2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 2:144

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

(اے محمد) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں سو ہم تم کو اسی قبلہ کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ) کی طرف پھیر لو اور تم لوگ جہاں ہوا کرو (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کرلیا کرو اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بیخبر نہیں

توقع رسول اللہ ﷺ : 144 : قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآئِ : (ہم دیکھ رہے ہیں آپ کے منہ کا آسمان کی طرف بار بار پھرنا) تقلبؔ کا معنی بار بار چہرے کا لوٹانا۔ اور نگاہ کا آسمان کی طرف پھیرنا۔ رسول اللہ ﷺ اپنے رب سے توقع رکھتے تھے۔ کہ وہ آپ کا رخ کعبہ کی طرف ابراہیم ( علیہ السلام) کی موافقت اور یہود کی مخالفت میں پھیر دیں گے۔ اسلئے کہ آپ اہل عرب کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے اور کعبہ اہل عرب کیلئے باعث فخر زیارت گاہ اور طواف کا مقام تھا۔ فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا : (بس ضرور پھیر دیں گے آپ کو اس قبلہ کی طرف جس کو آپ پسند کرتے ہیں) فلنولینک کا معنی۔ نمبر 1۔ ضرور ہم آپ کو اس کے استقبال پر قدرت عطا کردیں گے۔ یہ اس طرح ہے جیسے کہتے ہیں۔ ولیتہٗ کذا۔ جب تم اس کو اس چیز کا والی بنادو۔ نمبر 2۔ ہم آپ کو بیت المقدس کی سمت کی بجائے بیت اللہ کی سمت کے قریب کردیں گے۔ ترضٰہا۔ تو پسند کرتا ہے اور اس کی طرف صحیح اغراض کے پیش نظر میلان رکھتا ہے۔ مگر ان اغراض کو دل میں رکھے ہوئے اللہ تعالیٰ کی مشیت و حکمت کی موافقت کرنے والا ہے۔ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : (تم اب پھیر لو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف) شطرکا معنی : اصل میں ” الگ “ ہے پھر طرف کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ یہ ظرف ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ یعنی اجعل تولیۃ الوجہ تلقاء المسجد۔ یعنی اس کی طرف ‘ اس کی سمت میں۔ عین قبلے کا استقبال دور والے کے لئے مشکل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی بجائے مسجد حرام کا ذکر کر کے ثابت کردیا۔ کہ جہت قبلہ کی رعایت ضروری ہے۔ عین کعبہ کی نہیں۔ روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ قدم رنجہ فرمانے کے بعد سولہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ پھر کعبہ کی طرف رخ کرلیا۔ (تحویل صحیح قول کے مطابق 15 رجب 2 ھ؁ بدر سے دو ماہ قبل بوقت زوال ہوئی جبکہ ہجرت 5 ربیع الاول بروز سوموار اور مدینہ میں 12 ربیع الاول بروز سوموار تشریف آوری ہوئی اس سے سولہ ماہ اور چند دن بنتے ہیں) وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ : (اور تم جہاں کہیں ہو) یعنی جس زمین میں ہو اور نماز کا ارادہ کرو تو۔ فَوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ شَطْرَہٗ ط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّھِمْ : (تم اپنے منہ اسی کی طرف کرلیا کرو اور وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ برحق ہے ان کے رب کی طرف سے) یعنی تحویل قبلہ برحق ہے کیونکہ بشارات انبیاء میں موجود تھا کہ وہ رسول دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھیں گے۔ واحدی کا قول : (بقول واحدی آپ نے مسجد بنی سلمہ میں ظہر کی نماز پڑھائی تو اسی میں تحویل ہوئی یہ مسجد قبلتین ہے۔ بخاری میں ہے کہ پہلی نماز کعبہ کی طرف پڑھی جانے والی عصر ہے قباء والوں نے دوسرے دن فجر میں تحویل کی خبر پر عمل کیا۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ کعبہ کے اندر آپ نے دوستون بائیں ایک دائیں کے درمیان بیت اللہ کے اندر نماز پڑھی۔ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ : (اور اللہ بیخبر نہیں ان کاموں سے جو وہ کرتے ہیں) اختلافِ قراءت : مکی۔ ابوعمرو ٗ نافع و عاصم رحمہم اللہ نے یعملون پڑھا ہے اور دیگر قراء نے تاء کے ساتھ پہلی قراءت کے مطابق یہ کفار کے لئے وعید ہے ان کے انکار پر سزا سے اللہ تعالیٰ بیخبر نہیں ضرور تمہیں سزا دے گا۔ اور دوسری قراءت کے مطابق ایمان والوں سے قبول وا داء کا ثواب دینے کا وعدہ ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اے ایمان والو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے بیخبر نہیں وہ ضرور ثواب دیں گے۔
Ayah 2:145

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

اور اگر تم ان اہل کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ تو بھی یہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں اور تم بھی ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں ہو اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں اور اگر تم باوجود اسکے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحی خدا) آچکی ہے ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں داخل ہوجاؤ گے

تفسیر آیت 145: وَلَپنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ بِکُلِّ ٰایَۃٍ مَّاتَبِعُوْا قِبْلَتَکَ : (اگر آپ لے آئیں تمام دلائل ان لوگوں کے پاس جن کو کتاب دی گئی تو وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے) عنادی لوگ : اوتوا الکتب۔ وہ لوگ مراد ہیں جو حسد وعناد رکھتے ہیں ٰایۃ سے مراد قطعی دلیل کہ کعبہ کی طرف رخ نہ کرنا ہی برحق ہے۔ ماتَبِعُوا قبلتک وہ آپ کے قبلہ کی اتباع نہیں کرینگے کیونکہ انکا آپ کی اتباع نہ کرنا۔ کسی شبہ کی وجہ سے نہیں کہ جس کو دلیل سے زائل کردیا جائے۔ تو وہ ماننے لگیں بلکہ ترک اتباع محض حسد وعناد اور ضد کی وجہ سے ہے اسلئے کہ وہ آپ کی صفات اپنی کتابوں میں پاتے ہیں۔ جس سے آپ کا حق پر ہونا ان کو خوب معلوم ہے۔ ماتبعوا یہ جواب قسم ہے جو کہ جواب شرط کے قائم مقام آیا ہے۔ تمنائے یہود کا جواب : وَمَآ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَھُمْ : (اور آپ بھی ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں ہیں) اس میں اہل کتاب کی رسول اللہ ﷺ کے متعلق رجوع الی القبلہ کی تمنا کو ختم کرنا مقصود ہے۔ اسلئے کہ اس سلسلہ میں وہ بڑے بےتاب تھے اور کہا کرتے تھے کہ اگر یہ ہمارے قبلہ پر قائم رہتے تو ممکن ہے ہم ان کو نبی منتظر مان لیتے اور یہ بات صرف اسی خاطر کہتے کہ آپ دوبارہ ان کے قبلہ کی طرف لوٹ جائیں اور قبلہ آپ کا اور انکا ایک ہوجائے حالانکہ یہود و نصاریٰ کا خود الگ الگ قبلہ ہے۔ مگر باطل پر اور حق کے خلاف ہونے میں دونوں یکساں ہیں۔ (اسلئے قبلتھم کو واحد لایا گیا) جب انکے قبلے موافق نہیں تو آپ سے قبلہ میں موافقت کا مطالبہ بیجا ہے۔ وَمَا بَعْضُہُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَۃَ بَعْضٍ 1 (اور نہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے قبلہ کا اتباع کرنے والے ہیں) ۔ وَلَپنِ اتَّبَعْتَ اَہْوَآئَ ھُمْ مِّنْم بَعْدِ مَاجَآئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ : (اگر آپ ان کی خواہشات کا اتباع کریں اس علم کے حاصل ہوجانے کے بعد) نمبر 1۔ یعنی کعبہ کے قبلہ ہونے کے روشن دلائل آجانے اور اسلام کے دین برحق ہونے کا علم ہوجانے پر۔ ثبات پر ابھارنا : اِنَّکَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ : (تو بیشک ایسی حالت میں آپ بھی نافرمانوں میں سے ہوں گے) یعنی ظلم صریح کا ارتکاب کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ اس آیت میں سامعین کے ساتھ مہربانی کی گئی ہے اور حق پر ثبات کے لئے ان کو آمادہ کیا گیا ہے اور ایسے آدمی کو خبردار کیا گیا جو روشن دلیل کے بعد خواہشات کی اتباع کرنے لگے۔ خطاب بامت : دوسرا قول : کہ ظاہراً خطاب نبی اکرم ﷺ کو ہے مگر مراد امت ہے۔ الظالمین پر وقف لازم ہے ورنہ معنی بگڑ جاتا ہے۔ (یہ آیت مخالف عصمت نہیں کیونکہ یہ قضیہ شرطیہ ہے جس کے طرفین کا صدق لازم نہیں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے دوسری آیت ان کان لِلرَّحْمٰنِ ولد فانا اول العابدین)
Ayah 2:146

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ ان (پیغمبر آخرالزماں ﷺ کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے

تفسیر آیت یعرفون ابناء ھم 146: اَلَّذِیْنَ ٰاتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآئَ ہُمْ : (جن کو ہم نے کتاب دی وہ محمد ﷺ کو پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں) نحو۔ الذین یہ کلام مبتدا اور یعرفونہ اس کی خبر ہے ہٗ کی ضمیر سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ یہی را جح ہے۔ بعض نے قرآن اور تحویل قبلہ بھی کہا مگر وہ مرجوح ہے۔ کیونکہ کما یعرفون ابناء ھم فرمایا۔ اگر ضمیر قرآن کی طرف لوٹتی تو ابناء کی بجائے تورات لاتے۔ عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا میں آپ کو اپنے بیٹے سے بھی زیادہ پہچانتا ہوں۔ عمر ؓ نے کہا وہ کیسے ؟ تو انہوں نے جواب دیا مجھے محمد ﷺ کے نبی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ باقی میرا بیٹا (تو اسکے متعلق گمان ہے) شاید اسکی والدہ نے خیانت کی ہو۔ اس پر عمر ؓ نے انکے سر کو چوما۔ وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنْھُمْ لَیَکْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ : (کچھ لوگ ان میں سے حق کو چھپاتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں) فریق سے مراد وہ لوگ ہیں جو اسلام نہیں لائے اور ان کی حق پوشی کی بنیاد حسد وعناد ہے۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کی کتاب میں واضح کردیا۔
Ayah 2:147

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ نیا قبلہ) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

الحق کی مراد : 147۔ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ : (حق وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے پس آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں) الحق۔ نمبر 1۔ الف لام جنس کا ہے یعنی حق وہی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ نہ کہ کسی غیر کی طرف سے۔ مطلب یہ ہے کہ حق وہی ہے جس کا برحق ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثابت ہو۔ جیسا کہ وہ جس پر آپ ہیں اور جس کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق ہونا ثابت نہ ہو وہ باطل ہے۔ جیسا کہ اہل کتاب جس کو لیے پھرتے ہیں۔ نمبر 2: یا الف لام عہد کا ہے اس سے خاص وہ حق مراد ہے۔ جس پر رسول اللہ ﷺ تھے۔ نحو : الحق مبتداء من ربک خبر ہے۔ یا مبتداء محذوف ہو اور یہ خبر اور من ربک دوسری خبر یا حال۔ الممترین کا معنی رب تعالیٰ کی طرف سے ہونے میں شک کرنے والے۔
Ayah 2:148

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

اور ہر ایک (فرقے) کیلئے ایک سمت (مقرر) ہے جدھر وہ (عبادت کے وقت) منہ کیا کرتے ہیں تو تم نیکیوں میں سبقت حاصل کرو تم جہاں ہو گے خدا تم سب کو جمع کرلے گا بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

تفسیر آیت 148: وَلِکُلٍّ وِّجْھَۃٌ ہُوَ مُوَلِّیْھَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یَاْتِ بِکُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ: ( ہر ایک کے لئے ایک سمت ہے جس کی طرف وہ منہ کرنے والا ہے پس تم نیکیوں کی طرف سبقت کرو۔ تم جہاں کہیں ہو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اکٹھا لائے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے) یعنی ادیان مختلفہ میں سے ہر گروہ کا ایک قبلہ ہے۔ مرجع ضمیر : حضرت ابی ؓ کی قراءت میں وجھۃ کو وجھہٗ پڑھا۔ ہُوَ ۔ یہ کل کی طرف لوٹنے والی ضمیر ہے۔ مولیھا۔ نمبر 1۔ ہا ضمیر وجھۃ کی طرف لوٹتی ہے۔ یعنی ہو مولیھا وجھۃ۔ وہ پھیرنے والا ہے اس کی طرف اپنا منہ۔ پس ایک مفعول حذف کردیا۔ دوسرا قول : ہُوَ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے یعنی اللہ تعالیٰ خاص اس کو اس کی طرف پھیرنے والے ہیں۔ قراءت : شامی (رح) نے مُوَلاَّھَاپڑھا یعنی وہ حقیقی مولیٰ ہے اس جہت کا جس کا یہ والی بنایا گیا۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ ہر امت خواہ تم میں سے ہو یا تمہارے غیروں میں سے اس کے لئے ایک قبلہ ہے جس کی طرف وہ متوجہ ہوتی ہے۔ سبقت کی تفسیر میں اقوال : فاستبقوا الخیرات۔ تم بھلائیوں کی طرف دوسروں سے آگے بڑھو۔ خواہ وہ قبلہ کا معاملہ ہو یا دیگر این ماتکونوا۔ یعنی جہاں بھی تم ہو اور تمہارے دشمن ہوں گے۔ یاتِ بکم اللّٰہ جمیعا۔ اللہ عزوجل تم کو لے آئے گا قیامت کے دن پس حق پرست اور باطل پرست کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ دوسرا قول : ( اے امت محمد ﷺ ! تم میں سے ہر ایک کیلئے ایک طرف ہے جنوبی یا شمالی یا شرقی یا غربی جس کی طرف منہ کر کے وہ نماز پڑھتا ہے۔ تم اطراف کے فاصلوں کی طرف سبقت کرو۔ وہی اطراف کعبہ کی چوکھٹ ہے۔ اگرچہ وہ مختلف ہیں۔ این ماتکونوا۔ تم مختلف جہات میں سے جس طرف ہو گے۔ یاتِ بکم اللّٰہ یعنی اللہ تم کو جمع کردیں گے اور تمہاری نماز کو اس طرح قرار دیں گے۔ گویا وہ ایک طرف ہی پڑھی گئی اور گویا تم سب مسجد حرام میں حاضر ہو کر نماز پڑھ رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر قدرت حاصل ہے۔
Ayah 2:149

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

اور تم جہاں سے نکلو (نماز میں) اپنا منہ مسجد محترم کی طرف کرلیا کرو بےشبہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو خدا اس سے بیخبر نہیں

تفسیر آیت 149: وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۔ وَاِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ : (جس جگہ سے آپ نکلیں تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرلیں اور وہی حق ہے تیرے رب کی طرف سے اور اللہ ان کاموں سے جو تم کرتے ہو بیخبر نہیں) ومن حیث یعنی شہر سے تم سفر کے لئے نکلو تو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لو۔ جب نماز پڑھو۔ وانہٗ ۔ بیشک یہ حکم تیرے رب کی طرف سے برحق ہے اور اللہ تعالیٰ بیخبر نہیں ان کاموں سے جو تم کرتے ہو۔ قراءت : ( ابو عمرو نے یاء کے ساتھ پڑھا۔ یعملون۔
Ayah 2:150

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور تم جہاں سے نکلو مسجد محترم کی طرف منہ (کر کے نماز پڑھا کرو) اور (مسلمانو ! ) تم جہاں ہوا کرو اسی (مسجد) کی طرف رخ کیا کرو (یہ تاکید) اس لئے (کی گئی ہے) کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں مگر ان میں سے جو ظالم ہیں (وہ الزام دیں تو دیں) سو ان سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور یہ بھی مقصود ہے کہ میں تم کو اپنی نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہ راست پر چلو

تفسیر آیت 150 … وجہ تاکید : وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْثُ مَاکُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہ ‘: ( اور اے محمد ﷺ جہاں کہیں سے آپ نکلیں تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرلیجئے۔ اور اے مسلمانو ! تم جہاں کہیں ہو تو اپنا منہ اس طرف کرلیا کرو۔ ) ومن حیث سے حکم کو دوبارہ بیان کر کے تاکید کردی اور حکم کو پختہ کردیا۔ کیونکہ نسخ کا حکم محل فتنہ اور شبہ کا باعث ہے پس مناسب ہوا کہ مسئلہ دوبارہ لائے تاکہ وہ ثابت قدم ہوجائیں اور ہر ایک موقعہ سے وہ چیزیں معلق کیں جو دوسرے مقام میں معلق نہ کیں۔ جس سے دوبارہ لانے سے فوائد مختلف ہوگئے۔ پہلی مرتبہ شرف ِنبوی کو اوّل مرتبہ ذکر کیا۔ پھر علت ذکر کی۔ کہ ہر نبی کا قبلہ الگ ہوتا ہے اس آیت میں شرف نبوی اور علت دونوں کو ذکر کردیا۔ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ : ( تاکہ لوگوں کا تم پر الزام نہ رہے) یعنی تمہیں اللہ تعالیٰ نے قبلہ کے سلسلہ میں حجت کا طریقہ بتلایا۔ جو کہ ولکل وجھۃ میں ذکر کیا گیا۔ الناس سے مراد یہود ہیں۔ علیکم حجۃ تورات میں جو تحویل قبلہ مذکور ہے اس کے خلاف کوئی دلیل نہ رہے۔ یہاں معاندین کی بات کو حجت کہا۔ کیونکہ وہ اپنی بات بطور حجت ہی کرتے تھے۔ ترک بیت المقدس قوم کی رعایت ہے : اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ : ( سوائے ان لوگوں کے جو ان میں ظالم ہیں) نمبر 1۔ یہ الناس سے استثناء ہے یعنی تاکہ لوگوں کے پاس کوئی حجت جس سے وہ تم پر اعتراض کرسکیں نہ رہے۔ مگر ظالم کہ ان کے پاس تو سرے سے حجت ہوتی ہی نہیں۔ یہود اس طرح کہتے ہیں۔ کہ اس نے بیت المقدس کا قبلہ اپنی قوم کی رعایت کی خاطر ترک کیا ہے اور اپنے وطن کی محبت کی خاطر چھوڑا ہے۔ اگر یہ حق پر ہوتے تو انبیاء ( علیہ السلام) کے قبلہ کو لازم پکڑتے۔ ظالم سے مراد کون ؟ نمبر 2۔ دوسرا قول : یہ ہے تاکہ عرب کے پاس تمہارے خلاف الزام اعتراض نہ رہے۔ کہ تم نے کعبہ کی طرف منہ کرنا ترک کردیا۔ جو کہ ابراہیم ( علیہ السلام) و اسماعیل ( علیہ السلام) کا قبلہ ہے جو کہ تمام عرب کے جد امجد ہیں۔ مگر وہ لوگ جو ان میں سے ظالم ہیں اور وہ اہل مکہ ہیں کہ جو ‘ اب اس طرح کہنے لگے ہیں کہ اب اپنے آبائو اجداد کے قبلہ کی طرف لوٹنا شروع ہوئے ہیں۔ عنقریب انکے دین کی طرف بھی لوٹ آئینگے۔ طعن سے مت گھبرائو : فَلاَ تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِیْ وَلِاُ تِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ : ( پس تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ہی ڈرو۔ تاکہ میں اپنا فضل تم پر پورا کروں اور تم ہدایت پائو) فلا تخشوہم یہ جملہ مستانفہ بطور تنبیہ لایا گیا۔ کہ تم اے مسلمانو ! کفار کے قبلہ کے سلسلہ میں طعن وتشنیع سے مت گھبرائو۔ انکے طعن تمہارا کچھ بھی نقصان نہ کرسکیں گے اور مجھ سے ڈرو اور میرے حکموں کی مخالفت نہ کرو۔ نحوی تحقیق : ولا تم۔ نمبر 1۔ یہ لئلا پر عطف ہے یعنی عرفتکم لئلا یکون حجۃ ولا تم نعمتی علیکم بہدایتی ایا کم الی الکعبۃ۔ میں نے تمہیں بتلا دیا تاکہ تمہارے خلاف ان کے پاس کوئی حجت نہ رہے اور تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں تمہاری کعبہ کی طرف راہنمائی کروں تاکہ تم قبلہ ٔ ابراہیم کی طرف راہ پائو۔
Ayah 2:151

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

جس طرح (من جملہ نعمتوں کے) ہم نے تم میں تمہیں میں سے ایک رسول بھیجے ہیں جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور تمہیں پاک بناتے اور کتاب (یعنی قرآن) اور دانائی سکھاتے ہیں اور ایسی باتیں بتاتے ہیں جو تم پہلے نہیں جانتے تھے

تفسیر آیت 151: کَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلاً مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عََلَیْکُمْ ٰایٰتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ۔ (جیسا کہ بھیجا ہم نے تم میں ایک رسول تم ہی میں سے جو پڑھتے ہیں تم پر ہماری آیات اور تم کو پاک و صاف کرتے ہیں اور کتاب و حکمت تم کو سکھاتے ہیں اور جو باتیں تم نہ جانتے تھے وہ تم کو بتاتے ہیں) کاف کا تعلق ماقبل سے ہے یا ما بعد سے : قول اوّل : ( کما ارسلنا۔ کاف کا تعلق ماقبل سے مانیں تو عبارت اس طرح ہوگی۔ ولا تم نعمتی علیکم فی الاٰخرۃ بالثواب کما اتممتہا علیکم فی الدنیا بارسال الرسول۔ اور تاکہ میں اپنی نعمت تم پر آخرت میں ثواب دے کر پوری کروں کہ جس طرح کہ میں نے اس نعمت کو دنیا میں رسول بھیج کر پورا کیا۔ اس صورت میں تھتدون پر وقف نہیں۔ دوسرا قول : ( کاف کا تعلق مابعد سے ہو۔ ای کما ذکرتکم بارسال الرسول فاذکرونی بالطاعۃ اذکرکم بالثواب یعنی جس طرح میں نے تمہیں رسول بھیج کر یاد رکھا۔ تو تم اطاعت سے مجھے یاد رکھو۔ میں ثواب سے تمہیں یاد رکھوں گا۔ اس صورت میں تھتدون پر وقف لازم ہے۔ منکم سے عرب مراد ہیں۔ یتلوا کا معنی پڑھتا ہے۔ ٰایاتنا سے قرآن مجید اور الکتاب سے بھی قرآن مجید مراد ہے الحکمۃ سے سنت و فقہ مالم تکونوا تعلمون سے مراد وہ باتیں ہیں کہ جن کی پہچان کا سوائے وحی کے کوئی راستہ نہ تھا۔
Ayah 2:152

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد کیا کرونگا اور میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا

تفسیر آیت 152… ذکر کی بابت چھ اقوال : فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْالِیْ وَلَا تَکْفُرُوْنِ : ( تم مجھے یاد رکھو میں تم کو یاد رکھوں گا۔ اور میرا احسان مانو اور میری ناشکری نہ کرو) نمبر 1۔ فاذکرونی پس تم مجھے مقدور بھر یاد کرو۔ اذکرکم میں تمہیں مغفرت سے یاد کروں گا۔ دوسرا قول : تم مجھے ثناء سے یاد کرو۔ میں عطاء سے یاد کروں گا۔ تیسرا قول : تم سوال سے یاد کرو۔ میں نوال سے یاد کروں گا۔ چوتھا قول : تم توبہ سے یاد کرو۔ میں معافی سے یاد کروں گا۔ پانچواں قول : تم اخلاص سے یاد کرو۔ میں چھٹکارے سے یاد کروں گا۔ چھٹا قول : تم مناجات سے یاد کرو۔ میں نجات سے یاد کروں گا۔ واشکروالی۔ تم میرا ان نعمتوں پر شکریہ ادا کرو۔ جو میں نے تمہیں دیں۔ ولا تکفرون۔ تم میری نعمتوں کا انکار نہ کرو۔
Ayah 2:153

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بیشک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

تفسیر آیت 153 : یٰٓـاَ ۔ یُّـہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ : ( اے ایمان والو مدد حاصل کرو صبر اور نماز سے بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں) صبر سے ہر فضیلت حاصل کی جاتی ہے۔ الصلٰوۃ، نماز ہر رذیلہ سے روکنے والی ہے۔ مع الصابرین۔ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت اور قبول دعا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
Ayah 2:154

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں ان کی نسبت یہ نہ کہنا کہ وہ مرے ہوئے ہیں (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے

تفسیر آیت 154: شہدائے بدر : وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْیَآئٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ : ( اور تم نہ کہو ان کو جو لوگ مارے جائیں اللہ کی راہ میں کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم سمجھ نہیں سکتے) ولا تقولوا یہ شہدائے بدر کے متعلق نازل ہوئی ان کی تعداد چودہ تھی۔ اموات یہ مبتدا محذوف ہُمْکی خبر ہے کہ وہ مردہ ہیں۔ بل احیاء یعنی وہ زندہ ہیں۔ عدم شعور کی تفسیر : لاتشعرون۔ یعنی تم اس کو نہیں جانتے۔ کیونکہ شہید کی زندگی حساً معلوم نہیں ہوسکتی۔ حضرت حسن ؓ سے مروی ہے کہ شہداء اللہ کے ہاں زندہ ہیں۔ ان کا رزق ان کی ارواح کو پہنچایا جاتا ہے پس ان کو راحت و خوشی پہنچتی ہے جیسا کہ آگ اٰل فرعون کی ارواح پر صبح و شام پیش کی جاتی ہے۔ پس ان کو اس سے تکلیف پہنچتی ہے حضرت مجاہد (رح) کہتے ہیں ان کو جنت کے پھلوں سے رزق ملتا ہے اور اس کی ہوائیں ان کو پہنچتی ہیں۔ مگر وہ جنت میں نہیں۔
Ayah 2:155

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میووں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے تو صبر کرنے والوں کو (خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنادو

معمولی مصائب سے آزمائش : 155۔ وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَ نْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ وَبَشِّرِالصّٰبِرِیْنَ : ( اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کسی قدر ڈر اور بھوک اور اموال وانفس اور پھلوں کی کمی سے اور اے محمد ﷺ خوش خبری سنا دیں صبر کرنے والوں کو) ولنبلونکم یعنی ہم کسی قدر مصائب پہنچا کر برکات سماویہ سے مستفید کریں گے جیسے کوئی کسی قوم کو آزمائے آیا وہ بلاء پر صبر کرتے ہیں یا نہیں اور اطاعت پر باقی رہتے ہیں یا نہیں۔ بشیء۔ یعنی تھوڑے سے ان مصائب میں سے اور معمولی سے۔ تنوین تنکیر شیء پر لا کر انتہائی قلت بیان کردی۔ تاکہ بتلا دیا جائے کہ ہر مصیبت جو انسان کو پہنچتی ہے خواہ وہ کتنی بڑی ہو مگر وہ ان مصائب کے مقابلہ میں قلیل ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے بچایا ہوا ہے۔ تاکہ ان بندوں کو دکھلا دیا جائے کہ اللہ کی رحمت کسی حال میں بھی بندے سے جدا نہیں اور مصیبت کے وقوع سے پہلے یہ پیشینگوئی اس لئے دی تاکہ نزول مصائب کے وقت نفس مطمئن رہے اور وہ پریشانی کے وقت اس کو برداشت کرنے کا خوگر بنا لے۔ من الخوف۔ خوف سے دشمن کا خوف یا اللہ کا خوف مراد ہے۔ والجوع سے قحط یا بقول امام شافعی (رح) صوم رمضان مراد ہے۔ ونقص من الاموال والانفس۔ کبھی مویشیوں کی موت یا زکوٰۃ سے (ظاہر ہوگی) نحو : اس کا عطف شی ئٍ پر یا خوف پر ہے یعنی شیء من نقص الاموال۔ تھوڑی سی اموال کی کمی سے والا نفس۔ نفوس کی کمی قتل یا موت یا مرض یا بڑھاپے سے۔ والثمرٰت۔ ثمرات کی کمی سے۔ کھیتی کے ثمرات (غلہ و پھل) یا اولاد کی موت) (بمنزلہ ثمرہ ہے) اولاد بمنزلہ ثمرہ قلب ہے۔ صبر والے لوگ : بشر الصابرین۔ تم انکو خوش خبری دو ۔ جو ان مصائب پر صبر کرنے والے ہیں۔ یا مصائب کے وقت انا للہ کہنے والے ہیں۔ کیونکہ استرجاع اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا اور اسکے حکموں پر یقین کرنا ہے حدیث میں آتا ہے جس نے مصیبت کے وقت استرجاع کیا اللہ تعالیٰ اسکی مصیبت کو درست کردیتے ہیں اور اسکا انجام اچھا کردیتے ہیں اور اچھا پسندیدہ بدلہ عنایت فرماتے ہیں۔ (بیہقی۔ طبرانی) روایت ابودائود میں ہے کہ آپ ﷺ کا چراغ بجھ گیا۔ تو آپ ﷺ نے انا للہ پڑھا تو صحابی ؓ نے عرض کیا کیا یہ مصیبت ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جی ہاں ! ہر وہ چیز جس سے مومن کو ایذاء پہنچے۔ (ابودائود) کم کا مخاطب : کم نمبر 1۔ کا خطاب رسول اللہ ﷺ کو کیا گیا۔ نمبر 2۔ دوسرا قول : ہر وہ شخص مراد ہے جو بشارت کے لائق ہو۔
Ayah 2:156

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

تفسیر آیت 156: الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّـآ اِلَـیْہِ رٰجِعُوْنَ : (جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں) نحوی تحقیق : نمبر 1۔ الذین۔ صابرین کی صفت ہونے کی بناء پر منصوب ہے اس صورت میں اس پر وقف نہیں۔ بلکہ راجعون پر وقف ہے۔ نمبر 2۔ صابرین پر وقف کریں تو الذینمبتدا ہے اور اولٰئک خبر ہے۔ مگر پہلی صورت زیادہ بہتر ہے کیونکہ الذین اور اس کا صلہ وغیرہ صبر کا بیان ہے۔ اذا اصابتھم مصیبۃ سے مراد ناپسندیدہ بات یہ اسم فاعل کا صیغہ ہے اور اصابت کا معنی لحقت بمعنی پہنچنا۔ ملنا ہے۔ مصیبۃ پر وقف نہیں کیونکہ ٗ قالوا یہ اذا کا جواب ہے اور یہ شرط جزاء مل کر الذین کا صلہ ہے۔ انا لِلّٰہ۔ یہ اللہ کی مالکیت کا اقرار و اعتراف ہے اور انا الیہ راجعون اپنے نفوس کے متعلق فناء کا اقرار ہے۔
Ayah 2:157

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی مہربانی اور رحمت ہے اور یہی سیدھے راستے پر ہیں

تفسیر آیت 157: اُولٰٓپکَ عَلَیْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَ َرحْمَۃٌ وَاُولٰٓپکَ ہُمُ الْمُھْتَدُوْنَ : (یہ وہی لوگ ہیں جن پر رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت پر ہیں) رحمت و صلوٰۃ کے جمع کی حکمت : الصلوات جمع صلوٰۃً شفقت و مہربانی۔ اس کو رأفۃ بمعنی مہربانی کی جگہ لائے اور رحمت اور صلوٰۃ کو جمع کردیا۔ جیسا سورة التوبۃ آیت نمبر 117 میں رؤف رحیم۔ اور سورة الحدید میں رأفۃ و رحمۃ۔ اب مطلب یہ ہوا ان پر مہربانی کے بعد مہربانی اور رحمت کے بعد رحمت ہے۔ (صلوٰت کو جمع لانے میں انواع کی طرف اشارہ ہے) و اولئک ہم المھتدون۔ وہ ‘ وہی راہ پانے والے ہیں۔ سیدھے راستے کی طرف اس لئے کہ انہوں نے استرجاع کیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر یقین کیا۔ حضرت عمر ؓ نے کہا۔ دو چیزیں بہترین ساتھی ہیں اور ان پر ایک شاندار اضافہ ہے اور وہ صلوٰۃ اور رحمت ہیں اور اضافہ زیادتی ہدایت ہے۔
Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

بیشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو شخص خانہ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے (بلکہ طواف ایک قسم کا نیک کام ہے) اور جو کوئی نیک کام کرے تو خدا قدر شناس اور دانا ہے

تفسیر آیت 158: اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآپرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِاعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیْمٌ: (بےشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہے جو بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے۔ تو اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے اور جو شوق سے کوئی نیکی کرے۔ پس بیشک اللہ تعالیٰ قدر دان واقف کار ہیں) ان الصفا و المروۃ۔ صفا ومروہ مکہ میں دو پہاڑ ہیں۔ من شعائر اللّٰہ۔ شعائر جمع شعیرۃ علامت کو کہتے ہیں۔ شعائر اللہ سے مراد عبادت کے مقام اور حج کے مقامات ہیں حج البیت کا معنی کعبہ کا قصد کرنا۔ اعتمر زیارت کعبہ کرنا حج لغت میں قصد کرنے اور اعتمار زیارت کرنے کو کہتے ہیں پھر شرعی معنی غالب آگیا۔ اب دو عبادتوں کے نام ہیں۔ اس کی مثال اعیان میں النجم ٗ البیت ہے۔ لا جناح سے نفی گناہ : فلا جناح علیہ یعنی اس پر گناہ نہیں۔ نحو : ان یطوف بھما تاء کو طا میں ادغام کیا یتطوف سے یطوف بن گیا۔ الطّوف۔ کسی چیز کے گرد چلنا۔ یہاں مراد دونوں کے درمیان سعی کرنا ہے جاہلیت میں صفا پر اساف اور مروہ پر نائلہ دو بت نصب کیے گئے تھے۔ روایت میں ہے کہ یہ دو مرد عورت تھے جنہوں نے کعبہ میں زنا کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مسخ کر کے پتھر بنادیا۔ عبرت کے لئے ان کو پہاڑوں پر رکھ دیا گیا۔ جب طویل عرصہ گزر گیا۔ تو ان کی پوجا شروع ہوگئی۔ اہل جاہلیت سعی میں ان کو ہاتھ لگاتے تھے۔ اسلام نے آ کر بت تڑوا دیئے۔ مسلمانوں نے جاہلیت کا فعل سمجھ کر ان کے درمیان طواف کو ناپسند کیا۔ لاجناح کہہ کر گناہ کی نفی کی گئی ہے۔ نکتہ ٔ فقہیہ : معلوم ہوا کہ ان کے درمیان سعی رکن نہیں جیسا کہ امام مالک و شافعی رحمہما اللہ کا قول ہے۔ ومن تطوع خیرا۔ جو کوئی شوق سے کوئی نیکی ٗ ان کا طواف کر کے کرے۔ نکتہ ٔ فقہیہ : یہاں بھی تطوع کا لفظ رکن نہ ہونے کا اشارہ کر رہا ہے۔ قراءت : حمزہ اور علی نے یطّوّع یا سے پڑھا اصل میں یتطوع ہے تاء کو طا میں ادغام کیا۔ فان اللّٰہ شاکر علیم۔ بیشک اللہ قدر دان ہیں قلیل پر کثیر بدلہ دیتے ہیں۔ علیم۔ جاننے والے ہیں اشیاء کو خواہ چھوٹی ہوں یا بڑی۔
Ayah 2:159

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

جو لوگ ہمارے حکموں اور ہدایتوں کو جو ہم نے نازل کی ہیں (کسی غرض فاسد سے) چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم نے ان لوگوں کے (سمجھانے کے) لیے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے ایسوں پر خدا اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں

تفسیر آیت 159: اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالْھُدٰی مِنْم بَعْدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتٰبِ اُولٰٓپکَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰہُ وَیَلْعَنُھُمُ اللّٰعِنُوْنَ : ( بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں وہ کھلی نشانیاں جو ہم نے فیصلہ اور ہدایت کی اتاریں۔ اسکے بعد کہ ہم نے ان کو کتاب میں لوگوں کیلئے بیان کردیا۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے ان پر لعنت کرتے ہیں) الذین یکتمون یہ چھپانے والے علمائے یہود ہیں۔ ما انزلنا جو اتاری یعنی تورات۔ البینات سے وہ نشانیاں مراد ہیں جو حضرت محمد ﷺ کے متعلق شاہد عدل تھیں۔ الہدٰی۔ ہدایت سے مراد آپ ﷺ کے وصف کے سبب اسلام کی طرف راہ پانا ہے بیناہ جس کو ہم نے واضح کردیا۔ للناس فی الکتاب۔ لوگوں کے لئے تورات میں کہ اس میں کوئی اشکال کی جگہ نہیں چھوڑی مگر انہوں نے اس واضح کا قصد کر کے اس کو چھپا دیا۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ لعنت کرتے ہیں اور ان پر ملائکہ اور مومن لعنت کرتے ہیں۔
Ayah 2:160

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الٰہی کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں

تفسیر آیت 160: اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓپکَ اَتُوْبُ عَلَیْہِمْ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ : ( مگر جن لوگوں نے توبہ کی اور اصلاح کی اور صاف صاف بیان کردیا۔ پس یہ لوگ ہیں جن کی توبہ میں قبول کروں گا اور میں توبہ کا بڑا قبول کرنے والا مہربان ہوں) تابوامگر جن لوگوں نے کتمان حق اور ترک ایمان سے توبہ کی۔ اور اصلحوا اور اصلاح کرلی اس خرابی کی جو کر بیٹھے تھے اور جو زیادتی ہوئی تھی اس کا تدارک کرلیا۔ اولٰٓپک اتوب علیہم۔ ان کی توبہ میں قبول کروں گا اور میں توبہ قبول کرنے والا مہربان ہوں۔
Ayah 2:161

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ایسوں پر خدا کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی لعنت

مستحقینِ لعنت : 161: اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَہُمْ کُفَّارٌ اُولٰٓپکَ عَلَیْہِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلٰٓپکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ : (بےشک جنہوں نے کفر کیا اور کفر پر مرگئے انہی لوگوں پر اللہ تعالیٰ اور ملائکہ اور تمام آدمیوں کی پھٹکار ہے) ان الذین کفروا وماتوا وہم کفار۔ یعنی ان حق چھپانے والوں میں سے جو مرگئے اور توبہ نہ کی۔ کیا الناس سے مومن و کافر دونوں مراد ہیں : اُولٰٓپکَ عَلَیْہِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلٰٓپکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ۔ ان پر اللہ ملائکہ و تمام لوگوں کی زندگی اور موت کے بعد لعنت ہوگی۔ الناس سے مومن مراد ہیں۔ یا مومن و کافر دونوں مراد ہیں۔ اس لئے کہ قیامت کے دن وہ ایک دوسرے کو لعنت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة الاعراف آیت نمبر 38 میں فرمایا : کُلَّمَا دَخَلَتْ اُ مَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَہَا کہ جب ان میں سے ایک جماعت جہنم میں داخل ہوچکے گی۔ تو اپنے بعد میں آنے والی جماعت کو لعنت کرے گی۔
Ayah 2:162

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

وہ ہمیشہ اسی (لعنت) میں (گرفتار) رہیں گے، ان سے نہ تو عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں (کچھ) مہلت ملے گی

تفسیر آیت 162… ینظرون کا معنی : خٰلِدِیْنَ فِیْھَا لَا یُخَفَّفُ عَنْھُمُ الْعَذَابُ وَلَا ھُمْ یُنْظَرُوْنَ : (ان سے عذاب کو ہلکا نہ کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت ملے گی) خالدینیہ علیہم کی ہُمْ ضمیر سے حال ہے فیھا اس لعنت میں یا آگ میں ضمیر لائی گئی اس چیز کی بڑائی بیان کرنے اور ڈرانے کے لئے۔ ان سے عذاب کو ہلکا نہ کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔ نمبر 1۔ ینظرون۔ انظار سے ہے جس کا معنی مہلت دینا ہے۔ یعنی معذرت کرنے کے لئے مہلت نہ دی جائے گی۔ یا دوسرا قول : یہ ہے کہ یہ نظر سے ہے کہ ان کو نظر رحمت سے نہ دیکھا جائے گا۔ جیسا فرمایا۔ ولا ینظرا لیھم یوم القیٰمۃ (الاٰیۃ)
Ayah 2:163

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

اور (لوگو ! ) تمہارا معبود خدائے واحد ہے اس بڑے مہربان (اور) رحم والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

تفسیر آیت 163: وَاِلٰھُکُمْ اِلٰــہٌ وَّاحِدٌ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ : (تمہارا معبود وہ ایک ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بڑا رحم کرنے والا مہربان ہے) ۔ الٰہ واحد۔ الوہیت میں یکتا ہے۔ الوہیت میں اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ دوسرے کو اِلٰہ کا نام دینا درست ہے۔ لا الٰہ الا ہو۔ اس میں وحدانیت کی تقریر اور غیر کی نفی اور اس کے لئے اثبات ہے۔ نحوی تحقیق : ہو مرفوع ہے۔ کیونکہ یہ موضع لا الٰہ کا بدل ہے یہاں نصب جائز نہیں۔ کیونکہ بدل دلالت کرتا ہے کہ اعتماد دوسرے پر ہے اور آیت میں مقصود یہی ہے۔ اگر نصب مانیں تو اس میں اول پر اعتماد ماننا پڑتا ہے (جو کہ درست نہیں) نحو : الرحمٰن الرحیم۔ مرفوع ہے یہ مبتدا کی خبر ہے یعنی وہ تمام نعمتیں۔ وہ اصول ہوں یا فروع ان کا والی ہے۔ کوئی چیز اس کے سواء یہ صفت نہیں رکھتی۔ جو اس کے سواء ہے وہ یا تو خود نعمت ہے بلکہ بدل ہیں کیونکہ ضمیر کی صفت نہیں آتی۔ اب مطلب یہ ہوا کوئی معبود نہیں۔ مگر وہی یعنی بڑا مہربان نہایت رحم والا۔
Ayah 2:164

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں (اور جہازوں) میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لیکر رواں ہیں اور مینہ میں جس کو خدا آسمان سے برساتا اور اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ (یعنی خشک ہوئے پیچھے سرسبز) کردیتا ہے اور زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں اور ہواؤں کے چلانے میں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں عقلمندوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں

توحید کے دلائل عقلیہ : 164۔ شان نزول : مشرکین کو اکیلے معبود پر تعجب ہوا تو انہوں نے اس پر نشانی کا مطالبہ کیا تو یہ آیت اتری۔ اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ مَّآئٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَ بَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِبَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ : (بےشک زمین و آسمان کے پیدا کرنے اور دن رات کی آمدورفت میں اور جہازوں میں جو سمندر میں چلتے ہیں وہ چیزیں لے کر جس سے لوگوں کو نفع ہوتا ہے اور پانی میں جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اتارا پھر اس سے زمین کو زندہ کردیا۔ اس کی موت کے بعد اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیئے اور ہوائوں کے پھیرنے میں اور بادل میں جو آسمان و زمین کے درمیان تابع کیے ہوئے ہیں۔ ان سب میں سمجھدار لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں) اختلاف الیل والنھار۔ دن و رات۔ رنگ میں۔ طول و قصر میں اور آنے جانے میں ایک دوسرے کے پیچھے آنے میں مختلف ہیں۔ ینفع الناس۔ کشتی میں جو چیزیں لاد کر لائی جاتی ہیں۔ اس سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یا کشتیاں لوگوں کے نفع کے ساتھ چلتی ہیں۔ یعنی چلنے میں فائدہ ہے۔ من السماء۔ یہ من ابتدائیہ ہے من مائٍ سے بارش مراد ہے یہ من بیانیہ ہے کیونکہ آسمان سے اترنے والی بارش اور دوسری چیزیں ہیں۔ فاحیابہ۔ اس کو انزال پر عطف کیا۔ بہ یعنی پانی کے ساتھ۔ الارض بعد موتھا۔ موت سے مراد خشک ہونا ہے وبث کو فاحیا پر عطف کیا۔ بَثَّ کا معنی بکھرنا ہے فیھا یعنی زمین میں من کل دآبۃ۔ دآبۃ وہ ہے جو رینگ کر چلے۔ ہوائوں کے پھرنے کا معنی : و تصریف الریاح۔ نمبر 1۔ ہوائوں کا پھیرنا ان کا مشرق و مغرب اور جنوب و شمال سے چلنا اور گرم و ٹھنڈا اور تند، ہلکا اور فائدہ مند اور مضر ہونا ہے۔ نمبر 2۔ دوسرا قول کبھی رحمت کی اور کبھی عذاب کی۔ السحاب المسخر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطیع ہیں۔ جہاں چاہتا ہے وہاں برستے ہیں۔ بین السمآء والارض آسمان و زمین کے درمیان یعنی فضا میں لقوم یعقلون۔ عقل مندوں کے لئے جو عقل کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس ان اشیاء سے ان کے ایجاد کرنے والے کی عظیم قدرت اور نو ایجاد کرنے والے کی حکمت اور پیدا کرنے والے کی وحدانیت پر استدلال کرنے والے ہیں۔ عظیم فائدہ : حدیث شریف میں فرمایا جس نے یہ آیت پڑھی اور اس میں سوچ و بچار کر کے اس سے عبرت حاصل نہ کی اس کے لئے ہلاکت ہے (دیلمی)
Ayah 2:165

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ Open ayah 2:165 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک (خدا) بناتے اور ان سے خدا کی سی محبت کرتے ہیں لیکن جو ایمان والے ہیں وہ تو خدا ہی کے سب سے زیادہ دوست دار ہیں اور اے کاش ظالم لوگ جو بات عذاب کے وقت دیکھیں گے اب دیکھ لیتے کہ سب طرح کی طاقت خدا ہی کو ہے اور یہ کہ خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

موحد و مشرک کا انداز محبت : 165۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَھُمْ کَحُبِّ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ وَلَوْ یَرَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا وَّاَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ : (بعض لوگ اللہ کے سوا اوروں کو شریک بناتے ہیں اور جو ایمان والے ہیں ان کو ان سے زیادہ اللہ کی محبت ہے اگر کوئی ان ظالموں کو دیکھے جبکہ یہ عذاب دیکھیں گے (تو یہ بڑے خوف کا وقت ہوگا) اس لئے کہ ہر طرح کی قوت اللہ ہی کے لئے ہے بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے) ومن الناس۔ یعنی اس واضح دلیل کے بعد بھی لوگ من دون اللّٰہ اندادا۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بتوں کو شریک بناتے ہیں۔ یحبونھم۔ یعنی بتوں کی ایسی تعظیم کرتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی جاتی ہے اور ان کے سامنے عاجزی کرتے ہیں یعنی بتوں سے اس طرح محبت کرتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ سے محبت کی جاتی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور ان کی محبت میں برابری کرتے ہیں کیونکہ وہ ذات باری تعالیٰ کا اقرار کرتے اور اس کا قرب ان کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ دوسرا قول : ان سے وہ محبت کرتے ہیں جس طرح مومن اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں والذین ٰامنوا اشد حبا للّٰہ۔ اور ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ سے زیادہ محبت ہے۔ مشرکین کی اس محبت کے مقابلے میں جو ان کو اپنے معبودوں سے ہے۔ کیونکہ مومن کسی حال میں بھی اپنے رب سے منہ موڑنے والا نہیں۔ بخلاف مشرکین کے کہ وہ سخت مصائب میں اپنے معبودوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کے سامنے گڑ گڑاتے اور عاجزی کرتے ہیں۔ اختلافِ قراءت : ولو یری۔ کو نافع اور شامی نے تَرٰی پڑھا ہے اس صورت میں خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہوگا۔ یا ہر مخاطب کو۔ مطلب یہ ہوگا کہ اے مخاطب اگر تو وہ منظر دیکھے تو بہت سخت معاملہ دیکھے گا۔ الذین ظلموا۔ سے مراد شریک بنانے والے لوگ ہیں۔ اِذْ یَرَوْنَکو یا کے ضمہ کے ساتھ یُرَوْنَ شامی نے پڑھا ہے اول صورت میں جب وہ دیکھیں گے اور دوسری صورت میں جب وہ دکھائے جائیں گے۔ ناقابلِ بیان حسرت : العذاب ان القوۃ لِلّٰہ جمیعا۔ جمیعاً یہ حال ہے۔ وان اللّٰہ شدید العذاب۔ یعنی سخت ہے اس کا عذاب۔ اب مطلب آیت کا یہ ہوا۔ اگر یہ لوگ جو اپنے شرک کے سبب ظلم عظیم کا ارتکاب کرنے والے ہیں جان لیں کہ ہر چیز پر ثواب۔ عقاب کی قدرت اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ان کے معبودوں کو نہیں اور وہ ظالموں کو دیئے جانے والے سخت عذاب کو بھی جان لیں۔ جبکہ قیامت کے دن اس عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ تو ان کو ناقابل بیان حسرت و افسوس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہاں لَوْ کا جواب حذف کیا گیا ہے کیونکہ لَوْ جب کسی شوق مند چیز یا خطرناک چیز پر داخل کریں۔ تو اس کا جواب بہت کم ساتھ لایا جاتا ہے۔ تاکہ دل اس میں ہر راستہ پر جائے۔ جبکہ یہ ماضی پر داخل ہو۔ اسی طرح اِذْ کی وضع بھی ماضی پر دلالت کرنے کے لئے ہے۔ سوال : مگر یہاں دونوں۔ لو اور اذ مضارع پر داخل ہوئے ہیں۔ جواب : اللہ تعالیٰ کے کلام میں مستقبل بھی ماضی کی طرح قطعی اور سچا ہے۔
Ayah 2:166

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ Open ayah 2:166 in the Quran reader

اس دن (کفر کے) پیشوا اپنے پیرؤوں سے بیزاری کریں گے اور (دونوں عذاب الٰہی) دیکھ لیں گے اور ان کے آپس کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے

تفسیر آیت 166: اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَ اَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِھِمُ الْاَسْبَابُ ۔ : (یاد کرو اس وقت کو جب الگ ہوجائینگے وہ سردار جنکی پیروی کی گئی ان لوگوں سے جنہوں نے پیروی کی تھی اور وہ عذاب دیکھیں گے اور انکے سب تعلقات ٹوٹ جائینگے) اختلافِ قراءت : اِذْ تَبَرَّأَ ۔ عاصم کے علاوہ قرائے عراق نے سارے قرآن میں جہاں ذال اور تاء جمع ہوں تو وہاں ادغام کر کے پڑھا ہے۔ نحوی تحقیق : یہ اذ یرون سے بدل ہے الذین اتبعوا سے مراد رؤسا ہیں جن کی پیروی کی گئی۔ من الذین اتبعوا سے مراد متبع و پیروکار۔ وَرَاَوُا العذاب۔ واو حالیہ ہے ای تبرء وا فی حال رؤ یتھم العذاب۔ یعنی وہ عذاب دیکھنے کی حالت میں بیزاری کا اظہار کریں گے۔ و تقطعت۔ اس کا عطف تَبَرَّاَ پر ہے ای تَبَرَّاَ و تقطعت۔ تعریف سبب : بھم الاسباب۔ اسباب سبب کی جمع ہے وہ تعلق مراد ہے جو ایک دین پر ہونے کی وجہ سے ان کے مابین تھا۔ اسی طرح نسب و محبت کا تعلق بھی اس میں شامل ہے اصل سبب ملانے والے ذریعہ کو کہتے ہیں۔
Ayah 2:167

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ Open ayah 2:167 in the Quran reader

(یہ حال دیکھ کر) پیروی کرنے والے (حسرت سے) کہیں گے کہ اے کاش ہمیں پھر دنیا میں جانا نصیب ہوتا کہ جس طرح یہ ہم سے بیزار ہو رہے ہیں اسی طرح ہم بھی ان سے بیزار ہوں اس طرح خدا ان کے اعمال حسرت بنا کر دکھائے گا اور وہ دوزخ سے نکل نہیں سکیں گے

تفسیر آیت : 167 … اعمال پر حسرتیں : وَقَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا کَرَّۃً فَنَتَبَرَّاَ مِنْھُمْ کَمَا تَبَرَّئُ ْوا مِنَّا۔ کَذٰلِکَ یُرِیْھِمُ اللّٰہُ اَعْمَالَھُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْھِمْ وَمَاھُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ : ( جنہوں نے اتباع کیا تھا وہ کہیں گے ہائے کاش ہمیں ایک بار لوٹ جانا میسر ہو تو ہم بھی ان سے الگ ہوجائیں جیسے یہ ہم سے آج الگ ہوگئے اسی طرح اللہ تعالیٰ افسوس کرنے والوں کے لئے ان کے عمل ان کو دکھائے گا۔ اور انہوں نے آگ سے نکلنا نہیں) ۔ وقال الذین اتبعوا سے مراد متبعین ہیں۔ کرّۃ واپس لوٹنا دنیا کی طرف فنتبرَّاَ ۔ لَوْجو تمنّی کیلئے ہے یہ اس کا جواب ہے۔ مطلب یہ ہوگا کاش ہمارے لئے واپسی ہو تو ہم ان سے بیزار ہوجائیں۔ کما تبرء وامنا جیسا یہ اب ہم سے بیزار ہوگئے۔ کذٰلک سے مراد اس رسوا کن دکھلاوے کی طرح۔ اعمالھم یعنی بت پرستی۔ حسرات علیھم۔ حسرات یہ حسرت کی جمع ہے اس کا معنی شرمندگیاں۔ یریھم۔ یہ افعال قلوب سے ہے اور حسرات اس کا تیسرا مفعول ہے مطلب یہ ہے کہ ان کے اعمال ان پر حسرتوں میں بدل جائیں گے۔ اور وہ اپنے اعمال کی جگہ حسرتوں کے سواء کچھ نہ دیکھیں گے۔ وماھم بخارجین من النار۔ انہوں نے آگ سے نکلنا نہیں۔ بلکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 2:168

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:168 in the Quran reader

لوگو ! جو چیزیں زمین میں حلال طیب ہیں وہ کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

تفسیر آیت 168: یٰٓـاَ ۔ یُّـہَا النَّاسُ کُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلاً طَیِّبًا وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہ ‘ لَکُمْ عَدُوٌّمُّبِیْنٌ : (اے لوگو۔ کھائو ان چیزوں میں سے جو زمین میں ہیں حلال اور ستھری اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے) شان نزول : یہ ان لوگوں کے متعلق اتری جنہوں نے بحیرہ و سائبہ وغیرہ تحریمات بنا رکھی تھیں یٰٓایھا الناس کلوا۔ کلوا کا امر اباحت کے لئے ہے۔ ان لوگوں کو مخاطب کیا جنہوں نے بحیرہ وغیرہ بنا رکھے تھے۔ نحوی تحقیق : مما فی الارض میں مِنْ تبعیضیہ ہے یعنی زمین کی بعض اشیاء کیونکہ تمام اشیاء زمین سے کھانے والی نہیں۔ حَلٰلاً ۔ نمبر 1۔ یہ کلوا کا مفعول ہے یعنی تم حلال چیزیں کھائو۔ دوسرا قول : یہ مما فی الارض سے حال ہے یعنی تم کھائو زمین کی چیزیں اس حال میں کہ وہ حلال ہوں۔ طیّبًا۔ ستھری یعنی ہر شبہ سے پاک۔ وَلَا تتّبعوا خطوات الشیطان۔ خطوات سے وہ راستے مراد ہیں جن کی طرف وہ دعوت دیتا ہے۔ یہ خطوۃٌ کی جمع ہے قدموں کی درمیانی مسافت کو کہتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں اتبع خطوتہ یعنی اس نے اقتداء کی یا اس کے طریقے پر چلا۔ اختلافِ قراءت : خطواتکو ابوعمرو نے طاء کے سکون سے خُطْوَاتپڑھا ہے۔ عیاش ٗ نافع و حمزہ ٗ ابوبکر نے طاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا خُطُوَات۔ انہٗ لکم عدو مبین۔ بیشک وہ تمہارا ایسا دشمن ہے جس کی عداوت ظاہر ہے اس میں ذرہ بھر اخفاء نہیں۔ مبین کا لفظ ابان سے ہے یہ متعدی و لازم دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ ظاہری تضاد کا ازالہ : سوال : والذین کفروا اولیاؤُھم الطاغوت سورة البقرہ آیت نمبر 257 اس آیت کے خلاف معلوم ہوتی ہے۔ جواب : وہ آیت اس کے خلاف نہیں کیونکہ طاغوت سے مراد شیطان ہے اور اس کی دوستی فقط ظاہر میں ہوتی ہے اس ظاہری دوستی جتانے کی وجہ سے اولیاؤھم الطاغوت فرمایا گیا۔ ورنہ باطن میں تو وہ دشمن ہے۔ وہ دوستی اعمال کو مزین کرنے کے لئے کرتا ہے ورنہ دشمن کی بات کون مانتا ہے اور اس کا اصل مقصد ہلاکت میں ڈالنا ہے۔
Ayah 2:169

اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:169 in the Quran reader

وہ تم کو برائی اور بےحیائی ہی کے کام کرنے کو کہتا ہے اور یہ بھی کہ خدا کی نسبت ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں (کچھ بھی) علم نہیں

تفسیر آیت 169: اِنَّمَا یَاْمُرُکُمْ بِالسُّوْٓئِ وَالْفَحْشَآئِ وَاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ مَالَا تَعْلَمُوْنَ : (بےشک وہ تمہیں بےحیائی اور برائی کا حکم دیتا ہے اور اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ پر تم وہ بات کہو جو تم نہیں جانتے) انمایأ مرکم۔ اس میں بیان کیا کہ اس کی اتباع سے باز آنا ضروری ہے اور اس سے ظاہر میں عداوت رکھنی چاہیے۔ یعنی شیطان کبھی بھی بھلائی کا حکم نہیں دے سکتا۔ بلاشبہ وہ تو تمہیں حکم دے گا۔ سوء و فحشاء کا فرق : نمبر 1۔ بالسوء۔ برائی کا۔ والفحشاء اور بےحیائی کا۔ فحشاء وہ برا کام جو قباحت میں حد سے بڑھ جائے۔ دوسرا قول : سوء جس گناہ میں حد نہیں آتی۔ فحشاء۔ جس میں حد لازم ہوجاتی ہے۔ نحو : بالسوء پر عطف کی وجہ سے ان تقولوا محل جر میں ہے ای بان تقولوا۔ مالا تعلمون جو تم نہیں جانتے بغیر علم کے۔ جیسے تمہارا کہنا کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام۔ مسئلہ : اس میں ہر بات شامل ہے جو اللہ تعالیٰ کے متعلق کہنی درست نہیں مگر وہ اس کی طرف منسوب کردی گئی ہو۔
Ayah 2:170

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:170 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ سیدھے راستے پر ہوں (تب بھی وہ انہیں کی تقلید کئے جائیں گے ؟

تفسیر آیت 170: وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَآ اَلْفَیْنَا عَلَیْہِ ٰابَآئَ نَا اَوَلَوْ کَانَ ٰابَآؤُھُمْ لَایَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّلَا یَھْتَدُوْنَ ۔ : (جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس پر چلو جو اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے تو کہتے ہیں۔ نہیں۔ بلکہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ بھلا۔ اگر ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ سمجھتے ہوں اور نہ سیدھے راستے پر ہوں۔ تو پھر بھی ان کے راستہ پر چلیں گے) ھم کا مرجع : نمبر 1۔ واذا قیل لھم اتبعوا۔ ضمیر جمع کی الناس کی طرف لوٹتی ہے اور التفات کے طور پر ان سے رخ پھیرا گیا گویا اس طرح کہا۔ عقل مندوں کی طرف توجہ کر کے کہ ان احمقوں کو دیکھو۔ کہ ٹھیک بات بتلائی تو کیا جواب دیا ؟ نمبر 2۔ دوسرا قول : ہُمْ کی ضمیر مشرکین کی طرف لوٹتی ہے۔ نمبر 3۔ تیسرا قول : یہ یہود کا ایک گروہ تھا جن کو رسول اللہ ﷺ نے ایمان و قرآن کی طرف بلایا تو انہوں نے یہ جواب دیا۔ قالوا بل نتبع ما الفینا۔ الفینا کا معنی وجدنا ہے علیہ ٰابَاء نا جس پر ہم نے آباء کو پایا وہ ہم سے بہتر تھے اور زیادہ علم والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اولو کان ٰاباؤھم۔ سے ان کی تردید کی۔ واؤ اس میں حالیہ ہے ہمزہ تعجب اور تردید کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ کیا یہ ان کی اتباع کریں گے اگر ان کے آباء دین کی کوئی بات نہ سمجھتے ہوں اور نہ ہی درست راستے کی طرف راہ پانے والے ہوں۔ سابقہ آیات سے ربط : پہلے ان کی تردید کی پھر ان کے متعلق مثال بیان فرمائی۔
Ayah 2:171

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:171 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ سن نہ سکے (یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کچھ) سمجھ نہیں سکتے

تفسیر آیت 171: وَمَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا کَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَالَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآئً وَّنِدَآئً صُمٌّم بُکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ ۔ (کافروں کی مثال اس شخص جیسی ہے جو چِلّا چِلّا کر ایسی چیز کو پکار رہا ہو جو سوائے چِلّانے اور پکارنے کے کچھ نہیں سنتا۔ بہرے گونگے ٗ اندھے ہیں پس وہ کچھ نہیں سمجھتے) مثل الذین کفروا۔ اس سے پہلے مضاف محذوف ہے ای داعی الذین کفروا کمثل الذی ینعق۔ ینعقکا معنی چیختا ہے۔ بما لا یسمع الا دعاء و نداء سے مراد بہائم ہیں۔ مفہوم آیت : اب مطلب آیت کا یہ ہے کہ ان کافروں کو دعوت دینے والے کی مثال جیسے کوئی حیوانات کو آواز دے جو کہ آواز میں سے گھنٹی کی سر اور آواز کی گونج سنتے ہیں۔ بغیر ذہنوں میں ڈالنے اور سمجھنے کے۔ جیسا کہ بہائم کو آواز دینے والا جو پکارنے والے کی پکار ونداء ہی سنتا ہے جس سے ان کو آواز دیتا۔ اور ڈانٹ ڈپٹ کرتا ہے وہ جانور اور کچھ نہیں سمجھتے جیسے عقل مند سمجھتے ہیں۔ نعق و نداء میں فرق : النعیق آواز دینے کو کہتے ہیں جیسے نعق المؤذن نعق الراعی بالضأن۔ چرواہے نے بھیڑوں کو آواز دی۔ النداء۔ جو سنی جائے۔ الدعآء جو آواز کبھی سنی جائے اور کبھی نہ سنی جائے۔ صُمٌّ۔ یہ ھم ضمیر کی خبر ہے ای ھم صم بکم یہ اسی مبتداء کی دوسری خبر ہے عمی یہ خبر ثالث ہے یعنی وہ حق سے اندھے ہیں۔ فھم لا یعقلون۔ پس وہ نصیحت کو نہیں سمجھتے۔
Ayah 2:172

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 2:172 in the Quran reader

اے اہل ایمان جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں ان کو کھاؤ اور اگر خدا ہی کے بندے ہو تو اس (کی نعمتوں) کا شکر بھی ادا کرو

سابقہ آیات سے ربط : تفسیر آیت 172: اس میں بتلایا کہ جن چیزوں کو مشرکین حرام قرار دینے والے ہیں وہ حلال ہیں چناچہ فرمایا۔ یٰٓـاَ ۔ یُّـہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ وَاشْکُرُوْا لِلّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ : (اے ایمان والو۔ ہم نے جو تم کو رزق دیا ہے اس سے حلال اور ستھری چیزیں کھائو اور شکر کرو اللہ کا اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو) یٰٓایھا الذین ٰامنوا کلوا من طیبات ما رزقنٰـکم۔ (1) طیبات سے مراد لذیذ چیزیں ‘(2) حلال چیزیں واشکروا للہ : اور تم اس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔ جس نے تمہیں رزق دیا۔ ان کنتم ایاہ تعبدون۔ اگر یہ واقعی صحیح ہے کہ تم عبادت کے ساتھ اس کو خاص کرنے والے ہو اور اس بات کے اقراری ہو کہ تمام نعمتیں فرمانے والے وہی ہیں۔
Ayah 2:173

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:173 in the Quran reader

اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کردیا ہے، ہاں جو ناچار ہوئے (بشرطیکہ) خدا کی نافرمانی نہ کرے اور حد (ضرورت) سے باہر نہ نکل جائے اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

ماقبل سے ربط …تفسیر آیت 173: اب حرام چیزوں کو بیان کیا۔ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَآ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَآٓ اِثْمَ عَلَیْہِ ۔ اِنَّ اللَّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (بےشک اس نے حرام کیا تم پر مردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس پر پکارا گیا اللہ تعالیٰ کے غیر کا نام پھر جو کوئی مجبور ہوجائے نہ ہو خلاف کرنے والا اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے) ۔ میتہ کی تعریف : انما حرم علیکم المیتۃ ‘ میتہ ہر اس جانور کو کہتے ہیں جس کی روح ذبح سے پاک کرنے کے بغیر نکل جائے۔ انما حرمت میتہ کو ثابت کرنے اور ماسواء کی نفی کے لئے ہے ای ماحرم علیکم الا المیتۃ۔ نہیں حرام کیا تم پر مگر مردار۔ والدم۔ بہنے والا خون۔ کیونکہ دوسری آیت سورة انعام نمبر 145 میں او دمًا مسفوحًا ہے۔ دو دم حلال : اور دو میتہ اور دودم حدیث سے ان کی حلت ثابت ہے احلت لنا میتتان ودمان السمک والجراد والکبد والطحال (احمد ابن ماجہ) ہمارے لئے دو مردار اور دو خون حلال ہیں۔ مچھلی۔ مکڑی۔ جگر اور تلی۔ ولحم الخنزیر۔ یعنی خنزیر اپنے تمام اجزاء کے ساتھ۔ گوشت کا تذکرہ اس لئے کیا گیا کیونکہ کھانے میں وہ اصل ہے۔ وما اہل بہ لغیر اللّٰہ۔ یعنی جو بتوں کے لئے ذبح کیا جائے اس پر اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کا نام لیا جائے۔ الھلال۔ آواز بلند کرنا یعنی بت کے لئے اس پر آواز بلند کی گئی ہو اور اہل جاہلیت کہتے تھے : باسم اللات والعزّٰی۔ فمن اضطر جو مجبور ہوجائے۔ نحو و قراءت : نون کو کسرہ دیا دو ساکن آنے کی وجہ سے یعنی نون اور ضاد یہ بصری حمزہ اور عاصم کے نزدیک ہے دیگر قراء طاء کے ضمہ کی وجہ سے نون کو ضمہ دیتے ہیں فَمَنُ اضْطُرّ ۔ غیر یہ حال ہے ای فاکل غیر اس نے کھایا اس حال میں کہ وہ بغاوت کرنے والا نہ تھا۔ باغی کا معنی : نمبر 1۔ باغٍ کا مطلب یہ ہے کہ لذت و شہوت کی خاطر کھانے والا نہ ہو۔ ولا عادٍ ضرورت کی حد سے تجاوز نہ کرنے والا ہو۔ دوسرا قول : کہ امام کا باغی نہ ہو اور سفر حرام کی وجہ سے تجاوز نہ کرنے والا ہو یہ قول ضعیف ہے۔ کیونکہ سفر طاعت بغیر ضرورت مباح نہیں اور بلا سفر گھر میں رکا رہنا مباح ہے اور دوسری بات یہ بھی کہ بغاوت اس کو ایمان سے خارج نہیں کرتی۔ پس وہ محرومی کا حقدار نہیں۔ اور مجبور آدمی کو اتنا کھا لینا درست ہے جس سے زندگی بچ جائے اور اس سے گزارہ ہوسکے سیری نہ ہو۔ کیونکہ اضطراری اباحت اتنی مقدار میں ہے جس سے ضرورت ٹل سکے۔ فلا اثم علیہ۔ تو اس کو کھا لینے میں گناہ نہیں۔ ان اللّٰہ غفور۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کبیرہ گناہوں کو معاف فرما دینے والے ہیں تو پھر اضطراری حالت میں مردار کے کھا لینے سے کیونکر مؤاخذہ فرمائیں گے رحیم مہربان ہے اس لئے رخصت دے دی۔