3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 3:192

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 3:192 in the Quran reader

اے ہمارے رب اس میں شک نہیں کہ جسے آپ دوزخ میں داخل فرما دیں تو واقعی آپ نے اس کو رسوا کردیا، اور ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں۔

(1) ابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم نے ابو درداء اور ابن عباس ؓ دونوں سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا نام رب ہے۔ (2) ابن جریر ابن ابی حاتم نے انس ؓ سے لفظ آیت ” من تدخل النار فقد اخزیتہ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد ہے کہ جس کو آپ ہمیشہ دوزخ میں داخل فرما دیں تو تحقیق آپ نے اس کو رسوا کردیا۔ (3) عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے سعید بن حسیب (رح) سے لفظ آیت ” ربنا انک من تدخل النار فقد اخزیتہ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ حکم خاص ان لوگوں کے لیے ہے جن کو جہنم سے نہیں نکالا جائے گا۔ (4) ابن جریر والحاکم نے عمرو بن دینار (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہمارے پاس جابر بن عبد اللہ ؓ عمرہ میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا مجھے رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ اس سے کافر مراد ہیں میں نے (پھر) جابر ؓ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” انک من تدخل النار فقد اخزیتہ “ سے کیا مراد ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اس شخص کو اللہ نے رسوا نہیں کیا جس کو اس نے جلایا رسوا کرنا اس سے کم درجہ کا عذاب ہے۔ (5) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” منادیا ینادی للایمان “ سے محمد ﷺ مراد ہیں۔ (6) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والخطیب نے المتفق میں محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” سمعنا منادیا ینادی للایمان “ سے قرآن مراد ہے کیونکہ سب نبی ﷺ کے فرمان کو نہیں سن پاتے۔ (7) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ انہوں نے اللہ کی طرف سے دعوت کو سنا اور اس کو قبول کیا اچھی طرح (عمل) کیا اور (عمل) کرنے میں جو تکلیفیں آئیں ان پر صبر کیا اللہ تعالیٰ تم کو خبر دیتا ہے مومن انسان کے بارے میں کہ اس نے کہا اور مومن جنوں کے بارے میں خبر دیتا ہے اس نے کہا جیسے کہ مومن جن نے کہا لفظ آیت ” انا سمعنا قرآن عجبا (1) یھدی الی الرشد فامنا بہ ولن نشرک بربنا احد (2) “ اور جیسے مومن انسان نے کہا لفظ آیت ” ربنا اننا سمعنا منادیا ینادی للایمان ان امنوا بربکم فامنا ربنا فاغفرلنا ذنوبنا وکفر عنا سیاتنا وتوفنا مع الابرار (193) “۔ (8) ابن جریر ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ربنا واتنا ما وعدتنا علی رسلک “ سے مراد ہے کہ عنقریب تم کو جزا دیں گے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ وعدہ کیا تھا۔ (9) عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا تخزنا یوم القیمۃ “ سے مراد ہے کہ (اے اللہ) ہم کو رسوا نہ کر قیامت کے دن (پھر فرمایا) ” انک لا تخلف المیعاد “ یعنی یہ وعدہ اس شخص کے لیے ہے جس نے ” لا الہ الا اللہ “ کہا (پھر فرمایا) ” فاستجاب لہم ربہم انی لا اضیع عمل عامل منکم “ یعنی لا الہ الا اللہ اور توحید اور اخلاص والوں کے لیے یہ وعدہ ہے کہ ان کو قیامت کے دن رسوا نہیں کروں گا۔ قیامت کے دن کی شرمندگی (10) ابو یعلی نے جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شرمندگی اور رسوائی قیامت کے دن اللہ کے سامنے اس حد تک پہنچے گی کہ بندہ یہ تمنا کرے گا کہ اس کو جہنم میں پھینکنے کا حکم دیا جائے۔ (11) ابوبکر الشافعی نے اپنی رباعیات میں ابو قرصافہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ یوں دعا کیا کرتے تھے اے اللہ ہم کو قیامت کے دن رسوا نہ فرما اور ہم کو ملاقات کے دن بےعزت نہ فرما۔ (12) ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب تم میں سے کوئی ایک نماز میں تشہد سے فارغ ہوجائے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس طرح کہے۔ ” اللہم انی اسئلک من الخیر کلہ ما علمت منہ وما لم اعلم واعوذبک من الشر کلہ ما علمت منہ وما لم اعلم، اللہم انی اسئلک من خیر ما سئلک عبادک الصالحون واعوذبک من شر ما اعاذ منہ عبادک الصالحون “ ترجمہ : اے اللہ میں سے آپ سے ساری خیر کا سوال کرتا ہوں جس کو میں جانتا ہوں اور جس کو میں نہیں جانتا اور آپ سے اس ساری برائی سے پناہ مانگتا ہوں جس کو میں جانتا ہوں اور جس کو میں نہیں جانتا اے اللہ ! میں آپ سے خیر کا سوال کرتا ہوں کہ جس کا آپ کے نیک بندوں نے سوال کیا اور میں آپ سے اس شر سے پناہ مانگتا ہوں کہ جس سے تیرے نیک بندوں نے پناہ مانگی “۔ پھر آپ نے لفظ آیت ” ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار (201) “ پڑھی اور فرمایا اے ہمارے رب ہم آپ پر ایمان لے آئے پھر یہ دعا پڑھی ” فاغفرلنا ذنوبنا وکفر عنا سیاتنا وتوفنا مع الابرار “ سے لے کر ” انک لا تخلف المیعاد “ تک یعنی ہمارے گناہوں کو معاف فرما دے اور ہماری برائیوں کو مٹا دے اور ہم کو نیک لوگوں کے ساتھ موت دے۔ (13) ابن ابی شیبہ نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا ہے کہ مستحب یہ ہے کہ فرض نماز میں قرآن کی دعائیں مانگی جائے۔ (14) ابن ابی شیبہ نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ ان سے دعا کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا بہترین دعا وہ ہے جو قرآن کے موافق ہو۔ (15) احمد وابن ابی حاتم نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وادی عسقلان (دو عرسوں یعنی دلہن دولہا سے) ایک ہے اللہ تعالیٰ اس میں سے اٹھائیں گے ستر ہزار (لوگوں) کو ان پر کوئی حساب نہ ہوگا اور پھر اس میں سے اللہ تعالیٰ پچاس ہزار شہدا کو اٹھائے گا وفد کی صورت میں جن کے ساتھ شہداء کی صفیں ہوں گی جن کے سر خون بہا رہے ہوں گے ان کے ہاتھوں میں اور ان کی آنتوں سے خون بہہ رہا ہوگا اور وہ کہہ رہے ہوں گے لفظ آیت ” ربنا واتنا ما وعدتنا علی رسلک انک لا تخلف الیمعاد “ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے بندون نے سچ کہا ان کو نہر بیضہ میں غسل دو تو وہ سفید ہو کر نکلیں گے اور وہ جنت میں سیر کریں گے جہاں چاہیں گے۔
Ayahs 3:193–195

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا١ۖۗ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ Open ayah 3:193 in the Quran reader

اے ہمارے رب بلاشبہ ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا کہ وہ ایمان کے لئے پکار رہا ہے کہ تم ایمان لاؤ اپنے رب پر، سو ہم ایمان لے آئے، اے ہمارے رب سو آپ مغفرت فرما دیجئے ہمارے گناہوں کی، اور کفارہ کر دیجئے ہمارے گناہوں کا اور ہمیں نیک بندوں کے ساتھ موت دیجئے۔

رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ Open ayah 3:194 in the Quran reader

اے ہمارے رب اور ہمیں عطا فرمائیے جو آپ نے اپنے رسولوں کی معرفت وعدہ فرمایا اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجئے بلاشبہ آپ وعدہ خلافی نہیں فرماتے۔

فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَاۤ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى١ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ Open ayah 3:195 in the Quran reader

پس اللہ پاک نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں ضائع نہ کروں گا تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو مرد ہو یا عورت، تم آپس میں ایک دوسرے سے ہو جن لوگوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ان کو ایذا دی گئی اور انہوں نے جنگ کی اور قتل کئے گئے سو میں ضرور ضرور ان کے گناہوں کا کفارہ کر دوں گا، اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ بدلہ ملے گا اللہ کے پاس سے اور اللہ کے پاس اچھا بدلہ ہے۔

(1) سعید بن منصور وعبد الرزاق والترمذی وابن جریر ابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اللہ تعالیٰ سے ہجرت کے بارے میں کچھ بھی عورتوں کا کوئی ذکر نہیں سنتی ہوں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” فاستجاب لہم ربہم انی لا اضیع عمل عامل منکم من ذکر او انثی “ آیت تک انصار نے کہا یہ پہلی عورت ہے جو ہم سے آگے بڑھ گئی۔ (2) ابن مردویہ نے حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ آخری نازل ہونے والی آیت ” فاستجاب لہم ربہم “ سے لے کر اس کے آخر تک نازل ہوئی۔ (3) ابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا ہے کہ کوئی بندہ تین مرتبہ یا رب یارب یارب کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھتے ہیں حسن (رح) کو یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا تو نے قرآن کو نہیں پڑھا لفظ آیت ” ربنا اننا سمعنا منادیا “ سے لے کر ” فاستجاب لہم ربہم “ تک (آل عمران آیت 193) قولہ تعالیٰ : ” فالذین ھاجروا “۔ (4) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد وہ مہاجرین ہیں جو ہر جانب سے نکالے گئے۔ (5) ابن جریر وابو الشیخ والطبرانی اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عمرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جنت میں پہلی جماعت فقراء اور مہاجرین کی ہوگی جن کے ذریعہ مصائب سے بچا جاتا تھا جب وہ حکم دئیے جاتے تھے تو سنتے تھے اور اطاعت کرتے تھے اگر ان میں سے کسی آدمی کو بادشاہ کی طرف کوئی حاجت ہوتی تھی تو اس کی حاجت پوری نہ ہوتی کہ اس کو موت آجاتی تھی اور وہ (حاجت) اس کے دل میں رہ جاتی تھی بلاشبہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت کو بلائیں گے تو وہ اپنی خوبصورتی اور زینت کے ساتھ آئے گی پھر (اللہ تعالیٰ ) فرمائیں گے وہ میرے بندے کہاں ہیں جو میرے راستے میں لڑتے تھے اور میرے راستے میں قتل کر دئیے جاتے تھے اور تکلیف دئیے جاتے تھے اور میرے راستے میں جہاد کرتے تھے (پھر حکم فرمائیں گے) جنت میں داخل ہوجاؤ تو وہ لوگ بغیر عذاب کے اور بغیر حساب کے اس میں داخل ہوجائیں گے اور فرشتے آئیں گے سجدہ کریں گے اور عرض کریں گے اے ہمارے رب ! ہم آپ کی تسبیح بیان کرتے ہیں رات اور دن کو اور آپ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور کہیں گے کہ کون ہیں یہ لوگ جن کو آپ نے ہم پر ترجیح دی ؟ تو اللہ فرمائیں گے یہ میرے وہ بندے ہیں جو میرے راستے میں تکلیفیں دئیے گئے (اور) ان پر فرشتے ہر دروازے سے داخل ہو کر کہیں گے۔ لفظ آیت ” سلم علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار “۔ (6) حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور عبد اللہ ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میری امت میں سے کون سی جماعت سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگی میں نے کہا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں تو حضور ﷺ نے فرمایا مہاجرین وہ قیامت کے روز جنت کے دروازے کے پاس آئیں گے دروازے کو کھلوانا چاہیں گے تو جنت کے داروغے کہیں گے کیا تم سے حساب و کتاب لے لیا گیا تو وہ کہیں گے ہم سے کس چیز کا حساب ؟ ہماری تلواریں تو اللہ کی راہ میں ہمارے کندھوں پر تھیں حتی کہ ہمیں موت آگئی تو ان کے لیے دروازے کھول دئیے جائیں گے دوسرے لوگوں کے داخل ہونے سے پہلے وہ جنت میں چالیس سال تک آرام کریں گے۔ حضرت بلال ؓ کے جوتوں کی آواز جنت میں (7) احمد نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں جنت میں داخل ہوا (معراج کے موقعہ پر) تو میں نے اپنے آگے جوتوں کے چلنے کی آواز سنی میں نے کہا یہ کون ہے ؟ (جبرئیل (علیہ السلام) نے) فرمایا یہ بلال ہیں (جب) میں وہاں سے گذرا تو جنت والے اکثر مہاجرین فقراء اور مسلمانوں کی اولاد تھی اور مالداروں اور عورتوں میں سے میں نے کم کسی کو نہیں دیکھا مجھ سے کہا گیا کہ مالدار لوگ (جنت کے) دروازوں پر ہیں ان کا حساب و کتاب ہونا چاہیے اور ان کو گناہوں سے پاک وصاف کیا جائے گا لیکن عورتیں کہ ان کو دوسری چیزوں نے غافل کردیا یعنی سونے اور ریشم نے۔ (8) احمد نے ابو صدیق (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ نبی ﷺ کے اصحاب ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ مومن فقراء اپنے مالدار مومنوں سے چار سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ مومن مالدار کہے گا کاش کہ میں بھی فقیر ہوتا کہا گیا یا رسول اللہ ! ہم کو ان کی تعریف بیان کیجئے (تا کہ ہم ان کو پہچان لیں) آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جب کوئی مصیبت اور آزمائش کا وقت ہوتا تو وہ اس کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور جب مال غنیمت حاصل کرنے کا وقت ہوتا اور ان لوگوں کو دروازوں پر روکا جائے گا۔ (9) الحکیم الترمذی نے سعید بن عامر بن حزم ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا مسلمان فقراء مالدار لوگوں میں سے ان کی حمایت میں داخل ہوگا تو اس کے ہاتھ سے پکڑ کر باہر نکالا جائے گا۔ (10) ابن ابی شیبہ نے عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا ہے کہ لوگوں کو جمع کیا جائے گا اور کہا جائے گا اس امت کے فقیر اور مساکین کہاں ہیں وہ لوگ سامنے ہوں گے تو کہا جائے گا تمہارے پاس کیا ہے ؟ تو وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! آپ نے مال اور حکومت ہمارے علاوہ دوسروں کو دے دیا کہا جائے گا تم نے سچ کہا تو ان لوگوں کو جنت میں داخل کردیا جائے گا باقی لوگوں سے پہلے ایک زمانہ پہلے اور حساب کی شدت باقی رہے گی مال والوں اور حکومت والوں سے پوچھا گیا اس دن مؤمن کہاں ہوں گے ؟ تو انہوں نے فرمایا ان کے لیے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی ان پر بادلوں کا سایہ ہوگا یہ دن ان پر چھوٹا ہوگا دن کی ایک ساعت سے بھی اور اللہ تعالیٰ زیادہ جاننے والے ہیں۔ (11) ابن ابی حاتم نے شداد بن اوس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ کے فیصلوں میں اس پر تہمت یا الزام نہ لگاؤ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایمان والے پر زیادتی نہیں فرماتے جب تم میں سے کسی کے پاس کوئی محبوب چیز آجائے تو اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور جب کوئی چیز ناپسندیدہ اس کے پاس آئے تو اس پر صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے بیشک اللہ تعالیٰ کے پاس اچھا ثواب ہے
Ayah 3:196

لَا یَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِی الْبِلَادِؕ Open ayah 3:196 in the Quran reader

ہرگز دھوکہ میں نہ ڈالے آپ کو کافروں کا شہروں میں آنا جانا۔

(1) عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” لا یغرنک تقلب الذین کفروا “ سے مراد ہے کہ ان کافروں کا رات اور دن گھومنا پھرنا اور دنیا کی نعمتوں کا مل جانا کافروں کے دھوکے میں نہ ڈالے پھر فرمایا لفظ آیت ” متاع قلیل ثم ماوہم جہنم وبئس المعھاد “ عکرمہ (رح) نے کہا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ جہنم کتنا برا ٹھکانہ ہے۔ (2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” لا یغرنک تقلب الذین کفروا فی البلاد “ سے مراد ہے کہ ان کا شہروں میں سفر کرنا (دھوکہ میں نہ ڈالے) ۔ (3) ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ کی قسم ! کافر اللہ کے نبی ﷺ کو دھوکہ نہ دے سکے نہ آپ نے سپرد کیا ان کی طرف کا کوئی حکم یہاں تک کہ اسی (حال) پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو (اس دنیا سے) اٹھا لیا۔ قولہ تعالیٰ : ” وما عند اللہ خیر الابرار “ (4) بخاری نے الادب المفرد میں وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام ابرار رکھا اس لیے انہوں نے باپوں اور بیٹوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔ جیسا کہ تیرے والد کا تجھ پر حق ہے۔ اسی طرح تیری اولاد کا تجھ پر حق ہے۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے یہ مرفوع روایت نقل کی ہے لیکن پہلی روایت زیادہ صحیح ہے جو اپنی اولاد کو تکلیف نہیں دیتے ہوں۔ (5) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابرار سے مراد ہے، وہ لوگ جو اپنی اولاد کو ایذا نہیں دیتے۔ (6) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما عند اللہ خیر الابرار “ سے وہ شخص مراد ہے جو اللہ عزوجل کی اطاعت کرتا ہے۔
Ayahs 3:197–199

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۫ ثُمَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:197 in the Quran reader

یہ تھوڑا سا نفع ہے پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ برا بچھونا ہے۔

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ Open ayah 3:198 in the Quran reader

لیکن وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، یہ مہمانی ہوگی اللہ کی طرف سے اور جو اللہ کے پاس سے بہتر ہے نیک بندوں کے لئے۔

وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِ١ۙ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:199 in the Quran reader

اور بلاشبہ بعض اہل کتاب ایسے ہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور اس پر جو نازل کیا گیا تمہاری طرف اور جو نازل کیا گیا ان کی طرف جو عاجزی کرنے والے ہیں اللہ کے لئے، وہ نہیں خریدتے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت، یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔

(1) نسائی وبزار وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا جب نجاشی مرگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس پر نماز (جنازہ) پڑھو۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم حبشی پر نماز جنازہ پڑھیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” وان من اھل الکتب لمن یؤمن باللہ وما انزل الیکم “ نازل فرمائی۔ (2) ابن جریر نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا باہر نکلو اور اپنے بھائی پر نماز پڑھو آپ نے ہم کو نماز جنازہ پڑھائی اور آپ نے چار تکبیریں پڑھیں پھر آپ نے فرمایا یہ نجاشی اصحمہ ہے منافقوں نے کہا اس کی طرف دیکھو نصرانی آدمی پر نماز پڑھ رہے ہیں۔ ہم نے کبھی ایسا نہیں دیکھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت ” وان من اھل الکتب لمن یؤمن باللہ “۔ (3) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو بتایا گیا کہ یہ آیت نجاشی کے بارے میں اتری۔ اور ان صحابہ کے بارے میں جو اللہ کے نبی پر ایمان لائے اور اس کی تصدیق کی۔ اور ہم کو یہ بتایا گیا کہ نبی ﷺ نے نجاشی کے لیے استغفار کیا۔ اور اس پر نماز پڑھی جب ان کو اس کی موت کی خبر پہنچی تھی آپ نے اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا اپنے بھائی پر نماز پڑھو جو ایک شہر میں مرگیا ہے۔ منافقوں میں سے کچھ لوگوں نے کہا۔ نماز پڑھی گئی ایسے آدمی پر جو ان کے دین پر نہیں ہے۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت ” وان من اھل الکتب لمن یؤمن باللہ “۔ (4) عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب نجاشی مرگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم اس عجمی کافر کے لیے استغفار کریں ؟ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ” وان من اھل الکتب لمن یؤمن باللہ وما انزل الیکم “۔ نجاشی پر غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی (5) ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا جب نبی ﷺ نے نجاشی پر نماز جنازہ پڑھی تو منافقوں نے اس میں طعن کیا اور کہا اس پر نماز جنازہ پڑھی حالانکہ وہ ان کے دین پر نہیں ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” وان من اھل الکتب لمن یؤمن باللہ “ منافقوں نے کہا وہ ہمارے قبلہ کا استقبال نہیں کرتا تھا اور ہمارے درمیان (حائل) ہیں (پھر کیسے نماز ہوئی) تو اس پر یہ آیت ” فاینما تولوا فثم وجہ اللہ “ (البقرہ آیت 115) نازل ہوئی۔ ابن جریج (رح) نے فرمایا اور دوسرے لوگوں نے کہا یہ آیت نازل ہوئی ان لوگوں کے بارے میں جو یہودی تھے اور وہ مسلمان ہوگئے۔ عبد اللہ بن سلام اور اس کے ساتھ۔ (6) الطبرانی نے وحشی بن حرب ؓ سے روایت کیا کہ جب نجاشی مرگیا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا تمہارا بھائی نجاشی مرگیا ہے کھڑے ہوجاؤ اور اس پر نماز پڑھو۔ ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم کس طرح اس پر نماز پڑھیں گے حالانکہ وہ اپنے کفر پر مرا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا لفظ آیت ” وان من اھل الکتب لمن یؤمن باللہ “۔ (7) ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان من اھل الکتب لمن یؤمن باللہ “ سے اھل الکتاب یعنی یہودی و نصاری میں سے مسلمان ہونے والے مراد ہیں۔ (8) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے یہودی مراد ہیں۔ (9) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس میں وہ اہل کتاب مراد ہیں جو محمد ﷺ سے پہلے موجود تھے اور جنہوں نے محمد ﷺ کا اتباع کیا۔
Ayah 3:200

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 3:200 in the Quran reader

اے ایمان والو صبر کرو اور مقابلہ میں جم کر رہو اور نیک کاموں میں لگے رہو اور اللہ ڈرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔

(1) ابن المبارک وابن جریر وابن المنذر اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے شعب الایمان میں داؤد ثابت بن صالح کے طریق سے ابو سلمہ عبد الرحمن ؓ سے روایت کیا کیا تم جانتے ہو کس کے بارے میں یہ آیت ” اصبروا وصابروا ورابطو “ نازل ہوئی میں نے عرض کیا نہیں تو انہوں نے فرمایا میں نے ابوہریرہ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ کے زمانہ میں کوئی غزوہ نہیں تھا کہ جس میں رابطہ ہوتا لیکن ایک نماز کے بعد دوسری نماز کی انتظار میں بیٹھنا تھا۔ (2) ابن مردویہ نے وجہ آخر سے ابو سلمہ بن عبد الرحمن ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک ابن ابوہریرہ ؓ میرے پاس تشریف لائے تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! کیا تو جانتا ہے کہ یہ آیت ” یایھا الذین امنوا صبروا وصابروا ورابطور “ کس بارے میں نازل ہوئی میں نے کہا نہیں تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے زمانہ میں کوئی غزوہ نہیں تھا۔ کہ جس میں مرابطہ ہوتا ہو لیکن یہ آیت اس جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جو مسجدوں کو آباد کرتے ہیں نماز پڑھتے ہیں ان کے اوقات میں پھر اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں تو (یہ حکم) نازل ” اصبروا “ یعنی پانچوں نمازوں (کو ادا کرنے پر صبر کرو) اور فرمایا لفظ آیت ” وصابروا “ یعنی اپنے آپ کو اپنی خواہشات کو روکنے پر صبر کرو اور فرمایا ” ورابطور “ اپنی مسجدوں میں جمے رہو ” واتقوا اللہ “ یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ان کے احکام میں جن کا تمہیں علم ہے لفظ آیت ” لعلکم تفلحون “ شاید کہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ گناہوں کو مٹانے والے اعمال (3) ابن مردویہ نے ابو ایوب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا کیا میں تم کو ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جس سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتے ہیں اور اس کے ذریعہ اجر کو بڑھا دیتے ہیں ؟ ہم نے عرض کیا ضرور بتائیے یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے فرمایا ناگوار حالات میں اچھی طرح وضو کرنا اور کثرت سے قدم اٹھانا مسجدوں کی طرف اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا (پھر آپ ﷺ نے فرمایا) اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا صبروا وصابروا ورابطور “ اور یہی تمہارا مسجدوں میں جمع رہنا رباط ہے۔ (4) ابن جریر وابن حبان نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم کو ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جس سے اللہ تعالیٰ خطاؤں کو مٹا دیں اور گناہوں کو معاف کردیں ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا ناگوار حالات میں اچھی طرح وضو کرنا اور مساجد کی طرف کثرت سے قدم اٹھانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہی رباط ہے۔ (5) مالک و شافعی وعبد الرزاق واحمد ومسلم و ترمذی و نسائی وابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو مٹادیں اور اس کے ذریعہ درجات کو بلند فرما دیں (پھر آپ نے فرمایا) ناگوار حالات میں اچھی طرح وضو کرنا اور مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم اٹھانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہی ہے رباط ہے۔ (6) ابن ابی حاتم نے ابو غسان (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ” یایھا الذین امنوا صبروا وصابروا ورابطور “ مسجدوں کو لازم پکڑنے کے بارے میں نازل ہوئی۔ (7) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو حاتم (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ (اللہ تعالیٰ نے) ان کو اپنے دین پر صبر کرنے کا حکم فرمایا اور اس کو سختی میں اور نرمی میں اور خوشی میں اور غمی میں نہ چھوڑو اور ان کو حکم فرمایا کہ کفار کے مقابلہ میں صبر کریں اور مشرکین کی تاک میں رہیں۔ (8) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ تم اپنے دین پر صبر کرو اور جو تم نے وعدہ کیا ہوا ہے اسے پورا کرو اور میرے اور دشمن (یعنی تمہارے دین کو قبول کرلیں) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ان معاملات میں جو میرے اور تمہارے درمیان ہیں تاکہ تم کو کامیاب ہوجاؤ جب تم مجھ سے ملاقات کرو۔ (9) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کرو اور گمراہوں کا مقابلہ کرنے میں جمے رہو اور اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے دشمن کی تاک میں رہو۔ (10) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم و بیہقی نے شعب میں زید بن اسلم (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ جہاد پر صبر کرو اور اپنے دشمن کے مقابلے میں بھی ثابت قدم رہو اور اپنے دین پر جمے رہو۔ (11) عبد بن حمید ابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ مصیبت کے وقت صبر کرو اور نمازوں (کی ادائیگی) پر صبر کرو اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرو۔ (12) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ فرائض (کی ادائیگی) پر صبر کرو اور نبی ﷺ کے ساتھ رہو اور اس نے جو تم کو حکم دیا اور جن کاموں سے تم کو روکا گیا ان پر جمے رہو۔ (13) ابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ کی اطاعت پر صبر کرو اور اللہ کے دشمنوں (سے مقابلہ کرتے ہوئے) صبر کرو اور اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ڈٹ جاؤ۔ (14) ابو نعیم نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” یایھا الذین امنوا صبروا “ سے مراد ہے کہ پانچویں نمازوں کی ادائیگی میں صبر کرو (یعنی ان کو پابندی کے ساتھ ادا کرتے رہو) اور اپنے دشمن کے ساتھ تلوار سے لڑنے پر صبر کرو (یعنی خوب جم کر لڑو) اور اللہ کی راستہ میں ڈٹ جاؤ تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (15) مالک وابن ابی شیبہ وابن ابی الدنیا وابن جریر اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے شعب الایمان میں زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابو عبیدہ ؓ نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو خط لکھا اور ان کو رومیوں کے جمع ہونے کا بتایا اور جو کچھ ان کو خوف تھا اس کا ذکر کیا حضرت عمر ؓ نے ان کی طرف لکھا اما بعد ! بلاشبہ کبھی مؤمن بندے کو کوئی مصیبت یا سختی پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ آسانی پیدا فرما دیتے ہیں اور ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب نہیں آسکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” یایھا الذین امنوا صبروا وصابروا ورابطور واتقوا اللہ لعلکم تفلحون “۔ (16) بخاری ومسلم و ترمذی والبیہقی نے شعب میں سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک دن اللہ کے راستہ میں (دشمن کے مقابلہ میں) ڈٹے رہنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب سے بہتر ہے۔ (17) احمد وابو داؤد اور ترمذی (نے اس کو صحیح کہا) وابن حبان اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے شعب میں فضالہ بن عبید ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہر میت کا عمل ختم ہوجاتا ہے مگر وہ شخص جو اللہ کے راستہ میں سرحد کی حفاظت کرتے ہوئے مرا (اس کا عمل ختم نہیں ہوتا) بلاشبہ اس کا عمل اس کے لیے قیامت کے دن تک بڑھتا رہے گا اور وہ قبر کے عذاب سے امن میں رہے گا۔ اسلامی سرحد کی حفاظت کرنے کی فضیلت (18) احمد ومسلم و ترمذی و نسائی و طبرانی اور بیہقی نے سلمان ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اسلامی سرحد کی ایک دن اور رات حفاظت کرنا بہتر ہے ایک ماہ روزے رکھنے اور اس میں قیام کرنے سے اگر وہ (اس حال میں) مرگیا تو اس پر رزق جاری ہوگا اور شیطان سے امن میں رہے گا اور طبرانی نے زیادہ کیا کہ قیامت کے دن وہ شہید ہو کر اٹھایا جائے گا۔ (19) طبرانی نے (جید سند کے ساتھ) ابودرداء ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک مہینہ تک سرحدوں کی حفاظت کرنا ایک زمانہ تک کے لروزوں سے بہتر ہے اور جو شخص اللہ کے راستے میں اسلامی سرحد کی حفاظت کرتے ہوئے مرگیا تو وہ (قیامت کے دن) بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہے گا اور اس کا رزق اور جنت کی خوشبو اس کو ملے گی اور اس پر سرحدوں کی حفاظت کا اجر جاری رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو اٹھائیں گے (قیامت کے دن) ۔ (20) طبرانی نے (جید سند کے ساتھ) عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی کا ہر عمل اس سے ختم ہوجاتا ہے جب وہ مرجاتا مگر اللہ کے راستہ میں پہرہ دینے کا عمل بڑھتا رہتا ہے اور قیامت کے دن تک اس کا رزق جارہ رہتا ہے۔ (21) احمد نے (جید سند کے ساتھ) ابودرداء ؓ سے مرفوع حدیث میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے پہرہ دیا مسلمانوں کے ساحلوں کا تین دن تو ایک سال کے پہرہ دینے کے قائم مقام ہوگا (یعنی ایک سال تک پہرہ دینے کا ثواب ملے گا) ۔ (22) ابن ماجہ نے (صحیح سند کے ساتھ) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کے راستہ پہرہ دیتے ہوئے مرگیا۔ تو اس کے نیک عمل کا ثواب اس پر جاری رہے گا۔ (یعنی اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا رہے گا) جو وہ عمل کیا کرتا تھا۔ اور اس کا زرق بھی جاری رہے گا اور یہ شیطان سے امن میں رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن گھبراہٹ سے محفوظ اٹھائیں گے۔ (23) الطبرانی نے الاوسط میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً اسی طرح روایت کیا اور یہ اضافہ کیا ہے اس میں۔ کہ اگر اسلامی سرحد پر پہرہ دینے والا اپنے پہرہ کی حالت میں مرگیا تو اس کا عمل قیامت کے دن تک لکھا جاتا رہے۔ اور اس کو غذا دی جائے گی اور اس کے رزق کے ساتھ جنت کی ہوا بھی اس کو پہنچے گی۔ اور ستر حوروں سے اس کی شادی کی جائے گی اور اس سے کہا جائے گا یہاں ٹھہر جاؤ اور لوگوں کی سفارش کرو۔ یہاں تک (لوگ) حساب سے فارغ ہوجائیں۔ (24) الطبرانی نے لابأس سند کے ساتھ واثلۃ بن اسقع ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کوئی اچھا طریقہ رائج کیا تو اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد اس کو ثواب ملتا رہے گا یہاں تک اس (عمل) کو چھوڑ دیا جائے اور جس شخص نے کوئی طریقہ رائج کیا تو اس پر اس کا گناہ ہوگا یہاں تک کہ اسے چھوڑ دیا جائے اور جو شخص پہرہ دیتے ہوئے اللہ کے راستہ میں مرگیا تو اس کا یہ عمل جاری رہے گا یہاں تک کہ قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔ (25) الطبرانی نے الاوسط میں جید سند کے ساتھ حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پہرہ دینے والے کے اجر کا پوچھا گیا آپ نے فرمایا جس شخص نے ایک رات پہرہ دیتے ہوئے مسلمانوں کے پیچھے ان کی حفاظت کی تو اسے پیچھے رہنے والے روزے داروں اور نمازیوں کا ثواب ملے گا۔ (26) الطبرانی نے الاسط میں لاباس سند کے ساتھ جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے ایک دن اللہ کے راستہ میں اسلامی سرحد کی حفاظت کی اللہ تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان سات خندقیں بنا دیں گے اور ہر خندق سات آسمانوں اور سات زمینوں کی طرح ہوگی (یعنی ان کے برابر ہوگی) ۔ (27) ابن ماجہ نے (انتہائی ضعیف سند کے ساتھ) ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اللہ کے ثواب کی امید رکھتے ہوئے رمضان کے مہینہ کے علاوہ مسلمانوں کی حفاظت کے لئے سرحدوں کی حفاظت کی تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سو سال کی عبادت اس کے روزے اور قیام کرنے سے افضل ہے اور اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ایک دن سرحدوں کی حفاظت جو مسلمانوں کی حفاظت کے لیے ہو ثواب کی امید رکھتے ہوئے رمضان کے مہینہ میں یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دو ہزار سال کی عبادت اس کے روزے اور قیام کرنے سے افضل ہے اگر اللہ تعالیٰ اس کو اپنے اہل و عیال کی طرف صحیح سلامت لوٹا دیتے تو اس کے قیامت تک سر حدوں کی نگرانی کے عمل کا اجر لکھا جاتا رہتا ہے۔ (28) ابن حبان و بیہقی نے مجاہد سے اور انہوں نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے فرمایا وہ سرحدوں کی نگرانی کر رہے تھے تو لوگ ڈرے اور ساحل کی طرف کھڑے ہوئے نکل گئے پھر کہا گیا کچھ خطرہ نہیں تو لوگ واپس لوٹ رہے تھے اور ابوہریرہ ؓ کھڑے ہوئے تھے (اسی اثنا میں) ایک آدمی ان کے پاس سے گذرا اور کہا اے ابوہریرہ کس لئے ٹھہرے ہو ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تھوڑی دیر ٹھہرنا حجراسود کے پاس لیلۃ القدر میں قیام کرنے سے بہتر ہے۔ (29) ترمذی (نے اس کو حسن کہا) ونسائی، ابن ماجہ وابن حبان اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور عثمان بن عفان ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک دن اللہ کے راستہ میں سرحد کی حفاظت کرنا دوسری جگہ ہزار دن گزارنے سے بہتر ہے۔ اور ابن ماجہ کے یہ الفاظ ہیں کہ جس شخص نے ایک رات اللہ کے راستہ میں سرحد کی حفاظت کی تو اس کے لیے اتنا بڑا ثواب ہوگا گویا کہ اس نے ہزار دن روزے رکھے اور قیام کیا۔ (30) بیہقی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سرحد کی نگرانی کرنے والے کی نماز پانچ سو نمازوں کے برابر ہے۔ اور ایک دینار اور درہم کا خرچ کرنا سات سو دیناروں سے افضل ہے جو وہ اس کے علاوہ دوسرے کاموں میں خرچ کرتا ہے۔ (31) ابو الشیخ نے الثواب میں انس ؓ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ رباط والی زمین پر نماز پڑھنا دو ہزار نمازوں جیسی ہے۔ (32) ابن حبان نے عتبہ بن منذر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب جنگ دو جگہ ہو اور جرمانوں کی کثرت ہوجائے اور غنیمتوں کو حلال سمجھا جانے لگے تو تمہارا بہترین جہاد سرحد کی حفاظت کرنا ہے۔ (33) بخاری اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہلاک ہوا دینار کا بندہ اور درہم کا بندہ اور سیاہ وسفید چوغہ کا بندہ اور چادر کا بندہ (یعنی ان چیزوں کا حریص) اگر اس کو دیا جائے تو راضی ہو اور اگر اس کو نہ دیا جائے تو ناراض ہو ہلاک ہوا اور اوندھا گرا اور جب کانٹا گھس جائے تو نہ نکلے خوشخبر ہے اس بندہ کے لیے جس نے اللہ کے راستہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑی اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اس کے قدم غبار آلود ہیں اگر پہرہ دینے لگے آگے ضرورت ہو تو اگلے حصہ میں ہوتا ہے اگر لشکر کے پیچھے میں خرابی ہو تو پیچھے حصہ میں ہوتا ہے اگر اجازت طلب کرے تو اس کو اجازت نہ دی جائے اور اگر سفارش کرے تو سفارش قبول نہ کی جائے۔ مجاہد کی زندگی بہترین زندگی ہے (34) مسلم و نسائی و بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہتر زندگی سب لوگوں میں اس کی ہے کہ جو آدمی اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ تھامے ہوئے ہو جب بھی کوئی خوفناک آواز کو سنتا ہے تو گھوڑے کو تیز چلاتا ہے اور وہیں شہید ہوجانے کو اور موت کی خواہش کرتا ہے اور وہ آدمی جو تھوڑی سی بکریاں لئے ہوئے پہاڑ کی چوٹیوں میں سے کسی چوٹی میں رہتا ہے یا ان وادیوں میں سے کسی وادی میں رہتا ہے جہاں وہ نماز قائم کرتا ہے زکوٰۃ کو ادا کرتا ہے اور موت کے آنے تک اپنے رب کی عبادت کرتا ہے یہ بہترین حالت میں ہے لوگوں میں سے۔ (35) بیہقی نے ام مبشر ؓ سے روایت کیا ہے کہ جو نبی ﷺ تک سند کو پہنچاتی ہیں کہ لوگوں میں بہترین آدمی ہیں جو اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر دشمن کو ڈراتا ہے اور وہ دشمن اس کو ڈراتے ہیں۔ (36) بیہقی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین راتوں تک مسلمانوں کی چوپال کی حفاظت کرنا یہ میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے کہ میں مسجدوں میں سے کسی ایک مسجد میں لیلۃ القدر کو پاؤں یعنی مدینہ منورہ یا بیت المقدس میں اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے اللہ کے راستہ میں مرجائے اللہ تعالیٰ اس کو قبر کے فتنہ سے امن عطا فرما دیں گے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ کے راستہ میں پہرہ دینے والا زیادہ اجر والا ہے اس آدمی سے جو مہینہ بھر کے روزے رکھتا ہے اور اس کا قیام کرتا ہے۔ (37) بیہقی نے ابن عابد ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک آدمی کے جنازہ کے لیے باہر تشریف لائے جب جنازہ کو رکھا گیا تو عمر بن خطاب ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس پر نماز نہ پڑھیں کیونکہ یہ گنہگار آدمی ہے رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا کیا تم میں سے کسی نے اس کو اسلام پر دیکھا ہے ؟ ایک آدمی نے کہا ہاں ! یا رسول اللہ ! اس نے ایک رات اللہ کے راستہ میں چوکیداری کی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے اس پر نماز پڑھائی اور اس پر مٹی ڈالی اور فرمایا تیرے ساتھ یہ خیال کرتے ہیں کہ تو دوزخ والوں میں سے ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تو جنت والوں میں سے ہے اور فرمایا اے عمر ! تو لوگوں کے اعمال کے بارے میں نہ پوچھا کر بلکہ تو ان کے دین کے بارے میں سوال کیا کرو۔ (38) حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جب سے اس کام کو شروع فرمایا نبوت اور رحمت سے شروع فرمایا پھر وہ لوٹ جاتا ہے بادشاہت اور رحمت کی طرف پھر وہ لوٹ جاتا ہے جبر یہ کی طرف پھر وہ لوگوں کو اس طرح کھائیں گے جیسے گدھے کھاتے ہیں اے لوگو ! دشمن کے خلاف جہاد کو لازم پکڑو جب تک میٹھا اور ہرا بھرا ہو پہلے اس کے کہ وہ کڑوا اور سخت ہوجائے اور یہ عام ہوگا پہلے اس کے کہ کٹا ہوا ہوجائے جب جہاد کی جگہیں دور ہوجائیں غنیمتوں کا مال کھالیا جائے اور حرام کو حلال بنا لیا جائے تو تم پر دشمن کے خلاف ڈٹ جانا لازم ہے کیونکہ وہ تمہارا بہترین جہاد ہے۔ (39) احمد نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ چارچیزیں ایسی ہیں کہ مرنے کے بعد بھی ان کا اجر جاری رہتا ہے ایک وہ آدمی جو اللہ کے راستہ میں پہرہ دیتے ہوئے شہید ہوجائے دوسرا وہ آدمی جس نے علم حاصل کیا اس کا اجر جاری رہتا ہے جب تک اس پر عمل ہوتا رہے گا اور وہ آدمی جس نے صدقہ کیا تو اس کا اجر اس پر جاری رہتا ہے اور وہ آدمی جو نیک اولاد چھوڑ گیا جو اس کے لیے دعا کرتی ہے۔ (49) ابن السنی نے عمل یوم ولیلہ میں ابن مردویہ وابو نعیم وابن عساکر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر رات کو سورة آل عمران کی آخری دس آیات پڑھا کرتے تھے۔ (41) الدارمی نے عثمان بن عفان ؓ سے روایت کیا ہے کہ جو شخص آل عمران کی آخری آیات رات کو پڑھے گا تو اس کے حق میں پوری رات کا قیام کرنا لکھ دیا جاتا ہے۔