3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 3:173–176

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

یہ ایسے ہیں کہ جب ان سے لوگوں نے کہا کہ بلاشبہ لوگوں نے تمہارے لئے سامان کیا ہے لہٰذا تم ان سے ڈرو تو ان کی اس بات نے ان کا اور زیادہ ایمان بڑھا دیا اور کہنے لگے کہ ہم کو اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے۔

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

سو وہ اللہ کی نعمت اور اس کا فضل لے کر واپس ہوئے ان کو کچھ بھی تکلیف نہیں پہنچی اور وہ اللہ کی رضا مندی کے تابع رہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

یہ جو بات پیش آئی صرف اس وجہ سے کہ شیطان اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے سو تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو۔

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

اور آپ کو وہ لوگ رنجیدہ نہ کریں جو تیزی کے ساتھ کفر میں جا پڑتے ہیں بیشک وہ لوگ اللہ کو کچھ بھی ضرر نہ دے سکیں گے، اللہ چاہتا ہے کہ ان کو آخرت میں کچھ بھی حصہ نہ دے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔

(1) عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر “ سے منافق لوگ مراد ہیں۔ (2) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” ولا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر “ سے کافر مراد ہیں۔ (3) ابن ابی حاتم نے مجاہد رحمۃ اللہ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان الذین اشتروا الکفر بالایمان “ سے منافق لوگ مراد ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں۔
Ayahs 3:177–178

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر کو ایمان کے بدلہ خرید لیا وہ ہرگز اللہ کو کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکیں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

اور ہرگز گمان نہ کریں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کہ ہم جو ان کو مہلت دے رہے ہیں وہ ان کی جانوں کے لئے بہتر ہے، بات یہی ہے کہ ہم انہیں ملت دے رہے ہیں تاکہ وہ گناہوں میں اور زیادہ ترقی کرلیں اور ان کے لئے عذاب ہے ذلیل کرنے والا۔

(1) عبد الرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابوبکر المروزی نے جنائز میں ابن جریر ابن المنذر وابن ابی حاتم و طبرانی اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ کوئی انسان ایسا نہیں جو نیک ہو یا برا ہو مگر موت اس کے لیے بہتر ہے زندگی سے اگر وہ نیک ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمادیا۔ لفظ آیت ” وما عند اللہ خیر للابرار “ اور اگر وہ برا ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے لفظ آیت ” ولا یحسبن الذین کفروا انما نملی لہم خیر لانفسہم انما نملی لہم لیزدادو اثما “۔ (2) سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابو الدرداء ؓ سے روایت کیا ہے کہ نہیں ہے کوئی مومن مگر موت اس کے لیے بہتر ہے اور نہیں ہے کوئی کافر مگر موت اس کے لیے بہتر ہے پس جو شخص مجھے سچا نہ مانے تو بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ لفظ آیت ” وما عند اللہ خیر للابرار “ (اور فرمایا) ” ولا یحسن الذین کفروا انما نملی لہم خیر لانفسہم انما نملی لہم لیزدادوا اثما ولہم عذاب مھین “۔ (3) سعید بن منصور وابن المنذر نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا ہے کہ موت بہتر ہے کافر کے لیے اور مومن کے لیے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی پھر فرمایا کہ کافر جب تک زندہ رہے اس کے لیے اتنا ہی سخت عذاب ہوگا قیامت کے دن۔ (4) عبد بن حمید نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نہیں ہے کوئی ایک مگر موت اس کے لیے بہتر ہے زندگی سے مومن مرتا ہے تو راحت پاتا ہے اور کافر کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمادیا لفظ آیت ” ولا یحسبن الذین کفروا انما نملی لہم خیر لانفسہم “
Ayah 3:179

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

اللہ مومنین کو اس حالت میں چھوڑنا نہیں چاہتا جس پر تم اب ہو جب تک کہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ فرما دے، اور اللہ تم کو امور غیب پر مطلع نہیں فرماتا لیکن اللہ منتخب فرما لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہے، سو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر، اور اگر تم ایمان پر قائم رہے اور تم نے تقویٰ اختیار کیا تو تمہارے لئے ثواب عظیم ہے۔

(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ منافقوں نے کہا اگر محمد ﷺ سچے ہیں تو ان کو چاہیے ہم کو بتائیں کون ہم میں سے ایمان لائے گا اور کون ہم میں سے کافر رہے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت ” ما کان اللہ لیذر المؤمنین علی ما انتم علیہ “۔ (2) ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ (اللہ تعالیٰ ) کافروں کے لیے فرماتے ہیں لفظ آیت ” ما کان اللہ لیذر المؤمنین علی ما انتم علیہ حتی یمیز الخبیث من الطیب “ پس وہ تمیز کرے گا مگر سعادت والوں کو شقاوت والوں سے (یعنی مسلمانوں کو کافروں سے الگ کر دے گا) ۔ (3) عبد بن حمید وابن المنذر نے وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے (کہ اللہ تعالیٰ ) کافروں کے لیے فرماتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوگا کہ ایمان والے چھوڑ دئیے جائیں اس حال پر جس پر تم ہو یعنی گمراہی پر ہو یہاں تک کہ تمیز کردی جائے گی ناپاک کو پاک سے پس تمیز ہوگئی ان کے درمیان جہاد اور ہجرت کے ذریعے۔ (4) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ تمیز کردی گئی ان کے درمیان احد کے دن یعنی منافق کو مومن سے الگ کردیا گیا۔ (5) سعید بن منصور نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اس طرح پڑھا ” حتی یمیز الخبیث من الطیب “۔ (6) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے عاصم (رح) سے روایت کیا انہوں نے اسی طرح پڑھالفظ آیت ” حتی یمیز الخبیت من الطیب “۔ (7) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب “ سے مراد ہے کہ نہیں مطلع ہوتا ہے غیب مگر رسول۔ (8) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء “ اللہ تعالیٰ ان کو یعنی رسولوں کو خاص فرماتے ہیں اپنی ذات کے لیے۔ (9) ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” یجتبی “ سے مراد ہے ” یستخلص “ یعنی اللہ تعالیٰ چن لیتے ہیں (جس بندے کو چاہتے ہیں) ۔
Ayah 3:180

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 3:180 in the Quran reader

اور ہرگز خیال نہ کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہے کہ یہ بخل کرنا ان کے لئے بہتر ہے، بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے، جس چیز کے ساتھ انہوں نے بخل کیا عنقریب قیامت کے دن ان کو اس کا طوق پہنایا جائے گا۔ اور اللہ کے لئے آسمانوں اور زمین کی میراث ہے اور اللہ ان کاموں کی خبر رکھتا ہے جو تم کرتے ہو۔

(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا یحسبن الذین یبخلون بما اتہم اللہ من فضلہ “ سے وہ اہل کتاب مراد ہیں کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے بیان اللہ کی کتاب کے ساتھ بخل کیا (پھر فرمایا) ” سیطوقون ما بخلوا بہ یوم القیمۃ “ یعنی عنقریب ان کو اس چیز کا طوق پہنایا جائے گا جس کے ساتھ وہ بخل کرتے تھے کیا تو نے نہیں سنا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” یبخلون ویامرون الناس بالبخل “ (آیت 37) یعنی اہل کتاب کہتے ہیں اور وہ خود بھی (اللہ کے احکام) چھپاتے ہیں اور لوگوں کو بھی چھپانے کا حکم دیتے ہیں۔ (2) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” ولا یحسبن الذین یبخلون بما اتہم اللہ من فضلہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے یہودی مراد ہیں۔ (3) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے لفظ آیت ” ولا یحسبن الذین یبخلون بما اتہم اللہ من فضلہ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے بخل کیا اور اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی۔ (4) ابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا ہے کہ اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ وہ کافر اور مومن دونوں مراد ہیں جو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے سے بخل کرتے ہیں۔ (5) بخاری احمد وعبد بن حمید اور ترمذی نے اس کو صحیح کہا وابن ماجہ و نسائی وابن جریر وابن خزیمہ وابن المنذر وابن ابی حاتم اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی تو اس کے مال کو گنجا سانپ بنا دیا جائے گا اس کے سر پر دو نشان ہوں گے اس کو اس (سانپ) کا طوق پہنایا جائے گا قیامت کے دن تو وہ اس کے جبڑوں کو پکڑے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں تیرا خزانہ ہوں پھر یہ آیت تلاوت فرمائی لفظ آیت ” ولا یحسبن الذین یبخلون بما اتہم اللہ من فضلہ “۔ زکوٰۃ نہ دینے پر وعید (6) الفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وعبد اللہ بن احمد نے زوائد الزھد میں وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و طبرانی اور حاکم نے اس کو صحیح کہا حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” سیطوقون ما بخلوا بہ یوم القیمۃ “ سے مراد ہے کہ جس کے پاس مال ہے اور اس نے زکوٰۃ ادا نہیں کیا تو قیامت کے دن طوق پہنایا جائے گا اسے گنجے سانپ کا اس کے منہ پر دو زہر کے چھالے ہوں گے اور اس کے سر کو مارے گا یہاں تک کہ اس کے دماغ تک پہنچ جائے گا۔ اور حاکم کے یہ الفاظ ہیں کہ وہ اس کو قبر میں ڈسے گا اور وہ کہے گا میرا تیرے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ تو سانپ کہے گا میں تیرا وہ مال ہوں کہ جس کے ساتھ تو بخیلی کرتا تھا۔ (7) عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ قیامت کے دن یہ مال اپنے مالک کے لیے گنجا سانپ کی صورت میں مسلط ہوگا جب اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی ہوگی سانپ اس کا پیچھا کرے گا تو وہ اس سے پناہ مانگے گا۔ (8) ابن ابی شیبہ نے اپنی مسند میں وابن جریر نے حجر بن بیان ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی رشتہ دار ایسا نہیں ہے کہ اس کے پاس اس کا رشتہ در آئے گا اور اس سے بچے ہوئے مال کا سوال کرے گا جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا فرمایا تو وہ اس میں (یعنی مال دینے میں) بخیلی کرے گا تو قیامت کے دن اس کے لیے جہنم میں سے ایک سانپ نکلے گا جو ادھر ادھر زبان ما رہا ہوگا یہاں تک کہ اس کی گردن میں طوق بن جائے گا پھر یہ آیت ( آپ نے) پڑھی لفظ آیت ” ولا یحسبن الذین یبخلون بما اتہم اللہ من فضلہ “۔ ? (9) عبد بن حمید و ابوداؤد اور ترمذی نے اس کو حسن کہا و نسائی وابن جریر و بیہقی نے شعب الایمان میں معاویہ بن حیدہ ؓ سے روایت کیا ہے نبی ﷺ نے فرمایا کوئی آدمی اپنے مولیٰ کے پاس آتا ہے اور اس سے اس بچے ہوئے مال کا سوال کرتا ہے جو اس کے پاس ضرورت سے زائد (موجود) ہے مگر وہ اس کو منع کردیتا ہے تو قیامت کے دن ایک سانپ کو لایا جائے گا جو مال اس نے روکا تھا اسے چٹ کر جائے گا۔ (10) الطبرانی نے عبد بجلی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کے پاس اس کا کوئی (غریب) رشتہ دار آئے اور اس سے بچے ہوئے مال کا سوال کرے جو اس کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا تھا اور وہ اس پر بخیلی کرے (اور غریب رشتہ دار کو نہ دے) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک سانپ نکالیں گے جس کو شجاع کہا جائے گا وہ زبان ادھر ادھر مار رہا ہوگا وہ اس کی گردن میں طوق بن جائے گا۔ (11) سعید بن منصور و بیہقی نے شعب الایمان میں ابو درداء ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اس مال والے لایا جائے گا جس میں اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ہوگی اور اس کا مال اس کے آگے ہوگا جب وہ پل صراط پر لڑکھڑائے گا تو اس کا مال اس سے کہے گا چلا جا تو نے اللہ تعالیٰ کا حق میرے بارے میں ادا کردیا تھا پھر اس مال والے کو لایا جائے گا جس نے اس مال میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کی ہوگی جب وہ بھی پل صراط کے پاس لایا جائے گا تو اس کا مال اس سے کہے گا افسوس اسی طرح رہے گا یہاں تک کہ مال اس کے لیے ہلاکت کی بدعا کرتا رہے گا۔ (12) سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر نے مسروق (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ وہ آدمی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس کے مال میں بنا دیا تھا پھر اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک سانپ بنا دیں گے جو اس کی گردن میں طوق بن جائے گا اور وہ سانپ اس سے کہے گا کیا ہے میرے لیے اور تیرے لیے ؟ (یعنی میرے ساتھ تیرا کیا تعلق ہے ؟ ) تو وہ کہے گا میں تیرا مال ہوں۔ (13) عبد الرزاق و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا لفظ آیت ” سیطوقون ما بخلوا بہ یوم القیمۃ “ سے مراد ہے کہ اس کے گلے میں آگ کا ایک طوق ہوگا۔ (14) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” سیطوقون ما بخلوا بہ “ سے مراد ہے کہ قیامت کے دن ان کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ لے آئیں اس مال کو جو انہوں نے دنیا میں بخل کیا۔
Ayah 3:181

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 3:181 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ نے سن لی ان کی بات جنہوں نے کہا کہ بیشک اللہ فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں، عنقریب ہم ان کی بات کو لکھ لیں گے اور جو انہوں نے نبیوں کے ناحق خون کئے ہیں اس کو بھی لکھ لیں گے اور ہم کہیں گے کہ چکھ لو جلنے کا عذاب۔

(1) ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ابوبکر ؓ بیت المدارس میں داخل ہوئے وہاں ایک یہودی کو پایا کہ جس کے گرد لوگ جمع ہو رہے تھے جس کو فخاص کہا جاتا تھا اور یہ آدمی ان کے بڑے علماء میں سے تھا ابوبکر ؓ نے (اس سے) فرمایا افسوس ہے تجھ پر اے فخاص ! اللہ سے ڈر اور مسلمان ہوجا اللہ کی قسم ! تم خوب جانتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں جیسے تم اپنی کتاب تورات میں لکھا ہوا پاتے ہو فخاص نے کہا اللہ کی قسم ! اے ابوبکر ! ہمیں کوئی حاجت نہیں اللہ کی طرف اور ہم نہیں عاجزی کرتے اس کی طرف جیسا کہ وہ عاجزی کرتا ہے ہماری طرف اور ہم تو اس سے غنی ہیں اگر وہ غنی ہوتا ہم سے قرضہ نہ مانگتا جیسا کہ تمہارا ساتھی یعنی رسول اللہ ﷺ گمان کرتے ہیں تم سے منع کرتا ہوں سود کو اور ہم کو عطا کرتا ہے اگر وہ بےپرواہ ہوتا ہم سے تو ہم کو سود نہ دیتا ابوبکر صدیق ؓ (یہ سن کر) غضبناک ہوگئے اور فخاص کے چہرہ پر طمانچہ رسید کیا اور فرمایا اے اللہ کے دشمن اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر عہد نہ ہوتا جو ہمارے اور تیرے درمیان ہے تو میں ضرور تیری گردن مار دیتا فخاص رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور کہا اے محمد ! آپ دیکھئے آپ کے ساتھی نے میرے ساتھ کیا کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تجھے ایسا کرنے میں کس چیز نے آمادہ کیا ؟ ابوبکر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس نے بڑی گستاخانہ بات کہی یہ گمان کرتا ہے اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم اس سے غنی ہیں جب اس نے یہ بات کہی تو مجھے اللہ کے لیے غصہ آگیا اور میں نے اس کے منہ پر طمانچہ مار دیا فخاص نے انکار کیا اور کہا میں نے یہ بات نہیں کہی تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں (یہ آیت) نازل فرمائی جو فخاص نے کہی تھی ابوبکر ؓ کی تصدیق کرتے ہوئے یعنی لفظ آیت ” لقد سمع اللہ قول الذین قالوا ان اللہ فقیر “ اور ابوبکر ؓ کے بارے میں نازل فرمایا جو ان کو (اس بات سے) غصہ پہنچا تھا یعنی لفظ آیت ” ولتسمعن من الذین اوتوا الکتب من قبلکم ومن الذین اشرکوا اذی کثیرا “۔ (2) ابن جریر وابن المنذر نے وجہ آخر سے حضرت عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو فخاص یہودی کے پاس بھیجا تاکہ اس سے مدد طلب کرے اور اس کی طرف آپ نے خط میں لکھا اور ابوبکر ؓ سے یہ بھی فرمایا یہاں تک کہ تو میری طرف لوٹ آئے جب فخاص نے خط پڑھا تو کہنے لگا کہ تمہارا رب محتاج ہوگیا ہے (نعوذ باللہ) ابوبکر ؓ نے کہا کہ میں نے ارادہ کیا کہ اس تلوار سے اس کی گردن اڑا دوں پھر مجھے نبی اکرم ﷺ کا فرمان یاد آگیا کہ معاملہ میں جلدی نہ کرنا اس پر یہ آیت نازل ہوئیں لفظ آیت ” لقد سمع اللہ قول الذین قالوا “ اور ” ولتسمعن من الذین اوتوا الکتب من قبلکم “ اور یہ یہودی بنی قینقاع کے ساتھ معاملہ ہوا تھا۔ یہود کے باطل گمان کی تردید (3) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ اس آیت ” لقد سمع اللہ قول الذین قالوا ان اللہ فقیر “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس کو نبی مرثد کے یہودی فخاص نے کہا تھا جب ابوبکر اس سے ملے حضرت ابوبکر ؓ نے اس سے فرمایا اے فخاص اللہ سے ڈرو اور ایمان لے آؤ اور رسول اللہ کی تصدیق کرو اور اللہ تعالیٰ کو اچھا قرضہ دو فخاص نے کہا اے ابوبکر ؓ بیشک تم گمان کرتے ہو کہ ہمارا رب فقیر ہے اور ہم سے قرضہ مانگتا ہے ہمارے مالوں کا اور نہیں قرضہ مانگتا مگر فقیر غنی سے اگر یہ حق ہے جو تو کہتا ہے تب تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا اگر معاہدہ نہ ہوتا نبی مرثد اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان تو میں اس کو قتل کردیتا۔ (4) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے ایک یہودی کو تھپڑ مارا (جنہوں نے یہ کہا تھا) لفظ آیت ” الذین قالوا ان اللہ فقیر ونحن اغنیاء “ یعنی اگر وہ غنی پاتا تو ہم سے قرض نہ مانگتا اور وہ یہودی تھا ایسی بات کرنے والا۔ (5) ابن جریر نے شبل (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ جو مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ فخاص یہودی نے کہا تھا لفظ آیت ” ان اللہ ثالث ثلثۃ “ اور ” ید اللہ مخلولۃ “۔ (6) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہودی محمد ﷺ کے پاس آئے جب یہ آیت ” من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا “ اللہ تعالیٰ نے اتاری تو کہنے لگے اے محمد ! کیا ہمارا رب (نعوذ باللہ) فقیر ہوگیا کہ اپنے بندوں سے قرضہ مانگتا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ” لقد سمع اللہ قول الذین قالوا “۔ (7) ابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے ” لقد سمع اللہ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ آیت حیی بن اخطب کے بارے میں نازل ہوئی تو کہنے لگا کہ ہمارا رب ہم سے قرضہ مانگتا ہے بلاشبہ فقیر، غنی سے قرضہ مانگا کرتا ہے۔ (8) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن المنذر اور ابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا ہے کہ علاء بن بدر (رح) سے اس آیت ” وقتلہم الانبیاء بغیر حق “ کے بارے میں پوچھا کہ ان (موجودہ) یہودیوں نے اس زمانہ کو نہیں پایا (یعنی انہوں نے تو انبیاء کو قتل نہیں کیا) تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں کے قتل کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔ (9) ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے لفظ آیت ” ونقول ذوقوا عذاب الحریق “ کے بارے میں روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ ان کو دن میں ستر مرتبہ جلایا جائے گا۔ (10) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان اللہ لیس بظلام للعبید “ سے مراد ہے کہ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) میں اس شخص کو عذاب دینے والا نہیں ہوں جو جرم نہ کرے۔
Ayahs 3:182–183

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ Open ayah 3:182 in the Quran reader

یہ ان اعمال کی وجہ سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے، اور بلاشبہ اللہ بندوں پر ظلم فرمانے والا نہیں ہے۔

اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:183 in the Quran reader

جنہوں نے کہا بیشک اللہ نے ہم سے یہ فرمایا کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک کہ ہمارے پاس ایسی قربانی کی چیز نہ لائے جسے آگ کھاجائے، آپ فرما دیجئے مجھ سے پہلے بہت سے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے اور جو تم کہہ رہے ہو وہ بھی لائے پھر تم نے ان کو کیوں قتل کیا اگر تم سچے ہو ؟

(1) ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” حتی یاتینا بقربان تاکلہ النار “ سے مراد ہے کہ ایک آدمی ہم میں سے صدقہ کرتا تھا اور وہ جب قبول ہوتا تھا تو اس پر آسمان سے آگ اترتی تھی جو اس کو کھا لیتی تھی۔ (2) ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم سے پہلی امتوں میں سے جب کوئی قربانی پیش کرتا تھا تو لوگ باہر نکل آتے تھے اور دیکھتے تھے کہ قربانی قبول ہوتی ہے یا نہیں اگر وہ قبول ہوتی تو آگ نہ ہوتی تو لوگ پہچان لیتے کہ اس کی قربانی قبول نہیں جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا تو ان سے اہل کتاب نے قربانی لانے کا سوال کیا (تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا) لفظ آیت ” قل قد جاء کم رسل من قبلی بالبینت وبالذی قلتم “ یعنی مجھ سے پہلے تمہارے پاس آئے دلائل لے کر اور اس چیز کو لے کر آئے جو تم نے کہا قربانی ” فلم قتلتموہم “ پھر تم نے ان کو کیوں قتل کیا) یعنی ان کو عار دلائی ان کے کفر کی وجہ سے۔ (3) ابن المنذر ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے لفظ آیت ” الذین قالوا ان اللہ عہد “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ وہ یہودی تھے جنہوں نے محمد ﷺ سے کہا اگر تو ہمارے پاس قربانی کو لے آئے جس کو آگ کھالے تو پھر ہم تیری تصدیق کریں گے ورنہ تو نبی نہیں ہے۔ (4) عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی کسی آدمی کے خون میں شریک ہوجاتا ہے جبکہ اس انسان کو اس کی پیدائش سے پہلے ہی قتل کیا گیا ہوتا ہے پھر شعبی (رح) نے یہ آیت تلاوت فرمائی لفظ آیت ” قل قد جاء کم رسل من قبلی بالبینت وبالذی قلتم فلم قتلتموہم “ اس زمانہ کے لوگوں کو ان کا قاتل قرار دیا گیا جبکہ سات سو سال پہلے ان کو قتل کردیا گیا تھا ان کی پیدائش سے پہلے لیکن ان لوگوں نے کہا یہ لوگ حق اور سنت پر قتل کئے گئے۔ (5) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے لفظ آیت ” قالوا ان اللہ عھد الینا “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا۔ ہر نبی کو معجزہ دیا گیا (6) ابن ابی حاتم نے العلاء بن بدر (رح) سے روایت کیا کہ رسول ﷺ معجزات لے کر آئے تھے اور بعض رسولوں کی نبوت کی نشانی یہ تھی کہ ان میں کا ایک آدمی گائے کے گوشت کو اپنے ہاتھ پر رکھ لیتا تھا آسمان سے ایک آگ آکر اس کو کھا جاتی تھی اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” قل قد جاء کم رسل من قبلی بالبینت وبالذی قلتم “۔ (7) ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے ” فان کذبوک “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد یہودی ہیں کہ انہوں نے جھوٹ بولا۔ (8) ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فقد کذب رسل من قبلک “ سے مراد ہے کہ وہ اپنے نبی کو اذیت دیتا تھا۔ (9) ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اور وہ اپنے اساتذہ سے روایت کرتے ہیں کہ ” بالبینت “ سے مراد ہے حلال اور حرام ” والزبر “ سے انبیاء کی کتابیں مراد ہیں اور ” والکتب المنیر “ سے قرآن مراد ہے۔ (10) ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے ” والزبر والکتب المنیر “ سے مراد ہے ایک چیز کو کئی گنابڑھا دیا جاتا ہے حالانکہ وہ ایک ہوتی ہے۔ قولہ تعالیٰ : کل نفس ذائقۃ الموت : (11) ابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ کی وفات ہوئی تو تعزیت کرنے والے آتے ایک آنے والا ان کے پاس اس طرح آیا کہ وہ اس کی آواز کو سن رہے تھے لیکن اس آدمی کو نہیں دیکھ رہے تھے اس نے کہا اسلام علیکم اے گھر والو ورحمۃ اللہ وبرکاتہ لفظ آیت ” کل نفس ذائقۃ الموت وانما توفون اجورکم یوم القیمۃ “ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے لیے صبر ہے پس تم اللہ پر اعتماد کرو اور اسی سے امید رکھو کیونکہ جو ثواب سے محروم رہا وہ حقیقت محروم زدہ ہے حضرت علی نے فرمایا یہ خضر تھے۔ (12) ابن ابی شیبہ وھناد وعبد بن حمید اور ترمذی اور حاکم دونوں نے اس کو صحیح کہا وابن حبان وابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک کوڑے کی جگہ جنت میں دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے اور تم پڑھ لو اگر تم چاہو ” فمن زحرح عن النار وادخل الجنۃ فقد فاز وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور “۔ (13) ابن مردویہ نے سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک کوڑے کی جگہ جنت میں دنیا ومادفیھا سے بہتر ہے پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” فمن زحرح عن النار وادخل الجنۃ فقد فاز “۔ (14) عبد بن حمید نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک صبح اور ایک شام اللہ کے راستے میں بہتر ہے دنیا سے اور جو کچھ اس میں ہے اور ایک کمان کے فاصلے کے برابر ان میں سے ایک آدمی کی جگہ جنت میں بہتر ہے دنیا وما فیھا سے اور جو کچھ اس میں ہے۔ (15) ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ آخری آدمی جو جنت میں داخل ہوگا اس کو اتنی روشنی دی جائے گی کہ وہ برابر روشنی میں چلتا رہے گا یہاں تک کہ پل صراط سے پار ہوجاتا ہے اسی کو فرمایا لفظ آیت ” فمن زحزح عن النار وادخل الجنۃ فقد فاز “۔ (16) احمد نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص یہ پسندکرے کہ وہ آگ سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے تو وہ اپنے موت کو یوں پائے کہ وہ اللہ پر اور دن آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ لوگوں کی طرف وہ چیز لائے جو وہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس بھی وہی چیز لائی جائے۔ (17) الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نافع بن ازرق نے ان سے لفظ آیت ” فقد فاز “ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا وہ سعادت مند ہوگیا نجات پا گیا حضرت نافع نے پوچھا کیا عرب کے لوگ اس (معنی) کو جانتے ہیں انہوں نے فرمایا ہاں کیا تو نے عبد اللہ بن رواحہ ؓ کا یہ قول نہیں سنا : وعسی ان افوز ثمت القی حجۃ اتقی بھا الفتانا ترجمہ : امید ہے میں نجات پاؤں گا پھر ایسی دلیل ڈالوں گا جس سے فتنوں سے بچ جاؤں گا۔ (18) ابن جریر نے عبد الرحمن بن سبط (رح) سے لفظ آیت ” وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ جیسے توشہ ہے گدڑئیے کا کہ وہ توشہ بنا لیتا ہے کھجوروں کی ایک مٹھی یا تھوڑے سے آٹے سے زادرہ بنا لیتا ہے اور اس کے اوپر دودھ کو پی لیتا ہے۔ (19) ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور “ سے مراد ہے کہ یہ متروک سامان ہے اللہ کی قسم ممکن ہے یہ لوگوں سے کم ہوجائے اللہ کی قسم اگر تم طاقت رکھتے پس لے لو تم اس سامان سے اللہ کی اطاعت کو جہاں تک ممکن ہو اور نہیں ہے قوت مگر ساتھ اللہ کے۔
Ayahs 3:184–186

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 3:184 in the Quran reader

سو اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ سے پہلے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں وہ کھلی کھلی نشانیاں لائے اور صحیفے لائے اور روشن کتاب لائے۔

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 3:185 in the Quran reader

ہر جان موت چکھنے والی ہے اور بات یہی ہے کہ تم کو قیامت کے دن پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، سو جو شخص بچا دیا گیا آگ سے اور داخل کردیا گیا جنت میں سو وہ کامیاب ہوگیا، اور دنیا والی زندگی دھوکہ کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ Open ayah 3:186 in the Quran reader

تم لوگ ضرور ضرور آزمائے جاؤگے اپنی جانوں اور مالوں کے بارے میں اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور جن لوگوں نے شرک کیا ان کی طرف سے ضرور بالضرور بہت سی باتین دل آزاری کی سنو گے، اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بلاشبہ یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔

(1) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” لتبلون “ الایہ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بتایا کہ وہ ایمان والوں کو عنقریب آزمائیں گے اور دیکھیں گے کس طرح وہ صبر کرتے ہیں اپنے دین پر۔ (2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے زہری (رح) سے اس بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد کعب بن اشرف ہے اور وہ ابھارتا تھا مشرکین کو نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ پر اپنے شعروں میں اور ہو ہجو کرتا تھا نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کی۔ (3) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے لفظ آیت ” ولتسمعن من الذین اوتوا الکتب “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد یہودی اور نصرانی ہیں اور مسلمان یہودیوں کی یہ باتیں سنتے تھے کہ عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ سے یہ سنتے تھے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور مسلمان ان کے جنگ بھی کرتے تھے اور ان سے اللہ کے ساتھ شرک کرنے کو بھی کم کرتے تھے (اسی پر یہ آیت اتری) لفظ آیت ” وان تصبروا وتتقوا فان ذلک من عزم الامور “ یعنی ان چیزوں میں سے کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا اور تم کو اس کے ساتھ حکم فرمایا وہ قوی ہے۔ (4) ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وان تصبروا وتتقوا “ الآیہ۔ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو حکم فرمایا کہ وہ ان کی تکلیفوں پر صبر کریں اے محمد ﷺ کے صحابہ تم کچھ بھی نہیں ہو ہم بہترین ہیں تم سے اللہ کے ہاں تم گواہ ہو تو حکم فرمایا گیا کہ ان سے گزر جاؤ اور صبر کرو۔ (5) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فان ذلک من عزم الامور “ سے مراد ہے کہ یہ صبر کرنا ہے تکلیفوں پر نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے میں سے ہے لفظ آیت ” من عزم الامور “ سے مراد ہے کہ ان کاموں میں سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔
Ayah 3:187

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ Open ayah 3:187 in the Quran reader

اور جب اللہ نے ان لوگوں سے مضبوط عہد لیا جن کو کتاب دی گئی کہ تم ضرور جرور کتاب کو لوگوں کے سامنے بیان کرنا اور اس کو نہ چھپانا، سو انہوں نے اس کو اپنی پشتوں کے پیچھے ڈال دیا اور انہوں نے اس کے ذریعہ تھوڑی سی قیمت خرید لی، سو بری ہے وہ چیز جو وہ خریدتے ہیں۔

(1) ابن اسحاق وابن جریر نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب لتبیننہ للناس “ سے لے کر ” عذاب الیم “ تک سے مراد ہے فخاص اشیع اور ان جیسے دوسرے علماء مراد ہیں۔ (2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب لتبیننہ للناس “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ان کو حکم تھا کہ وہ نبی امی کی تابعداری کریں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان لے آئے اور فرمایا اس کی تابعداری کرو تاکہ تم ہدایت پاجاؤ جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا تو فرمایا لفظ آیت ” اوفوا بعھدی اوف بعھدکم “ میرے وعدے کو پورا کرو میں تمہارے وعدے پورے کروں گا جب محمد ﷺ کو بھیجا تو حکم دیا آپ کی تصدیق کرو اور جب مجھ سے ملاقات کرو گے تو میرے پاس وہ چیز پاؤ گے جو تم پسند کروگے۔ (3) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے علقمہ بن وقاص کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ تورات اور انجیل میں ہے کہ اسلام اللہ کا دین ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں وہ لوگ یعنی اہل کتاب اس کو لکھا ہوا پاتے ہیں اپنے پاس تورات اور انجیل میں مگر وہ اس (لکھے ہوئے) کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ (4) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے اس آیت کے بارے میں لفظ آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب لتبیننہ للناس “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد یہودی ہیں ” لتبیننہ للناس “ یعنی تاکہ وہ اس کو لوگوں کے لیے بیان کریں فرمایا یعنی محمد ﷺ کے بارے میں لوگوں سے بیان کریں۔ علم سیکھانے کا حکم (6) عبد بن حمید ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ میثاق ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اہل علم سے لیا جس شخص نے علم کو سیکھ تو لیا تو اس کو چاہیے کہ لوگوں کو سکھائے اور علم کو چھپانے سے بچو کیونکہ علم کا چھپانا ہلاکت ہے جس چیز کا علم نہ ہو تکلف سے کام نہ لے خطرہ ہے کہ وہ اللہ کے دین سے نکل جائے گا یہ بات کہی جاتی ہے کہ ایسا علم جس کا اظہار نہ کیا جائے اس کی مثال اس خزانے کی طرح ہے جس سے نفع حاصل نہیں کیا جاتا جیسے وہ حکمت جو ظاہر نہ کی جائے اس کھڑے ہوئے بت کی طرح ہے جو نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے حکمت آمیز باتوں میں سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ ایسے عالم کے لیے خوشخبری ہے جو علم کا اظہار کرتا ہے اور اس سننے والے کے لیے مبارک ہو جو یاد رکھتا ہے پھر کسی اور کو سکھاتا ہے یہ وہ آدمی ہے جو علم کو سکھاتا ہے اسے خرچ کرتا ہے اور دوسرے لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور یہ وہ آدمی ہے جس نے خیر کی بات سنی اور اس کو یاد رکھا اور اس کی حفاظت کی اور اس سے نفع اٹھایا۔ (7) ابن جریر نے ابو عبیدہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی قوم کے پاس مسجد میں آیا اور ان میں عبد اللہ بن مسعود ؓ تھے انہوں نے فرمایا تمہارا بھائی کعب ؓ تم کو سلام کہتا ہے اور وہ تم کو خوشخبری دیتا ہے کہ یہ آیت تمہارے بارے میں نہیں ہے لفظ آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب لتبیننہ للناس ولا تکتمونہ “ اس کو عبد اللہ ؓ نے فرمایا اور تو اس کو میرا سلام کہنا یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جبکہ وہ یہودی تھے۔ (8) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں نے ابن عباس ؓ سے عرض کیا کہ عبد اللہ ؓ کے ساتھی یوں پڑھتے ہیں لفظ آیت ” واخذ ربک من الذین اوتوا الکتب میثاقہم “۔ (9) ابن جریر نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ اس آیت ” لتبیننہ للناس ولا تکتمونہ “ کی یوں تفسیر کرتے تھے چاہئے کہ وہ حق بات کہیں اور چاہیے کہ اپنے عمل سے اس کی تصدیق کریں۔ (10) ابن جریر وابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فنبذوہ وراء ظھورہم “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ بیشک وہ اس کو پڑھتے تھے لیکن عمل نہیں کرتے تھے۔ (11) ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” فنبذوہ “ سے مراد ہے کہ انہوں نے وعدہ کو پھینک دیا تھا۔ (12) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واشتروا بہ ثمنا قلیلا “ سے مراد ہے کہ انہوں نے لالچ کرتے ہوئے اپنا اور اسم محمد ﷺ چھپایا پھر فرمایا انہوں نے چھپایا اور بیچ دیا اور کسی چیز کو ظاہر نہ کرتے مگر پیسوں کے ساتھ۔ (13) عبد بن حمید ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فبئس ما یشترون “ سے مراد ہے کہ یہودیوں نے تورات کو تبدیل کرلیا۔ (14) عبد بن حمیدنے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے وعدہ نہ لیا ہوتا تو میں بیان نہ کرتا اور یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب لتبیننہ للناس ولا تکتمونہ “۔ (15) ابن سعد نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ اگر میثاق نہ ہوتا جو اللہ تعالیٰ نے اہل علم سے لیا تو میں بہت مسائل بیان نہ کرتا جو تم پوچھتے ہو۔
Ayah 3:188

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:188 in the Quran reader

آپ ہرگز خیال نہ کریں کہ جو لوگ اپنے کئے پر خوش ہوتے ہیں اور اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کئے ان پر ان کی تعریف کی جائے ان کے بارے میں آپ ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ وہ عذاب سے چھوٹ گئے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

(1) بخاری ومسلم واحمد ترمذی و نسائی وابن جریر ابن المنذر وابن ابی حاتم و طبرانی وحاکم و بیہقی نے شعب الایمان میں حمید بن عبد الرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا ہے کہ مروان نے اپنے دربان سے کہا اے رافع ابن عباس ؓ کے پاس جاؤ اور اس سے کہو اگر ہر آدمی ہم میں سے اپنے کئے پر خوش ہو اور وہ محبوب رکھتا ہے اس بات کو کہ اس کی تعریف کی جائے اس کام پر جو اس نے نہیں (کیا) اس پر اس کو عذاب ہوگا یا ہم (سب کے سب) ضرور عذاب دئیے جائیں گے ابن عباس ؓ نے فرمایا تمہارا اس آیت سے کیا تعلق یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی پھر ابن عباس ؓ نے یہ آیت بھی تلاوت فرمائی لفظ آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب لتبیننہ للناس “ اور یہ آیت بھی تلاوت فرمائی ” لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا “ پھر ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان کے نبی نے ان سے ایک چیز پوچھی تو انہوں نے اس کو چھپایا اور اس کے علاوہ دوسری بات بتادی وہ لوگ باہر نکلے اور یہ ظاہر کر رہے تھے کہ آپ نے جو ان سے پوچھا تھا وہی ان کو بتایا اور اس پر تعریف کے طالب ہوئے اور چھپانے پر خوش ہونے لگے جو ان سے سوال کیا گیا تھا۔ (2) بخاری ومسلم وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے اور البیہقی نے شعب الایمان میں ابو سعیدخدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ منافقین میں سے کچھ لوگ پیچھے رہ جاتے تھے جب رسول اللہ کسی جنگ میں تشریف لے جاتے تھے تو یہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف اپنے بیٹھ رہنے سے خوش ہوتے تھے جب رسول اللہ ﷺ جنگ سے واپس تشریف لاتے تو یہ لوگ آپ سے عذر کرتے اور قسمیں اٹھاتے اور اس بات کو پسند کرتے کہ جو کام انہوں نے نہیں کیا اس پر ان کی تعریف کی جائے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا “۔ منافقین جہاد میں نکلنے سے عذر کرتے تھے (3) عبد بن حمید نے زید بن اسلم سے روایت کیا رافع بن خدیج اور زید بن ثابت ؓ دونوں حضرات مروان کے پاس تھے جبکہ وہ مدینہ منورہ کے گورنر تھے مروان نے کہا اے رافع ! کس چیز کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا “ رافع نے کہا یہ آیت منافقین کے بعد لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جب نبی ﷺ (کسی جنگ کے لیے) باہر نکلتے تھے تو یہ لوگ عذر کردیتے تھے اور وہ کہتے تھے آپ کے ساتھ جانے سے ہم کو مصروفیات نے روک لیا ورنہ ہم آپ کے ساتھ جانے کو پسند کرتے تھے تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی مروان نے اس بات سے انکار کیا رافع اس سے گھبرا گئے تو اس نے زید بن ثابت سے کہا میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو جو میں نے کہا اس نے کہا ہاں جب دونوں مروان سے (ہو کر) باہر آئے تو زید نے اس سے کہا کیا تو میری تعریف نہیں کرتا کہ میں نے تیرے لیے شہادت دی اس نے کہا تیری تعریف کرتا ہوں کہ تو نے سچی گواہی دی زید ؓ نے فرمایا ہاں اللہ تعالیٰ نے حق بات کہنے والوں کی تعریف فرمائی ہے۔ (4) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ لوگ منافق تھے جو نبی ﷺ کو کہتے تھے اگر آپ (جہاد کے لیے) نکلے تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکلیں گے جب وہ نبی ﷺ (جہاد کے لیے) نکلے تو وہ پیچھے رہ گئے انہوں نے جھوٹ بولا اور اس حرکت پر خوش ہو رہے تھے اور وہ یہ خیال کررہے تھے کہ یہ ایک حیلہ تھا جو انہوں نے کیا۔ (5) ابن اسحاق وابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد فخاص اور اشیع اور ان جیسے دوسرے علماء ہیں جو خوش ہوتے تھے دنیا کا مال ومتاع مل جانے سے کیونکہ وہ لوگوں کے لیے گمراہی کا راستہ مزین کرتے (اور فرمایا) لفظ آیت ” ویحبون ان یحمدوا بما لم یفعلوا “ یعنی وہ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ ان کی تعریف کی جائے جو کام انہوں نے کہا (اس طرح سے) کہ لوگ ان کو علماء کہیں حالانکہ وہ اہل علم نہیں تھے لوگوں کو ہدایت پر اور نہ خیر پر آمادہ کرتے جبکہ پسند کرتے تھے کہ لوگ ان کے لیے یہ کہیں کہ انہوں نے یہ عمل کیا ہے۔ (6) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں ان پر کتاب نازل کی گئی مگر انہوں نے ناحق فیصلے کئے اور اللہ کے احکام میں تحریف کر ڈالی اور اس پر خوش ہوئے اور اس بات کو انہوں نے پسند کیا کہ اس کام پر ان کی تعریف کی جائے اور خوش ہوئے کہ انہوں نے محمد ﷺ کا انکار کیا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف نازل فرمایا اس کا بھی انکار کیا اور وہ اس خیال میں رہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر رہے ہیں اور روزے رکھتے ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں اور اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے رسول محمد ﷺ کا انکار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا بھی انکار کرتے ہیں اور (الٹا) یہ پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے جو وہ نماز اور روزے کے اعمال کرتے ہیں۔ (7) عبد بن حمید وابن جریر نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہود کے بعض لوگوں نے (اپنے) بعض لوگوں کو لکھا کہ محمد ﷺ نبی نہیں ہیں اپنی (اس) بات پر جمے رہو انہوں نے ایسا ہی کیا اور اس پر خوش بھی ہوئے اور محمد ﷺ کے انکار پر بھی اکٹھے ہو کر خوش ہوئے۔ (8) ابن جریر نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ انہوں نے محمد ﷺ کے نام کو چھپایا اور اس پر خوش ہوئے جب سب نے اس کام پر اتفاق کیا اور وہ اپنے آپ کو پاکیزہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے ہم روزہ نماز اور زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں اور ہم ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہیں تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا “ یعنی محمد ﷺ (کے نام) کو چھپانے سے خوشی کا اظہار کرتے ہو پھر فرمایا لفظ آیت ” ویحبون ان یحمدوا بما لم یفعلوا “ یعنی وہ اس بات کو محبوب رکھتے ہیں کہ عرب تمہاری تعریف کریں تمہاری پاکیزگی پر جبکہ تم ایسے نہیں ہو۔ (9) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے ” لا تحسبن الذین یفرحون بما لم یفعلوا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ان کا قول تھا کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہیں۔ (10) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہودی اس بات پر خوش تھے کہ لوگ خوش ہیں ان کے کتاب تبدیل کرنے پر اور اس پر ان کی تعریف کرتے ہیں حالانکہ یہودی اس (تبدیلی) کے مالک نہیں تھے اور ہرگز وہ ایسا نہیں کرسکتے تھے۔ (11) ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد وہ یہودی ہیں جو خوش ہوتے تھے اس چیز سے جو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو عطا فرمائی۔ خیبر کے یہود کی شرارت (12) عبد بن حمید وابن نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ خیبر کے یہودی نبی ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے یہ خیال کیا وہ اس دین پر راضی ہیں جو وہ اب لے کر آئے اور وہ اسی کی تابعداری کرنے والے ہیں جبکہ وہ گمراہی کو پکڑنے والے تھے اور انہوں نے یہ بھی ارادہ کیا کہ نبی ﷺ ان کی اس بات پر تعریف کریں جو انہوں نے عمل نہیں کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” لا تحسبن الذین یفرحون “۔ (13) عبد الرزاق وابن جریر نے وجہ آخر سے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ خیبر والے نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کی رائے پر ہیں اور ہم آپ کے حمایتی ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کو جھوٹا قرار دیا۔ (14) ابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ خیبر والوں میں سے (کچھ) یہودی نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے ہم نے دین کو قبول کیا اور ہم اس پر راضی ہوگئے (لیکن) وہ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ ان کی تعریف کی جائے اس کام پر جو انہوں نے نہیں کیا۔ (15) مالک وابن سعد والبیہقی نے دلائل میں محمد بن ثابت (رح) سے روایت کیا ہے کہ ثابت بن قیس ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں ڈر رہا ہوں کہ میں ہلاک نہ جاؤں آپ نے فرمایا کیوں ! عرض کیا ہم کو اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا کہ ہم تعریف کو پسند نہ کریں اس کام پر جو ہم نے نہیں کیا اور میں اپنے آپ کو پاتا ہوں کہ تعریف کو پسند کرتا ہوں اور ہم کو تکبر سے منع کیا گیا اور میں اپنے آپ کو پاتا ہوں کہ میں خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں اور ہم کو آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا آپ کی آواز سے اور میں اونچی آواز والا آدمی ہوں آپ نے فرمایا اے ثابت ! کیا تو پسند نہیں کرتا کہ تو اچھی زندگی گذارے اور شہید ہو کر مرے اور تو جنت میں داخل ہوجائے انہوں نے اچھی زندگی گذاری اور مسیلمہ کذاب کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ (16) الطبرانی نے محمد بن ثابت (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو ثابت بن قیس ؓ نے بیان فرمایا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یقینی طور پر میں ڈرتا ہوں آگے اسی طرح اس کو ذکر فرمایا۔ (17) ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ عبادت کرنے والے فقہاء تھے بادشاہ ان کے پاس حاضر ہوئے ان علماء نے بادشاہوں کو رخصتیں دیں اور بادشاہوں نے ان کو (خوب) ہدایا اور عطیات دئیے علماء اس بات پر خوش تھے کہ جو بادشاہوں نے ان کی بات مان لی ہے اور جو ان کو عطیات دئیے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ” لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا “۔ (18) عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابراہیم (رح) سے لفظ آیت ” لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگوں نے رسول ﷺ سے (لڑنے) کے لیے ایک ایک فوجی دستہ تیار کیا۔ (19) ابن ابی حاتم نے احنف بن قیس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نے ان سے کہا کیا آپ جھکیں گے نہیں تاکہ آپ کی پیٹھ پر سوار ہوں فرمایا شاید آپ عراضین میں ہوجائیں پوچھا عراضون کون ہیں ؟ اس نے کہا لفظ آیت ” الذین یفرحون بما اتوا ویحبون ان یحمدوا بما لم یفعلوا “ (یعنی جو لوگ اس بات کو) پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے ان کاموں پر جو انہوں نے نہیں کئے (پھر فرمایا) جب تیرے لئے حق بات کو پیش کیا جائے تو اسی کا ارادہ کرلے اور اس کے علاوہ سب کو چھوڑ دے۔ (20) ابن ابی حاتم نے یحییٰ بن یعمر (رح) سے لفظ آیت ” فلا تحسبنہم “ کے بارے میں نقل کیا ہے۔ (21) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” فلا تحسبنہم “ پڑھا یعنی سین کے کسرہ اور باء کے رفع کے ساتھ۔ (22) ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” بمفازۃ “ سے مراد ہے ” بمفازۃ “ نجات کے ساتھ۔
Ayahs 3:189–190

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 3:189 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لئے ہے ملک آسمانوں اور زمینوں کا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ Open ayah 3:190 in the Quran reader

بلاشبہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور یکے بعد دیگرے رات دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

(1) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے طبرانی اور مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ قریش یہودیوں کے پاس آئے اور کہا موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے پاس کون سی نشانیاں لے کر آئے تھے تو انہوں نے کہا ان کی لاٹھی تھی اور ان کا سفید ہاتھ تھا اندھے اور برص والی بیماری والوں کو اچھا کردیتے تھے مردوں کو زندہ کردیتے تھے پھر یہ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا فرمائی تو یہ آیت ” ان فی خلق السموت والارض واختلاف الیل والنھار لایت لاولی الالباب “ نازل ہوئی یعنی پس چاہیے کہ وہ اس میں غور فکر کریں۔ (2) بخاری ومسلم و ابوداؤد و نسائی وابن ماجہ نے بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ ؓ کے پاس رات گذاری رسول اللہ ﷺ سو گئے یہاں تک کہ آدھی رات کو یا اس سے کچھ پہلے یا اس کے کچھ بعد تک سوتے رہے پھر آپ جاگ گئے اور نیند بھگانے کے لیے آپ نے اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرہ مبارک پر پھیرا پھر آپ نے سورت آل عمران کی آخری دس آیتوں کو پڑھا یہاں تک کہ ختم فرمایا۔ (3) عبد اللہ بن احمد نے زوائد المسند و طبرانی وحاکم نے الکنی میں والبغوی نے معجم الصحابہ میں صفوان بن معطل السلمی ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر کیا آپ نے رات کی نماز میں جلدی کی (اور) عشاء کی نماز پڑھ کر سو گئے پھر جب آدھی رات ہوئی تو آپ بیدار ہوئے اور سورت آل عمران کی آخری دس آیات کی آپ نے تلاوت فرمائی پھر مسواک فرمایا پھر وضو فرمایا پھر آپ نے گیارہ رکعت نماز پڑھی۔
Ayah 3:191

الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا١ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 3:191 in the Quran reader

جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے اور لیٹے ہوئے اور فکر کرتے ہیں آسمان اور زمین کے پیدا کرنے میں، اے ہمارے رب آپ نے اس کو عبث پیدا نہیں فرمایا ہم آپ کی پاکی بیان کرتے ہیں، سو آپ ہمیں دوزخ کے عذاب بچا دیجئے۔

(1) الاصبہانی نے الترغیب میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک پکارنے والا قیامت کے دن پکارے گا عقل والے کہاں ہیں ؟ تو لوگ کہیں گے تو کون سے عقل والے چاہتا ہے ؟ تو وہ کہے گا لفظ آیت ” الذین یذکرون اللہ قیما وقعودا وعلی جنوبہم ویتفکرون فی خلق السموت والارض ربنا ما خلقت ھذا باطلا سبحنک فقنا عذاب النار “ (یعنی وہ لوگ جو کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کا ذکر کرتے تھے آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غوروفکر کرتے تھے اور یہ کہتے تھے اے ہمارے رب آپ نے یہ سب کچھ بےکار پیدا نہیں فرمایا آپ کی ذات پاک ہے ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچالے) ان کو ایک جھنڈا دیا جائے گا ساری جماعت اس جھنڈے کے پیچھے جائے گی اور ان سے کہا جائے گا اس میں (یعنی جنت میں) ہمیشہ کے لیے داخل ہوجاؤ۔ (2) الفریابی وابن ابی حاتم و طبرانی نے جویبر کے طریق سے ضحاک سے روایت کیا اور انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ سے لفظ آیت ” الذین یذکرون اللہ قیما وقعودا وعلی جنوبہم “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ بلاشبہ یہ نماز کا حکم ہے اگر کھڑے نہ ہو سکو تو بیٹھ جاؤ اور بیٹھ بھی نہ سکو تو کروٹ پر لیٹ جاؤ۔ (3) الحاکم نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا ہے کہ ان کو بواسیر تھی تو نبی ﷺ نے ان کو کروٹ پر لیٹ کو نماز پڑھنے کا حکم فرمایا۔ (4) بخاری نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو بواسیر تھی تو میں نے نبی ﷺ سے نماز کے بارے میں پوچھا (کہ کس طرح ادا کروں) آپ نے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھ لو اور اس کی طاقت نہیں رکھتا تو بیٹھ کر پڑھ اگر اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو کروٹ پر (لیٹ کر) نماز پڑھ۔ (5) بخاری نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک آدمی کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا جو آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھے وہ افضل ہے اور جو آدمی بیٹھ کر نماز پڑھے تو اس کے لیے آدھا اجر ہے کھڑے ہونے والے سے اور جو آدمی لیٹ کر نماز پڑھے تو اس کے لیے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے سے آدھا اجر ہے۔ (6) ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ وہ اللہ کا ذکر ہے نماز میں اور غیر نماز میں بھی اور قرآن کی قرات کرنے بھی مراد ہے۔ (7) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن حاتم نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” الذین یذکرون اللہ قیما وقعودا وعلی جنوبہم “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اے ابن آدم ! اس میں تیرے سارے حالات کا بیان ہے اللہ کا ذکر کر اس حال میں کہ کھڑا ہو اگر تو اس کی طاقت نہیں رکھتا تو بیٹھ کر اللہ کا ذکر کر اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو اپنی کروٹ پر لیٹ کر اللہ کا ذکر کرویہ آسانی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور تخفیف ہے۔ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا (8) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرنے والا جبھی ہوتا ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کو کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے اور لیٹے ہوئے یاد کرتا ہے۔ قولہ تعالیٰ : ویتفکرون : (9) ابن ابی حاتم وابو شیخ نے العظمہ میں والاصبہانی نے ترغیب میں عبد اللہ بن سلام ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ ؓ کے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ وہ لوگ کسی بات میں غورو فکر کر رہے تھے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ (اس کی ذات) کے بارے میں غورو فکر نہ کرو لیکن تم غورو فکر کرو اس کی مخلوق کے بارے میں۔ (10) ابن ابی الدنیا نے کتاب التفا کر میں والاصبہانی نے ترغیب میں عمرو بن مروہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک قوم پر گذرے جو (کسی بات میں) غورو فکر کر رہے تھے آپ نے فرمایا مخلوق میں غور کرو۔ خالق (کی ذات) میں غورنہ کرو۔ (11) ابن ابی الدنیا نے عثمان بن ابی دہرین سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ ؓ کے پاس تشریف لائے تو وہ خاموش ہوگئے اور کوئی بات نہ کی۔ آپ نے فرمایا تم کو کیا ہوگیا کہ تم کوئی بات نہیں کرتے ہو ؟ تو انہوں نے عرض کیا ہم اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں غور کر رہے ہیں اپنے فرمایا اسی طرح کرو اس کی مخلوق میں غور کیا کرو اور اس کی ذات میں غور نہ کیا کرو۔ (12) ابن ابی الدنیا والطبرانی وابن مردویہ اور الاصبہانی نے ترغیب میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور کیا کرو اور اللہ کی ذات میں غورنہ کیا کرو۔ (13) ابو نعیم نے الحلیہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لوگ اللہ کی مخلوق میں غور کرو۔ اور اللہ کی ذات میں غور نہ کرو۔ (14) ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہر چیز میں غور کرو اور اللہ کی ذات میں غور نہ کرو۔ (15) عبد بن حمید وابن ابی الدنیا نے التفاکر میں وابن المنذر وابن حبان نے اپنی صحیح میں وابن مردویہ والاصبہانی نے ترغیب میں وابن عساکر نے عطاء نے فرمایا میں نے حضرت عائشہ ؓ سے عرض کیا رسول اللہ ﷺ کے اعمال میں سے سب سے عجیب عمل جو تم نے دیکھا ہے وہ مجھے بتائیے حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا آپ کا کون سا عمل عجیب نہ تھا آپ ایک رات میرے پاس تشریف لائے اور میرے پاس میرے لحاف میں داخل ہوگئے پھر فرمایا مجھے چھوڑ دے میں اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں پھر آپ کھڑے ہوگئے اور وضو فرمایا پھر نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے اور اتنا روئے کہ آپ کے آنسو مبارک آپ کے سینے پر بہنے لگے پھر آپ نے رکوع فرمایا اور روتے رہے پھر آپ نے سجدہ فرمایا اور روتے رہے پھر آپ نے سر مبارک اٹھایا اور روتے رہے آپ برابر اسی طرح روتے رہے یہاں تک کہ بلال ؓ آئے اور انہوں نے نماز کے لیے آذان دی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کس لیے آپ روتے رہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دئیے ہیں آپ نے فرمایا کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں اور میں کیوں ایسا نہ کرتا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس رات میں یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” ان فی خلق السموت والارض واختلاف الیل والنھار لایت لاولی الالباب “ سے لے کر ” باطلا سبحنک فقنا عذاب النار “ تک پھر فرمایا ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو اس کو پڑھے اور اس میں غور نہ کرے۔ سورۃ آل عمران پر غور نہ کرنے والا ہلاک ہوا (16) ابن ابی الدنیا نے التفاکر میں سفیان (رح) سے ایک مرفوع حدیث میں روایت کیا ہے کہ جس شخص نے سورت آل پڑھی اور اس میں غور نہ کیا تو اس کے لیے ہلاکت ہے اور آپ نے اپنی انگلیوں (مبارک دس) کو شمار کیا اوزاعی (رح) سے پوچھا گیا کہ ان میں غوروفکر سے کیا مراد ہے انہوں نے فرمایا کہ وہ ان آیات کو پڑھتا ہے اور سمجھتا ہے۔ (17) ابن ابی الدنیا نے عامر بن عبد قیس (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں نے ایک یا دو تین صحابہ ؓ سے نہیں سنا بلکہ کئی صحابہ سے یہ روایت سنی کہ وہ فرماتے تھے بلاشبہ ایمان کی روشنی یا ایمان کا نور غوروفکر کرنے میں ہیں۔ (18) ابن سعد وابن ابی شیبہ واحمد الزھد میں وابن المنذر نے ابن عون (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں ام درداء ؓ سے پوچھا ابو دردا ؓ کی سب سے افضل عبادت کیا تھی ؟ تو انہوں نے کہا غور فکر کرنا اور عبرت حاصل کرنا۔ (19) ابو الشیخ نے العظمہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک گھڑی کا غوروفکر کرنا ایک رات بھر قیام کرنے سے بہتر ہے۔ (20) الدیلمی نے وجہ آخر سے انس ؓ سے ایک مرفوع روایت کی ہے کہ ایک گھڑی کا غوروفکر کرنا رات اور دن کے آنے جانے میں اسی سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ (21) ابو الشیخ نے العظمہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک گھڑی کا غوروفکر کرنا ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ (22) ابو الشیخ والدیلمی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوعا روایت کیا ہے کہ ایک آدمی چت لیٹا ہوا آسمان اور ستاروں کی طرف دیکھ رہا تھا اور کہنے لگا اللہ کی قسم ! میں جانتا ہوں کہ تیرا ایک پیدا کرنے والا رب ہے اے اللہ میری مغفرت فرما دے اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف نظر کرم فرمائی اور اس کی مغفرت فرما دی۔