Ayah 3:153(1) ابن جریر نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے لفظ آیت ” اذ تصعدون “ تا اور عین کی فتح کے ساتھ۔
(2) عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے لفظ آیت ” اذ تصعدون “ تا کے رفع اور عین کی کسرہ کے ساتھ۔
(3) ابن جریر نے ہارون (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابی بن کعب ؓ سے روایت میں یوں ہے لفظ آیت ” اذ تصعدون فی الوادی “۔
(4) ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اذ تصعدون “ سے مراد ہے کہ صحابہ ؓ غزوہ احد میں پہاڑوں میں بھاگے جا رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے سے یوں پکار رہے تھے اللہ کے بندو ! میری طرف لوٹ آؤ اللہ کے بندو ! میری طرف لوٹ آؤ۔
(5) ابن المنذر نے عطیہ عوفی (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب احد کا دن تھا تو لوگ (یعنی صحابہ ؓ شکست کھا گئے اور پہاڑ پر چڑھ گئے اور رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے سے ان کو آواز دے رہے تھے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” اذ تصعدون ولا تلون علی احدوا الرسول یدعوکم فی اخرکم “۔
(6) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ ان سے لفظ آیت ” اذ تصعدون “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا (صحابہ کرام) شکست کھا کر بھاگ گئے گھاٹیوں میں اور کسی کی طرف مڑ کر نہیں دیکھ رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے سے ان کو پکار رہے تھے میری طرف (آجاؤ) اللہ کے بندو ! میری طرف آجاؤ اللہ کے بندو ! اور کوئی بھی آپ کی طرف متوجہ نہ ہوتا تھا۔
صحابہ ؓ کا خوف زدہ ہو کر دوڑنا
(7) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اذ تصعدون “ سے مراد ہے کہ احد کا دن تھا یہ لوگ وادی میں اوپر (پہاڑ پر) چڑھ رہے تھے (جنگ سے) بھاگتے ہوئے اور نبی ﷺ ان کے پیچھے سے ان کو پکار رہے تھے میری طرف آجاؤ اللہ کے بندو میری طرف آجاؤ اللہ کے بندو۔
(8) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” اذ تصعدون ولا تلون علی احد والرسول یدعوکم فی اخرکم “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ (صحابہ کرام) لوٹ آئے اور کہنے لگے اللہ کی قسم ! ہم ضرور ان (دشمنوں) کے پاس آئیں گے پھر ضرور ان کو قتل کریں گے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ٹھہرو بلاشبہ تم کو یہ تکلیف پہنچی ہے اس وجہ سے تم نے میری نافرمانی کی اسی درمیان کہ یہ لوگ اسی حال میں تھے کہ اچانک ان کے پاس صحابہ کرام کی جماعت اس حال میں آئی کہ وہ غمگین تھے اور انہوں نے اپنی تلواریں سونتی ہوئی تھیں اسی کو فرمایا لفظ آیت ” فاثابکم غما بغم “ اور ان کو شکست کا غم تھا اور اسی غم میں یہ لوگ ان کے پاس آئے (پھر فرمایا) لفظ آیت ” لکیلا تحزنوا علی ما فاتکم “ چیز پر جو ان کو نہ مل سکی (یعنی) غنیمت کا مال (جو ان کو نہ مل سکا) اور لفظ آیت ” ولا ما اصابکم “ یعنی جو کچھ ابن کو تکلیف پہنچی (ساتھیوں کے) قتل ہونے اور زخمی ہونے سے۔
(9) ابن مردویہ نے عبد الرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فاثابکم غما بغم “ سے مراد ہے کہ پہلا غم شکست کے سبب سے اور دوسرا غم جب محمد ﷺ کے شہید ہوجانے کے بارے میں کہا گیا اور یہ واقعہ ان کے نزدیک شکست سے زیادہ برا تھا۔
(10) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” فاثابکم غما بغم “ کے بارے میں روایت کیا کہ پہلی دفعہ بھاگنے کے بعد وہ دوبارہ بھاگے انہوں نے یہ آواز سنی کہ محمد ﷺ شہید کر دئیے تو کفار لوٹ آئے اور ان کے پیچھے سے ان کو مارا یہاں تک کہ ان سے ستر آدمی شہید ہوگئے پھر صحابہ ؓ نبی ﷺ کی طرف سمٹ گئے اور انہوں نے پہاڑ پر چڑھنا شروع کیا اور رسول اللہ ﷺ ان کو پیچھے سے پکار رہے تھے۔
(11) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فاثابکم غما بغم “ سے مراد ہے کہ پہلا غم زخمی اور قتل ہونے کا اور دوسرا غم جب انہوں نے سنا کہ نبی ﷺ شہید کر دئیے گئے تو ان کو اس دوسرے غم نے اس تکلیف کو بھلا دیا جو ان کو (ساتھیوں کے) زخمی ہونے اور قتل ہونے سے پہنچی تھی اور وہ جو غنیمت کے مال کی امید رکھتے تھے اسی کو فرمایا لفظ آیت ” لکیلا تحزنوا علی ما فاتکم ولا ما اصابکم “۔
صحابہ کرام کی آزمائش
(12) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اسی کی مثل روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ اس دن چلے لوگوں کو بلا رہے تھے یہاں تک کہ چٹان والوں کے پاس پہنچ گئے (جو چٹان پر چڑھتے ہوئے تھے) جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو (ناسمجھی) میں ایک آدمی نے اپنی کمان میں تیر رکھا اور اس کو پھینکنے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں تو وہ لوگ خوش ہوگئے جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو زندہ پایا اور رسول اللہ ﷺ بھی خوش ہوگئے جب آپ نے دیکھا کہ آپ کی حفاظت کرنے والے صحابہ موجود ہیں تو آپ بھی بہت خوش ہوئے جب سب صحابہ جمع ہوگئے اور ان میں رسول اللہ ﷺ بھی موجود تھے تو ان سے غم چلا گیا تو وہ لوگ فتح کو اور اس چیز کو جو ان سے چلی گئی یاد کرنے لگے اور ان کے ساتھیوں کو یاد کرنے لگے جو شہید کر دئیے گئے تو (اس درمیان) ابوسفیان آگے بڑھا اور ان کے قریب پہنچ گیا جب ان لوگوں نے اس کو دیکھا تو اس پر یشانی کو بھول گئے جس میں مبتلا تھے اور ابو سفیان نے ان پر (حملہ کرنے کا) ارادہ کیا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان کو (یعنی کافروں کو) یہ لائق نہیں کہ وہ ہم پر چڑھ آئیں اے اللہ ! اگر یہ جماعت قتل ہوگئی تیری عبادت نہیں ہوگی (زمین پر) پھر آپ نے صحابہ کو بلایا اور انہوں نے اس پر پتھر پھینکے یہاں تک کہ وہ نیچے اتر گئے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا قول ہے لفظ آیت ” فاثابکم غما بغم “ یعنی پہلا غم اس چیز کا جو غنیمت کا مال ان کو نہ مل سکا اور نہ فتح حاصل ہوئی اور دوسرا غم ان پر دشمن کا اوپر چڑھ آنا پھر فرمایا لفظ آیت ” لکیلا تحزنوا علی ما فاتکم “ (تاکہ نہ غم کرو تم اس چیز کا جو تم کو نہ مل سکی) غنیمت میں سے ” ولا ما اصابکم “ اور جو کچھ تمہیں تکلیف پہنچی قتل ہونے سے جبکہ ان باتوں کو تم یاد کر رہے تھے اور ابو سفیان نے تم کو اس چیز سے غافل کردیا۔
(13) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لوگوں کو رنج اور غم پہنچا اپنے ساتھیوں پر جو شہید کر دئیے گئے جب وہ لوگ داخل ہوگئے گھاٹی میں اور ابو سفیان اور اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے گھاٹی کے دروازے پر تو ایمان والوں نے گمان کیا کہ بلاشبہ وہ عنقریب ان پر حملہ آور ہو کر ان کو بھی قتل کردیں گے پس اس وجہ سے صحابہ کو اور غم پہنچا کہ جس نے ان کو اپنے ساتھیوں (کے شہید ہوجانے) کے غم کو بھلا دیا اور اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” فاثابکم غما بغم “ کا یہی مطلب ہے۔
Ayah 3:154(1) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ مشرکین احد کے دن چلے گئے اس واقعہ کے (ختم ہونے کے) بعد جو ان مشرکوں کو اور مسلمانوں کو پیش آیا تو انہوں نے نبی ﷺ سے آئندہ سال بدر کے مقام پر جنگ کرنے کا وعدہ کیا آپ نے ان سے فرمایا ہاں (وعدہ ہوگیا) لیکن مسلمان اس بات سے ڈر رہے تھے کہ وہ لوگ (یعنی مشرکین) پلٹ کر پھر مدینہ میں نہ آجائیں تو رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا (اس سے) اگر تم دیکھو کہ وہ اپنے اونٹوں پر پھر بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے گھوڑوں سے الگ ہیں تو بلاشبہ یہ قوم جانے والی ہے اور اگر تم ان کو دیکھو کہ وہ اپنے گھوڑوں پر سوار ہیں اور اپنے اونٹوں سے الگ ہیں تو سمجھ لو کہ قوم مشرکین مدینہ پر حملہ کا ارادہ رکھتے ہیں سو ڈرو تم اللہ سے اور صبر کرو اور سب (صحابہ) کو قتال پر آمادہ کیا جب رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ وہ اپنے اونٹوں پر بیٹھے ہوئے ہیں اور جلدی میں آپ نے اونچی آواز سے ان کے جانے کی خبر دی جب ایمان والوں نے اس بات کو سنا تو انہوں نے اللہ کے نبی ﷺ کی تصدیق کی اور سو گئے اور منافق لوگ باقی رہ گئے کیونکہ انہوں نے یہ گمان کیا تھا کہ مشرک قوم ان کے پاس آنے والی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر فرمایا جب ان کو نبی ﷺ نے خبر دی لفظ آیت ” ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ نعاسا یغشی طائفۃ منکم وطائفۃ قد اھمتہم انفسہم “۔
(2) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس دن امن عطا فرمایا اونگھ کے ساتھ جس نے ان کو ڈھانک لیا اور بلاشبہ اونگھ اس کو آتی ہے جو امن والا ہوتا ہے۔
(3) ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم طبرانی اور بیہقی نے دلائل میں مسعود بن مخرمہ (رح) سے روایت کیا ہے میں نے عبد الرحمن بن عوف ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ نعاسا “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم پر احد کے دن نیند کو ڈال دیا گیا۔
(4) ابن ابی شیبہ عبد بن حمید بخاری و ترمذی و نسائی وابن جریرابن المنذر وابن ابی حاتم نے وابن حبان و طبرانی وابو شیخ وابن مردویہ ابو نعیم و بیہقی نے دلائل میں انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابو طلحہ ؓ نے فرمایا کہ احد کے دن نیند نے ہم کو ڈھانک لیا اور ہم صف باندھنے کی جگہ میں تھے اور انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جن کو اس دن اونگھ نے لپیٹ لیا انہوں نے فرمایا کہ میری تلوار میرے ہاتھ سے گر رہی تھی اور میں اس کو پکڑ رہا تھا اور وہ گر جاتی تھی اور میں اس کو پھر اٹھا لیتا تھا اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا لفظ آیت ” ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ نعاسا یغشی طائفۃ منکم “ اور دوسری جماعت وہ منافقوں کی تھی جن کو اپنی فکر پڑی ہوئی تھی ایک قوم (یعنی مشرکوں) نے وہ بزدل اور مرعوب ہوگئے تھے ان پر اللہ تعالیٰ نے رعب طاری کردیا تھا اور حق سے ان کو دور کردیا تھا اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہ ایسا گمان کر رہے تھے جو حق نہیں تھا اور جو جاہلیت والا گمان تھا اللہ تعالیٰ نے ان کی بات جھٹلایا یہی لوگ شک وشبہ میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ کے بارے میں۔
احد کے دن سکینہ نازل ہونا
(5) ابن سعد ابن ابی شیبہ نے عب بن حمید ترمذی اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور ابن مردویہ وابن جریر و طبرانی وابو نعیم و بیہقی نے اپنے دلائل میں زبیر بن عوام ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے احد کا دن اپنا سر اٹھایا اور میں نے دیکھنا شروع کیا تو ان میں سے ہر ایک جھک رہا تھا اپنی ڈھال کے نیچے اونگھ سے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ نعاسا “ اور یہ آیت بھی تلاوت فرمائی لفظ آیت ” ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ نعاسا “۔
(6) زبیر بن عوام ؓ سے روایت کیا ہے کہ احد کے دن میں نے اپنے سر کو اٹھایا اور میں نے دیکھنا شروع کیا تو ہر ایک ان میں سے جھک رہا تھا اپنی ڈھال کے نیچے اونگھ کی وجہ سے اور یہ آیت تلاوت فرمائی لفظ آیت ” ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ نعاسا “
(7) زبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے دیکھا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جب ہم پر خوف زیادہ ہوا تو ہم پر اللہ تعالیٰ نے نیند کو بھیج دیا ہم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں تھا کہ اس کی ٹھوڑی اس کے سینے میں نہ (لگ رہی) ہو (نیند کی وجہ سے) اللہ کی قسم ! بلاشبہ میں معتب بن قشیر کی بات سن رہا تھا اور میں نے اس کو نہیں سنا مگر خواب کی طرح لفظ آیت ” لو کان لنا من الامر شیء ما قتلنا ہہنا “ تو میں نے اس سے اس کو یاد کرلیا اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ نعاسا “ سے لے کر لفظ آیت ” ما قتلنا ہہنا “ تک معتب بن قشیر کے قول کو۔
(8) ابراہیم (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے آل عمران میں اس کو یوں پڑھا لفظ آیت ” امنۃ نعاسا تغشی “ تا کے ساتھ۔
(9) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” النعاس “ سے مراد ہے کہ قتال کے وقت اونگھ امن ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور نماز میں اونگھ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔
(10) ابن جریر اور ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ منافقین نے عبد اللہ بن ابی کو کہا جو منافقین کا سردار تھا اپنے لوگوں کو آج کے دن بنو خزرج والے مارے گئے اس نے کہا کیا ہمارے بھی اس معاملہ میں کوئی اختیار ہے ؟ تو (منافقین نے کہا) اللہ کی قسم ! لفظ آیت ” قل لو کنتم فی بیوتکم لبرز الذین کتب علیہم القتل الی مضاجعہم “۔
(11) ابن جریر نے قتادہ اور ربیع (رح) دونوں سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ظن الجاہلیۃ “ سے مراد ہے کہ انہوں نے اہل مشرک والوں کا گمان رکھا۔
(12) ابن اسحاق وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ معتب نے کہا وہ جو اس نے احد کے دن کہا تھا لفظ آیت ” لو کان من الامر شیء ما قتلنا ہہنا “ یعنی اگر ہمارے لیے کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ ہوتے تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے قول میں سے یہ (آیت) اتاری لفظ آیت ” وطائفۃ قد اہمتہم انفسہم یظنون باللہ “ قصہ کے آخر تک۔
(13) ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے لفظ آیت ” یخفون فی انفسہم ما لا یبدون لک “ تک کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ان باتوں میں سے جن سے وہ اپنے دلوں میں ڈرتے تھے انہوں نے یہ کہا لفظ آیت ” لو کان لنا من الامر شیء ما قتلنا ہہنا “ یعنی اگر ہمارے اختیار میں کچھ ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ ہوتے۔
(14) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام میں سے شہید کیے گئے تو وہ لوگ عبد اللہ بن ابی کے پاس آئے اور انہوں نے اس سے کہا تیرا کیا خیال ہے (اس بارے میں) تو اس نے کہا اللہ کی قسم ! ہم سے کوئی پوچھتا ہی نہیں لفظ آیت ” لو کان لنا من الامر شیء ما قتلنا ہہنا “۔
(15) ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” قل لو کنتم فی بیوتکم لبرز الذین کتب علیہم القتل الی مضاجعہم “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں پر فرض کیا ہے کہ وہ اللہ کے راستہ میں قتال کریں اور ہر وہ شخص جو قتال کرتا ہے وہ قتل نہیں ہوتا لیکن وہ شخص قتل ہوتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے قتل ہونا لکھ دیا ہو۔
Ayah 3:155(1) ابن جریر نے کلیب (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے جمعہ کے دن خطبہ دیا اور آل عمران کی تلاوت کی خطبہ کے وقت اس سورة کی تلاوت آپ کو اچھی لگتی تھی جب آپ اس آیت (یعنی) لفظ آیت ” ان الذین تولو منکم یوم التقی الجمعن “ تک پہنچے تو فرمایا جب احد کا دن تھا تو ہم بھاگ گئے اور میں بھاگا یہاں تک کہ پہاڑ پر چڑھ گیا اور البتہ تحقیق میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں کود رہا ہوں گویا میں پہاڑی بکرا ہوں اور لوگ کہہ رہے تھے محمد ﷺ شہید کر دئیے گئے میں نے کہا میں نے کسی کو اگر پاؤں گا یہ کہتے ہوئے کہ محمد ﷺ شہید کر دئیے گئے تو میں اس کو قتل کر دوں گا یہاں تک کہ ہم پہاڑ پر جمع ہوئے۔ تو یہ (آیت) ” ان الذین تولوا منکم یوم التقی الجمعن “ نازل ہوئی۔
(2) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے عبد الرحمن بن عوف سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان الذین تولوا منکم یوم التقی الجمعن “ سے وہ تین آدمی مراد ہیں ایک مہاجرین میں اور دو انصار میں سے۔
(3) ابن مندہ معرفۃ الصحابہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ان الذین تولوا منکم یوم التقی الجمعن “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت عثمان رافع بن المعلی اور حارثہ بن زید کے بارے میں نازل ہوئی۔
(4) ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے لفظ آیت ” ان الذین تولوا منکم یوم التقی الجمعن “ کے بارے میں روایت کیا یہ آیت رافع بن المعلی اور دوسرے انصار ابو حذیفہ بن عتبہ اور دوسرے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی۔
(5) عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ” ان الذین تولوا منکم یوم التقی الجمعن “ عثمان ولید بن عقبہ خارجہ بن زید اور زمامہ بن معلی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔
(6) عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے وہ لوگ جو اس دن پیٹھ پھیر کر بھاگے تھے وہ عثمان بن عفان سعد بن عثمان عقبہ بن عثمان اور دو بھائی انصاری تھے بنو زریق میں سے۔
رسول اللہ ﷺ کی آواز پر واپس لوٹنا
(7) ابن جریر وابن المنذر نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان الذین تولوا منکم یوم التقی الجمعن “ سے فلاں سعد بن عثمان عقبہ بن عثمان یہ دونوں انصاری اور بنو زریق میں سے تھے اور لوگ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ گئے تھے یہاں تک کہ ان کا بعض (مقام) منقی تک جا پہنچا اعوض، اور عقبہ بن عثمان اور سعد بن عثمان بھاگ گئے یہاں تک جلعب تک پہنچ گئے جو ایک پہاڑ سے مدینہ کے اطراف میں جو اغوص سے ملتا ہے یہ لوگ وہاں تین دن ٹھہرے پھر رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹ آئے اور انہوں نے گمان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا البتہ تحقیق تم چلے گئے تھے ایسی جگہ میں جہاں ایک کھلی جگہ تھی۔
(8) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ آیت ” ان الذین تولوا منکم یوم التقی الجمعن “ کے بارے میں کہ یہ احد کا دن تھا جو نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے جنگ سے اور حضور ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ گئے اس دن یہ سب کچھ شیطان کے کام اور اس کے ڈرانے کی وجہ سے تھا پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری جس کو تم سنتے ہو کہ اللہ نے ان صحابہ سے ایسی بات کو در گزر فرما دیا اور ان کو معاف فرمادیا۔
(9) احمد وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان الذین تولوا منکم “ یعنی تم لڑائی سے بھاگ گئے شکست کھا کر ” یوم التقی الجمعن “ یعنی احد کے دن جب دونوں جماعتیں ملیں مسلمان اور مشرک جمع ہوئے اور مسلمان نبی ﷺ کو چھوڑ گئے صرف اٹھارہ آدمی باقی رہے لفظ آیت ” انما استزلہم الشیطن ببعض ما کسبوا “ یعنی جب انہوں نے مرکز کو چھوڑ دیا اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کی نافرمانی کی جب آپ نے تیر اندازوں کو فرمایا تھا کہ تم اپنی جگہ سے نہ ہٹنا لیکن بعض تیر اندازوں نے اسی جگہ کو چھوڑ دیا لفظ آیت ” ولقد عفا اللہ عنہم “ یعنی جب ان کو سزا نہیں دی اور سب کو نیست ونابود نہ کیا (لیکن) ” ان اللہ غفور حلیم “ یعنی بدر کی لڑائی کے بعد احد کے دن جو بھاگ گئے ان کے لیے آگ (عذاب) کو مقرر نہیں فرمایا جیسے بدر کے دن (بھاگ جانے والوں) کے لیے مقرر فرمایا تو یہ رخصت ہے سختی کے بعد۔
(10) ابن ابی حاتم نے شفیق سے روایت کی ہے کہ عبد الرحمن بن عوف ؓ سے ملے۔ ولید نے اس سے کہا کیا ہوا تجھ کو میں دیکھتا ہوں تجھ کو کہ تو نے امیر المومنین حضرت عثمان ؓ پر زیادتی کرتے ہو، عبد الرحمن ؓ نے اس سے کہا کہ ان کو خبر دو کہ میں عینین کے دن نہیں بھاگا۔ یعنی احد کے دن اور میں بدر کے دن غائب نہیں تھا اور میں نے حضرت عمر ؓ کے طریقہ کو نہیں چھوڑا۔ (یہ سن کر) وہ چلے تاکہ اس بات کی خبر حضرت عثمان ؓ کو دے دیں۔ تو انہوں نے فرمایا ان کا یہ کہنا کہ میں عینین کے دن نہیں بھاگا پھر کس طرح مجھے اس بات کی عار دلاتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو معاف فرما دیا ہے اور فرمایا ہے لفظ آیت ” ان الذین تولوا منکم یوم التقی الجمعن انما استزلہم الشیطن ببعض ما کسبوا ولقد عفا اللہ عنہم “ اور ان کا یہ کہنا کہ میں بدر کے دن غائب نہیں تھا تو حضرت رقیہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی بیمار کی تیمار داری کرتا تھا یہاں تک کہ وفات پاگئی (تو میں ان کی تیمار داری کی وجہ حاضر نہ ہوسکا) رسول اللہ ﷺ نے میرے لئے حصہ (مال غنیمت میں سے) اور جس شخص کے لئے رسول اللہ ﷺ نے حصہ مقرر فرمایا ہو تو (گویا) وہ (لڑائی میں) حاضر رہا اور ان کا یہ کہنا کہ میں نے حضرت عمر ؓ کے طریقہ کو نہیں چھوڑا تو نہ میں اس کی طاقت رکھتا تھا اور نہ وہ۔ پس وہ ان کے پاس آئے اور یہ باتیں بتائیں۔
(11) ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب میں رجاء بن ابو سلمہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ حلم زیادہ اونچا ہے عقل سے اس لئے کہ اللہ عزوجل نے اپنا نام حلیم رکھا ہے۔
Ayah 3:156(1) الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” وقالوا لاخوانہم اذا ضربوا فی الارض “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ قول عبد اللہ بن ابی سلول اور منافقوں کا ہے۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا تکونوا کالذین کفروا وقالوا لاخوانہم “ سے عبد اللہ بن ابی کے منافق ساتھ مراد ہیں (اور) ” اذا ضربوا فی الارض “ سے تجارت مراد ہے (کہ یہ لوگ جب تجارت کے لیے سفر کرتے ہیں) ۔
(3) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لو کانوا عندنا ما توا وما قتلوا “ یہ کافروں کا قول ہے جب کوئی آدمی (لڑائی میں) شہید ہوجاتا تو کہتے اگر ہمارے پاس ہوتا تو نہ مرتا پس تم ایسا نہ کہو جیسے کفار نے کہا۔
(4) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” لیجعل اللہ ذلک حسرۃ فی قلوبہم “ سے مراد ہے ان کی بات ان کو غم میں ڈالے گی اور کچھ بھی ان کو نفع نہ دے گی۔
(5) ابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لیجعل اللہ ذلک حسرۃ فی قلوبہم “ سے مراد ہے ان کو اپنے رب پر یقین میں کمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ان کے دلوں میں حسرت بنا دیا ” واللہ یحییٰ ویمیت “ یعنی جس کے لیے (اللہ تعالیٰ ) چاہتے ہیں جلدی فرماتے ہیں (اس کی موت میں) اور جس کے لیے چاہتے ہیں تاخیر فرماتے ہیں (اس کی موت میں) ان کے مقررہ وقت سے اپنی قدرت سے۔ لفظ آیت ” ولئن قتلتم فی سبیل اللہ “ یعنی موت کا آنا ضرور ہے سو موت اللہ کے راستے میں یا قتل ہونا (اس کے راستے میں) ” خیر “ خیر ہے۔ اگر وہ اس بات کو جان لیں اور تقویٰ اختیار کریں۔ لفظ آیت ” مما یجمعون “ یعنی (بہتر ہے ان چیزوں سے جن کو تم جمع کرتے ہو) دنیا (کے مال) سے جس سے وہ جہاد سے پیچھے رہ جاتے ہیں موت کے خوف سے۔ اور قتل ہونے کے خوف سے، جبکہ جمع کرلیا انہوں نے (اور پھر ڈرتے ہیں دنیا (کے مال میں) کمی سے اور آخرت کی بےرغبتی سے اور فرمایا لفظ آیت ” ولئن متم او قتلتم لا الی اللہ تحشرون “ یعنی یہ ہونے والا ہے جب اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے سو تم کو دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے اور تم اس کی وجہ سے دھوکہ میں نہ پڑجاؤ۔ اور چاہیے کہ ہوجائے جہاد اور تمہاری رغبت اللہ تعالیٰ کی (طرف) زیادہ ترجیح والا بنسبت دنیا کی رغبت کے۔
(6) عبد بن حمید نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا لفظ آیت ” متم “ اور ” واذا متنا “ ہر چیز قرآن میں میم کے کسرہ کے ساتھ ہے۔
Ayahs 3:157–159رسول اللہ ﷺ کی شفقت ومہربانی
(1) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فبما رحمۃ من اللہ “ سے مراد ہے کہ اس رحمت کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے لفظ آیت ” ولو کنت فظا غلیظ القلب لانفضوا من حولک “ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو پاک فرمایا ترش روئی سے اور سختی سے اور آپ کو رؤف رحیم بنا دیا ایمان والوں کے لیے اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ محمد ﷺ کی تعریف تورات شریف میں بھی یوں تھی کہ نہ تو آپ برے اخلاق والے ہوں گے اور نہ آپ سخت دل والے ہوں گے اور نہ آپ بازاروں میں چلانے والے ہوں گے اور نہ آپ برائی کا بدلہ برائی سے دیں گے بلکہ معاف کردیں گے اور در گذر کا معاملہ فرمائیں گے۔
(2) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ محمد ﷺ کے اخلاق ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے تعریف فرمائی۔
(3) ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” لانفضوا من حولک “ سے مراد ہے کہ (لوگ) آپ سے دور ہٹ جائیں گے۔
(4) الحکیم الترمذی اور ابن عدی نے ایسی سند کے ساتھ جس میں متروک راوی ہے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے لوگوں کے ساتھ نرمی اور اخلاق سے پیش آنے کا حکم فرمایا جیسے کہ مجھے فرائض کی ادائیگی کا حکم فرمایا۔
(5) سعید بن منصور وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے اپنی سنن میں حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وش اور ہم فی الامر “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ آپ کو صحابہ کرام ؓ سے مشورہ کرنے کی کوئی حاجت نہیں لیکن ارادہ کیا (اللہ تعالیٰ ) نے کہ یہ طریقہ ان کے بعد جاری ہوجائے۔
مشورہ سے امور طے کرنا
(6) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وش اور ہم فی الامر “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم فرمایا کہ وہ (سب) کاموں میں اپنے اصحاب کرام ؓ سے مشورہ لیا کریں حالانکہ ان کے پاس آسمان سے وحی آتی ہے اس لیے یہ بات قوم کے لوگوں کو خوش کرنے والی ہے اور بلاشبہ قوم میں جب ان کا بعض آدمی بعض سے مشورہ کرے گا اور اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا ارادہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت پر جمادے گا۔
(7) ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مشورہ کا حکم نہیں فرمایا مگر جب اس بات کو جان لیا گیا کہ اس (مشورہ کرنے) میں فضیلت ہے اور برکت ہے سفیان ؓ نے فرمایا مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ مشورہ کرنا آدھی عقل ہے اور حضرت عمر بن خطاب ؓ مشورہ فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ عورتوں سے بھی مشورہ کرتے تھے۔
(8) ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ کوئی قوم مشورہ نہیں کرتی مگر یہ کہ ان کو بہترین کام کی طرف راہنمائی کی جاتی ہے۔
(9) ابن عدی اور بیہقی نے شعب میں حسن سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت ” وش اور ہم فی الامر “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ اور اس کا رسول دونوں اس سے بےپرواہ ہیں اس (مشورہ لینے) سے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو میری امت کے لیے رحمت بنا دیا پس جو شخص مشورہ کرتا ہے تو اس نے ہدایت کو گم نہیں کیا (یعنی اس نے ہدایت کو پالیا) اور جس شخص نے اس کو چھوڑ دیا تو اس نے گمراہی کو گم نہیں کیا (یعنی گمراہی کو پالیا) ۔
(10) طبرانی نے الاوسط میں انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص ناکام نہیں ہوا جس نے استخارہ کیا اور وہ شخص نادم نہیں ہوا جس نے مشورہ کیا۔
(11) حاکم نے صحیح کہا اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وش اور ہم فی الامر “ سے ابوبکر عمر ؓ مراد ہیں (کہ ان سے مشورہ لیا جائے) ۔
(12) کلبی کے طریق سے ابو صالح سے روایت کیا ہے کہ اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ابوبکر وعمر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی (کہ ان سے مشورہ لیا جائے)
(13) احمد نے عبد الرحمن بن غنم ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر اور عمر ؓ سے فرمایا اگر تم دونوں مشورہ (دینے) میں جمع ہوجاؤ تو میں دونوں کی مخالفت نہیں کروں گا۔
(14) ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو اپنے اصحاب سے مشورہ لینے والا نہیں دیکھا۔
(15) طبرانی نے جید سند کے ساتھ ابن عمر وؓ سے روایت کیا ہے کہ ابوبکر صدیق ؓ نے عمرو ؓ کو لکھا کہ رسول اللہ ﷺ جنگ میں مشورہ لیا کرتے تھے اس لیے تم پر بھی لازم ہے (کہ اپنے ساتھیوں سے مشورہ لو) ۔
(16) حاکم نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں کسی ایک کو بغیر مشورہ کے خلیفہ بناتا تو ابن ام عبد کو خلیفہ بناتا۔
(17) سعید بن منصور و بخاری نے ادب میں وابن المنذر نے حسن سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وش اور ہم فی البعض الامر “۔
(18) ابن جریر اور ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فاذا عزمت فتوکل علی اللہ “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم فرمایا کہ جب آپ کسی کام کے کرنے کا ارادہ فرمائیں تو اللہ کے حکم پر پکے ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں۔
(19) ابن ابی حاتم نے جابر بن زید اور ابی نھیک (رح) سے روایت کیا ہے دونوں نے یوں پڑھا لفظ آیت ” فاذا عزمت یا محمد علی امر فتوکل علی اللہ “۔
(20) ابن مردویہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا عزم کے بارے میں تو آپ نے فرمایا اس سے مراد اہل الرائے سے مشورہ لینا پھر ان کی اتباع کرنا۔
رسول اللہ ﷺ نے صحابی کا مشورہ قبول فرمایا
(21) الحاکم نے حباب بن منذر ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو غزوہ بدر کے موقعہ پر دو کاموں کا مشورہ دیا تو آپ نے مجھ سے دونوں کاموں کے مشورے کو قبول فرمایا میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلا تو آپ نے پانی کے پیچھے صف بندی کی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا وحی (کے حکم) سے کیا یا اپنی رائے سے ؟ آپ نے فرمایا اے حباب ! اپنی رائے سے کیا میں نے عرض کیا میری رائے یہ ہے کہ آپ پانی کو اپنے پیچھے کرلیں اگر آپ پناہ لینا چاہیں گے تو اس کی طرف پناہ لیں گے تو آپ نے اس رائے کو میری طرف سے قبول فرمایا راوی نے کہا جبرئیل (علیہ السلام) آپ ﷺ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا (دو کاموں میں سے کون سا کام آپ کو محبوب ہے آپ دنیا میں رہنا چاہتے ہیں اپنے اصحاب کے ساتھ یا اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ جانا چاہتے ہیں ان جنات میں کہ جن کا اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے وعدہ فرمایا تو آپ ﷺ نے اپنے اصحاب سے مشورہ فرمایا تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ہمارے ساتھ رہیں یہ ہم کو زیادہ محبوب ہے اور ہم کو ہمارے دشمن کی چھپی ہوئی باتوں کی خبر دیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہم کو ہمارے دشمن پر مدد فرمائے اور آسمان کی خبریں ہم کو بتا تے رہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے حباب ! تجھے کیا ہوا تو کوئی بات نہیں کرتا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اسی کام کو اختیار کیجئے جس طرح آپ کے رب نے آپ کے لیے اختیار کیا ہے اس بات کو آپ نے میری طرف سے قبول فرمایا ذھبی نے فرمایا یہ حدیث منکر ہے۔
(22) ابن سعد نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ ایک منزل پر نازل ہوئے حباب نے عرض کیا یہ جگہ مناسب نہیں ہے بلکہ ہم کو آپ ایسے چشمہ پر لے چلیں جو قوم کے زیادہ قریب ہو پھر ہم اس پر ایک حوض بنائیں گے اور اس میں ہم اپنے برتن پھینک کر پانی پئیں گے اور ہم دشمن سے لڑیں گے اور صرف درمیانی کنویں کے سوا سب کنویں بند کردیں گے جبرئیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا میری رائے وہی ہے جو حباب بن منذر نے مشورہ دیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے حباب ! تو نے بہترین مشورہ دیا ہے (مشورہ کے بعد) رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے اور اسی کے مطابق (عمل) کیا۔
(23) ابن سعد نے ابن سعد بن یحییٰ بن سعید ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے بدر کے دن لوگوں سے مشورہ فرمایا تو حباب بن منذر ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا ہم لڑنے والے ہیں میری رائے یہ ہے کہ آپ صرف ایک چشمہ پر اتریں اور سب چشموں کو بند کردیں گے اور ہم اس (پانی) پر ان (دشمنوں) سے ملیں گے راوی نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے قریظہ اور نضیر کے ساتھ جنگ کے موقعہ پر مشورہ طلب کیا تھا تو حباب بن منذر ؓ کھڑے ہو کر کہنے لگے میری رائے یہ ہے کہ ہم محلات کے درمیان اتریں گے اور اس طرح ہم ان کی خبر ایک دوسرے تک پہنچے سے روک دیں گے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی یہ بات مان لی (یعنی ان کے مشورہ کو قبول فرما لیا) ۔
Ayah 3:160(1) ابو داؤد وعبد حمید اور ترمذی نے اس کو حسن کہا وابن جریر ابن ابی حاتم نے مقسم کے طریق سے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا ہے کہ اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد فرمائے تو لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا ہرگز تم کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا وہ شخص جو تیری مدد چھوڑ دے گا اور اگر اللہ تعالیٰ تیری مدد چھوڑ دے تو ہرگز تم کو لوگ فائدہ نہیں پہنچا سکتے (اور فرمایا) لفظ آیت ” فمن ذا الذی ینصرکم من بعدہ “ یعنی تو میرے حکم کو نہ چھوڑ لوگوں کے لیے اور چھوڑ دے لوگوں کو میرے حکم (کو پورا کرنے کے) کے لیے (اور فرمایا) ” وعلی اللہ “ اور مومنوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں نہ کہ لوگوں پر کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” فلیتقوکل المؤمنون “ (یعنی ایمان والے لوگوں کو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے) ۔
Ayah 3:161(1) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ” وما کان لنبی ان یغل “ ایک سرخ کپڑے کے ٹکڑے کے بارے میں نازل ہوئی جو بدر کے دن گم ہوگیا تھا بعض لوگوں نے کہا شاید رسول اللہ ﷺ نے اس کو لے لیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” وما کان لنبی ان یغل “۔
(2) اعمش (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابن مسعود ؓ یوں پڑھا کرتے تھے لفظ آیت ” ما کان لنبی ان یغل “ ابن عباس ؓ نے فرمایا کیوں نہیں یہ آیت ایک ٹکڑے کے بارے میں نازل ہوئی لوگوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے اس کو بدر کے دن اپنے لیے رکھ لیا تھا تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ اتارا لفظ آیت ” وما کان لنبی ان یغل “۔
(3) عبد بن حمید وابن جریر نے جید کے سند کے ساتھ سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ” وما کان لنبی ان یغل “ ایک سرخ ٹکڑے کے بارے میں نازل ہوئی جو بدر کے دن غنیمت کے مال میں سے تھا۔
(4) البزار وابن ابی حاتم و طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے ایک لشکر کو بھیجا مگر وہ یعنی ان کا جھنڈا ناکام واپس آیا پھر آپ نے بھیجا تو پھر وہ واپس آگیا اس وجہ سے کہ ان کو انہوں نے ہرن کے سر کے برابر سونے کی خیانت کی تھی (جو مال غنیمت سے ملا تھا) تو یہ آیت نازل ہوئی ” وما کان لنبی ان یغل “
(5) عبد بن حمید وابن المنذر والطبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وما کان لنبی ان یغل “ یہ مراد ہے کہ (کسی) نبی کے یہ لائق نہیں کہ اس کے اصحاب اس کو تہمت لگائیں (کسی خیانت کا) ۔
مال غنیمت میں خیانت کرنا حرام ہے
(6) عبد بن حمید وابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ بدر کے دن ایک کپڑے کا سرخ ٹکڑا گم ہوگیا جو مشرکین کے (مال غنیمت میں سے لیا گیا تھا) تو بعض لوگوں نے کہا شاید نبی ﷺ نے اس کو لے لیا ہو تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” وما کان لنبی ان یغل “ خصیف نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر (رح) سے عرض کیا ” ما کان لنبی ان یغل “ اس آیت کا یہ معنی ہے کہ نبی کی یہ شان نہیں کہ ان کے ساتھ خیانت کی جائے تو انہوں نے فرمایا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کی شان نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے کیونکہ اللہ کی قسم اللہ کے نبی کے ساتھ خیانت بھی کی جاتی رہی اور انہیں قتل بھی کیا جاتا رہا۔
(7) حاکم نے اس کو صحیح کہا اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وما کان لنبی ان یغل “ یا کے نصب اور غین کے رفع کے ساتھ۔
(8) ابن منیع نے اپنی مسند میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھا لفظ آیت ” وما کان لنبی ان یغل “ یا کے فتح کے ساتھ۔
(9) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو عبدالرحمن سے روایت کیا ہے کہ میں نے ابن عباس ؓ سے عرض کیا کہ ابن مسعود نے یوں پڑھا لفظ آیت ” وما کان لنبی ان یغل “ غین کے فتحہ کے ساتھ (یعنی مجہول کا صیغہ) تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ آپ ﷺ کے ساتھ خیانت بھی ہوسکتی ہے اور آپ ﷺ کو قتل بھی کیا جاسکتا ہے تو یہاں لفظ ” یغل “ غین کے صیغہ کے ساتھ (یعنی معلوم کا صیغہ ہے) مطلب یہ کہ نبی کی شان کے لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی خائن بنا کر نہیں بھیجا۔
(10) ابن ابی شیبہ وابن ابن جریر نے سلمہ بن نبی ط کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وما کان لنبی ان یغل “ سے مراد ہے (کہ نبی کی شان کے یہ لائق نہیں) کہ مسلمانوں کی ایک جماعت میں مال غنیمت تقسیم کرے اور ایک جماعت کو چھوڑے اور تقسیم کرنے میں ظلم کرے لیکن (نبی) تقسیم فرماتے ہیں انصاف کے ساتھ اور اس میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مال لیتے ہیں اور فیصلہ فرماتے ہیں اس حکم کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے اتارا (پھر فرمایا) اللہ تعالیٰ نے ایسا نبی کوئی نہیں بنایا جو اپنے اصحاب سے خیانت کرے اگر نبی ایسا کرے تو اس کے ساتھ اس طریقہ کو اپنا لیں گے سنت کے طور پر۔
(11) ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے ایک چھوٹے سے لشکر کو روانہ فرمایا پھر (کہیں سے) رسول اللہ ﷺ کے پاس غنیمت کا مال آگیا تو آپ نے لوگوں کے درمیان تقسی فرما دیا اور اس لشکر والوں کو کچھ نہ دیا جب یہ لشکر والے آئے تو انہوں نے عرض کیا فلاں کے مال کو آپ نے تقسیم فرما دیا لیکن ہمارے لیے تقسیم نہیں فرمایا (یعنی ہم کو عطا نہیں فرمایا) تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” وما کان لنبی ان یغل “ یعنی نبی کی شان کے یہ لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے۔
(12) عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وما کان لنبی ان یغل “ سے مراد ہے آپ کی یہ شان نہیں کہ ایک جماعت میں تقسیم فرمائیں اور دوسری جماعت میں تقسیم نہ فرمائیں اور دوسری جماعت میں تقسیم نہ فرمائیں۔
(13) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وما کان لنبی ان یغل “ سے مراد ہے کہ نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ خیانت کرے۔
(14) سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے حضرت حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وما کان لنبی ان یغل “ غین کے نصب کے ساتھ (بصیغہ مجہول) یعنی یہ نبی کی شان کے خلاف ہے کہ اس کے ساتھ خیانت کی جائے۔
(15) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ اور ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وما کان لنبی ان یغل “ سے مراد ہے کہ نبی ﷺ کی شان کے یہ لائق نہیں کہ اس کے ساتھ (صحابہ) اس سے خیانت کریں اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ آیت نبی ﷺ پر بدر کے دن نازل ہوئی جبکہ صحابہ کرام ؓ کی مختلف جماعتوں نے خیانت کر رکھی تھی۔
(16) الطبرانی والخطیب نے اپنی تاریخ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابن عباس ؓ ناپسند فرماتے تھے جو شخص ان پر یہ آیت اس قرات سے لفظ آیت ” وما کان لنبی ان یغل “ پڑھتا تھا اور فرماتے تھے یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ کے ساتھ خیانت کی جبکہ آپ کو قتل کیا جاسکتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” وقتلہم الانبیاء بغیر حق “ (یعنی انہوں نے نبیوں کو ناحق قتل کیا) لیکن منافق نے غنیمت کے (کے مال) میں سے کسی بھی چیز کے بارے میں نبی کریم ﷺ پر تہمت لگائی تھی تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) اتاری ” وما کان لنبی ان یغل “۔
(17) عبد الرزاق نے مصنف میں ابن ابی شیبہ اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی حنین کے دن وفات پا گیا تو لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے (یہ واقعہ) ذکر کیا تو آپ نے فرمایا تم اس پر نماز پڑھ لوتو لوگوں کے چہرے اس بات سے تبدیل ہوگئے پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارے ساتھ نے اللہ کے راستے میں خیانت کی ہے تو ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہم نے یہودیوں کے قیمتی پتھروں میں سے ایک پتھر کو پایا جو دو درہم کے برابر بھی نہیں تھا۔
(18) حاکم نے اس کو صحیح کہا اور حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب غنیمت کا مال پہنچ جاتا تھا تو آپ بلال ؓ کو حکم فرماتے تو وہ لوگوں میں آواز دیتے (کہ جس کے پاس غنیمت کا مال ہے وہ لے آئے تو (سب لوگ) اپنی غنیمتوں کو لے آتے آپ اس میں سے پانچواں حصہ نکال کر اس کو (مجاہدین میں) تقسیم فرما دیتے اس کے بعد ایک آدمی بالوں کی بنی ہوئی ایک لگام لے آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ ! یہ اس مال میں سے ملی ہے جس کو ہم نے غنیمت میں سے پایا آپ نے فرمایا کیا تو نے بلال ؓ (کی آواز) تین مرتبہ نہیں سنی تھی اس نے کہا ہاں (سنی تھی) پھر آپ نے فرمایا کس بات نے تجھ کو اس (لگام) کے لانے سے روکا تھا ؟ اس آدمی نے کہا میں معذرت چاہتا ہوں آپ نے (غصہ میں) فرمایا تو اس کو رکھ لے اور تو اس کو قیامت کے دن لے کر آئے گا میں اس کو ہرگز تیری طرف سے قبول نہیں کروں گا۔
(19) ابن ابی شیبہ اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور صالح بن محمد بن زائدہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ مسلمہ روم کی زمین میں داخل ہوا تو ان کی خدمت میں ایک آدمی لایا گیا جس نے خیانت کی تھی تو انہوں نے حضرت سالم ؓ سے اس کے بارے میں پوچھا تو فرمایا میں نے اپنے والد سے سنا جو حضرت عمر ؓ سے روایت کرتے تھے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم ایسے آدمی کو پاؤ جس نے خیانت کی ہو تو اس کے سامان کو جلادو اور اس کو مارو راوی فرماتے ہیں تو ہم نے اس کے سامان میں مصحف کو پایا تو اس نے سالم سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس کو بیچ دو اور اس کی قیمت کو صدقہ دو ۔
(20) عبد الرزاق نے المصنف میں عبد اللہ بن شفیق (رح) سے فرمایا مجھے خبر دی ایسے آدمی نے جس نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا اور آپ وادی قریٰ میں تھے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا آپ کا غلام شہید کردیا گیا آپ نے فرمایا بلکہ وہ اب کھینچتا جا رہا ہے آگ کی طرف اس چوغہ کو جو اس نے اللہ اور اس کے رسول سے خیانت کی تھی۔
(21) ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے سامان پر نگران تھا جس کو کر کرہ کہا جاتا تھا وہ مرگیا تو رسول اللہ ﷺ سے کہا گیا آپ کا فلاں غلام شہید ہوگیا آپ نے فرمایا ہرگز نہیں ! میں نے اس پر ایک چوغہ کو دیکھا جو اس نے مال غنیمت میں سے چرا یا تھا۔
خیانت کرنے والا شہید کا مقام نہیں پائے گا
(22) ابن ابی شیبہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے کہا گیا کہ آپ کا فلاں غلام شہید ہوگیا آپ نے فرمایا ہرگز نہیں ! میں نے اس پر ایک چوغہ کو دیکھا جو اس نے مال غنیمت میں سے چرایا تھا۔
(23) ابن ابی شیبہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رفاعہ کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بطور غلام کے پیش کیا گیا تو آپ ﷺ غلام کو خیبر کی طرف ساتھ لے گئے وہاں پڑاؤ ڈالا عصر اور مغرب کے درمیان ایک نامعلوم تیر اس غلام کو لگا جس سے وہ قتل ہوگیا ہم نے کہا مبارک ہو تیرے لیے جنت آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس کا شملہ اب بھی آگ میں جل رہا ہے جو اس نے مسلمانوں سے چوری کیا تھا اس پر انصار میں سے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! اس دن مجھے دو جوتی کے تسمے ملے تھے آپ نے فرمایا اس کی مثل تجھ کو جہنم کی آگ میں پیش کئے جائیں گے۔
(24) ابن ابی شیبہ نے عمرو بن سالم (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہمارے اصحاب کہتے تھے کہ غنیمت کے مال میں سے چوری کرنے والے کی سزا یہ ہے کہ اس کے خیمے اور اس کے سامان کو جلا دیا جائے۔
(25) طبرانی نے کثیر بن عبد اللہ (رح) سے روایت کیا اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا نہ چوری کی اجازت ہے نہ خیانت کی (پھر فرمایا) لفظ آیت ” ومن یغلل یات بما غل یوم القیمۃ “ یعنی جو شخص غنیمت کے مال میں سے چوری کرے گا وہ قیامت کے دن اس کو لے آئے گا۔
(26) ترمذی نے اس کو روایت کیا ہے کہ اور اس کو حسن کہا معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا جب میں روانہ ہوا تو میرے پیچھے کسی کو بھیجا تو میں لوٹ آیا آپ نے فرمایا کیا تو جانتا ہے میں نے تیری طرف آدمی کو کیوں بھیجا ؟ (پھر آپ نے فرمایا) کسی چیز کو میری اجازت کے بغیر نہ لینا کیونکہ یہ چوری ہے (اور فرمایا) لفظ آیت ” ومن یغلل یات بما غل یوم القیمۃ “ اس لیے تجھ کو بلایا تھا سو تو اسی طریقہ پر چلتے رہنا۔
مال غنیمت جمع کروانے کی تاکید
(27) عبد الرزاق نے مصنف میں وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ رسول اللہ ﷺ کو جب غنیمت کا مال پہنچتا تھا تو ایک آواز لگانے والے کو بھیجتے تھے تو وہ کہتا تھا خبردار ! کوئی آدمی کسی ایک سوئی یا اس سے بڑی کسی چیز کی خیانت نہ کرے خبردار ! میں ہرگز نہیں جانو ایسے آدمی کو جس نے کوئی اونٹ چوری کیا تھا تو وہ اس کو قیامت کے دن لے آئے گا جو اس کو اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے ہوگا اور وہ بلبلا رہا ہوگا۔ خبردار میں نہ جانوں ایسے شخص کو جس نے گھوڑا مال غنیمت میں سے چوری کیا تو وہ قیامت کے دن اس کو اپنی گردن پر لے آئے گا اور وہ ہنہنا رہا ہوگا۔ (پھر فرمایا) خبردار میں ہرگز نہیں پہچانوں ایسے آدمی کو جس نے ایک بکری چوری کی تھی جس کو وہ قیامت کے دن اس حال میں لائے گا کہ وہ اپنی گردن پر اس کو اٹھائے ہوئے ہوگا جو منمنا رہی ہوگی ایک دوسرے کے پیچھے یہ واقعات ہوتے رہیں گے جب تک اللہ تعالیٰ چاہیں گے کہ یہ واقعات ہوں (اور) ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے مال غنیمت میں چوری کرنے سے بچو کیونکہ یہ عیب ہے اور شرمندگی ہے اور آگ (میں جانے کا سبب) ہے۔
(28) ابن ابی شیبہ احمد بخاری مسلم وابن جریر والبیہقی نے شعب میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک دن ہمارے درمیان رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ نے مال غنیمت میں سے خیانت کا ذکر فرمایا اور اس کے معاملے کا اہم ہونا اور دشوار ہونا بتایا پھر آپ نے فرمایا خبردار ! میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر ایک اونٹ بلبلا رہا ہو پھر وہ کہے گا یا رسول اللہ ! میری مدد کیجئے میں کہوں گا میں اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تیری مدد نہیں کرسکتا میں نے تجھ کو (دنیا میں) پیغام پہنچا دیا تھا (ہرگز خیانت نہ کرنا) (پھر فرمایا) میں تم کو قیامت کے دن اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر ایک گھوڑا ہنہنا رہا ہو اور وہ کہے گا یا رسول اللہ ﷺ ! میری مدد کیجئے میں کہوں گا میں تیرے لیے اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی بات کا اختیار نہیں رکھتا میں نے تجھ کو (دنیا میں) پیغام پہنچا دیا تھا (پھر فرمایا) میں ہرگز تم کو اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر کوئی مال لدا ہوا تو وہ کہے گا یا رسول اللہ ﷺ ! میری مدد کیجئے میں کہوں گا میں تیرے لیے اللہ تعالیٰ کے مقابلہ کسی بات کا اختیار نہیں رکھتا میں نے تجھ کو (دنیا میں) پیغام پہنچا دیا تھا۔
(29) ھناد وابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا کہ آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ومن یغلل یات بما غل یوم القیمۃ “ کے بارے میں بتائیے کہ ایک آدمی خیانت کرتا ہے ہزار درہم یا دو ہزار درہم اس کو (قیامت کے دن) لے آئے گا اور یہ بتائیے کہ جو آدمی سو اونٹ یا دو سو اونٹ کیا خیانت کرے اس کے ساتھ کیا کیا جائے گا ؟ تو ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ جس شخص کی داڑھ احد پہاڑ کی طرح ہو اور اس کی ران ورقان پہاڑ کی طرح ہو اور اس کی پنڈلی بیضاء پہاڑ کی طرھ ہو اور اس کا بیٹھنا اس جگہ کے برابر ہو جو مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ہے کیا وہ اس طرح کا وزن نہیں اٹھا سکے گا۔
(30) ابن ابی حاتم نے ابن مردویہ والبیہقی نے شعب میں حضرت بریدہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ ایک پتھر سات گابھن موٹی اونٹنیوں کے برابر وزنی کیا جائے گا تاکہ ڈالا جائے جن ہم میں وہ ستر سال تک اس میں گرتا رہے گا اور جو خیانت کی ہوگی اسے بھی لایا جائے گا اور اس کے ساتھ اسے بھی پھینک دیا جائے گا پھر اس خیانت کرنے والے کو مجبور کیا جائے گا کہ اس کا نکال کرلے آئے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے لفظ آیت ” ومن یغلل یات بما غل یوم القیمۃ “۔
(31) ابن ابی شیبہ احمد ومسلم ابوداؤد نے عدی بن عمیر کندی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! جو شخص تم میں سے ہمارے لیے کوئی عمل کرے پھر ہم نے اس سے ایک سوئی یا اس سے زیادہ کوئی چیز چھپالی تو یہ بھی خیانت ہے (اور دوسرے لفظ میں ہے) کہ یہ خیانت ہے جس کو وہ قیامت کے دن لے آئے گا۔
(32) ابن جریر نے عبد اللہ بن انیس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک دن وہ اور حضرت عمر ؓ صدقہ کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا کیا تو نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں سنا تھا جس وقت آپ صدقہ کی خیانت کا ذکر فرما رہے تھے کہ جس شخص نے اس میں سے کسی اونٹ یا کسی بکری کی خیانت کی تو وہ اس کو قیامت کے دن اٹھا کرلے آئے گا ؟ عبد اللہ بن انیس ؓ نے فرمایا کہ ہاں میں نے سنا تھا۔
(33) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ومن یغلل یات بما غل یوم القیمۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ قیامت کے دن اس چیز کو جس کی خیانت کی تھی اپنی گردن پر اٹھا کرلے آئے گا۔
(34) ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ تھوڑی سی خیانت کو حلال کرتا تو البتہ زیادہ کو بھی حلال کرتا جو آدمی تم میں سے کوئی خیانت کرے گا تو اس کو جن ہم کے نچلے طبقہ میں سے لانے کو کہا جائے گا۔
(35) احمد وابن ابی داؤد نے المصاحف میں خمیر بن مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب حکم دیا گیا کہ مصاحف یعنی قرآن مجید کو تبدیل کرلو (ایک ہی قرأۃ پر) تو ابن مسعود ؓ نے فرمایا (اپنے شاگردوں سے) کہ جو کوئی تم میں سے طاقت رکھتا ہو کہ اپنے قرآن مجید کو چھپالے تو اس کو چاہیے کہ چھپالے کیونکہ جو شخص کسی چیز کو چھپائے گا تو اس کو قیامت کے دن لے کر آئے گا اور قرآن مجید کا چھپانا اچھا کام ہے جس کو کوئی ایک تم میں سے قیامت کے دن لے کر آئے گا۔
(36) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” افمن اتبع رضوان اللہ “ سے مراد ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کا اتباع کرے اور غنیمت میں چوری نہیں کرے (پھر فرمایا) ” کمن باء بسخط من اللہ “ سے مراد ہے مانند اس شخص کے جس نے واجب کرلیا ہے اللہ تعالیٰ کے غصہ کو خیانت کرنے کی وجہ سے سو یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ پھر ان دونوں کا ٹھکانا بیان فرمایا اور اس شخص کے لیے فرمایا جو خیانت کرتا ہے کہ لفظ آیت ” وماوہ جہنم وبئس المصیر “ یعنی خیانت کرنے والے کا ٹھکانہ (جہنم ہے) پھر اس شخص کے ٹھکانے کا بیان فرمایا جس نے خیانت نہیں کی۔ پھر آپ نے ” ہم درجت “ یعنی ان کے فضائل ہیں۔ ” عند اللہ واللہ بصیر بما یعملون “ یعنی وہ ذات دیکھنے والی ہے جس نے تم میں سے چوری کی اور جس نے نہ کی۔
(37) عبد الرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” افمن اتبع رضوان اللہ “ سے مراد وہ شخص ہے جو خیانت نہ کرے اور لفظ آیت ” کمن باء بسخط من اللہ “ سے مراد ہے کیا وہ اس آدمی کی طرح ہے جو اللہ تعالیٰ کے غصہ کا مستحق بنا۔
(39) ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” افمن اتبع رضوان اللہ “ سے مراد وہ شخص ہے جس نے خمس ادا کردیا۔
(40) ابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” افمن اتبع رضوان اللہ “ سے مراد وہ شخص ہے جس نے حلال کو لے لیا یہ بہتر ہے اس کے لیے اس شخص سے جس نے حرام کو لے لیا اور یہ خیانت اور سارے مظالم کو شامل ہے۔
(41) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ہم درجت عند اللہ “ سے ان کے درجات ہونگے اعمال کے مطابق۔
(42) عبد بن حمید ابن جریر اور ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ہم درجت عند اللہ “ سے مراد ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمانا لفظ آیت ” لہم درجت عند اللہ “ (الانفال آیت 4) ۔
(43) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” ہم درجت “ سے مراد ہے ” لہم درجت “۔
(44) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” ہم درجت “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا لوگوں کے لیے درجات ہیں ان کے اعمال کے مطابق خیر میں بھی اور شر میں بھی۔
(45) ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ہم درجت عند اللہ “ سے مراد ہے کہ جنت والوں سے ان کے بعض لوگ بعض کے اوپر ہوں گے جس کا درجہ فضیلت والا ہوگا وہ اپنے سے کم درجے والے کو دیکھے گا لیکن جو درجے میں کم ہوگا وہ کسی کو یوں نہیں دیکھے گا کہ اس سے بھی کوئی افضل ہے۔