Ayahs 3:70–75(1) عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وامن اھل الکتب من ان تامنہ بقنطار یؤدہ الیک “ جو بڑا خزانہ واپس کردیتے ہیں وہ نصاری ہیں اور لفظ آیت ” ومنہم من ان تامنہ بدینار لا یؤدہ الیک “ اور وہ جو واپس نہیں کرتے وہ یہودی ہیں لفظ آیت ” الا ما دمت علیہ قائما “ یعنی مگر یہ کہ تو اس سے طلب کرتا رہے اور اس کے پیچھے لگا رہے۔
(2) ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومنہم من ان تامنہ بدینار الا یؤدہ الیک “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ کے صحابہ ؓ کے اموال کو روک لیں اور وہ اہل کتاب حکم دئیے گئے کہ ہم مسلمان کو اس کا حق ادا کریں۔
(3) ابن ابی حاتم نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا ہے کہ دینار اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ دین بھی ہے اور آگ بھی ہے اور فرمایا کہ اس کا معنی ہے کہ جو اس کو اپنے حق کے ساتھ لے گا تو وہ اس کے لیے (دین) ہے اور جو اس کو بغیر اپنے حق کے لے گا اس کے لیے (نار) آگ ہے۔
(4) خطیب نے اپنی تاریخ میں حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب ان سے درہم کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس کا نام درہم کیوں رکھا گیا ؟ اور دینار کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس کا نام دینار کیوں رکھا گیا ؟ تو انہوں نے فرمایا درہم کو درہم اس لیے کہتے ہیں کہ غم کا گھر ہے اور دینار اس لیے ہے کہ مجوسیوں نے اس کو بنایا اور اس کا نام دینار رکھا۔
(5) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الا ما دمت علیہ قائما “ میں قائما سے مراد ہے مواظبا یعنی پابندی کے ساتھ اس کے پاس کھڑا رہے۔
(6) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الا ما دمت علیہ قائما “ سے مراد ہے کہ اپنی امانت کا اعتراف کرتا ہے جب تک تو اس کے سر پر کھڑ ا رہے اور جب تو چلا جائے اور پھر آکر اس سے مطالبہ کرے تو انکار کر دے تجھ سے جو اس نے دینا ہے۔
(7) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ذلک بانہم قالوا لیس علینا فی الامین سبیل “ سے مراد ہے کہ یہودیوں نے کہا ہم پر کوئی جرم نہیں عرب کے جو اموال ہم نے لے لیے ہیں۔
(8) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب اس (یہودی) کو کہا جاتا تمہیں کیا ہوا ؟ تم اپنی امانت کو ادا نہیں کرتے تو وہ کہتا ہے ہم پر عرب کے مالوں میں کچھ حرج نہیں (یعنی کوئی گناہ نہیں ان کے غضب کرنے میں) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہمارے لیے حلال کردیا ہے۔
(9) عبد بن حمید، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” من اھل الکتب “ سے لے کر ” ذلک بانہم قالوا لیس علینا فی الامین سبیل “ تک نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ کے دشمنوں نے جھوٹ کہا زمانہ جاہلیت میں جو کچھ تھا ان دونوں قدموں کے نیچے ہے مگر امانت کیونکہ اس کی ادائیگی (لازم ہے) نیک اور بدکار کی طرف۔
(10) ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے صعصعہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ ہم جنگ میں اہل ذمہ کے مالوں میں سے مرغی اور بکری حاصل کرتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا پس تم لوگ کیا کہتے ہو تو صعصعہ ؓ نے کہا ہم یہ سنتے ہیں کہ ہم پر کوئی گناہ نہیں اس بارے میں تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ تو ایسا ہی ہے جیسے اہل کتاب والوں نے کہا لفظ آیت ” لیس علینا فی الامین سبیل “ کیونکہ جب انہوں نے یہ جزیہ ادا کردیا تو اب ان کا مال تمہارے لیے حلال نہیں مگر ان کی دل کی خوشی کے ساتھ۔
یہود جھوٹ بولتے ہیں
(11) ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ مسلمانوں میں سے کچھ آدمیوں نے زمانہ جاہلیت میں یہودیوں کو (کچھ مال) فروخت کیا جب یہ لوگ مسلمان ہوگئے تو انہوں نے یہودیوں سے اپنے مال کی قیمت کا تقاضا کیا تو یہودیوں نے کہا ہم پر کوئی امانت کی واپسی نہیں اور ہمارے پاس تمہارے لیے کوئی ادائیگی نہیں کیونکہ تم نے اپنے دین کو چھوڑ دیا ہے جس پر تم (پہلے) تھے اور انہوں نے دعوی کیا کہ انہوں نے اپنی کتاب میں اسی حکم کو پایا تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ویقولون علی اللہ الکذب “ (یعنی اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں جان بوجھ کر) ۔
(12) ابن جریر نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” بلی من اوفی بعھدہ واتقی “ میں ” اتقی “ سے مراد جو شرک سے بچے (اور) لفظ آیت ” فان اللہ یحب المتقین “ سے وہ لوگ مراد ہیں جو شرک سے بچنے والے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو محبوب رکھتے ہیں۔
Ayahs 3:76–77جھوٹی قسم کے ذریعہ مال کمانے والے کے لئے عذاب
(1) عبد الرزاق و سعید بن منصور واحمد وعبد بن حمید بخاری مسلم ابو داؤد ترمذی نسائی ابن ماجہ ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ایسی قسم کھائی جس میں وہ جھوٹا ہے تاکہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال مارے تو (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غصہ ہوں گے اشعث بن قیس ؓ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی میں نے زمین واپس کرنے سے انکار کردیا تھا اس کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گیا مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تیرے پاس گواہ ہیں ؟ میں نے عرض کیا نہیں پھر آپ نے یہودی سے فرمایا تو قسم کھالے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ تو قسم کھالے گا اور میرا مال لے جائے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانہم ثمنا قلیلا “۔
(2) عبد بن حمید، بخاری، مسلم، اور ابن المنذر نے عبد اللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی بازار میں سودا لے کر کھڑا ہوا اور اللہ کی قسم کھانے لگا کہ اس نے اس مال کے اتنے پیسے دئیے تھے جبکہ اس نے اتنے پیسے نہیں دئیے تھے تاکہ مسلمان کو پھنسائے اس پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانہم ثمنا قلیلا “۔
(3) احمد، عبد بن حمید، نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، طبرانی، بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابن عساکر نے عدی بن بحیرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ امرؤ القیس اور حضرموت کے ایک آدمی کے درمیان جھگڑا تھا اس معاملہ کو دونوں نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گئے آپ نے حضرمی سے فرمایا اپنے گواہ لے آ ورنہ وہ قسم کھالے گا حضرمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر اس نے قسم کھالی تو وہ میری زمین لے جائے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے جھوٹی قسم کھائی تاکہ اس کے ذریعہ اپنے بھائی کا حق مارلے اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوں گے امرؤ القیس ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! اس کے لیے کیا ہے جو اس کو چھوڑ دے (یعنی اپنے حق کو) حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا حق ہے آپ نے فرمایا جنت (اس کو ملے گی) امرؤ القیس ؓ نے عرض کیا آپ گواہ ہوجائیے کہ تحقیق میں نے اس (اپنے حق) کو چھوڑ دیا (اس پر) یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانہم ثمنا قلیلا “ آخری آیت تک۔
(4) ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ اشعث بن قیس اور ایک آدمی ایک زمین کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جھگڑا لے گئے جو اس آدمی کی زمین ان کے ہاتھ میں تھی جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں لی تھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اس آدمی سے) اپنے گواہ قائم کر اس آدمی نے کہا میرے پاس کوئی گواہ نہیں جو اشعث پر گواہی دے پھر آپ نے اشعث سے فرمایا کہ تیرے لیے قسم (کھانا) ہے اشعث نے عرض کیا ہم قسم کھائیں گے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ان الذین یشترون بعھد اللہ “ (یہ آیت سن کر) اشعث پیچھے ہٹ گئے اور عرض کیا میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہوں اور میں تم لوگوں کو بھی گواہ بناتا ہوں کہ میرا مقابل سچا ہے اور اس کی زمین اس کو لوٹا دی اور اپنے پاس سے بہت زیادہ اس کو دے دی۔
(5) ابن جریر نے شعبی (رح) سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نے دن کے اول حصہ میں اپنا سامان فروخت کے لیے پیش کیا جب دن کا آخری حصہ (یعنی شام) ہوئی تو ایک آدمی آیا تاکہ اس سے سامان خریدے تو مالک نے قسم کھا کر کہا کہ دن کے اول حصہ میں اتنی قیمت پر اس نے سامان نہیں بیچا اگر شام نہ ہوتی تو میں اس کو اس بھاؤ کے ساتھ فروخت نہ کرتا (اس پر) اللہ تعالیٰ نے اتارا ” ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانہم ثمنا قلیلا “۔
(6) ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ” ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانہم ثمنا قلیلا “ ابو رافع کتانہ بن ابی تحقیق کعب بن الاشرف اور حیی بن اخطب کے بارے میں نازل ہوئی۔
(7) ابن ابی شیبہ نے ابن عون کے طریق سے ابراہیم محمد اور حسن رحمۃ اللہ علیہم ان تینوں حضرات سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانہم ثمنا قلیلا “ سے مراد وہ آدمی ہے جو کسی آدمی کے مال کو اپنی قسم کے ذریعہ مار لیتا ہے۔
(8) مسلم، ابو داؤد، ترمذی نے وائل بن حجر ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی حضرموت سے اور ایک آدمی کندہ سے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے حضرمی نے کہا یا رسول اللہ ! اس آدمی نے میری زمین پر قبضہ کرلیا ہے جو میرے باپ کی تھی کندی نے کہا یہ زمین میرے قبضہ میں ہے میں اسے کاشت کرتا ہوں اس میں اس کا کوئی حق نہیں نبی اکرم ﷺ نے حضرت سے فرمایا کیا تیرے پاس گواہ ہے اس نے کہا نہیں پھر فرمایا پس تیرے لیے اس کی قسم ہے (یعنی کندی اب قسم کھائے گا) حضرمی نے کہا نہیں پھر فرمایا پس تیرے لیے اس کی قسم کھانے کی پرواہ نہیں کرتا اور نہ ہی یہ کسی چیز سے ڈرتا ہے آپ نے فرمایا تیرے اس میں سے اس کے سو کوئی راستہ نہیں وہ آدمی چلاتا کہ قسم کھائے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اس نے پیٹھ پھیری کہ اگر اس نے ایسے مال پر قسم کھائی تاکہ وہ اس کو ظلم کے طور پر کھاجائے تو اللہ تعالیٰ سے وہ اس حال میں ملاقات کرے گا جبکہ اللہ تعالیٰ اس سے اعراض کرنے والا ہوگا۔
(9) ابو داؤد وابن ماجہ نے اشعث بن قیس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی کندہ سے اور دوسرا حضرموت سے ایک زمین کے بارے میں جھگڑا لے کر آئے جو یمن میں تھی حضرمی نے کہا یا رسول اللہ ! میری زمین اس کے والد نے غصب کرلی تھی اور اب وہ اس کے ہاتھ میں ہے آپ نے فرمایا کیا تیرے پاس گواہ ہے عرض کیا نہیں لیکن میں قسم کھاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میری زمین کو اس کے باپ نے غصب کیا ہے کندی قسم کھانے کے لیے تیار ہوگیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی آدمی اگر کسی کا مال قسم کے ذریعہ (ناحق) لے گا تو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ جذام والا ہوگا (یعنی اس کے ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے ہوں گے) کندی نے (یہ سن کر) کہا یہ زمین اسی کی ہے۔
(10) احمد البزار ابو یعلی طبرانی نے حسن سند کے ساتھ ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا ہے دو آدمیوں نے ایک زمین کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کے پاس جھگڑا کیا ایک ان میں سے حضرموت سے تھا آپ نے ایک پر قسم لازم فرمائی دوسرے نے شور مچا دیا اور کہا اب تو وہ میری زمین لے جائے گا آپ نے فرمایا اگر قسم کے ذریعہ ظلم کرتے ہوئے اس نے تیری زمین کو ہتھیا لیا تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف قیامت کے دن نظر رحمت نہیں کرے گا نہ اس کو پاک کرے گا اور اس کے لیے دردناک عذاب ہوگا راوی نے کہا دوسرا آدمی ڈر گیا اور زمین اس کو واپس کردی۔
(11) احمد بن منبع نے اپنی سند میں اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایسا گناہ جس کا کفارہ نہیں ہوتا اس میں ہم یمین الغموس کو شمار کرتے تھے کہا گیا یمین غموس کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کوئی آدمی اپنی (جھوٹی) قسم کے ذریعہ کسی دوسرے آدمی کا مال مارے۔
(12) ابن حبان، طبرانی، حاکم نے اس کو صحیح کہا حرث بن برصاء ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حج میں دو جمروں کے درمیان یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنی جھوٹی قسم کے ذریعہ اپنے بھائی کا مال مارلے تو اس کو چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لے چاہیے کہ یہ حکم تمہارا حاضر آدمی اپنے غائب کو پہنچا دے دو یا تین مرتبہ آپ نے ایسا فرمایا۔
(13) البزار نے عبد الرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جھوٹی قسم مال کو لے جاتی ہے (یعنی مال کو برباد کردیتی ہے) ۔
جھوٹی قسم گھروں کو برباد کردیتی ہے
(14) بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں سے سب سے جلدی عذاب لانے والا ظلم ہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں سب سے جلدی ثواب لانے والی صلہ رحمی ہے اور جھوٹی قسم گھروں کو تباہ و برباد کردیتی ہے۔
(15) حرث بن ابی اسامہ اور حاکم نے (اس کو صحیح کہا) کعب بن مالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس شخص نے کسی مسلمان آدمی کا مال جھوٹی قسم کے ذریعہ مار لیا تو ایک سیاہ نقطہ اس کے دل پر لگ جاتا ہے اس کو کوئی چیز نہیں مٹا سکتی اس نقطہ کو قیامت کے دن تک۔
(16) الطبرانی اور حاکم نے اس کو صحیح کہا کعب بن مالک وابن سعد احمدو نسائی ابن ماجہ نے جابر بن عتیک ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی مسلمان کا مال (جھوٹی) قسم کے ذریعہ مار لیا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کردیں گے اور اس کے لیے آگ واجب کردیں گے عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! اگرچہ وہ مال تھوڑا سا ہو ؟ آپ نے فرمایا اگرچہ ایک مسواک کیوں نہ ہو۔
(17) ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ ابو امامہ ایاس بن ثعبلہ حارثی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی مسلمان کا حق مار لیا اپنی جھوٹی قسم سے ساتھ تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے آگ کو واجب کردیں گے اس پر جنت کو حرام کردیں گے صحابہ کرام نے عرض کیا اگرچہ تھوڑی ہی چیز ہو یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا اگرچہ ایک چھڑی ہو پیلو کے درخت سے (تین مرتبہ ایسا فرمایا) ۔
(18) ابن ماجہ، ابن حبان نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی غلام یا باندی اس منبر کے پاس جھوٹی قسم کھاتی ہے اگرچہ ایک تر مسواک پر ہو تو اس کے لیے دوزخ واجب ہوجاتی ہے۔
(19) عبد الرزاق نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائی تو اس کو چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لے اگرچہ ایک سبز مسواک پر کیوں نہ ہو ابو عبیدہ وخطابی (رح) سے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے زمانہ میں منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائی جاتی تھی۔
(20) عبد الرزاق نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جھوٹی قسم سامان کو گم کردیتی ہے (یعنی بکوا دیتی ہے) اور کمائی کو مٹا دیتی ہے۔
(21) عبد الرزاق وعبد بن حمید، ابو داؤد وابن جریر اور حاکم نے اس کو صحیح کہا عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا اور وہ کہا کرتے تھے کہ جس شخص نے اپنے بھائی کا مال مار لینے کے لیے جھوٹی قسم کھائی تو اس کو چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لے ایک کہنے والے نے ان سے کہا کیا یہ ایسی چیز ہے جو تو نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے ؟ تو فرمایا بلاشبہ تم اس کو ضرور پاؤگے پھر یہ آیت پڑھی۔ لفظ آیت ” ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانہم “۔
جھوٹی قسم کھانا بڑا گناہ ہے
(24) بخاری نے ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ دو عورتیں گھر میں جوتا سی رہی تھیں ستال (جس سے سوراخ کرتے ہیں) اس کے ہاتھ سے آر پار نکل گئی تو اس نے دوسری پر دعوی کردیا مسئلہ حضرت ابن عباس ؓ کی طرف سے لے جایا گیا تو حضرت ابن عباس ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر لوگوں کو ان دعوی کے مطابق دے دیا جائے تو چلا جائے گا قوم کا خون اور ان کا مال جس میں وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھائیں اور اس کا اقرار کریں پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” ان الذین یشترون بعھد اللہ “ لوگوں نے اس کے سامنے اس کا ذکر کیا اس عورت نے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا۔
(25) عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن المنذر نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ جھوٹی قسم کھانا بڑے گناہوں میں سے ہے پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانہم ثمنا قلیلا “۔
(26) ابن جریر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہم یہ جانتے تھے جب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے کہ بلاشبہ وہ گناہ جس کی مغفرت نہیں کی جائے گی وہ جھوٹی قسم ہے جس میں قسم اٹھانے والا جھوٹا ہو۔
(27) ابن ابی حاتم نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا ہے کہ جس نے قرآن اس لیے پڑھا تاکہ اس کے ذریعہ لوگوں سے مال حاصل کرے تو اس حال میں اللہ تعالیٰ کے پاس آئے گا کہ اس کا چہرہ اس کے دونوں کندھوں کے درمیان ہوگا یہ اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ” ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانہم ثمنا قلیلا “۔
(28) ابن ابی شیبہ نے مصنف میں ذا ذان (رح) سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے قرآن اس لیے پڑھاتا کہ اس کے ذریعہ (لوگوں سے مال) لے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا چہرہ ایک ہڈی ہوگا جن پر گوشت (نہ) ہوگا۔
(29) احمد، عبد بن حمید، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ نے شعب الایمان میں حضرت ابوذر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں فرمائیں گے اور نہ ان کی طرف دیکھیں گے اور نہ ان کو پاک کریں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا چادر کو (بطور تکبر کے) نیچے لٹکانے والا اپنے سامان کو جھوٹی قسم کے ساتھ بیچنے والا اور احسان جتانے والا۔
(30) عب الرزاق، احمد، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں فرمائیں گے نہ ان کی طرف دیکھیں گے اور نہ ان کو پاک کریں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا ایک وہ آدمی جس نے کسی مسافر کو زائد پانی (جو اس کی ضرورت سے زائد تھا) نہ دیا اور دوسرا وہ آدمی جس نے عصر کے بعد اپنے سامان پر جھوٹی قسم کھائی دوسرے آدمی نے اس کی بات کو سچا قرار دیتے ہوئے اس کو خرید لیا اور تیسرا وہ آدمی جس نے کسی امام کی بیعت کی اگر وہ اس کو کچھ دے تو اس کی وفا داری کرے اور اگر اس کو کچھ نہ دے تو اس کی وفاداری نہ کرے۔
(31) بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت سلمان ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے کوئی بات نہیں کریں گے اور نہ ان کو پاک کریں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا بوڑھا زنا کرنے والا محتاج تکبر کرنے والا اور وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے سامان دیا ہو پھر اس کو قسم کے ساتھ بیچتا ہے اور قسم کے ساتھ خریدتا ہے۔
(32) طرانی اور حاکم نے اس کو صحیح کہا حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اجازت دی ہے کہ میں ایسے مرغے کے بارے میں بیان کروں کہ اس کی گرن عرش کے نیچے جھکی ہوئی ہے اور وہ کہتا ہے اے ہمارے رب تو پاک ہے کتنی تیری شان بلند ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ وہ شخص میری نام کی جھوٹی قسم کھاتا ہے۔
Ayah 3:78(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے لفظ آیت ” وان منہم لفریقا یلون السنتہم بالکتب “ میں وہ یہودی مراد ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں زیادتی کردیتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے اتارا تھا۔
(2) الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” یلوء السنتہم بالکتب “ سے مراد ہے کہ وہ کتاب اللہ میں تحریف کر ڈالتے تھے۔
(3) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ بلاشہ تورات اور انجیل کو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نازل کیا تھا ان دونوں میں سے ایک حرف بھی تبدیل نہیں ہوا تھا لیکن ان لوگوں نے (لوگوں کو) گمراہ کیا اور تحریف اور (غلط) تاویل کے ساتھ اور اپنے پاس سے اس میں لکھ دیتے تھے اور کہتے تھے ” ھو من عند اللہ وما ھو من عند اللہ “ (یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا تھا) لیکن اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابیں ہیں وہ محفوظ ہیں ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
Ayah 3:79ہر نبی صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا ہے
(1) ابن اسحق، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب اہل نجران کے وفد کے اہم یہود و نصاری کے علماء رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوئے اور آپ نے ان کو اسلام کی طرف بلایا تو ابو رافع قرظی نے کہا اے محمد ﷺ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی عبادت کریں جیسا کہ نصاری عیسیٰ بن مریم کی عبادت کرتے ہیں تو اہل نجران میں سے ایک نصرانی نے کہا جس کو رئیس کہا جاتا تھا اے محمد ﷺ کیا آپ ہم سے اسی بات کا ارادہ کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی پناہ ! کہ ہم غیر اللہ کی عبادت کریں ! ہم اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت کا حکم کریں اور نہ میں اس لیے بھیجا گیا ہوں اور نہ اس بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے تو ان دونوں کی باتوں پر اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” ما کان لبشر ان یؤتیہ اللہ “ سے لے کر ” اذ انتم مسلمون “ تک۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے علاوہ دوسرے لوگوں کی عبادت کرتے تھے کتاب اللہ میں اپنی جگہ سے تحریف کرنے کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ماکان لبشر ان یؤتیہ اللہ الکتب والحکم والنبوۃ ثم یقول للناس کونوا عبادا لی من دون اللہ “ یعنی پھر وہ لوگوں کو حکم کرے بغیر اس کے حکم کے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اتارا۔
(3) عبد بن حمید نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! ہم آپ کو ایسے ہی سلام کرتے ہیں جیسے کہ ہمارا بعض آدمی بعض کو سلام کرتا ہے کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں ؟ آپ نے فرمایا نہیں لیکن تم اپنے نبی کا اکرام کرو اس کے اہل کے حق کو پہچانو کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کسی اور کو سجدہ کرے تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ما کان لبشر ان یؤتیہ اللہ الکتب “ سے لے کر ” بعد اذ انتم مسلمون “ تک۔
(4) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” ربنین “ سے فقہا معلمین مراد ہیں “۔
(5) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ربنین “ سے فقہاء علماء اور حکماء مراد ہیں۔
(6) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ضحاک کے طریق ہے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” ربنین “ سے علماء فقہاء مراد ہیں۔
(7) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” ربنین “ سے حکماء فقہاء مراد ہیں۔
(8) ابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” ربنین “ سے حکماء علماء مراد ہیں۔
(9) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ربانیون “ سے فقہاء علماء مراد ہیں اور وہ ” احبار “ سے اوپر ہیں (یعنی مرتبہ میں بلند ہیں) ۔
(10) سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” ربنین “ سے حکماء اور متقی لوگ مراد ہیں۔
(11) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” الربنیون “ سے وہ لوگ مراد ہیں جو لوگوں کی تربیت کرتے ہیں اس حال میں کہ اس کام کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور پھر (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت ” لو لا ینہہم الربنیون والاحبار “ پھر فرمایا ” الربنیون “ سے حاکم مراد ہیں اور ” احبار “ سے علماء مراد ہیں۔
(12) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” کونوا ربنین بما کنتم تعلمون الکتب “ سے مراد ہے کہ ہر اس شخص پر حق ہے جو قرآن پڑھاتا ہے کہ وہ فقیہ بھی ہو۔
(13) ابن المنذر نے کہا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ یوں پڑھتے تھے ” وبما کنتم تدرسون “۔
(14) عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ اس کو پڑھتے تھے لفظ آیت ” وبما کنتم تدرسون “ مشدد تاء کے رفع اور راء کے کسرہ کے ساتھ۔
(15) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” بما کنتم تعلمون الکتب “ تخفیف اور تاء کے نصب کے ساتھ ابن عینیہ (رح) نے فرمایا جو کچھ انہوں نے سیکھا یہاں تک انہوں نے اس کی تعلیم بھی دی۔
(16) عبد بن حمید وابن جریر نے ابوبکر (رح) سے روایت کیا ہے کہ عاصم (رح) یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” بما کنتم تعلمون الکتب “ تشدید تاکہ رفع اور راء کے کسرہ کے ساتھ پھر فرمایا الکتاب سے مراد قرآن ہے ” وبما کنتم تدرسون “ سے فقہ مراد ہے۔
(17) عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ کوئی بھی عذر قبول نہیں کیا جائے گا آزاد ہو یا غلام مرد ہو عورت جب تک کہ وہ قرآن کو اپنی طاقت کے مطابق نہ سیکھے اس کی محنت کرتے ہوئے جو وہ پہنچے اس میں سے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” کونوا ربنین بما کنتم تعلمون الکتب وبما کنتم تدرسون “ پھر فرمایا فقہاء بن جاؤ اور علماء بن جاؤ۔
(18) ابن ابی حاتم نے ابو رزین ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” وبما کنتم تدرسون “ سے فقہ کا (آپس میں) مذاکرہ کرو اور وہ بھی فقہی مسائل میں اس طرح مذاکرہ کرتے تھے جیسا کہ ہم آپس میں مذاکرہ کرتے ہیں۔
(19) ابن جریر، وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا یامرکم ان تتخذوا “ سے مراد یہ ہے کہ وہ نبی تم کو اس چیز کا حکم نہیں دیتا۔
Ayahs 3:80–81(1) عبد بن حمید، فریابی، ابن جریر اور ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے اس آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق النبین لما اتیتکم من کتب و حکمۃ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ کاتبوں کی غلطی ہے اور یہ ابن مسعود ؓ کی قرات میں یوں ہے لفظ آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب “۔
(2) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب “ کی قرات کی پھر کہا کہ ابی بن کعب ؓ بھی اسی طرح پڑھا کرتے تھے ربیع (رح) نے فرمایا کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” ثم جاء کم رسول اللہ مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ “ پھر فرمایا تم البتہ ضرور محمد ﷺ پر ایمان لاؤ اور تم ضرور اس کی مدد کرو گے پھر فرمایا اس سے مخاطب اہل کتاب ہیں۔
ہر نبی نے نبی آخر الزماں کی خبر دی
(3) ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں نے ابن عباس ؓ سے عرج کیا کہ عبد اللہ ؓ کے اصحاب یوں پڑھتے ہیں لفظ آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب لما اتیتکم من کتب و حکمۃ “ اور ہم پڑھتے ہیں ” میثاق النبین “ تو ابن عباس ؓ نے فرمایا بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے ان کی قوم کے بارے میں وعدہ لیا۔
(4) عبد الرزاق، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے طاؤس (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے وعدہ لیا کہ وہ ایک دوسرے کی تصدیق کریں۔
(5) عبد بن حمید اور ابن جریر اور ابن المنذر نے وجہ آخر سے طاؤس (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے کے انبیاء سے یہ وعدہ لیا کہ وہ ضرور اس پیغام کی تصدیق کریں گے اور ضرور اس پر ایمان لائیں گے ان میں سے جو دوسرا نبی لے کر آئے۔
(6) ابن جریر نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو نہیں بھیجا آدم اور ان کے بعد میں آنے والا نبی مگر یہ کہ ان سے وعدہ لیا محمد ﷺ کے بارے میں اگر ان کی بعثت ہوگئی اور وہ زندہ ہو تو ان پر ضرور ایمان لائیں گے اور ان کی مدد کریں گے اور ان کو حکم فرمایا کہ یہ وعدہ اپنی قوم سے بھی لیں پھر یہ آیت تلاوت فرمائی لفظ آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق النبین لما اتیتکم من کتب و حکمۃ “۔
(7) عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے لیا کہ وہ ایک دوسرے کی تصدیق کریں گے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے پیغامات کو پہنچائیں گے تو انبیاء نے اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے پیغامات کو اپنی قوموں کی طرف پہنچایا اور ان سے یہ وعدہ بھی لیا کہ وہ محمد ﷺ پر ایمان لے آئیں گے ان کی تصدیق کریں گے اور ان کی مدد کریں گے۔
(8) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی نبی کو نہیں بھیجا نوح (علیہ السلام) سے لے کر اب تک مگر اس سے وعدہ لیا کہ وہ ضرور محمد ﷺ پر ایمان لائیں گے اور اس کی مدد کریں گے اگر وہ تشریف لے آئیں اور یہ نبی زندہ ہوا اور اپنی قوم سے بھی یہ وعدہ لیں کہ وہ ان پر ایمان لائیں گے اور ان کی مدد کریں گے اگر وہ تشریف لے آئیں اور یہ لوگ زندہ ہوں۔
(9) ابن جریج نے حسن بصری (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے یہ وعدہ لیا کہ تم میں سے پہلے بعد والے تک حق کا پیغام پہنچائے گا اور یہ بھی وعدہ لیا کہ تم آپس میں اختلاف نہ کرو گے۔
(10) ابن جریر ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ پھر یاد دلایا گیا جو ان سے وعدہ لیا گیا تھا یعنی اہل کتاب سے اور ان کے انبیاء سے کہ وہ محمد ﷺ کی تصدیق کریں گے جب ان کے پاس آجائیں اور اس بات کا اپنے اوپر اقرار کریں گے۔
قرآن ہدایت کے لئے کافی ہے
(11) احمد نے عبد اللہ بن ثابت ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس تشریف لائے اور عرج کیا یا رسول اللہ ! میں گذرا اپنے بھائی کے پاس سے جو قبیلہ بنی قریظہ میں سے ہیں اس نے میرے لیے تو رات میں جامع کلمات لکھے ہیں کیا میں آپ پر پیش نہ کروں ؟ رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک بدل گیا (غصہ کی وجہ سے) حضرت عمر ؓ نے (یہ دیکھ کر) فرمایا لفظ آیت ” رضینا باللہ ربا وبالاسلام دینا وبمحمد رسولا “ (یعنی ہم راضی ہیں اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر) رسول اللہ ﷺ کی ناراضگی ختم ہوگئی اور فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر تمہارے اندر موسیٰ (علیہ السلام) موجود ہوتے پھر تم (مجھے چھوڑ کر) ان کی اتباع کرتے تو تم گمراہ ہوجاتے تم امتوں سے میرا حصہ ہو اور میں تمہارا حصہ ہوں نبیوں میں سے۔
(12) ابو یعلی نے حضرت جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کیا کرو بلا شبہ وہ ہرگز تم کو ہدایت نہیں دیں گے اور تحقیق تم کو گمراہ کریں گے یا تو تم باطل کی تصدیق کرو گے یا سچی بات کو چھوڑ دو گے اللہ کی قسم ! اگر موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تمہارے درمیان تو ان کے لیے حلال نہ ہوتا مگر یہ کہ میری اتباع کریں۔
(13) عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” لما اتیتکم “ لما کی تشدید کے ساتھ۔
(14) عاصم (رح) نے یوں پڑھا ” لما “ بغیر تشدید کے (اور) ” اتیتکم “ تا اور واحد متکلم کے صیغہ کے ساتھ یعنی ” اعطیتکم “ (یعنی تم کو عطا کیا) ۔
(15) ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” اضری “ کا معنی عھدی یعنی عہد ہے
(16) ابن جریر نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” قال فاشھدوا “ یعنی گواہی دو تم اپنی امتوں پر اس بات کی ” وانا معکم من الشھدین “ یعنی میں بھی گواہ ہوں تم پر اور ان پر ” فمن تولی “ یعنی جو کوئی منہ پھیر لے تجھ سے اے محمد ﷺ اس عہد کے بعد ساری امتوں میں سے لفظ آیت ” فاولئک ہم الفسقون “ وہی نافرمان کافر ہیں۔
Ayahs 3:82–83(1) طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” ولہ اسلم من فی السموت والارض طوعا وکرھا “ میں جو مخلوق آسمانوں میں ہے وہ فرشتے ہیں اور جو مخلوق زمین میں ہے اس سے مراد وہ مسلمان جو پیدا ہوا اور کرھا سے مراد دوسری قوموں کے وہ لوگ ہیں جو زنجیروں اور ہتھکڑیوں میں سے جکڑے ہوئے ہوں گے جن کو جنت کی طرف لے جایا جائے گا جبکہ وہ خوش نہ ہوں گے۔
(2) الدیلمی نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لفظ آیت ” ولہ اسلم من فی السموت والارض طوعا وکرھا “ سے مراد ہے کہ فرشتے اس کی اطاعت کرتے ہیں آسمان میں اور انصار صحابہ ؓ اور عبد قیس اس کی اطاعت کرتے ہیں زمین سے۔
(3) ابن جریر نے مجاہد کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولہ اسلم من فی السموت والارض طوعا وکرھا “ سے مراد ہے کہ جب ان سے وعدہ لیا تھا تو انہوں نے اس وقت سر تسلیم خم کیا۔
(4) ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے طوعا وکرھا (یعنی خوشی سے یا نا خوشی سے) اور یہی قول ہے اللہ تعالیٰ کا لفظ آیت ” وللہ یسجد من فی السموت والارض طوعا وکرھا “ (الرعد آیت 15)
(5) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ولہ اسلم من فی السموت “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ جدا ہے لفظ آیت ” ومن فی السموت والارض طوعا وکرھا “ سے (یعنی جو زمین میں ہیں جن وانس وہ بھی خوشی یا نا خوشی سے اللہ تعالیٰ ہی کی فرمانبردار ہیں) ۔
(6) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ” ولہ اسلم “ سے مراد ہے معرفت (یعنی آسمان اور زمین میں ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتی ہے) ۔
(7) عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے لفظ آیت ” ولئن سالتہم من خلق السموت والارض لیقولن اللہ “ (یعنی جب آپ ان سے سوال کریں کہ کس نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا تو وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ نے) یہی ان کا اسلام تھا۔
(8) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ہر آدمی اقرار کرتا ہے اپنی ذات سے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ میرا رب ہے اور میں اس کا بندہ ہوں پس جو اس کی عبادت میں شرک کرے گا تو یہ وہ شخص ہے جو اسلام مجبوری سے لایا اور جو شخص خاص اللہ کی عبادت کرتا ہے یہ وہ شخص ہے جو خوشی سے اسلام لایا۔
(9) ابن جریر نے حسن ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ کئی قومیں اسلام لانے پر مجبور کی گئیں اور کئی قومیں خود بخود فرمانبرداری کرتے ہوئے آئیں اسلام لائیں۔
(10) مطر الوراق (رح) نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ فرشتے خوشی سے انصار خوشی سے بنو سلیم خوشی سے اور عبد القیس خوشی سے اسلام لائے باقی اور سارے لوگوں نے مجبور اسلام قبول کیا۔
خوشی سے جو اسلام قبول کرے وہی مقبول ہے
(11) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ مومن خوشی سے اسلام لاتا ہے اور اس چیز نے اسے نفع دیا اور اس سے یہ عمل قبول ہوا لیکن کافر جب اسلام لاتا ہے جب اللہ اللہ کے عذاب کو دیکھتا ہے اور اس کو اس بات کا نفع نہیں ہوتا اور اس سے (اس کا اسلام) قبول بھی نہیں کیا جاتا اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ” فلم یک ینفعہم ایمانہم لما راو باسنا “۔
(12) ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ آسمانوں میں فرشتوں نے خوشی سے اور زمین میں انصار اور عبد القیس نے خوشی سے اطاعت کی۔
(13) شعبی (رح) نے فرمایا کہ ” ولہ اسلم من فی السموت والارض “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی اطاعت و فرمانبرداری کا تقاضا کیا۔
(14) ابو سفیان (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولہ اسلم من فی السموت والارض “ سے معرفت مراد ہے کیونکہ جس سے بھی تو اس کے بارے میں سوال کرے گا یہ کہ وہ جانتا ہوگا۔
(15) عکرمہ ؓ نے فرمایا کہ ” وکرھا “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو مشرکین عرب میں سے اور قیدیوں میں سے اسلام لائے یا جو مجبور ہو کر مسلمان ہوئے۔
(16) طبرانی نے الاوسط میں انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص غلاموں کے جانوروں بچوں کے ساتھ برا سلوک کرے تو اس کے کان میں پڑھ دو ” افغیر دین اللہ یبغون “۔
(17) ابن السنی نے عمل یوم ولیلۃ میں یونس بن عبید (رح) سے روایت کیا ہے کہ کوئی آدمی ایسا نہیں ہے کہ کسی سرکش سواری پر سوار ہو تو اس کے کان میں (یہ آیت) پڑھ دے لفظ آیت ” افغیر دین اللہ یبغون ولہ اسلم “ تو (یہ جانور) اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے لیے تابعدار ہوجائے گا۔
Ayahs 3:84–85(1) احمدو طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا قیامت کے دن اعمال آئیں گے نماز آئے گی اور کہے گی اے میرے رب میں نماز ہوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے بلاشبہ تو خیر پر ہے اور صدقہ آئے گا وہ کہے گا اے میرے رب میں صدقہ ہوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو بھی خیر پر ہے پھر روزہ آئے گا وہ کہے گا میں روزہ ہوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے بلاشبہ تو بھی خیر پر ہے پھر اس طرح سارے اعمال آئیں گے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے بلاشبہ تو خیر پر ہے پھر اسلام آئے گا وہ کہے گا اے میرے رب ! آپ سلام ہیں اور میں اسلام ہوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے بلاشبہ تو خیر پر ہے آج کے دن تیری وجہ سے پکڑوں گا اور تیری وجہ سے عطا کروں گا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا لفظ آیت ” ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وھو فی الاخرۃ من الخسرین “۔
Ayah 3:86(1) نسائی وابن حبان وابن ابی حاتم اور بیہقی نے اپنی سنن میں عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی انصار میں سے اسلام لایا پھر مرتد ہوگیا اور مشرکین کے ساتھ مل گیا پھر وہ نادم ہوگیا اور اپنی قوم کی طرف پیغام بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ کیا میرے لیے توبہ ہے ؟ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” کیف یھدی اللہ قوما کفروا بعد ایمانہم “ سے لے کر ” فان اللہ غفور رحیم “ تک اس کی قوم نے اس کی طرف پیغام بھیجا تو وہ مسلمان ہوگیا۔
(2) عبد الرزاق اور مسدد نے اپنی مسند میں اور ابن جریر، ابن المنذر اور باوردی نے معرفۃ الصحابہ میں کہا کہ حارث بن سوید ؓ آئے اور نبی ﷺ کے پاس آکر مسلمان ہوگئے پھر کافر ہوگئے اور اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) قرآن میں اتاری لفظ آیت ” کیف یھدی اللہ قوما کفروا “ سے لے کر ” رحیم “ تک تو اس کی قوم میں سے ایک آدمی اس کی طرف گیا اور اس کو یہ آیت سنائی حارث ؓ نے کہا بلاشبہ اللہ کی قسم ! میں جانتا ہوں کہ تو بہت سچ بولنے والا ہے بلاشبہ رسول اللہ ﷺ تجھ سے زیادہ سچے ہیں اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم تینوں سے زیادہ سچا ہے (یہ باتیں کرنے کے بعد) حارث لوٹ آیا اور مسلمان ہوگیا اور (اب کی دفعہ) اس کا اسلام بہت اچھا رہا۔
حارث بن سوید انصاری مرتد ہوگیا تھا
(3) عبد بن حمید وابن جریر نے سدی (رح) سے اس آیت ” کیف یھدی اللہ قوما “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت حارث بن سوید انصاری کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے ایمان کے بعد کافر ہوگیا تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی بعد میں تو بہ والی آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” الا الذین تابوا “ تو اس نے توبہ کرلی۔
(4) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے وجہ آخر سے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ” کیف یھدی اللہ قوما “ بنو عمرو بن عوف قبیلہ کے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی اس نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا اور (پھر) شام چلا گیا۔
(5) ابن جریر وابن المنذر ابن جریج کے طریق سے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے وہ بنو عمرو بن عوف کا ایک آدمی تھا جو اپنے ایمان کے بعد کافر ہوگیا تھا ابن جریج (رح) نے کہا کہ مجھ کو عبد اللہ بن کثیر (رح) نے خبر دی اور مجاہد (رح) نے فرمایا کہ یہ شخص روم چلا گیا اور نصرانی بن گیا پھر اس نے اپنی قوم کو لکھا مجھے بتاؤ کیا میرے لیے توبہ (ہو سکتی ہے ) ؟ تو (یہ آیت) نازل ہوئی ” الا الذین تابوا “ تو (اس پر) وہ (دوبارہ) ایمان لے آیا اور واپس لوٹ آیا ابن جریج (رح) نے فرمایا اور عکرمۃ (رح) نے فرمایا کہ یہ (آیت) ابو عامر الراھب حارث بن سوید بن صامت وحوح بن اسلمت وغیرہ بارہ آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اسلام سے پھر کر قریش سے مل گئے تھے پھر انہوں نے اپنے رشتہ داروں کو خط لکھے کیا ہمارے لیے توبہ (ہو سکتی) ہے ؟ تو اس پر توبہ والی آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” الا الذین تابوا من بعد ذلک واصلحوا “۔
(6) ابن اسحاق وابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حارث بن سوید نے مجددبن زیاد اور قیس بن زید کو جو بنو صبیغیہ قبیلہ کے ایک آدمی تھے احد کے دن قتل کیا پھر قریش سے مل گئے اور وہ مکہ میں تھے پھر انہوں اپنے بھائی جلاس کے پاس ایک آدمی کو بھیجا توبہ کو طلب کرنے سے تاکہ وہ اپنی قوم کے پاس واپس آسکے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” کیف یھدی اللہ قوما کفروا بعد ایمانہم “ قصہ کے آخر تک۔
(7) ابن ابی شیبہ نے ابو صالح جو ام ھانی کے آزاد کردہ غلام تھے سے روایت کیا ہے کہ حرث بن سوید نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی پھر اہل مکہ سے مل گیا اور احد کی جنگ میں (کفار کی طرف سے) حاضر ہوا اور مسلمانوں کو قتل کیا پھر وہ نادم ہوا تو مکہ کی طرف لوٹ آیا اس نے اپنے بھائی جلاس بن سوید کو لکھا اے میرے بھائی میں اپنے کام پر نادم ہوں اللہ کی طرف توبہ کرتا ہوں اور اسلام کی طرف لوٹتا ہوں ؟ یہ بات رسول اللہ ﷺ کو بتادو اگر تم میری توبہ کی امید پاؤ تو مجھ کو لکھ دو انہوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” کیف یھدی اللہ قوما کفروا بعد ایمانہم “ اس کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگوں نے کہا جس پر ہے اس کے بارے میں حمایت کو ظاہر کر رہا ہوں پھر وہ اسلام کی طرف لوٹتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” ان الذین کفروا بعد ایمانہم ثم ازدادوا کفرا لن تقبل توبتہم واولئک ہم الضالون “ (بلاشبہ وہ لوگ جو کافر بن گئے اپنے ایمان کے بعد کفر میں بڑھتے چلے گئے ہرگز ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور یہ لوگ گمراہ ہیں) ۔
(8) ابن جریر ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کیف یھدی اللہ قوما کفروا بعد ایمانہم “ سے وہ اہل کتاب مراد ہیں جنہوں نے محمد ﷺ کو پہچانا پھر ان کا انکار کردیا۔
(9) عبد بن حمید وابن جریر اور ابن المنذر نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے یہود و نصاری اہل کتاب نے دیکھا اور اس کو پڑھا اور اس بات کی گواہی دی کہ وہ سچے ہیں جب ان (محمد ﷺ کی ولادت ان کے خاندان سے نہ ہوئی تو اس پر انہوں نے عرب کے لوگوں پر حسد کیا پس انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صفات کا انکار کردیا بعد ان کے اقرار کے محض حسد کرتے ہوئے عرب کے لوگوں سے جب کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو عربوں میں مبعوث فرمایا۔
Ayahs 3:87–90(1) البزار نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ یہ قوم اسلام لائی پھر مرتد ہوئی پھر اسلام لائی پھر مرتد ہوئی انہوں نے اپنی قوم کی طرف پیغام بھیجا تاکہ ان کے لیے (رسول اللہ ﷺ سے سوال کریں۔ رسول اللہ ﷺ سے اس بات کا ذکر کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ان الذین کفروا بعد ایمانہم ثم ازدادو کفرا “۔
(2) ابن جریر نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد یہود و نصاری ہیں موت کے وقت ہرگز ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔
(3) عبد بن حمید وابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے یہودی مراد ہے جنہوں نے انکار کیا انجیل کا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا پھر کفر میں اور زیادہ بڑھ گئے بوجہ محمد ﷺ اور قرآن کے انکار کرنے سے۔
(4) ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت یہود و نصاری کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا پھر اپنے گناہوں کی وجہ سے کفر میں بڑھتے چلے گئے پھر اپنے کفر میں رہتے ہوئے ان گناہوں سے توبہ کرنے لگے اگر یہ ہدایت پر ہوتے تو ان کی توبہ قبول کی جاتی لیکن وہ گمراہی پر تھے۔
(5) عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” لن تقبل توبتہم “ سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی لیکن اصل (یعنی کفر سے) توبہ نہیں کی۔
(6) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” لن تقبل توبتہم “ سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی لیکن اصل (یعنی کفر سے) توبہ نہیں کی۔
(7) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم ازدادو کفرا “ سے مراد ہے کہ وہ مرگئے اس حال میں کہ وہ کافر تھے (اور) ” لن تقبل توبتہم “ سے مراد ہے کہ جب وہ اپنی موت کے وقت توبہ کریں گے تو ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔
Ayah 3:91(1) ابن جریروابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان الذین کفروا وماتوا وہم کفار فلن یقبل من احدہم ملء الارض ذھبا “ سے مراد ہے کہ ہر کافر سے یعنی یہ مال بطور فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
(2) عبد بن حمید، بخاری، مسلم، نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم وابو شیخ وابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ایک کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا اگر تیرے پاس زمین بھر کر سونا ہوتا کیا تو اس کا فدیہ دیتا ؟ وہ کہے گا ہاں ! پھر اس سے کہا جائے گا کہ دنیاوی زندگی میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کیا گیا تھا جو اس سے زیادہ آسان تھی اسی لیے اللہ تعالیٰ کے فرمان کا یہی مطلب ہے لفظ آیت ” ان الذین کفروا وما توا وہم کفار “۔