء ان پہاڑوں پر منتشر کر دے۔ جو تیرے سامنے اور تیرے علاقے میں ہیں اور یہ چار پہاڑ تھے یا سات۔ قراءت : جُزُئً ا۔ دونوں ضموں اور ہمزہ کے ساتھ ابوبکر نے پڑھا ہے۔ ثُمَّ ادْعُہُنَّ (پھر ان کو بلائو) یعنی ان کو کہو تم میرے پاس اللہ تعالیٰ کے حکم سے آئو۔ یَاْتِیْنَکَ سَعْیًا (وہ تیرے پاس دوڑتے آئیں گے) یہ موضع حال میں ہے یعنی ساعیات مسرعات فی طیرانہن وہ دوڑنے اور اپنی پرواز میں تیزی کرنے والے ہونگے۔ یا اپنے پائوں پر چلنے میں جلدی کرنے والے ہونگے۔ نکتہ : ان کو اپنی طرف ملانے کا حکم اس لئے دیا تاکہ وہ ان کو پکڑ کر تامل کرسکیں اور ان کی شکلیں اور ہیئت اور اترنا۔ زندہ کرنے کے بعد ان پر ملتبس نہ ہو۔ اور یہ وہم نہ ہو کہ وہ اور ہیں۔ روایت میں ہے کہ ان کو ذبح کا حکم ہوا اور ان کے پر نوچنے اور کاٹنے اور ان کے اجزاء کے متفرق کرنے اور ان کے پروں ٗ خونوں اور گوشتوں کو خلط ملط کرنے کا حکم ہوا اور سروں کو اپنے پاس رکھنے کا۔ پھر حکم ہوا کہ ان کے اجزاء کو پہاڑوں پر رکھیں۔ ہر پہاڑ پر ہر پرندے کا چوتھا حصہ پھر ان کو آواز دینے کا حکم ہوا کہ تعالین باذن اللہ کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آئو۔ پس ہر جزء دوسرے جز کی طرف اڑ کر جانے لگا۔ یہاں تک کہ جسم بن گئے۔ پھر وہ اپنے سروں کے ساتھ آملے۔ اس طرح کہ ہر جثہ اپنے سر کے ساتھ لگ گیا۔ وَاعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ ( اور جان لے کہ بیشک اللہ تعالیٰ زبردست ہیں) یعنی جو وہ ارادہ فرمائے۔ کوئی چیز اس کے سامنے انکار نہیں کرسکتی۔ حَکِیْمٌ (وہ حکمت والے ہیں) ان کاموں میں جن کی وہ تدبیر کرتے ہیں۔ وہی کرتے ہیں جس میں حکمت ہوتی ہے۔ ربط آیت : زندہ کرنے پر اپنی قدرت کے دلائل خوب واضح کردیئے۔ تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ پر آمادہ کیا اور بتلایا کہ جو آدمی اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے اس کو اس خرچ کرنے میں بہت بڑا اجر ہے۔ اور وہ اس کے دینے پر قدرت رکھتا ہے پس فرمایا۔
Ayah 2:261

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے، وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

آیت 261: مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (مثال ان لوگوں کی جو اپنے مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں) یعنی ان کے خرچ کرنے کی مثال۔ یہاں مضاف کا محذوف جاننا ضروری ہے۔ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ (ایک دانے کی مثال ہے) یا ان کی مثال غلہ بونے والے کی ہے۔ انبات کی صورت : اَنـچْـبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنچْبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ (جو سات بالیں اگائے ہر بال میں سو دانے ہوں) اگانے والے اللہ تعالیٰ ہیں۔ دانہ چونکہ ظاہری سبب ہے اس کی طرف اگانے کی نسبت کردی جس طرح زمین اور پانی کی طرف کی جاتی ہے۔ اور سات بالیں اگانے کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسا پودہ نکلے جس سے سات پودے شاخوں کی صورت میں نکلیں۔ کہ ہر شاخ پر ایک سٹہ ہو۔ در حقیقت یہ بال کئی گنا اضافے کی تصویر ہے گویا اس کا بڑھنا دیکھنے والے کی آنکھوں کے سامنے موجود کھڑا ہے اور یہ مثال چنا مکئی میں موجود ہے اور بسا اوقات گندم کا پودہ زر خیز زمین جو غلہ آور ہو اس مقدار تک پہنچ جاتی ہے۔ (اور آج کل تو متوسط زمینوں میں یہ پیداوار بیشمار غلہ جات میں واضح نظر آتی ہے) اس صورت میں یہ تمثیل صحیح ہے اور اگر نہ پائی جائے تو فرض ٗ تقدیر کے طور پر بطور مثال اضافہ کو سمجھانا مقصود ہے۔ جمع کی وجہ : یہاں سنابل کو سنبلات کی بجائے لایا گیا۔ یہ اسی طرح ہے جیسا قروء کو اقراء کی جگہ لانا یعنی یہ جمع کثیر الاستعمال ہے اس لئے لائی گئی۔ احوال پر فیصلہ : وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآئُ (اور اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہے کئی گنا بڑھا دیتے ہیں) یعنی جس کے لئے اتنا بڑھانا چاہتے ہیں بڑھا دیتے ہیں۔ ہر خرچ کرنے والے کے لئے یہ اضافہ نہیں۔ کیونکہ خرچ کرنے والوں کے احوال مختلف ہیں۔ دوسرا قول : سات سو سے زیادہ جن کے لئے چاہتے ہیں بڑھا دیتے ہیں۔ قراءت : شامی (رح) نے یُضَاعِفُ پڑھا۔ اور مکی (رح) نے یُضَعِّفُ ۔ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ (اور اللہ تعالیٰ وسعت والے ہیں) یعنی وسیع فضل و جود والے ہیں۔ عَلِیْمٌ (جاننے والے ہیں) یعنی خرچ کرنے والوں کی نیات کو۔
Ayah 2:262

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال اللہ کے راستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس تیار ہے اور (قیامت کے روز) نہ انکو کچھ خوف ہوگا اور نہ غمگین ہوں گے

آیت 262 : اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَآ اَنْفَقُوْا مَنًّا (وہ لوگ جو اپنے مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ پھر جو کچھ کیا اس کے بعد احسان نہیں دھرتے) ۔ من و ایذاء کی وضاحت : مَنّ یہ ہے کہ جس پر احسان کیا ہو اس پر زیادتی کرے اور اس کو دکھلائے کہ اس نے اس سے بھلائی کی ہے۔ اور اس کی وجہ سے اس پر حق لازم کرے۔ عرب کے لوگ کہا کرتے تھے۔ اذا صنعتم صنیعۃ فانسوہا جب تم کوئی احسان کرو۔ تو اس کو بھلا دو ۔ وَّلَآ اَذًی (اور نہ دکھ دینا) ایذاء یہ ہے کہ احسان کے بدلے اس پر بالادستی ظاہر کرے۔ ثم کے لفظ سے یہاں انفاق اور من و ایذاء چھوڑنے میں فرق ظاہر کرنا مقصود ہے اور یہ کہ من وایذاء کا ترک کرنا انفاق سے بہت بہتر ہے۔ جس طرح استقامت علی الایمان کو دخول ایمان سے۔ اس ارشاد خداوندی کی روشنی میں۔ (ثم استقاموا۔ فصلت۔ 30) بہتر قرار دیا گیا۔ لَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَرَبِّہِمْ (ان کا اجر ان کے رب کے ہاں ہے) یعنی ان کے انفاق کا ثواب خوف و غم کی نفی : وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ (ان پر نہ خوف ہوگا) یعنی اجر کے کم ہوجانے کا وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ (اور نہ وہ غمگین ہونگے) یعنی اجر کے فوت ہوجانے پر یا دوسرا قول : نہ خوف عذاب اور نہ حزن فوت ثواب نکتہ : یہاں لہم اجرہم فرمایا۔ اور بعد والی آیات میں فلہم اجرہم۔ کیونکہ یہاں موصول میں شرط کا معنی نہیں پایا جاتا جبکہ اس جگہ معنی شرط کا متضمن ہے اس لئے فاء جزائیہ لائی گئی۔
Ayah 2:263

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بےادبی ہے) درگزر کرنا بہتر ہے اور خدا بےپرواہ اور بردبار ہے

263 : قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ (اچھی بات) یعنی اچھے انداز سے جواب وَّمَغْفِرَۃٌ(اور بخشش) اور سائل کو معاف کرنا جبکہ اس سے مسئول کو ناگواری ہو۔ دوسرا قول : اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش ملتی ہے اچھے جواب کی بناء پر۔ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَۃٍ یَّتْبَعُہَآاَذًی (وہ بہت بہتر ہے ایسے صدقہ سے جس کے بعد ایذاء پہنچائی جائے قول اگرچہ نکرہ ہے مگر صفت کے ساتھ مخصوص ہونے کی بناء پر اس کا مبتداء بننا صحیح ہے۔ وَاللّٰہُ غَنِیٌّ(اور اللہ تعالیٰ غنی ہیں) اس کو کوئی ضرورت نہیں کسی ایسے خرچ کرنے والے کی جو احسان جتائے اور ایذاء دے۔ (یعنی ایسے منفق سے اس کو نفرت ہے) حَلِیْمٌ (وہ بردبار ہیں) جلدی سزا نہیں دیتے۔ یہ ایسے شخص کے لئے وعید ہے۔ پھر اپنے اس ارشاد سے اس کو مزید مؤکد کردیا : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الذین ٰامنوا لاتبطلوا صدقاتکم بالمن والا ذٰی۔
Ayah 2:264

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

مومنو ! اپنے صدقات (و خیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا جو لوگوں کو دکھاوے کیلیے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

264 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَاتُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَ ذٰی کَالَّذِیْ (اے ایمان والو ! مت باطل کرو اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح) کَالَّذِیْکا کاف مصدر محذوف کی صفت کے طور پر منصوب ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے ابطالا مثل ابطال الذی۔ باطل کرنا اس کے باطل کرنے کی طرح۔ احسان جتلانے کا نقصان : یُنْفِقُ مَالَہٗ رِئَآئَ النَّاسِ وَلَایُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ (جو اپنے مال کو لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا) یعنی نہ باطل کرو اپنے صدقات کا ثواب احسان جتا کر اور دکھ دے کر اس منافق کے باطل کرنے کی طرح جو اپنا مال لوگوں کو دکھلاوے کے لئے خرچ کرتا ہے اور اس انفاق سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا ارادہ نہیں کرتا اور نہ ہی ثواب آخرت کا طالب ہے۔ نحو : رئاء یہ مفعول لہ ہے۔ شاندار مثال : فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْہِ تُرَابٌ (اس کی مثال اس چٹان جیسی ہے جس پر مٹی ہو) اللہ تعالیٰ نے اس کی اور اس کے اس خرچ کی مثال جس سے نفع نہیں اٹھایا جاتا۔ ایک ملائم پتھر سے دی جس پر مٹی ہو۔ فَاَصَابَہٗ وَابِلٌ (پس اس کو موسلادھار بارش پہنچی) وابل موٹے قطرے والی بارش کو کہتے ہیں۔ فَتَرَکَہٗ صَلْدًا (پس اس کو صاف کر کے چھوڑا) یعنی مٹی سے بالکل صاف وہ مٹی جو اس پر پڑی تھی۔ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰی شَیْئٍ مِّمَّا کَسَبُوْا (وہ کسی چیز پر قادر نہ ہونگے۔ جو کچھ انہوں نے کمایا) یعنی وہ اس چیز کا کچھ بھی ثواب نہ پائیں گے۔ جو انہوں نے خرچ کیا۔ دوسرا قول : کاف محل نصب میں ہے حال ہونے کی وجہ سے یعنی تم اپنے صدقات کو باطل نہ کرو۔ اس حال میں کہ تم اس کو مماثل بنانے والے ہو۔ اس شخص کے جو خرچ کرتا ہے (من و ایذاء کے ساتھ) آیت میں لا یقدرون کو لایا گیا۔ کالذی ینفق کے بعد۔ کیونکہ مراد انفاق سے جنس انفاق ہے۔ یا وہ فریق جو خرچ کرتا ہے۔ وَاللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ (اور اللہ تعالیٰ نہیں راہنمائی کرنے والے کافر قوم کی) یعنی جب تک وہ کفر کو اختیار کرنے والے ہیں۔
Ayah 2:265

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کیلیے اور خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو (جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے

آیت 265 … مومن کے انفاق کی مثال : وَمَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمُ ابْتِغَآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَتَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ (ان لوگوں کی حالت جو اپنے مال اللہ تعالیٰ کی رضا مندی چاہنے اور اپنے نفسوں کو ثواب پہنچانے کیلئے خرچ کرتے ہیں یعنی اسلام کی تصدیق اور اپنے دلوں میں جزاء پر یقین کے لئے۔ اس لئے کہ جب مسلمان اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تصدیق اور ثواب پر اس کا ایمان دل کی گہرائی سے ہے اور دل کے اخلاص سے ہے۔ نحو : مِنْ ابتدائے غایت کے لئے ہے یہ مفعول لہ ٗپر معطوف ہے یعنی ابتغآء اور تثبیت کی خاطر۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے خرچہ کی مثال اللہ کے ہاں پاکیزگی میں۔ کَمَثَلِ جَنَّۃٍ (باغ جیسی ہے) بِرَبْوَۃٍ (ٹیلے پر) یعنی بلند جگہ پر۔ بلند جگہ کو مخصوص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ایسی جگہ میں درخت زیادہ پاکیزہ اور عمدہ پھل والے ہوتے ہیں۔ قراءت : عاصم وشامی رحمہما اللہ نے رَبْوَۃ کو راء کے فتحہ کے ساتھ اور بقیہ قراء نے راء کے ضمہ سے پڑھا ہے۔ اَصَابَہَا وَابِلٌ فَـٰـاتَتْ اُکُلَہَا (اس کو بارش پہنچے۔ پس وہ اپنا پھل لائے) ۔ اُکُل کا معنی پھل۔ قراءت : نافع ٗ مکی اور ابو عمرو رحمہم اللہ نے اُکْلَہَا۔ ضمہ ہمزہ کے ساتھ پڑھا۔ ضِعْفَیْنِ (دوگنا) وہ بارش کے سبب دوگنا پھل لائے۔ اس سے پہلے اتنا پھل نہ لاتا تھا۔ مثال کے دو رُخ : فَاِنْ لَّمْ یُصِبْہَا وَابِلٌ فَطَلٌّ (اگر اس کو موسلادھار بارش نہ پہنچے۔ تو ہلکی بارش بھی کافی ہے) ۔ طلّ چھوٹے قطرات والی بارش کافی ہے کیونکہ وہاں کی زمین زرخیز ہے۔ دوسرا قول : ان کی حالت کی مثال اللہ تعالیٰ کے ہاں اس باغ سے ہے جو اونچی جگہ پر ہو اور ان کے تھوڑے اور زیادہ نفقات کی مثال موسلادھار بارش اور پھوار سے ہے۔ جس طرح ان میں سے ہر بارش باغ کے پھل کو کئی گنا کرتی ہے اسی طرح ان کے تھوڑے یا زیادہ خرچہ جات جن سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی طلب کی جائے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پاکیزہ اور اپنے مرتبہ میں بلند ہے اور ان کا مال اللہ تعالیٰ کے ہاں خوب ہوگا۔ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (اور اللہ تعالیٰ جو تم عمل کرتے ہو دیکھنے والا ہے) وہ تمہارے اعمال کثیر ہوں یا قلیل ان کو دیکھتے ہیں۔ تمہاری نیات کو جانتے ہیں۔ کہ ریاء و اخلاص میں سے کیا ہے۔
Ayah 2:266

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:266 in the Quran reader

بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کو باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہو بگولا چلے اور وہ جل (کر راکھ کا ڈھیر ہو) جائے ؟ اس طرح خدا تم سے اپنی آئتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو

آیت 266 : اَیَوَدُّ اَحَدُکُمْ (کیا چاہتا ہے تم میں سے کوئی ایک) ہمزہ انکار کے لئے ہے۔ اَنْ تَکُوْنَ لَہٗ جَنَّۃ ٌ(کہ اس کے پاس باغ ہو) جنت کا معنی باغ ہے۔ مِّنْ نَّخِیْلِ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ لَہٗ (کھجور اور انگوروں کا جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں) لہ میں ہٗ ضمیر باغ والے کی طرف لوٹتی ہے۔ فِیْہَا (اس میں) ہَاء کی ضمیر جنت کی طرف لوٹتی ہے یعنی باغ میں۔ ثمرات کی مراد : مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ (ہر قسم کے پھل ہوں) مراد ثمرات سے وہ منافع ہیں۔ جو باغ سے اس کو حاصل ہوتے ہیں۔ دوسرا قول : کھجور اور انگور جب درختوں میں عمدہ اور منافع میں برتر ہیں۔ اسی لئے تمام پھلوں میں انکا تذکرہ فرمایا اور باغ ہی انہی کا قرار دیا۔ اگرچہ وہ دوسرے درختوں پر بھی مشتمل تھا۔ گویا ان کو تمام درختوں پر غلبہ دیا۔ پھر ان کے پیچھے تمام پھلوں کا تذکرہ کیا۔ ریا کار کی مثال : وَاَصَابَہُ الْکِبَرُ (اور اس کو بڑھاپا آلے) یہ حال کے لئے ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس باغ ہو اور ادھر اس کو بڑھاپا آلے۔ (گویا بڑھاپے کے رزق کا ایک ہی سہارا ہو) وَلَہٗ ذُرِّیَّۃٌ ضُعَفَآئُ (اور اس کی اولاد ہو کمزور) ضعفاء سے مراد چھوٹے بچے۔ : یہ بھی جملہ حالیہ ہے اور اصابہ کی ضمیر ہاء سے حال ہے۔ فَاَصَابَہَآ اِعْصَارٌ (پھر اس کو ایسی آندھی پہنچے) اعصار کا معنی بگولا ہے جو زمین میں گول ستون کی شکل میں بھاگتا نظر آتا ہے۔ فِیْہِ (اس میں) یعنی اس بگولے میں آگ ہو اور وہ آگ بلند ہو۔ نَارٌ (آگ) ظرف کے ساتھ اور ظرف اعصار کا وصف ہے یعنی ایسا بگولہ کہ جس میں آگ ہو۔ فَاحْتَرَقَتْ (پس وہ باغ جل جائے) یہ اس آدمی کی مثال ہے جو اعمال ریاکاری کی خاطر کرتا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ ان اعمال کو ضبط شدہ پائے گا۔ پس اس وقت وہ اسی طرح حسرت و افسوس کرے گا۔ جس طرح یہ باغ والا جس کا باغ تمام اقسام و انواع کے پھلوں پر مشتمل تھا اور یہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا۔ اور اس کی اولاد کم عمر ہو۔ حالانکہ باغ پر اس کی معیشت کا دارو مدار ہو پس ادھر وہ باغ بگولے سے جل اٹھا۔ کَذٰلِکَ (اس بیان کی طرح) جو ابھی ہوچکا۔ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ (اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنے نشانات توحید و دین بیان کرتے ہیں) لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ (تاکہ تم سوچ و بچار کر کے اور متنبہ ہوجائو)
Ayah 2:267

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

مومنو ! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہو اور وہ چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سے نکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو اور جان رکھو کہ خدا بےپرواہ (اور) قابل ستائش ہے

آیت 267 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ ۔ (اے ایمان والو ! تم اپنی پاکیزہ کمائی میں سے خرچ کرو) طیبات سے مراد عمدہ کمائی۔ مالِ تجارت میں زکوٰۃ : فائدہ : اس میں دلیل ہے کہ اموال تجارت میں زکوٰۃ لازم ہے۔ وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ (اور اس میں سے جو ہم تمہارے لئے زمین میں سے نکالیں) یعنی غلہ جات ٗ پھل ٗ معدنیات وغیرہ۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ من طیبات ما اخرجنا لکم۔ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمہارے لئے نکالی ہیں۔ البتہ طیبات کے ذکر پر اکتفا کرتے ہوئے اس کو چھوڑ دیا۔ وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ (اور قصد نہ کرو ردی مال کا) یعنی ردی مال کا قصد بھی نہ کرو۔ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ (کہ اس میں سے تم خرچ کرو) یعنی اس کو انفاق کے ساتھ خاص کرلو۔ یہ جملہ محل حال میں ہے کہ نہ قصد کرو خبیث مال کا اس حال میں کہ تم خرچ کرنے والے ہو یعنی تم خرچے کو طے کرنے والے ہو۔ وَلَسْتُمْ بِاٰخِذِیْہِ (حالانکہ تم اس کو لینے والے نہیں ہو) یعنی تمہارا اپنا حال یہ ہے کہ تم اپنے حقوق میں اس کو لینے کے لئے تیار نہیں ہو۔ غمض کا مطلب : اِلَّآ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہِ (مگر یہ کہ تم چشم پوشی کرو اس میں) یعنی مگر یہ کہ تم اس کے لینے میں تسامح سے کام لو اور رخصت پر عمل پیرا ہو جیسے عرب کہتے ہیں۔ اغمض فلان عن بعض حقہ۔ کہ فلاں نے اپنے بعض حق سے چشم پوشی کی۔ اور بائع کو کہا جاتا ہے۔ اغمض ای لا تنقص کانک لاتبصر۔ روایت ِسیّدنا ابن عباس۔ : حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ وہ لوگ ردی کھجور اور سوکھی کھجوریں صدقہ کردیا کرتے تھے۔ ان کو اس سے روک دیا گیا۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ(کہ تم یقین کرلو۔ بیشک اللہ تعالیٰ بےنیاز ہیں) یعنی تمہارے صدقات سے۔ حَمِیْدٌ (تعریف والے ہیں) یعنی حمد کے حقدار یا محمود ہیں۔
Ayah 2:268

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader

(اور دیکھنا) شیطان (کا کہا نہ ماننا وہی) تمہیں تنگدستی کا خوف دلاتا اور بےحیائی کے کام کرنے کو کہتا ہے اور خدا تم سے اپنی بخشش اور رحمت کا وعدہ کرتا ہے اور خدا بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

آیت 268 : اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُکُمُ (شیطان تم سے وعدہ کرتا ہے) یعنی انفاق کے متعلق الْفَقْرَ (تنگ دستی کا) یعنی تمہیں کہتا ہے کہ تمہارے انفاق کا انجام یہ ہے کہ تم فقیر ہوجائو گے۔ اَلْوَعْدُ ۔ وعد کا لفظ خیر و شر میں استعمال ہوتا ہے۔ وَیَاْمُرُکُمْ بِالْفَحْشَآئِ (وہ تمہیں بےحیائی کا حکم دیتا ہے) یعنی تمہیں بےحیائی کا حکم دیتا ہے اور تمہیں بخل پر آمادہ کرتا ہے اور صدقات سے روکتا ہے۔ اغراء کسی مامور کو حکم دینا۔ الفاحش۔ عرب بخیل کو کہتے ہیں۔ وَاللّٰہُ یَعِدُکُمْ (اللہ تعالیٰ تم سے وعدہ کرتے ہیں) یعنی انفاق میں۔ مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ (مغفرت کا اپنی طرف سے) یعنی تمہارے گناہوں کی مغفرت کا اور گناہوں کے کفارے کا ( وعدہ دیتے ہیں) وَفَضْلًا (اور فضل کا) یعنی اس بات کا کہ وہ تم پر نائب بنادیں گے اس سے زیادہ افضل جو تم نے خرچ کیا ہے۔ یا آخرت میں ثواب دیں گے۔ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ (اور اللہ وسعت والا ہے) وہ وسعت کرتا ہے جس پر چاہتا ہے۔ عَلِیْمٌ (علم والے ہیں) یعنی تمہارے افعال و نیات کو پہچانتے ہیں۔
Ayah 2:269

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

وہ جس کو چاہتا ہے دانائی بخشتا ہے اور جس کو دانائی ملی بیشک اس کو بڑی نعمت ملی اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں

آیت 269 : یُؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآئُ (وہ حکمت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے) حکمت سے مراد علم قرآن و سنت ہے یا علم نافع جو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی تک پہنچانے والا ہے اور اس پر عمل کرنے تک پہنچانے والا ہے۔ حکیم۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہے جو کہ عالم عامل ہو۔ وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ (جس کو حکمت ملی) اسے یعقوب نے مَنْ یُّؤْتِ پڑھا ہے۔ یعنی جس کو اللہ تعالیٰ حکمت دیتا ہے۔ فائدئہ تنوین : فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا (اس کو بہت سی بھلائی دی گئی) خَیْرًا کَثِیْرًا میں تنوین تنکیر تعظیم کو ظاہر کرتی ہے۔ یعنی اس کو بہت سی بھلائی دی گئی۔ وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ (اور نہیں نصیحت حاصل کرتے مگر عقل والے) یعنی اللہ تعالیٰ کی ان مواعظ سے سلیم العقل ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ یا علماء عاملین۔ مقصد آیت کا یہ ہے کہ انفاق پر عمل کرنے کے لئے آمادہ کیا گیا ہے۔
Ayah 2:270

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

اور تم (خدا کی راہ) میں جس طرح کا خرچ کرو یا کوئی نذر مانو خدا اسکو جانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے

آیت 270 : وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَۃٍ (جو تم خرچ کرتے ہو کسی طرح کا خرچ) یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں یا شیطان کی راہ میں۔ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ (یا تم نذر مانتے ہو) یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی خاطر یا معصیت کی خاطر۔ فَاِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُہٗ (پس اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں) یعنی اس پر کچھ بھی مخفی نہیں اور وہ اس پر تمہیں بدلہ دے گا۔ ظالم سے مراد کون ؟ وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ (اور ظالموں کا نہیں) ظالم سے مراد وہ لوگ ہیں جو صدقات سے باز رہتے ہیں۔ یا اپنے مال گناہوں کے راستہ میں خرچ کرتے ہیں۔ یا گناہوں کی نذر مانتے ہیں۔ یا نذر مان کر پوری نہیں کرتے۔ مِنْ اَنْصَارٍ (کوئی مددگار) یعنی جو ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے چھڑا سکے۔ اور اس کے عذاب سے محفوظ کرسکے۔
Ayah 2:271

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اسطرح) کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کردے گا اور خدا کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے

آیت 271 : اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّاہِیَ (اور اگر تم صدقات کو ظاہر کرو تو وہ بہت خوب ہے) پس اس کا اظہار بہت خوب ہے۔ نعمّا کا ماؔ نکرہ ہے لیکن نہ موصولہ اور نہ موصوفہ اور مخصوص بالمدح ہِیَ ہے قراءت : ابوعمرو اور مدنی نے نعِمّا کو نون کے کسرہ اور سکون عین کے ساتھ نِعْمَا۔ مگر ورش نے نِعَمَا پڑھا ہے۔ دوسرے قراء نے نِعَمَّا عین کے فتحہ اور میم کی تشدید کے ساتھ پڑھا۔ وَاِنْ تُخْفُوْہَا وَتُؤْتُوْہَا الْفُقَرَآئَ (اگر تم اس کو چھپائو اور فقراء کو دو ) یعنی تم ان اموال کو اخفاء کے ساتھ مصارف تک پہنچانے والے ہو۔ فَہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ (پس وہ بہت بہتر ہے تمہارے لئے) یعنی اخفاء تمہارے لئے بہتر ہے۔ ارشادِ مفسرین۔ : مفسرین رحمہم اللہ نے فرمایا۔ مراد اس سے صدقات نفلیہ ہیں اور فرائض میں ظاہر کر کے دینا افضل ہے تاکہ اس پر الزام نہ لگے۔ کہ یہ فرائض ادا نہیں کرتا۔ بلکہ اگر زکوٰۃ دینے والا ایسے لوگوں میں سے ہو جو خوش حال مشہور نہیں ہیں۔ تو اس کا اخفاء افضل ہے اور نفلی صدقہ کرنے والا اگر یہ ارادہ کرے کہ لوگ اس کی اتباع کریں تو اس کا اظہار افضل ہے۔ وَیُکَفِّرُ (وہ مٹاتا ہے) اختلافِ قراءت : (نُکَفِّرْ مدنی ٗ حمزہ اور علی رحمہم اللہ اور یُکَفِّرُ راء کا رفع دے کر شامی ‘ حفص نے پڑھا اور دیگر قراء نے نُکَفِّرُ ۔ نون اور رفع کے ساتھ پڑھا۔ جنہوں نے جزم دی انہوں نے محل فاء اور اس کے مابعد پر عطف کیا ہے۔ کیونکہ وہ جواب شرط ہے۔ جنہوں نے رفع دیا۔ تو انہوں نے جملہ مستانفہ بنایا ہے اور یاء کی صورت میں معنی یکفراللّٰہ یعنی اللہ بخش دیں گے۔ عَنْکُمْ مِّنْ سَیِّـٰاتِکُمْ (تم سے تمہاری برائیاں) یعنی تم سے تمہاری برائیاں۔ اور نون کی صورت میں معنی یہ ہوگا۔ ہم مٹا دیں گے تمہاری برائیاں تم سے۔ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال خواہ وہ اظہار کی صورت میں ہوں یا اخفاء کی شکل میں) خَبِیْرٌ (خبر رکھنے والے ہیں) یعنی ہر چیز اس کے علم میں ہے۔
Ayah 2:272

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے اور (مومنو ! ) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں کو ہے اور تم تو جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لے کرو گے اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا

آیت 272 … ہدایت ذمہ نہ ہونے کا مطلب : لَـیْسَ عَلَیْکَ ہُدٰہُمْ (تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں) یعنی تمہارے ذمہ لازم نہیں کہ تم ان کو انتہاء تک پہنچانے والے ہو ان چیزوں میں جن سے ان کو منع کیا گیا۔ یعنی مَنّایذاء اور انفاق مال خبیث وغیرہ۔ آپ کے ذمہ صرف ممنوعات کی ممانعت بتلا دینا ہے۔ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ (لیکن اللہ تعالیٰ جس کی چاہتے ہیں راہنمائی فرماتے ہیں) دوسرا قول : آپ کے ذمہ توفیق ہدایت نہیں یا ہدایت کا پیدا کرنا نہیں۔ بیشک یہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ (اور جو تم مال میں سے خرچ کرو۔ ) فَلِاَنْفُسِکُمْ (پس وہ تمہارے اپنے نفسوں کے لئے ہے) یعنی اس کا فائدہ تمہارے علاوہ اور کسی کو نہ پہنچے گا پس تم ان کا احسان لوگوں پر مت جتلائو۔ اور نہ ہی ظلم سے ان کو ایذاء دو ۔ وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلاَّ ابْتِغَآئَ وَجْہِ اللّٰہِ (اور تم خرچ نہیں کرتے۔ مگر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی تلاش کرنے کے لئے) یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا اور جو کچھ اس کے ہاں ہے اس کو چاہنے کے لئے تم خرچ کرو۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم احسان جتلاتے ہو۔ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْکُمْ (اور جو تم مال میں سے خرچ کرو گے۔ وہ تمہیں لوٹا دیا جائے گا) یعنی اس کا ثواب کئی گنا بڑھا کر۔ پس تمہارے پاس اس کے خرچ کرنے سے اعراض کرنے کا کوئی عذر نہیں۔ اور وہ مال بہترین و خوب تر انداز سے ہونا چاہیے۔ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ ( اور تم پر ظلم نہ کیا جائیگا) یعنی تمہارے حق میں کمی نہ کی جائے گی۔ جیسا کہ سورة کہف آیت نمبر 33 ولم تظلم منہ شیئًا۔ اور اس میں سے کوئی چیز کم نہ ہوئی تھی۔
Ayah 2:273

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

(اور ہاں تم جو خرچ کرو گے) تو ان حاجتمندوں کے لئے جو خدا کی راہ میں رکے بیٹھے ہیں اور ملک میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے (اور مانگنے سے عار رکھتے ہیں) یہاں تک کہ نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے اور تم قیافے سے ان کو صاف پہچان لو (کہ حاجتمند ہیں اور شرم کے سبب) لوگوں سے (منہ پھوڑ کر اور) لپٹ کر نہیں مانگ سکتے اور تم جو مال خرچ کرو گے کچھ شک نہیں کہ خدا اس کو جانتا ہے

آیت 273 : لِلْفُقَرَآئِ… اصحاب صفہ کی جماعت : لِلْفُقَرَآئِ : (صدقات فقاء کیلئے ہیں) : للفقراء میں لام جارہ محذوف کے متعلق ہے ای اعمدوا للفقرائِ تم فقراء کا قصد کرو۔ یا مبتدائے محذوف ہذہ الصدقات کی یہ خبر ہے۔ مطلب یہ ہوا یہ صدقات ان فقراء کے لئے ہیں۔ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (جو روک دیئے گئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں) اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو جہاد نے روک دیا اور یہ کہ وہ کام کاج نہیں کرسکتے۔ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ (وہ طاقت نہیں رکھتے) یعنی اس میں مشغولیت کی وجہ سے ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ (زمین میں آجا نہیں سکتے) یعنی کمائی کے لئے۔ دوسرا قول : یہ اصحاب صفہ ہیں۔ یہ مہاجرین قریش میں سے چار سو آدمی تھے۔ مدینہ میں ان کے مکانات نہ تھے۔ اور نہ ان کا قبیلہ و خاندان۔ یہ مسجد کے چبوترے میں قیام پذیر تھے۔ یہ وہی چھپر ہے جس کے نیچے وہ رات کو قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے۔ اور دن کو کھجور کی گٹھلیاں کوٹتے اور ہر سریہ میں نکلتے جن کو کسی طرف رسول اللہ ﷺ روانہ فرماتے۔ پس جن کے پاس زائد کھانا ہوتا وہ لا کر ان کو پیش کرتے۔ یَحْسَبُہُمُ الْجَاہِلُ (گمان کرتے ان کو جاہل) یعنی ان کی حالت کی وجہ سے قراءت : شامی ٗ یزید ٗ حمزہ ٗ عاصم نے یحسَبُ سین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ باقی قراء نے یَحْسِبُ کسرئہ سین کے ساتھ پڑھا۔ اَغْنِیَآئَ مِنَ التَّعَفُّفِ (غنی سوال سے بچنے کی وجہ سے) یعنی انکو غنی گمان کرنے والے ہیں۔ اسلئے کہ وہ سوال سے بچنے والے ہیں۔ تَعْرِفُہُمْ بِسِیْمٰہُمْ (تم انکو پہچانو گے انکی نشانیوں سے) یعنی بھوک کی وجہ سے چہرے کی زردی اور حالت کی پراگندگی سے۔ اصرارِ سوال کی مذمت : لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا (وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے) الحاف کا معنی اصرار کرنا، لئے بغیر نہ چھوڑنا۔ کہا گیا ہے کہ اس میں سوال اور اصرار سوال دونوں کی ممانعت ہے۔ جیساشاعر کا قول۔ علی لاحِبٍ لا یہتدی بمنارہ۔ اس میں منار اور اہتدٰی دونوں کی نفی ہے۔ الحاح لازم پکڑنا۔ اس وقت تک جدا نہ ہونا جب تک کوئی چیز دی نہ جائے۔ حدیث میں وارد ہے بیشک اللہ تعالیٰ حیا دار حوصلہ مند ‘ سوال سے بچنے والے کو پسند کرتے ہیں اور بےحیاء تیز مزاج ٗ لپٹ جانے والے کو ناپسند کرتے ہیں۔ دوسرا قول : اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اگر سوال کریں تو نرمی سے سوال کرتے ہیں اور اس کے لئے اصرار نہیں کرتے۔ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ (اور جو تم خرچ کرو۔ پس اللہ تعالیٰ اس کو جاننے والے ہیں) یعنی اس کو اپنے ہاں ضائع نہیں فرمائیں گے۔
Ayah 2:274

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال رات اور دن اور پوشیدہ اور ظاہر راہ خدا میں خرچ کرتے رہتے ہیں ان کا صلہ پروردگار کے پاس ہے اور ان کو (قیامت کی دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ غم

آیت 274 … راہ الٰہی میں خرچ کے حریص : اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّہَارِسِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً (وہ لوگ جو اپنا مال رات دن ٗ پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں) نحو : سرا و علانیہ۔ یہ دونوں حال ہیں۔ ای مسرین و معلنین۔ مطلب یہ ہوا۔ بھلائی میں بہت زیادہ حرص کی بناء پر صدقہ عمومی اوقات میں کرتے ہیں۔ جونہی ان کو کسی محتاج کی محتاجی معلوم ہوئی تو اس کے پورا کرنے میں جلدی کرتے ہیں۔ اور اس کو مؤخر نہیں ہونے دیتے۔ کسی وقت و حالت کا بہانہ نہیں بناتے۔ ایک قول : یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں یہ آیت اتری۔ جب انہوں نے چالیس دینار خرچ کیے۔ دس رات کو دس دن کو دس پوشیدہ اور دس علانیہ۔ ایک قول کے مطابق یہ حضرت علی ؓ کے بارے میں اتری۔ جبکہ وہ کل چار درہم کے مالک تھے۔ ان میں سے ایک درہم رات کو ایک دن کو ایک پوشیدہ اور ایک درہم علانیہ دیا۔ فَلَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ (ان کی مزدوری ان کے رب کے ہاں ہے نہ ان پر خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہونگے)
Ayah 2:275

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:275 in the Quran reader

جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنادیا ہو یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ سود بیچنا بھی (نفع کے لحاظ سے) ویسا ہی ہے جیسے سود (لینا) حالانکہ سودے کو خدا نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام تو جس کے پاس خدا کی نصیحت پہنچی اور وہ (سود لینے سے) باز آگیا تو جو پہلے ہوچکا وہ اس کا اور (قیامت میں) اس کا معاملہ خدا کے سپرد اور جو پھر لینے لگے گا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں کہ ہمیشہ دوزخ میں جلتے رہیں گے

275 : اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبٰوا (وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں) ربوٰا۔ وہ اضافہ جو عوض سے خالی ہو۔ جبکہ مال کا مال سے معاوضہ دیا جائے۔ الربٰوا۔ الصلوٰۃ اور الزکوٰۃ کی طرح وائو کے ساتھ ان لوگوں کے نزدیک لکھا جاتا ہے جو اس کو پر کر کے پڑھتے ہیں اور الربٰوا میں وائو کی کتابت میں وائو کے بعد الف بھی لکھا جاتا ہے کیونکہ یہ وائو جمع کے مشابہ ہے۔ لَا یَقُوْمُوْنَ (وہ نہ کھڑے ہونگے) یعنی جب وہ قبور سے اٹھائے جائیں گے۔ مجنون و خبطی کی مثال : اِلاَّ کَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ (مگر جس طرح کہ وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جس کو چھوکر شیطان نے دکھ پہنچا دیا ہو) یعنی جنون زدہ کیونکہ وہ سود خور معاملے میں ٹامک ٹوئیاں مارتا ہے اس لئے اس کو سزا تقابل کے طور پر دی گئی۔ الخبط۔ زور سے مارنا۔ جیسے اندھی اونٹنی کا ٹیڑھا چلنا۔ مِنَ الْمَسِّ (چھوکر) یعنی جنون کی وجہ سے نحوی نکات : نحو : من المس یہ لایقومون سے متعلق ہے ای لایقومون من المس الذی بہم الا کما یقوم المصروع یعنی وہ اس چھونے سے کھڑے نہ ہونگے جس کا ان پر اثر ہے مگر اس طرح جیسے مجنون کھڑا ہوتا ہے۔ یا دوسرا قول : یہ یقوم سے متعلق ہے جیسا کہ مجنون اپنے جنون سے کھڑا ہوتا ہے۔ نمبر 1۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ قیامت کے دن مجنونوں کی طرح مخبوط الحواس کھڑے ہونگے یہ موقف حساب میں قیامت کے دن ان کی علامت ہے۔ نمبر 2 دوسرا قول : جو قبور سے سیدھے نکل کر محشر کی طرف جائیں گے سوائے سود خوروں کے کہ وہ گرتے پڑتے چلیں گے۔ جیسے مجنون چلتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے سود کھایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کے پیٹوں میں بڑھا کر بوجھل کردیا۔ جس سے وہ سیدھے اٹھ کر چلنے کی قدرت سے محروم کردیئے گئے ذٰلِکَ (یہ) یعنی سزا۔ بِاَنَّہُمْ (اس سبب سے ) قَالُوْٓا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا (کہ انہوں نے کہا بیشک بیع سود کی طرح ہے) رباء سے محبت کا حال : اعتراض : اس طرح نہیں کہا کہ ربا بیع کی طرح ہے۔ باوجودیکہ گفتگو ربا کے سلسلہ میں ہے بیع کے متعلق نہیں۔ جواب : یہ کلام مبالغہ کے انداز سے لایا گیا اور وہ اس طرح کہ ربا کے حلال ہونے میں ان کا اعتقاد اس حد تک پہنچ چکا۔ کہ انہوں نے ربا کو اصل اور حلال ہونے میں بطور قانونی چیز کے پیش کیا۔ حتّٰی کہ بیع سے اس کو تشبیہ دے کر پیش کیا۔ باطل قیاس کا رَد : وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا (حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال کیا اور ربٰوا کو حرام کیا۔ اس میں ان کے برابر قرار دینے کی تردید کی گئی۔ کہ حلت و حرمت دو مخالف ضدیں ہیں یہ ایک دوسرے کے مماثل کیسے ہوسکتے ہیں ؟ مسئلہ : نص سے قیاس منہدم ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے قیاس کو باطل کرنے کے لئے بیع کا حلال کرنا اور سود کا حرام کرنا بطور دلیل ذکر کیا۔ فَمَنْ جَآئَ ہٗ مَوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ (پس جس شخص کے پاس نصیحت اس کے رب کی طرف سے آجائے) یعنی جس کو اللہ تعالیٰ کی نصیحت اور ربا کی ممانعت والی تنبیہ پہنچ گئی۔ فَانْتَہٰی (پس وہ باز آگیا) اور ممانعت کو مان لیا اور سود چھوڑ دیا۔ فَلَہٗ مَاسَلَفَ (پس اس کیلئے ہے جو وہ لے چکا) یعنی اس سے گزشتہ کا مؤاخذہ نہ ہوگا۔ کیونکہ اس نے نزول حرمت سے پہلے لیا۔ وَاَمْرُہٓٗ اِلَی اللّٰہِ (اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے) یعنی اللہ تعالیٰ اس کے متعلق قیامت کے دن فیصلہ فرمائیں گے تمہارا اس کے معاملہ سے اب کچھ تعلق نہیں۔ تم اس سے مت مطالبہ کرو۔ وَمَنْ عَادَ (جو سود خوری کی طرف لوٹا) یعنی سود کو حلال قرار دینے کی طرف یہ زجاج (رح) کا قول ہے۔ یا ربا کی طرف لوٹا اس حال میں کہ اس کو حلال قرار دینے والا ہے۔ حرام کو حلال ماننا کفر ہے : فَاُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ النَّارِہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ (وہ جہنم والے ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے) اس لئے کہ سود کو حلال قرار دینے کی وجہ سے کافر ہوگئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیز کو حلال کرنے والا کافر ہے اسی وجہ سے جہنم میں ہمیشگی کا حق دار بن گیا۔ فائدہ : اس تفسیر سے ثابت ہوا کہ فاسق کے خلود فی النار والے مسئلے سے آیت کا کوئی تعلق نہیں وہ معتزلہ کی اپنی اختراع ہے۔
Ayah 2:276

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ Open ayah 2:276 in the Quran reader

خدا سود کو نابود (یعنی بےبرکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے اور خدا کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا

آیت 276 : یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا (اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتے ہیں) یعنی اس کی برکت کو دور کردیتے ہیں۔ اور اس مال کو تلف کردیتے ہیں جس میں سود شامل ہوجائے۔ وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ (اور صدقات کو بڑھاتے ہیں) یعنی اضافہ کرتے اور بڑھاتے ہیں اس مال میں اضافہ کرتے ہیں جس سے صدقہ نکالا جائے اور اس میں برکت دیتے ہیں۔ حدیث میں وارد ہے زکوٰۃ مال میں کمی نہیں کرتی۔ (مسلم) وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ (اللہ تعالیٰ کسی کافر کو پسند نہیں کرتے) کفار بڑا کافر اس لئے کہ اس نے ربا کو حلال قرار دیا۔ اَثِیْمٍ (گنہگار یعنی سود کھا کر گناہ پر اڑنے والا)
Ayah 2:277

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:277 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہے ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

آیت 277 : اِنَّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ ٰاتَوُا الزَّکٰوۃَ لَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ (بےشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہونگے) ۔ ایک قول : یہ ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ربا کی حرمت پر ایمان لائے۔
Ayah 2:278

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو

278 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰٓوا۔ (اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ربٰوا میں سے جو باقی ہے اس کو چھوڑ دو ) ۔ انہوں نے لوگوں پر جو ربا کی شرط لگائی تھی وہ لے لیا۔ اور ابھی ان کے بقایا جات لوگوں کے ذمہ باقی تھے۔ پس ان کو حکم دیا گیا۔ کہ وہ اس کو چھوڑ دیں اور اس کا مطالبہ نہ کریں۔ روایت میں ہے کہ یہ بنو ثقیف کے متعلق اتری۔ ان کے بعض قبائل کا قریش کے ذمہ سود تھا۔ انہوں نے وقت آنے پر مال کے ساتھ سود کا مطالبہ کیا۔ (تو ان کو حکم دیا گیا کہ سود کو چھوڑ دیا جائے) اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (اگر تم کامل الایمان ہو) ایمان کے کمال کی دلیل حکم کو پورے طور پر مان لینا ہے۔
Ayah 2:279

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود کو چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کو نقصان اور نہ تمہارا نقصان

279۔ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان ہے) یعنی تم آگاہ ہوجائو اذنوا یہ اذن بالشیٔ سے لیا گیا۔ جب کہ اس کو جان لے۔ قراءت : حسن (رح) کی قراءت اس معنی کی تائید کرتی ہے انہوں نے فَأَیْقِنُوْا پڑھا ہے۔ حمزہ ٗ ابوبکر رحمہما اللہ نے فَاٰذِنُوْا بروزن آمِنُوْا پڑھا ہے۔ بقیہ قراء نے فَاذَنُوْا پڑھا ہے۔ ایک سوال : اعتراض : یہاں فاْذنوا بحرب من اللہ ورسولہ فرمایا۔ بحرب اللہ ورسولہ نہیں فرمایا۔ جواب : کیونکہ یہ انداز کلام زیادہ بلیغ ہے اس لئے کہ اس کا معنی پس تم تیار ہوجائو اس قسم کی لڑائی کے لئے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے ہاں بہت بڑی ہے۔ روایت میں وارد ہے کہ جب یہ آیت اتری۔ تو ثقیف والے کہنے لگے ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے مقابلہ کی تاب نہیں لاسکتے (پس سرتسلیم خم کرتے ہیں) وَاِنْ تُبْتُمْ (اور اگر تم توبہ کرلو) یعنی سود خوری سے فَلَکُمْ رُئُ وْسُ اَمْوَالِکُمْ لَا تَظْلِمُوْنَ (پس تمہارے لئے اصل مال ہیں نہ تم ظلم کرو۔ یعنی اپنے قرض پر اضافہ لے کر وَلَا تُظْلِمُوْنَ (اور نہ تم پر ظلم ہوگا) ۔ یعنی اصل کو کم کر کے۔
Ayah 2:280

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

اور اگر قرض لینے والا تنگدست ہو تو (اسے) کشائش (کے حاصل ہونے) تک مہلت (دو ) اور اگر (زر قرض) بخش ہی دو تو تمہارے لئے زیادہ اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو

آیت 280 : وَاِنْ کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ (اگر وہ تنگدست ہے) یعنی اگر تمہارے مقروض مفلوک الحال اور تنگدست ہیں۔ فَنَظِرَۃٌ(پس مہلت دینا ہے) ۔ پس حکم یا امر مہلت دینے کا ہے۔ اول صورت کا معنی یہ ہے۔ فراخ دستی تک انتظار کا حکم ہے۔ دوسری صورت کا معنی پس فراخ دستی تک انتظار لازم ہے۔ اِلٰی مَیْسَرَۃٍ (آسانی آنے تک) قراءت : نافع نے مَیْسُرَۃٍ سین کے ضمہ سے پڑھا دیگر قراء نے سین کے فتحہ کے ساتھ میسرہ پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغات ہیں۔ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا (اور یہ بات کہ تم صدقہ دو ) عاصم نے تَصْدَقُوا تخفیف کے ساتھ اپنے اصل اموال یا بعض اموال کو اپنے قرض داروں میں سے زیادہ تنگدستوں کو دے دو ۔ دوسرے قراء نے تَصَدَّقُوْا۔ تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ تم دوسروں کو صدقہ دو ۔ تخفیف میں ایک تاحذف ہے اور تشدید میں ادغام ہے۔ خَیْرٌ لَّکُمْ (تمہارے لئے بہتر ہے) یعنی قیامت کے دن۔ ایک قول یہ ہے کہ تصدق سے مراد مہلت دینا ہی ہے۔ اس لئے کہ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ لایحل دین رجلٍ مسلم فیؤخرہ الاکان لَہٗ بکل یوم صدقۃ۔ (ابن ماجہ) کسی مسلمان کو قرض کا مؤخر کرنا درست نہیں۔ مگر یہ کہ ہر دن کے بدلے میں (اتنے مال کے) صدقہ کا ثواب ملے گا۔ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ (اگر تم جانتے ہو) کہ وہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے۔ پس تم اس پر عمل کرو گویا بےعمل کو علم کے باوجود بےعلم قرار دیا۔
Ayah 2:281

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جبکہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا اور کسی کا کچھ نقصان نہ ہوگا

آیت 281 : وَاتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ اِلَی اللّٰہِ ۔ (اس دن سے ڈرو جس دن میں تم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹا دیئے جائو گے) ۔ قراءت : ابوعمرو نے تَرْجِعُوْنَ پڑھا ہے۔ رجع لازم و متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ آخری آیت : کہا گیا کہ یہ آخری آیت ہے۔ جس کو جبرائیل ( علیہ السلام) لائے اور کہا۔ اس کو سورة بقرہ کی آیت نمبر 280 کے بعد رکھ دو اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اکیس دن بقید حیات رہے۔ یا اکاسی ایام یا سات ایام یا تین ساعات : ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّاکَسَبَتْ (پھر پورا پورا دیا جائے گا۔ ہر نفس کو جو اس نے کمایا) یعنی کمائے ہوئے کا بدلہ۔ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ (اور ان پر ظلم نہ ہوگا) یعنی ان کی نیکیاں کم کر کے اور گناہوں میں اضافہ کر کے۔