3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 3:144

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

اور محمد ﷺ صرف رسول ہیں، ان سے پہلے رسول گذر چکے ہیں، تو کیا ان کو موت آجائے یا مقتول ہوجائیں تو تم الٹے پاؤں پلٹ جاؤ گے ؟ اور جو شخص الٹے پاؤں پھر جائے تو وہ اللہ کو کچھ نقصان نہ دے گا، اور اللہ عنقریب شکر گذاروں کو ثواب دے گا۔

ہر حال میں دین پر ثابت قدم رہنا (1) ابن المنذر نے کلیب (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو حضرت عمر ؓ نے خطبہ دیا اور وہ منبر پر سورة آل عمران پڑھتے تھے اور یہ فرماتے تھے یہ غزوہ احد کے بارے میں ہے پھر فرمایا ہم احد کے دن رسول اللہ ﷺ سے جدا ہوگئے میں ایک پہاڑ پر چڑھ گیا اور میں نے ایک یہودی کو یہ کہتے ہوئے سنا محمد ﷺ قتل کر دئیے گئے میں نے کہا کسی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنوں گا کہ محمد ﷺ شہید کر دئیے گئے مگر اس کی گردن ماردوں گا (یعنی اس کو قتل کر دوں گا) میں نے دیکھا تو اچانک رسول اللہ ﷺ لوگوں کے ساتھ واپس لوٹ رہے تھے (اس پر) یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل “۔ (2) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ الگ ہوگئے اور ایک جماعت آپ کے ساتھ ایک پہاڑی پر تھی اور لوگ بھاگ رہے تھے ایک آدمی راستے پر کھڑا ہوا ان سے پوچھ رہا تھا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا ہوا ؟ اور وہ برابر ان سے پوچھ رہا تھا جب بھی لوگ اس کے پاس سے گذرتے تھے تو وہ لوگ کہتے تھے اللہ کی قسم ! ہم نہیں جانتے کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا ؟ (پھر) اس نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر نبی ﷺ شہید کر دئیے گئے تو ہم ان کو ضرور دیں گے اپنے ہاتھوں سے (یعنی جان ان کے حوالہ کردیں گے) کیونکہ وہ ہمارے قبیلہ کے ہیں اور ہمارے بھائی ہیں اور کہنے لگے اگر محمد ﷺ زندہ ہوئے تو شکست نہ کھاتے لیکن وہ قتل کر دئیے گئے سو اب انہوں نے بھاگنے میں عافیت سمجھی تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل “ پوری آیت۔ (3) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ احد کا دن تھا جب ان کو قتل ہونے اور زخمی ہونے کی تکلیف پہنچی اور تم نے ایک دوسرے کو بلایا کہ اللہ تعالیٰ کے نبی کہاں ہے ؟ بعض نے کہا وہ شہید ہوچکے ہیں اور کچھ لوگوں نے ان میں سے کہا اگر وہ نبی ہوتے تو شہید نہ ہوتے جلیل القدر صحابہ میں سے کچھ نے کہا تم بھی (کافروں کے ساتھ) اس دین پر لڑتے ہو جس پر تمہارے نبی ﷺ شہید ہوئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو فتح عطا فرما دیں گے یا تم (شہید ہو کر) ان کے ساتھ مل جاؤ گے اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ مہاجرین میں سے ایک آدمی گذرا ایک انصاری صحابی پر اور وہ اپنے خون میں لت پت ہوچکا تھا اس نے پوچھا اے فلانے ! کیا تو جانتا ہے کہ محمد ﷺ قتل کر دئیے گئے تو اس صحابی نے جواب دیا کہ اگر شہید کر دئیے گئے ہیں تو تحقیق وہ اپنا پیغام پہنچا چکے وہ (دین اسلام) کی تبلیغ کرچکے ہیں سو اب تم اپنے دین کی طرف سے (کافروں سے) لڑو تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم “ یعنی کیا تم اپنے ایمان کے بعد کفر کی طرف پھر جاؤ گے۔ (4) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ احد کے دن ایک آواز لگانے والے نے آواز لگائی جب محمد ﷺ کے صحابہ شکست کھا گئے کہ محمد ﷺ قتل کر دئیے گئے اب تم اپنے پہلے دین کی طرف لوٹ جاؤ اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” وما محمد الا رسول۔۔ “ (5) ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ ان لوگوں نے جن میں کفر کا مرض تھا اور شک کرنے والے اور نفاق کرنے والوں نے کہا جب لوگ نبی ﷺ سے بھاگ گئے کہ محمد ﷺ قتل کر دئیے گئے اس لیے اب اپنے دین کے ساتھ مل جاؤ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی ” وما محمد الا رسول “۔ (6) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ احد کے دن لوگوں میں یہ خبر پھیل گئی کہ رسول اللہ ﷺ قتل کر دئیے گئے پتھروں کی پوجا کی کرنے) والوں میں سے بعض نے کہا کہ کاش ہمارا کوئی قاصد ہوتا جو عبد اللہ بن ابی کے پاس جا کر ہمارے لیے ابو سفیان سے امان لیتا اے قوم ! محمد ﷺ قتل کر دئیے گئے اب تم اپنی قوم کی طرف لوٹ جاؤ پہلے اس سے کہ وہ تمہارے پاس آئیں اور تم کو قتل کردیں انس بن نضر ؓ کہا اے قوم ! اگر محمد ﷺ قتل کر دئیے گئے تو بلاشبہ محمد ﷺ کا رب تو قتل نہیں ہوا سو تم لڑو اس دین پر جس پر محمد ﷺ لڑے (پھر فرمایا) اے اللہ ! بلاشبہ میں معذرت کرتا ہوں تیری طرف ان باتوں سے جو یہ لوگ کہتے ہیں اور جو کچھ انہوں نے کیا میں اس سے بری ہوتا ہوں آپ کی طرف پھر تلوار کو پکڑا اور لڑنا شروع کردیا یہاں تک کہ شہید ہوگئے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” وما محمد الا رسول “۔ (7) ابن جریر نے قاسم بن عبد الرحمن بن رافع (رح) سے روایت کیا جو نبی عدی بن نجار کے بھائی ہیں وہ روایت کرتے ہیں کہ انس بن نضر جو انس بن مالک کے چچا ہیں وہ طلحہ بن عبید اللہ حضرت عمر ؓ اور مہاجرین اور انصار کے پاس آئے۔ یہ لوگ اپنے ہاتھوں کو ڈال چکے تھے (یعنی کافروں سے لڑنا ختم کرچکے تھے) حضرت انس ؓ نے (ان سب لوگوں سے) فرمایا تم کس لیے بیٹھے ہو ؟ انہوں نے کہا محمد رسول اللہ ﷺ شہید کر دئیے گئے (اب ہم کیا کریں) حضرت انس ؓ نے فرمایا ان کے بعد تم اس زندگی کا کیا کرو گے ؟ تم کھڑے ہوجاؤ اور مرجاؤ اس دین پر جس پر رسول اللہ ﷺ کی شہادت ہوئی قوم نے (اس مشورہ کو) قبول کیا اور (کافروں سے) لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔ (8) عبد بن حمید ابن المنذر نے عطیہ عوفی (رح) سے روایت کیا کہ جب احد کا دن تھا اور (مسلمان) شکست کھا گئے تو بعض لوگوں نے کہا۔ اگر محمد ﷺ شہید کر دئیے گئے کیا تم اس راستے پر نہیں چلتے جس راستے پر تمہارے نبی ﷺ چلے ہیں (یعنی تم بھی انہی کی طرح شہید ہوجاؤ) یہاں تک کہ ان کے ساتھ مل جاؤ۔ تو اللہ تعالیٰ نے (اس پر یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” وما محمد الا رسول “ سے لے کر ” فاتہم اللہ ثواب الدنیا “ تک۔ (9) ابن سعد نے طبقات میں محمد بن شرجیل عبدری ؓ سے روایت کیا کہ احد کے دن مصعب بن عمیر ؓ نے جھنڈا اٹھایا ہوا تھا اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا تو انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ میں جھنڈے کو پکڑ لیا جبکہ وہ یہ آیت پڑھ رہے تھے لفظ آیت ” وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم “ پھر ان کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا تو وہ جھنڈے کی طرف جھکے اور بازوں میں لے کر سینے سے لگا لیا اور وہ کہہ رہے تھے لفظ آیت ” وما محمد الا رسول “ (حالانکہ) یہ آیت اس دن نازل نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کے بعد نازل ہوئی۔ (10) عبد بن حمید ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومن ینقلب علی عقبیہ “ سے مراد ہے کہ جو شخص اسلام سے مرتد ہوگیا۔ صدیق اکبر ؓ کی ثابت قدمی (11) بخاری و نسائی نے زہری کے طریق سے ابو سلمۃ سے روایت کیا ہے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ اپنے مسکن مسخ سے گھوڑے پر تشریف لائے یہاں تک کہ (گھوڑے سے) اترے مسجد میں داخل ہوگئے لوگوں سے بات کی یہاں تک کہ (اپنی بیٹی) حضرت عائشہ ؓ کے پاس چلے گئے پھر رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے کی طرف گئے اور آپ ﷺ حبرہ کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے انہوں نے آپ کے چہرے مبارک سے کپڑا ہٹایا پھر ان پر جھک کر بوسا لیا اور رونے لگے پھر فرمایا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر دو موتیں جمع نہیں فرمائے گا لیکن وہ موت جو آپ پر لکھی گئی تھی پس وہ آچکی زہری (رح) نے کہا اور مجھو کو ابو سلمہ ؓ نے بیان کیا کہ ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ابوبکر صدیق نے فرمایا اے عمر ! بیٹھ جاؤ اور فرمایا اما بعد ! جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کیا کرتا تھا بیشک محمد ﷺ وفات پا چکے ہیں اور جو شخص اللہ کی عبادت کیا کرتا تھا سو بیشک اللہ تعالیٰ زندہ ہیں ان کو موت نہیں آئے گی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” وما محمد الا رسول “ سے لے کر ” الشکرین “ تک (پھر) فرمایا اللہ کی قسم ! لوگ نہیں جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو اتارا ہے یہاں تک کہ ابوبکر ؓ نے اس کو پڑھا (اس کے بعد) سب لوگوں نے اس کو پڑھا اور لوگوں میں سے جس آدمی نے بھی اس کو سنا تو اس کو پڑھنے لگا۔ (12) ابن المنذر نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے تو حضرت عمر ؓ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ بیشک کچھ منافقین میں سے یہ گمان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وفات پاگئے اور اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ نے وفات نہیں پائی لیکن اپنے رب کے پاس چلے گئے جیسے موسیٰ بن عمران گئے تھے اور اپنی وفات نہیں پائی اور اپنی قوم سے چالیس رات غائب ہوگئے تھے پھر ان کی طرف لوٹ آئے تھے بعد اس کے کہ کہا گیا تھا کہ وہ وفات پاگئے ہیں اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ ضرور لوٹیں گے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) لوٹ آئے تھے ان لوگوں کے ہاتھوں اور ان کے پاؤں کو ضرور کاٹ دیا جائے گا جو یہ گمان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے ہیں ابوبکر ؓ باہر تشریف لائے اور فرمایا اے عمر ! ٹھہر جاؤ خاموش ہوجاؤ (پھر) اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا اے لوگو ! بلاشبہ تم میں سے جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا بلاشبہ محمد ﷺ وفات پا چکے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ زندہ ہیں ان کو موت نہیں آئے گی پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” وما محمد الا رسول “ اللہ کی قسم ! گویا کہ لوگ اس آیت کو جانتے ہی نہ تھے یہاں تک کہ ابوبکر ؓ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا تو میں کانپنے لگا اور زمین پر گرگیا (اور فرمایا) میری ٹانگوں نے میرا بوجھ برداشت نہ کیا اور میں نے جان لیا کہ رسول اللہ ﷺ وفات پا چکے ہیں۔ (13) البیہقی نے دلائل میں عروہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب نبی ﷺ وفات پا گئے ہیں تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ جس نے کہا کہ محمد ﷺ وفات پاگئے تو میں اس کو قتل کر دوں گا اور اس کے اعضاء کاٹ دوں گا حضرت ابوبکر ؓ تشریف لائے اور ممبر کے ایک جانب کھڑے ہو کر فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی موت کی خبر دی جب وہ تمہارے درمیان تھے اور تمہاری موت کی بھی خبر دی ہے اور وہ موت (ضرور آئے گی) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی باقی نہیں رہے گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” وما محمد الا رسول “ سے لے کر ” الشکرین “ تک حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ آیت قرآن میں ہے ؟ اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا تھا کہ یہ آیت آج کے دن سے پہلے نازل ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کے لیے بھی یہ فرمایا لفظ آیت ” انک میت وانہم میتون “۔ (14) ابن المنذر اور بیہقی نے ابن عباس کے طریق سے حضرت بن خطاب ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں اس آیت کی تاویل کیا کرتا تھا (یعنی یہ آیت) ” وکذلک جعلنکم امۃ وسطا لتکونوا شھداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا “ اللہ کی قسم ! میں یہ گمان کرتا تھا کہ آپ اپنی امت میں باقی رہیں گے یہاں تک کہ (اپنی امت کے) آخری اعمال کی گواہی دیں گے اسی چیز نے مجھے ایسا کہنے پر آمادہ کیا جو میں نے کہا۔ (15) ابن جریر نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وسیجزی اللہ الشکرین “ میں ” الشکرین “ سے مراد ہے اپنے دین پر ثابت قدم رہنے والے ابوبکر اور آپ کے صحابہ ؓ اور حضرت علی ؓ فرمایا کرتے تھے کہ ابوبکر امین اور شکر کرنے والے تھے۔ سہیل بن عمرو کی خطابت (16) الحاکم والبیہقی نے دلائل میں حسن بن محمد (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے چھوڑ دیجئے میں سہیل بن عمرو کے اوپر نیچے سامنے والے دانت توڑ دوں تاکہ وہ اپنی قوم میں کبھی بھی خطیب بن کر کھڑا نہ ہو سکے آپ نے فرمایا اس کو چھوڑ دو شاید کہ وہ کبھی تجھے خوش کرے جب نبی ﷺ وفات پا گئے تو مکہ والے بھاگ گئے اور سہیل کعبہ کے پاس کھڑے ہو کر کہنے لگے جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو (جان لے) کہ محمد ﷺ وفات پا گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ زندہ ہے وہ نہیں مرے گا۔ (17) ابن المنذر ابن ابی حاتم نے طبرانی اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں فرمایا کرتے تھے بلاشبہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم “ اللہ کی قسم ! ہم اپنی ایڑیوں پر نہیں پھریں گے جب کہ اللہ تعالیٰ ہم کو ہدایت عطا فرما چکا ہے اور اللہ کی قسم ! اگر رسول اللہ ﷺ فوت ہوگئے یا قتل کر دئیے گئے تو میں ضرور قتال کروں گا اس دین پر جس پر آپ نے قتال فرمایا یہاں تک کہ میں مرجاؤں گا۔ (18) ابن المنذر نے زہری (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت ” لیزدادوا ایمانا مع ایمانہم “ نازل ہوئی تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم یہ جان چکے ہیں کہ ایمان زیادہ ہوتا ہے کیا کم بھی ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے بلاشبہ وہ البتہ کم ہوجاتا ہے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا اس بات کی کتاب اللہ میں کوئی دلیل ہے ؟ فرمایا ہاں پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم “ تو یہ پلٹ جانا نقصان ہے ناکہ کفر ہے۔ (19) ابن جریر ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وما کان لنفس “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ کے لیے بھی ایک مدت مقرر ہے جس کو وہ پہنچ جائیں گے جب اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں اجازت دے دی تو ” ومن یرد ثواب الدنیا نؤتہ منھا “ یعنی جو تم میں سے دنیا کا ارادہ کرے گا اور اس کی رغبت آخرت میں نہ ہوگی تو ہم اس کو دیں گے جو کچھ رزق ہم نے اس کے لیے تقسیم کردیا ہے اور آخرت میں اس کے لیے کوئی حصہ نہ ہوگا (اور فرمایا) لفظ آیت ” ومن یرد ثواب الاخرۃ “ یعنی جو کوئی تم میں سے آخرت کے ثواب کا ارادہ کرتا ہے ” نؤتہ منھا “ تو ہم اس کو دیں گے جو اس سے وعدہ کیا ہے ساتھ وہ رزق بھی دیں گے جو اس کی دنیا میں ہم نے جاری کیا تھا اور یہی بدلہ ہے شکر کرنے والوں کا۔ (20) ابن ابی حاتم نے حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) سے اس آخرت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ کسی جان کو موت نہیں آئی جب تک وہ دنیا میں اپنی عمر کے وقت کو پورا نہ کرے۔ (21) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وسیجزی اللہ الشکرین “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر بندے کو اس کی نیت کے مطابق دنیا اور آخرت میں عطا فرماتے ہیں (یعنی دنیا کی نیت ہوگی تو دنیا دیں گے اگر آخرت کی نیت ہوگی تو آخرت دیں گے ) ۔ (22) ابن ابی شیبہ نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا اگر (زکوٰۃ دینے میں) مجھ سے ایک رسی بھی روک دی گئی جو رسول اللہ کو دیتے تھے تو میں ان کے ساتھ جہاد کروں گا پھر (یہ آیت) تلاوت فرمائی لفظ آیت ” وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم “۔ (23) البغوی نے اپنی معجم میں ابراہیم بن حنظلہ سے روایت کیا ہے کہ اور وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ سالم ؓ جو ابو حذیفہ ؓ کے آزاد کردہ غلام تھے یمامہ کے دن ان کے پاس جھنڈا تھا ان کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا تو انہوں نے جھنڈے کو بائیں ہاتھ میں لے لیا پھر ان کا بایا ہاتھ کاٹ دیا گیا تو انہوں نے جھنڈے کو گلے سے لگا لیا اور وہ (یہ آیت) پڑھ رہے تھے لفظ آیت ” وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم “۔
Ayahs 3:145–146

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

اور کسی جان کو موت نہیں آسکتی مگر اللہ کے حکم سے اس طرح پر کہ اس کا وقت مقرر کیا ہوا ہے، اور جو شخص دنیا کے بدلہ کا ارادہ کرے گا ہم اس میں سے اس کو دے دیں گے اور جو شخص آخرت کے ثواب کا ارادہ کرے گا ہم اس میں سے اسے دے دیں گے اور عنقریب ہم شکر گذاروں کو جزا دیں گے۔

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اور بہت سے نبی گذرے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی، پھر جو مصیبتیں ان کو اللہ کی راہ میں پہنچیں ان کی وجہ سینہ ہمت ہارے نہ کمزور پڑے اور نہ عاجز ہوئے، اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔

(1) سعید بن منصور وعبد بن حمید نے ابو عبیدہ کے طریق سے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت ” وکاین من نبی قتل معہ ربیون “ اور وہ کہتے تھے کہ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ فرماتے ہیں لفظ آیت ” فما وھنوا لما اصابہم فی سبیل اللہ “۔ (2) سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ وہ فرمایا کرتے تھے ہم نے کبھی نہیں سنا کہ کوئی نبی جنگ کے دوران شہید کیا گیا ہو۔ (3) سعید بن منصور وعبد بن حمید نے حسن اور ابراہیم رحمۃ اللہ عنہ سے روایت کیا کہ وہ یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” قتل معہ “۔ (4) عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ لفظ آیت ” وکاین من نبی قتل معہ ربیون “ بغیر الف کے پڑھتے تھے۔ (5) زر کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے اسی کی مثل روایت کیا کہ وہ بھی بغیر الف کے پڑھتے تھے۔ (6) عبد بن حمید نے عطیہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ بھی لفظ آیت ” وکاین من نبی قتل معہ ربیون “ بغیر ال کے پڑھتے تھے۔ (7) الفریابی وعبد بن حمید ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و طبرانی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ربیون “ سے مراد ہے ہزارہا۔ (8) سعید بن منصور نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ربیون “ میں ایک ” ربہ “ سے ایک ہزار مراد ہے۔ (9) ابن جریر وابن ابی حاتم وابن المنذر نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” ربیون “ سے مراد ہے جماعتیں۔ (10) سعید بن منصور نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ربیون “ کے بارے میں فقہا و علماء اور ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے کثیر جماعتیں مراد ہیں۔ (11) ابن الانباری نے الوقف والا بتداء میں والطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے لفظ آیت ” ربیون “ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے جماعتیں مراد ہے (پھر) انہوں نے پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے حضرت حسان ؓ کا قول نہیں سنا ؟ واذا معشر تجافوا القصد املنا علیہم ربیا ترجمہ : اور جب لوگ اعتدال سے دور ہوگئے ہم نے ان پر جماعتوں کو موڑ دیا۔ (12) ابن جریر نے سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ربیون کثیر “ سے مراد ہے علماء کثیر۔ (13) عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ربیون کثیر “ سے مراد ہے کہ کثیر جماعتیں۔ (14) عبد بن حمید ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ربیون “ سے مراد ہے کثیر علماء۔ (15) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الربیون “ سے مراد رعایا اور ” ربانیون “ سے مراد ہے حکام۔ (16) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وکاین من نبی قتل “ سے مراد وہ قوم ہے جب نبی نے جہاد کیا نہ کمزور ہوئے اور نہ ہی عار محسو کی کیونکہ ان کے نبی نے قتال کیا تھا۔ (17) ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فما وھنوا لما اصابہم فی سبیل اللہ “ سے مراد ہے کہ اپنے انبیاء کو قتل کرنے کی وجہ سے ان کو اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں آئیں اس میں انہوں نے کمزوری نہ دکھائی۔ (18) ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وما وھنوا لما اصابہم فی سبیل اللہ “ یعنی وہ اپنے دشمن سے عاجز نہیں ہوئے۔ کفار سے قتال میں ثابت قدمی (19) عبد بن حمید وابن ابی حاتم وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فما وھنوا “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ عاجز نہیں ہوئے اور نہ کمزور ہوئے اپنے نبی کے قتال کی وجہ سے (اور) لفظ آیت ” وما استکانوا “ یعنی نہ وہ اپنی بصیرت سے پھرے اور نہ اپنے دین سے پھرے کہ وہ قتال کریں اس دین پر جس پر اللہ کے نبی نے قتال کیا یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملتے۔ (20) ابن جریر ابن المنذر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وما استکانوا “ سے مراد ہے نہ انہوں نے عاجزی کی۔ (21) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وما استکانوا “ سے مراد ہے کہ وہ ذلیل اور عاجز نہیں ہوئے (22) سدی نے ابن زید (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” وما استکانوا “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ اپنے دشمن کے لیے ذلیل اور عاجز نہیں ہوئے۔ (23) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” واسرافنا فی امرنا “ سے مراد ہے کہ ہماری خطاؤں کو معاف کر دے اور جو ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اسے بھی معاف فرمادے۔ (24) عبد بن حمید ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واسرافنا فی امرنا “ سے مراد ہے کہ ہماری خطاؤں کو معاف کر دے اور جو ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اسے بھی معاف فرمادے۔ (25) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واسرافنا فی امرنا “ سے مراد ہے بڑے گناہ (بھی معاف کر دے) ۔ (26) ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فاتہم اللہ ثواب الدنیا “ سے مراد ہے مدد اور مال غنیمت اور ” وحسن ثواب الاخرۃ “ سے مراد ہے اللہ کی رضامندی اور اس کی رحمت۔ (27) عبد بن حمید وابن المنذر ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فاتہم اللہ ثواب الدنیا “ سے مراد ہے کامیابی غلبہ اور قدرت اور دنیا میں اپنے دشمنوں پر فتح (اور) ” وحسن ثواب الاخرۃ “ سے مراد ہے جنت۔
Ayahs 3:147–149

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

اور ان کا قول اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ انہوں نے یوں کہا کہ اے ہمارے رب بخش دے ہمارے گناہوں کو، اور ہمارے کاموں میں حد سے آگے بڑھ جانے کو اور ہمارے قدموں کو ثابت رکھ، اور کافر قوم کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما،

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

سو اللہ نے ان کو دنیا کا بدلہ دے دیا اور آخرت کا عمدہ بدلہ دیا اور اللہ پسند فرماتا ہے اچھے کام کرنے والوں کو۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم ان لوگوں کا کہا مانو گے جنہوں نے کفر اختیار کیا تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر دیں گے جس کی وجہ سے تم ناکام ہوجاؤ گے۔

(1) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا ان تطیعوا الذین کفروا “ سے مراد ہے کہ تم یہود نصاریٰ کی نصیحت قبول نہ کرو اپنے دین کے بارے میں اور نہ تم ان کی تصدیق کرو کسی چیز کے بارے میں اپنے دین میں۔ (2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا ان تطیعوا الذین کفروا “ سے مراد ہے کہ اگر تم ابو سفیان بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس آیت کے بارے میں ” یایھا الذین امنوا ان تطیعوا الذین کفروا یردوکم علی اعقابکم “ کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا اس سے مراد عربوں کے عادات و فضائل اختیار کرنا ہے ؟ تو حضرت علی ؓ نے فرمایا نہیں بلکہ اس سے مراد کھیتی ہے۔ (4) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں تم کو اپنی ایڑی پر پلٹ جانے والے کے بارے میں نہ بتاؤں جو عطیہ لیتا ہے اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے پھر اس کو چھوڑ دیتا ہے اور جزیہ اور رزق کے بدلے زمین کو لے لیتا ہے یہ وہ شخص ہے جو اپنی ایڑی کے بل پلٹ جاتا ہے۔
Ayahs 3:150–151

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:150 in the Quran reader

بلکہ اللہ تمہارا مولیٰ ہے اور وہ سب مدد کرنے والوں سے بہتر ہے۔

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے اس وجہ سے کہ انہوں نے ایسی چیز کو اللہ کا شریک بنایا جس کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور وہ ظلم کرنے والوں کا برا ٹھکانہ ہے۔

(1) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب ابو سفیان اور مشرک احد کے دن مکہ کو جانے لگے اور روانہ ہوگئے تو کچھ راستہ طے کرنے کے بعد ان کو پشیمانی ہوئی اور کہنے لگے ہم نے برا کیا کہ ہم نے ان کو قتل کیا پھر جب چند بھاگے ہوئے لوگوں کے سوا ہمارے مقابلہ میں کوئی باقی نہ رہا تو ہم ان کو چھوڑ آئے اس لیے مناسب ہے کہ ابھی لوٹ چلو اور ان کی جڑیں کاٹ دو (کافروں نے یہ ارادہ کیا ہی تھا) کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ واپس مکہ کی طرف جانے لگے (راستے میں) ایک دیہاتی سے یہ لوگ ملے اس سے انعام کا وعدہ کیا اس کو انہوں نے اس بات پر مقرر کیا اور اس سے کہا اگر تم محمد ﷺ کو ملے تو ان کو یہ خبر دے دینا کہ ہم نے ان کے لیے کیا کچھ جنگ کا سامان تیار رکھا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اس کی خبر دے دی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا پیچھا کیا یہاں تک کہ حمراؤالاسد تک پہنچے اس پر اللہ تعالیٰ نے اسی کے بارے میں یہ آیات نازل فرمائیں پس اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ابو سفیان کا جب اس نے دوبارہ نبی ﷺ کی طرف لوٹ کر جانے کا ارادہ کیا اور جو اس کے دل میں رعب ڈال دیا گیا اسی کو فرمایا لفظ آیت ” سنلقی فی قلوب الذین کفروا الرعب “۔ ابو سفیان کا مرعوب ہونا (2) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان کے دل میں رعب ڈال دیا تو وہ مکہ کی طرف لوٹ گیا نبی ﷺ نے فرمایا کہ ابو سعید نے تم سے ایک حصہ پایا اور وہ لوٹ چکا (لیکن) اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں رعب ڈال دیا۔ (3) مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دشمن پر رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی۔ (4) احمد و ترمذی (نے اس کو صحیح کہا) ابن المنذر وابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابو امامہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے انبیاء پر چار چیزوں کی فضیلت دی گئی مجھے سب لوگوں کی طرف بھیجا گیا میرے لیے اور میری امت کے لیے ساری زمین کو سجدہ کرنے کی جگہ اور پاک بنا دیا گیا پس جہاں بھی کوئی آدمی میری امت میں سے نماز (کے وقت) کو پالے تو اس کے پاس کی اس کی مسجد بھی ہے اور اس کے پاس پاک جگہ ہے اور میں مدد کیا گیا رعب کے ساتھ ایک ماہ کی مسافت تک کہ (اللہ تعالیٰ ) اس کو میرے دشمن کے دل میں ڈال دیتے ہیں اور میرے لیے غنیمت (کے مالوں) کو حلال کردیا گیا۔
Ayah 3:152

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اور بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا جو اس نے تم سے کیا تھا جس وقت تم دشمنوں کو بحکم خداوندی قتل کر رہے تھے، یہاں تک کہ جب تم بزدل ہوگئے اور حکم کے بارے میں تم نے آپس میں اختلاف کیا اور تم نے اس کے بعد نافرمانی کی جبکہ تمہیں اللہ نے وہ چیز دکھا دی جسے تم محبوب رکھتے تھے، تم میں سے بعض دنیا چاہتے تھے اور بعض آخرت کے طلب گار تھے، پھر اللہ نے تم کو دشمنوں کی طرف سے پھیر دیا تاکہ تم کو آزمائے، اور البتہ تحقیق اللہ نے تم کو معاف فرما دیا اور اللہ مومنین پر بڑے فضل والا ہے۔

(1) البیہقی نے دلائل میں عروہ رحمۃ اللہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ فرمایا تھا اگر وہ صبر اور تقویٰ اختیار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائیں گے پانچ ہزار فرشتوں سے نشان لگائے ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا بھی مگر جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی اور انہوں نے اپنی صف بندی کو چھوڑ دیا اور تیر اندازوں نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے عہد کو چھوڑ دیا کہ تم اپنی جگہ سے نہ ہٹنا اور انہوں نے دنیا کا ارادہ کرلیا تو ان سے فرشتوں کی مدد اٹھالی گئی اور اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” ولقد صدقکم اللہ وعدہ اذ تحسونہم باذنہ “ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا اپنا وعدہ اور ان کو فتح دکھا دی جب انہوں نے نافرمانی کی تو ان کو مصیبت کے ذریعہ سزا دی۔ (2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولقد صدقکم اللہ وعدہ “ سے مراد ہے کہ ابو سفیان شوال کی تین راتیں گزرچکی تھیں آیا یہاں تک کہ احد کے میدان میں اترا رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور لوگوں میں منادی کی تو (سب لوگ) اکٹھے ہوگئے زبیر بن عوام کو گھڑ سوار دستے کا امیر مقرر کیا اور رسول اللہ ﷺ نے قریش میں سے ایک آدمی مصعب بن عمیر ؓ کو جھنڈا عطا فرمایا اور حمزہ بن عبد المطلب ؓ بھی لشکر کے ساتھ نکلے حضور ﷺ نے حضرت حمزہ ؓ کو آگے بھیجا اور خالد بن ولید مشرکین کے گھڑ سوار دستے کے ساتھ آگے بڑھے اور ان کے ساتھ عکرمہ بن ابی جہل تھے رسول اللہ ﷺ نے حضرت زبیر ؓ کو بھیجا اور فرمایا خالد بن ولید کی طرف جاؤ اور اس کے سامنے رہو یہاں تک کہ تجھ کو اجازت دی جائے اور فرمایا تم سامنے نہ آنا جب تک کہ میں تم کو اجازت نہ دوں اور ابو سفیان اپنے لات اور عزی کو اٹھائے ہوئے تھا اور دوسرے گھڑ سواروں کو حکم فرمایا کہ وہ دوسری جانب میں ہوجائیں نبی ﷺ نے زبیر ؓ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ حملہ کردیں انہوں نے خالد بن ولید پر حملہ کیا اور اس کو شکست دی اور اس کو بھی جو اس کے ساتھ تھا اسی پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ولقد صدقکم اللہ وعدہ اذ تحسونہم باذنہ “ اور بیشک اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان کی مدد کریں گے اور بیشک وہ ان کے ساتھ ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے لوگوں میں سے بعض کو بھیجا کہ یہ صحابہ کے پیچھے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ تم یہاں رہو جو ہم سے بھاگے اس کو واپس لوٹاؤ اور ہماری پشت کی جانب سے ہماری حفاظت کرنا جب آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ جو آپ ﷺ کے ساتھ تھے جب انہوں نے قوم کو شکست دی تو ان کے بعض لوگوں نے بعض لوگوں سے کہا جب انہوں نے عورتوں کو پہاڑ پر چڑھتے ہوئے دیکھا اور غنیمتوں کو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف چلو اور غنیمت کے مال کو پاؤ پہلے اس سے کہ تم سے چلی جائے دوسری جماعت نے کہا بلکہ ہم رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کریں گے اور اپنی جگہ پر ثابت قدم رہیں گے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” منکم من یرید الدنیا “ تم میں سے کچھ وہ ہیں جو دنیا کے طالب ہیں آپ لوگوں کے لیے جنہوں نے غنیمت کا ارادہ کیا (اور فرمایا) لفظ آیت ” ومنکم من یرید الاخرۃ “ تم میں سے کچھ وہ ہیں جو آخرت کا ارادہ کرتے ہیں جنہوں نے یہ کہا تھا ہم رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کریں گے اور اپنی جگہ پر جمے رہیں گے تو وہ لوگ محمد ﷺ کے پاس آگئے اور وہ بزدل ہوگئے جب انہوں نے آپس میں تنازعہ کیا اسی کو فرمایا لفظ آیت ” وعصیتم من بعد ما ارکم ما تحبون “ (یعنی تم نے نافرمانی کی بعد اس کے جب تم نے اس چیز کو دیکھا جس کو تم پسند کرتے ہو) یعنی جب تم نے فتح کو اور غنیمت (کے مال) کو دیکھا۔ (3) احمد وابن ابی حاتم نے طبرانی اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی ﷺ کی مدد نہیں فرمائی کسی جگہ میں جیسے کہ احد کے دن مدد فرمائی مگر لوگوں نے اس تعبیر کا انکار کیا ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میرے اور اس آدمی کے درمیان جو انکار کرتا ہے فیصلہ کرنے والی اللہ کی کتاب ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ احد کے دن کے بارے میں فرماتے ہیں لفظ آیت ” ولقد صدقکم اللہ وعدہ اذ تحسونہم بانہ حتی اذا فشلتم “ سے لے کر ” ولقد عفا عنکم واللہ ذو فضل علی المؤمنین “ تک آیت میں ان تیر اندازوں کا ذکر ہے کہ نبی ﷺ نے ان کو ایک جگہ پر ٹھہرایا پھر فرمایا ہمارے پیچھے سے ہماری حفاظت کرنا اگر تم ہمیں دیکھو کہ ہم قتل کیے جا رہے ہیں تو ہماری مددنہ کرنا اور اگر تم دیکھو کہ ہم غنیمت لوٹ رہے ہیں تو ہمارے ساتھ شریک نہ ہونا جب نبی ﷺ کو غنیمت (کا مال) مل گیا اور صحابہ نے مشرکین کے لشکر کو صباح جاتا دیکھا تو سب تیر انداز (اپنی جگہ سے) ہٹ گئے اور لشکر میں داخل ہو کر مال غنیمت لوٹنے لگے مسلمانوں کے صفیں یوں ایک دوسرے میں مل گئیں اور وہ اس طرح ہوگئے تھے آپ نے انگلیوں کا جال بنایا جب تیر اندازوں نے اس درہ کو خالی کردیا جس میں وہ تھے تو اسی جگہ سے صحابہ کرام ؓ پر گھوڑ سوار دستہ داخل ہوگیا اور ان کے بعض نے بعض کو مارنا شروع کردیا اور معاملہ مشتبہ ہوگیا مسلمانوں کے بہت سے لوگ قتل کر دئیے گئے اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ نے دن کے شروع میں مشرکین کے جھنڈے والے سات یا نو آدمیوں کو قتل کردیا اور مسلمان پہاڑ کی طرف گھوم گئے ابھی وہ پہاڑ پر نہ پہنچے تھے جہاں لوگ کہہ رہے تھے الغاب (بدبودار گوشت) اور وہ مہر اس کو لینے والے پتھر کے نیچے تھے شیطان نے چیختے ہوئے کہا محمد ﷺ قتل کر دئیے گئے اور کسی کو شک نہیں تھا اس کے حق ہونے میں۔ ہم اسی حال پر تھے کہ ہم نے آپ کے قتل ہوجانے پر شک نہیں کیا یہاں تک کہ آپ دو پہاڑوں کے درمیان سے نمودار ہوئے جب آپ چلتے تو ہم آپ کی چال سے آپ کو پہچان لیتے ہم بہت خوش ہوئے یہاں تک کہ گویا ہم کو یہ تکلیف نہیں پہنچی پس آپ ہماری طرف چڑھے اور آپ یہ دعا فرما رہے تھے اللہ کا عذاب سخت ہوگیا ایسی قوم پر جنہوں نے اپنے نبی کے چہرے کو خون آلود کیا اور دوسری مرتبہ آپ نے فرمایا اے اللہ ان کو یہ طاقت نہ دے کہ وہ ہم پر چڑھ آئیں آپ ﷺ کچھ دیر ٹھہرے رہے اچانک ابو سفیان پہاڑ کے نیچے سے چیخا اعل ھبل، اعل ھبل (یعنی ہمارا بت اونچا ہوگیا) ابن ابی کشبہ کہاں ہے ابن ابی قحافہ کہاں ہے ؟ ابن الخطاب کہاں ہے ؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ ﷺ ! کیا میں اس کا جواب دوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں (جواب دو ) جب اس نے کہا اعل ھبل تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا اللہ اعل واجل پھر اس نے دوسری بار کہا ابن ابی کبشہ کہاں ہے ابن ابی قحافہ کہاں ہے ؟ حضرت عمر رجی اللہ عنہ نے فرمایا یہ رسول اللہ ہیں یہ ابوبکر ہیں اور میں عمر ؓ ہوں اس نے کہا آج کا دن بدر کے بدلہ میں ہے دن گھومتے رہتے ہیں اور لڑائی میں کبھی ایک کو غلبہ ہوتا ہے اور کبھی دوسرے کو حضرت عمر ؓ نے فرمایا ہم برابر نہیں ہیں ہمارے مقتول جنت میں ہیں اور تمہارے مقتول دوزخ میں ہیں اس نے کہا تم اسی طرح گمان کرتے ہو پھر تو ہم نامراد ہوئے اور ہم نے نقصان اٹھایا پھر اس کو جاہلیت کی غیرت نے پکڑ لیا اور کہنے لگا اگر ایسا ہی ہے (جیسے تم کہتے ہو) اور ہم اس کو ناپسند نہیں کرتے۔ (4) ابن ابی شیبہ نے واحمد ابن المنذر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ عورتیں احد کے دن مسلمانوں کے پیچھے تھیں جو مشرکین کے زخمیوں کا کام کرتی تھیں اگر میں اس بات پر قسم کھاؤں تو میں امید کرتا ہوں کہ میں (اپنی قسم سے) بری ہوجاؤں گا کہ ہم میں سے کوئی ایک بھی دنیا کا ارادہ کرنے والا نہیں تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” منکم من یرید الدنیا ومنکم من یرید الاخرۃ “ (یعنی جو شخص تم میں سے دنیا کا ارادہ کرتا ہے اور جو شخص تم میں سے آخرت کا ارادہ کرتا ہے جب نبی ﷺ کے صحابہ ؓ نے خلاف کیا اور نافرمانی کی اس کام کی جس کا وہ حکم دئیے گئے تھے) تو رسول اللہ ﷺ تو صحابہ کے ساتھ ایک طرف ہوگئے سات انصار میں سے اور دو قریش میں سے جبکہ آپ دسویں تھے جب وہ لوگ (یعنی دشمن) آپ کے قریب ہوئے تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ایسے آدمی پر جو ان (کافروں) کو ہم سے ہٹا دے تو ایک آدمی انصار میں سے اٹھا اور کچھ دیر کافروں سے لڑا یہاں تک کہ شہید کردیا گیا پھر جب انہوں نے آپ کو گھیر لیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم فرمائے جو ان کو ہم سے ہٹادے آپ برابر (یہ بات) فرماتے رہے یہاں تک کہ ساتوں قتل کر دئیے گئے رسول اللہ ﷺ نے اپنے دو ساتھیوں سے فرمایا ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا ابو سفیان آیا اور کہنے لگا اعل ھبل (ایک بت کا نام ہے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم کہو اللہ بہت بلند اور بڑے مرتبے والا ہے (پھر) ابو سفیان نے کہا ہمارے لیے عزی (ایک بت کا نام) ہے اور تمہارے لیے کوئی عزی نہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم (جواب میں) کہو اللہ تعالیٰ ہمارا مولیٰ ہے اور کافروں کے لیے کوئی مولیٰ نہیں پھر ابوسفیان نے کہا ہمارا اگلا مقابلہ بدر کے میدان میں ہوگا ایک دن تمہارے حق میں ہے اور ایک دن ہمارے حق میں ہے ایک دن نساء کا اور ایک نشر کا (ہمارے بت) کا ہے حنظلہ بدلے حنظلہ کے ہے اور فلاں بدلہ فلاں کے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (دونوں فریقین) برابر نہیں ہیں کیونکہ ہمارے مقتول زندہ ہیں اور رزق دئیے جاتے ہیں اور تمہارا مقتول آگ میں ہیں عذاب دئیے جاتے ہیں ابو سفیان نے کہا بعض مقتولوں کے اعضاء کاٹ دئیے گئے اگرچہ وہ ہماری وضاحت (یعنی ہمارے حکم) کے بغیر ہوا نہ میں نے حکم دیا نہ میں نے منع کیا نہ میں اس کو پسند کرتا ہوں اور نہ میں اس کو برا جانتا ہوں نہ یہ کام مجھے برا لگا اور نہ میں خوش ہوا راوی نے کہا پھر جب انہوں نے دیکھا تو حضرت حمزہ ؓ کا پیٹ چاک کردیا گیا تھا اور ہندہ عورت نے اس کے کلیجے کا نکال کر چبایا مگر اس کو نہ کھا سکی رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کیا کوئی چیز اس نے کھائی ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے لائق یہ نہیں ہے کہ وہ حمزہ ؓ (کے عضو میں سے) کسی چیز کو آگ میں داخل کرے رسول اللہ ﷺ کے سامنے حمزہ ؓ رکھے گئے آپ نے ان پر نماز پڑھی اور ایک اور آدمی انصار سے لائے گئے اور ان کے پہلو میں رکھے گئے آپ نے ان پر بھی نماز پڑھائی انصاری کو اٹھا لیا گیا اور حمزہ ؓ کو چھوڑ دیا گیا پھر ایک اور آدمی کو لایا گیا اور اس کو بھی حمزہ ؓ کے پہلو کی طرف رکھا گیا آپ نے اس پر نماز پڑھائی پھر اس کو اٹھا لیا گیا اور حمزہ کو چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ ان پر ستر بار نماز جنازہ پڑھی گئی۔ جبل رماۃ پر پچاس تیر اندازوں کا تعین (5) احمد و بخاری مسلم و نسائی وابن جریر ابن المنذر والبیہقی نے دلائل میں براء بن عازب ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن پچاس تیر اندازون کو ایک جگہ مقرر فرمایا جن میں عبد اللہ بن جبیر ؓ کو امیر مقرر کیا اور ان سے فرمایا اگر تم لوگ ہم کو دیکھو کہ ہم کو پرندے اچک رہے تو بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا یہاں تک کہ میں تمہاری طرف پیغام بھیجوں صحابہ ؓ نے کافروں کو شکست دے دی عبد اللہ بن جبیر نے فرمایا اللہ کی قسم عورتوں کو دیکھا کہ وہ پہاڑوں پر بھاگ رہی ہیں اور ان کی پنڈلیان اور ان کے پازیب ظاہر ہوچکی ہیں اور انہوں نے اپنے کپڑوں کو اوپر اٹھایا ہوا ہے عبد اللہ کے ساتھیوں نے کہا غنیمت کا مال سمیٹو تمہارے ساتھ غالب آچکے ہیں کیا تم نہیں دیکھ رہے ؟ عبد اللہ بن جبیر ؓ نے فرمایا کیا تم بھول گئے تم کو رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا تھا ان لوگوں نے جواب دیا اللہ کی قسم ہم ضرور ساتھیوں کے پاس جائیں گے اور ہم ضرور اپنا حصہ غنیمت میں سے لیں گے جب یہ لوگ (اپنی جگہ اتر کر) ان کے پاس آئے تو ان کے چہرے پھیر دئیے گئے اور وہ شکست خوردہ ہو کر آئے یہ وہ موقعہ تھا (کہ صحابہ شکست کھا کر بھاگ رہے تھے) اور رسول اللہ ﷺ ان کو پیچھے سے پکار رہے تھے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سوائے بارہ آدمیوں کے کوئی باقی نہ رہا ہمارے ستر ساتھی شہید ہوئے اور بدر کے دن رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ نے مشرکین میں سے ایک سو چالیس آدمیوں کو قابو کرلیا تھا جن میں سے ستر کو قیدی بنایا تھا اور ستر کو قتل کیا تھا۔ ابو سفیان (قریش کے سردار) نے کہا کیا (مسلمانوں کی) قوم میں محمد ﷺ موجود ہیں ؟ تین مرتبہ کہا رسول اللہ ﷺ نے اس کو جواب دینے سے منع فرمایا پھر اس نے کہا کیا تم میں ابن ابی قحافہ موجود ہیں ؟ دو مرتبہ کہا کیا تم میں ابن الخطاب موجود ہیں ؟ دو مرتبہ کہا پھر اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے یہ لوگ قتل کر دئیے گئے ہیں تحقیق تم ان سے بدلہ لے چکے ہو حضرت عمر ؓ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے اور (فورا) کہا تو نے جھوٹ کہا اللہ کی قسم ! اے اللہ کے دشمن جن لوگوں کا تو نے نام لیا وہ سب زندہ ہیں جو چیز تجھے دکھ میں ڈالنے والی ہے وہ زندہ ہے ابو سفیان نے کہا اگلی جنگ بدر کے میدان میں ہوگی اور لڑائی میں کبھی ایک کو غلبہ ہوتا ہے اور کبھی دوسرے کو اور تم (اپنی) قوم میں مثلہ کو پاؤ گے یعنی ایسے مقتول کو جس کے اعضاء کاٹ دئیے گئے ہیں میں نے اس کا حکم نہیں دیا اور اس بارے میں تم مجھے برا نہ کہو پھر رجز پڑھنے لگا اعل ھبل رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم اس کا جواب نہیں دیتے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا تم کہو لفظ آیت ” اللہ اعلی واجل “ یعنی اللہ بہت بلند اور بڑے مرتبہ والا ہے پھر اس نے کہا ہمارے لیے عزیٰ (بت) ہے اور تمہارا کوئی عزی نہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم اس کو جواب نہیں دیتے ؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا تم کہو اللہ تعالیٰ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارے لیے کوئی مولیٰ نہیں۔ میدان احد میں افراتفری (6) بیہقی نے دلائل میں حضرت جابر ؓ سے روایت کیا کہ احد کے دن لوگ رسول اللہ ﷺ سے بھاگ گئے اور آپ کے ساتھ انصار میں سے صرف گیارہ صحابہ باقی رہے اور طلحہ بن عبیداللہ بھی تھے اور آپ پہاڑ پر اوپر چڑھ رہے تھے مشرکوں نے ان سب کو گھیر لیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا ان (مشرکین سے مقابلہ کرنے کے لیے) کوئی ہے ؟ طلحہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہوں آپ نے فرمایا اے طلحہ جو کرسکتے ہو کرو تو انصار میں سے ایک آدمی نے کہا میں حاضر ہوں یا رسول اللہ ! تو اس نے آپ کی طرف سے (مشرکین سے) قتال کیا اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ پہاڑی کے اوپر چڑھتے گئے پھر وہ انصاری شہید کر دئیے گئے اور وہ مشرک ساتھ آملے آپ ﷺ نے (پھر) فرمایا کیا کوئی آدمی ہے ان (مشرکوں کے مقابلہ) کے لیے طلحہ ؓ نے پہلے کی طرح پھر کہا (میں حاضر ہوں) اور رسول اللہ ﷺ نے پھر اسی طرح فرمایا (کہ کون ہے مقابلہ کے لیے) تو انصار میں سے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں اور آپ کے صحابہ پہاڑی پر چڑھ رہے تھے پھر وہ انصاری بھی شہید کر دئیے گئے اور مشرک آپ تک پہنچ گئے پھر آپ ﷺ پہلے کی طرح فرما رہے تھے اور طلحہ ؓ کہتے رہے میں حاضر ہوں یا رسول اللہ ! اور رسول اللہ ﷺ ان کو روکتے رہے (اس کے بعد) ایک آدمی نے انصار میں سے کافروں سے لڑنے کی اجازت تو آپ نے اس کو اجازت دے دی یہ آدمی بھی اپنے سے پہلے لوگوں کی طرح کافروں سے لڑتے لڑتے شہید ہوگئے یہاں کہ آپ کے ساتھ طلحہ ؓ کے سوا کوئی باقی نہ رہا کافروں نے ان دونوں حضرات کو گھیر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان (کافروں سے مقابلہ) کے لیے کون ہے ؟ طلحہ ؓ نے عرض کیا میں حاضر ہوں تو انہوں نے بھی پہلے لوگوں کی طرح قتال کیا یہاں تک کہ ان کی انگلیاں کٹ گئیں تو انہوں نے کہا ” حس “ یعنی اف (یہ وہ کلمہ ہے جو عرب کے لوگ دفعتہ کوئی تکلیف پہنچنے پر کہتے ہیں) آپ نے فرمایا اگر تو بسم اللہ کہتا یا اللہ تعالیٰ کے نام کو یاد کرتا تو تجھ کو فرشتے اٹھا لیتے اور لوگ تیری طرف دیکھتے آسمان کی فضا میں پھر رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کی طرف پہاڑی پر چڑھ گئے اور وہ وہاں اکٹھے ہوچکے تھے۔ (7) ابن جریر وابن المنذر نے عبد الرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اذ تحسونہم باذنہ “ ” الحس “ سے قتل مراد ہے۔ (8) عبد بن حمید (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اذ تحسونہم “ سے مراد ہے کہ تم ان کو قتل کر رہے تھے۔ (9) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” تحسونہم “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے لفظ آیت ” تقتلوہم “ یعنی تم ان کو قتل کرتے ہو نافع نے عرض کیا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا : ومنا الذی لاقی بسیف محمد فحسن بہ الاعداء عرض العساکر ترجمہ : اور ہم میں سے ایسا جوان بھی ہے جو بھی محمد ﷺ کی تلوار کے ساتھ دشمن سے ملاقات کرتا ہے تو اس کے ساتھ دشمنوں کے لشکر کے ایک حصہ کو قتل کردیتا ہے۔ (10) طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” اذ تحسونہم باذنہ “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے لفظ آیت ” تقتلونہم “ یعنی تم ان کو قتل کرتے ہو عرض کیا گیا عرب کے لوگ محمد ﷺ پر کتاب نازل ہونے سے پہلے اس معنی سے واقف تھے فرمایا ہاں کیا تو نے عتبہ اللیثی کا یہ قول نہیں سنا ؟: تحسہم بالبیض حتی کا ننا نفلق منہم بالجماجم حنظلا ترجمہ : ہم ان کو قتل کرتے ہیں سفید تلواروں سے گویا کہ ہم ان کی کھوپڑیوں کو حنظل کے ساتھ ہی ٹکڑے ٹکڑے کر رہے تھے۔ (11) ابن جریر وابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” حتی اذا فشلتم وتنازعتم “ سے بزدلی مراد ہے۔ اختلاف کی وجہ سے رحمت زحمت میں بدل گئی (12) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” حتی اذا فشلتم “ سے مراد ہے کہ تم نے بزدلی دکھائی اپنے دشمن کے مقابلہ سے اور لفظ آیت ” وتنازعتم فی الامر “ سے مراد ہے کہ تم نے اختلاف کیا اور تم نے نافرمانی کی لفظ آیت ” من بعد ما ارکم ما تحبون “ اور یہ احد کے دن تھا ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ بلاشبہ تم عنقریب غالب ہوں گے لیکن ہرگز طلب نہ کرنا غنیمت کے مال کو کچھ بھی یہاں تک کہ تم جنگ سے فارغ ہوجاؤ (پھر) انہوں نے نبی ﷺ کے حکم کو چھوڑ دیا اور ان کی نافرمانی کی اور غنیمت کے مال کو جمع کرنے لگے۔ اور اس عہد کو بھول گئے وہ جو آپ نے ان سے عہد لیا تھا۔ اور مخالفت کی انہوں نے اس کام کی جس کا ان کو حکم کیا گیا تھا پس (اللہ تعالیٰ نے) ان کے خلاف ان کے دشمنوں کی مدد کی، بعد اس کے کہ اللہ نے ان کو وہ چیز دکھائی تھی جس کو وہ پسند کرتے تھے۔ (یعنی مال غنیمت) ۔ (13) عبد بن حمید وابن المنذر نے سعید بن عبد الرحمن بن ابزی (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” حتی اذا فشلتم “ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اپنے اصحاب میں پچاس آدمیوں کو مقرر فرمایا اور ان پر عبیداللہ بن اخوات کو امیر بنایا پھر ان کو خالد بن ولید کے سامنے ٹھہرایا جو مشرکین کے گھوڑے سوار دستے کا امیر تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے کافروں کو شکست دے دی تو ان پچاس میں سے آدھے لوگوں نے کہا چلو یہاں تک کہ ہم اپنے لوگوں کے ساتھ مل جائیں۔ اور ہم غنیمت کے مال کو اکٹھا کرنے میں شریک ہوجائیں اور ان میں سے دوسرے لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے یہ عہد لیا تھا کہ ہم اپنی جگہ کو نہ چھوڑیں گے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو حکم فرمائیں۔ (اکثر لوگوں نے جگہ چھوڑ دی) تو جب خالد بن ولید نے دیکھا ان پر (یعنی مسلمانوں پر) چڑھ دوڑے اور (زبردست) حملہ کردیا۔ ان افراد نے خالد بن ولید سے جنگ کی۔ یہاں تک کہ (مسلمانوں کی) ایک جماعت شہید ہوگئی۔ تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” ولقد صدقکم اللہ وعدہ “ سے لے کر ” وعصیتم “ تک۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جگہ چھوڑنے والوں کو نافرمان قرار دیا۔ (14) ابن المنذر نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” من بعد ما ارکم ما تحبون “ میں ” ما تحبون “ سے مراد ہے غنیمت اور مشرک قوم کا شکست کھانا۔ (15) عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے مجاہد سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” من بعد ما ارکم ما تحبون “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی مدد فرمائی مشرکین کی عورتیں سخت اور نرم سب جگہوں پر بھاگ رہی تھیں۔ پھر ان پر مشرکین کو غلبہ دے دیا گیا نبی ﷺ کی نافرمانی کی وجہ سے۔ (16) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے احد کے دن مسلمانوں میں سے ایک جماعت کو حکم فرمایا تم لوگوں کے لیے پہرہ دار بن جاؤ۔ یعنی ان کو حکم دیا کہ وہ اپنی جگہ پر رہیں۔ اور ان کو حکم فرمایا کہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں یہاں تک کہ تم کو اجازت دی جائے جب نبی ﷺ احد کے دن ابو سفیان سے اور جو لوگ ان کے ساتھ مشرکین میں سے جنگ کی تو ان کو نبی ﷺ نے شکست دی۔ جب ان پہرے داروں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دے دی ہے تو بعض لوگ غنیمت غنیمت کی آواز لگاتے ہوئے چل دئیے کہ تم مال غنیمت اکھٹا کرو تم سے نہ رہ جائے لیکن بعض اپنی جگہ پر ثابت قدم رہے اور انہوں نے کہا ہم اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے یہاں تک کہ ہم کو نبی ﷺ اجازت نہ فرمائیں اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” منکم من یرید الدنیا ومنکم من یرید الاخرۃ “ ابن مسعود ؓ فرمایا کرتے تھے میرا خیال نہیں تھا کہ میں نے نبی ﷺ کے اصحاب میں سے کوئی ایک بھی دنیا اور اس کے سامان کا ارادہ رکھتا ہے یہاں تک کہ غزوہ احد کا موقعہ آیا۔ (17) ابن جریر نے ابن جریج کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ احد کے دن جب اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی تو تیر اندازوں نے کہا کہ نبی ﷺ اور لوگوں کے پاس چلو کہ وہ لوگ ہم سے مال غنیمت اکھٹا کرنے میں سبقت نہ کر جائیں اور سارا مال ان کا نہ ہوجائے لیکن بعض لوگوں نے کہا کہ ہم اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے یہاں تک کہ ہم کو نبی ﷺ اجازت عطا نہ فرمائیں تو (اس بارے میں یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” منکم من یرید الدنیا ومنکم من یرید الاخرۃ “ ابن جریج نے کہا کہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے ہم سے ایک کو بھی نہیں جانا کہ وہ دنیا اور اس کے سامان کا ارادہ کرتا تھا یہاں تک کہ غزوہ احد کا دن آیا۔ (18) احمد ابن ابی شیبہ ابن جریر ابن ابی حاتم نے طبرانی اوسط میں بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہمارا خیال نہیں تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کوئی دنیا کا ارادہ کرتا ہو یہاں تک کہ احد کے دن ہمارے بارے میں (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” منکم من یرید الدنیا ومنکم من یرید الاخرۃ “۔ (19) ابن جریر نے حسن (رح) سے اس کے بارے میں روایت کیا ہے کہ پھر تم کو ان سے پھیر دیا تو مسلمانوں میں سے اتنی تعداد میں لوگ شہید ہوگئے جتنے بدر کے دن (مشرک) قید ہوئے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے چچا شہید ہوئے اور آپ کے آگے کے دانت مبارک شہید ہوئے اور آپ کے چہرہ مبارک میں زخم آیا صحابہ ؓ نے کہا کیا رسول اللہ ﷺ نے ہم سے مدد کا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” ولقد صدقکم اللہ وعدہ “ سے لے کر ” ولقد عفا عنکم “۔ (20) ابن جریر نے حسن (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ولقد عفا عنکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تحقیق میں نے تم کو معاف کردیا اگرچہ تم نے میری نافرمانی کی کہ میں نے تم کو جڑ سے نہیں اکھیڑا (یعنی تم کو دنیا سے ملیا میٹ نہیں کیا) پھر حسن ؓ نے فرمایا یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں تھے اللہ کے لیے (دشمن سے) سخت غصہ کرنے والے تھے اور اللہ کے دشمنوں سے قتال کرنے والے تھے جس چیز سے منع کیا گیا تھا انہوں نے اس کو ضائع کردیا اللہ کی قسم ! ان لوگوں نے (رسول اللہ ﷺ کے حکم کو) چھوڑا یہاں تک کہ اس غم میں مبتلا کیا گیا ان میں سے ستر شہید کر دئیے گئے اور رسول اللہ ﷺ کے چچا شہید ہوئے اور آپ کے اگلے دانت مبارک بھی شہید ہوگئے اور آپ کے چہرے مبارک بھی زخمی ہوا آج سب سے بڑا فاسق کبیرہ گناہ پر جرات کرتا ہے ہر ہر بدکاری کرتا ہے گھٹیا ہے اس پر اپنے کپڑوں کو اور گمان کرتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں پس عنقریب وہ اپنا انجام دیکھ لے گا۔ (21) ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولقد عفا عنکم “ سے مراد ہے کیونکہ اس نے تم کو (رسول اللہ کی نافرمانی پر) مکمل طور پر ہلاک نہیں کیا (بلکہ معاف کردیا گیا) ۔ (22) بخاری نے عثمان بن موھب (رح) سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی ابن عمر ؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں سوال کرتا ہوں مجھ کو بتائیے کہ میں تم کو اس گھر کی عزت کی قسم دیتا ہوں کیا آپ جانتے ہیں کہ عثمان بن عفان ؓ احد کے دن بھاگ گئے تھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں پھر اس نے کہا آپ جانتے ہیں کہ وہ غزوہ بدر سے بھی غائب تھے اور اس میں حاضر نہ ہوئے انہوں نے فرمایا ہاں ! پھر اس نے کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیت رضوان سے بھی پیچھے رہ گئے تھے اس میں حاضر نہ ہوئے انہوں نے فرمایا ہاں بات اسی طرح سے ہے پھر اس نے تکبیر کہی ابن عمر ؓ نے فرمایا میں تجھے بتاتا ہوں اور میں تجھ کو بیان کرتا ہوں ان سب باتوں کے بارے میں جس کے بارے میں تو نے مجھ سے سوال کیا ان کا احد کے دن فرار ہونا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کردیا تھا اور بدر کے دن سے غائب ہونا اس وجہ سے تھا کہ ان کے نکاح میں نبی ﷺ کی بیٹی تھی اور وہ بیمار تھی رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے فرمایا کہ تیرے لیے آیک آدمی کا ثواب بھی ہے اور اس کا (مال غنیمت کا حصہ) بھی ہے اور ان کا بیعت رضوان سے غائب ہونا (اس وجہ سے تھا) کہ اگر وادی مکہ میں حضرت عثمان ؓ کے علاوہ کوئی زیادہ عزت والا ہوتا تو ان کی جگہ اس کو بھیجتے چناچہ حضرت عثمان ؓ کو بھیجا گیا اور بیعت رضوان ان کے مکہ کی طرف چلے جانے کے بعد ہوئی نبی ﷺ نے اپنے داہنے ہاتھ مبارک کے بارے میں فرمایا اور اس کو بائیں ہاتھ پر مارا تھا کہ یہ حضرت عثمان کا ہاتھ ہے (پھر ابن عمر ؓ نے اس آدمی سے فرمایا) اب تو اپنے ساتھ ان باتوں کو بھی لے کر چلا جا۔