Ayah 2:68قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَاھِیَ : (انہوں نے کہا تو پوچھ ہمارے لیے اپنے رب سے کہ وہ بیان فرما دے کہ وہ کیسی ہو) اس میں گائے کی حالت اور صفت کے متعلق سوال ہے۔
ایک سوال و جواب :
سوال : ما سے سوال تو جنس کے متعلق ہوتا ہے پھر اس سے وصف کے متعلق سوال کیونکر ؟
جواب : کبھی کبھی ماؔ کیف کی جگہ آتا ہے۔ اور وہ اس طرح کہ انہوں نے مردہ گائے کے بارے میں تعجب کیا کہ جس کا بعض حصہ مردہ کو لگانے سے مردہ زندہ ہوجائے گا۔ پس انہوں نے اس عجیب حالت والی گائے کے متعلق سوال کیا۔ گویا انہوں نے یہ سمجھا کہ وہ نام گائے کا ہوگا جنس کوئی اور ہوگی اس لیے ماھی سے سوال کیا۔
ترکیب : ھِیَ مبتداء ماؔ اس کی خبر ہے۔
وجہ فارض :
قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لَّا فَارِضٌ : (حضرت موسیٰ نے کہا وہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک گائے ہے نہ بوڑھی) فارض کا معنی۔ بوڑھی۔ اس کو فارض کہنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے عمر کو کاٹا ہے۔ اور اس کی انتہاء کو پہنچ چکی ہے۔
نحو : فارض مرفوع ہے اس لیے کہ یہ بقرہ کی صفت ہے۔
وَّلَابِکْرٌ : (نہ بن بیا ہی) جوان۔ اس پر عطف ہے
عَوَانٌ : (درمیان کی) ۔ نصف عمر والی۔
بَیْنَ ذٰلِکَ : (ان کے درمیان) جو ان اور بوڑھی کے درمیان۔
سوال : لا فارض ولا بکر فرمایا بین ذینک نہیں فرمایا اس کے باوجود کہ بین دو یا دو سے زیادہ کا تقاضا کرتا ہے۔
جواب : کیونکہ مراد بین ھذا المذکور ہے۔ اور وہ اسی عنوان سے یعنی ذٰلک کا مشارالیہ فارض وبکر ہے عمرین متعدد کا تقاضا کرتا ہے۔
قاعدہ : کبھی ضمیر اس میں اسم اشارہ کی جگہ استعمال ہوتی ہے ابو عبیدہ کہتے ہیں میں نے رئو بہ شاعر سے اس قول کے متعلق پوچھا۔
فیھا خطوط من سواد وبلق ٭ کانہ فی الجلد تولیع البھق
اس میں سیاہ وسفید خطوط ہیں۔ گویا کہ چمڑے پر برص کے داغ ہیں۔
ضمیر سے مراد خطوط ہو تو کانھا اور اگر سواد بلق ہو تو کانہما۔ تو اس نے کہا میں نے کانہ سے کان ذاک مراد لیا۔
فَافْعَلُوْامَا تُؤْمَرُوْنَ : (پس تم کرو جس کا تمہیں حکم دیا گیا) یہ اصل میں تو مرون تھا۔ یا مرکم بمعنی مامور ہے مفعول کو مصدر کا نام دے دیا۔ جیسے ضرب الامیر۔ اے مضروبہ
Ayah 2:69قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّـنَا مَالَوْنُھَا : (وہ کہنے لگے ہمارے لیے اپنے رب سے دریافت کرو کہ وہ اچھی طرح سمجھا دے اس کا رنگ)
استفہام و نحو :
ماؔ مرفوع ہے کیونکہ اس کا معنی استفہام کا ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے ادع لناربک یبین لنا ای شیٔ لونھا تو ہمارے لیے اپنے رب سے دریافت کرو کہ وہ اچھی طرح بتادے کہ کیا حقیقت ہے اس کے رنگ کی۔
قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ صَفْرَآئُ فَاقِعٌ لَّوْنُھَا : (حضرت موسیٰ نے فرمایا وہ فرماتے ہیں بیشک وہ گہرے زرد رنگ کی ہو) الفقوع۔ انتہائی زرد۔ فاقع کا لفظ صفراء کی تاکید ہے یہ لونھا کی خبر نہیں۔ مگر اس میں رنگ اتنا ہی بلند ہوا جتنا فاعل بلند ہوا۔ یعنی خوب زرد گائے۔ البتہ اس میں تذکیرو تانیث کا فرق نہیں۔ صفیراء فاقعہ اور صفراء فاقع دونوں درست ہیں۔ لونھا کا لفظ لا کر تاکید کا فائدہ مقصود ہے کیونکہ لون ایک عارضی ہیئت کا نام ہے اور وہ زردی ہے گویا اس طرح فرمایا شدید الصفرۃ صفر تھا کہ بہت زیادہ زرد ہے اس کی زردی اور یہ اس قول کی طرح ہے۔ جدّجدّہ اس نے خوب درخوب کوشش کی۔
سرور کیا ہے ؟
تَسُرُّالنّٰظِرِیْنَ : (دیکھنے والوں کو بھلی لگتی ہو) اپنے رنگ کی خوبصورتی کی وجہ سے۔ السرور۔ نفع یا اس کی توقع کے موقعہ پر دل میں حاصل ہونے والی لذت کو کہتے ہیں۔
نکتہ : حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ من لبس نعلًا صفراء قَلّ ھمّہٗ ۔
جس نے زرد جوتا پہنا اس کا غم کم ہوگیا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تسرالناظرین وہ دیکھنے والے کو خوش کر دے۔ گویا یہ سرور کی علامت ہے۔
Ayah 2:70قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَاھِیَ : (وہ کہنے لگے ہمارے لیے اپنے رب سے پوچھو کہ ہمیں اچھی طرح سمجھا دے کہ وہ کس قسم میں ہے) یہ پہلے سوال کا تکرار ہے جو گائے کی حالت اور صفت کے متعلق مزید انکشاف کیلئے کیا گیا تاکہ اچھی طرح وضاحت ہوجائے۔
نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ اگر وہ کسی بھی گائے کو لے کر ذبح کردیتے تو وہ ان کے لیے کافی ہوجاتی۔ لیکن انہوں نے سختی کی پس اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی کردی۔ (رواہ البزار، وابن ابی حاتم) اور کسی چیز کے پیچھے پڑجانا نحوست ہے۔
اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَیْنَا : (بےشک گائے ہم پر مل جل گئی ہے) بلا شبہ درمیانی عمر اور زرد رنگ گائیں تو بہت ہیں پس ہمیں شبہ پڑگیا ہے۔ (کہ کونسی گائے سے ہمارا مقصد پورا ہوگا)
وَاِنَّآ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ لَمُھْتَدُوْنَ : (اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم راہ پانے والے ہونگے) اللہ نے چاہا تو ہم گائے ذبح کرنے کی طرف راہ پانے والے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم قاتل کے سلسلہ میں راہنمائی پالیں گے
نحو : انشاء اللہ جملہ معترضہ ہے۔ جو اِنّکے اسم وخبر کے درمیان واقع ہے
انشاء اللہ کی برکت :
حدیث میں ہے اگر وہ انشاء اللہ نہ کہتے ابدالآباد تک اس گائے کا پتہ نہ پاتے۔ (ابن جریر بسند معضل)
Ayah 2:71قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ : (کہا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ ایک گائے ہے نہ محنت والی نہ زمین) ذلولیہ بقرہ کی صفت ہے مطلب یہ ہے کہ بقرہ غیر ذلول یعنی محنت اور زمین میں جو تنے کا اسے عادی نہ بنایا ہو۔
وَلاَ تَسْقِی الْحَرْثَ : (اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہو) اور نہ وہ ان پانی کھینچنے والیوں میں سے ہو۔ جن سے کھیتوں کو پانی پلانے کا کام لیا جاتا ہے۔
نحو : پہلا لَا نافیہ اور دوسرا پہلے کی تاکید کے لیے لایا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا۔ کہ نہ اس سے زراعت کا کام لیا جاتا ہو اور نہ کھیتی کو پانی پلایا جاتا ہو۔ اس طرح دونوں فعل ذلول کی صفت ہیں۔ پس مطلب یہ ہوا وہ ہل چلانے اور پانی پلانے کی عادی نہ ہو۔
مُسَلَّمَۃٌ : (بےعیب ہو) وہ عمل کے اثرات اور عیوب سے پاک ہو۔
شیۃ کا مفہوم :
لَّا شِیَۃَ فِیْھَا : (نہ ہو داغ اس میں) دوسرے رنگ کا۔ یعنی اس کے رنگ میں زردی کے سواء دوسرے رنگ کا ایک دھبہ بھی نہ ہو وہ مکمل زردہو یہاں تک کہ اس کے سینگ اور کھر بھی۔
یہ اصل میں وشاہ وشیًا ووشیۃ کہتے ہیں۔ جب اس کے رنگ کے ساتھ دوسرا رنگ ملا ہو۔
قَالُوا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ : (وہ بولے ہاں اب تو لایا ٹھیک بات) وہ کہنے لگے اب تم نے گائے کی پوری تعریف بیان کردی۔ اور اس کے سلسلہ میں کوئی اشکال نہیں رہا۔
قراءت : ابوعمرو کہتے ہیں۔ جِیْتَ اور اس کا باب بلا ہمزہ ہے۔
فَذَبَحُوْھَا : (پس انہوں نے اس کو ذبح کیا) پھر انہوں نے ایسی گائے حاصل کرلی جو ان تمام اوصاف کی جامع تھی۔ پھر اس کو ذبح کیا۔
تفسیر وما کادوا :
وَمَا کَادُوْا یَفْعَلُوْنَ : (اور وہ ایسا کرنے والے نہ تھے) نہ لگتے تھے کہ ایسا کریں گے۔ اس کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے یا قاتل کے ظاہر ہونے پر رسوائی کے خوف سے۔ روایت میں ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک نیک آدمی کے ہاں ایک بچھڑی تھی۔ وہ اس کو درختوں کے جھنڈ میں لایا۔ اور چھوڑ کر کہنے لگا۔ اے اللہ اس کو میں تیری امان میں دیتا ہوں۔ اپنے بیٹے کے بڑا ہونے تک وہ اپنے والدین کے ساتھ احسان کرنے والا تھا۔ پس گائے سلامت رہی۔ وہ سب سے بہترین موٹی گائے تھی۔ پس انہوں نے اس یتیم اور بیوہ کے ساتھ سودا کیا۔ یہاں تک کہ اس کی کھال میں سونا بھر کردینے کے بدلے میں خریدا۔ حالانکہ اس وقت گائے کی قیمت تین دینار ہوتی تھی۔ انہوں نے ان صفات والی گائے کو چالیس سال ڈھونڈا۔
وجود فعل سے پہلے نسخ :
اصل یہ وضاحت مطلق کو مقید کرنے کی قسم سے ہے۔ پس نسخ ہوا اور فعل کے وجود سے قبل نسخ جائز ہے بلکہ اس پر اختیار سے قبل بھی ہمارے ہاں جائز ہے البتہ معتزلہ کا اس میں اختلاف ہے۔
Ayah 2:72وَاِذْقَتَلْتُمْ نَفْسًا : (جب تم نے ایک نفس کو قتل کیا) یہاں بھی اذکروا مقدر ہے۔ جماعت کو مخاطب کیا۔ کیونکہ واقعہ قتل ان میں پیش آیا تھا۔
ٹالنا کیا ہے ؟
فَادّٰرَئْ تُمْ فِیْھَا : (پھر ایک دوسرے پر ٹالنے لگے) پس تم نے اختلاف کیا۔ اور اس کے معاملے میں ایک دوسرے سے جھگڑنے لگے۔ اس لیے کہ دونوں جھگڑنے والے اپنے سے بات کو ہٹا کر دوسرے پر دھرتے ہیں۔ یا تم نے اس کا قتل ایک دوسرے پر ڈالا پس جس پر ڈالا جاتا وہ ڈالنے والے پر ٹالتا یا پھینکنا بذات خود دھکیلنا ہے۔
صرف :
اور اس کا اصل تدارأ تم ہے پھر تخفیف کے لیے تاء کو دال سے بدل کر اس کی جنس سے کردیا۔ جو کہ فاء کلمہ ہے تاکہ ادغام ہوسکے۔ دال کو ساکن کیا۔ اس لیے کہ شرط ادغام پہلے کا ساکن ہونا ہے۔ پھر ہمزہ وصل بڑھایا۔ اس لیے کہ ساکن سے ابتداء ممکن نہیں۔
قراءت : ابوعمرو نے فادّاراتُم بغیرہمزہ پڑھا ہے
وَاللّٰہُ مُخْرِجٌ مَّاکُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ : (اور اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر کرنے والے تھے جو تم چھپاتے تھے)
یعنی ہر صورت ظاہر کرنے والے تھے۔ جو تم قتل کے معاملے میں چھپاتے تھے۔ کہ وہ اس کو چھپانہ رہنے دیں گے۔
نحو : صیغہ اسم فاعل مخرجٌ بمعنی مستقبل ہے۔ کیونکہ کلام کے وقت زمانہ مستقبل کی حکایت کر رہا ہے۔ اس لیے اسے عمل دیا گیا۔ یہ جملہ معترضہ ہے جو معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان واقع ہوا ہے۔ اور وہ فادارأتم اور فقلنا ہے۔
Ayah 2:73اضربوہ کی ضمیر :
فَقُلْنَا اضْرِبُوْہُ : (ہم نے کہا تم مارو اس کو) اضربوہ میں ضمیر نفس کی طرف لوٹتی ہے اور مذکر لائی گئی ہے بتاویل شخص و انسان یا مقتول کی طرف لوٹتی ہے اس لیے کہ آیت ماکنتم تکتمون اسی پر دلالت کرتی ہے۔
بِبَعْضِھَا : (اس کے کسی حصے کے ساتھ) گائے کے ایک ٹکڑے سے اور وہ اس کی زبان تھی یا دائیں ران یادم کی ہڈی اور مطلب یہ ہوا کہ انہوں نے لیکر لگایا تو وہ زندہ ہوگیا۔
کَذٰلِکَ یُحْیِ اللّٰہُ الْمَوْتٰی : (اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرتا ہے)
تفسیر آیت 73:
کَذٰلِکَ یُحْیِ اللّٰہُ الْمَوْتٰی کی اس پر دلالت ہونے کی وجہ سے اس کو حذف کردیا گیا۔ روایت میں ہے کہ جب انہوں نے اس کا ٹکڑا مردہ کو لگایا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اور کہا کہ مجھے میرے فلاں فلاں چچازاد بھائیوں نے قتل کیا ہے۔ یہ کہہ کر مردہ ہو کر گرپڑا۔ پس اس کے قاتل کو پکڑ لیا گیا۔ اور اس کے بدلے میں قتل کردیا گیا۔ (اور اس کا قاتل میراث سے محروم رہا) اور اس کے بعد کوئی قاتل مقتول کا وارث نہیں ہوا ( کَذٰلِکَ یُحْیِ اللّٰہُ الْمَوْتٰی۔ نمبر 1۔ خواہ یہ ان لوگوں کو خطاب ہو جو منکرین زمانہ نبوت محمد ﷺ میں تھے۔
نمبر 2: یا ان لوگوں کو خطاب ہو جو اس مقتول کے زندہ ہونے کے وقت موجود تھے۔
اس صورت میں معنی یہ ہے کہ ہم نے ان کو کہا اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کریں گے قیامت کے دن۔
وَیُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖ : (اور تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھاتا ہے) آیات سے مراد قدرت باری تعالیٰ کے دلائل ہیں
اندازِ دلیل :
لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ : (شاید کہ تم سمجھ جائو) پھر اپنی عقلوں کے مطابق عمل کرو۔ اور وہ یہ ہے جو ایک نفس کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے وہ اسی طرح تمام مردوں کو بھی زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس میں کسی کی تخصیص نہیں۔
خصوصی نکات :
گائے کو ذبح کر کے مقتول کے جسم سے لگانے میں حکمت۔ نمبر 1: یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ بلا واسطہ اس سبب کے بھی زندہ کرسکتے ہیں۔ مگر بتلایا کہ طلب کرنے پر عبادت کو عمدہ طریق سے پیش کرنا چاہیے۔
نمبر 2: اور بندوں کو تعلیم دی کہ معاملات میں شدت نہ اختیار کریں۔ اور
نمبر 3: جلدی سے بلا تفتیش اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل کریں۔
نمبر 4: کثرت سوال سے گریز کریں وغیرہ۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ دوسرے جانوروں کی بجائے خصوصیت سے گائے کے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے۔
نمبر 1: اس لیے کہ وہ ان کے ہاں اونچی قسم کی قربانی شمار ہوتی ہے۔
نمبر 2: اس لیے بھی کہ انہوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ ان کے معبود کی ان کے ہاتھوں ہی تذلیل ہوجائے
تنبیہ عجیب :
سوال : مناسب یہ تھا کہ مقتول کا تذکرہ اور اس کو گائے کا ٹکڑا لگانے کا حکم ذبح کے حکم سے مقدم ہوتا اور اس طرح کہا گیا (وَاِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَئْ تُمْ فِیْھَا) فقلنا اذبحوا بقرۃ واضربوہ ببعضھا۔ کہ جب تم نے ایک نفس کو قتل کر کے اس کے معاملے کو ایک دوسرے پر ٹالا ہے۔ تو ہم نے کہا تم ایک گائے ذبح کرو۔ اور اس مقتول کو گائے کا کوئی ٹکڑا لگائو۔
جواب : لیکن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے واقعات کو بیان کیا۔ اور ان سے سرزد ہونے والے گناہوں کو شمار کر اکر موجودہ لوگوں کو ان پر خبردار کیا۔ یہ دونوں واقعات اگرچہ مستقل ہیں مگر ان میں سے ہر ایک ایک قسم کی تنبیہ اپنے اندر لئے ہوئے ہے پس پہلا واقعہ استہزاء پر تنبیہ کے لیے ہے اور اطاعت حکم میں فوری اطاعت نہ کرنے اور اس کے متعلقات پر تنبیہ ہے جبکہ دوسرا واقعہ حرمت والے نفس کو قتل کرنے اور اس کے پیچھے جو بڑی نشانی ظاہر ہوئی اس پر خبردار کرنے کے لیے ہے گائے کو ذبح کرنے والے واقعہ کو مقتول کے تذکرہ سے مقدم کیا کیونکہ اگر اس کا الٹ ہوتا۔ تو پھر یہ ایک ہی واقعہ بن جاتا۔ اور بار بار تنبیہ والا مقصد فوت ہوجاتا۔
عجیب نکتہ :
میرے دل میں دوسرے پورے واقعہ کو دیکھنے اور شروع سے قصہ دہرانے کے بعد ایک عجیب نکتہ پیدا ہوا کہ پہلے واقعہ کے ساتھ دوسرے واقعہ کو ضمیر سے ملایا۔ جو گائے کی طرف لوٹ رہی ہے گائے کا نام نہیں لیا۔ اس آیت میں فرمایا : اضربوہ ببعضھا تاکہ دونوں کا الگ واقعہ ہونا معلوم ہو کر تنبیہ کا مقصد حاصل ہو۔ اور ادھر ضمیر گائے کی طرف لوٹتی ہے۔ اس لیے ایک ہی واقعہ ہونا معلوم ہوا۔
نکتہ : اس واقعہ سے اشارہ ملتا ہے کہ جو شخص یہ ارادہ رکھتا ہو۔ کہ وہ اپنے دل کو مشاہدات الٰہیہ سے زندہ کرے وہ اپنے نفس کو مختلف قسم کے مجاہدات سے مارے۔ پھر یہ مقصد حاصل ہوگا۔
Ayah 2:74تفسیر آیت 74:
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ : (پھر سخت ہوگئے تمہارے دل) ثُمّ یہاں استبعاد قسوت کیلئے ہے یعنی نرمی کے اتنے اسباب دیکھنے پر تمہاری قساوت بڑی بعید ہے۔
مِّنْم بَعْدِ : (اس کے بعد) ان مذکورہ اسباب کے بعد جو دلوں میں نرمی ورقت پیدا کرنے والے ہیں اور دلوں کی صفت قسوت سے کرنا درحقیقت وعظ و عبرت سے ان کے انکار کی تمثیل ہے
ذٰلِکَ : (اس) اس احیاء مقتول کے بعد ذٰلک کا مشارالیہ احیاء مقتول ہے۔ یا وہ تمام مقررہ نشانیاں جو پہلے گزریں۔
نحوی لطائف :
فَھِیَ کَالْحِجَارَۃِ : (پس وہ پتھر کی طرح) وہ اپنی سختی میں پتھر کی طرح ہیں۔
اَوْ اَشدُّ قَسْوَۃً : (یا اس سے زیادہ سخت) یا اس سے سختی میں زیادہ بڑھ کر ہیں۔ اشد کا عطف کاف پر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ اومثل اشد قسوۃ۔ مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام کردیا۔ یا وہ بذات خود اس سے زیادہ سخت ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ جو ان دلوں کا حال پہچانے تو وہ ان کو پتھر سے تشبیہ دے یا کسی اور جو ہر سے جو پتھر سے زیادہ سخت ہو اور وہ لوہا ہے۔ یا پہچاننے والا ان کو پتھر سے تشبیہ دے یا وہ کہے کہ یہ پتھروں سے زیادہ سخت ہیں۔ اشد کے لفظ میں جو مبالغہ ہے وہ اقسیٰ کے لفظ میں نہیں اور مفضل علیہ یعنی حجارہ کے لیے ضمیر نہیں لائی گئی کیونکہ وہ ظاہر تھا۔ اور اس میں کوئی التباس نہیں مثلًا کہتے ہیں زید کریم وعمرواکرم۔
سختی کا بیان :
وَاِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الْاَنْھٰرُ : (اور بیشک بعض پتھروں سے نہریں پھوٹ کر نکلتی ہیں) یہ پتھروں سے ان کے دلوں کی سختی کے زیادہ ہونے کا بیان ہے۔
صرف : مَایہ الذی کے معنی میں ہے۔ موضع نصب میں اِنَّ کا اسم ہے اور لام تاکید کا ہے۔
التفجرؔ : کسی چیز کا زیادہ اور کثرت سے کھلنا۔
وَاِنَّ مِنْھَا لَمَایَشَّقَّقُ : (اور بعض ان میں پھٹ جاتے ہیں) اس کا اصل یتشقق ہے اعمش نے اس طرح پڑھا ہے تاء کو شین سے بدل کر اس میں ادغام کردیا۔
فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَائُ : (پس ان سے پانی نکلتا ہے) یعنی پتھروں میں ایسے پتھر بھی ہیں۔ جن میں بڑے بڑے سوراخ ہوتے ہیں۔ جن سے کثیر پانی ٹھاٹھیں مار کر ابلتا ہے اور بعض پتھر ایسے ہیں جو لمبائی یا چوڑائی میں پھٹ جاتے ہیں۔ پھر ان سے بھی پانی ابلنے لگتا ہے۔ مگر ان کے دلوں میں تری بھی نہیں۔ (یعنی منفعت کا نام بھی نہیں)
وَاِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ : (اور بعض ان میں سے گرپڑتے ہیں) پہاڑ کی بلندی سے گرپڑتے ہیں۔
خشیت کی حقیقت :
مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ : (اللہ کے خوف سے) نمبر 1: بعض نے کہا کہ یہ مجاز ہے مراد اللہ تعالیٰ کے حکم کا مطیع ہونا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ ان میں ارادہ کرتے ہیں۔ اس سے باز نہیں رہتے مگر ان کفار کے دل نہ اطاعت اختیار کرتے ہیں اور نہ ہی وہ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم ملتا ہے۔
نمبر 2: یہ بھی کہا گیا کہ خشیت کا حقیقی معنی مراد ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ ان میں زندگی وتمیز پیدا کردیتے ہیں۔ اور کسی جسم میں زندگی اور تمیز کے لیے کسی خاص معصیت کا ہونا ضروری نہیں۔ عنداہل السنۃ۔ اور قرآن مجید میں سورة حشر کی آیت نمبر 21۔ لَوْاَنْزَلْنَا ھٰذَاالْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ کی تفسیر بھی اسی طرح ہے۔ یعنی ان کے دل نہیں ڈرتے۔
وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ : (اور اللہ تعالیٰ اس سے بیخبر نہیں جو تم کرتے ہو) یہ کفار کو دھمکی ہے ابن کثیر مکّی نے تعملون کو یائؔ سے یعملون پڑھا۔
Ayah 2:75تفسیر آیت 75:
اَفَتَطْمَعُوْنَ : (کیا تم توقع رکھتے ہو) یہ خطاب رسول اللہ ﷺ اور مؤمنین کو فرمایا۔
اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَکُمْ : (کہ وہ تم پر اعتماد کریں) کہ تمہاری دعوت کی وجہ سے ایمان لے آئیں گے۔ اور تمہاری بات قبول کرلیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة العنکبوت آیت نمبر 26 میں فرمایا فاٰمن لہٗ لوط (ان کی دعوت پر لوط ایمان لائے) یعنی یہ یہود۔
وَقَدْ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ : (حالانکہ ان میں ایک جماعت ایسی ہے) یعنی ان میں سے جو گزرے ایک گروہ ہے
یَسْمَعُوْنَ کَلَامَ اللّٰہِ : (جو اللہ تعالیٰ کا کلام سنتے ہیں) یعنی تورات
ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَہٗ : (پھر اس کو بدل دیتے ہیں) جس طرح انہوں نے صفات رسول اللہ ﷺ اور آیت رجم کو بدل ڈالا۔
مِنْم بَعْدِ مَا عَقَلُوْہُ : (اس کے بعد کہ انہوں نے اس کو سمجھا) اور عقلوں میں منضبط کرلیا۔ بٹھالیا
تحریف ان کی عادت :
وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ : (اور وہ جانتے ہیں) کہ وہ جھوٹے مفتری ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کفر اور تحریف ان کی پرانی عادت ہے۔
Ayah 2:76وَاِذَالَقُوا : (جب وہ ملتے ہیں) یعنی منافقین یا یہود
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : (ایمان والوں سے) یعنی اصحاب محمد ﷺ میں سے مخلص لوگوں سے۔
قَالُوْا : (کہتے ہیں) منافقین۔
اٰمَنَّا : (ہم ایمان لائے) کہ تم حق پر ہو اور محمد ﷺ وہی رسول ہیں جن کے متعلق بشارت دی گئی ہے۔
وَاِذَاخَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ : (جب وہ ایک دوسرے کے پاس اکیلے ہوتے ہیں) وہ لوگ جو منافق نہیں ان لوگوں کے پاس جو منافق ہیں۔
قَالُوْا : (وہ کہتے ہیں) ان کو عتاب کرتے ہوئے۔
اَتُحَدِّثُوْنَھُمْ : (کیا تم کہتے ہو ان کو) یعنی کیا تم اصحاب محمد ﷺ کو اطلاع دیتے ہو۔
بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ : (جو اللہ تعالیٰ نے تم پر ظاہر کیا) جو اللہ تعالیٰ نے تم پر تورات میں محمد ﷺ کی حالت بیان کی ہے۔
لِیُحَآجُّوْکُمْ بِہٖ عِنْدَ رَبِّکُمْ : (تا کہ وہ تم سے جھگڑیں اس کے ذریعے تمہارے رب کے پاس) ۔ تاکہ وہ تمہارے خلاف دلیل بنائیں اس چیز کو جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں تمہارے اوپر اتاری ہے۔ انہوں نے اپنے خلاف تورات سے حجت کو اور ان کی اس بات کو کہ یہ تمہاری کتاب میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں حجت قرار دیا۔ جیسے کہتے ہیں (ھوفی کتاب اللّٰہ تعالیٰ ھاکذا۔ ) وہ مضمون اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اس طرح ہے وھم عند اللّٰہ ھٰکذٰ ، اور وہ اللہ کے ہاں بھی اس طرح ہے۔ ان دونوں باتوں کا ایک ہی مطلب ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں مضاف مضمر ہے یعنی عند کتاب ربکم۔ تاکہ تمہارے رب کی کتاب میں جھگڑا کریں۔
تیسرا قول یہ ہے کہ تاکہ وہ تم سے مجادلہ اور اس کے ذریعہ مخاصمہ کریں۔ تمہارے رب کے ہاں جو تم نے ان کو کہا۔ وہ مسلمان کہیں گے کہ تم نے کفر کیا اس کی سچائی کی اطلاع پانے کے باوجود۔
اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ : (کیا تم سمجھتے نہیں) کہ یہ تمہارے خلاف دلیل ہے۔ اس طرح کہ تم اس کا اعتراف کرتے ہو پھر اس کی پیروی نہیں کرتے ہو۔
Ayah 2:77اَوَلَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ : (کیا وہ لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے) تمام باتیں۔
مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ : (جو وہ ظاہر کرتے ہیں اور جو وہ چھپاتے ہیں) ایک ان میں سے ان کا کفر چھپانا اور ایمان ظاہر کرنا بھی تھا۔
Ayah 2:78وَمِنْھُمْ اُمِّیُّوْنَ : (اور بعض ان میں ان پڑھ ہیں) یعنی یہود میں سے وہ اچھی طرح لکھنا نہیں جانتے کہ تورات کا مطالعہ کرلیتے اور ان کو یقین سے اس کے مضامین معلوم ہوجاتے۔
لَایَعْلَمُوْنَ الْکِتٰبَ : (وہ کتاب کو نہیں جانتے) کتاب سے مراد تورات ہے۔
امانی کی تفسیر :
اِلَّآ اَمَانِیَّ : (مگر تمنائیں) نمبر 1: مگر وہ تمنائیں جن میں وہ مبتلا تھے۔ کہ اللہ تعالیٰ ان کو معاف کردیں گے اور ان پر رحم فرمائیں گے۔ اور ان کو چنددنوں آگ میں جانا پڑے گا۔
نمبر 2: دوسرا قول یہ ہے مگر وہ من گھڑت جھوٹی باتیں جو انہوں نے اپنے علماء سے سن کر ان کو تقلیدی طور پر تسلیم کرلیا تھا۔ حضرت عثمان غنی ؓ کے اس قول میں تمنّی کا یہی معنی ہے۔ ما تمنیت منذ اسلمت۔ کہ میں نے اسلام لانے کے بعد آج تک جھوٹ نہیں بولا۔
تیسرا قول یہ ہے مگر وہ جو پڑھتے تھے۔ جیسا کہ شاعر کے اس قول میں تمنّی کا یہی معنی ہے۔
تمنی کتاب اللّٰہ اول لیلۃٍ وآخر ھا لا قی حمام المقادر
رات کے پہلے حصہ اور پچھلے میں وہ اللہ کی کتاب پڑھتا۔ اور اس کی مقدر موت اسی حالت میں آئی۔ اب آیت کا مطلب یہ ہوا۔ کہ یہ یہود کتاب منزل کی حقیقت کو نہیں پہچانتے البتہ یہ ایسی چیزیں پڑھتے ہیں۔ جو انہوں نے اپنے احبار سے حاصل کی ہیں۔ اس صورت میں استثناء منقطع ہے۔
وَاِنْ ھُمْ : (نہیں ہیں وہ)
اِلَّا یَظُنُّوْنَ : (یہ ان کا خیال ہی خیال ہے) یعنی وہ نہیں جانتے اس میں کیا ہے ؟ پس آپ کی نبوت کا انکار محض گمان سے کرتے ہیں۔
سابقہ آیات سے ربط :
ربط : ان آیات میں ان علماء کا ذکر کیا۔ جنہوں نے علم کے باوجود محض عناد سے تحریف کی۔ پھر ان کے عوام کا ذکر کیا۔ جنہوں نے ان کی اندھا دھند تقلید کی۔
Ayah 2:79فَوَیْلٌ : (ہلاکت ہے) حدیث میں ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔ ( رواہ ابن المبارک فی الزوائد عن ابی سعید الخدری)
لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتٰبَ : (ان پر جو لکھتے ہیں کتاب) تحریف شدہ
بِاَیْدِیْھِمْ : (اپنے ہاتھوں سے) اپنی طرف سے بغیر اس کے کہ ان پر اتاری گئی۔ یہاں ہاتھوں کا تذکرہ تاکید کے لیے ہے۔ اور یہ مجازی تاکید ہے۔
ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ ھٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ لِیَشْتَرُوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلاً : (پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے کہ اس کے ذریعے سے تھوڑا سامال لیں) ثمنا قلیلا کا معنی معمولی عوض
فَوَیْلٌ لَّھُمْ مِّمَّاکَتَبَتْ اَیْدِیْھِمْ وَوَیْلٌ لَّھُمْ مِّمَّا یَکْسِبُوْنَ : (پس ان پر ہلاکت ہے جو ان کے ہاتھوں نے لکھا اور ہلاکت ہے ان کی کمائی سے) ۔ یعنی رشوت
Ayah 2:80وَقَالُوْالَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَۃً : (وہ کہتے ہیں کہ ہم کو نہیں چھوئے گی آگ مگر گنتی کے دن) چالیس دن جتنے دنوں بچھڑے کی عبادت کی تھی۔
حضرت مجاہد (رح) کہتے ہیں کہ یہود کہتے تھے کہ دنیا کی عمر کل چھ ہزار سال ہے اور ہمیں ایک ہزار سال کے بدلے ایک دن عذاب دیا جائے گا۔ (اس طرح گویا چھ دن عذاب ہو کر ساتویں دن چھٹی)
قُلْ اَتَّخَذْ تُمْ عِنْدَ اللّٰہِ عَھْدًا : (کہہ دیں کیا لے لیا تم نے کوئی وعدہ) یعنی اس نے تم سے عہد کیا کہ وہ تمہیں اتنی ہی مقدار میں عذاب دے گا۔
فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ عَھْدَہٗ : (کہ ہرگز اللہ تعالیٰ خلاف نہ کرے گا اپنے عہد کے) یہ محذوف سے تعلق رکھتا ہے اصل کلام اس طرح ہوا۔ ان اتخذتم عند اللّٰہ عھدا فلن یخلف اللّٰہ عھدہ۔ اگر تم نے اللہ سے عہد لیا ہے پھر تو ہرگز اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہ فرمائیں گے۔
اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَالَا تَعْلَمُوْنَ : (یا تم کہتے ہو اللہ تعالیٰ پر جو نہیں جانتے)
ام کی اقسام :
تفسیر اول : اَمْ معادلہ کے لیے ہے۔ کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کے متعلق وہ کہتے ہو جو تم جانتے ہو یا تم اس کے بارے میں وہ کہتے ہو جو نہیں جانتے۔
دوسری تفسیر : اَمْ منقطعہ۔ بَل کے معنی میں ہے بلکہ تم اللہ تعالیٰ کے متعلق وہ بات کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔
Ayah 2:81بَلٰی : (کیوں نہیں) نفی کے بعد اثبات کے لیے ہے وہ نفی یہ ہے لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ ۔ یعنی کیوں نہیں تمہیں آگ ہمیشہ کے لیے چھوئے گی۔ اس کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
مَنْ کَسَبَ سَیِّئَۃً : (جس نے برائی کی) سیّئۃ سے مراد شرک ہے۔
تفسیر ابن عباس۔ :
حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد (رح) کی یہی تفسیر ہے۔
وَّاَحَاطَتْ بِہٖ خَطِیْئَتُہٗ : (اور گھیر لیا اس کو اس کے گناہوں نے) یعنی اس پر نجات کے راستے بند ہوگئے اس طرح کہ اس کی موت اس پر واقع ہوئی۔ پھر اگر ایمان کی حالت میں موت آئی تو سب سے بڑی طاعت یعنی ایمان اس کے پاس ہے اس لیے گناہ اس کا احاطہ کر ہی نہیں سکتا۔
ردِ خوارج :
گویا یہ نص اس کو شامل ہی نہیں۔ اس تعبیر سے معتزلہ اور خوارج کا اعتراض باطل ہوجاتا ہے احاطہ کی تفسیر ایک یہ بھی ہے کہ گناہ اس پر حاوی ہوگئے اور مسلط ہوگئے جیسا کہ دشمن حاوی ہوجاتا ہے اور اس نے توبہ کر کے ان سے چھٹکارہ حاصل نہیں کیا۔
قراءت : مدنی (رح) نے خطیّاتہٖ ، یاؔ سے پڑھا ہے۔
فَاُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ النَّارِھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ : (وہ آگ والے ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے)
Ayah 2:82تفسیر آیت 82:
وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ : ( اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہ جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے)
Ayah 2:83تفسیر آیت 83:
وَاِذْاَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ : (اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے پکا وعدہ لیا)
مِیْثَاقَ ۔ انتہائی پختہ ومؤکد عہد کو کہتے ہیں۔
خبر بصورت نہی :
لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰہَ : (تم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا) یہ نہی کے انداز میں خبر ہے جیسا تم کہو۔ تذہب الٰی فَلان تقول لہٗ کذا سے مقصود حکم دینا ہے کہ فلاں کے پاس جا اور اس کو اس طرح کہہ۔ یہ صراحۃً امرونہی سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ یہ اسی طرح ہے گویا کہ بات ماننے اور انتہاء تک پہنچنے میں جلدی کی گئی اور وہ اس کے متعلق خبر دے رہا ہے۔ اور اس معنی کی معاونت حضرت ابی ؓ کی قراءت لا تعبدوا اور ان کا قول وقولواکر رہا ہے یہاں قول مضمر ہے۔
قراءت : مکی وحمزہ، علی نے لا یعبدون پڑھا۔ کیونکہ بنی اسرائیل اسم ظاہر ہے۔ اور تمام اسماء ظاہرہ غیب ہیں۔ اب معنی یہ ہے کہ وہ عبادت نہ کریں مگر اللہ کی جب اَنْ حذف ہوا تو آخر میں رفع آگیا۔
وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا : (اور والدین کے ساتھ احسان کرنا) یعنی تم احسان کرو۔ یہ امر مقدر مانا تاکہ امر پر عطف صحیح ہوجائے۔ اور وہ قولوا ہے۔
وَّذِی الْقُرْبٰی : (اور رشتہ داروں کے) رشتہ داری۔
یتیم کا معنی :
وَالْیَتٰمٰی : (اور یتیموں) جمع یتیم جس کا باپ بلوغت سے قبل یا بلوغت تک فوت ہوجائے اس لیے کہ آپ ( علیہ السلام) کا ارشاد ہے : لا یُتْمَ بعد البلوغ۔ بلوغت کے بعد یتیمی نہیں (ابو دائود)
وَالْمَسَاکِیْنِ : (اور مساکین کے ساتھ) جمع مسکین۔ وہ جس کو حاجت نے ٹھہرادیا ہو۔
وَقُوْلُوْالِلنَّاسِ حُسْنًا : (اور تم کہو لوگوں کو اچھی بات) قول ِحسن اچھی بات جو فی نفسہٖ خوبی والی ہو۔
قراءت : حمزہ، علی نے حَسَنًا پڑھا ہے۔
وَّاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاتُوا الزَّکٰوۃَ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ : (اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو پھر تم نے منہ موڑا) میثاق سے پھرگئے اور اس کا انکار کردیا۔
اِلَّاقَلِیْلًا مِّنْکُمْ : (مگر تھوڑے تم میں سے) یہ کہا گیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو ان میں سے ایمان لے آئے
وَاَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ : (اور تم اعراض کرنے والے تھے) تم ایسی قوم ہو کہ تمہاری عادت اعراض کرنا اور وعدوں سے پھرنا ہے۔
Ayah 2:84قتل و اخراج نفس کی تفسیر :
وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ لَا تَسْفِکُوْنَ دِمَآئَ کُمْ وَلَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ : (جب ہم نے تم سے پختہ وعدہ لیا کہ تم ایک دوسرے کا خون نہ بہانا اور نہ نکالنا ایک دوسرے کو ان کے گھروں سے )
تفسیر نمبر 1: یعنی تم ایک دوسرے کے ساتھ ایسا نہ کرو۔ دوسرے آدمی کو خود اس کا نفس قرار دیا۔ کیونکہ تمام اصل کے ایک ہونے کی وجہ سے یا دین کے ایک ہونے کی وجہ سے متصل ہیں۔
تفسیر نمبر 2: جب اس نے دوسرے کو قتل کردیا تو گویا اس نے اپنے آپ کو قتل کیا اس لیے کہ اس سے قصاص لیاجائے گا۔ اور اس کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔
ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ : (پھر تم نے اقرار کیا) یعنی میثاق کے ذریعہ اقرار کیا اور اس کو اپنے اوپر لازم کرنے کا اعتراف کیا
تفسیر شہادۃ :
وَاَنْتُمْ تَشْھَدُوْنَ : (اور تم گواہ ہو) نمبر 1۔ گواہ ہو تم اس پر۔ جیسا کہتے ہیں فلان مُقِرٌّ علی نفسہ بکذا، شاھد علیھا۔ جبکہ وہ اس کا پختہ وعدہ کرنے والا ہو۔
تفسیر نمبر 2: اور تم آج بھی گواہی دیتے ہو کہ تمہارے اسلاف نے اس میثاق کا اقرار کیا تھا۔
Ayah 2:85ثُمَّ اَنْتُمْ ھٰؤُلآئِ : (پھر تم وہی ہو) یہ ان کی طرف قتل وجلاوطنی دشمنی میں حد سے نکلنے کی نسبت سے کہا گیا۔ کہ میثاق لیے جانے اور اقرار و شہادت کے بعد یہ بات تم سے بہت ہی بعید ہے۔
نحو : انتم، مبتداء اور ھولاء بمعنی الذین ہے۔
تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَکُمْ : (قتل کرتے ہو ایک دوسرے کو) یہ ھٰؤلاء کا صلہ ہے۔ اور یہ صلہ موصول مل کر خبر ہے
وَتُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْکُمْ مِّنْ دِیَارِہِمْ : (اور نکالتے ہو ایک جماعت کو ان کے گھروں سے) اللہ تعالیٰ کے میثاق کا لحاظ وپ اس کیے بغیر۔
تَظٰھَرُوْنَ عَلَیْھِمْ : (ایک دوسرے کی مدد کرتے ہو ان کے مقابلے میں)
قراءت : کوفی کے ہاں تخفیف کے ساتھ ہے دیگر قراءت شدید سے پڑھتے ہیں۔ جنہوں نے تخفیف کی تو انہوں نے ایک تاء کو حذف کردیا۔ پھر ایک قول میں وہ دوسری تاء ہے اس لیے کہ ثقل کا باعث وہی ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ پہلی تائؔ ہے جن قراء نے تشدید پڑھی۔ انہوں نے تائے دوم کو ظاؔ سے بدل کر اس میں ادغام کردیا۔
تفسیر : تم تعاون کرتے ہو۔
بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ : (گناہ اور دشمنی کے ساتھ) معصیت اور ظلم کے ساتھ۔
وَاِنْ یَّاْتُوْکُمْ اُسٰرٰی تُفٰدُوْھُمْ : (اگر وہی لوگ تمہارے پاس قید ہو کر آئیں تو ان کا فدیہ دیتے ہو)
قراءت : نمبر 1: ابو عمرو نے أساری تَفْدوھم
نمبر 2: مکی وشامی قراءت ُ فَادُھم
نمبر 3: حمزہ اساری تَفْدوھم
نمبر 4: علی اساری تفادوھم
لغت میں فدی فادی کا ایک ہی معنی ہے۔
نحو : اسارٰی جمع اسیر ہے اسی طرح أسری بھی جمع اسیر ہے یہ حال ہے۔
ھو ضمیر کی وضاحت :
وَھُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْکُمْ : (حالانکہ وہ حرام ہے تم پر)
نمبر 1: یہ ضمیر شان ہے۔
نمبر 2: یہ ضمیر مبھم ہے جس کی تفسیر اخراجھم ہے۔
اِخْرَاجُھُمْ : (ان کا نکالنا)
اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ : (کیا مانتے ہو کتاب کی بعض باتیں) بعض کتاب سے مراد قیدیوں کا فدیہ ادا کرنا۔
وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ : (اور نہیں مانتے بعض باتیں) قتال اور جلاوطن کرکے۔
چار قول :
سدیکا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے چار عہد لیے۔
نمبر 1: قتل نہ کرو۔ نمبر 2: جلا وطن نہ کرو۔ نمبر 3: برائی میں معاونت نہ کرو۔ نمبر 4: قیدیوں کا فدیہ دو ۔
انہوں نے قیدیوں کے فدیہ والے حکم کے علاوہ باقی تمام حکم چھوڑ دئیے۔
تفسیر آیت 85:
فَمَا جَزَآئُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلَّاخِزْیٌ : (پس کچھ سزا نہیں اس کی جو تم میں سے ایسا کرے مگر رسوائی) خزی کا معنی رسوائی وذلت ہے۔
فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ اِلٰٓی اَشَدِّ الْعَذَابِ : (دنیا کی زندگی میں اور قیامت کے دن ان کو سخت عذاب کی طرف لوٹایا جائے گا) نمبر 1: عذاب وہ جس میں نہ آرام ہو اور نہ خوشی۔
نمبر 2: دنیا کے عذاب سے سخت تر عذاب کی طرف ان کو لوٹایاجائے گا)
وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ : (اور اللہ تعالیٰ بیخبر نہیں اس سے جو تم کر رہے ہو)
قراءت : نافع، ابوبکر، مکی نے تعملون کو یعملون پڑھا ہے۔
Ayah 2:86تفسیر آیت 86:
اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَۃِ :
(یہی لوگ ہیں جنہوں نے مول لے لی ہے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے) یعنی انہوں نے اس کو آخرت پر ترجیح دی۔ جیسا کہ خریدار بعض اشیاء کو چنتا ہے۔
فَلاَ یُخَفَّفُ عَنْھُمُ الْعَذَابُ وَلَا ھُمْ یُنْصَرُوْنَ :
(پس ان سے کم نہ کیا جائے گا عذاب اور نہ ان کی مدد کی جائے گی) عذاب دور کرنے میں ان کی کوئی مدد نہ کرے گا۔
Ayah 2:87تفسیر آیت 87:
وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ : (اور ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو کتاب دی) الکتاب سے مراد تو رات ہے جو اکٹھی اتاری گئی
وَقَفَّیْنَا مِنْم بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ : (اور ان کے بعد پے در پے رسول بھیجے) عرب کہتے ہیں قفاہ جب کوئی گردن کے پیچھے سے آئے۔ جیسے ذنبہ یہ ذنب سے ہے۔ اور قفاہ بہ پیچھے چلنا چلانا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کے پیچھے بہت سے رسول بھیجے۔ اور وہ یوشع، اشمویل، شمعون، داؤد، سلیمان، شعیائ، وارمیائ، عزیر، حزقیل، الیاس، الیسع، یونس، زکریا، یحیٰی وغیرھم۔
وَاٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ : (اور عیسیٰ بن مریم کو کھلے معجزات دئیے) مریم کا معنی خادم ہے اس کا وزن علماء نحو کے ہاں مفعل ہے کیونکہ فعیلًا کا وزن ثابت نہیں۔
مراد بینات :
اَلْبَیِّنٰتِ : واضح معجزات مثلًا مردوں کو زندہ کرنا مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو درست کرنا مغیبات کی خبریں دینا۔
وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ : (اور قوت دی جبرائیل امین سے) القدس کا معنی طہارت ہے
القدس کا معنی :
قراءت : القُدْس ابن کثیر مکّی کے نزدیک جہاں بھی آئے گا دال کے سکون سے پڑھا جائے گا۔ روح القدس کا معنی پاکیزہ روح۔ جیسا کہتے ہیں حاتم الجود۔ سخی حاتم۔ عیسیٰ ( علیہ السلام) کی اس سے تعریف بیان کی جاتی ہے۔
نمبر 1: ان کے ساتھ خصوصیت وقرب کی وجہ سے۔
نمبر 2: جبرائیل ( علیہ السلام) مراد ہیں۔ کیونکہ وہ ایسی چیز آسمانوں سے لاتے ہیں جس میں د لوں کی زندگی ہے اور خصوصی تائید اس وقت فرمائی جب یہود نے ان کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔
یا انجیل دے کر ان کی خصوصی تائید کی۔ جسا کہ سورة شورٰی آیت نمبر 52 روحًا من امرنا میں فرمایا یا اسم اعظم مراد ہے۔ جس سے وہ مردوں کو زندہ کرتے تھے۔
اَفَکُلَّمَا جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌم بِمَا لاَتَھْوٰٓی : (کیا جب کبھی لائے تمہارے پاس کوئی رسول وہ حکم جو ناپسند کرتے تھے) تھوٰی کا معنی پسند کرنا۔
اَنْفُسُکُمُ اسْتَکْبَرْتُمْ : (تمہارے نفس، تم نے تکبر کیا) تم نے اس کو قبول کرنے سے اپنے آپ کو بڑا قرار دیا
فَفَرِیْقًا کَذَّبْتُمْ : (پس ایک جماعت کو جھٹلایا) جیسے عیسیٰ ( علیہ السلام) اور محمد ﷺ
وَفَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ : (اور ایک جماعت کو قتل کیا) جیسے زکریا اور یحییٰ علیہما السلام۔
ایک نکتہ :
فواصل کی موافقت کے لیے قتلتم کی بجائے تقتلون فرمایا۔ یا مراد یہ ہے کہ ان کی ایک جماعت کو قتل کرنے کے اب بھی درپے ہو۔ کیونکہ تم قتل محمد ﷺ کے لیے گردش کرتے ہو۔ اگر میں نے ان کی حفاظت نہ کی ہوتی۔ (تو تم قتل کر ڈالتے) اور اس لیے تم نے ان کو سحر کیا۔ اور ان کے لیے بکری کے گوشت کو زہر آلود کیا۔
تفسیر : اب مطلب یہ ہوا کہ اے بنی اسرائیل ہم نے تمہارے انبیاء کو دیا جو کچھ دیا۔ پس جب بھی تمہارے پاس ان میں سے کوئی رسول حق لے کر آیا۔ تو تم نے اس پر ایمان لانے سے تکبر کیا۔ فا اور جو اس سے متعلق تھا۔ ان کے درمیان ہمزہ تو بیخ یا تعجب کے لئے لایا گیا۔ تاکہ ان کی حالت پر تعجب کا اظہار ہو۔
Ayah 2:88غلف کی تفسیر :
وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ : ( اور کہا ہمارے دل غلافوں میں ہیں) غلْف جمع اغلاف ہے وہ دل ایسے انداز سے پیدا کیے گئے ہیں کہ جن کو کئی پردوں نے ڈھانپ رکھا ہے۔ جو محمد ﷺ لے کر آئے۔ وہ ان تک نہیں پہنچتا ہے۔ اور نہ اس کو وہ سمجھتے ہیں یہ لفظ اغلف سے استعارہ کے طور پر استعمال ہوا ہے اغلف بےختنہ کو کہتے ہیں۔
بَلْ لَّعَنَھُمُ اللّٰہُ بِکُفْرِھِمْ : (بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی ان کے کفر کے سبب) اللہ تعالیٰ نے تردید فرمائی کہ ان کے دل اس طرح نہیں بنے جس طرح وہ کہتے ہیں۔ بلکہ وہ تو فطرت پر پیدا کیے گئے۔ اور ان میں حق کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھی گئی۔ بیشک ان کو تو ان کے کفر وزیغ کی وجہ سے مسترد کیا گیا۔
قلیل کا مفہوم :
فَقَلِیْلًا مَّایُؤْمِنُوْنَ : (بہت تھوڑے ہیں جو ایمان لاتے ہیں) نحو : قلیلًا یہ مصدر محذوف کی صفت ہے یعنی ایمانا قلیلا یؤمنون۔ وہ تھوڑا ایمان لاتے ہیں۔ ما زائدہ ہے۔
نمبر 1: اور قلیل ایمان سے مراد کتاب کے بعض حصے پر ایمان ہے۔
نمبر 2: قلیل سے ان کے ایمان کی نفی مراد ہے۔
قراءت : غُلْفٌ یہ غُلُفٌ کی تخفیف ہے اور اس طرح بھی پڑھا گیا ہے۔ یہ جمع غلاف ہے مطلب یہ ہوا کہ ہمارے دل علوم کے برتن ہیں۔ اس لیے ہم دوسروں کے علم سے بےنیاز ہیں۔
نمبر 2: اگر تمہارا لایا ہوا صحیح ہوتا تو اسے ہم قبول کرلیتے۔
Ayah 2:89وَلَمَّا جَآئَ ھُمْ : (جب پہنچی ان کے پاس) ھُمْ سے یہود مراد ہیں۔
کِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ : (کتاب اللہ کی طرف سے) کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔
مُصَدِّقٌ لِّمَامَعَھُمْ : (جو تصدیق کرتی ہے اس چیز کی جو ان کے پاس ہے) معھم سے مراد ان کی کتاب جو اس کے مخالف نہیں۔
وَکَانُوْا مِنْ قَبْلُ : (وہ اس سے پہلے) ۔ یعنی قرآن (سے پہلے)
معنی استفتاح :
یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا : (فتح مانگتے تھے کافروں پر) مشرکین سے لڑائی کے وقت اس طرح دعاء نصرت مانگتے تھے۔ اللّٰھم انصرنا بالنّبیّ المبعوث فی آخرالزمان الذی نجد نعتہ فی التوراۃ۔ اے اللہ تو ہماری مدد فرما۔ اس آخر الزمان نبی کے مبعوث ہونے کی برکت سے جس کی تعریف تورات میں ہم پاتے ہیں اور وہ اپنے مشرک دشمنوں کو کہا کرتے تھے۔ اس نبی کا زمانہ قریب آنے لگا ہے۔ جس کی بعثت ہماری بات کی تصدیق بنے گی۔ ہم انکے ساتھ ہو کر تمہیں عاد، ثمود کی طرح قتل کریں گے۔
فَلَمَّا جَآئَ ھُمْ مَّا عَرَفُوْا : (پس جب وہ آگئے جس کو انہوں نے پہچانا) جب وہ پیغمبران کے پاس آئے جن کو انہوں نے پہچانا۔
نحو : ماموصولہ ہے اور عرفوا اس کا صلہ ہے یہ جاء کا فاعل ہے۔
کَفَرُوْابِہٖ : (تو ان کا انکار کردیا) ضد اور حسد کی وجہ سے اور سرداری کی حرص میں انکار کردیا۔
فَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ : (پس اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے کافروں پر) یعنی ان کافروں پر اللہ کی لعنت ہو۔
اسم ظاہر کا نکتہ :
یہاں ضمیر کی بجائے اسم ظاہر لایا گیا۔ اس بات کو بتلانے کے لیے کہ کفر کی وجہ سے وہ لعنت کے مستحق بن چکے۔
الکافرین پر الف لام عہد کا ہے یا جنس کا ہے اور وہ لوگ اس میں سب سے پہلے داخل ہیں۔
پہلے لما کا جواب مضمر ہے، اور وہ اس طرح ہے کذبوابہ۔ یا
نمبر 2: انکروہ یا نمبر 3: کفرواپہلے دوسرے دونوں لما کا جواب ہے۔
اس لیے کہ دونوں کا مقتضی ایک ہے۔ اب مطلب یہ ہوا کہ جب ان کے پاس وہ پیغمبر آگئے جن کو انہوں نے پہچانا تو ان کو اوپر اقرار دے کر انکار کردیا۔ یا ان کا انکار کردیا۔
Ayah 2:90بِئْسَمَا : (بری ہے وہ چیز) نحو : ما نکرہ موصوفہ ہے اور بئس کے فاعل کی تفسیر کر رہا ہے۔
قراءت : ابو عمرو اس کو بِیْسَمَا غیر مہموز پڑھتے ہیں تمام باب میں۔ مطلب یہ ہے بہت بری ہے وہ چیز۔
اشْتَرَوْابِہٖٓ اَنْفُسَھُمْ : (جس کے بدلے بیچا انہوں نے اپنی جانوں کو) یعنی فروخت کردیا یہ بئس کا مخصوص بالذم ہے۔
اَنْ یَّکْفُرُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ : (کہ انکار کرنے لگے اس کلام کا جو اللہ تعالیٰ نے اتارا) انزل اللہ سے مراد قرآن مجید ہے۔
بَغْیًا : (ضد کی وجہ سے) یہ مفعول ہے یعنی حسد اور اس چیز کی طلب میں جو انکے مناسب نہیں۔ یہ اشتروا کی علت ہے بیچنے کا سبب تھا۔
ان کا معنی :
اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰہُ : (کہ اتارا اللہ نے) نمبر 1: لام کے معنی ہیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اتارا یا عَلٰی کے معنی میں اس بناء پر کہ اللہ تعالیٰ نے اتارا۔ انہوں نے حسد کیا اس بناء پر کہ اللہ تعالیٰ نے اتارا۔
قراءت : یُنْزِلُ مکی وبصری تخفیف سے پڑھتے ہیں۔
مِنْ فَضْلِہٖ : (اپنے فضل سے) فضل سے مراد وحی ہے
عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ : (اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے) من عبادہٖ سے مراد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔
پے در پے غضب :
فَبَآئُ وْ بِغَضَبٍ عَلٰی غَضَبٍ : (پس کمایا انہوں نے غصہ پر غصہ) پس وہ دہرے غضب کے حق دار بن گئے اس لیے کہ انہوں نے ایک برحق پیغمبر کا انکار کردیا۔ اور اس کے خلاف سرکشی کی۔ یا انہوں نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد محمد ﷺ کا انکار کیا۔ یا اس قول کے بعد عزیر اللہ کا بیٹا ہے جو سورة التوبہ آیت نمبر 30 عُزیرنِ ابن اللّٰہ اور اس قول کے بعد جو آیت نمبر 64 سورة المآئدہ میں ہے ید اللہ مغلولہ۔ کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے۔ وغیرہ اقوال کے بعد وہ پے در پے غضب کے مستحق ہوئے۔
وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ : (اور کافروں کے لیے ذلت والا عذاب ہے) مہین کا معنی ذلت آمیز۔
Ayah 2:91تفسیر آیت 91:
وَاِذَاقِیْلَ لَھُمْ : (جب ان سے کہا جاتا ہے) یعنی ان یہود کو۔
ٰامِنُوْابِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ : (تم ایمان لے آئو اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اتارا) نمبر 1: اس سے مراد قرآن مجید ہے نمبر 2: ما انزل اللّٰہ سے مراد جو بھی اللہ تعالیٰ نے اتارا۔ اس طرح ہر کتاب کو شامل ہے۔
قَالُوْانُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا : (وہ کہتے ہیں ہم تو ایمان لائیں گے اسی پر جو اتارا ہم پر) یعنی تورات
وَیَکْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآئَ ہٗ : (اور وہ کفر کرتے ہیں اس کے ساتھ جو اس کے بعد ہے) یعنی وہ کہتے تو یہ ہیں کہ ہم تورات پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ تورات کے بعد اترنے والی کتاب کا انکار کرتے ہیں۔
مقولہ یہود کا رَد :
وَھُوَالْحَقُّ مُصَدِّقًالِّمَا مَعَھُمْ : (حالانکہ وہ برحق ہے تصدیق کرنے والا ہے اس کی جو ان کے پاس ہے) اس تورات کے مخالف نہیں۔ اس میں ان کے اسی مقولہ ( کہ ہم اس تورات پر ایمان رکھتے ہیں) کی تردید ہے اس لیے کہ جب انہوں نے اس وحی کا انکار کردیا جو تورات کے موافق ہے تو گویا انہوں نے تورات کا انکار کردیا۔ خواہ زبان سے ایسا نہیں کہا۔
نحو : مصدّقًا یہ حال ہے جو تاکید کے لیے لایا گیا۔
قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْبِیَآئَ اللّٰہِ : (کہہ دیں پس تم کیوں قتل کرتے رہے اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کو) یعنی تم نے کیوں (ان کو) قتل کیا۔ آیت میں یہ واقعہ ماضی کا ہے۔ اور مضارع اس کی جگہ لائے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس پر دلالت کرتا ہے۔
مِنْ قَبْلُ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ : (اس سے پہلے اگر تم مومن ہو) قبل سے مراد حضرت محمد ﷺ سے پہلے اس میں ان پر اعتراض کیا گیا۔ کہ تورات پر ایمان کا دعویٰ بھی کرتے ہو اور ادھر انبیاء ( علیہ السلام) کو قتل بھی کرتے ہو حالانکہ تورات تو قتل انبیاء ( علیہ السلام) کی گنجائش نہیں دیتی۔ کہا گیا ہے کہ انہوں نے ایک دن میں تین سو انبیاء ( علیہ السلام) کو بیت المقدس میں قتل کیا۔
Ayah 2:9292: وَلَقَدْ جَآئَ کُمْ مُّوْسٰی بِالْبَیِّنٰتِ : (تحقیق آچکے تمہارے پاس موسیٰ ( علیہ السلام) دلائل کے ساتھ) بینات سے نو آیات مراد ہیں۔
قراءت : دال کو جیم میں ہمیشہ ادغام کردیا جاتا ہے۔ جہاں بھی آئے یہ ابو عمرو، حمزہ اور علی کا قول ہے لقد جاء میں اسی طرح ہے۔
ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ : (پھر تم نے بنا لیابچھڑا) یعنی معبود
مِنْم بَعْدِہٖ : (ان کے بعد) موسیٰ ( علیہ السلام) کے طور کی طرف جانے کے بعد
وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ : (اور تم ظالم تھے) نحو : یہ حال ہے یعنی تم نے بچھڑے کی عبادت کی اس حال میں کہ تم عبادت کو اس کے مقام سے ہٹانے والے تھے۔ یا یہ جملہ معترضہ ہے یعنی تم ایسی قوم ہو کہ تمہاری عادت ظلم کرنا ہے۔
Ayah 2:9393: وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ خُذُوْامَآ اٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ : (اور جب لیا ہم نے تم سے پختہ وعدہ اور تمہارے اوپر طور کو اٹھایا۔ پکڑو جو کچھ دیا ہم نے تم کو مضبوطی کے ساتھ) طور کے اٹھانے کا دوبارہ تذکرہ کیا۔ اس میں یہ اضافہ بھی ملادیا۔ جو پہلے مقام کے تذکرے میں موجود نہیں۔
وَّاسْمَعُوْا : (اور سنو) جو حکم تمہیں تورات میں ملا۔
قَالُوْاسَمِعْنَا : (انہوں نے کہا ہم نے سنا) تمہارا قول۔
وَعَصَیْنَا : (اور نافرمانی کی ہم نے) تیرے حکم کی
صورتِ مطابقت :
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ان کے جواب کے ساتھ اس طرح مطابقت رکھتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا۔ اسمعوا۔ تم سنو۔ اور تمہارا سننا قبولیت اور اطاعت والا ہونا چاہیے۔ انہوں نے جواب میں کہا ہم نے سنا لیکن اطاعت والا سننا نہیں۔
بچھڑے کی محبت کا رچنا :
وَاُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِھِمُ الْعِجْلَ : (رچ گیا انکے دلوں میں بچھڑا) یعنی اسکی محبت ان کے دلوں میں داخل ہوگئی اور اس کی عبادت کی حرص ان میں رچ بس گئی۔ جیسا کہ کپڑے پر رنگ چڑھتا ہے۔ اور فی قلوبھم میں پلائے جانے کی جگہ کا ذکر ہے۔ اور مضاف جو کہ محبت ہے وہ محذوف ہے ای اشرب حب العجل فی قلوبھم۔ بچھڑے کی محبت ان کے دلوں میں رچ بس گئی۔
بِکُفْرِھِمْ : (ان کے کفر کی وجہ سے) ان کے کفر کے سبب اور اعتقاد تشبیہ کے سبب۔
اضافت تھکم :
قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُکُمْ بِہٖٓ اِیْمَانُکُمْ : (کہہ دیں بہت بری بات سکھاتا ہے تم کو تمہارا ایمان) یعنی تورات کے متعلق یہ بہت برا ہے۔ اس لیے کہ توراۃ میں گائو سالہ پر ستی نہیں ہے۔ امر کی اضافت ان کے ایمان کی طرف یہ تھکُّمْکے لیے ہے اسی طرح ایمان کی اضافت بھی ان کی طرف اسی لیے ہے۔
اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ : (اگر تم سچے مومن ہو) ان کے ایمان میں تشکیک کا اظہار اور ان کے دعویٰ کی صحت کا انکار ومذمت ہے۔
Ayah 2:94قُلْ اِنْ کَانَتْ لَکُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ : (کہہ دیں اگر تمہارے لیے آخرت کا گھر ہے) دار آخرت سے مراد جنت ہے۔
عِنْدَ اللّٰہِ : (اللہ تعالیٰ کے ہاں) نحو : یہ ظرف ہے اور لکم کان کی خبر ہے۔
خَالِصَۃً : (خالص) یہ الدارالاخرۃ سے حال ہے۔ مطلب یہ ہے مکمل تمہارے لیے ہے۔
اور تمہارے سوا اور کسی کا اس میں حق نہیں۔ یعنی اگر تمہارے قول لن ید خل الجنۃ الامن کان ھودا سورة بقرہ آیت نمبر 111(کہ جنت میں ہمارے سوا کوئی داخل نہ ہوگا) صحیح ہے۔
مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ : (لوگوں کی بجائے) الناس میں الف لام جنس کا ہے۔
مشتاقانِ موت :
فَتَمَنَّوُاالْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ : (تو تم موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو) اس بات میں جو تم کہتے ہو کیونکہ جس کو یقین ہو کہ وہ اہل جنت میں سے ہے تو وہ اس کے لیے مشتاق ہوگا۔ ایسے گھر سے چھٹکارہ پانے کے لیے جو مصائب سے پر ہے جیسا کہ عشرہ مبشرہ ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ ان میں سے ہر ایک موت کو پسند کرتا اور اس کا شوق مند تھا۔
Ayah 2:95وَلَنْ یَّتَمَنَّوْہُ اَبَدًا : (وہ ہرگز تمنا نہ کریں گے) ابدًا کو ظرفیت کی وجہ سے نصب دیا گیا ہے مطلب یہ ہے کہ وہ ہرگز (موت کی) تمنا نہ کریں گے۔ جب تک وہ زندہ ہیں۔
بِمَاقَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ : (بسبب اس کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا) یعنی جو انہوں نے محمد ﷺ کے ساتھ گذشہ زمانہ میں کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تحریف وغیرہ کی۔ یہ معجزات نبوت میں سے ہے کہ گذشتہ زمانے کی خبر بتلائی۔ اور جیسا آپ نے خبر دی۔ یہ اسی طرح واقع ہوا۔ جیسا کہ ولن تفعلوا۔ البقرہ آیت نمبر 24 میں (مستقبل میں نہ کرسکنے کی پیش گوئی ہے) اگر یہود موت کی تمنا کرتے۔ تو ضرور قرآن مجید نقل کردیتا جس طرح دیگر حوادث نقل کیے۔
تہدید کفار :
وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ م بِالظّٰلِمِیْنَ : ( اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو جاننے والے ہیں) میں ان کو تہدید کی گئی (دھمکی دی گئی ہے)