3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 3:134

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

جو خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور تکلیف میں، اور جو ضبط کرنے والے ہیں غصہ کو، اور جو لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں، اور اللہ محبت فرماتا ہے اچھے کام کرنے والوں سے۔

(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الذین ینفقون فی السراء والضراء “ یعنی وہ لوگ تنگی میں اور کشادگی میں خرچ کرتے ہیں لفظ آیت ” والکظمین الغیظ “ یعنی پی جانے والے ہیں غصہ کو جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” واذا ما غضبوا ہم یغفرون “ یعنی اگر وہ کسی کام کے بارے میں غصہ مبتلا ہوجاتے ہیں جو حرام ہوتا ہے تو وہ بخش دیتے ہیں اور (لوگوں کو) معاف کردیتے ہیں اور اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کو تلاش کرتے ہیں۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” والعافین عن الناس “ وہ لوگوں کو معاف کردیتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ولا یاتل اولو الفضل منکم والسعۃ “ یعنی مال والے لوگ اس بات پر قسمیں نہ کھائیں کہ وہ ان کو نہ دیں گے نفقہ میں سے (بلکہ ان کی غلطیوں کو) معاف کردیں گے اور ان سے درگزر کریں۔ (2) ابن الانباری نے کتاب الوقف والا بتداء میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے قول لفظ آیت ” والکظمین الغیظ “ کے بارے میں بتائیے کہ کا ظمون سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے غصہ کو روکنے والے عبد المطلب بن ہاشم نے فرمایا : فخشیت قومی واحتسبت قتالہم والقوم من خوف قتالہم کظم ترجمہ : میں اپنی قوم کے بارے میں ڈرا اور ان کے قتال سے رک گیا جبکہ قوم ان کے ساتھ قتال کے خوف سے خاموش تھی۔ (3) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے لفظ آیت ” والعافین عن الناس “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اپنے غلاموں کو معاف کردیتے ہیں۔ (4) ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” والعافین عن الناس “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ (اگر) کسی کام میں غصہ کرتے ہیں تو پھر بخش دیتے ہیں اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں جو شخص ایسا کرتا ہے وہ محسن ہے لفظ آیت ” واللہ یحب المحسنین “ اور اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے اس وقت فرمایا یہ لوگ میری امت میں تھوڑے ہیں مگر جس کو اللہ تعالیٰ بچالیں (غصہ سے) اور ان امتوں میں ایسے لوگ بہت زیادہ تھے جو پہلے گذر چکیں۔ (5) عبد الرزاق وابن جریر اور ابن المنذر نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے لفظ آیت ” والکظمین الغیظ “ کے بارے میں روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے غصہ کو پی لیا اور وہ بدلہ لینے پر قادر تھا تو اللہ تعالیٰ اس کو امن اور ایمان سے بھر دیں گے۔ (6) احمد اور بیہقی نے شعب الایمان میں حسن سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غصہ کے گھونٹ سے بڑھ کر کوئی گھونٹ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ محبوب نہیں جو اللہ کا بندہ اس گھونٹ کو پی جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے پیٹ کو ایمان سے بھر دیتے ہیں۔ (7) احمد وعبد بن حمید ابو داؤد ترمذی نے اس کو حسن کہا اور بیہقی نے شعب الایمان میں معاذ بن انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص غصہ کو پی گیا حالانکہ وہ قادر تھا کہ وہ غصہ کو پایہ تکمیل تک پہنچائے تو (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ اس کو تمام مخلوق کے سامنے بلائیں گے یہاں تک کہ اس کو اختیار دیں گے کہ جس حور کو چاہے (پسند کرے) ۔ (8) عبد بن حمید، بخاری اور مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا پہلوان وہ نہیں ہے جو دوسرے کو پچھاڑ دے لیکن پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔ غصہ پی جانا بڑی بہادری ہے ّ (9) بیہقی نے عامر بن سعد ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے کہ وہ ایک پتھر کی اوکھلی کو اٹھا رہے تھے آپ نے فرمایا تم یہ گمان کرتے ہو کہ طاقت وبہادری پتھر اٹھانے میں ہے بلاشبہ بہادری یہ ہے کہ آدمی غصہ سے بھر جائے پھر اس پر غلبہ حاصل کرے۔ (10) ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ قیامت کے دن کہا جائے گا کہ وہ آدمی کھڑا ہوجائے جس کا اجر اللہ پر ہے تو نہیں کھڑا ہوگا مگر وہ آدمی جو (لوگوں کو) معاف کرنے والا ہوگا۔ (11) الحاکم نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کو یہ بات خوش لگے کہ (جنت میں) اس عمارت اونچی ہوجائے اور اس کے درجات بلند کر دئیے جائیں تو اس کو چاہیے کہ اس کو معاف کر دے جو اس پر ظلم کرے اور عطا کرے اس کو جو اسے محروم کرے یعنی عطا نہ کرے اور تعلق جوڑے اس سے جو اس سے کاٹے (یعنی جو اس سے قطع رحمی کرے اس سے صلہ رحمی کرے) ۔ (12) البیہقی نے علی بن حسین (رح) سے روایت کیا ہے کہ ایک باندی آپ کو وضو کر ارہی تھی (اچانک) اس کے ہاتھ سے آپ کے چہرے پر لوٹا گرپڑا اور چہرہ زخمی ہوگیا انہوں نے اس باندی کی طرف اپنے سر کو اٹھایا تو اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” والکظمین الغیظ “ انہوں نے فرمایا میں نے اپنے غصہ کو پی لیا ہے پھر اس باندی نے کہا لفظ آیت ” والعافین عن الناس “ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ تجھ کو معاف کر دے پھر اس نے کہا لفظ آیت ” واللہ یحب المحسنین “ تو انہوں نے فرمایا چلی جا تو آزاد ہے۔ (13) الاصبہانی نے الترغیب میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اللہ تعالیٰ کی محبت اس شخص کے حق میں لازم ہوگئی جو غصہ ہوا اور پھر صبر و تحمل اختیار کرلیا۔ (14) البیہقی نے ترغیب الایمان میں عمرو بن عبسہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا صبر کرنا، درگزر کرنا اور اچھے اخلاق اپنانا۔ (15) البیہقی نے کعب بن مالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ بنو سلمہ میں ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے اسلام کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا اچھے اخلاق پھر وہ آدمی لوٹ کر آیا تو رسول اللہ ﷺ برابر یہی ارشاد فرماتے رہے اچھے اخلاق یہاں تک کہ پانچ مرتبہ تک آپ نے یہ جواب دیا۔ (16) الطبرانی نے الاوسط میں اور بیہقی نے اس کو ضعیف کہا جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ صحابہ ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ ! بدبختی کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا برے اخلاق۔ (17) الطبرانی نے الاوسط میں اور البیہقی نے شعب الایمان میں اس کو ضعیف کہا حضرت عائشہ ؓ نے مرفوعا روایت کیا ہے کہ بدبختی برے اخلاق ہے۔ (18) الخرائطی نے مکارم الاخلاق میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اچھا اخلاق پگھلا دیتا ہے خطاؤں کو جیسے سورج پگھلا دیتا ہے برف کو۔ (19) البیہقی نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا برا اخلاق ایمان کو خراب کردیتا ہے جیسے ایلوا کھانے کو خراب کردیتا ہے انس نے فرمایا اور یہ کہا جاتا تھا کہ مومن اخلاق کے اعتبار سے سب سے اچھا ہوتا ہے۔ (20) ابن عدی اور طبرانی اور بیہقی نے اس کو ضعیف کہا حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اچھا اخلاق پگھلا دیتا ہے گناہ کو (یعنی ختم کردیتا ہے) جیسے سورج برف کو پگھلا دیتا ہے اور برا اخلاق عمل کو خراب کردیتا ہے جیسے سرکہ شہد کو خراب کردیتا ہے۔ ایک صحابی کو غصہ نہ کرنے کی تاکید (33) حاکم اور بیہقی نے جاریہ بنت قدامہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے ایسی بات بتائیے جو مجھ کو نفع دے اور تھوڑی بھی ہو شاید کہ میں اس کو سمجھ جاؤں آپ نے فرمایا غصہ نہ کر۔ (34) بیہقی نے عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا مجھے ایسی چیز بتائیے جو مجھے اللہ کے غصہ سے دور کرے آپ نے فرمایا غصہ نہ کر۔ (35) الطیالسی احمد اور ترمذی نے اس کو حسن کہا حاکم اور بیہقی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورج ڈوبنے تک خطبہ ارشاد فرمایا اس کو یاد کیا جس نے اس کو یاد کیا اور اس کو بھلا دیا جس نے اس کو بھلا دیا اور آپ نے خبر دی جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور اس کی تعریف فرمائی پھر فرمایا اما بعد بلاشبہ دنیا ہری بھری اور میٹھی ہے اور اللہ تعالیٰ تم کو اس میں خلیفہ بنائیں گے اور دیکھیں گے کس طرح تم عمل کرتے ہو خبر دار دنیا سے ڈرو بچو اور عورتوں سے بچو خبردار بلاشبہ آدم (علیہ السلام) کی اولاد مختلف حالت پر پیدا کی گئی بعض ان میں سے وہ ہیں جو مؤمن پیدا کئے گئے مومن (کی حالت میں) زندہ رہتے ہیں اور کافر ہو کر مرتے ہیں اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو کافر پیدا ہوتے ہیں اور کافر ہو کر زندہ رہتے ہیں اور مومن ہو کر مرتے ہیں۔ خبردار بیشک غصہ ایک انگارہ ہے جو آدم کے بیٹے میں جلتا ہے کیا تم اس کی آنکھوں کی سرخی کی طرف اور اس کی آنتوں کے پھولنے کی طرف نہیں دیکھتے ہو ؟ جب کوئی تم میں سے اس (غصہ) کو کچھ پائے تو اس کو چاہیے کہ زمین پر لیٹ جائے خبردار لوگوں میں بہترین آدمی وہ ہے جو غصہ کو لوٹانے میں سست ہو اور جلدی غصہ کرنے والا ہو اور جب آدمی جلدی غصہ کرنے والا اور غصہ سے جلدی لوٹ جانے والا ہو تو بیشک وہ بھی ٹھیک ہے اور جب وہ ٹھنڈے غصے والا ہو اور دیر سے رجوع کرنے والا ہو تو بھی ٹھیک ہے خبردار ! بلاشبہ بہترین تاجر وہ ہے جو ادائیگی کے لحاظ سے اچھا ہو اور (لوگوں سے) مال طلب کرنے کے لحاظ سے بھی اچھا ہو اور طلب کرنے کے لحاظ سے برا ہو تو بھی ٹھیک ہے اور جب آدمی ادائیگی کے لحاظ سے برا ہو اور طلب کرنے کے لحاظ سے اچھا ہو تو یہ اس کا بدلہ ہے اور جب آدمی ادائیگی کے لحاظ سے اچھا ہو اور طلب کرنے کے لحاظ سے برا ہو تو بھی ٹھیک ہے اور جب آدمی ادائیگی کے لحاظ سے برا ہو اور جب طلب کرنے کے لحاظ سے اچھا ہو تو یہ اس کا بدلہ ہے خبردار کوئی آدمی ہرگز حق کہنے سے نہ روکے لوگوں کے خوف سے جب وہ اس کو جانتا ہو خبردار ہر دھوکہ دینے والے کے لیے ایک جھنڈا ہوگا اس دھوکہ دینے کے بقدر قیامت کے دن خبردار ! بیشک بڑا دھوکہ دینا ہے اور خبردار افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے حق کا کلمہ کہنا ہے جب سورج غروب ہونے لگا تو آپ نے فرمایا خبردار ! گذرے ہوئے وقت میں سے (اب) دنیا (کا وقت) اتنا باقی ہے جیسے تمہارے اس دن گذرے ہوئے وقت میں (اب) وقت باقی۔ (36) الحکیم نے نوادرالاصول میں اور بیہقی نے بہز بن حکیم سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا رسول اللہ ! مجھے تھوڑی نصیحت کیجئے جس کو لازم پکڑلوں آپ نے فرمایا غصہ نہ کر اے معاویہ ابن حیدہ کیونکہ غصہ ایمان کو خراب کردیتا ہے جیسے ایلوا شہد کو خراب کردیتا ہے۔ غصہ جہنم کی آگ کا انگارہ ہے (37) الحکیم نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ غصہ جہنم کی آگ کی انگارہ ہے جسے اللہ تعالیٰ کسی کی شہ رگ پر رکھ دیتا ہے کیا تو نہیں دیکھتا کہ جب وہ غصہ ہوتا ہے تو اس کی آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں اور اس کا چہرہ زرد پڑجاتا ہے اور اس کی رگیں پھول جاتی ہیں۔ (38) البیہقی نے حضرت حسن بصری (رح) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غصہ ایک انگارہ ہے ابن آدم کے دل میں کیا تم نہیں دیکھتے ہو اس کی آنتوں کے پھولنے کو اور اس کی آنکھوں کی سرخی کو جب کوئی شخص اس میں سے کچھ محسوس کرے اگر وہ کھڑا ہوا ہے تو بیٹھ جائے اور اگر وہ میٹھا ہوا ہے تو اس کو چاہئے کہ لیٹ جائے۔ (39) عبد الرزاق ابن ابی شیبہ والبیہقی نے حضرت حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غصہ کے گھونٹ سے بڑھ کر کوئی گھونٹ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ محبوب نہیں ہے جو آدمی اس کو پی جاتا ہے یا صبر کا گھونٹ مصیبت کے وقت (پی جاتا ہے) اور کوئی قطرہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ محبوب نہیں ہے جو قطرہ اللہ کے ڈر سے نکلا ہو یا وہ خون کا قطرہ جو اللہ کے راستے میں بہا ہو۔ (40) عبد بن حمید حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ سے فرمایا تین چیزیں ساری کی ساری حق ہیں کوئی آدمی ایسا نہیں کہ جس پر ظلم کیا جائے اور وہ پھر اس سے نگاہ پھیر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کی عزت بڑھا دیتے ہیں اور کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جو سوال کرنے کا دروازہ کھول لے تاکہ اس کے ذریعہ اس کا مال زیادہ ہو ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کی تنگی میں اضافہ کردیتا ہے اور کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جو عطیہ اور صلہ رحمہ کا دروازہ کھول لے (یعنی خوب صدقہ اور خیرات کرے) تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا مال زیادہ کردیتے ہیں۔ (41) ابن ابی شیبہ بخاری مسلم اور ترمذی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نہ فحش گو تھے اور نہ باتکلف فحش گوئی کرنے والے تھے اور یہ فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سے بہترین آدمی وہ ہے جو تم میں سے اخلاق کے لحاظ سے اچھا ہو۔ (42) ابن ابی شیبہ ابوداؤد نے اس کو صحیح کہا بزار ابن حبان اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابو درداء ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص کو نرمی میں سے اس کا حصہ دیا گیا (گویا) اس کو خیر میں سے اس کا حصہ دے دیا گیا اور جس شخص کو نرمی میں سے اس کے حصہ سے محروم کردیا گیا (گویا) اس کو خیر کے حصہ سے محروم کردیا گیا اور فرمایا قیامت کے دن اچھے اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز مومن کے میزان میں زیادہ بھاری نہیں ہوگی اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ بیہودہ بکنے کو ناپسند فرماتے ہیں اور بلاشبہ اچھے اخلاق والا روزہ اور نماز والے کے درجے پر پہنچ جاتا ہے۔ (43) ترمذی نے اس کو صحیح کہا ابن حبان اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور بیہقی نے زھد میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جہنم میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا دو خالی چیزوں کی وجہ سے ایک منہ اور دوسری شرم گاہ (غلط استعمال کی وجہ سے) ۔ (44) ابن ابی شیبہ ترمذی نے اس کو حسن کہا اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں اور جو اپنے گھر والوں کے ساتھ لطف وکرم کا برتاؤ کرنے والے ہوں۔ اچھے اخلاق سے اعلیٰ مقام پانا (45) احمد ابو داؤد ابن حبان اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ مومن اچھے اخلاق کے ذریعہ سے راتوں کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والوں کے درجات کو پالیتا ہے۔ (46) طبرانی نے الاوسط میں حاکم نے اس کو صحیح کہا اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اچھے اخلاق کی وجہ سے روزہ دار اور نمازی کے درجہ تک پہنچا دیتا ہے۔ (47) طبرانی اور خرائطی نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ بندہ اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے آخرت کے بڑے درجات اور اونچی منزلیں پالیتا ہے جبکہ وہ عبادت کی وجہ سے کمزور ہوتا ہے اور بلاشبہ اپنے برے اخلاق کی وجہ سے جہنم میں سب سے نچلے درجہ تک پہنچ جاتا ہے۔ (48) احمد طبرانی اور خرائطی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ نے کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اچھے اخلاق والا مسلمان بہت روزے رکھنے والا اور اللہ کے احکام پر قائم رہنے والے کے درجہ کو پالیتا ہے۔ (49) ابن ابی الدنیا نے الصمت میں صفوان بن سلیم ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تم کو آسان عبادت کے بارے میں نہ بتاؤں اور وہ زیادہ آسان ہے بدن پر (وہ دو چیزیں ہیں) خاموشی اور اچھا اخلاق۔ (50) محمد بن نصر المروزی نے کتاب الصلاۃ میں علاء بن شیخر ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس سامنے آیا اور کہا یا رسول اللہ ! کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا اچھا اخلاق پھر وہ آپ کی دائیں طرف سے آیا اور پوچھا کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا اچھا اخلاق پھر وہ آپ کے بائیں طرف سے آیا اور پوچھا کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا اچھا اخلاق پھر وہ آپ کے پیچھے سے آیا اور پوچھا یا رسول اللہ کون سا عمل افضل ہے ؟ رسول اللہ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تجھے کیا ہوا کیا تو نہیں سمجھا اچھا اخلاق افضل (عمل) ہے غصہ نہ کر جہاں تک ہو سکے۔ (51) ابو داؤد ترمذی نے اس کو حسن کہا اور ابن ماجہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں جنت کے گرد ایک گھر کا ضامن ہوں اس شخص کے لیے جو جھگڑے کو چھوڑے اگرچہ وہ حق پر ہو اور جنت کے وسط میں ایک گھر کا ضامن ہوں جو جھوٹ کو چھوڑ دے اگرچہ مذاق کرنے والا ہو اور جنت کے اعلیٰ حصہ میں ایک گھر کا ضامن ہوں اس شخص کے لیے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔ (52) ترمذی نے اس کو حسن کہا اور خرائطی نے مکارم الاخلاق میں جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ تم میں سے زیادہ محبوب میری طرف اور تم میں سے زیادہ قریب مجھ سے مجلس کے لحاظ سے قیامت کے دن وہ شخص ہوگا جس کے اخلاق اچھے ہوں۔ (53) الطبرانی نے عمار بن یاسر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اچھے اخلاق اللہ تعالیٰ کا عظیم اخلاق ہے۔ کفار کے ساتھ اخلاق برتاؤ (54) الطبرانی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی اے میرے خلیل ! اپنے اخلاق کو اچھا بنا اگرچہ کفار کے ساتھ ہو تو نیک لوگوں میں داخل ہوگا بلاشبہ میرا فیصلہ ہوچکا اس شخص کے لیے جس کے اخلاق اچھے ہیں کہ میں اس کو اپنے عرش کے نیچے سایہ عطا کروں گا اور میں اس کو اپنی جنت سے پلاؤں گا اور میں اس کو قریب کروں گا اپنے پڑوس میں۔ (55) احمد وابن حبان نے ابن عمروؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کیا میں تم کو نہ بتاؤں اس شخص کے بارے میں جو تم میں سے میری طرف زیادہ محبوب ہے اور تم میں سے کون زیادہ مجھ سے قریب ہوگا۔ قیامت کے دن ؟ صحابہ ؓ نے عرج کیا ہاں ! یا رسول اللہ (ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا تم میں سے اچھے اخلاق والا (مجھ سے زیادہ قریب اور محبوب ہے) ۔ (56) ابن ابی الدنیا ابو یعلی اور طبرانی نے جید سند کے ساتھ انس ؓ سے روا یت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ابوذر ؓ سے ملے اور فرمایا اے ابو ذر ! کیا میں تجھ کو دو ایسی خصلتیں نہ بتاؤں جو کرنے میں بہت آسان اور ترازو میں دوسرے کی نسبت بڑی بھاری ہیں ابوذر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے آپ نے فرمایا لازم پکڑ اچھے اخلاق کو اور لمبی خاموشی کو اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ان دونوں کی مثل کوئی مخلوق (ایسا اچھا) عمل نہیں کرتی۔ (57) ابو الشیخ ابن حبان نے سند کے ساتھ ابوذر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابو ذر ! کیا میں تجھے افضل عبادت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جو ہلکی ہے بدن پر اور بھاری ہے میزان میں اور نہایت آسان ہے زبان پر میں نے عرض کیا ضرور بتائیے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ نے فرمایا لازم پکڑ لمبی خاموشی کو اور اچھے اخلاق کو بیشک تو ان کی طرح عمل کرنے والا نہیں ہے۔ (58) ابو الشیخ نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اے ابو درداء ؓ ! کیا میں تجھ کو دو ایسے کاموں کے بارے میں نہ بتاؤں جن کی محنت تھوڑی ہے اور ان کا اجر بڑا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس طرح کوئی (محبوب عمل) نہیں پائے گا (یہ دونوں کام یہ ہیں) لمبی خاموشی اور اچھا اخلاق۔ (59) البزار وابن حبان نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو تمہارے اچھے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا تمہارے لمبی عمر والے اور اچھے اخلاق والے (تمہارے اچھے لوگ ہیں) ۔ (60) الطبرانی اور ابن حبان نے اسامہ بن شریک (رح) سے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کون سی چیزیں بہتر ہے جو انسان کو دی گئی ؟ آپ نے فرمایا اچھا اخلاق۔ (61) ابن ابی شیبہ احمد اور طبرانی نے جید سند کے ساتھ جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بدزبانی سے برا عمل اسلام میں کوئی چیز نہیں (یعنی اسلام سے کوئی تعلق نہیں) لوگوں میں سب سے اچھا مسلمان وہ ہے جو اچھے اخلاق والا ہو حضرت معاذ بن جبل ؓ کو نصیحت (26) ابن حبان اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور خرائطی نے مکارم الاخلاق میں ابن عمروؓ سے روایت کیا ہے کہ معاذ بن جبل ؓ نے سفر کا ارادہ کیا تو عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے نصیحت فرمائیے آپ نے فرمایا اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر عرض کیا اے اللہ کے نبی ! اور زیادہ کیجئے آپ نے فرمایا جب تجھ سے کوئی برا سلوک کرے تو اچھا سلوک کر عرض کیا اے اللہ کے نبی اور زیادہ کیجئے آپ نے فرمایا تو (ایمان پر) پکا ہوجا اور اپنے اخلاق کو اچھا کر۔ (63) احمد ترمذی اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور خرائطی نے ابوذر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈر جہاں تو ہو اور برائی کے بعد نیکی کر (برائی کو) مٹادے گی اور لوگوں سے اچھے اخلاق کا معاملہ کر۔ (64) طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ یہ اخلاق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کو اچھے اخلاق عطا فرماتے ہیں اور جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ برائی کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کو برے اخلاق عطا فرماتے ہیں۔ (65) ابن ابی شیبہ احمد ابن حبان طبرانی نے ابو ثعلبہ خشنی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ تم میں سے سب سے زیادہ محبوب میری طرف اور تم میں سے سب سے قریب مجھ سے آخرت میں وہ شخص ہوگا جو تم میں سے اچھے اخلاق والا ہو اور بلاشبہ تم میں سے سب سے زیادہ ناپسند یدہ میرے نزدیک اور تم میں سے سب سے زیادہ دور مجھ سے وہ شخص ہوگا جو تم میں سے برے اخلاق والے بکواس کرنے والے مسخرا کرنے والے علم جتانے والے (یعنی بناوٹی فقیہ ) ۔ (66) البزار اور الخرائطی نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ام حبیبہ ؓ فرماتی ہیں عرض کیا یا رسول اللہ ! ایک عورت کے دو خاوند ہوئے (کہ ایک کے مرنے کے بعد دوسرے سے نکاح کیا) پھر وہ مرگئی اور وہ اس کے دونوں خاوند جنت میں داخل ہوگئے تو وہ عورت کس کے ساتھ ہوگی۔ پہلے خاوند کے ساتھ یا دوسرے کے ساتھ ؟ آپ نے فرمایا اس کو اختیار دیا جائے گا اور وہ عورت اس خاوند کو اختیار کرے گی جو اس کے ساتھ دنیا میں اچھے اخلاق والا تھا تو یہی آدمی اس کا جنت میں خاوند ہوگا اے ام حبیبہ ؓ اچھا اخلاق دنیا اور آخرت کی خیر لے گیا۔ (67) الطبرانی نے الصغیر میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کوئی ایسا گناہ نہیں جس کی توبہ نہ ہو مگر برے اخلاق کے لیے (کوئی توبہ نہیں) کیونکہ وہ کسی گناہ سے توبہ نہیں کرتا مگر یہ کہ وہ اس سے بڑے گناہ کی طرف لوٹ آتا ہے۔ (68) ابو داؤد والنسائی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے : اللہم انی اعوذبک من الشقاق والنفاق وسوء الاخلاق ترجمہ : اے اللہ میں تیری پناہ لیتا ہوں ضد سے، نفاق سے، اور تمام برے اخلاق سے۔ (69) الخرائطی نے جریر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا بلاشبہ تو ایسا آدمی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تیری پیدائش (یعنی تیری صورت) کو اچھا بنایا۔ سو تو اپنے اخلاق کو اچھا کر۔ (70) الخراطی نے ابن عباس رضی للہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں۔ (71) الخرائطی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اچھا اخلاق کوئی آدمی ہوتا جو لوگوں میں چلتا پھرتا تو وہ ایک نیک آدمی ہوتا۔ تین خصلتیں اپنانے کا حکم (72) الخرائطی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جس میں یہ نہ ہوں یا ان میں سے ایک نہ ہو تو اس کا کوئی عمل شمار نہیں کیا جائے گا اس کے عمل میں سے، ایسا تقویٰ جو اس کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے روک دے۔ یا ایسا حلم جو اس کو بیوقوفوں سے روک دے یا ایسا اخلاق کہ جس سے وہ لوگوں میں زندگی گزارتا ہے۔ (73) الخرائطی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خوش بختی اچھے اخلاق (میں) ہے۔ (74) الخرائطی نے اسماعیل بن محمد بن سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابن آدم کی نیک بختی اچھا اخلاق ہے۔ (75) القضاعی نے مسند الشہاب میں حضرت حسن بن علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہترین حسن اچھا اخلاق ہے۔ (76) الخرائطی نے فضیل بن عیاض (رح) سے روایت کیا جب تم لوگوں سے میل ملاپ کرو تو اچھے اخلاق کے ساتھ میل ملاپ کرو۔ کیونکہ اچھا اخلاق خیر کی طرف ہی بلاتا ہے۔ (77) احمد نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ جس شخص کو نرمی میں سے اس کا حصہ دیا گیا تو گویا اس کو دنیا اور آخرت کی خیر میں سے اس کا حصہ دیا گیا۔ اور جس شخص کو نرمی میں سے اس کے حصے سے محروم کردیا گیا تو گویا اس کو دنیا اور آخرت کی خیر میں سے اس کے حصے سے محروم کردیا گیا اور صلہ رحمی۔ اور اچھے اخلاق اور پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا گھروں کو آباد کرتے ہیں اور عمروں کو زیادہ کرتے ہیں۔ (78) البیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا نرمی مبارک ہے اور ناچاقی بدبختی ہے جب اللہ تعالیٰ کسی گھر والوں کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو ان پر نرمی کا دروازہ کھول دیتے ہیں بلاشبہ نرمی جس چیز میں ہوتی ہے تو اس کو مزین کردیتی ہے اور بلاشبہ افتراق کسی چیز میں ہوتا ہے تو اس کو عیب دار کردیتا ہے اور بلاشبہ حیا ایمان میں سے ہے اور ایمان جنت میں سے ہے اور اگر حیا آدمی ہوتا تو ایک نیک آدمی ہوتا اور برائی گناہوں میں سے ہے۔ اور گناہ دوزخ میں سے ہیں اگر برائی کوئی آدمی ہوتا جو لوگوں میں چلتی پھرتی تو وہ برا آدمی ہوتا۔ (79) احمد نے زھد میں ام الدرداء ؓ سے روایت کیا کہ ابو درداء ؓ نے ایک رات نماز پڑھتے ہوئے گزاری اور روتے رہے اور یہ دعا پڑھتے رہے اے اللہ آپ نے میری اچھی صورت بنائی (اب) میرے اخلاق کو اچھا کر دے۔ یہاں تک کہ صبح ہوگئی میں نے کہا اے ابو درداء ساری رات تیری دعا اچھے اخلاق کے بارے میں تھی ؟ (اس کی کیا وجہ) تو انہوں نے فرمایا ؟ اے ام درداء بلاشبہ مسلمان بندہ جب اپنا اخلاق اچھا کرتا ہے یہاں تک کہ اس کا اچھا اخلاق اس کو جنت میں داخل کردیتا ہے اور (جب بندہ) اپنا اخلاق برا کرلیتا ہے یہاں تک کہ اس کا برا اخلاق اس کو آگ میں داخل کردیتا ہے۔ (80) ابن ابی شیبہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں میں زیادہ کمال والا ایمان کے لحاظ سے ان میں سے اچھے اخلاق والا ہے اور تم میں بہترین آدمی وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لیے اچھا ہو۔ قطب وابدال کی تعداد (81) تمام نے فوائد میں اور ابن عساکر نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میری امت کے اچھے لوگ پانچ سو ہوں گے اور ابدال چالیس ہوں گے پانچ سو میں کمی نہیں ہوگی اور نہ چالیس میں کمی ہوگی (ان میں سے) جب کبھی ابدال مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان پانچ سو میں سے ایک کو اس کی جگہ میں داخل فرما دے گا (اس لیے) نہ پانچ سو میں کمی ہوگی اور نہ چالیس میں کمی ہوگی صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم کو ان کے اعمال کے بارے میں بتائیے آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جو ان لوگوں کو معاف کردیں گے جو ان پر ظلم کریں گے اور ان لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں جو ان کے ساتھ برا سلوک کرے جو ان کو اللہ تعالیٰ عطا فرماتے ہیں اس کے ساتھ لوگوں کی ہمدردی کرتے ہیں (پھر) آپ نے فرمایا اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے (یعنی) لفظ آیت ” والکظمین الغیظ والعافین عن الناس واللہ یحب المحسنین “۔ (82) ابن عدل اور دیلمی نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے معراج کی رات میں ایک سیدھے محل کو دیکھا جو جنت کے اوپر تھا میں نے پوچھا اے جبرائیل ! یہ کس کے لیے ہے تو انہوں نے فرمایا لفظ آیت ” والکظمین الغیظ والعافین عن الناس واللہ یحب المحسنین “ (یعنی ان لوگوں کے لیے جو غصہ کو پی جانے والے اور لوگوں سے معاف کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں) ۔
Ayah 3:135

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے جب کوئی برا کام کیا یا اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اللہ کو یاد کیا اور اپنے گناہوں کی مغفرت چاہی اور گناہوں کو کون بخشے گا سوائے اللہ کے اور انہوں نے اپنے کئے پر اصرار نہیں کیا وہ جانتے ہیں۔

(1) ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” الذین ینفقون فی السراء والضراء “ پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ “ پھر فرمایا یہ دونوں نعمتیں ہیں ایک آدمی کی صفات ہیں۔ (2) سعید بن منصور عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ دونوں گناہ ہیں لفظ آیت ” اذا فعلوا فاحشۃ “ (کہ انہوں نے برا کام کیا) ایک گناہ ہے اور ” او ظلموا انفسہم “ اپنی جانوں پر ظلم کیا یہ دوسرا گناہ ہے (3) ابن جریر وابن المنذر نے جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ “ فاحشہ سے مراد بدکاری ہے رب کعبہ کی قسم ! (4) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فعلوا فاحشۃ “ سے زنا مراد ہے۔ (5) ابن المنذر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ ان کے پاس بنو اسرائیل کا اور ان چیزوں کا ذکر کیا گیا کہ جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو فضیلت دی ہے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ بنو اسرائیل کا کوئی آدمی جب گناہ کرلیتا تھا۔ تو صبح کو اس کے دروازے کی چوکھٹ پر اس کا کفارہ لکھ دیا جاتا تھا بات سے ہوتا جس کو تم کہتے ہو یعنی اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہو تو وہ تم کو بخش دیتے ہیں اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تحقیق اللہ تعالیٰ نے ہم کو ایسی آیت دی ہے جو مجھے دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ان سب سے زیادہ محبوب ہے۔ (اور وہ یہ ہے) لفظ آیت ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ “ (آخر تک) الآیۃ۔ (6) سعید بن منصور نے ابن ابی شیبہ عبد بن حمید اور طبرانی نے ابن الدنیا ابن المنذر اور البیہقی نے حضرت ابن مسعود ؓ روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں دو آیتیں ایسی ہیں جو بندہ کوئی گناہ کرتا ہے اور ان دونوں کو پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتے ہیں۔ وہ دو آیتیں یہ ہیں لفظ آیت ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ “ اور ” ومن یعمل سوءا او یظلم نفسہ “ (النساء آیت 11) ۔ (7) عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر نے ثابت بنانی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ شیطان رودیا جب یہ آیت ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ “ نازل ہوئی۔ (8) الحکیم الترمذی نے عطاف بن خالد (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ جب یہ آیت ” ومن یغفر الذنوب الا اللہ ولم یصروا علی ما فعلوا “ نازل ہوئی تو ابلیس اپنے لشکر کے ساتھ چلانے لگا اور اپنے سر پر مٹی پھینکی اور ہلاکت کو پکارتا رہا یہاں تک کہ اس کے پاس ہر خشکی اور تری سے اس کے لشکر آگئے اور انہوں نے کہا اے ہمارے سردار کیا ہوا ؟ اس نے کہا یہ آیت نازل ہوئی اللہ کی کتاب میں جس کے بعد کوئی گناہ بھی انسان کو تکلیف نہیں پہنچا سکے گا۔ انہوں نے پوچھا وہ کون سی آیت ہے ؟ اس نے ان کو وہ آیت بتائی انہوں نے کہا کہ ہم ان کے لیے خواہشات کا دروازہ کھول دیں گے پھر وہ توبہ کریں گے نہ استغفار کریں گے اور نہ ہی وہ گمان کریں گے کہ وہ حق پر ہیں پس وہ اس بات پر ان سے راضی ہوگیا۔ (9) الطیالسی واحمد وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابو داؤد والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن حبان والدار قطنی والبزار وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی کوئی گناہ کرتا ہے پھر کھڑا ہوجاتا ہے اور اپنے گناہ کو یاد کرتا ہے پھر وضو کرتا ہے اور دو رکعت نماز پڑھتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی بخشش طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ کو بخش دیتا ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ او ظلموا انفسہم ذکروا اللہ “ آخر آیت تک۔ نماز توبہ سے مغفرت (10) بیہقی نے شعب میں حضرت حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو بندہ کوئی گناہ کرے پھر اچھی طرح وضو کرے پھر وہ کھلے میدان کی طرف نکل کر دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی بخشش مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیں گے۔ (11) بیہقی نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر بات جو بنی آدم کرتا ہے لکھی جاتی ہے۔ اور جب کوئی خطا کرے اور اس کو یہ بات محبوب ہو کہ اللہ کی طرف توبہ کرے تو اس کو چاہیے کہ ایک بلند جگہ پر آجائے اور اپنے ہاتھ اللہ تعالیٰ کی طرف پھیلا کر یوں کہے (اے اللہ) میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔ اس گناہ کے بارے میں اور میں پھر کبھی نہیں لوٹوں گا اس گناہ کی طرف۔ بلاشبہ (اللہ تعالیٰ ) اس کو بخش دیں گے جب تک وہ اس کام میں نہ لوٹے گا۔ (12) بیہقی نے شعب میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ یوں فرمایا کرتے تھے۔ اللہم اجعلنی من الذین اذا احسنوا استبشروا واذا واساء وا استغفروا ترجمہ : اے اللہ ! مجھے ان لوگوں میں سے بنا دے جو نیکی کریں تو خوش ہوں اور جب برا کام کریں تو مغفرت مانگیں۔ (13) بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا چار آدمی جنت کے پاکیزہ باغ میں ہوں گے لا الہ الا اللہ کو مضبوطی سے پکڑنے والا جس میں شک نہ کرتا ہو اور جو شخص جب کوئی نیکی کرے تو اس سے خوش ہوا اور اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے اور جس شخص سے کوئی برا کام ہوجائے تو اس کو برا لگے اور اس سے اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگے اور جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے تو لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھے۔ (14) عبد بن حمید بخاری ومسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک آدمی نے گناہ کیا پھر اس نے کہا اے میرے رب بیشک میں نے گناہ کیا ہے تو اس کو بخش دے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندے نے گناہ کیا اور اس نے اس بات کو جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو بخشتا ہے اور اسی کے ذریعے پکڑتا بھی ہے تحقیق میں نے اپنے بندے کو بخش دیا پھر اس نے دوسرا گناہ کیا اور کہا اے میرے رب ! میں نے گناہ کیا ہے آپ اس کو بخش دیجئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا میرے بندہ نے جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو معاف کردیتا ہے اور اس کے ذریعے پکڑتا بھی ہے۔ تحقیق میں نے اپنے بندہ کو بخش دیا۔ پھر اس نے تیسرا گناہ کیا اور کہا اے میرے رب بیشک میں نے گناہ کیا تو اس کو بخش دے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندے نے یہ جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو بخش دیتا ہے اور اسی کے ذریعے پکڑتا بھی ہے تم گواہ ہوجاؤ تحقیق میں نے اپنے بندے کو بخش دیا پس اس کو چاہیے کہ جو چاہے عمل کرے۔ (15) احمد ومسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو لے آتے جو گناہ کرتے تاکہ ان کو بخش دیں۔ (16) احمد نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ابلیس نے کہا اے میرے رب اور آپ کی عزت کی قسم میں آدم کے بیٹے کو گمراہ کرتا رہوں گا جب تک کہ ان کی روح ان کے جسموں میں ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میری عزت کی قسم میں بھی برابر ان کو بخشتا رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے۔ (17) ابو یعلی نے حضرت ابوبکر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم پر لازم ہے لا الہ اللہ اور استغفار ان دونوں کی کثرت کرو کیونکہ ابلیس نے کہا میں نے لوگوں کو گناہوں کے ذریعے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے لا الہ الا اللہ اور استغفار کے ساتھ ہلاک کیا جب میں نے اس بات کو دیکھا تو ان کو میں نے خواہشات کے ذریعے ہلاک کردیا۔ اور وہ یہ خیال کرتے رہے کہ وہ ہدایت پانے والے ہیں۔ (18) البزار اور البیہقی نے شعب میں انس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے گناہ کیا ہے آپ نے فرمایا جب تو نے گناہ کیا تو اپنے رب سے استغفار کر اس نے (پھر) کہا میں نے استغفار کیا پھر میں نے گناہ کرلیا آپ نے فرمایا جب تو گناہ کرے تو اپنے رب سے استغفار کر، پھر وہ لوٹا تو آپ نے اس کو چوتھی مرتبہ فرمایا اپنے رب سے استغفار کر، یہاں تک کہ شیطان تھکا ماندہ ہوجائے گا۔ توبہ سے گناہ مٹ جاتا ہے (19) البیہقی نے عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے کوئی گناہ کرتا ہے (تو کیا ہوگا) آپ نے فرمایا وہ اس پر لکھا جائے گا اس نے (پھر) کہا پھر وہ اس سے استغفار کرتا ہے اور توبہ کرتا ہے آپ نے فرمایا اس کو بخش دیا جائے گا۔ اور اس کی توبہ بھی قبول کی جائے گی۔ پھر اس آدمی نے کہا وہ دوبارہ گناہ کرتا ہے آپ نے فرمایا اس پر لکھا جائے گا (پھر) اس نے کہا وہ پھر اس سے استغفار کرتا ہے اور توبہ کرتا ہے تو آپ نے فرمایا اس کو بخش دیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ پھر اس نے کہا وہ پھر گناہ کرتا ہے آپ نے فرمایا اس پر لکھا جائے گا پھر اس نے کہا وہ استغفار کرتا ہے اور توبہ کرتا ہے آپ نے فرمایا اس کو بخش دیا جائے گا اور تو بہ قبول کی جائے گی۔ اور اللہ تعالیٰ تھکتے نہیں یہاں تک کہ تم تھک جاؤ گے۔ (20) عبد بن حمید، ابن جریر ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولم یصروا علی ما فعلوا “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ کسی گناہ پر نہیں ٹھہرتے اور وہ جانتے ہیں کہ اس شخص کو بخش دیا جاتا ہے جو استغفار کرتا ہے اور توبہ قبول کی جاتی ہے اس شخص کی جو توبہ کرتا ہے۔ (21) عبد بن حمید ابن جریر ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ (گناہ کے) اصرار سے بچو کیونکہ گناہوں پر اصرار کرنے والے گذشتہ لوگ ہلاک ہوگئے ان کو اللہ کے خوف نے منع نہیں کیا تھا حرام کاموں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام کردیا تھا اور انہوں نے گناہوں سے توبہ نہیں کی جن کو وہ پہنچے یہاں تک کہ موت آگئی اور وہ اسی گناہ پر (جمے ہوئے) تھے۔ (22) احمد وعبد بن حمید و بخاری نے الادب المفرد میں۔ ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمر وؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم رحم کرو تم پر بھی رحم کیا جائے گا تم (لوگوں کی غلطیوں کو) معاف کرو تم کو بھی معاف کیا جائے گا (اور) جو کان کیف کی طرح ہیں ان کی خرابی ہے (یعنی حق بات سنتے ہیں لیکن ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے اڑا دیتے ہیں نہ اس کو یاد رکھتے ہیں نہ اس پر عمل کرتے ہیں) (اور) خرابی ہے (گناہوں پر) اصرار کرنے والوں کے لیے جو (برے کاموں پر) اصرار کرتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں۔ (23) ابن ابی الدنیا نے التوبہ میں بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہر گناہ جس پر بندہ اصرار کرتا ہے وہ بڑا بن جاتا ہے اور کوئی بڑا گناہ نہیں ہوتا جب تک بندہ اس پر توبہ کرتا رہے۔ (24) عبد الرزاق ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ جان بوجھ کر گناہ کرنا اصرار ہے یہاں تک کہ توبہ نہ کرے۔ (25) البیہقی نے اوزاعی (رح) سے روایت کیا ہے کہ اصرار یہ ہے کہ بندہ کوئی گناہ کرے تو اس کو حقیر سمجھے۔ (26) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولم یصروا علی ما فعلوا “ سے مراد ہے کہ حد سے تجاوز کرنا پھر استغفار نہ کرنا حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے گناہ کیا ہے پھر اسی پر قائم رہنا اور استغفار نہ کرنا۔ (27) عبد بن حمید و ابوداؤد الترمذی وابو یعلی وابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس شخص نے اصرار نہیں کیا جس نے استغفار کرلیا اگرچہ دن میں ستر مرتبہ وہ گناہ کی طرف لوٹا (یعنی گناہ کیا) ۔ (28) ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ونعم اجر العلمین “ سے مراد ہے اللہ کی اطاعت کرنے والوں کے لیے جنت ہے۔
Ayahs 3:136–137

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کا بدلہ مغفرت ہے ان کے رب کی طرف سے اور باغ ہیں جن کے نیچے جاری نہریں ان میں ہمیشہ رہیں گے اور اچھا بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا۔

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 3:137 in the Quran reader

تم سے پہلے بہت سے طریقے گذر چکے لہٰذا تم چلو زمین میں پھر دیکھو کیا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا۔

(1) ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” قد خلت “ سے مراد ہے ” مضت “ یعنی گذر چکی ہیں (2) عبد بن حمید ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین “ سے مراد ہے پہلے والوں کا انجام اور تم سے پہلے امتوں کا انجام ان کا انجام برا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو تھوڑا سا نفع دیا پھر وہ جہنم کی طرف چل نکلے۔
Ayah 3:138

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

یہ بیان ہے لوگوں کے لئے اور ہدایت ہے اور نصیحت ہے متقیوں کے لئے۔

(1) ابن ابی شیبہ نے کتاب المصاحب میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے سب سے پہلے آل عمران میں (یہ آیت) لفظ آیت ” ھذا بیان للناس وھدی وموعظۃ للمتقین “ نازل ہوئی پھر اس کے بعد بقیہ (سورۃ) احد کے دن نازل ہوئی۔ (2) ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ھذا بیان للناس “ سے مراد ہے یہ قرآن۔ (3) عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ھذا بیان للناس “ سے مراد ہے کہ یہ قرآن مجید ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے بیان بنایا عام لوگوں کے لیے (اور) لفظ آیت ” وھدی وموعظۃ للمتقین “ سے مراد ہے خصوصی لوگوں (یعنی متقین) کے لیے ہدایت اور نصیحت بنائی۔ (4) سعید بن منصور عبد بن حمید ابن جریر ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ بیان ہے اندھے پن سے اور ہدایت ہے گمراہی سے اور نصیحت ہے جہالت سے۔
Ayah 3:139

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

اور ہمت نہ ہارو اور غمگین نہ ہو اور تم ہی بلند ہوگے اگر تم مؤمن ہو۔

(1) ابن جریر نے زہری (رح) سے روایت کیا ہے کہ محمد ﷺ کے اصحاب ؓ قتل ہونا اور زخمی ہونا بہت ہوگیا یہاں تک کہ ان میں سے ہر صحابی خوف زدہ ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے پہلی قوموں کے ساتھ جو ہمدردی فرمائی اس سے بہتر ایمان والوں کے ساتھ ہمدردی فرمائی اور فرمایا لفظ آیت ” ولا تھنوا ولا تحزنوا “ سے لے کر ” لبرز الذین کتب علیہم القتل الی مضاجعہم “۔ (2) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ خالد بن ولید متوجہ ہوئے اس بات کا ارادہ کرتے ہوئے کہ وہ سب لوگ پہاڑ پر چڑھ جائیں حملہ کے لیے نبی ﷺ نے فرمایا سے اللہ ! وہ لوگ ہم پر پہاڑ کے اوپر سے غالب نہ ہوں (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” ولا تھنوا ولا تحزنوا وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین “۔ (3) ابن جریر ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کو شکست ہوگئی ایک وادی میں احد کے دن انہوں نے پوچھا نبی ﷺ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا ؟ اور فلاں کے ساتھ کیا معاملہ ہوا تو ان کے بعض لوگوں نے بعض کو موت کی خبر دی ؟ اور یہ بتایا کہ نبی ﷺ شہید کر دئیے گئے وہ جب غم اور دکھ میں تھے۔ اس درمیان وہ لوگ اسی حال میں تھے کہ خالد بن ولید ؓ مشرکین کے گھوڑے سوار دستے کے ساتھ پہاڑ پر چڑھ گئے اور پہاڑ پر ہر طرف مشرک تھے مسلمان گھاٹی کے نیچے تھے جب انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا تو خوش ہوئے آپ ﷺ نے دعا فرمائی اے اللہ ہماری کوئی طاقت نہیں ہے مگر آپ کی مدد کے ساتھ۔ اور اس کے شہر میں ان لوگوں (یعنی مسلمانوں) کے سوا کوئی ایک بھی تیری عبادت کرنے والا نہیں ان کو ہلاک نہ فرما مسلمانوں میں سے تیر اندازوں کی ایک جماعت جمع ہوگئی یہ لوگ اوپر چڑھ گئے اور انہوں نے مشرکین کے گھوڑوں پر تیر برسائے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دی اور پھر سب مسلمان پہاڑ پر چڑھ گئے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین “۔ (4) ابن جریر وابن المنذر نے وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا تھنوا “ سے مراد ہے کہ تم کمزور نہ ہوجاؤ۔ (5) ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وانتم الاعلون “ سے مراد ہے کہ تم غالب رہو گے۔
Ayah 3:140

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

اگر تم کو زخم پہنچ گیا تو تمہاری مقابل قوم کو اس جیسا زخم پہنچ چکا ہے اور یہ دن ہیں جنہیں ہم باری باری بدلتے رہتے ہیں لوگوں کے درمیان اور تاکہ اللہ جان لے ان لوگوں کو جو ایمان لائے، اور بنا لے تم میں سے شہادت پانے والے، اور اللہ پسند نہیں فرمایا ظالموں کو۔

(1) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان یمسسکم “ سے مراد ہے اگر تم کو (تکلیف) پہنچ جائے۔ (2) عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان یمسسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ “ یعنی ان دونوں میں ” ق “ کو رفع کے ساتھ پڑھا۔ (3) عبد بن حمید ابن جریر ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان یمسسکم قرح “ سے مراد ہے زخمی ہونا اور قتل ہونا۔ (4) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان یمسسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ “ سے مراد ہے اگر تم میں سے احد کے دن قتل کئے گئے تو تحقیق تم ان میں سے بدر کے دن قتل کرچکے ہو۔ (5) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے مسلمان سو گئے اور وہ زخمی تھے یعنی احد کے دن عکرمہ ؓ نے فرمایا ان کے بارے میں یہ آیت ” ان یمسسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ وتلک الایام نداولھا بین الناس “ نازل ہوئی اور ان کے بارے میں (یہ آیت) بھی نازل ہوئی لفظ آیت ” ان تکون تالمون فانہم یالمون کما تالمون “ (النساء آیت 104) احد کے روز اہل ایمان کا شہید ہونا (6) ابن جریر ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وتلک الایام نداولھا بین الناس “ سے مراد ہے کہ احد کا دن بدر کے دن کے بدلہ میں ایمان والے لوگ احد کے دن قتل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو شہید بنا دیا اور رسول اللہ ﷺ بدر کے دن مشرکین پر غالب ہوئے تو اس طرح رسول اللہ ﷺ کا کفار کے خلاف غلبہ رہا (7) ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت وتلک الایام نداولھا بین الناس “ سے مراد ہے مشرکین کا فتح یاب ہونا نبی ﷺ پر احد کے دن اور مجھ کو یہ بات پہنچی کہ مشرکین نے احد میں ستر سے کچھ اوپر مسلمانوں کو شہید کیا یہ تعداد ان قیدیوں کی تعداد کے برابر تھی جو بدر کے دن مشرکین میں سے قید ہوئے اور ان قیدیوں کی تعداد تہتر تھی۔ (8) ابن جریر ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وتلک الایام نداولھا بین الناس “ سے مراد ہے کہ اللہ نے ان ایام کو پلٹ دیا کبھی ان کے لیے اور کبھی ان کے لیے اور غزوۂ احد میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ پر بھی کفار کو غلبہ دے دیا۔ (9) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ کی قسم ! اگر (اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنوں کا) پلٹنا نہ ہوتا تو ایمان والے ہلاک نہ ہوتے لیکن کافر فتح یاب ہوگیا ایمان والوں سے اور ایمان والے کو امتحان میں مبتلا کردیا گیا۔ کافر کی وجہ سے تاکہ اللہ تعالیٰ جان لیں۔ کون اس کی اطاعت کرتا ہے اس کی نافرمانی کرنے والوں میں سے۔ اور تاکہ وہ جان لیں کون سچ بولنے والے اور کون جھوٹ بولنے سے۔ (10) سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وتلک الایام نداولھا بین الناس “ سے مراد ہے کہ ایک دن (تمہاری کامیابی) کے لیے ہے اور ایک دن تمہارے اوپر ہے (یعنی تمہارے خلاف ہے) ۔ (11) ابن جریر وابن المنذر نے ابن ابی حاتم سے اور انہوں نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وتلک الایام نداولھا بین الناس “ سے مراد ہے اصرار یعنی حکمرانوں کے درمیان (یہ دن اللہ تعالیٰ گھماتے رہتے ہیں کہ کبھی تخت کبھی تختہ۔ (12) ابن المنذر نے ابو جعفر (رح) سے روایت کیا کہ حق کے لیے غلبہ ہے اور باطل کے لیے بھی غلبہ ہے حق کے غلبے میں سے ابلیس کو حکم دیا گیا سجدوں کا آدم (علیہ السلام) کو تو غلبہ دیا گیا آدم کو ابلیس پر اور آدم (علیہ السلام) امتحان میں مبتلا ہوئے درخت کی وجہ سے اس میں سے انہوں نے کھالیا تو ابلیس کو آدم پر غلبہ دے دیا گیا۔ (13) ابن جریر وابن المنذر وابن جریج کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولیعلم اللہ الذین امنوا ویتخذ منکم شھداء “ سے مراد ہے کہ مسلمان اپنے رب سے سوال کرتے تھے اے اللہ ہم کو بدر کے دن کی طرح ایک دن اور دکھا دے کہ ہم اس میں مشرکین سے لڑیں اور ہم اس میں تیری طرف سے خیر کو پائیں اور ہم اس میں شہادت کو تلاش کریں تو یہ لوگ احد کے دن مشرکین سے لڑیں اور ان میں سے (کئی لوگوں) کو شہادت کا درجہ دیا۔ مسلمانوں کی دعا قبول ہوئی (14) ابن جریر ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ مسلمان اپنے رب سے سوال کرتے تھے کہ وہ ان کو بدر کے دن کی طرح ایک دن دکھائے جس میں وہ خیر کو پائیں اور شہادت کو حاصل کریں اور جنت اور ( آخرت کی ہمیشہ والی) زندگی کو اور (عمدہ) رزق عطا کیا جائے انہوں نے احد کا دن پایا اللہ تعالیٰ نے ان میں سے شہید بنا دئیے۔ اور یہ وہی لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات “ (البقرہ آیت 154) ۔ (15) عبد بن حمید ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا لفظ آیت ” ولیعلم اللہ الذین امنوا ویتخذ منکم شھداء “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو عزت دی شہادت کے ساتھ ان دشمنوں کی مدد کرنے سے۔ پھر ان کاموں کا حاصل اور انجام بنا دیتا ہے اللہ کی اطاعت کرنے والوں کے لیے۔ (16) ابن ابی حاتم نے عبیدہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولیعلم اللہ الذین امنوا ویتخذ منکم شھداء “ اگر تم (کافروں سے) جہاد نہ کرو گے تو تم شہاد کا درجہ کبھی نہ پاؤ گے۔ (17) ابن ابی حاتم نے ابو الضحی (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ” ویتخذ منکم شھداء “ نازل ہوئی تو اس دن ستر صحابہ شہید ہوئے۔ ان میں سے چار مہاجرین میں سے تھے ان میں حمزہ بن عبد المطلب، مصعب بن عمیر بنو عبدالدار کے بھائی۔ شماس بن عثمان مخزومی عبد اللہ بن حجش اسری اور باقی ماندہ انصار میں سے تھے۔ (18) ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ نے روایت کیا کہ جب عورتوں پر (جنگ احد کی) خبر آنے میں دیر لگی تو وہ خبر معلوم کرنے کے لیے (گھروں سے) نکل کھڑی ہوئی۔ اچانک (راستے میں) دو شہیدوں کی میتیں ایک اونٹ پر یا ایک جانور پر لاد دی گئیں تھی۔ انصار میں سے ایک عورت نے کہا یہ (مقتولین) کون ہیں ؟ انہوں نے کہا فلاں اور فلاں ہے ایک اس کا بھائی اور دوسرا اس کا خاوند تھا یا ایک اس کا خاوند اور دوسرا اس کا بیٹا تھا پھر اس عورت نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا کیا حال ہے ؟ لوگوں نے کہا وہ زندہ ہیں۔ کہنے لگی مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے شہید بنا دئیے۔ قرآن نازل ہوگیا اس بات پر جو اس عورت نے کہی تھی لفظ آیت ” ویتخذ منکم شھداء “۔ (19) ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نے ابن جریج کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولیمحص اللہ الذین امنوا “ کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو امتحان میں مبتلا فرمائیں گے اور ” ویمحق الکفرین “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں کو کم کردیں گے (یعنی ان کو ہلاک کردیں گے) ۔ (20) ابن سعد نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ جب بھی وہ یہ آیت پڑھتے تھے تو یہ دعا فرماتے تھے۔ اے اللہ ! ہم کو آزمالے اور ہم کو کافروں میں سے نہ بنا دینا۔ (21) ابن جریر ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ “ یعنی تم نے یہ گمان کرلیا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤگے اور تم سب پہنچو گے میرے ثواب میں سے کرامت کو لفظ آیت ” ولما یعلم اللہ الذین جھدوا منکم “ یعنی میں تم کو نہیں آزماتا سختی کے ساتھ اور نہیں مبتلا کرتا ناگوار حالات کے ساتھ مگر یہ کہ میں جان لوں سچ بولنے والے کو تم میں سے (کون) میرے ساتھ ایمان لایا اور (کس نے) صبر کیا ان تکلیفوں پر جو میرے بارے میں پہنچیں۔
Ayahs 3:141–143

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

اور تاکہ پاک صاف کرے ایمان والوں کو، اور مٹا دے کافروں کو۔

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

کیا تم نے یہ خیال کیا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی معلوم نہیں کیا اللہ نے ان لوگوں کو جو جہاد کرنے والے تم میں سے، اور تاکہ وہ جان لے ثابت قدم رہنے والوں کو۔

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

اور اس میں شک نہیں کہ تم لوگ موت کے سامنے آنے سے پہلے اس کی آرزو کرتے تھے، سو اب تم نے موت کو دیکھ لیا اس حال میں کہ وہ آنکھوں کے سامنے ہے۔

(1) ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ یہ کہتے تھے کہ کاش ہم کو بھی اسی طرح قتل کردیا جاتا جیسے بدری صحابہ کو قتل کردیا گیا ہم بھی شہادت پاتے اور بدر کے دن کی طرح ہمارے لیے بھی یہ دن آتا کہ ہم اس میں مشرکوں سے لڑتے اور ہم اس میں خیر کو پاتے اور ہم شہادت کو اور جنت کو اور (جنت والی) زندگی کو اور رزق کو تلاش کرتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو احد کی شہادت سے نوازا تو ان دعا کرنے والوں میں سے کوئی بھی نہ بچا وہی جس کو اللہ تعالیٰ نے چاہا (اسی پر) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ولقد کنتم تمنون الموت من قبل ان تلقوہ فقد رایتموہ وانتم تنظرون “۔ (2) عبد بن حمید ابن جریر اور ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ بدر میں کچھ لوگ غائب رہے تو وہ تمنا کیا کرتے تھے کہ بدر کی طرح وہ بھی (دشمنوں سے) لڑتے اور اجر کو اور خیر کو پاتے جیسے بدر والوں نے پایا جب احد کا دن تھا تو پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے اس طرز عمل پر اللہ تعالیٰ نے انہیں عتاب فرمایا۔ (3) عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے اور ربیع (رح) دونوں سے روایت کیا ہے کہ کچھ لوگ ایمان والوں میں سے بدر کے دن حاضر نہ ہو سکے اور اس چیز کو نہ پاسکے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا تو وہ تمنا کیا کرتے تھے کہ وہ جنگ میں شریک ہوں اور دشمنوں سے جنگ کریں جب جنگ کا موقع آگیا یہاں تک کہ جب مدینہ کے اطراف میں غزوہ احد ہوا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ولقد کنتم تمنون الموت “۔ (4) ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ کچھ لوگ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے یوں کہتے تھے اگر ہم نبی ﷺ کے ساتھ (مل کر) دشمنوں سے لڑتے تو ہم ضرور ایسا کریں گے اور ضرور ایسا کریں گے پھر جب وہ اس میں مبتلا کئے گئے تو انہوں نے ایسا نہ کیا (جیسے کہتے تھے) اللہ کی قسم ! ان میں سب نے اللہ تعالیٰ سے سچ نہیں بولا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” ولقد کنتم تمنون الموت “۔ (5) سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ کچھ لوگ صحابہ میں سے بدر میں حاضر نہ ہوئے تھے جب انہوں نے بدر والوں کی فضیلت کو دیکھا تو کہنے لگے اے اللہ ہم آپ سے سوال کرتے ہیں کہ ہم کو بدر کے دن کی طرف ایک دن دکھا کہ ہم تیری طرف سے اس میں خیر کو پہنچیں پھر انہوں نے احد (کا دن) دیکھا اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ولقد کنتم تمنون الموت “۔