Ayahs 3:162–164(1) ابن المنذر ابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عائشہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں لفظ آیت ” لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیہم رسولا من انفسہم “ روایت کیا ہے کہ خاص کر عرب کے لیے ہے۔
(2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ عظیم ذات کی طرف سے بڑا احسان ہے کہ اس امت نے نہ دعا کی اور نہ رغبت کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رحمت بنا دیا جو ان کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالتے ہیں اور ان کو ہدایت کا راستہ دکھاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے (اپنے نبی کو) اس قوم کی طرف بھیجا جو علم نہ رکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو علم عطا فرمایا اور ایسی قوم کی طرف بھیجا جن میں ادب نہیں تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو ادب سکھایا۔
Ayah 3:165(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اولما اصابتکم مصیبۃ “ سے مراد ہے کہ بلاشبہ تم نے بدر کے دن مشرکوں کو دگنی تکلیف پہنچائی جتنی انہوں نے تم کو احد کے دن پہنچائی۔
(2) ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ مسلمانوں نے بدر کے دن مشرکوں میں سے ستر آدمیوں کو قتل کیا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” قد اصبتم مثلیھا قلتم انی ھذا “ مسلمان کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں ہم اللہ تعالیٰ کے لیے مرجاتے ہیں جبکہ یہ مشرک ہیں فرمادیجئے ” قل ھو من عند انفسکم “ یہ تمہاری جانب سے ہے جو تم نے نبی اکرم ﷺ کی نافرمانی کی تھی یہ اس کی سزا ہے۔
(3) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ جب صحابہ ؓ نے اپنے میں سے قتل ہونے والوں کو دیکھا احد کے دن تو کہنے لگے یہ کیسے ہوا ؟ کفار کو یہ طاقت نہ تھی کہ وہ ہم میں سے لوگوں کو قتل کرتے تو لوگوں نے اس بارے میں کہا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ ان کی قیدیوں کے بدلہ میں ہیں جن کو تم نے پکڑ لیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ان کو لوٹا دیا اور ان کے لیے دنیا ہی میں جلدی سزا دے دی تاکہ وہ اس (عذاب) سے آخرت میں سلامت رہیں۔
احد میں شہداء کی تعداد ستر تھی
(4) ابن ابی شیبہ و ترمذی نے اس کو حسن کہا وابن جریر وابن مردویہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے محمد ﷺ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو ناپسند فرمایا ہے جو آپ کے صحابہ ؓ قیدیوں کو پکڑ لیا ہے اور اس نے آپ کو حکم فرمایا ہے کہ دو کاموں میں سے ایک کام کو چن لیں یا تو ان قیدیوں کی گردنیں مار دو یا اس کو فدیہ لے کر چھوڑ دو اور مسلمانوں میں سے اتنی ہی تعداد شہید ہوگی رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو بلوایا اور یہ بات ان سے فرمائی تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ ہمارے کنبہ اور ہمارے بھائی ہیں ہم ان سے فدیہ لیں گے پس اس فدیہ کے ذریعہ ہم اپنے دشمن کے خلاف طاقت حاصل کریں گے برابر شہید ہوں گے اور اس بات کو ہم ناپسند نہیں کرتے (اس وجہ سے) احد کے دن مسلمانوں میں سے ستر آدمی شہید ہوئے بدر والوں کے قیدیوں کی گنتی کے برابر۔
(5) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن بصری ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” قل ھو من عند انفسکم “ سے مراد یہ سزا ہے تمہارے لیے تمہاری نبی ﷺ کی نافرمانی کی وجہ سے جب آپ نے فرمایا تھا کہ تم ان کی تابعداری نہ کرنا لیکن انہوں نے ان کی تابعداری کی۔
(6) ابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” قل ھو من عند انفسکم “ یعنی یہ سزا ہے نبی ﷺ کی نافرمانی کی وجہ سے جب کہ آپ نے فرمایا تھا کہ ان کی تابعداری نہ کرنا (اپنی جگہ پر قائم رہنا) ۔
(7) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولما اصابتکم مصیبۃ قد اصبتم مثلیھا “ سے مراد ہے کہ اس احد کے دن مسلمانوں میں سے ستر آدمی شہید ہوئے جبکہ مسلمانوں نے بدر کے دن مشرکین میں سے ستر آدمیوں کو قتل کیا اور ستر کو قیدی بنایا (پھر فرمایا) لفظ آیت ” قلتم انی ھذا قل ھو من عند انفسکم “ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا احد کے دن جب ابو سفیان اور مشرکین آگے آئے کہ ہم محفوظ جگہ میں ہیں یعنی اس سے مراد مدینہ منورہ ہے مشرکوں کو بلاؤ کہ وہ ہم پر حملہ آور ہوں یہاں ہم ان سے لڑیں گے تو انصار میں سے کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم مدینہ منورہ کے راستوں میں لڑنے کو ناپسند کرتے ہیں اور ہم زمانہ جاہلیت میں حملہ سے اپنا دفاع کرتے تھے تو اسلام میں تو بدرجہ اولیٰ دفاع کرسکتے ہیں اور اس کو ناپسند کرتے ہیں تو اسلام زیادہ حق دار ہے اس بات کا کہ اس میں ہم مدینہ میں لڑنے کو ناپسند کریں ہم کو دشمن قول کی طرف لے کر نکلو آپ (اندر) تشریف لے گئے اور اپنا ہتھیار پہن لیا تو صحابہ (ایک دوسرے کو) ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے کہ نبی ﷺ نے ایک رائے پیش کی اور جبکہ تم نے ایک اور رائے پیش کی اے حمزہ ! تم جاؤ اور ان سے عرض کرو کہ ہم آپ کی رائے کے تابع ہیں حضرت حمزہ ؓ تشریف لائے اور ان کو پیغام پہنچایا تو آپ نے فرمایا کسی نبی کے یہ لائق نہیں کہ جب وہ ہتھیار پہن لے تو ان کو جنگ کئے اتار دے اور عنقریب تم میں مصیبت پہنچے گی تو صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! یہ مصیبت خاص ہوگی یا عام ہوگی تو آپ نے فرمایا عنقریب تم اس کو دیکھو گے۔
(8) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا ہے لفظ آیت ” ولیعلم المؤمنین۔ ولیعلم الذین نافقوا “ سے مراد ہے تاکہ ہم تمیز کرلیں مومنین اور منافقین کے درمیان (اور فرمایا) لفظ آیت ” وقیل لہم تعالوا “ سے عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھ مراد ہیں۔
(9) ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” او ادفعوا “ سے مراد ہے کہ اپنے آپ کو زیادہ کرلو اگر تم نہیں لڑتے ہو۔
(10) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو حازم (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں نے سہل بن سعید (رح) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر میں اپنے گھر کو بیچ دوں اور میں سرحد پر چلا جاؤں اور میں مسلمانوں اور ان دشمنوں کے درمیان کھڑا ہوجاؤں میں نے کہا آپ ایسا کرسکتے ہیں حالانکہ آپ کی آنکھیں ختم ہوچکی ہیں تو انہوں نے فرمایا کیا تو نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کو نہیں سنا لفظ آیت ” تعالوا قاتلوا فی سبیل اللہ اوادفعوا “ یعنی میں تعداد میں اضافہ کروں گا لوگوں کے ساتھ اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔
(11) ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے ” او ادفعوا “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ جماعت کو زیادہ کرو۔
(12) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو عون انصاری (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” او ادفعوا “ سے مراد ہے کہ سرحدوں کی نگہداشت کرو۔
منافقین غزوہ احد سے واپس آگئے
(13) ابن اسحاق وابن جریر ابن المنذر ابن شہاب اور اس کے علاوہ دوسرے حضرات رحمۃ اللہ علیہم سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب میں ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ احد کی طرف تشریف لے گئے احد اور مدینہ منورہ کے درمیان شرط کے مقام پر تھے تو عبد اللہ بن ابی ایک تہائی لوگوں کو لے کر الگ ہوگیا اور کہا آپ نے ان کی اطاعت کی اور آپ ﷺ نے میری بات نہیں مانی اللہ کی قسم ! ہم نہیں جانتے کہ ہم یہاں اپنے آپ کو کیوں قتل کریں گے اور لوٹ گئے اس کے ساتھ نفاق والے اور شک والے لوگ بھی لوٹ گئے عبد اللہ بن عمرو بن حزام (رح) جو بنو سلمہ میں سے تھے ان کے پیچھے گئے اور ان سے فرمایا اے قوم ! میں تم کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتا ہوں کہ تم اپنے نبی کو اور اپنی قوم کو چھوڑ کر جا رہے ہو اس وقت میں جبکہ ان کے دشمن حاضر ہیں کہنے لگے اگر ہم اس بات کو جان لیتے کہ تم (دشمن کے ساتھ) قتال کرو گے تو ہم تمہارا ضرور کہنا مان لیتے لیکن ہم نہیں دیکھ رہے ہیں کہ قتال یعنی لڑائی ہوگی۔
(14) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” لو نعلم قتالا لا اتبعنکم “ یہ عبد اللہ بن ابی کے بارے میں نازل کیا ہوئی۔
(16) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ ہزار آدمیوں کے ساتھ (مقابلہ کے لیے) نکلے اور ان سے وعدہ فرمایا اگر وہ صبر کریں گے تو ان کو فتح نصیب ہوگی جب یہ لوگ (احد کی طرف) نکلے تو عبد اللہ بن ابی تین سو آدمیوں کے ساتھ واپس آگیا ابو جابر سلمی (رح) ان کے پیچھے گئے اور ان کو بلانے کے لیے انہوں نے ابو جابر کی بات نہ مانی تو اس سے کہا ہم نہیں خیال کرتے کہ جنگ ہوگی اگر تم بھی ہماری اطاعت کرو تو ہمارے ساتھ ضرور لوٹ آؤ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا اگر تم ہماری اطاعت کرتے تو لوٹ آتے (اسی کو فرمایا) لفظ آیت ” الذین قالوا لاخوانہم وقعدوا لو اطاعونا ما قتلوا “۔
(17) ابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے اس آیت ” الذین قالوا لاخوانہم “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ آیت اللہ کے دشمن عبد اللہ بن ابی کے بارے میں نازل ہوئی۔
(18) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ” الذین قالوا لاخوانہم وقعدوا “ اللہ کے دشمن عبد اللہ بن ابی کے بارے میں نازل ہوئی۔
(19) ابن جریر نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” الذین قالوا لاخوانہم “ سے عبد اللہ بن ابی مراد ہے۔
(20) سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ وہ عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھ مراد ہیں۔
(21) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ وہ عبد اللہ بن ابی اور وہ لوگ جو بیٹھ گئے انہوں نے اپنے بھائیوں سے کہا جو نبی ﷺ کے ساتھ احد کے دن (میدان جنگ کی طرف) نکلے۔
(22) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” قل فادرء وا عن انفسکم الموت “ سے مراد ہے یعنی موت تم کو ضرور پہنچے گی اور اگر تم طاقت رکھتے ہو تو اپنے آپ سے موت کو دور کر دو تو ایسا کرلو اور یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے منافقت کی اور اللہ کے راستہ میں جہاد کو چھوڑ دیا دنیا میں باقی رہنے کی حرص اور موت سے بھاگنا تھا۔
(23) ابن ابی حاتم نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر یہ آیت قدریہ کے بارے میں نازل ہوئی لفظ آیت ” الذین قالوا لاخوانہم وقعدوا لو اطاعونا ما قتلوا “۔
(24) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ وہ کفار جو اپنے بھائیوں کو یہ کہتے تھے اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ قتل کئے جاتے وہ خیال کرتے ہیں کہ ان کا لڑائی میں حاضر ہونا ان کو موت کی طرف آگے کردیتا ہے۔
Ayahs 3:166–169(1) حاکم نے اس کو صحیح کہا اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت حضرت حمزہ ؓ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی (آیت یہ ہے) ” ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربہم یرزقون “۔
(2) سعید بن منصور وعبد بن حمید ابن ابی حاتم نے ابو الضحی (رح) سے اس آیت ” ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا “ کے بارے میں سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت احد کے مقتولین کے بارے میں نازل ہوئی ان میں سے ستر آدمی شہید ہوئے چار مہاجرین میں حمزہ بن عبد المطلب ؓ بنو ہاشم میں سے مصعب بن عمیر ؓ بنو عبد الدار میں سے عثمان بن شماس بنو مخزوم میں سے اور عبد اللہ بن حبش بنو اسد میں سے اور باقی سارے انصار میں سے تھے۔
شہداء کی روحیں
(3) احمد وھنا وعبد بن حمید ابو ادؤد وابن جریر وابن المنذر اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تمہارے بھائیوں کو احد میں شہادت پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے روحوں کو سبز پرندوں کے پیٹوں میں کردیا جو جنت کی نہروں پر آتی ہیں اور اس کے پھلوں میں سے کھاتی ہیں اور سونے کے قندیلوں میں آرام کرتی ہیں جو عرش کے سایہ میں لٹکے ہوئے ہیں جب انہوں نے اپنے عمدہ کھانے پینے کو اور اپنے رہنے کی عمدہ جگہوں کو پایا تو کہنے لگے کاش ہمارے بھائی بھی جان لیتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ کیسا اچھا سلوک کیا ہے اور دوسرے الفاظ میں یوں کہتے ہیں ہم جنت میں زندہ ہیں اور ہم کو رزق دیا جاتا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ جہاد سے گریز کریں اور لڑائی سے پیچھے ہٹ جائیں اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا لفظ آیت ” ولا تحسبن الذین قتلوا۔۔ “ اور اس کے بعد تک۔
(4) ترمذی نے اس کو حسن کہا وابن ماجہ وابن ابی عاصم نے السنہ میں وابن خزیمہ والطبرانی اور حاکم نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ ملے اور فرمایا اے جابر ! کیا بات ہے میں تجھ کو رنجیدہ دیکھ رہا ہوں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے والد شہید ہوگئے اور عیال اور قرضہ چھوڑ گئے آپ نے فرمایا کیا میں تجھ کو خوشخبری نہ دوں اس بات کی کہ جو اللہ تعالیٰ نے تیرے والد کو عطا فرمایا میں نے عرض کیا ضرور بتائیے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی سے کلام نہیں فرمایا مگر پردے کے پیچھے سے اور تیرے والد کو زندہ فرما کر اس سے بالمشافہ بات کی کوئی پردہ حائل نہیں رہا) اور فرمایا اے میرے بندے تو مجھ پر اپنی خواہش پیش کر میں تجھ کو عطا کروں گا تو انہوں نے عرض کیا اے میرے رب مجھ کو زندہ فرما دیجئے میں تیرے راستے میں دوبارہ قتل کیا جاؤں رب تعالیٰ نے فرمایا پہلے ہی سے یہ بات طے ہوچکی ہے کہ میں ان کو واپس (دنیا میں) نہیں لوٹاؤں گا پھر انہوں نے عرض کیا اے میرے رب ! میری یہ بات میرے پیچھے بھائیوں تک پہنچا دیجئے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت ” ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا “ کو نازل فرمایا۔
(5) الحاکم نے حضرت عائش ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر ؓ سے فرمایا کیا تو جانتا ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تیرے والد کو زندہ فرما کر اس کو اپنے سامنے بٹھا دیا اور فرمایا تمنا کر مجھ سے جو تو چاہے میں تجھ کو وہ عطا کروں گا انہوں نے عرض کیا اے میرے رب میں تیری عبادت کا حق ادا نہیں کرسکا میں یہ خواہش کرتا ہوں کہ آپ مجھے دنیا کی طرف لوٹا دیجئے اور میں تیرے لیے نبی ﷺ کے ساتھ دوسری مرتبہ شہید ہوجاؤں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا فیصلہ پہلے ہوچکا ہے کہ بلاشبہ تو دنیا کی طرف نہیں لوٹے گا۔
(6) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے کہا کاش کہ ہم جان لیتے کہ ہمارے بھائیوں کے ساتھ کیا معاملہ ہوا جو احد کے دن شہید کر دئیے گئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” ولا تحسبن الذین قتلوا “۔۔ نازل فرمائی۔
(7) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ ان کے بعض علماء کی طرف سے ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ آیت ” ولا تحسبن الذین قتلوا “ بدر اور احد کے مقتولین کے بارے میں نازل ہوئی انہوں نے گمان کیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جب ان کی روحوں کو قبض فرمایا تو ان کو جنت میں داخل فرمایا اور ان کی روحوں کو سبز پرندوں پر رکھ دیا جو جنت میں چلتی پھرتی ہیں اور سونے کی قندیلوں میں آرام کرتی ہیں جو عرش کے نیچے لٹک رہے ہیں جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس انعام واکرام کو دیکھا تو کہنے لگے کاش ہمارے وہ بھائی جو ہمارے بعد آئیں گے لڑائی میں جو جلدی کریں گے ان نعمتوں کی طرف جن میں ہم ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بیشک میں حکم نازل کرنے والا ہوں تمہارے نبی پر اور خبر دینے والا ہوں تمہارے بھائیوں کو اور تمہارے نبی کو ان نعمتوں کی جن میں تم اب رہ رہے ہو پس تم خوش ہوجاؤ اور خوشخبری سن لو اور انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے خبر دے دی ہے تمہارے بھائیوں کو اور تمہارے نبی کو ان نعمتون کی جن میں تم ہو جب وہ کسی جنگ میں حاضر ہوں گے تو تمہارے پاس چلے جائیں گے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ” فرحین “ کا یہی مطلب ہے۔
(8) ابن جریر وابن المنذر نے محمد بن قیس مخرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ شہداء نے کہا اے ہمارے رب ! کیا ہمارا قاصد نہیں جو نبی ﷺ کو اس بات کی خبر دے دے جو آپ نے ہم کو عطا فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تمہارا قاصد ہوں اور جبرئیل علیہ والسلام کو حکم فرمایا کہ یہ آیت کو لے جاؤ لفظ آیت ” ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا “ (الآیہ) ۔
(9) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لوگ احد کے دن شہید ہوئے تو انہوں نے اپنے رب سے ملاقات کی تو رب تعالیٰ نے ان کا اکرام فرمایا اور ان کو زندگی ملی اور شہادت (کا رتبہ) ملا اور پاکیزہ رزق ملا تو انہوں نے کہا کاش ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے درمیان کوئی پیغام پہنچانے والا ہوتا کہ ہم نے اپنے رب سے ملاقات کی اور وہ ہم سے راضی ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تمہارا پیغمبر ہوں تمہارے نبی کی طرف اور تمہارے بھائیوں کی طرف تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا لفظ آیت ” ولا تحسبن الذین قتلوا “ سے لے کر ” ولا یحزنون “۔
اصحاب بیر معونہ کا واقعہ
(10) ابن جریر وابن المنذر نے اسحاق بن ابی طلحہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھ سے انس بن مالک ؓ نے نبی ﷺ کے اصحاب کی موجودگی میں بیان فرمایا جن کو نبی ﷺ نے بیر معونہ کی طرف بھیجا تھا انہوں نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ وہ چالیس تھے یا ستر تھے اس چشمہ پر رہنے والوں کا سردار عامر بن طفیل تھا یہ لوگ نکلے یہاں تک کہ پانی کے اوپر ایک غار پر آئے اور اس میں بیٹھ گئے پھر ان میں سے بعض لوگوں نے بعض سے کہا تم میں سے کون یہاں رہنے والوں کو رسول اللہ ﷺ کا پیغام پہنچائے گا ابو ملحان انصاری نے کہا میں پہنچاؤں گا وہ نکلے اور ان کے گرے ہوئے گھر تک پہنچے اور اپنے آپ کو گھروں کے درمیان چھپالیا پھر (ان سے) فرمایا اے بیئر معونہ والو ! میں رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہوں تمہاری طرف میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں تم بھی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ ایک آدمی گھر کی جانب سے نیزہ لے کر نکلا اور اس کے پہلو میں مار دیا یہاں تک کہ وہ نیزہ دوسری جانب نکل گیا اس صحابی نے کہا اللہ اکبر رب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہوگیا یہ لوگ بیئر معونہ والے اس کے قدموں کے نشان پر چلے یہاں تک کہ غار میں اس کے ساتھیوں کے پاس آگئے اور ان سب کو عامر بن طفیل نے قتل کردیا اپنے ساتھیوں کی مدد سے انس ؓ نے مجھ سے بیان فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں قرآن اتارا کہ وہ ہماری طرف سے اپنی قوم کو پہنچا دیں کہ تحقیق ہم نے اپنے رب سے ملاقات کی وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہوئے پھر یہ آیت منسوخ کردی گئی اور اس کو اٹھا لیا گیا بعد اس کے ہم اسے کافی عرصہ تک پڑھتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے آیات اتاریں لفظ آیت ” ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء “۔
(11) ابن المنذر نے طلحہ بن نافع کے طریق سے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت حمزہ اور آپ کے صحابہ ؓ احد کے دن شہید کر دئیے گئے تو انہوں نے کہا کاش کہ ہمارے لیے کوئی خبر دینے والا ہوتا جو ہمارے بھائیوں کو خبر دیتا اس عزت اور اکرام کی جو ہم کو ملا تو ان کی طرف ان کے رب نے وحی بھیجی میں تمہارا قاصد ہوں تمہارے بھائیوں کی طرف اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتار دیں لفظ آیت ” ولا تحسبن الذین قتلوا “ سے لے کر ” وان اللہ لا یضیع اجر المؤمنین “ تک۔
(12) ابن ابی شیبہ و طبرانی نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت حمزہ اور آپ کے صحابہ احد کے دن شہید کر دئیے گئے تو انہوں نے کہا کاش ! جو لوگ ہمارے پیچھے ہیں وہ اس بات کو جان لیتے جو اللہ تعالیٰ نے ہم کو ثواب عطا فرمایا ہے تاکہ وہ اس کے لیے تیار ہوجائیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں ان کو بتادیتا ہوں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” ولا تحسبن الذین قتلوا “۔
(13) عبد الرزاق نے مصنف میں وفریابی و سعید بن منصور وھنا دو عبد بن حمید ومسلم و ترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و طبرانی و بیہقی نے دلائل میں مسروق (رح) سے بیان کیا کہ ہم نے عبد اللہ بن مسعود ؓ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تھا (پھر فرمایا) ان کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹ میں ہیں اور عبد الرزاق کے الفاظ یہ ہیں شہدا کی روحیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سبز پرندوں کی طرح ہوتی ہیں ان کے لیے قندیلیں ہیں عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے پھرتے ہیں پھر وہ ان قندیلوں کی طرف ٹھکانہ پکڑتے ہیں پھر ان کا رب ان سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تم کوئی اور چیز چاہتے ہو ؟ تو انہوں نے کہا ہم کونسی چیز چاہیں اور ہم جنت میں سے ہر چیز کھاتے پھرتے ہیں تو اس طرح ان سے تین مرتبہ سوال کیا گیا جب انہوں نے دیکھا کہ وہ سوال کرنے سے نہیں چھٹیں گے تو انہوں نے کہا اے ہمارے رب ! ہم یہ چاہتے کہ آپ ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹا دیں یہاں تک کہ ہم تیرے راستے میں پھر قتل کر دئیے جائیں ایک اور مرتبہ جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ ان کو کوئی چیز ضرورت نہیں تو ان کو چھوڑ دیا ( یعنی سوال) نہیں کیا۔
(14) عبد الرزاق نے ابو عبیدہ سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تیسری مرتبہ جب ان سے فرمایا یعنی شہداء سے کیا تم کوئی چیز چاہتے ہو تو انہوں نے کہا ہمارے نبی ﷺ کو سلام پہنچا دیجئے اور ان کو یہ بات بھی پہنچا دیجئے کہ بیشک ہم راضی ہوگئے اللہ سے اور وہ راضی ہوگئے ہم سے۔
(15) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حضرت مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” بل احیاء عند ربہم یرزقون “ سے مراد ہے کہ ان کو رزق دیا جاتا ہے جنت کے پھلوں میں سے اور وہ پاتے ہیں اس میں کوئی خوشبو کو اگرچہ وہ جنت میں نہیں ہوتے۔
(16) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ہم آپس میں یہ گفتگو کرتے تھے کہ شہداء کی روحیں ایک دوسرے کو پہنچانتی ہیں کہ سفید پرندوں کی صورت میں اور وہ کھاتے ہیں جنت کے پھلوں میں سے اور ان کا ٹھکانہ سدرۃ المنتہیٰ ہے اور مجاہد اللہ کے راستے میں تین طرح کے ہیں جو شخص اللہ کے راستے میں قتل کیا گیا ان میں سے وہ زندہ ہوگا اور رزق دیا جائے گا اور جس نے غلبہ پایا یعنی دشمنوں پر اللہ تعالیٰ اس کو اجر عظیم عطا فرمائے گا اور وہ شخص جو مرگیا اللہ اس کو بہترین رزق عطا فرمائیں گے۔
(17) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” بل احیاء “ سے مراد ہے سبز پرندے کی صورت میں وہ اڑتے پھرتے ہیں جنت میں جہاں وہ چاہتے ہیں اور وہ اس میں سے کھاتے ہیں جہاں سے وہ چاہتے ہیں۔
(18) ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ شہدا کی روحیں سفید پرندے کی صورت میں ہوتی ہیں جنت میں۔
(19) ابن جریر نے افریقی کے طریق سے ابن بشار اسلمی یا ابو بشار اسلمی (رح) سے روایت کیا ہے کہ شہداء کی روحیں سفید قبہ میں ہیں جنت کے قبوں میں سے ہر قبہ میں دو بیویاں ہوں گی ان کا رزق ہر دن ایک بیل اور ایک مچھلی ہوگی لیکن بیل ایسا ہوگا کہ اس میں جنت کے ہر پھل کا ذائقہ ہوگا اور مچھلی اس میں جنت کی ہر پینے والی چیز کا ذائقہ ہوگا۔
روحیں سبز پرندوں کے پیوٹوں میں
(20) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہوں گی جو سونے کے ایسے قندیلوں میں ہیں جو عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں اور وہ جنت سے کھاتے پھرتے رہیں گے صبح کو اور شام کو اور قندیلوں میں رات گذاریں گے۔
(21) عبد الرزاق و سعید بن منصور ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ شہدا کی روحیں گشت کرتی ہیں سبز پرندوں کے پیٹوں میں جو جنت کے پھلوں میں پھرتے رہتے ہیں۔
(22) ھناد بن السری نے کتاب الزھد میں اور ابن ابی حاتم نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا بلا شبہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں میں ہوتی ہیں جو جنت کے باغوں میں چرتی پھرتی ہیں پھر ان کا ٹھکانہ ہوتا ہے قندیلوں کی طرف جو عرش کے ساتھ لٹکی ہوتی ہیں رب تعالیٰ فرماتے ہیں کیا تم ایسا شرف جانتے ہو جو اس شرف سے بڑھ کر ہو جو میں نے تم کو عطا کیا تو وہ کہیں گے نہیں یعنی ہم نے نہیں جانا مگر ہم اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ آپ ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں واپس لوٹا دیں یہاں تک کہ ہم قتال کریں یعنی دشمنوں سے لڑیں اور ہم ایک مرتبہ پھر تیرے راستہ میں قتل کر دئیے جائیں۔
(23) ھناد نے الزھد میں اور ابن ابی شیبہ نے المصنف میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا ہے کہ شہدا قبوں میں ہوں گے جو جنت کے باغوں میں سے کھلے میدان میں ہوں گے ان کی طرف بھیجئے جائیں گے بیل اور مچھلی وہ دونوں چرتے ہیں اور جنتی ان سے کھیلتے رہتے ہیں جب وہ کسی چیز کی طرف محتاج ہوں گے یعنی وہ کسی چیز کی ضرورت محسوس کریں گے ان میں سے ایک دوسرے کو ذبح کر دے گا وہ اس میں سے کھائیں گے اور اس میں جنت کی ہر چیز کا ذائقہ پائیں گے۔
(24) احمد وابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر ابن ابی حاتم وابن المنذر و طبرانی وابن حبان اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور بیہقی نے البعث میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شہداء جنت کے دروازے پر چمکنے والی نہر پر ہوں گے سبز قبہ میں نکلے گا ان کی طرف ان کا رزق جنت میں سے صبح کو اور شام کو۔
(25) ھناد نے الزھد میں ابن اسحاق کے طریق سے اسحاق بن عبد اللہ بن ابو فروہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو بعض اہل علم نے بیان فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے شہداء تین قسم پر ہیں ادنیٰ شہداء اللہ کے نزدیک مرتبے کے لحاظ سے وہ آدمی ہے جسے اپنی جان اور اپنے مال سے محبت ہے کہ وہ قتل کرنے اور نہ ہی قتل ہوجانے کا ارادہ کرتا ہے آتا ہے اس کے پاس ایک اجنبی تیر جو اسے لگ جاتا ہے (اور وہ شہید ہوجاتا ہے تو) پہلا قطرہ جو گرتا ہے اس کے خون میں سے تو اس کے ساتھ اس کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں پھر نیچے اتارتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک جسم کو آسمان سے جس میں اس کے روح کو رکھ دیا جاتا ہے پھر اس کو اٹھالیا جاتا ہے اللہ کی طرف جب وہ گزرتا ہے آسمان کے پاس سے آسمانوں میں سے اس کو فرشتے الوداع کہتے ہیں یہاں تک کہ وہ اللہ کی طرف پہنچ جاتا ہے جب وہ پہنچ جاتا ہے تو سجدہ میں گرپڑتا ہے پھر حکم دیا جاتا ہے کہ اس کو ستر جوڑے ریشم میں سے پہنا دئیے جاتے ہیں پھر اس سے کہا جاتا ہے چلے جاؤ تم اپنے شہید بھائیوں کی طرف پھر اس کو ان کے ساتھ کردیا جاتا ہے وہ ان کی طرف لایا جاتا ہے وہ سبز قبہ میں ہوتے ہیں جنت کے دروازے کے پاس لایا جاتا ہے ان پر ان کا کھانا جنت میں سے۔
(26) ابن جریر نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کا بیٹا برابر حمد کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ زندہ ہوجاتا ہے مرتا نہیں پھر یہ آیت تلاوت فرمائی لفظ آیت ” بل احیاء عند ربہم یرزقون “۔
(27) ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فرحین بما اتہم اللہ من فضلہ “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ جو ان کو خیر و کرامت اور رزق عطا فرماتا ہے اپنے فضل سے وہ اس سے خوش ہیں۔
(28) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ویستبشرون بالذین لم یلحقوا بہم “ جب لوگ داخل ہوئے جنت میں اور انہوں نے اس میں شہداء کے لیے عزت اور اکرام کو دیکھا تو وہ کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائی جو دنیا میں ہیں وہ جانتے کہ ہم جنت میں کس شرف اور فضیلت میں ہیں جب وہ کسی جنگ میں شریک ہوں تو خود حصہ لیں یہاں تک کہ وہ شہید ہوجائیں اور وہ پالیں جو ہم نے پایا چیز میں سے یعنی جنت کے انعامات میں سے اللہ تعالیٰ نے ان کے معاملہ اور شرف کی خبر نبی اکرم ﷺ کو دے دی ان کو اس بات کی خوشخبری دے دی گئی اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ویستبشترون بالذین لم یلحقوا بہم من خلفہم “ یعنی ان کے بھائیوں میں اہل دنیا میں سے بیشک وہ عنقریب حرص کریں گے جہاد پر اور ان کے ساتھ مل جائیں گے۔
(29) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ویستبشرون بالذین لم یلحقوا بہم من خلفہم “ سے مراد ہے شہید کے پاس ایک کتاب لائی جاتی ہے جس میں اس کے بھائیوں میں سے اور اس کے اہل و عیال میں کون ہے جب وہ اس کے پاس آتے ہیں جیسا کہ دنیا میں غائب ہونے والا آئے تو خوش ہوتے ہیں۔